Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • میدان صحافت میں جرات کی مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

    میدان صحافت میں جرات کی مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

    آج پاکستان کے معروف سینئر صحافی اور اینکر پرسن مبشر لقمان کی سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ مبشر لقمان نہ صرف ایک کامیاب اینکر ہیں بلکہ ان کا شمار پاکستان کے ان چند صحافیوں میں ہوتا ہے جو ہمیشہ اپنی باتوں میں سچائی اور ایمانداری کو مقدم رکھتے ہیں۔ ان کا پروگرام "کھرا سچ” اس بات کا عکاس ہے کہ وہ کسی بھی موضوع پر کھری اور بے لاگ بات کرنے سے نہیں ڈرتے، چاہے وہ موضوع کتنا ہی تنازعہ کیوں نہ ہو۔

    مبشر لقمان کی صحافت کی خاص بات یہ ہے کہ وہ نہ صرف حکومتوں کے خلاف بلکہ اس سے بھی بڑھ کر اُن طاقتور لوگوں کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں جو عوام کے حقوق کو پامال کرتے ہیں۔ وہ اپنے پروگراموں میں ہمیشہ سچ اور حق کا علم بلند کرتے ہیں اور اپنے تجزیے اور رپورٹنگ میں کسی قسم کی ترمیم یا مصلحت سے بچتے ہیں۔ ان کا مقصد صرف اور صرف سچ کا احاطہ کرنا ہے تاکہ عوام کو حقیقی صورتحال کا پتا چل سکے۔تحقیقاتی صحافت مبشر لقمان کا شیوہ ہے،بنا کسی خوف،لالچ کے انہوں نے سب کی کرپشن کو بے نقاب کیا،

    مبشر لقمان نے اپنے پروگراموں میں پاکستان دشمن قوتوں اور انتہا پسند جماعتوں کی حقیقت کو بے نقاب کیا ہے، جنہوں نے ملک کے مفاد کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ ان کی جرات مندی اور بے خوفی کی بدولت کئی سنجیدہ مسائل عوام کے سامنے آ گئے ہیں۔عمران خان کے قریب تر رہنے والے مبشر لقمان نے جب عمران خان اور بشریٰ کی کرپشن دیکھی تو سب سے پہلے آواز بلند کی اور نہ صرف عمران خان،بشریٰ بی بی بلکہ پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کی کرپشن کے حوالے سے مبشر لقمان نے سب سے پہلے پردہ اٹھایا اور قوم کے سامنے انکی حقیقت لے کر آئے،

    مبشر لقمان کی صحافتی خدمات نہ صرف ان کے پروگرامات کی مقبولیت میں اضافہ کر رہی ہیں بلکہ وہ اپنی بے باک رپورٹس کے ذریعے پاکستانی عوام کی نظر میں ایک محنتی اور سچا صحافی کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ان کی صحافت میں کبھی بھی ذاتی مفاد یا سیاسی تعلقات کا دخل نہیں رہا، اور یہ ہی ان کی کامیابی کا راز ہے۔آج ان کی سالگرہ کے موقع پر، ہم سب مبشر لقمان کی طویل زندگی اور کامیاب صحافتی سفر کے لیے دعا گو ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ وہ ہمیشہ اسی طرح اپنی جرات مندانہ صحافت کے ذریعے پاکستانی عوام کے سامنے سچ لاتے رہیں گے، تاکہ ہم سب حقیقت سے آگاہ رہیں اور ملک کی ترقی کی راہوں پر قدم رکھ سکیں۔

    مبشر لقمان کا "کھرا سچ”، ان کی محنت اور لگن کا عکاس ہے، اور ان کا یہ عہد کہ وہ ہمیشہ سچائی کو منظر عام پر لائیں گے، ان کے پروگرام کھرا سچ کو عوام میں اتنی مقبولیت ہے کہ لوگ ان کی باتوں کو بے دھڑک سننے اور سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مبشر لقمان کو ان کی سالگرہ پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد اور دعا دیتے ہیں کہ اللہ انہیں ہمیشہ صحت مند رکھے اور ان کے مشن میں کامیاب کرے۔آمین

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کی سالگرہ

    فہیم حیدر پر کروڑوں کی بارش، مبشر لقمان کو خاموش رہنے کی اپیل

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    لنڈی کوتل: فلاحی کارکن پر پولیس تشدد، ایس ایچ او عدنان آفریدی معطل

  • سرائیکی خطے کی رنگین چنی، دلہنوں کا دلکش پہناوا،تیسری قسط

    سرائیکی خطے کی رنگین چنی، دلہنوں کا دلکش پہناوا،تیسری قسط

    سرائیکی خطے کی رنگین چنی، دلہنوں کا دلکش پہناوا
    تحقیق و تحریر: ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی

    خلاصہ
    اس قسط میں ہینڈی کرافٹ مقامی چنی کی معدومیت کے عوامل اور اس کے زوال پر بات کی گئی ہے۔جدید فیشن،معاشی مشکلات اور مقامی مارکیٹ کی کمی کی وجہ سے چنی کا استعمال کم ہو رہا ہے۔اس کا معقول معاوضہ نہ ملنا اور نوجوان نسل کی عدم دلچسپی بھی اس کی کمیابی کا سبب بن رہی ہے۔تاہم،سرائیکی ثقافت کے اس اہم جزو کو بچانے اور اس کی اہمیت کو دوبارہ اجاگر کرنے کی ضرورت ہے،تاکہ یہ قیمتی دستکاری زندہ رہ سکے۔

    تیسری آخری قسط
    چنی کا زوال اور اس کا مستقبل
    چولستان روہی میں چنی کو خاص مقام حاصل ہے۔شادی بیاہ میں جہیز اس کے بغیر نامکمل تصور کیا جاتا ہے۔امیر مائی بچپن سے ہی خوبصورت چنیاں بناتی آئی ہیں۔ جو اب ہر علاقے کی خواتین خاص مواقع پر خریدتی اور اوڑھتی ہیں۔امیر مائی اور خالہ سلمی جیسی بے شمار غریب خوددار ہنر مند خواتین نے چھوٹی عمر میں اپنی نانی اور والدہ سے اس فن کو سیکھا اور پھر اپنی اولادوں کو سکھا رہیں ہیں۔دیرہ بکھا امیر مائی کا ہنر مند خاندان صدیوں سے اس کلچرل آرٹ سے منسلک ہے اور اس فیملی کا ذریعہ معاش بھی ہے۔

    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    سرائیکی خطے کی رنگین چنی، دلہنوں کا دلکش پہناوا
    دوسری قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    سرائیکی خطے کی رنگین چنی، دلہنوں کا دلکش پہناوا

    اس قبیلے نے نہ صرف اپنے بچوں بلکہ پورے عباس نگر کو یہ فن سکھایا ہے۔اور اب تقریبا پورا گاؤں اس کام سے منسلک ہوچکا ہے ۔یہ کام مشکل اور محنت طلب ہے۔سب سے پہلے کپڑا لیا جات ہے،اگر پورا سوٹ بنانا ہو تو چھ سے آٹھ میٹر تک کپڑا لگتا ہے۔اس پر سب سے پہلے پکے ٹھپے سے ڈیزائن بنایا جاتا ہے۔ پھر سوٹ یا الگ چنی پر کون سا ڈیزائن یا رنگ جچےگا،اس کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ اور یہ بھی خیال رکھا جاتا ہے کہ رنگوں میں نفاست،پائیداری اور پکے رنگ ہوں۔

    سرائیکی رنگ بھری بہاولپوری چنی اپنی خوبصورتی کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے۔مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس قیمتی ہنر کی صحیح معنوں میں قدر و قیمت نہیں ہورہی۔اتنی محنت مشقت کے باوجود اس کا معاوضہ اس طرح نہیں ملتا،جتنا ہونا چاہیے۔اس مقامی دستکاری کا سب سے زیادہ فائدہ اس مقامی صنعت سے وابستہ کاروباری منافع خور لوگ اٹھاتے ہیں۔

    ریسرچ سے معلوم ہوا ہے کہ سرائیکی وسیب اور دلہن کے لئے بنائی جانے والی چنی کی معدومیت کے پیچھے کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔سرائیکی دھرتی کا چنی کا کام ایک خوبصورت فنون لطیفہ کا شاہکار ہے۔جو ہینڈی کرافٹ کے زمرے میں آتا ہے،اس میں ثقافتی حسین رنگ
    ،علاقائی پہچان،اقتصادی اور سماجی عوامل شامل ہیں۔جدید مغربی فیشن اور ٹیکنالوجی نے سادہ نفیس خوبصورت لباسوں اور ثقافتوں پر اثر ڈالا ہے،جس کے نتیجے میں نوجوان نسل کے درمیان مغربی طرز زندگی اور فیشن کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے روایتی کلچرل سرائیکی لباس کے حسن،چنی کے پہناوے میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

    عہدِ جدید کی اقتصادی مشکلات بھی غریب مقامی صنعت کے زوال کا سبب بن رہی ہیں۔چنی بنانے کا عمل محنت طلب اور مہنگا ہے،جس میں کئی قسم کی کڑھائی،رنگائی اور دیگر فنون شامل ہیں۔ مہنگائی اور معاشی مشکلات نے اب روایتی فنون کو زندہ رکھنا مشکل بنا دیا ہے۔سرائیکی علاقوں میں چنی تیار کرنے والے ہنر مند افراد میں کمی واقع ہو رہی ہے،کیونکہ نئی نسل اس ہنر کو سیکھنے میں دلچسپی نہیں رکھتی،جس کی وجہ سے یہ فن اور صنعت بتدریج معدومیت کا سامنا کررہی ہے۔

    مقامی کاروباری حضرات کی مارکیٹ میں غفلت اور سستی بھی اس شاندار تاریخی ہینڈی کرافٹ کو شدید خطرات میں ڈال دیا ہے۔سرائیکی چنئی والے عروسی لباس کی مقامی مارکیٹ میں کمی نے بھی اس کے استعمال کو متاثر کیا ہے،سب سے اہم مسئلہ حکومتی سطح پر سرپرستی کا نہ ہونا،ایکسپورٹ امپورٹ سہولیات کی عدم سہولیات،معاشی مالی بحران اور بےروزگاری ہے۔جس کی وجہ سے زیادہ تر لوگ مہنگی چنئی کی بجائے دیگر سستے اور آسانی سے دستیاب کپڑے خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں۔عہد جدید میں نئی ثقافتی سرگرمیوں،ثقافتی تبدیلیوں کی دوڑ، گلوبلائزیشن اور مختلف ثقافتوں کے اثرات نے بھی مقامی ریت روایات اور رسم و رواج کو متاثر کیا ہے،جس کی وجہ سے سرائیکی چنی جیسے روایتی لباس کا استعمال کم ہوا ہے۔

    ان وجوہات کی بنا پر سرائیکی وسیب میں چنی کی ہینڈی کرافٹ معدومیت کے سفر پر گامزن ہے۔اور یہ ایک پیچیدہ مسئلہ بن چکا ہے۔جس کا فوری حل ضروری ہے۔اس کے لئے حکومتی اداروں، ثقافتی تنظیموں اور مقامی کمیونٹی کو مشترکہ طور پر کام کرنا ہوگا تاکہ رنگوں کی امن پسند دنیا ہمیشہ آباد و شاد رہے۔ میرے نزدیک رنگ ہی خوبصورت زندگی کی گواہی ہیں۔سرائیکی حسین رنگوں کی روحانی دھرتی خوبصورت امن پسند رنگوں کا قصہ گاتی رہے اور ہم آپس میں امن ومحبت،اتحاد اور انسانیت کے رنگ ایک دوسرے کے ساتھ سانجھ کرتے رہیں۔

    باغوں میں رنگ برنگے پھول،خوبصورت چرند پرند کی رنگین پیاری آوازیں،انسانوں کے مختلف رنگ،پیارے دلکش چہرے،الگ روایتی لباس،متنوع ثقافتوں میں روحانی مادری زبانوں کے میٹھےسریلے انداز اور حسین رنگ برنگی وادیوں کی تخلیق،ندیوں،دریاوں،سمندر،اور آسمان سے بارش کے رنگ برنگے خوبصورت شبنم کے پھول کی مانند چکمتے قطرے کائنات کے حسن بھرے رنگین رازوں کی گواہی ہیں۔دنیا کو رنگ دو۔سرائیکی وسیب کے سنگ دو۔

  • سرائیکی خطے کی رنگین چنی، دلہنوں کا دلکش پہناوا،پہلی قسط

    سرائیکی خطے کی رنگین چنی، دلہنوں کا دلکش پہناوا،پہلی قسط

    سرائیکی خطے کی رنگین چنی، دلہنوں کا دلکش پہناوا
    تحقیق و تحریر: ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    سرائیکی خطے کی رنگین چنی، ثقافت اور جمالیات کا امتزاج
    قسط کا خلاصہ
    اس قسط میں سرائیکی خطے کی رنگین چنی کی جمالیاتی خصوصیات اور اس کے ثقافتی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ چنی کو دلہن کے لباس کا لازمی جزو سمجھا جاتا ہے، جو شادی کے موقع پر اس کی خوبصورتی اور اہمیت کو بڑھاتا ہے۔ چنی کی مختلف رنگوں اور ان کے معنوں کا ذکر کیا گیا ہے، جن میں سرخ، سبز، نیلا، گلابی، اور دیگر رنگ شامل ہیں، جو زندگی کی سچائیوں اور امیدوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔

    پہلی قسط
    کائنات کی خوبصورتی رنگ اور عورت کے حسن سے مزین ہے۔ لال، سرخ، لالی، سرخی اور دلہن کا آپس میں گہرا، دلنشین، دلربا، رنگین، سجاوٹ بھرا، شاندار، پیارا رشتہ دو خاندانوں میں نئی زندگی، حیا، وفا، اعتماد، چاہت، خلوص،احترام، محبت و یقین کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہوتا ہے۔ اللہ پاک حسین و جمیل خوبصورت ہے اور حسن و خوبصورتی کو بے حد پسند فرماتا ہے۔ حدیث مبارکہ کا مفہوم: "دنیا کی بہترین خوبصورت متاع نیک بیوی ہے”۔ رنگ ہی سے رنگوں کی خوبصورت کہکشائیں، گلاب کی رنگینی سے خوبصورت دلفریب خوشبوئیں،گلاب کی پنکھڑی جیسی نرم و نازک حسین دلربا دوشیزائیں دلہنوں کی ادائیں حقیقت میں بہاروں کے موسم، موسیقی و نغمہ اور امن و محبت کا پیغام ہیں۔ چنی کے جمالیاتی خوبصورت رنگوں میں سرخ، سبز، میرون، نیلا، گلابی، پیلا،سفید، سکائی بلیو، سکن کلر، نارنگی، کیمل کلر زندگی کی سچائیوں اور امیدوں کے نام ہیں۔یہ سارے رنگ چنی کے رنگ ہیں

    سرائیکی وسیب کی دلکش چنی، جسے چنری بھی کہا جاتا ہے، شادی کے مواقع پر خواتین کے لباس کا لازمی حصہ اور خطے کی ثقافتی شناخت کا اہم جزو ہے۔ چنی نرم، رنگین اور خوبصورت کپڑے کا وہ ٹکڑا ہے جو دلہن کے لباس کو مکمل کرتا ہے۔ یہ لباس نہ صرف دلہن کی خوبصورتی کو بڑھاتا ہے بلکہ سرائیکی وسیب کی پہچان، تہذیب و تمدن، سوچ، ریت، رسم و رواج کا ایک اہم حصہ ہے۔

    شادی کے موقع پر دلہن کا چنی پہننا ایک خاص ثقافتی رسم و رواج اور روایت ہے، جو خاندانوں کی خوشی اور عورت کی اہمیت کا اظہار کرتا ہے۔سرائیکی علاقے میں چنی خواتین کی محبت، عزت اور وقار کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ یہ رسم و رواج کا حصہ ہے، جس سے سماج میں آپس میں یکجہتی، احساس اور رواداری کو فروغ ملتا ہے۔

    سرائیکی تہذیب و تمدن اور ثقافت کے رنگوں سے مالامال چنی سرائیکی وسیب میں شادی کے خاص موقع کا روایتی پہناوا بن چکی ہے۔ چنی جو شادی کے موقع پر دلہن کے لباس کا ایک لازمی جزو سمجھا جاتا ہے۔ جسے دلہن کے سر یا چہرے پر ڈالا جاتا ہے۔ اس کا مقصد دلہن کی خوبصورتی کو بڑھانا اور اس کے لباس کو مکمل کرنا ہوتا ہے۔سرائیکی وسیب میں چنی، جس کو چنری بھی کہا جاتا ہے، شادی و خوشی کے موقع پر اس کی اہمیت ثقافتی، سماجی اور جذباتی لحاظ سے بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔

    اس کی اہمیت کو مختلف پہلوئوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔سرائیکی ثقافتی ورثے میں کھسہ کی طرح رنگوں بھری چنی بھی سرائیکی ثقافت کا ایک اہم جزو ہے، جو نسل در نسل منتقل ہو رہی ہے۔ اس میں مقامی ہنر مندوں کی مہارت اور محنت جھلکتی ہے، جیسے کڑھائی، رنگائی اور ڈیزائن کی منفرد مہارتیں جو اس لباس کو مخصوص اور بے مثال بناتی ہیں۔چنی دلہن کی شناخت ہے۔

    سرائیکی علاقے میں چنی خواتین کی محبت، عزت اور وقار کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ شادی کے موقع پر دلہن کا چنی پہننا ایک خاص ثقافتی رسم و رواج اور روایت ہے، جو خاندانوں کی خوشی اور عورت کی اہمیت کا اظہار کرتا ہے۔ یہ دلکش لباس عموما سرائیکی دلہن کی خوبصورتی اور عزت کو نمایاں کرتا ہے۔
    جاری ہے….

  • فرحت عباس شاہ بڑا شاعر لیکن۔۔۔

    فرحت عباس شاہ بڑا شاعر لیکن۔۔۔

    فرحت عباس شاہ بڑا شاعر لیکن۔۔۔
    تحریر: شاہد نسیم چوہدری
    فرحت عباس شاہ ایک ممتاز شاعر ہیں جن کی شخصیت اور خیالات ہمیشہ سے بحث کا موضوع رہے ہیں۔ پچھلے دنوں ایک دوست نے ان کے طرزِ تکلم اور خیالات کے بارے میں مجھ سے گلہ کیا، جو وہ علی زریون اور تہذیب حافی کے حوالے سے رکھتے ہیں، لیکن میں نے اسے سنجیدگی سے نہیں لیا کیونکہ میرا اصول ہے کہ سنی سنائی باتوں پر یقین نہ کروں۔ میں نے دوست سے صاف کہا کہ وہ بڑے شاعر ہیں، آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہوگی۔ آپ غلط کہہ رہے ہیں، کیونکہ میرے نزدیک بغیر ثبوت کے کسی کی رائے کو قبول کرنا مناسب نہیں۔

    تاہم، حالیہ دنوں میں فرحت عباس شاہ کے ایک انٹرویو نے میرے خیالات کو جھٹلا دیا۔ ان کے بیانات نے وہی کچھ ظاہر کیا جو میرے دوست نے کہا تھا۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم اکثر تعصبات یا ذاتی پسند ناپسند کی بنیاد پر دوسروں کے بارے میں رائے قائم کرتے ہیں۔ اس واقعے نے مجھے سکھایا کہ کبھی کبھار دوسروں کی باتوں پر کان دھرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔

    مشہور شاعر فرحت عباس شاہ کے اس انٹرویو میں، نوجوان اور مقبول شاعر تہذیب حافی کے حوالے سے تلخ اور غیر شائستہ گفتگو کی گئی۔ فرحت عباس شاہ جیسے بڑے نام سے ایسی باتوں کی توقع نہیں تھی، کیونکہ وہ خود ایک وسیع تجربے اور ادب کے میدان میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ انہوں نے تہذیب حافی کو "بیوقوف” کہا اور ان کی شاعری کو کمتر ثابت کرنے کی کوشش کی۔ یہ بیان مجھ سمیت کئی ادبی دوستوں کے لیے حیرت اور دکھ کا باعث بنا۔

    ادب اور شاعری انسانی جذبات، خیالات، اور فطرت کے احساسات کو بیان کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔ یہ صرف الفاظ کی جنبش نہیں بلکہ دل کی گہرائیوں سے نکلنے والے جذبات کا ایک خوبصورت اظہار ہے۔ اردو ادب کی تاریخ میں ہمیشہ سے ہی مختلف خیالات اور نظریات کے ٹکراؤ نے ادب کو وسعت دی ہے۔ مگر کبھی کبھار، ہم دیکھتے ہیں کہ تخلیقی دنیا میں شخصی تنقید اور ذاتی حملے ادبی اقدار کو مجروح کرتے ہیں۔

    ادب کے دائرے میں اختلافِ رائے ایک فطری عمل ہے، مگر اس کی حدود کو پار کرنا، کسی کی تخلیقی صلاحیت کو کمتر ثابت کرنا، یا ذاتی حملے کرنا نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ ادب کی روح کے بھی منافی ہے۔ ہر تخلیق کار اپنی طرز کا منفرد ہوتا ہے اور اس کا کام اس کی شخصیت، ماحول، اور جذبات کی عکاسی کرتا ہے۔ تہذیب حافی کی شاعری نے نئی نسل کے دلوں میں جگہ بنائی ہے، ان کے اشعار میں سادگی، جذبات، اور گہرائی نمایاں ہیں۔

    فرحت عباس شاہ کا بیان نہ صرف تہذیب حافی بلکہ ان کے مداحوں کے لیے بھی ایک تلخ تجربہ ثابت ہوا۔ ادب کے بڑے ناموں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کریں، نہ کہ ان کی صلاحیتوں پر حملہ کریں۔ ادب کی دنیا میں بڑے نام وہی بنتے ہیں جو دوسروں کے لیے راستہ ہموار کریں، نہ کہ ان کی راہ میں کانٹے بچھائیں۔

    ادب میں وسعت اور برداشت ہونی چاہیے۔ ادب کی خوبصورتی اسی میں ہے کہ یہ مختلف خیالات اور نظریات کو جگہ دیتا ہے۔ ہر شاعر اور ادیب کا اپنا انداز ہوتا ہے۔ اقبال کی فلسفیانہ شاعری، غالب کی گہرائی، اور فیض کی انقلابی شاعری سب اپنے اپنے دائرے میں مقبول ہیں۔ اسی طرح، تہذیب حافی نے بھی اپنے انداز میں اردو شاعری کو ایک نئی سمت دی ہے۔ شاعری صرف مشکل الفاظ اور پیچیدہ خیالات کا نام نہیں بلکہ سادہ الفاظ میں گہری بات کہنے کا فن بھی شاعری ہے۔ تہذیب حافی کی مقبولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ نئی نسل کے دلوں کی بات کرتے ہیں۔ ان کے اشعار میں ایک ایسی گہرائی ہے جو نوجوانوں کی زندگی کے مسائل، محبت، اور جذبات کی عکاسی کرتی ہے۔

    عزت صرف اور صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ہر انسان کی عزت اور شہرت اللہ کی دین ہے۔ کوئی کسی کو عزت نہیں دے سکتا اور نہ چھین سکتا ہے۔ یہ اللہ کی مرضی ہے کہ وہ کس کو کس مقام پر فائز کرتا ہے۔ فرحت عباس شاہ کی گفتگو نے اس بات کی یاد دہانی کرائی کہ بڑا نام ہونا ضروری نہیں کہ آپ بڑا دل بھی رکھتے ہوں۔ تہذیب حافی جیسے شاعروں کو چاہیے کہ وہ ان باتوں کو دل پر نہ لیں اور اپنی تخلیقی دنیا میں مصروف رہیں۔

    ادب میں مثبت رویوں کی ضرورت ہے، اور خاص طور پر ایک بڑے شاعر کو اس طرح کی باتیں کر کے اپنا قد چھوٹا نہیں کرنا چاہیے۔ ادب کو ذاتی اختلافات اور انا کی قربانیوں سے پاک رکھنا وقت کی ضرورت ہے۔ ہمارے معاشرے کو ایسے ادیبوں کی ضرورت ہے جو نہ صرف تخلیقی میدان میں آگے بڑھیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی احترام اور برداشت کا مظاہرہ کریں۔ فرحت عباس شاہ جیسے ادیبوں کو اپنی تنقید کے انداز پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ وہ ادب کی دنیا میں اپنی عظمت کو اسی وقت برقرار رکھ سکتے ہیں جب وہ دوسروں کو بھی عزت دینا سیکھیں گے۔

    ادب صرف خیالات کے اظہار کا نام نہیں بلکہ یہ دلوں کو جوڑنے اور ذہنوں کو وسعت دینے کا ذریعہ بھی ہے۔ ہمیں ان تلخ واقعات سے سیکھنا چاہیے اور ادب کے میدان میں مثبت رویوں کو فروغ دینا چاہیے۔ شخصی تنقید سے زیادہ ضروری ہے کہ ہم تخلیقی آزادی، برداشت، اور ادب کے احترام کی روایت کو زندہ رکھیں۔ یاد رکھیں، عزت اور شہرت صرف اللہ کی عطا ہے، اور اس کا صحیح استعمال ہی ہماری اصل کامیابی ہے۔ ادب کی دنیا میں اصل عظمت نہ الفاظ کی گہرائی میں ہوتی ہے اور نہ ہی شہرت کی بلندی میں، بلکہ رویوں میں پوشیدہ ہوتی ہے۔

    مارکیٹ میں یہ بات زباں زدِ عام ہے کہ فرحت عباس شاہ جیسے سینئر شاعر کا یہ کہنا کہ وہ علی زریون یا تہذیب حافی جیسے شاعروں کے ساتھ کسی پروگرام میں شرکت نہیں کریں گے، ان کے دل کی "بڑائی” کو خوب واضح کرتا ہے۔ دوسری طرف، علی زریون کا یہ کہنا کہ اگر فرحت عباس شاہ میرے پروگرام میں ہوں تو وہ ان کے گھٹنوں کو ہاتھ لگائیں گے، ایک حقیقی بڑے انسان کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔

    یہ رویوں کا فرق ہے جو بتاتا ہے کہ عزت کیسے کمائی جاتی ہے اور کیسے کھوئی جاتی ہے۔ ایک طرف انا، حسد، اور تکبر کا بوجھ ہے، تو دوسری طرف عاجزی، احترام، اور وقار کا مظاہرہ۔ فرحت عباس شاہ جیسے لوگوں کو شاید یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بڑائی لفظوں کی نہیں، بلکہ کردار کی ہوتی ہے۔ علی زریون کا جواب ادب کے اُس اصل سبق کی یاد دہانی ہے جسے شاید کچھ "بڑے” شاعر بھول چکے ہیں۔ ہمیں ادب کا یہ سبق ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ عزت وہی پاتا ہے جو دوسروں کو عزت دینا جانتا ہے۔

    بلاشبہ، فرحت عباس شاہ شاعری میں بڑا نام رکھتے ہیں، لیکن جونیئر شاعروں کے بارے میں ان کا طرزِ تکلم اور خیالات اچھے نہیں۔

  • سرائیکی خطے کی رنگین چنی، دلہنوں کا دلکش پہناوا،دوسری قسط

    سرائیکی خطے کی رنگین چنی، دلہنوں کا دلکش پہناوا،دوسری قسط

    سرائیکی خطے کی رنگین چنی، دلہنوں کا دلکش پہناوا
    تحقیق و تحریر: ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    قسط کا خلاصہ
    اس قسط میں چنی کی ثقافتی اہمیت اور اس کے سرائیکی وسیب کی پہچان پر زور دیا گیا ہے۔ چنی سرائیکی ثقافت کا ایک اہم حصہ ہے، جس میں مقامی ہنر مندوں کی محنت اور مہارت شامل ہے۔ یہ لباس نہ صرف دلہن کی خوبصورتی کو بڑھاتا ہے، بلکہ اس کی عزت اور وقار کا بھی اظہار کرتا ہے۔ چنی شادی کے مختلف مواقع پر پہنا جاتا ہے اور اس کے ذریعے سماج میں یکجہتی اور محبت کو فروغ ملتا ہے۔
    دوسری قسط
    چنی کا ثقافتی پہلو اور سرائیکی وسیب کی شناخت
    رنگوں کی اپنی ایک مخصوص زبان اور اظہار ہوتا ہے۔رنگ کو زندگی کی خوبصورت علامت سمجھا جاتا ہے۔خوشی غمی دونوں میں رنگ کا ایک اپنا کردار رہا ہے۔شادی کی تقریبات میں خواتین رسم مہندی و جاگا پر چنی نہ صرف زیبائش کے لیے پہنتی ہیں۔ بلکہ یہ مختلف ثقافتی و سماجی تہواروں و رسومات میں بھی شامل ہے،جیسے بچے کی پیدائش،منگنی شادی کی تقریب،برات کی تقریب، گانا چھوڑانے کی رسم،عیدیا دیگر خوشی کے مواقع پر اس کا استعمال ہوتا ہے۔
    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    سرائیکی خطے کی رنگین چنی، دلہنوں کا دلکش پہناوا
    یہ رسم و رواج کا حصہ بن چکی ہے، جس سے خاندانوں اور سماج میں آپس میں محبت، یکجہتی،احساس ہمدردی اور رواداری کو فروغ ملتا ہے۔سرائیکی لوگ اپنے گھروں میں چنی کی خوبصورت رسم کو ساری رات جھمر رقص کی شکل میں گانوں کی دھنوں پر ادا کرتے ہیں۔

    سرائیکی چنی بنانے کے لیے مقامی کاریگروں کو سخت محنت کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ کام مقامی صنعت کے ساتھ معیشت کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے۔ چنی کی تیاری اور فروخت مقامی سطح پر روزگار کے مواقع بھی فراہم کررہی ہے۔خواتین گھروں میں کام کرتی ہیں۔بازاروں میں بھی کام کیا جاتا ہے۔ بہاولپور کے شاہی بازار،رنگیلا بازار میں خصوصا خواتین کی بناو سنگھار کی اشیاء فروخت ہوتیں ہیں،جن میں چنی کو خاص مقام حاصل ہے۔

    پورے سرائیکی وسیب سمیت اسلام آباد، لاہور، ملتان، پشاور، کراچی، سکھر، پاکستان بھر کی خواتین سرائیکی خطے کی خاص چنی کو پہننا اپنے لیے عزت، شان،وقار، اعزاز و محبت کی علامت سمجھتی ہیں۔چنی میں ایک الگ جمالیاتی،جذباتی اور نفسیاتی اثر انگیزی پائی جاتی ہے۔چنی خواتین کی خود اعتمادی اور خوبصورتی میں بے پناہ اضافہ کرتی ہے۔یہ ان کے حسن،ثقافتی شناخت کا زیور اور اعلی کلاسک پہناوا بن چکی ہے۔اس کے ذریعے خواتین اپنی روایات،تہذیب وتمدن، تاریخ،کلچر،رتبہ،عزت اور خاندان کی محبت کا اظہار کرتیں ہیں،جو ان کے تخیلاتی معیارات،جذباتی
    اور نفسیاتی سکون کے لیے اہم ہے۔

    سرائیکی وسیب میں چنی کی اہمیت صرف ایک روایتی لباس کی حد تک محدود نہیں بلکہ یہ اس علاقے کی پہچان،امن ومحبت،ثقافت،ادب، تہذیب و تمدن اور معاشرے کی رنگین گہرائیوں سے جڑی ہوئی ہے۔ماضی میں سرائیکی وسیب اور دیگر علاقوں میں دلہن کے لباس کو مکمل سمجھنے کے لیے چنی کا ہونا ضروری جانا جاتا تھا۔

    کیونکہ یہ ایک مخصوص سرائیکی علاقے روہی چولستان بہاولپوری ثقافتی اور روایتی رنگوں کی خوشبو کا عکاس ہے۔آج جدید ٹیکنالوجی کے دور میں اس کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔اس کی ڈیمانڈ دبئی،سعودی عرب،انگلینڈ،امریکہ،انڈیا راجستھان تک ہے۔جہاں جہاں سرائیکی افراد موجود ہیں وہ اپنی روایتی رنگولی چنی کو خوشی و شادمانی کی علامت سمجھ کر اعزاز و شان سے پہن کر فخر محسوس کرتے ہیں۔

    امیر ترین سابق سرائیکی عباسیہ ریاست بہاولپور کے دیہاتی علاقے عباس نگر، چنی دا گوٹھ (چنیاں بناون والیاں دی چھوٹی وستی) جس کی چنیاں دنیا بھر میں مشہور ہیں۔اس کے علاوہ تحصیل احمد پور شرقیہ اور قدیم تاریخی شہر اوچ شریف میں بھی گھروں میں محنت کش خواتین چنیوں کے کپڑے پر خوبصورت گوٹہ کناری کا باریک کام کرکے دوسرے شہروں میں فروخت کے لیے بھیجتی ہیں۔احمد پور شرقیہ کے محلہ شکاری کی خود دار بیوہ خالہ سلمی اپنے گھر اپنی یتیم بچیوں کے ساتھ سارا سارا دن چنی پر گوٹہ کناری سے سخت محنت طلب کام کرکے اپنے غریب خاندان کا پیٹ پال رہی ہیں۔

    اسی طرح سوشل میڈیا رپورٹ کے مطابق بہاولپور،ڈیرہ بکھا، تحصیل خیر پور ٹامیوالی،چشتیاں ،حاصل پور، بہاول نگر روڈ پر واقع عباس نگر دیہات کی گیارہ سال کی عمر سے ہی چنیاں بنانے والی امیر مائی کا کہنا ہے کہ پہلے صرف چولستان کی خواتین ہی اس کو پہنتی تھیں،لیکن اب بہاولپور کی چنیوں کی طلب پوری دنیا میں ہو رہی ہے۔روہی چولستان میں نان مسلم ہندو کمیونٹی، جن کو سرائیکی وسیب میں مڑیچہ کہا جاتا ہے،قدیم وادی ہاکڑہ تہذیب و تمدن کے ڈیراوری قبائل میں بھیل،کول،سنتھال صدیوں سے اپنی رنگین چنی کے پہناوے سے منسلک آ رہے ہیں۔عباس نگر گاؤں کی بنی ہوئی رنگ برنگی، مخصوص پکے ٹھپے کے ڈائزین سے بنی چنیاں نہ صرف بہاولپور بلکہ پوری دنیا میں ایک الگ پہچان رکھتی ہیں ۔۔
    جاری ہے

  • تبصرہ کتب، ننھے مقرر

    تبصرہ کتب، ننھے مقرر

    نام کتاب : ننھے مقرر
    مصنف : حافظ صداقت اکرام
    صفحات : 217
    قیمت : 1100روپے
    ناشر : دارالسلام انٹرنیشنل
    برائے رابطہ : 04237324034
    بچوں کیلئے تربیتی ، تعمیری اور اصلاحی کتب پیش کرنا دارالسلام انٹرنیشنل کا طرہ امتیاز ہے ۔ بلکہ دارالسلام بچوں کیلئے کتب شائع کرنے والا پاکستان کا سب سے بڑا ادارہ ہے ۔ زیر نظر کتاب ’’ ننھے مقرر ‘‘ بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے ۔ جیسا کہ نام سے واضح ہے یہ کتاب فن تقریر کے موضوع پر سکول اور مدارس کے مڈل لیول کے بچوں کے لیے ایک شاہکار ، بیمثال اور لاجواب کتاب ہے ۔اس کتاب کے مصنف حافظ صداقت اکرام ہیں جو خود بھی زمانہ طالب علمی میں اعلیٰ پائے مقرر رہ چکے ہیں اور کئی ایک انعامات بھی حاصل کرچکے ہیں ۔فن تقریر کے موضوع پر ان کی ایک اور کتاب ’’ بول کہ لب آزاد ہیں تیرے ‘‘ قارئین سے داد ِ تحسین پاچکی ہے جبکہ ایک کتاب ’’ متاع ِ سخن ‘‘ زیر تصنیف ہے ۔ یوں تو اس وقت فن تقریر کے موضوع پر بازار میں بیشمار کتب دستیاب ہیں تاہم یہ کتاب کئی ایک اعتبار سے دیگر تمام کتب سے منفرد اور ممتاز ہے ۔مثلاََ ہر تقریر قرآنی آیات اور صحیح احادیث سے مزین ہے ۔ تمام عربی عبارتوں کے حوالہ جات دیے گئے ہیں ۔ موضوع کی مناسب سے ہر تقریر میں خوبصورت اور برمحل اشعار شامل کیے گئے ہیں ۔ بچوں کی ذہنی سطح کو مدنظر رکھتے ہوئے الفاظ کا چنائو کیا گیا ہے ۔جملے طویل نہیں بلکہ مختصر ہیں تاکہ یاد کرنے اور ادا کرنے میں آسانی ہو ۔

    یہ کتاب ایک سو تقریروں کا مہکتا ہوا گلدستہ ہے جن میں سے چند ایک موضوعات درج ذیل ہیں :اللہ ہمارا رب ہے ، محمد ﷺ ہمارے رہبر ہیں ، قرآن ہمارا دستور ہے ، اسلام ہمارا دین ہے ، نماز کی اہمیت ، روزہ عظیم عبادت ہے ، حج کی فضیلت ، ہم خوار ہوئے تارک ِ قرآں ہوکر ، حسن اخلاق کی فضیلت ، زبان کی حفاظت ، ہمیشہ سچ بولو ، خاموشی میں نجات ہے ، غرور وتکبر کی مذمت ، حیا انسانیت کا زیور ہے ، کتاب سے دوستی ، تندرستی ہزار نعمت ہے ، نیا سال نیا عزم ، یوم مزدور ، یوم یکجہتی کشمیر ، یوم دفاع پاکستان ، قائد اعظم ۔۔۔۔ایک تاریخ ساز شخصیت ، علامہ اقبال ۔۔۔ایک فرد ِ عظیم ، محنت کی عظمت ، نظم وضبط کی اہمیت ، استاد کی عظمت ، بڑوں کی تکریم وتوقیر ، ہمسائے کے حقوق ، دھوکے بازی قابل مذمت فعل ، بخل معاشرتی برائی ، باہمی تعاون کی اہمیت ، حسد ایک مہلک مرض ، کفایت شعاری ، اتفاق میں برکت ہے ، مہمان نوازی اسلامی شعار ، حقیقی کامیابی ، اخوت کی اہمیت ۔اسی طرح دیگر موضوعات بھی بہت ہی مفید ہیں ۔بہترین موضوعات کی وجہ سے یقینی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ یہ کتاب محض تقریر پر رہنمائی فراہم نہیں کرتی بلکہ اسے پڑھنے والا جہاں ایک اچھا مقرر بنے گا وہاں وہ ایک باعمل مسلمان اور اچھا شہری بھی بنے گا ۔

    اس کے لیے ایک ایسی کتاب کی اشد ضرورت تھی جو طلبہ کی تقریری صلاحیتوں کو جلا بخشے اور اچھا مقرر بننے میں ان کی معاون ہو۔ جس میں عقائد، اخلاقیات، معاملات اور حسن معاشرت جیسے عنوانات دلائل کے ساتھ عمدگی سے بیان کیے گئے ہوں۔ ننھے مقرر طلبہ کی اسی اہم ضرورت کی تکمیل ہے۔ یہ کتاب جہاں طلبہ کے ذوق تقریر کی آبیاری کرے گی، وہیں فن تقریر کو فروغ دینے میں بھی اہم کردار ادا کرے گی

    مہنگائی اور غربت میں کمی کے حکومتی دعوے جھوٹے ہیں،سبیل اکرام

    بانی پی ٹی آئی واضح کرچکے ہیں کہ وہ کوئی ڈیل نہیں چاہتے،بیرسٹر گوہر

  • سرائیکی دھرتی کے خوبصورت لوک گیت،تیسری قسط

    سرائیکی دھرتی کے خوبصورت لوک گیت،تیسری قسط

    سرائیکی دھرتی کے خوبصورت لوک گیت
    تحقیق و تحریر: ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    تیسری و آخری قسط
    جدید دور میں سرائیکی لوک گیتوں کے اثرات اور تحفظ کی تجاویز
    سرائیکی لوک گیت نہ صرف سرائیکی ثقافت کی نمائندگی کرتے ہیں بلکہ جدید فلم اور ڈرامہ انڈسٹری کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہیں۔ان گیتوں نے ریڈیو پاکستان ملتان،بہاولپور،ڈیرہ اسماعیل خان اور سرگودھا کے ذریعے بین الاقوامی شہرت حاصل کی۔سرائیکی لوک گیتوں کو دستاویزی شکل میں محفوظ کرنے کے لیے تحقیقی مراکز کا قیام ضروری ہے۔ان گیتوں کو تعلیمی نصاب کا حصہ بنایا جائے تاکہ نئی نسل ان کے ورثے کو سمجھ سکے۔
    لوک فنکاروں کی سرپرستی اور ان کے لیے مالی معاونت فراہم کی جائے۔سرائیکی لوک گیت دھرتی کے پھولوں کی مانند ہیں جو اپنی خوشبو اور خوبصورتی سے نسل در نسل لوگوں کے دلوں کو معطر کرتے رہیں گے۔ان گیتوں کے ذریعے سرائیکی ثقافت کا پیغام محبت، امن اور یکجہتی پوری دنیا میں پھیلتا رہے گا۔

    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    سرائیکی دھرتی کے خوبصورت لوک گیت

    سرائیکی لوک گیتوں کی تاریخ بھی اتنی ہی پرانی ہے جتنی خود سرائیکی شاعری کی تاریخ ہے۔سرائیکی وسیب میں اہم لوک گیتوں کےنمونے سرائیکی قومی شعور،مزاج اور دھرتی کے رسوم و رواج روایات کی عکاسی پیش کرتےہیں۔ریڈیو پاکستان بہاولپور، ریڈیو پاکستان ملتان، ریڈیو پاکستان ڈیرہ اسماعیل خان، ریڈیو پاکستان سرگودھا نے سرائیکی خوبصورت لوک گیتوں کو بلندیوں تک پہنچایا۔سرائیکی عام لوک فنکاروں کو صدراتی ایوارڈ یافتہ گلوکار بنایا۔ریڈیو پاکستان پر چلنے والے سرائیکی لوک گیت بچوں،نوجوان،عورتوں اور بوڑھوں میں یکسر مقبول تھے۔

    دوسری قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    سرائیکی دھرتی کے خوبصورت لوک گیت

    آج بھی نئی نسل کو بوڑھے بزرگ سرائیکی لوک گیت سنا کر دل کا بوجھ ہلکا کرکے خوشی محسوس کرتے ہیں۔اب نوجوان نسل اپنے قومی ورثے کی حفاظت خود کرے گی۔سرائیکی وسیب نگری مظہر جلال ہے۔یہاں کے لوک گیت خواجہ غلام فرید کی مادری زبان سرائیکی کے271 کافیوں نے ہر طرف خوشبو بکھیر دی ہے۔آج بھی روہیلا اپنے اونٹ،بھیڑ بکریوں،گائے کے ریوڑ کے ساتھ تصوفانہ کرشماتی مادری زبان سرائیکی میں لوک گیت گا کر اپنا سفر طے کرتاہے۔جس طرح بچہ صرف ماں کی گود میں ماں کی لوری سن کر اپنے آپ کو محفوظ اور روحانی اطمینان وسکون قلب محسوس کرتاہے۔اسی طرح مادری زبان میں لوک گیت ہی انسانوں کی جنت کے میٹھے سریلے ملی نغمے ہیں۔تمام صوفیاء کرام نے ہمیشہ انسانوں کی اخلاقی اقدار کی تربیت اور رشدوہدایت کے لیے مادری زبان ہی کو ذریعہ اظہار اپنایا ہے۔
    اساں لوک سرائیکی
    ساڈی جھوک سرائیکی
    اساں امن محبت دے داعی
    اساں نگر پریم دے واسی

    میری بیٹی رابیل الطاف ڈاھر، عبداللہ سچل ڈاھر سے چھوٹی مگر زینب رابیل الطاف سے بڑی ہے۔مائی کلاچی کے جدید روشنی کے شہر سابق دارالحکومت پاکستان،سندھ صوبےکا مرکزی تجارتی بین الاقوامی شہرت یافتہ شہر کراچی،غریب کی ماں،محبت وامن کا خوبصورت سمندری خطہ سیکٹر سرجانی ٹاون میں رہائشی نانا نانی،ماما مامی،اب چھوٹے ماموں کی شادی پر خود بخود سہرے خوشی کے گیت اپنے شہر احمدپورشرقیہ گھر میں گا رہی ہے۔”پیارا گھوٹ ماموں جیوے،سہرا پاوے خوش تھی وے”اپنی والدہ کو گنگاہٹ میں سنا کر داد تحسین پاتی ہے۔میرے لئے ایک حسین دلربا منظر ہوتاہے۔عجیب خوشی کا سماں ہوتا ہے۔جذبوں کی نہ تھمنے والی دلکش روح پیدا ہوتی ہے۔یہ سحر انگیزی سرائیکی لوک گیت میں ہے۔چند سرائیکی مشہور لوک گیتوں کے نمونے ملاحظہ فرمائیں۔
    بچوں کے گیت
    جھل پکھا تے آوے ٹھڈی وا
    میڈے ویرکوں مہندی دا رنگ چالا

    خوشی پرنے(شادی) کے گیت
    "پُھلاں والی ارائین سہرا پھلاں دا پوا
    جیوی پیو تے بھرا،ساڈا دل نہ رنجا”

    شادی کے موقع پر گاناں بدھائی کا گیت
    "تیڈے گانے کوں لاواں گھیو خاناں
    تیڈی جنج سوہیسی پیو خاناں
    تیڈی خیر اللہ ہوسی ہن گانا بدھ خاناں”

    مہندی کے گیت
    "مہندی کوں لاواں مینڑ
    تیڈیاں ویلاں گھلیسم بھینڑ”

    شادی سہرے کے گیت
    "حوراں پریاں سہرے گانون
    وارو واری ویلاں پانون

    وے میں سہرا تیڈا گانواں وے
    شہزادہ بنا وے، سوھنا بنا وے”

    "میں تاں تھال مہندی دا چائی کھڑی آں
    میں تاں پھلاں واری سیج سجائی کھڑی آں”

    دوران رقص سرائیکی جھمر کے گیت
    "کوٹھے تے پڑ کوٹھڑا وے
    تے کوٹھےسکدا اے گھا بھلا
    لکھ لکھ چٹھیاں وے
    میں تھک ہٹیاں
    تو کہیں بہانے آ بھلا”۔

    "دل تانگھ تانگھے،
    اللہ جوڑ سانگھے
    سجناں دا ملنا
    مشکل مہانگے”

    سرائیکی ریاست بہاولپور کا سرائیکی لوک گیت سرائیکی ساڑھے سات کروڑ سرائیکی صوبے سے محروم سرائیکی قوم کا قومی لوک گیت اب سرائیکی ترانے کا روپ دھار چکا ہے۔میلوں اور یونیورسٹی کلچرل فیسٹیول میں نوجوان نسل کا روحانی منزل مقصود بن چکا ہے۔آج کل سوشل میڈیا پر ہر طرف اس کی گونج ہے۔دیرہ جات میں سرائیکی لوک گیت نوجوان نسل کا خوبصورت ثقافتی روحانی نغمہ بن چکا ہے۔سرائیکی علاقوں میں جھنگ اور میانوالی کو سرائیکی وسیب کی شعر ونغمہ کی سرزمین کہا جاتا ہے
    کھڑی ڈیندی آں سنہڑا اناں لوکاں کوں
    اللہ آن وساوے ساڈیاں جھوکاں کوں

    چھلے کے گیت
    "چھلا پاتی کھڑی آں ہک
    میڈی نئیں پئی لاہندی سک
    میکوں تیڈی پئی اے چھک
    منہ ڈکھاویں چا”۔

    تیڈے کھوہ تےآئیاں پانڑی پلا ڈے
    سخناں دا کوڑا ساڈے چھلڑےولا ڈے

    ڈھولے کے گیت
    "بزار وکاندی تر وے
    میڈا سوڑی گلی وچ گھر وے
    تے پیپل نشانی وے ڈھولا
    بزار وکاندی پنڈ وے
    تیڈے بت وچ میڈی جند وے
    ہکو کر سمجھیں وے ڈھولا”۔

    نہ مار جھمراں نظر لگ ویسی میڈا "نکا جیا ڈھولا دل کھس ویسی”

    "میں اتھاں تے ڈھول ملتان اے
    ساڈی ڈھولے دے وچ جان اے”

    ماہیے کےگیت
    "ککراں دے پھل ماہیا
    اساں پردیسی ہیں
    ساڈے پچھوں نہ رُل ماہیا”

    "او ماہیا ماہیا پھل گلاب دا”۔

    "بالو بتیاں وے ماہی ساکوں مارو سنگلاں نال
    پتل بنڑایوس سوھنا بنڑساں عملاں نال”

    سوھنڑیا او ماہیا قد سجناں دا چھوٹا اے،اوڈو چن دا او ٹوٹا اے

    رسنڑ/روٹھنے کے گیت
    میڈا چن مساتا،میڈا چن مساتا
    اینویں نی کریندا،لوکاں دے آکھے رُس نئیں ونجیندا”۔

    "وے بھورل آ وے بھورل آ
    ہک واری کھل تے آلائی ونجن”

    "کڈاں ول سو سوھنا سانول آ
    وطن ساڈے غریباں دے”

    "ساوی موراکین تے بوٹا کڈھ ڈے چولے تے
    رُٹھی نی منیساں بہوں ناراض ہاں ڈھولے تے۔”

    سرائیکی لوک گیت دراصل سرائیکی وسیب کا منظر نامہ ہیں۔خوف،خوشی و غمی کے موقع پر انسان نے گنگاہٹ سے دونوں ہاتھوں کی برابر ردھم،سر سنگیت کے فن کمال سے محبت کے گیت گا کر دنیا میں امن کےپیغام کو عام کیا تھا۔آج پھر سے سرائیکی سہرے کا محبت نامہ نئی نسل تک پہچانا ہوگا۔سرد موسم ،محبت و امن کا گہوارہ اور بہاروں کا نام ہے۔عاشقوں کے لیے چاہت کی درگاہ ہے۔دنیا میں نفرت،دشت گردی،حرص و ہوس،لالچ کو سادہ نفیس مٹھاس بھرے رسیلے خوبصورت سرائیکی لوک گیتوں میں سادگی،محبت،احترام آدمیت،خلوص جیسے موضوعات کی بدولت ہر برائی سے نمٹا جاسکتا ہے۔سریم کے پھل،سرسوں کا ساگ، مکھن مکئی اصل میں خوشحالی و ترقی اور امید نو کا نیا ماہ جنوری 2025مبارک سال کا خوبصورت لوک گیت ہے۔
    بازار وکیندیاں گندلاں
    ڈینہہ ڈس گیوں پورے پندراہاں
    مدتاں لایاں نی ہو ڈھولا!
    ختم شد.

  • سرائیکی دھرتی کے خوبصورت لوک گیت

    سرائیکی دھرتی کے خوبصورت لوک گیت

    سرائیکی دھرتی کے خوبصورت لوک گیت
    تحقیق و تحریر: ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    قسط کا خلاصہ
    سرائیکی لوک گیتوں کی اقسام اور ان کی مثالیں
    سرائیکی لوک گیتوں کو مختلف اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، جن میں ہر قسم انفرادیت اور جذبے کی حامل ہے:
    لولی (لوری): ماں کی ممتا کے رس سے بھرے گیت،جو نومولود بچوں کے لیے گائے جاتے ہیں، مثلاً:
    "لولی دیندی تھیندی ماء واری،اکھیں تے رکھدی تیڈی جند پیاری”
    "الا اللہ ،اللہ ہو مٹھا توں ،الا اللہ،اللہ ہو مٹھا توں”
    شادی کے گیت: شادی کی تقریبات میں خواتین کے گائے جانے والے گیت، جن میں خوشی اور محبت کا اظہار ہوتا ہے، جیسے
    "پوپا میں پیساں تے پا ٹھمکیساں،ونج کے ڈیکھیساں یار سجن کوں”
    دھرتی کے گیت: یہ گیت فصلوں کی کٹائی، درگاہوں کی زیارتوں، اور روزمرہ زندگی کی عکاسی کرتے ہیں، جیسے:
    "آچنوں رل یار پیلھوں پیکیاں نی وے”
    روحانی گیت: یہ گیت مذہبی اور روحانی جذبات کی عکاسی کرتے ہیں، مثلاً:
    "جیوے جیوے سید جلال قطب کمال،جھولے جھولے لال دم مست قلندر”
    دوسری قسط
    عام طور پر سرائیکی لوک گیت ” سہرے ” کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔جس میں سرائیکی لوک گیت ٹہر کو روحانی عقیدت کی عظمت وفیض سمجھا جاتا ہے۔دکھ تکلیف کو ٹالنے کے لیے سرائیکی لوک میلوں کے موقع پر صوفیاء کرام کی امن پسند درگاہیں پر لوگ اپنی امیدیں، خواہشات اور آسوں کی تکمیل کے لیے منقبت پیر مرشد لوک گیت کی شکل میں گاتے اور روحانی فیض پاتے ہیں۔

    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    سرائیکی دھرتی کے خوبصورت لوک گیت
    برصغیر پاک وہند میں اولیاء اللہ کرام سے بے پناہ محبت میں لوک گیت سہرے گاکر اپنی خوشیاں منت منوتیاں پوری کرتے ہیں۔سرائیکی دھرتی تصوف سے مالامال ہے۔اوچ شریف، ملتان شریف، کوٹ مٹھن شریف، سخی سرور شریف،تونسہ شریف،خانگاہ شریف، پاک پتن شریف،چشتیاں شریف، درگاہ شور کوٹ باہو سلطان، چنن پیر،شاہ جیونہ شریف روحانی آستانے سرائیکی لوگوں کے امن و امان کے روشن مراکز ہیں۔میرے روحانی مرشد کامل حضرت سید شیر شاہ جلال الدین حیدر سرخ پوش بخاری علیہ الرحمہ اوچ شریف برصغیر پاک وہند سرائیکی وسیب تحصیل احمد پور شرقیہ ضلع بہاولپور کی مشہور منقبت سرائیکی لوک سہرا گیت۔
    "جیوے جیوے سید جلال قطب کمال، جھولے جھولے لال دم مست قلندر،سہون دی سرکار دم مست قلندر،پیر سید سرخ پوش بخاری جلال دم مست قلندر”۔۔۔۔۔

    سرائیکی لوک گیت درحقیقت سرائیکی صحراء و جنگل میں پیدا ہونے والے پھول ہوتےہیں جو اپنے رنگوں،خوبصورتی اور خوشبو سے ہر کسی کا دل موہ لیتے ہیں۔یہ دھرتی سے جنم لیتے ہیں اور دھرتی واسیوں کے ہاتھوں پھلتے پھولتے ہیں۔اور پھر ایسا سایہ بن جاتے ہیں کہ ان کے سائے میں بیٹھنے والے یعنی اس گیت کو سننےوالوں کی ساری تھکن اتار دیتے ہیں۔یہ دیہاتی لوگوں کے سیدھے سادے دلوں سے نکلے جذبوں کا خوبصورت ترین اظہار اور آنکھوں کے موتی ہیں جو گیت کے خوبصورت بول بن ہار کا روپ دھارجاتے ہیں۔

    ان گیتوں میں معصوم لوگوں کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کے رنگ اور ان کی بھولی بھالی امنگوں اور خواہشوں کے سائے لمبے ہوتے نظر آتے ہیں۔جو پوری نہیں ہو سکتیں اور اداس نم دلوں کیلئے سرخ خون رنگ بن جاتی ہیں۔اکثر لوک گیتوں میں کئی مقامات پر زندگی کی سچائیاں ایسی سادگی اور محاورے دار موتیوں جیسی بولی میں جڑی ہوتی ہیں کہ وہ دلوں کو موہ لیتی ہیں۔

    یہ گیت نسل در نسل،پیڑھی در پیڑھی یادوں کے رومانس میں چلے آرہے ہیں۔یہ خوشیوں و محبت بھرے لوک گیت خوبصورتی سے گزرے وقت کی یاد تازہ کرکے آنے والی نسلوں کو پیار بھرا پیغام پہنچا نےکی ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔ہر لمحہ یاد گار بنانےاورہمیشہ دل و دماغ کو تروتازہ رس بھرا رکھتے ہیں۔سرائیکی وسیب میں پیدائش پر اولاد کی خوشی کے سہرےگیت،شادی خانہ آبادی مبارک کے خوبصورت گیت،بیٹی دلہن کی ڈولی کے موقع کےسہرے،جھوک جنج کی واپسی کے گیت،پکھیوں کےگیت،مہندی،جاگے،جھمر،چرخے،چھلے،ڈھولے،ڈوہڑیہ گیت فصلوں کے گیت، درگاہ پیر فقیر کی زیارتوں کے گیت،ساون کی خوش کےسہرے،سگن،فصلوں،کھیلوں،لوری یا لولی،ماہیے،میل میلاپ،ہجر وصال،دھرتی وغیرہ کے گیت رائج ہیں۔ہماری تہذیب و تمدن،رہن سہن،ثقافت کی بھرپور انداز میں عکاسی کرتے ہیں۔

    شہری زندگی میں تو یہ آہستہ آہستہ یہ رسمیں،رواج ریتیں معدوم ہوتی جا رہی ہیں۔لیکن دیہاتی سادہ مٹھاس بھری زندگی اور ماحول نے ابھی بھی کسی حد تک ان صدیوں پرانی رسوم و رواج اور ریت روایت نے لوک گیتوں کو زندہ رکھا ہوا ہے۔۔ جاری ہے

  • سرائیکی دھرتی کے خوبصورت لوک گیت،پہلی قسط

    سرائیکی دھرتی کے خوبصورت لوک گیت،پہلی قسط

    سرائیکی دھرتی کے خوبصورت لوک گیت
    تحقیق و تحریر: ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    سرائیکی لوک گیتوں کا تعارف اور تاریخی پس منظر
    سرائیکی دھرتی کی لوک روایت میں گہرائی اور خوبصورتی سے بھرپور لوک گیت، جنہیں سرائیکی زبان میں "سہرے” کہا جاتا ہے، دھرتی کی ثقافت، امن، محبت اور فطری جذبات کا اظہار ہیں۔یہ گیت انسان کے جذباتی،سماجی اور روحانی احساسات کے عکاس ہیں۔ سرائیکی لوک گیت درحقیقت ادب، تہذیب، تمدن اور ثقافت کے مضبوط ستون ہیں، جو دھرتی کی رگوں میں گہرے طور پر پیوست ہیں۔یہ گیت خوشی،غم، محبت، رنج اور امیدوں کا خوبصورت قصہ سناتے ہیں۔ان کی جڑیں وادی ہاکڑہ،سرسوتی اور سندھ کی قدیم تہذیبوں میں ہیں،جہاں موہنجوداڑو، ہڑپہ اور گنویری والا جیسے تاریخی شہروں کی کھدائی سے موسیقی اور آرٹ کے شواہد ملےہیں۔سرائیکی وسیب کے گیتوں کی آوازیں روہی، چولستان، بیابان اور دریاؤں کی سرزمین سے اُبھرتی ہیں، جنہیں سادہ دل لوگ خوشیوں اور غموں کے مواقع پر گا کر اپنی جذباتی وابستگی کا ظاہر کرتے ہیں۔
    پہلی قسط :
    اشرف المخلوقات انسانی سماج میں ہر قوم،قبیلے،دھرتی اور علاقے کے اپنے خوبصورت لوک گیت جن کو سرائیکی زبان میں سہرے کہا جاتا ہے،ایک الگ پہچان اور امن و محبت کا دلفریب بے ساختہ جذبوں کا اظہار ہیں۔یہ درحقیقت ادب،تہذیب وتمدن اورثقافت کے مضبوط ترین تنا آور سرسبز پیلھوں اور پیپل کے درخت کی طرح دھرتی کی رگوں میں گہرے جڑے ہوئے ہیں۔غلام بادشاہ،امیرغریب،کالےگورے کے گھر بچے کی پیدائش،شادی اور موت پر احساسات و جذبات کی نیں کا وجود میں آنا انسانی فطری جبلت ہے۔بالکل اسی طرح جس طرح جنگل،بیلا،روہی چولستان،بیابان،پہاڑ،دریا اور سمندر کے کنارے خود رو جڑی بوٹیاں کا پیدا ہونا ہے قدرتی عمل ہے۔خوشی و غمی کے موقع پر اظہار محسوسات سے آنکھوں کی مدد آنسوؤں کا باہر نکلنا بشری تقاضاہے۔ تمام انسانوں کے تخیلاتی معیارات،زبانیں،اشکال،بناوٹ،ہیئت سوچنے سمجھنے کے پیمانہ مختلف ہیں۔اسی طرح انسان سماجیات بھی الگ الگ ہیں۔ہر قوم و قبیلے کے رسم ورواج،ثقافت،رہن سہن،زبان،لوک ادب کے انداز بھی ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہیں۔

    سرائیکی وسیب چھ ہزار سال قدیم تہذیب وتمدن وادی ھاکڑہ سرسوتی وسندھ کا خوبصورت راوا،دمان،روہی،تھل پر مشتمل موسیقی و نغمہ سے بےپناہ محبت کرنے والا علاقہ ہے۔آثارقدیمہ ریسرچ ورک کے دوران پرانے گمشدہ شہروں کی کھدائی سے موہنجوداڑو،ہڑپہ اور گنویری والا سے دریافت ڈاینسنگ کوئین،خوبصورت عورتوں کے زیورات کا ملنا فنون لطیفہ سے عشق کا قصہ ہے۔آواز کی مٹھاس ہر ذی روح کی روحانی غذا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اللہ پاک پیارے نبی حضرت داؤد علیہ السلام پر زبور کو خوبصورتی سے گاکر حمد وثنا پیش کرنے کا حکم ربی تھا۔ان کا سر سنگیت سے گیت کی شکل میں گانے سے کائنات کی ہر چیز جھومتی تھی۔آج بھی بچے کی تخلیق پر خوشی کے اظہار کے لیے سرائیکی خطے میں دادیاں،نانیاں، ماسیاں، چاچیاں،بویاں،،سوتریں،مساستیں،مولیریں،پھپھڑیں،حق ہمسائے،تمام عزیز اقارب چھٹی کے موقع پر سہرے گیت گاکر اپنی خوشیاں ایک دوسرے کے ساتھ سانجھی کرتے ہیں۔لوک ادب جس کو عام طور پر عام لوگوں کا کہا جاتاہے۔

    اس کی ایک خوبصورت شاخ لوک گیت سہرے ہیں۔سرائیکی لوک گیت سہروں کے خزانوں سے مالامال ہے۔لوک گیت دراصل انسانی جذبات کا بےساختہ اظہار کا نام ہے۔لوک گیت انسانی امنگوں، جذبوں ،امیدوں،نا مکمل خواہشات کا اظہار،شعور و تخیل کا خوبصورت گلدستہ ہیں ۔لوک گیت چرند،پرند بلبل اور کوئل کی حسین آوازوں کا پیار بھرا نغمہ ہیں۔مرد عورت کے آپس میں ملاپ و رشتے کی خوشبو ہے۔آزاد اظہار کا مضبوط حوالہ ہے۔آج کی فلم و ڈرامہ انڈسٹری کو پھر سے عروج یافتہ بنانے کے لیے سرائیکی لوک گیتوں کا سہارا لینا پڑے گا۔

    شاعری کا ایک مصرعہ صدیوں تک گایا جاتا ہے۔لوک سہرا یا گیت ہمیشہ ایک علاقے کی تاریخ،جغرافیہ، ثقافت،تہذیب وتمدن،سوچ وچار،پیغام امن و محبت تصوف کے اس خطے لوگوں کی داخلی و خارجی احساسات کا ترجمان ہوتاہے۔خالص علاقائی صنف نازک ہوتی ہے۔سرائیکی ماہر سماجیات، لسانیات و فریدیات پروفیسر ڈاکٹر جاوید حسان چانڈیو سرائیکی لوک گیت کو اس طرح بیان کرتےہیں” یہ سرائیکی دھرتی کے لوگوں کے عقیدے،دکھ سکھ، محبتیں، محرومیوں اور نا مکمل خواہشات و امیدوں کا نام ہے”۔ لوک گیت کا نمونہ "اللہ جانڑے تے یار نہ جانڑے میڈا ڈھول جوانیاں مانڑے۔میں تاں پانڑی بھریندی ہاں جھک دا، میڈا ڈھول مسافر نت دا، میڈا ڈھول مسافر نت دا”۔سرائیکی لوک گیت میں بچھڑ جانے،موت کی گھاٹی میں جانے والے محبوب کا غم اس طرح گا کر منایا جاتاہے۔
    "گیا رول راول وچ روہی راوے ، نہ یار ملدا نہ موت آوے”

    لوک گیت عموما وہ ہوتے ہیں،جس کے تخلیق کار اجتماعی ہوں۔مگر سرائیکی شعراء کرام نے بھی انفرادی طور سرائیکی لوک گیت سہرے بھی تخلیق کیے ہیں۔جن کو مشہور سرائیکی لوک گلوکار عطاء اللہ خان عیسوی خیلوی،حسینہ ممتاز،ثریا ملتانیکر،مستانہ پروانہ،پٹھانے خان، منصور ملنگی، اللہ ڈتہ لونے والا جیسے نامور سرائیکی فنکار اپنے سر سنگیت فن موسیقی میں لوہا منوا چکے ہیں۔لوک گیت خود سے دل کی حویلی سے دھڑکن بن کر نکلتے ہیں اور پورے سرائیکی وسیب میں خوشبو کی طرح پھیل جاتے ہیں۔سرائیکی مہان کلاسک شاعر رفعت عباس کی مشہور غزل جس کو خوبصورت آواز میں ریڈیو پاکستان ملتان اسٹیشن سے ترنم سوز گائیکی میں نامور سرائیکی لوک گلوکار سئیں منصور ملنگی نے گا کر سرائیکی وسیب کی اجتماعیت کا عالمی دستاویزی ریکارڈ بنایا۔
    "کیویں ساکوں یاد نہ راہسی اوندے گھر دا رستہ ،ڈو تاں سارے جنگل آسن ترائے تاں سارے دریا”
    ” واہ جو پیار کیتوئی، رول ڈتوئی وچ روہی واہ وہ سجن تیڈے وعدے”۔
    سرائیکی مشہور لوک گیت کے خوبصورت بول سنگر حسینہ ممتاز کی آواز میں ہر عام وخاص کو یاد ہیں۔"رانڑی پٹھانڑی، ڈیراور دی نشانی، ویڑن پرنیا آندا اے رانڑی پٹھانڑی”۔سرائیکی وسیب کے لیے سرائیکی لوک گیت سہرے عظیم ثقافت کے امین ہیں۔

    سرائیکی دانشور ریاض انور کے مطابق ” سرائیکی لوک گیتوں نے سرائیکی خطے کے معصوم لوگوں کے دلوں میں جنم لیا۔گہرے جذبوں نےان کے اندر دکھ درد کی چنگاری کو خوب تاپ دی۔آنسو کے دئیے جل رہے ہیں۔ہلکی مسکراہٹ کی سات رنگوں کی روحانی دھڑکن جھول رہی ہے۔یہ سہرے دوشیزائیں نیم،ٹالہی،شرینہ کے خوشبو دار درختوں کے سائے میں بیٹھ کر چرخہ کاٹتے گاتیں ہیں اور نوجوان پیلوں اور کھجور اکٹھی کرتے وقت گاتے ہیں۔
    پیلو پکیاں وے پیکیاں نی وے
    آچنوں رل یار
    پیلو پیکیاں نی وے
    کئی بگڑیاں ،کئی سایاں پیلیاں
    کئی بھوریاں ،کئی پھکڑیاں نیلیاں

    عالمی مفکر ڈونلڈ کینی کا کہنا ہے” لوک گیت کا بیج انسانی دل سے پھوٹتا ہے،لفظوں کے بے انت پتوں کی صورت پھیل جاتا ہے۔انسان آپنی زندگی میں جو کچھ دیکھتا ہے،سنتا ہے، احساس کو اپنے تخیل کے ذریعے ظاہر کرتا ہے” ڈبلیو پی کر آپنی کتاب "فارم اینڈ سٹائل ان پوئٹری” میں لوک گیت کی "دو قسموں میں پہلی وہ قسم جس میں سوسائٹی وس وسیب کی اجتماعی یادداشت،محرومیوں کا خوبصورت احساس،شناخت کا مطالبہ،رسمیں،ریتیں اور رواج کا خوبصورت اظہار ہو،جبکہ دوسری قسم میں مخصوص فرد یا تخلیق کار کی نویکلی تخلیق کارفرما ہو۔”۔

    بشر کی طرح ہرجاندار مخلوق اپنی خوشی،غم،محبت اور نفرت کےجذبات و احساسات کا اظہار مختلف انداز یعنی آوازوں اور حرکتوں سے کرتی ہے۔انسانی ہسٹری کے حوالے سے دیکھا جائے تو جب انسان بولنا نہیں جانتا تھا تو اپنے جذبوں کا اظہار لفظوں کی بجائے حرکت و سکنات سے کرتا تھا۔یہی سےلوک رقص جھمر کی تخلیق ہوئی۔وقت گزرنے کے ساتھ انسان نے اپنے محسوسات اور جذبوں کو لفظوں کا روپ دیا۔آخرکار یہ لفظ گیت بن گئے۔ان گیتوں کی وجہ کسی شاعر کی شعوری کوشش نہ تھی اور نہ ہی ان پر کسی شاعر کی چھاپ لگی ہوئی ہے۔

    سرائیکی شاعر ڈاکٹر خالد اقبال سرائیکی لوک گیت سہرے بارے اپنے بیان میں کہا "جب تک سرائیکی قوم کی مائیں بچوں کو جنم دیتیں رہیں گیں۔سرائیکی لوک سہرے دنیا میں تخلیق ہوتے رہیں گے”۔ان گیتوں میں شاعری کی فنی باریکیوں کی بجائے جذبوں کا اظہار نمایاں ہوتا ہے۔ہمیں کبھی کبھار تو لوک گیتوں کے بارے میں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ کون کون سے بول ان میں کب شامل ہوئے۔ہم صرف ان گیتوں کے ذریعے اپنے من میں اٹھتے ہوئے جذبات،امنگوں اور خواہشات کا اظہار کرتے اور لطف اٹھاتے ہیں۔

    سابق چیئرمین شعبہ سرائیکی و ڈین فکلٹی آف آرٹس اینڈ لینگؤیجز اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور (پاکستان) پروفیسر ڈاکٹر جاوید حسان چانڈیو سرائیکی لوک گیتوں کی چار اقسام لکھیں ہیں۔ پہلی صنف لولی ہے۔جس میں نئے جنم لینے والے بچہ کو ماں اپنی ممتا کے رس بھرے گیت سہرے سے استقبال کرتی ہے۔مثال کے طور پر ”
    "لولی ڈیندی تھیندی ماء واری
    اکھیں تے رکھدی تیڈی جند پیاری
    لولی ڈیندی ونجاں میں گھولی
    لولی ڈیندی۔۔۔۔۔۔۔۔

    دوسری قسم میں پورے سرائیکی وسیب کےخوبصورت اجتماعی لوک گیت، اجتماعی یادداشت،رسمیں،رواج، روایات شامل ہیں۔شادی کے موقع پر "سوئی وری” کی رسم۔جب سرائیکی عورتیں جہیز کا سامان دیکھاتیں ہیں اور گیت گاتیں ہیں۔
    "پوپا میں پیساں تے پا ٹھمکیساں
    ونج کے ڈیکھیساں یار سجن کوں
    چوڑا میں پیساں تے پا ٹھمکیساں
    ونج کے ڈکھیساں یار سجن کوں۔”

    تیسری قسم میں جب کوئی گمنام شخص کسی تجربے سے متاثر ہوکر اپنے جذبوں کا اظہار نمایاں کرے۔پھر یہ احساسات انفرادیت سے اجتماعی کا روپ دھار لیں۔سرائیکی لوک اصناف میں گانمن،سمی، ڈھولا،بگڑو،سندھی وچ ہوجمالو ہیں۔عورت کے نام سے وابستہ صنف ہے۔عشق کا اظہار ہے۔ہیئت میں اس کو ماہیا بھی کہا جاتا ہے۔
    "کوٹھے تے راہ کائنی
    ملاں قاضی مسئلہ کیتا
    یاری لاون گناہ کائنی”

    "کالے بدل پہاڑاں دے
    ڈانگاں دے پھٹ مل ویندے
    بول نہ وسرن یاراں دے”

    چوتھی قسم سرائیکی لوک گیت سہرے کی جس میں مذہبی و روحانی جذبات و عقائد کی ترجمانی ہو۔ٹہر یعنی منقبت۔ مدح،مناجات، معجزہ،مولود، نعت شریف وغیرہ سرائیکی وسوں کے لوگوں کے لیے روحانی آسودگی کا حصول ہیں۔
    جاری ہے۔۔

  • برطانیہ کے معروف کینٹربری کیتھیڈرل میں پاکستانی مصنف حسن صدیقی کی کہانی کی نمائش

    برطانیہ کے معروف کینٹربری کیتھیڈرل میں پاکستانی مصنف حسن صدیقی کی کہانی کی نمائش

    لاہور، پاکستان کے تخلیقی مصنف حسن صدیقی نے ایک اہم سنگ میل عبور کیا ہے۔ حسن صدیقی کی کرسمس تھیم پر مبنی مختصر کہانی "A Christmas Homeless” کو انگلینڈ کے معروف کینٹربری کیتھیڈرل میں نمائش کے لیے پیش کیا گیا ہے۔

    کینٹربری کیتھیڈرل نہ صرف انگلینڈ کی ایک مشہور تاریخی اور ثقافتی علامت ہے بلکہ یہ یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کے لئے بھی مشہور ہے، جس کی تاریخ اور اہمیت عالمی سطح پر جانی پہچانی جاتی ہے۔حسن صدیقی کی یہ کہانی، جو انسانیت، ہمدردی اور برادری کے جذبات پر مبنی ہے، کرسمس کے موقع پر کیتھیڈرل کے مختلف حصوں میں حسن صدیقی کی کہانی کی نمائش کی گئی۔ اس کامیابی کا یہ لمحہ پاکستان کے لیے فخر کا باعث ہے، کیونکہ اس سے جنوبی ایشیائی مصنفین کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی پذیرائی کا پتا چلتا ہے۔

    Pakistani Writer Hassan Siddiqui's Story Displayed at England's renowned Canterbury Cathedral
    حسن صدیقی "Twenty Bright Paths” کے مصنف ہیں، جو امید اور استقامت پر مبنی افسانوں کا مجموعہ ہے۔ ان کی مختلف تحریریں کئی عالمی ادبی جرائد جیسے Spillwords Press اور Illumination میں شائع ہوچکی ہیں۔ حسن صدیقی کو ناسا کی طرف سے ایک تعریفی سرٹیفکیٹ بھی مل چکا ہے، اور انہوں نے ورلڈ اسکالرز کپ میں سونے کا تمغہ جیتا۔ علاوہ ازیں حسن صدیقی ایک میگزین "The Female Times” کے بانی ہیں، جو خواتین کے مسائل کو اجاگر کرنے والا ایک پلیٹ فارم ہے۔

    اس کامیاب نمائش پر حسن صدیقی نے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "یہ ایک اعزاز کی بات ہے کہ میری کہانی کو کینٹربری کیتھیڈرل جیسے تاریخی مقام پر دکھایا گیا۔ یہ پاکستان کے تخلیقی ادب کی عالمی سطح پر پذیرائی کی ایک اور مثال ہے۔”
    Pakistani Writer Hassan Siddiqui's Story Displayed at England's renowned Canterbury Cathedral

    کینٹربری کیتھیڈرل میں حسن صدیقی کی کہانی کی نمائش پاکستان کے لیے ایک اعزاز ہے، جو کہ پاکستانی ادب کی عالمی سطح پر پہچان کو مزید مستحکم کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔ یہ کامیابی نہ صرف حسن صدیقی کے لیے ذاتی فخر کا لمحہ ہے بلکہ پورے پاکستان کے لیے بھی ایک باعثِ فخر موقع ہے کیونکہ یہ عالمی سطح پر پاکستانی ادب اور تخلیقی صلاحیتوں کی قدر دانی کی مثال ہے اور اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ جنوبی ایشیاء کی آوازوں کو عالمی ادبی محافل میں تسلیم کیا جا رہا ہے۔

    ڈیٹنگ سائٹس،سوشل میڈیا،اپنے پیسے”دل” کو کیسے دھوکہ بازوں سے بچائیں؟

    پالیسیوں کا تسلسل برقرار رہا تو پاکستان ایشیا کا لیڈر بنے گا ۔احسن اقبال

    وادی تیرا، خوارج کےجنسی تشدد کے باعث ساتھی دہشت گرد کی خودکشی

    حسن صدیقی کی کامیابی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہم سب کو خواب دیکھنے کا حق ہے، محنت کرنی چاہیے اور اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھنا چاہیے۔ یہ لمحہ نہ صرف حسن صدیقی کے لیے بلکہ پورے پاکستان کے لیے فخر کا باعث ہے ،حسن صدیقی کی کہانی "A Christmas Homeless” کی کینٹربری کیتھیڈرل میں نمائش پاکستان کے لیے ایک شاندار کامیابی ا ورپاکستانی ادب کی عالمی سطح پر پذیرائی کا مظہر ہے یہ پاکستانی نوجوانوں کے لیے ایک حوصلہ افزائی کا پیغام بھی ہے کہ محنت، لگن اور خوابوں کی تکمیل کے ذریعے عالمی سطح پر کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔

    حسن صدیقی سے ای میل کے ذریعے رابطہ کیا جا سکتا ہے.
    imhassansiddiqui12@gmail.com

    Pakistani Writer Hassan Siddiqui's Story Displayed at England's renowned Canterbury Cathedral