Baaghi TV

Category: بلوچستان

  • بلوچستان کے نامزد گورنر سید ظہور آغا آج عہدے کا حلف اٹھائیں گے

    بلوچستان کے نامزد گورنر سید ظہور آغا آج عہدے کا حلف اٹھائیں گے

    بلوچستان کے نامزد گورنر سید ظہور آغا آج عہدے کا حلف اٹھائیں گے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز سید ظہور آغا کو گورنر بلوچستان مقرر کیا گیا، اس حوالے سے نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے تاہم آج سید ظہور آغا آج عہدے کا حلف اٹھائیں گے-

    حلف برداری کی سادہ اور پروقار تقریب گورنر ہاؤس میں ہوگی حلف برداری کی تقریب میں وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال اور کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی کی شرکت متوقع ہے –

    تقریب میں صوبائی وزراء، اراکین اسمبلی اور اعلیٰ سول فوجی حکام بھی شرکت کریں گے۔

    واضح رہے کہ گورنر بلوچستان امان اللّٰہ یاسین زئی اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے جس کے بعد صدر مملکت عارف علوی نے نئے گورنر بلوچستان کا تقرر کیا تھا۔

  • باپ بیٹے کے ہاتھوں زخمی ہوگیا

    باپ بیٹے کے ہاتھوں زخمی ہوگیا

    صوابی پرمولی میں گزشتہ شب نامعلوم ملزمان نے مسمی شیرآمان سکنہ پرمولی پر اندھا دھند فائرنگ کی ہے، چھ گولیاں لگنے سے وہ شدید زخمی ہوگئے ہیں، ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے.
    اس اندھے کیس پرڈی پی او صوابی محمد شعیب خان نے مقامی پولیس کو ملزمان کو ٹریس اورگرفتار کرنے کا ٹاسک سونپا تھا، جس پرڈی ایس پی رزڑ پشم گل خان کی قیادت میں ایس ایچ او پرمولی سب انسپکٹر سبحان اللہ جدون اورتفتیشی آفیسران نے بہترین تفتیش اورحکمت عملی اپناتے ہوئے اورساتھ ہی ملزم کی نشاندہی پرمعلوم ہوا کہ اصل ملزم مجروح کا بیٹا بلال ہے، جس پرایس ایچ او پرمولی سبحان اللہ جدون بمع پولیس ٹیم نے کامیاب کاروائی کرتے ہوئے ملزم بلال کو گرفتار کیا ہے، ملزم نے دورانِ تفتیش راز اُگل دئے ہیں، ملزم نے کہا کہ والد نے دوسری شادی کی تھی، اِسی رنجش کی وجہ سے ملزمان حماد اللہ سکنہ شیخ جانہ اورکاظم سکنہ پرمولی کے ساتھ مل کرباپ کے سرپر 70ہزارروپے اجرت دیکر قتل کرنے کا پلان بنایا اوریوں گزشتہ رات والد پر فائرنگ کھول دی۔
    پرمولی پولیس نے ملزمان کو گرفتارکرکے پابند سلاسل کیا ہے، ملزم کے قبضہ سے آلہ ضرر پستول بمع کارتوس برآمد ہوا ہے، مزید تفتیش جاری ہے.

  • گوادرمیں بھاری مقدارمیں منشیات کی اسمگلنگ ناکام بنا دی گئی

    گوادرمیں بھاری مقدارمیں منشیات کی اسمگلنگ ناکام بنا دی گئی

    منشیات سمگلروں کے خلاف بڑی کاروائی کی گئی ہے، پاکستان کوسٹ گارڈزنے گوادرمیں خفیہ اطلاع ملنے پرکاروائی کرتے ہوئے بھاری مقدارمیں منشیات برآمد کرلی گئی ہیں، 93 کلوگرام اعلی کوالٹی کی ہیروئن برآمد کی گئی ہے، منشیات گوادر کے علاقے نیوٹاؤن ایئرپورٹ روڈ کے پاس چھپائی گئی تھیں، پکڑی جانے والی منشیات سمندر کے راستے بیرون ملک اسمگل ہونا تھیں، پکڑی گئی منشیات کی عالمی مارکیٹ میں مالیت 25.389 ملین ڈالر کے لگ بھگ ہیں، اسمگلروں کوگرفتارکرکے تفتیش کی جا رہی ہے، ڈائریکٹرجنرل پاکستان کوسٹ گارڈزنے جوانوں کی اس انتھک محنت اوراعلیٰ کارکردگی کو سراہا ہے.

  • قدرتی وسائل سے بھرپور بلوچستان پرتوجہ دے رہے ہیں عمران خان

    قدرتی وسائل سے بھرپور بلوچستان پرتوجہ دے رہے ہیں عمران خان

    وزیرِ اعظم عمران خان نے گوادر میں جنوبی بلوچستان ترقیاتی پیکیج پر پیش رفت کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کی ہے، بریفنگ میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی، وفاقی وزراء میں اسد عمر، مخدوم شاہ محمود قریشی، فواد چوہدری، علی زیدی، زبیدہ جلال، معاونِ خصوصی ڈاکٹر شہباز گل، مشیر قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف، وزیرِاعلی بلوچستان جام کمال، چیئرمین سی پیک اتھارٹی لیفٹینینٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ، صوبائی وزراء اور متعلقہ اعلی افسران نے شرکت. کی ہے.

    اجلاس کو حکومت کے بلوچستان پر خصوصی توجہ کے ویژن کے تحت تاریخی بلوچستان پیکیج پر پیش رفت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی ہے، وفاقی اورصوبائی ادارے مل کر پیکیج پر جاری کام کی نگرانی کررہے ہیں، منصوبوں کی ترجیحی تکمیل کو یقینی بنا رہے ہیں، 654 ارب کے مجموعی پیکیج میں سے رواں مالی سال میں 99.38 ارب روپے خرچ کئے جائیں گے، جس میں ٹرانسپورٹ و بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، صاف پانی کی فراہمی و بہتراستعمال، زراعت و لائیو سٹاک، انفارمیشن ٹیکنالوجی، توانائی، صنعت و تجارت، افرادی قوت و تعلیم اوردیگر ترقیاتی منصوبے شامل ہیں، پیکیچ میں کل 1100 کلومیٹرکا سڑکوں کا جال بچھایا جا رہا ہے، جو بلوچستان کے لوگوں کو نقل و حرکت میں آسانی کے ساتھ ساتھ زرعی اجناس کو منڈیوں تک پہنچانے میں اہم کردارادا کرے گا، پیکیج میں پانی کو ذخیرہ کرنے کیلئے سات بڑے ڈیمز اور100 کے قریب چھوٹے ڈیمز کی تعمیر بھی شامل ہے، انکرا، سواد اور شادی کورڈیم گوادرمیں صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے میں معاون ثابت ہونگے، اسکے علاوہ آبپاشی کے نظام کی بہتری اور زراعت کیلئے پانی کی فراہمی ایگریکلچرل ٹرانسفارمیشن پلان کے نفاذ میں معاونت اورزرعی پیداوارمیں اضافے کا وسیلہ بنیں گے، اسکے علاوہ اجلاس کو بتایا گیا کہ پیکیج کے تحت موجودہ بجلی کی فراہمی کو 12 فی صد سے بڑھا کر 57 فی صد کیا جائے گا، اسکے علاوہ ایل پی جی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا.

    تعلیم کیلئے ایسپائر کے نام سے ایک جامع منصوبہ شروع کیا گیا ہے، جس کے تحت ٹیلی سکولنگ سے دوردراز کے علاقوں کے طلباء کو فاصلاتی تعلیم کی فراہمی کی جا رہی ہے، وسیلہِ تعلیم کے تحت 25000 بچوں کو تعلیم دی جا رہی ہے، جبکہ گوادراورخاران میں کیڈت کالجزاورتربت، پشین اور خضدار میں خواتین کیلئے یونیورسٹیوں کا قیام بھی منصوبے میں شامل ہیں، فاصلاتی تعلیم کے ذریعے 6 لاکھ 40 ہزار بچے تعلیم سے مستفید ہو سکیں گے، مزید منصوبے میں احساس کے تحت پانچ ہزار خاندانوں کی مالی معاونت بھی کی گئی ہے، جبکہ مزید بیس ہزار خاندانوں کیلئے سروے جاری ہے.

    ڈیجیٹل بلوچستان کے تحت کیچ، گوادر، چاغی اور نوشکی میں ڈیجیٹل کنیکٹیوٹی کو بہتربنانا، بڑی شاہراہوں کے اطراف ہائی سپیڈ انٹر نیٹ کی فراہمی اور35 ہزارنوجوانوں کواگنائیٹ پروگرام کے تحت ڈیجیٹل سکلزکی فراہمی یقینی بنائی جائے گی، صنعت اورتجارت کے حوالے سے گبد، مند اورچیدگی میں مشترکہ بارڈر مارکیٹس، وشوک، ماشکیل اور تربت میں کھجوروں کی پروسیسنگ کے پلانٹس، ماربل کی بین الاقوامی معیار کی صنعتیں، خضدارمیں زیتون کے تیل کے پلانٹ، گوادر میں کشتی بانی کی صنعت کا استحکام و جدت اور مائننگ کی جدید مشینری کی فراہمی کے منصوبوں پر بھی اجلاس کو آگاہ کیا ہے.

    وزیرِ اعظم نے اس موقع پر کہا کہ بلوچستان کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں سے ایک ہے، تاریخ میں پہلی بار ہے کہ کوئی حکومت قدرتی وسائل اور باصلاحیت افرادی قوت سے بھرپور صوبے بلوچستان پرتوجہ دے رہی ہے، سڑکوں کے جال، صنعتی ترقی سے روزگار کی فراہمی، زراعت کی ترقی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنا رہے ہیں.

  • گورنر بلوچستان نے انصاف تک رسائی کو ممکن بنانے میں وکلاء کے کلیدی کردار سراہا

    گورنر بلوچستان نے انصاف تک رسائی کو ممکن بنانے میں وکلاء کے کلیدی کردار سراہا

    گورنر بلوچستان امان اللہ خان یاسین زئی نے کہا ہے کہ قانون اورانصاف کی بالادستی کو یقینی بنانے سے ہی ظلم اوراستحصال سے پاک انسانی معاشرے کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا جا سکتا ہے، عوام میں حقوق و فرائض کے احساس کو اجاگر کرنے اور عدل وانصاف تک رسائی کو ممکن بنانے میں وکلاء برادری کا کلیدی کردار ہے، صوبہ کے معتدل اور روشن فکر افراد پر زور دیا کہ وہ معاشرے میں جمہوری رویوں فروغ دینے، اختلاف رائے کا احترام پیدا کرنے اورانسانی عظمت کو اُجاگر کرنے کیلئے بھرپور کردار ادا کریں، ٹیکنالوجی کی تیزرفتار ترقی اور خاص طور سے وکالت پر اسکے اثرات نے مقابلہ کے رحجان کو بہت بڑھا دیا ہے، بطور ایک ذمہ دار شخص آپ کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ اپنی محنت اور قابلیت کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی سے بھرپور استفادہ کریں، وکلاء برادری کو درپیش مسائل ومشکلات کے پائیدار حل کیلئے ہرسطح پر اُن کیلئے بھرپورآواز اٹھانے کی یقین دہانی کرائی ہے.
    اس موقع پر اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نذر بلوچ، اسسٹنٹ اٹارنی جنرل جمیل بوستان، پی ٹی آئی بلوچستان کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری سید میرعلی آغا اور طلحہ سہیل بھی موجود تھے.

  • بلوچستان ہائیکورٹ میں وفاقی آفیسران کا بلوچستان سے ایک ارب روپے اضافی تنخواہیں لینا چیلنج

    بلوچستان ہائیکورٹ میں وفاقی آفیسران کا بلوچستان سے ایک ارب روپے اضافی تنخواہیں لینا چیلنج

    کوئٹہ: بلوچستان ہائیکورٹ میں وفاقی آفیسران کا بلوچستان سے ایک ارب روپے اضافی تنخواہیں لینا چیلنج

    باغی ٹی وی: جسٹس جمال خان مندوخیل نے پوچھا کیا ڈی ایم جی سروس والے ہم سے زیادہ قیمتی و محترم ہیں کہ بلوچستان میں ان پر نوازشات کی بارش کردی جاتی ہے-

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بہتی گنگا میں سب ہاتھ دھو رہے ہیں مقامی ڈی ایم جی آفیسران نے یہ مراعات کس قانون کے تحت لی ہیں-

    جسٹس حمید بلوچ نے کہا کہ کیا ہم نے اس صوبے پر رحم نہیں کرنا یہ کس طرح کا قانون ہے کہ صوبے اور وفاق کے دو ایک گریڈ آفیسران کے درمیان تفریق کی جا رہی ہے-

    انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کو حکم دیا جائے کہ تنخواہوں کی مد میں ادا کی گئی ایک ارب روپے کی رقم صوبے کے اکاونٹ میں واپس جمع کروائی جائے –

    درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ صوبائی سروس کے آفیسران کے خلاف تو تادیبی کاروائیاں ہوتی ہے جبکہ پاس والوں کی نہیں-

    درخواست میں کہا گیا کہ سابق ڈپٹی کمشنر کوئٹہ طاہر ظفر عباسی اور کمشنر کوئٹہ عثمان علی کے متعلق کی جانے والی انکوائریاں کس سٹیج پر ہیں؟ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کو طلب کرکے جواب طلب کیا جائے-

    ڈی ایم جی افیسران کو بلوچستان حکومت ایک ارب روپے اضافی ادا کرچکی ہے کیا ڈی ایم جی سروس والے ہم پر احسان کر کے یہاں آتے ہیں یا ملازمت کرنے کے لیے-

    درخواست میں مزید کہا گیا کہ 60 فیصد کوٹہ پاس سروس والوں کا ہے جس پر یہ پروموشن لیتے ہیں لیکن یہ صوبے میں سروس پسند نہیں کرتے ہیں، ان پوسٹوں کو خالی کرکے صوبائی سروس کے اہل آفیسران کو ان پر پرموشن دی جائے-

    درخواست پر جسٹس جمال خان مندوخیل، اور جسٹس حمید بلوچ پر مشتمل بینچ کا حکم دیا گیا درخواست سماعت کیلئے منظور کی گئی اور تمام فریقین کو نوٹسز جاری کئے گئے-

  • وزیراعلیٰ بلوچستان  کی زیر صدارت صوبائی وزراء کا اجلاس

    وزیراعلیٰ بلوچستان کی زیر صدارت صوبائی وزراء کا اجلاس

    وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی زیر صدارت آئندہ مالی سال 22-2021 بجٹ کے لیے مختلف محکموں کی مجوزہ ترقیاتی منصوبوں کے کانسیپٹ پیپرز کی منظوری پر پیشرفت سے متعلق اجلاس۔صوبائی وزراء میر اسداللہ بلوچ، میر عارف جان محمد حسنی، صوبائی مشیر عبدالخالق ہزارہ، اور پارلیمانی سیکرٹری ماہ جبین شیران سمیت متعلقہ محکموں کے سیکریٹریز کی شرکت۔

    بلڈنگ، سماجی بہبود، سپورٹس اور محکمہ ترقی نسواں کی ترقیاتی منصوبوں کے کانسیپٹ پیپرز کی تیاری اور منظوری پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔اضلاع میں بڑے اور ٹاؤنز کی سطح پر میڈیم سائز ضلعی کمپلیکسز کی تعمیر کے منصوبے تجویز کیے گئے ہیں۔ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز میں سیٹلمنٹ آفیسران کے لئے دفاتر اور رہائشی سہولیات کی فراہمی کےلئے منصوبہ تجویز کیا گیا ہے۔

    قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے بلڈنگوں کی تعمیر کے منصوبے تجویز کیے گئے ہیں۔ جی او آرز کے طرز پر اضلاع میں رہائشی کالونی کی تعمیر کے منصوبے پر پیش رفت ہو رہی ہے۔کچھ بلڈنگز ہر ضلعے کی ضرورت ہے جس میں تمام بنیادی ضروریات اور سہولیات فراہم کی جائیں ۔امور کی بہتر انجام دہی کے لیے بلڈنگوں اور دفاتر کا ہونا نا گزیر ہے۔

    لینڈ ریکارڈ کی حفاظت کے لیے نئے محافظ خانے بنائے جائیں۔ صوبے کے گنجان آباد اضلاع میں منی سپورٹس کمپلیکس کی تعمیر کا منصوبہ شروع کیا ہے۔صوبے کے خوبصورت مقامات پر گوادر کی طرز پر کرکٹ سٹیڈیم کی تعمیر کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔ منی سپورٹس کمپلیکسز کی تعمیر آئیڈیل منصوبہ ہے ۔

    محکمہ کھیل کے ترقیاتی منصوبوں کی جلد تکمیل کے لیے محکمہ کی ایک اپنی تکنیکی ٹیم اور انجینئرنگ ونگ ہونی چاہیے۔انجینئرنگ ونگ کے قیام سے متعلق سمری بھی ارسال کی جائے۔ وزیراعلیٰ کی محکمہ کھیل کو ہدایت۔
    منصوبوں کی بر وقت تکمیل کے لیے منصوبوں کے مختلف جزیات کے الگ الگ پی سی ون بنائے جائیں۔ وزیراعلیٰ کی ہدایت۔محکمہ سماجی بہبود کی 11 اسکیمات کے کانسیپٹ پیپرز تیار کئے گئے ہیں ۔

    جن میں سے 03 اسکیمات پی ڈی ڈبلیو پی کی ہیں۔ آئندہ مالی سال کے لیے محکمہ ترقی نسواں کے 05 نئے ترقیاتی منصوبوں کے کانسیپٹ پیپرز منظور ہوچکے ہیں۔گلے سال ہنر مند پروگرام فیز ٹو شروع کیا جائے گا۔ وومن سینٹر اور اکیڈمی کا منصوبہ بھی تجویز کیا گیا ہے۔سماجی شعبے کی بہتری اور ترقی کے لیے منصوبے شروع کئے ہیں۔

    گرلز کالجز میں ڈے کیئر سینٹرز کے قیام کے لئے اقدامات کئے جائیں۔ سوشو اکنامک بہتری ناگزیر ہے۔ بارڈر ایریاز کی ترقی کیلئے منصوبے مرتب کئے جائیں۔

  • لسبیلہ میں ترقیاتی منصوبوں پر عمل شروع ہوگیا،احکام کا دعوی

    لسبیلہ میں ترقیاتی منصوبوں پر عمل شروع ہوگیا،احکام کا دعوی

    وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی قیادت میں موجودہ صوبائی حکومت نے صوبے کی یکساں ترقی عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور خاص طور سے مختلف علاقوں میں انفراسٹرکچر کے بڑے منصوبوں پر تیزی سے عملدرآمد شروع کرر کھا ہے۔ وزیراعلیٰ جام کمال کے وژن کے مطابق صوبے میں سڑکوں کا جال بچھا نے بندات کی تعمیر اور فراہمی آب کی اسکیموں پر اربوں روپے کی لاگت سے ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے۔

    مالی سال 2020-2019 کے دوران پی ایس ڈی پی ( سالانہ ترقیاتی پروگرام ) میں صرف ضلع لسبیلہ میں جس بڑے پیمانے پر ترقیاتی منصوبوں پر کام کیا جا رہا ہے اس کا مشاہدہ اس سے پہلے علاقے کی عوام نے کبھی نہیں کیا۔ واضع رہے کہ وزیر اعلیٰ جام کمال اسی علاقے سے ایم پی اے منتخب ہوئے ہیں اور علاقے کے لوگوں کو ان سے توقعات وابستہ ہیں۔ پی ایس ڈی پی میں بڑا باغ تاگوٹھ بلیک ٹاپ، حسن گدور تاشیخ گوٹھ، گوہاربلیک ٹاپ، اوتھل،لاکھڑا، بچائو بند ،اور کی لاکھڑا ،یونس گوٹھ تا چنال گوٹھ بلیک ٹاپ کی تعمیر شامل ہے۔

    ان منصوبوں پر لاگت کا تخمینہ 44کروڑ 70 لاکھ روپے ہے۔ جبکہ بچائو بند بڑا باغ پر 4 کروڑ 50 لاکھ روپے کی لاگت سے عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔ لسبیلہ میں بڑھتے ہوئے ٹریفک کے باعث 97 کروڑ روپے کی لاگت سے بیلہ بائی پاس کی تعمیر بھی جاری ہے۔ جبکہ مرگ مار پر 47 کروڑ روپے خرچ کئے جا رہے ہیں ۔ اسی طرح ضلع لسبیلہ میں ہی سید نور علی شاہ گوٹھ تا کاٹھور بلیک ٹاپ روڈ 4.5 کلو میٹر، ہنگلاج ماتا روڈ ،دودرکیمپ تا کنراج تھانہ روڈ ،آر سی ڈی تا ڈام ،گوٹھ عبداللہ ڈگارزئی یو سی لال بخش ،امین فضل برو تا ٹھوڑی اوتھل سڑک کی تعمیر مجموعی طور پر 59 کروڑ 50 لاکھ روپے کی لاگت سے جاری ہے۔

    اس کے علاوہ حب اور اس کے ارد گرد کے علاقوں میں مختلف سڑکوں کی تعمیر کا کام جاری ہے جن میں وندر سٹی کی اندرونی سڑکیں، سرنیوالی محمد علی موندرا تا سردار گوٹھ، گڈانی سٹی تا برکت گوٹھ ،ہندو جاموٹ سردار گوٹھ جام یوسف آباد ،لاکھڑا تا کانکی روڈ شامل ہیں۔ جن کے لئے رواں مالی سال کے دوران 65 کروڑ 70 لاکھ روپے خرچ کئے جا رہے ہیں۔ مالی سال 2020-2019 پی ایس ڈی پی میں 3 کروڑ 50 لاکھ روپے گجر ڈیم، 5کروڑ روپے انیرو ڈیم اور 12 کروڑ روپے کھار کھچہ ڈیم کی تعمیر کیلئے مختص کئے گئے ہیں۔

    اس کے علاوہ حب ساکران میں آر سی ڈی پل کی تعمیر جاری ہے جس کیلئے 14 کروڑ 80 لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں مقامی آبادی کی پانی کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے واٹر سپلائی اسکیم چنکارہ تا لیاری اور واٹر سپلائی اسکیم صاحب خان گوٹھ شمالی کنراج زیر تکمیل ہیں ۔فراہمی آب کی ان اسکیموں کیلئے 21 کروڑ 20 لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ اسی طرح جام میر غلام قادر اسٹیڈیم حب میں پویلین اور بائونڈری وال کی تعمیر کیلئے 2 کروڑ 50 لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ ٹی ٹی سی حب کی عمارت بھی زیر تکمیل ہے جس کیلئے5 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

    مختلف علاقوں میں انفرا سٹرکچر کی فراہمی اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی پر توجہ دے رہے ہیں وہیں وہ اپنے حلقہ انتخاب میں بھی اپنے رائے دہندگان کے اعتماد پر پورا اتر رہے ہیں اور علاقے کی ترقی کیلئے متعدد ترقیاتی منصوبوں پر تیزی سے عملدرآمد جاری ہے۔

  • وزیر داخلہ بلوچستان نے عوام کو  تحفظ فراہم کرنے کی یقین دہانی کروا دی

    وزیر داخلہ بلوچستان نے عوام کو تحفظ فراہم کرنے کی یقین دہانی کروا دی

    وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا ہے کہ حکومت عوام کے جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے، سیکورٹی فورسز کے جوان اپنی جانوں کی پراہ کئے بغیر بے خوف و خطر دہشتگردوں کا تعقب کر رہے ہیں ۔کوئٹہ میں گزشتہ شب سی ٹی ڈی کی کامیاب کروائی باعث اطمینان ہے عوام مطمئن رہیں فورسز کے جوان رات بھر جاگ کر عوام کا تحفظ کر رہے ہیں۔

    یہ بات انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہی میر ضیاء لانگو نے کہا کہ کوئٹہ میں سی ٹی ڈی کی کامیاب کاروائی میں چار دہشتگردوں کی ہلاکت اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومتی ادارے کسی بھی صورت اپنی ذمہ داریوں سے غافل نہیں ہیں ہم دہشتگردوں کا ہمہ وقت تعقب کر رہے ہیں اور انہیں کیفر کردار تک پہنچا رہے ہیں انہوں نے کہاکہ بہادر سیکورٹی فورسز نے صوبے میں قیام امن کے لئے بھر پور کردار ادا کیا ہے۔

    سی ٹی ڈی کی کارکردگی قابل تحسین ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امن دشمن عناصر اپنے کاری وار کرکے حکومت اور سیکورٹی فورسز سے بچ نہیں پائیں گے ہم انہیں منطقی انجام تک پہنچائیں اور آخر ی دہشتگرد کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے

  • بلوچستان  صوبے بھر میں کام کرنے والے مزدورں کے حوالے سے اہم فیصلہ کر لیا گیا

    بلوچستان صوبے بھر میں کام کرنے والے مزدورں کے حوالے سے اہم فیصلہ کر لیا گیا

    کوئٹہ حکومت بلوچستان کا صوبے بھر میں تمام کارخانوں اور کمرشل یونٹس میں کام کرنے والے مزدوروں کا رجسٹرڈ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔بلوچستان ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹیٹیوٹشن آرڈننس 1965ء،اولڈ ایج بینیفٹ انسٹیٹوٹ ایکٹ 1976ء اور دیگر متعلقہ لیبر قوانین کے تحت مزدوروں کی رجسٹریشن کی جائے ۔

    رجسٹریشن جلد از جلد کرائیں ۔ تمام مالکان/منیجر مزدوروں کی رجسٹریشن کے لیے ریجنل ہیڈ EOBIکوئٹہ ریجن،ریجنل ہیڈ EOBIحب ریجن،ڈپٹی ڈائریکٹرزBESSIسے رابطہ کرسکتے ہیں۔ چیف سیکرٹری بلوچستان نے کہا۔