Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • میرا تعارف،ظفر اقبال ظفر

    میرا تعارف،ظفر اقبال ظفر

    رائیونڈ لاہور سے ادب کا وہ طالب علم ہوں جوعرصہ دس سال سے لکھنے کی کوشش میں مصروف عمل ہوں پہلا کالم ہی کتاب کالم پوائنٹ میں شائع تھا پھرپاکستان کے نامور اخبارات و میگزین میں کالم،فیچرز،مضمون اور نامور شخصیات کے کیے گئے انٹریوز شائع ہوتے رہے،میرا قلم انسانیت،مسلمانیت اور پاکستانیت،کا ترجمان ہے۔ہرتحریر ادب کے تناظر میں لکھتا ہوں جس کی خاصیت یہ ہے کہ وہ کبھی پرانی نہیں ہوتیں یعنی اپنے پڑھنے والوں کو خالی الذہن نہیں رہنے دیتا۔ دو کتابوں کے مصنف ہوں پہلی کتاب ظفریات اور دوسری کلیات ظفرہے۔ٖظفریات کتاب کی تین سو کاپیاں بغیر دنیاوی مفادات کے خدمت ادب اور ترویج اردو میں مفت تقسیم کیں۔

    پہلی ظفریات پر پاکستان کے تاریخ ساز فلمی رائٹر جناب ناصر ادیب نے مسودہ پڑھنے کے بعد اس اظہار خیال نوازا۔
    ظفر رہتا اس دور میں ہے مگر بات ہر دور کی کرتا ہے حلانکہ اکثر رائٹر اپنے آپ کو لکھتے ہیں مگر ظفر وہ لکھتا ہے جیسے محسوس کرتا ہے۔
    ظفر سطح سمندر پر آنے والی مچھلیوں کو نہیں پکڑتا بلکہ چھلانگ لگا دیتا ہے سمندر میں اور اس کی گہرائیوں میں اتر کر وہاں سے ہیرے، موتی،جوہرات اپنے لفظوں کے جال میں سمیٹ کر لاتا ہے اور اسے ہمارے سامنے رکھ دیتاہے۔ ظفر وہ رائٹر ہے جس کے بارے میں،میں کہہ سکتا ہوں کہ اس کی کتاب وہ کتاب ہے جو ہر صاحب اولاد آدمی کے تکیے کے نیچے ہونی چاہیے۔
    ریڈیو،ٹی وی پروگرام بھی بطور میزبان،ہوسٹ کیے۔ اصول قلم میں دنیاوی مفاد کو ترک کرنافرض سمجھتے ہوں تاکہ تحریروں میں تاثیرقائم رہے، جو الفاظ اثر سے خالی ہوں وہ الفاظ نہیں فقط سیاہی کے دبے ہیں۔
    میں اپنے قلم و تحریر میں نکھارو تاثیر سے نوازنے والے استادوں اور کتابوں کا احسان مند ہوں
    zafar

    zafar

  • میرا تعارف،سید ساجد علی شاہ

    میرا تعارف،سید ساجد علی شاہ

    میرا نام سید ساجد علی شاہ ہے اور میرا تعلق ضلع رحیم یار خان کے ایک پسماندہ گاؤں سے ہے وہ گاؤں جہاں آج بھی زندگی کی بہت سی بنیادی سہولیات محدود ہیں، مگر اسی مٹی نے مجھے خواب دیکھنا، مشکلات سے لڑنا اور اپنے حصے کا چراغ جلانا سکھایا، میرا تعلق کسی بڑے شہر، ادبی خاندان یا وسائل سے مالا مال ماحول سے نہیں تھا، میرے پاس اگر کوئی سرمایہ تھا تو وہ شوق، جستجو، کتاب سے محبت اور قلم کے ذریعے اپنے خیالات دوسروں تک پہنچانے کی خواہش تھی، میری تعلیم گریجویشن تک ہے، لیکن میرے لیے اصل درس گاہ زندگی، کتابیں، اخبارات اور اہلِ قلم کی صحبت رہی، ایک زمانہ تھا جب سائیکل ہی سفر کا ذریعہ ہوا کرتی تھی، میں اپنے گاؤں سے تقریباً تیس کلومیٹر دور شہر جایا کرتا تھا تاکہ ادب سیکھ سکوں، اہلِ علم سے مل سکوں اور لکھنے کے فن کو سمجھ سکوں، آج جب پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو وہ سفر صرف تیس کلومیٹر کا نہیں تھا بلکہ یہ میرے ادبی سفر کی بنیاد رکھنے والا سفر تھا، راستے طویل تھے، وسائل محدود تھے، مگر دل میں کچھ کر گزرنے کا عزم موجود تھا ، وہ دور بھی عجیب تھا مخلص لوگ زیادہ تھے، بے لوث محبتیں عام تھیں، تعلقات میں خلوص تھا اور ادب میں آگے بڑھنے کی خواہش تھی، مگر لالچ اور طمع کا عنصر بہت کم دکھائی دیتا تھا ، لوگ ایک دوسرے کی رہنمائی کرتے، نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے اور کسی کی کامیابی کو اپنی کامیابی سمجھتے تھے میں نے بھی اپنے سفر میں ایسے بہت سے مخلص لوگوں سے سیکھا جنہوں نے میرے قلم کو راستہ دکھایا اور مجھے آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا۔

    میرا باقاعدہ ادبی سفر زمانہ طالب علمی میں 1996 سے شروع ہوا، اس وقت شاید مجھے خود بھی اندازہ نہیں تھا کہ قلم سے بننے والا یہ رشتہ ایک دن زندگی کا مستقل حصہ بن جائے گا۔ میری پہلی تحریر بچوں کے معروف میگزین تعلیم و تربیت میں شائع ہوئی اس تحریر کی اشاعت میرے لیے کسی بڑے اعزاز سے کم نہیں تھی۔ جب پہلی مرتبہ اپنا نام اور اپنی تحریر چھپی ہوئی دیکھی تو جو خوشی محسوس ہوئی، اسے الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں ، یہی وہ لمحہ تھا جس نے مجھے یقین دلایا کہ اگر انسان مسلسل محنت کرے تو اس کی آواز ایک دن لوگوں تک ضرور پہنچتی ہے۔ سن 2000 میں، میں نے اپنے شہر کے ایک ہفت روزہ اخبار عباس ٹائم سے صحافتی سفر کا آغاز کیا، صحافت میرے لیے صرف روزگار یا شہرت کا ذریعہ نہیں تھی بلکہ معاشرے کو سمجھنے، مسائل کو دیکھنے اور لوگوں کی آواز بننے کا وسیلہ تھی، میں نے کوشش کی کہ جو کچھ دیکھوں، اسے اپنی بساط کے مطابق قلم کے ذریعے بیان کروں، ابتدا میں مشکلات بھی آئیں، کئی مرتبہ تحریر مسترد ہوئی، کبھی حوصلہ ٹوٹا، مگر قلم کا رشتہ نہیں ٹوٹا۔ سن 2001 میں، میں نے باقاعدہ طور پر "دل کی بات” کے عنوان سے کالم لکھنا شروع کیا اسی سلسلے میں میرا پہلا کالم روزنامہ خبریں میں شائع ہوا۔ میرے لیے یہ لمحہ انتہائی اہم تھا، کیونکہ جس اخبار کو میں ایک عام قاری کی حیثیت سے پڑھا کرتا تھا اسی کے صفحات پر میری تحریر جگہ بنا چکی تھی۔ "دل کی بات” صرف ایک کالم کا عنوان نہیں رہا بلکہ رفتہ رفتہ میری قلمی شناخت بن گیا۔ وقت گزرتا گیا، حالات بدلتے گئے، اخبارات اور رسائل کے صفحات بدلتے رہے، لیکن قلم سے میرا تعلق قائم رہا۔ آج اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے میرے سات ہزار سے زائد کالم مختلف اخبارات، رسائل، جرائد اور میگزین میں شائع ہوچکے ہیں۔ اس کے علاوہ تین سو کے قریب کہانیاں اور افسانے بھی قارئین تک پہنچ چکے ہیں۔ میرے لیے یہ اعداد صرف تعداد نہیں بلکہ میری زندگی کے وہ ہزاروں دن اور رات ہیں جو میں نے قلم، کاغذ، کتاب اور مطالعے کے ساتھ گزارے۔ میری کوشش ہمیشہ یہی رہی ہے کہ تحریر عام قاری کی سمجھ میں آنے والی ہو، مشکل الفاظ کے بجائے سادہ زبان میں بات کی جائے کیونکہ میرے نزدیک لکھاری کی اصل کامیابی یہ نہیں کہ کتنے مشکل الفاظ لکھے گئے، بلکہ یہ ہے کہ کتنے دلوں تک بات پہنچی۔

    میں نے دو کتابیں لکھی ہیں ایک ’’دل کی بات‘‘ اور دوسری ’’پاکستان میں کیا ہو رہا ہے‘‘ ہیں۔ ’’ میں نے ہمیشہ کوشش کی کہ میری تحریر میں معاشرے کے مسائل، انسانی جذبات، رشتوں کی اہمیت، اخلاقیات، محبت، درد، خوشی اور زندگی کے مختلف رنگ نمایاں ہوں۔میرے ادبی سفر میں مجھے مختلف سرکاری و نیم سرکاری اداروں، مذہبی و سیاسی جماعتوں اور دیگر تنظیموں کی جانب سے مختلف اوقات میں ایوارڈز، شیلڈز، میڈلز اور اسناد سے بھی نوازا گیا۔ یہ اعزازات میرے لیے یقیناً باعثِ خوشی ہیں لیکن میں انہیں منزل نہیں سمجھتا میرے نزدیک اصل اعزاز یہ ہے کہ کوئی قاری میری تحریر پڑھ کر سوچنے پر مجبور ہو، کسی دکھی انسان کو حوصلہ ملے، کسی نوجوان کو قلم اٹھانے کی ترغیب ملے یا معاشرے میں کسی مثبت تبدیلی کی بنیاد پڑے۔میں نے اپنے سفر میں یہ سیکھا ہے کہ قلم صرف الفاظ لکھنے کا نام نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے۔ لکھاری کے الفاظ کسی کے دل کو جوڑ بھی سکتے ہیں اور توڑ بھی سکتے ہیں، کسی کے لیے امید بن سکتے ہیں اور کسی کے لیے مایوسی کا سبب بھی۔ اس لیے کوشش کرتا ہوں کہ قلم کو ذاتی مفاد، لالچ اور نمود و نمائش کے بجائے اصلاح، آگاہی اور مثبت سوچ کے لیے استعمال کیا جائے۔ آج جب میں اپنے ماضی کو دیکھتا ہوں تو گاؤں کی وہ کچی راہیں، سائیکل پر تیس کلومیٹر کا سفر، کتابوں کی تلاش، اہلِ قلم کی صحبت، پہلی شائع ہونے والی تحریر، عباس ٹائم سے صحافت کا آغاز اور پھر روزنامہ خبریں میں "دل کی بات” کا پہلا کالم، سب ایک فلم کی طرح آنکھوں کے سامنے آ جاتے ہیں۔ کبھی سوچتا ہوں کہ اگر اس وقت وسائل کی کمی سے گھبرا کر رک جاتا تو شاید یہ سفر یہاں تک نہ پہنچتا۔ میرا یقین ہے کہ انسان کے پاس اگر خلوصِ نیت، مسلسل محنت اور اپنے مقصد سے وفاداری ہو تو مشکلات اس کا راستہ روک نہیں سکتیں۔ میرا تعلق ایک پسماندہ گاؤں سے ضرور ہے، مگر میرے خواب ہمیشہ وسیع رہے، میں آج بھی خود کو سیکھنے والا ایک طالب علم سمجھتا ہوں، کیونکہ میرے نزدیک قلم کار کی تعلیم کبھی مکمل نہیں ہوتی۔ یہ سفر ابھی جاری ہے ، قلم آج بھی ہاتھ میں ہے "دل کی بات” آج بھی دل میں ہے اور کوشش آج بھی یہی ہے کہ جو بات دل سے نکلے، وہ خلوص کے ساتھ قارئین کے دل تک پہنچے۔ اگر میری تحریروں سے کسی ایک انسان کو بھی فائدہ پہنچا، کسی ایک نوجوان کو لکھنے کا حوصلہ ملا یا کسی ایک دل کو تسلی نصیب ہوئی تو میں سمجھوں گا کہ میرے قلم کا سفر رائیگاں نہیں گیا۔

  • میرا تعارف، عائشہ گُل

    میرا تعارف، عائشہ گُل

    میں فیصل آباد کی مٹی کی بیٹی ہوں۔
    میری پہلی درسگاہ وہ دینی ادارے تھے جہاں بیٹھ کر میں نے "ترجمہ و تفسیرِ سیرتِ مصطفی ﷺ” پڑھا اور اے گریڈ کے ساتھ اسے مکمل کیا۔ پھر اللہ نے مجھے سب سے بڑی دولت دی۔ میں نے بچیوں کے ہاتھوں میں قرآن تھمایا اور ان کے سینوں میں قرآن کا نور اتارا۔ الحمدللہ! آج کئی طالبات میرے ہاتھوں ترجمہ و تفسیر کے ساتھ قرآن مکمل کر چکی ہیں۔ یہ سب میرے رب کا کرم ہے۔

    قلم سے میرا تعلق 2023 میں جڑا۔ ایک دوست کے کہنے پر انسٹاگرام پر لکھنا شروع کیا۔ شرط صرف یہ تھی کہ جو لکھوں وہ اپنا ہو۔
    پھر 2024 میں میرا پہلا کتابچہ "قلبِ نور” آیا۔
    2025 میں دوسری کتاب "جینا سیکھیں”_ شائع ہوئی جسے "الوکیل ایوارڈ” کے ساتھ بہت سے اداروں کی جانب سے اعزاز ملا اور وہ آج سرکاری لائبریری کا حصہ ہے۔
    الحمدللہ! میرا ناول "دلِ محجوب” اور انتھولوجی "نقابِ نور” بھی اب تکمیل کے قریب ہیں۔
    اللہ کے فضل سے میرے قلم کو وطن کی سرحدیں بھی چھونے لگیں۔ گریٹ نیوز، آزاد ریاست پاکستان، اطلاعات، ایکسپریس، بی بی سی نیوز، نئی روشنی، نوائے خبریں، روزنامہ قائد، سٹی 9 سمیت پاکستان کے معتبر اخبارات اور کئی انگلش اخبارات میں میرے آرٹیکل، افسانے اور کالم شائع ہونے کا سلسلہ چل رہا ہے الحمد للہ۔

    اس کے علاوہ مختلف انتھولوجیز میں بھی میری تحریں شامل ہوئیں اور مختلف ادبی پلیٹ فارمز سے مجھے اعزازات سے نوازا گیا۔ الحمدللہ کثیرا کثیرا۔

    اس وقت میں مختلف اداروں میں بطور انچارج اپنی خدمات انجام دے رہی ہوں اور مختلف میگزینز کے لیے بھی لکھتی ہوں۔ دعا ہے کہ اللہ میرے قلم کو ہمیشہ حق کا ساتھ لکھنے والا بنائے اور میرے لفظ دلوں تک پہنچیں۔
    آمین یا ربّ العالمین۔

  • اسلام تیرا دیس ہے تو مصطفوی ہے،تحریر:محمد عثمان غازی

    اسلام تیرا دیس ہے تو مصطفوی ہے،تحریر:محمد عثمان غازی

    آج پاکستانی قوم کو بالخصوص اور امتِ مسلمہ کو بالعموم ضرورت ہے کہ لبرل ازم، سیکولر ازم اور کیپیٹلزم جیسے مغربی نظریات کا تجزیاتی مطالعہ کرے – پاکستانیوں کے لئے مذکورہ بالا نظریات کے گہرے مطالعہ کے ساتھ ساتھ نظریہ وطنیت، متحدہ قومیت، دو قومی نظریے اور نظریہ پاکستان کو سمجھنے اور اس کی ترویج ،اپنی نئی نسلوں تک کماحقہ منقلی کو اپنا فرض سمجھ کر ادا کرے کیونکہ عرصہ دراز سے دو قومی نظریہ اور نظریہ پاکستان کو مختلف حوالوں سے ہدفِ تنقید بنایا جارہا ہے- ساتھ ہی اس کے ایک اور لیکن اہم پہلو یہ بھی کہ دو قومی نظریہ کو مقامِ محمدِ عربی ﷺ کے تناظر میں سمجھا جائے۔

    یہ موضوع محض ایک شاعرانہ تخیل، جذباتی نعرہ ،جوشِ خطابت یا قلم کی جولانیاں دکھانے کے لئے کوئی روایتی شوشہ نہیں ہے بلکہ دراصل وہ حقیقت ہے کہ جس پر ہمارے قومی وجود کی بنیاد پڑی اور کھڑی ہے۔
    یہ دراصل علامہ محمد اقبال کی اس مابعد الطبیعاتی (Metaphysical) اور عمرانیاتی (Sociological) فکر کا نچوڑ ہے، جو انہوں نے بیسویں صدی کے فکری بحران میں مسلم اذہان (Muslim Mind) کی کایا پلٹنے کے لیے پیش کیا تھا-

    معزز قارئین ! یہ موضوع دو ایسے علمی ستونوں پر کھڑا ہے جن کا براہِ راست تعلق ہماری قومی اور انفرادی بقا اور شناخت سے ہے:

    پہلا ستون:
    دو قومی نظریہ— جو ہماری سیاسی اور جغرافیائی جدوجہد کی فکری اساس ہے۔

    دوسرا ستون:
    مقامِ محمدِ عربی ﷺ— جو اس پوری فکر کا "نقطۂ ماسکہ” (Focus) اور "مرکزِ ثقل” (Nucleus) ہے۔
    مجھے یہاں اس بات کا جائزہ لینا ہے کہ مغرب کے "تصورِ وطنیت” کے مقابلے میں اقبال نے جس "تصورِ ملت” کی بنیاد رکھی، اس کے تانے بانے کلمۂ طیبہ اور رسالتِ مآب ﷺ کی ذاتِ گرامی سے کس طرح جڑے ہوئے ہیں؟
    اس مقصد کےلئےسب سے پہلے ہمیں مغرب کے تصورِ وطنیت اور اس پراقبال کی تنقید کوسمجھنا ہوگا
    اس موضوع کی گہرائی میں اترنے کے لیے ہمیں پہلے انیسویں اور بیسویں صدی کے اس یورپی فلسفے کو سمجھنا ہوگا جس نے "قومیت” (Nationalism) کو جنم دیا۔ رینان (Renan) اور دیگر مغربی مفکرین کے نزدیک قومیت کی بنیادیں جغرافیہ، زبان، مشترکہ معاشی مفادات اور خون کے رشتوں پر استوار ہوتی ہیں۔ مغرب نے چرچ کو ریاست سے الگ کرنے (Secularization)کے بعد مرکز ِ یک جہتی کے طور پر "وطن” کو ایک نئے خدا کے طور پر متعارف کرایا،اس کی ضرورت انہیں اس لیے پڑی کہ وہ مذہب کو انفرادی زندگی میں تو باقی رکھے ہوئے تھے لیکن اجتماعی زندگی سے خارج کر چکے تھے ،مذہب کو فرد کا ذاتی معاملہ قرار دیا جا چکا تھا، لہٰذا معاشرتی یکجہتی کےلئے انہیں وطنیت کے بت کی ضرورت تھی جس کو مرکز یک جہتی بناکر لوگوں کو اس کے گرد اکٹھا کیا جا سکے۔

    بیسویں صدی کے برصغیر میں اسی مغربی فلسفے کو ہندوتوا کے فکری معماروں اور متحدہ قومیت کے داعی کانگرسی علماء نے بھی اپنا لیا تھا۔ ان کا استدلال یہ تھا کہ "اقوام اوطان سے بنتی ہیں”۔ ہندوؤں میں دھرتی ماتا کا تصور بھی اسی تصور کا اظہار ہے۔

    اس حوالہ سے علامہ اقبال رح نے "وطنیت (یعنی وطن بطور ایک سیاسی تصور کے)” لکھی، ہمارا موضوع بھی یہی ہے، "اسلام تیرا دیس ہے تو مصطفوی ہے” اسی نظم کاایک مصرع ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور مختصر فارسی نظم بھی "حسین احمد” کے عنوان سے موجود ہے جومحض تین اشعار مشتمل ہے، ملاحظہ فرمائیے:۔
    عجم ہنوز نداند رموزِ دیں ورنہ
    ز دیوبند حُسین احمد ایں چہ بوالعجبی است
    سرود بر سرِ منبر کہ مِلّت از وطن است
    چہ بے خبر ز مقامِ محمدِ عربی است
    بمصطفٰی برساں خویش را کہ دین ہمہ اوست
    اگر بہ او نرسیدی تمام بولہبی است

    (ارمغان حجاز حصہ فارسی)

    لیکن حکیم الامت علامہ اقبال ، جو دورہ یورپ میں خود مغرب کے فکری سرچشموں سے سیراب ہو کر لوٹے تھے، مغرب کی تہذیب کو قریب سے دیکھ کر اس کے کھوکھلے پن کو جان چکے تھےوہ اس نظریے کی فکری تباہ کاریوں کو بھی کو بھانپ چکے تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ یہی جغرافیائی قومیت تھی جس نے یورپ کو پہلی جنگِ عظیم کی آگ میں جھونکا اور انسان کو انسان کا خون بہانے پر مجبور کیا۔
    اقبال نے اس جدید بت کی فکری جڑوں پر تیشہ چلاتے ہوئے اس تصور کو یوں بیان کیا:

    اس دور ميں مے اور ہے ، جام اور ہے جم اور
    ساقی نے بنا کی روش لطف و ستم اور
    مسلم نے بھی تعمير کيا اپنا حرم اور
    تہذيب کے آزر نے ترشوائے صنم اور
    ان تازہ خداؤں ميں بڑا سب سے وطن ہے
    جو پيرہن اس کا ہے ، وہ مذہب کا کفن ہے
    يہ بت کہ تراشيدہء تہذيب نوى ہے
    غارت گر کاشانہء دين نبوی ہے
    بازو ترا توحيد کي قوت سے قوى ہے
    اسلام ترا ديس ہے ، تو مصطفوی ہے
    نظارہ ديرينہ زمانے کو دکھا دے
    اے مصطفوی خاک ميں اس بت کو ملا دے !
    ہو قيد مقامی تو نتيجہ ہے تباہی
    رہ بحر ميں آزاد وطن صورت ماہی
    ہے ترک وطن سنت محبوب الٰہی
    دے تو بھي نبوت کی صداقت پہ گواہی
    گفتار سياست ميں وطن اور ہی کچھ ہے
    ارشاد نبوت ميں وطن اور ہی کچھ ہے
    اقوام جہاں ميں ہے رقابت تو اسی سے
    تسخير ہے مقصود تجارت تو اسی سے
    خالی ہے صداقت سے سياست تو اسی سے
    کمزور کا گھر ہوتا ہے غارت تو اسی سے
    اقوام ميں مخلوق خدا بٹتی ہے اس سے
    قوميت اسلام کی جڑ کٹتی ہے اس سے

    (وطنیت یعنی وطن بحیثیت ایک سیاسی تصور کے)

    اقبال کا اعتراض یہ تھا کہ جغرافیائی حدود پر قائم قومیت انسانوں کو بانٹتی ہے، جبکہ اسلام انسانوں کو جوڑتا ہے۔ اگر مسلمان بھی مٹی، رنگ اور زبان کو اپنی قومیت کی بنیاد بنا لیں، تو وہ اس آفاقی پیغام سے دستبردار ہو جائیں گے جو کائنات کے تمام انسانوں کو ایک لڑی میں پروتا ہے۔ اسی لیے اقبال نے اعلان کیا کہ "اسلام تیرا دیس ہے”۔ یعنی مسلم کی قومیت کا پاسپورٹ اس کا جغرافیائی خطہ نہیں، بلکہ اس کا عقیدہ ہے۔

    دو قومی نظریہ: ایک تاریخی اور ارتقائی مطالعہ

    جب ہم "دو قومی نظریے” (Two-Nation Theory) کی بات کرتے ہیں، تو تاریخ کے طالب علم ہونے کے ناطے ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ یہ نظریہ سر سید احمد خان یا علامہ اقبال کی ذہنی اختراع نہیں تھا، بلکہ یہ برصغیر کی ہزار سالہ تاریخ کا ایک ناگزیر عمرانیاتی نتیجہ تھا۔
    قائد اعظم محمد علی جناح نے اس حقیقت کو اپنے مخصوص قانونی اور مدبرانہ انداز میں یوں بیان کیا تھا:

    "پاکستان تو اسی دن وجود میں آ گیا تھا جس دن برصغیر میں پہلے ہندو نے اسلام قبول کیا تھا”۔

    اس جملے کی گہرائی پر غور کیجیے۔ ایک فرد جب اسلام قبول کرتا ہے، تو وہ صرف اپنا مذہب تبدیل نہیں کرتا، بلکہ وہ ایک بالکل مختلف سماجی، قانونی اور تہذیبی نظام (Social Order) کا حصہ بن جاتا ہے۔ ہندومت کا تصورحیات و کائنات "ذات پات” (Caste System) اور عدمِ مساوات پر مبنی ہے۔ جبکہ اسلام کا نظامِ حیات "مساواتِ انسانی” اور توحید پر قائم ہے۔
    یہ دو ایسے متوازی دھارے تھے جو صدیوں تک ایک خطے میں رہنے کے باوجود کبھی آپس میں خلط ملط نہ ہو سکے۔ البیرونی نے اپنی کتاب "کتاب الہند” میں ہزار سال پہلے اس تہذیبی دوری کو واضح کر دیا تھا۔

    سر سید احمد خان نے ۱۸۶۷بنارس میں اردو ہندی تنازعے کے بعد اسی تاریخی حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ یہ دو قومیں کبھی ایک ساتھ مخلص ہو کر اکٹھی نہیں چل سکتیں اور نہ ہی کبھی ایک قوم کی تشکیل کرسکتی ہیں اگر انگریز یہاں سے چلا گیا تو اکثریت اقلیت کو دبا لے گی۔ علامہ اقبال نے ۱۹۳۰ء کے خطبہ الٰہ آباد میں اسی عمرانیاتی حقیقت کو ایک سیاسی اور جغرافیائی قالب عطا کیا، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ جب تک مسلمانوں کو ایک مخصوص خطۂ زمین پر سیاسی اقتدار حاصل نہیں ہوگا، وہ اپنے تہذیبی اور مابعد الطبیعاتی اصولوں کی حفاظت نہیں کر سکیں گے۔
    قرآنِ مجید نے اس نظریاتی تقسیم کو بہت پہلے واضح فرما دیا تھا:
    "هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ فَمِنكُمْ كَافِرٌ وَمِنكُم مُّؤْمِنٌ”(سورۃ التغابن: 2)
    ترجمہ: "وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا، پھر تم میں سے کوئی کافر ہے اور کوئی مؤمن۔”
    اسلام کی نظر میں کائنات صرف دو گروہوں میں تقسیم ہے: ایک وہ جو وحیِ الٰہی کو مانتا ہے، اور دوسرا وہ جو اس کا انکار کرتا ہے۔ یہی دو قومی نظریے کی اصل قرآنی اساس ہے۔

    مقامِ محمدِ عربی ﷺ:ملتِ اسلامیہ کا مرکزِ ثقل (Metaphysical Nucleus)

    اب ہم اس موضوع کے سب سے نازک اور اہم موڑ پر پہنچتے ہیں۔ اگر "اسلام ہمارا دیس ہے”، تو اس دیس کا والی کون ہے؟ اس سلطنتِ فکر کا مرکزِ ثقل کیا ہے؟

    اقبال کہتے ہیں: "تو مصطفوی ہے”۔

    کسی بھی معاشرے یا ریاست کو قائم رکھنے کے لیے ایک مرکز (Center) کی ضرورت ہوتی ہے۔ مغرب کے لیے وہ مرکز "پارلیمنٹ” یا "دستور” یا "سرحد” ہے۔ لیکن ملتِ اسلامیہ کے لیے وہ مرکزِ ثقل نہ تو کوئی مادی ادارہ ہے اور نہ ہی زمین کا کوئی ٹکڑا، بلکہ وہ ذاتِ گرامی ہے جسے ہم محمدِ عربی ﷺ کہتے ہیں۔
    عمرانیات (Sociology) کا اصول ہے کہ جب تک افرادِ معاشرہ کے جذبات اور وفاداریاں ایک نقطے پر جمع نہ ہوں، معاشرہ بکھر جاتا ہے۔ اقبال نے اپنے فلسفۂ خودی اور بے خودی (مثنوی اسرار و رموزِ) میں یہ ثابت کیا ہے کہ مسلم امہ کی تشکیل اور اس کا دوام صرف اور اور صرف "محبتِ مصطفیٰ ﷺ” اور "عقیدۂ رسالت” سے ممکن ہے۔

    اقبال فرماتے ہیں:

    از رسالت در جہاں تکوینِ ما
    از رسالت دینِ ما آئینِ ما
    از رسالت صد ہزار ما یک است
    جزو ما از جزو مالا ینفک است

    (ترجمہ: رسالت ہی سے دنیا میں ہماری تشکیل ہوئی ہے، رسالت ہی ہمارا دین اور ہمارا آئین ہے۔ رسالت ہی کی بدولت ہم لاکھوں ہونے کے باوجود ایک ہیں، اور ہمارا ہر جزو دوسرے جزو سے جڑا ہوا ہے۔)
    ذاتِ مصطفیٰ ﷺ مسلمانوں کے لیے صرف ایک مذہبی رہنما کی حیثیت نہیں رکھتی بلکہ وہ مسلم امہ کا مابعد الطبیعاتی شیرازہ (Metaphysical Glue) ہے، جس نے دنیا کے تمام مسلمانوں کو جوڑا ہوا ہے۔ دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھا ہوا مسلمان جب شہادتِ توحید و رسالت دیتا ہے، تو وہ خود کو مدینے کے اس مرکز سے جوڑ لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی ذاتِ رسالت مآب ﷺ پر کوئی حرف آتا ہے، تو انڈونیشیا سے لے کر مراکش تک کا مسلمان تڑپ اٹھتا ہے۔ یہ مادی رشتہ نہیں ہے، یہ خالصتاً ایک وجودی (Existential) اور ایمانی رشتہ ہے۔

    اس رشتے کی مضبوطی کے لیے دو چیزیں بنیادی ہیں:

    1. اسوۂ حسنہ کا نفاذ:
    جہاں قانون، اخلاق اور سماج کا معیار صرف ذاتِ مصطفیٰ ﷺ کی زندگی ہو۔

    2. عقیدۂ ختمِ نبوت کی حفاظت:
    یہ وہ عقیدہ ہے جو امت کو کسی بھی نئے فکری انتشار سے بچاتا ہے۔ یہ امت کے دائرے کو متعین کرتا ہے کہ جو اس مرکز سے وابستہ ہے وہ امت کا حصہ ہے، اور جو اس مرکز سے انحراف کرتا ہے وہ اس فکری دیس سے بے دخل ہو جاتا ہے۔

    "تو مصطفوی ہے” — فکری جمود اور دورِ حاضر کے چیلنجز”:

    اب میں ایک تلخ مگر ضروری تنقیدی جائزہ (Critical Analysis) لینے کی جسارت کر رہا ہوں۔ جب اقبال کہتے ہیں کہ "تو مصطفوی ہے”، تو وہ ہمارے سامنے ایک آئینہ رکھتے ہیں۔ کیا آج کا مسلم معاشرہ، کیا آج کا پاکستان اپنے عمل اور فکر کے لحاظ سے "مصطفوی” کہلانے کا حقدار ہے؟
    ہم نے پاکستان تو دو قومی نظریے پر بنا لیا، لیکن قیامِ پاکستان کے بعد ہم نے کیا کیا؟ ہم نے دوبارہ انہی بتوں کو اپنے دلوں میں سجا لیا جن کو توڑنے کا حکم مصطفیٰ عربی ﷺ نے دیا تھا:
    ہم نے کلمے کے آفاقی رشتے کو چھوڑ کر خود کو سندھی، بلوچی، پنجابی اور پٹھان میں تقسیم کر لیا۔
    ہم نے مسلکی اور فرقہ وارانہ نفرتوں کے ایسے بت تراشے کہ دینِ حنیف کا چہرہ مسخ کر کے رکھ دیا۔
    ہم نے معیشت میں سود کا وہ نظام اپنایا جس کے خلاف اللّٰہ تعالٰیﷻ اور اس کے رسول ﷺ کا اعلانِ جنگ ہے۔
    ہم نے اقبال کے شعر تو یاد کر لیے، لیکن ان کے فلسفے کو پسِ پشت ڈال دیا۔ حدیثِ مبارکہ میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا:

    "لا فضل لِعربي على عجمي ولا لِعجمي على عربي… إلا بالتقوى”۔
    ترجمہ: کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں…. سوائے تقویٰ کے

    لیکن آج ہمارے معاشرے کی بنیادیں تقویٰ پر نہیں، بلکہ مادی طاقت، خاندانی اثر و رسوخ اور معاشی طبقات پر قائم ہیں۔
    ایک قلم کار اور دانشور کی حیثیت سے ہمیں یہ اعتراف کرنا ہوگا کہ ہمارا فکری جمود (Intellectual Stagnation) اس وقت تک ختم نہیں ہو سکتا جب تک ہم "مصطفوی ہونے” کے حقیقی تقاضوں کو پورا نہ کریں۔ مصطفوی ہونے کا مطلب روایتی قوالیوں یا سالانہ جلسوں تک محدود رہنا نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب علم، تحقیق، عدل، شجاعت اور انسانیت نوازی کے ان اصولوں کو دوبارہ زندہ کرنا ہے جو مدینے کی ریاست کا طرۂ امتیاز تھے۔
    اقبال نے ہماری اسی حالت پر نوحہ گری کرتے ہوئے فرمایا تھا:
    قلب میں سوز نہیں، روح میں احساس نہیں
    کچھ بھی پیغامِ محمد کا تمہیں پاس نہیں
    وضع میں تم ہو نصاریٰ، تو تمدن میں ہنود
    یہ مسلماں ہیں! جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود

    حاصلِ کلام اور فکرِ اقبال کی معاصر معنویت (Conclusion)
    میں اس پورے مباحثے کو سمیٹتے ہوئے یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ "اسلام تیرا دیس ہے تو مصطفوی ہے” محض ایک تاریخی یادگار نہیں، بلکہ یہ دورِ حاضر کے تمام فکری، سیاسی اور وجودی بحرانوں کا واحد حل ہے۔آج کی دنیا گلوبلائزیشن (Globalization) اور پوسٹ ماڈرنزم (Post-Modernism) کے دور سے گزر رہی ہے، جہاں انسان کی شناخت کو مٹایا جا رہا ہے اور اسے محض ایک معاشی مہرہ (Economic Animal) بنایا جا رہا ہے۔ ایسے میں اسلام کا تصورِ ملت ہی وہ واحد آفاقی متبادل ہے جو انسان کو اس کی حقیقی روحانی اور اخلاقی عظمت سے روشناس کرا سکتا ہے۔
    پاکستان کی بقا اور ترقی کا راز بھی اسی نظریے میں پنہاں ہے۔ پاکستان کی مٹی کو اگر کوئی چیز جوڑ کر رکھ سکتی ہے، تو وہ نہ تو کوئی معاشی پیکیج ہے، نہ کوئی مادی طاقت، بلکہ وہ صرف اور صرف اسلام کا نظریاتی دیس اور مصطفوی مرکزیت ہے۔ اگر ہم نے اس مرکز کو چھوڑ دیا، تو ہمارا شیرازہ بکھرنے میں دیر نہیں لگے گی۔
    اب یہ میری، آپ کی اور خاص طور پر تمام دانشوروں ،قلم کاروں اور محققین کی ذمہ داری ہے کہ ہم دو قومی نظریے کو جدید علمی اور عقلی زبان میں نئی نسل کے سامنے پیش کریں۔ ہمیں روایت پسندی کے خول سے نکل کر اسوۂ حسنہ کے معاشی اور سیاسی ماڈلز(اسلام کے تصور عدل اجتماعی) کو دنیا کے سامنے ایک چیلنج کے طور پر پیش کرنا ہوگا۔
    آئیے! اجداد کے اس فکری ورثے کو سنبھالیں اور دنیا کو بتائیں کہ ہماری شناخت نہ مٹی سے ہے، نہ خون سے، بلکہ ہماری شناخت تاجدارمدینہﷺ سے ہے۔
    میں اپنی گفتگو کو علامہ اقبال کے ان لازوال اور فکر انگیزا شعار پر تمام کرتا ہوں:
    اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
    خاص ہے ترکیب میں قوم رسولِ ہاشمی
    ان کی جمیعت کا ملک ونصب پر انحصار
    قوتِ مذہب سے مستحکم ہے جمیعت تیری

  • طوائف کی ترمیم ،تحریر: یوحناجان

    طوائف کی ترمیم ،تحریر: یوحناجان

    مشہور دانش ور اور مزاح نگار کے الفاظ صرف الفاظ نہیں ہوتے بلکہ اس کا تجزیہ اور مشاہدہ ہوتے ہیں۔ جو اس کے گردوپیش ہونے والی حرکات و سکنات کا ایک جامع لباس ہوتا ہے۔ اس لباس میں کچھ کالے رنگ کا بھی ہوتا ہے جو ایک طرح خالص پردے کا پہناوے ثابت ہوتا ہے۔ اس میں چاہے وہ کالی شلوار ہو یا قمیض۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کو یہاں ان الفاظ کے عوض سعادت حسن منٹو کا افسانہ کالی شلوار یاد آ گیا ہو یا قمیض تیری کالی عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی کے ایک پرانے گانے کو خراج تحسین پیش کرنا یاد ہو۔

    پھول کا پہناوا ایک طوائف کے کوٹھے پر بھی اُتنا ہوتا ہے اور قبر پر بھی۔ ، رنگت ، بناوٹ ، خوشبو یہاں تک شکل بھی وہی ہے چاہے وہ قبروں کی زینت ہو یا طوائف زینت کی کلائی ہو۔ ترمیم جگہ ، مقصد اور کرنے والے کی نیت میں ہوتی ہے۔ اب تو ترمیم اس حد تک ہو گئی کہ تحفوظ تک دینے کے لیے جگہ ، نام ، مذہب ، عقیدہ اور جنس تک بدلتی ہوئی ملی۔

    کبھی ایک بازار تھا ، ایک مقصد تھا مگر اب جگہ جگہ اور مقاصد ہیں۔ والدین نے بچپن سے ہی بات سمجھانا چاہی کہ بیٹا سگریٹ نوشی سے دور رہنا ہے کیونکہ یہ ایک بُری لت ہے۔ میں نے سُن کر سُنا ان سُنا کر دیا۔ کئی بار اسکول آتے جاتے دوستوں کو سگریٹ کی باتیں کرتے سُنا یہی ہونا تھا کہ ایک دن وہ سگریٹ پیتے پکڑے گئے۔ خوب دُرگت بنی۔ اسکول سے بھی نکال دیا گیا۔ اساتذہ نے دوبارہ داخلہ دینے سے انکار کردیا۔ اس واقعہ کے چند روز بعد وہ دوست گلی کی نکڑ پر ملے۔ پوچھا کہ کون سا ایسا کام کر ڈالا جس کی وجہ سے یہ سب دیکھنا پڑا۔ وہ ذرا سی ہلکی آواز میں بولے سالے کیپٹن کا سگریٹ پیا تھا۔
    ان سے دریافت کیا کہ کہاں سے خریدا تھا۔ انھوں نے پھر نرم گوشی میں کہا مروائے گا کیا۔۔۔۔۔۔؟
    دریافت کرنے کے اصرار پر بولا یہ فلاں کے جنرل سٹور سے۔
    ایک دم قہقہہ لگا اور سن کر چل دیا۔ گھر والوں سے اس بات پر بات ہوئی۔ والد صاحب فرمانے لگے بیٹا سگریٹ کے دھواں سے بھی دور رہو۔ یہ جس کے منہ سے نکلتا ہے اُس سے بھی خطرناک زہر بن کر نکلتا ہے۔ جہاں سے ملے وہاں سے دس قدم دور گزرنے کی کوشش کرو۔ اپنے اندر ترمیم کیا کرو باہر خود بخود ہو جایا کرے گی۔
    بات ہضم نہ ہونے والی تھی۔ والد صاحب سے پوچھا تو پھر طوائف بھی تو دور دور بھاگتی ہے پر ترمیم کا جادو نون ، میم ، جیم اور کریم پر کیوں نہیں۔ وہ بھی تو کچھ یہی کام کی ہیں۔ خریدنے والے کی جیب کبھی بھی اور کسی بھی جگہ ترمیم کرتی ہوئی پائی جا سکتی ہے۔ چاہے وہ حُور ہو یا مجبور ، حیرت کی نگاہ یا غیرت ، فلاں بھی ناداں ، مستی گیٹ کے عقب ہو یا پھر سینوں میں جلتی ہوئی پیٹ کی چربی۔ چمن کی عریاں حوریں چاکِ گریباں کیے بیکرانہ فضا میں سانس لیے کُھوئی ہوئی نگاہ کو یقین کا ہاتھ دینے اپنے بدن کی ترمیم پیش کرتی ہیں۔ جس کو آتش کا نام ، صادق و امیں کی داستاں ، عشق و مستی کا طغیاں ، بے باکی کا ساماں اور مثل خزاں پیدا کیے جابجا برقعہ پوش کے روپ میں اُلٹ جائیں گے۔ حد ادراک سے باہر عین غین اور ہاتھوں میں ٹین ڈبہ اور کین۔ جس کے اوپر لیبل تو پیپسی ، کوک اور ڈیو ہے۔ خوشبو میں چہک ، بہک ، لہک اور آخر میں مہک ، چاہے اس میں کوئی ملٙک ہو یا مُلک دونوں میں کوئی نہ ہو تو پھر مِلک۔ ان تینوں اصطلاحات میں زیر، زبر اور پیش کا اہم کردار ہے۔ انحصار تو کرتا ہے قاری پر وہ زبر سے زیر ہوتا ہے یا نہیں ورنہ یہ تو بات تصدیق پر مبنی ہے پیش تو عدالت میں ہونا ہے۔
    اس زیر ، زبر اور پیش کی ترمیم کو آپ کیا مطلب دیتے ہیں۔۔۔۔۔ ؟

    کہیں ذات پات کی تو کہیں پات کو الگ کرکے ترمیم کے ذریعے پتے کا نام بھی تو دیا جا سکتا ہے۔ اسی کے اول حصہ کو خداوند کریم کے ساتھ لگا دیں تو اس کی وحدانیت کا معانی بھی ہو سکتا ہے۔ اب یہی ترمیم بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو کر ایک تر ( نمی) جو کسی کے پسینے ، طوائف کو دیکھ کر منہ سے نکلتی رال یا کسی کی آنکھوں سے نکلتے آنسو بھی ہو سکتے ہیں اور دوسرا میم ( مونث ) کی اصطلاح کا دامن لیے کروٹ بدلتے بدلتے بھاٹی گیٹ کے چوراہے سے کہیں سے کہیں چلی گئی۔ جگہ جگہ پڑاو ، راہ جاتے برقعہ پوش ، کنال کے کنارے دھمال اور تعلیم گاہ کے آمنے سامنے مُنا اور مُنی دونوں برسراقتدار ہوئے۔ وہیں سے چلتے چلتے یہ ہوا ، دوا ، گدھا اور پری کی ادا اپنے پٙر کھولتے ہوئے پارلیمان کی زینت ، حسینت اور بصد شوق کی ریستوان میں لگی اندھوں کے رحم پر کمینت جگہ جگہ منٹو پر اعتراض کرنے والوں کے کردار کی ہمہ وقت خوب صورت ہونے والی نیت پر فریفتہ کبھی دائیں اور کبھی بائیں کروٹ لیتی کیفیات کا تصور ہے۔ جو گوہرِ مقصود کو ڈھونڈتی شمشان گھاٹ کی راکھ کا نتیجہ ثابت ہوئی۔

    ماں باپ کی منتیں ، چڑھاوے اور نیاز سب کی سب روحانی نقائص کی بھینٹ چڑھ گیا۔
    رنگ زرد ، تبدیلی کا چہرہ ، میک اپ کا نور ، بیماری و یماری سمجھ کر دل میں کچھ پیدا کرنے لگی۔ یہی پیدا شدہ صورت حال بعض دفعہ بڑی تکلیف دہ ہوتی ہے۔
    اس کا مطلب ہرگز نہیں کہ محبت ختم ہو گئی۔ محبت تو آج بھی پہلے پھول کو ہاتھوں میں ، بالوں میں ، چہرے پہ ، خوشبو میں ، رنگت میں ، سنگت میں ملتی ہے۔ بعدازاں وہی نظریہ ضرورت بن کر ٹھکرا دی جاتی ہے جس کے دلائل پاوں میں روندے جانے کی نشانی ثابت ہوتی ہے۔ شاید قاری یہاں یہ سمجھتا ہو کہ لکھنے والے کے اندر وٹامنز ختم ہو چکے ہیں ایسا ہرگز نہیں انھیں پروٹوکول ہی اتنا ملتا ہے جتنا ایک وقت میں دوسری بار ملاقات کرنے کو سنگ ملتا ہے۔
    اس پھیکی مسکراہٹ اور لبوں پر پیدا ہونے والے ارتعاش نے کسی کو غم اور کسی کو خوشی کا احساس دیا۔ دونوں ایک ہی وقت میں رونما ہوئے چاہے اب کوئی خائف ہو کر اس کو طوائف کی ترمیم سمجھ لے یا ایک طویل فاصلہ زندگی کے ناکام پہلو ۔۔۔۔۔۔
    جس کے عقب میں شراب ، کباب اور احباب جو سب مل کر ایک زندگی کا باب بن جائے گا۔ تاریخ دان ضرور حمل کے گر جانے کا ذکر کرئے گا۔ ممکن ہو تو راجکماری کی نظر میں محبت کے گرنے کا تذکرہ بھی ہو گا۔ جو صرف دلچسپ گفت گو کو بنانے کے حربے تلاش کرکے دیوار کے پلستر کو اُکھاڑ دے گا۔ وہی دیوار بدمزہ ، بے صورت اور خواہشات سے دور کہیں توجہ کا خلا پائے گی۔ بعض دفعہ بجے بڑی تکلیف سے پیدا ہوتے ہیں مگر یہی بچے کوئی ترمیم کے راستے کو اپناتے ہیں چاہے وہ لاہور کے علاقہ کا عام بازار ہو یا قانون دانوں کے قانونی راستے پھر بعد میں ہونے والا درد پہلے سے بھی شدید اور خطرناک ثابت ہوتا ہے۔ میری توجہ محبت کی ترمیم ہے جو غلام محمد کے دل میں بھی پیدا ہونے والی ہو سکتی یا پھر بجلی کے قمقمے کی روشنی کو دیکھ کر تحت الشعور میں جاگنے والی کسی اجنبی کے بلا عنوان کی بابت بھی ہو سکتی ہے۔ میرا مطلب یہاں محبت بُری نہیں صرف طواِف کی ترمیم مُراد ہے جو جلتی ہوئی رسی کی مانند بل کھاتی ہوئی بھی اپنا نقش خامشی میں ماند کر لیتی ہے۔ ایک طرح ترمیم کرتی جاتی ہے۔

  • قسمت کے کھیل ،تحریر: عائشہ گُل

    قسمت کے کھیل ،تحریر: عائشہ گُل

    "کیا نام ہے بیٹا تمہارا؟” انٹی نے شفقت سے پہلو میں بٹھا کر پوچھا۔ ارم نے بس سر جھکا لیا۔ ایک لفظ نہ آگے، نہ پیچھے۔ خاموشی ہی اس کا جواب بنی۔ جو ابھی ابھی کمرے میں داخل ہوئی تھی۔ مہرون لباس، لمبی قمیض، ہم رنگ ٹراؤزر اور حجاب۔ چہرے پر نور کی پرچھائیاں، آنکھوں میں ہلکا کاجل، لبوں پر سادگی کی براؤن لپسٹک۔ گویا سادگی خود چل کر آئی ہو۔

    پانچ برس بیت گئے تھے۔ ہر بار ایک نئی امید کے ساتھ وہ اس کمرے میں آتی۔ اور ہر بار "نہ” کا جواب لے کر لوٹ جاتی۔ پھر رب کے فیصلے پر سجدہ کر کے خود کو تسلی دے دیتی۔ مگر آج… آج سامنے والے دو ماہ سے پیچھے پڑے تھے۔ "لڑکی دیکھنی ہے۔” بابر کے گھر والے، ارم کے گھر والے۔ کام، کاروبار، حسب و نسب۔ سب موافق۔ اور سب سے بڑی بات، ارم بھی انہیں پسند آ گئی۔ بات بڑھتے بڑھتے منگنی تک پہنچ گئی۔ جمعہ کا دن طے ہوا۔ سب خوش تھے۔ سوائے ارم کے۔ اس کا دل کسی انجانے خوف سے کانپ رہا تھا۔ وہ بار بار بس یہی دعا کرتی: "یا اللہ! حق کو حق بنا کر دکھا، اور اس کی پیروی کی توفیق دے۔”

    سلور میکسی، ہم رنگ حجاب، ہاتھوں میں گلاب کے گجرے اور مہندی کی لکیریں۔ وہ دوست کے گھر سے تیار ہو کر آئی تو لگتا تھا جیسے کوئی حور زمین پر اتر آئی ہو۔ عصر کی نماز پڑھی، اور شہزادیوں کی طرح استقبال ہوا۔ منہ میٹھا ہوا، ہاتھوں میں شگن کے لفافے رکھے گئے۔ اسٹیج پر بیٹھی وہ سب کو مسکرا کر دیکھتی رہی، مگر دل کے کونے میں وہ چٹان جیسا خوف اپنی جگہ قائم رہا۔

    منگنی ہو گئی۔ آنا جانا شروع ہوا۔ تکلفات، لوازمات، مٹھائیاں۔ لیکن جب ارم والے بابر کے گھر جاتے تو وہاں لفظوں سے ٹپکتا ہوا غرور ملتا۔ چائے کے کپ میز پر رکھ کر کہا جاتا: "ہمارا بیٹا تو ماشاءاللہ خود مختار ہے۔ کاروبار کا بادشاہ ہے۔” ارم کے والد بس مسکرا کر سر جھکا لیتے۔ جیسے ارم اور اس کا خاندان کسی شمار میں ہی نہ ہو۔ ارم کا بھائی افان جب دکان پر جاتا تو بابر وہاں نہ ملتا۔ جواب یہی ملتا: "بہت محنتی ہے۔ سارا نظام اسی کے ہاتھ میں ہے۔”

    پھر ایک دن افان دکان پہنچا تو سارا بھرم ٹوٹ گیا۔ دو چار برتن، وہ بھی ادھار کے۔ باقی سارا خلا۔ دیواریں ننگی، شیلف خالی۔ محلے والوں نے کہا: "لڑکا اچھا ہے۔” لیکن اچھائی کے پردے کے پیچھے کیا تھا؟ ادھر بابر والوں نے ضد پکڑ لی۔ "ارم کے محلے میں جا کر اس کے کردار کے بارے میں پوچھیں گے۔ ورنہ منگنی توڑ دیں گے۔ شادی کے بعد بھی چھوڑ سکتے ہیں۔”

    اور پھر اللہ نے پردہ اٹھا دیا۔ کسی جاننے والے نے سچ سامنے رکھ دیا۔ دکان کرائے کی، گھر کرائے کا، کاروبار کا نام و نشان نہیں۔ چھوٹا بھائی ذہنی مریض، جسے کمرے میں بند کر کے کہا جاتا تھا کہ "باہر ملک گیا ہوا ہے۔” حقیقت سامنے آتے ہی ارم کے گھر والوں نے منگنی توڑ دی۔ کہا: "جو آج ہماری بیٹی کی عزت بازار میں اچھال رہے ہیں، کل اس گھر کی عزت کی حفاظت کیا کریں گے؟”

    ارم ٹوٹ گئی۔ لیکن اس بار آنسو لوگوں کے طعنوں کے ڈر سے تھے۔ اس نے بابر کی تصویر تک نہ دیکھی۔ بس رب کے فیصلے پر سر تسلیم خم کر دیا۔ رات کے دو بجے۔ نیند آنکھوں سے روٹھ چکی تھی۔ وہ سجدے میں گر گئی: "یا اللہ! میں یوسف کی طرح کنویں میں ہوں۔ مچھلی کے پیٹ کا اندھیرا ہے۔ اس رات میں میری روشنی بس تو ہے۔ لوگ پتھر ماریں اس سے پہلے مجھے تھام لے۔ میں بے بس ہوں، مگر تیری ہوں۔” روتے روتے آنکھ لگ گئی۔

    اور پھر صبح آئی۔ ایک نئی ارم کے ساتھ۔ ناشتے کی ٹرے ہاتھ میں تھامے وہ بولی: "امی! بس۔ اب یہ بات ختم۔ لوگ کہتے رہیں۔ وہ ہمیں کھلاتے نہیں، ہمارا راشن نہیں ڈالتے۔ یہ ایک برا خواب تھا، جو ٹوٹ گیا۔ اللہ جو کرتا ہے بہترین کرتا ہے۔ ساری عمر پچھتانے سے بہتر ہے ایک بار کا صبر کر لیا جائے۔” ماں نے بیٹی کو سینے سے لگا لیا۔ "میری دعائیں تیرے ساتھ ہیں۔ میرا رب ضرور بہتر سے بہترین کرے گا۔ ان شاء اللہ الکریم۔”

    وقت مرہم رکھنا جانتا ہے۔ زخموں پر نہیں تو دل کے زاویوں پر ضرور۔ دو برس بیتے تو ارم کے آنگن میں بہار لوٹ آئی۔ وہی ارم جو کل تک راتوں کو سجدوں میں گم رہتی تھی، آج صبر و رضا کا پیکر بنی تھی۔ "ذیشان صاحب، لیجیے آپ کا امامہ شریف۔” اس کی آواز میں اب وہ کپکپاہٹ نہ تھی جو کبھی منگنی والے دن تھی۔ اب لہجے میں وقار تھا، آنکھوں میں سکون۔ ذیشان نے آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر امامہ درست کیا اور مسکرا کر کہا: "ماشاءاللہ! آج بھی یہ امامہ آپ کے ماتھے کا نور بن کر چمک رہا ہے، جیسے دعا قبول ہو کر سر پر سج گئی ہو۔ میں اللہ کا شکر ادا کرتے نہیں تھکتا کہ اس نے مجھے باکردار، باحیا اور علم کی روشنی والی بیوی عطا کی۔” ارم نے نظریں جھکا لیں۔ دل نے سجدہ کیا۔ وہ جب بھی ذیشان کو دیکھتی تو اسے اپنا وہ والا سجدہ یاد آ جاتا۔ وہ رات، دو بجے کا وہ اندھیرا، اور رب کا وعدہ: "میں بہترین فیصلہ کروں گا۔”

    زندگی نے واقعی کروٹ لی تھی۔ ٹوٹے ہوئے خوابوں کی جگہ اللہ نے ایسے محل تعمیر کر دیے تھے جن کی بنیاد یقین پر تھی۔ "چلیں، آج پہلی تراویح ہے۔ دیر نہ ہو جائے۔” ذیشان مسجد کی طرف چل دیا اور ارم نے جائے نماز بچھا لی۔ قرآن کی تلاوت کی گونج گھر میں پھیلی تو لگا جیسے فرشتے بھی سننے آ گئے ہوں۔ اور اگلے برس… اللہ نے ان کی دعاؤں کا صلہ بھیج دیا۔ ان کی گود میں ایک ننھی جان آئی۔ پاکیزہ محبت کی نشانی۔ گویا اللہ نے کہہ دیا ہو: "میں نے تیرے صبر کا سود سمیت لوٹا دیا۔” ارم نے بچے کو گود میں لیا تو بے اختیار لبوں سے نکلا: "سبحان ربی الاعلیٰ”۔ وہی سجدے والا جملہ۔ وہی یقین والا کلمہ۔ کیونکہ اب وہ جان چکی تھی… رب کا انتخاب ہمیشہ بہترین ہوتا ہے۔ بس شرط یہ ہے کہ انسان ٹوٹ کر بکھرنے کے بجائے، ٹوٹ کر اللہ سے جُڑ جائے۔

  • تبصرہ کتب،پانی کا بلبلہ،تبصرہ نگار: عبدالحفیظ شاہد

    تبصرہ کتب،پانی کا بلبلہ،تبصرہ نگار: عبدالحفیظ شاہد

    کچھ کتابیں پڑھنے کے بعد انسان اپنے آس پاس کی زندگی کو نئے سرے سے دیکھنے لگتا ہے۔ لوگ وہی ہوتے ہیں، رشتے وہی، گھروں کے مسائل وہی، خوشیاں اور محرومیاں بھی وہی، مگر انہیں دیکھنے کا زاویہ بدل جاتا ہے۔
    ڈاکٹر تنویر انور خان صاحبہ کی کتاب پانی کا بلبلہ پڑھتے ہوئے میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔
    ڈاکٹر تنویر انور خان صاحبہ پیشے کے اعتبار سے میڈیکل ڈاکٹر ہیں اور ماشاءاللہ ایک ڈاکٹر فیملی سے تعلق رکھتی ہیں۔ طب جیسے مصروف شعبے سے وابستہ ہوتے ہوئے ادب کے لیے وقت نکالنا، پڑھنا، سوچنا اور مسلسل لکھتے رہنا آسان کام نہیں۔ اس کے باوجود ان کا ادبی سفر پندرہ کتابوں تک پہنچ چکا ہے۔
    مجھے ان کی تقریباً پانچ کتابیں پڑھنے کا موقع ملا ہے۔ ہر نئی کتاب کے ساتھ میرے لیے ایک بات زیادہ واضح ہوئی ہے کہ ڈاکٹر تنویر انور خان صاحبہ کے ہاں لکھنا زندگی کو دیکھنے اور سمجھنے کا ایک طریقہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریروں میں زندگی کے عام واقعات بھی اپنی خاص معنویت کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔
    گو کہ ان کا بنیادی تعلق طب سے ہے لیکن ان کی تحریر پڑھتے ہوئے یہ احساس ہوتا ہے کہ ان کی زبان رواں ہے، بیان میں گرفت ہے اور سب سے بڑھ کر مشاہدہ شاندار ہے۔ شاید ڈاکٹر ہونے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ انہیں روزمرہ زندگی میں انسان کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ بیماری صرف جسم میں نہیں ہوتی، انسان اپنے اندر بھی بہت کچھ لیے پھرتا ہے۔ دکھ، خوف، محرومی، تنہائی، خواہش، محبت اور بے یقینی۔ ان انسانی کیفیتوں سے مسلسل واسطہ کسی حساس طبیب کے مشاہدے کو یقیناً وسیع کرتا ہے۔
    پانی کا بلبلہ اسی انسانی مشاہدے کی کتاب محسوس ہوتی ہے۔
    عنوان ہی سے ایک کیفیت سامنے آتی ہے۔ پانی پر بننے والا بلبلہ خوب صورت ہوتا ہے مگر دیرپا نہیں ہوتا۔ روشنی پڑے تو اس میں رنگ دکھائی دیتے ہیں، ذرا سی حرکت ہو تو شکل بدل جاتی ہے اور اگلے ہی لمحے اس کا وجود ختم ہو جاتا ہے۔ انسانی زندگی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ ہم بہت سی چیزوں کو مستقل سمجھ کر ان کے ساتھ جڑ جاتے ہیں، حالانکہ وقت انہیں بدلتا رہتا ہے۔ تعلقات بدلتے ہیں، ترجیحات بدلتی ہیں، لوگ بدلتے ہیں اور بعض اوقات حالات ہمیں بھی بدل دیتے ہیں۔
    لیکن میرے نزدیک اس عنوان کی خوب صورتی صرف ناپائیداری تک محدود نہیں۔ بلبلہ عارضی ضرور ہے مگر جب تک قائم رہتا ہے، اپنے اندر ایک دنیا سمیٹے ہوتا ہے۔ شاید انسان بھی ایسا ہی ہے۔ اس کی زندگی کتنی ہی مختصر کیوں نہ ہو، اس کے اندر یادیں، رشتے، خواب، دکھ اور محبتیں پوری شدت کے ساتھ موجود رہتی ہیں۔
    کتاب پڑھتے ہوئے سب سے زیادہ جو چیز محسوس ہوتی ہے وہ انسان اور اس کے تعلقات ہیں۔ ہمارے معاشرے میں رشتے بہت ہیں، مگر ہر رشتہ دل کے قریب نہیں ہوتا۔ ایک ہی گھر میں رہنے والے لوگ بھی کبھی ایک دوسرے سے بہت دور ہو جاتے ہیں اور بعض اوقات کوئی اجنبی چند ملاقاتوں میں اپنا سا لگنے لگتا ہے۔ تعلق صرف خون، نام یا رشتے کے عنوان سے قائم نہیں رہتا۔ اسے وقت، توجہ، اعتماد اور احساس کی ضرورت ہوتی ہے۔
    یہی احساس ڈاکٹر تنویر انور خان صاحبہ کی تحریروں میں بار بار سامنے آتا ہے۔ وہ انسانی رویوں کو صرف سطح پر دیکھنے کے بجائے ان کے پیچھے چھپی کیفیت کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہیں۔ کوئی شخص خاموش ہے تو اس خاموشی کی وجہ کیا ہے؟ کوئی بظاہر سخت مزاج ہے تو اس کے پیچھے کوئی دکھ چھپا ہے یا نہیں؟ کسی رشتے میں دوری کیوں پیدا ہوئی؟ محبت موجود ہونے کے باوجود دلوں میں فاصلے کیسے آ گئے؟ ایسے سوالات کتاب کے فکری وسعت کو مزید تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں
    ہم عام زندگی میں لوگوں کے بارے میں بہت جلد فیصلے کر لیتے ہیں۔ کسی کو اچھا کہہ دیتے ہیں، کسی کو خود غرض، کسی کو بے حس اور کسی کو مغرور۔ مگر ہر انسان اپنے ساتھ ایک پوری کہانی لیے چل رہا ہوتا ہے اور ہم عموماً اس کہانی کا صرف ایک صفحہ دیکھتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحبہ کی تحریریں اسی بات کا احساس دلاتی ہیں کہ انسان کو سمجھنا، اسے پرکھنے سے کہیں زیادہ مشکل کام ہے۔
    کتاب میں عورت کی زندگی اور اس کے مسائل بھی اپنی جگہ اہم دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں عورت صرف مظلوم کردار بن کر نہیں آتی بلکہ ایک مکمل انسان کے طور پر سامنے آتی ہے، جس کی اپنی خواہشیں ہیں، اپنی کمزوریاں ہیں، اپنے فیصلے ہیں اور اپنے حالات سے نبرد آزما ہونے کی اپنی صلاحیت ہے۔ بعض جگہ وہ حالات سے لڑتی ہے، کہیں سمجھوتا کرتی ہے اور کہیں اپنی ہی خواہشوں کے بوجھ تلے دب جاتی ہے۔ یہی چیز کرداروں کو زندگی کے قریب رکھتی ہے۔
    عورت کے مسائل بیان کرتے ہوئے مصنفہ صرف شکایت نہیں کرتیں بلکہ ان رویوں کو بھی دیکھتی ہیں جو ان مسائل کو جنم دیتے ہیں۔ ہمارے گھروں میں رشتوں کے نام پر بہت کچھ برداشت کیا جاتا ہے۔ بعض فیصلے محبت کے نام پر مسلط ہوتے ہیں، بعض قربانیاں فرض سمجھ لی جاتی ہیں اور بعض خاموشیوں کو رضامندی کا نام دے دیا جاتا ہے۔ ان پہلوؤں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کتاب معاشرے کے ایک ایسے حصے کو سامنے لاتی ہے جسے ہم دیکھتے تو ہیں مگر ہمیشہ سنجیدگی سے نہیں دیکھتے۔
    پانی کا بلبلہ کی ایک اچھی بات یہ بھی ہے کہ مصنفہ اپنی بات سمجھانے کے لیے قاری کا ہاتھ پکڑ کر اسے ایک خاص نتیجے تک نہیں لے جاتیں۔ وہ صورتحال سامنے رکھتی ہیں اور قاری کو سوچنے کا موقع دیتی ہیں۔ یہی انداز تحریر کو نصیحت نامہ بننے سے بچاتا ہے۔
    زبان کے حوالے سے بھی کتاب کا انداز قابلِ ذکر ہے۔ نثر میں غیر ضروری ثقالت نہیں۔ الفاظ دکھاوے کے لیے نہیں آئے بلکہ بات پہنچانے کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ مجھے ایسی اردو زیادہ پسند ہے جس میں ادیب اپنی زبان کا مظاہرہ کرنے کے بجائے اپنے احساس کو قاری تک پہنچائے۔ ڈاکٹر تنویر انور خان صاحبہ کے ہاں یہی سادگی نظر آتی ہے۔
    اچھی نثر کے لیے مشکل الفاظ ضروری نہیں ہوتے۔ اصل چیز یہ ہے کہ جملہ دل پر اثر کرے اور بات مصنوعی محسوس نہ ہو۔ پانی کا بلبلہ میں کئی مقامات پر یہی فطری پن تحریر کو آگے لے جاتا ہے۔ مصنفہ بات کو بڑے الفاظ میں کہنے کے بجائے عام زندگی کے تجربات سے بات نکالتی ہیں۔ قاری کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ کسی اجنبی دنیا کا قصہ نہیں پڑھ رہا بلکہ اپنے اردگرد کے لوگوں کو دیکھ رہا ہے۔
    یہی وجہ ہے کہ کتاب کے موضوعات اسی معاشرے کا حصہ لگتے ہیں۔ ہمارے گھر، ہمارے تعلقات، ہماری معاشرت، ہماری کمزوریاں اور ہمارے فیصلے سب اس دنیا کا حصہ ہیں جس سے اس کتاب کے افسانے کشید کیے گٸےہیں۔ ایک اچھا افسانہ نگار شاید کوئی نئی دنیا ایجاد نہیں کرتا بلکہ ہماری جانی پہچانی دنیا میں چھپی ہوئی کہانی کو پردے کے پیچھے منعکس کردیتا ہے۔
    کتب لکھنے کے لٸے مسلسل مطالعہ، مشاہدہ، تجربہ اور لکھنے کی عادت ہوتی ہے۔ پندرہ کتابوں تک پہنچنے والی مصنفہ کے لیے یہ سفر یقیناً محنت کا سفر ہے۔
    مجھے ان کی کتابیں پڑھتے ہوئے ایک بات خاص طور پر اچھی لگتی ہے کہ وہ زندگی کو صرف سیاہ اور سفید خانوں میں تقسیم نہیں کرتیں۔ انسان اچھا بھی ہو سکتا ہے اور غلط بھی۔ محبت کرنے والا شخص کبھی خود غرض ہو سکتا ہے اور بظاہر سخت انسان کے اندر بہت نرم گوشہ موجود ہو سکتا ہے۔ یہی تضاد حقیقی زندگی کا حصہ ہے اور جب ادب اسے قبول کرتا ہے تو کردار زیادہ جیتے جاگتے محسوس ہوتے ہیں۔
    شاید اسی لیے پانی کا بلبلہ کا اصل موضوع کوئی ایک واقعہ یا ایک رشتہ نہیں بلکہ خود انسان ہے۔ وہ انسان جو خوش بھی ہوتا ہے، ٹوٹتا بھی ہے، محبت بھی کرتا ہے، غلطیاں بھی کرتا ہے، دوسروں سے توقعات بھی وابستہ کرتا ہے اور پھر انہی توقعات کے ٹوٹنے پر خود کو سمیٹنے کی کوشش بھی کرتا ہے۔
    کتاب پڑھتے ہوئے کئی مرتبہ یہ خیال آتا ہے کہ ہم اپنی روزمرہ زندگی میں کتنی چیزوں کو معمولی سمجھ کر گزر جاتے ہیں۔ کسی کی خاموشی، کسی کی مسکراہٹ، کسی کا اچانک بدلتا ہوا رویہ، کسی کا بے وجہ دور ہو جانا۔ ایک عام آدمی کے لیے یہ صرف واقعات ہیں، لیکن ایک ادیب کی نظر انہیں کہانی بنا دیتی ہے۔
    یہی نظر ڈاکٹر تنویر انور خان صاحبہ کی اصل قوت محسوس ہوتی ہے۔
    پانی کا بلبلہ پڑھنے کے بعد کتاب کے عنوان کا مفہوم بھی مزید کچھ وسیع ہو جاتا ہے۔ زندگی واقعی ایک بلبلے کی طرح ہے۔ خوب صورتی بھی اس میں ہے اور بے ثباتی بھی۔ انسان اس کے اندر اپنے خواب سجاتا ہے، رشتے بناتا ہے، محبتیں جمع کرتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ یہ سب ہمیشہ ساتھ رہے گا۔ پھر وقت آتا ہے اور بہت کچھ ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔ مگر شاید زندگی کی قدر بھی اسی لیے ہے کہ یہ ہمیشہ کے لیے نہیں۔
    ڈاکٹر تنویر انور خان صاحبہ نے اپنی مصروف پیشہ ورانہ زندگی کے ساتھ ادب کو جس مستقل مزاجی سے وقت دیا ہے، وہ قابلِ تحسین ہے۔
    پانی کا بلبلہ میرے لیے اسی خصوصیت کی ایک جھلک ہے۔ یہ کتاب ہمیں کوئی نئی دنیا دکھانے کے بجائے ہماری اپنی دنیا کو دوبارہ دیکھنے پر آمادہ کرتی ہے۔
    دعا ہے اللہ تعالیٰ ان کے قلم کو سلامت رکھے، ان کی زندگی، ان کےعلم اور تجربے میں مزید وسعت عطا فرمائے، ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارتا رہے اور ان کا ادبی سفر اسی طرح جاری و ساری رہے۔
    اللہ تعالیٰ ان کے قلم میں برکت، فکر میں وسعت اور لفظوں میں تاثیر قاٸم داٸم رکھے۔ آمین۔

  • جب لفظ دھڑکنے لگیں تو شاعری جنم لیتی ہے،تحریر: طاہر محمود

    جب لفظ دھڑکنے لگیں تو شاعری جنم لیتی ہے،تحریر: طاہر محمود

    کچھ لوگ بات کرتے ہیں اور بات ختم ہو جاتی ہے، کچھ لوگ لکھتے ہیں اور تحریر ختم ہو جاتی ہے، مگر کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے الفاظ انسان کے اندر اتر کر وہیں گھر بنا لیتے ہیں۔ یہی لوگ شاعر کہلاتے ہیں اور یہی شاعری کا اصل معجزہ ہے۔

    شاعری دراصل لفظوں کا ہنر نہیں، دل کی دھڑکن کو زبان دینے کا فن ہے۔ شاعر جب قلم اٹھاتا ہے تو صرف کاغذ پر الفاظ نہیں لکھتا بلکہ اپنے عہد کی کیفیت، اپنے دل کی کسک، اپنے معاشرے کا دکھ اور اپنے خوابوں کی روشنی بھی اس کے ساتھ کاغذ پر اترتی ہے۔شاید اسی لیے دنیا کی ہر بڑی تہذیب نے شاعری کو محض تفریح نہیں سمجھا بلکہ اسے انسانی شعور کی ایک اہم ترین آواز قرار دیا۔ہماری اردو شاعری تو اس حوالے سے ایک پورا جہان اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ میر کے ہاں درد ہے، غالب کے ہاں فکر، اقبال کے ہاں بیداری، فیض کے ہاں محبت اور مزاحمت، فراز کے ہاں عشق اور احتجاج، منیر نیازی کے ہاں تنہائی اور پروین شاکر کے ہاں عورت کے احساس کی ایک پوری کائنات۔

    میر کا یہ شعر پڑھیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے شاعر نے صدیوں پہلے ہمارے آج کے دل کی بات کہہ دی ہو:

    "پتا پتا، بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
    جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے، باغ تو سارا جانے ہے”

    یہی تو شاعری ہے۔

    ایک شخص اپنے دل کا حال پوری دنیا کو نہیں بتا پاتا، مگر ایک شاعر اسے چند مصرعوں میں اس طرح بیان کر دیتا ہے کہ ہزاروں لوگ پڑھ کر کہتے ہیں: "یہ تو میری کہانی ہے۔”

    شاعر کی کامیابی شاید یہی ہے کہ اس کا ذاتی دکھ اجتماعی احساس بن جائے۔

    غالب کا کمال بھی یہی تھا کہ انہوں نے انسانی زندگی کے پیچیدہ سوالات کو شعر میں اس طرح سمویا کہ ہر دور کا انسان ان میں اپنا عکس تلاش کر لیتا ہے۔ اقبال نے شاعری کو خواب دیکھنے اور خواب کو عمل میں بدلنے کی قوت دی۔ فیض نے محبت کو صرف محبوب تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے انسان، معاشرے اور آزادی کے وسیع تر مفہوم سے جوڑ دیا۔

    یہی وہ مقام ہے جہاں شاعری محض شاعری نہیں رہتی بلکہ فکر بن جاتی ہے۔

    آج ہم ایک ایسے عہد میں زندہ ہیں جہاں معلومات بے شمار ہیں مگر احساس کم ہوتا جا رہا ہے۔ موبائل کی اسکرین پر انگلیاں مسلسل حرکت کرتی ہیں، پیغامات آتے جاتے ہیں، تصاویر لمحوں میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچ جاتی ہیں، مگر انسان کے پاس اپنے اندر جھانکنے کا وقت کم ہوتا جا رہا ہے۔

    ہم ہزاروں لوگوں سے جڑے ہوئے ہیں، مگر کبھی کبھی خود سے منقطع دکھائی دیتے ہیں۔

    ایسے دور میں شاعری کی ضرورت کم نہیں ہوئی، بلکہ شاید پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

    کیونکہ شاعری ہمیں رکنا سکھاتی ہے۔

    ایک شعر پڑھتے ہوئے ہم چند لمحوں کے لیے دنیا سے الگ ہو جاتے ہیں۔ ہم لفظ کے پیچھے چھپے ہوئے احساس کو تلاش کرتے ہیں۔ کبھی کسی شعر میں اپنا ماضی مل جاتا ہے، کبھی کوئی بھولی ہوئی محبت، کبھی ماں کی یاد، کبھی وطن کی خوشبو اور کبھی کسی ایسے شخص کی کمی جسے وقت ہم سے بہت دور لے گیا ہو۔

    شاعری کی سب سے بڑی طاقت یہی ہے کہ یہ یادوں کو آواز دے دیتی ہے۔

    لیکن شاعری صرف محبت اور جدائی کا نام بھی نہیں۔ ایک بڑا شاعر اپنے عہد سے آنکھیں نہیں چراتا۔ وہ اپنے معاشرے کے دکھ کو محسوس کرتا ہے۔ وہ بھوک دیکھتا ہے تو خاموش نہیں رہتا، ظلم دیکھتا ہے تو سوال اٹھاتا ہے، جنگ دیکھتا ہے تو امن کی خواہش کرتا ہے، عورت کی بے بسی دیکھتا ہے تو اس کے حق میں آواز بنتا ہے، اور نوجوان کی مایوسی دیکھتا ہے تو اسے امید کا راستہ دکھاتا ہے۔

    اسی لیے بڑے شعراء صرف اپنے زمانے کے شاعر نہیں ہوتے، وہ آنے والی نسلوں کے بھی ترجمان بن جاتے ہیں۔

    شاعر دراصل معاشرے کا حساس آئینہ ہوتا ہے۔ آئینہ خوبصورتی بھی دکھاتا ہے اور داغ بھی۔ اگر شاعر صرف پھول دکھائے اور کانٹوں کو چھپا دے تو وہ اپنے عہد سے انصاف نہیں کرتا۔

    آج اردو ادب کو بھی اسی حساسیت کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایسے شاعر اور ادیب چاہییں جو صرف داد حاصل کرنے کے لیے نہ لکھیں بلکہ دلوں کو جگانے کے لیے لکھیں۔ ایسے الفاظ جو محفل ختم ہونے کے بعد بھی ذہن میں زندہ رہیں۔ ایسے اشعار جو تالیاں نہیں بلکہ سوچ پیدا کریں۔

    کیونکہ ادب کا مقصد صرف انسان کو محظوظ کرنا نہیں، اسے بہتر انسان بنانا بھی ہے۔

    ایک خوبصورت شعر دل کو خوش کر سکتا ہے، مگر ایک عظیم شعر انسان کی سوچ بدل سکتا ہے۔

    اور شاید یہی وجہ ہے کہ شاعر مر جاتا ہے مگر اس کے الفاظ نہیں مرتے۔

    میر آج بھی ہم سے بات کرتے ہیں۔

    غالب آج بھی ہمارے سوالوں میں زندہ ہیں۔

    اقبال آج بھی نوجوان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے بیداری کا درس دیتے ہیں۔

    فیض آج بھی مایوسی کے اندھیرے میں امید کا چراغ دکھائی دیتے ہیں۔

    اور پروین شاکر آج بھی محبت اور نسائی احساس کی وہ آواز ہیں جسے وقت خاموش نہیں کر سکا۔

    یہی ادب کی ابدیت ہے۔

    وقت بادشاہوں کے محل گرا دیتا ہے، سلطنتیں ختم ہو جاتی ہیں، نسلیں بدل جاتی ہیں، شہر اجڑ کر دوبارہ آباد ہو جاتے ہیں، مگر سچا لفظ اپنی زندگی خود پیدا کر لیتا ہے۔

    شاعر کا قلم اسی لیے ایک عجیب امانت ہے۔ اسے محبت بھی لکھنی ہے اور سچ بھی۔ اسے حسن بھی دیکھنا ہے اور درد بھی۔ اسے اپنے عہد کی خوشبو بھی محفوظ کرنی ہے اور اس کے زخموں کی گواہی بھی دینی ہے۔

    شاید شاعری کا سب سے بڑا سوال یہی ہے:

    ہم نے اپنے زمانے کو کیا محسوس کیا؟

    اور اس کا سب سے خوبصورت جواب بھی شاعری ہی دیتی ہے:

    "لفظ جب دل سے نکلیں تو شعر بنتے ہیں،
    اور جب شعر دل میں اتر جائیں تو تاریخ بن جاتے ہیں۔”

    آج جب دنیا شور سے بھری ہوئی ہے، ہمیں ایسے لفظوں کی ضرورت ہے جو شور نہیں بلکہ معنی پیدا کریں۔ ایسے اشعار کی ضرورت ہے جو نفرت کے مقابلے میں محبت، مایوسی کے مقابلے میں امید، بے حسی کے مقابلے میں احساس اور اندھیرے کے مقابلے میں روشنی بن سکیں۔

    کیونکہ آخرکار انسان کی اصل پہچان اس کے پاس موجود چیزوں سے نہیں، اس کے چھوڑے ہوئے الفاظ اور احساسات سے ہوتی ہے۔

    اور جب ایک شاعر کا آخری سانس بھی خاموش ہو جائے، تب بھی اگر اس کا شعر کسی اجنبی دل میں دھڑک رہا ہو تو سمجھ لیجیے کہ وہ شاعر مرا نہیں۔

    وہ اپنے لفظوں میں زندہ ہے۔

    شاعری دراصل وہ چراغ ہے جسے شاعر اپنے دل سے روشن کرتا ہے، اور پھر زمانہ اسے ایک دل سے دوسرے دل تک منتقل کرتا رہتا ہے۔

    یہی شاعری کا حسن ہے۔

    یہی ادب کی طاقت ہے۔

    اور شاید یہی انسان کے زندہ رہنے کا سب سے خوبصورت ثبوت بھی۔

  • سوسائیڈ نوٹ ،تحریر:زین سلیم

    سوسائیڈ نوٹ ،تحریر:زین سلیم

    کمرے میں گہری خاموشی اور اداسی کے بادل آپس میں آنکھ مچولی کھیل رہے تھے۔ اداسی نے اسطرح ڈیرے ڈالے تھے جیسے میری آخری داستان اس خاموشی کی نظر ہو جائے اور اسی اداسی میں میری چیخیں بند ہو جائیں۔ دیوار پر لگی گھڑی رات کے پچھلے پہر کی ٹک ٹک کا ڈھول پیٹ رہی تھی۔ جس کی ضرب میرے وجود اور دل کی دھڑکن سے ہم آہنگ ہو چکی تھی۔ میرے سائیڈ میز پر رکھی پرانی کتب کی دھول اداسی کی کئی خاموش کہانیاں بیان کر رہی تھیں اور سفید کاغذ مجھے یوں گھور رہا تھا جیسے کوئی جلاد پھانسی دینے والے کو آخری نظر گھور کر دیکھتا ہے۔ میرا قلم آج میری روح کے سفر کا فیصلہ کرنے والا تھا۔ اداسی کی گھٹن میں میں نے اپنے قلم اور کاغذ کو گود میں لیتے ہوئے پہلا لفظ لکھا سوسائیڈ نوٹ۔ اس حرف کو لکھتے ہی میرا وجود کانپ اٹھا شاید وجود تھا یا پھر میرا قلم مجھے ملامت کر رہا تھا ۔میں نے کاغذ کے کینوس پر ابھی لکھا ہی تھا کہ زندگی کے گھٹن حالات سے ہار گیا ہوںں۔اس زندگی سے اکتا گیا ہوں۔ ابھی میرے الفاظ ادھورے تھے میں نے تمہید باندھنے کی ابھی کوشش ہی کی تھی کہ کمرے کی کھڑکی نے بے دھڑک آواز کی اور اس آواز کے ساتھ ٹھنڈی ہوا اور ایک مدھم سی خوشبو کمرے میں داخل ہوئی جیسے کسی نے خاموشی کا دروازہ اندر سے کھول دیا ہو۔

    ٹھنڈی ہوا اور خوشبو کمرے میں پھیل گئی میری انکھیں دھندلی سی ہونے لگی شاید رات بھر جاگنے پر کوئی وہم ہو یا پھر میرے تخیل کا کوئی وجود ہو۔ ابھی کشمکش کے عالم میں تھا کہ خوشبو اور دھند اس حد تک پھیل گئی جس میں کسی دوسرے کا عکس دکھائی دینے لگا ہو۔ آہستہ آہستہ دھندلی روشنی مدہم ہوگی اور ایک روشن چہرہ میرے روبرو تھا۔ میں ابھی فیصلہ کر ہی نہ پایا کہ یہ میرے تخیل کا کونسا وجود ھے۔ یہ وجود عکس اب صاف دکھائی دے رہا تھا۔ دھندلی روشنی میں خوشبو سے لپٹی سفید ساڑھی میں براجمان میرے تخیل کا کوئی فریب ہے یا کوئی خاص روپ یا پھر حقیقت کا کوئی نرم سا لمس ہے۔ کمرے کی فضا میں چاندنی آہستہ آہستہ سانس لینے لگی اور میرے تخیل کا وجود میرے سامنے صاف دکھائی دے رہا تھا۔

    جس کا روشن چہرہ سفید موتی والی ساڑھی اس کے بدن پر ستاروں کی طرح ٹمٹما رہی تھی۔ حسن کی دیوی کی طرح میرے روبرو براجمان ایک ایسی شہزادی کا سحر انگیز پیکر تھا جس کے سامنے وقت بھی ٹھہر جائے مگر جس کے چہرے کے آثار درد کی کئی کہانیاں اپنے اندر سموئے ہوئے تھے۔ جیسے مسکراہٹ کے پیچھے صدیوں کی خاموش اذیت سانس لے رہی ہو۔
    میں ابھی کشمکش کے عالم میں تھا کہ یہ میرے تحیل کا کونسا وجود ہو سکتا ہے۔ شاید روحانییت تصوف یا پھر کوئی اور وجود جس کی تلاش میں صدیوں سے بھٹک رہا ہوں انہی بے شمار سوالوں میں مگن تھا کہ اس عکس نے اپنے لبوں کو چنبش دی اور بولی کیا ہوا ہے تمہیں اتنے اداس کیوں ہو۔
    میں اداس۔۔ حرف ساتھ نہ دے رہے تھے میرے لب کپکپا رہے تھے کہ وہ پھر سے بولی:
    میں تمہاری امرتا دیوی ہوں تمہارے تخیل کا ایک خاص وجود ایک عکس مجھ سے کیوں ڈرتے ہوں۔

    میں جو ابھی سوسائیڈ نوٹ لکھنے والا تھا اس وجود سے اس حد تک ڈر رہا تھا کیا خاک ہی موت کو گلے لگا سکوں گا۔ اس وجود سے ڈر رہا ہوں جس کا خیال میرے اندر بستہ ہے امرتا کا امرتا عشق کی دیوی کا جو آج میری روبرو براجمان ہے۔میں ابھی کئی سوالات لیے سکتے کے عالم میں تھا۔ وہ پھر سے بولی میں پوچھتی ہوں کیا ہوا کیوں اداس ہو۔
    میں ہار گیا ہوں۔ اس زندگی سے اکتا گیا ہوں۔ میرے ذہن کے دریچوں میں دن رات ایک ہی بات چلتی ہے۔
    نہیں نہیں ایسے نہیں بولتے کیا بات ہے میں ہوں نہ سننے والی تمہاری امرتا دیوی۔
    باتیں تو کئی ہیں لیکن میں اب تک اگر مگر شاید اور کاش میں اٹکا ہوا ہو۔
    کاش۔۔۔ کاش پر میں نے زور دیا اور ہاں کاش۔۔۔
    اتنی گہری باتیں کہاں سے سیکھ لی ہیں تم نے اور اتنے سنجیدہ کب سے رہنے لگے ہو۔ کیا دکھ ھے تمہیں۔
    کیا بتاؤں زندگی جبر و مسلسل کی طرح کٹ رہی ھے۔
    آج آپ کتنے عرصے بعد میرے روبرو ہو کر آن بیٹھی ہوں۔ تمہیں پتہ ھے میں سوسائیڈ نوٹ لکھنے بیٹھا تھا اور خودکشی کرنے ہی لگا تھا کہ تم آن روبرو ہوں۔
    ارے کیا کرتے ہو دیکھو میں کتنی منزلیں طے کر کے تم تک پہنچی ہوں اور تم میری منزل کی طرف آنے لگے ہو موت کو گلے لگانے لگے ہو۔ تمہیں پتہ ھے موت کے بعد موت پھر قبر کی اندھیری رات برزخ کا مقام جنت دوزخ کا فیصلہ اچھے برے اعمال کے سوال پر جزا و سزا یہ سب منزلیں طے کرنی پڑتی ہیں کیا تم پاگل ہو گئے ہو۔ ہاں بس پاگل سا ہو گیا ہوں۔ زندگی کے شور سے اکتا گیا ہوں۔
    کیا دکھ ھے تمہیں آج بتاو۔

    مجھ سے بھی زیادہ دکھ درد ہیں تمہاری زندگی میں دیکھو میری طرف ادھر میری روح کو نہیں میری آنکھ اور سوچ میں دیکھو جس نے اتنے دکھوں کا سامنا کیا ھے۔ میں جس نے اپنی ماں کا چہرہ ٹھیک سے نہ دیکھا ایک دکھ جس نے اس کی پکی روٹیوں کو ایک پیڑ میں دفن کیا اور پھر اس پیڑ کو مرتے ہوئے دوسری دفعہ ماں کا دکھ پھر شادی کا دکھ آزادی کا دکھ عشق و محبت کا دکھ ساحر و امروز کا دکھ اور ہجرت کا دکھ ہاں ہجرت کا دکھ یہ کہتے ہوئے امرتا رو پڑی۔
    دیکھو مت روں میں ایک حساس دل کا مالک ہوں میں بھی رو دوں گا اور پھر ہم دونوں گھنٹے روتے رہے۔
    تمہیں کیا دکھ ھے میں ہمیشہ دکھتی رہی ہوں تم تصوف اور روحانیت کی تلاش میں اپنا آپ بھی گنوا بیٹھے ہو اور جب تمہیں روحانیت ملی تو تم اس سے مرتکب ہوئے اسے تسلیم نہ کیا تم سے روحانیت برداشت نہ ہو سکی۔

    میں نے بات کاٹ دی دیکھو ادھر میری طرف مجھے نہیں تھا علم کہ یہ وہ ہی روحانیت ھے جس کو میں درد دل سمجھتا رہا ایسا دردل جیسے میں موضوی مرض سمجھ بیٹھا تھا ۔ ہاں ٹھیک ھے اس کے بعد تم میری کھوج میں نکلے میں تو پہلے دن سے تمہارے روبرو تھی بس تم جان نہ سکے۔ دیکھو ان چہروں کی طرف جن کو تم سے اچھی امید ھے جنکے تم محبوب ہوں۔ کیا تم فیض کو جانتے۔ ہاں ہاں پڑھا ھے میں نے فیص کو اس نے کہا تھا اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راخت کے سوا۔۔ امرتا نے میری بات کاٹ اور کہا رکو بات سنو اس کا مطلب ھے تہمں محبت کے سوا کوئی اور گہرا دکھ بھی ھے۔
    کونسا دکھ ھے وہ ہجرت کا وصل کا فراق کا کوئی ایک بتاؤ مجھے۔۔۔ سوسائیڈ نوٹ لکھنے سے اور اس مرتکب سے زندگی آسان نہیں ہوتی اور بھی گھٹن ہو جاتی ھے۔ صرف تم ہی نہیں ہو زمانے میں جسے دکھ درد ھے آو میرے ساتھ۔ لیکن کہا کس سمت میں نے سوالیہ نظروں سے پوچھا۔

    میری روح کا لمس محسوس کرو یہ جیسے تمہارا ہاتھ میرے ہاتھ میں ھے۔ ابھی میں نے اپنا ہاتھ برھایا ہی تھا کہ ہم کسی گمنام گاؤں میں جا پہنچے۔ ایک ایسے گاؤں میں جا پہنچے جہاں ایک نوجوان کا جنازہ اُٹھائے لوگ جا ریے تھے۔
    امرتا جی مجھے وہیں چھوڑ کر نہ جانے کہاں غائب ہو گئی۔
    میں کشمکش کے عالم میں ادھر اُدھر دیکھنے لگا تمام چہرے اجنبی تھے مگر عجیب بات یہ تھی کہ سب چہرے مانوس بھی لگ رہے تھے جیسے میں انہیں کبھی جانتا رہا ہوں۔ مرنے والے کا باپ میرے ساتھ ساتھ چل رہا تھا شاید یہ کوئی اتفاق تھا یا پھر میرا وہم تقریباً اسی پچاسی برس کا ایک نجیف بزرگ جو کبھی دائیں لڑکھڑاتا تو کبھی بائیں جھک جاتا مگر اس کے قدم جنازے کے ساتھ جڑے ہوئے تھے۔ جیسے اُس باپ کی سانسیں بھی اپنے بیٹے کی میت سے بندھی ہوں۔ ایک لمحے کو مجھے یوں محسوس ہوا جیسے اُس نے میرا دامن تھاما ہو یا شاید میں نے اُس کا یہ حقیقت تھی یا محض وہم میرے شعور نے کوئی جواب نہ دیا تھا۔
    کوئی رشتہ تھا یا صرف اتفاق
    میں دائیں مڑا پھر بائیں جانب پلٹ گیا مگر اس برگزیدہ شخص نے میرا دامن نہ چھوڑا۔ میں اس وقت اس باپ کی بے بسی کو بڑے قریب سے نہ صرف دیکھ رہا تھا بلکہ اس کا دکھ بھی محسوس کر رہا تھا۔
    وہ بوڑھا شخص میرے قدموں کے ساتھ قدم ملا کر چلتا رہا جنازہ گاہ پہنچ کر اُس نے اپنے بیٹے کی نمازِ جنازہ پڑھی روتے ہوئے بیٹے کا آخری دیدار کیا آنسوؤں کی لڑی اُس کے رخساروں پر بہہ رہی تھی۔ جیسی مرجھائے ہوئے موتیوں کی لڑی ہو جس نے اپنے کپکپاتے ہاتھوں سے اُس نے مٹھی بھر مٹی قبر پر ڈالی
    اور خاموشی سے گھر لوٹ گیا یہ منظر ابھی جاری ہی تھا کہ پھر سے کہیں امرتا جی نمودار ہوئی۔
    اُس نے میرا بازو پکڑ کر پوچھا:
    کیا تم نے کچھ سیکھا؟
    میں ابھی تک پریشانی کے عالم میں ڈوبا ہوا تھا وہ مجھے دوبارہ اُس گھر لے گئی جہاں سے میت کا جنازہ اُٹھا تھا ایک کمرے میں عورتیں بال کھولے چیختے ہوئے سینہ کوبی کر رہی تھیں۔ایک نوجوان اپنے بھائی کے غم میں نڈھال تھا ایک بیوی شوہر کے فراق میں ٹوٹ چکی تھی
    ایک بہن اپنے بھائی کو پکار رہی تھی اور ننھی بچی روتے بلکتے ہوئے باپ کو صدائیں دے رہی تھی اور ایک باپ خاموش لب لیے ایک کنارے بیٹھا سوچوں میں مگن تھا۔ اُس کی خاموشی مجھے اندر سے توڑ رہی تھیں سب سے زیادہ چیخیں آہ پکار اس خاموش باپ کی مجھے محسوس ہو رہی تھیں۔
    یہ سب دیکھتے ہوئے ہم پھر جنازہ گاہ پہنچے جہاں پر میت کی قبر پر آخری مٹھیاں مٹی ڈالی جارہی تھی
    جب میری نظر قبر کی مٹی پر ٹھہری اور میت کی طرف نگاہ گئی تو میں دنگ رہ گیا۔ وہاں جو چہرہ تھا۔
    وہ شاید میرے عکس کا تھا۔
    یا شاید کسی اور کا ان سب میں وہ چہرہ بھی بہت دھندلا تھا جس کا فیصلہ میں نہ کر پایا۔ میں ابھی سکتے کے عالم میں مبتلا تھا کہ پھر سے امرتا جی نمودار ہوئی۔ میں نے سوالوں کے انبار لگا دیے۔ امرتا نے میرا ہاتھ تھامے مجھے پھر سے میرے کمرے میں لے آئی مگر اب کمرہ ویسا نہیں تھا خاموشی کی لہر ٹوٹ چکی تھی بس اداسی کے بادل منڈلا رہے تھے۔
    امرتا نے خاموشی توڑی۔ تم نے کچھ سیکھا کچھ سمجھے؟ میں ابھی تو سمجھ نہیں پایا کون تھا وہ۔۔۔ وہ باپ وہ بیٹی وہ بہن اور وہ مرنے والا۔؟ دیکھو وہ بھی تمہارا ایک عکس تھا وجود کا ایک خاص عکس اس سے عبرت حاصل کرو نہ کہ سوسائیڈ کرو۔
    وہ پھر بولی تم نے گیتا کو پڑھا ھے؟
    زمانہ طالب علمی میں سرسری دیکھی تھی پھر دوبارہ اس عمر میں پڑھی جب میرے نزدیک گیتا کے تمام اشلوک زخمی یا شاید میری روح زخمی تھی۔
    اچھا تو قرآن کو تو پڑھا ہی ہوگا۔
    میں بڑے فخر سے جی جی میں نے پڑھا ھے قرآن کو۔
    بس پڑھا ھے یا پھر کچھ سیکھا ھے؟
    میں خاموش ہو گیا میرے پاس کوئی ٹھوس جواب نہ تھا۔
    امرتا نے پھر خاموشی کو توڑا تم نے بدر اور احد کا واقعہ تو پڑھا ہوگا جس کا ذکر قرآن مجید میں بھی ھے۔
    میں امرتا کے اس سوال پر چونکا اور جواب دیا ہاں ہاں میں نے مکمل پڑھ رکھا ھے۔
    اگر مکمل پڑھا ھے تو تہمں تو خوشی کا غمی کا احساس بخوبی ہونا چاہئے تھا نہ کہ تم ایک غم کو لے کر بیٹھے ہو۔
    دیکھو میری طرف میں وضاحت کرتی ہو بدر اور احد کی خوشی کی غمی کی۔ قرآن میں اس واقع کو اسطرح بیان کیا گیا ھے کہ تمہاری زندگی میں ایک دن بدر کا ہوگا ایک دن احد گا
    یعنی ایک دن خوشی کا اور دوسرا دن جزن و ملال کا
    خوشی والے دن شکر ادا کرنا اور غمی میں صبر کرنا۔
    میری طرح صبر کرو جس نے ماں کا ہجرت کا اولاد کا ہمسفر کا سب دکھوں کا سامنا صبر سے کیا میں بھی صبر کر رہی ہوں تم بھی دعا اور صبر کرو۔
    میرے ثبت کو مت آزمائو اتنی ملامت نہ کرو میں تو اپنی تخیل کے وجود سے ہم کلام ہونا چاہتا تھا اپنی تنہائی کو ایک روپ دینا چاہتا تھا۔ میں تھوڑی اس گناہ سے مرتکب ہوا ہوں اور اب اتنا گیان تمہاری طرف سے آ گیا ھے۔ اب تو میں تنہائی میں سوچو گا بھی نہیں بس تم گاہے بگاہے میرے روبرو آتی رہنا۔ نہیں ایسا ممکن نہیں ہے۔ لیکن کیوں۔۔ میں کئی منزلیں طے کر کے آئی ہوں صرف تمہارے وجود کے عکس سے ہمکلام ہونے اور تمہیں سیدھی سمت دکھانے۔ ابھی امرتا کے الفاظ ادھورے ہی تھے کہ معلم نے اللہ اکبر کی صدا دی۔
    اس کی صدا میں ایک عجیب سی لرزش تھی جیسے وقت نے میرے کمرے کی دیواروں پر دستک دی ہو۔
    روشنی مدھم ہونے لگی سایے لمبے ہو گئے اور اس کا وجود دھند میں تحلیل ہونے لگا جیسے واپسی کی تیاری میں کوئی مسافر آخری بار پلٹ کر دیکھتا ہے۔
    میں نے گھبراہٹ میں کہا،
    اب جان گیا ہوں اب نہیں لکھوں گا وہ نوٹ تم جو آ گئی ہو اس نے نگاہ بھر کر دیکھا اور بے بسی سے بولی اب تو میں جانے والی ہوں۔
    کدھر کہاں کیوں؟
    میں نے ایک ہی سانس میں سینکڑوں سوال کر دیے
    میرے الفاظ بھی اس کے تخیل کے وجود کی طرح ٹوٹ کر اس کے گرد بکھر گئے۔
    اب میری واپسی کا وقت ہے تم نے دیر کر دی۔ کیسی دیر میری بات سنو۔۔۔
    میں نے ہاتھ بڑھایا، مگر میرا ہاتھ صرف ہوا میں اسکے تخیل کو چھو سکا۔
    اتنی ہی دیر میں وہ دھندلکے ہوا اور خوشبو میں تحلیل کا ایک روشن جگنو بن کر اڑ گئی۔ اور میرے کمرے میں صرف اذان کی گونج باقی رہ گئی۔ میرا قلم دو حصوں میں ایک طرف جا گرا میں اسے یوں دیکھتا رہا تھا جیسے وہ میرے تخیل کا جنازہ ہو
    اور میں خود اپنے الفاظ کا وارث بننے سے محروم ہو چکا ہوں۔
    کھڑکی کے باہر صبح کی ہلکی روشنی نمودار ہو رہی تھی۔
    اذان کی صدا اب چاروں طرف گونج رہی تھی۔۔
    میں نے کاغذ کی طرف دیکھا۔
    لفظ "سوسائیڈ نوٹ” ابھی تک میرے سامنے واضح تھا۔
    میں نے قلم کے ٹوٹے ہوئے دونوں حصے اٹھائے وہ جیسے مجھ سے زیادہ زندہ ہوں میری بے وقوفی پر ملامت کرتے ہوئے مسکرا رہے تھے۔ معلم کی صدا اور اذان کی آواز تھم چکی تھیں اور ہلکی روشنی نمودار ہو رہی تھی اور میں نے پہلی بار خود کو دفن ہونے کی بجائے دوبارہ جنم لیتے دیکھا۔

  • ادھورا سچ،تحریر: سیدہ الماس فاطمہ

    ادھورا سچ،تحریر: سیدہ الماس فاطمہ

    سرد ہوا کا ایک جھونکا کھڑکی کے راستے کمرے میں داخل ہوا، تو عاصم نے اپنے شال کو کندھوں پر اچھی طرح لپیٹ لیا۔ میز پر رکھی چائے کی پیالی سے ابھرتا دھواں اب غائب ہو چکا تھا۔ وہ گزشتہ دو گھنٹے سے اپنے سامنے پھیلے کاغذات کو دیکھ رہا تھا، جہاں اس کے بزنس پارٹنر کاشف کے خلاف مالی بدعنوانی کے واضح ثبوت موجود تھے۔

    کاشف اور عاصم کی دوستی برسوں پرانی تھی۔ دونوں نے مل کر اس کمپنی کی بنیاد رکھی تھی۔ لیکن آج ان کاغذات نے عاصم کے بھروسے کو پاش پاش کر دیا تھا۔ کاشف کے دستخط ان تمام فائلوں پر موجود تھے جہاں سے رقم غائب ہوئی تھی۔ عاصم کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ اسی وقت کاشف کو فون کرے اور اس کی بے وفائی پر اسے کھری کھری سنائے، لیکن اس نے خود پر قابو رکھا اور صبح کا انتظار کرنے لگا۔

    اگلی صبح عاصم غصے اور مایوسی کے ملے جلے جذبات کے ساتھ آفس پہنچا۔ اس نے بغیر کسی تمہید کے وہ فائل کاشف کی میز پر پٹخ دی۔
    "یہ کیا ہے کاشف؟ مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی!” عاصم کی آواز میں تلخی تھی۔
    کاشف نے چونک کر فائل کھولی۔ صفحات پلٹتے ہی اس کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔ اس نے نظریں اٹھا کر عاصم کو دیکھا، اس کی آنکھوں میں مجرمانہ احساس کے بجائے ایک گہرا دکھ تھا۔
    "عاصم، جو تم دیکھ رہے ہو، وہ پورا سچ نہیں ہے…” کاشف نے دھیمی آواز میں کہنا چاہا۔
    "سچ؟ سچ تو یہ کاغذات بول رہے ہیں!” عاصم نے اس کی بات کاٹ دی۔ "تم نے میرے اعتماد کا خون کیا۔ میں آج ہی یہ معاملہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کے سامنے رکھ رہا ہوں۔”
    کاشف نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا۔ "ٹھیک ہے عاصم، اگر تمہیں مجھ سے زیادہ ان کاغذات پر یقین ہے، تو جو تمہیں ٹھیک لگے وہ کرو۔ میں استعفیٰ دے رہا ہوں کیونکہ میں اپنی صفائی پیش کر کے اپنی دوستی کو مزید نیچا نہیں دکھانا چاہتا۔”
    کاشف آفس سے چلا گیا، اور اگلے ہی دن اس کا استعفیٰ عاصم کی میز پر تھا۔ عاصم کو لگا کہ اس نے کمپنی کو ایک بڑے نقصان سے بچا لیا ہے، لیکن اس کے دل کا سکون چھن چکا تھا۔

    تین دن بعد، عاصم کے پاس کمپنی کا پرانا اکاؤنٹنٹ، رحمان صاحب آئے۔ ان کے ہاتھ میں ایک اور پرانی فائل تھی۔
    "سر! مجھے معلوم ہوا ہے کہ کاشف صاحب نے استعفیٰ دے دیا ہے،” رحمان صاحب نے افسردگی سے کہا۔ "لیکن جانے سے پہلے میں آپ کو ایک حقیقت بتانا چاہتا ہوں۔”
    "کیسی حقیقت؟” عاصم نے بے رخی سے پوچھا۔
    رحمان صاحب نے فائل عاصم کے آگے بڑھائی۔ "چھ ماہ پہلے جب کمپنی شدید مالی بحران کا شکار تھی اور مارکیٹ میں ہماری ساکھ خطرے میں تھی، تو آپ کے کزن نوید نے کمپنی کے فنڈز میں ہیرا پھیری کی تھی۔ کاشف صاحب کو جب یہ معلوم ہوا، تو انہوں نے آپ کے خاندانی بھرم اور کمپنی کی عزت بچانے کے لیے وہ سارا الزام اپنے سر لے لیا۔ انہوں نے اپنے ذاتی فنڈز سے وہ رقم کمپنی کے اکاؤنٹ میں واپس جمع کروائی، تاکہ آڈٹ میں نوید پکڑا نہ جائے اور آپ کو دکھ نہ پہنچے۔ یہ دستخط انہوں نے اسی لیے کیے تھے تاکہ معاملہ یہیں دب جائے۔”

    عاصم کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ اس کے ہاتھ کانپنے لگے۔ جو ثبوت وہ کاشف کے خلاف سمجھ رہا تھا، وہ اصل میں کاشف کی قربانی اور وفاداری کی دستاویز تھی۔ اس نے ادھورے سچ پر یقین کر کے اپنے سب سے مخلص دوست کو کھو دیا تھا۔
    وہ فوراً اپنی کرسی سے اٹھا اور کاشف کے گھر کی طرف بھاگا۔ وہ جانتا تھا کہ نقصان بڑا تھا، لیکن ابھی معافی مانگنے کا وقت باقی تھا۔