Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • شہزادی زیب النساء تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    شہزادی زیب النساء تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    لاہور میں سمن آباد کے علاقے موڑ سمن آباد میں ایک احاطے میں مغل شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر کی بیٹی شہزادی زیب النساء کی قبر موجود ہے
    شہزادی زیب النساء شاعرہ تھیں اور ان کا تخلص مخفی تھا
    اور یہ فارسی میں شعر کہتی تھیں ان کے بارے میں
    میں نے کہیں یہ قصہ پڑھا تھا کہ ایک بار اورنگ زیب عالمگیر تہجد کی نماز پڑھنے کے بعد محو خواب تھے کہ ان کی ایک کنیز نے غلطی سے انہیں جگا دیا وہ بے چاری سمھجی کہ شاید فجر ہوگئی ہے
    کنیز کی اس فاش غلطی پر بادشاہ سلامت جلال میں آ گئے
    اور اس کا سر قلم کرنے کا حکم دے دیا
    جب شہزادی زیب النساء تک یہ خبر پہنچی تو انہوں نے اپنے والد بادشاہ سلامت کو یہ اشعار لکھ کر بھیجے
    سر بریدن لازم است مرغ بے ہنگام را
    این پری پیکر چہ فرق صبح وشام را
    ( سر قلم کروانا ہے تو اس مرغ کا کروائیے جس نے بے وقت ازان دی ، اس پری پیکر کو صبح و شام کا فرق کیا معلوم)

    شنید ہے کہ پھر بادشاہ سلامت نے ،، پری پیکر ،، کو بخش دیا ، مغلوں کی حکومت شان وشوکت اقتدار ، اختیار وقت کی دھول میں گم ہوگیا اب بہت سے مغل شہزادے شہزادیوں کی قبروں کا نشان بھی نہیں ملتا جو قبریں ہیں وہ بھی ،، نے چراغ نے گلے ،، کے مصداق ویران ہیں ،

    شہزادی زیب النساء کی یہ قبر جس کے بارے میں مختلف روایات ہیں کہ ان کی ایک قبر دہلی میں بھی ہے پتہ نہیں کون سی اصلی ہے یہ لاہور والی یا دہلی والی بہرحال شہزادی زیب النساء کا ذکر تاریخ میں موجود ہے اور ان کا کلام بھی

  • آغا محمد شاہ حشر کاشمیری .تحریر   : ریحانہ صبغتہ اللّٰہ

    آغا محمد شاہ حشر کاشمیری .تحریر : ریحانہ صبغتہ اللّٰہ

    آغا محمد شاہ حشر کاشمیری 3 اپریل 1879ءکو بنارس میں پیدا ہوئے ۔ان کا نام آغا محمد شاہ،اورتخلص حشر تھا ۔وہ ایک مشہور و معروف کشمیری خاندان کے چشم و چراغ تھے ۔ان کے والد کا نام آغا محمد غنی شاہ تھا۔ جو کشمیر میں شالوں کا کاروبار کرتے تھے ۔

    آغا محمد شاہ حشر کاشمیری نے ابتدائی تعلیم مدرسہ سے حاصل کی ۔اسی مدرسہ کے حافظ عبد الصمد سے عربی ،فارسی اور دینیات کی تعلیم حاصل کی اور سولہ سپارے بھی حفظ کر لئے تھے ۔اس کے بعد جے نارائن سکول میں داخلہ لیا لیکن نصاب میں دلچسپی نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم مکمل نہ کرسکے اور ڈرامہ نگاری کے شوق میں بمبئی چلے گئے ۔اور کم عمر میں ہی شاعری شروع کردی۔1897ءمیں محض 18سال کی عمر میں ایک ڈرامہ "افتاب محبت”لکھا اور اصلاح کے لئے مہدی حسن لکھنوی کے پاس لے گئے تو انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ ڈرامہ لکھنا کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہے ۔اس کو آغا حشر نے بطور چیلنج قبول کیا اور اس کے بعد اس طنز کا ایسا جواب دیا کہ آغا حشر کے بغیر اردو ڈرامہ کی تاریخ مکمل ہو ہی نہیں سکتی ۔آغا محمد شاہ حشر کو جو شہرت ،مقبولیت، عزت اور عظمت حاصل ہوئی وہ کسی اور کو نصیب نہیں ہوئی ۔

    آغا حشر نے 19سال کی عمر میں ڈرامہ نگاری میں نام پیدا کر لیا تھا ۔اس کے بعد آپ نے انگریزی زبان سیکھی اور شیکسپئر اور دیگر مغربی ڈرامہ نگاروں کو پڑھا اور بعض کا اردو زبان میں ترجمہ بھی کیا ۔
    ڈرامہ سیریل "آفتاب محبت”کے بعد آغا حشر نے بے شمار ڈرامے لکھے جن میں خواب ہستی ،رستم وسہراب،مرید شک ،اسیر حرص ،ترکی حور ،آنکھ کا نشہ ،یہودی کی لڑکی ،خوبصورت بلا ،سفید خون اور میٹھی چھری جیسے لازوال کردار تخلیق کیے ۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے آغا محمد شاہ حشر کاشمیری کو ہندوستان کے شیکسپیئر کا خطاب بھی مل گیا ۔اور پورے ہندوستان میں آغا محمد شاہ حشر کاشمیری کی مقبولیت کے چرچے زبان زدِ عام ہونے لگے۔ مکالمہ نگاری میں بھی آغا حشر کا کوئی ثانی نہیں تھا ۔آغا حشر مکالمہ نگاری کے بانی ہیں ،ان کے مکالمے زبان سے نکلتے ہیں اور دل میں اترتے چلے جاتے ہیں ۔دیکھنے اور سننے والے ان کا وہی تاثر لیتے ہیں جو آغا حشر دینا چاہتے ہیں ۔

    چراغ حسن حسرت آغا حشر کی مقبولیت کے بارے میں کہتے ہیں کہ:
    ” ابھی ہندوستان میں فلموں کا رواج نہیں تھا ،جو کچھ تھا تھیٹر ہی تھیٹر تھا ۔یوں تو اور بھی اچھے ڈرامہ آرٹسٹ موجود تھے ،لیکن آغا کے سامنے بونے معلوم ہوتے تھے ۔اور آغا سے پہلے اس فن کی قدر بھی کیا تھی ؟بچارےسارے ڈرامہ آرٹسٹ تھیٹر کے منشی کہلاتے تھے ۔”

    پروفیسر حفیظ احسن اپنی راۓ کا اظہار اس طرح کرتے ہیں کہ:
    "ایک قادر الکلام اور شیریں بیان شاعر ہونے کی وجہ سے آغا حشر کے ڈراموں کی زبان میں بلا کی روانی ہے ۔”
    بقول پروفیسر طاہر شادانی کہ:
    "جذبات کی تصویر کشی میں آغا حشر ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔”

    آغا محمد شاہ نے جب اپنی ڈرامہ کمپنی کا آغاز کیا تو اس کا نام بھی انڈین شیکسپیئر تھریٹیکل کمپنی رکھا ۔آغا حشر نے اپنے عہد میں سماج کے ہر طبقے کے لوگوں اور ہر طرح کے موضوع پر اپنی بےباک راۓ کو اپنے قلم کے ذریعے ڈرامے کی شکل میں لوگوں تک پہنچایا ۔آغا حشر کاشمیری نے اردو ڈراموں میں ایک نئی جہت پیدا کی اور سٹیج ڈراموں کو بازاری پن اور عامیانہ ماحول سے نکال کر خالص ادبی صنف بنایا ۔آغا حشر کو شاعری پر بھی عبور حاصل تھا ۔وہ شاعرانہ تخیل کو سیدھے الفاظ اور عام بول چال میں بیان کرتے ۔وہ اتنے جلدی اشعار کہتے تھے کہ سننے والوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتے ۔ان کے ڈراموں کی کامیابی میں ان کا شاعرانہ اسلوب بھی کار فرما ہے ۔آغا حشر کے ڈراموں کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ مصائب اور پریشانی میں احساس شکست پیدا کرنے کی بجائے ان مصائب سے نبردآزما ہونے کا حوصلہ اور زندگی کی شمع روشن کرنے کا جذبہ پیدا کرتے ہیں ۔
    آغا حشر کاشمیری ایک اچھے مصنف اور شاعر کے علاوہ ایک اچھے اداکار بھی تھے ۔
    بہرحال جب فن فنکار کی پہچان بن جاتا ہے تو یہی فن اسے صدیوں تک زندہ رکھنے کا ضامن بن جاتا ہے ۔
    آغا حشر کاشمیری اُفق کے اس ستارے کا نام ہے جس کی روشنی میں اردو ادب کی روایت ہمیشہ قائم و دائم رہے گی ۔ بلآخر فن کی بلندیوں پر چمکنے والا یہ ستارہ 28اپریل 1935ءکو غروب ہو گیا۔
    (انا للہ وانا الیہ راجعون)
    آغا حشر کاشمیری لاہور کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں ۔اللہ تعالیٰ آغا حشر کاشمیری کے درجات بلند فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ (آمین)

  • جب مؤرخ کے ہاتھ بندھے تھے .تحریر:مجیداحمد جائی

    جب مؤرخ کے ہاتھ بندھے تھے .تحریر:مجیداحمد جائی

    تاریخ پر نظر رکھنے والے اور لکھنے والے، دل چسپ شخصیات ہوتی ہیں۔ان کی زندگی کے بھی نشیب و فراز ہوتے ہیں لیکن اپنی زندگی کو پس پردہ رکھتے ہوئے ملکی اور غیر ملکی تاریخ کے گم شدہ گوشوں سے اپنے قارئین کو دیدہ دلیری سے آشنا کرتے ہیں۔تاریخ سے دل چسپی رکھنے والے اور تحقیق کرنے والے طالب علموں کے لیے قیمتی خزانے فراہم کرتے ہیں۔کہتے ہیں تاریخ بڑی ظالم ہوتی ہے کسی کو معاف نہیں کرتی۔یہ مورخ ہی ہوتے ہیں جو ان کے گم شدہ اوراق پاتال سے بھی نکال لاتے ہیں۔

    صحافتی پیشہ بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہے ہر لمحہ نئی سے نئی خبر اپنے قارئین تک پہچانا،اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر حقائق سامنے لا کر اپنا حق ادا کرتے ہیں۔صحافی ہر گزرتے لمحے اور مستقبل پر گہری نظر رکھے ہوئے ہوتا ہے اور مشاہدے اور تجزیے سے معلومات فراہم کرتا ہے۔تاریخ ایسے صحافیوں کو یاد رکھتی ہے جو حق،سچ پر اپنی جان تک نچھاور کردیتے ہیں۔ڈاکٹر فاروق عادل بھی انھی شخصیات میں سے ایک ہیں ، ڈاکٹر فاروق عادل کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ان کا قلم حق سچ کا علم بردار ہے۔ملکی و غیر ملکی سیاسی اتار چڑھاؤ پر گہری نظر رکھتے ہیں اور خوب تجزیہ کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ان کے پڑھنے والے ان کی کتب کے منتظر رہتے ہیں۔جب کتاب منظر عام پر آتی ہے تو ہاتھوں ہاتھ فروخت ہو جاتی ہے اور تھوڑے ہی عرصے میں ایڈیشن ختم ہو جاتا ہے۔

    حکومت ِپاکستان ان کے کام سے متاثرہوکر تمغۂ امتیاز سے نواز چکی ہے۔آج ہم ان کی تازہ ترین کتاب ”جب مورخ کے ہاتھ بندھے تھے“پہ لب کشائی کرتے ہیں۔یہ شان دار کتاب حال ہی میں منظر عام پر آئی ہے اور ہر طرف اس کے چرچے ہیں۔علامہ عبدالستار عاصم اور سلمان علی چودھری نے خاص اہتمام سے قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل کے پلیٹ فارم سے شائع کی ہے۔علامہ عبدالستار عاصم کتاب دوست ہیں اور کتب بینی کے فروغ کے لیے متحرک شخصیت ہیں۔ادبی دُنیا میں کسی تعارف کے محتاج نہیں۔خود بھی صاحب ِکتاب ہیں اور کتاب دوستوں سے خاص محبت رکھتے ہیں۔انھی کی کاوشوں سے ہم بہترین قلم کاروں اور کتب سے آشنا ہوتے ہیں۔اس حوالے سے ڈاکٹر فاروق عادل ”چند باتیں“میں اس طرح خراج ِتحسین پیش کرتے ہیں:”بردار محترم علامہ عبدالستار عاصم کے دست ہنر نے جادو گری دِکھائی۔انھوں نے چند ہی روز میں دوسرا ایڈیشن بھی شائع کردیا۔ان کے گودام میں اب اس ایڈیشن کا بھی کوئی نسخہ باقی نہیں بچالہٰذا اب وہ تیسری اشاعت کی نیت باندھ رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کے کام میں برکت پیدا فرمائے۔آمین۔“

    ”جب مؤرخ کے ہاتھ بندھے تھے“کے حوالے سے ”عرفان صدیقی“صاحب لکھتے ہیں ”ڈاکٹر فاروق عادل ایک پختہ کار اور شگفتہ نگار محقق کے طور پر اپنی پہچان رکھتے ہیں۔”جب مورخ کے ہاتھ بندھے تھے“گئے دنوں کا سراغ لگانے کی نہایت عمدہ کاوش ہے۔

    پروفیسر ڈاکٹر طاہر مسعود لکھتے ہیں:”پاکستان کی تاریخ کے مختلف پہلوؤں پر فاروق کی پہلی کتاب ”ہم نے جو بھلا دیا“سامنے آئی تو معلوم ہوا کہ صحافت کے ہنر کے ساتھ ایوان اقتدار کے مشاہدے نے تجربے کو دو آتشنہ کر دیا ہے۔فاروق کی اس کتاب نے پورے ملک کو متوجہ کیا۔ایک کتاب کے ایک ہی ماہ میں دو ایڈیشن شائع ہو جانا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔اب ”جب مؤرخ کے ہاتھ بندھے تھے“اسی سلسلے کی اگلی کڑی ہے جس میں میرا یہ شاگرد عزیز تحقیق کے جنگل میں اُتر کر ایسے حقائق تلاش کر لایا ہے جو حیرت انگیز بھی ہیں اور عبرت خیز بھی۔یہ کتاب ایک ایسا آئینہ ہے جس کی مدد سے ہم اپنا چہرہ بھی خوش نما بنا سکتے ہیں اور بہتر مستقبل کی تعمیر بھی کر سکتے ہیں۔حرف آخر یہ کہ یہ کتاب طالب علموں،صحافیوں،اساتذہ،سیاست دانوں اور حکمرانوں سب کے لیے ہے۔“

    ”جب مؤرخ کے ہاتھ بندھے تھے“پڑھنے کے بعد ہم بھی ڈاکٹر طاہر مسعود صاحب کے ساتھ مکمل اتفاق کرتے ہیں۔اس کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے کئی گم شدہ پہلوؤں سے پردہ چاک ہوا ہے اور حیرت بھی۔اچھا ایسابھی ہوتا ہے۔ایسا بھی ہوا تھا،ایسا بھی ہوتارہا ہے۔جیسے سوچیں پاتال سے سر اٹھاتی ہیں۔اس کا ثبوت”ایپی فقیر“کتاب کا پہلا مضمون ہی بین ثبوت ہے۔پاکستان معرض وجود میں آیا تو اس کے پیچھے ہزاروں داستانیں ہیں۔کہیں ایک ماشکی کا بیٹا حکمران بن جاتا ہے تو کہیں ایک امام مسجد سے حکمران اور طاقت والے سر نگوں دکھائی دیتے ہیں۔پاکستان کے قیام کے بعد بھی ہزاروں کہانیاں جنم لے چکی ہیں جو عام انسان سے پسِ پردہ ہیں۔ڈاکٹر فاروق عادل جیسے بے باک،نڈر قلم کار ہی ایسے گم شدہ گوشوں سے پردہ اٹھا سکتے ہیں۔مجھے خوشی ہے ان کا قلم اسی راہ کا مسافر ہے۔

    ”جب مؤرخ کے ہاتھ بندھے تھے“کا انتساب ”ہاتھ پکڑ کر لکھنا سکھانے والوں کے نام ہے جن میں ڈاکٹر فاروق عادل کے استاد گرامی پروفیسر ڈاکٹر طاہر مسعود اور پروفیسر ارشاد حسین نقوی کے نام ہے۔ترتیب سے پہلے مسدسِ حالی سے تاریخ کے عکاس اشعار دیے گئے ہیں:
    کہیں تھا مویشی چرانے پہ جھگڑا
    کہیں پہلے گھوڑا بڑھانے پہ جھگڑا
    لب ِجو کہیں آنے جانے پہ جھگڑا
    کہیں پانی پینے پلانے پہ جھگڑا
    یونہی روز ہوتی تھی تکرار ان میں
    یونہی چلتی رہتی تھی تلواران میں
    ”جب مؤرخ کے ہاتھ بندھے تھے“33عنوانات سے تاریخ کے گم شدہ گوشوں سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔جیسے ”مولانا طارق جمیل کا عشق“۔”صالحین کی نرسری“،”بھٹو اور نواز شریف“،”بھونکنے پر پابندی“،”وہ ایٹمی چھکا“،”الف لیلوی نواب“اور”جب بھارتی شہری وزیراعظم پاکستان بنتے بنتے رہ گیا“۔ان جیسے عنوانات سے آپ باخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان کے اندر کیا کیا کہانیاں ہیں۔ان کہانیوں سے ڈاکٹر فاروق عادل صاحب نے دلیری سے پردہ اٹھایا ہے۔

    ”جب مؤرخ کے ہاتھ بندھے تھے“290صفحات کی ضخامت رکھتی ہے۔آخری صفحات پر سیاست دانوں،حکمرانوں اور تاریخی شخصیات کی تصاویر بھی دی گئی ہیں۔ڈاکٹر فاروق عادل اپنی مشاہدات اور تجربات بیان کرتے ہوئے مختلف کتب کے حوالے بھی دیتے ہیں۔یہاں سے باخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ لکھنے کے لیے مطالعہ بھی ضروری ہے جس طرح ڈاکٹر فاروق عادل کتب بینی کرتے ہیں اسی طرح ہمیں بھی تحریک ملتی ہے۔اچھی معیاری اور بہترین کتب سے جانکاری ہوتی ہے۔کتب بینی کا ذوق پروان چڑھتا ہے۔ان کے ہر مضمون میں آپ کو تاریخی کتب کے حوالے ملیں گے۔یوں آپ ایک کتاب پڑھتے ہوئے کئی کتب سے متعارف ہو جاتے ہیں۔اپنے ذوق کی تحسین کے لیے ان کتب کا مطالعہ بھی کر سکتے ہیں۔

    ”جب مؤرخ کے ہاتھ بندھے تھے“پہ اظہار ِ خیال کرتے ہوئے ”وجاہت مسعود“لکھتے ہیں:”ہر عہد میں چند افراد ہی ایسے ہوتے ہیں جو تاریخ میں اپنی نسل کا نشان بلکہ جواز قرار پاتے ہیں۔ڈاکٹر فاروق عادل کے اس دیرینہ نیاز مند کی رائے ہے کہ ہم عصر صحافیوں میں ڈاکٹر صاحب کا شمار ایسے ہی کم یاب قافلے کی صف اول میں ہوتا ہے۔ایسے عبقری اپنے زمانے کی پامال راہوں سے ہٹ کر راستہ نکالا کرتے ہیں۔ڈاکٹر فاروق عادل نے بھی رائج الوقت صحافت سے انحراف کرتے ہوئے کچھ ایسی خوبیوں کے جلو میں اپنی پہچان بنائی ہے جنھیں اپنانے اور استقلال سے نبھانے کے لیے پہاڑ ایسی استقامت کی گہرائی،صحافتی اقدار کی پیروی،زبان وبیان کی نتھری ہوئی سلاست،رائے کا اعتدال،دوست دشمن میں امتیاز کیے بغیر بے لاگ تجزیہ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ لب ولہجے کی ایسی متانت کہ مخالف رائے رکھنے والا بھی قائل ہو یا نہیں،کم از کم بد مزہ نہیں ہو سکتا۔“

    میں یہ کتاب”جب مؤرخ کے ہاتھ بندھے تھے“پڑھنے کے بعد وثوق سے کہ سکتا ہوں کہ وجاہت مسعود صاحب نے بالکل حق اور سچ کہا ہے۔میری دعا ہے ڈاکٹر فاروق عادل صاف ستھری صحافت کرتے رہیں اور تاریخ کے گم شدہ اوراق سے پردہ اٹھا کر ہمیں فیض یاب کرتے رہیں آمین۔

  • پہچان پاکستان میگا ادبی فیسٹیول2025 .تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    پہچان پاکستان میگا ادبی فیسٹیول2025 .تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    اردو ادب کی ترویج و ترقی کا عظیم الشان اجتماع
    »» ایک ایسا ادبی جشن، جہاں لفظ بولیں گے اور تحریر گواہی دے گی!”
    »» ادب کے چراغ روشن کرنے کا عظیم الشان اجتماع!”
    »» نئےقلمکاروں کی خدمات کا اعتراف، اردو زبان کی ترقی کا سنگ میل!”

    پہچان پاکستان نیوز گروپ کا یہ میگا ادبی فیسٹیول "لفظوں کی دنیا میں ایک تاریخ ساز لمحہ ہوگا،جہاں اردو ادب کی کہکشاں کے درخشاں ستارے ایک جگہ! پر ہونگے،”ایک یادگار لمحہ ہوگا، جب ادب کے معمار ایک دوسرے سے اپنے تجربات شیئر کریں گے!”
    اردو ادب کی تاریخ میں مختلف ادوار میں ایسے ادبی اجتماعات منعقد ہوتے رہے ہیں، جنہوں نے ادب کی ترویج و ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ لاہور، جو ہمیشہ سے علم و ادب کا گہوارہ رہا ہے، ایک بار پھر ایک شاندار ادبی تقریب کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔ پہچان پاکستان نیوز گروپ کی جانب سے میگا ادبی فیسٹیول 24 فروری 2025 کو الحمرا ہال نمبر 3، لاہور میں منعقد ہو رہا ہے، جس میں ملک بھر سے نامور ادیب، شاعر، کالم نگار، اور اردو ادب کی مختلف اصناف سے وابستہ لکھاری شرکت کریں گے۔

    یہ فیسٹیول محض ایک تقریب نہیں بلکہ اردو ادب سے جڑے افراد کے لیے ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں ان کی خدمات کا اعتراف کیا جائے گا اور انہیں عزت و توقیر سے نوازا جائے گا۔ اس پروگرام میں نمایاں ادبی شخصیات کو میڈلز، سرٹیفکیٹس اور شیلڈز دی جائیں گی، تاکہ ان کے ادبی سفر کو سراہا جا سکے اور آئندہ نسلوں کے لیے ادب کے فروغ کی راہیں مزید ہموار کی جا سکیں۔
    اردو ادب کی تاریخ میں ہمیشہ ایسے پروگرامز کی ضرورت محسوس کی گئی ہے جو ادیبوں، شاعروں اور لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کریں۔ پہچان پاکستان میگا ادبی فیسٹیول ایک ایسا ہی عظیم الشان ایونٹ ہے، جو نہ صرف اردو ادب کے فروغ میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ ادب سے وابستہ شخصیات کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا بھی ذریعہ بنے گا۔یہ فیسٹیول نوجوان لکھاریوں کے لیے ایک سنہری موقع فراہم کرے گا کہ وہ سینئر ادیبوں اور شاعروں سے سیکھ سکیں اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے مفید مشورے حاصل کریں۔ ادب کی قد آور شخصیات کی موجودگی اس تقریب کو مزید باوقار بنا دے گی اور ادبی ذوق رکھنے والے افراد کے لیے ایک یادگار دن ہوگا۔

    اس فیسٹیول میں پاکستان کے مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے نامور ادیب، شاعر، نقاد، کالم نگار، اور محققین شرکت کریں گے۔ یہ ایک سنہری موقع ہوگا جب اردو ادب کے قدآور ستون ایک جگہ اکٹھے ہوں گے اور اپنے خیالات کا تبادلہ کریں گے۔تقریب میں مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والے ادبی شخصیات کو ایوارڈز دیے جائیں گے، تاکہ ان کی کاوشوں کو تسلیم کیا جائے اور ان کی محنت کو سراہا جا سکے۔ یہ نہ صرف ان کے لیے ایک اعزاز ہوگا بلکہ ادب کی ترویج کے لیے بھی ایک مثبت قدم ہوگا۔
    نوجوان ادیبوں اور شاعروں کے لیے ایک پلیٹ فارمادب سے جڑے نوجوان تخلیق کاروں کے لیے یہ ایک نادر موقع ہوگا کہ وہ اپنے پسندیدہ ادیبوں اور شاعروں سے ملاقات کریں، ان سے گفتگو کریں اور ان کے تجربات سے سیکھیں۔تقریب میں مختلف ادبی سیشنز منعقد کیے جائیں گے، جن میں اردو ادب کے مسائل، اس کی ترقی کے امکانات، جدید ادب کے رجحانات، اور دیگر موضوعات پر مباحثے ہوں گے۔ اس پروگرام میں مختلف کیٹیگریز میں نمایاں شخصیات کو اعزازات دیے جائیں گے، جن میں درج ذیل شامل ہوں گےبہترین ادبی خدمات کے اعتراف میں نمایاں ادبی تحقیق پر بہترین شاعری، نثر، اور کالم نویسی پر سرٹیفکیٹ ،شیلڈز ،گولڈ میڈل دئیے جائیں گے۔اس تقریب میں اردو ادب کے فروغ کے حوالے سے مختلف تجاویز بھی پیش کی جائیں گی، تاکہ ادب کی ترقی کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جا سکیں۔یہ فیسٹیول اردو ادب کو نئی جہتیں فراہم کرے گا اور ادیبوں و شاعروں کو ایک دوسرے سے جُڑنے اور سیکھنے کا موقع دے گا۔ اس کے ممکنہ اثرات درج ذیل ہو سکتے ہیں:نوجوان نسل میں اردو ادب کا شوق بڑھے گا اس تقریب سے نئی نسل میں اردو ادب سے دلچسپی بڑھے گی اور وہ اس کی مختلف اصناف میں تخلیقی صلاحیتوں کو آزمانے کی کوشش کریں گے۔ایوارڈز اور سرٹیفکیٹس ملنے سے ادیبوں اور شاعروں کی حوصلہ افزائی ہوگی اور وہ مزید جوش و جذبے سے ادب کی خدمت کریں گے۔اس فیسٹیول میں ہونے والے مذاکروں سے اردو ادب کے موجودہ مسائل اجاگر ہوں گے اور ان کے حل کے لیے نئی راہیں تلاش کی جائیں گی۔پہچان پاکستان نیوز گروپ کا میگا ادبی فیسٹیول2025ایک ایسا ادبی اجتماع ہوگا جو اردو ادب سے جُڑے تمام افراد کے لیے ایک یادگار لمحہ بنے گا۔ الحمرا ہال 3، لاہور میں ہونے والی یہ تقریب ادب کے فروغ کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔یہ فیسٹیول نہ صرف اردو زبان و ادب کی خدمت کرنے والے افراد کو عزت و تکریم دینے کا موقع فراہم کرے گا بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک ترغیب کا باعث بنے گا۔ اس طرح کے ادبی فیسٹیولز کا انعقاد وقت کی ضرورت ہے، تاکہ اردو زبان کی ترویج و ترقی کو مزید تقویت دی جا سکے۔

    پہچان پاکستان میگا ادبی فیسٹیول 2025 کے انعقاد پر پہچان پاکستان نیوز گروپ ,چیف ایڈیٹر زکیر احمد بھٹی اور ڈپٹی چیف ایڈیٹر آمنہ منظور کو دلی مبارکباد! یہ ادبی فیسٹیول اردو ادب کے فروغ میں سنگ میل ثابت ہوگا، جہاں ملک بھر سے نامور ادیب، شاعر اور کالم نگار ایک چھت تلے جمع ہوں گے۔ آپ کی کاوشوں سے ادب سے وابستہ شخصیات کی خدمات کا اعتراف کیا جا رہا ہے، جو قابلِ تحسین ہے۔ امید ہے کہ یہ سلسلہ جاری رہے گا اور اردو ادب کو مزید ترقی کی راہ پر گامزن کرے گا۔ ادب دوست اقدامات پر آپ کو خراجِ تحسین!یہ محض ایک تقریب نہیں، بلکہ ادب کی ترویج کا ایک نیا سفر ہے! ،اردو ادب کی خدمت کا یہ تسلسل ہمیشہ جاری رہے گا!،یہ فیسٹیول ایک یادگار لمحہ ہوگا،اور اس کا اختتام نہیں، بلکہ نئے ادبی سفر کی شروعات ہوگی! کیونکہ پہچان پاکستان نیوز گروپ ـــ ادب کی پہچان اور تخلیق کی زبان ہے۔۔

  • آغا نیاز مگسی اب ہم میں نہیں رہے

    آغا نیاز مگسی اب ہم میں نہیں رہے

    اناللہ وانا الیہ راجعون
    آغا نیاز مگسی اب ہم میں نہیں رہے دعائے مغفرت کی درخواست ہے

    سلسلہ پذیرائی ۔
    ادبی دیوان بلوچستان( ادب )پاکستان
    تحریر _ ڈاکٹر عبدالرشید آزاد
    شخصیت – آغا نیاز مگسی
    بلوچستان کے ادب کا اک روشن ستارہ پانچ زبانوں میں اظہار کرنے والے آغا نیاز مگسی ،معروف شاعر / کالم نگار/ ادیب / اور نثر نگار
    آغا نیاز مگسی 2 اپریل 1967کو شہدادکوٹ کے قریب بانڑی وانڈو میں پیدا ہوئے ان کے والد کا نام محمد حسن ہے اور ان ک تعلق بلوچ قوم کے مگسی قبیلے سے ہے ۔انہوں نے ابتدائی تعلیم گوٹھ سخی نذر محمد کٹوہر پرائمری سکول میں حاصل کی پھر ایک سال بعد نقل مکانی کرنی پڑی پھر 1975 میں اپنے چچا کے مدرسے میں داخل ہوئے جہاں سے عربی اور سندھی کی تعلیم حاصل کی اس کے بعد 1981 میں گورنمنٹ بوائز ہائی سکول قبوسعید خان میں جماعت ششم میں داخلہ لیا جہاں دو سال تعلیم حاصل کی۔
    1986 میں میٹرک کیا اور گورنمنٹ انٹر کالج شہدادکوٹ میں داخل ہوئے ۔
    1985 میں سندھی زبان میں شاعری کا آغاز ایک سندھی گیت سے کیا پھر 1988 کو غربت کی وجہ سے سیکنڈ ائیر میں تعلیم کو خیر آباد کہہ دیا ۔
    1989 میں اپنے مرحوم بھائی کی جگہ محکمہ ہیلتھ میں ڈسپینسر بھرتی ہوئے انہوں نے نصیر آباد کی تاریخ میں پہلی مرتبہ 1991 میں ریلوئے گراؤنڈ ڈیرہ مراد جمالی مشاعرے کا انعقاد کیا جس سے باقاعدہ ادبی سرگرمیوں کا آغاز ہوا
    1994 میں آغا نیاز مگسی نے کالم نگاری کی ابتداء کی اور ان کے تعلقات سیاست میں نواب اکبر خان بگٹی ،میر ظفر اللہ جمالی، سردار یار محمد رند، سردار زادہ شیر محمد رند ،میر ظہور حسین کھوسہ،رازق بگٹی ،میرجان محمد جمالی ،میر فائق جان جمالی ،میر خان محمد جمالی ،میر صادق عمرانی ،بابو محمد امین عمرانی ،میر مراد ابڑو ،سید فضل آغا ،میر اظہار حسین کھوسہ ،میر سلیم خان کھوسہ ،مولانا عبداللہ جتک ، صاحب زادہ سکندرسلطان ،میر احمدانی خان بگٹی ، سردار چنگیز خان ساسولی ،میر طارق حسین مسوری بگٹی ،میر ماجد ابڑو ،میر نظام لہڑی ،دریحان بگٹی سے ہوئے ۔بعد میں آپ نے 2018 میں کالم نگاری بھی چھوڑ دی ۔

    اسی طرح ادبی دنیا میں بھی ان کے روابط معروف ادبی شخصیات جن میں احمد فراز ،امجد اسلام امجد ،تابش دہلوی،نور محمد پروانہ ،راغب مراد ابادی ،محسن بھوپالی،عطاالحق قاسمی ،عطا شاد ،سلیم کوثر ،ذکیہ غزل ،رانا ناہید ،گلنار آفرین ،ڈاکٹر طاہر تونسوی،منظر ایوبی،احمد خان مدہوش ،اوریا مقبول جان ،رفیق راز ،ناگی عبدالرزاق خاور ،سید شرافت عباس ناز ،صلاح الدین ناسک ،عرفان احمد بیگ ،عابد شاہ عابد ،عرفان الحق صائم ،بیرم غوری کے ساتھ مشاعرے پڑھنے کا اعزاز بھی حاصل ہے ۔
    ان کے چھ بچے ہیں جن میں تین بیٹے اور تین بیٹیاں شامل ہیں آپ اردو ،سندھی،بلوچی ،براہوئیی ،اور سرائیکی یعنی پانچ زبانوں میں شاعری کرتے ہیں لیکن افسوس کہ ان کا ابھی تک کوئی شعری مجموعہ شائع نہیں ہو سکا کیونکہ غربت کی وجہ سے اتنے وسائل نہیں ہیں اور اتنے بڑے کنبے کے واحد کفیل ہیں ۔

    آغانیاز مگسی باغی ٹی وی میں بھی لکھتے رہے ہیں، باغی ٹی وی کے سی ای او مبشر لقمان سمیت ٹیم نے آغا نیاز مگسی کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور مرحوم کے لئے دعائے مغفرت کی ہے، لواحقین کے لئے صبر جمیل کی دعا کی ہے

  • الحمد للہ رب العالمین 2024.تحریر:قرۃالعین خالد(سیالکوٹ)

    الحمد للہ رب العالمین 2024.تحریر:قرۃالعین خالد(سیالکوٹ)

    ہر صبح ایک نئی امید لے کر آتی ہے۔ جب سے یہ کائنات معرضِ وجود میں آئی ہے امید بھی تبھی سے وجود میں آئی ہے۔ مومن اپنے رب کی ذات سے کبھی مایوس نہیں ہوتا۔ وقت کبھی بھی کسی کے لیے نہیں رکتا وقت کا کام تو بس چلنا ہے اور وہ چلتا ہی رہتا ہے۔ حالات کے تھپیڑے ہوں یا مشکلات کی آندھیاں چلیں، خوشیوں کی بارات ہو یا غموں کی برسات ہو، وقت کا پہیہ گھومتا رہتا ہے۔ کیلنڈر کے صفحات کی طرح ماہ و سال بدلتے رہتے ہیں۔ سال 2024 بچھڑ گیا اور سال 2025 کا کیلنڈر دیواروں کی زینت بن گیا۔ یہ دنیا اور اس کی ہر شے فانی ہے۔ نہ غم ذیادہ دیر کہیں ٹھہر سکتا ہے نہ خوشیاں کہیں مستقل بسیرا کر سکتی ہیں۔ دن رات کا بدلنا، موسموں کا تغیر اس بات کی دلیل ہے کہ گزرا وقت کبھی واپس نہیں آتا۔ پر سکون زندگی کا ایک راز یہ بھی ہے جو گزر گیا اس پر شکر ادا کریں اور جو آنے والا ہے اس کی امید اچھی رکھیں۔

    سال 2024 کو اگر پیچھے مڑ کر دیکھوں تو بہت کچھ کھویا بہت کچھ پایا۔ زندگی کی تلخ حقیقتوں میں سے یہ حقیقت ویسے ہی ہے جیسے فلک پر چمکتا چاند اور روشن ستارے کہ دکھوں کا ساتھی رب العزت کے سوا کوئی نہیں ہوتا اور خوشیوں کے ساتھی سبھی ہوتے ہیں۔

    میں قرۃالعین خالد آپ کو اپنے غموں کے قصے نہیں سناؤں گی کیونکہ میں چاہتی ہوں کہ آپ میرے ساتھی رہیں۔ 7 جنوری 2024 کو میری عیشتہ الراضیہ کی پاکٹ سائز کتاب "فرسٹ ایڈ باکس” میرے ہاتھوں میں آئی۔ فروری میں لاہور ایکسپو سینٹر بچوں کے ساتھ کتب میلہ گئی اور وہاں بہت سے نئے افراد سے ملنے کا موقع ملا۔ اللّہ رب العزت نے ایک نیا جہاں میرے لیے آباد کر دیا۔ پیاری عیشہ نے نئے جہاں میں قدم رکھا نیا اسکول نئے دوست بنے۔ بلیک کاسٹل سے کڈز کلب کا سفر اگرچہ عیشہ کے لیے دشوار تھا مگر رب کی رحمت سے یہ سفر بھی آسان ہو گیا۔ کامیابیوں کے لیے نئے جہاں دریافت کرنے کرتے ہیں۔ اپووا خواتین کانفرنس نے مارچ کے مہینے کو ہمیشہ کے لیے میری یادوں میں محفوظ کر دیا۔ مجھے ہمیشہ نئے لوگوں سے ملنا پسند ہے نئی دوستیاں کرنا اچھا لگتا ہے۔ مارچ میں” تسخیرِ کائنات” نے اس دنیا میں آنکھ کھولی۔ اے اللہ رب العزت! میری "تسخیرِ کائنات” کو خوب عزت بخشنا۔ آمین!

    اپریل میں سعدین کے لیے منصوبہ بندی کی اور مئی کے آغاز میں رمضان کے بابرکت مہینے میں سعدین کی بنیاد رکھی۔ زندگی نے بڑے تجربات کرنے کا موقع فراہم کیا۔ پہلی بار پروفیشنل کیمرے کا سامنا کیا اور پروگرام ہوسٹ کرنے کا موقع رب العزت نے عطا کیا۔ اس فانی دنیا میں اپنا گھر اللّہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ جون 2024 کو اللّٰہ پاک نے ہمیں اس نعمت سے نوازا جس پر میں رب کا جتنا شکر ادا کروں کو کم ہے۔ کرایے کے اذیت ناک سفر سے اپنے گھر تک کی راحت کوئی اس انسان سے پوچھے جس کے پاس اپنی چھت نہیں۔ اللہ پاک سب کو اپنا گھر نصیب فرمائے اس میں خوشیوں اور سلامتی کے ساتھ رہنا نصیب کرے آمین۔

    اس وقت میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا جب 6 جولائی کو اپووا ٹیم میرے گھر میں آئی۔ میرے گھر میں آنے والے پہلے مہمان آپ ہی تھے۔ مجھے چائے بنانی نہیں آتی مگر میں نے بنائی اور سب سے مزے کی بات مدیحہ کنول آج بھی کہتی ہے چائے بہت مزے کی تھی۔ ہائے کوئی میرے چاہنے والوں کو بھی بتائے کہ چائے مزے کی تھی۔ سعدین انسٹیٹیوٹ کے تحت امید سیریز کا آغاز جولائی میں کیا۔ اگست میں نفیس کیڈٹ اکیڈمی میں تربیت اولاد کے حوالے سے سیشن ہوا۔ جس میں میری والدہ اور میری پیاری بہن دوست ماہ پارہ میری معاون رہیں۔ ستمبر تومجھے بہت عزیز ہے میری پیدائش کا مہینہ، اکتوبر میری شادی کا مہینہ، واہ واہ دونوں مہینے ساتھ ساتھ ،نومبر میں اپووا ورکشاپ کی مزے دار کی تیاریاں اور اس سال نیا تجربہ کہ ایک سگمینٹ کو اسپانسر کرنے کا موقع ملا۔ مجھے گفٹ دینا بہت پسند ہے الحمدللہ!

    نومبر میں حور کا اچانک آنا نومبر کو باغ و بہار کر گیا۔ کون کہتا ہے دسمبر اداس ہوتا ہے ہائے میرا تو بہت شور شرابے والا تھا بچوں کی اسکول کی چھٹیاں اور ہر سو ہنگامے ہی ہنگامے دسمبر میں ایک بار پھر اپووا ٹیم سے ملنے کا موقع ملا۔

    عزت اور ذلت اللّٰہ کے اختیار میں ہے پھر بھی پتہ نہیں کچھ لوگ اسے اپنا اختیار کیوں سمجھتے ہیں۔ اس سال میری پیاری بیٹی حورالعین نے میٹرک کا امتحان پاس کیا اس کا داخلہ کیڈٹ کالج میں ہوا ،میرا ابراہیم بھی اسکول جانے لگ گیا۔ حافظ وقاص صاحب کے پیچھے تراویح پڑھنے ایک الگ احساس کا نام ہے یا اللہ! تیرا شکر ہے۔ اس بار ہم نے بچوں کے ساتھ آخری روزے اور عید اسکردو ہنزہ گلگت بلتستان میں کی وہ ایک الگ کہانی ہے اور عید الاضحی سوات میں کرنے کا الگ ہی مزہ تھا۔ لکھنے لکھانے کا سلسلہ بھی اللہ نے چلائے رکھا اس سال میں نے اپنی سوئی ہوئی کیلی گرافی کو پھر سے زندہ کیا۔ ناول لکھنے کی طرف توجہ کی کئی ایوارڈ عزت حاصل کی۔ میری سرجری ہوئی اور کچھ رشتوں پر سے پردہ اٹھا۔ ارے میں تو بتانا بھول گئی ایک اہم بات سوچا جاتے جاتے بتا دوں اس سال لوگوں کے دھوکے پیسوں کے فراڈ جھوٹ فریب حسد کینہ بغض بھی دیکھے لیکن ان جیسے لوگوں کو یہ بتا دوں مجھے آپ کی ان حرکتوں سے کوئی فرق نہیں پڑا جنہوں نے پیسوں یا جذبات کا فراڈ کیا ہے وہ ہی غریب رہیں گے ان شاءاللہ! میرے پاس تو پھر بھی سب کچھ ہے۔ جنہوں نے محبتوں اور عزت سے نوازا اللہ پاک ان کی عزتوں میں اضافہ فرمائے جنہوں نے دھوکے دئیے ان کا بہت شکریہ وہ نہ ہوتے تو مجھے سیکھنے کا موقع نہ ملتا.

    باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ، ایک یادگار سفر،تحریر :نورفاطمہ

    باغی ٹی وی،ڈیجیٹل میڈیا کا معتبر اور بااثر پلیٹ فارم،سالگرہ مبارک،تحریر:حنا سرور

    "باغی کے ظلم کے خلاف بغاوت کے 13 برس”تحریر:اعجازالحق عثمانی

    باغی ٹی وی،پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کا محافظ، تحریر: ملک ارشد کوٹگلہ

    باغی ٹی وی کا کامیاب سفر،13ویں سالگرہ

  • باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ، ایک یادگار سفر،تحریر :نورفاطمہ

    باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ، ایک یادگار سفر،تحریر :نورفاطمہ

    آج، باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ کا دن ہے اور مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ میں گزشتہ دو برسوں سے باغی ٹی وی کی ٹیم کا حصہ ہوں۔ یہ میرے لئے نہ صرف ایک پروفیشنل کامیابی ہے بلکہ ایک ذاتی سفر بھی ہے جس نے میری زندگی اور کیریئر کو نئی سمت دی۔

    جب میں پہلی بار باغی ٹی وی کے دفتر میں انٹرویو دینے گئی، تو میرے لئے یہ ایک نیا تجربہ تھا۔ میں بے حد پرجوش اور نروس تھی، لیکن سینئر صحافی اور باغی ٹی وی کے سی ای او، محترم مبشر لقمان صاحب سے ملاقات نے میرے تمام خوف کو دور کیا۔ ان کا پرسکون اور پروفیشنل انداز، ساتھ ہی ساتھ انہوں نے جو مختصر انٹرویو لیا، وہ ایک یادگار لمحہ تھا۔ چند منٹ بعد ہی ایڈیٹر باغی ٹی وی، سرممتاز اعوان کی جانب سے خوشخبری آئی کہ میری جاب کنفرم ہو چکی ہے۔ یہ لمحہ میرے لئے ایک خواب کی طرح تھا، کیونکہ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ اس طرح ایک معروف اور کامیاب ادارے کا حصہ بنوں گی۔

    میرے لئے یہ فخر کی بات ہے کہ مجھے باغی ٹی وی کی سوشل میڈیا ٹیم کا حصہ بنایا گیا۔ میری ذمہ داری میں فیس بک پیجز، ٹویٹر، انسٹاگرام، اور ٹک ٹاک پر باغی ٹی وی کے لنکس اور پوسٹرز کی شیئرنگ شامل تھی، جسے میں انتہائی محنت اور لگن کے ساتھ انجام دے رہی ہوں۔ابتدا میں میرے کام کو دیکھنے کے بعد میری ذمہ داری بڑھا دی گئی، سوشل میڈیا کے لئے پوسٹر بنانا بھی میرے ذمے لگ گیا، میں اب شیئرنگ کے ساتھ ساتھ پوسٹرز بھی بناتی ہوں، اس کام کے دوران مجھے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا، خاص طور پر سر عبداللہ، جو کہ سوشل میڈیا کے ہیڈ ہیں، ان کی رہنمائی سے بہت فائدہ اٹھایا ہے۔ ان کی مشورے اور ہدایات نے میری کارکردگی کو بہتر بنایا اور مجھے سوشل میڈیا کی دنیا میں ایک نئی شناخت دلائی۔

    سوشل میڈیا ایکٹوسٹ تو میں پہلے بھی تھی، لیکن باغی ٹی وی میں آنے کے بعد میں نے اس شعبے میں نہ صرف مہارت حاصل کی بلکہ اس کا عملی تجربہ بھی کیا۔ دن ہو یا رات، کوئی بھی وقت ہو، باغی ٹی وی کی ٹیم ہمیشہ متحرک رہتی ہے۔ یہاں کی ٹیم کی محنت اور لگن بے مثال ہے، اور یہ بات میں ہمیشہ محسوس کرتی ہوں۔ جب بھی کوئی اضافی کام آتا ہے یا کوئی چیلنج ہوتا ہے، میں اپنے وقت سے زیادہ کام اور وہ بھی مکمل ایمانداری سے کرتی ہوں اور اسے اپنی ذمہ داری سمجھتی ہوں

    سر مبشر لقمان کے وی لاگ کا میں پہلے بھی شوق سے مطالعہ کرتی تھی اور ان کے سوشل میڈیا پر کمنٹس بھی کرتی رہتی تھی۔ جب ان کی ٹیم کا باقاعدہ حصہ بنی تو یہ میرے لئے ایک فخر کا لمحہ تھا۔ ان کا طرزِ عمل، ان کی قیادت، اور ان کے نظریات نے مجھے ہمیشہ متاثر کیا ہے۔ ان کے ساتھ کام کرنا ایک خواب کی حقیقت بن گیا، اور میں ہمیشہ ان کی رہنمائی سے فائدہ اٹھاتی ہوں۔

    آج، جب باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے، تو میں سر مبشر لقمان سمیت تمام ٹیم کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دیتی ہوں۔ میری دعا ہے کہ باغی ٹی وی کو مزید کامیابیاں حاصل ہوں اور یہ ادارہ اپنے مشن اور مقصد کی تکمیل میں ہمیشہ کامیاب رہے۔ آمین۔یہ سفر ابھی جاری ہے، اور میں امید کرتی ہوں کہ میں ہمیشہ اسی طرح باغی ٹی وی کے ساتھ اپنے تجربات کو مزید بہتر بناتی رہوں گی۔ باغی ٹی وی کے 13 سال پورے ہونے پر ایک نیا عزم اور جذبہ محسوس ہوتا ہے، اور میں دعا گو ہوں کہ یہ ادارہ ہمیشہ اپنے اصولوں اور وژن کے مطابق کامیابی کی بلندیوں تک پہنچے۔

    باغی ٹی وی،ڈیجیٹل میڈیا کا معتبر اور بااثر پلیٹ فارم،سالگرہ مبارک،تحریر:حنا سرور

    باغی ٹی وی،پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کا محافظ، تحریر: ملک ارشد کوٹگلہ

    "باغی کے ظلم کے خلاف بغاوت کے 13 برس”تحریر:اعجازالحق عثمانی

    باغی ٹی وی کا کامیاب سفر،13ویں سالگرہ

    noor

  • باغی ٹی وی،پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کا محافظ، تحریر: ملک ارشد کوٹگلہ

    باغی ٹی وی،پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کا محافظ، تحریر: ملک ارشد کوٹگلہ

    آج باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے، جو پاکستانی ڈیجیٹل میڈیا میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو چکی ہے۔ باغی ٹی وی نہ صرف ایک خبر رساں ادارہ ہے بلکہ یہ پاکستان میں مثبت صحافت، سچائی کی آواز، اور وطن عزیز کے دفاع کے حوالے سے ایک مضبوط ستون کے طور پر اپنی شناخت بنا چکا ہے۔ اس کی کامیابی کا راز اس کی معیاری اور سچ پر مبنی خبریں، تجزیے اور تجزیاتی پروگرامز میں پوشیدہ ہے، جو عوام کے درمیان اعتماد اور سچائی کے لئے ایک معتبر ذریعہ بنے ہیں۔باغی ٹی وی کا آغاز پاکستان میں ایک ایسے وقت میں ہوا جب ڈیجیٹل میڈیا کی اہمیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا۔ اس چینل نے نہ صرف پاکستان کے بڑے شہروں بلکہ دور دراز علاقوں میں بھی اپنی موجودگی کو یقینی بنایا ہے۔ باغی ٹی وی کی خبریں ہمیشہ سچ پر مبنی اور غیر متنازعہ ہوتی ہیں، جس سے عوام میں ایک مثبت اور حقیقت پر مبنی آگاہی پیدا ہوتی ہے۔

    باغی ٹی وی کے سی ای او، مبشر لقمان نے اپنی محنت اور قابلیت سے اس چینل کو ایک نئی شناخت دی ہے۔ ان کی قیادت میں، باغی ٹی وی نے نہ صرف مقامی بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنی موجودگی کو مضبوط کیا ہے۔ مبشر لقمان کے صحافتی تجربے اور عزم نے اس ادارے کو پاکستانی میڈیا کی دنیا میں ایک معتبر مقام دلایا ہے۔باغی ٹی وی کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ یہ ہمیشہ سچائی کی آواز بن کر اُبھرا ہے۔ اس نے کبھی بھی کسی غیر اخلاقی یا جھوٹی خبر کی نشر کی اجازت نہیں دی، بلکہ ہر خبر کے پیچھے سچائی اور تحقیق کا سہارا لیا ہے۔ اس کے علاوہ، باغی ٹی وی پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی محافظ کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ جب بھی پاکستان دشمن عناصر نے ملک کے خلاف پروپیگنڈہ شروع کیا، باغی ٹی وی نے ہمیشہ ان کے جھوٹ کو بے نقاب کیا اور وطن عزیز کی سالمیت کا دفاع کیا۔

    باغی ٹی وی نہ صرف قومی سطح پر بلکہ علاقائی مسائل کو بھی اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے ملک بھر کے مختلف شہروں میں نمائندے ہیں جو مقامی مسائل کو عالمی سطح پر پیش کرتے ہیں۔ یہ چینل نہ صرف بڑے شہروں کی خبریں دکھاتا ہے بلکہ دور دراز علاقوں کے عوامی مسائل کو بھی اُجاگر کرتا ہے، تاکہ ان مسائل پر توجہ دی جا سکے۔باغی ٹی وی کو ایک سپاہی کا کردار ادا کرنے والا ادارہ کہا جا سکتا ہے۔ اس کے ہر نمائندے نے وطن عزیز کی حرمت کے لئے اپنے قلم کو ہتھیار بنایا ہوا ہے۔ یہ چینل ملکی دفاعی امور، دہشت گردی کے خلاف جنگ، اور پاکستان کے جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کے تحفظ کے لئے بھی آواز اُٹھاتا رہتا ہے۔

    آج باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ پر، ہم سب کو اس کی کامیابیوں اور اس کے صحافتی اصولوں کو سراہتے ہیں، سینئر صحافی اور سی ای او باغی ٹی وی مبشر لقمان نے باغی ٹی وی پر ہمیشہ سچائی، ایمانداری اور ملکی مفادات کو اولین ترجیح دی ہے، اور ان کے اس عزم نے اسے پاکستان میں ایک مضبوط صحافتی ادارہ بنا دیا ۔ آئندہ بھی یہ چینل اپنی اس روش پر گامزن رہے گا، اور پاکستان کی خدمت میں اپنی آواز بلند کرتا رہے گا۔

    malik arshad

    "باغی کے ظلم کے خلاف بغاوت کے 13 برس”تحریر:اعجازالحق عثمانی

    باغی ٹی وی کا کامیاب سفر،13ویں سالگرہ

    مبشر لقمان کی 62ویں سالگرہ، کھرا سچ اور باغی ٹی وی کی جانب سے تقریب کا انعقاد

  • "باغی کے ظلم کے خلاف بغاوت کے 13 برس”تحریر:اعجازالحق عثمانی

    "باغی کے ظلم کے خلاف بغاوت کے 13 برس”تحریر:اعجازالحق عثمانی

    جس کا قلم، حق کے اظہار کا ہتھیار بنا اور لفظوں نے ظلم کے خلاف بغاوت کا نعرہ بلند کیا۔ آج اس باغی کی 13ویں سالگرہ ہے۔باغی ٹی وی ایک ایسا ادارہ ہے جو تیرہ سال قبل حق اور صداقت کی شمع تھامے میدانِ صحافت میں اترا۔ مبشر لقمان جیسے مایہ ناز صحافی کی سرپرستی میں یہ ادارہ ایک ایسے شجر کی مانند پروان چڑھا جو اپنی جڑیں حق و انصاف کی مٹی میں گاڑ چکا ہے۔ آج، تیرہ برس کی شب و روز محنت اور کاوشوں کے بعد، باغی ٹی وی اپنی13ویں سالگرہ منا رہا ہے اور یہ جشن صرف ایک ادارہ کے 13 برسوں کی تکمیل کا نہیں، بلکہ یہ ان تمام جدوجہد اور کاوشوں کا اعتراف ہے جو حق کی آواز کو دبانے کی ہر کوشش کے خلاف کی گئیں۔

    سن 2021 میں جب میرا قلم باغی ٹی وی کے لیے چلنا شروع ہوا، تو یہ محض ایک اتفاق تھا، لیکن ممتاز اعوان صاحب جیسے مخلص ایڈیٹر کی سرپرستی نے اس سفر کو میری زندگی کا ایک اہم حصہ بنا دیا۔ میری پہلی تحریر جب باغی ٹی وی کی ویب سائٹ پر شائع ہوئی، تو وہ صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ میرے خوابوں کی جیت تھی۔ اس کے بعد، باغی ٹی وی نے میرے ہر مضمون، ہر تحریر کو جگہ دی، چاہے وہ حکومت کے حق میں ہو یا خلاف۔ یہ آزادی اور غیر جانبداری اس ادارے کی سب سے بڑی خوبی ہے۔

    باغی سے 4 سالہ رفاقت کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ باغی ٹی وی فقط ایک صحافتی ادارہ نہیں بلکہ ایک تحریک ہے۔ جس کا مقصد صرف خبر پہنچانا نہیں بلکہ وہ خبر پہنچانا تھا جو دبائی جا رہی ہو، وہ حقائق اجاگر کرنا جو چھپائے جا رہے ہوں، اور ان مظالم کو بے نقاب کرنا جو خاموشی کی چادر میں لپٹے ہوں۔ جہاں مین اسٹریم میڈیا نے مصلحتوں کا شکار ہو کر اپنی نظریں جھکا لیں، وہیں باغی ٹی وی نے بغاوت کا علم تھام لیا اور ظلم و جبر کے خلاف بے خوف و خطر آواز اٹھائی۔ اور اس بے باکی کا سہرا بانی "باغی” مبشر لقمان کے سر کو جاتا ہے۔باغی ٹی وی کے بانی مبشر لقمان صاحب وہ شخصیت ہیں جنہوں نے صحافت کو صرف پیشہ نہیں بلکہ ایک مقدس ذمہ داری سمجھا۔ ان کی قیادت میں باغی ٹی وی نے مثبت صحافت کا وہ معیار قائم کیا جسے مثال کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ خبریں صرف تفریح یا خوف کا ذریعہ نہیں بلکہ عوام کو باخبر رکھنے اور انہیں تعلیم دینے کا وسیلہ ہوتی ہیں۔ باغی ٹی وی نے اس بات کو عملی جامہ پہنایا اور اپنی خبروں کو ہمیشہ حقائق پر مبنی اور مثبت انداز میں پیش کیا۔

    باغی ٹی وی نے معاشرتی مسائل پر آواز بلند کرنے میں ہمیشہ اولیت حاصل کی۔ ظلم، جہالت، اور ناانصافی جیسے موضوعات کو نہ صرف اجاگر کیا بلکہ ان کے حل کے لیے عوامی شعور کو بھی بیدار کیا۔ چاہے وہ کرونا کی وبا ہو، زلزلے کی تباہی، یا سیلاب کی تباہ کاری، باغی ٹی وی نے نہ صرف نا صرف قارئین کو باخبر رکھا،بلکہ لوگوں کو ایجوکیٹ بھی کیا۔ایک ایسی دنیا میں جہاں خبر کا مطلب صرف پروپیگنڈا ہو، وہاں باغی ٹی وی نے مثبت خبروں کا رجحان متعارف کروایا۔ اس نے عوام کو دکھایا کہ پاکستان میں کئی مثبت ڈیولپمنٹز بھی ہو رہی ہیں اور ان پر بات کرنا انتہائی ضروری ہے۔ مثبت خبریں نہ صرف لوگوں کو امید دیتی ہیں بلکہ انہیں بہتر مستقبل کی کوشش کےلیے بھی مائل کرتی ہیں۔

    باغی ٹی وی کے تیرہ سالہ سفر کی کہانی صرف ایک ادارے کی کامیابی کی داستان نہیں بلکہ یہ ایک تحریک کی گواہی ہے جس نے ظلم و جبر کے خلاف حق کا علم بلند کیا۔ اس تیرہ سالہ سفر پر باغی ٹی وی کے بانی مبشر لقمان صاحب ، ایڈیٹر باغی ٹی وی ممتاز اعوان صاحب اور ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان بڈانی سمیت دیگر ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے، اور ہم امید کرتے ہیں کہ یہ ادارہ مستقبل میں بھی حق اور سچائی کی راہ پر چلتے ہوئے ہماری رہنمائی کرتا رہےگا

    باغی ٹی وی کا کامیاب سفر،13ویں سالگرہ

    مبشر لقمان کی 62ویں سالگرہ، کھرا سچ اور باغی ٹی وی کی جانب سے تقریب کا انعقاد

  • بے باک صحافت  کی ایک روشن مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

    بے باک صحافت کی ایک روشن مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

    پاکستانی صحافت کی دنیا میں بعض شخصیات ایسی ہیں جنہوں نے نہ صرف اپنی محنت اور عزم سے کامیابیاں حاصل کیں بلکہ ان کی جرات مندانہ اور بے باک اندازِ صحافت نے انہیں عوام کے دلوں میں ایک خاص مقام دے دیا۔ ان شخصیات میں سے ایک اہم نام مبشر لقمان کا ہے، جنہوں نے ہمیشہ سچ کی پرچار کی ہے اور کبھی بھی کسی خوف یا دباؤ کے آگے نہ جھکے ہیں نہ بکے ہیں۔ ان کا مشہور پروگرام "کھرا سچ” صرف ایک پروگرام نہیں بلکہ ایک تحریک بن چکا ہے جس میں وہ سچ کو بے لاگ اور بے دھڑک طریقے سے پیش کرتے ہیں۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد عوام کو سچ سے آگاہ کرنا اور ان کے ذہنوں میں موجود مفروضات کو توڑنا ہے۔

    مبشر لقمان کا صحافتی سفر ہمیشہ ایک چیلنج کی طرح رہا ہے۔ پاکستان کی صحافتی دنیا میں جہاں اکثر ادارے اور صحافی مختلف دباؤ کا شکار رہتے ہیں، وہاں مبشر لقمان نے کبھی کسی دباؤ کو خاطر میں نہیں لایا۔ ان کا پروگرام "کھرا سچ” اس بات کا غماز ہے کہ صحافت میں اگر سچ بولنے کا عزم ہو تو آپ تمام مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے سچ کو عوام تک پہنچا سکتے ہیں۔مبشر لقمان کا یہ جرات مندانہ رویہ نہ صرف پاکستانی میڈیا میں بلکہ جونیئر صحافیوں کے لئے ایک اہم سبق بھی ہے۔ وہ ہمیشہ سچ کے علمبردار بنے رہے ہیں اور سچ کو بیان کرنے میں کسی بھی قسم کے خوف کا شکار نہیں ہوئے۔ ان کا یہ بے خوف طرزِ صحافت پاکستان کے نوجوان صحافیوں کے لئے ایک روشن مثال ہے۔ وہ ہمیں سکھاتے ہیں کہ صحافت کا اصل مقصد عوام کو حقیقت سے آگاہ کرنا ہے، چاہے اس کے بدلے میں ہمیں کسی بھی قسم کی مشکلات کا سامنا کیوں نہ کرنا پڑے۔

    پاکستان میں سچ بولنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جس کے لئے آپ کو نہ صرف جرات کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ آپ کو مختلف دباؤ، تنقید، گالیاں اور کبھی کبھار مقدمات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن مبشر لقمان جیسے صحافی ہمیشہ سچ کے ساتھ کھڑے رہے ہیں، خواہ اس کے لئے انہیں ذاتی یا پیشہ ورانہ مشکلات کا سامنا ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔

    ہم جیسے لکھاری اور صحافی ہمیشہ مبشر لقمان کے تجزیوں اور رپورٹنگ سے کچھ نہ کچھ سیکھتے ہیں۔ ان کا دبنگ انداز، عزم اور جرات ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ صحافت صرف معلومات فراہم کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ایسا فریضہ ہے جس میں سچائی کا پرچار کرنا سب سے اہم ہے۔”کھرا سچ” ایک ایسا پروگرام ہے جس میں مبشر لقمان نہ صرف معاشرتی اور سیاسی معاملات پر گہرے تجزیے پیش کرتے ہیں بلکہ وہ ان مسائل کی حقیقت کو بھی بے نقاب کرتے ہیں جنہیں عموماً نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ان کا یہ پروگرام پاکستانی عوام کے لئے ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے جس سے وہ نہ صرف اپنے ارد گرد کے حالات سے آگاہ ہوتے ہیں بلکہ انہیں ملک کے اہم مسائل کی حقیقت بھی سامنے آتی ہے۔یہ پروگرام پاکستانی میڈیا میں ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اس میں مبشر لقمان کسی بھی جانب داری یا مفادات کے بغیر صرف اور صرف سچ بولتے ہیں۔ اس میں حقیقت کو کھلے دل سے بیان کیا جاتا ہے، چاہے وہ کسی کو پسند آئے یا نہ آئے۔

    آج سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کی سالگرہ منا ئی جا رہی ہے، تو ہم ان کے شجاعانہ اور سچے رویے کو سراہتے ہیں، ان کی بے باک صحافت نے نہ صرف میڈیا کے معیار کو بلند کیا ہے بلکہ بہت سے نوجوان صحافیوں کو یہ سکھایا ہے کہ سچ بولنے کا عزم کیا ہوتا ہے۔ ان کی سالگرہ پر ہم انہیں دل کی گہرائیوں سے دعائیں دیتے ہیں اور ان کی کامیابیوں کی مزید بلندی کی خواہش رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں صحت مند، کامیاب اور خوشحال زندگی دے اور ان کی جرات مندانہ صحافتی کاوشوں کو ہمیشہ کامیابیوں سے ہمکنار کرے۔آمین

    تحریر: محمدمزمل اقبال

    میدان صحافت میں جرات کی مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کی سالگرہ

    فہیم حیدر پر کروڑوں کی بارش، مبشر لقمان کو خاموش رہنے کی اپیل

    کھرا سچ کے میزبان،مبشر لقمان، کا واٹس ایپ چینل جوائن کریں