مسلم لیگ ن کے صدر اور نامزد وزیراعظم شہباز شریف سے بلوچستان اسمبلی کے 2 نومنتخب آزاد ارکان اسمبلی نے ملاقات کی۔بلوچستان اسمبلی کے 2 نومنتخب آزاد ارکان اسمبلی مسلم لیگ (ن) میں شامل ہوگئے۔بلوچستان اسمبلی کے حلقے 41 اور 51 سے نو منتخب آزاد ارکان ولی محمد اور عبدالخالق نے ن لیگ میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔شہباز شریف اور 2 آزاد ارکان کی ملاقات میں صوبائی صدر جعفر خان مندوخیل اور پارٹی رہنما جمال شاہ بھی موجود تھے۔ن لیگی صدر نے ولی محمد اور عبدالخالق خان کو ن لیگ میں شمولیت پر مبارک باد دی اور ان کے اقدام کا خیرمقدم کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ نے پاکستان کے استحکام کے لیے کردار ادا کیا، جو لائق تحسین ہے، اس وقت پاکستان کو انتشار نہیں استحکام کی ضرورت ہے۔شہباز شریف نے مزید کہا کہ مسائل لڑائی سے نہیں بات چیت اور مل کر چلنے سے ہی حل ہو سکتے ہیں، پاکستان کی ترقی کے لیے بلوچستان کی ترقی کو اولین تقاضا سمجھتے ہیں۔ملاقات کے دوران نو منتخب ارکان نے وزیراعظم نامزد ہونے پر شہباز شریف کو مبارک باد دی.
Category: پنجاب

بلوچستان اسمبلی کے 2 نومنتخب آزاد اراکین کی ن لیگ میں شمولیت

اردو اور پنجابی کی معروف شاعرہ سیدہ گلفام پروین
میرے بارے میں بڑے بوڑھے کہا کرتے تھے
یہ جو گل نام کی لڑکی ہے نیا بولتی ہےگلفام نقوی
آغا نیاز مگسی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اردو اور پنجابی کی معروف شاعرہ سیدہ گلفام پروین المعروف گلفام نقوی 19 فروری 1964 میں ٹوبہ ٹیک سنگھ پنجاب پاکستان میں پیدا ہوئیں ۔ گلفام کے والد کا نام سید چراغ علی شاہ اور والدہ محترمہ کا نام سیدہ غلام جنت ہے۔ ان کے دادا سید سلطان شاہ اپنے علاقہ کی ایک بہت بڑی بااثر شخصیت تھے جبکہ گلفام کے نانا جان سید سردار علی شاہ ایک ولی کامل اور عارف شاعر و مصنف تھے ان کی ایک کتاب ، تحفہ عرفانی، شائع ہو چکی ہے ۔ گلفام نے گورنمنٹ کالج سمن آباد لاہور سے بی اے کیا ۔ 27 فروری 1987 میں ان کی شادی سید اقتدار علی شاہ سے ہوئی شادی کے بعد وہ لاہور منتقل ہو گئیں اولاد میں انہیں ایک بیٹا سید علمبدار حسین شاہ اور ایک بیٹی سیدہ قرت العین پیدا ہوئی ۔ شادی کے 5 سال بعد گلفام نقوی نے اپنے شوہر کے غلط راہ پر چلنے کی وجہ سے علیحدگی اختیار کر لی اور اپنے بچوں کی پرورش اور تعلیم و تربیت کے لیے انہوں نے فیصل آباد میں بیوٹی پارلر اور کپڑوں پر ڈیزائننگ کا کام شروع کیا اور بچیوں و خواتین کی تربیت کے لیے میں اپنے گھر میں سلائی کڑھائی کا سینٹر قائم کیا۔ گلفام کے دونوں بچے ماشاء اللہ بڑے ہو کر شادی کے بعد خوشگوار ازدواجی زندگی گزار رہے ہیں ۔ گلفام نے بچپن سے ہی شاعری شروع کر دی تھی چھٹی جماعت میں انہوں نے پہلا شعر کہا۔ وہ اردو اور پنجابی میں غزل اور نظم لکھ رہی ہیں اب تک ان کے 4 شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں ۔ ان کی شاعری کی پہلی کتاب ”سہارے مل ہی جاتے ہیں“دوسرا مجموعہ”کرب کی کوک میں “ ہے۔
گلفام صاحبہ کی شاعری سے بطور نمونہ ایک غزل قارئین کی نذر
میری پازیب کی جس وقت کتھا بولتی ہے
میں تو چپ رہتی ہوں گھنگھور گھٹا بولتی ہےدستکیں بند کواڑوں پہ ہوا کرتی ہیں
وصل کی جب میرے ہونٹوں پہ دعا بولتی ہےمیرے بارے میں بڑے بوڑھے کہا کرتے تھے
یہ جو گل نام کی لڑکی ھے نیا بولتی ہےیہ جو دھڑکن ہے میرے دل کی مجھے تو ہی بتا
نام اگر تیرا نہیں لیتی تو کیا بولتی ہےپیار کے گیت سناتی ھے وہاں خاموشی
عاشقی دشت میں جب آبلہ پا بولتی ہےکس کی ہمت ھے تیری خاک۔قدم چھو پائے
تیرے لہجے میں اگر خوئے حیا بولتی ہےکوئی سندیسہ تیرے نام کا لے آئی ھوں
کان کی بالی سے چپکے سے ہوا بولتی ہےاس کی قربت میں تو خاموش ہی رہتی ہوں میں گل
میری چوڑی میرے آنچل کی ادا بولتی ہےگلفام نقوی

پی ایم ایل این اور پی پی پی کے درمیان معاملات طے پا گئے،
مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے درمیان حکومت سازی کے معاملے پر مثبت پیشرفت سامنے آئی ہے، ن لیگی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ عام انتخابات کے بعد وفاق میں حکومت سازی کے لیے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان جاری ڈیڈ لاک ختم ہوگیا۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی نے حکومت میں شامل ہونے کے لیے رضا مندی ظاہر کردی لیکن پنجاب میں بھی 2 وزارتیں مانگ لیں۔ ن لیگی ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے ساتھ آئینی عہدوں پر مسائل حل ہوگئے ہیں، پیپلز پارٹی نے پنجاب میں شیئر مانگا ہے جس پر ن لیگ نے رضا مندی ظاہر کی ہے۔
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کی حکومت سازی میں تاخیر مسائل کو بڑھا رہی ہے، اگر مزید تاخیر ہوئی تو حکومت بنانے میں مشکلات مزید بڑھ جائیں گی۔انہوں نے مزید بتایا کہ نواز شریف نے وفاقی حکومت لینے کی مخالفت نہیں کی منصفانہ فارمولے کی بات کی ہے۔دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کی کوآرڈینیشن کمیٹی کا ایک تفصیلی اجلاس ہوا جس میں دونوں اطراف کی جانب سے دی گئی تجاویز پر تفصیلی گفتگو ہوئی اور معاملات پر پیش رفت ہوئی۔اجلاس کے بعد جاری کیے گئے اعلامیہ کے مطابق دونوں فریقین نے معاملات کو حتمی شکل دینے کے لیے مزید سفارشات کے لیے بروز پیر دوبارہ بیٹھنے کا فیصلہ کیا۔
پاکستان واحد ملک ہے جہاں پہلے سلیکشن اور پھر الیکشن ہوتے ہیں، سراج الحق
سراج الحق نے کہا کہ دنیا میں پہلے الیکشن اور بعد میں حکومت بنتی ہے، پاکستان واحد ملک ہے جہاں پہلے حکومت بنتی ہے، فیصلے ہوتے ہیں پھر الیکشن ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ الیکشن جس ماحول میں ہوا ہے اس سے پولرائزیشن میں اضافہ ہوا، جب تک نتائج پر قوم کا اعتماد نہ ہو تو کوئی نظام اور حکومت مسلط کریں وہ چلنے والی حکومت نہیں ہوتی۔سراج الحق نے کہا کہ دنیا میں جہاں الیکشن ہو جائے وہاں استحکام اور پرامن ماحول نصیب ہوتا ہے، پاکستان واحد ملک ہے جہاں الیکشن کے بعد انتشار میں اضافہ ہوتا ہے۔سراج الحق نے کہا کہ 1970ء میں الیکشن ہوا، نتائج تسلیم نہیں کیے گئے، 1977ء میں الیکشن ہوا، دھاندلی کی گئی اور پھر قوم کو 11 سال مارشل لاء برداشت کرنا پڑا، اسی طرح یہ کھیل آج بھی جاری ہے۔
سراج الحق نے کہا کہ دھاندلی کے خلاف 23 فروری کو پشاور میں احتجاج کریں گے، 25 فروری کو اسلام آباد میں کانفرنس بلا رہے ہیں، عبوری حکومت نے رات کے اندھیرے میں قیمتوں میں اضافےکا اعلان کیا۔ راتوں رات بجلی، پیٹرول اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کیا، پوری قوم کا المیہ ہے جو اس حکومت نے عوام کے ساتھ کیا۔
انہوں نے کہا کہ اس الیکشن کے نیتجے میں ہمارے 5 سال مزید ضائع ہوگئے، ہماری جمہوریت 8 فروری کے الیکشن کے نیتجے میں زمین میں دب گئی، جماعت اسلامی نے کل اپنی شوریٰ کا اجلاس بلایا اور حالات کا جائزہ لیا، ہم ان حالات میں اپنا فرض ادا کرنا چاہتے ہیں۔سراج الحق نے کہا کہ پاکستان کا نظام عجیب ہے، یہاں الیکشن ہوتا ہے بجلی نہیں ہوتی، اس دن نیٹ کام نہیں کرتا، الیکشن کا دن لوگوں کے لیے خوف کا دن ہوتا ہے، لوگ ایک دوسرے سے بات نہیں کرسکتے، 2024ء کا الیکشن پاکستانی تاریخ کا آلودہ ترین الیکشن تھا۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ لوگ عدالتوں میں گئے لیکن جلدی جلدی فائلیں بند کی گئیں، الیکشن میں تاخیر کی گئی، آر اوز عدلیہ سے لینے کے بجائے انتطامیہ سے لیے گئے، راولپنڈی کا کمشنر دیگ کا ایک چاول ہے، ساری دیگ ایسی ہی ہے۔سراج الحق نے کہا کہ جو مردم شماری ہوئی ہے وہ بھی غلط تھی، جہاں آبادی زیادہ تھی کم دکھائی گئی، جہاں کم تھی بغیر کسی وجہ کے زیادہ دکھائی گئی، حلقہ بندیوں پر بھی لوگوں کے تحفظات تھے۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کا دن غیر شفاف الیکشن کے لیے پُرامن دن تھا، کوئی خون خرابہ نہیں ہوا، کوئی حادثہ نہیں ہوا، یہ تاریخ کا غیر شفاف الیکشن کا دن لکھا جائے گا، جعلی نتائج کے نتیجے میں بننے والی حکومت چلتی نہیں، وہ عوام کی حکومت نہیں ہوتی، فراڈ حکومت ہوتی ہے۔
سراج الحق نے کہا کہ نا باہر کی دنیا اس کو سنجیدہ لیتی ہے، الیکشن کے بعد بین الاقوامی بڑے اداروں نے تحفظات کا اظہار کیا، یورپی یونین نے تحفظات کا اظہار کیا ہے، ٹھیک ہے ہماری حکومت کہتی ہے کہ یہ ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے، یہ آزاد ادارے ہیں یہ ہر ملک کے الیکشن پر تبصرے کرتے ہیں۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ انہوں نے جو رپورٹ دی ہے وہ یہی ہے کہ یہ جعلی الیکشن تھا، آئین اور قانون کی حکمرانی کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے، نہ مارشل لاء اور نہ ایمرجنسی ہمارے مسائل کا حل ہے، وقت آ گیا ہے ملک کو بحران سے نکالنے کے لیے مل کر جدوجہد کریں، جس کو وقتی طور پر دودھ کی بوتل ملتی ہے وہ خاموش ہوتا ہے۔سراج الحق نے کہا کہ وقتی خوشی کو قبول کیا تو قوم کو کبھی بھی اچھی جمہوریت نصیب نہیں ہوگی، جماعت اسلامی نے دھاندلی کے خلاف تحریک کا اعلان کیا ہے، چاہتے ہیں شفاف الیکشن کی خواہاں جماعتیں ایک پیج پر آجائیں، ہر جگہ دھاندلی ہوئی ہے لیکن وہ خاموش ہیں جو بینیفشری ہیں۔ سراج الحق نے کہا کہ عوام اس حکومت کے فیصلے قبول نہیں کرتی، فلسطین میں شہادتیں ہوئیں لیکن اس قتل عام پر ساری دنیا خاموش ہے، 58 اسلامی ممالک ہیں، پونے دو ارب مسلمان ہیں، عالم اسلام اس وقت بالکل قبرستان کی طرح ہے، انہوں نے رسمی اجلاس بھی نہیں کیا کہ یہ ظلم بند کیا جائے۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ وقت آیا ہے کہ فلسطینیوں کو بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں، کشمیر میں ظلم ہو رہا ہے اور وہاں ظلم و جبر کی نئی لہر ہے، وہاں جماعت اسلامی کے دفاتر، اسکول، اسپتال بند کیے گئے، جماعت اسلامی کی ساری قیادت اور چار ہزار لوگ جیلوں میں ہیں، ان کا جرم یہی ہے کہ وہ آزادی مانگ رہے ہیں، افسوس ہے کہ حکومت خاموش تماشائی کی طرح کچھ نہیں کر رہی، حکومت نے مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

مولانا فضل الر حمن نے اس پارٹی کے ساتھ تعاون شروع کیا جو دھاندلی کے بینفشری ہیں،خواجہ آصف
سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ 8 فروری کے بعد حالات ان فولڈ ہورہے ہیں، کل جو واقعہ ہوا اس کی شام تک حقیقت سامنے آچکی تھی، الیکشن کمیشن نے اس بیان کو ٹیک اپ کرلیا کمیٹی بنادی ہے۔خواجہ آصف نے کہا کہ کمشنر راولپنڈی کے بیان پر کمنٹ کرنا غیرمناسب ہوگا، اگر الیکشن کمیشن نے کمیٹی نہ بنائی ہوتی تو ضرور کمنٹ کرتا، الیکشن پراسس آراو، ڈی آراو کے ذریعے ہوتا ہے، کمشنر صاحبان کا الیکشن سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، کمشنر راولپنڈی کا بیک گراؤنڈ بھی سامنے آچکا ہے۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی سے مل کر وفاق میں حکومت بنانے پر غور جاری ہے، کل شام کو وفاق کی حکومت کے لئے پیش رفت ہوئی ہے، پنجاب میں مسلم لیگ سادہ اکثریت سے حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی قائدین ماضی کے بیانات سے انحراف کر رہے ہیں، اقتدار کے لئے جو فیصلے کئے جا رہے ہیں اس سے عوام مایوس ہوں گے، پیپلزپارٹی سے ہماری ورکنگ شراکت داری رہی ہے، سیاست دانوں کو ذات سے ہٹ کر عوام کے وسیع تر مفاد کے لئے فیصلہ کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان سے دوریاں پیدا نہیں ہوئیں، مولانا نے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی سے تعاون کا سلسلہ شروع کیا ہے، جن پر دھاندلی کا الزام ہے، ان کے ساتھ اتحاد اور احتجاج میری سمجھ سے بالاتر ہے، سیاسی استحکام آنے تک معاشی استحکام کا خواب پورا نہیں ہوگا۔مسلم لیگ ن کے رہنما کا مزید کہنا تھا کہ اگر ان کا ضمیر اتنا بے چین تھا تو 9 دن پہلے بات کرتے، کمشنر کا بیان مشکوک بن گیا جو کسی منصوبے کے تحت دیا، جو حکومتیں بن رہی ہیں اس کے پراسس پر میں نے ٹویٹ بھی کیا تھا۔
مسلم لیگ ن کے رہنما کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی اور ن لیگ میں گفتگو ہورہی ہے، فارم 45 الیکشن کمیشن کی پراپرٹی بن چکے ہیں، 2018 میں سفید کاغذ پر فارم 45 دیے گئے جو قمرباجوہ کو بھجوادیے تھے، 2018 میں یہ سب کچھ کون کررہا تھا؟، آپ نے اگر ان کے فارم 45 دیکھے ہیں تو مجھے بتادیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ مولانافضل الرحمان سے دوریاں پیدا نہیں ہوئیں، ہمارا آج بھی مولاناصاحب سے بڑااچھا تعلق ہے، مولانا صاحب نے پی ٹی آئی سے تعاون کا سلسلہ شروع کیا ہے، جو دھاندلی کے بینفشری ہیں ان سے اتحاد یا احتجاج کرنا سمجھ سے باہر ہے۔خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ ایم کیوایم نے ایک بار پھر کراچی سے مینڈیٹ لیا ہے، دھاندلی کے الزامات کے باوجود کراچی سے ایم کیوایم کو اکثریت ملی ہے، ظاہر ہوتا ہے کراچی نے ایم کیوایم کے حق میں ووٹ دیے ہیں۔
کمشنر راولپنڈی 8 دن کے بعد جاگے،تو ثبوت بھی سامنے لے آئے،عطا تارڈ
رہنما مسلم لیگ ن عطاتارڑ کا کہنا ہے ہم نے خندہ پیشانی سے شکست کو قبول کیااور پیچھے نہیں ہٹے ، آپ نے وقتی طور پر کچھ نشستوں پر فتح حاصل کی ہے، آنے والا دور مسلم لیگ ن کا دور ہے، آئندہ چند روز میں پنجاب میں حکومت بنانے جارہے ہیں۔ عطا تارڈ نے کہا کہ کمشنر صاحب آپ آراو نہ ڈی آر او ہیں اور نہ ہی کوئی ثبوت پیش کیے گئے، جن حلقوں سے پی ٹی آئی جیتی وہاں دھاندلی نہیں ہوئی؟۔انہوں نے مزید کہا کہ خواجہ سعد رفیق نے سب سے پہلے لطیف کھوسہ کو مبارکباد دی، الزام لگانے والوں کو ہمیں جواب دینا آتا ہے، جن حلقوں سے مخالف جماعتوں کو شکست ہوئی اسے تسلیم کریں۔عطا تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ ہماری مخالف جماعت نے سوشل میڈیا کو جھوٹا بیانیہ بنانے کیلئے استعمال کیا گیا، ان لوگوں نے سائفر لہرا کر ملکی مفاد کو داؤ پر لگادیا۔ ن لیگ کے رہنما عطاء تارڑ نے کہا ہے کہ ایک کمشنر کو الیکشن کے 8 دن بعد بیداری نصیب ہوئی، وہ نہ آر او ہیں، نہ ڈی آراو اور نہ ہی کوئی ثبوت پیش کرسکے، آئندہ چند دنوں میں پنجاب میں حکومت بنانے جارہے ہیں، ہمارا دشمن مکار اور فریبی ہے، اسے ایک دن شکست ضرور ہوگی۔

9 مئی والوں نے کوئی سبق نہیں سیکھا، ان کی سازش اور ملک دشمن مہمات کو روکنا ہوگا، ملک احمد خان
ماڈل ٹاؤن سیکرٹریٹ لاہور میں لیگی رہنما عظمیٰ بخاری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ملک احمد خان کا کہنا تھا کہ کل سے ملک میں ایک ہیجان سی صورتحال بنائی ہوئی ہے، پی ٹی آئی کی تاریخ ہے انہوں نے کبھی انتخابی نتائج کو تسلیم نہیں کیا، یہ حکومت میں ہوں تب بھی انتخابات کے نتائج کو نہیں مانتے۔ انہوں نے کہا کہ
کہ 9 مئی کے ذمہ داروں نے کوئی سبق نہیں سیکھا، بیرون ملک سے پروپیگنڈا مہم چلائی جا رہی ہے، جو پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے یہ بلا سبب نہیں ہے ، یہ اسی سازش کی ایک کڑی ہے جو ہم پہلے دیکھتے آ رہے ہیں، ملک دشمن مہم رکنے کا نام نہیں لے رہی۔ ن لیگ کے رہنما کا مزید کہنا تھا کہ 2014 کے دھرنے کے پیچھے بھی انتخابی دھاندلی کو جواز بنایا گیا، کہا گیا الیکشن ٹربیونل کی کوئی ضرورت نہیں بس 4 حلقے کھول دیں، پھر 35 پنکچر پر بھی صدرعارف علوی کی جانب سے معافی مانگی گئی۔انہوں نے کہا کہ کمشنر راولپنڈی کا الیکشن پراسس سے کوئی تعلق نہیں، کمشنر راولپنڈی کا الیکشن کمیشن آف پاکستان سے کوئی تعلق نہیں، کمشنرراولپنڈی آر او ہیں نہ ہی ڈی آر او نہ ہی ان کا کوئی تعلق ہے۔ملک احمد خان نے کہا کہ کل کی صورتحال کے بعد خوفناک مہم شروع کی گئی، یہ لوگ اپنی انتشاری مہم سے بعض نہیں آرہے، ان لوگوں نے 9 مئی کو بھی افواج پاکستان کے خلاف مہم چلائی، 9 مئی کے دن ایئربیس پر حملے ہوئے، ایمبولینسز تک جلائی گئیں۔انہوں نے کہا کہ کل سے ملک میں ایک ہیجان کی کیفیت بنائی ہوئی ہے، ڈسکہ الیکشن کی مثال آپ کے سامنے ہے، انتخابی نتائج تسلیم نہ کرنا پی ٹی آئی کا وطیرہ ہے، الزام لگانے والوں کو جواب دینا ہمیں آتا ہے، کمشنر راولپنڈی کا الیکشن کمیشن یا انتخابی عمل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

مسلم لیگ ن کا پارٹی اجلاس، اراکین کا وفاقی حکومت نہ لینے کی تجویز
نواز شریف کی زیر صدارت ہونے والے مسلم لیگ (ن) کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی، شرکاء نے نواز شریف کو تجویز دی کہ ہمیں وفاقی حکومت نہیں لینی چاہیے۔ جنگ نیوز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی اجلاس میں شرکاء کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا گیا کہ پنجاب میں ن لیگ اور آزاد اراکین کے ساتھ مل کر آسانی سے حکومت بنا سکتی ہے۔اسحاق ڈار نے بتایا کہ ن لیگ کی پنجاب میں آزاد اراکین کو ساتھ ملا کر تعداد 154 ہوگئی ہے، جس پر شرکاء نے کہا کہ ہمیں صرف پنجاب پر فوکس کرنا چاہیے۔ذرائع کے مطابق نواز شریف نے کہا کہ وفاقی حکومت بنانے کیلئے کسی اتحادی جماعت کی غیر اصولی بات کو نہیں ماننا چاہیے۔پارٹی اجلاس میں کچھ شرکاء نے رائے دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت لینے کا صرف ایک مقصد ہے کہ ملک معاشی بحران کا شکار ہے، ریاست کو بچانے کی ضرورت ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن کے اجلاس میں شہباز شریف، مریم نواز، اسحاق ڈار، مریم اورنگزیب سعد رفیق، اعظم نذیر تارڑ، ایاز صادق، احسن اقبال، رانا تنویر، سلمان شہباز اور ملک احمد خان بھی شریک تھے۔

مسلم لیگ (ن) کو قومی اسمبلی کی ایک اور پنجاب اسمبلی کی مزید 6 نشستیں مل گئیں
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سینئیر نائب صدر اور نامزد وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف سے آزاد ارکان اسمبلی کی ملاقات کی ہے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 92 بھکر سے آزاد حیثیت میں انتخاب جیتنے والے رشید اکبر نوانی مسلم لیگ (ن) میں شامل ہو گئے پی پی 90 بھکر سے احمد نواز نوانی، پی پی 92 اور 93 بھکر سے کامیاب عامر عنایت شاہانی اور پی پی 272 مظفر گڑھ سے جیتنے والے رانا عبدالمنان کا بھی مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا اعلان کر دیا . پی پی 205 خانیوال سے اکبر حیات ہراج اور پی پی 212 خانیوال سے اصغر حیات ہراج کا بھی مسلم لیگ (ن) میں شامل ہونے کا اعلان کر دیا اسی طرح پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سینئیر نائب صدر اور نامزد وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف سے آزاد ارکان اسمبلی کی ملاقات ہوئی ، رشید اکبر نوانی، احمد نواز نوانی، عامر عنایت شاہانی، رانا عبدالمنان، اکبر حیات ہراج اور اصغر حیات ہراج کا قائد محمد نواز شریف پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا، مریم نواز شریف کا آزاد ارکان کا مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا خیرمقدم اور فیصلے پر مبارکباد دی، قائد محمد نواز شریف، شہباز شریف اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی پاکستان، عوام اور پنجاب کے لئے خدمات تاریخی ہیں، آزاد ارکان اسمبلی کی گفتگو کی ،ازاد ارکا اسمبلی نے کہا کہ پاکستان کو مسائل سے نکالنے کی صلاحیت اور قابل عمل ایجنڈا صرف مسلم لیگ (ن) کے پاس ہے. اپنے حلقے کے عوام اور سپورٹرز کی مشاورت سے مسلم لیگ (ن) میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا، انہوں نے مزید کہا کہ آپ کے جذبے اور قومی سوچ کی قدر کرتے ہیں،
لاہور: 16 فروری
پاکستان مسلم لیگ (ن) کو قومی اسمبلی کی ایک اور پنجاب اسمبلی کی مزید 6 نشستیں مل گئیں
قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 92 بھکر سے آزاد حیثیت میں انتخاب جیتنے والے رشید اکبر نوانی مسلم لیگ (ن) میں شامل ہو گئے
پی پی 90 بھکر سے احمد نواز نوانی، پی پی 92 اور 93 بھکر سے… pic.twitter.com/4jn61ql5Rf
— PMLN (@pmln_org) February 16, 2024
مریم نواز شریف کی آزاد ارکان اسمبلی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے تعمیر پاکستان کے قافلے میں شمولیت اختیار کی، مریم نواز شریف نے کہا کہ آپ کی حمایت پاکستان اور عوام کو مشکلات سے نکالنے میں بڑی مددگار ہوگی، ہمارے لئے اقتدار نہیں، ملک اور عوام کی خدمت اہم ہے، مریم نواز شریف نے گفتگو کرتے مزید کہا کہ
نواز شریف پاکستان کو انتشار سے بچانے اور متحد کرنے والی قوت کا نام ہے، نواز شریف آج بھی پاکستان جبکہ مخالفین اپنی ذات کی بات کر رہے ہیں، مریم نواز شریف
نے کہا کہ پاکستان کو انتشار نہیں، استحکام چاہیے، انتشار پھیلانے والے آج بھی انتشار ہی پھیلا رہے ہیں کیونکہ ان کا ایجنڈا ہی انتشار ہے، مریم نواز شریف نے مزید کہا کہ
پنجاب کے عوام نے ہمیں مینڈیٹ دیا، ان کی خدمت کا حق ادا کریں گے، پنجاب کو ترقی کی مثال بنائیں گے، اور پاکستان کو بچانے کے لئے ایک لاکھ بار بھی سیاسی مفاد قربان کرنا پڑا تو کریں گے، وطن پر جان بھی قربان ہے،
پنجاب اسمبلی کے چار ارکان آئی پی پی میں شامل
پنجاب اسمبلی کے 4 نو منتخب آزاد اراکین پنجاب اسمبلی نے صدر آئی پی پی علیم خان سے ملاقات میں استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت کااعلان کیا ۔ استحکام پاکستان پارٹی میں بھی آزاد اراکین کی شمولیت شروع ہو گئی۔ چار منتخب آزاد ارکین پنجاب اسمبلی نے صدر آئی پی پی علیم خان سے ملاقات کی اور پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ان اراکین میں پی پی 284 تونسہ سے طاہر قیصرانی، پی پی 270 مظفر گڑھ سے زاہد اسماعیل بھٹہ، پی پی 296 راجن پور سے سردار اویس دریشک اور پی پی 91 بھکر سے غضنفر عباس چھینہ شامل ہیں۔
چار نومنتخب اراکین پنجاب اسمبلی استحکام پاکستان پارٹی میں شامل
پی پی284 تونسہ سے حافظ طاہر قیصرانی اور پی پی270مظفر گڑھ سے زاہد اسماعیل بھٹہ شاملپی پی296 راجن پور سے سردار اویس دریشک اور پی پی91 بھکر سے غضنفر عباس چھینہ کی شمولیت#ElectionResults
— ممتاز حیدر (@MumtaazAwan) February 14, 2024
آئی پی پی میں شامل ہونیوالے اراکین کا کہنا تھا کہ موجودہ ملکی صورتحال میں مضبوط حکومت حالات کا اولین تقاضہ ہے.علیم خان نے پارٹی میں شامل ہونے والے ممبران پنجاب اسمبلی کا خیر مقدم کیا۔اس موقع پر علیم خان نے کہا کہ استحکام اور ملک کو مضبوط معاشی پالیسی دینا اشد ضروری ہے۔ان کا کہنا تھا کہ غریب مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے، عوام کو فوری ریلیف دینا ہوگا۔علیم خان نے کہا کہ مزید 10 سے 15 اراکین اسمبلی رابطے میں ہیں، جو چند روز میں آئی پی پی میں شامل ہو جائیں گے۔









