Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • باغی ٹی وی سچ بولنے کی قیمت ادا کرتی صحافت.  تحریر:رخسانہ سحر

    باغی ٹی وی سچ بولنے کی قیمت ادا کرتی صحافت. تحریر:رخسانہ سحر

    ایسے دور میں جب صحافت طاقت کے ایوانوں کی خوشنودی اشتہارات کی مجبوری اور مفادات کی زنجیروں میں جکڑی نظر آتی ہے، وہاں باغی ٹی وی جیسے ادارے کا چودہ برس تک ڈٹے رہنا محض ایک چینل کی کامیابی نہیں بلکہ ضمیر کی فتح ہے۔12 جنوری کو باغی ٹی وی اپنی صحافتی جدوجہد کے 14 برس مکمل کر رہا ہے۔ یہ وہ برس ہیں جو دباؤ دھمکیوں، پابندیوں اور معاشی رکاوٹوں سے عبارت ہیں، مگر اس کے باوجود سچ بولنے کا چراغ بجھنے نہیں دیا گیا۔

    باغی ٹی وی کے سی ای او سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان وہ نام ہیں جن کی صحافت ہمیشہ سوال اٹھانے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے اور طاقتور بیانیوں کو چیلنج کرنے سے جڑی رہی ہے۔ انہوں نے کبھی صحافت کو محض پیشہ نہیں سمجھا بلکہ اسے ایک اخلاقی فریضہ کے طور پر نبھایا۔اسی طرح ممتاز اعوان جیسے سنجیدہ اور ذمہ دار صحافی کی بطور ایڈیٹر موجودگی نے باغی ٹی وی کے مواد کو توازن، تحقیق اور وقار عطا کیا۔باغی ٹی وی کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ یہاں خبر بیچی نہیں جاتی نہ ہی سچ کو پیکجنگ میں لپیٹ کر پیش کیا جاتا ہے۔ یہاں صحافت وہی ہے جو عوام کے سوالات محرومیوں اور سچائیوں کو آواز دیتی ہے چاہے اس کی قیمت کتنی ہی کیوں نہ ہو۔یہ چینل ہمیں یاد دلاتا ہے کہ صحافت کا اصل کام طاقتور کو خوش کرنا نہیں بلکہ طاقت سے سوال کرنا ہے۔ باغی ٹی وی نے بارہا ثابت کیا کہ اگر نیت صاف ہو تو محدود وسائل کے باوجود بھی کھری اور بےباک صحافت ممکن ہے۔

    چودہ برس کا یہ سفر اس بات کا ثبوت ہے کہ باغی ہونا انتشار نہیں بلکہ سچ کے ساتھ کھڑا ہونا ہے۔ہم باغی ٹی وی کی پوری ٹیم کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دیتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ یہ ادارہ آئندہ بھی سچ جرات اور عوامی شعور کی شمع روشن رکھے گا۔
    باغی ٹی وی، جہاں صحافت اب بھی سر نہیں جھکاتی۔

  • باغی ٹی وی کے 14 سال، حق گوئی، جرات اور عوامی آواز کی داستان،تحریر : سدرہ قیوم

    باغی ٹی وی کے 14 سال، حق گوئی، جرات اور عوامی آواز کی داستان،تحریر : سدرہ قیوم

    صحافت محض خبر دینے کا نام نہیں، بلکہ سچ کے ساتھ کھڑے ہونے، طاقتور کے سامنے سوال اٹھانے اور کمزور کی آواز بننے کا عزم ہے۔ باغی ٹی وی نے گزشتہ 14 برسوں میں اسی عزم کو اپنی پہچان بنایا۔ یہ وہ سفر ہے جو مشکلات، دباؤ، تنقید اور آزمائشوں سے گزرتا ہوا آج اعتماد، وقار اور جرات کی علامت بن چکا ہے۔
    باغی ٹی وی کا قیام ایک ایسے دور میں ہوا جب روایتی صحافت کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل میڈیا نئی کروٹ لے رہا تھا۔ اس ادارے نے ابتدا ہی سے منفرد اور بے باک انداز اپنایا۔ یہاں خبر کو سنسنی نہیں بلکہ ذمہ داری کے ساتھ پیش کیا گیا، اور رائے کو دلیل اور تحقیق کا لباس پہنایا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ باغی ٹی وی نے بہت کم عرصے میں اپنی الگ شناخت قائم کر لی۔

    ان 14 برسوں میں باغی ٹی وی نے سیاسی، سماجی، عدالتی اور عوامی مسائل کو نہایت جرات کے ساتھ اجاگر کیا۔ طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے افراد سے سوال کرنا ہو یا گلی محلوں میں بسنے والے عام شہری کے مسائل سامنے لانے ہوں، باغی ٹی وی نے ہمیشہ توازن، سچائی اور عوامی مفاد کو مقدم رکھا۔ کئی مواقع پر دباؤ بھی آیا، تنقید بھی ہوئی، مگر سچ کہنے کا سفر کبھی رکا نہیں۔باغی ٹی وی کی سب سے بڑی طاقت اس کی آزاد صحافت ہے۔ یہاں اختلافِ رائے کو برداشت کیا گیا، سوال پوچھنے کی حوصلہ افزائی کی گئی اور صحافت کو صرف خبر نہیں بلکہ شعور بیداری کا ذریعہ سمجھا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ناظرین اور قارئین نے اس ادارے پر بھروسا کیا اور اسے اپنا میڈیا پلیٹ فارم مانا۔ڈیجیٹل دور میں باغی ٹی وی نے خود کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ رکھا۔ ویب، سوشل میڈیا اور ویڈیو پلیٹ فارمز پر فعال موجودگی نے اسے نوجوان نسل سے جوڑا، جبکہ تجربہ کار تجزیوں نے سنجیدہ حلقوں میں اس کی ساکھ کو مضبوط کیا۔ یہ امتزاج باغی ٹی وی کی کامیابی کا ایک اہم راز ہے۔

    آج جب باغی ٹی وی اپنی صحافتی خدمات کے 14 سال مکمل کر رہا ہے تو یہ لمحہ محض سالگرہ کا نہیں، بلکہ ایک جدوجہد کے اعتراف کا ہے۔ یہ ان تمام صحافیوں، رپورٹرز، اینکرز اور کارکنوں کی محنت کا ثمر ہے جنہوں نے دن رات ایک کر کے اس ادارے کو معتبر بنایا۔دعا ہے کہ باغی ٹی وی آئندہ بھی سچ، حق اور عوامی آواز کے ساتھ کھڑا رہے، صحافت کے اعلیٰ اقدار کی پاسداری کرے اور آنے والے برسوں میں مزید مضبوط، بااثر اور باوقار کردار ادا کرے۔

    باغی ٹی وی کو 14ویں سالگرہ مبارک ، سچ کہنے کا سفر یونہی جاری رہے۔

    پاکستانی صحافت میں چند نام ایسے ہیں جو محض اینکر یا رپورٹر نہیں بلکہ ایک دبنگ آواز، ایک مؤقف اور ایک فکر کی نمائندگی کرتے ہیں۔ سینئر صحافی مبشر لقمان کا شمار بھی انہی نمایاں شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے برسوں کی محنت، تحقیق اور جراتِ اظہار سے صحافت کو ایک نیا زاویہ عطا کیا۔مبشر لقمان کی صحافتی پہچان ان کی بے لاگ گفتگو، گہری تحقیق اور دوٹوک سوالات ہیں۔ وہ ان صحافیوں میں شامل ہیں جنہوں نے ہمیشہ طاقتور حلقوں سے سوال کرنے کی روایت کو زندہ رکھا۔ ان کے پروگرامز اور تجزیے محض خبروں کا مجموعہ نہیں ہوتے بلکہ پسِ پردہ حقائق، قومی مفادات اور عوامی مسائل کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی بات نہ صرف سنی جاتی ہے بلکہ سنجیدگی سے لی بھی جاتی ہے۔انہوں نے اپنے کیریئر میں کئی نشیب و فراز دیکھے، مگر اصولی مؤقف سے پیچھے ہٹنا ان کی لغت میں شامل نہیں رہا۔ سیاسی معاملات ہوں، حکومتی پالیسیاں، خارجہ امور یا سماجی ناانصافیاں مبشر لقمان نے ہمیشہ دلیل، دستاویز اور حقائق کی بنیاد پر گفتگو کی۔ یہی طرزِ عمل انہیں ایک عام اینکر سے ممتاز بناتا ہے۔مبشر لقمان کی ایک بڑی خدمت یہ بھی ہے کہ انہوں نے صحافت کو عوامی شعور سے جوڑنے کی کوشش کی۔ ان کے پروگرامز میں سوالات وہی ہوتے ہیں جو ایک عام شہری کے دل میں پل رہے ہوتے ہیں۔ وہ اشرافیہ کی زبان میں نہیں بلکہ عوام کی زبان میں بات کرتے ہیں، اور یہی بات انہیں عوام کے قریب لے آتی ہے۔

    اس فکری اور اعتدال پسند صحافت کے پیچھے ایک مضبوط ادارتی سوچ کا ہونا بھی ناگزیر ہے۔ اس حوالے سے ایڈیٹر ممتاز اعوان کا کردار قابلِ تحسین ہے، جن کی ادارت میں مواد کو توازن، وقار اور ذمہ داری کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ ممتاز اعوان کی ادارتی بصیرت نے صحافتی مواد کو نہ صرف معیاری بنایا بلکہ اسے اخلاقی حدود میں بھی رکھا، جو آج کے تیز رفتار اور سنسنی خیز میڈیا میں ایک بڑی کامیابی ہے۔

  • باغی ٹی وی،کھری صحافت کا امین،تحریر: جان محمد رمضان

    باغی ٹی وی،کھری صحافت کا امین،تحریر: جان محمد رمضان

    صحافت اگر سچ کی تلاش کا نام ہے تو باغی ٹی وی اس تلاش کا وہ روشن چراغ ہے جو گزشتہ چودہ برس سے اندھیروں میں بھی روشنی بانٹ رہا ہے۔ باغی ٹی وی درحقیقت ایک فکری تحریک ہے، جو جراتِ اظہار، حق گوئی اور بے باک صحافت کی علامت بن چکی ہے۔باغی ٹی وی کی بنیاد اس عزم پر رکھی گئی کہ خبر کو خبر ہی رہنے دیا جائے، اس پر مصلحتوں کی گرد نہ جمنے دی جائے۔ سینئر صحافی اور معروف اینکر پرسن مبشر لقمان کی قیادت میں اس ادارے نے وہ مقام حاصل کیا جس کا خواب ہر میڈیا ہاؤس دیکھتا ہے مگر حاصل چند ہی کر پاتے ہیں۔ مبشر لقمان کی صحافتی بصیرت، جرات مندانہ سوالات اور دو ٹوک انداز نے باغی ٹی وی کو عوام کی آواز بنا دیا۔

    باغی ٹی وی نے ہمیشہ سچ کو ترجیح دی، چاہے اس کی قیمت تنقید ہو یا دباؤ۔ اس پلیٹ فارم نے ثابت کیا کہ حق کی راہ مشکل ضرور ہے مگر یہی راہ تاریخ میں زندہ رہتی ہے۔ چودہ برس کا یہ سفر قربانی، استقامت اور عوامی اعتماد کی داستان ہے۔آج جب باغی ٹی وی اپنے قیام کے 14 سال مکمل کر رہا ہے تو یہ اس عہد کی تجدید ہے کہ سچ کہا جائے گا، سچ دکھایا جائے گا اور سچ کے ساتھ کھڑا رہا جائے گا۔باغی ٹی وی کو خراجِ تحسین کہ اس نے صحافت کو کاروبار نہیں بلکہ ذمہ داری سمجھا۔باغی ٹی وی کو سلام کہ اس نے ہمیشہ ظالم اور ظلم کے خلاف بغاوت کرنا سکھایا۔اور باغی ٹی وی کو مبارک ہو کہ وہ چودہ برس بعد بھی اسی جرات، اسی وقار اور اسی سچ کے ساتھ کھڑا ہے۔دعا ہے باغی ٹی وی کا یہ سفر یونہی جاری رہے۔

  • باغی ٹی وی، چودہ برس، سچ کا سفر اور میرا فخر،تحریر:نورفاطمہ

    باغی ٹی وی، چودہ برس، سچ کا سفر اور میرا فخر،تحریر:نورفاطمہ

    آج کا دن میرے لیے شکر، فخر اور یادوں سے لبریز ایک مکمل داستان ہے۔ باغی ٹی وی کی 14ویں سالگرہ کا یہ موقع میرے دل میں خوشی کی ایسی لہر پیدا کر رہا ہے جسے لفظوں میں سمیٹنا آسان نہیں۔ یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ گزشتہ تین برسوں سے میں اس باوقار، متحرک اور جرأت مند ادارے کا حصہ ہوں۔ یہ سفر صرف ایک پروفیشنل کامیابی، ایک ایسا ذاتی تجربہ ہے جس نے میرے شعور، اعتماد اور کیریئر تینوں کو نئی جہت عطا کی۔

    مجھے آج بھی وہ دن یاد ہے جب میں پہلی مرتبہ باغی ٹی وی کے دفتر میں انٹرویو کے لیے داخل ہوئی تھی۔ دل میں بے شمار سوالات، آنکھوں میں خواب اور ذہن میں ہلکی سی گھبراہٹ تھی۔ مگر جیسے ہی سینئر صحافی اور باغی ٹی وی کے سی ای او، محترم مبشر لقمان صاحب سے ملاقات ہوئی، وہ تمام خدشات پل بھر میں تحلیل ہو گئے۔ ان کی شخصیت کا وقار، گفتگو کی شائستگی اور پروفیشنل انداز ایسا تھا کہ چند لمحوں میں ہی ایک گہرا اثر چھوڑ گیا۔ مختصر مگر بامعنی انٹرویو کے بعد جب ایڈیٹر باغی ٹی وی، سر ممتاز اعوان کی جانب سے یہ خوشخبری ملی کہ میری جاب کنفرم ہو چکی ہے، تو وہ لمحہ میرے لیے کسی خواب کی تعبیر سے کم نہ تھا۔ میں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ ایک دن میں اس قدر معتبر اور جرأت مند میڈیا ہاؤس کا حصہ بنوں گی۔

    میری شمولیت باغی ٹی وی کی سوشل میڈیا ٹیم میں ہوئی، جو میرے لیے باعثِ فخر بھی تھی اور ایک چیلنج بھی۔ فیس بک، ٹوئٹر (ایکس)، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر باغی ٹی وی کے لنکس اور پوسٹرز کی شیئرنگ میری بنیادی ذمہ داری تھی، جسے میں نے ہمیشہ محنت، دیانت اور لگن کے ساتھ نبھایا۔ میرے کام کو دیکھتے ہوئے جلد ہی مجھ پر مزید اعتماد کیا گیا اور سوشل میڈیا کے لیے پوسٹر ڈیزائن کرنے کی ذمہ داری بھی میرے سپرد کر دی گئی۔ اس مرحلے پر مجھے سیکھنے کے بے شمار مواقع ملے، خصوصاً سوشل میڈیا کے ہیڈ سر عبداللہ کی رہنمائی میرے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوئی۔ ان کی بصیرت، مشورے اور حوصلہ افزائی نے نہ صرف میری کارکردگی کو نکھارا بلکہ مجھے ڈیجیٹل میڈیا کی دنیا میں ایک نئی شناخت بھی عطا کی۔

    اگرچہ میں پہلے بھی ایک سوشل میڈیا ایکٹوسٹ تھی، مگر باغی ٹی وی میں آنے کے بعد اس شعبے کو عملی طور پر سمجھنے اور برتنے کا موقع ملا۔ یہاں دن اور رات کی قید نہیں، وقت کی کوئی دیوار نہیں،صرف خبر، سچ اور ذمہ داری ہے۔ باغی ٹی وی کی ٹیم کی محنت، لگن اور مستعدی واقعی قابلِ رشک ہے۔ جب بھی کوئی اضافی ذمہ داری سامنے آئی یا کوئی مشکل مرحلہ آیا، میں نے اسے اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے دل و جان سے نبھایا، کیونکہ یہاں کام صرف نوکری نہیں بلکہ ایک مشن ہے۔محترم مبشر لقمان صاحب کے وی لاگز میں پہلے ہی شوق سے دیکھتی اور ان پر اپنی رائے کا اظہار کرتی تھی۔ مگر جب انہی کی ٹیم کا باقاعدہ حصہ بنی تو یہ لمحہ میرے لیے فخر اور سعادت کا استعارہ بن گیا۔ ان کی قیادت، بے باکی، فکری پختگی اور اصول پسندی نے مجھے ہمیشہ متاثر کیا ہے۔ ان کے ساتھ کام کرنا میرے خوابوں کی تعبیر ہے، اور میں آج بھی ان کی رہنمائی کو اپنے لیے باعثِ اعزاز سمجھتی ہوں۔

    آج، باغی ٹی وی کی 14ویں سالگرہ کے اس مبارک موقع پر، میں دل کی گہرائیوں سے محترم مبشر لقمان صاحب اور باغی ٹی وی کی پوری ٹیم کو مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ میری دعا ہے کہ یہ ادارہ دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کرے، سچ کی آواز بن کر ہمیشہ سربلند رہے اور اپنے مشن و مقصد میں مزید کامیابیاں سمیٹے۔ آمین۔یہ سفر ابھی جاری ہے۔ جذبہ وہی ہے، عزم پہلے سے زیادہ مضبوط اور حوصلہ مزید بلند۔ باغی ٹی وی کے 14 سال مکمل ہونے پر ایک نیا ولولہ، نئی امید اور نیا عہد دل میں جاگ اٹھا ہے۔ دعا ہے کہ یہ ادارہ ہمیشہ اپنے اصولوں، نظریات اور وژن پر قائم رہتے ہوئے کامیابی کی بلند ترین چوٹیوں کو چھوتا رہے۔

  • نیا سال، نئے ارادے اور اپووا کے پی چیپٹر،تحریر:فائزہ شہزاد

    نیا سال، نئے ارادے اور اپووا کے پی چیپٹر،تحریر:فائزہ شہزاد

    ہر سال جنوری کے مہینے میں آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) کی نئی کابینہ تشکیل دی جاتی ہے اور نئے عہدیداران کا انتخاب عمل میں آتا ہے۔ اپووا کے پی چیپٹر کا آغاز جون 2025 میں ہوا اور محض چھ ماہ کے قلیل عرصے میں مسلسل کامیاب ادبی تقریبات کے انعقاد نے یہ ثابت کر دیا کہ اگر ارادے مضبوط ہوں تو منزلیں خود بخود آسان ہو جاتی ہیں۔ بقول مولانا رومیؒ:
    "ہمتِ مرداں مددِ خدا است”۔

    سالِ نو کی پہلی ماہانہ میٹنگ 6 جنوری 2026 کو اپووا کے پی چیپٹر کی صدر محترمہ فائزہ شہزاد کی رہائش گاہ پر منعقد ہوئی، جس میں نئے منتخب عہدیداران اور تمام ممبران نے نہایت جوش و خروش سے شرکت کی۔ تقریب کا باقاعدہ آغاز محترمہ جویریہ خان کی پُرسوز تلاوتِ قرآنِ پاک سے ہوا۔ اس کے بعد محترمہ فائزہ شہزاد نے بارگاہِ رسالت ﷺ میں ہدیۂ نعت پیش کر کے روحانی سماں باندھ دیا۔

    محترمہ فائزہ شہزاد نے تمام شرکاء کو خوش آمدید کہا اور نئے عہدیداران کو مبارکباد پیش کی۔ بعد ازاں اپووا کے پی چیپٹر کی جنرل سیکرٹری محترمہ ناز پروین نے تنظیم کی ششماہی کارکردگی پر مشتمل ایک جامع اور مفصل رپورٹ پیش کی۔ سالِ نو کے حوالے سے آئندہ سرگرمیوں، منصوبہ بندی اور نئے اہداف پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا، جس میں تمام ممبران نے بھرپور دلچسپی سے حصہ لیتے ہوئے اپنی قیمتی آراء اور تجاویز پیش کیں۔ باہمی مشاورت سے پورے سال کا متفقہ ایجنڈا ترتیب دیا گیا۔

    نہایت سرد موسم کے باوجود تقریب میں وائس پریذیڈنٹ محترمہ روبینہ معین، جنرل سیکرٹری محترمہ ناز پروین، جوائنٹ سیکرٹری محترمہ لبنیٰ نوید، میڈیا کوآرڈینیٹر محترمہ فاطمہ افضال، ڈپٹی میڈیا کوآرڈینیٹر محترمہ رانی عندلیب، سیکرٹری انفارمیشن فرزانہ منور اور اپووا ہیلتھ ایڈوائزر محترمہ ڈاکٹر سعدیہ شہزاد کے ساتھ ساتھ محترمہ نیلو فرسمیع، ڈاکٹر سیما شفیع، حنا امجد ملک، امامہ نوید، دید فاطمہ، جویریہ خان، عشا نصیر اور دیگر معزز اراکین نے شرکت کر کے تقریب کو چار چاند لگا دیے۔

    تقریب کی یادگار لمحات کو محفوظ کرنے کے فرائض محترمہ حنا ملک نے انجام دیے۔ نئے سال کی خوشی میں کیک کاٹا گیا اور آخر میں گرما گرم چائے اور پُرلطف لوازمات سے تمام حاضرین کی تواضع کی گئی۔ صدرِ اپووا پی چیپٹر کی جانب سے تمام ممبران کو خوبصورت ٹی کپ بطور تحفہ بھی پیش کیے گئے۔یہ نشست خوشگوار یادوں، باہمی محبت اور فکری ہم آہنگی کا حسین امتزاج ثابت ہوئی۔ اگرچہ نشست دو گھنٹوں کے لیے طے تھی، مگر محفل کی دلکشی نے اسے چار سے پانچ گھنٹے تک جاری رکھا۔ دل یہی کہتا رہا:
    آج جانے کی ضد نہ کرو
    یوں ہی پہلو میں بیٹھے رہو…

    تمام شرکاء دل میں بے شمار حسین یادیں سمیٹے گھروں کو لوٹ گئے۔

  • چند لکیریں ” یادوں کی لکیریں” پر،تحریر:اعجازالحق عثمانی

    چند لکیریں ” یادوں کی لکیریں” پر،تحریر:اعجازالحق عثمانی

    گزشتہ چار ماہ سے کچھ نہیں لکھ پایا کہ آج کل نشہ ریل(Reel) میں مبتلا ہوں۔ کچھ دن قبل انسٹاگرام پر سکرولنگ کرتے، حمرا شعیب کی کتابیں نظر سے گزریں۔ آج کل میرا رجحان پرانے لکھاریوں کی کتب خریدنے سے کہیں زیادہ نئے قلم کاروں کی طرف ہو چلا ہے۔ اس رجحان نے بیسیوں مرتبہ پریشان بھی کیا۔مگر اس کے باوجود یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔ اس سلسلے کی پرائمری وجہ اچھی تحریر پڑھنا نہیں، بلکہ بطور لکھاری ایک خاموش سا مقصد ہے۔ سو ہم نے حمرا شعیب کی دو کتب منگوا لی۔ ” یادوں کی لکیریں” مصنفہ مصوفہ کی پہلی تصنیف ہے، اور حجم میں بھی قدرے مختصر ہے،سو اسکا مطالعہ پہلے کرنے کا ارادہ بنا۔ پڑھ کر پبلیکیشن ہاؤس کو کوسا،اور مصنفہ کےقلم کے لیے بے ساختہ دعائیں نکلی۔یہ کتاب دراصل مصنفہ کی نانی کی زندگی کی یادداشتوں، وفا،دکھوں اور صبر کی خاموش جدوجہد کی کہانی ہے۔ اس کہانی کا مرکزی کردار حالات کی سختیوں کے باوجود، صبر و وفا کا دامن نہیں چھوڑتا۔ گو کہ کتاب کا اسلوب بہت ہی سادہ ہے مگر مصنفہ نے تمام واقعات کو محض واقعات کے طور پر نہیں بلکہ احساس کی شکل میں پیش کیا، جو کہ کہانی کو اثر انگیز بناتا ہے۔ اس کتاب کی ایک ہی خوبی ہے کہ یہ خلوص اور سچائی پر مشتمل ہے نا کہ بناوٹی ہے۔ بیماری، جدائی، موت، سماجی جبر اور عورت کی بے لوث قربانی جیسے کئی واقعات نہایت سادگی سے سامنے آتے ہیں، تو بعض دفعہ نانی کے مکالمے اور جملے سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ بعض مقامات پر بیان و مکالمہ کی غیر ضروری طوالت و جملوں کی تکرار نے کہانی اور روانی دونوں کو متاثر کیا۔ کہانی بعض مقامات پر فکری و زمانی ترتیب کھو دیتی ہے۔ اور ابواب کے درمیان کمزور ربط بھی بطور قاری کے لیے مشکلات کا باعث رہا۔ منظر نگاری میں یکسانیت اور فنی سطح پر بہتری کی گنجائش تھی۔ لفظ مصنف کے ہوتے ہیں، مگر ورق (کتاب) پبلیکیشن ہاؤس کی۔ مگر بدقسمتی سے کتاب دیکھ کر پبلیکیشن ہاؤس کی غفلت نمایاں طور پر نہیں آئی۔ املا، رموز اوقات اور زبان کی بنیادی غلطیاں چیخ چیخ کر بتا رہی ہیں کہ مسودہ کسی معیاری ادارتی عمل سے گزرا ہی نہیں۔ متن کی ترتیب، پیراگراف کی نشت۔۔۔۔ افسوس۔ مگر لفظوں کی چمک دمک سے پرے، سچائی کی سیاہی سے لکھنے پر حمرا شعیب کو مبارک باد اور دعائیں۔

  • دو روزہ تر بیتی کارگاہ بعنوان، رموز و اوقاف ،تحریر:  عنبرین فاطمہ

    دو روزہ تر بیتی کارگاہ بعنوان، رموز و اوقاف ،تحریر: عنبرین فاطمہ

    زیرِ اہتمام تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس، بانی و سرپرست محترمہ عمارہ کنول چودھری ، دو روزہ تربیتی نشست کے سلسلے میں پہلی نشست بعنوان رموز و اوقاف مورخہ 25 دسمبر، 2025 بروز جمعرات شب 8 بجے بذریعہ صوتی پیغام منعقد ہوئی۔

    علم و ادب سے لبریز اس تربیتی کارگاہ کی میزبانی و تربیت کی ذمہ داری محترمہ سدرہ تنولی نے انجام دی۔ نشست کا باضابطہ آغاز مادام سدرہ تنولی کے پرخلوص سلام اور تعارف سے ہوا۔ آپ کا تعلق خیبر پختونخوا کے خوبصورت شہر مانسہرہ سے ہے۔ ادبی دنیا میں آپ کا سفر متنوع قابل قدر ہے۔ آپ نہ صرف کہانی نویس، افسانہ نگار، کالم نگار اور تبصرہ نگار ہیں، بلکہ "لوحِ ادب اکادمی” کے نام سے ایک ادبی ادارہ بھی کامیابی سے چلا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ آپ ملکی اور بین الاقوامی سطح کے مختلف علمی و ادبی اداروں سے منسلک ہیں۔

    تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس کے زیرِ اہتمام نشست کا آغاز محترمہ سدرہ تنولی نے رموزِ اوقاف کے تعارف و اہمیت بتاتے ہوۓ کیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ جیسے بول چال میں آواز کا زیر و بم اور توقف جذبات کا اظہار کرتے ہیں، ویسے ہی تحریر میں رموزِ اوقاف معانی کی وضاحت اور ربط پیدا کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ انگریزی میں انہیں(Punctuation )کہتے ہیں۔ محترمہ سدرہ تنولی صاحبہ نے موضوع کو نہایت سلیقے سے بیان کیا، جس سے سامعین کو رموزِ اوقاف کی اہمیت کا بخوبی ادراک ہوا۔ انہوں نے نہ صرف ان علامات کی وضاحت کی بلکہ ان کے عملی استعمال پر بھی مفصل گفتگو کی۔

    انہوں نے بتایا کہ ” سکتہ” (،) کا استعمال جملے میں چھوٹے مرکبات یا الفاظ کے درمیان وقفے کے لیے کیا جاتا ہے، جبکہ "ختمہ” (۔) جملے کے اختتام پر استعمال ہوتا ہے تاکہ مفہوم مکمل طور پر واضح ہو جائے۔ "سوالیہ نشان” (؟) سوالات پر مبنی جملوں میں استعمال ہوتا ہے، جو قاری کو جملے کی نوعیت سے آگاہ کرتا ہے۔علامتِ استجابیہ (!) جسے ندائیہ یا استجابیہ بھی کہا جاتا ہے، جذبات جیسے خوشی، غم، حیرت یا تعجب کے اظہار کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

    "علامتِ تفصیل” (:)کی اہمیت بیان کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ یہ علامت کسی بات کی وضاحت یا اس کی تفصیل پیش کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے، اور قاری کو ذہنی طور پر تیار کرتی ہے کہ آگے کچھ وضاحتی نکات آئیں گے۔

    "واوین” (” ") کے بارے میں بتایا کہ یہ اقتباس یا کسی خاص جملے کو نمایاں کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، جبکہ "قوسین” ([ ]) ضمنی بات یا وضاحتی مواد کے اضافے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

    انہوں نے بڑی بصیرت سے واضح کیا کہ اگر رموزِ اوقاف کو ان کے مقررہ اصول و ضوابط کے مطابق استعمال نہ کیا جائے، تو نہ صرف جملے کا حسن متاثر ہوتا ہے بلکہ مفہوم میں بھی ابہام اور غلط فہمی پیدا ہو سکتی ہے۔

    نشست کے اختتام پر شرکاء نے محترمہ سدرہ تنولی سے مختلف سوالات کیے جن کے جوابات انہوں نے نہایت دلنشین، مدلل اور مؤثر انداز میں دیے۔

    یہ علمی نشست تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس کے زیرِ اہتمام منعقدہ دو روزہ تربیتی کارگاہ کا پہلا دن تھا،جو اختتام پذیر ہوا۔

    بطورِ طالب علم و نو آموز لکھاری، میرے لیے یہ نشست بے حد معلوماتی اور فائدہ مند ثابت ہوئی۔ رموزِ اوقاف کے استعمال کی اہمیت اور باریکیوں کو جان کر مجھے یقین ہو گیا کہ تحریر کی تاثیر انہی چھوٹی چھوٹی علامتوں سے وابستہ ہے۔ تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس اسی طرح کی تعلیمی، ادبی اور تہذیبی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رکھے تاکہ ہماری زبان، ثقافت اور فکری ورثے کو مزید تقویت حاصل ہو۔

  • امام ابن تیمیہ کی زندگی کے سنہرے واقعات ،تبصرہ نگار : عبدالغفار مجاہد

    امام ابن تیمیہ کی زندگی کے سنہرے واقعات ،تبصرہ نگار : عبدالغفار مجاہد

    امت محمدیہ میں اللہ نے لاتعداد علما اور فقہا پیدا فرمائے لیکن ان میں امام ابن تیمیہ ایک ہی تھے ۔صدیاں گزر گئیں امام ابن تیمیہ جیسی کوئی دوسری علمی شخصیت پیدا نہیں ہوئی ۔ امام صاحب کا تعلق حران کے معروف علمی خاندان سے تھا جس کے بارے میں بجا طور پر کہا جاسکتا ہے ” ایں ہمہ خانہ آفتاب است “ ۔ امام ابن تیمیہ حدیث ، تفسیر ، فقہ ، اصول فقہ ، تاریخ ، اسماءالرجال ، فسلفہ ،منطق ، ادب کے امام تھے ۔ ان کے علاوہ بھی وہ تمام علوم جو اس وقت رائج تھے حاصل کئے ۔ کوئی بھی ایسا علم نہ تھا جو حاصل نہ کیا ہو۔ تاہم علم تفسیر آپ کا پسندیدہ موضوع تھا ۔ آپ کی تربیت بہت ہی پاکیزہ علمی گھرانے میں ہوئی تھی ۔ قوت حافظہ غضب کا تھا جس کتاب کو ایک دفعہ دیکھ لیتے وہ آپ کو مکمل طور پر یاد ہوجاتی ۔ قرون اولیٰ کے بعد جن چند اہم شخصیات نے اسلام کی نشرواشاعت میں نمایاں کردار ادا کیا ان میں امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ سرفہرست ہیں ۔ امام ابن تیمیہ مجدد تھے اور علم وہدیت کا ایک ایسا سرچشمہ تھے جن کی ضیا پاشیوں سے دنیائے اسلام جگمگا اٹھی تھی ۔اگر ہم موجودہ حالات کا موازنہ امام صاحب کے دور سے کریں تو ہمیں کافی حد تک مطابقت نظر آتی ہے ۔امام صاحب کی زندگی میں دنیائے اسلام فتنہ تاتار کی غارت گری کا شکار تھی دینی ، سیاسی ، سماجی اور اخلاقی اعتبار سے زبوں حالی کا شکار تھی ، خلافت اسلامیہ پارہ پارہ ہوچکی تھی ۔ حقانیت کا آفتاب ڈوب چکا تھا کہ اللہ نے امام صاحب کو علم وہدی کا آفتاب بنا پر دمشق کے آسمان پر طلوع کیا ۔ آج بھی اگر ہم دیکھیں تو دنیائے اسلام اسی طرح کے حالات سے دوچار ہے ۔ گو کہ آج ہم میں امام ابن تیمیہ جیسی کوئی ہستی اور شخصیت موجود نہیں تاہم امام صاحب کی کتب سے ہم رہنمائی لے سکتے ہیں ۔

    زیر تبصرہ کتاب ” امام ابن تیمیہ کی زندگی کے سنہرے واقعات “ اسی نقطہ نظر سے لکھی گئی ہے ۔ یہ کتاب اہل علم کےلئے بہتر ین تحفہ ہے، اس کتاب کی اشاعت سے دارالسلام نے ایک اہم علمی خدمت انجام دی ہے ۔اردو زبان میں ایسی شہرہ آفاق، جامع ، علمی اور تحقیقی کتاب کی ضرورت عرصہ دراز سے محسوس کی جارہی تھی ۔ یہ اپنے موضوع پر شاندار ، بیمثال اور لاجواب کتاب ہے جو کہ دارالسلام انٹرنیشنل کے مینجنگ ڈائریکٹر عبدالمالک مجاہد کی تصنیف ہے ۔عبدالمالک مجاہد کہتے ہیں ساتویں صدی ہجری میں پیدا ہونے والے امام ابن تیمیہ نے اس وقت کی ملت اسلامیہ پر چھائے جمود ، تاریکی اور بزدلی کو اپنے قلم ، کردار اور گفتار سے دور کیا۔وہ ملت اسلامیہ کی ان چند شخصیات میں سے تھے جنھوں نے علمی جہاد کے ساتھ ساتھ قلمی جہاد بھی کیا ۔اپنی زبان وبیان اور گفتار وکردار سے مجاہدین اسلام میں جہاد کی روح پھونک دی جبکہ اپنی تلوار سے فتنہ تاتار کا منہ موڑ دیا ۔ یہ کتاب امام ابن تیمیہ کی زندگی ، حالات ، حیات اور خدمات کے متعلق میرے سالہاسال کے مسلسل مطالعہ کا ماحاصل ہے ۔ یہ کتاب علما ، طلبہ ، اساتذہ ، سیاستدانوں اور حکمرانوں سمیت ہر ایک کےلئے مشعل راہ ہے ۔ اس کتاب کے مطالعہ سے آج بھی ملت اسلامیہ پر چھائے جمود اور بزدلی کو دور کیا جاسکتا ہے ۔ امام ابن تیمیہ اپنے وقت کے مجدد ، مصلح اور مجاہد تھے ۔یہی وجہ تھی کہ وہ پوری زندگی حکومتی ایوانوں اور راہداریوں سے دور رہے ۔ انھوں نے کوئی عہدہ قبول نہیں کیا ۔ ساری زندگی مسجد اموی سے متصل ایک چھوٹے سے حجرے میں دین کی آبیاری ، درس وتدریس ، تصنیف وتحقیق اور جہاد فی سبیل اللہ میں گزار دی ۔ وہ راست بازی ، حق گوئی وبے باکی ، زہد وبہادری کے اعلیٰ منصب پر فائز تھے ۔کتاب میں امام صاحب کی ولادت ، خاندان ، ابن تیمیہ کہنے کی وجہ ، ابتدائی حالات ، علوم شریعت کی تجدید ، حصول علم ، دیگر عصری علوم کا حصول ، باکمال مصنف ، محبت رسول کا والہانہ جذبہ ، مخالفین کے درمیان ہمہ گیر شخصیت ، ملکی معاملات میں اصلاحی کردار ، امام صاحب بیحثیت بت شکن ، جیل کی زندگی ، کبائر علما ءکے ہاں امام ابن تیمیہ کا مقام ومرتبہ ، امام ابن تیمیہ بطور ایک مجدد ، تاتاری جنگوں میں شرکت ، شاہ تاتار سے گفتگو ، امام صاحب بطور ایک کامیاب مناظر ، راہبوں ، صلیبیوں ، پادریوں، نجومیوں ، صوفیوں سے مناظرے ، امام صاحب کا دور ابتلاوآزمائش ، ابتلا وآزمائش میں ثابت قدمی ، امام صاحب کے شاگردان رشید ، تصانیف ، آپ کی مشہور تصانیف ، فضل وکمال ، وفات اور جنازہ ۔۔۔۔۔جیسے اہم موضوعات کو زیر بحث بنایا گیا ہے ۔ 4کلر آرٹ پیپر پر طبع شدہ کتاب ظاہری اعتبار سے جتنی خوبصورت ہے باطنی اعتبار سے اس سے بھی کہیں زیادہ دلکش اور جاذب نظر ہے ۔ ایسی علمی ، اصلاحی اور رہنما کتاب کا مطالعہ ہر ایک کےلئے بے حد ضروری ہے ۔کتاب کی قیمت 2700 روپے ہے ۔یہ کتاب دارالسلام انٹرنیشنل کے مرکزی شوروم لوئر مال نزد سیکرٹیریٹ سٹاپ سے حاصل کی جا سکتی ہے یا کتاب براہ راست حاصل کرنے کے لیے درج فون نمبر 04237324034 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے

  • آج کا نوجوان کتاب سے دور، قلم نگار:  اقصیٰ جبار

    آج کا نوجوان کتاب سے دور، قلم نگار: اقصیٰ جبار

    خوابوں کے چراغ،
    جو کبھی لفظوں میں جلتے تھے،
    اب اندھیروں میں گم ہیں۔
    فطرت کے راز،
    فلسفے کی گہرائی،
    داستانوں کے جہان
    سب ایک دھند میں کھو چکے ہیں۔

    کتاب، جو تھی روشنی کی مشعل،
    اب خاموش ہے،
    ایک بھولی ہوئی یاد کی طرح۔
    صفحات پر پھیلا سکون کا پیام،
    اب شور کی گونج میں دب چکا ہے۔

    آنکھیں اسکرین کی روشنی میں گم،
    فکر کے قافلے راستہ بھول گئے ہیں۔
    نہ سوال باقی، نہ جواب کا شوق،
    صرف ایک خالی پن،
    ایک بے سمت دوڑ۔

    کیا ہم لوٹیں گے اُس دریا کی جانب،
    جہاں حرف بہتے تھے؟
    جہاں سوچ کی خوشبو
    ذہنوں کو مہکاتی تھی؟
    یا یہ فاصلہ
    اک نہ ختم ہونے والا فسانہ بن جائے گا؟

    کتاب اب بھی پکارتی ہے
    خاموشی میں، تنہائی میں،
    اپنے حرفوں کے چراغوں سے

    اقصیٰ جبار

  • تربیتی کارگاہ علمِ عروض  ،تحریر:عنبرین فاطمہ

    تربیتی کارگاہ علمِ عروض ،تحریر:عنبرین فاطمہ

    زیرِ اہتمام: تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس
    بانی و سرپرست: محترمہ عمارہ کنول چودھری

    تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس کی علمی و ادبی کاوشوں کے تسلسل میں، محترمہ عمارہ کنول چودھری کی سرپرستی میں ایک ماہ پر محیط تربیتی کارگاہ بعنوان علمِ عروض منعقد کی گئی۔ اس تربیتی کارگاہ کا بنیادی مقصد نئی نسل کو اردو شاعری کے فنی اور عروضی رموز سے آگاہ کرنا اور تخلیقی اظہار کو مستحکم عروضی بنیادوں پر استوار کرنا تھا۔

    اس تربیتی کارگاہ کا آغاز مادام شاہانہ ناز صاحبہ نے مقررہ وقت پر نہایت خوش اسلوبی اور وقار کے ساتھ کیا، جبکہ مادام معظمہ شمس تبریز صاحبہ علالتِ طبع کے باعث شرکت سے معذور تھیں۔ مادام شاہانہ ناز صاحبہ نے آغاز ہی میں نہ صرف تربیتی کارگاہ کی فضا کو علمی ذوق اور ادبی سنجیدگی سے ہم آہنگ کیا، بلکہ ابتدائی اسباق کے تحت نظم و نثر کے امتیاز، غزل کی ہیئت و ساخت، قافیہ و ردیف، مطلع و مقطع اور حروفِ روی جیسے بنیادی مگر نہایت اہم موضوعات کو نہایت مؤثر اور مربوط انداز میں پیش کیا۔

    جلد ہی مادام معظمہ شمس تبریز صاحبہ، جو خود ایک نامور شاعرہ اور لکھاری ہیں۔ انہوں نے تربیتی فرائض سنبھالتے ہوئے باقاعدہ طور پر علمِ عروض کی تدریس کا آغاز کیا۔ انہوں نے مکتوبی و ملفوظی حروف، تقطیع کے اصول، بحور اور افاعیل جیسے دقیق اور باریک مباحث کو اس قدر سہل، مربوط اور مؤثر انداز میں سمجھایا کہ طالبات کے دلوں میں اس علم کے لیے فطری دلچسپی پیدا ہونے لگی۔
    ایک یادگار لمحہ وہ تھا جب مادام معظمہ شمس تبریز صاحبہ نے تمام طالبات سے فرمایا:
    "سب نے فعلن فعلن فعلن فعلن کے وزن پر ایک ایک شعر لکھنا ہے!”

    یہ لمحہ تمام طالبات کو نہ صرف ایک نئے موڑ پر لے گیا بلکہ ان کے سیکھے ہوئے علم کو عملی جامہ پہنانے کا بہترین موقع بھی فراہم کر گیا۔ علمِ عروض کے تمام قواعد و اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے اشعار تحریر کرنا محض ایک تکنیکی عمل نہیں، بلکہ فنِ شعر وہ آئینہ ہے جس میں خیال نکھرتا ہے اور احساس چمکتا ہے۔

    طالبات نے نہایت ذوق و شوق کے ساتھ اشعار کہے اور یہ احساس مزید گہرا ہوتا چلا گیا کہ عروض صرف ایک فن نہیں بلکہ ایک شعوری تربیت ہے، جہاں الفاظ کا توازن اور جذبات کا رچاؤ یکجا ہو جاتا ہے۔

    کارگاہ کی انفرادیت یہ تھی کہ اس میں ہر عمر کی طالبات شامل تھیں۔ مادام معظمہ شمس تبریز صاحبہ کی شفقت، محبت اور مشفقانہ انداز ہر دل میں گھر کر گیا۔ جب وہ یہ فرماتیں:
    "بچو! مجھے معلوم نہیں آپ کس عمر کے ہیں، مگر میرے لیے آپ سب بچے ہی ہیں۔”
    تو ایک ایسا شفقت بھرا تعلق قائم ہو جاتا تھا جو سیکھنے کے عمل کو مزید مؤثر اور خوشگوار بنا دیتا۔

    یہ تربیتی کارگاہ نہ صرف علمِ عروض کے فہم کا ذریعہ بنی بلکہ تحریری اور تخلیقی صلاحیتوں کو جِلا بخشنے میں بھی ایک سنگِ میل ثابت ہوئی۔
    علمِ عروض کی اس بامقصد اور پُراثر تربیتی کارگاہ میں مادام معظمہ شمس تبریز صاحبہ نے نہ صرف نہایت خوش اسلوبی سے مفاہیمِ عروض کو آسان اور قابلِ فہم انداز میں سمجھایا، بلکہ عملی مشقوں کے ذریعے اس فن کو دلنشین اور بامعنی بھی بنا دیا۔
    کارگاہ کے دوران ایک اور یادگار لمحہ وہ تھا جب مادام معظمہ صاحبہ نے ہم سب سے باقاعدہ غزل لکھنے کی مشق کروائی۔ انہوں نے اپنی غزل کا ایک مقطع پیش کیا اور ہدایت دی کہ اسی کے قافیے اور ردیف کی پابندی کے ساتھ مکمل غزل تحریر کی جائے۔ وہ مقطع یہ تھا:
    اے شمس! اک دن میں دوستوں کو
    نکال پھینکوں گی آستیں سے

    اس مقطع میں قافیہ: "یں” اور ردیف: "سے” تھا، جس کی بنیاد پر طالبات نے نہایت خوبصورت اور بامعنی اشعار تخلیق کیے۔ اسی قافیہ و ردیف کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے بھی ایک غزل لکھی، جس کا ایک شعر کچھ یوں تھا:

    نہ تیرگی تھی، نہ روشنی تھی
    عجب مناظر تھے سرمگیں سے

    علمِ عروض کی اس بامقصد تربیتی کارگاہ کے اختتام پر مادام معظمہ شمس تبریز صاحبہ نے ایک جامع حتمی امتحان لیا، جس میں نہ صرف سابقہ تمام اسباق سے متعلق سوالات شامل تھے بلکہ عملی مشق کے طور پر ایک مکمل غزل بمع مطلع و مقطع تحریر کرنے کی ہدایت بھی دی گئی۔

    یہ مرحلہ تربیتی کارگاہ کا نچوڑ ثابت ہوا، جس نے طالبات کی فہم، مہارت اور تخلیقی صلاحیتوں کو حقیقی معنوں میں پرکھا۔ اس امتحان میں نمایاں کارکردگی دکھانے والی طالبات کے لیے تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس کی جانب سے اسناد کے اجرا کا اعلان بھی کیا گیا۔

    ان خوش نصیب اور قابلِ فخر طالبات میں زینب لغاری، حلیمہ طارق، عنبرین فاطمہ، حمیرا انور اور طوبیٰ نور خانم کے اسمائے گرامی سرفہرست ہیں، جنہوں نے اپنی محنت، لگن اور عروضی بصیرت کے ذریعے یہ اعزاز حاصل کیا۔ ان کی کامیابی نہ صرف ان کی ذاتی کاوش کا ثمر تھی بلکہ مادام محترمہ کی مؤثر رہنمائی اور شفقت آمیز تدریس کا جیتا جاگتا ثبوت بھی تھی۔
    اس تربیتی کارگاہ کا اختتام نہایت خوش اسلوبی سے ہوا۔ یہ بامقصد علمی تربیتی کارگاہ بانی و سرپرستِ تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس محترمہ عمارہ کنول چودھری کی زیرِ نگرانی منعقد ہوئی، جس کا مرکزی ہدف نئی نسل کو اپنی زبان، تہذیب اور ادبی روایتوں سے جوڑنا تھا۔

    اختتامی مرحلے پر یہ احساس دل میں جاگزیں ہوا کہ ایسی علمی و ادبی تربیتی کارگاہیں نہ صرف شعری فنون کے فروغ کا ذریعہ بنتی ہیں بلکہ قومی زبان سے محبت کو بھی مضبوط بنیادیں فراہم کرتی ہیں۔ میری دلی خواہش ہے کہ تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس کے تحت آئندہ بھی اسی نوع کی تربیتی نشستیں منعقد ہوتی رہیں، تاکہ ہماری آنے والی نسلیں اپنی زبان، ادب اور ثقافت سے نہ صرف آشنا بلکہ گہری وابستگی بھی اختیار کریں۔

    علمِ عروض کی اس تربیتی کارگاہ نے ہمیں سخن فہمی اور فنِ شعر سے شناسائی عطا کی۔ یہ سعادت تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس کے زیرِ اہتمام نصیب ہوئی، جس پر ہم دل کی گہرائیوں سے شکر گزار ہیں۔

    آخر میں مادام معظمہ شمس تبریز صاحبہ، مادام شاہانہ ناز صاحبہ کی رہنمائی، اور بانی و سرپرست محترمہ عمارہ کنول چودھری کے اخلاص و عزم کو دل سے خراجِ تحسین پیش کرتی ہوں۔
    دعا ہے کہ یہ تحریک علم، تہذیب اور قومی شناخت کے فروغ میں ہمیشہ مؤثر کردار ادا کرتی رہے۔

    آمین ثم آمین۔