Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • ایک پھول دو مالی___رقیب سے حبیب تک ،تحریر: ریاض احمد احسان

    ایک پھول دو مالی___رقیب سے حبیب تک ،تحریر: ریاض احمد احسان

    محبت کے لغت نامے میں ایک لفظ "رقیب” ہے جو صدیوں سے غلط فہمی کی گرد میں اٹا پڑا ہے ہم نے اسے دشمن سمجھ لیا، مخالف مان لیا اور بدخواہ قرار دے دیا حالانکہ محبت کے باب میں رقیب دشمن،مخالف یا بدخواہ نہیں ہوتا بلکہ وہ تو محبت کے کمرے میں رکھا وہ آئینہ ہے جس میں حبیب کا چہرہ اور زیادہ واضح ہو جاتا ہے۔رقیب وہ نہیں جو بیچ میں آ کر محبت چھین لے،قبضہ جما لے یا کانٹے کی طرح آنکھ میں کھٹکنے لگے-آپ پہلے محبت کے لفظ کو سمجھیں پھر معانی و مفہوم میں اتریں تو آپ پرکُھلے گا کہ محبت کسی ایک دل کی جاگیر نہیں یہ تو وہ روشنی ہے جو ایک سے زیادہ آنکھوں میں بیک وقت اُتر سکتی ہے،ایک سے زیادہ دلوں کا قرار بن سکتی ہے.

    ہم نے محبت کو ملکیت بنا دیا ہے اسی لیے رقیب ہمیں چبھتا بھی ہے اور ڈنک بھی مارتا رہتا ہے ہم سمجھتے ہیں کہ جسے ہم نے چاہ لیا اب اس پر صرف ہمارا حق ہے حالانکہ محبت حق سے زیادہ ذمہ داری ہے، دعویٰ ہی نہیں دعا بھی ہے اگر محبت کو احساس، احترام اور خیرخواہی کا نام دے دیا جائے تو رقیب کا تصور خود بخود تحلیل ہو جاتا ہے۔محبت میں رقیب کا ہونا دراصل محبت کے دلچسب ہونے کی علامت ہے جہاں چاہت نہ ہو وہاں مقابلہ کیسا؟ جہاں دل نہ دھڑکے وہاں حسد کیسا؟ رقیب دراصل اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ جسے ہم چاہتے ہیں وہ واقعی چاہے جانے کے لائق ہے،سراہے جانے کے قابل ہے محبت میں فلسفہ ہمیں یہی تو سکھاتا ہے کہ قدر ہمیشہ اشتراک سے جنم لیتی ہے جو چیز صرف ایک آنکھ کو بھائے وہ ذاتی پسند ہو سکتی ہے لیکن جو کئی دلوں کو اپنی طرف کھینچے وہ قدر بن جاتی ہے بالکل ایسے ہی جیسے ایک خوب صورت نظم اگر صرف ایک ہی شخص کو سمجھ آئے تو وہ ذاتی تجربہ یا ذاتی واردات ہے لیکن وہی نظم اگر کئی دلوں میں اتر جائے تو وہ ادب بن جاتی ہے۔حبیب اگر بیک وقت کئی دلوں میں جگہ بنا لے تو یہ اس کی غلطی نہیں بلکہ حسن ہے اور رقیب؟ وہ تو اسی حسن کا قاری ہے، اسی نظم کا دوسرا سامع ہے،قدردان ہے.

    رقیب ہونا دراصل ہم خیالی کا دوسرا نام ہے دو دل اگر ایک ہی دل سے قرار پائیں تو اس میں دشمنی کہاں سے آ گئی؟ یہ تو ہم ذوق ہونا ہے،ہم آہنگی ہے یہ تو احساس کی یکسانیت ہے۔ رقیب وہ شخص ہے جو آپ ہی کی طرح کسی چہرے میں زندگی تلاش کر رہا ہے فرق صرف اتنا ہے کہ آپ اسے حبیب کہتے ہیں اور وہ بھی—بس راستے جدا ہیں، نیت نہیں،محبت کی سب سے حسین صفت برداشت ہے وہ محبت جو فوراً غیرت کی تلوار اٹھا لے وہ محبت تو نہیں ہوسکتی محبت کے باب میں سچا عاشق وہ ہے جو یہ جانتا ہو کہ اگر اس کا محبوب واقعی قیمتی ہے تو اس کی قدر صرف اسے ہی کیوں محسوس ہو؟

    محبت میں حبیب وہ نہیں ہوتا جو مل جائے،میسر آجائے یا دسترس میں ہی رہے بلکہ حبیب وہ ہوتا ہے جو دل کا حال بہتر بنا دے جو آپ کو ظرف سکھا دے، برداشت سکھا دے،ایثار کرنے کا جذبہ آپکے اندر پیدا کردے اور یہ شعور دے کہ چاہنا قربانی کا نام ہے قبضے کا نہیں کئی بار زندگی میں ایسا ہوتا ہے کہ محبوب کسی اور کے حصے میں چلا جاتا ہے لیکن اس کے جانے کے بعد جو ٹھہراؤ، جو دانائی، جو وسعت آپ کے قلب و نگاہ میں آتی ہے وہی تو اصل ثمر ہوتا ہے یوں کوئی ایک انسان نہیں بلکہ ایک تجربہ حبیب بن جاتا ہے،ہم نے کہانیوں میں،واقعات میں اور ادب میں ہمیشہ رقیب کو ولن بنا کر پیش کیا دراصل رقیب محبت کا کمرہ امتحان ہوتا ہےرقیب کے احسانات میں ایک احسان یہ بھی ہے کہ رقیب ہمیں یہ غور و فکر کرنے کی دعوت بھی دیتا ہے کہ ہماری چاہت انا پر کھڑی ہے یا خلوص پر اگر انا ہو تو حسد جنم لیتا ہے اگر خلوص ہو تو وجود دعا میں ڈھل جاتا ہے بھلا جو شخص آپ کے محبوب کی خوشی چاہے، وہ آپکا دشمن کیسے ہو سکتا ہے،اسورج ایک ہے لیکن اس کی روشنی ہزاروں کھڑکیوں سے اندر آتی ہے کیا ایک کھڑکی دوسری کی دشمن ہے؟ نہیں، سب روشنی کے استقبال میں برابر رہا سرشار ہوتی ہیں محبوب اگر سورج ہے تو چاہنے والی کھڑکیاں ہیں۔ رقیب کوئی اور نہیں بس ایک اور کھڑکی ہے روشنی اس کی بھی وہی ہے اور آپ کی بھی.

    محبت کا اعلیٰ ترین درجہ یہ ہے کہ آپ حبیب کو آزاد چھوڑ دیں۔اس کی مسکراہٹ پر پہرا نہ بٹھائیں،اس کے انتخاب کو قید نہ کریں۔محبت اگر سمندر ہے تو رقیب ایک دریا ہے جو اسی میں آن ملتا ہے سمندر چھوٹا نہیں ہوتا،آپ دریا گناہ گار نہ ٹھہرائیں
    جس لمحے آپ یہ سوچنے لگیں کہ
    “اگر وہ میرا نہ ہوا تو کسی اور کا بھی نہ ہو”
    اسی لمحے محبت کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ آپ بس اتنا سمجھ لیں کہ محبت زندگی بانٹتی ہے، موت نہیں اگر آپ واقعی کسی کو چاہتے ہیں تو یہ بھی قبول کریں کہ شاید اس کی خوشی کسی اور راستے پر لکھی ہو یہی محبت میں ایثار ہے
    رقیب کو دشمن سمجھنے والے دراصل محبت کو کم سمجھتے ہیں۔محبت اتنی ناتواں نہیں کہ ایک تیسرے کی آمد سے بکھر جائے اگر بکھر جائے تو مان لیجیے وہ محبت نہیں تھی وہ تو فقط عادتوں کی ورزش تھی یا خود پسندی کی ایک مصنوعی شکل و صورت محبت تو وہ ہے جو رقیب کے وجود میں بھی اپنی شرافت برقرار رکھے،اپنی زبان میں تلخی نہ آنے دے اور اپنے رویّے میں وقار قائم رکھے

    یہ سب لفظوں کی قلعی نہیں نہ کسی منطق کا کرتب ہے یہ میری زندگی کی کمائی ہے، میرے زخموں کی روشنائی ہے، میرے ٹوٹنے سے جنم لینے والی دانائی ہے میں نے رقیب کو کتابوں میں نہیں اپنے دل کے آئینے میں پڑھا ہے۔میں نے اپنے نصیب کے رقیب کو پہچانا اور تسلیم کیا،اُس کے روبرو میری انا ہمیشہ خاموش رہی اور خیر خواہی بولتی چلی گئی.

    دوستو!میرا رقیب میرا حبیب ہے،میرا طبیب ہے، میرا معلّم ہے، میرا مُصلِح ہے، میرا مربّی ہے، میرا ہم ذوق ہے، میرا مرشد ہے، میرا مونس ہے، میرا محرم ہے، میرا معتبر ہے، میرا منصف ہے، میرا مفسّر ہے، میرا محافظِ وقار ہے، میرا مظہرِ برداشت ہے، میری میزانِ محبت ہے،میرا رقیب میرے مقام و مرتبے کو گھٹاتا نہیں، بڑھاتا ہے وہ میری محبت کو کمزور نہیں کامل بناتا ہے .میرا رقیب کل بھی میرا حبیب تھا،آج بھی میرا حبیب ہے اور آئندہ بھی میرا حبیب ہی رہے گا کہ ہم دونوں ایک ہی پھول کے دو مالی ہیں

    ہماری باہمی محبت کا یہ عالم ہے کہ ہم دونوں ایک دوسرے کے حق میں ہزاروں بار دستبردار ہو سکتے ہیں
    وہ شہرِ خموشاں میں جا بسا اور میں اُس کی نشانیوں کو گلے سے لگائے محبت کے مزار سے کیا عہد نبھا رہا ہوں

  • سچ کی جیت باغی ٹی وی کے 14 سال اور حرفِ حق کا اعزاز،تحریر  :  قمرشہزاد مغل

    سچ کی جیت باغی ٹی وی کے 14 سال اور حرفِ حق کا اعزاز،تحریر : قمرشہزاد مغل

    تندیِ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
    یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے

    صحافت کے لبادے میں چھپی مصلحتوں، ایوانوں کی غلامی اور ضمیر فروش سوداگروں کے اس دور میں جہاں حق بولنا خودکشی تصور کیا جاتا ہے، وہاں کچھ نام ایسے بھی ہیں جنہوں نے مقتل میں بھی سچ بولنے کی قسم کھا رکھی ہے۔ اگر ان ناموں کی فہرست بنائی جائے تو سب سے پہلا اور معتبر نام مبشر لقمان صاحب کا آتا ہے۔ وہ شخص جس نے صحافت کو ڈرائنگ رومز کی عیاشی سے نکال کر سچائی کے اس کٹھن میدان میں لا کھڑا کیا جہاں ہر قدم پر خطرات کی بارودی سرنگیں بچھی ہیں۔ باغی ٹی وی محض ایک میڈیا پلیٹ فارم نہیں، بلکہ ایک سوچ ہے، ایک ایسی سوچ جو وقت کے فرعونوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سوال کرنا جانتی ہے۔ آج جب اس ادارے نے اپنے سفر کے 14 سال مکمل کیے ہیں صحافت کی دنیا میں سچ اور جرات مندی کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ جب کوئی فرد یا ادارہ ان اصولوں پر قائم رہتا ہے تو وہ معاشرے میں ایک خاص مقام حاصل کر لیتا ہے۔ مبشر لقمان صاحب اور ان کا ادارہ باغی ٹی وی بھی اسی راستے پر گامزن ہیں۔ حقائق کو بے باکی سے پیش کرنا اور ہر حال میں سچائی کا ساتھ دینا ان کی پہچان بن چکا ہے۔ اس کٹھن سفر میں ممتاز اعوان صاحب کا کردار بھی کسی ستون سے کم نہیں۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ انھوں نے کس طرح دن رات ایک کر کے اس ادارے کی آبیاری کی ہے۔ ان کی محنت، لگن اور مخلصانہ جدوجہد نے باغی ٹی وی کو وہ وقار بخشا ہے کہ آج یہ ادارہ حق گوئی کا استعارہ بن چکا ہے۔ یہ معروف تجزیہ نگار شہزاد قریشی اور ممتاز اعوان ہی کی بصیرت ہے جہنوں نے مجھے اس باغی کارواں کا حصہ بنایا اور سچائی کی اس جنگ میں اپنا حصہ ڈالنے کا حوصلہ دیا۔ میرے لیے یہ لمحہ کسی بڑے اعزاز سے کم نہیں کہ باغی ٹی وی اور مبشر لقمان صاحب کی جانب سے میری صحافتی خدمات کے اعتراف میں مجھے تعریفی سند سے نوازا گیا ہے۔ میرے نزدیک یہ کاغذ کا محض ایک ٹکڑا نہیں، بلکہ ایک اعلانِ جنگ ہے ان باطل قوتوں کے خلاف جو صحافت کو دبانے کی کوشش کرتی ہیں۔
    بقول شاعر!
    میں نے مانا کہ اندھیرا ہے بہت چاروں طرف
    پر دیا ایک جلانا تو مرا کام ہے نا

    جب مبشر لقمان جیسے نڈر انسان اور باغی ٹی وی جیسے معتبر ادارے کی مہر آپ کے کام پر لگ جائے، تو ذمہ داری کا بوجھ مزید بڑھ جاتا ہے۔ یہ سند اس بات کی گواہی ہے کہ ہم اس ٹیم کا حصہ ہیں جو بکنے کے لیے نہیں، بلکہ حقائق کو ننگا کرنے کے لیے میدان میں اتری ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ سچ بولنا خطرناک ہے، میں کہتا ہوں کہ سچ بولنے کی قیمت چکانا اگر جرم ہے، تو ہم یہ جرم بار بار کریں گے۔ باغی ٹی وی کی 14 سالہ تاریخ گواہ ہے کہ ہم نے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا اور نہ ہی مستقبل میں کریں گے۔ مبارکباد کے مستحق ہیں مبشر لقمان، ممتاز اعوان اور وہ پوری ٹیم جو باغی کہلانے میں فخر محسوس کرتی ہے۔ ہمیں فخر ہے کہ ہم اس ادارے کے سپاہی ہیں جہاں قلم کی نوک پر سچ ناچتا ہے اور جہاں ضمیر کی آواز پر پہرے نہیں بٹھائے جاتے۔ حق اور سچ کا یہ سفر جاری رہے گا، کیونکہ باغی ابھی زندہ ہے اور اس کی للکار ایوانوں میں گونجتی رہے گی
    شعر
    جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے
    یہ جان تو آنی جانی ہے، اس جاں کی تو کوئی بات نہیں

  • باغی ٹی وی،مبشر لقمان اور سچ کی قیمت،تحریر:رقیہ غزل

    باغی ٹی وی،مبشر لقمان اور سچ کی قیمت،تحریر:رقیہ غزل

    جناب مبشر لقمان پاکستانی صحافت کا وہ چہرہ ہیں جنہوں نے ہمیشہ سچائی کو اپنا شعار بنایا اور ہر حال میں حق کا ساتھ دیا۔ ان کی سب سے بڑی پہچان ان کی بے باکی ہے اور ان کا ادارہ "باغی ٹی وی” (Baaghi TV) اسی سوچ کا عملی نمونہ ہے۔ وہ حقائق کو بغیر کسی لچک کے عوام کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ اگرچہ اسی کڑوی سچائی کی وجہ سے ایک طبقہ انہیں ناپسند بھی کرتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ لوگ ان کی اسی حق گوئی کی وجہ سے ان سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔ ان کے بارے میں اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ ان کا سب سے بڑا جرم یہی ہے کہ وہ سچ بولتے ہیں اور اسی سچ کی خاطر انہیں کئی بار بڑے نقصانات بھی اٹھانے پڑے مگر انہوں نے کبھی اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔

    ​باغی ٹی وی کے ساتھ میرا تعلق اور واسطہ خالصتاً ممتاز اعوان صاحب کی مرہونِ منت ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ ممتاز اعوان صاحب اس ادارے کی ترقی کے لیے کس قدر محنت اور لگن سے کام کر رہے ہیں۔ مبشر لقمان صاحب کی جرات اور باغی ٹی وی کا منفرد انداز ہی وہ بنیادی وجہ تھی جس نے مجھے اس چینل کی طرف راغب کیا اور ممتاز اعوان صاحب نے اس تعلق کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کی۔

    ​آج باغی ٹی وی کو 14 سال مکمل ہونے پر میں مبشر لقمان صاحب، ممتاز اعوان صاحب اور پوری ٹیم کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ میری دعا ہے کہ حق اور سچ کا یہ سفر اسی طرح کامیابی سے جاری رہے۔
    ​میں مبشر لقمان صاحب اور ممتاز اعوان صاحب کی تہہ دل سے مشکور ہوں کہ انہوں نے میری صحافتی خدمات کو سراہا ۔۔میرے لیے یہ محض کوئی معمولی سند نہیں بلکہ ایک بہت بڑا اعزاز ہے جو مجھے مبشر لقمان صاحب جیسے نڈر انسان اور باغی ٹی وی جیسے معتبر ادارے کی طرف سے ملا ہے۔ میں ممتاز اعوان صاحب کا بھی خاص طور پر شکریہ ادا کرتی ہوں جن کی وجہ سے مجھے اس وقار اور سچ کا ساتھ دینے والی ٹیم کا حصہ بننے کا موقع ملا۔

  • باغی ٹی وی،امید کی کرن،تحریر:حافظ حمزہ سلمانی

    باغی ٹی وی،امید کی کرن،تحریر:حافظ حمزہ سلمانی

    12 جنوری وہ دن ہے جب پاکستانی میڈیا کے افق پر ایک ایسے چینل نے آنکھ کھولی، جس نے صحافت کو کاروبار نہیں بلکہ ذمہ داری سمجھا۔ باغی ٹی وی آج اپنی صحافتی جدوجہد کے 14 برس مکمل کر رہا ہے، اور یہ محض ایک عدد نہیں بلکہ سچ، حوصلے اور استقامت کی ایک طویل داستان ہے۔

    ایسے دور میں جب صحافت اکثر مفادات، اشتہارات اور دباؤ کے آگے جھکتی نظر آتی ہے، باغی ٹی وی نے ابتدا ہی سے ایک باغیانہ مگر اصولی راستہ اختیار کیا۔ یہ وہ پلیٹ فارم ہے جس نے سوال اٹھانے کی جرأت کی، طاقتور حلقوں کے سامنے سچ رکھا، اور عوام کی آواز بننے کا حق ادا کیا۔سینئر صحافی اور نڈر اینکر پرسن مبشر لقمان کی قیادت میں باغی ٹی وی نے خبر کو سنسنی نہیں بلکہ سچائی کے آئینے میں پیش کیا۔ ان کی صحافتی بصیرت اور بے لاگ انداز نے باغی ٹی وی کو محض ایک چینل نہیں بلکہ ایک فکری مزاحمت بنا دیا۔اسی طرح ممتاز اعوان جیسے باصلاحیت اور ذمہ دار ایڈیٹر کی موجودگی نے ادارتی سطح پر باغی ٹی وی کو مضبوط، متوازن اور باوقار رکھا۔

    باغی ٹی وی کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ یہاں خبر طاقت کے کہنے پر نہیں، ضمیر کے مطابق چلتی ہے۔ یہاں اختلافِ رائے کو دبایا نہیں جاتا بلکہ اسے جگہ دی جاتی ہے۔ یہاں صحافی کو ڈرایا نہیں جاتا بلکہ سچ بولنے کا حوصلہ دیا جاتا ہے۔یہ چینل اُن بے شمار نوجوان صحافیوں کے لیے امید کی کرن ہے جو اب بھی صحافت کو عبادت سمجھتے ہیں، نہ کہ سیڑھی۔ باغی ٹی وی نے ثابت کیا کہ اگر نیت صاف ہو تو محدود وسائل کے باوجود بھی بڑی بات کہی جا سکتی ہے۔

    14 برس مکمل ہونے پر باغی ٹی وی کی پوری ٹیم، قیادت، کارکنان اور ناظرین کو مبارکباد۔ دعا ہے کہ یہ پلیٹ فارم اسی طرح سچ بولتا رہے، سوال اٹھاتا رہے اور ہر دور کے فرعونوں کے سامنے کلمۂ حق کہتا رہے۔
    باغی ٹی وی زندہ رہے — کیونکہ سچ کو زندہ رہنا چاہیے۔

  • باغی ٹی وی کی 14 برس کی بہترین صحافتی خدمات،تحریر:رفعت شوکت کھرل

    باغی ٹی وی کی 14 برس کی بہترین صحافتی خدمات،تحریر:رفعت شوکت کھرل

    باغی ٹی وی کو صحافتی و سماجی کردار ادا کرنے پر مبارکباد پیش کرتی ہوں۔باغی ٹی وی کو صحافتی خدمات سر انجام دیتے ہوئے 14 برس ہو گئے ہیں۔ اس چینل کو فروغ دینے میں اہم شخصیات محترم مبشر لقمان صاحب اور ممتاز اعوان ایڈیٹر صاحب ہیں۔
    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان جو کہ باغی ٹی وی کے سی۔ای۔او ہیں، انہوں نے ذہنی و فکری صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے معاشرے میں اہم خدمات سر انجام دی ہیں۔ انہوں نے معاشرے میں ہونے والے حالات و واقعات کو اپنے قلم و فکری سوچ کے زریعے قلمبند کیا ہے۔ معاشرے میں انقلاب برپا کرنے کے لیے ذہنی مہارتوں کو نہایت خوش اسلوبی سے استعمال کیا ہے اور لکھاریوں کے لیے متحرک ثابت رہے ہیں۔ دوسری اہم شخصیت محترم ممتاز اعوان صاحب جو کہ اس چینل کے ایڈیٹر ہیں، وہ اس چینل کے لیے ریڑھ کی ہڈی کے طور پر مصروف رہے ہیں۔ وہ قدم بہ قدم عقلی و شعوری صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے تمام لکھاریوں کے لیے آسانی کا باعث بنے ہیں۔ ان کی ادبی و علمی خدمات اس بات کا ثبوت ہیں کہ باغی ٹی وی چینل ایک کامیابی کی راہ پر گامزن ہے۔

    میں باغی ٹی وی کی پوری تنظیم کو ادبی و ثقافتی اور مثبت خدمات سر انجام دینے پر مبارک باد پیش کرتی ہوں۔
    دعا ہے کہ یہ تنظیم یوں ہی کامیابی کی راہ پر گامزن رہے۔

  • باغی ٹی وی اور آزادیِ صحافت،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    باغی ٹی وی اور آزادیِ صحافت،تحریر:سیدہ سعدیہ عنبرؔ الجیلانی

    صحافت آزادیِ رائے کا نام ہے۔ ایک صحافی اپنے قلم کے ذریعے اپنے باضمیر ہونے کا ثبوت دیتا ہے۔ اور ایک باضمیر صحافی کو ایک آزاد پلیٹ فارم کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو اس کی صدائے حق کو بلند کرنے میں معاون ثابت ہو سکے ۔ باغی ٹی وی عرصہ 14 سال سے یہ فریضہ بدرجہ ء اتم پورا کر رہا ہے۔ حالات جیسے بھی ہوں ، ہوائیں کسی سمت بھی محو ء پرواز ہوں۔ باغی ٹی وی نے اپنی آزادی پہ حرف نہیں آنے دیا۔ بلکہ صحافت کو ایک نئی جہت دی ۔ اسی پلیٹ فارم سے کئی معروف قلم کار نکلے ۔ سوچ کے نئے زاویے پروان چڑھے، اور عوام تک سچائی کو پہنچایا گیا۔ آج کے دور میں جب میڈیا بہت آگے جا چکا ہے۔ کئی پلیٹ فارمز بن چکے ہیں۔ مگر باغی ٹی وی نے اپنے معیار کو برقرار رکھتے ہوئے سچائی اور آزادیِ رائے میں باہمی توازن کو ہمیشہ فروغ دیا ہے۔ اس پلیٹ فارم نے ناصرف ملکی سطح بلکہ عالمی حالات پہ بھی کالمز اور معلومات کی فراہمی سے صحافت کے دائرے کو وسعت دی ۔

    آج باغی ٹی وی کو اپنی صحافتی خدمات جاری رکھے ہوئے 14 سال مکمل ہو گئے ہیں۔ اس کامیاب سفر پہ باغی ٹی وی کی پوری ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے۔ دعا ہے۔ کہ رب کریم اسے مزید کامیابیوں سے نوازے۔ اور حق کی آواز بلند ہوتی رہے۔
    آمین

  • سالگِرہ مبارک،باغی ٹی وی،تحریر:  تابندہ طارق عکس

    سالگِرہ مبارک،باغی ٹی وی،تحریر: تابندہ طارق عکس

    باغی ٹی وی کا ایک اور نیا سال،نئی امیدوں کے ساتھ ابھرتی ہوئی لو کی طرح ایک اور سالگِرہ کے ساتھ آگے بڑھتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔کچھ ادارے وقت کے ساتھ صرف آگے بڑھتے ہوئے نظر نہیں آتے بلکہ
    وہ وقت کا ضمیر بن جاتے ہیں۔باغی ٹی وی بھی ایک ایسا ہی نام ہے۔یہ صرف ایک میڈیا پلیٹ فارم نہیں ہے،یہ اُس سوال کی طرح ہے جو خاموشی سے انکار کرتا ہے اور شور کے ساتھ اقرار کرتا ہے ایک جوش اور ولولے کا یہ اُس آواز کا نام ہے جو دبائی نہیں جاسکتی نہ ہی مٹائی جاسکتی۔باغی ٹی وی کی سالگِرہ دراصل سچ کے ساتھ ایک اور سال مکمل ہونے کا اعلان ہے۔ایسے وقت میں، جب خبر سے پہلے مفاد بولتا ہو،سچ سے پہلے جھوٹ چیختا ہوا سنائی دیتا ہو،جب سچ کو ریٹنگ اور خاموشی کے درمیان چُننا پڑتا ہو،وہاں باغی ٹی وی نے سچ بولنے کا انتخاب کیا۔یہ پلیٹ فارم ان لوگوں کا حوصلہ ہےجن کی آوازیں کمرۂ اقتدار تک نہیں پہنچ پاتیں۔یہ ان سوالوں کی نمائندگی ہےجو اکثر فائلوں میں دفن کر دی جاتی ہیں۔یہ اس صحافت کی یاد دہانی کرواتی ہےجو طاقت کے سامنے نہیں جھکنے یا ڈرنے والوں میں سے نہیں بلکہ طاقت سے سوال کرتی ہے۔

    باغی ٹی وی نے سب کو بتایا ہےکہ باغی ہونا انتشار نہیں،بلکہ ناانصافی کے سامنے خاموش نہیں رہنا ہے۔یہ اختلاف یا بدتمیزی نہیں،بلکہ شعور کی پہلی سیڑھی ہے۔ہر سالگِرہ ایک سنگِ میل ہوتی ہے،ایک نیا قدم ایک نئی جدوجہد کے سنگ آگے بڑھنے کا نام ہوتا ہے نہ کے پیچھے مڑ کر دیکھنے کا نام ہے کے آپ نے کن مشکلات،کن مسائل کا سامنا اکیلے کیا تھا۔باغی ٹی وی کے لیے یہ دن اس عہد کی تجدید ہےکہ سچ مشکل ضرور ہو سکتا ہے مگر ترک نہیں کیا جا سکتا۔اس سے منہ نہیں موڑا جا سکتا ہے۔یہ سالگِرہ کا دن صرف ایک باغی ٹی وی کے لیے خاص دن نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے ہر اس انسان کے لیے آج سالگِرہ کا دن ہے جس نے باغی ٹی وی کے لیے دن رات محنت کی ہے ان تمام قلمکاروں، رپورٹرز، اینکرزاور پسِ منظر کام کرنے والی ٹیم کو سلام جنہوں نے باغی ٹی وی کو کامیاب بنانے کے لیے اپنا قیمتی وقت اور خون پسینہ بہایا ہے جس کی وجہ سے آج باغی ٹی کا ایک نام ہے ایک پہچان ہے ایک عزم ہے ایک ہمت ہے ایک کاوش ہے ایک بھروسہ ہے۔ان سب لوگوں کا جنہوں نے دباؤ کے باوجود قلم کو جھکنے نہیں دیا،لفظوں کو مرنے نیا دیا قرطاس کو بنجر ہونے نہیں دیا اور جنہوں نے خبر کو خبر رہنے دیا،تماشا نہیں بننے دیا۔باغی ٹی وی کی سالگِرہ پرہم یہ نہیں کہتے کہ راستہ آسان تھا،ہم یہ کہتے ہیں کہ منزل دور تھی۔اس منزل کو پانے کے لیے مسافت طے نہیں کرنی پڑی۔بے شک مشکل کے بعد آسانی ہے اور آسانی کے بعد اور بھی آسانی ہے۔اللّٰہ پاک سے
    دعا ہے کہ یہ چراغ یوں ہی جلتا رہے،یوں ہی روشنی بانٹتا رہے،اور ہر آنے والا سال سچ کہنے،بولنے اور سننے کی مزید طاقت عطا فرمائے۔ (آمین یارب العالمین)۔

    سالگِرہ مبارک ہو باغی ٹی وی اور اس سے وابستہ تمام لوگوں کو نیک خواہشات ڈھیروں دعائیں آپ کے لیے شاد رہیں آباد رہیں۔

  • 14 برس کا باغی .تحریر: اعجازالحق عثمانی

    14 برس کا باغی .تحریر: اعجازالحق عثمانی

    مری آہ و فُغاں سن کر خفا دربار ہیں مُجھ پر
    یہ لکھتے اُن کی جانب سے کئی اخبار ہیں مُجھ پر
    میں باغی ہوں مگر پہلے بغاوت کا سبب جانو
    وگرنہ ہتھکنڈے اوچھے سبھی بے کار ہیں مجھ پر (ڈاکٹرالیاس عاجز)
    وقت بتاتا ہے کہ کونسا ادارہ محض حالات کی پیداوار تھا یا مخصوص لوگوں کا فرمائشی اور کون اپنے حصے کی شمع جلانےآیا تھا۔یہاں وقت اور حالات کے ساتھ رخ بدلنے کا رواج عام ہے۔ اپنے لفظوں کو ایوانوں کی دہلیز پہ گروی رکھ لیا جاتا ہے۔ مگر کچھ سر پھرے، اپنے کام اور ملک سے محبت کرنے والے، حالات سے بغاوت کرکے، "کھرے سچ” کا دیا جلائے رکھتے ہیں۔ میرے قلم نے 2021 میں پہلی دفعہ "باغی ٹی وی” نامی ایک ڈیجٹیل پلیٹ فارم کےلیے لکھنا شروع کیا۔ میرا خیال تھا کہ یہ بھی ایک ویب سائٹس کے سوا کچھ نہ ہوگا۔ مگر بعد میں یہ عقدہ وا ہوا کہ میاں یہ صرف ایک ویب سائٹ نہیں بلکہ ایک مکمل اور پروفیشنل ادارہ ہے۔ باغی ٹی وی نے آج سے 14 برس قبل جب سئینر اینکر و کالم نگار مبشر لقمان کی سربراہی میں ڈیجیٹل افق پر قدم رکھا تو تب سے باغی ظلم کے خلاف حالت جنگ میں ہے۔ یہ سماج کیونکہ سچ سننے کا عادی نہیں ہے، سچ بولنے والوں کا جو حال اس پاک سرزمین پر سبھی کا ہوتا ہے، "باغی” کو بھی انہی حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ احتجاج کی کوریج ہو یا لانگ مارچ یا جلسے، باغی ٹی وی نے مین سٹریم میڈیا کی طرح ہر ایونٹ کو کوریج دی۔ بلکہ اپنا کیمرہ موڑنے کی بجائے وہاں رکھا، جس کو دکھانا ممنوع تھا۔ دباؤ، دھمکیاں، حتی کہ باغی ٹی وی کی آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ کا بلیو ٹک تک ختم کروا دیا گیا۔ یہاں تک کہ پاکستان دشمن مودی سرکار بھی باغی کی بغاوت سے خائف نظر آئی۔ اور کئی مرتبہ ٹوئٹر اکاؤنٹ بند اور ویب سائٹس کو ہیک کرنے کی کوشش کی گئی۔ مگر باغی نے اجمل صدیقی صاحب کے اس شعر پر عمل کرتے ہوئے کام جارہی رکھا۔
    ؎یہ ہی ہیں دن، باغی اگر بننا ہے بن
    تجھ پر ستم کس کو پتا پھر ہو نہ ہو

    باغی ٹی وی اس وقت پانچ مختلف زبانوں میں اپنے قارئین کو باخبر رکھے ہوئے ہے۔ اردو، انگریزی، پشتو اور چینی وغیرہ جیسی زبانوں میں صرف باغی ٹی وی کی ہی ویب سائٹس ہیں۔ زبانیں پانچ ہیں،مگر موقف ایک ہی ہے۔ یہی وجہ کا آج باغی ٹی وی دنیا بھر میں دیکھا اور پڑھا جاتا ہے۔ گزشتہ 10 برس سے باغی ٹی وی یوٹیوب پر بھی موجود ہے۔ جہاں 2200 سے زائد ویڈیوز موجود ہیں۔ویڈیوز کی موجودگی محض تعداد نہیں، سنسرشب کے دور میں سچ کی داستان ہے۔ یہ صرف ویڈیوز نہیں، بلکہ خبروں ، انفارمیشن اور حقائق کا منبع ہیں۔ پروگرام "باغی بریسیٹر” ہو ،یا ” باغی کا پاکستان” اور معروف انوسٹیگئٹو جرنلسٹ محسن بھٹی کا حقائق کا پردہ چاک کرنے والا پروگرام "موت کا دھندا” ہو، جس کی صرف ایک ایپی سوڈ کو 1.8 ملین سے زائد افراد نے دیکھا، یہ سب باغی کے سچ کی جنگ کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ پروگرام ” باغی ستارے” ہو یا ” خوابوں کی تعبیر ” باغی نے عوام کو باخبر رکھنے کےلیے کسی ڈومین کو نہ چھوڑا۔ حتی کہ جن چھوٹے علاقوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے، ان کےلیے "علاقائی” اور "ریجنل ہیڈ لائنز” بھی نشر کی جاتی رہی ہیں۔ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں باغی ٹی وی نے لاہور کی تاریخی بادشاہی مسجد سے نماز تراویح کی لائیو کوریج کرنے کا اعزاز بھی حاصل کر رکھا ہے۔

    باغی ٹی وی کے ایڈیٹر ” ممتاز اعوان” صاحب ہمارے مہربان ہیں۔ گزشتہ برس انھوں نے باغی ٹی وی کی سالگرہ پر مدعو کیا۔ تو ہم بھی باغی ٹی وی کی 13 وی سالگرہ کا کیک کھانے 365 نیوز کی بلڈنگ میں مبشر لقمان صاحب کے دفتر پہنچے۔ مبشر لقمان صاحب کسی مصروفیت کی وجہ سے اسلام آباد چلے گئے تو 365 نیوز کے ڈائریکٹر نیوز و کرنٹ افیئرز سینئر صحافی محمد عثمان صاحب کے ہمراہ کیک کاٹا گیا۔ ہمیں بتایا گیا تھا کہ اس تقریب میں 2 چکوالی اور بھی آئیں گے۔ فیصل رمضان صاحب کا تعارف ہوئے چند ہفتے ہی گزرے تھے،مگر وہ بھی تشریف نہ لا سکے۔جبکہ دوسرے چکوالی ایم ایم علی صاحب کو گزشتہ 5،6 برسوں سے سوشل میڈیا پر دیکھ اور پڑھ رکھا تھا۔ ایم ایم علی صاحب معروف ادبی تنظیم ” آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن” کے بانی ہیں۔ لیکن ان سے بھی کبھی بالمشافہ ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ اسی دن ان سے بھی ملاقات ہوئی، اور یہ بھی حیران کن انکشاف ہوا کہ مبشر لقمان صاحب بھی چکوالی ہیں۔ اس تقریب میں مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم صاحب سے بھی ملاقات ہوئی۔ اور خاکسار نے انھیں اپنی کتاب "عثمانی نامہ ” پیش کی۔تقریب میں دیگر شرکاء کے ساتھ ساتھ ہمیں بھی اعزازی سرٹیفکیٹ 365 نیوز کے ڈائریکٹر نیوز کے ہاتھوں ملا۔

    میں نے پہلی دفعہ 2021 میں باغی میں لکھنا شروع کیا۔ اب تک باغی کےلیے 60 سے زائد آرٹیکلز لکھ چکا ہوں۔ شاید اس لیے کہ یہاں کبھی قلم پابند نہیں کیا گیا۔ جو چاہا لکھا اور چھپ گیا۔ ماضی قریب کے زلزلے اور سیلاب میں باغی ٹی وی کی رپورٹنگ کو بہت قریب سے دیکھا۔ کئی ایک بڑے مین سٹریم سے بہتر رپورٹنگ اور معلومات دیکھنے کو ملی۔ باغی ٹی وی نے روایتی میڈیا پلیٹ فارم پر چند مگرمچھوں کے قبضے کے برعکس ہمیشہ نئے لکھاریوں کو نہ صرف موقع دیا بلکہ حوصلہ افزائی بھی کی۔ یہ ادارہ نہ صرف ملک بھر کے مظلوموں کی آواز بنتا ہے۔ بلکہ چند برس قبل جب بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت پر ڈاکا ڈالا تو مجھے اس وقت صرف باغی ٹی وی ہی واحد ڈیجیٹل پلیٹ فارم نظر آیا جو کہ بڑھ چڑھ کر بھارتی مظالم کو دھمکیوں کے باوجود بے نقاب کرتا رہا۔
    ؎کہتے ہیں باغی مجھ کو زمانے والے
    کہ یہ طور نہیں زندگی نبھانے والے
    ٹوٹا بھی تو بکھرنے نہیں دیا خود کو
    پچھتائے ہر بار مجھے آزمانے والے

    یقینا 14 برس مکمل ہونے پر سی ای او باغی ٹی وی مبشر لقمان صاحب اور ایڈیٹر باغی ٹی وی ممتاز اعوان صاحب سمیت دیگر ٹیم بھی مبارکباد کی مستحق ہے۔ خدا نے چاہا تو یہ سفر جاری رہے گا۔ اور پندرہ برس مکمل ہونے تک ہم بھی اپنے آرٹیکلز کی سینچری مکمل کر لیں گے۔

  • صحافتِ صدق کے چودہ سال.تحریر : ثناءسجاد

    صحافتِ صدق کے چودہ سال.تحریر : ثناءسجاد

    ہر عہد اپنے ساتھ کچھ سوالات لاتا ہے اور ہر نسل ان سوالات کے جواب اپنی جدوجہد سے دیتی ہے۔ آج سے چودہ برس قبل، جب ڈیجیٹل افق پر امکانات کی کہکشاں تو روشن تھی مگر سمتیں دھندلی تھیں، صحافت کے مروجہ ڈھانچے کو چیلنج کرنے کے لیے ایک "باغی” آواز نے جنم لیا۔ یہ باغی ٹی وی تھا، جس کا نام فقط ایک شناخت نہیں، بلکہ ایک مکمل منشور تھا ایک ایسا عہد جو طاقت کے مراکز میں گونجنے والے شور کے برعکس، بےآوازوں کی آواز بننے کے لیے باندھا گیا تھا…

    چودہ سال کا عرصہ کسی ادارے کی زندگی میں ایک اہم سنگِ میل ہوتا ہے، لیکن باغی ٹی وی کے لیے یہ محض گنتی کے سال نہیں، بلکہ جبر کے سامنے حرفِ انکار بلند کرنے اور سچائی کو ہر مصلحت پر مقدم رکھنے کی ایک مسلسل داستان ہے.. سینئر صحافی مبشر لقمان کی قیادت میں اس ادارے نے جس راستے کا انتخاب کیا، وہ پھولوں کی سیج نہیں تھی۔ یہ وہ خارزار وادی تھی جہاں ہر قدم پر سوال اٹھائے جاتے ہیں، دھمکیاں دی جاتی ہیں، اور کردار کشی کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن باغی ٹی وی نے اپنے نام کی لاج رکھتے ہوئے، ہر دباؤ کے سامنے جھکنے سے انکار کیا۔ اس کا سفر اس نظریے کا عملی ثبوت ہے کہ صحافت محض خبر رسانی کا نام نہیں، بلکہ معاشرتی شعور کو بیدار کرنے اور ظلم کے خلاف فکری مزاحمت کا ایک مقدس فریضہ ہے..

    باغی ٹی وی کا فلسفہ اس یقین پر قائم ہے کہ حقیقی صحافت وہ ہے جو ریاست کے نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی محافظ ہو… اس کا مقصد صرف سیاسی اتار چڑھاؤ کا احاطہ کرنا نہیں، بلکہ ان ثقافتی، سماجی اور اخلاقی اقدار کا دفاع کرنا بھی ہے جو کسی قوم کی شناخت ہوتی ہیں۔ اردو، انگریزی، پشتو جیسی زبانوں میں نشریات کا آغاز صرف ایک کاروباری توسیع نہیں، بلکہ ایک گہری فکری سوچ کا نتیجہ ہے ایک ایسی کوشش جس کا مقصد پاکستان کا مقدمہ عالمی ضمیر کے سامنے مؤثر انداز میں پیش کرنا اور دنیا کو یہ بتانا ہے کہ ہم صرف خبروں کا موضوع نہیں، بلکہ ایک زندہ اور توانا تہذیب کے امین ہیں۔

    مبشر لقمان اور ان کی ٹیم نے باغی ٹی وی کوایک تحریک بنا دیا۔ یہ وہ پلیٹ فارم ہے جہاں ان موضوعات پر بھی بات ہوئی جنہیں روایتی میڈیا میں ممنوع سمجھا جاتا تھا۔ یہ ادارہ اس حقیقت کا گواہ ہے کہ جب ارادے نیک اور عزم پختہ ہو تو وسائل کی کمی اور حالات کی سختی راستہ نہیں روک سکتی۔ یہ امید کی وہ کرن ہے جو بتاتی ہے کہ مایوسی کے اندھیروں میں بھی سچ کا چراغ روشن رکھا جا سکتا ہے۔آج، جب باغی ٹی وی اپنی چودھویں سالگرہ منا رہا ہے، تو یہ جشن صرف ایک ادارے کی کامیابی کا نہیں، بلکہ اس نظریے کی فتح کا ہے کہ حرف کی حرمت ہر دور میں قائم رہتی ہے۔ یہ ان تمام گمنام صحافیوں، نمائندوں اور کارکنوں کی محنت کو خراجِ تحسین ہے جو اس قافلے کا حصہ بنے اور مشکلات کے باوجود اپنے ضمیر کا سودا نہیں کیا۔

    ہماری دعا ہے کہ باغی ٹی وی کا یہ سفر اسی جرأت اور استقامت کے ساتھ جاری رہے۔ یہ ادارہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن مثال بن کر ابھرے اور ثابت کرے کہ جب ایک قوم اپنے نظریات کے ساتھ کھڑی ہو جائے، تو کوئی طوفان اس کے چراغ بجھا نہیں سکتا۔.

  • باغی ٹی وی ڈیجیٹل صحافت میں سچائی، جرات  کے 14 سال ،تحریر: ملک ارشد کوٹگلہ

    باغی ٹی وی ڈیجیٹل صحافت میں سچائی، جرات کے 14 سال ،تحریر: ملک ارشد کوٹگلہ

    پاکستانی ڈیجیٹل میڈیا کے افق پر اگر کسی ادارے نے سچ، جرات اور قومی غیرت کے ساتھ اپنی پہچان قائم کی ہے تو وہ باغی ٹی وی ہے۔ آج باغی ٹی وی اپنی 14ویں سالگرہ منا رہا ہے، اور یہ محض ایک چینل کی سالگرہ نہیں بلکہ اس مثبت صحافتی سفر کی تکمیل ہے جس نے ڈیجیٹل میڈیا کو ایک نیا رخ دیا۔ باغی ٹی وی نے ان چودہ برسوں میں خود کو صرف ایک خبر رساں پلیٹ فارم تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے سچائی کی ترجمانی، قومی وقار کے دفاع اور عوامی شعور کی بیداری کا مضبوط ذریعہ بنا دیا۔باغی ٹی وی کا قیام ایسے وقت میں عمل میں آیا جب پاکستان میں ڈیجیٹل میڈیا تیزی سے ابھر رہا تھا، مگر معیار، تحقیق اور ذمہ داری کا فقدان نمایاں تھا۔ اس دور میں باغی ٹی وی نے سچ پر مبنی صحافت کو اپنا شعار بنایا اور دیکھتے ہی دیکھتے عوام کے اعتماد کا مرکز بن گیا۔ اس چینل نے نہ صرف بڑے شہروں بلکہ دور دراز اور نظر انداز شدہ علاقوں کی آواز کو بھی ایوانِ اقتدار اور عالمی فورمز تک پہنچایا، جو اس کی عوام دوست پالیسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

    باغی ٹی وی کی کامیابی کے پیچھے سب سے اہم کردار اس کے سی ای او، سینئر صحافی مبشر لقمان کی قیادت کا ہے۔ مبشر لقمان نے اپنے وسیع صحافتی تجربے، جرات مندانہ سوچ اور غیر متزلزل اصولوں کے ذریعے اس ادارے کو ایک منفرد شناخت دی۔ ان کی قیادت میں باغی ٹی وی نے نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ بین الاقوامی میڈیا میں بھی اپنا مقام بنایا۔ ان کا یہ یقین کہ صحافت کا اصل مقصد سچ کو سامنے لانا اور قومی مفاد کا تحفظ کرنا ہے، باغی ٹی وی کی پالیسیوں میں واضح طور پر جھلکتا ہے۔باغی ٹی وی کی سب سے بڑی پہچان اس کی غیر جانبدار، تحقیق پر مبنی اور ذمہ دار صحافت ہے۔ یہ چینل سنسنی خیزی، افواہوں اور غیر مصدقہ خبروں سے ہمیشہ دور رہا۔ ہر خبر کے پیچھے تحقیق، حقائق اور سچائی کو بنیاد بنایا گیا، جس کی بدولت عوام نے اس پلیٹ فارم پر بھرپور اعتماد کیا۔ یہی وجہ ہے کہ باغی ٹی وی آج ڈیجیٹل میڈیا میں ایک معتبر حوالہ سمجھا جاتا ہے۔

    قومی سطح پر باغی ٹی وی نے ہمیشہ پاکستان کے نظریاتی، جغرافیائی اور دفاعی مفادات کا بھرپور دفاع کیا۔ جب بھی پاکستان مخالف عناصر نے پروپیگنڈہ کیا، باغی ٹی وی نے دلیل، حقائق اور جرات کے ساتھ اس کا جواب دیا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہو یا قومی سلامتی کے معاملات، باغی ٹی وی نے ایک ذمہ دار سپاہی کی طرح اپنا کردار ادا کیا اور قلم کو وطن کے دفاع کا ہتھیار بنایا۔علاقائی اور مقامی مسائل کے حوالے سے بھی باغی ٹی وی کا کردار قابلِ تحسین ہے۔ ملک بھر میں موجود اس کے نمائندے عوامی مسائل کو اجاگر کرتے ہیں اور ان کی آواز اعلیٰ ایوانوں تک پہنچاتے ہیں۔ یہ وہ پہلو ہے جو باغی ٹی وی کو دیگر پلیٹ فارمز سے ممتاز کرتا ہے، کیونکہ یہاں صرف طاقتور کی نہیں بلکہ عام آدمی کی بات بھی سنی جاتی ہے۔

    آج باغی ٹی وی کی 14ویں سالگرہ کے موقع پر یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یہ ادارہ مثبت صحافت، سچائی کی ترجمانی اور وطن دوستی کی ایک روشن مثال بن چکا ہے۔ مبشر لقمان اور ان کی ٹیم نے ثابت کیا کہ اگر نیت صاف اور مقصد قومی خدمت ہو تو صحافت نہ صرف معاشرے کو درست سمت دے سکتی ہے بلکہ تاریخ میں اپنا نام بھی رقم کر سکتی ہے۔ امید ہے کہ باغی ٹی وی آئندہ بھی اسی عزم، جرات اور سچائی کے ساتھ پاکستان کی خدمت کرتا رہے گا اور حق کی آواز بن کر ہر محاذ پر ڈٹا رہے گا۔