Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • اردو، اقتدار کی زبان اور عوامی محرومی،تحریر:اخلاق حیدرآبادی

    اردو، اقتدار کی زبان اور عوامی محرومی،تحریر:اخلاق حیدرآبادی

    اخلاق حیدرآبادی ،اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اردو ،رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی فیصل آباد کیمپس ،رکن مرکزی مجلس عاملہ۔ پاکستان رائٹرز گلڈ (ادارہ مصنفین پاکستان)

    اردو اس خطے کی تہذیبی روح اور عوامی اظہار کی سب سے توانا علامت رہی ہے مگر اقتدار کے ایوانوں میں اس کی حیثیت بتدریج کمزور ہوتی چلی گئی ہے۔ ریاستی نظام میں رائج لسانی ترجیحات نے عام شہری اور اقتدار کے مراکز کے درمیان ایک گہری خلیج پیدا کر دی ہے۔ جب حکمرانی اور فیصلے عوام کی فہم سے باہر زبان میں کیے جائیں تو محرومی اور بیگانگی ناگزیر ہو جاتی ہے۔ یہ لسانی ناانصافی صرف زبان کا مسئلہ نہیں بل کہ سماجی مساوات اور شہری حقوق سے جڑا ہوا ایک سنگین معاملہ ہے۔ زیر نظر تجزیہ اسی المیے کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتا ہے تاکہ زبان اور اقتدار کے اس نابرابر رشتے کو سمجھا جا سکے۔

    آئینی حیثیت کے باوجود اردو کی نظراندازی: قومی زبان اور عملی تضاد
    (آئینِ پاکستان، عدالتی فیصلے اور سرکاری وعدے بمقابلہ عملی صورتِ حال)
    آئینِ پاکستان اردو کو قومی زبان کا درجہ دیتا ہے اور واضح طور پر یہ تقاضا کرتا ہے کہ ریاستی امور، سرکاری مراسلت اور عدالتی کارروائیاں اسی زبان میں انجام پائیں مگر عملی سطح پر یہ آئینی شق محض کاغذی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ سرکاری دفاتر میں فائلوں کی زبان، قوانین کے مسودے، احکامات اور نوٹیفکیشنز ایسی زبان میں مرتب کیے جاتے ہیں جو عام شہری کی فہم سے بالاتر ہے۔ اس صورتِ حال میں قومی زبان کا حق تسلیم کیے جانے کے باوجود اس سے مسلسل انحراف ایک واضح تضاد کو جنم دیتا ہے۔ عوام جنھوں نے ریاست کو وجود بخشا، وہی اپنے ہی ملک میں سرکاری زبان کے ذریعے اجنبی بنا دیے گئے ہیں۔ آئین کا مقصد یہ تھا کہ زبان کے ذریعے ریاست اور عوام کے درمیان قربت پیدا ہو مگر موجودہ طرزِ عمل نے اس رشتے کو کمزور کر دیا ہے۔ اردو کی نظراندازی صرف ایک لسانی مسئلہ نہیں بل کہ یہ شہری حقوق کی پامالی کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ جب قانون، فیصلہ اور ہدایت عوام کی زبان میں نہ ہوں تو وہ ان کے لیے بے معنی ہو جاتے ہیں۔ اس طرزِ عمل سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ آئینی وعدے محض رسمی ہیں اور ان پر عمل درآمد ریاست کی ترجیح نہیں۔ قومی زبان کو نظر انداز کرنا دراصل قومی شناخت سے روگردانی کے مترادف ہے۔ یہ رویہ اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ اگر آئین کی بنیادی شقوں پر ہی عمل نہ ہو تو عوام کا ریاستی نظام پر اعتماد کیسے برقرار رہ سکتا ہے۔ اردو کے ساتھ یہ سوتیلا سلوک معاشرتی ناہمواری کو بڑھاتا ہے اور شہریوں کو فیصلہ سازی کے عمل سے دور کر دیتا ہے۔ اس تضاد کا خاتمہ اسی وقت ممکن ہے جب آئین کو محض ایک دستاویز نہیں بل کہ عملی رہنما سمجھا جائے اور قومی زبان کو واقعی اس کا جائز مقام دیا جائے۔

    انگریزی بطور طاقت کی زبان: طبقاتی تفریق اور عوامی بیگانگی
    (زبان کا استعمال بطور اقتدار، اشرافیہ اور عام شہری کے درمیان فاصلہ)
    یہ موضوع محض لسانی بحث نہیں بل کہ طاقت، اختیار اور سماجی درجہ بندی کا گہرا مسئلہ ہے۔ انگریزی بطور طاقت کی زبان دراصل ایک ایسے نظام کی علامت بن چکی ہے جس میں علم، مواقع اور اختیار چند مخصوص طبقات تک محدود ہو جاتے ہیں جب کہ عوام کی اکثریت خود کو اس دائرے سے باہر محسوس کرتی ہے۔ یہ زبان رفتہ رفتہ علمی برتری، ذہانت اور قابلیت کا پیمانہ قرار دے دی گئی ہے جس کے نتیجے میں مقامی زبانوں سے وابستہ افراد کمتر، غیر متعلق اور پس ماندہ سمجھے جانے لگتے ہیں۔ تعلیمی اداروں، دفتری نظام اور ریاستی بیانیے میں اسی زبان کی بالادستی طبقاتی تفریق کو مزید گہرا کرتی ہے کیوں کہ جسے اس زبان پر عبور حاصل نہیں وہ فیصلہ سازی، اظہارِ رائے اور سماجی ترقی کے عمل سے عملاً خارج ہو جاتا ہے۔ اس صورتحال میں زبان محض رابطے کا ذریعہ نہیں رہتی بل کہ ایک ایسا ہتھیار بن جاتی ہے جو عوام کو ان کی اپنی ثقافت، فکری روایت اور اجتماعی شعور سے بیگانہ کر دیتا ہے۔ یوں معاشرہ دو واضح حصوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ ایک وہ جو زبان کے ذریعے طاقت سے جڑا ہے اور دوسرا وہ جو اسی زبان کے باعث خود کو اجنبی، خاموش اور بے اختیار محسوس کرتا ہے۔ اگر زبان کو علم اور شعور کی ترسیل کے بجائے سماجی امتیاز کا ذریعہ بنا دیا جائے تو یہ عمل نہ صرف عوامی بیگانگی کو جنم دیتا ہے بل کہ فکری انصاف اور ثقافتی توازن کو بھی شدید نقصان پہنچاتا ہے۔

    عدالتی زبان اور انصاف تک رسائی: فہم کی رکاوٹ یا انصاف کی نفی؟
    (انگریزی عدالتی اصطلاحات، عام سائل کی مجبوری اور انصاف میں تاخیر)
    عدالتی زبان اور انصاف تک رسائی کا مسئلہ دراصل عام شہری اور ریاستی نظام کے درمیان فاصلے کی علامت ہے، جہاں پیچیدہ، اجنبی اور غیر مانوس زبان فہم کی راہ میں ایک مضبوط دیوار بن کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ جب عدالتوں میں ایسی زبان رائج ہو جو عوام کی اکثریت کی روزمرہ بول چال اور فکری سطح سے ہم آہنگ نہ ہو تو انصاف محض ایک نظری تصور بن کر رہ جاتا ہے، کیونکہ جسے بات ہی سمجھ نہ آئے وہ اپنے حق کا مطالبہ کیسے کرے۔ عدالتی اصطلاحات، طویل جملے اور مبہم اسلوب عام فرد کو خوف، الجھن اور بے بسی میں مبتلا کر دیتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ وکیلوں، کاتبوں اور دلالوں پر غیر معمولی انحصار کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اس صورتحال میں انصاف کا عمل سادہ حق کے بجائے ایک مہنگی اور پیچیدہ رسم بن جاتا ہے جو صرف باخبر اور صاحبِ وسائل طبقے کے لیے قابلِ حصول رہتی ہے۔ یوں زبان انصاف کی وضاحت کا ذریعہ ہونے کے بجائے اس کی نفی کا سبب بننے لگتی ہے کیوں کہ فہم کے بغیر انصاف محض فیصلے کا اعلان ہے، شراکت اور اطمینان کا ذریعہ نہیں۔ اگر عدالتی زبان عوام کی ذہنی سطح اور لسانی روایت سے قریب نہ ہو تو یہ نظام خود اپنی اخلاقی بنیادوں کو کمزور کر دیتا ہے اور انصاف ایک زندہ حقیقت کے بجائے دور، سرد اور غیر متعلق تصور میں ڈھل جاتا ہے۔

    سرکاری دفاتر میں لسانی الجھن: فائل، فارم اور فرد کی بے بسی
    (درخواستیں، نوٹیفکیشنز، دفتری کارروائی اور عوامی مشکلات)
    سرکاری دفاتر میں لسانی الجھن عام شہری کی روزمرہ زندگی کو اذیت ناک تجربہ بنا دیتی ہے جہاں کاغذی کارروائی، درخواست نامے اور دفتری تحریریں ایک ایسی زبان میں ہوتی ہیں جو عوام کی فہم اور تجربے سے میل نہیں کھاتیں۔ جب ایک سادہ انسان کسی کام کے لیے دفتر کا رخ کرتا ہے تو وہ پہلے ہی خوف اور تذبذب کا شکار ہوتا ہے، مگر اجنبی اصطلاحات، پیچیدہ جملے اور غیر مانوس اسلوب اس کی بے بسی کو مزید گہرا کر دیتے ہیں۔ دفتری تحریر کا مقصد رہنمائی اور سہولت ہونا چاہیے لیکن جب زبان رکاوٹ بن جائے تو شہری اپنی ہی درخواست کا مفہوم سمجھنے سے قاصر رہتا ہے۔ اس صورتِ حال میں وہ اہلکاروں کی مرضی، ترجمانوں کے سہارے اور غیر ضروری سفارشات کا محتاج بن جاتا ہے، جس سے عزتِ نفس مجروح اور اعتماد کمزور ہوتا ہے۔ یوں زبان خدمت کا ذریعہ بننے کے بجائے اقتدار کی علامت بن جاتی ہے جہاں عام فرد خود کو نظام کے سامنے بے زبان اور بے اختیار محسوس کرتا ہے۔ اگر سرکاری دفاتر میں زبان عوام کے مزاج اور فہم کے مطابق نہ ہو تو یہ لسانی الجھن شہری اور ریاست کے درمیان فاصلے کو بڑھا دیتی ہے، اور انتظامی عمل سہولت کے بجائے مستقل اذیت کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔

    اردو رسم الخط کی بگڑتی صورت اور تعلیمی و ثقافتی بحران
    (غلط املا، رومن اردو، نصابی کمزوری اور تہذیبی شناخت کا زوال)
    اردو رسم الخط کی بگڑتی ہوئی صورت دراصل ہمارے تعلیمی اور ثقافتی بحران کی گہری علامت ہے جہاں سہولت اور جلد بازی کے نام پر زبان کی اصل ہیئت کو مسخ کیا جا رہا ہے۔ تعلیمی اداروں میں درست املا اور خوش خطی کی تربیت بتدریج نظر انداز ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں نئی نسل حروف کی ساخت، صوتی آہنگ اور لفظی تہذیب سے کٹتی چلی جا رہی ہے۔ ذرائع ابلاغ اور روزمرہ تحریر میں بے احتیاطی نے رسم الخط کو ایک غیر واضح اور منتشر شکل دے دی ہے جس سے نہ صرف فہم میں دشواری پیدا ہوتی ہے بل کہ تہذیبی تسلسل بھی ٹوٹنے لگتا ہے۔ رسم الخط محض لکھنے کا وسیلہ نہیں بل کہ صدیوں کی فکری روایت، شعری ذوق اور علمی وراثت کا امین ہوتا ہے اور جب اسی کو بگاڑ دیا جائے تو ادب، تاریخ اور ثقافت سبھی متاثر ہوتے ہیں۔ اس بگاڑ کے نتیجے میں طلبہ زبان سے رغبت کے بجائے اجنبیت محسوس کرتے ہیں اور یوں اردو آہستہ آہستہ تعلیمی دائرے سے سکڑ کر رسمی یا جذباتی اظہار تک محدود ہو جاتی ہے۔ اگر اس صورتِ حال کا سنجیدہ ادراک نہ کیا گیا تو اردو رسم الخط کے ساتھ جڑا ہوا پورا تہذیبی شعور کمزور پڑ. جائے گا اور ہم اپنی شناخت کے ایک بنیادی ستون سے محروم ہوتے چلے جائیں گے۔

  • اُردُو زبان کے فروغ میں عُلماء و مدارس کا کردار،تحریر : یوسف طاہر

    اُردُو زبان کے فروغ میں عُلماء و مدارس کا کردار،تحریر : یوسف طاہر

    ھماری قومی زبان اردو مختلف عالمی زبانوں جیسا کہ عربی، فارسی اور ترکی وغیرہ کا ایک شائستہ امتزاج ھے۔ اردو برصغیر کی تمام اقوام کے رابطے اور اظہار کی زبان ہے۔

    اس زبان کو ترتیب دینے کا سبب اگر مختلف اقوام کا میل جول بنا۔ اسکی ترقی میں مغلیہ درباروں، ادباء، شعراء اور تخلیق کاروں نے اپنا اپنا حصہ ڈالا تو اسکو پھیلانے میں سب سے مؤثر کردار علماء اور مدارس کا ہے۔ انکی بدولت ہی اردو زبان درباروں، ایوانوں اور کلیات سے نکل کر مجالس تک پہنچی، جہاں اسے تقویت ملی اور اسکے ارتقاء کا سفر جاری ہوا۔جو آج تک عمدگی سے جاری ہے۔
    اس وقت بدقسمتی سے ھمارے ملک میں تعلیمی زبان انگریزی بن چکی ہے جسکا اپنا مستقبل پائیدار نہیں۔ کیونکہ (جدید روابط کی زبان سے ایک نئی زبان گلوبش تشکیل پا رہی ہے) انگریزی زبان، ھر شخص کی نفسیات کو ٹھوس اور جامد طریقے سے منفی طور پر متأثر کر رہی ہے۔اس زبان کے سبب معاشرہ سماجی تفاوت کا شکار ہو رہا ہے۔
    اردو زبان کی ترویج میں انگریز نے سن 1803 میں فورٹ ویلیئم کالج کلکتہ کی بنیاد رکھی جہاں برطانوی افسران کو اردو زبان مخصوص اردو میں سکھائی جاتی مثلاً یہ ایک کتاب ہے۔ Yeh ek kitab hae. جیسا کہ اب ھم موبائیل پہ پیغام یا گفتگو کرتے ہیں۔
    چونکہ اس سے بہت پہلے اردو عوامی زبان کی حیثیت رکھتی تھی۔
    اردو زبان، مادری اور علاقائی زبانوں کے فروغ میں علماء اور مدارس کا کردار ھمیشہ مرکزی رہا ہے۔ نصاب، خطاب اور مکالمے کی زبان اردو ہی مقدم رہی۔ مدارس کا نصاب، تعلم اور دورے (کورسز)عربی، فارسی اور اردو زبان کا مرکب تھے بھی اور ھیں بھی جہاں سے فارغ التحصیل افراد نہ صرف طلباء بلکہ عوام کے درمیان رہ کر کتاب اور خطاب سے اردو اور علاقائی زبانوں میں مختلف علمی و سماجی موضوعات پر عوام کی رہنمائی کرتے ہیں۔ آج بھی ان علماء کی ابلاغ کی زبان نوے فیصد

    اردو جوکہ عربی اور فارسی کا پس منظر رکھتی ہے ھوتی ہے جس میں نو سے دس فیصد علاقائی بولی ھوتی ہے۔ پورے خطاب میں انگریزی کے چند الفاظ ماحول کی مناسبت سے محض بات سمجھانے کی خاطرھوسکتے ہیں۔
    علماء و مدارس کا اردو زبان کے ارتقاء میں تاریخی، سماجی اور دائمی کردار ھے۔ یہ کردار اور قابلِ قدر حصہ تہزیبی، مسالک اور نظریات کی تفریق سے بالاتر ھے۔قومی اور علاقائی زبانوں کا فروغ مزھب، ملک و قوم کی ایک عمدہ ترین خدمت ہے۔

  • تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس کے زیرِ اہتمام مقابلہ کے نتائج،تحریر:عمارہ کنول چودھری

    تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس کے زیرِ اہتمام مقابلہ کے نتائج،تحریر:عمارہ کنول چودھری

    مقابلۂ مضمون نویسی (سیرتُ النبی ﷺ) کے نتائج کا اعلان
    عمارہ کنول چودھری
    (بانی و سرپرست: تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس)
    تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والے مقابلۂ مضمون نویسی برائے سیرتُ النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نتائج کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ اس مقابلے میں ملک کے مختلف علاقوں سے اہلِ قلم نے شرکت کی اور سیرتِ طیبہ ﷺ کے مختلف پہلوؤں کو ادبی اور فکری انداز میں اجاگر کیا۔اس مقابلے کی نمایاں خصوصیت یہ رہی کہ مضمون نویسی میں مختلف ادبی و تعلیمی اداروں کی سربراہان اور معلمات نے بھی بھرپور شرکت کی۔

    نتائج کے مطابق درجہ اوّل محمد یوسف طاہر (بانی، عکسِ ادب، خوشاب) نے حاصل کیا، درجہ دوم بِسمعہ مجید (وہاڑی) کے حصے میں آیا، جبکہ درجہ سوم حمرہ اکرام (بونیر، خیبر پختونخوا) نے حاصل کیا۔

    مقابلۂ مضمون نویسی کے نتائج ایک غیر جانبدار اور معتبر شخصیت محترم فضل کریم ورک نے مرتب کیے۔
    تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس کی جانب سے تمام فاتحین اور منصف کو سیرتِ طیبہ ﷺ سے متعلق کتب اور اعزازی اسناد سے نوازا جائے گا۔اس مقابلے کا مقصد سیرتِ رسولِ اکرم ﷺ کی تعلیمات کو قومی زبان کے ذریعے عام کرنا اور نئی نسل میں فکری و ادبی شعور بیدار کرنا ہے۔ تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس آئندہ بھی اردو زبان، اسلامی اقدار اور تہذیبی شناخت کے فروغ کے لیے ایسی ادبی و فکری سرگرمیوں کا انعقاد جاری رکھے گی۔

    مقابلہ مضمون نویسی کے انعقاد سے لے کر نتائج تک مختلف ادبی شخصیات کا تعاون شاملِ حال رہا جن میں محترم مفیظ عباسی رکن شعبہ حضرات تحریک، محترمہ پارس کیانی صدر (مرکزی) شعبہ خواتین،محترم فضل کریم ورک( رکن انجمن ترویج زبان و ادب) اور اقصیٰ گل، عائشہ یسین شامل ہیں۔تحریک دفاع قومی زبان و لباس کی انتظامیہ ، مذکورہ ادبی شخصیات کے اخلاقی تعاون اور ادب دوست کردار پر ان کی کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔

  • اک ادبی محفل کا حال ،تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    اک ادبی محفل کا حال ،تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    آٹھ فروری کو پنجاب یونیورسٹی ایگزیکٹو کلب میں ایک ایک باوقار نشست منعقد کی گئی جس کا اہتمام یاسر پبلیکیشنز کی بانی اور اونر با صلاحیت فاطمہ شیروانی نے کیا یہ تقریب، ، فریم سے باہر ،، کی مصنفہ دعا عظیمی کو رائٹر گلڈ انعام ملنے کی خوشی میں اور یاسر پبلیکیشنز سے شائع ہونے والی معروف ادیب سلمان باسط صاحب کی کتب کی تقریب پذیرائی کے سلسلے میں تھی جو بہت مقبول ہوئیں، تقریب کی صدارت سلمہ اعوان صاحبہ نے کی مہمانان خصوصی میں سلمان باسط صاحب ، غلام حسین ساجد صاحب اور سعید اختر ملک صاحب تھے ان سب نے کتابوں پر بہت اچھی گفتگو کی خاص طور پر تقریب میں شامل سینر ادیب حسین مجروح صاحب نے بہت سیر حاصل تبصرہ کیا اور بہت موثر اور مدلل گفتگو کی انہوں نے سلمان باسط صاحب کی کتاب، ، خاکی خاکے،، دعا عظیمی کی کتاب ،، فریم سے باہر، ، اور سعید اختر ملک صاحب کی کتاب، ، سوچ دلاان ،، پر بہت عمدہ اور باریک بینی سے اظہار خیال کیا ،

    سلمان باسط صاحب نے اپنی کتاب ،، خاکی خاکے ،، سے ایک خاکہ پڑھ کر سنایا جس سے محفل زعفران زار بن گئی ، تقریب کے شرکاء کو بھی گفتگو کا موقع دیا گیا اور آخر میں سلمہ اعوان صاحبہ نے صدارتی خطبہ دیا یہ تقریب بہت شاندار رہی فاطمہ شیروانی نے بہت عمدہ ڈنر کا انتظام کیا تھا بہت لذیذ کھانا تھا آخر میں کیک بھی کاٹا گیا اور شرکاء کو کتب کا تحفہ بھی دیا گیا، موسم بہت خوشگوار تھا یونیورسٹی ایگزیکٹو کلب کا جگمگاتا خوبصورت ہال ، خوبصورت پینٹنگز اور فرنیچر سے مزین کوریڈور ، اور پھر لش گرین لان رات کی خنکی اور فسوں سے بہت اچھا لگ رہا تھا شرکاء میں حسین مجروح
    اشفاق احمد ورک
    غلام حسین ساجد
    سلمان باسط
    محمود ظفر ہاشمی
    قرة العین شعیب
    روزینہ زرش بٹ
    مریم چویدری
    ڈاکٹر عظمی
    ثروت جہاں
    زرقا فاطمہ
    عطرت بتول
    دعا عظیمی
    سلمی اعوان
    فاطمہ شیروانی اور
    رقیہ اکبر چوہدری شامل تھیں

    دعا عظیمی اور فاطمہ شیروانی کو مبارکباد، اللہ تعالٰی لکھنے والوں کے قلم کو ہمیشہ رواں رکھے ، فاطمہ شیروانی ہمارے ملک کی مایہ ناز پبلشر کو دن دگنی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے آمین
    lahore

  • ثقافتی ٹھیکیدار اور اعتبار ساجد کی جلی ہوئی شام.تحریر:رقیہ غزل

    ثقافتی ٹھیکیدار اور اعتبار ساجد کی جلی ہوئی شام.تحریر:رقیہ غزل

    اردو ادب کی تاریخ گواہ ہے کہ سچا فنکار ہمیشہ مصلحتوں سے ماورا رہا ہے، لیکن بدقسمتی سے ہمارا نظامِ ہائے ادب مصلحتوں، گروہ بندیوں اور مخصوص لابیوں کے گرد گھوم رہا ہے۔ آج میں اس شاعر کا ذکر کر رہی ہوں جس کی آواز نے دہائیوں تک اردو زبان کو زندگی دی، جس کے مصرعوں نے لاکھوں ٹوٹے ہوئے دلوں کو سہارا دیا، اور جس کی ایک غزل ’’مجھے کوئی شام ادھار دو‘‘ عالمی سطح پر اردو کی شناخت بن گئی۔ اعتبار ساجد وہ نام ہے جو عوامی مقبولیت کے ہمالیہ پر تو براجمان رہا، مگر ہمارے سرکاری ایوانوں اور خود ساختہ’’ثقافتی ٹھیکیداروں‘‘ کی نظر میں ہمیشہ اجنبی ہی رہا۔ اعتبار ساجد کی زندگی کا آخری باب کسی المیے سے کم نہیں ہے۔ وہ شخص جس نے اپنی شاعری کے ذریعے ایک دنیا کو خواب دکھائے، اپنی زندگی کے آخری ایام میں اپنے ہی نام کی ایک ’’شام‘‘ کا منتظر رہا۔ یہ تماشہ بھی دیکھیے کہ جس شاعر کے مجموعہ کلام نے شہرت کے تمام ریکارڈ توڑ دیے، اسے اپنے اعترافِ فن کے لیے ایک چھوٹی سی نجی ادبی تنظیم کا سہارا لینا پڑا۔ طے پایا کہ ان کے اعزاز میں ایک شام منائی جائے گی، مگر قسمت کی ستم ظریفی کہ وہ شام چار بار منسوخ ہوئی۔ کبھی انتظامی مسائل آڑے آئے تو کبھی کچھ اور، اور جب آخری بار تاریخ طے ہوئی تو اپنی صحت نے جواب دے دیا۔ وہ ’’ادھار کی شام‘‘ جس کا خواب انہوں نے اپنی جوانی میں دیکھا تھا، ان کے بڑھاپے کی حسرت بن کر ان کے ساتھ ہی قبر میں اتر گئی۔ اعتبار ساجد کوئی شام اپنے محبوب سے نہیں بلکہ اس معاشرے سے مانگ رہے تھے کہ میرے فن کی قدر کرو، مگر انھین جیتے جی وہ مقام نہ دیاگیا جس کے وہ حقدار تھے۔

    یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ الحمرا آرٹس کونسل، اکادمی ادبیات اور مقتدرہ قومی زبان جیسے ادارے کس لیے بنے تھے؟ کیا ان کا کام صرف ان مخصوص پانچ دس لوگوں کی خدمت کرنا ہے جو ہر حکومت میں ’’سیٹ‘‘ ہو جاتے ہیں؟ یہ وہ ثقافتی ٹھیکیدار ہیں جن کا اپنا کوئی ادبی قد کاٹھ نہیں،لیکن یہ سرکاری فنڈز پر اس طرح قابض ہیں جیسے یہ ان کے آباؤ اجداد کی جاگیر ہو۔ یہ ٹھیکیدار طے کرتے ہیں کہ بجٹ کہاں خرچ ہوگا، کسے ایوارڈ ملے گا اور کس کا نام دیوار سے لگایا جائے گا۔ اعتبار ساجد جیسے خود دار شعراء ان ٹھیکیداروں کی چوکھٹ پر سجدہ ریز نہیں ہوتے، اسی لیے انہیں وہ مقام نہیں دیا جاتا جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں۔ سرکاری خزانے سے جو لاکھوں روپے ادیبوں کی فلاح و بہبود کے نام پر نکلتے ہیں، وہ ان مخصوص لابیوں کے ظہرانوں، بیرونِ ملک دوروں اور خود نمائی کی تقاریب کی نذر ہو جاتے ہیں۔ اعتبار ساجد کی وفات کے محض چار دن بعد جو کچھ الحمرا میں ہوا، وہ ہمارے معاشرے کی اخلاقی پستی کا اشتہار ہے۔ ابھی شاعر کی میت کی خوشبو بھی فضا سے رخصت نہیں ہوئی تھی، ابھی ان کے مداح سوگوار تھے، مگر الحمرا کے ان ٹھیکیداروں نے دس بارہ افراد کے اسی مخصوص ٹولے کے ساتھ ’’جشنِ لاہور‘‘ سجا لیا۔ یہ کس قسم کا جشن تھا؟ کیا یہ جشن اس بات کا تھا کہ ایک حق گو شاعر خاموش ہو گیایا یہ جشن اس بجٹ کا تھا جو اب اعتبار ساجد کی ’’شام‘‘ کے بجائے ان کی اپنی تشہیر پر خرچ ہونا تھا؟ یہ وہ بے حسی ہے جس نے اردو ادب کو بنجر کر دیا ہے۔آج صرف اعتبار ساجد ہی نہیں، بلکہ ظفر اقبال، باقی احمد پوری ، حسن عسکری،اعجاز کنور راجہ ،اقبال راہی ،کرامت بخاری اورلطیف ساحل جیسے بہت سے حقیقی اور قد آور شعراء بھی اسی نظام کی بے حسی کا شکار ہیں۔ یہ سب کسی تعارف کے محتاج نہیں، اردو ادب کے وہ استاد شاعر ہیں جنہوں نے دہائیوں تک اردو ادب کی وہ حقیقی اور بے لوث خدمت کی ہے جس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ ان کا فن اپنی جگہ ایک مکمل دبستان ہے، جہاں انہوں نے نہ صرف اردو سخن کو نئے آہنگ سے روشناس کرایا بلکہ نئے لکھنے والوں کی فکری آبیاری بھی کی۔ مگر المیہ دیکھیے کہ جنہوں نے اپنی پوری زندگی قلم کی حرمت پر قربان کر دی، سرکاری ایوانوں کی توجہ کے منتظر ہیں۔ کیا ریاست کا یہ فرض نہیں تھا کہ وہ ان جینوئن تخلیق کاروں کے اعزاز میں سرکاری محفلیں سجاتی؟ یہ قد آور علمی و تنقیدی شخصیات، جن کا کام عالمی معیار کا ہے وہ ان سرکاری گلیاروں میں نظر نہیں آتے کیوں گوشہ نشینی میں اپنی زندگی کے دن پورے کر رہے ہیں؟

    یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اردو ادب کی جڑوں کو اپنے خون سے سینچا ہے، لیکن یہ آج بھی اپنے نام کی’’سرکاری شاموں‘‘ کے منتظر ہیں، جبکہ اسٹیجوں پر اکثریتی وہ لوگ براجمان ہیں جن کا فن سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب اور وفاقی وزیرِ ثقافت کو اس ادبی مافیا اور ان ثقافتی ٹھیکیداروں کا سخت نوٹس لینا چاہیے۔ الحمرا ہو یا اکادمی ادبیات، ان کے دفاتر میں فائلیں تو بہت ہلتی ہیں مگر ان فائلوں میں جینوئن ادیب کا نام جان بوجھ کر کہیں گم کر دیا جاتا ہے۔ یہ پیسہ ان ادیبوں کا ہے جو سفید پوشی اور مفلسی میں بھی قلم کی لاج رکھتے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ان اداروں کا مکمل آڈٹ کیا جائے اور دیکھا جائے کہ پچھلے کئی سالوں سے وہی مخصوص چہرے ہی کیوں ہر سرکاری تقریب میں نظر آتے ہیں اور کیوں جینوئن شعراء کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ایک خود مختار اور غیر جانبدار کمیٹی بنائے جو ان مستحق اور قد آور شعراء کی فہرست مرتب کرے جنہیں ان کی زندگی میں سرکاری سرپرستی اور اعتراف کی ضرورت ہے۔ ہم کب تک اپنے ان بیش قیمت اثاثوں کو گمنامی اور حسرتوں کی نذر کرتے رہیں گے؟

    اعتبار ساجد کی ادھوری شام دراصل اس نظام کی منافقت کا نوحہ ہے۔ اعتبار ساجد مرحوم تو اپنی ’’ادھوری شام‘‘ کا قرض اس مٹی پر چھوڑ گئے، مگر پیچھے رہ جانے والے اساتذہ آج بھی ہماری بے حسی کا منہ چڑا رہے ہیں۔ یہ جو ثقافتی ٹھیکیدار آج کل چہرے پر جھوٹی ہمدردی سجائے پھر رہے ہیں، یہ دراصل اس نظام کے گدھ ہیں جو کسی فنکار کے مرنے کا انتظار کرتے ہیں تاکہ اس کے نام پر بجٹ بٹور سکیں۔ اعتبار ساجد کی وفات محض ایک انسان کا انتقال نہیں، بلکہ ایک عہد کا نوحہ اور ہمارے مردہ ضمیر کا اشتہار ہے۔ اگر آج بھی ہم نے ان ادبی لٹیروں کے ہاتھ نہ روکے تو یاد رکھیے کہ آنے والا وقت ہمیں معاف نہیں کرے گا۔ اعتبار ساجد کی جلی ہوئی شام ہمارے ماتھے پر وہ کلنک کا ٹیکہ ہے جسے تاریخ کبھی نہیں دھو سکے گی۔ وہ شام جو ادھار مانگی گئی تھی، وہ ہم پر قرض ہے، اور یہ قرض تب ہی اترے گا جب ہم اپنے جیتے جاگتے فنکاروں کو وہ عزت دیں گے جو ان کا حق ہے، نہ کہ ان کی لاشوں پر جشن منائیں گے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ان سرکاری ایوانوں میں بیٹھے شعبدہ بازوں کا حساب کیا جائے، ورنہ اردو ادب کی یہ شام ہمیشہ کے لیے اندھیروں کی نذر ہو جائے گی۔

  • خالی ہاتھوں کی دعا،تحریر: آمنہ خواجہ

    خالی ہاتھوں کی دعا،تحریر: آمنہ خواجہ

    وہ دونوں ہاتھ پھیلائے کھڑا تھا
    ایک ہاتھ میں لرزتی ہوئی دعا
    اور دوسرے میں عمر بھر کی تھکن۔
    سفید داڑھی میں الجھی ہوئی سسکیاں جھریوں میں قید برسوں کے دکھ اور آنکھوں پر رکھا ہوا ہاتھ جیسے دنیا کی روشنی سے نہیں، اپنی قسمت کی سختی سے آنکھیں چرا رہا ہو۔
    یہ وہ ہاتھ تھے جنہوں نے کبھی کسی کے سامنے نہیں پھیلے تھے مگر آج رب کے حضور خالی تھے۔
    اس نے پوری زندگی محنت کی۔
    دھوپ میں جلتا رہا سردیوں میں ٹھٹھرتا رہا۔
    اولاد کے خوابوں کو اپنے خوابوں پر ترجیح دی۔
    ماں باپ کے لیے سہارا بنا بچوں کے لیے سایہ۔
    مگر جب وہ خود سہارا مانگنے کے قابل ہوا، تو سب مصروف نکلے۔
    آج اس کے پاس نہ شکوہ تھا، نہ شکایت۔
    بس ایک سوال تھا جو آنسوؤں میں ڈوبا ہوا تھا:
    “یا اللہ میں نے کسی کا حق نہیں مارا، پھر یہ تنہائی کیوں؟”
    ہوا نے اس کی کانپتی انگلیوں کو چھوا۔
    لب ہلے، آواز نہ نکلی۔
    صرف آنکھوں سے وہ آنسو گرے جو لفظوں سے زیادہ سچے تھے۔
    شاید یہ دعا کسی اخبار کے صفحے پر خبر نہ بنے
    مگر عرش تک ضرور پہنچی ہو گی۔
    کیونکہ جب انسان سب دروازے کھٹکھٹا کر تھک جائے،
    تب جو آخری دستک ہوتی ہے
    وہ سیدھی خدا کے دل پر پڑتی ہے۔
    اور خدا
    خالی ہاتھوں کو کبھی خالی نہیں لوٹاتا

  • انجمن ترویجِ زبان و ادب کا پہلا یوم تاسیس،تحریر:یاسمین اختر طوبیٰ

    انجمن ترویجِ زبان و ادب کا پہلا یوم تاسیس،تحریر:یاسمین اختر طوبیٰ

    ادب کی تاریخ میں بعض لمحات محض تاریخ کے اوراق تک محدود نہیں رہتے بلکہ روایت، شناخت اور فکری تسلسل کی علامت بن جاتے ہیں۔ انجمن ترویجِ زبان و ادب کے قیام کو مکمل ہونے والا پہلا برس بھی ایسا ہی ایک یادگار اور بامعنی لمحہ تھا، جسے انجمن کے اراکین نے محبت، وقار اور اعلیٰ ادبی شعور کے ساتھ منایا۔ اولین یومِ تاسیس کی یہ تقریب دراصل لفظ، احساس اور رفاقت کا جشن تھی، جہاں قلم نے دلوں سے مکالمہ کیا اور ادب نے روحوں کو یکجا کر دیا۔

    تقریب کا آغاز شکرگزاری، دعا اور اس پختہ عزم کے ساتھ ہوا کہ انجمن ترویجِ زبان و ادب اردو زبان و ادب کے فروغ کا وہ چراغ ہے جو اخلاص، محنت اور فکری دیانت سے روشن کیا گیا ہے۔ اسی روحانی فضا میں محمد اویس کی دلوں کو ایمان کی روشنی سے منور کرتی حمد و نعت پیش کی گئی، جس نے انجمن کو روحانی و نورانی حرارت سے سرور بخشا۔ ان کی مترنم آواز، خلوصِ عقیدت اور اثرانگیز انداز نے حاضرین کے دلوں کو ذکرِ الٰہی سے گرمایا اور محفل کو روحانی سکون سے ہمکنار کیا۔

    اس موقع پر انجمن کی بانی و سرپرست پارس کیانی کو پُرخلوص خراجِ تحسین پیش کیا گیا، جن کے فکری وژن، گہرے ادبی شعور اور سنجیدہ رہنمائی نے اس خواب کو عملی صورت عطا کی۔ ان کا قلم اور ان کی قیادت انجمن کی فکری بنیاد اور سمت کا تعین کرتے ہیں۔منتظم اعلیٰ سلیم خان اور بانی و سرپرست پارس کیانی نے تقریب میں موقع کی مناسبت سے روح کی غذایت کا اہتمام خوبصورت گیتوں کے انتخاب کی صورت میں کیا اور ثابت کیا کہ ایسے برمحل انتخاب محفل کو توازن، لطافت اور داخلی سکون عطا کرتے ہیں۔

    منتظمِ اعلیٰ سلیم خان کی خدمات کو بھی خصوصی طور پر سراہا گیا، جن کی بے لوث قیادت، ادب نوازی، انسان دوستی اور مسلسل عملی تعاون نے انجمن کو استحکام بخشا۔ وہ محض نظم و نسق کے نگران نہیں بلکہ محبتوں کے سفیر اور ادب کے سچے خادم ہیں۔ انہوں نے بھی روح کو سرشار کرنے والے گیتوں کے انتخاب سے انجمن کی خوبصورتی میں اضافہ کیا۔

    تقریب میں سابق منتظمِ ثانی احمد منیب کا تذکرہ نہایت عقیدت اور احترام سے کیا گیا، جو اپنی نجی مصروفیات کے باعث اس وقت انجمن سے رخصت پر ہیں۔ ان کی خوش اخلاقی، علمی ذوق اور ادبی وابستگی کو انجمن کی تاریخ کا قیمتی حوالہ قرار دیا گیا۔انتظامی ٹیم میں منتظمہ عمارہ کنول چوہدری، منتظم خان عبداللہ ایلیاء اور منتظمہ یاسمین اختر طوبیٰ کی منظم، مخلص اور فعال خدمات کو انجمن کے تسلسل اور استحکام کی ضمانت قرار دیا گیا۔ ان کی انتھک محنت نے انجمن کو ایک مربوط، شائستہ اور باوقار ادبی پلیٹ فارم بنایا۔فعال اراکینِ انجمن کی خدمات تقریب کا روشن اور قابلِ فخر باب رہیں۔ ڈاکٹر ارشاد خان کو قادرالکلام شاعر و نثر نگار کی حیثیت سے فکری گہرائی اور ادبی وقار کی علامت قرار دیا گیا۔ خواجہ ثقلین سمیط کی بذلہ سنجی، شعری مہارت اور لفظوں کے برمحل استعمال نے محفل کو تازگی اور توانائی بخشی۔ رانا طارق بلال کے روزانہ سلامتی اور خیرسگالی پر مبنی پیغامات کو روحانی خوشبو سے تعبیر کیا گیا۔ عبدالرحمان واصف کے کلام میں سچائی اور اثر پذیری کو نمایاں طور پر سراہا گیا، جبکہ سید عارف لکھنوی کی حمد، نعت اور منقبت کو عقیدت اور فن کا حسین امتزاج قرار دیا گیا۔

    ڈاکٹر شگفتہ کی غزل گوئی کو نسائی حساسیت اور شعری لطافت کی نمائندہ کہا گیا۔ پروفیسر محمد صدیق بزمی کی علمی بصیرت، ادبی وقار اور وقیع انتخاب کو انجمن کا قیمتی علمی سرمایہ قرار دیا گیا۔ ثاقب قریشی، چٹکلوں کے بادشاہ، نے اپنی بذلہ سنجی سے محفل میں مسکراہٹیں بکھیر دیں۔ ملک عدیل عاصم کی ادبی خدمات، محمد ساجد کی سنجیدہ اور معیاری ادبی ترسیلات، محمد عتیق الرحمن کی علمی جستجو اور فضل کریم کے قرآن و سنت پر مبنی اصلاحی و فکری پیغامات کو بھی بھرپور انداز میں سراہا گیا۔

    تقریب کا ایک نہایت قابلِ تحسین اور حوصلہ افزا پہلو انجمن کی جانب سے بہترین کارکردگی کے حامل اراکین کو اسنادِ اعزاز جاری کرنے کی روایت کا آغاز تھا۔ اس اقدام کو اراکین کی حوصلہ افزائی، ادبی خدمات کے اعتراف اور مثبت مسابقت کے فروغ کی عمدہ مثال قرار دیا گیا۔اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ انجمن ترویجِ زبان و ادب آئندہ بھی شائستگی، برداشت، اخلاص اور فکری دیانت کے ساتھ اردو زبان و ادب کی خدمت کرتی رہے گی۔ دعا کی گئی کہ یہ ادبی قافلہ یوں ہی علم، محبت اور خیر بانٹتا رہے اور آنے والے برس اس کی تاریخ میں مزید روشن اور یادگار ابواب کا اضافہ کریں۔آمین ثم آمین یا رب العالمین

  • لا تقولوا راعنا،عمران تنہا کا نعتیہ و منقبتیہ شاعری مجموعہ،تحریر: آمنہ خواجہ

    لا تقولوا راعنا،عمران تنہا کا نعتیہ و منقبتیہ شاعری مجموعہ،تحریر: آمنہ خواجہ

    عصرِ حاضر میں جب شاعری کی دنیا میں موضوعات کی فراوانی کے باوجود روحانی ادب نسبتاً کم ہوتا جا رہا ہے، ایسے میں عمران تنہا کا نعتیہ و منقبتیہ شاعری مجموعہ ایک خوشگوار اور بامعنی اضافہ ثابت ہوتا ہے۔ یہ مجموعہ محض اشعار کا مجموعہ نہیں بلکہ دل کی زمین پر اگنے والی وہ فصل ہے جو عشقِ رسول ﷺ اور اولیائے کرام و اہلِ بیت اطہار کی عقیدت سے سیراب ہے۔
    عمران تنہا کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی اس کی سچائی اور سادگی ہے۔ ان کے ہاں نہ تصنع ہے، نہ لفظی نمائش، بلکہ ایک دردمند دل کی دھڑکن ہے جو ہر شعر میں سنائی دیتی ہے۔ نعتیہ کلام میں جہاں احترام ادب اور محبت بنیادی شرط ہوتے ہیں، وہاں عمران تنہا اس نازک دائرے کو بڑی مہارت سے نبھاتے نظر آتے ہیں۔ ان کے اشعار میں حضور نبی کریم ﷺ سے والہانہ وابستگی بھی ہے اور عاجزی و انکسار بھی، جو قاری کے دل کو بے اختیار جھکا دیتی ہے۔

    منقبتیہ شاعری میں عمران تنہا نے اہلِ بیت صحابہ کرام اور اولیائے اللہ کی سیرت و کردار کو محض تاریخی حوالوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ انہیں موجودہ دور کے انسان سے جوڑ دیا ہے۔ ان کی منقبتیں ہمیں یہ احساس دلاتی ہیں کہ یہ عظیم ہستیاں صرف ماضی کا روشن باب نہیں بلکہ آج بھی ہمارے فکری اخلاقی اور روحانی رہنما ہیں۔ شاعر کا کمال یہ ہے کہ وہ عقیدت کو جذباتی شور میں بدلنے کے بجائے فہم و شعور کی روشنی میں پیش کرتا ہے۔
    فنی اعتبار سے دیکھا جائے تو عمران تنہا کی شاعری بحر، وزن اور ردیف و قافیہ کے حسن سے آراستہ ہے۔ ان کی زبان شستہ رواں اور عام فہم ہے، جس کی بدولت یہ کلام خواص کے ساتھ ساتھ عوام کے دلوں تک بھی آسانی سے پہنچتا ہے۔ تشبیہات اور استعارات میں بھی ایک پاکیزگی اور وقار نظر آتا ہے جو نعتیہ و منقبتیہ شاعری کے مزاج کے عین مطابق ہے۔

    اس مجموعے کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ یہ قاری کو صرف پڑھنے پر مجبور نہیں کرتا بلکہ سوچنے، رکنے اور خود احتسابی پر آمادہ کرتا ہے۔ ہر نعت اور ہر منقبت ایک خاموش سوال کی طرح سامنے آتی ہے کہ ہم اپنے قول و فعل میں کس حد تک ان ہستیوں کی تعلیمات کو اپنائے ہوئے ہیں جن سے ہم محبت کا دعویٰ کرتے ہیں۔
    اخباری سطح پر اس مجموعے کی اہمیت اس لیے بھی دوچند ہو جاتی ہے کہ یہ ادب اور عقیدت کے اس حسین امتزاج کی نمائندگی کرتا ہے جس کی ہمارے معاشرے کو آج شدید ضرورت ہے۔ عمران تنہا کا یہ نعتیہ و منقبتیہ مجموعہ نئی نسل کو روحانی شاعری سے جوڑنے کی ایک سنجیدہ اور قابلِ قدر کوشش ہے۔

    بلا شبہ عمران تنہا نے اس مجموعے کے ذریعے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگر نیت میں خلوص اور دل میں سچی محبت ہو تو لفظ خود بخود معتبر ہو جاتے ہیں۔ یہ مجموعہ نعت و منقبت کے شائقین کے لیے ایک قیمتی تحفہ ہے اور اردو روحانی شاعری کے سفر میں ایک روشن سنگِ میل کی حیثیت رکھتاہے

  • ایک پھول دو مالی___رقیب سے حبیب تک ،تحریر: ریاض احمد احسان

    ایک پھول دو مالی___رقیب سے حبیب تک ،تحریر: ریاض احمد احسان

    محبت کے لغت نامے میں ایک لفظ "رقیب” ہے جو صدیوں سے غلط فہمی کی گرد میں اٹا پڑا ہے ہم نے اسے دشمن سمجھ لیا، مخالف مان لیا اور بدخواہ قرار دے دیا حالانکہ محبت کے باب میں رقیب دشمن،مخالف یا بدخواہ نہیں ہوتا بلکہ وہ تو محبت کے کمرے میں رکھا وہ آئینہ ہے جس میں حبیب کا چہرہ اور زیادہ واضح ہو جاتا ہے۔رقیب وہ نہیں جو بیچ میں آ کر محبت چھین لے،قبضہ جما لے یا کانٹے کی طرح آنکھ میں کھٹکنے لگے-آپ پہلے محبت کے لفظ کو سمجھیں پھر معانی و مفہوم میں اتریں تو آپ پرکُھلے گا کہ محبت کسی ایک دل کی جاگیر نہیں یہ تو وہ روشنی ہے جو ایک سے زیادہ آنکھوں میں بیک وقت اُتر سکتی ہے،ایک سے زیادہ دلوں کا قرار بن سکتی ہے.

    ہم نے محبت کو ملکیت بنا دیا ہے اسی لیے رقیب ہمیں چبھتا بھی ہے اور ڈنک بھی مارتا رہتا ہے ہم سمجھتے ہیں کہ جسے ہم نے چاہ لیا اب اس پر صرف ہمارا حق ہے حالانکہ محبت حق سے زیادہ ذمہ داری ہے، دعویٰ ہی نہیں دعا بھی ہے اگر محبت کو احساس، احترام اور خیرخواہی کا نام دے دیا جائے تو رقیب کا تصور خود بخود تحلیل ہو جاتا ہے۔محبت میں رقیب کا ہونا دراصل محبت کے دلچسب ہونے کی علامت ہے جہاں چاہت نہ ہو وہاں مقابلہ کیسا؟ جہاں دل نہ دھڑکے وہاں حسد کیسا؟ رقیب دراصل اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ جسے ہم چاہتے ہیں وہ واقعی چاہے جانے کے لائق ہے،سراہے جانے کے قابل ہے محبت میں فلسفہ ہمیں یہی تو سکھاتا ہے کہ قدر ہمیشہ اشتراک سے جنم لیتی ہے جو چیز صرف ایک آنکھ کو بھائے وہ ذاتی پسند ہو سکتی ہے لیکن جو کئی دلوں کو اپنی طرف کھینچے وہ قدر بن جاتی ہے بالکل ایسے ہی جیسے ایک خوب صورت نظم اگر صرف ایک ہی شخص کو سمجھ آئے تو وہ ذاتی تجربہ یا ذاتی واردات ہے لیکن وہی نظم اگر کئی دلوں میں اتر جائے تو وہ ادب بن جاتی ہے۔حبیب اگر بیک وقت کئی دلوں میں جگہ بنا لے تو یہ اس کی غلطی نہیں بلکہ حسن ہے اور رقیب؟ وہ تو اسی حسن کا قاری ہے، اسی نظم کا دوسرا سامع ہے،قدردان ہے.

    رقیب ہونا دراصل ہم خیالی کا دوسرا نام ہے دو دل اگر ایک ہی دل سے قرار پائیں تو اس میں دشمنی کہاں سے آ گئی؟ یہ تو ہم ذوق ہونا ہے،ہم آہنگی ہے یہ تو احساس کی یکسانیت ہے۔ رقیب وہ شخص ہے جو آپ ہی کی طرح کسی چہرے میں زندگی تلاش کر رہا ہے فرق صرف اتنا ہے کہ آپ اسے حبیب کہتے ہیں اور وہ بھی—بس راستے جدا ہیں، نیت نہیں،محبت کی سب سے حسین صفت برداشت ہے وہ محبت جو فوراً غیرت کی تلوار اٹھا لے وہ محبت تو نہیں ہوسکتی محبت کے باب میں سچا عاشق وہ ہے جو یہ جانتا ہو کہ اگر اس کا محبوب واقعی قیمتی ہے تو اس کی قدر صرف اسے ہی کیوں محسوس ہو؟

    محبت میں حبیب وہ نہیں ہوتا جو مل جائے،میسر آجائے یا دسترس میں ہی رہے بلکہ حبیب وہ ہوتا ہے جو دل کا حال بہتر بنا دے جو آپ کو ظرف سکھا دے، برداشت سکھا دے،ایثار کرنے کا جذبہ آپکے اندر پیدا کردے اور یہ شعور دے کہ چاہنا قربانی کا نام ہے قبضے کا نہیں کئی بار زندگی میں ایسا ہوتا ہے کہ محبوب کسی اور کے حصے میں چلا جاتا ہے لیکن اس کے جانے کے بعد جو ٹھہراؤ، جو دانائی، جو وسعت آپ کے قلب و نگاہ میں آتی ہے وہی تو اصل ثمر ہوتا ہے یوں کوئی ایک انسان نہیں بلکہ ایک تجربہ حبیب بن جاتا ہے،ہم نے کہانیوں میں،واقعات میں اور ادب میں ہمیشہ رقیب کو ولن بنا کر پیش کیا دراصل رقیب محبت کا کمرہ امتحان ہوتا ہےرقیب کے احسانات میں ایک احسان یہ بھی ہے کہ رقیب ہمیں یہ غور و فکر کرنے کی دعوت بھی دیتا ہے کہ ہماری چاہت انا پر کھڑی ہے یا خلوص پر اگر انا ہو تو حسد جنم لیتا ہے اگر خلوص ہو تو وجود دعا میں ڈھل جاتا ہے بھلا جو شخص آپ کے محبوب کی خوشی چاہے، وہ آپکا دشمن کیسے ہو سکتا ہے،اسورج ایک ہے لیکن اس کی روشنی ہزاروں کھڑکیوں سے اندر آتی ہے کیا ایک کھڑکی دوسری کی دشمن ہے؟ نہیں، سب روشنی کے استقبال میں برابر رہا سرشار ہوتی ہیں محبوب اگر سورج ہے تو چاہنے والی کھڑکیاں ہیں۔ رقیب کوئی اور نہیں بس ایک اور کھڑکی ہے روشنی اس کی بھی وہی ہے اور آپ کی بھی.

    محبت کا اعلیٰ ترین درجہ یہ ہے کہ آپ حبیب کو آزاد چھوڑ دیں۔اس کی مسکراہٹ پر پہرا نہ بٹھائیں،اس کے انتخاب کو قید نہ کریں۔محبت اگر سمندر ہے تو رقیب ایک دریا ہے جو اسی میں آن ملتا ہے سمندر چھوٹا نہیں ہوتا،آپ دریا گناہ گار نہ ٹھہرائیں
    جس لمحے آپ یہ سوچنے لگیں کہ
    “اگر وہ میرا نہ ہوا تو کسی اور کا بھی نہ ہو”
    اسی لمحے محبت کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ آپ بس اتنا سمجھ لیں کہ محبت زندگی بانٹتی ہے، موت نہیں اگر آپ واقعی کسی کو چاہتے ہیں تو یہ بھی قبول کریں کہ شاید اس کی خوشی کسی اور راستے پر لکھی ہو یہی محبت میں ایثار ہے
    رقیب کو دشمن سمجھنے والے دراصل محبت کو کم سمجھتے ہیں۔محبت اتنی ناتواں نہیں کہ ایک تیسرے کی آمد سے بکھر جائے اگر بکھر جائے تو مان لیجیے وہ محبت نہیں تھی وہ تو فقط عادتوں کی ورزش تھی یا خود پسندی کی ایک مصنوعی شکل و صورت محبت تو وہ ہے جو رقیب کے وجود میں بھی اپنی شرافت برقرار رکھے،اپنی زبان میں تلخی نہ آنے دے اور اپنے رویّے میں وقار قائم رکھے

    یہ سب لفظوں کی قلعی نہیں نہ کسی منطق کا کرتب ہے یہ میری زندگی کی کمائی ہے، میرے زخموں کی روشنائی ہے، میرے ٹوٹنے سے جنم لینے والی دانائی ہے میں نے رقیب کو کتابوں میں نہیں اپنے دل کے آئینے میں پڑھا ہے۔میں نے اپنے نصیب کے رقیب کو پہچانا اور تسلیم کیا،اُس کے روبرو میری انا ہمیشہ خاموش رہی اور خیر خواہی بولتی چلی گئی.

    دوستو!میرا رقیب میرا حبیب ہے،میرا طبیب ہے، میرا معلّم ہے، میرا مُصلِح ہے، میرا مربّی ہے، میرا ہم ذوق ہے، میرا مرشد ہے، میرا مونس ہے، میرا محرم ہے، میرا معتبر ہے، میرا منصف ہے، میرا مفسّر ہے، میرا محافظِ وقار ہے، میرا مظہرِ برداشت ہے، میری میزانِ محبت ہے،میرا رقیب میرے مقام و مرتبے کو گھٹاتا نہیں، بڑھاتا ہے وہ میری محبت کو کمزور نہیں کامل بناتا ہے .میرا رقیب کل بھی میرا حبیب تھا،آج بھی میرا حبیب ہے اور آئندہ بھی میرا حبیب ہی رہے گا کہ ہم دونوں ایک ہی پھول کے دو مالی ہیں

    ہماری باہمی محبت کا یہ عالم ہے کہ ہم دونوں ایک دوسرے کے حق میں ہزاروں بار دستبردار ہو سکتے ہیں
    وہ شہرِ خموشاں میں جا بسا اور میں اُس کی نشانیوں کو گلے سے لگائے محبت کے مزار سے کیا عہد نبھا رہا ہوں

  • سچ کی جیت باغی ٹی وی کے 14 سال اور حرفِ حق کا اعزاز،تحریر  :  قمرشہزاد مغل

    سچ کی جیت باغی ٹی وی کے 14 سال اور حرفِ حق کا اعزاز،تحریر : قمرشہزاد مغل

    تندیِ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
    یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے

    صحافت کے لبادے میں چھپی مصلحتوں، ایوانوں کی غلامی اور ضمیر فروش سوداگروں کے اس دور میں جہاں حق بولنا خودکشی تصور کیا جاتا ہے، وہاں کچھ نام ایسے بھی ہیں جنہوں نے مقتل میں بھی سچ بولنے کی قسم کھا رکھی ہے۔ اگر ان ناموں کی فہرست بنائی جائے تو سب سے پہلا اور معتبر نام مبشر لقمان صاحب کا آتا ہے۔ وہ شخص جس نے صحافت کو ڈرائنگ رومز کی عیاشی سے نکال کر سچائی کے اس کٹھن میدان میں لا کھڑا کیا جہاں ہر قدم پر خطرات کی بارودی سرنگیں بچھی ہیں۔ باغی ٹی وی محض ایک میڈیا پلیٹ فارم نہیں، بلکہ ایک سوچ ہے، ایک ایسی سوچ جو وقت کے فرعونوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سوال کرنا جانتی ہے۔ آج جب اس ادارے نے اپنے سفر کے 14 سال مکمل کیے ہیں صحافت کی دنیا میں سچ اور جرات مندی کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ جب کوئی فرد یا ادارہ ان اصولوں پر قائم رہتا ہے تو وہ معاشرے میں ایک خاص مقام حاصل کر لیتا ہے۔ مبشر لقمان صاحب اور ان کا ادارہ باغی ٹی وی بھی اسی راستے پر گامزن ہیں۔ حقائق کو بے باکی سے پیش کرنا اور ہر حال میں سچائی کا ساتھ دینا ان کی پہچان بن چکا ہے۔ اس کٹھن سفر میں ممتاز اعوان صاحب کا کردار بھی کسی ستون سے کم نہیں۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ انھوں نے کس طرح دن رات ایک کر کے اس ادارے کی آبیاری کی ہے۔ ان کی محنت، لگن اور مخلصانہ جدوجہد نے باغی ٹی وی کو وہ وقار بخشا ہے کہ آج یہ ادارہ حق گوئی کا استعارہ بن چکا ہے۔ یہ معروف تجزیہ نگار شہزاد قریشی اور ممتاز اعوان ہی کی بصیرت ہے جہنوں نے مجھے اس باغی کارواں کا حصہ بنایا اور سچائی کی اس جنگ میں اپنا حصہ ڈالنے کا حوصلہ دیا۔ میرے لیے یہ لمحہ کسی بڑے اعزاز سے کم نہیں کہ باغی ٹی وی اور مبشر لقمان صاحب کی جانب سے میری صحافتی خدمات کے اعتراف میں مجھے تعریفی سند سے نوازا گیا ہے۔ میرے نزدیک یہ کاغذ کا محض ایک ٹکڑا نہیں، بلکہ ایک اعلانِ جنگ ہے ان باطل قوتوں کے خلاف جو صحافت کو دبانے کی کوشش کرتی ہیں۔
    بقول شاعر!
    میں نے مانا کہ اندھیرا ہے بہت چاروں طرف
    پر دیا ایک جلانا تو مرا کام ہے نا

    جب مبشر لقمان جیسے نڈر انسان اور باغی ٹی وی جیسے معتبر ادارے کی مہر آپ کے کام پر لگ جائے، تو ذمہ داری کا بوجھ مزید بڑھ جاتا ہے۔ یہ سند اس بات کی گواہی ہے کہ ہم اس ٹیم کا حصہ ہیں جو بکنے کے لیے نہیں، بلکہ حقائق کو ننگا کرنے کے لیے میدان میں اتری ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ سچ بولنا خطرناک ہے، میں کہتا ہوں کہ سچ بولنے کی قیمت چکانا اگر جرم ہے، تو ہم یہ جرم بار بار کریں گے۔ باغی ٹی وی کی 14 سالہ تاریخ گواہ ہے کہ ہم نے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا اور نہ ہی مستقبل میں کریں گے۔ مبارکباد کے مستحق ہیں مبشر لقمان، ممتاز اعوان اور وہ پوری ٹیم جو باغی کہلانے میں فخر محسوس کرتی ہے۔ ہمیں فخر ہے کہ ہم اس ادارے کے سپاہی ہیں جہاں قلم کی نوک پر سچ ناچتا ہے اور جہاں ضمیر کی آواز پر پہرے نہیں بٹھائے جاتے۔ حق اور سچ کا یہ سفر جاری رہے گا، کیونکہ باغی ابھی زندہ ہے اور اس کی للکار ایوانوں میں گونجتی رہے گی
    شعر
    جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے
    یہ جان تو آنی جانی ہے، اس جاں کی تو کوئی بات نہیں