Baaghi TV

Category: پنجاب

  • پنجاب اسمبلی کےمزید  4 ارکان نے مسلم لیگ (ن) میں شامل

    پنجاب اسمبلی کےمزید 4 ارکان نے مسلم لیگ (ن) میں شامل

    آزاد منتخب ہونے والے ارکان اسمبلی کی پاکستان مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا سلسلہ جاری ہے ،آزاد حیثیت سے کامیاب ہونے والے پنجاب اسمبلی کےمزید 4 ارکان نے مسلم لیگ (ن) میں شامل ہونے کا اعلان کیا ، چاروں نومنتخب ارکان اسمبلی نے نواز شریف اور شہباز شریف پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ۔ تفصیلات کے مطابق پی پی 132 سے سلطان باجوہ، پی پی 288 سےحنیف پتافی، پی پی 289 سے محمود قادر خان اور پی پی 94 تیمور لالی مسلم لیگ (ن) میں شامل ہوگئے ،چاروں نومنتخب ارکان نے نامزد وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف سے ملاقات کی ،اس موقع پر پارٹی رہنما رانا تنویر، خواجہ سعد رفیق، عطاء اللہ تارڑ، سردار اویس خان لغاری، خواجہ عمران نذیر، سردار احمد خان لغاری اور دیگر بھی موجود تھے۔ شہباز شریف نے مسلم لیگ (ن) میں شامل ہونے پر سب کا شکریہ ادا کیا اور ان کا خیرمقدم کیا ،چاروں ارکان نے نواز شریف اور اتحادی جماعتوں کی جانب سے وزیراعظم نامزد ہونے پر شہباز شریف کو بھی مبارک دی۔اس موقع پر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ہم سب قائد نواز شریف اور عوام کے اعتماد پر پورا اتریں گے، اتحاد اور تعاون ہی پاکستان کو مشکلات سے نکال سکتا ہے، قائد نواز شریف کی رہنمائی میں عوام کی خدمت کریں گے، نواز شریف کے وژن پر عمل کریں گے، پاکستان کو معاشی خطرات اور مہنگائی کے عذاب سے عوام کو نجات دلانا اولین چیلنج ہوگی،

  • میاں صاحب کے پاس کمزور مینڈیٹ ہے اور ہم اسکا حصہ نہیں بننا چاہتے،اعتزاز احسن

    میاں صاحب کے پاس کمزور مینڈیٹ ہے اور ہم اسکا حصہ نہیں بننا چاہتے،اعتزاز احسن

    پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اعتزاز احسن نے کہا ہے نوازشریف اور مریم کے حلقے میں دھاندلی ہوئی ہے، اس میں کوئی شک نہیں آنے والی حکومت کمزور حکومت ہوگی۔انہوں نے کہا کہ سعد رفیق نے جیت پر لطیف کھوسہ کو مبارکباددی، اگر وہ مبارکباد نہ دیتے تو ان کی سیٹ بھی برقرار رکھی جاتی کیونکہ ن لیگ نے انہیں ہر قیمت پر جتوانا ہی تھا۔رہنما پیپلز پارٹی نے کہا کہ ایک پارٹی کو مینڈیٹ ملا ہے ،ہم اس کی نفی نہیں کرنا چاہتے، ہمارا یہی موقف رہا ہے کہ وہ اپنا مینڈیٹ پورا کر لیتے ہیں تو ان کو کرنا چاہئے، میاں صاحب کے پاس کمزور مینڈیٹ ہے،اس میں ہم شریک ہونا نہیں چاہتے۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ یہ انا کا مسئلہ نہیں، یہ آئین کا مسئلہ ہے، اگر وہ اپنا مینڈیٹ ثابت کر سکتے ہیں تو ان کیلئے موقع ملنا چاہئے، کیونکہ ہم نئے انتخابات کی طرف جانے سے گریز کریں گے۔ مریم نواز کو وزیراعلیٰ بنانے کا فیصلہ ان کی پارٹی کا ہے، وہ ہارڈ اوپینین رکھنےوالی شخصیت ہیں، انہوں نے بڑی دلیری دکھا ئی ہے، وہ والد کے ساتھ اس وقت لندن سے چلی آئے جبکہ انہیں پتہ تھا کہ وہ سیدھا جیل جائیں گی

  • مریم نواز پنجاب میں وزارت اعلیٰ کی امیدوار ہوسکتی ہیں۔ سینٹر افنان اللہ

    مریم نواز پنجاب میں وزارت اعلیٰ کی امیدوار ہوسکتی ہیں۔ سینٹر افنان اللہ

    پاکستان مسلم لیگ ن کی 19 آزاد امیدواروں سے بات چل رہی ہے، پی ایم ایل این کے سینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ بلاول کے بیان پر شہباز شریف شکریہ ادا کرچکے ہیں، پیپلز پارٹی نے بہت اچھا اقدام اٹھایا ہے۔سینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ آئندہ پانچ سال پاکستان کیلئے چیلنگ ہوں گے، لیکن ماضی میں بھی ن لیگ نے ملک کو مشکلات سے نکالا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی ہمیں سپورٹ کرے گی تو ہمیں بھی سپورٹ کرنا ہوگا، پیپلز پارٹی جس کو صدارت کیلئے نامزد کرے گی ہم سپورٹ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کےدوران بہت مشکلات پیش آئیں گی، تاہم، امید ہے پانچ سال تک پیپلز پارٹی حمایت کرے گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت آئی ایم ایف جائے گی تو مشکل فیصلے لینا ہوں گے۔افنان اللہ خان کا کہنا تھا کہ وزیرِاعلیٰ پنجاب کا نام جلد سامنے آجائے گا، مریم نواز بھی وزارت اعلی کی امیدوار ہوسکتی ہیں۔
    انہوں نے کہا کہ ہماری 19 آزاد امیدواروں سے بات چل رہی ہے۔

  • پنجاب میں دھاندلی کا تماشہ سلمان اکرم راجہ نے شروع کیا ،عظمیٰ بخاری

    پنجاب میں دھاندلی کا تماشہ سلمان اکرم راجہ نے شروع کیا ،عظمیٰ بخاری

    پنجاب کے تما م 100 فیصد رزلٹ دیکھ کر پی ٹی آئی نے شور مچا نا شروع کیا اور دھا ندلی کے تماشے کی ابتدا سلمان اکرم راجہ نے کی، عظمیٰ بخاری نے کہا کہ الیکشن ٹربیونلز کے اندر ہر امیدوار کو ثبوت دینے ہوتے ہیں، جسے اعتراض ہے الیکشن ٹربیونل جا کر بات کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن ذمےدار پارٹی ہے، ہم جھوٹ اور فساد پر یقین نہیں رکھتے، پنجاب میں مسلم لیگ ن واحد اکثریتی پارٹی ہے، مسلم لیگ ن بغیر سپورٹ تنہا حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے۔ن لیگی رہنما نے کہا کہ ایک شخص اور ایک فتنے کے لیے پاکستان کا امن تباہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، قانون ہاتھ میں لینا اور دوبارہ سے فتنہ فساد کی کوشش قبول نہیں کی جائے گی۔عظمیٰ بخاری نے کہا کہ قومی اسمبلی میں بھی مسلم لیگ ن اکثریتی پارٹی ہے، نواز شریف نے شہباز شریف کے ذمے لگایا ہے وہ پارٹیز سے بات کر رہے ہیں۔عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پاکستان کو مستحکم کرنے اور آگے بڑھانے کی ضرورت ہے، تمام سیاسی جماعتوں کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا پڑے گا، شہباز شریف کی سربراہی میں ن لیگ کی کمیٹی کام کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں اس وقت بیٹھی ہیں اور بات کر رہی ہیں۔مسلم لیگ ن کی رہنما عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ آزاد امیدواروں کو پارٹی نہیں کہا جاسکتا۔

  • الیکشن کمیشن نے تمام  صوبائی اسمبلیوں کے  نشستوں کے نتائج جاری کر دئے

    الیکشن کمیشن نے تمام صوبائی اسمبلیوں کے نشستوں کے نتائج جاری کر دئے

    غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق بلوچستان اسمبلی میں پیپلز پارٹی اور جمیعت علمائے اسلام پاکستان 11، 11 اور پاکستان مسلم لیگ ن 10 نشستوں پر کامیاب ہوئی ہے۔بلوچستان اسمبلی میں آزاد امیدوار 6، بلوچستان عوامی پارٹی 4، نیشنل پارٹی 3 اور عوامی نیشنل پارٹی 2 نشستوں پر کامیاب ہوئی۔ بلوچستان نیشنل پارٹی، جماعت اسلامی، بی این پی عوامی اور حق دو تحریک نے 1، 1 نشست حاصل کی۔بلوچستان اسمبلی کی 51 تمام نشستوں کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج سامنے آ گئے۔ اسی طرح الیکشن کمیشن نے پنجاب اسمبلی کی تمام 296 نشستوں کے نتائج کا اعلان کردیا۔8 فروری کو ہونے والے انتخابات میں پنجاب اسمبلی کی 138 نشستوں پر آزاد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں جبکہ مسلم لیگ ن 137 نشستوں پر کامیاب ہوئی ہے۔پیپلز پارٹی 10 اور پاکستان مسلم لیگ پنجاب اسمبلی کی 8 نشستوں پر کامیاب ہوئی ہے۔استحکام پاکستان پارٹی، مسلم لیگ ضیاء اور تحریک لبیک پنجاب اسمبلی کی ایک ایک نشست پر کامیاب ہوئی ہیں۔ اسی طرح الیکشن کمیشن نے خیبرپختونخوا اسمبلی کی 115 میں سے 112 نشستوں کے غیرحتمی نتائج جاری کردیے ہیں، پی ایس 22 اور پی ایس 91 پر انتخابات ملتوی کردیے گئے ہیں جبکہ پی ایس 90 کے نتائج کو روکا گیا ہے۔غیر حتمی نتائج کے مطابق خیبرپختونخوا میں آزاد امیدواروں نے 90 نشستیں جیت لی ہیں، جمعیت علمائے اسلام (پاکستان) کے امیدوار 7 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔ مسلم لیگ (ن) 5 نشستوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے، پیپلزپارٹی 4 نشستوں پر کامیاب ہوئی،جماعت اسلامی 3، تحریک انصاف پارلیمنٹیرینز 2 اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) ایک نشست پر کامیابی حاصل کرسکی۔سندھ اسمبلی کی 130 نشستوں میں سے 129 نشستوں کے غیرحتمی نتائج جاری کردیے ہیں جبکہ حلقہ پی ایس 18 گھوٹکی کا نتیجہ روک لیا گیا ہے جس پر 15 فروری کو دوبارہ انتخابات ہوں گے۔غیر حتمی نتائج کے مطابق سندھ اسمبلی میں پیپلزپارٹی (پی پی پی) 84 نشستوں کے ساتھ صوبے کی سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔ایم کیو ایم پاکستان 28 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے، آزاد امیدواروں نے 13 نشستیں حاصل کیں، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) اور جماعت اسلامی 2، 2 نشستوں پر کامیاب قرار پائیں۔

  • سیاسی جوڑ توڑ کا سلسلہ جاری ،مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کی رہائش گاہ پر سیاسی سرگرمیاں

    سیاسی جوڑ توڑ کا سلسلہ جاری ،مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کی رہائش گاہ پر سیاسی سرگرمیاں

    مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کی آج چوہدری شجاعت حسین سے ملاقات کا امکان ہے۔حکومت سازی کے لیے مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کی رہائش گاہ پر سیاسی سرگرمیاں شروع ہو گئیں۔ذرائع نے بتایا کہ نواز شریف ظہور الہٰی روڈ پر چوہدری شجاعت کی رہائش گاہ آئیں گے۔نواز شریف اور چوہدری شجاعت حسین کی ملاقات دوپہر 2 بجےمتوقع ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف چوہدری شجاعت سے وفاق اور پنجاب میں حکومت سازی کے لیے تعاون کی درخواست کریں گے۔خیال رہے کہ مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف سے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے چار رکنی وفد کی ملاقات جاری ہے،
    اسکے علاوہ سابق صدر آصف علی زرداری اور پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کے درمیان بھی آج ملاقات ہو گی جس میں حکومت سازی کے حوالے سے بات چیت ہو گی۔حکومت سازی کے لیے مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے بھی پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری سے گزشتہ روز ملاقات کی تھی اور دونوں رہنماؤں نے مستقبل میں بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا تھا۔

  • قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے  آزاد امیدواروں نے مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا سلسلہ جاری

    قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے آزاد امیدواروں نے مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا سلسلہ جاری

    عام انتخابات 2024ء میں کامیاب ہونے والے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے 8 آزاد امیدواروں نے مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا اعلان کر دیا ہے۔ عام انتخابات کے نتائج کے بعد آزاد امیدواروں نے باقاعدہ طور پر سیاسی پارٹیوں میں شمولیت شروع کر دی ہے، این اے 48 سے آزاد امیدوار راجہ خرم نواز، این اے 54 سے آزاد امیدوار بیرسٹر عقیل ملک اور این اے 146 سے منتخب ہونے والے آزاد امیدوار پیر ظہور حسین قریشی مسلم لیگ (ن) میں شامل ہو گئے۔ دوسری جانب سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 189 سے آزاد امیدوار سردار شمشیر مزاری، این اے 253 سے آزاد امیدوار بیرسٹر میاں خان بگٹی اور پنجاب کے حلقہ پی پی 48 سے آزاد امیدوار خرم ورک، حلقہ پی پی 49 سے آزاد امیدوار رانا محمد فیاض نے اور پی پی 240 سے آزاد امیدوار محمد سہیل نے مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کر لی۔

    صوبائی اسمبلی حلقہ PP-240 سے کامیاب آزاد امیدوار محمد سہیل کا باضابطہ طور پر پاکستان مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا اعلان۔

    اسلام آباد کے حلقہ این اے 48 سے جیت کر مسلم لیگ (ن) میں شامل ہونے والے قومی اسمبلی کے آزاد امیدوار راجہ خرم نواز نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ میں (ن) لیگ اور استحکام پاکستان پارٹی کا مشترکہ امیدوار تھا اب باقاعدہ مسلم لیگ (ن) میں شامل ہو گیا ہوں اور نئی حکومت کا حصہ ہوں گا، میں اپنے ووٹرز کا دل سے شکریہ ادا کرتے ہوں انہوں عزم کا اظہار کیا ہے۔
    https://twitter.com/pmln_org/status/175644742099133255

    حلقہ این اے 189 سے منتخب ہونے والے آزاد امیدوار سردار شمشیر مزاری نے کہا ہے کہ میں نے اپنے دوستوں سے مشاورت کے بعد مسلم لیگ (ن) میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا، ہم ریاست کے وفادار ہیں اور اُسی کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔


    پسرور پی پی 49 کے کامیاب امیدوار رانا محمد فیاض نے کہا ہے کہ اپنے حلقے کی عوام سے مشاورت کے بعد مسلم لیگ ن میں شمولیت کا فیصلہ کیا ہے، مسلم لیگ ن کی قیادت سے آج ملاقات کروں گا۔

  • پی ایم ایل این اور ایم کیوایم کی ملاقات میں کیا طے پایا؟

    پی ایم ایل این اور ایم کیوایم کی ملاقات میں کیا طے پایا؟

    سیاسی بیٹھک میں نئی حکومت سازی ، آئندہ سیاسی حکمت عملی سمیت دیگر اہم امور پر مشاورت ہوئی۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور ایم کیوایم قائدین میں سیاسی تعاون پر اتفاق کیا گیا .ترجمان مسلم لیگ ن کے ترجمان مریم اورنگزیب کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نوازشریف اور ایم کیوایم قیادت کے درمیان مل کر چلنے پر اصولی اتفاق ہوگیا ،اور ملک اور قوم کے مفاد کے لئے مل کر چلا جائے گا، مسلم لیگ (ن) اور ایم کیوایم میں بنیادی نکات طے پاگئے ،مریم اورعنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی طرف سے محمد نوازشریف اور ایم کیوایم کی طرف سے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے وفد کی قیادت کی مسلم لیگ (ن) کے صدر شہبازشریف، مریم نواز ، اسحاق ڈار ، احسن اقبال، رانا ثناءاللہ، ایاز صادق ، خواجہ سعد رفیق، مریم اورنگزیب، رانا مشہود بھی ملاقات میں شریک تھے ایم کیوایم وفد میں گورنر سندھ کامران ٹسوری، ڈاکٹر فاروق ستار، مصطفی کمال شامل تھے دونوں جماعتوں کے قائدین میں مشاورت کا سلسلہ تقریبا ایک گھنٹہ تک جاری رہا ملاقات میں صورتحال پر تفصیلی مشاورت ہوئی اور تجاویز کا تبادلہ ہوا اور راہنماﺅں نے مجموعی سیاسی صورتحال اور اب تک ہونے والے رابطوں کے حوالے سے بھی ایک دوسرے کو اعتماد میں لیا .قبل ازیں رائیونڈ آمد پر مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف، صدر شہباز شریف نے پارٹی رہنماوں کے ہمراہ ایم کیو ایم قائدین کا استقبال کیا ،

  • پولیس اہلکار کو تھپڑ فردوس عاشق اعوان کو مہنگا پڑ گیا

    پولیس اہلکار کو تھپڑ فردوس عاشق اعوان کو مہنگا پڑ گیا

    پولیس اہلکار کو تھپڑ مارنے پر فردوس عاشق اعوان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔استحکام پاکستان پارٹی کی رہنما فردوس عاشق اعوان کی پولیس اہلکار کو تھپڑ مارنے کی ویڈیو سامنے آئی ہے۔پولیس کے مطابق فردوس عاشق اعوان نے گزشتہ روزسیالکوٹ میں پولیس اہلکار کو تھپڑ مارا تھا،پولیس کا کہنا تھا کہ فردوس عاشق اعوان کے خلاف پولیس اہلکار کو تھپڑ مارنے کا مقدمہ اے ایس آئی امجد کی مدعیت میں سیالکوٹ کے تھانا صدر میں درج کیا گیا ہے۔ایف آئی آر کے مطابق پولیس اہلکار این اے 70 سیالکوٹ میں گورنمنٹ ہائی اسکول گنہ کلاں میں الیکشن ڈیوٹی پر تھا، فردوس عاشق اعوان نے بدتمیزی کی اور اہلکار کو تھپڑ بھی مارے

  • پی ایم ایل این کے عابد شیر علی اور  خرم دستگیر   جبکہ  کراچی سے آزاد امیدوار حلیم عادل شیخ کو شکست

    پی ایم ایل این کے عابد شیر علی اور خرم دستگیر جبکہ کراچی سے آزاد امیدوار حلیم عادل شیخ کو شکست

    قومی اسمبلی کے حلقے این اے 78 میں آزاد امیدوار محمد مبین عارف 106169 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خرم دستگیر بھی اپنی نشست پر ہار گئے۔ خرم دستگير خان 88308 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔واضح رہے کہ قومی اسمبلی کی 265 نشستوں میں سے اب تک 237 نشستوں کے غیر حتمی، غیر سرکاری نتائج سامنے آگئے۔ این اے 102 کے ریٹرنگ آفیسر نے 28 گھنٹے بعد377 پولنگ اسٹیشنز کا نتیجہ مرتب کر لیا پی ٹی آئی حمایت یافتہ چنگیز احمد خان کاکڑ نے عابد شیر علی کو شکست دے دی فاتح امیدوار چنگیز احمد خان نے ایک لاکھ 32 ہزار 626 ووٹ حاصل کئے مسلم لیگ ن کے عابد شیر علی ایک لاکھ 320 ووٹ حاصل کر سکےدوسری جانب این 238 کراچی ایسٹ سے متحدہ قوم موومنٹ کے صادق افتخار 54884 ووٹ لے کر کامیاب جبکہ آزاد امیدوار حلیم عادل شیخ 36875 ووٹ لے اپنی نشت سے ہاتھ دھو بیٹھے، اس سے قبل حلیم عادل شیخ اس سیٹ کے جیتنے کا دعویٰ کر رہے تھے،
    غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق آزاد امیدواروں نے اب تک سب سے زیادہ 95 نشستیں اپنے نام کی ہیں،، مسلم لیگ ن 67 نشستیں جیت کر سب سے بڑی پارٹی کے طور پر سامنے آئی ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی نے اب تک 52 نشستوں پر کامیابی حاصل کی،، جبکہ ایم کیو ایم پاکستان اب تک 15 نشستوں پر کامیاب ہو چکی ہے۔مسلم لیگ ق کی 3 استحکام پاکستان پارٹی اور جمعیت علما اسلام کی 2،2 نشستیں ہیں۔