لائبریری گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی کے زیر اہتمام ورلڈ بک اینڈ کاپی رائٹ ڈے منایا گیا ۔تقریب کی مہمان خصوصی وائس چانسلر پرو فیسر ڈاکٹر کنول امین تھیں۔ خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کتاب انسان کی دانش کا ذریعہ ہے ٹیکنالوجی کبھی کتاب کا نعم البدل نہیں بن سکتی۔اور کہا یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ علم کی اصل بنیاد کتاب ہے ترقی یافتہ قومیں اپنی لائبریریوں، تعلیمی اداروں اور تحقیق سے پہچانی جاتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ لائبریری اپگریڈ عوام کی ضرورت کے مطابق کی جاتی ہے اور کہا کہ اے آئی جیسے ٹولز کی افادیت سے انکار نہیں لیکن یہ صرف مددگار ٹولز ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ادب اور لٹریچر کو مقامی رنگ اور اپنی ثقافت سے ہم آہنگ ہونا چاہیے ہمیں اپنی زبان، اپنی شناخت، اور اپنی پہچان پر فخر کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کتاب بینی کو اپنی عادت بنائیں اور مختلف مصنفوں کی کتابیں پڑیں اس سے ذخیرہ الفاظ مین اضافہ ہو گا اور آپ اپنے اپ میں تبدیلی بھی محسوس کریں گے ۔پنجابی زبان کی ترویج کے لئے کہا کہ یہ ہماری مادری زبان ہے اسے مرنے سے بچانے کے لئے ضروری ہے کہ سکول لیول سے ضروری نصاب کے طور پر سلیبس کا حصہ ہونا چاہیے ۔ تقریب کے دوران مختلف مقررین نے بھی کتاب اور مطالعے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ کتاب فیشن کا حصہ ہونی چاہیے ہر پارک، کیفے اور ہوٹل میں ایک بک کارنر ہونا چاہیے تاکہ مطالعہ کو عام کیا جا سکے۔تقریب میں لائبریری کے تحت جاری ڈی سپیس پروجیکٹ کاافتتاح کیا گیا، جس کے تحت یونیورسٹی کی تحقیق اور تخلیقات کو ایک ڈیجیٹل اسپیس میں محفوظ کیا جا ئے گا تاکہ عالمی سطح پر رسائی ممکن ہو سکے۔ ڈاکٹر کنول امین نے لائبریرین مصباح بشیرکی کوششوں کو سراہا کہ انہوں نے نہ صرف اس پروجیکٹ کی منصوبہ بندی کی بلکہ اس کے نفاذ میں بھی اہم کردار ادا کیا۔کتاب دوستی کے فروغ کے لیے مختلف سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا، جن میں واک ، پینل ڈسکشن، اوتھر ٹربیوٹ ،مصنیفین اور شعرا کے ساتھ ایک سیشن ،شوکاز آف شاہ موکھی پنجابی ورنیٹ پروجیکٹ ،سٹیمپس کولیکشن اور کوئز کمپیٹیشن شامل تھے۔تقریب کے اختتام پر مہمانوں کو شیلڈ سے نوزا گیا ۔
Category: ادب و مزاح
-

ایک یادگار شام .تحریر:شاہدہ مجید
کینیڈا سے تشریف لائے معروف باکمال شاعر ڈاکٹر اسد نصیر کے اعزاز میں کل شام ادبی فورم انحراف انٹرنیشنل اور چیپٹرز کے اشتراک سے ایک شاندار مشاعرے کا انعقاد کیا گیا، جسے لاہور رنگ ٹی وی نے اپنی سکرین کی زینت بنایا۔
محترمہ یاسمین حمید کی صدارت اور جناب شہزاد نیر کی خوبصورت نظامت نے محفل کو سحر انگیز بنا دیا۔ جناب شہزاد نیر کا دلی شکریہ انہوں نے مجھے مدعو کیا۔ بینر بنوانے کے لئے شرکت کنفرم کرنے کی بات پر میں نے ان سے درخواست کی کہ بینر پر میرا نام نہ لکھوائیں اور دعوت کو اوپن رہنے دیں، تاکہ اگر کسی مجبوری کے باعث شرکت نہ ہو سکے تو شرمندگی نہ ہو۔ خوشی اس بات کی ہے کہ شہزاد صاحب نے نہ صرف میری بات کو سمجھا بلکہ نہایت خوش دلی سے قبول بھی کیا — اور شاید یہی بات تھی جو مجھے اس شام اس خوبصورت محفل تک کھینچ لائی۔
سچ کہوں تو کئی بار کی عدم حاضری کے باعث اکثر احباب نے بلانا بھی کم کر دیا تھا۔ لیکن شہزاد نیر صاحب کے خلوص نے ایک بار پھر ادبی محفل سے جوڑ دیا۔ یہ کافی عرصے بعد کسی مشاعرے میں شرکت تھی —
تمام شعراء سے بہترین کلام سننے کو ملا اور دل جیسے پھر سے زندگی سے بھر گیا۔
بے حد مبارک باد جناب افتخار الحق اور شہزاد نیر صاحب کو، جنہوں نے نہایت عمدگی سے اس ادبی تقریب کا اہتمام کیا، جو یقینی طور پر ایک یادگار مشاعرہ رہا ۔۔
اور ہاں ثمینہ سید سے ملاقات کی خوشی الگ سے ہے ۔ اللہ کریم انھیں صحت مند ہنستا مسکراتا رکھے ۔۔
میرے میڈیا کے دوستوں خاص طور پر محترم عامر نفیس کی شفقت کے لئے بھی ممنون ہوں جنھوں نے اپنی دیرینہ کولیگ کو دوبارہ ایکٹو دیکھ کر نہ صرف بہت خوشی کا اظہار کیا بلکہ بہت سے دعاؤں کے ساتھ میڈیا رپورٹ کو خصوصی طور پر ارسال کیا ۔۔ -

یومِ وفات: علامہ محمد اقبال ، تحریر:کنزہ محمد رفیق
حکیم الامت علامہ محمد اقبال نے اپنی خوابیدہ قوم کی بیداری اور بہبود کے لیے اپنی زندگی تیاگ دی، مگر ہم آج کہاں کھڑے ہیں ؟
کہاں تک ان کی شاعری کی اور ان کے خیالات کی تقلید کی ہے ؟
ہم آج ان کی تصانیف اور ان کے نظریات کو پس پشت ڈال کر اپنے آپ کو نفس کے حوالے کر بیٹھے ہیں۔ اور یوں خود کو دنیا میں غیر حاضر قرار کر دے کر ہم اللّٰہ تعالیٰ کے اس بیش قیمت تحفے سے سراسر انحراف کر رہے ہیں۔
ہم میں سے ہر شخص کے لیے اس وقت تک کامیابی ممکن نہیں ہے جب تک کہ وہ ” خودی” کو نہ پا لے۔
آخری خودی ہے کیا ؟
خودی انسان میں پوشیدہ خوبیاں ہیں، اس میں پنہاں طاقتیں ہیں، جو انسان ان گوہر نایاب تک پہنچ جاتا ہے، اسے کامیابی سے کوئی نہیں تھام سکتا۔
کسی بھی شعبہ ہائے زندگی میں خودی کی تربیت اور پرورش کامیابی کے حصول کے لیے شرطِ اول ہے، چوں کہ خودی زندہ اور پائندہ ہوگی تو کائنات آپ کے آگے جھک جائے گی، اور اگر خودی بیدار نہ ہو تو وہی ہوگا جو آج ہر جگہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔
ڈپریشن، ڈپریشن اور ڈپریشن!
ہائے! میری دنیا، میری دنیا، میری دنیا۔
دنیا کو پانا ہے تو خودی کو پانا ہوگا، خود کو ڈھونڈیے دنیا خود آپ کو ڈھونڈے گی۔
اقبال اپنی قوم پر مہربان تھے، وہ اپنے عوام کو باشعور، کامران اور اونچا اونچا اڑتے دیکھنے کے خواست گار تھے۔ مگر ہم ہیں فرنگیوں کے پیروکار، آخر یہ بات کب ہمارے شعور کا حصہ بنا گی کہ وہ ہمیں تلف کر دینا چاہتے ہیں، اور ہمارے رہ نما ہمیں سرفراز دیکھنا چاہتے تھے۔
اقبال نے فرمایا:
"خودی کا سرِ نہاں لا الہ الااللہ
خودی ہے تیغ فساں لا الہ الااللہ ”
خودی تک انسان تب پہنچتا ہے جب وہ اللّٰہ کو پہچاننے لگتا یے، چوں کہ خودی کی تلوار کو توحید آب دار اور طاقت ور بناتی ہے، ہم جتنا اللّٰہ کا قرب پاتے جائیں گے خودی کو اتنا ہی استحکام نصیب ہوتا جائے گا، پھر ہر خوف پس و پیش بکھر جائے گا، کیوں کہ ہر وقت زباں پر ہوگا:
” لا الہ الااللہ، لا الہ الااللہ” -

تبصرہ کتب ،قلب مضطر،مبصر:کنزہ محمد رفیق
” وہ جس سے بھی محبت کرتا تھا، وہ اسے چھوڑ جاتا تھا۔ ”
ماں باپ کی موت، بھائی کی دھتکار، نیلی کی بے وفائی، جان نثار کر دینے والے دوست کا دکھ، ہریرہ کا ہجر، منہ بولی بہن (تمکین) سے جدائی اور لاحاصل خوابوں نے اسے بے خود کر دیا تھا۔
آخر زندگی نے اسے کیا دان کیا؟
محض محرومیاں، کلفتیں اور اذیتیں ؟
یہ کہانی ہے جنید کی، اور اس کی حرماں نصیبی کی۔
اور یہ کہانی ہے ابوذر کی اور اس کے بلند بخت کی۔
” آخری خط، آخری ملاقات، آخری جملہ، آخری امید، اور آخری لمس اس کی زندگی کھا گیا تھا۔
جنید کے اذیتوں بھرے کردار کے لیے ساحر لدھیانوی کا یہ شعر موزوں رہے گا۔
” اپنے ماضی کے تصور سے ہراساں ہوں مَیں
اپنے گزرے ہوئے ایام سے نفرت ہے مجھے”
اور مسیحا ابوذر کے کردار کا یہ شعر ترجمان ہے۔
"کسی کے زخم پہ مرہم لگا دینا
مسیحائی ہے، خدا کو پا لینا”یہ جدا جدا دو کردار نہیں، بلکہ ایک ہی کردار کے دو رخ ہیں۔ جنید کو ابوذر بنانے اور ذہنی اور روحانی طور پر مضبوط کرنے والوں میں ڈاکٹر زبیر خان، ڈاکٹر بہروز، رومیصہ، جلال بابا اور چاچا رفیق نے کلیدی کردار ادا کیا۔
ماضی کے لوگوں نے اس حساس دل انسان کو ذہنی مریض بنا دیا تھا، ہمہ وقت وہ اسی آواز کے ساتھ چیختا چلاتا۔
” ابنِ مریم ہوا کرے کوئی
مرے دکھ کی دوا کرے کوئی”
"قلب مضطر ” حنا وہاب صاحبہ کے قلم سے لکھا اصلاحی ناول ہے، اس ناول میں سماج میں بکھرے کئی موضوعات کو سمیٹ دیا گیا یے، جیسے، پیٹ پالنے کے لیے حرام کاموں میں ملوث ہونا، محبت اور اپنائیت کے اظہار میں کنجوسی کرنا اور پھر بعد میں پچھتاوا کرنا، ٹک ٹاک پر ناچ کر شہرت پانا، اور آئے روز لڑکیوں کو اچھی شکل و صورت نہ ہونے کی وجہ سے ٹھکرا دینا، لوگوں کی مسیحائی کرنا اور ہم سفر کا انتخاب کرتے وقت ظاہر سے زیادہ باطن کو مقدم رکھنا، مگر اس کا اساسی موضوع "ڈپریشن” ہے۔ جو ان تمام وجوہات کا نتیجہ یے۔ جس نے آج ہر دماغ پر راج کر رکھا ہے۔اکیسویں صدی کا ہر دوسرا شخص نفسیاتی مرض ( ڈپریشن) میں مبتلا ہے۔ جہاں امید اور آس نہ ہو وہاں ویرانی ہوتی یے، دل پر قنوطیت کے بادل چھائے رہتے ہیں اور ہمہ وقت یاسیت کی برکھا برستی رہتی ہے جو دل کو کلی طور کھوکھلا کر کے رکھ دیتی یے۔
ہر مرض کی مانند ڈپریشن کا بھی علاج موجود ہے، جنید کے روحانیت پر مبنی سیشنز ہوتے رہے، اسے رنگوں سے کھیلنا پسند تھا، وہ رنگوں سے اپنے خیالات کا اظہار کرتا۔ برابر سیشن ہوتے رہے اور وہ کشاں کشاں اپنے آپ کو سنبھالنے لگا، اس مرض سے فرار کے بعد وہ لوگوں کا مسیحا بن گیا، انہیں ڈپریشن جیسے مرض سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کرتا ، اور اس نے ایک سیشن ایسی لڑکی کا کیا، جس کو گھر آئے ہر رشتے نے ٹھکرا کر ذہنی مریض بنا دیا تھا، ابو ذر نے اسے کھلے دل سے اپنایا اور ہمیشہ کے لیے اپنا نام دے کر اسے معاشرے میں معتبر کر دیا۔
ادب میں بہت سے ادیب معاشرے میں پھیلی برائیوں کو یکجا کر دیتے ہیں، مگر اس کا سدّباب قارئین کے سامنے پیش نہیں کرتے ہیں، یہ حنا وہاب صاحبہ کا خاصہ ہے کہ انہوں نے نہ صرف معاشرے میں پھیلتی بیماری کو بیاں کیا بلکہ اس کا تریاق بھی قلمبند کیا تاکہ قارئین اپنی زندگیوں کو اللّٰہ سے جوڑ کر تباہی اور زوال سے بچ سکیں۔آج معاشرے میں مقابلہ زیادہ ہے، گھٹن زیادہ ہے۔ لوگ ایک دوسرے سے دور جا رہے ہیں، اور دلوں کو عناد اور نفاق ایسی خوارک فراہم کر رہے ہیں۔
ماہر نفسیات سگمنڈ فرائڈ نے ثابت کیا ہے کہ ڈپریشن ایسا ذہنی مرض خوراک کی تبدیلی، دواؤں، یا جھاڑ پھونک سے صحیح نہیں ہوتا بلکہ اس کا علاج ” گفت گو” سے ہوتا یے۔
ٹاک تھراپی سے مریض اپنے اندر کی بھڑاس نکال کر ہلکا پھلکا ہو جاتا۔
پس معاشرے کو پُرامن اور لوگوں کو پُر سکون کرنے کے لیے۔۔۔۔
” بات سنتے رہو، بات کہتے رہو۔”
صفحہ نمبر 68
” سڑکوں پر لگی ہوئی لائٹس نے دن میں رات کا سماں کر رکھا تھا اسی لیے کسی نہ کسی طرح دکھائی دے رہا تھا۔”
کیا اس جملے کی ترتیب صحیح ہے؟
ریس تو رات میں شروع ہوئی تھی پھر دن میں رات کا سماں؟
کچھ سمجھ نہیں آیا۔
شاید جملہ کچھ اس طرح ہوگا :
” سڑکوں پر لگی ہوئی لائٹس نے رات میں دن کا سماں کر رکھا تھا اسی لیے کسی نہ کسی طرح دکھائی دے رہا تھا۔”
صفحہ نمبر 27
” اس کے داہنے ہاتھ پر برنولہ لگا ہوا تھا”
برنولہ یا کینولا ؟
صفحہ نمبر 37
پرواہ یوں لکھا ہوا ہے، جب کہ پروا کے املا میں آخر میں "ہ ” نہیں آتا۔ ” پروا”
صفحہ نمبر 78
بارش کی آمد سے قبل باد نسیم کو محسوس کرتے۔
بادِ نسیم صبح کی یا شام کی تازہ ہوا کو کہتے ہیں۔ جب کہ بارش سے قبل ہوا میں نمی اور زیادہ ٹھنڈک ہوتی یے تو اسے "بارانی ہوا” کہتے ہیں۔
کتاب کے صفحات اور طباعت بہتر یے جب کہ سرِ ورق بہترین ہیں۔
اصلاحی اور وقت کی ضرورت پر مبنی اس ناول کی اشاعت پر حِنا صاحبہ کو دلی مبارکباد۔
اسی طرح اپنے قلم سے معاشرے کی اصلاح کرتی رہیے، اور اپنے حصّے کے دیپ روشن کرتی جائیے ان شاءاللہ آپ کی کاوشوں سے معاشرے میں ضرور سدھار آئے گا۔
مشاہدہ کرتی رہیے، سوچتی رہیے اور لکھتی رہیے۔ -

عطا الحق قاسمی کے اعزاز میں ایک شاندار ادبی نشست، تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی
یو ایم ٹی میں ایک ادبی نشست منعقد کی گئی جو معروف ادبی شخصیت عطا الحق قاسمی کے اعزاز میں تھی اس میں یونیورسٹی کے سٹوڈنٹس سمیت شاعروں ادیبوں اور عطا الحق قاسمی کی تحریروں کو پسند کرنے والوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی یونیورسٹی کا سیمینار ہال کھچا کھچ بھرا تھا ،سٹیج پر عطا الحق قاسمی کے ساتھ معروف صحافی سہیل وڑائچ موجود تھے جنہوں نے عطاء الحق قاسمی سے مختلف سوالات کیے جن کے جوابات انہوں نے اپنے مخصوص شگفتہ انداز میں دئیے، کئی موقعوں پر ہال کشت زعفران بن گیا عطا الحق قاسمی کی کتابوں اور تحریروں کا زکر رہا ،
تقریب میں بیگم عطا الحق قاسمی اور ان کے صاحب زادے عمر قاسمی نے بھی شرکت کی عطا الحق قاسمی کے دوست احباب بھی بڑی تعداد میں موجود تھ،ے ایرانی قونصلیٹ آ غاے اصغر مسعودی نے بھی شرکت کی فارسی اور اردو میں اظہار خیال کیا اور عطا الحق قاسمی کو خراج تحسین پیش کیا عطا الحق قاسمی کے کالم ،، روزن دیوار سے ،، کا زکر رہا ،پروگرام کے بعد ایک فنکار نے اپنی خوبصورت آ واز میں عطا الحق قاسمی کا کلام پیش کیا اور علی امام من است و منعم غلام علی ، ہزار جان گرامی فداے نام علی منقبت پیش کی ، اس موقع پر سونیر بھی پیش کییے گئے اور آ خر میں کھانے کا بھی عمدہ انتظام تھا یونیورسٹی انتظامیہ اس عمدہ ادبی نشست کے لیے مبارکباد کی مستحق ہے –



-

اپووا خواتین کانفرنس،یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی .تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی
علامہ اقبال نے کہا تھا
وجود زن سے تصویر کائنات میں ہے رنگ
یہ درست ہے اس کائنات میں خواتین کا رول بہت اہم ہے نسل انسانی کو پروان چڑھانے اور ان کی تربیت کی زمہ داری اللہ تعالیٰ نے خواتین کے کندھوں پر ڈالی اور تاریخ شاہد ہے جن خواتین نے یہ ذمہ داری بطریق احسن نبھائی ان کی اولاد نے اپنے اعلیٰ اوصاف سے ایسے رنگ بھرے کہ جو کبھی ماند نہیں ہوئے، فاطمہ جناح اپنے بھائی کے ہم قدم رہیں کبھی ان کو اکیلا نہیں چھوڑا ،رعنا لیاقت علی خان نے اپنے شوہر لیاقت علی خان کا ساتھ دیا مال و دولت جمع نہیں کیا اسی طرح تاریخ اسلام اور دنیا کی تاریخ خواتین کے کار ناموں سے بھری پڑی ہے لیکن بدقسمتی سے وہ حقوق جو اسلام نے اور قانون نے عورتوں کو دئیے ان پر عملدرآمد بہت کم دیکھنے میں آ یا اور معاشرے میں خواتین کو بہت سے مسائل کا سامنا رہا اور ایسے ماحول میں اگر خواتین کو عزت و تکریم دینے اور ان کی صلاحیتوں کو سراہنے کی کی بات ہو تو بہت خوش آئند ہے، اسی حوالے سے آ ل پاکستان رائٹرز ایسوسی ایشن ( اپووا ) نے کل بارہ اپریل ہفتے کے دن پاک ھیرٹج ہوٹل میں ایک تقریب منعقد کی .

اپووا کے بانی اور صدر ایم ایم علی ہیں جبکہ چئیرمین زبیر احمد انصاری ہیں ان کی طرف سے منعقد کردہ یہ تقریب شاندار تھی اپنی صلاحیتوں کے اعتراف میں ایوارڈ حاصل کرنے پر خواتین خوش نظر آ رہی تھیں تمام گیسٹ سپیکرز اپنے اپنے شعبوں میں ممتاز مقام رکھتی تھیں ان میں سامعہ خان ، عذرا آ فتاب ، عارفہ صبح خان ، دعا مرزا ، ثنا آ غا خان ، ڈاکٹر فضلیت بانو ، گل ارباب ، کومل جوئیہ ، لالہ رخ اور دیگر شامل تھیں اس تقریب کی خاص بات یہ تھی کہ اس تقریب کو غزہ کے مظلوموں سے منسوب کیا گیا کالی پٹیاں باندھ کر اور فلسطین کے جھنڈے لہرا کر احتجاج کیا گیا اور فلسطین کی مظلوم عورتوں اور بچوں سے اظہار یک جہتی کیا گیا ،اس تقریب میں پشاور ، کراچی ، اور کئی دوسرے شہروں سے آ نے والی خواتین شامل تھیں یہ بھر پور اور باوقار تقریب تھی اس کے لیے اپووا کے بانی اور چئیرمین لائق تحسین ہیں ان کو بہت مبارکباد اور انتظامیہ میں شامل تمام خواتین جن میں سحرش خان ، ڈاکٹر ثمینہ طاہر اور دیگر بہت مستعد تھیں ان سب کا بھی شکریہ اور مبارکباد
یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگیاپووا خواتین کانفرنس،خواتین کی دشمن کون؟تحریر:قرۃالعین خالد
اپووا کی سالانہ خواتین کانفرنس، ایک یادگار لمحہ.تحریر:نور فاطمہ
اپووا خواتین کانفرنس میں باغی ٹی وی کی نور فاطمہ کو ملا اعزازی ایوارڈ
اپووا کی سالانہ پانچویں خواتین کانفرنس،خواتین میں ایوارڈز تقسیم
گورنر پنجاب سیکرٹریٹ میں بانی اپووا ایم ایم علی کی سالگرہ کی پروقار تقریب، اہم شخصیات کی شرکت
اپووا وفد کی مبشر لقمان سے ملاقات،ایم ایم علی کو سرٹیفکیٹ سے نوازا گیا
اپووا کانفرنس سیالکوٹ کا احوال.تحریر:ایم ایم علی
اپووا ادبی کانفرنس سیالکوٹ—ایک یادگار ادبی اجتماع.تحریر:مدیحہ کنول
اپووا اور میرے احساسات .تحریر:قرۃالعین خالد
اپووا کی آٹھویں سالانہ تربیتی ورکشاپ کا مختصر احوال،تحریر۔مدیحہ کنول
-

اپووا کی سالانہ خواتین کانفرنس، ایک یادگار لمحہ.تحریر:نور فاطمہ

آج کا دن میرے لیے ایک نیا سنگ میل ثابت ہوا، جسے میں زندگی بھر یاد رکھوں گی، آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی پانچویں سالانہ خواتین کانفرنس میں میری خواتین ایوارڈ کے لیے نامزدگی کا اعلان ہوا، جس کا میں طویل عرصے سے انتظار کر رہی تھی۔ یہ لمحہ میرے لیے بے حد اہمیت کا حامل تھا، کیونکہ یہ میرے لئے نہ صرف ایک اعزاز تھا بلکہ خواتین کی کامیابیوں کو سراہنے کا بھی ایک شاندار موقع تھا۔کانفرنس میں جانے سے پہلے، میرے ذہن میں کئی سوالات تھے۔ میں سوچ رہی تھی کہ میں وہاں کس طرح جاؤں گی، کیونکہ وہاں کوئی میری جان پہچان کا نہیں تھا،سب نئے لوگ تھے، لیکن جب میں کانفرنس میں پہنچی، تو آ پی ثمینہ طاہر بٹ نے جس اپنائیت کے ساتھ میرا استقبال کیا، اور تمام عہدیداران اور ممبران نے جتنی مہمان نوازی کی، وہ سب کچھ میرے لیے بے حد دل کو چھو لینے والا تھا۔ ان سب کا تہہ دل سے شکریہ جنہوں نے اس خوبصورت تقریب کے انعقاد میں حصہ لیا اور میری حوصلہ افزائی کی۔بانی صدر آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن، ایم ایم علی بھی کانفرنس میں متحرک نظر آئے،ایم ایم علی کا خصوصی شکریہ…کیونکہ میرے ایوارڈ کی نامزدگی کی منظوری انہوں نے دی تھی.

اپووا کی خواتین کانفرنس میں ملک بھر سے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی باوقار خواتین نے شرکت کی اور اپنی موجودگی سے تقریب کو مزید وقار بخشا۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کی سعادت حافظ محمد زاہد نے حاصل کی۔ اس کے بعد سیدہ مصور صلاح الدین نے عقیدت و احترام سے نعتیہ کلام پیش کیا۔سحرش خان نے خطبۂ استقبالیہ پیش کیا، نمرہ ملک کی خوبصورت اور پراثر پنجابی نظم نے محفل کو ایک خاص رنگ عطا کیا اور حاضرین سے خوب داد وصول کی۔کانفرنس میں کچھ اہم شخصیات نے شرکت کی، جن میں معروف لکھاریہ گل ارباب، پی آر او ٹو گورنر پنجاب محترمہ لالہ رخ ناز، ڈپٹی سیکرٹری ٹو گورنر پنجاب محترمہ ظل ہما، عالمی شہرت یافتہ اسٹرولوجر سامعہ خان، لیجنڈری اداکارہ عذرہ آفتاب، علمی و ادبی شخصیت ڈاکٹر عارفہ صبح، دبنگ جرنلسٹ دعا مرزا، اینکر پرسن ثناء آغا خان، ہیلتھ ایکسپرٹ ڈاکٹر انعم پری، علمی و ادبی شخصیت ڈاکٹر فضیلت بانو، معروف شاعرہ کومل جوئیہ، لیگل ایڈوائزر ایڈووکیٹ سعدیہ ہما شیخ، اور تحریک نفاذ اردو کی متحرک رکن فاطمہ قمر شامل تھیں۔

میرے لیے یہ ایک شاندار موقع تھا کہ مجھے اس کامیاب کانفرنس کا حصہ بنایا گیا اور میری محنت اور جدوجہد کو تسلیم کیا گیا۔ میں خاص طور پر سینئر صحافی اور اینکر پرسن، سی ای او باغی ٹی وی، مبشر لقمان صاحب کی بے حد مشکور ہوں کہ ان کی وجہ سے مجھے یہ مقام حاصل ہوا۔ باغی ٹی وی کی بدولت ہی آج میں یہاں ہوں اور اس کامیاب کانفرنس کا حصہ بنی ہوں۔کانفرنس کے اختتام پر جب واپس جانے کا وقت آیا، تو دل میں بہت سی باتیں گئیں۔ میں سوچ رہی تھی کہ پتا نہیں وہاں دیگر خواتین کیسی ہوں گی، مگر جب وہاں پہنچ کر جو دل جیتنے والا استقبال ہوا، وہ ایک ایسا لمحہ تھا جسے میں زندگی بھر یاد رکھوں گی۔ اللہ تعالٰی اپووا کے تمام منتظمین کو ڈھیروں کامیابیاں عطا کرے۔

آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی پانچویں سالانہ خواتین کانفرنس کے انعقاد پر تمام عہدے داران اور تمام خواتین کا تہہ دل سے شکریہ جنہوں نے اتنی محبت دی۔ اور جب ایوارڈ دینے کے لئے مجھے اسٹیج پر بلایا گیا اور کہا گیا کہ کہ میں مبشر لقمان کے چینل سے ہوں ، تو یہ میرے لیے فخر کا مقام تھا۔ میں ان سب خواتین،اپووا کے منتظمین کا دل سے شکریہ ادا کرتی ہوں جنہوں نے اس تقریب کو کامیاب بنانے کے لیے اپنا قیمتی وقت دیا اور مجھے اتنی عزت دی۔یہ دن میری زندگی کا ایک یادگار دن بن چکا ہے، اور اس کانفرنس کی کامیابی کا کریڈٹ آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی ٹیم اور اس کے منتظمین کو جاتا ہے۔مبارکباد اور ڈھیروں دعائیں…..

-

کمالِ فن ایوارڈ عارف افتخار کے نام.تحریر؛ شیخ فرید
قومی ادبی ایوارڈز سے بلوچستان کے ادیبوں کو نوازا گیا
کوئٹہ کےادبی منظر پر اداسی چھائی رہی
وادیء شال کی بہار رْت اب کے آتے آتے گلوں کو اداس کر گئی ، بادام کے پیڑوں پر سفید کونپلوں اور سیب کی گلابی غنچوں نے بھی تاخیر کی ، اور ادبی منظر پر اداسی کے بادلوں نے اہلِ علم و ادب مضطراب رکھا ۔اتوار کو بزم صائم نے بہاریہ مشاعرے کرنا تھا جو نہ پایا ۔7اپریل کو بلوچستان رائٹرز گلڈ (برگ) نے ادبی کانفرنس اور آغاگل ایوارڈز کا اعلان کر رکھا تھا جو ملتوی کر دیا گیا ۔
کوئٹہ کا زمینی رابطہ منقطعہ ہے ۔ کاروبار شیدید متاثر ہے ۔اور شہر کی فضا اداس ہے ۔ اسی اداسی میں اکادمی ادبیات پاکستان نے سال 2023ء کے کمالِ فن ادبی ایوارڈ کا اعلان کیا ۔تفصیلات کے مطابق اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے ادباء وشعراء کے لیے پچاس لاکھ روپے سے زائد مالیت کے انعامات کا اعلان کیا گیا ۔
اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے ممتاز اہل قلم کی ادبی خدمات کے اعتراف میں کمال فن ایوارڈ2023 کے لیے معروف شاعر افتخار عارف کو منتخب کیا گیا ہے ۔اس کا اعلان ڈاکٹر نجیبہ عارف صدر نشین ، اکادمی ادبیات پاکستان نے ایوارڈ کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں کیا ۔
’’کمالِ فن ایوارڈ ‘‘ ملک کا سب سے بڑا ادبی ایوارڈ ہے ۔جس کی رقم دس لاکھ روپے ہے۔2023کے ’’کمال فن ایوارڈ ‘‘ کا فیصلہ پاکستان کے معتبر اور مستند اہل دانش پر مشتمل منصفین کے پینل نے کیا جس میں ڈاکٹر انعام الحق جاوید ، جناب اصغر ندیم سید، پروین ملک، مدد علی سندھی ، انورسن رائے ، ڈاکٹر رؤف پاریکھ، ڈاکٹر اباسین یوسفزئی، نیلوفر اقبال، حسام حر، حفیظ خان ، ڈاکٹر محمد سفیراعوان ، ڈاکٹر واحد بخش بزدار، عبدالقیوم بیدار، ڈاکٹر ناصر عباس نیر ، اورڈاکٹر بصیرہ عنبرین شامل تھے۔اجلاس کی صدارت مدد علی سندھی نے کی ۔ ’’کمال فن ایوارڈ ‘‘ ہر سال کسی بھی ایک پاکستانی اہل قلم کوان کی زندگی بھر کی ادبی خدمات کے اعتراف کے طور پر دیا جاتا ہے۔یہ ایوارڈ ملک کا سب سے بڑا ادبی ایوارڈ ہے ۔جس کا اجراء اکادمی ادبیات پاکستان نے 1997ء میں کیا تھا۔اب تک اکادمی ادبیات پاکستان کی طرف سے احمد ندیم قاسمی ، انتظار حسین ،مشتاق احمد یوسفی، احمد فراز ،شوکت صدیقی، منیر نیازی ، ادا جعفری،سوبھو گیان چندانی ،ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ، جمیل الدین عالی، محمد اجمل خان خٹک ، عبداللہ جان جمالدینی،محمدلطف اللہ خان ، بانو قدسیہ ، محمد ابراہیم جویو ، عبداللہ حسین ، افضل احسن رندھاوا ، فہمیدہ ریاض،کشور ناہید، امر جلیل ، ڈاکٹر جمیل جالبی، منیراحمد بادینی، اسد محمد خاں ، جناب ظفر اقبال اور جناب حسن منظر کو ’’کمال فن ایوارڈ ‘ دیے جا چکے ہیں ۔اس موقع پر’ ’قومی ادبی ایوارڈز‘‘ برائے سال2023ء کا بھی اعلان کیاگیا۔چیئرپرسن اکادمی ادبیات پاکستان ڈاکٹر نجیبہ عارف نے پریس کانفرنس میں قومی ادبی ایوارڈز کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ اردو نثر( تخلیقی ادب) کے لیے سعادت حسن منٹو ایوارڈ طاہر ہ اقبال کی کتاب ’’ ہڑپا ‘ (منصفین نیلوفراقبال ، ڈاکٹر معین نظامی اور ڈاکٹر ناصر عباس نیر ) ، اردو نثر (تحقیقی وتنقیدی ادب) کے لیے بابائے اردو مولوی عبدالحق ایوارڈ ڈاکٹرامجد طفیل کی کتاب "ہمعصر اردو افسانہ ” اور فرخ یار کی کتاب ’’ عشق نامہ ‘‘(منصفین:ڈاکٹر رؤف پاریکھ، ڈاکٹر عبدالعزیز ساحر اور ڈاکٹر خالد محمود سنجرانی) ، اردو شاعری کے لیے ’’ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ایوارڈ‘‘ غلام حسین ساجد کی کتاب ’’تجاوز‘‘ (منصفین: نذیرقیصر ڈاکٹر وحید احمد اور ڈاکٹر سحر انصاری ) ، پنجابی شاعری کے لیے ’’سید وارث شاہ ایوارڈ‘‘ قابل جعفری کی کتاب ’’ اپار‘‘،پنجابی نثر کے لیے’’ افضل احسن رندھاوا ایوارڈ‘ ‘ نصیراحمد کی کتاب ’’ کیہ پاتر د ا جیونا ‘‘ (منصفین:پروین ملک ، (انجم سلیمی اورزبیراحمد ) ، سندھی شاعری کے لیے ’’شاہ عبدالطیف بھٹائی ایوارڈ ‘‘ابرار ابڑو کی کتاب ’’اکین کی پندھ کرنوآ‘‘، سندھی نثرکے لیے ’’مرزا قلیچ بیگ ایوارڈ‘‘ ڈاکٹر مشتاق باگانی کی کتاب ” ننگر ٹھٹے جو سماج ” (منصفین: مدد علی سندھی، شبنم گل اور ڈاکٹر شیرمہرانی) ، پشتو شاعری کے لیے ’’خوشحال خان خٹک ایوارڈ‘‘ م ۔ر شفق کی کتاب ” گل رنگ "،پشتو نثر کے لیے ’’ محمد اجمل خان خٹک ایوارڈ ‘‘ ڈاکٹر عبدالکریم بریالے کی کتاب ” درحمان بابا کلیاتو دمتن انتقادی ثیڑنہ ” (منصفین: ڈاکٹر اباسین یوسفزئی ، ڈاکٹر اسیر منگل اور نورالامین یوسفزئی) ، بلوچی شاعری کے لیے ” مست توکلی ایوارڈ” وہاب شوہاز کی کتاب ” چراگاں دم نہ برتگ” ، بلوچی نثر کے لیےسید ظہور شاہ ہاشمی ایوارڈ پروفیسر ڈاکٹر محمد یوسف کی کتاب ” بلوچی ءُ براہوئی زبانانی سیالی ” (منصفین:ڈاکٹر فضل خالق، ڈاکٹر زینت ثنا اورمحمد یوسف گچکی) ، سرائیکی شاعری کے لیے ’’خواجہ غلام فرید ایوارڈ‘‘عزیز شاہد کی کتا ب ’’چاک‘ ، سرائیکی نثر کے لیے”ڈاکٹر مہر عبدالحق ایوارڈ”رفعت عباس کی کتاب’’ نیلیاں سلہاں پچھوں ‘‘ (منصفین: رانا محبوب اختر، سلیم شہزاد، حبیب موہانہ) ، براہوئی شاعری کے لیے ’’تاج محمد تاجل ایوارڈ ‘‘بابل نور کی کتاب ’’ چنکس استار ” ، براہوئی نثر کے لیے ’’غلام نبی راہی ایوارڈ‘‘ عمران فریق کی کتاب ’’ ادبی تھیوری ؤ براہوئی ادب ‘‘ (منصفین: عبدالقیوم بیدار، افضل مراد، افضل مینگل ) ، ہندکو شاعری کے لیے ’’ سائیں احمد علی ایوارڈ ‘‘ڈاکٹر خاور چوہدری کی کتاب ’’ بجھنا ڈیوا ‘‘،ہندکو نثر کے لیےخاطر غزنوی ایوارڈ اختر نعیم کی کتاب ” قسطنطنیہ، انگورا ،سمرنا ” (منصفین:ناصر علی سید، محمد ضیاء الدین اور حسام حر ) ، انگریزی نثر کے لیے پطرس بخاری ایوارڈ ایم اطہر طاہر کی کتاب
"Second Coming "، انگریزی شاعری کے لیے داؤد کمال ایوارڈ اعجاز رحیم کی کتاب “Beyond Dates and Pomegranates” منصفین: ڈاکٹرمحمد سفیراعوان، منیزہ شمسی اور حارث خلیق) اور ترجمے کے لیے ’’محمد حسن عسکری ایوارڈ‘‘شوکت نواز نیازی کی کتاب ’’ جلاوطنی اور سلطنت(آلبرٹ کامیو) ‘‘ کو دیا گیا(منصفین :ارشد وحید ، ڈاکٹر خالد اقبال یاسر اورڈاکٹر سید جعفر احمد) ۔قومی ادبی انعام حاصل کرنے والی ہر کتاب کے مصنف کو دودولاکھ روپے بطور انعامی رقم دیے جائیں گے۔
اکادمی ادبیات پاکستان کا تقسیم ایوارڈ کی تقریب کا انعقاد کرنا یٰقیناً ایک مستحسن اور قابلِ ستائش اقدام ہے مگر کیا ہی اچھا ہو۔کہ قومی ادبی ایوارڈ کا دائرہ کار کو وسعت دیتے ہوئے صوبائی سطح پر لایا جائے تاکہ ہر صوبہ اپنے طور پر مقامی اہلِ قلم کی نامزدگی ممکن ہو اور علاقائی علم و ادب کو فروغ ملے ۔
بلوچستان رائٹرز گلڈ (برگ) نے اپنے ایک اعلامیہ میں چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان ڈاکٹر نجیبہ عارف کو دلی طور پر مبارک باد پیش کی ہے ۔


-

کتاب: جناب عالی،شاعر: صغیر احمد صغیر ،تبصرہ: منزہ سحر
ایک ڈرے، سہمے، مفاد پرست اور تعفن زدہ معاشرے میں طاغوتی قوتوں کو للکارتی ہوئی آواز ۔۔۔ جناب عالی! جناب عالی!
یہ کاٹ دار لہجہ ان منفی کرداروں سے مخاطب ہے جو نا صرف معاشرتی اقدار پہ حملہ آور ہوتے ہیں بلکہ دلوں پر بھی بے دریغ وار کرتے ہیں اور اندھا دھند اپنے مفاد کے گھوڑے سرپٹ دوڑاتے ہوئے انسانوں کو کیڑے مکوڑوں کی طرح کچلتے ہوئے آگے بڑھنا چاہتے ہیں ایسے میں کوئی ایک ایسا دلیر، غیور اور نڈر کردار ان کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہو جاتا ہے ۔ اور ان کی سوالیہ نظروں کے جواب میں یہ ڈائیلاگ بولتا دکھائی دیتا ہے جنابِ عالی! جنابِ عالی!
صورتحال کچھ فلمی سی تو لگتی ہے مگر کیا کیجیئے جب ہمارے لیے حالات ہی ایسے بنا دئیے جائیں تو ان کا جواب بھی اسی طریقے سے واجب ہو جاتا ہے ۔ اور پھر تاریخ بھی ایسے کردار کو فراموش نہیں کر سکتی بلکہ وہ دوسروں کے لیے ایک مثال بن کر ابھرتا ہے اور اپنے حصے کا کام کر جاتا ہے ۔
جناب صغیر احمد صغیر کا زیر نظر شعری مجموعہ "جناب عالی!” عین اس صورتحال کا آئینہ ہے ۔ انہوں نے بنا کسی خوف و خطر مزاحمتی شاعری کو آگے بڑھاتے ہوئے انقلابی شاعروں کی پیروی بھی کی ہے اور اپنا منفرد اسلوب اور واضح نکتہ نظر دنیا کے سامنے رکھ دیا ہے ۔ شعری مجموعہ "جنابِ عالی! ” شاعر کے نڈر طرزِ فکر کو اجاگر کرتا ہے ۔ وہ معاشرے کے کرتا دھرتاؤں کو بے نقاب کرتے ہوئے کہتے ہیں ۔
میں زمانے سے جدا ہوں سو جدا بولنا ہے
اس پہ معلوم ہے لوگوں نے برا بولنا ہے
قاضی وقت کی اوقات یہی ہے کہ اسے
حکم لکھا ہوا ملتا ہے کہ کیا بولنا ہے۔
حرف غلط ہے جو بھی مٹا دینا چاہیے
یہ ظلم کا نظام گرا دینا چاہیے
جس شہر پر یزید کی فرماں روائی ہو
اس شہر کو صغیر جلا دینا چاہیے ۔
صغیر احمد صغیر بیک وقت پنجابی ، اردو اور انگریزی کے بہترین شاعر ہیں وہ نا صرف سنجیدہ شاعری میں اپنا خاص مقام رکھتے ہیں بلکہ ان کی مزاح سے بھرپور شاعری بھی سوشل میڈیا پر بے حد مقبول ہے یہ کثیر اللسانی اور کثیر الجہتی ان کی ذہانت کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ وہ جہاں بھی کلام سناتے ہیں بے پناہ داد وصول کرتے ہیں۔ حیاتیات کے پروفیسر ہونے کے ساتھ ساتھ تاریخ بھی ان کا مضمون رہا ہے اس لیے آپ کو ان کے اشعار میں تاریخی حوالے بھی ملیں گے۔
اک ایک شاہ پہ گزری ہر ایک شاہ کے بعد
پناہ ڈھونڈو گے تم دیکھنا پناہ کے بعد
ہر ایک جبر کے انجام کی خبر ہے ہمیں
کہ صبح ہوتی ہے آخر شب سیاہ کے بعد
اس خوفزدہ اور گھٹن کی فضا میں کوئی جاندار للکار مایوس اور تھکے ہوئے اذہان کے لیے تقویت اور طمانیت کا باعث ہے اور اس نفسا نفسی کے عالم میں زاد راہ کی طرح منزل پر پہنچنے کے کام آتی ہے ۔ یہ اشعار ملاحظہ کیجیے ۔
تمام شہر کو جو سچ ہوا بتاؤں گا
پھر اس کی جتنی بھی قیمت ہوئی چکاؤں گا
میں ہجر والوں کا اک قافلہ بناؤں گا
تمہارے بعد بھی جی کر تمہیں دکھاؤں گا
جنہوں نے مل کر مرے ہاتھ کاٹ ڈالے تھے
انہیں یہ ڈر تھا کہ میں آئینہ بناؤں گا ۔
کون اپنے تھے جو دشمن کے حواری نکلے
بات نکلی ہے تو پھر ساری کی ساری نکلے
ہم تو سمجھے تھے کہ تقدیسِ قلم جانتے ہیں
ہائے جو لوگ کرائے کے لکھاری نکلے
جو تری میز پہ رکھا ہے یہ دائیں جانب
منصفا اس ترے میزان سے خوف آتا ہے
وہ جہاں چاہے وہاں آگ لگا دیتا ہے
شہر کے شہر کو سلطان سے خوف آتا ہے ۔
محبت کسی بھی شاعر کی شاعری کا پہلا اور آخری مسئلہ ہے وہ بیشک جتنے بھی مضامین اپنی شاعری میں شامل کرے محبت سے جان نہیں چھڑا سکتا ۔ دل ٹوٹنے پر دل برداشتہ ہونا اور بے حد اداس ہو جانا ایک فطری عمل ہے لیکن اپنے ٹوٹے ہوئے دل کو سنبھالنا بھی کسی کسی کا کام ہے یہاں بھی محترم شاعر اپنے محبوب کو اپنی شخصیت کا مظبوط رخ دکھاتے نظر آتے ہیں ۔ یہ اشعار دیکھئیے
نہ کوئی واہمہ اب ہے نہ ڈر اداسی کا
لگی ہے عمر تو آیا ہنر اداسی کا
تمہاری چہرہ شناسی کو مان جاؤں گا
بتاؤ مجھ پہ ہے کتنا اثر اداسی کا
آدمی عشق میں جب حد سے گزر جاتا ہے
عشق جاتا ہے یا پھر ہاتھ سے گھر جاتا ہے
اس نے سمجھا ہی نہیں ہے مری خاموشی کو
اتنا خاموش رہے کوئی تو مر جاتا ہے
اک وہی ہے جو مرے دل کی زباں جانتا ہے
ورنہ دنیا میں مجھے کوئی کہاں جانتا ہے
قہقہے اتنے لگاتا ہوں کہ رو پڑتا ہوں
میرے ہنسنے کا سبب کون یہاں جانتا ہے
اور اب اس مشہور زمانہ غزل کے چند اشعار جس کی ردیف اس کتاب کے سرورق پہ چمک دمک رہی ہے ۔
کبھی تو دیکھو گے ان کی لالی جنابِ عالی!
ہماری آنکھیں جو ہیں سوالی جنابِ عالی!
عجب قرینہ، عجب مہارت ہے گفتگو میں
جو اتنا اچھے سے بات ٹالی جنابِ عالی!
جناب دنیا سے ڈر گئے نا ؟بدل گئے نا؟
ہمارے پیچھے بھی تھی یہ سالی جنابِ عالی!
جناب صغیر احمد صغیر کے شعری سفر میں اب تک چار شعری مجموعے منظر عام پر آ چکے ہیں جن میں سے ایک پنجابی شعری مجموعہ اور تین اردو شاعری کے مجموعے شامل ہیں دو مزید اردو شعری مجموعے زیر اشاعت ہیں اور خبر ہے کہ جلد ہی منظر عام پر ہوں گے یوں کل ملا کر وہ چھ عدد شعری مجموعوں کے خالق ہیں جو کہ ان کی محنت و ریاضت کا نچوڑ ہیں ۔ ڈاکٹر صاحب کے لیے دعائیں اور نیک تمنائیں ۔ -

تبصرہ کتب: کٹی پتنگ از ذوالفقار علی بخاری.مبصر ، دانیال حسن چغتائی
ذوالفقار علی بخاری کا شمار اردو ادب کے اُن نازک مزاج، لطیف حس اور وسیع المشرب مصنفین میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی زندگی کی شعوری گہرائیوں کو قرطاس پر اس سلیقے سے منتقل کیا کہ قاری اُن کے جملوں میں اپنی پرچھائیاں تلاش کرتا پھرتا ہے۔ کٹی پتنگ ایسا ہی ایک نثری ڈراما ہے جو محبت کے فریب میں لپٹی انسانی کمزوریوں، سماجی تضادات، اور جذباتی ناپختگی کا بھرپور عکاس ہے۔ اس تصنیف میں بخاری صاحب نے جس انداز سے محبت کو موضوع بنایا ہے، وہ نہ صرف اُن کے فکری افق کی وسعت کا پتا دیتا ہے بلکہ مشرقی طرزِ معاشرت اور محاوراتی نزاکت کو بھی زندہ رکھتا ہے۔
کٹی پتنگ درحقیقت انسانی فطرت کی اس کمزوری کی تمثیل ہے جہاں جذباتی وابستگیاں عقل کے مقابل آ کھڑی ہوتی ہیں، اور نوجوانی کی محبت محض خوبصورت فریب بن کر رہ جاتی ہے۔ ذوالفقار بخاری نے نہایت نفاست سے دکھایا ہے کہ شادی سے قبل کی محبتیں اکثر وہم و گمان کا کھیل ہوتی ہیں، جن کا حقیقت سے کم اور خوابوں سے زیادہ تعلق ہوتا ہے۔ اور یوں یہ محبتیں کٹی پتنگ کی مانند ہوا میں اُڑتی ہیں، بلاسمت، بےوزن اور انجام سے عاری۔
"شادی سے پہلے تو محبت محض سراب ہوتی ہے”— یہ جملہ بخاری صاحب کے اس ڈرامے کے مرکزی خیال کو تقویت دیتا ہے۔ کتاب میں کئی کردار ایسے دکھائے گئے ہیں جو تعلیمی اداروں میں، دفتر کے ماحول میں یا کسی سماجی تقریب کے دوران ایک دوسرے سے متعارف ہوتے ہیں، اور چند خوشگوار لمحوں کو عمر بھر کا رشتہ سمجھ بیٹھتے ہیں۔ مگر جب شادی کا حقیقی بندھن آتا ہے تو یہ محبتیں امتحان میں فیل ہو جاتی ہیں۔ بخاری صاحب نے ان جذباتی لغزشوں کو طنز و مزاح کے ساتھ پیش کیا ہے جو قاری کو ہنسا کر رُلا دیتی ہیں۔
ڈرامے کے کردار کسی فرضی دُنیا سے نہیں آئے، وہ ہمارے آس پاس کے وہی نوجوان ہیں جو کالج اور یونیورسٹی کے ماحول میں ہر مسکراہٹ کو دعوتِ محبت سمجھ بیٹھتے ہیں۔ بخاری صاحب نے نہایت نفاست سے اس ماحول کی عکاسی کی ہے جہاں لڑکی کا ہنسنا، لڑکے کا کتاب تھام کر انتظار کرنا، مشترکہ پروجیکٹس پر کام کرنا، سب کچھ محبت کی جھوٹی فضا پیدا کرتا ہے۔ اور یوں ہر تعلیم گاہ میں "محبت کا سراب” جنم لیتا ہے، جو بعدازاں دل شکنیوں، بداعتمادیوں اور افسردگیوں کا سبب بنتا ہے۔
کتاب میں مصنف نے خاص طور پر اُن نوجوانوں کو آڑے ہاتھوں لیا ہے جو کام کے دوران ساتھ گزارے گئے وقت کو محبت کا نام دے بیٹھتے ہیں۔ ذوالفقار بخاری کے بقول، "بعض اوقات ہم کام کے سلسلے میں ساتھ ہوتے تو کچھ بے وقوف اسے محبت سمجھ لیتے”—یہ چیز عہدِ حاضر کے اُس فکری انتشار کی بھرپور نشاندہی کرتی ہے جس میں جذباتی وابستگی کو عقل پر ترجیح دے دی جاتی ہے۔ مصنف کا ماننا ہے کہ ایک ساتھ گزارا گیا وقت ضروری نہیں کہ دلوں کا رشتہ بن جائے، اور یہ کہ پسندیدگی کو محبت سمجھنا ایک جذباتی غلط فہمی ہے۔
ڈرامے میں بخاری صاحب نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ "محبت اور پسندیدگی میں بڑا فرق ہوتا ہے”۔ محبت وہ ہے جو امتحان سے گزرے، حالات کی تپش جھیلے، وقت کی ضربیں سہے اور تب جا کر اپنے خالص وجود میں سامنے آئے۔ جبکہ پسندیدگی محض لمحاتی تاثر کا نام ہے، جو کسی خوش لباسی، حسین چہرے یا دلکش انداز سے پیدا ہو جاتا ہے، اور وقت کے ساتھ ماند پڑ جاتا ہے۔
ایک اور اہم نکتہ جو کٹی پتنگ کو معاشرتی اعتبار سے اہم بناتا ہے، وہ یہ ہے کہ شادی کے بعد ماضی کی بے وقوفیوں کو یاد رکھنے کی بجائے انہیں دفن کر دینا چاہیے۔ یہ ازدواجی زندگی کے استحکام کا راز بھی ہے۔ ماضی کی پرچھائیاں اگر دل میں باقی رہیں تو حال کی خوشیوں پر سائے ڈال دیتی ہیں۔
ذوالفقار بخاری کی زبان دانی، محاوروں کا چناؤ اور مشرقی تہذیب کا اثر ہر صفحے پر جھلکتا ہے۔ اُن کا اسلوب رواں، نرماہٹ سے بھرپور اور جملہ بندی نہایت نفیس ہے۔ کہیں کہیں طنز ایسا ہوتا ہے کہ قاری کو اپنی ہی زندگی کا آئینہ نظر آنے لگتا ہے، اور ہنسی کے ساتھ شرمندگی کا پہلو بھی نکلتا ہے۔
کٹی پتنگ نوجوان نسل کے اُس ذہنی المیے کا آئینہ ہے جہاں تعلیم کے مراکز میں علم کی بجائے محبت کے افسانے تراشے جاتے ہیں۔ ذوالفقار بخاری نے اس فکری زوال کو بھی بڑی خوبی سے قلم بند کیا ہے کہ ہر کالج اور یونیورسٹی میں محبت کیوں کھیل جاتی ہے؟ کیوں ہر نوجوان اپنی زندگی کا سب سے قیمتی وقت ان فضول جذبات میں ضائع کر بیٹھتا ہے؟ کیوں یہ "سراب” اُسے اصل منزل سے ہٹا کر ایک غیر حقیقی دُنیا میں لے جاتا ہے؟
ڈرامے کی سب سے بڑی خوبی اس کا انجام ہے، جو جذباتی بے یقینی کے بادل چھا جانے کے بعد بھی قاری کو سبق دے کر رخصت کرتا ہے۔ محبت اگر سمجھداری، وقت اور حالات کے ترازو پر تولی جائے تو زندگی سنور سکتی ہے، ورنہ وہ محض ایک "کٹی پتنگ” ہے—جو نہ بلندیوں کو چھو سکتی ہے، نہ کسی ہاتھ میں دوبارہ آ سکتی ہے۔
کٹی پتنگ وہ فکری آئینہ ہے جو ہر نوجوان کو اپنے جذبات کے عکس دکھاتا ہے۔ یہ کتاب نہ صرف محبت کے فریب کو بے نقاب کرتی ہے بلکہ ہمارے تعلیمی نظام، سماجی روایت، اور ازدواجی زندگی میں در آنے والی غلط فہمیوں کی جڑوں کو بھی کاٹتی ہے۔ بخاری صاحب کی تحریر ہر اُس قاری کے لیے ہے جو محبت کے نام پر جذباتی تماشے کو زندگی کا مرکز بنانا چاہتا ہے۔ یہ کتاب بتاتی ہے کہ محبت اگر عقل و فہم کے بغیر ہو تو صرف دھوکہ ہے، اور اگر دل و دماغ کے توازن سے کی جائے تو زندگی کا سب سے حسین تجربہ بن سکتی ہے۔ یہ خوبصورت کتاب سرائے اردو پبلیکیشن، سیالکوٹ(03338631328) سے شائع ہوئی ہے۔ خوبصورت گیٹ اپ کے ساتھ شائع شدہ یہ کتاب آپ مصنف اور ادارے سے رابطہ کر کے منگوا سکتے ہیں

