Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • اخوت کا سفر ،تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    اخوت کا سفر ،تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    ،، اخوت کا سفر ،، ڈاکٹر امجد ثاقب صاحب کی بہترین کتاب ہے جو فاؤنٹین ہاوس کے سمینار ہال میں منعقدہ نویں اہل قلم کانفرنس کے موقع پر اہل قلم کو تحفتا پیش کی گئی ادبی چاشنی سے بھر پور یہ بہت معلوماتی کتاب ہے سر ورق پر لکھا ہے ،، قرض حسنہ کے سب سے بڑے پروگرام ،، اخوت ،، کی کہانی ،،

    اس کتاب میں نامور شخصیات مثلا مجیب الرحمٰن شامی ، شعیب بن عزیز ، ڈاکٹر سعادت سعید ، اور عطا الحق قاسمی کی آراء شامل ہیں، یہ محترم امجد صاحب کے پر خلوص سفر اور جدوجہد کی کہانی ہے دس ہزار کے قرض سے شروع ہونے والا سفر آج کامیابیوں سے ہمکنار ہے اخوت یونیورسٹی آج محترم امجد صاحب کی ذات کی طرح ہی امید کی کرن ہے روشنیوں کا مینارہ ہے

    ڈاکٹر امجد صاحب نے امریکہ میں ہارورڈ یونیورسٹی کے لا اسکول میں ان کی دعوت پر خطاب کیا اور ہارورڈ کینڈی اسکول کی بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کی اس کتاب میں اس کی رو داد موجود ہے ، امجد صاحب کے خلوص اور کامیابیوں کا سفر طویل اور جدوجہد سے بھر پور ہے ان کو ہزاروں خاندانوں کی دعائیں حاصل ہیں انشاءاللہ انہیں نوبل پرائز ملے گا جو نہ صرف ان کے کاز بلکہ پاکستان کے لیے اعزاز ہوگا –

  • قرۃالعین شعیب،اردو زبان و ادب کی ترویج میں پیش پیش، تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    قرۃالعین شعیب،اردو زبان و ادب کی ترویج میں پیش پیش، تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    قرۃالعین شعیب آرگنائزر نیشنل ڈویلپمنٹ کنسلٹنٹ ہیں اور ان کے شوہر شعیب منہاج ایجوکیشن سوسائٹی کے ڈائریکٹر آپریشنز ہیں دونوں اپنی قومی زبان اردو سے محبت کرتے ہیں اور اس زبان و ادب کی ترویج کے لیے کوشاں ہیں. قرۃالعین العین اردو ورثہ کے نام سے ویب سائٹ بھی چلا رہی ہیں گزشتہ ہفتے انہوں نے ایک میٹنگ رکھی تاکہ زبان و ادب کے حوالے سے اہل قلم سے مشاورت کی جائے اور ادب کی مختلف اصناف پر بات کی جائے اور اردو ورثہ کے لیے معیاری تخلیقات پر کام کیا جائے

    اس پروگرام میں کنول بہزاد ، فرح خان ، رابعہ نعمان ، دعا عظیمی ، ظفر ، سرفراز احمد ، راحت فاطمہ اور بصیرت نے شرکت کی بہت عمدہ گفتگو ہوئی شعر وادب علم عروض اور مختلف موضوعات پر سب نے اظہار خیال کیا تجاویز بھی دیں محفل میں شریک شاعر احتشام حسن صاحب نے اپنی نظم نوسٹلجیا بھی سنائی یہ نشست جوہر ٹاؤن میں کیپسن سی میں منعقد کی گئی، قرۃالعین العین اور ان کی ٹیم کے لیے نیک خواہشات، اللہ تعالٰی کامیاب فرمائے آمین

  • ادب اور سیاست، فرق ضروری ہے،تحریر:نورفاطمہ

    ادب اور سیاست، فرق ضروری ہے،تحریر:نورفاطمہ

    ادب ایک لطیف اور روحانی فن ہے جو دلوں پر اثر کرتا ہے، احساسات کو جگاتا ہے اور انسانی ضمیر کو بیدار کرتا ہے۔ ایک ادیب کا تعلق صرف کاغذ اور قلم سے نہیں بلکہ وہ معاشرے کے ضمیر کی آواز ہوتا ہے۔ ادیب اپنے مشاہدات، تجربات، درد، خوشی اور سچائی کو لفظوں کی صورت میں پیش کرتا ہے تاکہ سماج کو ایک بہتر سمت دی جا سکے۔مگر آج کل ایک افسوسناک رجحان سامنے آ رہا ہے کہ ادب کے نام پر تقاریب منعقد کر کے ادیبوں کو سیاسی جماعتوں کے پروگرامز میں بلایا جاتا ہے۔ ان تقریبات کا عنوان تو "ادبی ایوارڈز "کے نام پر رکھا جاتا ہے، مگر اصل مقصد سیاسی تشہیر، سیاسی شخصیات کی مدح سرائی یا مخصوص نظریات کی ترویج ہوتا ہے۔ ایسی محفلیں ادیبوں کے لیے باعث اذیت بن جاتی ہیں کیونکہ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی سیاسی رنگ میں رنگنے پر مجبور ہو جاتے ہیں

    ادیب کا سب سے بڑا وصف اُس کی غیر جانبداری، غیر وابستگی اور فکری آزادی ہے۔ وہ کسی جماعت، مسلک یا مفاد سے بالا ہو کر انسانی اقدار اور سچائی کی بات کرتا ہے۔ وہ نہ کسی لیڈر کی خوشامد کرتا ہے اور نہ کسی سیاسی نعرے کی گونج میں اپنی آواز کھوتا ہے۔ ادیب کا ضمیر اُسے اجازت نہیں دیتا کہ وہ اپنے قلم کو کرائے پر دے یا سچائی کو مصلحت کی نظر کرے۔جب ایسے ادیبوں کو زبردستی سیاسی پلیٹ فارم پر لا کر ادب کا نام استعمال کیا جاتا ہے تو یہ اُن کی شخصیت، وقار اور مقصدِ ادب کی توہین ہوتی ہے۔سیاست، اقتدار کی جنگ ہے۔ اس کا مقصد ہوتا ہے اقتدار کا حصول، اپنی جماعت یا لیڈر کی پروموشن، اور اکثر اوقات اس میں مصلحت، منافقت اور مفاد پرستی شامل ہو جاتی ہے۔ جب کہ ادب کا اصل مقصد شعور بیدار کرنا، فکر پیدا کرنا اور سچائی کو بے باکی سے بیان کرنا ہے۔ادب سیاست کا تابع نہیں ہو سکتا، کیونکہ جب ادب کو سیاست کے تابع کیا جائے تو وہ اپنے اصل مقصد سے ہٹ جاتا ہے اور ایک پروپیگنڈہ کا آلہ بن کر رہ جاتا ہے۔

    سیاستدان وقت کے ساتھ بدلتا ہے، اُس کے بیانیے، وفاداریاں اور نظریات بھی حالات کے مطابق تبدیل ہوتے ہیں۔ مگر ایک سچا ادیب اپنی فکر پر قائم رہتا ہے۔ اس کا قلم وقت کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر سچ لکھتا ہے۔ اُسے کسی وزارت، اعزاز یا شہرت کی تمنا نہیں ہوتی، بلکہ وہ ضمیر کا قیدی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ نے کئی سیاستدانوں کو بھلا دیا، مگر ادیبوں کے الفاظ آج بھی زندہ ہیں۔اگر کسی سیاسی جماعت کو واقعی ادب سے محبت ہے تو وہ ادب کو اس کے اصل مقام پر رہنے دے۔ ادبی شخصیات کو اس لیے مدعو نہ کیا جائے کہ وہ اسٹیج پر بیٹھ کر لیڈروں کی تعریف کریں، انکے حق میں تحریریں لکھیں ،سوشل میڈیا پر انکے لئے بیانیہ بنائیں بلکہ اُنہیں مکمل آزادی دی جائے کہ وہ سماج، سیاست اور اقتدار کے بارے میں جو چاہیں کہیں۔ادیبوں کو محض اس لیے بلا لینا کہ اُن کے نام سے تقریب کو معتبر بنایا جا سکے، یا اُن کی موجودگی سے سیاسی رنگ کو “ادبی” بنایا جا سکے، نہایت افسوسناک رویہ ہے۔

    ادب کو سیاست سے جدا رکھیے۔ اگر سیاستدانوں کو ادب سے سچی محبت ہے تو وہ ادیبوں کی فکر کو سنیں، اُن کی تنقید کو برداشت کریں اور اُن کے قلم کو آزاد رہنے دیں۔ ورنہ ادب کے نام پر ہونے والی سیاسی محفلیں نہ صرف ادیبوں کے لیے توہین آمیز ہیں بلکہ ادب کی روح کے بھی منافی ہیں،ادیب وہ نہیں جو سیاسی بینر تلے بیٹھ کر تقریریں کرے، ادیب وہ ہے جو بے خوف ہو کر سچ کہے ،چاہے وہ سچ اقتدار کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔

  • منفرد اداکار محمد سعید خان المعروف رنگیلا .تحریر :  راحین راجپوت

    منفرد اداکار محمد سعید خان المعروف رنگیلا .تحریر : راحین راجپوت

    کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں اللّٰہ تعالیٰ نے ایسی خوبیوں سے نوازا ہوتا ہے جو ہر کسی میں نہیں ہوتیں ، اور یہی خوبی انہیں باقی تمام انسانوں سے ممتاز کرتی ہیں ۔ ایک ایسی ہی شخصیت سعید خان المعروف اداکار رنگیلا کی بھی تھی جو اپنی لازوال اداکاری کے فن سے لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گئے تھے اور آج رنگیلے کو ہم سے جدا ہوئے بیس سال گزر گئے لیکن وہ اپنی خودساختہ اداکادی کی وجہ سے رہتی دنیا تک ہمیشہ زندہ رہیں گے ۔
    سعید خان المعروف اداکار رنگیلا دنیائے شوبز کا وہ نام ہے جس کا نام لیتے ہی ہمارے چہروں پر مسکراہٹ آ جاتی ہے ، جنہوں نے اپنے منفرد انداز سے انڈسٹری کو ایک نئی جہت اور ایک نئی پہچان دی ۔

    24 مئی 2025 ء کو رنگیلے کو دنیا سے رخصت ہوئے بیس سال مکمل ہو جائیں گے ، لیکن ہم چاہ کر بھی رنگیلے کی پاکستانی فلم انڈسٹری کے لئے خدمات کو فراموش نہیں کر سکتے ، کیونکہ ان لوگوں نے اپنے آپ سے بے نیاز ہو کر نہ صرف پاکستان فلم انڈسٹری کا نام روشن کیا بلکہ انڈسٹری پر اپنے عہد کی ایک گہری چھاپ چھوڑی ۔ ان کے ذکر کے بغیر پاکستانی فلمی تاریخ ہمیشہ ادھوری رہے گی ۔ انہوں نے چالیس سال تک پاکستانی فلم انڈسٹری پر راج کیا اور اپنی منفرد مزاحیہ اداکاری سے شائقین فلم کو محظوظ کیا ۔

    اداکار رنگیلا یکم جنوری 1937 ء کو ضلع ننگرہار ، افغانستان میں پیدا ہوئے ۔ ان کا اصل نام محمد سعید خان تھا ، جبکہ انڈسٹری میں شہرت انہوں نے اپنے مزاحیہ نام رنگیلا سے حاصل کی ۔ذریعہ معاش کے سلسلے میں انہوں نے افغانستان سے ہجرت کرکے پشاور اور بعد میں لاہور کا رخ کیا ، جہاں شروع میں انہیں فلمی سائن بورڈ پینٹ کرنے پڑے ، لیکن بعد میں باضابطہ فلمی کیریئر کا آغاز 1958 ء میں فلم "جٹی” سے کیا ۔ اس فلم میں رنگیلا مزاحیہ اداکار کے طور پر سامنے آئے ۔ اس فلم کے ڈائریکٹر ایم جے رانا تھے اور جب یہ فلم ریلیز ہوئی تو باکس آفس پر ہٹ ہو گئی ۔ اس فلم میں لوگوں نے رنگیلے کے کردار کو بہت پسند کیا ۔ اس فلم کی کامیابی کے بعد اس نے فلموں میں بطور اداکار کام کرنے کی ٹھان لی ، یہی کامیابی بعد میں جنون کی کیفیت اختیار کر گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے رنگیلے نے اپنے آپ کو فلم انڈسٹری میں بطور فلم ساز ، ہدایت کار ، نغمہ نگار ، کہانی نویس اور موسیقار کی حیثیت سے متعارف کروایا ۔

    1969 ء میں رنگیلا نے اپنی پروڈکشن میں پہلی فلم ” دیا اور طوفان ” بنائی جس میں انہوں نے بحیثیت فلم ساز ، ہدایت کار ، نغمہ نگار اور مصنف کام کیا ۔ جب یہ فلم ریلیز ہوئی تو اس نے رنگیلے کی شہرت و مقبولیت کو چار چاند لگا دئیے ۔ اس فلم میں رنگیلے نے اپنا لکھا ہوا گانا ” گا میرے منوا گاتا جا رے ، جانا ہے ہم کا دور ” بہت دردناک آواز میں گایا ۔ یہ گانا اسی فلم کے ہیرو اداکار اعجاز پر فلمایا گیا ۔اس کے بعد ” رنگیلا پروڈکشن "کے بینر تلے ایک سے بڑھ کر ایک فلمیں پروڈیوس کی گئیں جن میں ایک فلم "رنگیلا ” 11 ستمبر 1970 ء کو پاکستانی سینما کی زینت بنی جس میں رنگیلے نے ٹائٹل رول ادا کیا ، اس فلم کے نغمات اسٹریٹ ہٹ ثابت ہوئے ، اس فلم میں رنگیلے کے گائے ہوئے دو نغمے بھی شامل کئے گئے جو بہت مشہور ہوئے ، جن میں ایک نغمہ ” ہم نے جو دیکھے خواب سہانے ، آج ان کی تعبیر ملی ۔ ” اور دوسرا ” منور ظریف کے ساتھ ” چھیڑ کوئی سرگم ” یہ دونوں نغمے موسیقار کمال احمد نے لکھے ، اور اس فلم کی موسیقی بھی خود کمال احمد نے ترتیب دی ، اسی فلم کا ایک گانا تصور خانم کی آواز میں اداکارہ نشو بیگم پر پکچرائز کیا گیا ، ” وے سب توں سوہنیاں” نے اس فلم کو شہرت کی بلندیوں پہ پہنچا دیا ۔ الغرض یہ فلم منفرد انداز میں گولڈن جوبلی سے ہم کنار ہوئی ۔

    یکم اکتوبر 1971 ء میں ان کی ایک اور ہیٹ ٹرک فلم ” دل اور دنیا منظر عام پر آئی ۔ اس فلم نے بھی کراچی سرکٹ میں شاندار پلاٹینم جوبلی منائی ۔ اس کے علاوہ ان کی سپر ہٹ فلم ” انسان اور گدھا ” جس کو فراموش نہیں کیا جا سکتا ۔ ان کی دیگر فلموں میں میری زندگی ہے نغمہ ، نوکر مالک ، سونا چاندی ، مس کولمبو ، باغی قیدی ، تین یکے تین چھکے ، آنسو بن گئے موتی ، جیسے جانتے نہیں ، امانت ، دو رنگیلے ، کبڑا عاشق ، عشق نچاوے گلی گلی ، ہمراز ، ہیرو ، انٹرنیشنل گوریلا ، عورت راج ، دو تصویریں ، دوستی ، گہرا داغ ، بازار حسن ، میڈم باوری ، رنگیلے جاسوس اور عبداللہ دی گریٹ ، میری محبت تیرے حوالے ، صبح کا تارا ، گنوار ، جہیز ، نمک حلال ، دو رنگیلے ، ایمان دار ، بے ایمان ، کاکا جی ، راجا رانی ، امراؤ جان ادا ، پردہ نہ اٹھاؤ ، صاحب بہادر اور فلم قلی شامل ہیں ۔ رنگیلے کو بہترین سکرین پلے رائٹر ، کامیڈین ، مصنف اور بہترین ڈائریکٹر کی حیثیت سے نو مرتبہ نگار ایوارڈ سے نوازا گیا ۔

    رنگیلا پروڈکشن کے بینر تلے جتنی فلمیں بھی تخلیق کی گئیں وہ سب کی سب ہی لازوال اور اپنے عہد کی شاہکار فلمیں ثابت ہوئیں ۔ پردہ سکرین پر رنگیلے کی آمد فلم بینوں میں ارتعاش پیدا کر دیتی تھی ۔ رنگیلے نے فلموں میں کامیڈین سے لے کر ہیرو تک کا سفر انتھک محنت اور اپنی خداداد صلاحیتوں کے بل بوتے پر طے کیا ، یہاں تک کہ رنگیلے کو پاکستانی فلم انڈسٹری کی کامیابی کی ضمانت سمجھا جانے لگا ۔ رنگیلے کے پاس ہر ڈائریکٹر ، پروڈیوسر کی لائن لگی ہوتی کہ وہ ہماری فلم میں کام کرے ۔ رنگیلے نے اپنی محنت اور ذہانت سے فلم انڈسٹری میں اپنا الگ مقام بنایا ۔ انہوں نے اپنے عہد کی تقریباً تمام ہیروئن کے ساتھ کام کیا ۔

    اداکار رنگیلے کی آواز بھارتی گلوکار مکیش سے ملتی تھی ۔ جب مکیش کا انتقال ہوا تو بھارت نے رنگیلے کو بطور گلوکار کام کرنے کی پیشکش کی ، لیکن مصروفیت کے باعث اس نے بھارت میں کام کرنے سے انکار کردیا ۔
    رنگیلے نے تین شادیاں کیں ۔ چالیس سال تک پاکستانی فلم انڈسٹری پر راج کرنے والے اس عظیم اداکار کو زندگی کے آخری ایام میں گردوں ، جگر اور پھیپھڑوں کے مسائل نے آ گھیرا ، جس کے علاج کے لئے اسے کئی کئی مہینے ہسپتال میں گزارنے پڑے ۔ حکومت پاکستان کی طرف سے انہیں امداد کی پیشکش ہوئی تو اس نے اسے ٹھکرا دیا ۔ وفات سے پہلے اداکارہ نشو بیگم نے اپنے اور رنگیلے پر فلمایا گیا گانا ” وے سب توں سوہنیاں ” رنگیلے کے پاس بیٹھ کر اتنی دردناک آواز میں گایا کہ پاس بیٹھے سب لوگ دھاڑیں مار مار کر رونے لگے ۔ سب لوگ رنگیلے کی زندگی اور صحت کے لئے دعائیں مانگنے لگے لیکن افق کی بلندیوں پر چمکنے والا یہ ستارہ ان موذی امراض کا مقابلہ کرتے کرتے بالآخر 24 مئی 2005 ء کو لاہور میں 68 سال کی عمر میں اس ابدی سفر پر روانہ ہو گیا جہاں سے آج تک کوئی واپس نہیں آیا ۔ ان للہ وان الیہ راجعون ۔۔۔ اللّٰہ تعالیٰ مرحوم اداکار رنگیلا کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین ۔

  • تجمل کلیم لفظاں دا بادشاہ، دن تےگن میں مرجانا ای ،اور وہ چلا گیا ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    تجمل کلیم لفظاں دا بادشاہ، دن تےگن میں مرجانا ای ،اور وہ چلا گیا ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    تجمل کلیم لفظاں دا بادشاہ ، ہجر دا شاعر آپ ہجر ہو گیا۔۔ساہواں وچ وسدا تجمل کلیم زمین دے سپرد ہوگیا۔۔۔۔
    برصغیر پاک و ہند کے معروف پنجابی شاعر ، پنجابی شاعری کی کتابوں کے مصنف، استادوں کے استاد عظیم شاعر "تجمل کلیم صاحب ” اس دنیا سے رحلت فرما گئے ہیں۔ ( انا للہ وانا الیہ راجعون ) ان کا تعلق بابا بلھے شاہ کے شہر قصور سے اوران کی رہائش چونیاں میں ہے،،
    پنجاب کی زرخیز دھرتی ایک اور خوش نوا شاعر سے محروم ہوگئی۔ ثجمل کلیم آج خاموشی سے، مگر گہرے اثرات چھوڑ کر اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ان کی وفات نہ صرف پنجابی ادب کے لیے سانحہ ہے بلکہ ان تمام لوگوں کے لیے بھی صدمہ ہے جنہوں نے زندگی کو ان کے اشعار میں جیتا، محبت کو ان کے لفظوں میں محسوس کیا اور درد کو ان کے اشعار سے جانا۔
    دن تے گن میں مر جانا ای
    تیرے بن میں مر جانا ای
    میں گُڈی دے کاغذ ورگا
    توں کن من میں مر جانا ای
    جیہڑے دن توں کنڈ کرنی اے
    اوسے دن میں مر جانا ای
    ۰میرے قد نوں تول ریہا ایں
    تول نہ، من میں مر جانا ای
    ثجمل کلیم ان شعرا میں شامل تھے جو لفظوں کو صرف جوڑتے نہیں تھے، ان میں روح پھونکتے تھے۔ ان کا کلام ایک ایسے مسافر کا کلام تھا جو زندگی کے ہر موڑ پر لمحوں کو لفظوں میں قید کرتا چلا گیا۔ وہ نہ صرف محبت کے شاعر تھے، بلکہ دکھ، جدائی، سماجی ناہمواری اور فطری حسن کو بھی انہی جذبوں سے بیان کرتے تھے۔
    ان کے چند اور اشعار دل کی گہرائیوں کو چھو لیتے ہیں:
    ساہ وی تیری یاد وچ لبدا اے،
    سُکھ وی تیرے ہجر دا درد لگدا اے۔
    ساہواں نوں وی لگدا اے تیری خوشبو دا رنگ،
    ایہہ کیہڑی جا چپ وچوں بولیا تُوں؟
    ثجمل کلیم کی شاعری کا سب سے بڑا کمال ان کی سادگی تھی۔ وہ غیر ضروری لفظوں کے شور سے بچتے اور سیدھے دل پر وار کرتے تھے۔ ان کی غزلوں اور نظموں میں خالص دیہی لہجہ، مادری زبان کی مٹھاس، اور پنجاب کی ثقافت کی خوشبو صاف محسوس ہوتی تھی۔
    مرن توں ڈردے او بادشاہو
    مرن توں ڈردے او بادشاہو
    کمال کردے او بادشاہو
    کسے نوں مارن دا سوچدے او
    کسے تے مردے او بادشاہو
    تُسی نا پاؤ دِلاں تے لَوٹی
    تُسی تے سَر دے ہو بادشاہو
    اے میں کھڈاری کمال دا ہاں
    کہ آپ ہَر دے او بادشاہو
    وہ ان معدودے چند شعرا میں سے تھے جو پنجابی زبان کو عزت دلواتے رہے، اسے جدید پیرائے میں ڈھالتے رہے اور نئی نسل کو اس زبان کی خوبصورتی سے روشناس کراتے رہے۔
    مکھ ٹیرے تے میں نئیں مرنا
    ہن تیرے تے میں نئیں مرنا
    آپ تے صدقے ہو سکناں میں
    اوہ گھیرے تے میں نئیں مرنا
    اکو واری کُھو لے بیبا
    ہر پھیرے تے میں نئیں مرنا
    اے سجناں د ڈیرہ نئیں تے
    اس ڈیرے تے میں نئیں مرنا
    لعنت اینج دیاں اکھاں اتے
    جے میرے تے میں نئین مرنا
    ثجمل کلیم کی وفات پر دل سے نکلا ایک سوال ہر عاشقِ ادب کی آنکھ میں نمی بن کر ٹھہرا ہے:
    “ہن کون لکھے گا اس درد نوں جیہڑا صرف کلیم سمجھدا سی؟”
    پتھر اُتے لیک ساں میں وی
    ایتھوں تک تے ٹھیک ساں میں وی
    آدم تک تے سبھ نوں دسنا
    خورے کتھوں تیک ساں میں وی
    حرمل جس دم تیر چلایا
    چیکاں وچ اک چیک ساں میں وی
    اوہنے گل سوئی ول موڑی
    نکیوں ڈھیر بریک ساں میں وی
    عمرے! مینوں رول رہی ایں
    تینوں نال دھریک ساں میں وی
    ادبی محفلوں میں ثجمل کلیم کا آنا جیسے بہار کی آمد ہوا کرتا تھا۔ وہ جب کلام سناتے تو محفل سانس روک لیتی، سامعین دم بخود رہ جاتے، اور پھر واہ واہ کے شور میں ان کے اشعار فضا میں پرواز کرتے۔ وہ شاعر نہیں، ایک تجربہ تھے۔ ان کا انداز، لب و لہجہ، اور الفاظ کا چناؤ انہیں الگ اور منفرد بناتا تھا۔
    ان کی ایک نظم جو ہمیشہ یاد رکھی جائے گی:
    میری مٹی دی خوشبو وچ تُوں وسدا ایں،
    ساہواں وچ گھل گھل کے تُوں رسدا ایں،
    تیرے ہون دی خوشبو اے کسے ویلے،
    مینوں ہر پل، ہر وار تے لبدا ایں۔
    یہ اشعار صرف نظم نہیں، وہ جذبات ہیں جنہیں کلیم نے اپنے قلم سے زندگی دی۔ ان کا درد، ان کی چاہت، ان کی یادیں، اب صرف کتابوں کے صفحوں پر نہیں، ہمارے دلوں میں محفوظ ہو چکی ہیں۔
    صلہ پیار دا ویریا قہر تے نئیں
    تینوں دل ای دتا اے زہر تے نئیں
    ہر بندے دے ہتھ اے اٹ روڑا
    ایہہ شہر وی تیراای شہر تے نئیں
    ساہواں نال ای جاوے گا غم تیرا
    کنج سُکے گی اکھ اے نہر تے نئیں
    یار ہس کے لنگھےنے غیر وانگوں
    میرے لیکھ دا پچھلا پہر تے نئیں
    ہتھیں سینکھیا دتا ای نفرتاں دا
    ہن کدی جے کہویں وی ٹھہر، تے نئیں
    ثجمل کلیم کی وفات کا دکھ صرف ذاتی نہیں، یہ ایک اجتماعی صدمہ ہے۔ وہ شاعری کے اس قبیلے کے آخری نمائندوں میں سے تھے جو لفظوں کو عبادت سمجھتے تھے، شاعری کو مشن جانتے تھے اور معاشرے کے ہر درد کو اپنی ذات میں سمو کر صفحۂ قرطاس پر اتار دیتے تھے۔
    دُنیا بند پٹاری وانگر
    کھولے کون مداری وانگر
    ساہ جُثے دا سچا رشتہ
    کھوٹا ساڈی یاری وانگر
    دُکھاں ڈاہڈا چسکا دتا
    قسمے چیز کراری وانگر
    اکھ راتاں نوں کُھلی رہندی
    اُس بازار دی باری وانگر
    اک ہیرے نوں کہندا رہناں
    کٹ کلیجا آری وانگر
    ہم ان کے جانے پر افسوس تو کرتے ہیں، لیکن فخر بھی ہے کہ ہم ان کے دور میں جیے، ان کا کلام سنا، اور ان سے محبت کی۔ وہ ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے، کیونکہ شاعر مرتے نہیں، وہ صرف لمحہ بھر کو خاموش ہوتے ہیں۔ ان کی آواز، ان کے لفظ، ان کا جذبہ ہمیشہ ہم سے بات کرتا رہے گا۔
    ان کے آخری مجموعۂ کلام کا ایک اقتباس گویا ان کی زندگی کا نچوڑ ہے:
    ساہ وچ رہیا، خواب وچ وسیا،
    ساہ وچ وس کے ہونڑ جدائیاں دے رستے تے تُوں چلیا۔
    یہی ثجمل کلیم کا فکری قد تھا۔ وہ محبت کو ہمیشہ کے لیے لفظوں میں قید کر گئے۔ ان کی شاعری آئندہ نسلوں کے لیے چراغ راہ رہے گی۔
    دل دا شیشہ صاف تے نئیں نا
    توں فِر کیتا معاف تے نئیں نا
    توں کیوں ہجر سزاواں دیویں
    تیرے ہتھ انصاف تے نئیں نا
    پریاں ہر اک تھاں ہندیاں نیں
    ٹوبے وچ کوہ قاف تے نئیں نا
    میرے لیڑے رت بھرے نیں
    تیرے ہتھ وی صاف تے نئیں نا
    کٹھیاں جین دی عادت پا کے
    وکھ ہونا انصاف تے نئیں نا
    آج وہ ہم میں نہیں، مگر ان کے اشعار زندہ ہیں، ان کی خوشبو باقی ہے، ان کی یادیں امر ہو چکی ہیں۔
    کیہڑا ہتھ نہیں جردا میں
    کیہڑی ساہ نہیں مردا میں
    ہسن والی گلّ تے وی
    ہسّ نہیں سکیا ڈردا میں
    قسمت لُٹن آئی سی
    کردا تے کیہ کردا میں
    سارے بھانڈے خالی نیں
    ہوکا وی نہیں بھردا میں
    خود مریا واں تیرے تے
    تیتھوں نہیں ساں مردا میں
    المیہ یہ ہے کہ ہمارے ملک کے بڑے زرخیز دماغوں نے کسمپرسی کی حالت میں سرکاری ہسپتالوں کے بیڈ پر ہی دم توڑا ہے ۔ تجمل کلیم مرحوم کے لیے دعا مغفرت کیجیے گا۔ہماری دعا ہے ربِ کریم انہیں جوارِ رحمت میں جگہ دے اور ان کے لفظوں کو ہمیشہ زندہ رکھے۔ اللہ پاک ان کی مغفرت فرمائے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین ثم آمین

  • آئیے خیال کی طاقت سے ذہن کے چراغ جلائیں، لفظوں کی شیرینی سے زبان کی کڑواہٹ مٹائیں

    آئیے خیال کی طاقت سے ذہن کے چراغ جلائیں، لفظوں کی شیرینی سے زبان کی کڑواہٹ مٹائیں

    آئیے خیال کی طاقت سے ذہن کے چراغ جلائیں، لفظوں کی شیرینی سے زبان کی کڑواہٹ مٹائیں
    قلم و کتاب کی زبان سے ادب کی دعوت
    تحریر: ظفر اقبال ظفر
    تحریر کی نبض پر ہاتھ رکھ کے قلم کے مزاج کا پتا لگانا حقیقی لکھاری و قاری طبیب کا ہی خاصہ ہے جو دل و دماغ کی سواری پہ کتابوں کے جہانوں کے سفر پہ نکلے ہیں اور اپنے احساسات و محسوسات کی الہامی کیفیت سے شفا بخش ادبی بوٹیوں کی کھوج لگاتے ہیں، پھر اسے اپنے قلم کے حمام دستے میں پیس کر عام ذہنوں کے معدے تک پہنچاتے ہیں تو شعور کی بینائی بڑھنے لگتی ہے۔ خداداد صلاحیتوں کے ہنر سے لکھی تحریریں قارئین کے ذہنوں کو مسحور کرتی ہیں۔ قدرت کے جس جہان کی لکھاری سیر کرکے اسے اپنی تحریر کے اسلوب سے لطف اندوز بناتا ہے اُسے پڑھنے والے قاری کو لگنے لگتا ہے کہ وہ اُس دور اور جہان کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔ سحر نگار قلم کی لکھی کسی کتاب کی اہمیت کبھی کم نہیں ہوتی۔ ذوق و شوق سے لبریز شغف قارئین ہی قلم کے نئے زاویے میں پوشیدہ منظروں کی جھلک دیکھ سکتے ہیں۔ علم و شعور کی زمین لکھاری و قاری جیسے پھولوں سے سدا آباد رہتی ہے جس کی مہک نے ان گنت خوش نصیبوں کو اپنے سحر میں جکڑ رکھا ہے۔

    ادب کی مٹی میں قلم کا بیج نئی اور تازہ تحریروں کے پھل اُگاتے رہتے ہیں۔ سخن کے وطن میں پل کر پروان چڑھنے والے، اپنے سے پہلے دور میں جینے والے لکھاریوں سے ان کی کتاب و تحریر کے ذریعے ملاقاتیں کرتے ہیں جس سے لکھاری ذہن تربیت پاتے ہیں تاکہ اُن کی نشاندہی کرتے راستوں پہ سفر کرتے مطالعے کی مدد سے نئی منظر کشی کو تحریری وجود میں لایا جا سکے۔ قدرت کی خوبصورتیاں بیج کی طرح اپنے اندر اتنے وسیع درخت رکھتی ہیں جس کا ہر پتہ، ہر شاخ ان گنت معنی و منظر رکھتا ہے جیسے گنتی سے باہر ہوا کے جھونکے ہوتے ہیں۔ جب منظروں کی بوندیں ذہن کی پیاسی زمین پر ٹپک رہی ہوں تو بہار کی سیاہی سے قلم کو رنگین تذکرہ نگاری میں مدہوش کر دیجیے۔ یہ لطف اندوز لمحے اپنے وجود کی گرفت میں بھر کر محفوظ کر لیں تاکہ آپ کی تنہائی نایاب احساسات و محسوسات سے سجی رہے۔ بہت کم لوگ ہیں جو اپنے آپ میں اک محفل لیے جیتے ہیں۔

    یہ اعزاز لکھاری یا قاری کو ہی حاصل ہوتا ہے کہ ایک زندگی میں کئی زندگیوں کو جی رہا ہوتا ہے۔ کتابوں کی انگلی پکڑ کر تحریروں کے قدم سے اپنے شعور کے قدم ملا کر چلنے والوں کو ہی ایک انمول ہمسفر کا احساس ملتا ہے۔ آپ ادب کے ساتھ زندہ رہتے ہیں تو مبارک ہو، ادب اپنے زندہ رہنے کے لیے آپ کو چن چکا ہے۔ یہ سچائی و آگاہی کے کوہِ طور کا سرمہ آنکھوں میں لگا کر ہر جانب خدا کو دیکھنے اور دکھانے لگتے ہیں۔ یہ منفرد و نایاب لوگ اپنے چراغوں جیسے ذہنوں میں ادب کی روشنی لیے ویرانوں میں بیٹھے ہیں۔ انہیں ذہنی تصادم زدہ ہجوم کے اندھیروں میں رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔ ان کی قدردانی ہی ان کے جلتے رہنے کا تیل ہے۔ ادب ان کے ذریعے اپنے نت نئے رنگوں کی تبلیغ کرواتا ہے جو شرف والوں کے حصے میں آتی ہے۔

    جہاں شعور کی کایا پلٹنے والی تحریریں قبولیت کے ہاتھ اُٹھائے بیٹھی ہیں، وہاں ادب کے طالب علم بھی شوق کے دامن پھیلائے بیٹھے ہیں۔ یہ کیفیت دل و دماغ کی زمینوں پر بسیرا کرکے اپنے عطر سے انسانیت کے گلشن کو معطر رکھتی ہے۔ قابلِ تعریف ہیں وہ عقلیں جو لفظوں کے چہروں سے پردے ہٹا کر معنی کے اصلی جوہر تک پہنچ جاتی ہیں اور اپنی آنکھوں کو وضاحتوں کا سرمہ لگا کر حقیقتوں کے دلکش نظارے کرواتی ہیں۔ اس نتیجے سے دوچار کرنے والی تحریروں کے لکھاریوں کے دل کی شگفتگی کا سرور انہیں ایسا مدہوش کرتا ہے جس کی ترجمانی وہ خود بھی قلم کی زبان پر نہیں لا پاتے۔ یہ قدرت کی خاموش تحسین کے انعام میں رہتے ہیں۔

    زندگی کو آنکھ بھر کر سب دیکھنا چاہتے ہیں، مگر یہاں غیر معیاری حالات و معاملات زندگی کے رنگوں پر اپنی چادر ڈال کر میت کا منظر پیش کرنے لگتے ہیں۔ جہاں مصنوعی دُکھ ایجاد ہو جائیں، وہاں انسان غیر ضروری اُداس رہنے لگتے ہیں۔ پتھر کی عمارتوں میں سکون چاہنے والے جلتے جسموں کو کوئی بتا دے کہ چاندنی رات کے ستاروں کی چھاؤں میں خیمے لگا کر روح کی ٹھنڈک کا مزہ مفت میں لیا جا سکتا ہے۔ قدرت نے اپنی مہنگی تخلیق اپنے انسانوں کے لیے مفت میں رکھی ہے۔ انسانی وجود کی بڑی قیمت ہے۔ اس مٹی کے کوزے میں نور کا چراغ جلتا ہے، اُس کوزے کو بے قیمت نہ جانیں جس میں قدرت نے اپنا نور محفوظ کر رکھا ہے۔ انسانی دل خدا کا تخت ہے، جس کے تختِ دل پر خدا بیٹھا ہو، وہاں زندگی ہاتھ جوڑے کھڑی رہتی ہے کہ زندگی سے کوئی غلطی نہ ہو جائے۔ ہر جینے والے کو ادب اسی مقام پر لانا چاہتا ہے کہ بے مقصد سفروں پر خود کو تھکانے والوں کو درست سمت دی جا سکے اور بکھرے ہوئے انسانوں کو سمیٹ کر انہیں ہی واپس لوٹا دیا جائے۔ یہ حوصلہ ادب ہی پیدا کر سکتا ہے کہ آپ کسی کو اپنے کندھوں پر بیٹھا کر کہیں کہ دیکھو تمہارا قد تو مجھ سے بھی بڑا ہو گیا ہے۔ اچھا پڑھنے سننے کی صلاحیت کو اتنا پکائیں کہ آپ کی گفتگو سحر طاری کرنے لگے اور لوگوں کو دنیا کے پیچیدہ راستوں پہ چلنے کا ہنر حاصل ہو جائے۔ اپنے بعد آنے والوں کے لیے راہ کے کانٹے ہٹانے کا ذریعہ بن کر آسانیوں، بھلائیوں، بہتریوں کے اسباب چھوڑ کر ان کے درمیان ہمیشہ کے لیے ٹھہرے رہیں۔

    جب دنیاوی مفاد کی حکمتِ عملی میں لوگ سیاست کی ہتھیلیوں سے فائدہ اُٹھانے کے لیے صاحبِ اختیار کے پاؤں پکڑنے کو تیار ہو جائیں، تب ادب کمزوروں کے ہاتھ پکڑنے والوں کو دلوں کا تخت پیش کرنے کی راہ دکھاتا ہے۔ بے فیض سیاست کی نوک سے زندگی کے بخیے اُدھیڑنے والے ہر دور میں ادب انسانیت میں محبت کے ٹانکے لگاتا رہتا ہے اور اپنے چاہنے والوں کو یہ ہنر سکھاتا ہے کہ وہ کڑواہٹ پی کر مٹھاس کیسے بانٹ سکتے ہیں۔ دراصل قدرت کی تخلیق، احساسات، محسوسات، جذبات کی حسین عکاسی سے انسانی ذہنوں کو اپنی لپیٹ میں لے کر جینے کے حقیقی لطف سے ہمکنار کروانے میں قلم کا ہاتھ ہے، اور عزت، محبت، نام اُس کا بھی پیدا ہو جاتا ہے جس کے ہاتھ میں قلم ہوتا ہے۔ جس طرح خواب بند آنکھوں سے اگلے پچھلے دور کی سیر کرواتے ہیں، اسی طرح کتاب کو یہ خاصیت حاصل ہے کہ یہ کھلی آنکھوں سے سیر کرواتی ہے۔ خدا کی طرف سے آنے والا ہر اچھا خیال سپردِ قلم کر دو کہ یہ وہ امانت ہے جو بے خبروں تک پہنچانی تمہارا فرض ہے۔

    انگریزی لالٹینوں کی روشنی دماغوں میں بھرنے والوں سے معاشرے کے مسائل حل نہیں ہو پا رہے ہیں۔ ایسے میں مادری و قومی زبان کے سورج کو طلوع کرنے کے لیے ادب کے فروغ کو عام کرنا وقت کا تقاضہ ہے۔ ایک ہی معاشرے میں زندگی بسر کرنے والوں کے مسائل بھی ایک ہی جیسے ہیں، اس کے لیے انفرادی طور پر پریشان رہنے کی بجائے اجتماعی طاقت سے خوشحالی لانے کے لیے ادب سے بہتر طاقت اور کہیں سے پیدا نہیں ہو سکتی۔ فرقہ و جماعت پرستی کے اس تقسیم شدہ معاشرے کو جوڑنے کے لیے اسلام کی بات ادب کی زبان سے کی جائے تو ہر کان خوشی سے قبول کر لے گا۔ کون سی بات کب، کہاں اور کیسے کہی جانی ہے، یہ سلیقہ اگر آ جائے تو ہر بات سنی جاتی ہے۔ اسی سلیقے کو سکھانے کے لیے ادب کی درسگاہوں کا قیام بہت ضروری ہے جہاں کتابوں کے حصار میں نئی سوچیں پروان چڑھیں۔ وہ لوگ جو انقلابِ زمانہ سے دل شکستہ ہو کر تصنیف کے راستے سے بھٹک گئے ہیں، ان کے اندر اعتماد و حوصلے بھرنے کے لیے سامعین اور اسٹیج کا ماحول مہیا کیا جائے۔

    دل کا درد لفظ و لہجے میں اتار کر کانوں میں انڈیل دیجئے، تحریک جنم لے لے گی۔ اس طرح لکھیں کہ لوگوں کی بولتی چالتی، چلتی پھرتی زندگیوں کی تصویریں سامنے آن کھڑی ہوں اور وہ اپنے عیب آپ دیکھ کر خود ہی اصلاح کر لیں۔

    برج بھاشا سے نکلی آٹھ سو سال سے زائد عمر کی یہ اردو زبان کتنے ذہن اور کتنے زمانے دیکھتی آ رہی ہے۔ اس کے پاس کیا کیا داستانیں، حالات و واقعات ہیں، انہیں بیان کرنے کے لیے اسے تذکرہ نگاروں کی ضرورت ہے جو گزرے اور آنے والے وقت کے عکس موجودہ دور میں دکھانے کی خاصیت رکھتے ہوں۔ آپس میں ہی ایک دوسرے کو قبول نہ کرنے والے ذہنی غربت میں مبتلا معاشرے کے پتھر دلوں کو کھود کر حسنِ سلوک کے ہیرے، موتی، جواہرات نکالنے کے لیے ادب نے آسان طریقے بتا دیے ہیں۔ ادب کی ہر کتاب و تحریر وہ گٹھلی ہے جو روح میں مٹھاس بھرنے والے لذیذ میوے کی خبر دیتی ہے۔

    ادب روح پر پڑے بدبودار غرور و تکبر کے لباس اتروا کر فقیری و درویشی کے خوشبودار ٹاٹ پہناتا ہے۔ جہاں جہالت انسانی ذہن کو اپنی ہی ذات کی قید میں جکڑے رکھتی ہے، وہاں ادب شعور کی رہائی لے کر ضمیر کے جج کے سامنے ہر وقت حاضر رہتا ہے۔ ادب وہ زبانِ الٰہی ہے جسے بولنے والوں نے انسانیت کی معراج پائی۔ اسی لیے ہر اچھی بات کو صدقے کا مقام حاصل ہے۔ ادب کی پاکیزہ زبان، گفتگو کی مہک سے معاشرے کے ذہنوں کو معطر کرتی ہے۔ اسی لیے ہر انسان کی قیمت کو اس کی زبان تلے رکھ دیا گیا ہے۔ گنہگار سے گنہگار لوگوں نے بھی اپنی باتوں کو ادب کا آبِ حیات پلا کر اپنے بعد بھی اپنے تذکرے چھوڑ دیے۔ کسی کی بات کو اپنی بات بنا کر پیش کرنا غیر معمولی مقام تو نہیں ہے، انبیاء اکرام نے جس طرح آسمانی علوم پر مذہب کے چوکیدار بن کر اپنے عمل کے ذریعے ملاوٹ سے پاک رکھ کر آنے والی نسلوں کو سونپا، اس سے وہ انسانیت کے جہان میں ہمیشہ کے لیے باقی رہ گئے۔

    پھر جس طرح فقیری درویشی مزاج کے لکھاریوں نے آسمانی علوم کو زمین پر اس طرح بکھیرا کہ ہر مذہب کا انسان متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ انسانیت کو جوڑنے کے لیے ادب کا یہ کرشمہ کسی دلیل کا محتاج نہیں۔ اسی لیے اسلام کے ترجمانوں نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ یہ نہ دیکھو کون کہہ رہا ہے، یہ دیکھو کیا کہہ رہا ہے تاکہ تم حق سے متفق رہنے والوں میں شمار رہو۔ ادب آتش بیانی کی مخالفت کرکے اپنی بات دھیمے اور شیریں لہجے میں دلیل کی پلیٹ میں رکھ کر اس طرح پیش کرتا ہے کہ سننے والا تمہارا ہو جائے۔ خدا کی قدرت کہوں یا معاشرے کے حسن کی ذمہ داری نہ لینے والوں کی کمزوری، کہ یہاں جو لونڈی ہے وہ رانی بن بیٹھی ہے اور رانی منہ چھپائے کونے میں بیٹھی ہے۔ زبان کا اثر زبان پر دوڑنا شروع ہو جائے گا۔ آپ اپنی زبان میں ہی سہی، علوم ادب کے کتب خانے بڑھائیں، فنون کے کارخانے چلائیں، ایجاد کی ٹہنی پہ ظرافت کے پھول کھلائیں تاکہ نئی نسلیں باوقار انسانیت کا گلشن تشکیل دے سکیں۔

  • اپووا، قلمکاروں کی آواز، ایم ایم علی کی کاوش

    اپووا، قلمکاروں کی آواز، ایم ایم علی کی کاوش

    ادب کسی بھی قوم کی روح ہوتا ہے اور اہل قلم وہ چراغ ہیں جو اس روح کو روشنی بخشتے ہیں۔ پاکستان میں اگر ادیبوں، شاعروں اور لکھاریوں کی فلاح و بہبود کی بات کی جائے تو ایک نام نمایاں طور پر سامنے آتا ہے،آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن،یہ تنظیم کسی معمولی کاوش کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک خواب کی تعبیر ہے، جو ایم ایم علی جیسے ادب دوست شخصیت نے دیکھا اور اسے عملی جامہ پہنایا۔ایم ایم علی کا شمار پاکستان کے ادبی و فلاحی میدان کے چند نمایاں اور پُرجوش افراد میں ہوتا ہے۔ انہوں نے محض قلمکاروں کے لیے آواز بلند نہیں کی، بلکہ عملی طور پر ایک ایسا پلیٹ فارم تشکیل دیا جو آج پورے پاکستان میں لکھاریوں کا مرکز بن چکا ہے۔ وہ خود ایک تجربہ کار ادیب اور منتظم ہیں، جن کے دل میں ادیبوں کے احترام اور ان کی خدمت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے،ایم ایم علی نے اپووا کی بنیاد ایک وژن کے تحت رکھی۔ انہوں نے محسوس کیا کہ پاکستان کے بیشتر لکھاری تنہائی کا شکار ہیں، انہیں نہ تو پذیرائی ملتی ہے، نہ پلیٹ فارم اور نہ ہی کوئی منظم ادارہ، اس احساس نے انہیں مجبور کیا کہ وہ ایک ایسا ادارہ قائم کریں جو ان تمام محرومیوں کا ازالہ کر سکے۔آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی بنیاد ایسے وقت میں رکھی گئی جب ادبی تنظیمیں محض مخصوص طبقات تک محدود تھیں۔ اپووا نے اس روایت کو توڑا اور ملک گیر سطح پر ادیبوں کو یکجا کیا۔

    اپووا کے بانی صدر ایم ایم علی نے جب یہ پودا لگایا تو شاید ہی کسی نے سوچا ہو کہ یہ تناور درخت بن کر پورے پاکستان کے ادیبوں، شاعروں اور لکھنے والوں کے لیے سایہ دار پناہ گاہ بن جائے گا۔ ایم ایم علی نے نہ صرف ایک تنظیم کی بنیاد رکھی بلکہ ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کیا جو آج ملک بھر کے ادیبوں کی آواز بن چکا ہے۔اپووا محض ایک تنظیم نہیں بلکہ ایک ادبی تحریک ہے۔ اس تنظیم کا مقصد صرف تقریبات منعقد کرنا نہیں بلکہ لکھاریوں کو وہ مقام دینا ہے جس کے وہ حقدار ہیں۔ اس مقصد کے لیے اپووا نے نہایت فعال کردار ادا کیا ہے۔ اپووا نے ملک کے مختلف شہروں میں درجنوں تقریبات کا انعقاد کیا، جن میں مشاعرے، نثری نشستیں، اور کتابوں کی رونمائی شامل ہے۔قابلِ قدر لکھاریوں اور شاعروں کو ایوارڈز سے نوازا گیا تاکہ ان کی حوصلہ افزائی ہو۔اپووا کی کاوشوں سے ادیبوں کو ملک کی نامور شخصیات سے ملنے کا موقع ملا، جس سے ان کے ادبی سفر کو نئی جہت ملی۔اپووا نے نئے لکھنے والوں کے لیے تربیتی سیشنز اور رہنمائی کا اہتمام کیا تاکہ ادب کی نئی نسل آگے بڑھے۔


    اپووا کا دائرہ کار اب صرف ایک شہر یا صوبے تک محدود نہیں رہا۔ یہ تنظیم آج پاکستان کے تمام صوبوں میں اپنے نمائندے اور اراکین رکھتی ہے۔ اس کا نیٹ ورک ہزاروں لکھنے والوں پر مشتمل ہے جو مختلف زبانوں اور اصناف میں کام کر رہے ہیں۔اپووا نے جہاں ایک منظم ادبی پلیٹ فارم فراہم کیا، وہیں اس نے قومی سطح پر اپنی پہچان بھی بنائی۔ پاکستان کے ادبی حلقے اب اپووا کو ایک معتبر اور فعال تنظیم کے طور پر تسلیم کرتے ہیں۔ایم ایم علی کی انتھک محنت، خلوص، اور وژن کی بدولت اپووا آج ادب کے افق پر ایک روشن ستارہ ہے۔آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر نیت نیک ہو اور منزل کا تعین واضح ہو تو کامیابی قدم چومتی ہے۔

    ضلع چکوال کے شہر بلکسر کے باسی ایم ایم علی کی قیادت میں اپووا نے جو خدمات انجام دی ہیں، وہ نہ صرف قابلِ تحسین ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بھی ہیں۔ ادب سے محبت رکھنے والا ہر فرد اپووا کو ایک ادبی انقلاب کے طور پر دیکھتا ہے، اور اس انقلاب کا علمبردار ہے ایم ایم علی۔

    apwwa

  • شہنشاہ ظرافت اداکار منور ظریف .تحریر :راحین راجپوت

    شہنشاہ ظرافت اداکار منور ظریف .تحریر :راحین راجپوت

    لاکھوں دلوں پر راج کرنے والے اور مسکراہٹیں بکھیرنے والے ہر دلعزیز اداکار منور ظریف کو مداحوں سے بچھڑے انچاس برس بیت گئے لیکن وہ اپنے نام اور کام کی وجہ سے اپنے ناظرین کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے ۔
    منور ظریف 2 فروری 1940 ء کو گوجرانولہ میں پیدا ہوئے ۔ انہوں نے صرف 36 سال عمر پائی ۔ آج سے ٹھیک انچاس برس قبل فن کی بلندیوں پر چمکنے والا یہ ستارہ اپنے کیریئر کے عروج میں ہی ہمیشہ کے لئے غروب ہو گیا ۔
    منور ظریف نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز 1960 ء میں کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے پاکستان فلم انڈسٹری پر وہ انمٹ نقوش چھوڑے کہ انہیں دنیا سے رخصت ہوئے تقریباً پچاس برس بیت گئے لیکن ان کی خود ساختہ اداکاری اور ان کے فی البدیہ جملوں کی برجستگی کی آج بھی دنیا معترف ہے ۔
    دنیائے ظرافت میں یوں تو رنگیلا ، معین اختر ، ایم اسماعیل ، زلفی ، نرالا ، خلیفہ نذیر ، دلجیت مرزا ، علی اعجاز ، ننھا اور اداکار لہری نے خوب نام کمایا لیکن جو نام اور مقام منور ظریف کا ہے وہ کسی اور کامیڈین کا نہیں ہے ۔
    اپنے فنی سفر کا آغاز انہوں نے فلم ” اونچے محل” سے کیا ، جس میں انہوں نے مزاحیہ کردار ادا کر کے حاضرین و ناظرین کی خوب داد سمیٹی اور اس کے بعد ان کی ایک پنجابی فلم ڈنڈیاں اور چاچا خواہ مخواہ منظر عام پر آئی ۔ اس کے بعد تو ایک سے بڑھ کر ایک فلم اور نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا ، جس میں پیار کا موسم ، بہارو پھول برساؤ ، استاد شاگرد ، چکر باز ، دیا اور طوفان ، بد تمیز ، ہتھ جوڑی ، زمیندار ، ہیر رانجھا ، زینت ، نمک حرام ، پردے میں رہنے دو ، دامن اور چنگاری ، رنگیلا اور منور ظریف ، بدلہ ، ملنگی ، چڑھدا سورج اور بابو جی جیسی لازوال فلمیں شامل ہیں ۔
    ابتدا میں منور ظریف کو چھوٹے موٹے کردار ادا کرنے کو ملے ، لیکن جلد ہی منور ظریف نے اپنی خدا داد صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی جگہ ان بڑے بڑے اداکاروں میں بنا لی جن کا اس دور میں ایک نام تھا ۔
    اپنے مخصوص انداز ، لب و لہجے اور منفرد کام کی وجہ سے انہوں نے جلد ہی فلم انڈسٹری پر اپنے کام کے گہرے نقوش چھوڑے ۔ فیس ایکسپریشن ، باڈی لینگوئج ، برجستہ کلمات کی ادائیگی اور اپنے منفرد لب و لہجے سے انہوں نے شہنشاہِ ظرافت کا خطاب اپنے نام کیا ،

    منور ظریف مزاحیہ اداکاری کی ان تمام جملہ اصناف میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے ۔
    منور ظریف جب بھی پردہ سکرین پر نمودار ہوتے تو حاضرین و سامعین ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو جاتے ۔ چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنے کا جو ملکہ منور ظریف کو حاصل تھا اس کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی ۔
    اپنے سولہ سالہ فلمی کیریئر میں منور ظریف نے لگ بھگ 300 سے زائد اردو اور پنجابی فلموں میں کام کیا ۔
    ان کی ہر نئی آنے والی فلم میں لوگوں کے لئے قہقہوں کا وافر مقدار میں سامان موجود ہوتا ۔ ان کے پرستار ان کی ہر ادا اور ہر ڈائیلاگ پر جھوم جھوم جاتے ۔
    منور ظریف ایک حیرت انگیز مزاحیہ اداکار تھے ۔ قیام پاکستان سے لے کر آج تک ان کے جیسا اداکار دور دور تک نظر نہیں آتا ۔

    منور ظریف سمیت ان کے بھائیوں نے فلمی دنیا میں اپنے اپنے فن کے جوہر دکھائے لیکن جو کامیابی ظریف اور منور ظریف کے حصے میں آئی وہ باقی تین بھائیوں کے حصے میں نہیں آئی ۔
    50 کی دہائی میں اداکار ظریف نے اپنی مزاحیہ اداکاری سے جو شہرت حاصل کی منور ظریف نے اس سے کئی گنا زیادہ شہرت و مقبولیت کے جھنڈے گاڑے ۔
    منور ظریف دنیائے ظرافت اور لالی وڈ سینما کا وہ انمول خزانہ ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں ۔
    لالی وڈ انڈسٹری چاہ کر بھی کوئی منور ظریف ثانی پیدا نہیں کرسکی ۔
    منور ظریف کا کوئی گیت یا کوئی کلپ سامنے آ جائے تو ہم اسے دیکھے بنا نہیں رہ سکتے ۔
    دنیائے ظرافت کا بے تاج بادشاہ منور ظریف اپنی حرکات و سکنات اور حاضر دماغی سے لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنے کے فن سے بخوبی واقف تھا ۔
    منور ظریف کے کیریئر میں چند ایک ایسی فلمیں بھی ہیں جن کے ذکر کے بغیر ان کے فنی سفر کا احاطہ کرنا ممکن نہیں ، جن میں جیرا بلیڈ ، نوکر ووہٹی دا ، اج دا مہینوال ، بنارسی ٹھگ اور فلم خوشیا شامل ہے ۔ ان فلموں میں منور ظریف نے مرکزی کردار ادا کیا ۔
    منور ظریف کی فلم ” نوکر ووہٹی دا ” کو بھارت نے بھی کاپی کیا ، جس میں بھارتی اداکار دھرمیندر نے منور ظریف کا کردار ادا کیا ۔
    بعد میں دھر میندر نے اعتراف بھی کیا کہ وہ منور ظریف جیسا کام کرنے میں ناکام رہے ۔
    منور ظریف ہر سال اوسطاً 20 سے زائد فلموں میں کام کرتے رہے ۔ ہر فلم میں ان کا انداز دیکھنے والوں کا دل موہ لیتا ۔ انہوں نے کبھی خود کو مزاح تک محدود نہیں رکھا بلکہ وہ ہیرو ، ولن اور سائیڈ ہیرو کے کردار میں بھی جلوہ گر ہوئے ۔
    منور ظریف پر زیادہ تر مسعود رانا کے گیت فلمائے گئے ۔
    منور ظریف اپنی ذات میں ایک چلتی پھرتی انجمن تھے ، ایسے باصلاحیت لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں ۔
    فن کی بلندیوں پر چمکنے والا یہ ستارہ لاکھوں کروڑوں دلوں پر راج کر کے صرف 36 سال کی عمر میں ہم سے جدا ہو گیا ۔
    اللّٰہ تعالیٰ منور ظریف کو جنت الفردوس میں اعلٰی مقام عطا فرمائے (آمین ثم آمین)

  • کوئٹہ کاادبی منظر نامہ،علامہ اقبال صوبائی ایوارڈز کی تقریب.رپورٹ : شیخ فرید

    کوئٹہ کاادبی منظر نامہ،علامہ اقبال صوبائی ایوارڈز کی تقریب.رپورٹ : شیخ فرید

    وادیء کوئٹہ جو گذشتہ کئی ہفتوں سے گومگوں کیفیات سے دوچار تھی اور تمام علمی ، ادبی ، ثقافتی اور سماجی سرگرمیاں جمود کا شکار تھیں ، اب الحمد اللہ کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے کے مصداق تمام سرگرمیاں بحال ہو چکی ہیں ۔اور دبستان ادب بلوچستان کے ادبی ریفرنس سے بھر پور آغاز ہوا ہے ۔
    قاریینِ کرام ادب کے معنیٰ گل و بلبل کی شاعری , لیلیٰ و مجنوں کی داستان ، اور ناولوں ، افسانوں اور ڈراموں کے کردار ہی نہیں ہوتے بلکہ یہ جیتے جاگتے آدمیوں کے باہمی تعلقات کی علامتیں ہوتی ہیں ۔ اگر آدمی زندہ ہے تو پھولوں کی خوشبو اور بلبل کے زمزوں سے حظ اْٹھائے گا ۔
    ادب زندگی سے عبارت ہے اور زندہ ادب ہی زندہ معاشرے کے زندہ اہلِ قلم کی نمائندگی کرتا ہے ۔
    ادب اور ادیب کو زندہ رکھنے کیلیے ادب کا فروغ اور ادیب کی پذیرائی کا تقاضاء ہے کہ اہلِ قلم کی ادبی صلاحیتوں کو سراہا جائے ۔
    اِسی لیۓ ادارہ نظامت ثقافت و سیاحت و آثارِ قدیمہ حکومتِ بلوچستان نے علامہ اقبال صوبائی ادبی ایوارڈز 2025ء کی ایک پْروقار تقریب نوری نصیر خان کلچرل کمپلیکس اسپنی روڈ منعقد کی ۔

    تقریب کا آغاز تلاوتِ کلام پاک اور حمد و نعت سے ہوا ۔
    علامہ اقبال صوبائی ادبی ایوارڈز کی تقریب میں معروف سیاسی رہنما رحمت بلوچ ، سابقبہ بیورو کریٹ عبدالکریم بریالی ، سرور جاوید ، اکادمی ادبیات کوئٹہ ڈائریکٹر ڈاکٹر قیوم بیدار ، بیرم غوری اور ڈاکٹر تاج رئیسانی سمیت کئی نامور شخصیات نے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی اور اپنے دستِ مبارک سے اہلِ قلم کو اْن کی بہترین تصانیف پر ایوارڈز پیش کئیے۔
    علامہ اقبال ادبی ایوارڈ سال 2019ء شعبہ براہوئی میں پروفیسر عارف ضیاء ، صابر وحید ، شمس الدین شمنل ، شاہین برانزئی ، افضل مینگل ، عبدالوحید اور اکرم ساجد کو ایوارڈ کا حقدار ٹھہرایا گیا ۔
    بلوچی ادب میں منیر مومن ، تبسم مزاری ، نثار یوسف ، طاہر عبدالحکیم بلوچ ، زاہدہ رئیس راجی ، اصغر ظہیر ، اور پروفیسر طاہرہ احساس جتک کو بہترین تصنیف پر علامہ اقبال ادبی ایوارڈ پیش کیا گیا ۔
    شعبہ پشتو میں ڈاکٹر عصمت درانی ، ڈاکٹر عبدالرؤف رفیقی ، میر حسن خان اتل ، سّید۔لیاقت علی اور بی بی شفا کو اصنافِ نثر پر ایوارڈز دیئے گئے ۔
    ہزارگی لسان و ادب کے حوالے سے فارسی تصنیف پر عبدالخالق اور ڈاکٹر عبدالرؤف رفیقی کو ایوارڈز سے نوازا گیا ۔
    اردْو ادب 2019ء کیلیے جن اہلِ قلم کا ایوارڈز برائے شاعری انتخاب ہوا ۔ اْن کے اسمائےگرامی اس طرح ہیں
    ڈاکٹر عصمت اللہ درانی (انگاروں میں پھول) پروفیسر فیصل ریحان (تختِ سلیمان پر)
    ڈاکٹر عرفان احمد بیگ (صدائے عرفان) شعبہ تحقیق کیلیے ڈاکٹر انعام الحق کوثر (گورنمنٹ کالج کوئٹہ تاریخ کے آئینے میں) محمد پناہ بلوچ (بلوچ عورت تاریخی تناظر میں) پروفیسر سیّد خورشید افروز (بلوچستان میں نسائی ادب) نثری اصناف پر آغاگل (بولان کے آنسو) اور عابدہ رحمان کو (محبت کی گواہی) پر ایوارڈز دیئےگئے۔
    تقریب میں سال 2020ء میں لکھی جانے والی بہترین کتب پر بھی علامہ اقبال ادبی ایوارڈز پیش کئیے گئے تفصیلات کے مطابق ریاض ندیم نیازی (کن فیکون) اسراراحمد شاکر (آدھی ادھوری کہانیاں) عابدہ رحمان(جو کہا فسانہ تھا) اور طیّب محمود (غبارِ راہ) کےعلاوہ تحقیق کے شعبہ میں ڈاکٹر واحد بزدار اور ڈاکٹر عبدالرحمٰن براہوئی کو ایوارڈز پیش کئیےگئے ۔
    بلوچی میں نوید علی ، صبیحہ علی بلوچ ، امان اللہ گچکی ، بلال عاجز ، اور نثر میں ڈاکٹر فضل خالق کو ایوارڈ سے نوازا گیا ۔
    شعبہ براہوئی سال 2020ء کیلیے پروفیسر حسین بخش ساجد ، عبدالحمید ، عطاء اللہ ، سیّد علی محمد ہاشمی ، صلاح الدین مینگل ، افضل مراد ، نور خان محمد حسنی ، نور محمد پرکانی ، اور ڈاکٹر عنبرین مینگل کو علامہ اقبال ادبی ایوارڈ پیش کیاگیا ۔ پشتو ادب 2020ء کیلیے برملاخان ، مولوی رحمت اللہ مندوخیل ، ڈاکٹر لیاقت تاباں اور محمد نعیم کے علاوہ رحمت بی بی کو ایوارڈ۔کیلیے مستحق قراردیا گیا ۔ یا رہے ڈاکٹر انعام۔الحق کوثر کا ایوارڈ اْن کے بیٹے سلیم الحق ، ڈاکٹر ایم صلاح الدین مینگل جن کا انتقال اِسی برس ہوا ہے مرحوم کا ایوارڈ اْن کے بھائی مصلح الدین مینگل نے وصول کیا ، جبکہ ڈاکٹر عبدالرؤف رفیقی جو اقبال اکیڈمی لاہور میں ناظمِ اعلیٰ کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں ، اْن کا ایوارڈ اْن کی اہلیہ نے حاصل کیا ۔
    اِس مرتبہ دو دو ایوارڈز پانے والوں میں ڈاکٹر لیاقت تابان ، پناہ بلوچ ، ڈاکٹرعرفان احمد بیگ ، ڈاکٹر روف رفیقی ، ڈاکٹر عصمت درانی اور ریاض ندیم نیازی شامل۔تھے ۔
    محکمہ نظامتِ ثقافت و سیاحت و آثارِ قدیمہ حکومتِ بلوچستان کی جانب سے اہلِ قلم کی پذیرائی اور حوصلہ افزائی یٰقیناً خوش آئند امر ہے۔ تاہم ہماری رائے میں ادباء و شعراء کو ایک ہی ایوارڈ کیلیے منتخب کیا جائے ، جس کو کسی بھی شعبہ یا زبان میں ایواردیا جائے تو پھر کسی اور شعبہ یا اصناف میں نہ دیا جائے اسطرح زیادہ لکھاریوں کو ایوارڈز دیئےجاسکتے ہیں ۔ اردو سے عناد کی پالیسی کا خاتمہ کرتے ہوئے شعبہ اردو کے اہلِ قلم کی کیٹیگری کو شاعری ، افسانہ ، ناول ، تحقیق ، کالم نگاری اور سفر نامہ نگاروں کیلیے علحیدہ علحیدہ ایوارڈز رکھے جائیں اور بچوں کے ادب کو تو ہر سطح پر اولیّت دی جائے ۔
    ادبِ اطفال میں بھی کہانی اور نظم کے شعبے کو ترجیح دی جائے ۔۔۔۔
    کاش کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات ۔

  • کتابوں کا عالمی دن، تحریر:  راحین راجپوت

    کتابوں کا عالمی دن، تحریر: راحین راجپوت

    ایسے لوگوں کا ظرف کیا ہوگا ،

    جن کے گھر میں کوئی کتاب نہیں ۔

    ان کو بینا بھی کہہ نہیں سکتے ،

    جن کی آنکھوں میں کوئی خواب نہیں ۔

    ہر سال 23 اپریل کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں کتابوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے ۔
    ما سوائے برطانیہ اور امریکہ کے ، ان دو ممالک میں کتابوں کا عالمی دن 4 مارچ کو منایا جاتا ہے ۔
    اس دن کو منانے کا مقصد معاشرے میں کتب بینی اور علم کو عام کرنا ہے اور پوری دنیا میں کتاب کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے ۔
    عالمی یوم کتاب اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کے تحت منایا جاتا ہے ، جس کا مقصد بین الاقوامی سطح پر عوام میں کتب بینی کا فروغ ، اشاعت کتب اور اس کے حقوق کے بارے میں شعور کو اجاگر کرنا ہے اس دن کو منانے کی ابتداء 1995 ء میں ہوئی ۔
    کتاب اور علم دوست معاشروں میں یہ دن بڑی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں ۔
    جو لوگ کتابیں پڑھتے ہیں اور انہیں عزت دیتے ہیں حقیقت میں وہی لوگ خوش قسمت ہوتے ہیں ۔
    کیونکہ کتاب ہی آپ کی وہ واحد دوست ہے جو کبھی بھی آپ کو تنہا نہیں ہونے دیتی ۔
    اگر ہم فضولیات کی بجائے کتاب دوستی کو پرموٹ کریں تو ہم کبھی بھی زوال پزیر نہیں ہوں گے ۔ آج تک ہم نے جتنا علم حاصل کیا ہے وہ کتاب ہی کی بدولت ہے ، کیونکہ کتاب کی خوشبو واحد خوشبو ہے جو ہمارے دل و دماغ کو معطر کرتی ہے ۔
    بیشک آج کمپیوٹر دور ہے لیکن اس کے باوجود ہزاروں کی تعداد میں کتب شائع ہو رہی ہیں اور پڑھی جا رہی ہیں کیونکہ جو مزہ بک ریڈنگ میں ہے وہ آپ کو کہیں نہیں ملے گا ۔
    آپ اگر اپنی دن بھر کی تھکاوٹ اور بوریت ختم کرنا چاہتے ہیں تو آپ اپنی بک شیلف میں سے ایک عدد کتاب اٹھائیں اور اس کا مطالعہ شروع کردیں ، یقین جانیئے کتاب آپ کو تھپک تھپک کر نیند کی ان خوبصورت وادیوں میں لے جائے گی جہاں نہ ہی بوریت رہے گی اور نہ ہی تھکاوٹ اور جب آپ اٹھیں گے تو ایک الگ طرح کی کیفیت اور طمانیت طاری ہو جاتی ہے کہ آپ سب کچھ بھول کر ایک نئی دنیا میں پرواز کر رہے ہوتے ہیں اور اس پرواز کو کوئی چاہ کر بھی نہیں روک سکتا اور یہ صرف کتاب ہی کی بدولت ہے ۔
    آج تک ہم نے جتنا علم حاصل کیا ہے اس کا سہرا صرف کتاب کے سر جاتا ہے ۔ کتابوں سے محبت ہماری فطرت میں شامل ہونی چاہیئے ، کیونکہ کتاب سے محبت ہی ہمیں اچھے برے میں تمیز کرنا سکھاتی ہے اور ہمارے شعور کے وہ در وا کرتی ہے جس کا ہمیں وہم و گماں بھی نہیں ہوتا ۔
    جس معاشرے میں کتاب کو پرموٹ نہیں کیا جاتا ان کے مقدر میں ذلت ورسوائی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا ۔
    ہمیں چاہیئے کہ ہم اپنے دوست احباب اور جاننے والوں کو صرف کتاب ہی تحفہ دیا کریں تاکہ ہم بھی کتاب کی اہمیت سے آگاہ ہو سکیں کہ جو ایک کتاب کی اہمیت ہے وہ کسی اور چیز کی نہیں ۔
    ہمیں چاہیئے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو بھی کتابوں کی اہمیت کے بارے میں روشناس کرائیں اور انہیں بتائیں کہ کتاب آپ کی وہ واحد دوست ہے جو آپ کو کبھی بھی تنہا نہیں ہونے دے گی ۔ اگر آپ اپنی تنہائی کا کسی کو ساتھی بنانا چاہتے ہیں تو کتاب سے بڑھ کر آپ کا کوئی دوست نہیں ۔ کتاب کبھی بھی آپ کو تنہا نہیں ہونے دے گی ۔ کتاب ہماری وہ مخلص ساتھی اور دوست ہے جو ہماری ذہنی صلاحیتوں کو نکھارنے اور غور وفکر کرنے کے نئے در کھولتی ہے اور ہماری سوچ کو وسعت دیتی ہے ۔
    موجودہ دور میں سوشل میڈیا نے کتاب کی اہمیت اور قدر کو دھندلا دیا ہے ، اس کے علاوہ شرح خواندگی کی کمی بھی کتاب سے دوری کی بڑی وجہ ہے ۔
    ان مسائل کے حل کے لئے ہمیں مناسب وسائل کی فراہمی ممکن بنانا ہوگی ۔ گھروں میں والدین اور سکول و کالجز کی سطح پر اساتذہ کرام اس حوالے سے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں ۔ ہمیں انفرادی اور اجتماعی سطح پر سیمینارز منعقد کروا کر بچوں کو کتب بینی کی طرف راغب کرنا ہوگا ۔