پنجاب اسمبلی میں جہیز نہ ہونے کی وجہ سے 1 کروڑ 35 لاکھ لڑکیوں کی شادیاں نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔مسلم لیگ (ن) کے رکن پنجاب اسمبلی احسن رضا خان نے کہا کہ بھارت نے جہیز لینے اور دینے کو جرم قرار دینے کا قانون پاس کرلیا ہے۔انہوں نے کہا کہ شہباز شریف نے ون ڈش کی پابندی لگائی، جس سے غریب بچیوں کی شادیاں ہوئیں۔احسن رضا خان نے مزید کہا کہ جہیز میں گاڑیاں دینے کے چکر میں غریب خودکشی پر مجبور ہے، مطالبہ کرتے ہیں کہ جہیز اور نمود و نمائش پر پابندی لگائی جائے۔رکن پنجاب اسمبلی نے یہ بھی کہا کہ وراثت کا قانون موجود ہے، بیٹی کا حصہ وراثت میں ملتا ہے، 32 ہزار روپے والا بچی کو اسکول میں داخل کرائے یا جہیز اکٹھا کرے گا۔ان کا کہنا تھا کہ بیٹی کی پیدائش پر بات ڈپریشن کا شکار ہوکر خودکشی کرلیتا ہے، 1 کروڑ 35 لاکھ لڑکیاں شادی نہ ہونے پر گھر وں میں بیٹھی ہیں۔وزیر بیت المال و سوشل ویلفیئر پنجاب سہیل شوکت بٹ نے جہیز کو لعنت قرار دیا اور کہا کہ ہم قانون بناکر جہیز جیسے ناسور سے معاشرے کو پاک بنائیں گے۔انہوں نے کہا کہ جہیز کے خلاف انقلابی قدم اٹھانے کی ضرورت ہے، محکمہ ایسا قانون لائے گا کہ بیٹیوں کو جہیز جیسے مسائل کا سامنا نہیں رہے گا۔
Category: پنجاب

پنجاب کےکسانوں کوسبسڈائزجدید مشینری فراہم کرے گے، مریم اورنگزیب
سینئرصوبائی وزیرمریم اورنگزیب نے کالا شاہ کاکو میں تقریب سےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ سموگ کےخاتمےکےلیےوزیراعلیٰ پنجاب نےخصوصی ہدایات جاری کی ہیں، جس پر عمل درآمد یقینی بنایا جارہا ہے۔سینئرصوبائی وزیرمریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ سموگ کے خاتمے کے لیے منصوبے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں جلد کسان کارڈ کا اجرا بھی کیا جارہا ہے، پنجاب حکومت کی جانب سے زرعی گریجویٹس کی انٹرن شپ کےلیے بھی منصوبہ لایا جارہا ہے، پنجاب کےکسانوں کوسبسڈائزجدید مشینری فراہم کررہےہیں۔واضح رہے حالیہ ڈیٹا کے مطابق لاہور شہر سموگ کے باعث متعدد بار دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلے نمبر پر رہا، ماہرین کے مطابق سموگ کی صورتحال موسم سرما میں شدت اختیار کر جاتی ہے مگر درحقیقت یہ وہ آلودگی ہے جو سارا سال فضا میں موجود رہتی ہے۔

پی ٹی آئی کے ساتھ جب آمنے سامنے بیٹھیں گے تب معلوم ہوگا اتحاد ہوتا ہے یا نہیں،مولانا فضل الرحمان
بھکر: جمعیت علمائے اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے ساتھ جب آمنے سامنے بیٹھیں گے تب معلوم ہوگا اتحاد ہوتا ہے یا نہیں-
بھکر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ انتخابات میں حکومتوں کا کوئی رول نہیں ہوتا، الیکشن کمیشن کا رول ہوتا ہے، جس کا الیکشن کے لیے رول تھا انہوں نے رول ادا نہیں کیا جس کا رول نہیں تھا اُس نے رول ادا کیاپی ٹی آئی کے ساتھ جب آمنے سامنے بیٹھیں گے تب معلوم ہوگا اتحاد ہوتا ہے یا نہیں، ہمارے پاس آئین موجود ہے ہم چاہتے ہیں اس پر عمل ہو۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے انتخابات اور نظام میں فوج کیوں مداخلت کرتی ہے؟، ملک کو اگر اچھے سے چلانا ہے تو سیاسی حکومت بننی چاہیے اور بیورکریسی کو آزاد کرنا ہوگا، الیکٹبلز اداروں کے قبضہ میں ہیں جنہیں پیسے لے کر باریاں دی جاتی ہیں،خیبرپختونخوا میں مولانا دشمنی میں دو عہدے میرے مخالفوں کو دئیے ، میرا اپنا بیانیہ ہے میری ایک بڑی پارٹی ہے، دھاندلی کے ذریعہ ہمیں ہرایا گیا، ہمارے بیانیہ کو پی ٹی آئی کے بیانیہ کے ساتھ نا جوڑا جائے۔
عرب لیگ کاغزہ جنگ بندی اور فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کرنے کا مطالبہ
انہوں نے کہا پنجاب کے عوام ذہنی لحاظ سے سب سے زیادہ پسماندہ ہے اور سیاسی لحاظ سے یہاں کا کوئی کردار نہیں، گندم کے معاملہ میں کاشتکاروں کے ساتھ انہی لوگوں نے ہاتھ کیا جنہیں ووٹ دئیے ہمیں اس لیے ہرایا گیا کہ ہم ایجنسیوں کی آلہ کار نہیں ہیں، عالمی اسٹیبلشمنٹ اور مقامی اسٹیبلشمنٹ ملکر حکومت سازی کرتے ہیں، ہم دماغ کو جمود کا شکار نہیں ہونے دیں گے کہ اسٹیبلشمنٹ جو مسلط کرے ہم قبول کرلیں، تمام ادارے اور آئین موجود ہے مگر ملک میں صرف ایک ادارے کی ہی کیوں اجارہ داری ہے؟، میڈیا دو جماعتوں کے درمیان الجھ چکا ہے۔
پاکستان کے معاشی حالا ت جلد ٹھیک ہو جائیں گے،وزیراعظم
واضح ہے کہ پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے 23 مئی کو لاہور میں گول میز کانفرنس کا اعلان کردیا،اسد قیصر نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ہمارے قریبی رابطے ہیں اور ملاقاتیں ہو رہی ہیں، ہم جلد ایک لائحہ عمل طے کرلیں گے،ہم ایک کانفرنس 23 مئی کو لاہور میں کر رہے ہیں جس میں ہم تمام مکتبہ فکر کے لوگوں کو لا رہے ہیں، اور ہماری خواہش ہے کہ اس میں مولانا فضل الرحمان بھی شامل ہوں، اس حوالے سے لطیف کھوسہ کو ذمہ داری دی گئی ہے۔
غزہ میں اسرائیلی ٹینکوں نے اپنے ہی فوجیوں کو نشانہ بنا ڈالا، 5 اسرائیلی …

پنجاب حکومت نے میڈیا کے جدید چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہتک عزت بل 2024 پیش کر دیا
پنجاب کی صوبائی اسمبلی نے پنجاب ہتک عزت بل 2024 پیش کیا ہے، جس کا مقصد عصر حاضر میں خاص طور پر سوشل میڈیا اور آن لائن پلیٹ فارمز کے دائرے میں ہتک عزت سے متعلق قانونی دفعات فراہم کرنا ہے۔بل، 2024 کا بل نمبر 08 کے طور پر نشان زد، ہتک عزت اور اس سے متعلقہ معاملات سے متعلق ضوابط کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔ اس نے پنجاب ڈیفیمیشن ایکٹ 2024 کے طور پر نافذ کرنے کی تجویز پیش کی ہے، جس کے دائرہ اختیار کو پورے پنجاب میں پھیلایا جائے گا۔
یہ بل اس کے دائرہ کار اور اطلاق کو سمجھنے کے لیے بہت ضروری مختلف اصطلاحات کی وضاحت کرتا ہے۔ یہ ‘براڈکاسٹنگ’، ‘دعویٰ’، ‘ہتک عزت’، ‘صحافی’، ‘اشاعت’، اور دیگر کی وضاحت کرتا ہے، تشریح کے لیے ایک جامع فریم ورک فراہم کرتا ہے یہ بل جدید میڈیا کے پھیلاؤ کی پیچیدگیوں کو حل کرتا ہے، جس میں فیس بک، انسٹاگرام، ٹویٹر، واٹس ایپ اور ٹک ٹاک جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارم شامل ہیں۔ یہ مواصلات کے ابھرتے ہوئے منظر نامے کو تسلیم کرتے ہوئے، الیکٹرانک آلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذرائع کو شامل کرنے کے لیے براڈکاسٹنگ کی وضاحت کرتا ہے۔
بل ٹربیونل کے سامنے دعوے دائر کرنے کے طریقہ کار کا خاکہ پیش کرتا ہے، مدعی اور مدعا علیہ جیسے کردار کا تعین کرتا ہے۔ یہ نقصانات کے زمرے بھی بتاتا ہے، بشمول عام نقصانات، خصوصی نقصانات، اور تعزیری نقصانات، جو ہر کیس کے حالات کے مطابق ہوتے ہیں۔مزید برآں، بل آئینی دفاتر کے حاملین کو تحفظ فراہم کرتا ہے، انہیں ہتک آمیز بیانات سے بچاتا ہے۔ اس شق کا مقصد حکومتی فریم ورک کے اندر اہم عہدوں پر فائز افراد کے وقار اور سالمیت کو برقرار رکھنا ہے۔اگر نافذ کیا جاتا ہے، تو پنجاب ہتک عزت ایکٹ 2024 ڈیجیٹل دور میں ہتک عزت سے وابستہ خطرات کو کم کرنے میں ایک اہم ٹول کے طور پر کام کرے گا۔ یہ آزادی اظہار اور افراد کی ساکھ کے تحفظ، جوابدہی اور ذمہ دارانہ مواصلاتی طریقوں کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
اس بل کے متعارف ہونے سے قانونی ماہرین، میڈیا کے ماہرین اور سول سوسائٹی کے گروپوں میں بحث چھڑ گئی ہے۔ جہاں کچھ لوگ عصری چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے اس کے فعال انداز کو سراہتے ہیں، وہیں کچھ لوگ آزادی اظہار اور صحافتی طریقوں پر اس کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے خدشات کا اظہار کرتے ہیں۔جیسا کہ بل قانون سازی کے عمل سے گزرتا ہے، اسٹیک ہولڈرز اس کی دفعات کو بہتر بنانے کے لیے مزید غور و خوض اور ترامیم کی توقع کرتے ہیں۔ بالآخر، پنجاب ڈیفیمیشن ایکٹ 2024 ایک مضبوط قانونی ڈھانچہ قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے جو جدید میڈیا کے مناظر کی پیچیدگیوں کو نیویگیٹ کرتے ہوئے افراد کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے۔
سائلین کو جلد انصاف کی فراہمی میں ہر ممکن تعاون جاری رہے گا۔چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس ملک شہزاد احمد خان کے ساتھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن بہاولپور کے وفد کی ملاقات ہوئی۔وفد کی قیادت ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن بہاولپور کے صدر سردار عبدالباسط ایڈووکیٹ نے کی، ملاقات میں عدلیہ اور بار کی مضبوطی کے لئے اکٹھے کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا، ملاقات میں غریب عوام کو جلد انصاف فراہم کرنے میں ہر ممکن تعاون کا اعادہ کیا گیا۔وفد نے چیف جسٹس کو ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن بہاولپور کے جلد از جلد دورہ کی دعوت دی، وکلاء نے چیف جسٹس کو بہاولپور ڈویژن کی بار ایسوسی ایشنز کو درپیش مسائل سے متعلق بھی آگاہ کیا۔وفد کی جانب سے ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن رحیم یار خان کے لئے نئے جوڈیشل کمپلیکس کے لئے فنڈز کے اجراء کی درخواست کی گئی، ملاقات کے دوران وفد نے لاہور ہائی کورٹ میں ججز کی تعیناتی میں بہاولپور بار سے وکلاء کی نامزدگیوں کی بھی تجویز دی۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن بہاولپور کے صدر سردار عبدالباسط ایڈووکیٹ نے کہا ہائی کورٹ بہاولپور بینچ پر ججز کی تعداد کم ہونے سے زیر التواء مقدمات کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، لاہور ہائی کورٹ بہاولپور بینچ پر ججز کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بہاولپور ڈویژن کی کوئی بھی بار عدلیہ یا بار کو کمزور کرنے کی کسی بھی سازش کا حصہ نہیں بنے گی، سائلین کو جلد انصاف کی فراہمی میں ہر ممکن تعاون جاری رہے گا۔اس موقع پر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا وکلاء ہڑتال کلچر کی حوصلہ شکنی کریں، جلد اور معیاری انصاف کی فراہمی عدالت عالیہ لاہور کی اولین ترجیح ہے، وکلاء انصاف کی فراہمی کے نظام کو مزید موثر بنانے کیلئے ہمارے شانہ بشانہ کام کریں۔چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے کہا کہ وکلا ء اور عدلیہ کو آپس میں لڑوانے کی ہر سازش کو عدلیہ اور وکلاء مل کر ناکام بنائیں گے، بینچ اور بار کو کمزور کرنے کی ہر سازش کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا، نوجوان وکلاء کی فلاح کے لئے تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا۔
پنجاب کے بڑے عہدے پر پیپلزپارٹی کو نمائندگی ملنا خوش آئند ہے،بلاول بھٹو
چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے گورنر پنجاب کے حلف برداری پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہنا تھا پنجاب کے بڑے عہدے پر پیپلزپارٹی کا جیالا آیا ہے۔ہ بہت خوشی ہو رہی ہے کہ پنجاب کے بڑے عہدے پر پیپلزپارٹی کا جیالا پی پی کی نمائندگی کرے گا،ان کاکہنا تھاکہ ملک کے لئے ضروری ہے کہ پیپلزپارٹی سیاسی جگہ واپس لے ۔انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب میں ورکرز کو عزت دیں گے ۔ امید ہے گورنر پنجاب عوام کی نمائندگی کریں گے۔لاہور میں گورنر پنجاب کی تقریب حلف برداری کے بعد پی پی پی رہنماؤں، کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ حلف برداری کی تقریب میں پنجاب بھر کے جیالوں کو دیکھ کر خوشی ہو رہی ہے، بہت عرصے بعد پنجاب کے سب سے بڑے عہدے پر کسی جیالے کا بیٹھنا بہت اچھا لگا۔
ی پی پی چیئرمین نے کہا کہ بیوروکریسی، پولیس یا انتظامیہ کو پتہ ہوگا کہ اگر کسی جیالے سے زیادتی ہوگی تو گورنر سردار سلیم انہیں انصاف دلوائیں گے، صوبے کے عوام، وکلاء یا کسان کے مسائل سننے کیلئے عوامی گورنر بیٹھا ہوگا، غریبوں، مزدوروں، کسانوں کی آواز بنیں، آنے والے الیکشن میں یہی عوام آپ کا ساتھ دیں گے۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے بارے میں تاثر پیدا کیا جاتا ہے کہ پنجاب سے ان کا فوکس ہٹ گیا ہے، پنجاب کو دوبارہ منظم کررہے ہیں نوجوانوں اور خواتین کو آگے لے کر آئیں گے، پاکستان پیپلز پارٹی کا پورا سفر جمہوریت کو طاقتور بنانے کے لیے رہا ہے، آج بھی ہم اسی طریقے سے سیاست کریں گے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ یہ ملک کیلئے بھی بہت ضروری ہے کہ پی پی پی وہ اسپیس واپس لے جو سیاسی کارکن کی اسپیس ہے، دنیا میں بڑے بڑے انقلاب اور تبدیلیاں سیاسی ورکرز لے کر آئے ہیں، سیاسی کارکن کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ محنت سے وہ بڑا عہدہ بھی سنبھال سکتے ہیں، آپ پی پی پی کے کارکن ہیں تو عوامی گورنر بنیں گے، اس صوبے کے عوام کی نمائندگی کریں گے۔پ

پنجاب ،روٹی مزید ایک روپے سستی کر دی گئی
ضلعی انتظامیہ اور نان بائی ایسوسی ایشن کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے ، روٹی کی نئی قیمت کے فوری اطلاق پر اتفاق کیا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا عوام کیلئےریلیف، روٹی کی قیمت میں مزید 1 روپیہ کمی کردی جس کے بعد روٹی کی قیمت 15 روپے ہوگئی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب روٹی قیمت ریلیف پروگرام میں ایک اور بڑا فیصلہ، روٹی 16 روپے کی بجائے 15 روپے کی کردی گئی۔ترجمان ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ گندم کی فراوانی اور آٹے کی کم ہوتی قیمت کے پیش نظر فیصلہ کیا گیا، نان بائی ایسوسی ایشن سے روٹی کی نئی قیمت پر اتقاق رائے ہوا، روٹی کی نئی قیمت تمام تندوروں پر واضح جگہ آویزاں کرنے پر بھی اتفاق ہوا۔وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت کے مطابق ضلعی انتظامیہ ریلیف کی بنیادی سطح تک فراہمی کے لیے متحرک ہے۔ترجمان ضلعی انتظامیہ نے کہا کہ شہری روٹی کی قیمت کی شکایت وزیر اعلیٰ پنجاب ہیلپ لائن 080002345 پر اندراج کروائیں۔

نامزد گورنر پنجاب کی آج ہونے والی تقریب حلف برداری نامعلوم وجوہات کے بناء پر ملتوی
نامزد گورنر پنجاب سلیم حیدر کی آج ہونے والی تقریب حلف برداری ملتوی کر دی گئی، تقریب ملتوی ہونے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی۔سلیم حیدر کے گورنر پنجاب کا حلف اٹھانے کی تقریب آج شام 5 بجے منعقد ہونا تھی، تاہم حلف برداری کی تقریب اب 7 مئی بروز منگل کو شام 6 بجے گور نر ہاؤس لاہور میں ہو گی۔واضح رہے کہ گزشتہ روز پیپلز پارٹی کے رہنما فیصل کریم کنڈی نے خیبر پختونخوا کے 40 ویں گورنر کا حلف اٹھایا تھا۔ گورنر ہاؤس پشاور میں حلف برداری کی تقریب منعقد ہوئی تھی۔ چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ اشتیاق ابراہیم نے فیصل کریم کنڈی سے حلف لیا تھا۔

لاہور ،وزیر داخلہ محسن نقوی کانادرا سینٹر دورہ ، شہریوں کے شکایات اور سٹاف کی کمی کا نوٹس
وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے لاہور شملہ پہاڑی میں نادرا سینٹر کا دورہ کیا جبکہ شہریوں نے شکایات کے انبار لگا دیے۔ اتوار کے روز وفاقی وزیر داخلہ نے لاہور میں شملہ پہاڑی کے نادرا سینٹر کا دورہ کیا، محسن نقوی کی آمد پر نادرا سینٹر میں شدید رش نظر آیا جبکہ شہریوں نے شکایات کے انبار لگا دیے .وزیرداخلہ محسن نقوی نے سینٹر میں موجود شہریوں سے ملاقات کی اور ان کے مسائل بھی دریافت کیے۔محسن نقوی نے شہریوں کی شکایات پر اسٹاف کی کمی کا نوٹس لے لیا اور نادرا سینٹر شملہ پہاڑی کو بہت جلد مثالی سینیٹر بنانے کی یقین دہانی کرائی۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی کا کہنا تھا کہ شہریوں کی شکایات کا جلد ازالہ کیا جائے گا، میں نے سینٹر کا وزٹ کرکے تمام حالات کار کا خود جائزہ لیا ہے، شہریوں کی شکایات، تاخیر اور انتظار کی زحمت کو جلد ختم کر دیں گے، آپ کے مسائل حل کرنا کوئی احسان نہیں، یہ آپ کا حق اور ہماری ذمہ داری ہے۔دریں اثنا محسن نقوی سے گفتگو کرتے ہوئے بزرگ شہری نے کہا کہ آپ آگئے ہیں ہمارے مسئلے حل ہو جائیں گے، آپ کا بہت نام ہے، یقین ہے کہ نادرا سینٹر کو بھی آپ ہی بہتر بنائیں گے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اب کس فورس کی وردی پہنے گی؟
پولیس یونیفارم کےبعدوزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازایلیٹ فورس کی وردی بھی پہنیں گی۔ ذرائع کےمطابق وزیراعلیٰ مریم نواز کےلئے ایلیٹ فورس نے سیاہ رنگ کی وردی بھی سلوا لی، مریم نواز ایلیٹ یونیفارم رواں ہفتے ہونے والی ایلیٹ فورس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ تقریب میں وردی پہنیں گی۔ ذرائع کےمطابق محکمہ پولیس نے بیدیاں روڈ پر ایلیٹ ٹریننگ سنٹر میں ایلیٹ فورس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کےلیے تیاریاں مکمل کر لیں، محکمہ پولیس کی جانب سے ایلیٹ فورس پاسنگ آؤٹ پریڈ کےلئے حتمی تاریخ کا فیصلہ نہ ہو سکا۔
دوسری جانب وزیراعلی پنجاب مریم نواز کے خلاف سیشن کورٹ لاہور میں پولیس کی وردی پہننے پر مقدمہ درج کرنے کی درخواست دائر کردی گئی۔درخواست آفتاب باجوہ ایڈووکیٹ کے توسط سے دائر کی گئی ہے، درخواست گزار موقف اختیار کیا ہے کہ مریم نواز نے پولیس آفیشل کی وردی پہنی، قانون کے مطابق کوئی بھی شخص ریاستی اداروں کی وردی نہیں پہن سکتا۔









