Baaghi TV

Category: پنجاب

  • عوام جاننا چاہتی ہیں  کہ 2018 میں ن لیگ نے الیکشن کیوں نہیں جیتا،نواز شریف

    عوام جاننا چاہتی ہیں کہ 2018 میں ن لیگ نے الیکشن کیوں نہیں جیتا،نواز شریف

    2018ء میں سب کا یہی خیال تھا کہ الیکشن ہوئے تو (ن) لیگ دوبارہ الیکشن جیتے گی،لیکن سارا کچھ دوبارہ اپ ڈاؤن ہو گیا، کیوں ہوگیا، قوم جاننا چاہتی ہے ملک کےساتھ ایسا کیوں ہوا، 2017ء میں ہماری حکومت میں مزدور، کسان خوش تھے، پاکستان بڑی تیزی سے ترقی کر رہا تھا، ملک میں موٹرویز بن رہی تھیں، جب ہم نے اقتدارسنبھالا تو 18، 18 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہو رہی تھی،لیکن ہم نے دن رات ایک کر کے لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کر دیا ۔لاہور میں مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی بورڈ کے ملتان ڈویژن سے ٹکٹ امیدواروں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے قائد کا کہنا تھا کہ ہم نے دہشت گردی اور بے روزگاری کا خاتمہ کیا تھا، سی پیک بڑی تیزیسے اپنی کامیابی کی طرف گامزن تھی ا اور ملک میں موٹرویز بن رہی تھی، ہمارے دور میں بجلی اور گیس کی کوئی کمی نہیں تھی، ہم نے پاکستان کو خوشحالی کی ڈگر پر ڈالا تھا، مخالفین حسد کررہے تھے کہ 2018 کے شفاف الیکشن ہوئے تو ن لیگ جیتے گی، قوم جاننا چاہتی ہے ترقی کا سفر رکا کیوں۔ملک بہت پیچھے چلا گیا، اللہ ہمارے ملک کی حفاظت فرمائے، دنیا بہت آگے چلی گئی اور ہم پیچھے رہ گئے، پاکستان بہت قربانیوں کے بعد حاصل کیا گیا ہے، پاکستان وہ مقام حاصل نہیں کرسکتا جس کے لیے حاصل کیا گیا تھا۔ سابق وزیراعظم نے مزید کہا کہ جنہوں نے رابطہ توڑوایا ان کا بھی شکریہ کہ انہوں نے نہ جانے ایسا کام کیوں کیا؟ ہم نے اپنے ملک کے ساتھ خوڈ بڑی زیادتی کی ہے، شاید اس غلطی کے ازالے کا وقت آرہا ہے، ملک کو اسی جگہ پر لے جانا چاہیئے جس کا وہ مستحق ہے۔
    نواز شریف نے کہا کہ اس ملک کو دنیا میں منفرد مقام حاصل کرنا تھا، 1967 میں مجھے میرے والد نے غیر ملکی دوروں پر بھجوایا، اس زمانے میں لوگوں میں کام کرنے کا جذبہ تھا، 2017 میں ہماری حکومت اچھی جارہی تھی، لوگ خوش تھے، ہمارے دورمیں بجلی اور گیس کی کوئی کمی نہیں تھی۔انہوں نے کہا کہ پارٹی کوشش کرے گی کہ میرٹ پر تمام فیصلے ہوں، ازالہ چاہتے ہیں تو اپنی ذات سے باہر نکلنا ہوگا، ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیئے، ملک نے بہت برداشت کیا ہے، قوم پریشانی کے عالم میں ہے، پریشانی کی حالت سے باہر نکالنا ہے اور عبادت سمجھ کر قوم کی خدمت کرنی ہے، خوشحال پاکستان بہت ہی ضروری ہے، ترقی و خوشحالی کی طرف چلتا معاشرہ ہو تو سب خوش ہوتے ہیں۔

  • محکمہ جنگلی تحفظات کو تحفظ دیا جائے

    محکمہ جنگلی تحفظات کو تحفظ دیا جائے

    محکمہ جنگلی تحفظات کو تحفظ دیا جائے

    از قلم غنی محمود قصوری

    پاکستان میں ہر قسم کا محکمہ موجود ہے جو مسائل کو اپنے وسائل کے مطابق حل کرنے کا دعویٰ کرتا ہے تاہم پاکستانی عوام جانتی ہے کہ وسائل ہونے کے باوجود یہ محکمے عوام کیلئے مسائل ہی پیدا کرتے ہیں اور قانونی لوگوں کو غیر قانونی اور غیر قانونی لوگوں کو قانونی تحفظ فراہم کرتے ہیں، ان محکموں میں ایک محکمہ ،پنجاب وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ، بھی شامل ہے ، سب سے پہلے تو میں اس محکمے کا تعارف کرواتا ہوں، چونکہ راقم خود ایک شکاری ہے اس لئے اس محکمے سے میرا خصوصی واسطہ بھی ہے-

    پنجاب وائلڈ لائف اینڈ پارکس ڈیپارٹمنٹ انگریز دور حکومت میں 1934 کو معرض وجود میں آیا 1934 سے 1973 تک یہ محکمہ مختلف محکموں کے زیر سایہ کام کرتا رہا تاہم 1973 میں اسے پنجاب وائلڈ لائف اینڈ پارکس ڈیپارٹمنٹ کا نام دیا گیا اور تب اس محکمے نے جنگلی حیات،محکمہ جنگلات اور محکمہ ماہی پروری کے طور پہ کام شروع کیا، یعنی جنگلات کا تحفظ،جنگلی جانوروں، پرندوں کا تحفظ اور مچھلیوں کا تحفظ و افزائش اس محکمے کی ذمہ داری ہے اور چڑیا گھر و پارکس بھی ان کے زیر انتظام ہیں-

    اس محکمے کا سربراہ ڈائریکٹر جنرل ہوتا ہے جس کے زیر سایہ پنجاب بھر میں ایک ڈائریکٹر اور 10 ڈپٹی ڈائریکٹرز کام کرتے ہیں اس کے ایکٹ میں 1974 کے بعد 2007 اور پھر 2010 میں ترمیم کی گئی ملک بھر کی طرح پورے پنجاب میں اس وقت شکار کا سیزن شروع ہے –

    شکاری حضرات کیلئے لازم ہے کہ وہ پنجاب وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کے جاری کردہ لائسنس کے تحت ہی شکار کر سکتے ہیں مگر ہمارے ہاں 80 فیصد لوگ بغیر شکاری لائسنس کے کھلے عام ہر قسم کا شکار کرتے ہیں جو کہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں اس محکمے کو جو وسائل ملنے چائیے وہ وسائل بھی اس محکمے کے پاس موجود نہیں، ہر تحصیل میں ایک گیم وارڈن اور انسپیکٹر پہ مبنی ٹیم ہوتی ہے جس کا کام غیر قانونی شکار کو روکنا ہے تاہم اگر ایمانداری سے دیکھا جائے تو اتنے کم لوگوں کا بہت زیادہ رقبے میں کام کرنا ایک لطیفے سے کم نہیں پانچ سات بندے ایک آدھ پرانی پھٹیچر گاڑی اور سینکڑوں کلومیٹر کا رقبہ ایک لطیفہ نہیں تو اور کیا ہے، اسی موقع سے ناجائز شکار ی فائدہ اٹھاتے ہیں اور جنگلی حیات کو ختم کر رہے ہیں

    اس محکمے کی طرف سے لائسنس جاری کرتے وقت حامل لائسنس کو کچھ نہیں بتایا جاتا کہ فلاں پرندہ و جانور آپ شکار کر سکتے ہیں اور فلاں نہیں حتی کہ جاری کردہ لائسنس پہ بھی کچھ معلومات رقم نہیں اور جو کہ کچھ لکھا وہ بھی خیر سے انگریزی میں رقم ہے جس کے باعث قانون کا احترام کرنے والا حامل شوٹنگ وائلڈ لائف لائسنس ہولڈر نہیں جانتا کہ کونسا پرندہ نایاب ہو رہا ہے اور کونسا عام کونسے دن شکار کی ممانعت اور کونسے دن اجازت کب بریڈنگ سیزن شروع ہے اور کب ختم، کونسا پرندہ ہمارے ملک کا ہے اور کونسا پرندہ مہمان ہے
    اور ایک لائسنس پہ کتنی بندوقوں کیساتھ کتنے افراد کتنے پرندے ایک دن میں شکار کر سکتے ہیں، کیونکہ انٹرنیٹ پہ ایک بندے کے ہاتھ میں درجنوں شکار کئے پرندوں کی تصاویر نظر آتی ہیں حتی کہ گاڑیوں کے بونٹ نایاب پرندوں کے شکار سے بھرے پڑے ہوتے ہیں، یہ سب انٹرنیٹ پہ سرچ کرنے پہ بھی کچھ خاص معلومات نہیں ملتیں

    اس محکمے کو بطور کالم نگار اور ایک رجسٹرڈ شکاری میری سب سے اہم تجویز یہ ہے کہ لائسنس جاری کرتے وقت ایک لٹریچر فراہم کریں جس پہ سب قواعد و ضوابط لکھے ہوئے ہو تاکہ شکاری حضرات کو مکمل علم ہو نیز یہ کوشش ہونی چائیے کہ اس کمیونیکیشن کے دور میں رجسٹرڈ شکاریوں کو واٹس ایپ گروپ میں ایڈ کرکے معلومات سے آگاہ کیا جاتا رہے اور ان کو بتایا جائے کہ آپ کس پرندے ،جانور کی شکار کی ہوئی تصویر سوشل میڈیا پہ وائرل کر سکتے ہیں اور کس کی نہیں کیونکہ یہ بات بہت زیادہ دیکھنے میں آئی ہے کہ سوشل میڈیا پہ وائرل تصویر کو بنیاد بنا کر جرمانہ کیا جاتا ہے حالانکہ جو شکاری لائسنس حاصل کرتا ہے بھلا اسے کیا ضروت غیر قانونی کام کی ؟اگر وہ قانون کا احترام نا کرتا ہوتا تو پھر وہ بھی ان 80 فیصد غیر قانونی شکاریوں کا حصہ ہوتا اور اپنے سالانہ پیسے لائسنس کی فیس کی مد میں ادا کرنے سے بچاتا
    سو محکمے کی یہ غفلت شکار حاصل کئے شکاریوں کو غیر قانونی طریقے پہ شکار کرنے پہ مجبور کر رہی ہے جبکہ دوسری سمت وڈیروں جاگیر داروں اور اشرافیہ کو بغیر اسلحہ و وائلڈ لائف شوٹنگ لائسنس کے پورے پروٹوکول کیساتھ ممنوعہ شکار والے علاقوں میں شکار کروایا جاتا ہے جس سے عام غریب اور بغیر شفارش شکاریوں کی حق تلفی ہوتی ہے اور یوں یہ محکمہ قانونی لوگوں کو غیر قانونی اور غیر قانونی لوگوں کو قانونی بنا رہا ہے-

    نیز ایک غفلت یہ بھی ہے کہ نایاب ہوتے پرندے فاختہ کے شکار کی اجازت ہے اور ائیر گن کے شکار کو مکمل بین کیا ہوا ہے جس کے باعث عام غریب انسان شکار جیسے اہم اور تندرستی برقرار رکھنے والی ورزش سے محروم ہےدوسری جانب سیمی آٹومیٹک رپیٹر سے لوگ بیک وقت نصف درجن کارتوس چلا کر درجنوں پرندے مار گراتے ہیں اور پرندوں کی نسل کشی کر رہے ہیں-

    واضح رہے کہ پاکستانی عدالت نے 2021 میں ڈمی پرندوں (decoys) کیساتھ شکار کرنے اور ائیر گن کیساتھ شکار پہ پابندی لگا رکھی ہے تاہم قد آور لوگ کھلے عام یہ سب کر رہے ہیں میری گورنمنٹ سے گزارش ہے کہ سپرنگر (Springer) ائیر گن کیساتھ شکار کی پابندی ہٹائی جائے جبکہ پی سی پی ائیر گن( Pre-Charged Pneumatics ) پہ پابندی برقرار رکھی جائے ریاست پاکستان کے ہر شہری کو شکار کا حق حاصل ہے سو مخصوص لوگوں کے فائدے کی خاطر غریبوں کو اس شوق اور ورزش سے محروم نا کیا جائے –

    اگر بات کی جائے محکمے کی کارکردگی کی تو آج سے دو سال قبل اس محکمے کے اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل پنجاب محمد نعیم بھٹی کی سربراہی میں محکمہ کافی فعال اور بہتر تھا تاہم اب کچھ خاص بہتری نہیں لہذا محکمے کو فعال کیا جائے اور افسران کو نعیم بھٹی کی طرح ذیلی افسران و عملے کی چیکنگ اور مانیٹرنگ کا پابند بنایا جائے تاکہ پرندوں کی نسل کشی بھی نا ہو اور محکمے کے لوگ لگن سے کام کریں تاکہ شکاری حضرات ساری معلومات حاصل کرکے شکار کر سکیں-

  • نگران وزیر اعلی پنجاب کا ایک اور کارنامہ ،صفائی مہم کا آغاز

    نگران وزیر اعلی پنجاب کا ایک اور کارنامہ ،صفائی مہم کا آغاز

    نگران وزیر اعلی پنجاب نے 10سال بعد پنجاب کی 1112 نہروں کی بھل صفائی کا حکم دے دیا۔ محسن نقوی کے مطابق بھل صفائی کے دوران کمشنرز فیلڈ میں رہیں گے اور تمام امور کی نگرانی کریں گے۔ بھل صفائی کے ساتھ نہروں کی مرمت پر بھی توجہ دی جائے۔ وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کی زیر صدارت اجلاس میں بھل صفائی کے پروگرام اور پانی چوری کی روک تھام کے لئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ، سیکرٹریز، زراعت،آبپاشی، خوراک، اطلاعات، کمشنرلاہور اور محکمہ زراعت کے متعلقہ افسران نے اجلاس میں شرکت کی۔ صوبائی وزیر زراعت ایس ایم تنویر اورتمام ڈویژنل کمشنرزویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے وزیراعلی محسن نقوی نے نہری پانی کی چوری کی سدباب کیلئے موثر کارروائی کا حکم دے دیا۔ انتظامی افسران پانی چوری کے سدباب کے لئے اپنے متعلقہ اضلاع میں موثرایکشن لیں۔ وزیراعلی پنجاب محسن نقوی کے فیصلے کے مطابق 10سال بعد پنجاب کی 1112نہروں کی بھل صفائی 26دسمبر سے 20جنوری تک جاری رہے گی۔


    دوسری جانب وزیر اعلیٰ نے ایکس پر پوسٹ کی ہے کہ لاہور میں سڑکوں کو دھونے کا کام شروع کردیا ہے۔وزیر اعلیٰ نے خود صفائی مہم کا جائزہ
    لیا . محسن نقوی نے لکھا ہے کہ لاہور میں سموگ سے نمٹنے کے لیے ایک اور قدم!
    صفائی مہم آج شروع ہوئی ہے، سڑکوں کو دھول سے صاف کرنے کے لیے 100 اراکین کے ساتھ چار ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں۔ کم سے کم رکاوٹ پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے، اس اقدام کا مقصد ٹریفک کے بہاؤ کو متاثر کیے بغیر ہوا کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔ آئیے مل کر صاف ستھرا سانس لیں!

  • آئی پی پی آور مسلم لیگ ن کی سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی فہرست تیار

    آئی پی پی آور مسلم لیگ ن کی سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی فہرست تیار

    استحکام پاکستان پارٹی قومی اسمبلی کی 20 نشستوں پر سیٹ ایڈ جسٹمنٹ کی فہرست مسلم لیگ ن کے حوالے کرے گی ، استحکام پاکستان پارٹی کی کمیٹی نے مسلم لیگ ن سے سیٹ ایڈ جسٹمنٹ کے لئے حلقوں اور امیدواروں کی فہرست تیار کر لی، ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی پی پی کی قیادت آج رات تک سیٹ ایڈجسٹمنٹ والی فہرست مسلم لیگ ن کی قائم کردہ کمیٹی کے حوالے کر دے گی، قومی اسمبلی کے 19 حلقے پنجاب اور ایک کا تعلق کراچی سے ہے۔ذرائع کے مطابق اسحاق خاکوانی، عون چودھری اور نعمان لنگڑیال پر مشتمل آئی پی پی کمیٹی نے قیادت اور پارٹی رہنماؤں کی مشاورت سے فہرست مرتب کی ہے۔
    ذرائع کے مطابق آئی پی پی پنجاب اسمبلی کے 44 حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی خواہش مند ہے، مسلم لیگ ن قومی اسمبلی کے جن حلقوں سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ سے معذرت کرے گی ان حلقوں میں صوبائی سیٹ پر ایڈجسٹمنٹ کی ڈیمانڈ کی جائے گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ استحکام پاکستان پارٹی کے گزشتہ روز اجلاس میں مسلم لیگ ن کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے فیصلے کی توثیق کر دی گئی تھی۔

  • لاہور فضائی آلودگی میں پہلے نمبر پر موجود،موٹرویز دھند کے باعث بند

    لاہور فضائی آلودگی میں پہلے نمبر پر موجود،موٹرویز دھند کے باعث بند

    صوبائی دارالحکومت لاہور آلودگی کے اعتبار سے دنیا میں پہلے نمبر پر ہے، شہر میں سموگ کی اوسط شرح 233 ریکارڈ کی گئی ہے۔لاہور کے بعد کراچی میں بھی سموگ کا راج ہے، فضائی آلودگی میں شرح 175 ریکارڈ کی گئی ہے۔ موسم کا احوال بتانے والوں کا کہنا ہے کہ اعداد وشمار کے مطابق ہوا کی رفتار 6 کلو میٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی، تاحال بارش کا کوئی امکان نہیں ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق شہر کا کم سے کم درجہ حرارت 8 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ 23 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
    دوسری جانب بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کا ایئر کوالٹی انڈیکس 178 ریکارڈ کیا گیا ہے۔ موسم کا احوال بتانے والوں کا کہنا ہے کہ اعداد وشمار کے مطابق ہوا کی رفتار 6 کلو میٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی، تاحال بارش کا کوئی امکان نہیں ہے۔
    جبکہ شدید دھند کے سبب مختلف مقامات پر موٹرویز کے مختلف سیکشنز بند کر دیے گئے ہیں۔ لاہور سیالکوٹ موٹروے شدید دھند کے سبب بند کی گئی ہے جبکہ موٹر وے ایم ون، رشکئی تا پشاور بھی بند ہے۔فیض پور سے سمندری تک بھی موٹر وے بند ہے، کے پی، پنجاب اور سندھ کے کئی علاقے رات گئے سے دھند کی لپیٹ میں ہیں۔دوسری جانب آلودہ ترین شہروں میں آج لاہور کا چوتھا اور کراچی کا پانچواں نمبر ہے۔

  • پنجاب بھر میں یوریا کھاد کی بحران

    پنجاب بھر میں یوریا کھاد کی بحران

    پنجاب بھر میں یوریا کھاد کی کمی کا بحران سر اٹھانے لگا، پنجاب بھر میں 3 ہزار 750 روپے کی کھاد کی بوری 5 ہزار 200 روپے میں فروخت ہو رہی ہے۔
    نگراں وزیرِ صنعت و تجارت گوہر اعجاز نے نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ کھاد بنانے والی فیکٹریوں کو ہدایت کر دی ہے کہ پیداوار اور سپلائی میں کمی نہ آنے دیں۔اس حوالے سے کسانوں کا کہنا ہے کہ ڈیلر اور ذخیرہ اندوز مصنوعی قلت کا جواز بنا کر کھاد کو بلیک میں فروخت کر رہے ہیں۔ گوہر اعجاز کا کہنا ہے کہ حکومت نے درآمدی کھاد کے آرڈرز بھی کر دیے ہیں۔وزیرِ صنعت و تجارت نے کہا کہ 20 دسمبر سے کھاد کے جہاز روزانہ کی بنیاد پر پورٹ پر پہنچنا شروع ہوں گے۔

  • جہانگیر ترین  لودھراں سے رکن قومی اسمبلی الیکن لڑے گے ،سیٹ ایڈجسٹمنٹ کمیٹی قائم

    جہانگیر ترین لودھراں سے رکن قومی اسمبلی الیکن لڑے گے ،سیٹ ایڈجسٹمنٹ کمیٹی قائم

    استحکام پاکستان کے سربراہ و بانی جہانگیر ترین یا ان کے بیٹے علی ترین لودھراں سے رکنِ قومی اسمبلی کا ایکشن لڑیں گے۔ جبکہ آئی پی پی کے علیم خان اور عون چوہدری لاہور سے قومی اسمبلی کا ایکشن لڑیں گے۔ مسلم لیگ ن اور استحکام پاکستان پارٹی میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے لیے کمیٹی قائم کر دی گئی۔ذرائع کے مطابق ن لیگ کی طرف سے رانا ثناء اللّٰہ، ایاز صادق اور سعد رفیق جبکہ آئی پی پی کی طرف سے عون چوہدری، اسحاق خاکوانی اور نعمان لنگڑیال کمیٹی میں ہوں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اسحاق خاکوانی وہاڑی سے اور نعمان لنگڑیال ساہیوال سے الیکشن لڑیں گے جبکہ دونوں پارٹیوں میں سے ایک مضبوط امیدوار کو حلقے میں سامنے لایا جائے گا اور مضبوط امیدوار کے لیے غیر جانبدار سروے بھی کرایا جا سکتا ہے۔عون چوہدری کا کہنا ہے کہ ن لیگ سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر آئندہ دو تین روز میں میٹنگ ہو گی۔
    ذرائع کے مطابق دونوں پارٹیاں اپنے اپنے امیدواروں کے نام سامنے رکھیں گی۔

  • فواد چودھری ایک روزہ راہداری ریمانڈ پراینٹی کرپشن کے حوالے

    فواد چودھری ایک روزہ راہداری ریمانڈ پراینٹی کرپشن کے حوالے

    دسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد کے جوڈیشل مجسٹریٹ عبد الماجد قاضی نے فواد چوہدری کے خلاف اینٹی کرپشن کیس کی سماعت کی، اس موقع پر سابق وفاقی وزیر کو عدالت میں پیش کیا گیا۔راولپنڈی اینٹی کرپشن حکام نے عدالت سے فواد چوہدری کے راہداری ریمانڈ کی استدعا کی جس پر وکیل فیصل چوہدری نے کہا کہ نا ملک قانون نا آئین کے تحت چل رہا ہےبلکہ تابع فرمان چل رہا ہے، ہمارے خلاف پیسے لینے یا دینے کا کوئی الزام نہیں۔فیصل چوہدری کا کہنا تھا کہ ہتھکڑی لگا کر مؤکل کو یہاں پیش کرنا تضحیک ہے، فواد چوہدری سپریم کورٹ کے وکیل ہیں، ان کے خلاف نا انکوائری ہوئی اور نا انویسٹی گیشن کی گئی۔وکیل صفائی نے کہا کہ تفتیش میں ہم مکمل تعاون کر رہے ہیں، عدالت مچلکے لے لے، جو سیاستدان ان کو اچھا نا لگے یہ اس کو جیل میں ڈال دیتے ہیں۔پراسیکیوٹر عدنان علی نے ایک روزہ راہداری ریمانڈ کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ ضمانت اسلام آباد میں دائر نہیں ہو سکتی کیونکہ فواد چودھری گرفتار ہیں، ر اہداری ریمانڈ کے سٹیج پر کیس کے میرٹ کا فیصلہ نہیں ہو سکتا، فواد چودھری پر بطور وزیر کرپشن کرنے کا الزام ہے،عدالت نے پراسیکیوشن کی استدعا پر فواد چودھری کے رہداری ریمانڈ پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔ جس کے بعد جوڈیشل مجسٹریٹ قاضی ماجد نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے فواد چودھری کو ایک روزہ راہداری ریمانڈ پر محکمہ اینٹی کرپشن حکام کے حوالے کردیا، عدالت نے حکم دیا کہ فواد چودھری کو ایک روز میں متعلقہ عدالت پیش کیاجائے۔

  • اے ٹی سی لاہور نے اسد عمر اور عمران خان کے بہنوں کی ضمانت خارج کر دی

    اے ٹی سی لاہور نے اسد عمر اور عمران خان کے بہنوں کی ضمانت خارج کر دی

    لاہور کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے سابق وفاقی وزیر اسد عمر کی عسکری ٹاور جلاؤ گھیراؤ کے مقدمے میں ضمانت خارج کر دی۔ انسداد دہشت گردی عدالت نے سیاسی رہنما اسد عمر، بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی عبوری درخواست ضمانتوں کے معاملے پر وکلاء کو حتمی دلائل کے لیے 9 جنوری کو طلب کرلیا۔ انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج ارشد جاوید نےکیس سماعت کی، ملزمان کی جانب سے وکیل رانا مدثر عمر پیش ہوئے۔انسداد دہشت گردی عدالت میں جناح ہاؤس اور عسکری ٹاور حملہ اور جلاؤ گھیراؤ سمیت دیگر مقدمات میں سیاسی رہنما اسد عمر، بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی عبوری درخواست ضمانتوں پر سماعت ہوئی۔عدالت میں اسد عمرنے حاضری معافی کی درخواست دائر کردی ، جس پر عدالت نے اسد عمر کی حاضری معافی کی درخواست منظور کرلی ۔
    عدالت نے وکلاء کو حتمی دلائل کے لیے طلب کر تے ہوئے اسد عمر ، عظمیٰ خان اور علیمہ خان کی عبوری ضمانتوں میں 9 جنوری تک توسیع کر دی۔ملزمان کے خلاف جناح ہاؤس اور عسکری ٹاور سمیت دیگر کیخلاف جلاؤ گھیراؤ کے مقدمات درج ہیں۔وکیل رانا مدثر عمرنے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ یہ محض سیاسی مقدمات ہیں جن میں درخواستگزار کے خلاف کچھ ثبوت نہیں ، عدالت سے استدعا ہے کہ آئندہ تاریخ پر پراسیکیوشن کو ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دے ۔تھانہ گلبرگ پولیس نے اسد عمر کے خلاف مقدمہ درج کر رکھا ہے۔

  • وزیراعلیٰ محسن نقوی کی  عراق کے سفیر حامد عباس لفطا سے ملاقات ،ہنجاب میں سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال

    وزیراعلیٰ محسن نقوی کی عراق کے سفیر حامد عباس لفطا سے ملاقات ،ہنجاب میں سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال

    بنجاب وزیر اعلی محسن نقوی نے کہا ہے کہ عراق کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ برادرانہ تعلقات ہیں۔ عراق اور پاکستان کے عوام میں عقیدت، محبت اور اخلاص کے رشتے ہیں۔ مذہبی سیاحت کے فروغ کا بہت پوٹینشل ہے۔ پنجاب نے سرمایہ کاری کیلئے سازگار ماحول فراہم کیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار وزیراعلیٰ محسن نقوی نے عراق کے سفیر حامد عباس لفطا سے ملاقات کے وقت کی ہے۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے سےمتعلق بات چیت کی گئی ساتھ ہی مذہبی سیاحت اور ثقافت کے فروغ پر بھی گفتگو کی گئی۔ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ عراق کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ برادرانہ تعلقات ہیں۔ عراق اور پاکستان کے عوام میں عقیدت، محبت واخلاص کےرشتےہیں۔ لاہور میں سرمایہ کاری کیلئے فسیلیٹیشن سنٹر قائم کیا ہے۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ سنٹر میں 20 وفاقی و صوبائی محکموں کے دفاتر ایک چھت تلے موجود ہونگے۔ بیرونی سرمایہ کاروں کیلئے 106 این او سیز 2 ہفتے میں جاری کئے جائیں گے۔ دوسری جانب عراقی سفیر کا کہنا تھا کہ محسن نقوی مذہبی سیاحت کے فروغ کیلئے قابل قدر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ پنجاب میں موجود سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔