Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • میرا تعارف،الماس فاطمہ

    میرا تعارف،الماس فاطمہ

    باغی ٹی وی خصوصی انٹرویو: "ادب، تدریس، گھریلو ذمہ داریاں اور جدید ٹیکنالوجی
    کراچی کی مایہ ناز مصنفہ سیدہ الماس فاطمہ سے گفتگو

    تعارف:
    کراچی سے تعلق رکھنے والی سیدہ الماس فاطمہ ایک باصلاحیت لکھاری اور شاعرہ ہیں، جنہوں نے بہت کم عمری میں اپنے قلم کا لوہا منوایا ہے۔ انہوں نے ایک طرف نعتِ رسولِ مقبول ﷺ لکھ کر کائنات کی سب سے بڑی روحانی سعادت سمیٹی، بین الاقوامی سطح پر معتبر ادبی ایوارڈز اپنے نام کیے، اسکولوں میں نئی نسل کی علمی آبیاری کی، اور اب اردو ادب میں "روبوٹ گرل” جیسے جدید سائنسی فکشن (Sci-Fi) متعارف کروا رہی ہیں۔ باغی رائٹرز فورم کے لیے ان سے کی گئی گفتگو پیشِ خدمت ہے:

    سوال 1: آپ کے ادبی سفر کا آغاز کیسے ہوا؟ اور اس سفر کا پہلا اہم سنگِ میل کیا تھا؟
    جواب: لکھنے کا شوق مجھے بچپن ہی سے تھا۔ الفاظ سے محبت اور اردگرد کے ماحول کو کہانی کی شکل دینا میری عادت بن گیا تھا۔ میرے ادبی سفر کا پہلا باقاعدہ اور رسمی سنگِ میل تب طے ہوا جب مجھے "طالبِ نظر رائٹرز فورم” کی جانب سے زندگی کا پہلا ادبی ایوارڈ ملا۔ اس ایوارڈ نے میرے حوصلے کو وہ جلا بخشی کہ میں نے پھر کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔

    سوال 2: ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ اسکول میں تدریس (Teaching) کے شعبے سے وابستہ رہی ہیں۔ اس تدریسی تجربے اور آپ کے گھریلو سفر نے آپ کی لکھاری کی حیثیت سے کیسی تربیت کی؟
    جواب: جی بالکل! انٹرمیڈیٹ کے فوراً بعد میری شادی طے ہو گئی تھی، لیکن اس سے پہلے مجھے اسکول میں بچوں کو پڑھانے کا موقع ملا۔ اسکول میں تدریس کے تجربے نے مجھے بچوں کی نفسیات، ان کی معصومیت اور ان کے مسائل کو بہت قریب سے سمجھنے کا موقع دیا، جس کی بدولت مجھے بچوں کے لیے ادب اور کہانیاں لکھنے میں بہت مدد ملی۔ اگرچہ زندگی کے فیصلے اور گھریلو ذمہ داریاں اپنی جگہ رہیں، لیکن میں نے اپنے لکھنے کے شوق کو کبھی کم ہونے نہیں دیا، بلکہ اپنے مشاہدات کو ہمیشہ قلم کے ذریعے کاغذ پر اتارا ہے۔

    سوال 3: آپ کی تحاریر میں ایک طرف "خاتم النبیین ﷺ” جیسی مقدس کتاب میں شمولیت ہے، تو دوسری طرف سائنسی فکشن۔ ان دونوں بالکل مختلف اصناف میں توازن کیسے پیدا کرتی ہیں؟
    جواب: حضورِ اکرم ﷺ کی مدحت و ثناء پر مبنی عالمی انتھالوجی کتاب "خاتم النبیین محمد ﷺ” میں میری تحاریر کا شامل ہونا میرے لیے دنیا و آخرت کا سب سے بڑا اثاثہ اور مایہ ناز سعادت ہے۔ یہ میرا روحانی پہلو ہے۔ دوسری طرف، سائنسی فکشن میرا ذہنی اور فکری ارتقاء ہے۔ اسلام ہمیں علم، تدریس اور جدید تحقیق کی دعوت دیتا ہے، اس لیے میں سمجھتی ہوں کہ کائنات پر غور کرنا اور سائنسی موضوعات پر لکھنا بھی ایک لکھاری کا فرض ہے، اور میں ان دونوں میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش کرتی ہیں۔

    سوال 4: اردو ادب میں سائنسی فکشن اور خصوصاً "روبوٹ گرل” جیسے موضوعات پر لکھنے کا خیال کیسے آیا؟
    جواب: ہم اکیسویں صدی میں جی رہے ہیں جہاں آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) اور روبوٹکس ہماری زندگیوں کا حصہ بن چکے ہیں۔ ایک معلمہ (Teacher) ہونے کے ناطے میں جانتی ہوں کہ نئی نسل کو جدید ٹیکنالوجی کی طرف راغب کرنا کتنا ضروری ہے۔ چنانچہ، میری روبوٹ پر مبنی منفرد کہانی کراچی کے معتبر "زیست میگزین” میں شائع ہوئی، جسے بہت سراہا گیا۔ اب میرا ادبی سفر "روبوٹ گرل” اور جدید ٹیکنالوجی جیسے اچھوتے اور جدید موضوعات کے گرد گھوم رہا ہے۔

    سوال 5: آپ کو بھارت سے "زیب النساء زیبؔی لٹریری ایوارڈ 2024” سے نوازا گیا، اس بین الاقوامی اعزاز پر کیسا محسوس ہوا؟
    جواب: جب آل انڈیا ادبِ اطفال سوسائٹی (انڈیا) کی جانب سے مجھے "زیب النساء زیبؔی لٹریری ایوارڈ 2024” دینے کا اعلان ہوا، تو یہ صرف میری نہیں بلکہ پورے پاکستان کی عزت تھی۔ یہ ایوارڈ مجھے شاعری، نثر، افسانہ نگاری اور بچوں کے ادب میں مجموعی خدمات پر دیا گیا، جس میں یقیناً میرے اسکول ٹیچنگ کے مشاہدات کا بھی بڑا ہاتھ رہا۔ اس کے علاوہ، پریس فار پیس فاؤنڈیشن کے بین الاقوامی افسانوی مقابلے (2023) میں "سرٹیفکیٹ آف ایکسی لینس” ملنا اور ان کی کتاب "زمین اداس ہے” میں بطور انٹرنیشنل کو-آتھر شامل ہونا بھی میرے لیے انتہائی حوصلہ افزا رہا۔

    سوال 6: آپ کو پاکستان بھر کے سرفہرست 100 لکھاریوں میں بھی شامل کیا گیا، اس بارے میں کچھ بتائیں۔
    جواب: جی بالکل، لاہور کے مشہور اور معتبر ماہنامہ "پھول” میگزین کے چیف ایڈیٹر نے مجھے ملک بھر کے سرفہرست 100 لکھاریوں میں منتخب کیا، جس کے بعد مجھے نیشنل اہلٔ قلم کانفرنس میں شرکت کا موقع ملا۔ یہ میرے لیے قومی سطح پر بہت بڑا اعزاز تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ معروف ادیب کاوش صدیقی صاحب کے ادبی سلسلے "31 تبصرے” میں بہترین کارکردگی پر نقد رقم کا انعام ملنا بھی میرے سفر کا ایک خوبصورت حصہ ہے۔

    سوال 7: آپ کی آنے والی کتب اور مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں قارئین کو کچھ بتائیں۔
    جواب: اب تک میری تحاریر معتبر علمی سلسلے مقیاس الادب کی کتب "دینِ اسلام” اور "الصحابیات الجلیلات” کا حصہ بن چکی ہیں۔ اس کے علاوہ، میرے لیے انتہائی فخر کی بات ہے کہ میری ادبی تخلیقات معتبر انتھالوجی کتب "اردو زبان کی جنگ” اور ختمِ نبوت پر مبنی موضوعاتی کتاب "خاتم النبیین محمد ﷺ” میں شامل کی گئی ہیں، اور "اردو زبان کی جنگ” کتاب پر مجھے خصوصی شیلڈ سے بھی نوازا گیا ہے، جو کہ میرے ادبی سفر کا ایک یادگار سنگِ میل ہے۔ خوشخبری یہ ہے کہ میری شاعری اور دیگر تحاریر معروف اسکالر ڈاکٹر خضر حیات کی زیرِ نگرانی مرتب ہونے والے مجموعے اور ایک اور جامع اردو انتھالوجی کے لیے منتخب ہو چکی ہیں، جو کہ بہت جلد شائع ہو کر منظرِ عام پر آنے والی ہیں۔ مستقبل میں میرا ارادہ سائنسی فکشن پر ایک مکمل کتاب لانے کا ہے۔

    سوال 8: باغی رائٹرز فورم کے ذریعے آپ ابھرتے ہوئے نئے لکھاریوں، خصوصاً گھریلو خواتین کو کیا پیغام دینا چاہیں گی؟
    جواب: میں سب سے یہی کہوں گی کہ کبھی بھی حالات یا ذمہ داریوں کی وجہ سے اپنے خوابوں کو ادھورا نہ چھوڑیں۔ اگر آپ کے پاس لکھنے کی صلاحیت ہے، تو اپنی گھریلو زندگی کے ساتھ بھی اسے جاری رکھیں۔ قلم کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ڈھالیں، مطالعہ وسیع کریں، تنقید سے نہ گھبرائیں اور اپنے سینئرز کی عزت کریں۔ میں خود بھی اس بین الاقوامی ادبی حلقے میں اپنے تمام اساتذہ اور سینئرز سے سیکھنے کے لیے ہمیشہ پرجوش رہتی ہیں۔

    نیک تمناؤں کے ساتھ،
    سیدہ الماس فاطمہ

  • میرا تعارف ،شمسہ رانی

    میرا تعارف ،شمسہ رانی

    ہر انسان کے اندر ایک ایسی دنیا آباد ہوتی ہے ۔جسے دیکھنے کے لیے انکھ نہیں احساس چاہیے۔ کچھ لوگ اس دنیا کو خاموشی سے جیتے ہیں ۔کچھ اسے یادوں میں محفوظ کر لیتے ہیں،اور کچھ کے ہاتھ میں قلم آ جائے تو یہی اندرونی دنیا لفظوں کا لباس پہن لیتی ہے ۔میری کہانی بھی شاید اسی لمحے سے شروع ہوئی جب میں نے باہر کی دنیا سے زیادہ اپنے اندر کی آواز کو سننا شروع کیا۔

    بچپن میں جب میرے ہم عمر کھیل کے میدانوں میں اپنی خوشیاں تلاش کرتے تھے ۔میری دلچسپی کتابوں کے صفحات پہ چھپی ہوئی دنیا سے تھی ۔کتابیں پڑھنا، لائبریری جانا ،مختلف موضوعات کو کھوجنا، اور لفظوں کے ساتھ وقت گزارنا میرے لیے محض مشغلہ نہیں تھا ۔شاید وہ میرے آنے والے سفر کی پہلی آہٹ تھی۔پھر زندگی نے مجھے بہت کم عمری میں وہ سبق پڑھائے جنہیں سمجھتے میں بعض اوقات انسان کو پوری عمر لگ جاتی ہے۔ والد کا انتقال میرے بچپن کی بے فکری کو اپنے ساتھ لے گیا۔حالات نے مجھے وقت سے پہلے زندگی کی سنجیدگی سے اشنا کیا ذمہ داریوں کا احساس بڑھتا گیا اور میں نے محسوس کیا کہ زندگی صرف خوشیوں، خوابوں اور خواہشوں کا نام نہیں ،اس کے دامن میں جدائی ،محرومی، بے شمار جنگیں بھی پوشیدہ ہیں شاید انہی تجربات نے میرے اندر کے لفظوں کو جگایا۔

    جو کچھ دل میں جمع ہوتا گیا وہ تحریر بنتا گیا۔ میں نے کاغذ کو اپنا ہمراز بنایا اور قلم کو اپنی آواز ۔ا بتدا میں یہ صرف شوق تھا ۔پھر عادت بنا ،اور رفتہ رفتہ میری شناخت کا حصہ بن گیا میں نے مختلف اخبارات میں لکھنا شروع کیا۔ کالم نگاری کے ذریعے معاشرے کے ان پہلو وں کو موضوع بنایا جو اکثر ہماری نظروں کے سامنے ہوتے ہوئے بھی ہماری توجہ سے او جھل رہتے ہیں۔

    وقت کے ساتھ لفظوں سے میرا رشتہ وسیع ہوتا گیا کالم کے بعد کہانی نے مجھے اپنی طرف بلایا ،افسانے اور کہانیاں مختلف رسائل تک پہنچی ۔پھر ناول نگاری کی دنیا میں قدم رکھا ۔کھلی آنکھوں کا خواب اور محبت یوں بھی ہوتی ہے میرے قلم سے نکلنے والے دو ناول ہیں جو اس وقت اشاعت کے مراحل میں ہیں۔
    اور پھر شاعری نے میرے اندر وہ دروازہ کھولا ۔جہاں الفاظ دلیل سے زیادہ احساس بن جاتے ہیں۔

    شعر میرے لیے محض قافیہ اور ردیف کا نام نہیں ،یہ دل کی اس کیفیت کا اظہار ہے ۔جسے نثر کبھی مکمل طور پر بیان نہیں کر پاتی۔ محبت ہو، جدائی ہو ،رشتوں کی خوشبو، معاشرے کے زخم ہوں، وطن کی مٹی ہو یا وقت کی بے رحم گردش۔ ہر احساس نے کبھی نہ کبھی میرے قلم سے اپنا راستہ مانگا ہے۔

    اس سفر کی ایک اہم منزل میری شعری کتاب (سائے جو ٹھہر گئے ) ہے، جو جلد منظر عام پر آنے والی ہے۔اس کتاب میں میرے لفظوں کے ساتھ میری زندگی کے کئی عکس بھی چلتے ہیں۔ کچھ سائے ان رشتوں کے ہیں جنہوں نے مجھے محبت کا مفہوم سمجھایا ۔کچھ ان لمحوں کے جو گزر کر بھی دل میں ٹھہر گئے ۔کچھ ان سوالوں کے جو معاشرے سے ہیں ،اور کچھ ان دعاؤں کے جو انسان اپنے رب کے حضور خاموشی سے رکھ دیتا ہے۔میں نے زندگی کے ہر رنگ کو اپنے انداز میں محسوس کیا ہے۔ شاید اسی لیے میرے لیے لکھنا محض تخلیق نہیں، ایک داخلی سفر ہے۔ اپنے اپ تک پہنچنے کا سفر اور ان احساسات کو اواز دینے کا سفر ،جنہیں اکثر لوگ دل میں دفن کر دیتے ہیں۔

    آج جب میں اپنے سفر کے صفحات پلٹتی ہوں تو بچپن کی وہ کتابیں، لائبریری کی خاموش فضا، والد کی جدائی ، وقت سے پہلے آے والی ذمہ داریاں، اخبارات کے صفحات ،کہانیوں کے کردار ،اور شاعری کے مصرعے سب ایک ہی داستان کے مختلف باب دکھائی دیتے ہیں
    تب احساس ہوتا ہے کہ میری زندگی میں لفظ محض لکھے نہیں گئے وہ جیے گئے ہیں۔
    آج یہی لفظ میری پہچان بن چکے ہیں ۔میں قومی سطح کے مختلف اخبارات میں بطور کالم نگار اپنے قلم کی ذمہ داری نبھا رہی ہوں ۔ اور معاشرے کے ان موضوعات پر لکھ رہی ہوں جو محض خبر نہیں۔ احساس اور فکر کا تقاضا کر تے ہیں ۔معاشرتی رویے، رشتوں کی نزاکت، خواتین کے مسائل ،بچوں کا تحفظ، بدلتا ہوا معاشرہ،اور وقت کے اہم سوالات یہ سب میرے قلم کے اہم موضوعات رہے ہیں۔میری کوشش ہمیشہ یہی رہی ہے کہ تحریر صرف پڑھی نہ جائے بلکہ قاری کو ایک لمحے کے لیے ٹھہرنے ،سوچنے اور اپنے ارد گرد کی دنیا کو نئے زاویے سے دیکھنے پر مجبور کرے۔ میرے لیے قلم اعزاز سے بڑھ کر ایک امانت ہے اور اس امانت کو دیانت، احساس اور سچائی کے ساتھ نبھانا ہی میرے ادبی سفر کی اصل روح ہے۔
    میں شاعرہ، مصنفہ اور کالم نگار شمسہ رانی ہوں
    میں نے زندگی کے سائے دیکھے انہیں محسوس کیا اور پھر انہیں لفظوں میں ڈھال دیا ہے۔
    سائےجو ٹھہر گئے شاید انہی ٹھہرے ہوئے لمحوں کی اواز ہے۔
    اور ممکن ہے اس کتاب کے کسی صفحے پر اپ کو اپنا کوئی گزرا ہوا لمحہ بھی مل جائے۔

  • جاویدؔ ڈینی ایل کا شعرو ادب اور صحافتی کینوس،تحریر: سرفراز تبسمؔ

    جاویدؔ ڈینی ایل کا شعرو ادب اور صحافتی کینوس،تحریر: سرفراز تبسمؔ

    جاویدؔ ڈینی ایل شاعر، ادیب، کالم نگار، صحافی، مدیر اور ناشر کی حیثیت سے گزشتہ پچیس برس سے اُردو ادب کے فروغ، ترویج اور اشاعت کے لیے سرگرمِ عمل ہیں۔ ان کی ادبی و صحافتی شخصیت تخلیق، صحافت، ادارت اور اشاعتی خدمات کے مختلف رنگوں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ ان کے نزدیک ادب محض اظہارِ ذات یا لفظوں کی آرائش نہیں بلکہ انسانی احساس، فکری بیداری، اخلاقی شعور اور معاشرتی اصلاح کا ایک مؤثر وسیلہ ہے۔ یہی تصور ان کی تحریروں، شاعری اور ادبی سرگرمیوں میں نمایاں طور پر دکھائی دیتا ہے۔

    جاویدؔ ڈینی ایل ماہنامہ ’’نیا تادیب‘‘ لاہور/ملتان کے بانی اور مدیرِ اعلیٰ ہیں، جو سن دو ہزار ایک سے باقاعدگی کے ساتھ شائع ہو رہا ہے۔ گزشتہ پچیس برس کے اس طویل ادبی سفر میں اُنہوں نے ’’نیا تادیب‘‘ کے ذریعے ادب، صحافت، فکر اور اصلاحی ادب کے فروغ کے ساتھ ساتھ نئے لکھنے والوں اور اہلِ قلم کو اظہار کا ایک مستقل اور معتبر پلیٹ فارم فراہم کیا۔ تادیب پبلی کیشنز، تادیب میڈیا اور ڈیجیٹل ویب پورٹل تادیب ڈاٹ آرگ سے اُن کی وابستگی نے ان کی ادبی، صحافتی اور اشاعتی خدمات کو مزید وسعت دی ہے۔

    جاویدؔ ڈینی ایل کے نزدیک علم و ادب کا سفر محض ذاتی شناخت کا سفر نہیں بلکہ اجتماعی شعور کی تعمیر کا عمل بھی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں کتاب، علم اور فکر سے وابستگی بھی ایک نمایاں موضوع کے طور پر سامنے آتی ہے۔ وہ کہتے ہیں؛
    کتابوں کی خوشبو سہانی رہے
    نئی فکر میں بھی روانی رہے
    اور مقطع میں علم و ہنر کے اسی سفر کو یوں دوام عطا کرتے ہیں؛
    جہاں بھی ہو جاویدؔ علم و ہنر
    نہ کوئی لگن رائیگانی رہے
    یہ اشعار ان کی ادبی اور اشاعتی جدوجہد سے بھی ایک معنوی رشتہ رکھتے ہیں۔ ان کی مسلسل کوشش رہی ہے کہ ادب کو معاشرے کے فکری اور اخلاقی شعور کی تشکیل میں اپنا مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے اور نئی نسل کو کتاب، قلم اور فکر کے ساتھ جوڑا جائے۔

    شاعری کے میدان میں جاویدؔ ڈینی ایل کا اولین شعری مجموعہ ’’پانیوں پر پرواز‘‘ سن دو ہزار سات میں شائع ہوا، جس نے ان کی شعری شناخت کو نمایاں کیا۔ ان کا دوسرا شعری مجموعہ ’’شگفتہ گفتگو تیری‘‘ سن دو ہزار چھبیس میں منظرِ عام پر آ رہا ہے۔ ان کی شاعری میں انسانی جذبات، زندگی کے تجربات، محبت، اُمید، روحانی احساس، سماجی شعور اور وطن سے وابستگی کی مختلف کیفیات شعری پیکر اختیار کرتی ہیں۔ کلاسیکی شعری روایت سے ان کا رشتہ گہرا ہے اور عروض، قافیہ و ردیف اور زبان و بیان کی نزاکتوں کا خاص اہتمام ان کے شعری مزاج کا نمایاں وصف ہے۔

    جاویدؔ ڈینی ایل کی شاعری میں وطن سے محبت محض جذباتی اظہار نہیں بلکہ قومی ذمہ داری اور اجتماعی شعور کی صورت اختیار کرتی ہے۔ وہ انسان کو اپنے گھر اور وطن دونوں سے وفاداری کی تلقین کرتے ہوئے کہتے ہیں؛
    اپنے گھر سے وطن سے وفا کیجیے
    امن ہو قریہ قریہ دعا کیجیے
    درس دیتے ہیں انجیل و قرآں یہی
    آدمی ہو تو سب کا بھلا کیجیے

    اُن اشعار میں وطن دوستی کے ساتھ اِنسان دوستی اور مذہبی ہم آہنگی کا پیغام بھی موجود ہے۔ یہی فکری رویہ اُن کے قومی کلام کو محض نعرے سے بلند کر کے ایک اِنسانی پیغام عطا کرتا ہے۔ وطن کے قرض کو وہ ایک ایسی اخلاقی ذمہ داری سمجھتے ہیں جس کی ادائیگی کے لیے قربانی اور عمل دونوں ضروری ہیں؛
    خون دے کر نکھاریں گے ارضِ وطن
    یوں چکاتے رہیں گے یہ قرضِ وطن
    ہم پہ جاویدؔ ! واجب ہوا یا نہیں
    مَر کے بھی ہم اُتاریں گے قرضِ وطن

    جاویدؔ ڈینی ایل کے شعری کینوس کا ایک نمایاں اور دل آویز رنگ محبت اور رومانویت ہے۔ ان کے ہاں عشق محض ایک موضوع نہیں بلکہ تخلیقی اظہار کا محرک بھی دکھائی دیتا ہے۔ اُن کا یہ شعر اُن کے رومانوی شعری مزاج کی خوب صورت نمائندگی کرتا ہے؛
    مجھے تم سے گر عشق کافر نہ ہوتا
    غزل تم نہ ہوتی میں شاعر نہ ہوتا

    اِس شعر میں عشق، محبوب اور تخلیقِ شعر کے درمیان ایک گہرا تعلق قائم ہوتا ہے۔ گویا محبوب شاعر کی زندگی میں صرف ایک کردار نہیں بلکہ اُس کی تخلیقی دُنیا کا بنیادی حوالہ ہے۔ محبوب کے جمال کو وہ ایک ایسے شعری پیکر میں ڈھالتے ہیں جو کلاسیکی روایت سے بھی جڑا ہوا ہے؛
    مِرے دِل میں جو ایک زہرہ جبیں ہے
    کہیں اُس کے جیسی نہ کوئی حسیں ہے

    اُن کی رومانوی شاعری میں محبت کے ساتھ ہجر، انتظار، لمس، تخیل اور یاد کی کیفیات بھی نمایاں ہیں۔ وہ اپنے باطنی احساس کو لفظوں میں ڈھالتے ہوئے کہتے ہیں؛
    کوئی تقصیر ہوتی جا رہی ہے
    کہ وہ دِل گیر ہوتی جا رہی ہے
    میں حرفوں کو سمیٹے جا رہا ہوں
    تِری تصویر ہوتی جا رہی ہے

    یہاں لفظ اور محبوب ایک دوسرے میں گھلتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ شاعر گویا حرفوں کو سمیٹتے سمیٹتے محبوب کی تصویر تشکیل دے رہا ہے۔ اِسی داخلی اور جذباتی فضا میں اُن کا یہ شعر بھی قابلِ توجہ ہے؛
    تِری باتیں صحیفوں کی طرح ہیں
    مِری تطہیر ہوتی جا رہی ہے
    محبت کی شدت اور قربانی کے جذبے کو جاویدؔ ڈینی ایل نے نہایت سادہ مگر مؤثر پیرائے میں بیان کیا ہے؛
    لٹا دے جان بھی اپنی کسی محبوب کی خاطر
    محبت میں کوئی اِس سے بڑا درجہ نہیں ملتا

    اُن کے نزدیک عشق صرف وصال کی خواہش نہیں بلکہ ضبط، انتظار اور داخلی کشمکش کا نام بھی ہے۔ یہی کیفیت اُن کے اِن اشعار میں نمایاں ہوتی ہے؛

    وصالِ یار اب تو خواب ہوتا جا رہا ہے
    یہ دِل اُس کے لیے بے تاب ہوتا جا رہا ہے
    اور۔۔۔؛
    عشق ہے یا بلا ہے کیا کہیے
    ضبط کی انتہا ہے کیا کہیے
    پارسائی ہے نارسائی تک
    وصل میں سب روا ہے کیا کہیے

    جاویدؔ ڈینی ایل کی شاعری صرف محبت اور رومانویت تک محدود نہیں بلکہ اِس میں سماجی شعور اور انسانی درد بھی پوری شدت کے ساتھ موجود ہے۔ وہ اپنے عہد کے ناانصافی پر مبنی رویوں اور اِنسانی دُکھ کو نظر انداز نہیں کرتے۔ خصوصاً عورت کے دُکھ اور معاشرتی بے بسی کو اُن کے یہ اشعار نہایت مؤثر انداز میں پیش کرتے ہیں؛
    ایک الزام نے سر اُٹھایا بہت
    ایک تلوار سر پر لٹکتی رہی
    جب گواہوں کی گنتی نہ پوری ہوئی
    ایک حوا کی بیٹی سسکتی رہی

    یہاں شاعر کا قلم محض منظر نگاری نہیں کرتا بلکہ سماج سے سوال بھی کرتا ہے۔ ان کی شاعری میں عہدِ حاضر کی بے حسی اور بے ضمیری کے خلاف ایک خاموش مگر باوقار احتجاج بھی موجود ہے؛
    تجھ سے ملنے کی ٹھان رکھی ہے
    یوں ہتھیلی پہ جان رکھی ہے
    ہم نے اس عہدِ بے ضمیری میں
    اپنے حصے کی آن رکھی ہے
    مزید دیکھیے؛
    عجب تماشا سا چل رہا ہے
    غریب ہاتھوں کو مل رہا ہے
    اُسی کے جاویدؔ ! شر سے بچنا
    جو آستینوں میں پل رہا ہے

    اُن کی شاعری میں زندگی کے تجربات اور اِنسانی رشتوں کا مشاہدہ بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ وہ صرف محبت کے روشن پہلو نہیں بلکہ تعلقات کے بدلتے ہوئے مزاج اور اِنسانی فاصلے بھی محسوس کرتے ہیں؛
    نہیں ملتی ہماری سوچ اور نکتہ نہیں ملتا
    کئی برسوں سے مل بیٹھے، مگر لہجہ نہیں ملتا

    یہ شعر موجودہ عہد کے اِنسانی تعلقات کی ایک گہری تصویر ہے، جہاں قربت کے باوجود فاصلے موجود ہیں اور ملاقاتوں کے باوجود دِل ایک دوسرے تک نہیں پہنچ پاتے۔

    اُن کی نثر میں صحافتی وضاحت، ادبی لطافت، فکری گہرائی اور مشاہدے کی وسعت باہم مل کر ایک ایسا اسلوب تشکیل دیتی ہے جو بیک وقت رواں، شائستہ، بامعنی اور اثرانگیز ہے۔ کالم نگاری اور صحافت میں وہ اپنے عہد کے سماجی، ادبی اور اِنسانی مسائل کو موضوع بناتے ہوئے قاری کو محض اطلاع نہیں بلکہ سوچنے کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں۔ اُن کے ہاں لفظ محض اظہار کا وسیلہ نہیں بلکہ فکر، احساس اور کردار سازی کی قوت بھی ہے۔

    اُن کے مزاج میں شگفتگی اور زندہ دِلی بھی موجود ہے، جس کی جھلک اُن کے بعض اشعار میں نمایاں ہوتی ہے؛
    کسی کو گفتگو کرنے سے پہلے رام کر لینا
    ہنر اُس کو ہی آتا ہے یہ مشکل کام کر لینا
    کسی بے کیف لمحے میں تھکا ہارا بدن تھامے
    کبھی جاویدؔ مل جائے تو لطفِ جام کر لینا
    یہ اشعار اُن کی شخصیت کے ایک ایسے پہلو کی نمائندگی کرتے ہیں جس میں زندگی کی تلخیوں کے باوجود گفتگو، دوستی اور زندہ دِلی کے لیے جگہ باقی رہتی ہے۔

    جاویدؔ ڈینی ایل کی شاعری اور کالم نگاری کا سفر مختلف معتبر ادبی، صحافتی اور فکری پلیٹ فارمز پر تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ اُن کے کالمز اور منظوم تخلیقات ماہنامہ ’’نیا تادیب‘‘ اور ’’تادیب‘‘ ویب سائٹ کے علاوہ ہم سب اور باغی ٹی وی ویب سائٹس پر بھی باقاعدگی سے شائع ہو رہے ہیں، جبکہ اُن کی تخلیقات معروف ادبی جرائد ماہنامہ ’’ادبِ لطیف‘‘، ماہنامہ ’’بیاض‘‘، ہفت روزہ ’’کہانت‘‘ اور دیگر متعدد جرائد و رسائل کی زینت بھی بنتی رہتی ہیں۔ یوں جاویدؔ ڈینی ایل کی فکری، ادبی اور شعری آواز مسلسل ایک وسیع حلقۂ قارئین تک پہنچ رہی ہے۔
    ادبی و صحافتی میدان میں اُن کی طویل خدمات کے اعتراف میں مختلف اداروں اور ادبی تنظیموں کی جانب سے اُنہیں متعدد اعزازات اور ایوارڈز سے نوازا جا چکا ہے۔ تاہم ان کا ادبی سفر کسی اعزاز یا مقام پر ٹھہرتا ہوا محسوس نہیں ہوتا بلکہ مسلسل آگے بڑھنے کی خواہش اُس کی بنیادی شناخت ہے۔ اُن کی تخلیقی شخصیت زندگی کے تلخ و شیریں تجربات کو لفظوں میں محفوظ کرنے کا ہنر رکھتی ہے۔ شاید اِسی احساس کو اُن کے اِس شعر سے بہتر انداز میں سمجھا جا سکتا ہے؛
    تلخ و شیریں زندگی کی داستاں
    چھوڑ جاؤں گا تمہارے درمیاں

    جاویدؔ ڈینی ایل کی ادبی زندگی دراصل ایک ایسے مسلسل اور ہمہ جہت سفر سے عبارت ہے جس میں شاعری، ادب، صحافت، کالم نگاری، ادارت اور اشاعت ایک دوسرے سے مربوط ہو کر اُردو زبان و ادب کی خدمت کا وسیلہ بنتے ہیں۔ اُن کی شاعری میں وطن سے محبت ہے تو اِنسان دوستی بھی؛ عشق کی لطافت ہے تو ہجر کی کسک بھی؛ روحانی احساس ہے تو سماجی ناانصافی کے خلاف سوال بھی؛ کتاب اور قلم سے وابستگی ہے تو نئے لکھنے والوں کے لیے راستے بنانے کا جذبہ بھی۔

    اُن کا قلم اپنے عہد کے سوالات سے مکالمہ کرتے ہوئے روایت کی روشنی میں مستقبل کی طرف دیکھتا ہے۔ یہی وصف جاویدؔ ڈینی ایل کی ادبی اور صحافتی شناخت کو ایک منفرد معنویت عطا کرتا ہے۔ اُن کے شعر و ادب اور صحافت کا یہ کینوس ابھی مکمل تصویر نہیں بلکہ ایک جاری سفر ہے—ایک ایسا سفر جس میں لفظ زندگی سے مکالمہ کرتے ہیں، شعر احساس کو زبان دیتا ہے اور قلم آنے والے زمانوں کے لیے اپنی ایک داستان رقم کرتا چلا جاتا ہے۔

  • شمسہ رانی، لفظوں کی خوشبو، احساس کی صدا،تحریر :طاہر محمود

    شمسہ رانی، لفظوں کی خوشبو، احساس کی صدا،تحریر :طاہر محمود

    ادب کی دنیا میں کچھ نام محض نام نہیں ہوتے، وہ ایک کیفیت، ایک خوشبو، ایک احساس اور ایک روشن حوالہ بن جاتے ہیں۔ شمسہ رانی بھی ایسا ہی ایک نام ہیں۔ ان کے لفظ کاغذ پر اترتے نہیں، دل کی دہلیز پر دستک دیتے ہیں؛ ان کی شاعری پڑھی نہیں جاتی، محسوس کی جاتی ہے؛ اور ان کا اندازِ سخن ایسا ہے کہ سادہ سے لفظ بھی ایک نئی معنویت کے ساتھ دل میں اتر جاتے ہیں۔

    ٹیکسلا کی تاریخی و تہذیبی مٹی سے وابستہ شمسہ رانی نے اپنے علمی و ادبی سفر کو مطالعے، مشاہدے اور ریاضت سے جِلا بخشی۔ ابتدائی تعلیم یُسریٰ اسکول خان پور، میٹرک گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول نمبر 4 اور بعد ازاں پنجاب یونیورسٹی سے بی اے، انگلش لٹریچر اور ایم اے، تاریخ کی ڈگریاں حاصل کیں۔ وہ شاعرہ، نظم نگار، نثر نگار، ناول نویس اور قومی اخبارات کی کالم نگار کی حیثیت سے اپنی الگ ادبی شناخت رکھتی ہیں۔

    ذاتی طور پر اگر میں شمسہ رانی کی شاعری کی بات کروں تو یہ میرے لیے محض ایک تعریفی جملہ نہیں بلکہ ایک ادبی تجربے کا اعتراف ہے۔ میں نے بہت سے شعراء کو پڑھا ہے، مختلف اسالیبِ سخن سے گزرا ہوں، مگر شمسہ رانی کے کلام میں جو سادگی کے پردے میں گہرائی، لفظوں میں لطافت، احساس میں شدت اور اظہار میں انفرادیت نظر آتی ہے، وہ مجھے ایک الگ اور منفرد رنگ محسوس ہوئی۔

    ان کے ہاں محبت محض محبت نہیں رہتی، ایک مکمل کیفیت بن جاتی ہے؛ ہجر صرف جدائی نہیں رہتا، ایک خاموش موسیقی بن جاتا ہے؛ یاد محض یاد نہیں رہتی، دل میں ٹھہرا ہوا سایہ بن جاتی ہے۔

    اسی کیفیت کی ایک خوبصورت جھلک ان اشعار میں دیکھی جا سکتی ہے، جنہیں میں نے خود ان کے کلام کا مطالعہ کرتے ہوئے "نوکِ نایاب” کے لیے منتخب کیا:

    «مجھے تم سے محبت ہے
    بے پناہ محبت
    تم میری زندگی کی وہ کمی ہو
    جو مجھے مکمل نہیں ہونے دیتی
    وہ خاموش درد ہو
    جو ہنسنے نہیں دیتا
    وہ ادھورا خواب ہو
    جو ہر رات آنکھوں میں جاگتا ہے
    کاش! میں اس لمحے کو روک سکتی۔»

    یہ چند مصرعے بظاہر محبت کا اظہار ہیں، مگر ذرا ٹھہر کر پڑھیں تو ان میں محبت، محرومی، انتظار، یاد اور ادھورے پن کی پوری کائنات آباد دکھائی دیتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں شاعرہ کا لفظ قاری کا ذاتی احساس بن جاتا ہے۔

    اور یہی وجہ ہے کہ مجھے ان کی شاعری پسند آئی—بہت پسند آئی۔ کیونکہ یہاں لفظوں کی نمائش نہیں، احساس کی سچائی ہے؛ مشکل تراکیب کا بوجھ نہیں، سادہ لفظوں کی تاثیر ہے؛ اور سب سے بڑھ کر ایک ایسا لہجہ ہے جو بنا کسی شور کے دل تک پہنچ جاتا ہے۔

    ان شاء اللہ عنقریب ان کی شعری کتاب "سائے جو ٹھہر گئے” تقریبِ رونمائی کے بعد منظرِ عام پر آئے گی۔ یہ عنوان ہی اپنے اندر ایک مکمل داستان سمیٹے ہوئے ہے—کچھ یادیں، کچھ چہرے، کچھ لمحے اور کچھ محبتیں ایسی ہوتی ہیں جو وقت کے گزرنے کے باوجود دل سے نہیں گزرتیں؛ وہ سائے بن کر ٹھہر جاتی ہیں۔

    مجھے یقین ہے کہ "سائے جو ٹھہر گئے” شاعری سے محبت رکھنے والے اہلِ ذوق کے لیے محض ایک کتاب نہیں بلکہ احساس کی ایک خوبصورت دستاویز، لفظوں کا ایک خوشبودار سفر اور دل کے قریب رہ جانے والا ادبی تحفہ ثابت ہوگی۔

    شمسہ رانی جب اپنا کلام اپنی مترنم اور دل نشیں آواز میں پیش کرتی ہیں تو شعر کو ایک اور زندگی مل جاتی ہے۔ لفظ آواز میں ڈھلتے ہیں، آواز احساس میں، اور احساس سامع کے دل میں اتر جاتا ہے۔

    شمسہ رانی لفظوں کی ملکہ ضرور ہیں، مگر ان کی اصل پہچان احساس کی ترجمانی ہے۔

    ان کا قلم محبت کو زبان دیتا ہے، خاموشی کو آواز دیتا ہے، عورت کے احساس کو وقار دیتا ہے اور زندگی کے معمولی لمحوں میں چھپی غیر معمولی کیفیتوں کو دریافت کرتا ہے۔

    دعا ہے کہ ان کے قلم کی یہ روشنی ہمیشہ قائم رہے، "سائے جو ٹھہر گئے” اہلِ ادب کے دلوں میں اپنی جگہ بنائے، اور شمسہ رانی کا نام ٹیکسلا کے ادبی افق سے بلند ہو کر اردو ادب کے وسیع آسمان پر اپنی الگ روشنی کے ساتھ ہمیشہ جگمگاتا رہے۔

    کچھ لفظ صرف پڑھے جاتے ہیں،
    کچھ لفظ یاد رہ جاتے ہیں،
    اور کچھ لفظ دل میں اتر کر
    عمر بھر کے لیے ایک احساس بن جاتے ہیں—
    شمسہ رانی کی شاعری بھی ایسے ہی لفظوں کا نام ہے۔

  • میرا تعارف،ماہ جبین اظہر

    میرا تعارف،ماہ جبین اظہر

    میرا نام ماہ جبین اظہر ہے اور میرا تعلق فیصل آباد سے ہے۔ میں نے آج سے بیس سال پہلے ریاضی میں بی ایس سی کیا تھا۔ بظاہر ریاضی اور اردو ادب دو مختلف دنیائیں ہیں، مگر لفظوں سے میرا رشتہ ہمیشہ سے قائم رہا۔ شاعری سے دلچسپی اور لفظوں کو برتنے کا شوق آہستہ آہستہ تحریر کی صورت اختیار کرتا گیا۔

    گورنمنٹ کالج برائے خواتین مدینہ ٹاؤن، جو اب یونیورسٹی کا درجہ پا چکا ہے، کے میگزین ’’سیماب‘‘ سے میں نے اپنے ادبی سفر کا آغاز کیا۔ جب تک تعلیم کا سلسلہ جاری رہا، لکھنے کا سفر بھی چلتا رہا۔ پھر اکیس سال کی عمر میں شادی کے بعد گھریلو مصروفیات کی وجہ سے مجھے اپنے اس ادبی سفر کو روکنا پڑا اور لکھنے کے شوق کو پسِ پشت ڈالنا پڑا، لیکن ادب اور پڑھنے کا شوق برقرار رہا۔ جب بھی فارغ ہوتی، دینی اور اسلامی کتابیں پڑھتی یا کسی دوست کے پاس کوئی کتاب نظر آ جاتی تو اسے گھر لا کر پڑھنے کا شوق پورا کر لیتی۔

    بچوں کی پرورش کے بعد جب وہ اتنے بڑے ہو گئے کہ مجھے کچھ فارغ وقت گزارنے کا موقع ملنے لگا تو میں نے دوبارہ لکھنے کا سوچا۔ دو سال پہلے جب میرے ابو جی کی وفات ہوئی تو ان کے جانے کا دکھ لفظوں میں اتارنے لگی۔ شاید وہی دکھ تھا جس نے میرے اندر سوئے ہوئے لفظوں کو پھر سے جگا دیا۔ اسی سال اللہ تعالیٰ کے گھر کی حاضری نصیب ہوئی۔ واپس آ کر انسانیت کی خدمت کے جذبے کے تحت ایک فلاحی ادارے ’’رائل اسٹوڈنٹس ویلفیئر سوسائٹی‘‘ کو جوائن کر لیا۔

    اسی رفاہی ادارے کے ایک ممبر نے میرے لکھنے کے شوق کو دیکھتے ہوئے مجھے قلم و قرطاس انٹرنیشنل کی بانی زوبیہ حسیب سے متعارف کروایا۔ اس پلیٹ فارم پر لکھتے ہوئے مجھے اپنی پہلی انتھالوجی ’’نورِ عزم‘‘ میں افسانہ نگار کی حیثیت سے لکھنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ اس کے بعد لکھنے کا جو سلسلہ شروع ہوا، وہ تھم نہ سکا۔ آج میں قلم و قرطاس انٹرنیشنل میں مقابلہ انچارج کے فرائض سرانجام دے رہی ہوں۔

    ’’نورِ عزم‘‘ کی کامیاب اشاعت کے بعد میری دوسری انتھالوجی ’’فکرِ نو‘‘، جو میرے فلاحی ادارے رائل اسٹوڈنٹس ویلفیئر سوسائٹی کا پروجیکٹ ہے، زیرِ اشاعت ہے۔ میرے لیے یہ سفر صرف کتابوں اور تحریروں تک محدود نہیں، بلکہ یہ میرے اس خواب کی تعبیر بھی ہے جسے میں نے برسوں اپنے دل میں سنبھال کر رکھا۔
    میرے لیے ادب محض لفظوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ دل میں اترنے والے احساسات، زندگی کے تجربات اور معاشرے کے مختلف رنگوں کو بیان کرنے کا ایک خوبصورت وسیلہ ہے۔ مجھے سادہ، رواں اور دل کو چھو لینے والا اندازِ تحریر پسند ہے۔ میری کوشش ہوتی ہے کہ جو کچھ لکھوں، اس میں زندگی کی کوئی حقیقت، کسی احساس کی ترجمانی یا کسی سوچ کی بازگشت ہو۔

    یہ ادبی سفر میرے لیے اپنی ہی ذات کے ایک نئے پہلو سے ملاقات ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اچھے لفظ صرف پڑھے نہیں جاتے، محسوس بھی کیے جاتے ہیں۔ میری خواہش ہے کہ میری تحریر بھی کسی قاری کے دل کو چھو جائے اور اسے کچھ دیر ٹھہر کر سوچنے پر مجبور کرے۔ یہی میرے لیے ادب کی اصل خوبصورتی ہے اور یہی میرا سادہ سا ادبی تعارف ہے۔

  • میرا تعارف، مبراء عبدالقیوم

    میرا تعارف، مبراء عبدالقیوم

    ادب صرف لفظوں کا ہنر نہیں، بلکہ یہ دل کی آواز ہوتی ہے۔ اور میں اسی آواز کی ہم سفر ہوں۔
    میرا نام مبراء عبدالقیوم ہے۔میرا تعلق فیصل آباد کے شہر ڈجکوٹ سے ہے۔ میں نے آنکھ کھولی تو لفظوں کو اپنے اردگرد بکھرا پایا۔ اور جب شعور آیا تو احساس ہوا کہ لکھنا میرے لیے شوق نہیں بلکہ ضرورت ہے۔ تعلیم کے سفر کے ساتھ ساتھ ادب نے بھی میرا ہاتھ تھامے رکھا۔ کبھی کتابوں کی صورت، کبھی خیالوں کی شکل میں۔ ادب سے محبت کسی ایک دن میں نہیں ہوئی، یہ تو رفتہ رفتہ میرے دل میں اتری۔ یہ شوق مجھے میرے امی جان اور پھر جماعت اسلامی میں شمولیت سے بھی ہوا۔ پھر کہانیاں اور کتابیں پڑھتے پڑھتے، لفظوں میں خود کو پہچانتے پہچانتے ہی لکھنے کا آغاز میں نے اپنے احساسات کو سمجھنے کے لیے کیا۔ اور پھر یہ احساسات لفظ بن کر کاغذ پر اترنے لگے۔ میں سمجھتی ہوں کہ تحریر وہ آئینہ ہے جس میں لکھنے والا خود کو بھی دیکھتا ہے اور دوسروں کو بھی دکھاتا ہے۔ میری کوشش ہوتی ہے کہ میری تحریر دل سے نکلے اور دل تک پہنچے۔

    وقت کے ساتھ ساتھ میرے لکھنے کا دائرہ بھی وسیع ہوتا گیا۔ ابتدا میں جو باتیں صرف میرے دل اور کاغذ کے درمیان رہتی تھیں، وہ آہستہ آہستہ دوسروں تک پہنچنے لگیں۔ مجھے محسوس ہوا کہ لفظ صرف اپنے احساسات بیان کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ کسی کے دل کو چھونے، کسی سوچ کو بدلنے اور کسی کے لیے امید بننے کا وسیلہ بھی بن سکتے ہیں۔

    گزشتہ ڈیڑھ برس سے میں باقاعدگی کے ساتھ لکھ رہی ہوں۔ اس دوران مختلف ادبی گروپس، رسائل اور ادبی سرگرمیوں سے وابستہ رہنے کا موقع ملا۔ افسانہ، افسانچہ، مضمون، کالم، نثری نظم، شاعری اور خطوط سمیت مختلف اصناف میں لکھنے کی کوشش کرتی ہوں۔ ہر صنف مجھے اظہار کا ایک نیا راستہ دکھاتی ہے اور ہر تحریر مجھے خود اپنے اندر جھانکنے کا موقع دیتی ہے۔

    میری تحریروں میں عموماً انسانی جذبات، رشتے، معاشرتی مسائل، زندگی کی حقیقتیں اور اصلاحی پہلو نمایاں ہوتے ہیں۔ میں مشکل الفاظ اور بناوٹ کے بجائے سادہ اور دل سے نکلنے والی زبان کو پسند کرتی ہوں۔ کیونکہ میرا یقین ہے کہ خوبصورت تحریر وہ نہیں جو صرف پڑھی جائے، بلکہ وہ ہے جو پڑھنے والے کے دل میں کچھ دیر کے لیے ٹھہر جائے۔

    میرے لیے لکھنا محض اپنی پہچان بنانے کا ذریعہ نہیں ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ میرے الفاظ کسی کے لیے تسلی بنیں، کسی کو سوچنے پر مجبور کریں، کسی کے اندر امید جگائیں اور جہاں ممکن ہو، معاشرے میں کسی مثبت تبدیلی کا سبب بنیں۔
    ادبی سفر میں ابھی میں خود کو ایک طالبِ علم ہی سمجھتی ہوں۔ ہر نئی تحریر، ہر نیا موضوع اور ہر نیا تجربہ مجھے کچھ نہ کچھ سکھاتا ہے۔ میں اپنے لفظوں کو بہتر بنانے، اپنی خامیوں کو دور کرنے اور اپنے اندازِ بیان کو مزید نکھارنے کی کوشش میں رہتی ہوں، کیونکہ میرے نزدیک سیکھنے کا عمل کبھی ختم نہیں ہوتا ہے۔
    میری خواہش ہے کہ آنے والے وقت میں بھی میں اسی محبت اور اخلاص کے ساتھ لکھتی رہوں۔ اپنے قلم کو مثبت سوچ اور خوبصورت احساسات کے اظہار کا ذریعہ بناؤں اور ادب کی دنیا میں اپنی ایک ایسی پہچان قائم کروں جو میرے الفاظ سے زیادہ میرے احساس اور مقصد سے پہچانی جائے۔
    یہی میرا سفرِ قلم ہے؛ ایک ایسا سفر جو ابھی جاری ہے، اور جس کی منزل سے زیادہ مجھے اس کے راستے سے محبت ہے۔

  • میرا تعارف،  زینب جہانزیب

    میرا تعارف، زینب جہانزیب

    کبھی کبھی انسان اپنی زندگی میں کچھ راستے خود منتخب نہیں کرتا، راستے خود اسے منتخب کر لیتے ہیں۔ وہ سمجھتا رہتا ہے کہ وہ کہیں جا رہا ہے، مگر برسوں بعد پیچھے مڑ کر دیکھے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہر موڑ، ہر ٹھوکر، ہر خاموشی اور ہر بچھڑنا اسے ایک ہی سمت لے جا رہا تھا۔ شاید میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔

    میں نے کبھی بیٹھ کر یہ فیصلہ نہیں کیا تھا کہ مجھے لکھاری بننا ہے۔ نہ کبھی یہ سوچا تھا کہ ایک دن میرے نام کے ساتھ شاعرہ یا کالم نگار لکھا جائے گا۔ بس بچپن سے مجھے لفظوں کے ساتھ ایک عجیب سی نسبت محسوس ہوتی تھی۔ کچھ لوگ اپنے دکھ کسی انسان سے کہتے ہیں، کچھ دعاؤں میں رکھ دیتے ہیں، اور کچھ انہیں کاغذ پر اتار دیتے ہیں۔ میں شاید انہی لوگوں میں سے تھی جو اپنے اندر کے شور کو خاموش کرنے کے لیے لفظوں کا سہارا لیتے ہیں۔

    بچپن میں جب بہت سی باتیں سمجھ میں نہیں آتی تھیں،تب کتابیں سمجھ آتی تھیں۔ جب بہت سے سوالوں کا جواب کسی انسان کے پاس نہیں ہوتا تھا، میں کتابوں کے صفحات میں انہیں تلاش کرتی تھی۔ شاید اسی لیے کتاب میرے لیے کبھی محض کتاب نہیں رہی؛ وہ ایک دروازہ رہی ہے، ایسا دروازہ جو باہر کی دنیا سے زیادہ انسان کو اس کے اپنے اندر لے جاتا ہے۔

    میرا نام زینب جہانزیب ہے اور میرا تعلق واہ کینٹ سے ہے۔ آج میں بطور شاعرہ اور کالم نگار اپنے ادبی سفر کو آگے بڑھا رہی ہوں، لیکن اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ یہ سفر کہاں سے شروع ہوا تھا تو میں کسی اخبار یا ادبی پلیٹ فارم کا نام نہیں لوں گی۔ میں شاید اپنی والدہ کی کتابوں کی الماری کی طرف اشارہ کروں گی۔

    میری فکری تشکیل میں میری والدہ کا کردار بہت گہرا رہا ہے۔ ان کی دین سے وابستگی نے میرے اندر بھی مذہب، روحانیت اور علم کے لیے ایک ایسی کشش پیدا کی جس نے وقت کے ساتھ میری پوری شخصیت کو متاثر کیا۔ میری عمر تقریباً بارہ برس تھی جب میں اپنی والدہ کی ڈھائی سو سے زائد اسلامی کتب پڑھ چکی تھی۔ اُس عمر میں شاید مجھے معلوم بھی نہیں تھا کہ میں کیا تلاش کر رہی ہوں، مگر آج سوچتی ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ انسان اپنی اصل تلاش بہت پہلے شروع کر دیتا ہے، صرف اسے اس تلاش کا نام بہت بعد میں سمجھ آتا ہے۔
    کبھی میرے دل میں بھی کچھ خواب تھے، کچھ منزلیں تھیں، کچھ ارادے تھے۔ مگر زندگی ہمیشہ انسان کو اُس راستے پر نہیں لے جاتی جو وہ اپنے لیے چنتا ہے۔ شاید ہم اپنی زندگی کے نقشے بناتے ہیں، مگر اوپر کہیں ایک اور قلم ہماری سمت لکھ رہا ہوتا ہے۔ راستہ بدلا، مگر میری تلاش نہیں بدلی۔ دین، انسان اور اس کے باطن کو سمجھنے کی خواہش کہیں اندر موجود رہی، اور یہی دلچسپی مجھے نفسیات کی طرف لے گئی۔

    نفسیات میرے لیے صرف ایک تعلیمی مضمون نہیں تھی۔ اس نے مجھے انسان کو دیکھنے کا ایک نیا طریقہ دیا۔ میں نے سمجھا کہ ہر مسکراہٹ خوشی نہیں ہوتی، ہر خاموشی سکون نہیں ہوتی اور ہر سخت رویے کے پیچھے سخت دل نہیں ہوتا۔ کبھی ایک انسان اپنے اندر ایسی جنگ لڑ رہا ہوتا ہے جس کی خبر اس کے قریب ترین لوگوں کو بھی نہیں ہوتی۔
    شاید یہیں سے انسان میرے لیے ایک موضوع نہیں، ایک سوال بن گیا۔

    مجھے آج بھی لوگوں کے الفاظ سے زیادہ ان کے درمیان موجود خاموشی متوجہ کرتی ہے۔ کوئی شخص کیا کہہ رہا ہے، یہ اہم ہے؛ مگر وہ کیا نہیں کہہ پا رہا، شاید یہ اُس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ مجھے چہروں سے زیادہ چہروں کے پیچھے چھپی کہانیاں دلچسپ لگتی ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ میری تحریروں میں انسان بار بار لوٹ کر آتا ہے؛ کبھی اپنی شکست کے ساتھ، کبھی اپنی انا کے ساتھ، کبھی محبت کے ساتھ اور کبھی اُس سوال کے ساتھ جس کا جواب اسے برسوں سے نہیں ملا۔

    میری لکھنے کی ابتدا بھی شاید اسی خاموشی سے ہوئی۔ اسکول کے زمانے میں چھوٹی چھوٹی نظمیں لکھتی تھی۔ جو بات زبان سے نہیں کہہ پاتی، وہ کاغذ پر لکھ دیتی۔ کالج تک پہنچتے پہنچتے اس شوق کو میرے اساتذہ کی حوصلہ افزائی بھی ملنے لگی۔ ادبی مقابلوں میں حصہ لیا، کامیابیاں حاصل کیں اور میرے افسانے کالج کے سالانہ کرونیکلز میں شائع ہوئے۔
    اُس وقت یہ سب چھوٹی چھوٹی خوشیاں تھیں۔ آج پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں تو لگتا ہے، شاید زندگی اُس وقت ہی میرے ہاتھ میں قلم رکھ رہی تھی، بس مجھے اس کا احساس نہیں تھا۔
    پھر ایک وقت آیا جب قلم خاموش ہو گیا۔ اور شاید صرف قلم ہی نہیں، میں بھی۔

    زندگی کے کچھ موسم انسان سے بہت کچھ چھین لیتے ہیں۔ کبھی وقت، کبھی لوگ، کبھی یقین، اور کبھی انسان کو خود اپنا آپ اجنبی لگنے لگتا ہے۔ میرے حصے میں بھی ایک ایسا دور آیا جس نے مجھے اندر سے بدل دیا۔ کچھ تجربات انسان کو توڑتے نہیں، بلکہ اس کے اندر موجود بہت سے جھوٹ توڑ دیتے ہیں۔ وہ چہرے اتار دیتے ہیں جو ہم نے دنیا کو دکھانے کے لیے نہیں، خود کو یقین دلانے کے لیے پہن رکھے ہوتے ہیں۔
    مگر شاید ہر اندھیرا صرف راستہ روکنے نہیں آتا۔ کچھ اندھیرے انسان کو پہلی بار روشنی کی ضرورت کا احساس بھی دلاتے ہیں۔
    میں نے اسی دور میں اپنے اندر واپس جانا شروع کیا۔ خاموشی سے بھاگنے کے بجائے اسے سننا شروع کیا۔ خود سے سوال کیے۔ کچھ کے جواب ملے، کچھ سوال اور گہرے ہو گئے۔ اور پھر ایک عجیب بات ہوئی؛ میں نے محسوس کیا کہ جس ذات سے میں اتنا دور بھاگ رہی تھی، شاید وہیں واپس جانے کا راستہ میرے اپنے اندر سے نکلتا ہے۔
    یہیں سے میرے لکھنے کا دوسرا سفر شروع ہوا۔

    اب میں صرف واقعات نہیں لکھنا چاہتی تھی؛ میں ان کے پیچھے چھپی ہوئی کیفیت لکھنا چاہتی تھی۔ صرف دکھ نہیں، دکھ کے بعد انسان کے اندر ہونے والی تبدیلی لکھنا چاہتی تھی۔ صرف محبت نہیں، محبت کے بعد انسان کے اندر پیدا ہونے والی معرفت لکھنا چاہتی تھی۔ صرف تنہائی نہیں، اُس تنہائی میں انسان کی اپنے رب سے ہونے والی ملاقات لکھنا چاہتی تھی۔
    اور پھر ایک دن ایسا آیا جب مجھے لگا کہ یہ لفظ میرے نہیں رہے۔
    وہ مجھ سے لکھے جانے لگے۔
    یوں میری پہلی کتاب وجود میں آئی "آئینہ، روشنی اور فنا کا سفر”۔

    یہ کتاب میرے لیے صرف صفحات پر جمع کیے ہوئے الفاظ نہیں، بلکہ میرے اندر سے گزرنے والے ایک طویل سفر کی گواہی ہے۔ ایک ایسا سفر جس میں انسان پہلے خود کو دیکھتا ہے، پھر اپنے اندر کے اندھیروں سے ملتا ہے، پھر کسی روشنی کی تلاش میں نکلتا ہے اور آخرکار اسے احساس ہوتا ہے کہ جس روشنی کو وہ باہر تلاش کر رہا تھا، اس کی ایک کرن ہمیشہ اس کے اندر موجود تھی۔
    میرے لیے آئینہ صرف چہرہ دیکھنے کا نام نہیں۔ آئینہ وہ لمحہ ہے جب انسان پہلی بار اپنے سامنے کھڑا ہو کر خود سے نظریں ملانے کی ہمت کرتا ہے اور پوچھتا ہے: میں آخر ہوں کون؟
    پھر آتی ہے روشنی۔ وہ روشنی جو آنکھوں کو نہیں، باطن کو روشن کرتی ہے۔ جو انسان کو دوسروں کی خامیاں دکھانے سے پہلے اپنی تاریکیاں دکھاتی ہے۔ جو اسے یہ سمجھاتی ہے کہ کبھی کبھی سب سے بڑا اندھیرا باہر نہیں، انسان کے اپنے اندر ہوتا ہے۔
    اور پھر فنا۔ میرے نزدیک فنا مٹ جانے کا نام نہیں۔ فنا اُس خود ساختہ ذات سے گزرنے کا نام ہے جسے ہم برسوں سے اپنا اصل سمجھتے آئے ہیں۔ انا سے گزرنا، غرور سے گزرنا، اپنی خواہشوں کے شور سے آگے نکلنا اور اُس "میں” سے آزاد ہونا جو ہر چیز کو اپنی ملکیت سمجھتی ہے۔

    اسی لیے یہ کتاب نہ ناول ہے، نہ محض شاعری کا مجموعہ اور نہ روایتی مضامین کی کتاب۔ اس میں انسانی زندگی، روحانیت، تصوف، نفسیات، محبت، خود شناسی، باطن اور انسان کے اندر چلنے والی مختلف کیفیات کو نثر میں بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ پھر ہر مضمون کے بعد اسی خیال یا کیفیت کو ایک غزل کے ذریعے محسوس کروانے کی کوشش کی گئی ہے۔
    یعنی جہاں نثر انسان کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے، وہاں غزل اسی خیال کو محسوس کروانے کی کوشش کرتی ہے۔ ایک ہی احساس، دو مختلف زبانوں میں۔
    میری شاعری بھی میرے لیے صرف شاعری نہیں۔ میں شعر میں صرف محبت کی داستان یا جذبات کی شدت بیان نہیں کرنا چاہتی۔ مجھے وہ لمحہ زیادہ دلچسپ لگتا ہے جب محبت انسان کو خود اُس کی حقیقت تک لے جائے، جب تنہائی شکایت نہیں، معرفت بن جائے، جب درد صرف رونے کی وجہ نہ رہے بلکہ انسان کو اپنے رب کے قریب لے جائے، اور جب انسان کسی دوسرے کو کھوتے کھوتے خود کو پا لے۔

    میرے کالم بھی اسی تلاش کا ایک اور رخ ہیں۔ میں کسی واقعے کو صرف واقعہ سمجھ کر نہیں لکھ پاتی۔ میرے لیے ہر واقعے کے پیچھے ایک انسان ہوتا ہے، اور ہر انسان کے پیچھے ایک کہانی۔ اسی لیے وقت کے ساتھ میرے قلم کا دائرہ بھی وسیع ہوتا گیا۔ تصوف اور باطن سے نکل کر میں نے سماجی مسائل، انسانی رویوں، حکومتی و عوامی معاملات اور عام انسان کے سوالات پر بھی لکھنا شروع کیا، کیونکہ میرے نزدیک قلم صرف اپنے اندر کی دنیا کا ترجمان نہیں ہونا چاہیے۔ اگر معاشرے میں کوئی آواز دب رہی ہو تو قلم کو وہاں بھی سنائی دینا چاہیے۔
    آج میں بطور شاعرہ اور کالم نگار اپنے ادبی سفر کو آگے بڑھا رہی ہوں۔ میری تحریریں مختلف اخبارات اور ادبی پلیٹ فارمز پر شائع ہوتی رہی ہیں، اور اس سفر میں ملنے والی پذیرائی میرے لیے حوصلے کا باعث رہی ہے۔ ادبی مقابلوں میں شرکت اور کامیابیاں بھی اس سفر کا حصہ رہی ہیں، مگر میرے لیے سب سے بڑا اعزاز کوئی ٹرافی، سرٹیفکیٹ یا شہرت نہیں۔

    میرے لیے سب سے بڑا اعزاز وہ لمحہ ہے جب کوئی اجنبی قاری مجھے کہتا ہے: "آپ نے جو لکھا، وہ جیسے میرے دل کی بات تھی۔” تب مجھے محسوس ہوتا ہے کہ شاید میرے لفظ اپنی منزل تک پہنچ گئے۔
    میں چاہتی ہوں کہ میرے الفاظ کسی ایسے شخص تک پہنچیں جو شاید اپنی زندگی کے مشکل دن سے گزر رہا ہو۔ کوئی ایسا دل جو ٹوٹنے کے بعد یہ سمجھ بیٹھا ہو کہ اب کچھ باقی نہیں رہا، یا کوئی ایسا شخص جو اپنے رب سے دور ہو کر بھی اندر سے اسی کو تلاش کر رہا ہو۔
    اگر میرا ایک لفظ اسے روک دے، ایک جملہ اسے سوچنے پر مجبور کر دے، ایک تحریر اسے اپنے آپ سے دوبارہ ملنے کا حوصلہ دے دے، یا ایک غزل اسے یہ احساس دلا دے کہ اس کے اندر ابھی روشنی باقی ہے، تو میرے لیے یہی کافی ہے۔

    میں نے زندگی سے ایک بات سیکھی ہے:
    انسان ہمیشہ ٹوٹ کر ختم نہیں ہوتا، بعض اوقات ٹوٹنے کے بعد پہلی بار اپنی اصل شکل میں آتا ہے۔
    شاید اسی لیے میں اپنے آپ کو آج بھی مکمل لکھاری نہیں سمجھتی۔ میں اب بھی ایک مسافر ہوں۔ اب بھی پڑھ رہی ہوں، سیکھ رہی ہوں، لوگوں کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہوں اور اپنے اندر کے سوالوں کے ساتھ چل رہی ہوں۔
    میرا ماننا ہے کہ لکھاری وہ نہیں جو ہر سوال کا جواب جانتا ہو۔ شاید لکھاری وہ ہے جو اپنے لفظوں سے کسی دوسرے انسان کے اندر وہ سوال جگا دے جسے وہ برسوں سے دفن کیے بیٹھا تھا۔ کیونکہ کبھی کبھی جواب دینے سے زیادہ ضروری سوال پیدا کرنا ہوتا ہے۔
    اور شاید میری پوری تحریری زندگی بھی اسی ایک سوال کے گرد گھومتی ہے:
    ہم دنیا کو سمجھنے میں اتنے مصروف کیوں ہیں کہ خود کو سمجھنا بھول گئے؟
    شاید "آئینہ، روشنی اور فنا کا سفر” بھی اسی سوال کا ایک طویل جواب تلاش کرنے کی کوشش ہے۔

    ایک ایسا سفر جس میں میں نے پہلے خود کو آئینے میں دیکھا، پھر اپنے اندر کے اندھیروں سے ملی، پھر روشنی کی تلاش کی، اور آخرکار یہ سمجھنے لگی کہ انسان کی سب سے بڑی منزل شاید خود کو پانا نہیں، بلکہ اُس "خود” سے گزر جانا ہے جسے وہ اپنی حقیقت سمجھتا رہا۔
    اور شاید اسی لیے میں آج بھی لکھتی ہوں۔
    کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جو کہی نہ جائیں تو دل پر بوجھ بن جاتی ہیں۔ کچھ احساسات ایسے ہوتے ہیں جو انسان کسی کو بتا نہیں سکتا۔ کچھ سوال ایسے ہوتے ہیں جن کا جواب کتابوں میں نہیں ملتا، اور کچھ راستے ایسے ہوتے ہیں جن پر انسان کو اکیلا چلنا پڑتا ہے۔
    میں انہی باتوں، انہی احساسات، انہی سوالوں اور انہی راستوں کو لفظ دیتی ہوں۔
    میں لکھتی ہوں کیونکہ میں نے خاموشی کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ میں لکھتی ہوں کیونکہ میں نے خود کو کھونے کے بعد دوبارہ تلاش کرنے کا سفر دیکھا ہے۔ میں لکھتی ہوں کیونکہ مجھے یقین ہے کہ ایک لفظ کبھی کبھی وہ کام کر دیتا ہے جو ایک پوری گفتگو نہیں کر پاتی۔
    اور شاید سب سے بڑھ کر—
    میں لکھتی ہوں کیونکہ میں چاہتی ہوں کہ میرے لفظ کسی ایسے دل تک پہنچ جائیں جہاں میری آواز کبھی نہ پہنچ سکے۔

    اگر میرا کوئی لفظ کسی انسان کو اپنے رب کے قریب کر دے، کسی ٹوٹے ہوئے دل میں امید جگا دے، کسی بھٹکے ہوئے شخص کو اپنے راستے پر واپس لے آئے، یا کسی کو اپنے اندر جھانکنے پر مجبور کر دے، تو شاید میرے لکھنے کا مقصد پورا ہو گیا۔
    باقی نام، اعزاز، شہرت، شائع ہونے والی تحریریں اور کتابیں تو اس سفر کے پڑاؤ ہیں۔

    اصل سفر شاید وہ ہے جو لفظ پڑھنے کے بعد کسی انسان کے اندر شروع ہوتا ہے۔
    اور اگر کبھی کوئی مجھ سے پوچھے
    زینب جہانزیب آخر لکھتی کیوں ہے؟
    تو شاید میں اس بار کوئی لمبا جواب نہ دوں۔
    صرف اتنا کہوں:
    میں لکھتی ہوں تاکہ خاموشی لفظ بن سکے،
    لفظ روشنی بن سکے،
    اور روشنی کسی ایک انسان کو اس کے اپنے اندر تک لے جا سکے۔
    یہی میرا سفر ہے۔
    خاموشی سے لفظوں تک۔
    لفظوں سے روشنی تک۔
    اور شاید روشنی سے فنا تک۔
    باقی جو کچھ ہوں،
    شاید وہ میری تحریروں کے درمیان
    کہیں خاموش بیٹھا ہے۔

  • ڈاکٹر ریاض مجید (ستارہ امتیاز) کی صدارت میں یادگار نعتیہ مشاعرہ کی ایک شام ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    ڈاکٹر ریاض مجید (ستارہ امتیاز) کی صدارت میں یادگار نعتیہ مشاعرہ کی ایک شام ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    فیصل آباد صرف صنعت، تجارت، محنت اور کاروبار کا شہر نہیں، یہ شعر و ادب، تہذیب، ثقافت اور روحانی اقدار کی ایک خوبصورت بستی بھی ہے۔ اس شہر کی مٹی نے جہاں بڑے صنعت کار، تاجر، دانشور، صحافی اور فنکار پیدا کیے، وہیں اس نے نعت گو شعرائے کرام اور اہلِ قلم کو بھی ایک ایسا ماحول فراہم کیا جہاں محبتِ رسول ﷺ کے چراغ نسل در نسل روشن ہوتے رہے ہیں۔ فیصل آباد کی ادبی تاریخ میں نعتیہ مشاعروں کی روایت بھی اسی تہذیبی تسلسل کا ایک روشن باب ہے۔

    اسی روایت کو زندہ رکھنے اور اسے نئی نسل تک منتقل کرنے کی ایک خوبصورت کوشش ادبی ادارہ ترتیب اور لائلپور پکچر گیلری کے اشتراک سے منعقد ہونے والی 33ویں سالانہ نعتیہ محفلِ مشاعرہ کی صورت میں سامنے آئی۔ لائلپور پکچر گیلری میں منعقد ہونے والی یہ بابرکت ادبی نشست محض ایک مشاعرہ نہیں تھی بلکہ محبتِ رسول ﷺ، ادب، عقیدت اور فیصل آباد کی تہذیبی شناخت کا ایک ایسا اجتماع تھی جس میں شہر بھر سے چالیس کے قریب نعت گو شعرائے کرام نے شرکت کرکے اس محفل کو یادگار بنا دیا۔

    اس نعتیہ مشاعرے کی صدارت معروف ادیب، نقاد اور دانشور پروفیسر ڈاکٹر ریاض مجید نے کی۔ ان کی شخصیت خود اردو ادب کے حوالے سے ایک معتبر حوالہ ہے۔ حال ہی میں انہیں ستارۂ امتیاز سے نوازا جانا نہ صرف ان کے لیے بلکہ فیصل آباد کی پوری ادبی برادری کے لیے باعثِ اعزاز ہے۔ یہی وجہ تھی کہ محفل میں شریک تقریباً تمام شعرائے کرام نے اپنے نعتیہ کلام کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر ریاض مجید کو ستارۂ امتیاز ملنے پر بھی زبردست خراجِ تحسین پیش کیا اور منظوم و منثور نذرانۂ عقیدت پیش کیے۔
    اس موقع پر مہمانانِ خصوصی میں محمد اسلم بھلی، صدر سپریم انجمن تاجران فیصل آباد، کوثر علی، پروفیسر ڈاکٹر شبیر احمد قادری، پروفیسر ڈاکٹر حامد رضا اور مقبول احمد لودھی شامل تھے۔ میزبانی کی ذمہ داریاں ڈاکٹر جانباز احمد مخفی، میاں بشیر احمد اعجاز اور حمید شاکر نے انجام دیں۔ تلاوتِ قرآن پاک کی سعادت حافظ ضمیر حسین اطہر قادری نے حاصل کی جبکہ پروفیسر رضا حسین گیلانی نے مترنم انداز میں نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کرکے محفل کے روحانی حسن میں اضافہ کیا۔
    جب قرآن پاک کی تلاوت سے محفل کا آغاز ہوا تو یوں محسوس ہوا جیسے لائلپور پکچر گیلری کی فضا میں الفاظ سے پہلے نور اتر آیا ہو۔ اس کے بعد جب نعتِ رسولِ اکرم ﷺ کی آواز بلند ہوئی تو ادب اور عقیدت ایک دوسرے میں گھلتے چلے گئے۔ نعتیہ محفل کی اصل خوبصورتی یہی ہوتی ہے کہ یہاں لفظ محض لفظ نہیں رہتا بلکہ عقیدت کا وسیلہ بن جاتا ہے۔ شاعر اپنے تخلیقی ہنر کو محبتِ مصطفیٰ ﷺ کے حضور پیش کرتا ہے اور سامعین اسے محض شاعری کے طور پر نہیں بلکہ نذرانۂ عقیدت کے طور پر سنتے ہیں۔

    اس بابرکت محفل میں سعدیہ نصیر، نرگس رحمت، سلیم شاہد، امین عزمی، ناصر حسین راضی، سرور کلیم، سرور خان سرور، شہزاد بیگ، رضا گیلانی، راشد اقبال، ریاض احمد قادری، پروفیسر ڈاکٹر ریاض مجید، کوثر علی، قمر عباس قمر، ساغر شہزاد، حاتم بھٹی، طارق محمود کائناتی، شاہد نسیم شاہد، عباس علی حیدر، ضمیر قادری، اختر بٹ، اقبال ناز، اشفاق ہمزالی، حامد رضا زیدی، محمود رضا زیدی، حماد حیدر نقوی، سرور قمر قادری، میاں منیر احمد منیر، منیر احمد خاور، کامران رشید، اصغر علی تبسم، اسد نقوی، ذیشان حسینی، آنس بیگ، انور انیق، آصف گوہیر اور ڈاکٹر جانباز مخفی سمیت متعدد شعرائے کرام نے اپنے اپنے نعتیہ کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔
    یہ فہرست دراصل فیصل آباد کی نعتیہ شاعری کے ایک خوبصورت منظرنامے کی عکاس ہے۔ راقم الحروف شاہد نسیم نے بھی اپنی نعت مبارک پیش کی۔۔۔ جو کچھ یوں تھی۔

    دل کے گلشن کو سجانے آگئے ہیں مصطفےٰ ﷺ
    راہیں جنت کی دکھانے آگئے ہیں مصطفےٰ ﷺ

    بے سہاروں کو سہارا دینے دنیا میں حضور
    غم کے ماروں کو ہنسانے آگئے ہیں مصطفےٰ ﷺ

    ظلمتوں میں نورِ حق کا راستہ دکھلانے کو
    شمعِ ایماں پھر جلانے آگئے ہیں مصطفےٰ ﷺ

    بت کدوں میں پرچم توحید لہراتے ہوئے
    کفر کا باطل مٹانے آگئے ہیں مصطفیٰﷺ

    سوئے دل کو عشقِ خالق سے سجانے کے لیے
    راہِ حق ہم کو دکھانے آگئے ہیں مصطفیٰﷺ

    جو بھٹکتے تھے اندھیروں میں جہاں بھر میں کبھی
    ان کو منزل تک پہنچانے آگئے ہیں مصطفےٰ ﷺ

    نفرتوں کی آگ کو الفت بنانے کے لیے
    ٹوٹتے دل کو ملانے آگئے ہیں مصطفےٰ ﷺ

    عدل کا میزان دنیا کو دکھانے کے لیے
    حق کا پرچم اٹھانے آگئے ہیں مصطفےٰ ﷺ

    آدمیت کو عطا کرنے کو قدر و منزلت
    سوئے انساں کو جگانے آگئے ہیں مصطفےٰ ﷺ

    جن کے دامن سے ملے ہر درد ہی کو اطمینان
    زخمِ دل سارے مٹانے آگئے ہیں مصطفےٰ ﷺ

    درد کا درمان ہے اب صرف عشقِ مصطفیٰؐ،
    شاہدؔ امت کو بچانے آگئے ہیں مصطفیٰﷺ

    مختلف اسالیب، مختلف لہجے، مختلف شعری تجربات اور مختلف عمر کے شعراء جب ایک ہی موضوع، یعنی عشقِ رسول ﷺ کے گرد جمع ہوں تو ایک ایسی ادبی فضا تشکیل پاتی ہے جس میں اختلافِ اسلوب اپنی جگہ رہتے ہوئے مقصد کی یکسانیت پیدا ہوجاتی ہے۔ ہر شاعر کا قلم اپنی شناخت رکھتا ہے، مگر جب بات حضور نبی کریم ﷺ کی مدحت کی آتی ہے تو سب کے دل ایک ہی مرکز کی طرف جھک جاتے ہیں۔

    اس محفل کا ایک اہم اور قابلِ تحسین پہلو یہ بھی تھا کہ شعرائے کرام نے صرف نعتیہ کلام پیش کرنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ پروفیسر ڈاکٹر ریاض مجید کو ستارۂ امتیاز ملنے پر انہیں دل کھول کر خراجِ تحسین پیش کیا۔ یہ عمل اس بات کی علامت ہے کہ ادبی برادری اپنے اہلِ علم و ادب کی کامیابیوں کو اپنی کامیابی سمجھتی ہے۔ کسی شاعر، ادیب یا دانشور کو قومی سطح کا اعزاز ملے اور اس کے شہر کے اہلِ قلم اس خوشی کو اجتماعی خوشی بنادیں تو یہ ادب کی صحت مند روایت کی علامت ہے۔
    مگر اس پوری محفل میں ایک شخصیت ایسی بھی ہے جس کا خصوصی ذکر ناگزیر ہے، اور وہ ہیں میاں بشیر احمد اعجاز، کسٹوڈین لائلپور پکچر گیلری۔
    آج کے دور میں جب بہت سے ثقافتی مقامات اپنی اصل روح سے دور ہوتے جارہے ہیں، میاں بشیر احمد اعجاز نے لائلپور پکچر گیلری کو صرف تصاویر اور فنونِ لطیفہ کی نمائش تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے ادبی، ثقافتی اور فکری سرگرمیوں کے لیے بھی ایک فعال مقام بنانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ کسی عمارت کو صرف عمارت رکھنا آسان ہے، لیکن اسے ایک زندہ تہذیبی مرکز بنانا مسلسل محنت، خلوص اور وژن کا تقاضا کرتا ہے۔
    لائلپور پکچر گیلری میں 33ویں سالانہ نعتیہ محفلِ مشاعرہ کا انعقاد اسی سوچ کا عملی اظہار ہے۔ جب ایک آرٹ گیلری میں شعراء جمع ہوں، جب وہاں قرآن پاک کی تلاوت ہو، جب نعتِ رسول ﷺ کی صدائیں بلند ہوں، جب ادب کے استاد، شاعر، تاجر، دانشور اور اہلِ ذوق ایک جگہ بیٹھیں تو دراصل ایک شہر اپنی تہذیبی زندگی کا اعلان کرتا ہے۔
    میاں بشیر احمد اعجاز کو اس حوالے سے خراجِ تحسین پیش کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ ادبی تقریبات کی کامیابی صرف شاعر کے شعر کہنے سے نہیں ہوتی۔ اس کے پیچھے منتظمین کی محنت، وقت، وسائل، روابط، مہمان نوازی اور سب سے بڑھ کر نیک نیتی شامل ہوتی ہے۔ ایک کامیاب ادبی محفل کے پیچھے کئی گھنٹوں کی خاموش محنت ہوتی ہے جسے سامعین اکثر دیکھ نہیں پاتے۔
    میاں بشیر احمد اعجاز نے اپنے رفقا کے ساتھ مل کر اسی خاموش محنت کو ایک خوبصورت ادبی منظر میں تبدیل کیا۔ طارق محمود کائناتی اور میاں بشیر احمد اعجاز کی جانب سے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا گیا جبکہ ناصر حسین راضی نے دعا کروائی۔ اختتام پر مصطفائی لنگر سے تمام شرکائے محفل کی تواضع کی گئی۔ یوں محفل نے ادب، عقیدت، محبت اور خدمت کے تمام رنگ اپنے اندر سمیٹ لیے۔
    یہاں ایک بات خاص طور پر قابلِ ذکر ہے کہ نعتیہ محفل کا حسن صرف بلند آواز میں نعت پڑھنے یا بڑے بڑے ناموں کی شرکت سے نہیں بڑھتا، بلکہ اس وقت بڑھتا ہے جب منتظمین شعراء اور سامعین دونوں کے لیے احترام، محبت اور اپنائیت کا ماحول پیدا کریں۔ اس حوالے سے لائلپور پکچر گیلری کی یہ محفل ایک خوشگوار مثال نظر آتی ہے۔

    فیصل آباد جیسے بڑے شہر میں ادبی سرگرمیوں کے لیے مستقل اور باوقار مقامات کی ضرورت ہمیشہ محسوس کی جاتی رہی ہے۔ اگر ثقافتی ادارے اپنے دروازے اہلِ قلم کے لیے کھول دیں تو شہر کی ادبی زندگی میں نئی توانائی پیدا ہوسکتی ہے۔ لائلپور پکچر گیلری میں اس طرح کی سرگرمیاں اسی ضرورت کو پورا کرنے کی ایک قابلِ قدر کوشش ہیں۔
    ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ نئی نسل کو ادب اور ثقافت سے جوڑنے کے لیے صرف کتابیں کافی نہیں، بلکہ انہیں ایسے زندہ ادبی اجتماعات بھی دکھانا ہوں گے جہاں وہ شعراء کو سامنے دیکھیں، کلام سنیں، اہلِ علم سے ملیں اور یہ محسوس کریں کہ ادب کوئی ماضی کی چیز نہیں بلکہ آج بھی ہمارے معاشرے کی فکری اور روحانی ضرورت ہے۔
    نعتیہ ادب تو خصوصاً ہماری تہذیبی اور دینی روایت کا نہایت محترم حصہ ہے۔ اس لیے نعتیہ محافل کا انعقاد صرف ایک ادبی سرگرمی نہیں بلکہ محبتِ رسول ﷺ کے اظہار کا ایک خوبصورت ذریعہ بھی ہے۔ تاہم اس میدان میں سب سے اہم چیز ادب، احترام اور شرعی و شعری نزاکتوں کی پاسداری ہے۔ جب اہلِ علم و ادب اس ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے نعت کہتے اور سنتے ہیں تو ایسی محافل دلوں پر دیرپا اثر چھوڑتی ہیں۔
    33ویں سالانہ نعتیہ محفلِ مشاعرہ نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ فیصل آباد کا ادبی مزاج زندہ ہے۔ یہاں شعراء بھی ہیں، سامعین بھی ہیں، ادبی ادارے بھی ہیں اور ایسے مخلص منتظمین بھی جو اپنی مصروفیات کے باوجود ادب کے لیے وقت نکالتے ہیں۔
    میاں بشیر احمد اعجاز کو دل کی گہرائیوں سے خراجِ تحسین پیش کیا جانا چاہیے کہ انہوں نے لائلپور پکچر گیلری کو محض ایک ثقافتی عمارت نہیں رہنے دیا بلکہ اسے ادب، فن اور تہذیب کے حسین امتزاج کا ایک فعال مرکز بنانے کی کوشش کی۔ ایسی شخصیات کسی بھی شہر کا خاموش سرمایہ ہوتی ہیں۔ انہیں نہ صرف تقریبات کے موقع پر بلکہ ان کی مسلسل خدمات کے اعتراف میں بھی سراہنا چاہیے۔
    اور شاید یہی کسی ادبی معاشرے کی اصل خوبصورتی ہے کہ یہاں شاعر صرف شعر نہیں کہتا، منتظم صرف پروگرام نہیں کراتا اور سامع صرف تالیاں نہیں بجاتا؛ بلکہ سب مل کر ایک تہذیبی روایت کو آگے بڑھاتے ہیں۔
    لائلپور پکچر گیلری میں ہونے والی یہ نعتیہ محفل بھی اسی خوبصورت روایت کا تسلسل تھی۔ قرآن پاک کی تلاوت سے شروع ہونے والی محفل نعت کی خوشبو میں ڈھلی، شعراء کے کلام سے سجتی رہی، ڈاکٹر ریاض مجید کے قومی اعزاز پر مبارک باد اور خراجِ تحسین کے پھول پیش کیے گئے، منتظمین نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا، دعا ہوئی اور آخر میں مصطفائی لنگر نے اس محبت بھری نشست کو اپنے ذائقے میں سمیٹ لیا۔

    یہ صرف ایک محفل کا اختتام نہیں تھا بلکہ ایک عہد کی تجدید تھی کہ فیصل آباد میں ادب زندہ ہے، نعتیہ روایت زندہ ہے اور محبتِ رسول ﷺ سے وابستہ قلم آج بھی اپنی ذمہ داری نبھا رہا ہے۔
    میاں بشیر احمد اعجاز اور ان کے رفقائے کار اس خوبصورت ادبی و نعتیہ روایت کو آگے بڑھانے پر مبارک باد کے مستحق ہیں۔ دعا ہے کہ لائلپور پکچر گیلری آئندہ بھی شعر و ادب، فن و ثقافت اور فکر و دانش کے چراغ روشن کرتی رہے اور یہاں سے نکلنے والی ادبی آوازیں فیصل آباد کی حدود سے آگے پورے ملک تک پہنچتی رہیں۔
    یہی شہر کی تہذیبی زندگی ہے، یہی ادب کی خدمت ہے اور یہی وہ چراغ ہے جسے ایک نسل دوسری نسل کے ہاتھ میں منتقل کرتی ہے۔

  • اردو فلمی شاعری کا عروضی تجزیہ ،تبصرہ نگار :عرفان خانی

    اردو فلمی شاعری کا عروضی تجزیہ ،تبصرہ نگار :عرفان خانی

    فلمی شاعری کا انحصار زیادہ تر دھن اور ماتروں پر ہوتا ہے
    جس میں علم عروض کی کچھ بحور تو شامل ہوتی ہیں مگر زیادہ تر دھن کی وجہ سے علم عروض سے خارج ہوتی ہیں
    گیت اگر کسی شاعر نے لکھے ہوں گے تو یقینا وہ علم عروض کے پیمانوں پر پورے اترتے ہوں گے مگر فلمی شاعری میں دھن کا اصیل علم ہے جس میں علم عروض کے مطابق لکھے گۓ گیت کو بھی دھن میں ڈھالنے کے لۓ ماتروں کا سہارا لینا پڑتا ہے جس کی وجہ سے گیت علم عروض سے خارج ملتے ہیں آفتاب خان کا شمار برصغیر کے نمائندہ شعراء میں شامل خاص ہے عالمی سطح پر ادبی حوالہ سے تجرباتی جہت پر انکی خاصی گرفت ہے یہی وجہ ہے افتاب خان نے ادب کو نئی راہ پر لایا جو کہ اردو فلمی شاعری کے عروضی تجزیہ پر مشتمل ہے۔ اردو فلمی شاعری کاعروضی تجزیہ کی کتاب میں اظہر جاوید خان اپنی راۓ میں لکھتے ہیں کہ
    گیت
    چوہدویں کا چاند ہو یا آفتاب ہو
    جو بھی ہو تم خدا کی قسم لا جواب ہو
    اس شعر میں لفظ تم نکال دیا گیا
    پہلے مصرع کے شروع میں "تم ” کو نکال دیا گیا کیوں کہ
    تم چوہدیویں کا چاند ہو یا آفتاب ہو
    لفظ ” تم "ْ موسیقی اور گائیکی میں شامل نہیں ہو رہا تھا اسلۓ نکال دیا گیا ۔اس شعر سے ظاہر ہوتا ہے گیت نگاری میں اہمیت دھن کی ہے علم عروض کی نہیں ہے اس کے باوجود آفتاب خان نے اردو فلمی شاعری کا عروضی مطالعہ پیش کر کے ایک الگ سے ادبی تجربہ کی بنیاد رکھی جو کہ تاریخ کا اہم حصہ ہو گی ۔ یہ کتاب نہ صرف علم عروض کے حوالہ سے گیت نگاری کی پرکھ ہے بلکہ اس میں شامل گیت , , موسیقار, اور فلموں کے نام شامل ہونے سے تحقیق کی بھی عمدہ کتاب ہے

    یہاں چند گیتوں کو اپ کے زوق کی خاطر پیش کر رہا ہوں جو اردو فلمی گیتوں کے عروضی تجزیہ کی کتاب میں موجود ہیں جن کو آفتاب خان نے انتہائی محنت لگن اور شوق کے ساتھ اپنی کتاب میں پیش کیا ہے
    بحر ہزج مثمن سالم
    مفاعیلن , مفاعیلن , مفاعیلن ,مفاعیلن
    گیت۔
    1۔ یہاں بدلہ وفا کا بے وفائی کے سوا کیا ہے
    محبت کر کے بھی دیکھا محبت میں بھی دھوکہ ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    2۔ ترے کوچے میں ارمانوں کی دنیا لے کے آیا ہوں
    تجھی پر جان دینے کی تمنا لے کے آیا ہوں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    بحر ہزج مسدس سالم مخذوف
    مفاعیلن , مفاعیلن , فعولن
    گیت
    کبھی دل دل سے ٹکراتا تو ہوگا
    انہیں میرا خیال آتا تو ہو گا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    2۔ جگر چھلنی ہے دل گھبرا رہا ہے
    محبت کا جنازہ جا رہا ہے
    بحر ہزج مثمن اخرب سالم
    مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن
    گیت
    ہم درد کا افسانہ دنیا کو سنائیں گے
    ہر دل میں محبت کی اک آگ لگائیں گے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بحر رمل مثمن مخبون محذوف مسکن
    فاعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن
    گیت
    ہاتھ سینے پہ جو رکھ دو تو قرار آ جاۓ
    دل کے اجڑے ہوۓ گلشن میں بہار آ جاۓ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بحر مضارع مثمن مکفوف محذوف
    مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن
    گیت
    دل میں چھپا کے پیار کا طوفان لے چلے
    ہم آج اپنی موت کا سامان لے چلے
    ۔۔۔۔۔
    علم عروض ہر شاعر کے لئے لازم ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ شاعر اگر مسلسل ترنم کی تحریک کرتا رہے تو اسے علم عروض کی ضرورت نہیں رہتی اس تحریک سے بحور تو درست ہو سکتی ہیں لیکن شعری لوازمات۔ میں کمی رہ جاتی جس میں گرائمر ، زمانہ کی حالت ، وغیرہ متاثر ہوتی ہے اس لیے ضروری ہے علم عروض کا مکمل علم حاصل کریں تاکہ کلام میں بنیادی اغلاط نہ ہوں کلام ہر سقم سے پاک ہو اسی لیے کہا جاتا ہے کہ علم عروض اور شعر لازم و ملزوم ہیں دونوں کا ہونا اچھے خیال اور اچھے شعر سے منسلک ہے تبھی لکھادی اچھا شعر کہہ سکے گا
    موسیقی بھی علم عروض کی ساتھ ہے کیونکہ ماترے ، دھن ، اسی طرف لے جاتے ہیں کلام کو جس طرف علم عروض کی اہمیت کا ہونا لازم ہوتا ہے
    اگر بات کئی جائے زبانوں کی تو اردو پنجابی زبان میں علم عروض مختلف اشکال پر مبنی ہوتا ہے آج کل زیادہ تر اردو بحور کو پنجابی میں بھی استعمال کیا جارہا ہے لیکن پنجابی گیت ، دو ہڑے ،ماہے ، غزل وغیرہ جیسی اصناف کا الگ سے عروضی مزاج ہے سو اردو زبان کی موسیقی پر یا شاعری پر آج تک ایسا کام سامنے نہیں آیا جو مکمل اردو فلمی شاعری پر سیر حاصل مضامین پر مشتمل ہو
    اردو فلمی شاعری کے حوالہ سے عروضی تجزیہ کی یہ پہلی کتاب کے طور ادب میں نمایاں ہے اس سے قبل
    موسیقی اور دھن کی کتب میں یا فن موسیقی کی کتب میں کہیں کہیں کسی گیت کا زکر تو ملتا ہے مگر باقاعدہ طور پر اردو فلمی شاعری کے حوالے سے افتاب خان نے یہ پہلی کتاب ترتیب دی ہے جو کہ اردو ادب کے لۓ اور فن موسیقی کے لۓ ایک اہم کتاب کے طور ادب میں نمایاں حثیت پر فائز رہے گی میں آفتاب خان کو تجرباتی کتاب کی اشاعت پر دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ وہ اردو فلمی شاعری کے حوالہ سے مزید کتب تخلیق کریں تاکہ گیت نگاری میں شوق رکھنے والے شعراء کو فن موسیقی کے حوالہ سے آسانیاں میسر ہوں

  • سکوت کا شور،تحریر:ایس اے شازم

    سکوت کا شور،تحریر:ایس اے شازم

    میں ہمیشہ کی طرح اپنی نائٹ ڈیوٹی پر تھی اور رات اپنی سیاہ چادر آہستہ آہستہ شہر پر تان رہی تھی۔ کھڑکی کے پار ذرد بتیوں میں نہایا ہوا شہر بظاہر زندہ دکھائی دیتا تھا مگر میرے اندر ایک عجب ویرانی بسی ہوئی تھی۔ ہال میں مکمل سکوت تھا لیکن اس سکوت کے اندر ایک ایسا شور چھپا تھا جو لمحہ لمحہ میرے وجود سے ٹکراتا رہتا تھا۔ ایسا شور جسے نہ کوئی سن سکتا تھا اور نہ میں بیان کر سکتی تھی۔
    میری کولیگ مجھے سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ اس کی نظروں میں لا تعداد سوال تھے۔ آخر کار وہ خود ہی گویا ہوئی۔
    "بینا تم بدل گئی ہو۔۔۔۔!”
    اس نے دھیمی آواز میں کہا۔ اس کے لہجے میں شکوے کے ساتھ ساتھ فکر بھی نمایاں تھی۔
    میں نے مسکرانے کی کوشش کی مگر بعض مسکراہٹیں صرف لبوں تک محدود رہتی ہیں، دل تک نہیں پہنچ پاتیں۔
    "وقت سب کو بدل دیتا ہے۔”
    میں نے مختصر جواب دیا.
    "نہیں؛ وقت صرف چہرے بدلتا ہے لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ انسان کو حالات بدلتے ہیں اور تمہیں بھی کسی گہرے دکھ نے خاموش کر دیا ہے۔”
    میں چند لمحے خاموش رہی اور سوچنے لگی کہ شاید وہ ٹھیک کہہ رہی تھی۔ انسان کے اندر اچانک سے سکوت نہیں چھا جاتا بلکہ اس کے اندر بہت کچھ مرتا ہے تب کہیں جا کر لفظ دم توڑنے لگتے ہیں۔
    میں کھڑکی کے قریب کھڑی ہو کر باہر کی سرد ہوا کو محسوس کرنے لگی۔ جو درختوں کے پتوں کو ہلا رہی تھی۔ عجیب بات ہے ناں! درخت بھی خاموش ہوتے ہیں مگر ان کی خاموشی میں زندگی ہوتی ہے۔ جب کہ انسان کی خاموشی اکثر اندر سے ٹوٹ جانے کی علامت بن جاتی ہے۔
    "کیا تم جانتی ہو؟” میں نے آہستگی سے کہا؛
    "خاموشی ہمیشہ سکون نہیں دیتی بلکہ بعض خاموشیاں انسان کو اندر ہی اندر کھا جاتی ہیں۔”
    وہ غور سے میری طرف دیکھنے لگی۔
    میں نے بات جاری رکھتے ہوئے پھر سے کہنا شروع کیا۔
    "میرے اندر ایک شور بستا ہے۔ ایک ایسا شور جو کسی بازار، کسی جنگ، کسی ہجوم سے زیادہ خطرناک ہے۔ یہ شور ان لفظوں کا ہے جو کبھی کہے نہ جا سکے۔ ان خوابوں کا ہے جو حقیقت بننے سے پہلے ہی دم توڑ گئے۔ ان رشتوں کا ہے جو وقت کی دھول میں کہیں گم ہو گئے۔”
    ہال میں ایک بوجھل سی خاموشی اتر آئی۔
    "تم نے کبھی کسی سے اپنے دل کی بات نہیں کی؟”
    اس نے سوال کیا۔
    میں میرے چہرے پر ہلکی سی ہنسی آئی، ایسی ہنسی جس میں خوشی کم اور تھکن زیادہ تھی۔
    "دل کی بات؟ لوگ دل کہاں سنتے ہیں؟ لوگ صرف الفاظ سنتے ہیں، احساس نہیں۔”
    وہ خاموش ہو گئی۔
    میں کرسی پر بیٹھ گئی اور نظریں فرش پر ٹکا دیں۔
    "ایک وقت تھا جب میں بھی بہت بولتی تھی۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر خوش ہو جاتی تھی۔ لوگوں پر اعتبار کرتی تھی۔ مجھے لگتا تھا کہ خلوص اب بھی زندہ ہے، محبت اب بھی سچی ہے اور خواب اب بھی پورے ہو سکتے ہیں۔ لیکن پھر زندگی نے حقیقت کا آئینہ دکھایا اور ایک ایک کر کے سارے بھرم توڑ دیے۔”
    "سب کے ساتھ ایسا ہوتا ہے۔”
    اس نے دھیرے سے کہا۔
    "ہاں! مگر ہر انسان ٹوٹنے کا ہنر نہیں جانتا۔ کچھ لوگ بکھر کر سنور جاتے ہیں اور کچھ خاموش ہو جاتے ہیں۔ میں شاید انہی لوگوں میں سے ہوں۔”
    باہر کہیں دور اذان کی آواز ابھری۔ اس آواز میں ایک عجب سکون تھا مگر میرے اندر کا شور پھر بھی قائم تھا۔
    میں نے آنکھیں بند کر لیں۔
    "کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ میرے اندر ایک ویران شہر آباد ہے۔ وہاں اداسی کے سنسان راستے ہیں، یادوں کے شکستہ مکان ہیں، اور امید کے بجھے ہوئے چراغ ہیں۔ میں ہر روز ان گلیوں سے گزرتی ہوں مگر کہیں روشنی نہیں ملتی۔”
    وہ پہلی بار بےبس دکھائی دی۔
    "پھر تم زندہ کیسے ہو؟”
    میں نے ایک طویل سانس لی۔
    "انسان جینا نہیں سیکھتا، بس وقت کے ساتھ درد برداشت کرنا سیکھ جاتا ہے۔”
    خاموشی دوبارہ ہمارے درمیان آ بیٹھی۔ مگر یہ خاموشی اب پہلے جیسی نہیں تھی۔ اس میں میرے دل کی بےشمار چیخیں شامل تھیں۔
    "اور یہ شور؟” اس نے دھیمی آواز میں پوچھا؛
    "کیا کبھی ختم نہیں ہوگا؟”
    میں نے کھڑکی سے باہر پھیلے اندھیرے کو دیکھا۔ رات مزید گہری ہو چکی تھی۔
    "کچھ شور کبھی ختم نہیں ہوتے۔ وہ انسان کے اندر دفن ہو جاتے ہیں۔ پھر وقتاً فوقتاً یادوں کی صورت جاگتے ہیں۔ آنکھوں میں نمی بن کر اترتے ہیں اور دل میں ایک کسک چھوڑ جاتے ہیں۔”
    میری آواز بھرا گئی۔
    "لوگ سمجھتے ہیں خاموش انسان پُرسکون ہوتا ہے مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ سب سے زیادہ شور انہی لوگوں کے اندر ہوتا ہے جو کم بولتے ہیں۔”
    وہ کچھ نہ کہہ سکی۔ شاید بعض خاموشیوں کا جواب الفاظ میں نہیں ہوتا۔۔۔۔!