Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • دنیائے ادب کا نئی نسل مشاعرہ- اک یاد.تحریر:عنبریں حسیب عنبر

    دنیائے ادب کا نئی نسل مشاعرہ- اک یاد.تحریر:عنبریں حسیب عنبر

    کل پاکستان نئی نسل مشاعرہ جو 2002ء میں دنیائے ادب کے زیرِ اہتمام منعقد کیا گیا۔ بلاشبہ ایک نہایت عمدہ اور یادگار مشاعرہ تھا۔ ایک طرف سینئرز کی کہکشاں تھی اور دوسری طرف نئی نسل کے نمائندہ شعرا کی بہار۔ حمایت علی شاعر صاحب، سحر انصاری صاحب، پیرزادہ قاسم صاحب، انور شعور صاحب اور دیگر کی موجودگی میں کلام سنانا بڑا اعزاز تھا۔

    اس زمانے میں سامعین شعرا کو سننے آتے تھے اور شعرا کلام سنانے میں خوشی محسوس کرتے تھے۔ کلام پڑھ کر اور دوسرے شعرا کا کلام سن کر لطف آتا تھا اور سامعین کئی اشعار اپنے ساتھ لے کر اٹھتے تھے۔ اس وقت مشاعرہ کامیاب اور ناکام کی دوڑ نہ تھی اور نہ ہی مشاعرہ ایک شاعر کے پہلو سے دوسرے شاعر کے پہلو میں اور ایک شاعر کے سر سے تاج دوسرے شاعر کے سر پر سجنے جیسی واہیات ذہنیت تھی۔ ادبی مکالمہ تھا جس میں سب ( خصوصاً نئی نسل کے شعرا) اپنا تازہ اور بہترین کلام سنانے اور سینئرز سے داد پانے کو اپنی کامیابی سمجھا کرتے تھے۔ مشاعرے کے اسٹیج پر ایک سرے سے دوسرے سرے تک کیا کیا قد آور شخصیات ہوا کرتی تھیں مگر مجال ہے کہ کوئی اتھلا پن دکھائے۔ سب ایک دوسرے کو داد دیتے اور فخر سے کہتے کہ بھئی اچھا شعر دشمن کا بھی ہو تو بے ساختہ داد نکلتی ہے۔ نوک جھونک، استادی کا شوق سب تھا مگر عموماً ادب کے دائرے میں۔ پھر اس پست سوچ نے ادبی مکالمہ کو باقاعدہ ادبی مقابلہ بنا ڈالا اور اب تو بعض اچھے خاصے سنجیدہ اور عمدہ شاعر بھی اس دوڑ میں شامل ہو چکے ہیں کہ انھیں نمبر ون قرار دیا جائے، جیسے شاعر/ شاعرہ نہ ہوئے ہیرو/ ہیروئن ہو گئے۔ اس چکر میں زندگی بھر کی بنی بنائی ساکھ کیسے پل میں مٹی میں ملی اور کیسے وہ ہم جیسوں کے دل سے اتر گئے اس کی بھلا کسے پرواہ۔

    اس کل پاکستان نئی نسل مشاعرہ میں خاصی تعداد ایسے شعرا و شاعرات کی دیکھی جا سکتی ہے جنھیں کسی طور نئی نسل کا نہیں کہا جا سکتا مگر وہ نہ صرف نئی نسل کے بلکہ نوجوان کہلاتے تھے( خیر اب بھی جن شعرا کو نئی نسل کا بنا کر پیش کیا جاتا ہے ان میں اکثریت پچاس سے اوپر ہے)۔ مگر اس وقت مشاعرہ اپنے معیار پر سمجھوتہ کرنے کا قائل نہیں ہوا کرتا تھا لہٰذا عمر یا نسل پر سمجھوتا مجبوری ہوا کرتی تھی۔ ان دنوں کوئی ایک آدھ بھرتی یا پرچی کا شاعر/ شاعرہ آ جاتے تو سامعین خود ہی انھیں احساس دلا دیتے کہ وہ سامعین کو احمق نہ سمجھیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو مدیران اور صحافیوں میں اتنی جرات تھی کہ وہ باقاعدہ اپنی رپورٹنگ میں لکھ دیتے کہ فلاں شاعر/شاعرہ کا نام مشاعرہ میں شامل ہی نہیں تھا مگر فلاں سینئر شاعر کی ” سفارش” پر انھیں پڑھوایا گیا۔ افسوس کہ پھر ایسے لوگ لفافے کے چکر میں انھیں لوگوں کو بڑھانے چڑھانے میں لگ گئے جن کا تعارف ہی سفارش تھا۔ اور جینوئن شعرا/ شاعرات جنھوں نے اپنی محنت سے، اپنے قدموں پر سفر طے کیا ان کے جائز حق کو تسلیم کرنے میں بھی کم ظرفی دکھانے لگے۔ نتیجہ آج ہم سب کے سامنے ہے اور آثار بتا رہی ہیں کہ ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے
    بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے

    بہرحال اس مشاعرہ کا انعقاد دنیائے ادب کا ایک ایسا کارنامہ تھا جسے سراہنا چاہیے۔ گزشتہ دنوں دنیائے ادب نے اس مشاعرہ کی تصاویر شیئر کیں تو سوچا دنیائے ادب کے خصوصی شکریہ کے ساتھ یہ تصاویر آپ احباب کے سامنے پیش کی جائیں۔

  • پاکستانی فضا میں اپنائیت،احوال ادبی محفل کا،تحریر : سیدہ عطرت بتول نقوی

    پاکستانی فضا میں اپنائیت،احوال ادبی محفل کا،تحریر : سیدہ عطرت بتول نقوی

    کل رم جھم برستی بارش اور لاہور کے خوبصورت خنک موسم میں فرح ہاشمی کے آ رٹسٹک گھر میں شاندار نشست ہوئی ، فرح ہاشمی صاحبہ نے آ ئرلینڈ سے آ ئیں مصنفہ ڈاکٹر سیمیں رخ کے اعزاز میں اس نشست کا اہتمام کیا تھا فرح ہاشمی کے گھر کی شاندار ڈیکوریشن اینٹکس ، سٹڈی روم گھر کا ہر گوشہ انتہائی آ رٹسٹک طریقے سے ڈیکور کیا گیا تھا اور فرح کے اعلیٰ زوق کا آ ئینہ دار تھا سب نے بہت تعریف کی اور ڈرائینگ روم میں موجود چرخے نے تو سب کا دل موہ لیا وہ چرخہ جو سنا تھا چاند پر موجود ہے اور بڑھیا صدیوں سے کات رہی ہے چرخے کے علاوہ اور بھی ثقافتی اشیا لالیٹن ، حقہ ، ہاتھ سے بنے پنکھے ، ڈیکوریشن کے علاوہ کھانے کی میز پر بھی فرح کا سلیقہ نظر آ رہا تھا تمام چیزیں گھر کی بنی اور مزیدار تھیں ، فرح نے عمدہ میزبانی کی ہر چیز خود پیش کرتی رہیں ، کباب ، سموسے ، دہی بڑے ، پاسٹا ، پکوڑے ، سویٹ ڈش ، گھر کی بنی ہر چیز مزیدار تھی ، کھا نے کے بعد محفل شعر وسخن ہوئی سب نے اپنا کلام سنایا مارچ میں یوم خواتین کے حوالے سے عمدہ شاعری سننے کو ملی.

    ڈاکٹر سیمیں رخ نے اپنی کتب ،، باد مسموم ،، زرد پتوں کی بارش ،، اور ،، ایک تھی ستارہ،، سب کو پیش کیں ، ڈاکٹر سیمیں رخ آ ئر لینڈ میں مقیم ہیں پریکٹسنگ ڈاکٹر ہیں آ جکل پاکستان آ ئی ہوئی ہیں پاکستانی اہل قلم خواتین سے ملکر خوش تھیں انہوں نے بتایا کہ اگرچہ پاکستان میں پلوشن اور ٹریفک کے مسائل ہیں لیکن اپنے ملک کی فضاؤں میں اپنائیت ہے انہیں اپنی پذیرائی اچھی لگ رہی ہے

    اس نشست میں ہمارے علاوہ کنول بہزاد ، شاہین زیدی اور شاعرہ شاہدہ مجید نے شرکت کی ، بہت خوبصورت شام تھی رات گئے تک یہ محفل جمی رہی ، ڈاکٹر سیمیں رخ چند دنوں بعد آ ئیرلینڈ سدھار جائیں گی ، اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اگلی بار وہ آ ئیں تو پاکستان کے مسائل ختم ہو چکے ہوں اور ٹریفک اور پلوشن کے حوالے سے ہمارا معاشرہ بھی اسی طرح منظم ہوجائے جیسا کہ انہوں نے بتایا آ ئیر لینڈ میں ہے –

  • قصہ ایک اور ۔۔۔ ادبی نشست کا .پاک ٹی ہاؤس لاہور.تحریر:عمارہ خان

    قصہ ایک اور ۔۔۔ ادبی نشست کا .پاک ٹی ہاؤس لاہور.تحریر:عمارہ خان

    زمانے بعد کسی ادبی محفل میں جانا نصیب ہوا، جو یقیناً سراسر وقت کا ضیائع ہی تھا، شدید تھکن اور بےزاری کا عالم دیکھ ہی لیں، جتنا برداشت ہوسکا کیا اور پھر سب سے کونے میں موجود نشست دیکھ ” انٹاغفیل”
    خیر، جانا نہایت مجبوری ۔۔۔ محفل میں افسانہ، نظم، غزل پڑھی جانی تھی، جس پر تنقیدی نگاہ ڈالنی تھی ۔۔۔افسانہ ہماری دوست کا تھا، ہم نے سب سے پہلے سبو پیاری کے ساتھ شاعر حضرات کو فرشی سلام کیا، بہت ہی دل جگرے کی بات، سوشل میڈیا کے بےجواز اور بلاوجہ وقت پاس کرنے تنقید کوتو جھیل جاؤ، مگر بچگانہ بحث، منفیت تبصرے، آمنے سامنے برادشت کرنا ۔۔۔۔ ست سلام ۔۔ شاعری ہماری لائن نہی، اسی لیے اس پر تبصرہ کرنا مناسب نہی لیکن ۔۔۔لکھنا تو۔۔.۔۔ افسانہ تھا ایک پہاڑی علاقے کے مقامی لوگوں کا، پوسٹ مارٹم میں جو یوزلیس تبصرے ہوئے،انگشت بدنداں ۔۔ حیرت سے انگلیاں منہ میں دابنی ہی رہ گئ سمجھیں ۔۔ ہم سمجھتے رہے وقت کچھ بدل سا گیا مگر ۔۔۔ نہ جی ۔۔۔ سوائے ایک دو لوگوں کے، جنہوں نے واقعی ڈھنگ کا تجزیہ کیا تھا باقی ۔۔۔
    ” افسانے میں بلندیوں کا زکر ہے، پستی کا نہی ”
    افسانے میں بہار کا زکر یے خزاں کا نہی ”
    ” افسانے میں صرف مقامی کلچر کا زکر ہے ”
    ۔۔۔۔۔
    بہ خدا، دس پندرہ سال پرانا وقت یاد آگیا، جب سوشل میڈیا پر ایک ادبی گروپ میں شامل تھے، دنیا بھر کے فارغ بابا اور بابی و چند نئے نئے ” جامے سے باہرجاتے ” لوگ بھی نمایاں، دو چار انتہا درجے کے ” چغد و ٹھرکی” افراد ہمراہ ” عورت کے جسمانی خدوخال کو واضح انداز میں بیان کرنا اور ان کے زہنی مسائل کو اجاگر کرنا جو صرف بیڈروم و بستر کے اردگرد گھومتا رہ وغیرہ وغیرہ ” شامل تھا ۔۔۔ اور ہاں کچھ وہ خواتین نما نفسیاتی مسائل کا شکار عورتیں بھی جو ” نیوڈ پینٹنگ اور ان پر کھل کے تبصرہ ” کو ادب کا درجہ دیتیں، چند ایک بار کچھ لوگوں سے جب پوچھا، ہم بستری کے علاوہ دنیا میں کچھ لکھنے نہی تو جواب ملا، یہ حقیقت ہے، جب ان سے پوچھا صبح سویر انسان کو اٹھ کے صرف باتھ روم جانے کی چاہ ہوتی، وہ حقیقت نہی ؟؟ کبھی اس پر بھی تو گولڈن الفاظ ہوجائے تو ۔۔۔ خیر ہم اس ادبی گروپ سے نکال باہر کیے گئے کیونکہ ایک تو ہم ڈائجسٹ رائٹر دوسرا جب پوچھتے، آپ کے گھر جو عورتیں ماں بہن بیوی بیٹی کے نام پر خوبصورت جسم رکھنے والی موجود ان کے نفسیاتی مسائل حل کیے تو پتہ نہی انہیں برا کیوں لگ جاتا تھا، ماحول کااندازہ تو ہوہی گیا ہوگا ۔۔۔ تو ہم اپنی کم عقلی کو اولین ترجیحات میں رکھتے سمجھتے رہے، ادب کا پرچار کرنے والے الگ لوگ ہوتے ہیں، ہم کمرشل لکھاری کو اسی لیے کمتر سمجھتے کہ وہ زیادہ گہرائی میں جاکے سمجھتے پڑھتے لکھتے ۔۔۔۔ اور الحمدلله، ایک بار پھر ہم غلط ثابت ہوئے ۔۔۔۔ واقعی ادبی لکھاری و ڈائجسٹ لکھاری کا کوئی تال میل نہی ۔۔۔ ہم لوگ ان سے زیادہ نفیس و ادب آداب والے ہیں ۔۔۔ کم از کم بہت ہی کم کسی کمرشل لکھاری کو کسی کی بات کاٹ کے اپنی بات کرتے، کسی کا تعارف صبر سے نہ سنتے، اپنا وقت پاس کرتے تنقید کرتے، بحث برائے بحث دیکھا ہے
    ” ڈائجسٹ لکھاری ۔۔۔۔ سوکالڈ ادبی لکھاری سے زیادہ ادب رکھتے ہیں "

  • نمرہ ملک،فخر تلہ گنگ، صحافت میں ایک قابل فخر نام

    نمرہ ملک،فخر تلہ گنگ، صحافت میں ایک قابل فخر نام

    صحافت ایک ایسا مقدس پیشہ ہے جس کی اہمیت اور اثرات معاشرتی ترقی میں بے شمار ہیں۔ یہ پیشہ ایک ایسی ذمہ داری ہے جس میں صرف سچائی، ایمانداری، اور محنت کی بنیاد پر کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔ تاہم، یہ بات بھی حقیقت ہے کہ صحافت کے میدان میں قدم رکھنا ہر کسی کے لیے آسان نہیں۔ خصوصاً ایک خاتون کے لیے اس میدان میں جگہ بنانا اور اپنے لیے ایک معتبر مقام پیدا کرنا اور بھی زیادہ چیلنجنگ ہو سکتا ہے۔ایسی ہی ایک جرات مندانہ مثال نمرہ ملک کی ہے، جو تلہ گنگ سے تعلق رکھتی ہیں۔ نمرہ ملک نے نہ صرف صحافت کے میدان میں قدم رکھا بلکہ اس میدان میں اپنی محنت، لگن اور قابل رشک کامیابیوں کے ذریعے نہ صرف اپنا نام بنایا بلکہ اپنے علاقے کا بھی نام روشن کیا۔
    nimra malik talagang

    نمرہ ملک کا صحافت سے تعلق کئی برسوں پر محیط ہے، اور ان کی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز بہت محنت سے ہوا۔ انہوں نے کئی اہم اخبارات اور میڈیا اداروں سے وابستہ رہ کر صحافت کے اصولوں کو سیکھا اور اپنے کام میں بہترین مہارت حاصل کی۔ ان کی تحریریں نہ صرف پڑھنے والوں کو معلومات فراہم کرتی ہیں بلکہ ان کے دلوں تک پہنچ کر انہیں متحرک بھی کرتی ہیں۔
    nimra malik talagang
    نمرہ ملک نہ صرف صحافت کی دنیا میں بلکہ ادب کی دنیا میں بھی ایک نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ وہ کئی کتابوں کی مصنفہ ہیں، جن میں مختلف موضوعات پر قلم اٹھایا گیا ہے۔ ان کی تحریریں اپنے اندر ایک منفرد زاویہ اور گہرا پیغام رکھتی ہیں، جو نہ صرف قارئین کو سوچنے پر مجبور کرتی ہیں بلکہ انہیں دنیا کو ایک نیا نقطہ نظر بھی فراہم کرتی ہیں۔نمرہ ملک نے اپنی محنت اور لگن کے ذریعے صحافت میں بے شمار ایوارڈز جیتے ہیں۔ ان کے نام نو سو سے زائد ایوارڈز ہیں، جو ان کی محنت اور پیشہ ورانہ قابلیت کا غماز ہیں۔ یہ اعزازات ان کی جدو جہد اور کمیونٹی میں ان کی خدمات کو تسلیم کرنے کا واضح اظہار ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تلہ گنگ کے کسی بھی "مرد صحافی” کو اتنی عزت نہیں ملی جو نمرہ ملک نے حاصل کی ہے۔
    nimra malik talagang

    نمرہ ملک کی کامیابی صرف ان کی محنت کا نتیجہ نہیں بلکہ ان کی مستقل مزاجی، لگن، اور جرات کا بھی منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے صحافت کے میدان میں قدم رکھتے وقت جہاں ایک طرف خواتین کے لیے اس میدان میں اپنے آپ کو ثابت کرنا ایک بڑا چیلنج تھا، وہیں دوسری طرف انہوں نے اپنے کام کے ذریعے ثابت کیا کہ اگر انسان میں عزم و ہمت ہو تو کوئی بھی مشکل راستہ رکاوٹ نہیں بن سکتا۔نمرہ ملک کی کہانی ایک ایسی کامیاب خاتون کی کہانی ہے جس نے نہ صرف اپنے علاقے کا نام روشن کیا بلکہ صحافت کے میدان میں عورتوں کے لیے نئی راہیں کھولیں۔ ان کی کامیابی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اگر انسان اپنی محنت، ایمانداری اور لگن کے ساتھ کسی بھی شعبے میں قدم رکھے، تو وہ نہ صرف اپنے خوابوں کو حقیقت بنا سکتا ہے بلکہ اپنے معاشرتی دائرے میں بھی ایک تبدیلی لا سکتا ہے۔نمرہ ملک کی کامیابی نہ صرف ان کی ذاتی جدو جہد کی نشاندہی کرتی ہے بلکہ یہ ایک پیغام بھی ہے کہ کامیابی کا کوئی واحد راستہ نہیں ہوتا، اور محنت اور عزم کے ساتھ اپنی راہ بنانے کا جذبہ کبھی ناکام نہیں جاتا۔
    نمرہ ملک کے لیے ڈھیروں دعائیں۔۔۔۔
    nimra malik talagang

    nimra malik talagang

    nimra malik talagang

    نمرہ ملک کا مختصر تعارف،نمرہ ہی کی زبانی
    پروفیسر نمرہ ملک پرائڈ آف پرفارمنس مصنفہ ادیبہ
    ماسٹرز ان اردو،ماس کمیونکیشنز۔بی ایڈ ،میڈیکل
    مختلف زبانوں میں انٹرپریٹر ہوں۔
    مبصرہ ناولسٹ
    افسانہ نگار
    کالم نگار(میرے کالمز پہ سوموٹو ہو چکے ہیں۔)
    کمپیئر
    اینکر پرسن
    سفر نامہ نگار
    صحافی
    چیئرپرسن ضلع پریس کلب تلہ گنگ
    ضلع چکوال کی پہلی ورکنگ جرنلسٹ۔۔۔۔نیشنل جرنلسٹ
    مختلف قومی چینلز اور اداروں کے ساتھ جرنلزم کا اعزاز حاصل ہے
    قومی،صوبائی اور علاقائی ایوارڈز یافتہ
    حالیہ ملٹی لیگنوہجز نظمیہ کتاب "کہیں تھل میں سسی روتی ہے”کو گینز بک آف دی ورلڈ ریکارڈ کے لیے منتخب کیا جاچکا ہے جب کہ ملک بھر میں اس پہ چار گولڈ میڈلز،اٹھارہ پزیرائیاں اور سترہ شیلڈز مل چکی ہیں۔
    "شاہ سائیں” ناول کو پاکستان کا 2020 کا بیسٹ رائٹر ایوارڈ مل چکا ہے۔
    پنجابی مجموعہ "مہنڈی روح دے یوسف بولیں ناں”کو پنجاب گورنمنٹ کی جانب سے باقاعدہ سراہا جا چکا ہے۔
    پندرہ کتب کی مصنفہ ہوں۔
    میری پانچ مختلف زبانوں میں کتب آچکی ہیں
    پندرہ زبانوں میں شاعری کا اعزاز حاصل ہے
    انٹرنیشنل حجاب ایوارڈ یافتہ ہوں
    ریڈیو ،ٹی وی اور مختلف چینلز سے لاتعداد شیلڈز،ایوارڈز اور سرٹیفیکیٹس مل چکے ہیں جن کی تعداد آٹھ سو سے زائد ہے
    کئی ادبی،و سماجی تنظیموں سے وابستگی ہے۔
    میرا سب سے بڑا تعارف یہ ہے کہ میں آن لائن تفسیر پڑھاتی ہوں اور حافظہ کے ساتھ عالمہ بھی ہوں۔الحمدللہ

    ضلع تلہ گنگ کی پہلی خاتون صحافی ہوں۔پانچ مختلف زبانوں میں لکھتی ہوں۔پندرہ مختلف زبانوں کواپنی شاعری کا حصہ بنایا۔ادب اطفال کی جانب سے متعدد بار ایوارڈز مل چکے ہیں۔بچوں کے رسالے "پھول” میں پہلی کہانی شائع ہوئی تھی۔
    nimra malik talagang
    میری کتابوں کی تفصیل ۔
    مہنڈی روح دے یوسف۔(پنجابی شاعری)
    شاہ سائیں(ناول)
    دریچہ (کالمز)
    کہیں تھل میں سسی روتی ہے(ملٹی لینگویجز نظمیں)
    بہ نوکِ خار می رقصم(فارسی کلام)
    مرحبا یا سیدی(عربی کلام)
    کتاب زیست(ناول)
    عشق کی تال تا تھیا!!(ناول)
    آؤ خواب خواب کھیلیں(اردو غزل)
    ah my dreams!!(انگلش )
    مائے نی (پنجابی ماہیا،)
    6.(افسانے)
    مرشد خانہ (سفر نامہ)
    میں کملی دا ڈھولا(اردو ،پنجابی ناولٹ،افسانے)
    پیمانہ بدہ(فارسی کلام)

    من محرم کہ رب محرم(ناول۔۔۔زیرتکمیل)
    جیا عالم ہے (زیر تکمیل مجموعہ افسانے)
    (نمرہ ملک)

  • آئینہ دکھانا مرا کام ہے.تحریر:نمرہ ملک

    آئینہ دکھانا مرا کام ہے.تحریر:نمرہ ملک

    اللہ کریم نے آپ کو عزت دی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کی محنت سے زیادہ اس رب کا آپ پہ کرم ہے۔
    سو اسی ودود کی محبتوں کو سمیٹتے ہوئے مخلوق خدا کو بھی اسی عزت سے نوازیں جس کے آپ خود کو حقدار سمجھتے ہیں۔
    اگر آپ کسی کو عزت نہیں دے سکتے تو آپ کو کسی کی بھی عزت نفس سے کھیلنے کا حق حاصل نہیں ہے۔جیسے آپ اپنی فیلڈ کے شاہ سوار ہیں،ہو سکتا ہے سامنے والا اپنی فیلڈ میں آپ کی توقع سے بڑھ کر کامیاب ہو!!!!
    اپنی نظر سے دنیا کو مت دیکھیں۔اپ کا نظریہ آپکی رائے آپکا جمہوری حق ضرور ہے مگر ضروری نہیں درست بھی ہو!!!
    دنیا کو اس نظر سے بھی مت دیکھیں کہ جس نظر سے دنیا اپکو دیکھے گی تو اپکو برا لگے گا۔

    مجھے قلم کے میدان میں لکھتے، سیکھتے دو دہائیاں ہو گئی ہیں۔۔۔۔میں نیشنل جرنلسٹ بھی ہوں۔یہ مقام میں نے بہت رگڑے کھانے،زندگی کی بہت سی ماریں کھا کر حاصل کیا ہے۔صرف میں وہ تکلیف سمجھ سکتی ہوں جو کسی لڑکی کو اک محدود ماحول میں سہنا پڑی ،اک ایسے چھوٹے علاقے میں جہاں مردانہ راج ہے،جہاں میٹریکولیٹ صحافت ہے،جہاں تھانے کچہری کی سیاست ہی صحافت ہے،جہاں پولیس کے اک کانسٹیبل کے ساتھ اک تصویر ہی ڈی پی کا فخر سمجھی جاتی ہے،جہاں انتظامیہ سے تعلقات ہی سرمایہ سمجھے جاتے ہیں،جہاں کورٹ کچہری سے بھی زیادہ کیسز میٹرک پاس انتظامیہ کا سر چڑھا لفافہ "صوحافی” دونوں طرف سے پیسے بٹور کر حل کرلیتا ہے،اور ایمانداری سے اپنا حصہ نکال کر باقیوں کا تقسیم کرتا ہے۔۔۔جہاں کی رپورٹنگ قل خوانی،ککڑ کڑاہیاں،فاتحہ جنازہ،ولیمے کی تصاویر لگا کے ساتھ "سنئیر جرنلسٹ کی فلاں ولیمے میں شرکت” کے کیپشن کے ساتھ کی جاتی ہے۔۔۔۔

    وہاں سات سال باقاعدہ اک میڈیا گروپ آفس میں رہنا اور تن تنہا ہزاروں مخالفتیں سہہ کر بھی شفاف صحافت جاری رکھنا اک عورت کے لیے کتنا مشکل تھا۔۔۔۔
    صرف میں جان سکتی ہوں۔۔۔۔آپ نہیں!!!
    سو آپ کو میرے بارے بنا جانے رائے دینے کا حق بھی نہیں!
    حق سچ پہ کالمز لکھنے پہ اغوا میں ہوئی تھی،اپ نہیں
    سو آپ کو حقیقت جاننی چاہیے
    حق لکھنے،حق کے ساتھ کھڑے ہونے اور سیاسی شخصیات کا نام لے کر کالم لکھنے والی اس لڑکی جسے اسی پاداش میں ایک ہی ہفتے میں مسلسل سات بار ایکسیڈنٹ کے زریعے مارنے کی کوشش کی گئی ،میں ہوں۔۔۔میں نمرہ ملک۔۔۔
    اور اس بات کے دوستوں کے ساتھ دشمن بھی گواہ ہیں۔۔۔۔میری زبان تک کٹ گئی تھی۔۔۔۔لیکن قلم نے ہار نہیں مانی تھی۔۔۔( اس حوالے سے کسی کو بھی شک ہو تو وہ پریس فورم میڈیا گروپ کے چیف ایگزیکٹو ریاض انجم سمیت کسی بھی زمہ دار شخص سے تصدیق کر سکتا ہے)
    مجھے یہ نو سو کے قریب شیلڈز، قومی و سرکاری اعزازات،سوموٹو اور پندرہ کتب کا خالق ہو جانا کسی سیاسی پارٹی کی چاپلوسی کی وجہ سے نہیں ملے۔۔۔۔۔اگر ملتے اور مجھے کھاؤ اور کھلاؤ پالیسی آ جاتی تو آج میں صحافتی پابندیوں کی زد میں نہ ہوتی۔۔۔۔
    یہ مجھے میرے قلم کی کمائی سے ملے ہیں۔وہ قلم جسے میں نے چوری چوری استعمال کرنا شروع کیا تھا،اور پھر وقت نےاسی قلم کی بدولت مجھے اس دور کے سب سے بڑے میڈیا میں لا کھڑا کیا!!!
    سچ کہوں ناں تو یہ مجھ سے بھی زیادہ میرے والدین کا قصور ہے جنہوں نے حرام نہیں کھلایا اور نہ کھانے کی ترغیب دی،ورنہ میں بھی رچ بس جاتی،مس فٹ نہ ہوتی!!!

    جب آپ لوکل سطح پہ سالوں اک میڈیا گروپ کو رن کرنے میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں تو خود بہ خود نظروں میں رہتے ہیں، کہیں آپ کی بے حد عزت کی جاتی ہے تو کہیں آپ کے پیٹھ پیچھے برائیاں ،کردار کشی اور پاؤں کے نیچے زمین کھینچ لینے کی بھرپور کوشش کی جاتی یے۔۔۔
    مجھے بھی یہ سب دیکھنا پڑا!!!دیکھتی آئی ہوں اور اب بھی دیکھ رہی ہوں۔۔۔۔۔

    جہاں میری کامیابیوں سے تعصب زدہ معاشرے میں تکلیف دہ حالات نے مجھے ہر موڑ پہ آزمایا وہاں میرے علاقے کا۔۔۔۔میں دہراتی ہوں۔۔۔۔۔
    میرے اپنے علاقے کا
    میرے تلہ گنگ چکوال پنڈی ڈویژن کا ہر وہ شخص جو میری قلمی فتوحات کو سمجھتا ہے وہ مجھے بہت محبت اور عزت دیتا ہے۔کیونکہ میں نے جب جب لکھا،عام آدمی کے لیے لکھا
    ٹوٹی سڑکیں کھڈے بنیں تو قلمکار نے ٹوٹے ہوئے قلم کو تلوار بنایا۔۔۔
    تعلیمی اداروں کی اپ گریڈیشن کی بات آئی تو قلم نے بھرپور آواز اٹھائی،جہاں کہیں کسی کو ضرورت پڑی،قلمکار نے اپنا ہنر بیچا نہیں ،آزمایا اور فتح پائی ۔۔۔۔
    وہ ٹرانسپورٹ والے ہوں
    وہ عام دکاندار ہوں ،مجھے عزت دیتے ہیں،میرے لیے سیٹ خالی چھوڑ دیتے ہیں،کیونکہ یہ ہی میرے قلم کی کل خرید ہے،کل سرمایہ ہے،کل کائنات ہے!!!
    وہ سٹی ہاسپٹل کا ٹراما سینٹر ہو یا سٹاف۔۔۔
    وہ بائی پاس کے سٹے ہوں یا روڈز
    وہ ملکی و قومی نمائندگی ہو یا علاقے کی ترجمانی۔۔۔۔
    وہ صحافت ہو ناول نگاری۔۔۔میں نے اپنی طرف سے جو حق ادا کرنے کی کوشش کی سو کی،لیکن میرے عام لوگوں نے مجھے بے حد عزت دی ہے
    اور جب عام آدمی آپ کو عزت دینے لگ جائے تو آپ سمجھ جائیں ،آپ کا ایلیٹ طبقہ جتنا مرضی آپ کے خلاف ہو،حق کا ساتھ ہمیشہ چھوٹے لوگ دیتے ہیں۔
    جب میری کسی پزیرائی پہ مجھے طنزا کہا جائے کہ”تم کیا کوئی وزیراعظم لگی ہوئی ہو؟؟؟ جو تمہیں لوگ پروٹوکول دیں،” تومجھے ان لفظوں سے تکلیف ضرور ہوتی یے۔لیکن یہ احساس بھی ساتھ رہتا ہے کہ سامنے والے نے وہ دکھ،وہ تکلیف نہیں دیکھی جو بحثیت اک خاتون صحافی کے میں نے دیکھی ہے۔سو جب کوئی میرے قلم کی بدولت مجھے عزت دیتا ہے تو مجھے وہ انسلٹ یاد نہیں رہتی جو کسی تعصب یا بنا کچھ جانے کسی کے لفظوں سے محسوس ہوتی ہے۔مجھے وہ محبتیں یاد رہتی ہیں،وہ دعائیں یاد رہتی ہیں جو میں نے کہیں نہ کہیں اپنے لوگوں کے لیے آواز بلند کر کے بلا معاوضہ اپنے نام کی ہیں۔
    "چھوٹے لوگوں کے لیے بڑی باتیں مت کرنا شروع کر دیا کرو” کہنے والو!!!
    میں نمرہ ملک وزیراعظم نہیں ہوں،بہت چھوٹے قد کی چھوٹی سی قلمکار ہوں مگر مجھے فخر ہے کہ میں بہت سے چھوٹے لوگوں کی بڑی محبتوں کی آمین ہوں ۔

  • عوامی درد سے محروم حکمرانوں کی عقل کے بخیے اُدھیڑنے والے درزی شاعر

    عوامی درد سے محروم حکمرانوں کی عقل کے بخیے اُدھیڑنے والے درزی شاعر

    عوامی درد سے محروم حکمرانوں کی عقل کے بخیے اُدھیڑنے والے درزی شاعر
    تحریر:ظفر اقبال ظفر
    ان کا اصل نام چراغ دین ہے۔ آپ برصغیر کے پنجابی حلقوں کے مقبول ترین شاعر تھے۔ ان کی شاعری عوام کے دلوں کی دھڑکنوں کا حصہ ہے۔ وہ اپنی جرأت اظہار اور بے باک صلاحیتوں کی بدولت پنجابی ادبی تاریخ میں صفِ اول کے شاعر تھے۔ انہوں نے جہاں بہت سی ہنگامی صورتحال کی عکاسی کرنے والی نظمیں لکھی ہیں وہاں پائیدار اور لافانی نظمیں بھی تخلیق کی ہیں۔ ہیر رانجھے کی داستان کو اپنے مخصوص انداز میں لکھ کر پنجابی شاعری کے ذخیرے میں بیش قیمت اضافہ کیا۔

    آپ اندرون لاہور چوک مستی میں پیدا ہوئے، تیرہ سال کی عمر میں آپ کا محنتی غریب درزی گھرانہ چوک مستی سے باغبان پورہ منتقل ہو گیا۔ آپ کے والد میراں بخش لوہاری دروازے کے باہر ایک دوکان پر درزی کا کام کرتے تھے ۔ استاد دامن کا ایک بھائی اور ایک بہن تھی جو آپ سے عمر میں بڑے تھے ۔ استاد دامن کا رنگ گورا، گرج دار آواز، سر کے بال استرے سے صاف کروا کے رکھتے ، دوتہی کرتہ نیچے سلوکہ کندھے پہ چادر، سر پر پگڑی نما پٹکا تن زیب رکھتے تھے ۔

    بچپن سے ہی پڑھائی کے شوقین ساندھادیو سماج سکول لاہور سے میٹرک کر کے دیال سنگھ کالج میں داخلہ لیا مگر چھ ماہ بعد ہی والد کی بیماری اور گھریلوحالات کے پیش نظرتعلیم جاری نہ رکھ سکے، قرآن پاک حفظ کیا ، والد کی خواہش و کوشش تھی کہ ان کا بیٹا ان کی زندگی میںہی سلائی کا سارا ہنر سیکھ کر روزی روٹی کمانے کے قابل ہو جائے ، والد کی تکمیل خواہش اور ضروریات زندگی کے وسائل بڑھانے کے لیے آپ نے استاد وہاب نامی ٹیلر کی شاگردی میں کوٹ پتلون ، اچکن ، شلوار، قیمض بنانے میں کمال مہارت حاصل کی، اُس وقت شلوار قمیض کی سلائی دس آنے ہوتی تھی مگر استاد دامن دس روپے لیتے تھے کیونکہ وہ نلکی کے دھاگے کی بجائے کپڑے کے اندر سے دھاگہ نکال کر سوٹ سلائی کرتے تھے جس کی وجہ سے سلائی نظر نہیں آتی تھی ۔ آزادی کی بڑی بڑی تحریکوں کے راہنما لیڈرآپ سے اپنے کپڑے سلواتے تھے۔

    آپ نے اپنے دور میں تجویز خطی کے بڑے شاعر باؤ ہمدم کی شاگردی میں اپنے خیالوں کو شاعری میں مزید نکھارا، مگر استاد دامن پیدائشی شاعر تھے انہوں نے دس برس کی عمر میں شعر کہنا شروع کر دئیے ۔آپ کے والد میراں بخش خود صوفیانہ شاعری کے دیوانے تھے جنہیں ہیر وارث شاہ اور فضل شاہ کی سوہنی زبانی یاد تھی جبکہ استاد دامن بھی ہیر وارث شاہ کی بحر میں لکھتے۔ پہلا مشاعرہ پندرہ سالہ عمر میں باغبان پورہ لاہور میں پڑھا جس کی صدارت استاد دامن سے اپنے کپڑے سلوانے والے کانگرس رہنما میاں افتخار الدین نے کی ۔اس موقع پر سردار گیانی گرمکھ سنگھ مسافر نے صدر مشاعرہ سے کہا کہ استاد دامن نے بہت کمال شعر پڑھے ہیں ۔

    انہیں سو روپیہ انعام دیا جائے پہلے مشاعرہ میںہی نامور استاد شاعروں میں اپنا آپ منوانا اور انعام پانا استاد دامن کے فن شاعری کا قد بتاتا ہے ۔ آپ نے عطا اللہ شاہ بخاری ؒ جیسے لوگوں کی موجودگی میں سیاسی ،سماجی اور مذہبی جلسوں میں اپنے کلام پڑھے اور عوام کے دلوں کی آواز بن کر اُبھرتے چلے گئے ۔ پنجابی کے علاوہ کسی اور زبان میں شعر نہیں کہے جبکہ وہ فارسی، عربی، روسی، اردو، ہندی، انگلش اور سنسکرت زبانوں پر بھی عبور رکھتے تھے۔ استاد دامن نے شاعری کی فنی خوبیوں پر قدرت رکھنے کی بدولت اہل علم و فن سے استاد کا خطاب حاصل کیا ۔ استاد دامن غریبوں، مظلوموں ،مزدروں، کسانوں جیسے پسے ہوئے طبقوںکے لیے آواز اُٹھانے اور استحصالی طبقوں کی مزحمت کرنے والے بااثر شاعرتھے ۔

    میرے ہنجواں دا پانی پی پی کے

    ہری بھری اے بنجر زمین ہو جائے

    ایدے منہ تے سرکھی چاہی دی اے

    میرے لہو توں پاوئیں رنگین ہو جائے

    استاد دامن کی سب سے بڑی خوبی ان کی فی البدیہ گوئی تھی، وہ موقعوں کی مناسبت سے چند لمحوں میں اشعار کی مالا پرو دیتے تھے، آزادی کے کچھ عرصے بعد انہوں نے دہلی میں منعقد مشاعرے میں شرکت کر کے یہ نظم پڑھی۔

    ایناں آزادیاں ہتھوں برباد ہونا

    ہوئے تسی وی او ہوئے ایسی وی آں

    کج امید اے زندگی مل جائے گی

    موئے تسی وی او موئے اسی وی آں

    جیوندی جان ای موت دے منہ اندر

    ڈھوئے تسی وی او ڈھوئے اسی وی آں

    جاگن والیا رج کے لٹیا اے

    سوئے تسی وی او سوئے اسی وی آں

    لالی اکھیاں دی پئی دسدی اے

    روئے تسی وی او روئے اسی وی آں

    انسانی جان پر آزادی کے نام سے ٹوٹنے والی قیامت کے شکار حاضرین مشاعرہ بے اختیار رونے لگے، مشاعرے میںموجودبھارتی وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو بھی آبدیدہ ہو گئے ، انہوں نے استاد دامن کو آزادی کا شاعر کے خطاب سے نوازتے ہوئے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ مستقل طور پر بھارت میں قیام پذیر ہو جائیں مگر انہوں نے جواب دیا کہ میرا وطن پاکستان ہے ، میں لاہور میں ہی رہو ں گا، بیشک جیل میں ہی کیوں نہ رہوں، 1962میں بھارتی وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو لاہور آئے۔

    ائرپورٹ پر اترے تو انہوں نے پاکستانی گورنر اختر حسین سے کہا کہ میں استاد دامن سے ملنا چاہتا ہوں مگر ادب کی دولت سے ناآشنا گورنر اختر حسین نے اپنے لوگوں سے پوچھا کہ کون ہے استاد دامن؟اس درویش سے ناواقف حکمرانوں کی موجودگی کے باوجود اس محب وطن شاعر نے ساری زندگی غربت و افلاس میں گزارنے کے باوجود پاکستان کے ہی گیت گائے، اس پاک دھرتی کو نفرتوں بے ایمانیوں عیاریوں سے پاک کرنے کے لیے عوام میںاپنی شاعری کے زریعے انسانی حقوق کی صدائیں بلند کیں اور امن و محبت کے پھول نچھاور کرتے رہے اور ساتھ ساتھ اُن برائیوں کی بھی مزاحمت کرتے رہے جو عوامی مفاد کے نقصان میں تھیں، استاد دامن نے حکمرانوں کی کوتاہیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے بھرپور تنقید کے ساتھ عوامی شعور کو بیدا ر کیا، عوامی حقوق کے کھوکھلے نعروں اور ملکی زوال پہ لکھتے ہیں ۔

    کھائی جاؤ کھائی جاؤ بھیت کنھے کھولنے

    وچوں وچ کھائی جاؤ اُتوں رولا پائی جاؤ

    انا مارے انی نوں کسن وجے تھمی نوں

    جنی تواتھوں انی پیندی اُنی انی پائی جاؤ

    کھائی جاؤ بھئی کھائی جاؤ بھیت کنھے کھولنا

    لڑکی والوں پر رسم و رواج اور بارات کے کھانے کا بوجھ ڈالنے کی مخالفت رکھنے والے استاد دامن نے1949میں ایک قطرین نامی لڑکی سے سادگی و پوشیدگی میںشادی کی جس سے ایک بیٹا بھی تھا جو پیدائش کے بعد مر گیا اور بیوی کے پیٹ میں رسولی تھی جس کا علاج کروایا مگر وہ بچ نہ سکی۔ استاد دامن نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ کوئی بھی انسان تنہائی کی زندگی نہیں گزارنا چاہتا مگر حالات و واقعات اسے اکیلے پن پر مجبور کر دیتے ہیں، میری پہلی شادی قدرت کو منظور نہ تھی اور دوسری شادی میرے نزدیک سودے بازی ہے۔ 1977کے فسادات میں ان کی دُکان کو آگ لگا دی گئی جس کے سبب مشکل مالی بحران کا شکار ہو کر باغبان پورہ سے بادشاہی مسجد کے قریب ٹیکسالی گیٹ میں واقع اُس حجرے میں منتقل ہو گئے جس میں اکبر بادشاہ کے زمانے میں حضرت شاہ حسین ؒبھی مقیم رہے، پھر تادم مرگ یہی حجرہ استاد دامن کا مسکن رہا ۔

    دامن دی بیٹھک نامی اس حجرے میںہند و پاک کے نامور ادیب ، گلوکار، اداکار اور سیاسی وسماجی احباب شاعر فیض احمد فیض، صوفی تبسم، حبیب جالب، امجد اسلام امجد، منو بھائی، ملکہ ترنم نور جہاں، ادکار محمد علی اور فلمسٹار علاؤ الدین جیسی عام و خاص قد آورشخصیات سیاسی ادبی فکری گفتگو کے لیے آیا کرتیں جن کے لیے استاد دامن مختلف ذائقہ دار خوراکیں اپنے ہاتھوں سے بنا کر پیش کیا کرتے، ٹیکسالی گیٹ کے اس حجرے میں استاد دامن 1950سے لیکر 1984تک رہائش پذیر رہے، یہیں سے ہی استاد دامن نے عوام کے حالات کی نبض پر ہاتھ رکھ کر حکومتی بیماریوں کی نشاندہی کی، استاد دامن کے سارے اشعار اپنی تاثیر کی وجہ سے ضرب المثل کا درجہ اختیار کر چکے ہیں۔

    استاد دامن نے زندگی اور معاشرے کا مطالعہ کھلی آنکھوں سے کیا، ان کے تجربات کی سلطنت انتہائی وسیع تھی، وہ کمال خوش اصلوبی سے عمومی سطح کے تجربوں کو بیان کرتے، دانائی کے موتی بکھیرتے چلے جاتے، ایک سچا شاعر ادیب ہر دور میں اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتا ہوا انجام کے خطرے سے بے خوف رہتا ہے ۔ استاد دامن کے بقول بڑے لکھاری کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ ہر قسم کی غلامی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرے ۔ استاد دامن کے شعور میں جوں جوں پختگی آتی گئی اُن کا ذہن دنیا سماج کائنات کے مسائل پر سفر کرتا گیا، وہ پسے ہوئے غریبوں پہ گزرنے والے حالات یوں بیان کرتے ہیں کہ

    ایتھے انقلاب آوے گا ضرور

    ایتھے انقلاب آوے گا ضرور

    ساڈے ہتھاں دیاں ریکھاں

    پیراں نال میٹن والیو

    او دو دو ہتھی

    دولتاں نوں اج سمیٹن والیو

    او لٹے پٹے ہویاں دی

    صف نوں سمیٹن والیو

    کر لووکوٹھیاں وچ چاننے

    کھو کے غریباں دا نور

    ایتھے انقلاب آوے گا ضرور

    ایتھے انقلاب آوے گا ضرور

    استاد دامن نے جرمن کمپنی جان ولیم ٹیلر سے سلائی کٹائی کا ڈپلومہ حاصل کر کے باغبان پورہ لاہور میں دامن ٹیلرنگ ہاؤس نامی اپنی دوکان کھولی، یہ درزی خانہ استاد دامن کی مادی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے کافی تھا مگر روحانی خوشی شاعری سے ہی حاصل ہوتی اور دیکھتے ہی دیکھتے استاد دامن کا درزی خانہ شاعری کا شوق رکھنے والوں کے لیے ایک درس گاہ کا روپ دھار گیا۔

    استاد دامن کی قلمی شخصیت پرفیض احمد فیض کہتے ہیں کہ میں پنجابی شاعری اس لیے نہیں کرتا کہ پنجابی میں شاہ حسین ؒ ، وارث شاہؒ اور بلھے شاہؒ کے بعد استاد دامن جیسے شاعر موجود ہیں اس کے علاوہ فیض صاحب نے استاد دامن کو پنجابی شاعری کا حبیب جالب بھی کہا۔ قیام پاکستان کے وقت جب شرپسندوں نے استاد دامن کی دُکان لائبریری اور کتابوں کو آگ لگا دی تھی جس میں ان کی ذاتی تحریریں اور ہیر کا مسودہ بھی شامل تھا جل کر راکھ ہو گئے تو انہوں نے اپنی قلمی کاوشیں کاغذ کے ٹکڑوں پہ لکھنے کی بجائے عوام کو سونپنی شروع کر دیں

    اسٹیجاں تے ہوئیے سکندر ہوئی دا اے

    اسٹیجوں اتر کے قلندر ہوئی دا اے

    الجھے جے دامن حکومت کسے نال

    بس اینا ای ہوندا اندر ہوئی دا اے

    ایوبی بھٹو اور ضیا دور میں قید کاٹنے والے استاد دامن نے بھٹو دور میں بھی حکومت کی پالیسیوں پر تنقیدی نظمیں لکھیں جب ایک طرف بھارت سے سو سال جنگ کرنے کی بات کرنے والے بھٹو صاحب اندرا گاندھی سے ملنے شملہ گئے تو اس پر استاد دامن نے بھٹو صاحب کو مخاطب کر کے یہ نظم لکھی

    ایہہ کیہ کری جانا ایں ایہہ کہ کری جانا ایں

    کدی چین جانا ایں کدی روس جانا ایں

    کدی شملے جانا ایں کدی مری جانا ایں

    جتھے جانا ایں بن کے جلوس جانا ایں

    دھسا دھس جانا دھسا دھوس جانا ایں

    لائی کھیس جانا اے کھچی دری جانا ایں

    ایہہ کی کری جانا ایں ایہہ کی کری جانا ایں

    یہ نظم جب بہت مشہور ہو گئی تو استاد دامن کو جیل میں ڈال دیا گیا، فیض صاحب کو یقین ہی نہ آئے کہ کوئی شخص استاد دامن کو جیل میں ڈال سکتا ہے ، استاد دامن پر جھوٹا الزام لگا کر مقدمہ بنایا گیا کہ ان کے پاس سے ریوالور بم برآمد ہوئے ہیں، جب مجسٹریٹ نے ان کو یہ بتایا تو انہوں نے کہا کہ میرے حجرے کا تو دروازہ چھوٹا تھا ورنہ وہاں سے تو ٹینک نکلنے چاہیئں تھے جس پر استاد دامن نے یہ نظم لکھی کہ

    چوکی تھانے حوالات کچہریاں نیں

    کتھے کتھے جا کے میرے کم نکلے

    نکلے کوئی میدان وچ نکل سکدا اے

    سینہ ٹھوک کے تے جم جم نکلے

    نکلے پر کوئی مینوں دبا سکدا اے

    پاویں کوئی لے کے دم خم نکلے

    تے دامن شاعر دے قبضے وچ ویکھیا جے

    دو ۔ ریوالور تے دستی بم نکلے

    استاد دامن کی مشہور زمانہ کتاب دامن دے موتی ان کی باکمال شاعری کا لطف اندوز مجموعہ ہے جو اپنے پڑھنے والوں کو ان کے دور کے حالات و واقعات سے ملوانے کا سچا آئینہ ہے ۔ استاد دامن فیض اور جالب کے چاہنے والوں میں سے تھے۔

    80 کی دہائی میں جب ان کے منہ بولے بیٹے فلمسٹار علاؤدین کا انتقال ہوا تو استاد دامن کی جیسے اپنی روح پرواز کر گئی ہو۔ کبھی بستر کبھی اسپتال کبھی گھر، کمزور پڑتی صحت کے ان ایام میںکچھ ہی عرصے بعد فیض احمد فیض صاحب بھی خالق حقیقی سے جا ملے، استاد دامن چاہنے والوں کے روکنے کے باوجود اپنے قلمی یار کے جنازے میں شریک ہوئے، جہاں لوگوں نے پہلی بار استاد دامن کو دھاڑیں مار کر روتے ہوئے دیکھا، ایسے معلوم ہوتا تھاگویا تقسیم ہند سے لیکر آج تک ٹوٹنے والی ساری قیامتوں کی اذیت فیض صاحب کے رخصت ہونے کے بعد ہی ان تک آئی ہے، فیض صاحب کا انتقال 20 نومبر 1984کو ہوا اور اُسی شام استاد دامن کی ہمت بھی جواب دے گئی، ایسے ٹوٹے کہ صرف تیرہ دن بعد ہی بروز سوموار3 دسمبر 1984کو فیض صاحب کے پیچھے ان کی رُوح بھی آسمانی سفر پہ روانہ ہو گئی۔ استاد دامن کی وصیت کے مطابق قبرستان مادھو لال حسینؒ مین گیٹ لاہور میں شاہ حسین ؒ کے مزار کے سائے میں دفن کیا گیا۔

    ماری سرسری نظر جہان اندر

    تے زندگی ورق اُتھلیا میں

    دامن ملیا نہ کوئی رفیق مینوں

    ماری کفن دی بُکل تے چلیا میں

  • قائد اعظم کے ذاتی معالج ڈاکٹر ریاض کی صاحبزادی سے بات چیت،تحریر:سیدہ عطرت بتول نقوی

    قائد اعظم کے ذاتی معالج ڈاکٹر ریاض کی صاحبزادی سے بات چیت،تحریر:سیدہ عطرت بتول نقوی

    السلام علیکم ، یاسمین صاحبہ ، کیسی ہیں ؟
    الحمدللہ ، بالکل ٹھیک
    کچھ اپنی تعلیم کے بارے میں بتائیے کن اداروں سے تعلیم حاصل کی ؟
    کانونٹ جیسز اینڈ میری اور اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی لاہور سے فائن آرٹس سٹڈیز میں تعلیم مکمل کی
    پہلی پینٹنگ کب بنائی ؟
    پہلی پینٹنگ دس سال کی عمر میں بنائی جو والد صاحب نے دیکھی اور اینا مولکا کو دکھائی ( اینا مولکا احمد مشہور مصورہ اور پنجاب یونیورسٹی میں شعبہ فائن آرٹس کی بانی)
    اور پھر مصوری میں میں اینا مولکا صاحبہ کی پرائیویٹ سٹوڈنٹ رہی
    کانونٹ میں تعلیم اور فائن آرٹس میں دلچسپی کے باوجود اردو شاعری کی طرف کیسے ا ئیں؟
    کانونٹ میں پڑھنے کی وجہ سے میری اردو زرا کمزور تھی وہ میں نے اپنی والدہ صفیہ بیگم صاحبہ سے سیکھی وہ لکھتی تھیں شاعری بھی کرتی تھیں میرے ننھیال کا ماحول بہت علمی و ادبی تھا میرے نانا ماموں سب علامہ اقبال کی شاعری کو بہت پسند کرتے تھے اور گھر میں مولانا ظفر علی خان کا بھی آ نا جانا تھا شاعری میں علامہ اقبال سے متاثر ہوئی .

    شاعری اور مصوری میں کیا قدر مشترک ہے ؟
    میرے خیال میں شاعر اپنے تخیل میں الفاظ سے رنگ بھر کر کے غزل و نظم کہتا ہے اور مصور اپنے تخیل کو رنگوں کی صورت کینوس پر اتارتا ہے دونوں اپنے اپنے تخیل میں رنگ بھرتے ہیں
    بہت خوبصورت بات ہے یاسمین صاحبہ ، یہ بتائیے جب آ پ نے قائد اعظم کی پینٹنگ بنای تو تخیل میں وہ کیسے تھے ؟
    بالکل ویسے تھے جیسے میں نے انہیں زندہ و سلامت دیکھا تھا انہیں ملی تھی اور ان کا دست شفقت آ ج بھی میں اپنے سر پر محسوس کرتی ہوں
    yasmeen
    یاسمین صاحبہ آ پ کا پاکستان کے اہم خانوادہ سے تعلق ہے آ پ کے والد محترم ڈاکٹر ریاض علی شاہ قائد اعظم کے ذاتی معالج تھے اور آ خری وقت میں ان کے ساتھ تھے اس حوالے سے تفصیل سے بتائیے
    جب تحریک پاکستان زوروں پر تھی تو ان دنوں میری عمر سات آ ٹھ سال تھی اتنا بچہ سمجھ دار ہوتا ہے اسے سب یاد ہوتا ہے میں نے اپنے گھر میں قائد اعظم اور پاکستان کا بہت نام سنا تھا میں سب بچوں کو جمع کرلیتی تھی اور جلوس نکالتی تھی ہلیپرز کے بچے بھی آ جاتے تھے اور میری قیادت میں سب بچے مل کر نعرے لگاتے تھے
    لے کے رہیں گے پاکستان
    دینا پڑے گا پاکستان
    پاکستان ہمارا ہے
    جان سے بڑھ کر پیارا ہے
    بہت جوش وخروش کا عالم تھا میرے تصور میں پاکستان ایسا تھا کہ جہاں پھول کھلے ہونگے اور بہت خوبصورت ہوگا جہاں مسلمان خوش رہیں گے اور قائد اعظم مجھے ہمالیہ سے بھی بلند لگتے تھے اور واقعی وہ بہت بڑے عظیم لیڈر تھے آ ج تک کوئی ایسا لیڈر نظر نہیں آ یا
    اور پھر ایک دن وہ بھی آ یا جب ابا نے سب بچوں بڑوں کو ڈراینگ روم میں بلایا سب وہاں جمع تھے اور خاموش تھے ابا نے ریڈیو آ ن کردیا کچھ دیر بعد ایک آ واز گونجی پہ آ ل انڈیا ریڈیو ہے کچھ دیر بعد اہم اعلان کیا جاے گا
    اور پھر بارہ بج کر سات منٹ پر مصطفی ہمدانی نے اعلان کیا ،، یہ ریڈیو پاکستان ہے ،،
    یہ آ واز اب تک میرے کانوں سے نکلتی نہیں ، سب کی آ نکھوں میں خوشی کے آ نسو تھے ، قائد اعظم جب بمبئی میں تھے تو ڈاکٹر پیٹل کے زیر علاج تھے وہ ایک مہلک بیماری ٹی بی میں مبتلا تھے ڈاکٹر پیٹل نے میرے والد صاحب ڈاکٹر ریاض علی شاہ کے ھیینڈ اوور کردیا کیونکہ والد صاحب اس وقت برصغیر کے نامور ٹی بی سپشلسٹ تھے اور اس سلسلے میں ایوارڈ حاصل کر چکے تھے امریکہ سے انہوں نے اس بیماری پر ریسرچ کی تھی
    اب وہ قائد اعظم کے ذاتی معالج تھے قائد اعظم نے میرے والد سے کہا تھا کہ ڈاکٹر شاہ میری بیماری کو سیکرٹ رکھنا ہے اور میرے والد صاحب نے اسے بہت راز میں رکھا قائد اعظم کی حالت ایسی تھی کہ اب وہ زیادہ عرصہ زندہ نہیں رہ سکتے تھے ان کی زندگی کی جتنی مدت ڈاکٹرز نے بتا دی تھی والد صاحب کے علاج کے بعد اس مدت میں کچھ اضافہ ہوا اور وہ مزید اٹھارہ ماہ زندہ رہے
    لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ اگر جناح کی بیماری کا علم ہو جاتا تو پاکستان نہ بنتا
    انگریز اور ہندو یہی چاہتے تھے میرے والد صاحب نے بہت رازداری سے علاج کیا اور کسی کو ان کی حالت کی ہوا نہیں لگنے دی یہ میرے والد صاحب کی پاکستان کے لیے خدمت تھی لیکن انہوں نے کبھی اس کا ذکر نہیں کیا کسی بڑائی کا اظہار نہیں کیا،جب قائد اعظم کراچی آ گئے اور یہیں رہنا چاہتے تھے لیکن ان کی حالت کے پیش نظر والد صاحب اور دوسرے ڈاکٹرز نے آ ب وہوا کی تبدیلی کے لیے انہیں کوئیٹہ زیارت لے جانے کا فیصلہ کیا،کوئٹہ منتقل ہونے کے بعد ان کا علاج جاری تھا ڈاکٹرز کو بہتری کی امید تھی محترمہ فاطمہ جناح بھی ان کے ساتھ تھیں ، اب والد صاحب قائد کے علاج کے سلسلے میں لاہور سے کوئٹہ آ تے جاتے رہتے تھے چونکہ قائد ایسے انسان تھے جو دوسروں کا سوچتے تھے کسی کی تکلیف انہیں گوارا نہیں تھی انہوں نے والد صاحب سے کہا ڈاکٹر شاہ آ پ کی فیملی لاہور میں ہے آ پکو کوئیٹہ آ نا پڑتا ہے آ پ فیملی کو بھی یہاں بلا لیں اس طرح والد صاحب نے ہمیں کوئیٹہ بلوا لیا ہم وہاں چلتان ہوٹل میں رہے ان دنوں میری والدہ کی فاطمہ جناح سے بہت دوستی ہو گئی ہم بچوں کو جہاں قائد اعظم تھے زیارت ریزیڈنسی میں نہیں لے جایا جاتا تھا ایک دن میں اور میرا بھائی ضد کر کے والد صاحب کے ساتھ چلے گئے اس دن قائد اعظم کو وہیل چیئر پر لایا گیا ان کے ایک طرف برٹش نرس اور دوسری طرف محترمہ فاطمہ جناح تھیں انہیں اس حالت میں دیکھ کر مجھے بہت افسوس ہوا کہ وہ کتنے کمزور ہو گئے تھے جب میں پہلے ان سے ملی تھی تو وہ بہت شاندار نظر آ ئے تھے اور انہوں نے میرے سر پر ہاتھ رکھا تھا،جب ان کی طبیعت زیادہ خراب ہوئی تو انہیں کراچی واپس لایا گیا وہ اپنے جہاز میں جو پہلے ماؤنٹ بیٹن کا تھا ڈکوٹا اس میں کراچی آ ئے اور ایئر پورٹ سے ایمبولینس روانہ ہوئی جس میں میرے والد صاحب محترمہ فاطمہ جناح اور دوسرے ڈاکٹرز تھے اور اس سے تھوڑے فاصلے پر ہماری گاڑی تھی جس میں ہماری فیملی تھی کچھ دور جانے کے بعد ایمبولینس رک گئی اس کا پچھلا دروازہ کھلا برٹش نرس باہر آ ئیں فاطمہ جناح بھی اتریں ہم پریشان ہوے پھر پتہ چلا کہ ٹکنیکل فالٹ ہے ابھی دوسری ایمبولینس آ جائے گی ، یہاں میں ایک بات بتانا چاہتی ہوں کہ قائد اعظم کا ایمبولینس میں انتقال نہیں ہوا اکثر لوگوں نے کہا اور یہ لکھا ہے لیکن یہ غلط ہے میں نے اپنی آ نکھوں سے ایمبولینس میں قائد اعظم کو دیکھا وہ بے چین تھے ہاتھ ہلا رہے تھے محترمہ سے بات کرنے کی کوشش کر رہے تھے ایمبولینس کا پچھلا دروازہ کھلا تھا قائد اسٹریچر پر تھے اور پیچھے ہماری گاڑی تھی میں رونے لگی اور والدہ نے مجھے تسلی دی کہ قائد کو کچھ نہیں ہوگا ، پھر دوسری ایمبولینس آ گئی اور ہم وہاں سے روانہ ہوئے.کراچی پہنچنے کے تھوڑے دنوں بعد ایک رات محترمہ فاطمہ جناح کا والد صاحب کو فون آ یا کہ کہ قائد کی طبیعت بہت خراب ہے آ پ آ جائیں.میرے والد صاحب نے اپنی ڈائری میں لکھا کہ جب میں وہاں پہنچا تو محترمہ فاطمہ جناح کی گود میں قائد کا سر تھا ان کا آ خری وقت تھا ان کی آ واز مدھم ہوگئی تھی لیکن موت سے پہلے شاید ایک سنھبالا آ یا اور ان کے آ خری الفاظ تھے اللہ اور پاکستان..

    یاسمین صاحبہ اپنی بنائی پیٹنگز کے ساتھ
    یاسمین صاحبہ اپنی بنائی پیٹنگز کے ساتھ

    یاسمین صاحبہ ، آ پ خؤش قسمت ہیں آ پ نے عظیم لیڈر کو نہ صرف دیکھا بلکہ آ پ کا بچپن ان کے ساتھ گزرا کچھ محترمہ فاطمہ جناح کے بارے میں بتائیے ؟
    فاطمہ جناح بہت گریس فل ، بہت اچھی شخصیت کی مالک تھیں ہمیشہ سفید یا گرے لباس میں ملبوس ہوتیں مجھے بہت اچھی لگتی تھیں لاہور میں ہمارا فارم ہاؤس تھا دلکشا گارڈن وہ جب بھی لاہور آ تیں وہیں ٹھہرتیں اور میں سب سے پہلے جاکر ان سے ہاتھ ملاتی میرا دل چاہتا تھا میں بھی ان جیسی بنوں ایک دن میرا دل چاھا میں ان کے سفید خوبصورت لباس کو ہاتھ لگا کر دیکھوں میں نے ان کی چادر کو چھوا تو انہیں مجھ پر پیار آ یا انہوں نے مجھے پیار کیا اور کہا تم بڑی ہو جاؤ گی تو اپنے ملک کے لیے کام کرنا ، اور مجھے امید ہے تم ضرور کرو گی

    ڈاکٹر ریاض علی شاہ اور فاطمہ جناح
    یاسمین صاحبہ اب اپنے سوشل ورک کے بارے میں بتائیے اس سلسلے میں آ پ کی بہت خدمات ہیں ؟
    میں امریکہ میں پندرہ سال رہی ہوں وہاں سے صرف اپنے وطن کی خدمت کے لیے واپس آ ئی ہوں اس کا سہرا شمسی صاحب کو جاتا ہے وہ میرے استاد بھی ہیں ہم نے مل کر ،، آ رٹ اینڈ لائف ،، ا کے نام سے ادارہ بنایا جس کے تحت غریب بچوں کو مفت تعلیم دی جاتی ہے اور گھر گھر جاکر مستحق لوگوں کی مدد کی جاتی ہے ، غریب جھگیوں والوں کی مدد کی جاتی ہے ،، آ رٹ اینڈ لائف ،، کے پریذیڈنٹ زاہد شمسی صاحب اور میں وائس پریزیڈنٹ ہوں
    یاسمین صاحبہ نئی نسل کے لیے کوئی پیغام ؟
    میں ساری دنیا میں گھومی ہوں لیکن میں نے اپنی یوتھ کو سب سے اچھا پایا یہ سب کرسکتے ہیں بس انہیں قائد اعظم کے سنہری اصولوں ، اتحاد ، ایمان ، تنظیم کو اپنانا ہوگا
    میرا خیال ہے اب میں ہی زندہ ہوں جس نے پاکستان بنتے دیکھا ان دنوں کا جوش و جذبہ محسوس کیا اور قائد اعظم اور محترمہ فاطمہ جناح جیسی عظیم شخصیات کو قریب سے دیکھا والد صاحب قائد اعظم کے صرف پرسنل ڈاکٹر ہی نہیں دوست بھی تھے اور انہوں نے محترمہ فاطمہ جناح کے الیکشن کے دنوں میں ان کی حمایت میں ورک بھی کیا تھا پھر میرے نانا اور ماموں علامہ اقبال کی زندگی میں ان سے مل چکے تھے اور گھر میں علامہ اقبال کی شاعری کا بہت ذکر ہوتا تھا سب انہیں بہت پسند کرتے تھے پھر پاکستان اور قائد اعظم کا بہت ذکر ہوتا تھا اس کے علاؤہ مولانا ظفر علی میرے والد کے پیشنٹ بھی تھے پڑوس میں رہتے تھے ان کے گھر بھی آ نا جانا تھا ان کی شاعری اس وقت میری سمجھ میں نہیں آ تی تھی ، بس ان عظیم شخصیات کے ساتھ گزرا میرا بچپن بہت حسین تھا اور میں انہی یادوں کے ساتھ زندہ ہوں اور نئی نسل سے توقع ہے کہ قیام پاکستان کے لیے دی گئی قربانیوں کو فراموش نہیں کریں گے
    اپنے شوہر محترم اور بچوں کے بارے میں بتائیے ؟
    میرے شوہر بریگیڈیئر ریٹائرڈ سید سجاد بخاری صاحب ستارہ امتیاز حاصل کر چکے ہیں بیٹا ڈاکٹر احمد جمال بخاری بیسٹ ڈاکٹر کے متعدد ایوارڈز حاصل کر چکا ہے دو بیٹیاں ہیں بڑی عائشہ بخاری اور چھوٹی شہرزادے بخآری
    یاسمین بخاری صاحبہ آ پ سے مل کر بہت اچھا لگا میں خوش قسمت ہوں کہ آ پ جیسی شخصیت سے ملی اور بات چیت کی
    مجھے بھی اچھا لگا
    یہ میرے لیے اعزاز ہے ، بہت شکریہ

  • ملی ادبی پنچائیت کی ست رنگی شعری نشست.تحریر:ریاض احمد احسان

    ملی ادبی پنچائیت کی ست رنگی شعری نشست.تحریر:ریاض احمد احسان

    ملی ادبی پنچائیت کے زیر اہتمام امریکہ سے تشریف لائیں منفرد لہجے کی خوش الحان شاعرہ محترمہ قانع ادا کے اعزاز میں سجی ایک ست رنگی شعری نشست جس کی صدارت فرزند لاہور عالی جناب خواجہ جمشید امام نے کی،تقریب کی میزبانی چئیرمین سپریم کونسل ملی ادبی پنچائیت عزت مآب چوہدری رضوان کاہلوں کا مقدر بنی اور نظامت کے فرائض ریاض احمد احسان نے نبھائے- ادب،صحافت،تجارت اور سیاست کے میدان سے تعلق رکھنے والے پانچ درجن سے زائد معززین شہر اور سفیران ادب کی شرکت سے تقریب معتبر ہوئی-

    سیکرٹری حلقہ ارباب ذوق لاہور عظیم البرکت محمد نواز کھرل کی خصوصی آمد اور گفتگو نے ماحول معطر کیا،ولائت احمد فاروقی نے نعت رسول ﷺ مقبول اس انداز سے پیش کی کہ ساری محفل سبحان اللہ سبحان اللہ کہتی رہی،استاد نذر عباس کی پرفارمنس نے قلب ونگاہ ہی نہیں روح کو بھی سرشار کیا،استاد محترم ممتاز راشد لاہوری نے خوب داد پائی،ڈاکٹر طارق حسین طارق نے فیاضی بانٹی،پروفیسر ضیغم عباس گوندل نے خوشبو بکھیری،فارحہ نوید نے سخن کے پھول نچھاور کیے،سعدیہ ہما شیخ نے مملو و مرصع نظم پیش کی،ڈیوڈ پرسی نے دلوں میں اترنے والا کلام پیش کیا،محترمہ عتیقہ اشرف نے عارفانہ کلام پیش کیا،”بلبل سخن” سجاد بھنڈر نے ولولہ انگیز خطاب فرمایا،طارق حسین لک ایڈووکیٹ نے کلاسیکی لہجے کی خوب ترجمانی کی،چوہدری رضوان کاہلوں نے موٹیویشنل خطاب کیا،گل بات ود چوہدری اسداللہ کاہلوں کے میزبان چوہدری اسد اللہ کاہلوں اور چوہدری ذیشان کاہلوں کی آمد پر ہال دیر تک تالیوں سے گونجتا رہا،یوسف نثر محترم ناصف اعوان،کیپٹن ر صماد گریوال،معروف سیاسی و سماجی رہنما اسد علی خان،معروف کاروباری شخصیت ہمایوں یوسف کھچی،پنجاب پولٹری ایسوسی ایشن کے ممبر اشفاق حسین،قومی چیمپئن عبداللہ باکسر اور درجنوں خواتین و حضرات نے داد و تحسین کے وہ پھول نچھاور کیے کہ تخلیق کاروں کی آنکھوں کی مقدس جھالریں بار بار شبنمی ہوتی رہیں-

    شہزادہ علی ذوالقرنین نے مختصر اور جامع گفتگو کرتے ہوئے صاحبہ جشن محترمہ قانع ادا کے فن اور شخصیت پر گفتگو کی- صاحب صدر خواجہ جمشید امام نے خطبہ صدارت میں صاحبہ جشن کی تخلیقات اور ملی ادبی پنچائیت کے کردار پر خوب روشنی ڈالی—– آخر میں صاحبہ جشن محترمہ قانع ادا نے خوشگوار ماحول میں سازگار گفتگو کرتے ہوئے ملی ادبی پنچائیت کا شکریہ ادا کیا اور شاعری سنائی- محترمہ قانع ادا نے حاضرین کی فرمائش پر ترنم میں پنجابی کلام بھی سنایا جسے خوب پذیرائی ملی-

    ملی ادبی پنچائیت کسی فرد یا ادارے سے کسی قسم کی مالی مدد یا سہولت نہیں لیتی سو ملی ادبی پنچائیت اپنی مدد آپکے تحت معززین شہر سخن کے اعزاز میں اُن کی زندگی میں انہیں خراج تحسین پیش کرنے کے لیے تقریبات کا اہتمام کرتی رہے گی- ان شاءللہ

    ہم ملی ادبی پنچائیت کی تقریبات میں شرکت کرنے والے معزز مہمانوں،عظیم حافیوں،سیاستدانوں،شاعروں،ادیبوں،دانش وروں،خطیبوں اور صنعت و تجارت کی نمائندگی کرنے والے عظیم پاکستانیوں کو سلیوٹ پیش کرتے ہیں-
    ریاض احمد احسان
    بانی چیئرمین ملی ادبی پنچائیت

  • اہل قلم کی ایک یادگار نشست.تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    اہل قلم کی ایک یادگار نشست.تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    اکیس فروری کو آ واری ہوٹل کے خوبصورت ہال میں ایک منفرد اور یادگار اہل قلم کی نشست کا اہتمام کیا گیا۔ یہ نشست بہت ہی خاص تھی، جس کا اہتمام دو اہم شخصیات، منزہ سہام صاحبہ اور ڈاکٹر سیمیں رخ صاحبہ نے کیا تھا۔ دونوں خواتین اپنی اپنی شعبوں میں انتہائی قابل اور فعال ہیں۔

    منزہ سہام صاحبہ، جو کہ معروف صحافی اور پچاس سال سے زائد عرصے سے شائع ہونے والے ماہنامہ "دوشیزہ ڈائجسٹ” کی چیف ایڈیٹر ہیں، اس محفل میں مرکزی حیثیت رکھتی تھیں۔ ان کی صحافت اور ادب میں خدمات کو نہ صرف پاکستان میں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا جاتا ہے۔ منزہ صاحبہ نے ہمیشہ قلم کی طاقت کو فروغ دیا ہے اور ان کے والدین، سہام مرزا صاحب اور رخسانہ سہام مرزا کے میگزین نے کئی سالوں سے تعطل کا شکار ہونے کے بجائے ہمیشہ ایک نئی روشنی کی کرن بن کر ادب کی خدمت کی ہے۔

    دوسری جانب، ڈاکٹر سیمیں رخ صاحبہ جو آئرلینڈ سے پاکستان آئی ہوئی ہیں، نہ صرف ایک ماہر ڈاکٹر ہیں بلکہ ادب کے میدان میں بھی ان کی گہری دلچسپی ہے۔ ان کی کتابوں میں "باد سموم”، "ایک تھی ستارہ”، اور "زرد پتوں کی بارش” شامل ہیں، جن میں سے "باد سموم” پر خاصی توجہ دی گئی ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ کی کتاب کا دیباچہ بھی معروف مصنفہ سلمہ اعوان صاحبہ نے لکھا ہے۔

    اس نشست میں سلمہ اعوان صاحبہ کی شرکت نے محفل کو مزید پر رونق بنا دیا۔ سلمہ اعوان صاحبہ جو کہ اوپن ہارٹ سرجری کے بعد صحت یاب ہو کر آئی تھیں، ان کی موجودگی نے سب کو خوشی کا موقع فراہم کیا۔ ان کے علاوہ مسرت کلانچوی صاحبہ بھی اس محفل میں شریک ہوئیں اور اپنی نئی کتاب "تیرگی میں تارہ” کا تحفہ پیش کیا۔ یہ کتاب ایک نیا سنگ میل ہے اور ادب میں ان کی کامیاب کوششوں کا ثبوت ہے۔اس محفل میں بہت سی اہم شخصیات بھی شریک تھیں جن میں شاہین اشرف علی، فرح ہاشمی، کنول بہزاد، نسیم سکینہ صدف، حبیبہ عمیر، غزالہ فرخ، سعدیہ سیٹھی اور دیگر قلمکار شامل تھے۔ ان تمام اہل قلم نے اس نشست کو کامیاب بنانے میں اپنی اہمیت کا بھرپور اظہار کیا۔

    اس نشست میں مختلف موضوعات پر گہری گفتگو ہوئی۔ منزہ سہام صاحبہ جو کہ کراچی سے آئی تھیں، نے کراچی کی موجودہ صورتحال پر بھی بات کی۔ ان کی باتوں میں کراچی کی مختلف سماجی، سیاسی اور معاشی حالت کے بارے میں آگاہی تھی۔ ڈاکٹر سیمیں رخ صاحبہ نے آئرلینڈ اور پاکستان کے مابین صحت کے شعبے میں فرق پر بھی روشنی ڈالی اور وہاں کی پریکٹسنگ ڈاکٹری کے تجربات کو شیئر کیا۔محفل کے اختتام پر ایک شاندار اور مزیدار ڈنر کا اہتمام کیا گیا۔ اس ڈنر میں اہل قلم ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر خوشگوار ماحول میں بات چیت کرتے رہے۔ ڈنر کی تکمیل نے محفل کو ایک خوشگوار یادگار لمحے میں تبدیل کر دیا۔

    یہ نشست ایک بھرپور اور کامیاب محفل تھی جہاں اہل قلم نے ایک دوسرے سے ملاقات کی، مختلف موضوعات پر بات چیت کی اور اپنے تخلیقی کاموں میں مزید ترقی کی دعا کی۔ منزہ سہام صاحبہ کی شخصیت واقعی متاثر کن ہے، جنہوں نے کم عمری میں ہی بہت سی کامیابیاں حاصل کی ہیں اور اپنے والدین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے صحافت اور ادب کی دنیا میں ایک نیا مقام بنایا ہے۔ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ سب کو سلامت رکھے اور ان کے تخلیقی کاموں میں کامیابی دے۔ آمین۔

     

  • کامران کی کامرانیاں –”احساس” اور "گل تازہ” .تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    کامران کی کامرانیاں –”احساس” اور "گل تازہ” .تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    شاعر ی وہ لطیف اور حساس اظہار ہے جو صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ احساسات، خیالات، خوابوں اور حقیقتوں کا حسین امتزاج ہوتا ہے۔ کچھ لوگ اس فن میں اتنی مہارت رکھتے ہیں کہ ان کے کہے ہوئے الفاظ دلوں پر نقش ہو جاتے ہیں۔ سرگودھا کی تاریخی تحصیل بھیرہ کے نوجوان شاعر کامران حسانی بھی ایسے ہی خوش نصیب اور باصلاحیت شعراء میں شامل ہیں جنہوں نے اپنی شاعری سے ادبی دنیا میں ایک منفرد مقام بنایا ہے۔
    کامران حسانی کا نام ادب کے آسمان پر ایک روشن ستارے کی مانند جگمگا رہا ہے۔ ان کا پہلا مجموعۂ کلام "احساس” ایک خوبصورت تجربہ تھا جسے قارئین نے بے حد سراہا، اور اب ان کی دوسری کتاب "گل تازہ” کی رونمائی ہونے جا رہی ہے۔ یہ تقریب 23 فروری 2025، بروز اتوار، شام پانچ بجے بلوچ میرج ہال بھیرہ میں منعقد ہو رہی ہے، جس میں مشہور شاعر علی زریون مہمانِ خصوصی ہوں گے۔ یہ ایک یادگار ادبی محفل ہوگی، جہاں سخن کے متوالے ایک اور خوبصورت شعری مجموعے کو خوش آمدید کہیں گے۔کامران حسانی – ایک تازہ ہوا کا جھونکا محسوس ہوتا ہے۔کامران حسانی کی شاعری ایک نئے انداز کی نمائندگی کرتی ہے۔
    مری زندگی ہے چراغ سی مجھے روشنی پہ کمال ہے
    مری دشمنی ہے ہواؤں سے مرا زندہ رہنا محال ہے
    مجھے خوف کیا ہو بلاؤں کا ترے ہاتھ ہیں جو اٹھے ہوئے
    تری خیر ہو مری والدہ تری یہ دعا مری ڈھال ہے
    تجھے روکنے کا جواز تو مرے پاس تھا ہی نہیں مگر
    تجھے کہ دیا ہے جو الوداع مری حسرتوں کا زوال ہے
    وہ جذبات کے گہرے سمندر میں اتر کر الفاظ کا انتخاب کرتے ہیں اور پھر انہیں ایسے ترتیب دیتے ہیں کہ قاری ایک ہی نشست میں ان کے اشعار کو پڑھنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ ان کی شاعری میں کلاسیکی رنگ بھی ہے اور جدید رجحانات کی جھلک بھی ملتی ہے۔ وہ نہ صرف محبت، حسن اور وفا جیسے موضوعات پر لکھتے ہیں بلکہ سماجی مسائل، انسانی نفسیات اور جدید دور کی بے حسی کو بھی اپنے اشعار میں بیان کرتے ہیں۔
    دل نشیں دل ربا محبت ہے
    میرا تو مدعا محبت ہے
    اور دوں گا جہاں تلک پہنچے
    یار میری صدا محبت ہے
    ایک درویش نے کہا تھا مجھے
    دل محبت ، دعا محبت ہے
    تجھ کو آنا ہے گر مرے دل تک
    ایک ہی راستہ محبت ہے
    اس نے غصے سے پوچھا کیا ہے تمھیں ؟
    میں نے بھی کہہ دیا محبت ہے
    نام دونوں نے ریت پہ لکھے
    اور یہ بھی لکھا محبت ہے
    ایک مدت کے بعد جیون کا
    راز مجھ پر کھلا ، محبت ہے
    سارے الزام سہہ لیئے لیکن
    میں یہ کہتا رہا محبت ہے
    حل نکالے گا کوئی کیا اس کا
    مسئلہ آپ کا محبت ہے
    کاش تم یہ سمجھ سکو اے دوست
    آدمی کی بقا محبت ہے
    چاہتا ہوں جسے میں حسانی
    یار وہ سر تا پا محبت ہے
    کامران کی شاعری میں ایک خاص کشش ہے، جو قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ ان کا اندازِ بیاں منفرد اور سادہ ہے، جو پڑھنے والے کے دل میں اتر جاتا ہے۔ وہ روایتی غزل کے ساتھ ساتھ آزاد نظم اور جدید انداز میں بھی طبع آزمائی کرتے ہیں۔ ان کی شاعری میں درد، امید، خواہش، بے قراری، وصل، ہجر، خواب اور حقیقت کی حسین آمیزش ملتی ہے، جو کسی بھی حساس دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔”گل تازہ” – ایک خوبصورت پیشکش ہے۔”گل تازہ” کامران حسانی کے جذبات، احساسات اور تخلیقی سفر کا نچوڑ ہے۔ یہ کتاب نہ صرف ان کے شعری سفر کا ایک سنگ میل ثابت ہوگی بلکہ ان کے مداحوں کے لیے بھی کسی تحفے سے کم نہیں ہوگی۔ اس کتاب میں موجود اشعار میں محبت کی خوشبو، ہجر کی تپش، زندگی کی حقیقتیں اور خوابوں کی نرمی یکجا ملے گی۔کتاب کا عنوان "گل تازہ” ہی اس بات کی علامت ہے کہ یہ شاعری کی دنیا میں ایک تازگی اور خوشبو بکھیرنے والی تصنیف ہوگی۔ کامران حسانی نے اپنے تخلیقی فن سے اس کتاب میں وہ رنگ بھرے ہیں جو کسی بھی ادب دوست کو اپنی گرفت میں لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ادبی منظرنامے پر کامران حسانی کی اہمیت موجود ہے۔پاکستان میں نوجوان شعراء کی کمی نہیں، لیکن بہت کم لوگ ایسے ہیں جو اپنی شناخت برقرار رکھتے ہوئے کامیابی کے زینے طے کرتے ہیں۔ کامران حسانی بھی انہی خوش نصیب شاعروں میں شامل ہیں جو اپنی محنت، لگن اور تخلیقی صلاحیتوں کی بدولت تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں۔ان کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ نہ صرف جذباتی اور رومانی شاعری میں مہارت رکھتے ہیں بلکہ ان کے اشعار میں فکری گہرائی بھی ہوتی ہے۔ وہ روایتی موضوعات کو ایک نئے انداز میں بیان کرنے کا ہنر جانتے ہیں، اور یہی چیز انہیں دوسرے شعرا سے منفرد بناتی ہے۔
    فقط اتنی کہانی ہے ، محبت جاودانی ہے
    جہاں تک زندگانی ہے ، محبت جاودانی کے
    ہمیں موسم بدلنے ہیں ، فلک کے دوش پر مل کر
    دھنک ہم نے سجانی ہے ، محبت جاودانی ہے
    ابھی کھویا نہیں کچھ بھی ابھی سے تم پریشاں ہو
    ابھی تو جاں گنوانی ہے ، محبت جاودانی ہے
    فنا ہونے کو اس دنیا کے میلے میں سنو یارو
    بھلے ہر چیز فانی ہے ، محبت جاودانی ہے
    محبت مر نہیں سکتی تمھیں اتنا بتانا ہے
    محبت جاودانی ہے ، محبت جاودانی ہے
    اسی صحرا کے آخر پر تمھیں دریا ملے گا دوست
    ذرا ہمت بڑھانی ہے ، محبت جاودانی ہے
    تمھارے بعد بھی ہم کو ملے ہیں لوگ ڈھیروں پر
    تمھارا کون ثانی ہے ، محبت جاودانی ہے
    سنو نفرت خسارا ہے جو سب کچھ لوٹ لیتی ہے
    مگر جو کامرانی ہے ،محبت جاودانی ہے
    ان کے اشعار میں محبت کی خوشبو بھی ہے، فراق کا کرب بھی، زندگی کی حقیقتیں بھی اور خوابوں کی حسین دنیا بھی۔ یہی تنوع ان کی شاعری کو مزید دلکش بناتا ہے۔تقریبِ رونمائی – 23 فروری 2025 کا دن بھیرہ کے ادبی حلقوں کے لیے ایک یادگار دن ہوگا۔ بلوچ میرج ہال بھیرہ میں ہونے والی اس تقریب میں پاکستان کے نامور شاعر علی زریون بطور مہمانِ خصوصی شرکت کریں گے۔ علی زریون کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ ان کی شاعری نے نوجوان نسل کو ایک نئی سوچ دی ہے، اور ان کا موجود ہونا اس تقریب کو مزید یادگار بنا دے گا۔یہ تقریب نہ صرف "گل تازہ” کی رونمائی ہوگی بلکہ ایک مشاعرہ بھی ہوگا جس میں ملک کے مختلف علاقوں سے شعراء شرکت کریں گے۔ اس محفل میں سخن کے رنگ بکھریں گے، خوبصورت اشعار کی گونج ہوگی، اور سامعین ایک منفرد ادبی تجربہ حاصل کریں گے۔کامران حسانی جیسے نوجوان شعراء اردو ادب کے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں۔ ان کی شاعری میں جو خلوص، سچائی اور گہرائی ہے، وہ انہیں ایک بڑا شاعر بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ "گل تازہ” نہ صرف ان کے ادبی سفر کا ایک نیا سنگ میل ثابت ہوگی بلکہ اردو شاعری کے دامن میں بھی ایک خوشبو بکھیرنے والی تصنیف ہوگی۔ہم امید کرتے ہیں کہ یہ کتاب نہ صرف قارئین کے دلوں کو چھوئے گی بلکہ اردو ادب میں ایک منفرد مقام حاصل کرے گی۔ کامران حسانی کی یہ کامرانی قابلِ ستائش ہے، اور ہم ان کے روشن مستقبل کے لیے دعاگو ہیں کہ وہ اسی جذبے، محنت اور لگن سے اردو شاعری کے میدان میں آگے بڑھتے رہیں۔
    یوں تری بزم سے اٹھوں گا چلا جاؤں گا
    تلخیاں دل کی سمیٹوں گا چلا جاؤں گا
    میں بھی اس فکر کی منڈی کا بیوپاری ہوں
    جو بکامال،وہ بیچوں گا چلا چاؤں