منشیات کے مقدمات میں ناقص تفتیش و پیروی پر 33 پولیس افسران و اہلکار کو ملازمتوں سے برطرف کردیا۔ ترجمان راولپنڈی پولیس کی جانب سے منشیات کے مقدمات کی ناقص تفتیش اور پیروی نہ کیے جانے کے باعث ملزمان کو فائدہ پہنچا اور وہ سزائیں نا پاسکے، محکمہ پولیس سے برخاست کیے جانے والے افسران میں 9 سب انسپکٹر، 11 اسسٹنٹ سب انسپکٹر، 01 ہیڈ کانسٹیبل اور 12 کانسٹیبل شامل ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا تھا کہ ڈسمس کیے گئے افسران کو محکمانہ انکوائری کے بعد محکمہ سے برطرف کیا گیا، برطرف ہونے والے افسران نے منشیات کے مقدمات کی تفتیش میں غفلت اور غیر پیشہ وارانہ طرز عمل کا مظاہرہ کیا جو محکمانہ انکوائریز میں ثابت ہوا۔میں آتشزدگی سے سی پی او راولپنڈی خالد ہمدانی کا کہنا تھا کہ منشیات کیخلاف کریک ڈاؤن میں کسی قسم کی غفلت یا غلطی برداشت نہیں کی جائے گی، ملزمان کی رنگے ہاتھوں گرفتاری اور برآمدگی کے باوجود سزایابی نہ ہونا برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ سی پی او راولپنڈی کا مزید کہنا تھا کہ سزایابی نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ افسران کو ہر صورت جوابدہ ہونا پڑے گا، راولپنڈی پولیس نے دو ماہ کے کریک ڈاؤن میں 1100 سے زائد بڑے منشیات اسمگلرز کو جیل بھجوا کر بھاری مقدار میں چرس، ہیروئین، آئس اور دیگر منشیات برآمد کی۔
Category: پنجاب
-

بانی پی ٹی آئی نے عالمی قوتوں کے اشاروں پر ملک کو داؤ پر لگا دیا،جاوید لطیف
کہ آج بھی ظالم کو مظلوم بنانے کے لیے سہولتکاری کی جارہی ہے۔ شیخوپورہ میں میڈیا سے گفتگو میں جاوید لطیف نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے عالمی قوتوں کے اشاروں پر وہ کام کیا جو کبھی کسی نے نہیں کیا۔ جاوید لطیف نے کہا کہ خدا کا واسطہ دے کر کہتا ہوں انصاف کے تقاضے پورے کرو، جوں جوں نواز شریف باہر نکل رہا ہے تمام چیزیں ان کے خلاف اکٹھی ہو رہی ہیں۔اُن کا کہنا تھا کہ تشدد اور کاغذات نامزدگی چھیننے کا عمل اگر ہو رہا ہے تو ہم مذمت کرتے ہیں اگر ڈرامہ ہو رہا ہے تو ادارے تفتیش کریں۔ میاں جاوید لطیف نے یہ بھی کہا کہ ایک جماعت کو مظلوم اور ن لیگ کو ظالم ثابت کرنے کا ڈرامہ ہو رہا ہے۔انکا یہ بھی کہنا تھا کہ نواز شریف کو کبھی لیول پلئنگ فیلڈ نہیں ملی، انہیں بے گناہ ہوتے ہوئے سزا ملی۔
-

ملک کو میٹرو، بجلی کی سہولت اور ترقی دینے والے ن لیگی قائد کو ملک بدر کیا گیا،عابد شیر علی
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر عابد شیر علی نے این اے 102 فیصل آباد سے کاغذات نامزدگی جمع کرادیے ہیں۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو میں عابد شیر علی نے کہا کہ شیر کا نشان بےشمار قربانیوں کا نشان ہے۔ عوام کی دعاؤں سے نواز شریف ایک بار پھر میدان عمل میں ہے۔ن لیگ کے امیدوار طاہر جمیل نے پی پی 115 پر کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں، وہ عابد شیر علی کے ہمراہ گھوڑوں پر سوار ہوکر آر او آفس پہنچے۔ عابد شیر علی نے مزید کہا کہ عوام کی دعاؤں سے نواز شریف پھر میدان عمل میں ہے، ملک کے عوام چوتھی بار پھر نواز شریف کو لا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو اقامے کی بنیاد پر نااہل کیا گیا، ملک کو میٹرو، بجلی کی سہولت اور ترقی دینے والے ن لیگی قائد کو ملک بدر کیا گیا۔اُن کا کہنا تھا کہ ہم کوئی یوٹرن نہیں لیتے، یہ ترقی کی سیدھی موٹروے ہے، نواز شریف ملک کو ترقی اور خوشحالی کی طرف لے کر جائے گا۔ن لیگی رہنما نے یہ بھی کہا کہ ہم 50 لاکھ نوکریوں اور گھروں کا وعدہ نہیں کریں گے بلکہ عملی اقدامات کریں گے۔انہوں نے کہا کہ 9 مئی کا جرم کرنے والوں کو کسی صورت معافی نہیں ملے گی، 2018 میں آر ٹی ایس بٹھا کر ہمیں ہرایا گیا ہم نے شکوہ نہیں کیا۔
-

پنجاب میں رنگ گورا کرنے والی کریموں اور انجکشنز سے بیماریاں پھیل رہی ہے،نگران وزیر صحت
گورا لگنا کس کو نہیں پسند لیکن کھبی کھبی غیر معیاری ٹریٹمنٹ ہمارے اسکن کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، یہی وجہ ہے کہ بیوٹی پارلرز میں رنگ گورا کرنے والے انجکشن اور کریمیں بیماریاں پھیل رہی ہے، اس حوالے سے نگراں وزیر صحت ڈاکٹر جمال ناصر نےمقامی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کئی بیوٹی پالرز نے رنگ گورا کرنے کی اپنی کریمیں بنا رکھی ہیں جن کی سرٹیفکیشن نہیں، کئی بیوٹی پارلر رنگ گورا کرنے والے انجکشن لگا کر لاکھوں روپے بٹور رہے ہیں، ایسے انجکشن پاکستان میں رجسٹرڈ نہیں نہ ہی ان کو امپورٹ کرنے کی اجازت ہے۔ نگراں وزیر صحت پنجاب کا کہنا تھا کہ رنگ گورا کرنے والی غیر قانونی کریموں اور انجکشنز سے جلد اور گردوں سمیت کئی اور بیماریاں لاحق ہوسکتی ہیں، غیر قانونی بیوٹی پارلرز اورکلینکس کے خلاف کارروائی کا آغاز لاہور اور راولپنڈی سے ہوگا۔
ڈاکٹر جمال ناصر نے کہا کہ رنگ گورا کرنے والے غیر قانونی انجکشنز اور کریموں کے خلاف پالیسی بنائیں گے اور ایسی کریمیں اور انجکشن استعمال کرنے والے پارلرز کو سیل کر دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ لاہور کی مارکیٹوں میں لوکل سیرم، کریمیں با آسانی کم قیمتوں پر دستیاب ہیں۔دوسری جانب دکانداروں کا کہنا ہے کہ 75 فیصد خواتین وائٹننگ کریم خریدتی ہیں، خواتین میں گورا اور دلکش دکھنے کے لیے وائٹننگ کریم کی طرف رجحان بڑھ گیا ہے -

بانی تحریک انصاف کی جانب سےکارکنان کوانتخابات میں حصہ لینے کی تاکید ،اور حکمت عملی کا پیغام
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے نئی انتخابی حکمت عملی کا اعلان کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ کارکنوں کو کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔ ترجمان پی ٹی آئی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بانی چئیرمین عمران خان نے ذیادہ سے ذیادہ کارکنان کو الیکشن کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروانے کی ہدایت کی ہے تاکہ پارٹی کے پاس آپشنز موجود ہوں۔ پی ٹی آئی اگلے دوہفتوں میں ٹکٹس فائنل کرے گی۔پی ٹی آئی کی جانب سے کاغذات نامزدگی جمع کرانے والوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ ’بہتر ہے الیکشن عمل سے وابستہ کسی ماہر وکیل کی خدمات حاصل کر کے کاغذات اچھی طرح چیک کروا کر جمع کروائے جائیں‘۔ترجمان پی ٹی آئی نے یاد دہانی کراتے ہوئے کہا کہ کاغذات حاصل کرنے، جمع کروانے یا ان کی جانچ پڑتال کے لئے خود آپ کو جانا ضروری نہیں ہے۔ آپ وکیلوں کی ٹیم کو اس عمل کے لیے استعمال کریں۔پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ ہر حلقے سے متعدد مضبوط کورنگ امیدوار بھی کاغذات نامزدگی جمع کروائیں۔ترجمان کے مطابق کاغذات نامزدگی حاصل اور جمع کرتے وقت یہ بتانا ضروری نہیں کہ آپ نے کس جماعت کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنا ہے۔
تحریک انصاف کے کارکنان کے نام اہم پیغام
بانی چئیرمین عمران خان کی ہدایت ہے کہ ذیادہ سے ذیادہ کارکنان الیکشن کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروائیں تاکہ پارٹی کے پاس آپشنز موجود ہوں
ٹکٹس اگلے دو ہفتوں میں فائنل ہوں گے
1: 20 تا 22 دسمبر کاغذات نامزدگی جمع کروانے کی تاریخ ہے- اس کے…
— PTI (@PTIofficial) December 21, 2023
ساتھ ہی ہدایت کی گئی ہے کہ اثاثہ جات اور بنک قرض، ٹریولنگ ریکارڈ، ٹیکس ریکارڈ وغیرہ انتہائی احتیاط سے چیک کر کے کاغذات جمع کروائیں تاکہ کوئی کمی نہ رہے۔مزید ہدایت کی گئی ہے کہ الیکشن کے طریقہ کار کے ماہرین اور حلقے کے اچھے اور ماہر وکلاء کو اپنی ٹیم کا لازمی جزو بنائیں۔ ترجمان پی ٹی آئی کے مطابق قومی اسمبلی کے انتخابات میں کوئی بھی ووٹر کسی بھی حلقے سے امیدوار ہو سکتا ہے. البتہ صوبائی اسمبلی کے حلقے میں حصہ لینے کیلئے درخواست دہندہ کا اسی صوبے کا ووٹر ہونا لازمی ہے- تجویز کنندہ اور تائید کنندہ سب سے اہم ہیںان کا درخواست دہندہ کے خواہش مند صوبائی / قومی اسمبلی کے متعلقہ حلقے کا ووٹر ہونا لازم ہے- اس سلسلے میں الیکشن کمیشن سے ان کا شناختی کارڈ دے کر متعلقہ ووٹر سرٹیفکیٹ حاصل کیا جا سکتا ہے جو انتہائی ضروری اور ناگزیر پیپر ہے. ہر حلقے سےمتعدد مضبوط کورنگ امیدواران بھی کاغذات نامزدگی جمع کروائیں- چونکہ ٹکٹ جمع کروانے کی تاریخ 11 جنوری ہے اس لیے کاغذات نامزدگی حاصل اور جمع کرتے وقت یہ بتانا ضروری نہیں ہےکہ آپ نے کس جماعت کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنا ہے- اثاثہ جات اور بنک قرض، ٹریولنگ ریکارڈ، ٹیکس ریکارڈ وغیرہ انتہائی احتیاط سے چیک کر کے کاغذات جمع کروائیں تاکہ کوئی کمی نہ رہے- ساتھ لگنے والے ہر پیپر اور فوٹو کاپی کو نوٹری پبلک سے اٹیسٹ کروا کر اچھی طرح چیک کرنے کے بعد جمع کروائیں. کسی ماہر وکیل سے مشورہ کر کے درخواست دہندہ اپنے اوپر ہونے والے نامعلوم کیسز یا ٹیکس نوٹسز وغیرہ کا پتہ کروانے کے لئے متعلقہ ہائیکورٹس میں رٹ کرسکتا ہے. وکیل کے مشورے سے اس رٹ کی کاپی اور بیان حلفی (اگر ضرورت ہو) اپنے کاغذات کے ساتھ لگانا ہوں گے.الیکشن کے طریقہ کار کے ماہرین اور اور حلقے کے اچھے اور ماہر وکلأ کو اپنی ٹیم کا لازمی جزو بنائیں-اپنی متعلقہ ضلعی / مقامی تنظیم سے مستقل رابطہ رکھیں. -

سائفر کیس میں اِن کیمرا ٹرائل کے خلاف بانیٔ پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت جاری
سائفر کیس میں اِن کیمرا ٹرائل کے خلاف بانیٔ پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت ہو رہی ہے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب درخواست پر سماعت کر رہے ہیں ا س دوران اسلام آباد ہائی کورٹ سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پراسکیوشن کی درخواست پر عدالت نے ٹرائل اِن کیمرا کرنے کا فیصلہ سنایا، عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ سائفر کیس کی کوریج پر بھی پابندی ہو گی، عدالت نے لکھا کہ کارروائی کی رپورٹنگ سے دوست ممالک کے ساتھ تعلقات پر اثر پڑ سکتا ہے، کہا گیا کہ بانیٔ پی ٹی آئی کے عمل سے سائفر کی سیکیورٹی کو متاثر کیا گیا، پراسیکیوشن کی طرف سے ایک الزام لگایا گیا، کوئی وضاحت نہیں کی گئی کہ سیکیورٹی کیا تھی؟ متعلقہ حکام بتاتے ہیں کہ سائفر کے کوڈ ہر کچھ ماہ بعد تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کیا عدالت نے اِن کیمرا پروسیڈنگ کی درخواست پر نوٹس جاری کیا تھا؟ ملزمان پر فردِ جرم کب عائد ہوئی؟ اس کیس میں ایک مسئلہ ہو رہا ہے، ٹرائل کوئی کر رہا ہے اور اپیلیں کوئی دوسرا وکیل دائر کر رہا ہے۔ سلمان اکرم راجہ نے بتایا کہ مسٹر پنجوتھا یہاں ہیں، یہ ٹرائل کر رہے ہیں، انہوں نے بتایا ہے کہ 14 دسمبر کو فردِ جرم عائد ہوئی، 13 دسمبر کو اِن کیمرا کی درخواست پر 14 دسمبر کے لیے نوٹس جاری ہوا تھا۔ اور اس حوالے سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ اِن کیمرا کارروائی کی درخواست پر ٹرائل کورٹ نے نوٹس جاری کیا تھا۔
سلمان اکرم راجہ نے عدالت کو بتایا کہ اہلِ خانہ کو پابند بنایا گیا ہے کہ عدالتی کارروائی سے متعلق بات نہیں کر سکتے۔ عدالت نے پوچھا کہ اگر فردِ جرم عائد ہو گئی ہے تو یہ بھی نہیں بتا سکتے کہ فردِ جرم عائد ہو گئی ہے؟وکیل نے جواب دیا کہ بالکل، انہیں پابند کیا گیا ہے کہ وہ عدالتی کارروائی نہیں بتا سکتے، میڈیا، سوشل میڈیا پر سائفر کیس کی کارروائی پبلش کرنے کی پابندی لگائی گئی ہے۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ راجہ صاحب! آپ کا کیس 1 گھنٹے بعد سنیں گے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو بھی بلا لیتے ہیں پھر تفصیل سے دیکھ لیتے ہیں۔سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ٹرائل کورٹ کا 14 دسمبر کا فیصلہ ہائی کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے کیس کی سماعت میں وقفہ کر دیا۔ عدالتِ عالیہ میں وقفے کے بعد سماعت شروع ہوئی تو بانیٔ پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ روسٹرم پر آ گئے۔اس موقع پر پٹیشنر کی بہنیں علیمہ خان اور عظمیٰ خان بھی کمرۂ عدالت میں موجود تھیں جبکہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل عدالت میں پیش ہوئے۔عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ اٹارنی جنرل صاحب ملک میں ہیں؟ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ اٹارنی جنرل ملک میں موجود ہیں۔ اس دوران سلمان اکرم راجہ نے دلائل دینا شروع کئے، -

ناروال سے دانیال عزیز اور احسن اقبال نے کاغذات نامزدگی حاصل کر لئے
عام انتخابات 2024ء کے سلسلے میں کاغذات نامزدگی کا سلسہ آج دوسرے روز بھی جاری ہے اس سلسلے میں نارووال میں این اے 75 شکر گڑھ سے مسلم لیگ ن کے رہنما دانیال عزیز اور این اے 76 نارووال سے احسن اقبال نے کاغذاتِ نامزدگی وصول کر لیے۔نارووال میں 2 قومی اور 5 صوبائی اسمبلی کی نشستوں کے لیے 170 کاغذاتِ نامزدگی وصول کر لیے گئے۔این اے 75 نارووال 1 شکر گڑھ سے 13 امیدواروں نے کاغذاتِ نامزدگی حاصل کیے۔این اے 76 نارووال 2 سے 16 امیدواروں نے کاغذاتِ نامزدگی حاصل کیے۔ پی پی 54 ظفر وال سے 22، پی پی 55 شکر گڑھ سے 50 اور پی پی 56 سے 17 کاغذاتِ نامزدگی حاصل کیے گئے۔ پی پی 57 سے 32 اور پی پی 58 سے 20 امیدواروں نے کاغذاتِ نامزدگی حاصل کیے۔پی پی 58 میں 1 امیدوار محمد اکمل نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرا دیے۔واضح رہے کہ انتخابات 2024ء کےلیے کل 22 دسمبر تک کاغذاتِ نامزدگی جمع کروائے جا سکتے ہیں، امیدواروں کی ابتدائی فہرست 23 دسمبر کو جاری ہو گی۔کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ پڑتال 24 سے 30 دسمبر تک ہو گی، 13 جنوری کو امیدواروں کو انتخابی نشانات الاٹ کیے جائیں گے۔عام انتخابات کے لیے پولنگ 8 فروری کو ہو گی
-

انسداد دہشتگردی عدالت نے 9 مئی کے واقعات میں پی ٹی آئی کے اہم کارکنان کی ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
انسداد دہشت گردی عدالت نے پی ٹی آئی کے 51 رہنماؤں کے نا قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔ 9 مئی کو گوجرانوالہ کینٹ پر حملے اور جلاؤ گھیراؤ کے مقدمےمیں مراد سیعد، حماد اظہر، فرخ حبیب کے جاری علی امین گنڈا پور، عمر ایوب، زبیر نیازی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے۔ پولیس نے ناقابل ضمانت وارنٹ کیلئے عدالت میں درخواست دائر کی تھی۔ درخواست میں کہا گیا کہ ملزمان مقدمے میں نامزد ہیں اور گرفتاری سے بچنے کے لیے روپوش ہیں۔ عدالت نے 9 مئی کو گوجرانوالہ کینٹ پر حملے اور جلاؤ گھیراؤ کے مقدمے میں پولیس کی استدعا پر وارنٹ جاری کیے ہیں۔ اے ٹی سی کی جانب سے زرتاج گل، میجر جنرل (ر)اکرم ساہی کے بھی وارنٹ جاری کیے۔ گوجرانوالہ سے امیدوار بلال اعجاز، چودھری ظفر اللہ اور رانا ساجد شوکت کے بھی وانٹ جاری کیے۔ سابق ایم این اے شوکت بھٹی، احمد چٹھہ اوع عثمان سعید بسرا کے بھی ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔ پولیس کی جانب سے عدالت سے کہا گیا کہ ملزمان مقدمے میں نامزد ہیں اور گرفتاری سے بچنے کے لیے روپوش ہیں۔عدالت نے مزید کارروائی کے لیے 23 دسمبر کو رپورٹ طلب کر لی۔
-

سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے گھر پر نامعلوم افراد کا حملہ
سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے گھر پر حملے کی ابتدائی رپورٹ تیارکر لی گئی
رپورٹ کے مطابق ثاقب نثار کے گھر پر حملہ 8 بج کر 40 منٹ پر ہوا،پولیس کو حملے سے متعلق اطلاع 9 بجے کی گئی، حملہ آوروں نے گھر کے اندر دیسی ساختہ ہینڈ گرنیڈ پھینکا، حملہ آور ثاقب نثار کے گھر موٹرسائیکل پر آئےتھے،گرنیڈ حملے میں دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے،گھر کے پورچ میں کھڑی ثاقب نثار کی ذاتی گاڑی کو بھی نقصان پہنچا، تحقیقاتی ٹیموں نے ابتدائی رپورٹ آئی جی پنجاب کو ارسال کردی،
سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ گھر کے اندر کسی نے کوئی چیز پھینکی ، دھماکے سے گھر میں گاڑی تباہ ہو گئی، ہم سب گھر والے خیریت سے ہیں ،باہر کھڑے گارڈ اور ملازمین معمولی زخمی ہوئے ، پولیس تفتیش کے بعد ہی کچھ کہا جا سکتا ہے ،تفتیش سے ہی پتہ چلے گا کہ کس نے یہ دھماکہ کیا اور مقصد کیا تھا
ایڈووکیٹ انجم حمید کا کہنا ہے کہ میں ابھی سابق چیف سے مل کر آئی ہوں،سب صدمے میں ہیں،اللہ کا شکر ہے سب محفوظ ہیں، تمام گھر کے افراد گھر میں تھے،جب دھماکہ ہوا،ان کی بہو اور پوتا ابھی گھر پر پہنچے تھے تو دھماکہ ہوا،یہ دستی بم کا دھماکہ تھا،تین افراد زخمی ہوئے،دو پولیس اہلکار اور ان کا ملازم زخمی ہوا، سابق چیف جسٹس کی گیراج میں کھڑی گاڑی کے بلکل قریب دھماکہ ہوا،پی ڈی ایم کی حکومت نے ان سے سیکورٹی واپس لے لی گئی، اس دھماکے میں ٹارگٹ سابق چیف جسٹس ہی تھے
بم ڈسپازل اسکواڈ نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی رہائشگاہ کو کلئیر قرار دےدیا،بم ڈسپازل اسکواڈ کی ٹیم معائنے کے بعد واپس روانہ ہوگئی،کرائم سین یونٹ اور فرانزک ماہرین کی ٹیمیں شواہد جمع کرنے میں مصروف ہیں،سی ٹی ڈی سمیت دیگر تفتیشی ٹیمیں کیمروں کی فوٹیجز حاصل کرنے میں مصروف ہیں،سربراہ سی ٹی ڈی وسیم سیال بھی ابتدائی معائنے کے بعد روانہ ہو گئے،
واضح رہے کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے گھر کے گیراج میں دھماکہ، دھماکے سے گھر کے کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور دو سیکیورٹی اہلکار زخمی ہو گئے،پولیس کے مطابق نامعلوم موٹر سائیکل سواروں کی جانب سے کریکر پھینکے گئے، جس کے نتیجے میں زوردار دھماکے ہوئے،پولیس نے شواہد اکھٹے کر کے تفتیش کا آغاز کر لیا ہے،لاہور پولیس جائے وقوعہ پر پہنچ گئی ،دھماکے کے وقت ثاقب نثار گھر پر موجود تھے،،دھماکہ گیراج مین ہوا ہے،ایمرجنسی کا تعین کرنے کی وجوہات جانی جا رہی ہیں. پولیس کا کہنا ہے کہ سابق چیف جسٹس کے اہل خانہ محفوظ ہیں، پولیس کانسٹیبل عامر اور کانسٹیبل خرم معمولی زخمی ہوئے،
آئی جی پنجاب نے واقعے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات کرنے کا حکم دے دیا۔انسپکٹر جنرل ( آئی جی) پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے کیپٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) لاہور سے رپورٹ طلب کرلی، آئی جی پنجاب نے دھماکے میں زخمی اہلکاروں کو علاج معالجے کی بہترین سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کر دی۔ ترجمان پولیس کا کہنا ہے کہ سی سی پی او لاہور، ڈی آئی جی آپریشنز لاہور، ایس ایس پی آپریشنز سمیت سینئر پولیس افسران موقع پر موجود ہیں۔واقعہ کے نتیجہ میں کوئی شدید زخمی نہیں ہے 2 لوگوں کو موقع پہ فرسٹ ایڈ دی گی ہے.
-

مسلم لیگ ن کی قیادت کہاں سے الیکشن لڑے گی؟
نواز شریف لاہور اور مانسہرہ سے الیکشن لڑیں گے۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے لاہور سے کاغذات نامزدگی حاصل کرلیے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف، شہباز شریف، مریم نواز، حمزہ شہباز کے کاغذات نامزدگی حاصل کرلیے گئے۔ذرائع کے مطابق ن لیگ کی قیادت اپنے پرانے حلقوں سے ہی الیکشن میں حصہ لے گی۔
مریم نواز این اے 119 کے ساتھ ساتھ اسی حلقے سے صوبائی اسمبلی کی سیٹ کےلیے الیکشن لڑیں گی۔ حمزہ شہباز این اے 118 سے الیکشن میں حصہ لیں گے۔نواز شریف لاہور کے این اے 130 اور مانسہرہ سے بھی الیکشن لڑیں گے جبکہ شہباز شریف لاہور کے این اے 123 اور اسکے ساتھ ساتھ صوبائی اسمبلی کی سیٹ پر بھی ایکشن لڑیں گے۔ذرائع نے بتایا کہ مریم نواز دو صوبائی حلقوں سے الیکشن میں حصہ لیں گی۔ذرائع کا کہنا تھا کہ ایاز صادق اور روحیل اصغر کی سیٹ کا فیصلہ نہیں ہوسکا۔
