Baaghi TV

Category: بلوچستان

  • وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرا دی گئی

    وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرا دی گئی

    وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کے خلاف اپوزیشن ارکان نے عدم اعتماد کی تحریک بلوچستان اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کرادی-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اپوزیشن ارکان نے عدم اعتماد کی تحریک بلوچستان اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع کرا تے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک کی کامیابی کیلئے اپوزیشن نے اپنا ہوم ورک مکمل کرلیا ہے۔

    میو ہسپتال میں ایک پرائیویٹ ٹارچرسیل کا انکشاف:سننے والوں کے رونگھٹے کھڑے ہوگئے

    پاکستان اسمگل کرنے کی کوشش افغان طالبان نے ناکام بنا دی

    عدم اعتماد کی تحریک بلوچستان نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر ملک نصیر شاہوانی، اختر لانگو ، حمل کلمتی ، احمد نواز بلوچ ، اکبر مینگل ، شکیلہ نوید دہوار ، رحیم مینگل ، ٹائٹس جانسن ، جمعیت علما اسلام کے پارلیمانی لیڈر ملک سکندر خان ایڈوکیٹ ، اصغر ترین ، مکھی شام لعل ، عزیز اللہ آغا ، یونس عزیز زہری ، زابد ریکی ، پشتونخوا میپ کے نصر اللہ زیرئے کے دستخطوں سے جمع کرائی-

    پاکستان میں ناخواندگی کی شرح خطرناک حد تک بڑھ گئی، اس فہرست میں پاکستان کونسے نمبر…

    عدم اعتماد کی تحریک میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ 3 سال میں جام کمال خان کی خراب حکمرانی کے باعث بلوچستان میں شدید مایوسی، بدامنی ،بیروزگاری اور اداروں کی کارکردگی شدید متاثر ہوئی ہے۔

    عمر شریف کے علاج کے لئے سندھ حکومت نے چار کروڑ روپے جاری کردیئے

    کابل ائیر پورٹ پر رہ جانیوالے امریکی کتوں کو نیا ٹھکانہ مل گیا

  • سندھ اور بلوچستان میں سی این جی کی فراہمی 14 سے 17 ستمبر تک بند

    سندھ اور بلوچستان میں سی این جی کی فراہمی 14 سے 17 ستمبر تک بند

    سوئی سدرن گیس(ایس ایس جی) کمپنی کا کہنا ہے کہ سندھ اور بلوچستان میں سی این جی اسٹیشنز کو گیس کی فراہمی 14 سے 17 ستمبر تک معطل رہے گی۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق سوئی سدرن کا کہنا ہت کہ سندھ بلوچستان کو سی این جی کی فراہمی کل سے 4 دن تک بند رہے گی کل رات یعنی منگل 12 سے ہفتہ صبح 8 بجے تک سی این جی اور آرایل این جی بند رہیں گے۔

    ایس ایس جی نے کہا ہے کہ اینگرو ایل این جی ٹرمینل کی ڈرائی ڈاکنگ سے سسٹم میں گیس کی کمی آئے گی۔ ڈرائی ڈاکنگ سے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں گیس بندش کا فیصلہ واپس لیا جاچکا ہے۔

    نئے شیڈول کے مطابق ایل این جی لانے والے ایف ایس آر یو کی تبدیلی کے دوران ڈرائی ڈاکنگ کے دورانیے میں تبدیلی کی گئی ہے۔

    اینگرو ٹرمینل پر ایف ایس آر یو کی تبدیلی کے دوران نظرِ ثانی شدہ پروگرام کے تحت ڈرائی ڈاکنگ اب 14 سے 17 ستمبر تک ہوگی، 14 سے 17 ستمبر کے درمیان ڈرائی ڈاکنگ کی وجہ سے سوئی سدرن گیس کمپنی کے سسٹم میں آر ایل این جی میں 75 سے 150 ایم ایم سی ایف ڈی کمی آئے گی۔

    ترجمان کے مطابق کم پریشر کی وجہ سے سوئی سدرن کو گھریلو صارفین اور کمرشل سیکٹر کی طلب پوری کرنے میں انتہائی دشواری کا سامنا ہوگا تمام سی این جی اسٹیشنز کو 18 ستمبر بروز ہفتہ 8 بجے صبح کو گیس کی ترسیل بحال کر دی جائے گی۔

  • بلوچستان کے ساحل کنڈ ملیر کے قریب  نیا جزیرہ

    بلوچستان کے ساحل کنڈ ملیر کے قریب نیا جزیرہ

    بلوچستان کے ساحل کنڈ ملیر کے قریب نیا جزیرہ ابھر آیا کنڈ ملیر کو بلوچستان کا جادوئی ساحل بھی کہا جاتا ہے۔

    باغی ٹی وی : حکام کا کہنا ہے کہ سمندر کی تہہ سے اچانک ابھرنے والا جزیرہ بڑے رقبے پر محیط ہے۔ سمندر میں یہ جزیرے گہرے پانیوں میں جغرافیائی ردوبدل کی وجہ سے وجود میں آتے ہیں تاہم سمندر میں ابھرنے والے یہ جزیرے اکثر وبیشتر ابھرنے کےکچھ عرصے بعد دوبارہ غائب ہوجاتے ہیں۔

    کراچی سے 240 کلومیٹر دور مکران کوسٹل ہائی وے پر کنڈ ملیر کا ساحل واقع ہے۔ جہاں، پہاڑ، صحرا اور سمندر ایک جگہ اکٹھے ہو رہے ہیں کنڈ ملیر بلوچ ماہی گیروں کی ایک چھوٹی سی بستی ہے جو ایک پہاڑی پر آباد ہے سفید ریت پر نیلا پانی اور موجیں مارتا سمندر اس بستی کے نیچے موجود ہے جو یہاں سے گزرنے والوں کو اپنی طرف متوجہ کرہی لیتا ہے۔

    سعودی عرب : بحیرہ احمر میں مرجان کالونی دریافت

    مکران کوسٹل ہائی وے کی تعمیر اور سوشل میڈیا پر کنڈ ملیر کے حسن کے چرچوں نے سیاحوں کو یہاں کا پتا دیا ہے اور اب ہفتہ وار تعطیلات کے علاوہ تہواروں کے موقع پر لوگ اپنے خاندان کے ساتھ سمندر کے نیلے پانی سے لطف اندوز ہوتے نظر آتے ہیں۔

    کنڈ ملیر کو گذشتہ سال ایشیا کے 50 خوبصورت ترین ساحلوں میں شامل کیا گیا تھا۔ یہ درجہ بندی سیاحت اور فوٹو گرافی کے لحاظ سے کی گئی تھی۔

    کراچی کے معروف ساحلوں ہاکس بے، مبارک ولیج اور کاکا پیر کے مقابلے میں یہاں سمندر زیادہ گہرا نہیں اور یہی وجہ ہے کہ بچے اور خواتین بھی بے دھڑک سمندر میں اتر جاتے ہیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ کنڈ ملیر کے قریب ابھرنے والا جزیرہ ساحل کی اہمیت کو بڑھا سکتا ہے ۔ حکام اس جزیرہ کا جائزہ لیتے رہیں گے۔

  • مستنونگ: سی ٹی ڈی کی کاروائی ، 11مبینہ دہشت گرد ہلاک

    بلوچستان: انسداد دہشتگردی فورس (سی ٹی ڈی) کی بلوچستان کے ضلع مستونگ میں کارروائی، 11 مبینہ دہشت گرد ہلاک-

    باغی ٹی وی : ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق سی ٹی ڈی کو خفیہ اطلاع ملی تھی کہ کالعدم تنظیم کے کارندوں نے صوبے میں دہشت گردی کا منصوبہ بنایا ہے، جس پر ان کے خلاف کارروئی کی گئی۔

    ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق خفیہ اطلاع پرمستونگ میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی گئی، جس میں دو طرفہ فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ فائرنگ کے تبادلے میں 11 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ مارے گئے دہشت گردوں کا تعلق کالعدم تنظیم سے ہے۔

    ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق دہشت گردوں کے زیر استعمال کمپاونڈ سے اسلحہ وگولہ بارود بھی برآمد کرلیا گیا۔ ہلاک دہشت گردوں کی لاشیں اسپتال منتقل کر دی گئی ہیں۔

    جنوبی وزیرستان میں بارودی سرنگ کا دھماکا ، پاک فوج کا جوان وطن عزیزپرقربان

    اس سے قبل جنوبی وزیرستان میں دیسی ساختہ بارودی سرنگ کے دھماکے میں پاک فوج کا ایک اہلکار شہید ہو گیا پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر )کے مطابق دھماکا آسمان منزا کے علاقے میں سکیورٹی فورسز کے کلیئرنس آپریشن کے دوران ہوا جس میں 25 سالہ سپاہی واجد شہید ہوگیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق سپاہی واجد کا تعلق کرک سے تھا۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ واقعےمیں ملوث دہشت گردوں کوپکڑنے کےلیے سکیورٹی فورسزکی جانب سے علاقے کا محاصرہ کیا گیا ، فائرنگ کے تبادلے میں فرار کی کوشش کرنے والا ایک دہشت گرد ہلاک ہوگیا۔

  • وزیراعلیٰ بلوچستان کا دفتر صوبے کے دیگر دفاتر کیلئے رول ماڈل ہوتا ہے     چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ

    وزیراعلیٰ بلوچستان کا دفتر صوبے کے دیگر دفاتر کیلئے رول ماڈل ہوتا ہے چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ

    کوئٹہ:چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کا دفتر صوبے کے دیگر دفاتر کیلئے رول ماڈل ہوتا ہے ہر دفتر کو پالیسی وہی سے ملتی ہے اور وہ دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ وہاں کے معاملات کیسے چلائے جاتے ہیں-

    باغی ٹی وی : :چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں ہونے والی بھرتیوں پر وہاں کے ملازم نے ہمارے سامنے اپنی درخواست میں اعتراض اٹھایا ہے اگر یہ بات سچ ہوئی تو دیگر دفاتر میں شفاف طرز عمل کے تحت چلانے کا کیسے عام آدمی یقین کرے گا سیکرٹری لیبر اینڈ مین پاور اور سیکرٹری ایجوکیشن کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ اگلی سماعت میں اپنے محکموں میں ہونے والے بھرتیوں کے متعلق تفصیلی تحریری جواب جمع کروائیں خلاف قانون اقدامات کی حوصلہ شکنی ہی خلاف قانون اٹھنے والے قدم روک سکتا ہے-

    یہ حکم چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ نعیم اختر افغان اور عبدالحمید بلوچ پر مشتمل بینچ نے بایزید خان خروٹی برخلاف چیف سیکرٹری بلوچستان ودیگر کی سماعت کے دوران دیا‘ سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ظہور بلوچ نے سیکرٹری مذہبی امور عبدالطیف کاکڑ کی دستخطو ں سے جاری شدہ جواب جمع کرایا جس میں بتایا گیا کہ محکمہ مذہبی امور لسبیلہ اور کیچ کے اضلاع میں مساجد جن میں ممکنہ طور پر تقرریاں کی جارہی ہیں وہ پرائیویٹ وقف مساجد ہیں علاقہ مکینوں اور مساجد کمیٹیوں کے ممبران نے متعلقہ ڈپٹی کمشنروں / ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریٹرز اوقاف کو متعلقہ مساجد میں پیش امام اور موذن کی پوسٹیں تخلیق کرنے کی سفارش کرنے کی استدعا کی –

    محکمہ ہذا نے ضلع لسبیلہ میں گزشتہ 8 سال سے اور ضلع کیچ میں گزشتہ 3 سال سے کوئی موذن یا پیش امام تعینات نہیں کیااور یہ کہ آسامیوں کی تخلیق یا منظوری یہ محکمہ نہیں دیتا بلکہ یہ کام فنانس ڈیپارٹمنٹ متعلقہ عوامی نمائندوں یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کی جانیوالی تجاویز پر کرتا ہے۔ محکمہ ہذا اس کو پیش کی جانیوالی تجاویز فنانس ڈیپارٹمنٹ بلوچستان کو بھجوا دیتا ہے اور بسا اوقات ایسی تجاویز فنانس ڈیپارٹمنٹ کو براہ راست بھی پیش کر دی جاتی ہیں-

    مزید برآں مدعا علیہ نے عدالت عالیہ کے سامنے پوسٹوں کی تعداد غلط بیان کی ہے درحقیقت ان پوسٹوں میں متعلقہ ضلعوں کی گزشتہ سالوں کی پوسٹیں بھی شامل ہیں‘ جن کی تفصیل وضاحت کے لئے پیش ہیں۔عرضداشت مندرجہ بالا گزارشات کی روشنی میں عدالت عالیہ سے استدعا کہ انصاف کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ہرجانے کے ساتھ پٹیشن  مبنی بر غلط حقائق اور من گھڑت الزامات کی وجہ سے ڈسمس کی جائے-

    لاہور: بلیاں پالنے پر نوجوان خاتون پر اپنے ہی گھر والوں نے تیزاب پھینک دیا

    درخواست گزار بایزید خان خروٹی نے محکمے کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے یہ عدالت سے استدعا کی کہ وہ نہیں چاہتے حکومتی معاملات میں وہ خود یا کسی اور ادارے کو ملوث کریں لیکن جس قانون میں وضع کردہ رولز کے مطابق محکمے نہیں چلائے جارہے جس کی وجہ سے مجبوراً وہ بطور درخواست گزار گاہے بگاہے عدالت عالیہ کے سامنے پیش ہوتے ہیں جس کی بنیادی وجہ نظام کو قانون اور آئین کے بجائے من پسند افراد کی خواہشات اور من پسند افراد کے ذریعے چلانے کی کوشش کی جارہی ہے-

    اس آئینی درخواست میں سیکرٹری ایجوکیشن اور سیکرٹری لیبر کے خلاف قانون بھرتیوں کو بھی میں نے چیلنج کررکھا ہے حکومت بلوچستان اپنے خلاف اقدامات پر پردہ ڈالنے کیلئے عدالت کے سامنے حقائق رکھنے کی بجائے معاملات کو الجھا رہی ہے سیکرٹری لیبر اینڈ مین پاور اور سیکرٹری ایجوکیشن کو پچھلی سماعت پر جواب جمع کرانے کا حکم معزز عدالت عالیہ دے چکی ہے لیکن جواب بدستور جمع نہیں کرائے گئے ہیں –

    کورونا کیسز میں اضافہ: اسلام آباد کے مختلف علاقے سیل کرنے کا فیصلہ

    جس پر چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس نعیم اختر افغان نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کو مخاطب کیا کہ درخواست گزار پیشے کے لحاظ سے وکیل تو نہیں ہے درخواست میں سب کچھ بہت واضح طور پر لکھاگیا ہے اگر کوئی بھی پڑھا لکھا شخص بیٹھ کرکے یہ درخواست پڑھے تو ان کو آسانی ہوگی کہ درخواست میں کن چیزوں کا مطالبہ کیاگیا ہے اور بڑے آسا ن سے اس درخواست کو سمجھا جاسکتا ہے آپ محکموں کو کہیں کہ تمام پیرے پڑ ھ کر آسانی سے ہر پیرے کا جواب دے سکتے ہیں کیا وہ آرڈر شیٹ نہیں دیکھتے یہاں تو دونوں کو نوٹسز جاری ہوئے ہیں ان کے جوابات کہاں ہے کیوں جمع نہیں کرائے گئے –

    جس پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت عالیہ کو بتایا کہ ایک اور موقع ان کو دیا جائے اگلی سماعت پر دونوں محکموں کے بھرتی اور مکمل ریکارڈ عدالت عالیہ کے سامنے تحریری طور پر پیش کریں گے-

    ویمن سیفٹی ایپ کی بدولت خواتین آسانی سے پولیس کی مدد حاصل کر سکے گی فیاض الحسن…

    چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ صوبائی حکومت کوٹہ پر عملدرآمد نہیں کررہی ہے جس کی وجہ سے بھرتیوں پر شکوک و شہبات پیدا ہوتے ہیں ابھی ہمارے سامنے پی ایچ ای کے انجینئرز کا کیس زیر سماعت تھا جس پر حکومت نے ازخود انکوائری کراتے ہو ئے اس بھرتی کو خلاف قانون قراردیتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان بھرتیاں کالعدم قراردی تھی کہیں پر تو اس میں غلطی ہوئی تھی جب تک ہم کسی غلط کام کی اصلاح کے ساتھ غلطیوں کے عوامل کو ختم نہیں کرتے تو وقتی طور پر مسئلے حل ہوں گے اور پھر سے پیش آئیں گے-

    انہوں نے کہاکہ کل ہمارے پاس وزیراعلیٰ بلوچستان کے سیکرٹریٹ کی ایک ملازم سرفراز خان کی درخواست پر سماعت ہوئی جس میں انہوں نے اپنے پروموشن کو انتقامی کارروائیوں کے ذریعے روکنے اور وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں بھرتیوں میں خلاف قانون اور رولز کے آرڈر ز کرنے کا دعویٰ کیا-

    نواز شریف کے ساتھ بیٹھنے والے بھی ان جیسے حال میں پہنچ گئے شہباز گل

    کتنی افسوس کی بات ہے کہ ایک صوبے کو پالیسی دینے والے رول ماڈل دفتر پر ان کا اپنا ملازم سوال اٹھارہا ہے کل عام محکمے سے ہم کیا توقع رکھیں کہ کیا وہ میرٹ پر چلیں گے-

    انہوں نے ایڈووکیٹ جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ اس کیس میں بھی بھرتیوں کے حوالے سے جواب جمع کرائے اگر کوئی چیز عدالت کے سامنے ایسی ریکارڈ پر آئی کہ کوئی خلاف قانون اقدام ہوا تو ہم ا س میں سخت ترین فیصلہ کریں گے اور آخر تک جائیں گے-

    جسٹس عبدالحمید بلوچ نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ یہاں تو سب کچھ بڑا واضح ہے اگر قانون پر عملدرآمد صحیح ہورہا ہوں تو کسی کو بھی کوئی تکلیف نہیں کہ وہ عدالت یا کسی اور جگہ سے رجوع کریں عدالت عالیہ نے سیکرٹری مین پاو ر اینڈ لیبر اور سیکرٹری ایجوکیشن کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے اگلی سماعت پر مفصل جواب طلب کرلیا۔

    نعیم اختر افغان بلوچستان ہائیکورٹ کے نئے چیف جسٹس کے طور پرحلف اٹھا لیا

  • چیف سیکرٹری بلوچستان کا گوادر کا دورہ

    چیف سیکرٹری بلوچستان کا گوادر کا دورہ

    چیف سیکرٹری بلوچستان مطہر نیاز رانا گوادر کے دورے پر پہنچ گئے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر کمشنر مکران شاہ عرفان غرشین۔ ڈپٹی کمشنر گوادر عبد الکبیر زرکون۔اور دیگر اعلیٰ حکام نےچیف سیکرٹری کا استقبال کیا-

    چیف سیکرٹری بلوچستان۔اور وزیراعظم پاکستان کے اسپیشل اسسٹنٹ برائے سی پیک افیئرز خالد منصور نے سی پیک سمیت گوادر میں پینے کے صاف پانی اور دیگر جملہ مسائل سے متعلق اجلاس میں شرکت کی۔

    چیف سیکرٹری بلوچستان نے وزیراعظم پاکستان کے اسپیشل اسسٹنٹ کو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے تعاون سے گوادر کے مختلف علاقوں کے مسائل میں کے بارے میں بریفننگ دی-

    اجلاس میں گوادر میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور ماہی گیروں کے فلاح و بہبود سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا-

  • بلوچستان میں آج کے موسم کی صورتحال

    بلوچستان میں آج کے موسم کی صورتحال

    محکمہ موسمیات کے مطابق بلوچستان صوبہ کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اور خشک رہے گا، شام اور رات کے اوقات میں ژوب، بارکھان اور گردوانواح میں بارش کا امکان ہے، کوئٹہ میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 36 ڈگری سینٹی گریڈ کیا گیا ہے، قلات میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 33 ڈگری سینٹی گریڈ کیا گیا ہے، بلوچستان کے ساحلی علاقے گوادر میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 34 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے، سبی میں زیادہ سے زیادہ موجودہ درجہ حرارت 46 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے، نوکنڈی میں زیادہ سے زیادہ موجودہ درجہ حرارت 44 ڈگری سینٹی ریکارڈ کیا گیا ہے، کوئٹہ میں ہوا میں نمی کا تناسب 23 فیصد، گوادرمیں نمی کا تناسب61 فیصد، سبی میں ہوا میں نمی کا تناسب 39 فیصد، نوکنڈی میں ہوا نمی کا تناسب 7 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے.

  • لیویز نے تخریب کاری کا بڑا منصوبہ ناکام کردیا گیا

    لیویز نے تخریب کاری کا بڑا منصوبہ ناکام کردیا گیا

    کوہلو میں لیویز کوئیک رسپانس فورس نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے یوم آزادی پر بلوچستان کو بہت بڑی تباہی سے بچا لیا گیا ہے، حساس اداروں کی اطلاع پر لیویز کیو آر ایف نے تحصیل کاہان کے علاقے پیشی میں تخریب کاروں کے ٹھکانوں پر کارروائی کی ہے.

    ڈپٹی کمشنر کوہلوعمران ابرہیم بنگلزئی نے کہا ہے کہ کارروائی میں بڑی تعداد میں بھارتی ساختہ اسلحہ و گولا بارود برآمد کیا گیا ہے، تخریب کار اسلحہ و گولا بارود یوم آزادی پر صوبے میں کسی بڑے تخریبی کارروائی میں استعمال کرنا چاہتے تھے، برآمد اسلحہ و گولا بارود میں ایم 25 گن ایک عدد، ایم 25 روند 312 عدد، 12.7 کے روند 2300 عدد، 70 عدد روند 60 ایم ایم، 70 عدد فرنٹ فیوز 60 ایم ایم، 70 عدد بیک پرائمر فیوز 60 ایم ایم ، آر پی جی 7 کے 6 عدد روندز، آر پی جی 7 فیوز 6 عدد، بارودی مواد کے 68 پیکٹ اور 2 عدد دھماکہ خیز مواد برآمد کئے گئے ہیں، تخریب کاروں کے خلاف لیویز کی کارروائی جاری رہیں گی، یوم آزادی کے موقع پر لیویز، پولیس اور ایف سی سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں.

  • سیاحتی فروغ کے لیے تمام توجہ پہاڑی علاقوں پر دی گئی، اب ساحلی علاقوں کی باری ہے    وزیراعظم عمران خان

    سیاحتی فروغ کے لیے تمام توجہ پہاڑی علاقوں پر دی گئی، اب ساحلی علاقوں کی باری ہے وزیراعظم عمران خان

    وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں سیاحت کے فروغ کے لیے تمام توجہ پہاڑی علاقوں پر دی گئی، اب ساحلی علاقوں کی باری ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق لسبیلہ سونمیانی بیچ میں پودے لگانے والے کارکنوں اور مقامی افراد سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اللہ تعالیٰ کی جانب سے بہت بڑا تحفہ ہے، بدقستمی سے ہم نے اس تحفے کی قدر نہیں کی لوگوں کی میعار زندگی بہتر کرنا حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں مسلم ممالک کے سیاحوں کو راغب کرنے کے کافی مواقع ہیں اب تک پاکستان میں سیاحت کے فروغ کے لیے تمام توجہ پہاڑی علاقوں پر دی گئی-


    عمران خان نے بلوچستان کو نظر انداز کرنے پر ایک بار پھر ماضی کی حکومتوں پر تنقید کی کہا ماضی کی حکومتون نے بلوچستان پر توجہ نہیں دی حکمران بلوچستان آنے کی بجائے لندن جایا کرتے تھے یہاں تک کہ بلوچ رہنماؤں نے بھی صوبے کی ترقی پر کام نہیں کیا –


    انہوں نے کہا بلوچستان کی ترقی پاکستان کی ترقی ہے بلوچستان پر سب سے ذیادہ پیسہ ہم خرچ کر رہے ہیں ملکی تاریخ میں پہلی بار بلوچستان کی ترقی کیلئے ایک ہزار ارب روپے خرچ کررہے ہیں ترقی کی دوڑ میں دوسرے علاقوں کے برابر لانے کے لئے صوبےپرزیادہ توجہ مرکوزہے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساحلی علاقے نہایت خوبصورت ہیں جہاں سیاحتی مقامات بنا سکتے ہیں لسبیلہ سے گوادر تک سیاحت کو فروغ دیں گے اوراب بلوچستان کو آگے لے کر آنا ہے۔

    وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پوری دنیا موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہو رہی ہے،مینگروز وہ درخت ہیں جو سب سے زیادہ آکسیجن دیتے ہیں،مینگروز گرمی کے اثرات کو روکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی جانب سے جاری رپورٹ میں بین الحکومتی پینل کی جانب سے دنیا کو خبردار کیا گیا ہے انٹرگورنمنٹ پینل آن کلائمیٹ چینج نے اپنی جاری کردہ رپورٹ میں انسانی سرگرمیوں سے زمین کو پہنچنے والے نقصانات سے متعلق خبردار کیا ہے۔

    موسمیاتی تبدیلی سے متعلق رپورٹ جاری ، اقوام متحدہ نے دنیا کو خبردار کر دیا

    اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق گلوبل وارمنگ میں انسان کا کردار حد سے زیادہ اور واضح ہے، عالمی حدت 2030ء تک 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ جائے گی جنگلات، مٹی اور سمندر کی کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے کی صلاحیت مزید اخراج سے کمزور ہوجائے گی دنیا کو ہیٹ ویو، بارشوں اور خشک سالی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیوگوتریس نے اپنے بیان میں انسانی سرگرمیوں سے زمین کو پہنچنے والے نقصانات سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ زمین پر بڑے پیمانے پر موسمیاتی تبدیلیاں ہو رہی ہیں، یہ انسانیت کے لیے بہت بڑے خطرے کی بات ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اگر ہم اب ہی سر جوڑیں تو ہی ہم بڑے پیمانے پر ماحولیاتی تباہی سے نمٹ سکتے ہیں۔ لیکن جیسے آج کی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے اس معاملے میں نہ تاخیر کی گنجائش ہے نہ غلطی کی۔

  • نعیم اختر افغان بلوچستان ہائیکورٹ کے نئے چیف جسٹس کے طور پرحلف اٹھا لیا

    نعیم اختر افغان بلوچستان ہائیکورٹ کے نئے چیف جسٹس کے طور پرحلف اٹھا لیا

    ایک سادہ مگر خوبصورت حلف برداری کی تقریب آج گورنر ہاؤس کوئٹہ میں منعقد ہوئی-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق جسٹس نعیم اختر افغان بلوچستان ہائیکورٹ کے نئے چیف جسٹس کے طور پر حلف اٹھا لیا گورنر ہاؤس کوئٹہ میں منعقدہ تقریب میں گورنر بلوچستان سید ظہور احمد آغا جسٹس نعیم اختر افغان سے حلف لیا-

    حلف برداری کی تقریب میں وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان ، ہائی کورٹ کے ججز ، ارکان پارلیمنٹ ، فوجی اور سول حکام نے شرکت کی-

    واضح رہے کہ سینئر جج جسٹس نعیم اختر افغان چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ مقرر کر دیئے گئے ہیں اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق جسٹس نعیم اختر افغان کی تعیناتی جسٹس جمال مندوخیل کے سپریم کورٹ کا جج بننے کے بعد عمل میں آئی ہے۔

    جسٹس نعیم اختر افغان کا بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس بننے تک کا سفر:

    بی ایچ سی گورنمنٹ میں شائع کردہ معلومات کے مطابق جسٹس نعیم اختر افغان30ستمبر 1989 کو عدالت عالیہ بلوچستان کے وکیل بنے جسٹس نعیم اختر افغان12 مئی 2001 میں عدالت عظمٰی کے وکیل بنے۔ انہوں نے 21 سال ماتحت عدالتوں ، عدالت عالیہ بلوچستان ، وفاقی شرعی عدالت اور عدالت عظمٰی پاکستان میں بطور وکیل پریکٹس کی۔ وہ بے شمارفوجداری، دیوانی اور آئینی مقدمات میں پیش ہوئے جن میں سے بیشتر قانونی رسالوں میں شائع ہوئے۔ جسٹس نعیم اختر افغان بلوچستان بارکونسل کے ممبر بھی رہے۔

    جسٹس نعیم اختر افغان کو کمپنی جج عدالت عالیہ بلوچستان نے سول پٹیشن نمبر 1/1998میں لیکویڈیٹرمقرر کیا تاکہ میسرزپاکستان کرومائٹ لمیٹڈ کو کمپنی آرڈیننس 1984کے تحت لکویڈیٹ کیا جاسکے ۔وہ بطور وکیل سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹد بلوچستان اور پاکستان سٹیل ملز لمیٹڈکے پینل پربھی رہے اور ان کمپنیوں کے بہت سے مقدمات کیے۔ وہ بہت سے مقدمات میں عدالت کی طرف سے بطور ثالث بھی مقرر ہوئے ۔ وہ نیشنل بینک آف پاکستان کے پینل پر بھی رہے ۔ جسٹس نعیم اختر افغان یونیورسٹی لاء کالج میں اعزازی لیکچر اربھی رہے۔

    جسٹس نعیم اختر افغان12 مئی 2011 کو عدالت عالیہ بلوچستان کے ایڈیشنل جج مقرر ہوئے اور 11 مئی 2012 کوعدالت عالیہ بلوچستان کے جج مقرر ہوئے۔
    عدالت عظمٰی کے چیف جسٹس کی ہدایت پر جسٹس نعیم اختر افغان نے سیشن ڈویژن سبی کا انسپکشن کیا اور ایک جامعہ رپورٹ محررہ 20 جولائی 2011 پیش کی جو کہ بعد ازاں لاء اینڈ جسٹس کمیشن کو بھیج دی گئی ۔

    جسٹس نعیم اختر افغان کو چیف جسٹس عدالت عظمٰی /چیئرمین نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی نےبذریعہ نوٹیفکیشن محررہ 7دسمبر 2011 آلٹرنیٹ ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹی کا رکن تعینات کیا تاکہ اے ڈی آر کے ماسٹر ٹرینرز کو تربیت دی جا سکے۔

    جسٹس نعیم اختر افغان کو چیف جسٹس عدالت عالیہ بلوچستان نے چیئر مین بلڈنگ کمیٹی تعینات کیا 14 نومبر 2011کو انہیں عدالت عالیہ بلوچستان ضلعی کورٹ اور سیشن کورٹ کوئٹہ میں سیکورٹی آلات اور سی سی ٹی وی سسٹم لگانے والی کمیٹی کا چیئرمین تعینات کیا گیا۔

    مورخہ 29اگست 2011کو جسٹس نعیم اختر افغان کو چیف جسٹس عدالت عالیہ بلوچستان نےپروونشل جوڈیشل ڈویلپمنٹ فنڈ کمیٹی کا چیئرمین تعینات کیا۔وہ منتظم کمیٹی اینوائرنمینٹل لاء 2011کانفرنس جو کہ کوئٹہ میں ہوئی تھی کے بھی ممبر رہے وہ تربت ہائیکورٹ بنچ کی عمارت کے ڈیزائن کی منظوری کے لئے بنائی گئی کمیٹی کےبھی ممبر رہے جبکہ امتحانی کمیٹی 2012 کے بھی ممبر رہے۔