خواتین امیدواروں میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور اپنے شعبے میں ٹیکنوکریٹس نے حصہ لے کے یہ ثابت کیا کہ وہ کسی میدان میں مردوں سے پیچھے نہیں،۔ خواتین کو نمائندگی دے کر انہیں ملکی ترقی کا حصہ بنانا چاہتے ہیں۔ مسلم لیگ ن کی رہنما عظمیٰ بخاری نے کہا کہ آج مخصوص نشستوں پر خواتین امیدواروں کے انٹرویوز کیے گیے۔ سو سے زائد خواتین نے انٹرویوز میں حصہ لیا۔ لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پارٹی قائد نواز شریف نے خود خواتین امیدواروں کے انٹرویو کیے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری جماعت خواتین کو ڈھال کے طور پر استعمال نہیں کرتی۔ خواتین ہر پولنگ اسٹیشن پر اپنا مرکزی کردار ادا کرتے ہوئے نظر آئیں گی۔ عظمیٰ بخاری نے کہا کہ مسلم لیگ ن جمہوری ذہن رکھنے والی جماعت ہے۔ بورڈ میں خواتین امیدواروں کے 5 گھنٹے طویل انٹرویوز ہوئے۔ عظمیٰ بخاری نے کہا جو خواتین جنرل الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں ان کا آج کے اجلاس سے کوئی تعلق نہیں۔
Category: پنجاب
-

خواتین کو نمائندگی دے کر انہیں ملکی ترقی کا حصہ بنانا ہے،عظمی بخاری
-

فواد چوہدری الیکشن کس جماعت سے لڑے گے یہ سرپرائز ہے،وکیل فواد چوہدری
پی ٹی آئی سابق وفاقی وزیر کے وکیل اور بھائی فیصل چودھری ایڈووکیٹ نے کہا کہ فواد چودھر ی انتخاب کس سیاسی جماعت سے لڑیں گے یہ سب کیلئے سرپرائز ہو گا۔
فیصل چودھری ایڈووکیٹ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سابق وفاقی وزیراطلاعات و نشریات فواد چودھر ی انتخاب کس سیاسی جماعت سے لڑیں گے یہ سب کیلئے سرپرائز ہو گا۔ان کاکہنا تھا کہ فواد چودھری 2024 کا الیکشن جیل سے لڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کل فواد چودھری کی اینٹی کرپشن کیس میں ضمانت ہو گئی ہے اور آج نیب نے معاملات شروع کردیے ہیں۔ عدالت سے فواد چودھری کے اوپن ٹرائل کیلئے درخواست کی ہے۔ فیصل چوہدری نے کہا کہ فواد چوہدری خود یہ فیصلہ کرے گے کہ انکو کس پارٹی سے لڑنا ہے، -

عثمان ڈار نے سیاسی میدان میں میرے خلاف خواتین کو اتار دیا ،خواجہ آصف
مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ آصف نے عثمان بزدار کے والدہ کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ 9 مئی کو عثمان ڈار صاحب جو کردار ادا کیا اور اس کے بعد روپوش ہوگئے تھے، اس کا ملبہ بھی مجھ پہ ڈال دیں۔تحریک انصاف کے سابق رہنما عثمان ڈار کے الزامات پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما خواجہ آصف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر کہا کہ 9 مئی کو عثمان ڈار نے جو کردار ادا کیا اور اس کے بعد روپوش ہوگئے تھے، اس کا ملبہ بھی مجھ پہ ڈال دیں۔
خواجہ صاحب more power to you آپ کا مخالف نہایت کم ظرف نکلا، سیاسی میدان میں مردوں کی طرح مقابلے کرنے کی بجائے گھر کی عورتوں کو گھسیٹ لایا، یہی آپ کی فتح ہے کہ وہ میدان میں آپ سے مقابلہ کرنے کے قابل ہی نہیں @KhawajaMAsif pic.twitter.com/csUGOMqA1Y
— Pervaiz Sandhila (@chsandhilaa) December 19, 2023
خواجہ آصف نے کہا کہ عثمان ڈار روپوشی کے بعد پکڑے گئے، اور پھر انہوں نے نجی ٹی وی چینل پر پچھتاوے کا اظہار کیا، معافی مانگی، اور اپنے لیڈر پہ جو الزامات لگائے، اس کا ملبہ بھی میرے پہ ڈال دیں۔ن لیگ کے رہنما کا کہنا تھا کہ اگر عثمان ڈار خود کسی وجہ سے الیکشن نہیں لڑنا چاہتے تو اس کا بوجھ پلیز مجھ پہ نہ ڈالیں، اور درخواست ہے کہ عزت دار لوگ اپنے سیاسی ڈراموں میں والدہ جیسی عظیم ہستی کو استعمال نہیں کرتے، ماں کے احترام اور تقدس کی حفاظت کریں اسے سستی سیاست کے لئے استعمال نہ کریں۔خواجہ آصف نے مزید کہا کہ عثمان ڈار خود ٹی وی پر اینکر کامران شاہد کے ساتھ آکر پتہ نہیں کیا فرماتے رہے یہ وہ جانیں، لیکن مائیں سانجھی ہوتی ہیں، میرے لیے آج بھی وہ ماں بہن کی جگہ ہیں، یہ لازوال رشتے ہوتے ہیں قدر کریں۔ -

استحکام پاکستان کی جانب سے عثمان ڈار کے گھر پر چھاپے کی مذمت
استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کی ترجمان ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے عثمان ڈار کے گھر پر پولیس کے چھاپے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال ہونا قابل مذمت ہے۔ جو کہ نا قابل برداشت ہے،فردوس عاشق نے مزید کہا کہ نے مزید کہا کہ ماں کو بےتوقیر کر کے سیاسی بیانیہ بنا کر ریٹنگ لینا قابل افسوس ہے۔ترجمان آئی پی پی کا کہنا تھا کہ ماں کے کندھے پر سیاسی بندوق چلانے والے غیرت مند بیٹے اخلاقی، مذہبی، سماجی روایات پامال نہ کریں۔ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ الیکشن میں غیرت مند بیٹے سامنے آئیں۔ ماں جیسے مقدس رشتے کو پامال نہ کریں۔
-

سپریم کورٹ کے فیصلے سے الیکشن سے فرار کی تمام سازشیں دم توڑ گئی،چودھری شجاعت
صدر پاکستان مسلم لیگ (ق) چودھری شجاعت حسین نے سندھ سے پارٹی کے امیدواروں کو فائنل کرنے کیلئے منعقدہ اجلاس کی صدارت کی۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے الیکشن سے فرار کی تمام سازشیں دم توڑ گئی ہیں، ملک کا سیاسی و معاشی مستقبل عام انتخابات سے وابستہ ہے۔مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ آزاد، منصفانہ اور قابل اعتماد انتخابات انتہائی ضروری ہیں جن میں تمام سیاسی جماعتوں کو حصہ لینے کے یکساں مواقع ملنے چاہئیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ (ق) انتخابات میں بھرپور حصہ لے گی اور عوام کی نمائندہ جماعت بن کر ان کی ترجمانی کرے گی، عوام کو اپنے روشن مستقبل کیلئے روایتی سیاستدانوں کے بجائے شعور کو ووٹ دینا ہوگا۔
-

آڈیالہ جیل میں بجلی منقطع
ٹرانسمیشن لائن کی مینٹیننس کے سلسلے میں آئیسکو کی جانب سے راولپنڈی اڈیالہ جیل کی بجلی سپلائی معطل کردی گئی۔ بجلی کا متبادل نظام نہ ہونے سے قیدیوں کو مشکلات کا سامنا ہے جبکہ جیل کا نظام بھی متاثر ہوا ہے۔ذرائع کے مطابق جیل میں صرف 2 جنریٹر کام کر رہے ہیں جن سے کام چلانا مشکل ہوگیا ہے جبکہ جیل کے اندر اور اطراف میں موبائل انٹرنیٹ سروس دستیاب ہو گئی ہے۔
آئیسکو مراسلے کے مطابق 132 کے وی ٹرانسمیشن لائن پر کام جاری ہے، ملحقہ علاقوں میں بجلی معطل رہے گی، ٹرانسمیشن لائنز پر کام ہونے پر 13 ملحقہ علاقوں میں سپلائی معطل ہے۔آئیسکو نے بجلی سپلائی معطلی کا مراسلہ جیل انتظامیہ کو 13 دسمبر کو جاری کیا تھا۔ -

نگران وزیر اعلی پنجاب نے گڈز ٹرانسپورٹ کو کرائے کم کرنے کی ڈیڈ لائن دے دی
وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے عام آدمی کو ریلیف دینے کےلئے ایک اور حکمت عملی پیش کردی،وزیراعلیٰ پنجاب نے انٹرسٹی ٹرانسپورٹ کےکرایوں میں کمی کا حکم دے دیا ،وزیراعلیٰ نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو آج رات تک کرایوں میں کمی کی ڈیڈ لائن دیدی ،اب پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں بڑی کمی کیساتھ انٹرسٹی ٹرانسپورٹ کے کرائے بھی کم ہو نگے۔ سید محسن نقوی نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام کو منتقل کیا جائے،عام آدمی کوریلیف دینے کیلئے انٹرسٹی ٹرانسپورٹ کےکرائے کم کرائے جائے۔ وزیراعلی پنجاب نے آج رات تک کرائے کم نہ کرنیوالے ٹرانسپورٹرز کیخلاف بلاامتیاز کارروائی کا حکم دےدیا۔
-

پنجاب وزیر اعلی محسن نقوی کا تجاوزات کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم
نگران وزیر اعلی پنجاب نے لاہور میں تجاوزات کے خاتمے کے لئے آپریشن کا فیصلہ کر لیا ،پنجاب حکومت نےلاہو رمیں تجاوزات رضاکارانہ طور پر ختم کرنے کیلئے سخت کریک ڈاؤن کا فیصلہ کرتےہوئے 48 گھنٹے کی مہلت دے دی، نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کی زیر صدارت خصوصی اجلاس ہوا جس میں انسداد تجاوزات سے متعلق اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ محسن نقوی نے کہا کہ شہر میں رضا کارانہ طورپر تجاوزات ختم کرنے کیلئے 48گھنٹے کی مہلت ہے، منگل کی صبح سے باضابطہ آپریشن شروع ہوگا، انسداد تجاوزات مہم میں کوئی نرمی اور رعایت نہیں ہوگی، مہلت ختم ہونے پر لاہور میں تجاوزات کے خاتمے کیلئے آپریشن شروع ہو جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے تجاوزات ختم نہ کرنے والوں کی گرفتاریوں کابھی حکم دیے دیا اور کہا کہ اگر اس پر عملدرآمد نہ کیا گیا تو ان کے خلاف مقدمات بھی درج ہوں گے۔
-

عوام جاننا چاہتی ہیں کہ 2018 میں ن لیگ نے الیکشن کیوں نہیں جیتا،نواز شریف
2018ء میں سب کا یہی خیال تھا کہ الیکشن ہوئے تو (ن) لیگ دوبارہ الیکشن جیتے گی،لیکن سارا کچھ دوبارہ اپ ڈاؤن ہو گیا، کیوں ہوگیا، قوم جاننا چاہتی ہے ملک کےساتھ ایسا کیوں ہوا، 2017ء میں ہماری حکومت میں مزدور، کسان خوش تھے، پاکستان بڑی تیزی سے ترقی کر رہا تھا، ملک میں موٹرویز بن رہی تھیں، جب ہم نے اقتدارسنبھالا تو 18، 18 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہو رہی تھی،لیکن ہم نے دن رات ایک کر کے لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کر دیا ۔لاہور میں مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی بورڈ کے ملتان ڈویژن سے ٹکٹ امیدواروں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے قائد کا کہنا تھا کہ ہم نے دہشت گردی اور بے روزگاری کا خاتمہ کیا تھا، سی پیک بڑی تیزیسے اپنی کامیابی کی طرف گامزن تھی ا اور ملک میں موٹرویز بن رہی تھی، ہمارے دور میں بجلی اور گیس کی کوئی کمی نہیں تھی، ہم نے پاکستان کو خوشحالی کی ڈگر پر ڈالا تھا، مخالفین حسد کررہے تھے کہ 2018 کے شفاف الیکشن ہوئے تو ن لیگ جیتے گی، قوم جاننا چاہتی ہے ترقی کا سفر رکا کیوں۔ملک بہت پیچھے چلا گیا، اللہ ہمارے ملک کی حفاظت فرمائے، دنیا بہت آگے چلی گئی اور ہم پیچھے رہ گئے، پاکستان بہت قربانیوں کے بعد حاصل کیا گیا ہے، پاکستان وہ مقام حاصل نہیں کرسکتا جس کے لیے حاصل کیا گیا تھا۔ سابق وزیراعظم نے مزید کہا کہ جنہوں نے رابطہ توڑوایا ان کا بھی شکریہ کہ انہوں نے نہ جانے ایسا کام کیوں کیا؟ ہم نے اپنے ملک کے ساتھ خوڈ بڑی زیادتی کی ہے، شاید اس غلطی کے ازالے کا وقت آرہا ہے، ملک کو اسی جگہ پر لے جانا چاہیئے جس کا وہ مستحق ہے۔
نواز شریف نے کہا کہ اس ملک کو دنیا میں منفرد مقام حاصل کرنا تھا، 1967 میں مجھے میرے والد نے غیر ملکی دوروں پر بھجوایا، اس زمانے میں لوگوں میں کام کرنے کا جذبہ تھا، 2017 میں ہماری حکومت اچھی جارہی تھی، لوگ خوش تھے، ہمارے دورمیں بجلی اور گیس کی کوئی کمی نہیں تھی۔انہوں نے کہا کہ پارٹی کوشش کرے گی کہ میرٹ پر تمام فیصلے ہوں، ازالہ چاہتے ہیں تو اپنی ذات سے باہر نکلنا ہوگا، ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیئے، ملک نے بہت برداشت کیا ہے، قوم پریشانی کے عالم میں ہے، پریشانی کی حالت سے باہر نکالنا ہے اور عبادت سمجھ کر قوم کی خدمت کرنی ہے، خوشحال پاکستان بہت ہی ضروری ہے، ترقی و خوشحالی کی طرف چلتا معاشرہ ہو تو سب خوش ہوتے ہیں۔ -

محکمہ جنگلی تحفظات کو تحفظ دیا جائے
محکمہ جنگلی تحفظات کو تحفظ دیا جائے
از قلم غنی محمود قصوری
پاکستان میں ہر قسم کا محکمہ موجود ہے جو مسائل کو اپنے وسائل کے مطابق حل کرنے کا دعویٰ کرتا ہے تاہم پاکستانی عوام جانتی ہے کہ وسائل ہونے کے باوجود یہ محکمے عوام کیلئے مسائل ہی پیدا کرتے ہیں اور قانونی لوگوں کو غیر قانونی اور غیر قانونی لوگوں کو قانونی تحفظ فراہم کرتے ہیں، ان محکموں میں ایک محکمہ ،پنجاب وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ، بھی شامل ہے ، سب سے پہلے تو میں اس محکمے کا تعارف کرواتا ہوں، چونکہ راقم خود ایک شکاری ہے اس لئے اس محکمے سے میرا خصوصی واسطہ بھی ہے-
پنجاب وائلڈ لائف اینڈ پارکس ڈیپارٹمنٹ انگریز دور حکومت میں 1934 کو معرض وجود میں آیا 1934 سے 1973 تک یہ محکمہ مختلف محکموں کے زیر سایہ کام کرتا رہا تاہم 1973 میں اسے پنجاب وائلڈ لائف اینڈ پارکس ڈیپارٹمنٹ کا نام دیا گیا اور تب اس محکمے نے جنگلی حیات،محکمہ جنگلات اور محکمہ ماہی پروری کے طور پہ کام شروع کیا، یعنی جنگلات کا تحفظ،جنگلی جانوروں، پرندوں کا تحفظ اور مچھلیوں کا تحفظ و افزائش اس محکمے کی ذمہ داری ہے اور چڑیا گھر و پارکس بھی ان کے زیر انتظام ہیں-
اس محکمے کا سربراہ ڈائریکٹر جنرل ہوتا ہے جس کے زیر سایہ پنجاب بھر میں ایک ڈائریکٹر اور 10 ڈپٹی ڈائریکٹرز کام کرتے ہیں اس کے ایکٹ میں 1974 کے بعد 2007 اور پھر 2010 میں ترمیم کی گئی ملک بھر کی طرح پورے پنجاب میں اس وقت شکار کا سیزن شروع ہے –
شکاری حضرات کیلئے لازم ہے کہ وہ پنجاب وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کے جاری کردہ لائسنس کے تحت ہی شکار کر سکتے ہیں مگر ہمارے ہاں 80 فیصد لوگ بغیر شکاری لائسنس کے کھلے عام ہر قسم کا شکار کرتے ہیں جو کہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں اس محکمے کو جو وسائل ملنے چائیے وہ وسائل بھی اس محکمے کے پاس موجود نہیں، ہر تحصیل میں ایک گیم وارڈن اور انسپیکٹر پہ مبنی ٹیم ہوتی ہے جس کا کام غیر قانونی شکار کو روکنا ہے تاہم اگر ایمانداری سے دیکھا جائے تو اتنے کم لوگوں کا بہت زیادہ رقبے میں کام کرنا ایک لطیفے سے کم نہیں پانچ سات بندے ایک آدھ پرانی پھٹیچر گاڑی اور سینکڑوں کلومیٹر کا رقبہ ایک لطیفہ نہیں تو اور کیا ہے، اسی موقع سے ناجائز شکار ی فائدہ اٹھاتے ہیں اور جنگلی حیات کو ختم کر رہے ہیں
اس محکمے کی طرف سے لائسنس جاری کرتے وقت حامل لائسنس کو کچھ نہیں بتایا جاتا کہ فلاں پرندہ و جانور آپ شکار کر سکتے ہیں اور فلاں نہیں حتی کہ جاری کردہ لائسنس پہ بھی کچھ معلومات رقم نہیں اور جو کہ کچھ لکھا وہ بھی خیر سے انگریزی میں رقم ہے جس کے باعث قانون کا احترام کرنے والا حامل شوٹنگ وائلڈ لائف لائسنس ہولڈر نہیں جانتا کہ کونسا پرندہ نایاب ہو رہا ہے اور کونسا عام کونسے دن شکار کی ممانعت اور کونسے دن اجازت کب بریڈنگ سیزن شروع ہے اور کب ختم، کونسا پرندہ ہمارے ملک کا ہے اور کونسا پرندہ مہمان ہے
اور ایک لائسنس پہ کتنی بندوقوں کیساتھ کتنے افراد کتنے پرندے ایک دن میں شکار کر سکتے ہیں، کیونکہ انٹرنیٹ پہ ایک بندے کے ہاتھ میں درجنوں شکار کئے پرندوں کی تصاویر نظر آتی ہیں حتی کہ گاڑیوں کے بونٹ نایاب پرندوں کے شکار سے بھرے پڑے ہوتے ہیں، یہ سب انٹرنیٹ پہ سرچ کرنے پہ بھی کچھ خاص معلومات نہیں ملتیںاس محکمے کو بطور کالم نگار اور ایک رجسٹرڈ شکاری میری سب سے اہم تجویز یہ ہے کہ لائسنس جاری کرتے وقت ایک لٹریچر فراہم کریں جس پہ سب قواعد و ضوابط لکھے ہوئے ہو تاکہ شکاری حضرات کو مکمل علم ہو نیز یہ کوشش ہونی چائیے کہ اس کمیونیکیشن کے دور میں رجسٹرڈ شکاریوں کو واٹس ایپ گروپ میں ایڈ کرکے معلومات سے آگاہ کیا جاتا رہے اور ان کو بتایا جائے کہ آپ کس پرندے ،جانور کی شکار کی ہوئی تصویر سوشل میڈیا پہ وائرل کر سکتے ہیں اور کس کی نہیں کیونکہ یہ بات بہت زیادہ دیکھنے میں آئی ہے کہ سوشل میڈیا پہ وائرل تصویر کو بنیاد بنا کر جرمانہ کیا جاتا ہے حالانکہ جو شکاری لائسنس حاصل کرتا ہے بھلا اسے کیا ضروت غیر قانونی کام کی ؟اگر وہ قانون کا احترام نا کرتا ہوتا تو پھر وہ بھی ان 80 فیصد غیر قانونی شکاریوں کا حصہ ہوتا اور اپنے سالانہ پیسے لائسنس کی فیس کی مد میں ادا کرنے سے بچاتا
سو محکمے کی یہ غفلت شکار حاصل کئے شکاریوں کو غیر قانونی طریقے پہ شکار کرنے پہ مجبور کر رہی ہے جبکہ دوسری سمت وڈیروں جاگیر داروں اور اشرافیہ کو بغیر اسلحہ و وائلڈ لائف شوٹنگ لائسنس کے پورے پروٹوکول کیساتھ ممنوعہ شکار والے علاقوں میں شکار کروایا جاتا ہے جس سے عام غریب اور بغیر شفارش شکاریوں کی حق تلفی ہوتی ہے اور یوں یہ محکمہ قانونی لوگوں کو غیر قانونی اور غیر قانونی لوگوں کو قانونی بنا رہا ہے-نیز ایک غفلت یہ بھی ہے کہ نایاب ہوتے پرندے فاختہ کے شکار کی اجازت ہے اور ائیر گن کے شکار کو مکمل بین کیا ہوا ہے جس کے باعث عام غریب انسان شکار جیسے اہم اور تندرستی برقرار رکھنے والی ورزش سے محروم ہےدوسری جانب سیمی آٹومیٹک رپیٹر سے لوگ بیک وقت نصف درجن کارتوس چلا کر درجنوں پرندے مار گراتے ہیں اور پرندوں کی نسل کشی کر رہے ہیں-
واضح رہے کہ پاکستانی عدالت نے 2021 میں ڈمی پرندوں (decoys) کیساتھ شکار کرنے اور ائیر گن کیساتھ شکار پہ پابندی لگا رکھی ہے تاہم قد آور لوگ کھلے عام یہ سب کر رہے ہیں میری گورنمنٹ سے گزارش ہے کہ سپرنگر (Springer) ائیر گن کیساتھ شکار کی پابندی ہٹائی جائے جبکہ پی سی پی ائیر گن( Pre-Charged Pneumatics ) پہ پابندی برقرار رکھی جائے ریاست پاکستان کے ہر شہری کو شکار کا حق حاصل ہے سو مخصوص لوگوں کے فائدے کی خاطر غریبوں کو اس شوق اور ورزش سے محروم نا کیا جائے –
اگر بات کی جائے محکمے کی کارکردگی کی تو آج سے دو سال قبل اس محکمے کے اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل پنجاب محمد نعیم بھٹی کی سربراہی میں محکمہ کافی فعال اور بہتر تھا تاہم اب کچھ خاص بہتری نہیں لہذا محکمے کو فعال کیا جائے اور افسران کو نعیم بھٹی کی طرح ذیلی افسران و عملے کی چیکنگ اور مانیٹرنگ کا پابند بنایا جائے تاکہ پرندوں کی نسل کشی بھی نا ہو اور محکمے کے لوگ لگن سے کام کریں تاکہ شکاری حضرات ساری معلومات حاصل کرکے شکار کر سکیں-