Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • عید کا دن اور خوشیوں کی محفل،تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    عید کا دن اور خوشیوں کی محفل،تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    عید کا دن فیملی سے منسوب ہوتا ہے جب سب گھر والے خاندان والے اکھٹے ہوتے ہیں ملکر کھانا کھاتے ہیں چہروں پر خوشی اور مسکراہٹیں ہوتی ہیں نئے کپڑے پہنے ہوتے ہیں ایک دوسرے کی شاپنگ پر تبصرہ ہوتا ہے عیدی دی اور لی جاتی ہے پھر پلک جھپکتے ہی یہ دن اگلے سال دوبارہ آ نے کے لیے رخصت ہو جاتا ہے اور پھر عید کا دوسرا دن یعنی ٹرو اس وقت عید کے دن کی طرح خوشگوار ہوجاتا ہے جب دوستوں کے ساتھ ملاقات ہو جاے

    عید کے دوسرے دن شمیم عارف تسنیم جعفری میرے گھر تشریف لائیں مجھے بہت خوشی ہوئی عید کی رونق دوبالا ہوگئی ہم نے خوب باتیں کیں تسنیم صاحبہ کی نئی کتاب جو سیرت نبوی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم پر ہے شائع ہو چکی ہے انشاء اللہ یہ کتاب بھی ایوارڈ حاصل کرے گی تسنیم جعفری 25 سے زائد کتابوں کی مصنفہ اور پہلی سائنس فکشن رائیٹر ہیں ماشاءاللہ بہت سے ایوارڈ حاصل کر چکی ہیں نئی کتاب کی خوشی میں ہم نے کیک کاٹا .

    شمیم عارف صاحبہ کی بھی دو کتب پبلش ہونے کے لیے تیار ہیں وہ حج کے سفر نامہ سمیت دو کتابوں ،، ننھا سلطان ،، اور ،، ہم ابھی راہ گزر میں ہیں ،، کی مصنفہ ہیں ،، ہماری فرمائش پر انہوں نے اپنی نظمیں سنائیں
    تسنیم اور شمیم آ پ کی آ مد کا بہت شکریہ ، بہت اچھا وقت گزرا اور تسنیم کو اہم موضوع پر نئی کتاب لکھنے پر مبارکباد ❤️
    اللہ کرے زور قلم اور زیادہ

    تسنیم جعفری صاحبہ 26 کتابوں کی مصنفہ
    تسنیم جعفری صاحبہ 26 کتابوں کی مصنفہ

  • بس یہی داستاں ہماری ہے .تحریر:مجیداحمد جائی

    بس یہی داستاں ہماری ہے .تحریر:مجیداحمد جائی

    انسان کے جنم کے ساتھ ہی داستان نے بھی جنم لیا ہے۔ہر گزرتا لمحہ یادوں میں منتقل ہو جاتا ہے۔یہ یادیں تلخ بھی ہو سکتی ہیں اور حسین بھی۔زندگی کے سفر میں حسین یادیں جینے کا مزہ دوبالا کر دیتی ہیں لیکن تلخ یادیں کُند تلوار کی طرح ضربیں لگاتی رہتی ہیں۔گزرتی عمر کے ساتھ یادوں کے حوالے سے پروفیسر عظمیٰ مسعود لکھتی ہیں:”یادیں ہمیشہ یادوں کی ایک بارات سی لے کر چلتی ہیں۔ایک یاد،پھر دوسری اور تیسری یاد۔کڑی سے کڑی ملتی جاتی ہے اور یادوں کی لمبی زنجیر سی بن جاتی ہے اور اگر تھوڑی سی لمبی عمر کی اجازت مل جائے اور انسان خود بھی ذہنی طور پر بڑا ہو جائے تو یہ یادیں اُس کی زندگی کا بڑا قیمتی سرمایہ بن کر کبھی تو اسے نہال کر دیتی ہیں کبھی نڈھال۔اس پر طاقت ور فرعون کا،نمرود کا،حسین سے حسین تر قلوپطرہ کا اور تنومند سے تنومند مرد کا بھی کوئی زور نہیں چلتا۔یہ کہیں تو تلوارکی دھار کی کاٹ رکھتی ہیں کہ جگر چیر کر رکھ دیتی ہیں تو کہیں پھول کی پتیوں جیسی نرم اور گدازہوتی ہیں کہ اندر تک مہکا دیتی ہیں۔یہ روح پر اپنا اثر چھوڑے بغیر جاتی ہی نہیں۔
    کتب کے مطالعے میں خود نوشت پڑھنے کا ہمیشہ سے دیوانہ رہا ہوں۔آپ بیتیوں میں بزرگوں کے ساتھ گزرے حالات و واقعات سے سبق لے کر ہم اپنی زندگی سنوار سکتے ہیں۔مشکل سے مشکل حالات میں اچھے فیصلے کرنے کی صلاحیت پیدا کر لیتے ہیں۔سیکھنے کا عمل جاری رہے تو انسان مات نہیں کھاتا۔چاہے وہ خانگی زندگی ہو معاشرتی مسائل۔

    "بس یہی داستاں ہماری ہے”پچھلے کئی دِنوں سے زیرِ مطالعہ رہی ہے۔پروفیسر عظمیٰ مسعودخراج تحسین کی مستحق ہیں جس طرح انھوں نے زندگی کے نشیب و فراز کو قلم بند کیا ہے دوسروں کے لیے مشعل راہ ہے۔میں نے یہ خودنوشت راتوں کو بیٹھ کر پڑھی ہے۔صبح نماز کے بعد فصلوں کی سیر کے دوران پڑھی ہے۔تازہ ہوا کے جھونکوں میں اوراق کی مہک نتھوں کے ذریعے روح ودل کو راحت بخشتی ہے۔ڈاکٹر اشفاق احمد وِرک نے خوب کہا ہے:
    یہ جو یادوں کی لائبریری ہے
    اس کی چھایا بہت گھنیری ہے

    "بس یہی داستاں ہماری ہے”میں جو پڑھتا ہوں تو کتاب رکھنے کو دل نہیں کرتا۔لیکن میں نے یہ کتاب اپنے اوپر مسلط کرکے پڑھی ہے۔مصنفہ کے ساتھ میں نے بھی ماضی و حال کا سفر کیا ہے۔کہیں آنسوؤں کی کشتی میں سوار ہوا تو کہیں سسکیوں کی نگری آباد کی۔کہیں شرارتیں سوجھی تو کہیں آہیں بھر نے لگا۔پروفیسرعظمیٰ مسعودکا قلم بے باک ہے۔بڑی جان فشانی سے زیست کے اوراق کو پلٹا ہے۔کہیں ہجرت کے دُکھ ہیں تو کہیں آزادوطن کے حکمرانوں کی کارستانیاں۔کہیں اپنوں کے بچھڑنے کادُکھ ہے تو کہیں عشق کی باتیں۔کہیں دوست دشمن بنتے ہیں تو کہیں دُشمن دوست۔کہیں بُرے وقت میں "نند”جیسا کردار ہمدردی اور اپنائیت کا استعارہ بن جاتا ہے تو کہیں حسد کرنے والے اپناوار کرتے ہیں۔کہیں ایک تھالی میں کھانے والے گہری ضرب لگاتے نظر آتے ہیں تو کہیں دلاسہ بڑھانے والے موجود ہیں۔

    "بس یہی داستاں ہماری ہے”کہنے کو تو پروفیسر عظمٰی مسعود کی خودنوشت ہے لیکن میں سمجھتا ہوں وطن ِعزیز کے ادیبوں کی داستاں ہے۔یہ سیاست دانوں کی کارستانیوں کا اعلان ہے۔اس کتاب میں ایک زندگی نہیں ہزاروں زندگیاں ہیں۔کہیں مصنفہ مطالعہ کی شوقین نظر آتی ہے اور ہمیں بہترین کتب سے ملواتی ہیں۔کہیں سیاست دان بن کر اصطلاحات نافذ کراتی ہیں تو کہیں پروفیسر بن کر بتاتی ہے کہ حالات جیسے بھی رہے ہوں پروفیسر ایسا ہوتا ہے۔یہ اقتباس پڑھیے:
    "اب میں "ادب”کی کچھ کچھ باتیں بھی سمجھنے لگی تھی۔یہاں سے میں نے پہلی بار عصمت چغتائی کا نام سُنااور ریڈیو کی لائبریری سے اُن کے افسانوں کی کتاب لی۔”لحاف”کا ذکر بار بار ذکر سنا تھا۔پڑھا خاک سمجھ نہ آیا۔پھر کشورناہید کے سمجھانے پر بھی سمجھ نہ آیا۔اس نے گالیاں دے کر سمجھایا۔دل پھر بھی نہ مانا۔اسے سمجھنے کے لیے دماغ کو تیز دھار چھری کی طرح کا ہونا ضروری تھا اور میرے ہاں تو صرف گودا بھرا تھا۔خداگواہ ہے کہ وہ افسانہ عرصہ دراز تک ایک راز ہی رہا۔جو کشور نے سمجھایا میں نے اکثرسوچا”یہ کیسے ہوسکتا ہے۔”میں نے سوچنا ہی چھوڑ دیا۔اُسی زمانے میں منٹو کے "ٹھنڈے گوشت”کا تذکرہ شروع ہوا۔کتاب خریدی،کہانی پڑھی،خاص طور پر پڑھی،البتہ یہ کچھ کچھ پلے پڑی۔باقی تفصیل میں نے کشور سے پوچھ لی۔”
    زندگی کے بارے لکھتی ہیں:”زندگی مشکل تھی اور اتنی مشکل زندگی کو جینا کانچ پر ننگے پاؤں چلنے جیسا تھا۔میں اکثر سوچتی ہوں زندگی ہے کیا چیز؟اور یہ اتنی تکلیف دہ کیوں ہو جاتی ہے۔پھر یہی زندگی کسی قدر دل نواز،حسین اور دلبرانہ بھی ہے کہ اسے جینے کے لیے انسان کیسی کیسی محنت کرتا ہے،فریب کرتا ہے،ریاکاری کرتا ہے،جھوٹ بولتا ہے۔۔۔اُف خدایا انسان کیا کچھ نہیں کرتا کہ وہ یہ زندگی جی لے اور خوب جی لے۔زندگی کو جینے کا اتنا لالچ؟ہے تو پھر بھی دو ہی دن کی۔۔اس زندگی کے لیے اتنی تگ ودو سب ہی کرتے ہیں لیکن میرا خیال ہے ہمارے ملک کے سیاستدان کچھ زیادہ ہی آگے بڑھ جاتے ہیں۔وہ آگے بڑھتے جاتے ہیں،زندگی اُن کے گرد گھیرا تنگ کرتی جاتی ہے۔۔”
    نہ خدا ہی ملا نہ وصال ِصنم
    نہ ادھر کے ہوئے نہ اُدھر کے ہوئے
    "بس یہی داستاں ہماری ہے”میں پروفیسر عظمیٰ مسعود،اپنے سکول،کالج کے زمانے کی دوستوں کو یاد رکھتی ہیں۔سروس کے دوران تسلی اور دلاسہ دینے والوں کو نہیں بھولتیں۔دوسروں پر قدغن نہیں کرتیں،البتہ اپنے آپ کو کڑوی کسیلی سناتی ہیں۔جب بھی زندگی سے تھکنے لگتی ہیں تو رب کو یاد کرلیتی ہیں اور یوں ایک اُمید کا دیا روشن کر لیتی ہیں۔
    وقت اچھا بھی آئے گا ناصرؔ
    غم نہ کر زندگی پڑی ہے ابھی
    "بس یہی داستاں ہماری ہے”پروفیسر عظمیٰ مسعود کی شان دار کتاب 332صفحات پر مشتمل ہے۔قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل سے شایع ہوئی ہے جس کے روح رواں علامہ عبدالستار عاصم ہیں۔کتاب دوست،صاحب کتاب اور کتاب سے محبت رکھنے والوں کے خیرخواہ ہر دل عزیز شخصیت،کتاب بینی کے فروغ میں ہمہ تن سرگرداں۔ان کا احسان ِعظیم ہے کہ نامور شخصیات سے متعارف کرواتے ہیں ان کا لکھا قاری تک پہنچاتے ہیں۔
    "بس یہی داستاں ہماری ہے”کا اسلوب سادہ اور عام فہم ہے۔پروفیسر عظمیٰ مسعود اشعار کا تڑکا خوب لگاتی ہیں یہاں سے ان کے ذوق کی خبر ہوتی ہے۔اس کتاب کی بہت سی خوبیاں ہیں۔یوں کہیے جو آپ چاہتے ہیں آپ کے ذوق کے مطابق اس میں ملتا ہے۔آپ زندگی کے کسی بھی شعبے سے وابستہ ہیں اور آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو یہ کتاب آپ کو ضرور پڑھنی چاہیے۔یہ حالات کی گردش میں گرے لوگوں کا ہاتھ پکڑ کر راحت کے نگر میں بسیرا کراتی ہے۔دُنیامیں بسنے والے ہر شخص کی داستاں "بس یہی داستاں ہماری ہے”میں ملتی ہے۔
    کوئی تدبیر کرو،وقت کو روکو یارو
    صبح دیکھی ہی نہیں،شام ہوئی جاتی ہے
    "بس یہی داستاں ہماری ہے”کے پیغام کے ساتھ اجازت چاہوں گا:”رب ِ ذوالجلال نے دُنیا بنائی ہے تو اِس کو چلانے کے کچھ اصول بھی بنائے ہیں۔یہ دُنیا اسی طرح چلی ہے،اسی طرح اب تک چلتی رہی ہے اور اسی طرح چلتی رہے گی۔البتہ "ہم نہ ہوں گے کوئی ہم ساضرورہو گا”۔زندگی کو صرف بسر ہی نہیں کرنا اسے جینا بھی ہے اور اسے جینا چاہیے۔”
    اگر آپ چاہتے ہیں کہ ایسی کتاب پڑھیں جو زندگی بدل دے تو میرا مشورہ یہی ہے کہ "بس یہی داستاں ہماری ہے”ضرور پڑھیں۔اگر آپ کو کتاب متاثر نہ کرسکی تو جو چاہے سزا دیں۔اللہ تعالیٰ، پروفیسر عظمیٰ مسعودکو جزائے خیر دے آمین۔

  • اکادمی ادبیات پاکستان کوئٹہ کا یاد گار مشاعرہ.تحریر:شیخ فرید

    اکادمی ادبیات پاکستان کوئٹہ کا یاد گار مشاعرہ.تحریر:شیخ فرید

    بلوچستان رائئٹرز گلڈ (برگ) نے اپنی ادبی کانفرنس موخر کر دی

    یوم پاکستان کی مناسبت سے اکادمی ادبیات پاکستان کوئٹہ کی جانب سے ایک کثیر اللثانی محفل مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا مشاعرے میں اردو پشتو بلوچی براہوی زبان کے شعرا کرام نے شرکت کی ۔ مشاعرے کی صدارت ممتاز شاعر ادیب اعجاز امر نے کی ۔ جب کہ مہمان خصوصی ڈاکٹر رحمت اللہ نیازی چیئرمین پشتو اکیڈمی تھے ۔ مہمان اعزاز کی حیثیت سے معروف شاعر و ادیب نواب نور خان محمد حسنی اور تسنیم صنم صاحبہ موجود تھیں ۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ۔ اعجاز امر کا کہنا تھا کہ اکادمی ادبیات کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ جنہوں نے یوم پاکستان کی مناسبت سے ان حالات میں بھی تقریبات کا اہتمام کیا۔ ڈاکٹر رحمت اللہ نیازی نے مقامی زبانوں کی ترویج میں ادبیات کے کردار کو سراہا ۔

    تسنیم صنم کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں ادبیات کی تقریبات میں کچھ عرصے کے لیے رکاوٹ ائی تھی مگر اب تقریبات بحال ہونے سے وہ معاملات بھی حل ہو گئے ۔ تقریب کی نظامت نوجوان شاعر احمد وقاص کاشی نے کی جبکہ دیگر شعرا میں فائزہ شکیل ، فاریہ بتول ، عظیم انجم ہانبھی ، ذوالفقار رضا ، نجیب اللہ احساس ، سومرو۔خاکسار ، عادل اچکزئی ، عزیز حاکم ، ارمش اور ڈاکٹر قیوم۔بیدار شامل تھے

    صوبے کی فعال ، متحرک اور معروف ادبی تنظیم بلوچستان رائٹرز گلڈ (برگ) نے 7 اپریل کو نوری نصیر خان کلچرل کمپلیکس میں ہونے والی سالانہ ادبی کانفرنس اور آغاگل ادبی ایوارڈز کی تقریب کوئٹہ کے حالات اور ذرائع آمد و رفت کی بندش کے پیشِ نظر ملتوی ک دی گئی ہے ۔

    اِس سلسلے میں برگ کی مجلسِ عاملہ کا ہنگامی اجلاس پروفیسر ڈاکٹر صابر بولانوی کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں بلوچستان میں سیکورٹی خدشات اور عدم تحفظ کو مدِ نظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا گیا کہ 7 اپریل بروز سوموار کو نوری نصیر خان کلچرل کمپلیکس میں منعقد ہونے والی ادبی کانفرنس اور آغاگل ادبی ایوارڈز کی تقریب کو منسوخ کیا جاتا ہے ۔ جبکہ ادبی کانفرنس کیلیے نئی تاریخ کا اعلان جلد باہمی مشاورت سے طے کی جائے گی ۔

    یاد رہے کہ سالانہ ادبی کانفرنس میں لاہور ، میانوالی ، چشتیہ ، سرگودھا ، ساہیوال ، پاکپتن شریف ، پسنی ، سبی اور لورالائی کے ادباءحضرات و شعراء کرام کے علاوہ کوئٹہ 16 اہلِ قلم کو اْن کی بہترین ادبی تخلیقات پر آغاگل ایوارڈز کا اعلان کیا گیا ہے ۔ جو جلد پیش کئے جائینگے .آغاگل ایوارڈز پانے والے اہلِ قلم میں ڈاکٹر راحت جبیں رودینی
    دل آویز
    سرجن ڈاکٹر اعظم بنگلزئی
    پرچھائیاں
    پروفیسر ڈاکٹر شمیم کوثر
    بلوچستان میں اردو ادب
    پروفیسر ارشد راہی
    پپلی کے نیچے
    ڈاکٹر رحمت عزیز خان
    خوابوں کی شہزادی
    ڈاکٹر فضل خالق
    سیالیچک
    محترمہ فرح علوی
    بانس کی باڑ
    محترم شاہد بخاری
    پاکستانی ادب کے معمار
    محترم محمد یٰعقوب فردوسی
    عاشقِ اقبال
    محترمہ غزالہ اسلم
    بہار آنےکو ہے
    محترم عاصم بخاری
    اثاثہ
    محترم عبدالرحیم بھٹی
    راجپوت فبائل
    محترم ریاض ندیم نیازی
    تمھیں اپنا بنانا ہے
    محترم غلام زادہ نعمان صابری
    تقسیم
    محترم اوصاف شیخ
    ہر سفر دائرہ
    محترم علیم مینگل
    آواز کے سائے
    پروفیسر اکبر خان اکبر
    جادو نگری
    شیخ فرید
    برف بولان
    محترم احمد وقاص کاشی
    ش کا رقص
    محترمہ تسنیم صنم
    ہجر کی طاق راتیں
    محترمہ صدف غوری
    تلاشِ وفا
    محترم شفقت عاصمی
    ساربانی سڑک
    محترمہ ذکیہ بہروز ذکی
    موسمِ گل گزر نہ جائےکہیں
    ڈاکٹر اکرم خاور
    چاہتوں کے درمیاں
    محترم عظیم انجم ہانبھی
    بھنوروں کے انتظار میں
    پرفیسر خورشید افروز
    مشاہیرِ بلوچستان
    ڈاکٹر محمد نواز کنول
    رومی اور اقبال
    شبیر احمد بھٹی
    ریوڑ
    کاوش صدیقی
    جل پری
    کامران قمر
    شرفِ قمر
    آسناتھ کنول
    صحراء کی ہتھیلی پہ دیا ، شامل ہیں ۔۔

  • ادب کی نیلامی، جب لفظ پیسے کے ترازو میں تولے جائیں ۔ تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    ادب کی نیلامی، جب لفظ پیسے کے ترازو میں تولے جائیں ۔ تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    ادب کا "منصب” ہمیشہ سے فکری بالیدگی، سچائی اور انسانی جذبات کی سچّی ترجمانی رہا ہے۔ یہ وہ میدان ہے جہاں تخلیقی صلاحیت، مطالعہ، مشاہدہ اور فکری جدوجہد ہی کسی لکھاری کا اصل اثاثہ ہوتی ہے۔ لیکن آج کچھ ادارے اور افراد ادب کے نام پر پیسے کے عوض تحریریں شائع کر کے نہ صرف اس عظیم فن کی بے حرمتی کر رہے ہیں بلکہ نئے لکھنے والوں کو ایک غلط سمت میں دھکیل رہے ہیں۔ ہمیشہ سے فکری بالیدگی، سچائی اور انسانی جذبات کی سچّی ترجمانی رہا ہے۔
    ادب ہمیشہ سے انسان کے باطن کی وہ زبان رہا ہے جو لفظوں میں سچائی، خلوص، درد، خواب اور سوال بُنتا ہے۔ یہ وہ آئینہ ہے جس میں ایک معاشرہ خود کو دیکھتا اور سمجھتا ہے۔ ادب صرف اظہار کا ذریعہ نہیں، بلکہ تہذیبی شعور، فکری بلوغت اور اجتماعی ضمیر کی بیداری کا استعارہ بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیشہ سے ادب کو ایک مقدس امانت تصور کیا جاتا رہا ہے—ایسی امانت جو نہ صرف لکھنے والے کا کردار مانگتی ہے بلکہ قاری کا شعور بھی آزماتی ہے۔
    مگر موجودہ دور میں اس مقدس فن کے گرد ایک ایسا بازار سج چکا ہے جس میں لفظوں کی بولی لگتی ہے، تخلیق کی قیمت طے ہوتی ہے اور ادیب کا مقام جیب کی گہرائی سے مشروط ہو چکا ہے۔ "ادب کی خدمت” کے مقدس دعوے کے ساتھ کچھ افراد اور ادارے پیسوں کے عوض تحریریں شائع کرنے کا کاروبار کر رہے ہیں۔ وہ نوآموز لکھنے والوں کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ صرف چند ہزار روپے دے کر ان کی تحریر کسی "ادبی مجموعے” یا "مشترکہ کتاب” کا حصہ بن سکتی ہے۔ اس جھانسے میں آ کر کئی ناپختہ قلم یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ وہ اب باقاعدہ "مصنف” بن چکے ہیں۔ گویا تخلیق، جو کبھی روح کی پکار اور شعور کی گہرائیوں سے جنم لیتی تھی، اب ایک چیک یا آن لائن ٹرانزیکشن سے پیدا ہو سکتی ہے۔یہ روش ادب کے تقدس کو محض مجروح نہیں کرتی، بلکہ اسے تماشہ بنا دیتی ہے۔ جب تحریر کے معیار کی جگہ مالی ادائیگی اہم ہو جائے تو کتاب محض صفحات کا مجموعہ بن کر رہ جاتی ہے۔ ایسے مجموعے جو بازار میں آ کر جلد ہی بھلا دیے جاتے ہیں کیونکہ ان میں کوئی فکری گیرائی، فنی چمک یا تخلیقی تڑپ نہیں ہوتی۔ یہ محض لفظوں کی سجاوٹ ہوتی ہے، جن کے پیچھے نہ کوئی تجربہ ہوتا ہے نہ کوئی پیغام۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اصل اہل قلم—جو برسوں کی ریاضت، مطالعے، مشاہدے اور فکری مکالمے سے ادب کی خدمت کرتے ہیں—ان کا مقام دھندلا پڑنے لگتا ہے۔ ان کی تحریریں ان کہی سی ہو جاتی ہیں کیونکہ بازار میں "چھپنا” ہی مقام کا معیار بن چکا ہوتا ہے۔

    یہ ایک ایسا دھندہ ہے جسے ہم سب نے یا تو نظر انداز کیا یا خاموشی سے قبول کر لیا۔ سوال یہ ہے کہ اس رجحان کو روکنے کے لیے ادبی برادری، نقاد، اساتذہ، اور سنجیدہ قارئین کہاں ہیں؟ کیا ہماری ادبی انجمنیں صرف مشاعرے کروانے، پھولوں کے گلدستے دینے، اور یادگاری تصاویر بنوانے تک محدود ہو گئی ہیں؟ کیا یہ ادارے اپنی ذمہ داری محسوس نہیں کرتے کہ وہ نوآموز لکھنے والوں کو اس مکاری سے بچائیں اور انہیں تخلیق کی اصل روح سے روشناس کروائیں؟

    ادب کا سفر کبھی آسان نہیں رہا۔ غالب سے لے کر فیض تک، عصمت چغتائی سے انتظار حسین تک، سب نے زندگی کی سچائیوں کو الفاظ میں ڈھالنے کے لیے کرب سہا، تنقید برداشت کی، محرومیوں کا سامنا کیا، مگر کبھی تخلیق کو بیچنے کا تصور بھی نہ کیا۔ ان کے لیے ادب ایک عہد تھا، ایک فکری جدوجہد جسے سرمایہ نہیں، صداقت چلاتی تھی۔ آج جب کوئی پیسے دے کر چھپنے کا خواب دیکھتا ہے تو وہ اس عہد سے غداری کرتا ہے۔
    ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ادب کو اس کے اصل وقار کے ساتھ زندہ رکھیں۔ یہ کام صرف لکھنے والوں کا نہیں، پڑھنے والوں کا بھی ہے۔ اگر قاری صرف چمکدار سرورق، مصنف کی پروفائل تصویر، یا اشاعت کی تعداد دیکھ کر کتاب کو "اچھی” سمجھ لے گا تو پھر بازار کا راج رہے گا، اور ادب کے مقدس مینار چھوٹے ہوتے چلے جائیں گے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ ہر چھپی ہوئی تحریر ادب نہیں ہوتی، اور نہ ہی ہر چھپنے والا ادیب ہوتا ہے۔

    ادب میں مقام حاصل کرنے کے لیے علم، مطالعہ، مشاہدہ، محنت اور خلوص درکار ہوتا ہے۔ یہ ایک طویل، صبر آزما اور کبھی کبھار تنہا سفر ہوتا ہے۔ پیسے دے کر چھپنا اس سفر کی شارٹ کٹ نہیں، بلکہ اس سے ہٹ جانے کا راستہ ہے۔ ادب خود فریبی برداشت نہیں کرتا۔ وہ صرف انہی کو قبول کرتا ہے جو اس کی شرائط پر پورا اترتے ہیں—چاہے وہ دیر سے پہچانے جائیں، مگر اصل پہچان پائیدار ہوتی ہے۔

    آخر میں، ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہم ادب کو پیکیج بنا کر فروخت کرنا چاہتے ہیں یا ایک فکری میراث کے طور پر سنوارنا چاہتے ہیں۔ اگر ہم نے خاموشی اختیار کیے رکھی تو آنے والی نسلیں ادب کو ایک سنجیدہ فن کے بجائے محض چھپنے کا ذریعہ سمجھیں گی۔ ہمیں اب بھی وقت ہے کہ آواز بلند کریں،پاکستان میں ادب کے نام پر ہونے والی اس سوداگری کے خلاف قلم اٹھائیں، اور سچے تخلیق کاروں کا ساتھ دیں۔ کیونکہ ادب کو اگر زندہ رکھنا ہے تو اسے مالی لفظوں کی نہیں، فکر کی قدر دینی ہو گی۔یہی پہچان پاکستان ہے

  • تبصرہ کتب، سنہرے نقوش

    تبصرہ کتب، سنہرے نقوش

    نام کتاب : سنہرے نقوش
    نام مئولف : عبدالمالک مجاہد
    ناشر : دارالسلام انٹرنیشنل ، لوئر مال ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لاہور
    صفحات : 384
    قیمت : 1850روپے
    زیر نظر کتاب ’’ سنہرے نقوش ‘‘ ایک آئینہ ہے جس میں اچھے اور برے دونوں طرح کے لوگوں کی زندگی کے سچے واقعات کی تصویر کشی کی گئی ہے ۔ جو شخص بھی یہ واقعات پڑھے گا اسے یقینا سعادت اور نیکی کی زندگی حاصل ہو گی ۔ نیکی کا لازمی نتیجہ کامیابی اور فتح مندی ہے جبکہ گناہ کا نتیجہ ناکامی ، بدنامی اور رسوائی ہے ۔ گناہ چاہے کتنا ہی چھپ کر کیا جائے وہ ہمارا پیچھا کرتا ہے اپنا تاوان لیتا ہے اور اگرندامت کے ساتھ سچی توبہ نہ کی جائے توگناہ ہمیشہ خون کے آنسو رولاتا ہے ۔ اچھی کتابوں کا مطالعہ انسان کو نیکی کی طرف راغب کرتا اور دل و دماغ کو راحت بخشتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ سنہرے نقوش ‘‘ ایک ایسی ہی کتاب ہے جس میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے نافرمانوں اور بعض سفاک انسانوں کے واقعات درج کیے گئے ہیں تاکہ لوگ ان کے لرزہ خیز انجام سے عبرت پکڑیں اور توبہ استغفار کا اہتمام کر کے اپنی زندگیاں سنوار لیں ۔ کتاب کے مئولف عبدالمالک مجاہد کہتے ہیں : میری جملہ کتابوں کی طرح اس کتاب کی بھی اصل غرض و غایت یہی ہے کہ ہمارے معاشرے کا ہر فرد اچھے اور برے لوگوں کے واقعات سے اعمال صالحہ کا سبق سیکھے ، نیکی اور ناموس کی زندگی بسر کرے۔ ان شاء اللہ اس طرح زندگی کی مشکلیں آسان ہوجائیں گی اور ماحول کی تاریکیوں میں حسن سیرت کے چراغ روشن کرنا آ سان ہو جائے گا ۔ بات یہ ہے کہ ہم سب کو ناکامی سے بچنے اور دوسروں کو بچانے کی ہر ممکن تدبیر کرنی چاہیے ۔ یہ ہمارا دینی اخلاقی اور سماجی فریضہ ہے جسے التزام سے ادا کرتے رہنا چاہیے بس اسی احساس کے زیر اثر کامیابی کی صفات اجاگر کرنے اور ناکامی کے اسباب واضح کرنے کے لیے یہ کتاب لکھی گئی ہے۔اس کا انداز بیان سادہ اور سلیس ہے اس لیے اس سے معمولی پڑھے لکھے لوگ بھی خاطرخواہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔ قرآن مجید بھی ہمیں اچھے اور منتخب انسانوں کے نورانی اعمال و احوال کے قصے سادہ اور دلکش پیرائے میں سناتا ہے۔ فرعون و نمرود جیسے مغرور و مردود لوگوں کے افعال و انجام کی حکایات پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ ایسے ہی اس کتاب میں ایک طرف حضرت سعید بن جبیراور امام احمد بن حنبل جیسے رجال کی سیرت کے جلوے نظر آتے ہیں تو دوسری طرف ایسے سفاک اور بدبخت شخص کا تذکرہ بھی ہے جس نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے آشوب وآزمائش کے دور میں ان کی اہلیہ محترمہ کو تھپڑ مارا تھا۔ اس ظالم کا انجام پڑھ کر دل لرزنے لگتا ہے۔ کتاب کی اہمیت کا اندازہ دیے گئے عنوانات سے کیا جا سکتا ہے مثلاََ:تقوی کے ثمرات ، پروردگار کے فیصلے کا خیر مقدم، راہ اخلاص و وفا میں جانوں کا نذرانہ، مرقد نبوی کے خلاف گھنائونی سازش، سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی زندگی کا آ خری دن ، بہادر ڈاکو حجاج بن یوسف کی عدالت میں، کس کس کا ہاتھ میرے گریبان میں آ ئے گا، وعدے کی پاسداری ، دجال کا جاسوس ، باپ سے بد سلوکی کا بھیانک انجام ، خبردار دشمن ہمہ وقت موقع کی تلاش میں ہے ، دولت کا نشہ۔۔۔۔۔ ایک سانحہ عبرت، سچی توبہ ، نہلے پر دہلا ، لاجواب دلہن ، جہنم سے فرار ، تاک جھانک کا خمیازہ ، اللہ کی نافرمان ، بہار ہو کہ خزاں لا الہ الا اللہ ، اچھی تربیت کا صحیح طریقہ ، بارگاہ الہی میں جواب دہی کا احساس ، جھوٹی توبہ، کفر و سرکشی کی سزا ، مٹ گئے مٹ جائیں گے اعدا تیرے ، خون ناحق کی ہیبت ، آداب فرزندی کا قابل رشک مظاہرہ ،کہیں عہد شکنی نہ ہو جائے، سلطان جلال الدولہ کی ہوشیاری ، دندان شکن جواب، جو سورہے ہیں ان کو جگانے کی فکر کر، حقیقی طالب علم ،کسری پر عربوں کی پہلی جیت ،اللہ تعالیٰ اس کی گھات میں تھا ،جھوٹی توبہ ، جہنم سے فرار ، اندھیرے سے اجالے کی طرف ، عربوں کی مہمان نوازی، وعدے کی پابندی ، دنیا کی بے ثباتی ، خدائی خون کے گھنائونے دعویدار، ظالم کا عبرتناک انجام، غلاموں کی خوش بختی، اس نے میری آنکھیں کھول کر اپنی آنکھیں بند کر لیں، باپ کی عدالت سے بیٹی کے خلاف فیصلہ، داستان ایک متکبر کی، مالک ارض و سماء کی پہچان ، لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے ، نو مولود کی گواہی ،فرشتہ صفت نوجوان شیطان کے نرغے میں ، شیر خوار بچے کا اعلان حق ، تربیت اولاد سے غفلت کا نتیجہ، طوفانوں کے مقابل کوہ گراں ۔ قصہ مختصر یہ کتاب نیکی اور بدی کے کرداروں کا حیرت انگیز نگار خانہ ہے جو کردار اور دل و دماغ کے دریچے کھولتے، خیالوں میں انقلاب برپا کرتے ، نیکی سے محبت کا سلیقہ سکھاتے اور بدی سے متنفر کرتے ہیں ۔ اپنی اصلاح اور اپنے گھر کی اصلاح کے خواہشمند احباب کیلئے یہ کتاب نہایت ہی بیش قمیت تحفہ ہے ۔

  • ریحانہ کنول: ایک دردمند شاعرہ کا سفرِ آخرت.تحریر عاصم بوٹا

    ریحانہ کنول: ایک دردمند شاعرہ کا سفرِ آخرت.تحریر عاصم بوٹا

    ریحانہ کنول کا نام اردو ادب میں ہمیشہ احترام اور محبت سے لیا جائے گا۔ وہ ایک ایسی شاعرہ تھیں جن کے الفاظ نہ صرف جذبات کے عکاس تھے بلکہ معاشرے کے دکھوں اور ناانصافیوں کو بھی قلم کی نوک پر لا کر ایک سچائی کے آئینے میں سجا دیتے تھے۔ ان کی شاعری ایک مجبور ماں کی مامتا، زندگی کے نشیب و فراز، اور ایک حساس دل کی گہرائیوں کی ترجمانی کرتی رہی۔ آج وہ ہم میں نہیں رہیں، مگر ان کے الفاظ ہمیشہ زندہ رہیں گےریحانہ کنول کی زندگی کسی کہانی سے کم نہ تھی۔ ان کا ہر لمحہ، ہر دن ایک جدوجہد کی مانند گزرا، لیکن انہوں نے صبر و استقامت کو اپنا شعار بنایا۔ وہ ایک ایسی ماں تھیں جنہوں نے بے پناہ مشکلات کے باوجود اپنی اولاد کی بہترین پرورش کی اور ایک ایسی شاعرہ تھیں جن کی تحریروں میں سچائی اور درد کی خوشبو محسوس کی جا سکتی تھی ان کی زندگی مشکلات اور آزمائشوں سے بھری ہوئی تھی، لیکن انہوں نے کبھی حوصلہ نہیں ہارا۔ ایک بیوہ ماں ہونے کے باوجود انہوں نے نہایت صبر اور ہمت کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو نبھایا۔ وہ نہ صرف اپنی اولاد کے لیے ایک مضبوط سہارا تھیں بلکہ ان کے خیالات اور نظریات سے بے شمار لوگوں کو روشنی ملی۔ ان کے دل میں درد بھی تھا اور اس درد کی بازگشت ان کی شاعری میں سنائی دیتی تھی۔ وہ لفظوں کے ذریعے وہ سب کچھ بیان کر دیتی تھیں جو ایک عام انسان محسوس تو کر سکتا ہے مگر الفاظ میں ڈھالنے کی سکت نہیں رکھتا2024 میں جب بزمِ اوج کے سالانہ مشاعرے میں انہیں جہانیاں منڈی آنا تھا، تو ان کی کمر کی تکلیف نے انہیں روک دیا۔ انہوں نے معذرت کی، مگر جلد آنے کا وعدہ کیا۔ کچھ دن بعد وہ میرے گھر تشریف لائیں اور ایک پورا دن ہماری فیملی کے ساتھ گزارا۔ یہ ان کی محبت اور خلوص کا عملی مظاہرہ تھا۔ وہ الفاظ کی دنیا میں منفرد مقام رکھتی تھیں، مگر اپنی ذات میں بھی ایک عظیم انسان تھیں۔ ان کی سادگی، محبت اور خلوص ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کی گفتگو میں ایسی تاثیر تھی کہ سننے والا ان کے الفاظ میں کھو جاتا تھاکچھ ماہ قبل انہوں نے اپنی بیٹی کی شادی کی، جہاں مجھے بھی مدعو کیا گیا تھا، مگر کسی مجبوری کی بنا پر میں شریک نہ ہو سکا۔ وہ ایک ماں ہونے کے ناطے اپنی اولاد کی خوشیوں میں سب سے آگے رہیں، مگر ان کی زندگی کے کئی پہلو ایسے بھی تھے جو ان کے حساس دل اور گہرے درد کی عکاسی کرتے تھےوہ ایک ایسی ماں تھیں جنہوں نے اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے اپنی تمام خواہشات اور ضروریات کو پسِ پشت ڈال دیا۔ انہوں نے خود تکالیف سہیں مگر اپنی اولاد کو ہر ممکن خوشی دینے کی کوشش کی۔ یہ ایک ایسی قربانی ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔ وہ راتوں کو جاگتی رہیں، دکھوں کو سہتی رہیں، مگر اپنی اولاد کے لیے ایک مضبوط دیوار کی مانند کھڑی رہیں ریحانہ کنول کی وفات کے بعد ان کے بچے ایک بار پھر آزمائش کی بھٹی میں جھونک دیے گئے۔ پہلے ہی والد کی جدائی کا زخم سہنے والے یہ معصوم اب اپنی ماں کے سائے سے بھی محروم ہو گئے۔ والدہ کی ممتا، شفقت، اور دعاؤں کی چھاؤں سے نکل کر وہ بے رحم زمانے کی بے حسی اور تلخ رویوں کے رحم و کرم پر رہ گئے۔ زندگی کے اس بے رحم کھیل میں وہ مزید تنہا ہوگئے، جہاں انہیں ماں کی مسکراہٹ، اس کے نصیحت بھرے الفاظ، اور اس کے سائے کی ضرورت تھی، وہی سب کچھ ان سے چھن چکا تھاریحانہ کنول کی شاعری محض لفظوں کا امتزاج نہیں تھی بلکہ ایک ایسے حساس دل کی آواز تھی جو معاشرتی ناانصافیوں، اپنوں کی بے حسی اور زندگی کی تلخیوں کو شدت سے محسوس کرتا تھا۔ وہ ان جذبات کو اپنی شاعری میں اس طرح پروتی تھیں کہ قاری کے دل پر براہِ راست اثر ہوتا تھا۔ ان کے اشعار میں المیہ، بغاوت، اور سچائی کا حسین امتزاج تھا۔ ان کے الفاظ کا چناؤ اتنا گہرا ہوتا کہ ایک عام قاری بھی ان کے جذبات کو شدت سے محسوس کرنے لگتا

    یادگار غزل

    چوڑیاں پہنی نہ مہندی ہی لگائی میں نے
    ایک مدت سے نہیں عید منائی میں نے

    بیٹیاں پالنا جنت کی خریداری ہے
    بیٹیاں پال کے جنت ہے کمائی میں نے

    سنتی آئی ہوں کہ ہیرے سے ہے ہیرا کٹتا
    پیٹ کی آگ ہے فاقوں سے بجھائی میں نے

    وہ محبت مِری تکلیف کا سامان ہوئی
    جس محبت کے لئے چھوڑی خدائی میں نے

    کون سا جرم ہے میرا کہ ہوئے ہو دشمن
    اپنا حصہ ہی تو بس مانگا ہے بھائی میں نے

    خالقِ کون و مکاں تیری بھری دنیا سے
    ایک تسکین کی ساعت ہے چرائی میں نے

    دنیا کی آنکھ نے زخمایا مِرے ہونے کو
    اپنی میت ہے کئی بار اٹھائی میں نے

    خوش گمانی نے سہولت کو اذیت جانا
    اپنے حصے کی سہولت بھی نہ پائی میں نے

    صرف ایسا تو نہیں ہے کہ ہوں کپڑے سیتی
    دکھ کی پوشاک کی بھی کی ہے سلائی میں نے

    ایک احساس یہی باعثِ تسکین رہا
    اپنی خاطر نہ لڑی کوئی لڑائی میں نے

    میں نے ہر شخص کو انسان سے تعبیر کِیا
    جتنی دولت تھی بھروسے کی، لٹائی میں نے

    ساعتِ وصل کی دستک پہ بھی در وا نہ کِیا
    رسمِ ہجراں ہے کنول ایسے نبھائی میں نے

    ریحانہ کنول کی جدائی اردو ادب کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ ان کے الفاظ آج بھی گونج رہے ہیں، ان کی تحریریں آج بھی روشنی دے رہی ہیں۔ وہ نہ صرف ایک شاعرہ تھیں بلکہ ایک بہترین انسان بھی تھیں جن کی موجودگی دوسروں کے لیے ایک نعمت تھی آج جب وہ اس دنیا میں نہیں رہیں، تو ان کی یادیں، ان کی باتیں، ان کے اشعار اور ان کا اندازِ فکر ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہے گا۔ وہ چلی گئیں مگر اپنی تحریروں میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ ان کی شاعری کے ذریعے ہم ان کی روح کے درد اور احساسات کو محسوس کر سکتے ہیں ریحانہ کنول ایک ایسی ہستی تھیں جنہیں فراموش کرنا ممکن نہیں۔ ان کی جدائی ایک ذاتی نقصان بھی ہے اور ادبی دنیا کے لیے بھی ایک ناقابلِ تلافی نقصان۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور ان کے بچوں کو صبر اور حوصلہ عطا کرے۔ آمین

  • اخوت فاؤنڈیشن کے بانی ڈاکٹر امجد ثاقب .تحریر:  راحین راجپوت

    اخوت فاؤنڈیشن کے بانی ڈاکٹر امجد ثاقب .تحریر: راحین راجپوت

    پاکستان کے علاقے فیصل آباد کے ایک گاؤں سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر امجد ثاقب نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد سول سروس میں جانے کا فیصلہ کیا اور ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ کے ایک اچھے آفیسر کے طور پر اپنی انتظامی صلاحیتوں کو منوایا ۔اسی دوران انہیں پنجاب رورل سپورٹ پروگرام کے جنرل مینیجر کے طور پر بھی کام کرنے کا موقع ملا ۔یہی وقت تھا جب ڈاکٹر امجد ثاقب کو غربت کی سنگینی کا احساس ہوا اور انہوں نے اپنی زندگی دوسروں کی غربت کے خاتمے کے لیے وقف کرنے کا فیصلہ کیا ۔ انہوں نے ایک غیر سرکاری فلاحی تنظیم "اخوت” کی بنیاد رکھی اور سرکاری ملازمت سے استعفیٰ دے دیا ۔انہوں نے دس ہزار روپے کے معمولی سرمائے سے غریب لوگوں کو بلا سود قرضے دینے کا آغاز کیا ۔آج ان کا ادارہ سود کے بغیر چھوٹے قرضے دینے والا دنیا کا ایک بہت بڑا ادارہ بن چکا ہے ۔اخوت تنظیم بلا سود قرضوں اور پیشہ وارانہ رہنمائی کے ذریعے پسماندہ علاقوں کے غریب لوگوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں مدد فراہم کر رہا ہے ۔”اخوت تنظیم” نادار اور ضرورت مند لوگوں کو چھوٹے چھوٹے کاروبار کرنے کے لئے بیس سے پچاس ہزار تک کے بلا سود قرضے فراہم کرتا ہے ۔یہ قرضے بغیر کسی لمبی چوڑی تفتیش کے ہاتھ سے لکھی ہوئی ایک سادہ درخواست اور شخصی ضمانت کے ذریعے دیئے جاتے ہیں ۔گزشتہ کئی برسوں میں ” اخوت تنظیم” اربوں روپے مالیت کے بلا سود قرضے غریب اور پسماندہ لوگوں میں تقسیم کر چکی ہے اور لاکھوں غریب خاندان مستفید ہو چکے ہیں ۔”اخوت تنظیم ” پاکستان کے صوبوں کے علاوہ فاٹا ، کشمیر اور گلگت بلتستان کے کئی علاقوں تک پھیل چکی ہے "اخوت تنظیم "کی طرف سے دیئے گئے قرضوں سے خواتین اور ملک کی اقلیتی برادریاں بھی مستفید ہوئی ہیں ۔” اخوت تنظیم” کا ادارہ کرسمس کے موقع پر مسیحی برادری کے غریب لوگوں کی مدد کے لئے گرجا گھروں میں خصوصی فلاحی تقریبات کا اہتمام بھی کرتا ہے ۔”اخوت تنظیم” نے پاکستان کی قومی اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے غریب لوگوں کی مدد کے لئے شروع کی جانے والی کئی سرکاری فلاحی سکیموں کی شفاف تکمیل کے لئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے اپنی خدمات پیش کیں ۔اس فلاحی ادارے کو پاکستان کے مخیر حضرات بڑی تعداد میں سپورٹ کرتے ہیں ۔یہ فلاحی ادارہ کاروبار کرنے والے خواہش مند افراد کی مدد کرنے کے علاوہ گھر بنانے ، بچوں کی تعلیم اور شادی کے ساتھ ساتھ دیگر ضروریات کے لئے قرضے فراہم کرتا ہے ۔

    اس وقت ” اخوت تنظیم” کے بانی اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر امجد ثاقب کی زیر نگرانی قرضوں کی فراہمی کے پروجیکٹ علاوہ متعدد فلاحی منصوبے بھی چلائے جا رہے ہیں ، جن میں اخوت کلاتھ بنک ، اخوت ہیلتھ سروسز ، اخوت ڈریمز پروجیکٹ ، اخوت ایجوکیشن اسسٹنس پروگرام اور اخوت فری یونیورسٹی شامل ہیں ۔اس کے علاوہ یہ ادارہ خواجہ سراؤں کی سرپرستی بھی کر رہا ہے ۔”اخوت تنظیم” کے ماڈل کو دنیا کے کئی ممالک اور کئی یونیورسٹیز میں سٹڈی کیا جاتا ہے ۔

    ڈاکٹر امجد ثاقب نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ” پاکستان کی مشکلات کا پائیدار حل غیر ملکی امداد سے ممکن نہیں ، ان کے بقول بھیک مانگنے والی اقوام کبھی ترقی نہیں کر سکتیں ۔ پاکستان کے اقتصادی حالات کی بہتری کے لئے پاکستانیوں کو ہی اٹھنا ہوگا ۔ غربت کے خاتمے کے لئے لوگوں کو سماجی آگاہی ، کپیسٹی بلڈنگ ، کاروباری تربیت اور دوسروں کی مدد کرنے والی رضاکارانہ سوچ سے مزین کرنا ہوگا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پچاس فیصد پاکستانی بقیہ پچاس فیصد پاکستانیوں کی مدد کا مخلصانہ تہیہ کر لیں تو لوگوں کی مشکلات میں بہت حد تک کمی لائی جا سکتی ہے ، کیونکہ ان کے تجربے کے مطابق پاکستان ایک دیانتدار قوم ہے اس لئے تو لاکھوں لوگ چھوٹے چھوٹے قرضوں سے اپنے کاروبار سیٹ کر کے ہمیں قرضے واپس کر رہے ہیں ، بلکہ ” اخوت تنظیم "کے ڈونر بن رہے ہیں ۔” ڈاکٹر امجد ثاقب نے اپنی بات ختم کرتے ہوئے کہا کہ "اخوت تنظیم” کا ماڈل روائتی اقتصادی تصورات کے ذریعے سے نہیں سمجھا جا سکتا ۔ ان کے بقول سودی قرضوں کی معیشت مسابقت ، منافع کے لالچ اور مارکیٹ فورسز کے تحت کام کرتی ہے ، جبکہ وہ ایثار و قربانی اور دوسروں کی مدد کر کے ان کو ان کے پاؤں پر کھڑا کرنے کی بات کر رہے ہیں ۔”

    ڈاکٹر امجد ثاقب کو ان کی خدمات کے اعتراف میں کئی ملکی و غیر ملکی اعزازات سے نوازا گیا ہے جن میں ستارہ امتیاز ، پاکستان کا تیسرا اعلیٰ سول ایوارڈ اور ایشیا کے معروف اعزازات میں سے ایک ریمون میگ سائے سائے ایوارڈ شامل ہیں ۔ ریمون میگ سائے سائے ایوارڈ فلپائن کے سابق صدر رامون دلفیئرو میگ سائے سائے کی یاد میں بنایا گیا تھا اور اس کا مقصد ایشیا میں کام کرنے والے ایسے لوگوں کی خدمات کو سراہنا جو دوسروں کی فلاح و بہبود کے لئے بے لوث انداز میں کام کرتے ہیں ۔ اس ایوارڈ کو عام طور پر ایشیا کا نوبل انعام بھی کہا جاتا ہے ۔ رامون میگ سائے سائے ایوارڈ دنیا کے معروف ترین اعزازات میں سے ایک ہے ۔ ماضی میں یہ ایوارڈ نو پاکستانیوں کو دیا جا چکا ہے جن میں عبد الستار ایدھی ، بلقیس بانو ایدھی اور عاصمہ جہانگیر بھی شامل ہیں ۔
    ڈاکٹر امجد ثاقب کو غربت کے خاتمے اور سماجی ترقی میں بے مثال اور بے لوث خدمات کے اعتراف میں "عشرے کا عالمی آدمی ” ( Global Man of dekad ) کے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ۔

    ڈاکٹر امجد ثاقب نے لندن میں منعقدہ ( گلوبل ویمن ایوارڈ 2003 ء) کی تقریب میں ایوارڈ وصول کرنے کے بعد کہا کہ ” میں اس عالمی اعزاز کو حاصل کرنے پر بہت فخر محسوس کر رہا ہوں ۔ میرے لئے یہ بہت خوشی کی بات ہے کہ مجھے یہ ایوارڈ بہت سے رہنماؤں ، مردوں اور عورتوں کی موجودگی میں مل رہا ہے جو اس دنیا کو تبدیل کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں ۔ ” ڈاکٹر امجد ثاقب نے اپنا یہ ایوارڈ پاکستان کے عوام اور رضاکاروں کے نام وقف کیا جو دنیا کی بہتر تعمیر کے لئے جدو جہد کر رہے ہیں ، ایک ایسی دنیا جو غربت اور استحصال سے پاک ہو ۔
    اس کے علاوہ ڈاکٹر امجد ثاقب کی رضاکارانہ خدمات کے اعتراف میں ملکہ برطانیہ نے ( common wealth ‘s point of light ) سے نوازا ۔ اور ورلڈ اکنامک فورم کی طرف سے "Entrepreneur of the year 2018″ کے لئے مقرر ہوئے ۔ نوبل انعام 2022 ء کے لئے دنیا بھر سے 343 امیدواروں
    کا انتخاب کیا گیا جن میں 251 انفرادی شخصیات اور 92 ادارے شامل ہیں ۔ ان ناموں میں ایک نام ڈاکٹر امجد ثاقب کا بھی ہے ۔

    ڈاکٹر امجد ثاقب کا نام غربت کے خاتمے کے لئے کوشش اور انسانیت کی خدمت پر نوبل امن انعام کے لئے نامزد کیا گیا ہے ، جو پاکستان میں بلا سود قرضے فراہم کرنے کا سب سے بڑا نیٹ ورک چلا رہے ہیں ۔ ان سب فلاحی کاموں کے علاوہ ڈاکٹر امجد ثاقب کئی کتابوں کے مصنف اور مقرر بھی ہیں ۔ ان کی تصانیف میں چار آدمی ، مولو موصلی ، اخوت کا سفر ، ایک یادگار مشاعرہ ، گوتم کے دیس میں ، غربت اور مائیکرو کریڈٹ ، اخوت دشت ظلمت میں ایک دیا ، سیلاب کی کہانی اور کامیاب لوگ شامل ہیں ، اور اس کے ساتھ ہی ان کے کالم بہت سے رسائل کی زینت بنتے رہتے ہیں ۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر امجد ثاقب کو کئی مرتبہ آکسفورڈ یونیورسٹی ، ہارورڈ یونیورسٹی اور اقوام متحدہ جیسے معتبر اداروں میں اظہار خیال کرنے کا موقع ملا ۔ ڈاکٹر امجد ثاقب کی کتاب ” چار آدمی ” کو جس خوبصورت انداز سے تحریر کیا گیا ہے ، وہ بہت منفرد اور ممتاز کرنے والا ہے ۔

    ” چار آدمی "کتاب کے بارے میں ڈاکٹر خورشید رضوی کا کہنا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔
    ” ڈاکٹر امجد ثاقب کی زندگی مسلسل انسانیت کے لئے وقف ہے ۔ غربت کا خاتمہ اور باصلاحیت مگر نادار طلباء کے لئے تعلیم ، اس کے بعد اخوت فاؤنڈیشن کی صورت میں گزشتہ بیس برس کے دوران جو کچھ کیا اس کا عالمی سطح پر اعتراف کیا جانا بہت فخر کی بات ہے ۔”
    فاؤنٹین ہاؤس کے موجودہ سربراہ کی حیثیت سے ڈاکٹر امجد ثاقب عید کا دن مسرت سے محروم مریضوں کے ساتھ گزارتے ہیں ، عید کی اس محفل میں انہیں وہ تین افراد ملے جو اب اس دنیا میں موجود نہیں ، مگر ان کی درد مندی اور اخلاص کے نتیجے میں فاؤنٹین ہاؤس وجود میں آیا ۔سر گنگا رام ، ڈاکٹر رشید چوہدری اور جناب معراج خالد ، دیکھتے ہی دیکھتے موجود لوگوں کا مجمع منظر سے غائب ہو گیا اور ڈاکٹر امجد ثاقب ان تین رفتگان کی آپ بیتی سننے کے لئے بزمِ خیال میں بیٹھے رہ گئے ۔
    یہ کتاب جو اس وقت آپ کے ہاتھ میں ہے ، اس آپ بیتی سے عبارت ہے جو از حد دلچسپ اور دلنشین اسلوب میں قلمبند کی گئی ہے ۔

    ڈاکٹر امجد ثاقب کی اس کتاب کا شمار ان کی کامیاب تصانیف میں ہوتا ہے ۔ اور یہ کتاب سینکڑوں دلوں میں درد مندی ، خدمت خلق اور انسانیت کے چراغ روشن کرے گی ۔”
    شکیل عادل زادہ کا اس کتاب کے بارے میں کہنا ہے کہ ۔۔۔” پڑھتے جاؤ پڑھتے جاؤ ، کہانی ختم ہو جائے ، تجسس و تاثر ختم نہیں ہوتا ۔ کچھ حاصل ہونے کی آسودگی سے تحریریں ممتاز ہوتی ہیں ۔ تحریریں آئینہ دکھاتی ہیں اور تحریریں نہاں خانے کے دھندلکوں میں اجالوں کا سبب بنتی ہیں ۔ ڈاکٹر امجد ثاقب کی یہ کتاب امید جگانے ، کچھ کر گزرنے کے لئے اپنے قاری کو آمادہ کرتی ہے ۔ڈاکٹر امجد ثاقب کی ذات ہمہ پہلو ایک مثال ہے ۔ ڈاکٹر امجد ثاقب کے عزم و یقین ، نیت کی صداقت اور شفافیت کے بغیر ان کی تحریر میں یہ دلگیری و دلپزیری شائد ممکن نہ ہوتی ۔”

    عطاء الحق کہتے ہیں کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ڈاکٹر امجد ثاقب کی نثر پڑھتے ہوئے مجھے کئی مقامات پر مجھے یہ احساس ہوا ہے کہ میں کوئی خوبصورت انشائیہ پڑھ رہا ہوں ۔ سادہ ، سلیس ، پرمغز اور دل میں اتر جانے والی تحریر ! ۔۔۔۔۔۔۔ اتنی خوبصورت تخلیقی نثر اللّٰہ تعالیٰ کی دین ہے اور اللّٰہ تعالیٰ کی دین ایسے ہی نہیں ہوتی ، اس کے پیچھے لاکھوں غریبوں کی "سفارش” موجود ہے ۔”
    آخر میں اللّٰہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ ڈاکٹر امجد ثاقب کے عزم و ہمت کو یونہی قائم و دائم رکھے اور رزق قلم میں اور اضافہ فرمائے ۔ ( آمین ثم آمین )

  • شہنشاہِ جذبات اداکار محمد علی .تحریر:   راحین راجپوت

    شہنشاہِ جذبات اداکار محمد علی .تحریر: راحین راجپوت

    آہ شہنشاہ جذبات اداکار محمد علی کو مداحوں سے بچھڑے اٹھارہ برس بیت گئے لیکن وہ اپنے فن،کرداراوربارعب شخصیت کی وجہ سے آج بھی زندہ ہیں ۔اداکار محمد علی 19اپریل 1931ءکو بھارت کے شہر رام پور میں ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے ۔محمد علی اپنے چار بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے ۔محمد علی محض تین سال کے تھے جب ان کی والدہ کا انتقال ہوگیا ۔محمد علی کے والد سید مرشد علی نے بچوں کی خاطر دوسری شادی نہ کی ۔ہجرت کے بعد سید مرشد علی اپنے خاندان کے ہمراہ ملتان آگئے ۔کچھ عرصے بعد یہ خاندان بہاولپور اور پھر حیدرآباد سندھ چلا آیا ۔محمد علی نے ابتدائی تعلیم ملتان اور بہاولپور سے حاصل کی جبکہ انٹر حیدرآباد سندھ سے کیا ۔محمد علی کے بڑے بھائی ارشاد علی ریڈیو پاکستان حیدرآباد سے وابستہ تھے۔محمدعلی کو ریڈیو پاکستان میں ان کے بڑے بھائی نے متعارف کرایا ۔ارشاد علی اس وقت ریڈیو پاکستان میں ڈارمہ آرٹسٹ تھے ۔محمد علی کو ان کی پرکشش شخصیت اور بہترین آواز کی وجہ سے زیادہ پزیرائی ملی ۔60ءکی دہائی میں محمد علی مستقل طور پر ریڈیو پاکستان کراچی سے وابستہ ہوگئے ۔اس وقت کراچی کے ڈائریکٹر جنرل زیڈ اے بخاری تھے ۔اسی دوران فضل کریم فضلی نے اپنی فلم "چراغ جلتا رہا”بنانے کا فیصلہ کیا تو زیڈ اے بخاری نے ان سے محمد علی کے لیے خاص سفارش کی ۔یوں محمد علی اس فلم میں کاسٹ ہو گئے ۔اس فلم میں محمد علی نے بطور ولن کردار ادا کیا جبکہ اس فلم کی ہیروئن اداکارہ زیبا بیگم تھیں اور اس فلم میں ہیرو کا کردار اداکار عارف نے ادا کیا ۔یہ فلم باکس آفس پر زیادہ کامیاب تو نہ ہوئی مگر اس فلم کی خاص بات یہ ہے کہ اس فلم کا افتتاح محترمہ فاطمہ جناح نے اپنے ہاتھوں سے کیا ۔جب یہ فلم ریلیز ہوئی تو سید مرشد علی نے اپنے بیٹے کو گھر سے نکال دیاتو وہ در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو گئے ۔یہ محمد علی کے فلمی کیریئر کا آغاز تھا ۔اداکار محمد علی نوجوانی میں فلموں کے لئے کافی پرفیکٹ تھے ۔اسی دور میں اداکارہ زیبا کا بھی فلموں میں بڑا چرچا تھا اور وہ فلم انڈسٹری میں اپنا آپ منوا رہی تھی ۔محمدعلی اور زیبا کے درمیان ہم آہنگی پہلی فلم سے ہی پیدا ہونے لگی اسی وجہ سے یہ دونوں ایک دوسرے کے قریب آتے گئے ۔ہدایت کار اقبال یوسف کی فلم "تم ملے پیار ملا”کی عکس بندی کے دوران انہوں نے شادی کر لی ۔شادی کے بعد انہوں نے "علی زیب”کے نام سے فلموں کی پروڈکشن شروع کی اور پہلی فلم "جیسے جانتے نہیں”بنائی ۔اس کے بعد فلم "آگ”جیسی سپر ہٹ فلم پروڈیوس کی ۔اس کے بعد محمد علی نے اپنے کیریئر میں تقریباً 111ہدایتکاروں کی لگ بھگ 250سے زائد فلموں میں کام کیا ۔ان کی بطور ہیرو پہلی فلم”شرارت "تھی اور آخری فلم”دم مست قلندر "تھی ۔جبکہ کریکٹر رول میں آخری فلم”محبت ہو تو ایسی "تھی ۔1962ءسے اپنے کیریئر کا آغاز کرنے والے محمد علی نے 1964ءمیں فلم”خاموش رہو "میں ایسی لا جواب اداکاری کا مظاہرہ کیا کہ جس کی کامیابی کے بعد انہوں نے پلٹ کر واپس نہیں دیکھا ۔
    اداکار محمد علی کی متعدد فلموں میں آنسو بن گئے موتی ،افسانہ زندگی کا ،انصاف اور قانون ،صائقہ،ہمراز،بن بادل برسات ،خدااورمحبت ،گڑیا،بدلتے رشتے،دنیا نہ مانے ،کنیز،صائمہ،وحشی،آس،آئینہ اور صورت ،انسان اور آدمی ،حیدر علی ،دوریاں،بوبی،جب جب پھول کھلے ،صورت اور سیرت ،بدل گیا انسان ،دامن اور چنگاری،پھول میرے گلشن کا ،لوری،بازی اور شعلے جیسی لا زوال فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے ۔
    اداکار محمد علی پر زیادہ تر گیت مہدی حسن اور احمد رشدی کے پکچرائز ہوئے ۔
    انہوں نے اپنے کیریئر کی کئی لاجواب فلموں میں بے مثال اداکاری کا مظاہرہ کیا اور کئی بڑے ایوارڈ حاصل کیے ۔انہوں نے اپنے ابتدائی دس سالہ کیرئیر میں لگا تار 6نگار ایوارڈ حاصل کیے ۔اس کے علاوہ انہوں نے اسپیشل ایوارڈ بھی اپنے نام کئے ۔محمد علی کو اعلیٰ حکومتی ایوارڈ ،پرائیڈ آف پرفارمنس اور تمغہ امتیاز سے بھی نوازا گیا ۔بھارت سے نوشاد علی ایوارڈ اور دبئی سے الناصر ایوارڈ بھی اپنے نام کیا ۔اس کے علاوہ 1997ءمیں انہیں پرسنالٹی ایوارڈ بھی ملا ۔اس کے علاوہ محمد علی شہنشاہ جذبات کا اعزاز حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی اداکار ہیں ۔اداکارمحمد علی کو برطانیہ کی بھی شہریت حاصل تھی لیکن وہ ساری زندگی پاکستان فلم انڈسٹری سے وابستہ رہے ۔اس کے علاوہ وہ اسلامی اقدار وروایات کے بہت بڑے حامی تھے اور ایک درد دل رکھنے والے انسان تھے ۔
    محمد علی اور زیبا کی شہرت دیکھ کر بھارتی ہدایت کار منوج کمار نے اپنی فلم "کلرک”میں سائن کیا ۔
    فلموں کے بعد وہ مکمل طور پر سماجی کاموں میں مصروف ہو گئے ۔
    1997ءمیں انہوں نے "علی زیب فاؤنڈیشن”کے نام سے ایک رفاہی ادارہ بنایا جس میں تھیلیسیمیا کے مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے ۔محمد علی نے اپنے عہد میں ماسکو میں ہندوستان کے خلاف مشرقی پاکستان میں قید جنگی قیدیوں کے حق میں مظاہرہ کیا ۔
    وہ پاکستان فلم انڈسٹری کے واحد اداکار تھے جن کے گھر پہلی اسلامی سربراہی کانفرنس کے موقع پر سعودی فرمانروا شاہ فیصل بن عبد العزیز نے قیام کیا تھا ۔
    ذوالفقار علی بھٹو اور صدر ضیا ءکے دور میں اداکار محمد علی کو خاص مقام حاصل رہا ۔
    صدر ضیاء الحق بھارت کے دورے پر گئے تو اداکار محمد علی اور ان کی اہلیہ زیبا بیگم بھی ان کے ساتھ گئے۔وہاں انہوں نے اندرا گاندھی کے گھر قیام کیا۔آخری دنوں میں اداکار محمد علی دل اور ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہو گئے ۔بالآخرفن کی بلندیوں پر چمکنے والا یہ ستارہ 19مارچ 2006ءمیں ہمیشہ کے لئے غروب ہو گیا (ان للہ وان الیہ راجعون)

  • افطار ڈنر اور علم و ادب کی محفل،تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    افطار ڈنر اور علم و ادب کی محفل،تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    اردوسائنس بورڈ میں ایک سیمینار منعقد کیا گیا جس میں بطور مہمان اعزاز شرکت کی ، اس سیمینار میں بہت معلوماتی گفتگو سننے کو ملی ، موضوع تھا ، روزہ صحت اور جدید سائنس ،

    پروگرام کا آغاز تلاوتِ قرآن مجید سے ہوا اس کے بعد ڈائریکٹر اردو سائنس بورڈ ضیاء اللہ طوروصاحب نے استقبالیہ کلمات ادا کئیے اور اردو سائنس بورڈ کی طرف سے اس نشست کو منعقد کرنے کی غرض وغایت بیان کی اور آ نے والے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا ، نظامت کے فرائض اسسٹنٹ ڈائریکٹر عطیہ زہرہ زیدی نے ادا کیے اور باری باری مہمانوں کو گفتگو کی دعوت دیتی رہیں ، یہ نشست ڈاکٹر محمد سلیم مظہر ( ڈایریکٹر جنرل ادارہ فروغ قومی زبان ، اسلام آباد) کی صدارت میں تھی ، اور مہمانان خاص میں ،ڈاکٹر محمد رفیق خان ( پروفیسر آ ف انوائر مینٹل سٹڈیز / سئنیر ریسرچ فیلو)ڈاکٹر راؤ محمد اسلم خان ( ڈائریکٹر رحمان فاؤنڈیشن انٹرنیشنل سرٹیفائیڈ ٹرینر مائینڈ سائینز)ڈاکٹر عبدالرروف رفیقی ( ڈائریکٹر جنرل اقبال اکادمی)،انجینئر ڈاکٹر جاوید یونس اوپل( سابق صدر انسٹیٹیوٹ آ ف انجینئرز پاکستان)،ڈاکٹر طارق ریاض( وائس پرنسپل قائد اعظم اکیڈمی فار ایجوکیشن ڈویلپمنٹ ، شوقپور،( ڈاکٹر جمیل احمد سابق ڈپٹی ڈائریکٹر اردؤ سائیس بورڈ)ڈاکٹر فضلیت بانو( ایسوسی ایٹ پروفیسر منہاج یونیورسٹی لاہور) شامل تھے.تمام شرکاء بہت قابل اور اپنے موضوع پر دسترس رکھتے تھے روزے کی صحت کے لیے افادیت سائنسی اصولوں پر بہت پرمغز گفتگو رہی

    اس کے بعد افطاری اور پھر افطار ڈنر کا عمدہ انتظام تھا باقاعدہ نشست کے بعد بھی کتابوں پر علم و ادب پر گفتگو رہی ،اتنی معلوماتی اور عمدہ نشست منعقد کرنے پر ضیاء اللہ طورو اور ان کی ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے ،اسسٹنٹ ڈائریکٹر عطیہ زہرہ زیدی ، ریسرچ آ فیسر شگفتہ طاہر اور ریسرچ آ فیسر فاطمہ شہزادی اور دیگر ٹیم ممبران تمام عمدہ انتظامات کے لیے بہت مبارکباد اور شکریہ

  • پہچان پاکستان نے سجائی ادبی ایوارڈز کی محفل

    پہچان پاکستان نے سجائی ادبی ایوارڈز کی محفل

    لاہور، پاکستان کا ثقافتی دارالحکومت، ہمیشہ سے ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے۔ حال ہی میں "پہچان پاکستان” کے زیر اہتمام ایک شاندار ادبی میلہ منعقد کیا گیا جس نے پورے ملک کے ادیبوں، شاعروں اور لکھاریوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر دیا۔ یہ تقریب الحمرا ہال میں منعقد ہوئی، جہاں ادب سے محبت کرنے والے افراد نے بھرپور شرکت کی۔ادبی میلے میں جہاں شاعری اور نثر کی محفلیں سجائی گئیں، وہیں لکھاریوں اور شاعروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے انعامات بھی دیئے گئے۔ پاکستان بھر سے آئے ہوئے ممتاز ادیبوں اور لکھاریوں کو خصوصی ایوارڈز سے نوازا گیا، جس سے ان کی حوصلہ افزائی ہوئی اور ادب کی ترویج کو مزید تقویت ملی۔”پہچان پاکستان” کے روحِ رواں اور چیف ایڈیٹر ذکیر احمد بھٹی نے اس شاندار تقریب کا انعقاد کر کے ادیبوں کے دل جیت لیے۔ ان کی انتھک محنت اور ادب دوستی کی وجہ سے ملک کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے مہمانوں کو ایک ایسا پلیٹ فارم ملا جہاں وہ اپنے خیالات اور تخلیقات کو دوسروں تک پہنچا سکیں۔ ان کی کوششوں کو حاضرین نے بے حد سراہا اور ان کے کام کو خراج تحسین پیش کیا۔

    پروگرام کے آغاز پر ڈپٹی چیف ایڈیٹر آمنہ منظورنے پہچان پاکستان کا تعارف حاضرین کے سامنے رکھا،تقریب کے منتظمین اور معاونین میں آمنہ عذرا، غزالہ سلطانہ،عظمیٰ وفا سید، سلمٰی رانی،شازیہ یاسین، عبد الحفیظ شاہد،عذرا انصاری اور دیگر شامل تھے ،تقریب کے دوران معروف شاعر اور ادیب علی زریون کو ان کی شاندار ادبی خدمات کے اعتراف میں پہچانِ پاکستان ادبی ایوارڈ 2025 کے دوران تاج پوشی کی گئی۔ یہ اعزاز ان کے بے مثال کلام، منفرد اسلوب اور ادب کے فروغ میں ان کی انتھک محنت کا مظہر ہے۔علی زریون اردو ادب میں ایک ایسا نام ہے جو اپنے مخصوص انداز اور جدید طرزِ بیان کے لیے جانا جاتا ہے۔ ان کی شاعری روایت اور جدت کا حسین امتزاج ہے، جہاں الفاظ جذبات کی گہرائی میں ڈوب کر قاری کے دل پر اثر کرتے ہیں۔ وہ نہ صرف ایک عمدہ شاعر ہیں بلکہ نوجوان نسل کے لیے ایک تحریک بھی ہیں، جو اپنے کلام میں محبت، درد، سماجی مسائل اور انسانی جذبات کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں۔

    تقریب میں ایک خاص لمحہ اس وقت آیا جب ایک ہونہار بچی نے تلاوتِ قرآن پاک کی، جس پر حاضرین نے دل کھول کر داد دی۔ اس بچی کی خوبصورت قرأت کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی چوہدری شفقت محمود نے اس کے لیے عمرہ ٹکٹ کا اعلان کیا۔ یہ لمحہ نہ صرف بچی اور اس کے والدین کے لیے خوشی کا باعث بنا بلکہ تمام حاضرین کے لیے بھی ایک جذباتی منظر تھا۔

    "پہچان پاکستان” کی یہ کاوش پاکستان میں ادب اور ثقافت کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوئی ہے۔ ایسے ادبی میلوں کا انعقاد نہ صرف ادیبوں اور شاعروں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے بلکہ نوجوان نسل کو بھی ادب کی طرف راغب کرنے میں مدد دیتا ہے۔یہ تقریب اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں ادب کا مستقبل روشن ہے اور "پہچان پاکستان” جیسے ادارے اس کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ امید ہے کہ مستقبل میں بھی ایسے مزید ادبی پروگرام منعقد کیے جائیں گے تاکہ ادب اور ثقافت کی ترقی کا یہ سفر جاری رہےگا.