پنجاب کی نئی منتخب وزیراعلیٰ مریم نواز نے قومی کرکٹر محمد عامر کی فیملی کے ساتھ سٹیڈیم میں ہونے والے بدتمیزی کے واقعہ پر نوٹس لیتے ہوئے کھلاڑی کو فون کیا جبکہ ڈپٹی کمشنر ملتان نے بھی محمد عامر سے بات کرکے تمام غلط فہمیاں دور کیں ۔ قومی ٹیم کے سابق فاسٹ باولر اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے کھلاڑی محمد عامر نے ٹویٹر پر پیغام جار ی کرتے ہوئے کہا کہ’’ میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا تہہ دل سے شکرگزار ہوں کہ انہوں نے میری گزارش پر توجہ دی اور اپنے قیمتی وقت میں سے مجھے کال کی ، ڈپٹی کمشنر ملتان نے بھی ذاتی حیثیت میں تمام غلط فہمیاں دور کیں ، میں آپ کی کاوش کو سراہتاہوں اور آپ کے نئے سفر میں میری نیک خواہشات آپ کے ساتھ ہیں ۔‘‘
یاد رہے کہ محمد عامر نے ملتان میں پی ایس ایل میچ کے دوران پولیس افسروں کی جانب سے فیملی کے ساتھ کی جانے والے بدتمیزی پر احتجاج ریکارڈ کرواتے ہوئے ٹویٹر پر پیغام جاری کیا جس میں انہوں نے مریم نواز سے معاملے کا نوٹس لینے کی اپیل کی ۔محمد عامر کا اپنے پیغام میں کہناتھا کہ ’’ملتان کے ڈپٹی کمشنر نے میچ کے دوران مبینہ طور پر میرے اہلخانہ کے ساتھ بدسلوکی کی، تکبرانہ انداز سے گراؤنڈ کی ملکیت کا دعویٰ کیا اور میچ کے دوران انہیں بلاجواز باہر نکال دیا، یونیفارم میں طاقت کا یہ غلط استعمال ناقابل برداشت ہے!۔‘‘محمد عامر نے مریم نواز کو ایکس پر ٹیگ کرتے ہوئے واقعے پر نوٹس لینے کا بھی مطالبہ کیا تھا۔
Category: پنجاب
-

پنجاب وزیراعلیٰ مریم نواز نے قومی کرکٹر محمد عامر کی فیملی کے ساتھ سٹیڈیم میں ہونے والے بدتمیزی کے واقعہ پر نوٹس
-

بند کمروں کے فیصلوں کو تسلیم نہیں کریں گے۔ اسد قیصر
اسد قیصر نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے آج بہت اچھی ملاقات ہوئی ہے، اختر مینگل اور دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر بات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ان کاکہنا تھا کہ ہمارا ون پوائنٹ ایجنڈا ہے کہ انتخابات میں دھاندلی کا مکمل اور مستقل خاتمہ ہو۔پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر کاکہنا ہےکہ بانی پی ٹی آئی سے آج بہت اچھی ملاقات ہوئی ہے، اختر مینگل اور دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر بات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔انہوں نے مزید کہاکہ جی ڈی اے، تحریک لبیک پاکستان اور دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ بات کریں گے،مریم نواز جو کل وزیراعلی بنی ہے اس کو کون مانے گا لوگوں کو زبردستی ساتھ ملایا گیا۔
ہم چاہتے ہیں کہ لیول پلینگ فیلڈ سب کو ملے اور عوام کے مینڈیٹ کا احترام کیا جائے، ہم چاہتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے اور پوری دنیا میں ایسا ہوتا ہے، ہماری جدوجہد قانون اور آئین کے مطابق ہے، لوگوں سے درخواست ہے پرامن احتجاج کریں۔ ہم مشترکہ طور پر آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے، لیول پلیئنگ فیلڈ اور قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں، بند کمروں کے فیصلوں کو تسلیم نہیں کریں گے۔ -

مریم نواز کا پانچ روز میں مہنگائی پر کنٹرول کے لئے ڈیپارٹمنٹ قائم کرنے کا حکم
پنجاب میں گرانفروشی پر قابو کرنے کے لئے فوری طور پر اقدامات کا فیصلہ ، نومنتخب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے عہدہ سنبھالتے ہی مہنگائی سے ریلیف کیلئے جامع اقدامات کا اعلان کردیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے اس حوالے سے پرائس کنٹرول کیلئے پائیدار اقدامات کا فوری پلان طلب کرلیا اور پانچ روز میں پرائس کنٹرول کیلئے باقاعدہ ڈیپارٹمنٹ قائم کرنے کے احکامات جاری کردیے، اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے ڈیمانڈ اور سپلائی سسٹم کی مانیٹرنگ کی ہدایت بھی کی۔ اس حوالے سے انہوں نے مزید کہا کہ پرائس کنٹرول کیلئے باقاعدہ قانونی میکنزم موجود نہیں، عارضی اقدامات کافی نہیں، مہنگائی پر قابو پانا ترجیحات میں اولین ہے۔وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ گراں فروشی کے خاتمے کیلئے پائیدار سسٹم وضع کیا جائے، پھلوں، سبزیوں اور دیگر اشیائے خورد و نوش کے نرخ کنٹرول کیے جائیں۔ انہوں نے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ گراں فروشی کا ارتکاب کرنے والوں کیخلاف سزا یقینی بنائی جائے۔ اس موقع پر ارکان اسمبلی مریم اورنگزیب، عظمیٰ بخاری، بلال کیانی، افضل کھوکھر، ثانیہ عاشق، چیف سیکرٹری، آئی جی، چیئرمین پی اینڈ ڈی، سیکریٹرز اور دیگر متعلقہ پولیس حکام بھی موجود تھے۔
-

سنی اتحاد کونسل کے رانا آفتاب کا وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب ماننے سے انکار
لاہور: سنی اتحاد کونسل کے رانا آفتاب احمد نے وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب ماننے سے انکار کردیا،کہا کہ ، اسپیکر نے جمہوری عمل جس طرح بلڈوز کیا ایسا سیاسی تاریخ میں نہیں دیکھا-
باغی ٹی وی: پنجاب اسمبلی کے باہر میڈیا سےگفتگو میں رانا آفتاب کا کہنا تھا کہ آج پنجاب اسمبلی میں جمہوری عمل کا سیاہ دن ہے، وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب اخلاقی، جمہوری اور آئینی نہیں، اسپیکر نےجمہوری عمل جس طرح بلڈوز کیاایسا سیاسی تاریخ میں نہیں دیکھاہم بڑا دل کرکے آئے تھے لیکن ہمیں بولنے ہی نہیں دیا گیا-
رانا آفتاب کا کہنا تھا کہ صرف یہ کہنا چاہتے تھےکہ ہمارے ارکان کو اندرآنے دیا جائے، اسپیکر سمجھتے ہیں کہ ان کو قانون پر بہت عبور ہے، میرا یہی کہنا ہےکہ جمہوری عمل کے لیے ہم اس انتخاب کو نہیں مانتے، انہوں نے ممبران کو زر خرید سمجھا ہوا ہے، ہماری لیگل کمیٹی بیٹھےگی جو معاملےکو دیکھےگی، ہمارا نمبر 140 سے کراس کر جائےگا، اسپیکر بضد تھےکہ ہمیں بات نہیں کرنے دینی، ہم اس الیکشن کو نہیں مانتے،آج ایوان سبزی منڈی بنا ہوا تھا، پنجاب اسمبلی کے رولز کی خلاف ورزی کی گئی ہے، اسپیکرکے رویے پر بہت افسوس ہوا، ہم بھرپور اپوزیشن کا کردار ادا کریں گے، اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی کا فیصلہ پارٹی کرےگی۔
شادی شدہ افراد زیادہ خوش باش او ر صحت مند ہوتے ہیں یا تنہا زندگی …
گوگل کے اے آئی ٹول نے مودی کو فاشسٹ قرار دیا
بھارت کے لیجنڈری گلوکار پنکج ادھاس چل بسے
-

آئین کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی کا جلاس طلب کر سکتا ہے، سینٹر اسحاق ڈار
صدر نے سمری پر قومی اسمبلی کا اجلاس نہ بلایا تو 29 فروری کو اسپیکر آئین کے مطابق خود اجلاس بلا سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار مسلم لیگ ن کے سینیٹر اسحاق ڈار پنجاب اسمبلی پہنچ کر صحافیوں سے بات چیت کے دوران کی ، میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ آئین میں واضح ہے کہ 21 ویں روز اسپیکر کو اجلاس بلانے کا اختیار ہے۔اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ 21 دن کی آئینی مہلت کے حساب سے 29 فروری آخری تاریخ بنتی ہے۔ واضح رہے کہ صدرِ مملکت عارف علوی نے تاحال قومی اسمبلی کا اجلاس نہیں بلایا ہے۔صدرِ مملکت نے تاحال قومی اسمبلی کا اجلاس نہیں بلایاذرائع کے مطابق صدر عارف علوی کو 4 دن پہلے وزارتِ پارلیمانی امور نے سمری بھیجی تھی جس پر انہوں نے تاحال دستخط نہیں کیے۔ذرائع کے مطابق صدر کا کہنا ہے کہ ایوان ابھی مکمل نہیں، کچھ مخصوص نشستوں کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صدرِ مملکت نے تاحال سمری منظور یا مسترد نہیں کی، اس حوالے سے ان کا زبانی مؤقف سامنے آیا ہے۔
-

مریم نواز مسلم لیگ ن کی شائننگ اسٹار ہیں، پی ایم ایل این کے رہنماؤں کا بیان
بانیٔ پی ٹی آئی کا اقدام ملک کو نقصان پہنچائے گا، ان کے دور میں پنجاب کا اسٹرکچر ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ نفرت کا مقابلہ نفرت سے نہیں کریں گے، لوگوں کے ذہنوں کو گمراہ کیا گیا لیکن ہم ایسا نہیں کرنے دیں گے، نفرت، تقسیم اور تعصب ملک کو مزید کمزور کرے گا۔ن لیگی رہنما کا کہنا ہے کہ جس کی حکومت نہیں بن رہی وہ کہتے ہیں کہ دھاندلی ہوئی، وہ لوگ قانون کا سہارا نہیں لیتے، غلط بیانی کرتے ہیں، ہم نے الیکشن میں کبھی بھی جھوٹ نہیں بولا۔ان کا مزید کہنا ہے کہ ہمیں مشورہ دیا جا رہا ہے کہ پی ٹی آئی والی زبان استعمال کریں مگر ہم ایسا نہیں کریں گے، پی ٹی آئی گالیاں دے کر اپنا راستہ بنانا چاہتی ہے تو وہ نہیں بنے گا۔ن لیگی رہنما کا یہ بھی کہنا ہے کہ مریم نواز مسلم لیگ ن کی شائننگ اسٹار ہیں، ہم نے مرکز میں وفاقی حکومت کا بوجھ نہ اٹھانے کا کہا تھا، پارٹی قیادت نے اب یہ فیصلہ کر لیا ہے تو چیلنجز کا سامنا کریں گے۔ اسی طرح پی ایم ایل این کے رہنما سردار ایاز صادق نے کہاپی پی نے حکومت کو قومی اسمبلی میں ووٹ دینے کا کہا ہے، اس نے قانونی سازی میں بھی سپورٹ کرنے کا کہا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ شہباز شریف اگلے وزیرِ اعظم ہوں گے، پاکستان مضبوط ہو گا تو ہم سب مضبوط ہوں گے۔ایاز صادق کا کہنا ہے کہ جو اسمبلی میں رہ کر گئے ہیں ان کی خواہش ہے کہ مل کر پاکستان کو مشکل سے نکالیں، ہم کسی سے کوئی بدلہ نہیں لینا چاہتے، 2018ء سے 2022ء تک جو دیکھا گیا اس پر نہیں چلنا چاہتے۔مسلم لیگ ن کے رہنما نے یہ بھی کہا ہے کہ ہم سب سے ملیں گے اور استدعا کریں گے کہ آئیں سب مل کر کام کریں، جہاں پاکستان کا مفاد آ جائے وہاں ہمیں ایک ہو جانا چاہیے۔
-

پنجاب کابینہ میں کون کونسے نام شامل کئے جائے گے؟
پنجاب اسمبلی کی 25 رکنی کابینہ کی تشکیل کے لیے مسلم لیگ (ن) اور اتحادی جماعتوں کی ناموں پر مشاورت جاری ہے۔مسلم لیگ (ن) سے 20، پیپلز پارٹی سے 2، مسلم لیگ (ق) سے 2 اور استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) سے ایک وزیر بنائے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔مسلم لیگ ن کا مریم اورنگزیب، خواجہ سلمان رفیق، خواجہ عمران نذیر، بلال یسین، میاں مجتبیٰ شجاع الرحمان سمیت رانا محمد اقبال، منشاء اللہ بٹ، عظمی بخاری کو صوبائی کابینہ میں شامل کرنے کا امکان ہے۔اس کے علاوہ سردار شیرعلی گورچانی، کاظم علی پیرزادہ، کرنل ریٹائرڈ محمد ایوب خان گادھی، ملک آصف بھاء اختر بوسال، راحیلہ خادم حسین، میاں یاور زمان، ملک اسد کھوکھر، فرخ علی جاوید اور شیخ سلمان نعیم کو بھی صوبائی کابینہ میں شامل کیا جائے گا۔پیپلز پارٹی کی جانب سے سید علی حیدر گیلانی، استحکام پاکستان پارٹی کے ملک غضنفرعباس چھینہ اور ق لیگ کے چوہدری شافع حسین کو صوبائی کابینہ میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔مریم نواز کے وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہوتے ہی پہلے مرحلے کی صوبائی کابینہ کوحتمی شکل دی جائے گی۔
-

پنجاب کے 104 سے زائد اسپتالوں کو اپگریڈیشن کا کام مکمل کروایا،محسن نقوی
نگران وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے صحافیوں سے الوداعی ملاقات کے دوران بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے کئی سال سے واجب الادا گندم خریداری کے قرض کا بھی ایک بڑا قرض ادا کر دیا ہے۔ نگران وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے کہا ہے کہ پنجاب میں ریگولر کے علاوہ 900 ارب روپے کا سرپلس بجٹ چھوڑ کر جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نامزد وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی کامیابی کے لیے دُعاگو ہوں اور مجھے یقین ہے کہ مریم نواز بطور وزیر اعلیٰ پنجاب مجھ سے اچھا پرفارم کریں گی جبکہ نگران حکومت کا کسی بھی سیاسی حکومت سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔محسن نقوی نے کہا کہ صوبے میں تجاوزات کے خاتمے اور تعلیم کے حوالے سے کچھ نہ کرنے کا افسوس رہے گا تاہم اس دوران 104 سے زائد اسپتالوں اور 130 سے زائد سڑکوں کی تعمیر و مرمت اور اپ گریڈیشن کا کام مکمل کروایا۔انہوں نے کہا کہ میری ٹیم نے بھرپور محنت اور حوصلے سے دن رات کام کر کے اہداف حاصل کیے تاہم میڈیا دوستوں کے لیے بھی بہت کچھ کرنے کی خواہش تھی جو مکمل نہ ہو سکی۔
-

پنجاب اسمبلی میں قائدایوان کون ہوگا؟کاغذات نامزدگی آج جمع ہونگے
:پنجاب اسمبلی میں قائدایوان کےچناؤ کیلئےکاغذات نامزدگی آج جمع کروائےجائیں گے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کے لئے کاغذات نامزدگی آج شام پانچ بجے تک جمع کروائے جائیں گے، مسلم لیگ ن اور اتحادی جماعتوں کی نامزد امیدوار مریم نواز کے کاغذات نامزدگی جمع کروائے جائیں گے،سنی اتحاد کونسل کی جانب سے وزیر اعلیٰ کے نامزد امیدوار رانا آفتاب احمد خان کے کاغذات نامزدگی جمع کرائے جائیں گے۔
سنی اتحاد کونسل کے رہنما دوبجے کے بعد کاغذات نامزدگی جمع کروانے پنجاب اسمبلی جائیں گے، کاغذات نامزدگی سیکرٹری پنجاب اسمبلی کے پاس جمع کروائے جائیں گے، کاغذات کی جانچ پڑتال کا عمل بھی آج ہی مکمل ہو گا،پیر کے روز گیارہ بجے اسمبلی اجلاس میں قائد ایوان کا چناؤ ہوگا۔ -

ممبران اسمبلی کے حقوق کو تحفظ دینے کی پوری کوشش کروں گا،ملک احمد خان
سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان کا کہنا تھا کہ یہ آئین کا تقاضا ہے کہ اتوار کی شام 5 بجے تک اپوزیشن نے اپنے وزیر اعلیٰ کے امیدوار کو نامزد کرنا ہے ، کس کو بھی وہ اپنا امیدوار نامزد کریں وہ ان کا اختیار ہے۔ ا سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے کہا ہے کہ ممبران اسمبلی کے حقوق کو تحفظ دینے کی پوری کوشش کروں گا۔نومنتخب سپیکر اسمبلی ملک احمد خان کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اس ایوان کی تکریم کے لیے جو بن پایا کروں گا، یہ جگہ اہل علم کی ہے، یہاں بحث اور دلیل ہو، یہاں قانون بنے یہاں بجٹ بنے، کسی بھی ممبر کے جو حقوق ہیں ان کو تحفظ دینے کی پوری کوشش کروں گا۔
ان کا کہنا تھا کہ پچھلے دور میں اپنائے جانے والے رویے نے جمہوریت کا نقصان کیا ہے، پچھے دور میں جب آخری ایام میں ہم وزیر اعلیٰ کا انتخاب کروانا چا رہے تھے، وہ ہمارے لیے ایک اچھی پریکٹس نہیں رہی تھی۔انہوں نے کہا کہ اس پارلیمان میں بہت سے تجربہ کار اور منجھے ہوئے ارکان بھی موجود ہیں ، میری کوشش یہی رہے گی کہ اس ایوان کا تقدس بحال رہے۔ان کا کہنا تھا کہ نئے وزیر اعلیٰ کو غربت ، مہنگائی اور امن و امان جیسے چیلنج کا سامنا ہو گا ، امید ہے مریم نواز بطور وزیر اعلیٰ تمام چلینجز کو احسن طریقے سے سر انجام دیں گی ۔ملک احمد خان نے مزید کہا کہ اب میں ایسے عہدے پر ہوں کہ مجھے دونوں طرف منصفانہ کردار ادا کرنا ہے ، یہ ایک پارلیمنٹ ہے اورمیری یہ خواہش ہو گی کہ اپوزیشن اور گورنمنٹ اپنا آئینی کردار ادا کریں۔