Baaghi TV

Category: بلوچستان

  • بلوچستان ہائیکورٹ میں وفاقی آفیسران کا بلوچستان سے ایک ارب روپے اضافی تنخواہیں لینا چیلنج

    بلوچستان ہائیکورٹ میں وفاقی آفیسران کا بلوچستان سے ایک ارب روپے اضافی تنخواہیں لینا چیلنج

    کوئٹہ: بلوچستان ہائیکورٹ میں وفاقی آفیسران کا بلوچستان سے ایک ارب روپے اضافی تنخواہیں لینا چیلنج

    باغی ٹی وی: جسٹس جمال خان مندوخیل نے پوچھا کیا ڈی ایم جی سروس والے ہم سے زیادہ قیمتی و محترم ہیں کہ بلوچستان میں ان پر نوازشات کی بارش کردی جاتی ہے-

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بہتی گنگا میں سب ہاتھ دھو رہے ہیں مقامی ڈی ایم جی آفیسران نے یہ مراعات کس قانون کے تحت لی ہیں-

    جسٹس حمید بلوچ نے کہا کہ کیا ہم نے اس صوبے پر رحم نہیں کرنا یہ کس طرح کا قانون ہے کہ صوبے اور وفاق کے دو ایک گریڈ آفیسران کے درمیان تفریق کی جا رہی ہے-

    انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کو حکم دیا جائے کہ تنخواہوں کی مد میں ادا کی گئی ایک ارب روپے کی رقم صوبے کے اکاونٹ میں واپس جمع کروائی جائے –

    درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ صوبائی سروس کے آفیسران کے خلاف تو تادیبی کاروائیاں ہوتی ہے جبکہ پاس والوں کی نہیں-

    درخواست میں کہا گیا کہ سابق ڈپٹی کمشنر کوئٹہ طاہر ظفر عباسی اور کمشنر کوئٹہ عثمان علی کے متعلق کی جانے والی انکوائریاں کس سٹیج پر ہیں؟ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کو طلب کرکے جواب طلب کیا جائے-

    ڈی ایم جی افیسران کو بلوچستان حکومت ایک ارب روپے اضافی ادا کرچکی ہے کیا ڈی ایم جی سروس والے ہم پر احسان کر کے یہاں آتے ہیں یا ملازمت کرنے کے لیے-

    درخواست میں مزید کہا گیا کہ 60 فیصد کوٹہ پاس سروس والوں کا ہے جس پر یہ پروموشن لیتے ہیں لیکن یہ صوبے میں سروس پسند نہیں کرتے ہیں، ان پوسٹوں کو خالی کرکے صوبائی سروس کے اہل آفیسران کو ان پر پرموشن دی جائے-

    درخواست پر جسٹس جمال خان مندوخیل، اور جسٹس حمید بلوچ پر مشتمل بینچ کا حکم دیا گیا درخواست سماعت کیلئے منظور کی گئی اور تمام فریقین کو نوٹسز جاری کئے گئے-

  • وزیراعلیٰ بلوچستان  کی زیر صدارت صوبائی وزراء کا اجلاس

    وزیراعلیٰ بلوچستان کی زیر صدارت صوبائی وزراء کا اجلاس

    وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی زیر صدارت آئندہ مالی سال 22-2021 بجٹ کے لیے مختلف محکموں کی مجوزہ ترقیاتی منصوبوں کے کانسیپٹ پیپرز کی منظوری پر پیشرفت سے متعلق اجلاس۔صوبائی وزراء میر اسداللہ بلوچ، میر عارف جان محمد حسنی، صوبائی مشیر عبدالخالق ہزارہ، اور پارلیمانی سیکرٹری ماہ جبین شیران سمیت متعلقہ محکموں کے سیکریٹریز کی شرکت۔

    بلڈنگ، سماجی بہبود، سپورٹس اور محکمہ ترقی نسواں کی ترقیاتی منصوبوں کے کانسیپٹ پیپرز کی تیاری اور منظوری پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔اضلاع میں بڑے اور ٹاؤنز کی سطح پر میڈیم سائز ضلعی کمپلیکسز کی تعمیر کے منصوبے تجویز کیے گئے ہیں۔ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز میں سیٹلمنٹ آفیسران کے لئے دفاتر اور رہائشی سہولیات کی فراہمی کےلئے منصوبہ تجویز کیا گیا ہے۔

    قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے بلڈنگوں کی تعمیر کے منصوبے تجویز کیے گئے ہیں۔ جی او آرز کے طرز پر اضلاع میں رہائشی کالونی کی تعمیر کے منصوبے پر پیش رفت ہو رہی ہے۔کچھ بلڈنگز ہر ضلعے کی ضرورت ہے جس میں تمام بنیادی ضروریات اور سہولیات فراہم کی جائیں ۔امور کی بہتر انجام دہی کے لیے بلڈنگوں اور دفاتر کا ہونا نا گزیر ہے۔

    لینڈ ریکارڈ کی حفاظت کے لیے نئے محافظ خانے بنائے جائیں۔ صوبے کے گنجان آباد اضلاع میں منی سپورٹس کمپلیکس کی تعمیر کا منصوبہ شروع کیا ہے۔صوبے کے خوبصورت مقامات پر گوادر کی طرز پر کرکٹ سٹیڈیم کی تعمیر کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔ منی سپورٹس کمپلیکسز کی تعمیر آئیڈیل منصوبہ ہے ۔

    محکمہ کھیل کے ترقیاتی منصوبوں کی جلد تکمیل کے لیے محکمہ کی ایک اپنی تکنیکی ٹیم اور انجینئرنگ ونگ ہونی چاہیے۔انجینئرنگ ونگ کے قیام سے متعلق سمری بھی ارسال کی جائے۔ وزیراعلیٰ کی محکمہ کھیل کو ہدایت۔
    منصوبوں کی بر وقت تکمیل کے لیے منصوبوں کے مختلف جزیات کے الگ الگ پی سی ون بنائے جائیں۔ وزیراعلیٰ کی ہدایت۔محکمہ سماجی بہبود کی 11 اسکیمات کے کانسیپٹ پیپرز تیار کئے گئے ہیں ۔

    جن میں سے 03 اسکیمات پی ڈی ڈبلیو پی کی ہیں۔ آئندہ مالی سال کے لیے محکمہ ترقی نسواں کے 05 نئے ترقیاتی منصوبوں کے کانسیپٹ پیپرز منظور ہوچکے ہیں۔گلے سال ہنر مند پروگرام فیز ٹو شروع کیا جائے گا۔ وومن سینٹر اور اکیڈمی کا منصوبہ بھی تجویز کیا گیا ہے۔سماجی شعبے کی بہتری اور ترقی کے لیے منصوبے شروع کئے ہیں۔

    گرلز کالجز میں ڈے کیئر سینٹرز کے قیام کے لئے اقدامات کئے جائیں۔ سوشو اکنامک بہتری ناگزیر ہے۔ بارڈر ایریاز کی ترقی کیلئے منصوبے مرتب کئے جائیں۔

  • لسبیلہ میں ترقیاتی منصوبوں پر عمل شروع ہوگیا،احکام کا دعوی

    لسبیلہ میں ترقیاتی منصوبوں پر عمل شروع ہوگیا،احکام کا دعوی

    وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی قیادت میں موجودہ صوبائی حکومت نے صوبے کی یکساں ترقی عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور خاص طور سے مختلف علاقوں میں انفراسٹرکچر کے بڑے منصوبوں پر تیزی سے عملدرآمد شروع کرر کھا ہے۔ وزیراعلیٰ جام کمال کے وژن کے مطابق صوبے میں سڑکوں کا جال بچھا نے بندات کی تعمیر اور فراہمی آب کی اسکیموں پر اربوں روپے کی لاگت سے ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے۔

    مالی سال 2020-2019 کے دوران پی ایس ڈی پی ( سالانہ ترقیاتی پروگرام ) میں صرف ضلع لسبیلہ میں جس بڑے پیمانے پر ترقیاتی منصوبوں پر کام کیا جا رہا ہے اس کا مشاہدہ اس سے پہلے علاقے کی عوام نے کبھی نہیں کیا۔ واضع رہے کہ وزیر اعلیٰ جام کمال اسی علاقے سے ایم پی اے منتخب ہوئے ہیں اور علاقے کے لوگوں کو ان سے توقعات وابستہ ہیں۔ پی ایس ڈی پی میں بڑا باغ تاگوٹھ بلیک ٹاپ، حسن گدور تاشیخ گوٹھ، گوہاربلیک ٹاپ، اوتھل،لاکھڑا، بچائو بند ،اور کی لاکھڑا ،یونس گوٹھ تا چنال گوٹھ بلیک ٹاپ کی تعمیر شامل ہے۔

    ان منصوبوں پر لاگت کا تخمینہ 44کروڑ 70 لاکھ روپے ہے۔ جبکہ بچائو بند بڑا باغ پر 4 کروڑ 50 لاکھ روپے کی لاگت سے عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔ لسبیلہ میں بڑھتے ہوئے ٹریفک کے باعث 97 کروڑ روپے کی لاگت سے بیلہ بائی پاس کی تعمیر بھی جاری ہے۔ جبکہ مرگ مار پر 47 کروڑ روپے خرچ کئے جا رہے ہیں ۔ اسی طرح ضلع لسبیلہ میں ہی سید نور علی شاہ گوٹھ تا کاٹھور بلیک ٹاپ روڈ 4.5 کلو میٹر، ہنگلاج ماتا روڈ ،دودرکیمپ تا کنراج تھانہ روڈ ،آر سی ڈی تا ڈام ،گوٹھ عبداللہ ڈگارزئی یو سی لال بخش ،امین فضل برو تا ٹھوڑی اوتھل سڑک کی تعمیر مجموعی طور پر 59 کروڑ 50 لاکھ روپے کی لاگت سے جاری ہے۔

    اس کے علاوہ حب اور اس کے ارد گرد کے علاقوں میں مختلف سڑکوں کی تعمیر کا کام جاری ہے جن میں وندر سٹی کی اندرونی سڑکیں، سرنیوالی محمد علی موندرا تا سردار گوٹھ، گڈانی سٹی تا برکت گوٹھ ،ہندو جاموٹ سردار گوٹھ جام یوسف آباد ،لاکھڑا تا کانکی روڈ شامل ہیں۔ جن کے لئے رواں مالی سال کے دوران 65 کروڑ 70 لاکھ روپے خرچ کئے جا رہے ہیں۔ مالی سال 2020-2019 پی ایس ڈی پی میں 3 کروڑ 50 لاکھ روپے گجر ڈیم، 5کروڑ روپے انیرو ڈیم اور 12 کروڑ روپے کھار کھچہ ڈیم کی تعمیر کیلئے مختص کئے گئے ہیں۔

    اس کے علاوہ حب ساکران میں آر سی ڈی پل کی تعمیر جاری ہے جس کیلئے 14 کروڑ 80 لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں مقامی آبادی کی پانی کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے واٹر سپلائی اسکیم چنکارہ تا لیاری اور واٹر سپلائی اسکیم صاحب خان گوٹھ شمالی کنراج زیر تکمیل ہیں ۔فراہمی آب کی ان اسکیموں کیلئے 21 کروڑ 20 لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ اسی طرح جام میر غلام قادر اسٹیڈیم حب میں پویلین اور بائونڈری وال کی تعمیر کیلئے 2 کروڑ 50 لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ ٹی ٹی سی حب کی عمارت بھی زیر تکمیل ہے جس کیلئے5 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

    مختلف علاقوں میں انفرا سٹرکچر کی فراہمی اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی پر توجہ دے رہے ہیں وہیں وہ اپنے حلقہ انتخاب میں بھی اپنے رائے دہندگان کے اعتماد پر پورا اتر رہے ہیں اور علاقے کی ترقی کیلئے متعدد ترقیاتی منصوبوں پر تیزی سے عملدرآمد جاری ہے۔

  • وزیر داخلہ بلوچستان نے عوام کو  تحفظ فراہم کرنے کی یقین دہانی کروا دی

    وزیر داخلہ بلوچستان نے عوام کو تحفظ فراہم کرنے کی یقین دہانی کروا دی

    وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا ہے کہ حکومت عوام کے جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے، سیکورٹی فورسز کے جوان اپنی جانوں کی پراہ کئے بغیر بے خوف و خطر دہشتگردوں کا تعقب کر رہے ہیں ۔کوئٹہ میں گزشتہ شب سی ٹی ڈی کی کامیاب کروائی باعث اطمینان ہے عوام مطمئن رہیں فورسز کے جوان رات بھر جاگ کر عوام کا تحفظ کر رہے ہیں۔

    یہ بات انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہی میر ضیاء لانگو نے کہا کہ کوئٹہ میں سی ٹی ڈی کی کامیاب کاروائی میں چار دہشتگردوں کی ہلاکت اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومتی ادارے کسی بھی صورت اپنی ذمہ داریوں سے غافل نہیں ہیں ہم دہشتگردوں کا ہمہ وقت تعقب کر رہے ہیں اور انہیں کیفر کردار تک پہنچا رہے ہیں انہوں نے کہاکہ بہادر سیکورٹی فورسز نے صوبے میں قیام امن کے لئے بھر پور کردار ادا کیا ہے۔

    سی ٹی ڈی کی کارکردگی قابل تحسین ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امن دشمن عناصر اپنے کاری وار کرکے حکومت اور سیکورٹی فورسز سے بچ نہیں پائیں گے ہم انہیں منطقی انجام تک پہنچائیں اور آخر ی دہشتگرد کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے

  • بلوچستان  صوبے بھر میں کام کرنے والے مزدورں کے حوالے سے اہم فیصلہ کر لیا گیا

    بلوچستان صوبے بھر میں کام کرنے والے مزدورں کے حوالے سے اہم فیصلہ کر لیا گیا

    کوئٹہ حکومت بلوچستان کا صوبے بھر میں تمام کارخانوں اور کمرشل یونٹس میں کام کرنے والے مزدوروں کا رجسٹرڈ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔بلوچستان ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹیٹیوٹشن آرڈننس 1965ء،اولڈ ایج بینیفٹ انسٹیٹوٹ ایکٹ 1976ء اور دیگر متعلقہ لیبر قوانین کے تحت مزدوروں کی رجسٹریشن کی جائے ۔

    رجسٹریشن جلد از جلد کرائیں ۔ تمام مالکان/منیجر مزدوروں کی رجسٹریشن کے لیے ریجنل ہیڈ EOBIکوئٹہ ریجن،ریجنل ہیڈ EOBIحب ریجن،ڈپٹی ڈائریکٹرزBESSIسے رابطہ کرسکتے ہیں۔ چیف سیکرٹری بلوچستان نے کہا۔

  • پاکستان میں کورونا سے مزید 70 اموات مثبت کیسز میں بھی اضافہ

    پاکستان میں کورونا سے مزید 70 اموات مثبت کیسز میں بھی اضافہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کورونا کی تیسری لہر جاری ہے، کرونا مریضوں اور اموات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے

    این سی او سی کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا سے مزید 70 اموات ہوئی ہیں جبکہ 4 ہزار825 نئے مریض سامنے آئے ہیں، پاکستان میں کورونا سے اموات کی مجموعی تعداد 17 ہزار69 ہو گئی ہے جبکہ کرونا مریضوں کی مجموعی تعداد 7 لاکھ 94 ہزار841 ہو گئی ہے جبکہ ملک بھر میں مثبت کیسز کی شرح تقریبا 9.61 فی صد رہی۔


    این سی او سی کے مطابق پاکستان میں ایکٹو کیسز کی تعداد89 ہزار219 ہے اور6لاکھ 94 ہزار46 افراد کورونا سے صحتیاب ہوچکے ہیں۔

    سندھ میں 16 ہزار 983 ،پنجاب میں 19 ہزار 445 ، خبیر پختونخوا میں 7 ہزار 709، اسلام آباد میں 3725، بلوچستان 1 ہزار 36، گلگت بلتستان 333، آزاد جموں کمشیر 975 نئے کیسز سامنے آئے-

    کورونا کے سبب پنجاب میں 7 ہزار990 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ سندھ میں 4 ہزار599، خیبر پختونخوا 3 ہزار134، اسلام آباد 665، گلگت بلتستان 105، بلوچستان میں 232 اور آزاد کشمیر میں 462 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

    این سی او سی کے مطابق اسلام آباد میں کورونا کیسز کی تعداد 73ہزار750، خیبر پختونخوا ایک لاکھ 140ہزار77، پنجاب2لاکھ 90 ہزار 788، سندھ 2 لاکھ 78 ہزار545، بلوچستان21 ہزار743، آزاد کشمیر16ہزار591 اور گلگت بلتستان میں5 ہزار258 افراد کورونا سے متاثر ہوچکے ہیں۔

    کورونا وائرس پاکستان میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے پاکستان کے 26 اضلاع ہائی رسک قرار دیئے گئے ہیں۔ پاکستان میں کورونا کی ویکسینیشن جاری ہے اور تیسرے مرحلے میں50تا60 سال کے درمیان عمر والے افراد کو ویکسین لگائی جا رہی ہے۔

  • بلوچستان میں پولیو مہم کا آج تیسرا روز مکمل۔

    بلوچستان میں پولیو مہم کا آج تیسرا روز مکمل۔

    بلوچستان میں قومی پولیو مہم جاری ہے۔ 11 اپریل سے شروع ہونے والی بلوچستان میں پولیو مہم کا آج تیسرا روز مکمل ہو گیا ہے۔ چاغی، ڈیرہ بگٹی، دکی، گوادر، ہرنای، جھل مگسی، قلہ عبدالہ، قلات کیچ خاران، خضدار، کوہلو، لسبیلہ، مستونگ، نوشکی، پشتین، سبّی ژوب اور دیگر اضلاع میں گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے گئے ہیں۔ اس مہم میں 21500 پولیو ورکرز حصہ لے رہے ہیں۔ پہلے دو دنوں میں 1006078 بچوں کو پولیو کے قطرے پلاے گے ہیں۔ پہلے دن چار لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلاے گئے اور دوسرے دن 595494 بچوں کو پولیو کے قطرے پلاے گے ہیں۔ کوئٹہ میں 11 سے 15 اپریل اور پورے بلوچستان میں 11سے 13 اپریل تک پولیو مہم چلائی جاے گی۔ بلوچستان میں دو ملین سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے اس حوالے سے پولیو کی خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جوکہ گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو ڈراپس پلائیں گیں۔ قومی پولیو مہم کے تحت پورے پاکستان میں 37 ملین سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جا چکے ہیں۔

  • بلوچستان میں پولیو مہم کا آغاز۔

    بلوچستان میں پولیو مہم کا آغاز۔

    پہلے دن بلوچستان کے 33 اضلاع میں گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے گئے ہیں۔ زرا سی غفلت عمر بھر کا پچھتاوا بن سکتی ہے۔ اس مہم میں 21500 پولیو ورکرز حصہ لے رہے ہیں۔ پہلے دن چار لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلاے گئے ہیں۔ کوئٹہ میں 11 سے 15 اپریل تک اور پورے بلوچستان میں 11سے 13 اپریل تک پولیو مہم چلائی جاے گی۔ بلوچستان میں دو ملین سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔ اس حوالے سے پولیو کی خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ پولیو ٹیمیں گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو ڈراپس پلائیں گیں۔ قومی پولیو مہم کے تحت پورے پاکستان میں 37 ملین سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جا چکے ہیں۔

  • نصیرآباد کی تحصیل چھتر میں فری میڈیکل کیمپ

    نصیرآباد کی تحصیل چھتر میں فری میڈیکل کیمپ

    نصیر آباد .

    آئی جی ایف سی نارتھ بلوچستان میجر جنرل یوسف مجوکہ کی خصوصی احکامات پر نصیرآباد کی تحصیل چھتر میں ایف سی 72ونگ کی جانب سے اور محکمہ صحت نصیرآباد کے تعاون سے غریب نادار عوام و مریضوں کے لئے فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا گیا۔ ایک روزہ فری میڈیکل کیمپ کا افتتاح ایف سی 72 ونگ کے کمانڈر کرنل راجہ شکیل احمد نے کیا۔ ان کے ہمراہ ڈویژنل ڈائریکٹر ہیلتھ ڈاکٹر حماد اللہ زھری، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نصیرآباد ڈاکٹر عبدالمنان لاکٹی، اسسٹنٹ کمشنر چھتر غلام حسین بھنگر، ڈویژنل ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر نصیرآباد سلیم احمد کھوسہ، ایم ایس ڈاکٹر ایاز جمالی سمیت دیگر افسران موجود تھے۔ میڈیکل کمیپ میں ایف سی اور محکمہ صحت نصیرآباد کے ماہر خواتین اور مرد ڈاکٹروں نے آٹھ سو سے زائد او پی ڈی کی اور غریب مریضوں کا نہ صرف علاج کیا گیا بلکہ ان کو مفت ادویات بھی دی گئی اور فری میڈیکل کیمپ کے دوران ایف سی 72 ونگ کے کمانڈر کرنل راجہ شکیل احمد و دیگرنے غریب مرد اور خواتین میں مفت راشن بھی تقسیم کیا اور مختلف شعبوں کا دورہ کیا چھتر کے علاقے کی عوام نے ایف سی 72 ونگ کے کمانڈر کرنل راجہ شکیل احمد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے چھتر میں میڈیکل کیمپ لگا کر غریب عوام کو علاج معالج کی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کیا۔ آخر میں ایف سی کے کرنل راجہ شکیل احمد نے میڈیکل کیمپ میں حصہ لینے والے ڈاکٹرز ،لیڈی ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکس میں سٹیفکٹ بھی تقسیم کیے۔

  • بلوچستان تھینک ٹینک نیٹ ورک کا قیام

    بلوچستان تھینک ٹینک نیٹ ورک کا قیام

    گورنر بلوچستان امان اللہ خان نے کہا ہے کہ بلوچستان تھینک ٹینک نیٹ ورک کا قیام ایک خوش آئند عمل ہے۔ صوبے میں تھینک ٹینک کی عدم موجودگی اور ریسرچ سینٹرز کے فقدان کی وجہ سے ہم اپنے ماہرین اور محققین سے استفادہ نہ کر سکے۔ حکومت تمام پی ایچ ڈی سکالرز پر باقاعدگی سے بہت بڑی رقم خرچ کرتی ہے لہٰذا ضروری ہے کہ وہ بھی اپنی تمام تر توجہ تحقیق پر ہی مرکوز رکھیں۔ بی ٹی ٹی این کے قیام سے نہ صرف جدید ریسرچ پر مبنی علم و دانش کو فروغ ملے گا بلکہ قومی پالیسیاں تشکیل دینے میں بھی مدد و رہنمائی ملے گی۔ بلوچستان پبلک سیکٹر یونیورسٹیز میں موجود قابل ماہرین اور محققین کے علم وتجربہ سے بھرپور استفادہ کرنا اشد ضروری ہے۔ بعدازاں بیوٹمز یونیورسٹی اور بلوچستان تھنک ٹینک نیٹ ورک کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے گئے۔ اس موقع بھی بیوٹمز یونیورسٹی کے وائس چانسلر انجینئر فاروق بازئی، بی ٹی ٹی این کے کنسلٹنٹ بریگیڈیئر (ر) آغا احمد گل اور سرکاری یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز صاحبان بھی موجود تھے۔