Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • پی ایچ ڈی مقالے بعنوان”سرائیکی لوک قصیں اتے چولستانی قصیں دے اثرات "کا مطالعاتی جائزہ

    پی ایچ ڈی مقالے بعنوان”سرائیکی لوک قصیں اتے چولستانی قصیں دے اثرات "کا مطالعاتی جائزہ

    پی ایچ ڈی مقالے بعنوان”سرائیکی لوک قصیں اتے چولستانی قصیں دے اثرات "کا مطالعاتی جائزہ
    تحقیق و تحریر:ارشاد احمد خان ڈاھر
    دوسری وآخری قسط۔
    پروفیسر ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی نے شاید اس وجہ سے اپنے پی ایچ ڈی(PhD) مقالے بعنوان”سرائیکی لوک قصیں اتے چولستانی قصیں دے اثرات ” منتخب کیا۔ چولستانی قصولیوں کے قصوں نے پورے سرائیکی وسیب کے دوسرے خطوں دمان و تھل کے قصولیوں کے قصوں پر اپنے اثرات مرتب کیے ہیں۔لوک قصہ دراصل انسانی عروج و زوال کی تاریخی دستاویز ہے۔حق سچ، شر و خیر میں فیصلہ کرنے کا عملی مظہر ہے۔نصیحت و وصیت کا عملی نمونہ ہے۔قصہ گوئی کا خوبصورت فن اس دن سے شروع ہے، جب سے قوت گوئی کا آغاز ہوا۔لوک قصہ میں امن و رواداری کا پیغام ہے۔لوک دانش و تربیت کا بہترین نصاب ہے۔آرٹ کا شاندار اظہار ہے۔سرائیکی لوک قصہ سرائیکی وسیب کے قصولیوں کی حکمت و ست کا نچوڑ ہے۔مقالے کے نتارا سمیت سات ابواب ہیں۔

    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

    پی ایچ ڈی مقالے بعنوان "سرائیکی لوک قصے اتے چولستانی قصے دے اثرات” کا مطالعاتی جائزہ
    پہلا باب "سرائیکی لوک قصے دی لوڑ تے ایندے سماجی اثرات "جس میں سرائیکی قصے کا آغاز، قصوں کی اقسام، قصے و کہانی کے بارے ماہرین کی رائے کے ساتھ قصے کے سماجی اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔لوک قصے میں انسانی شعور، ماضی، حال اور مستقبل کی روشن ضمانت ہے۔مقالے کا دوسرا باب "روہی چولستان دی تاریخ” ہے۔جس میں قدیم چولستانی مورخین کی آراء میں صحراء چولستان کے سیاق وسباق کو پڑکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔تیسرے باب ” چولستانی لوک کہانیاں دے ہر قصے دا فکری ویورا ” ہے۔احمد غزالی/ نسیم اختر کے ہر قصے کا فکری تجزیہ کیا گیا ہے۔چوتھے باب ” قلعہ ڈیراور وچ وسدے لوکاں دے قصے ” شعبہ سرائیکی اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور،محقق محمد الطاف خان ڈاھر (تھیسز سپروائزر پروفیسر ڈاکٹر ریاض حسین خان سنڈھر)کے ایم فل تھیسز میں موجود ہر قصے کا بھی فکری تجزیہ شامل ہے۔

    پانچویں باب”لوک قصے تحصیل لیاقت پور دی حدود وچ موجود زبانی قصیں دی گول” کلید عمر محقق ایم فل تھیسز (نگران مقالہ پروفیسر ڈاکٹر محمد ممتاز خان بلوچ چیئرمین شعبہ سرائیکی) شعبہ سرائیکی اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے ہر قصولی کے قصے کا تجزیاتی فکری مطالعہ شامل ہے۔پی ایچ ڈی مقالے کا اہم باب چھٹا ہے۔جس کا عنوان ” سرائیکی لوک قصیں اتے چولستانی قصیں دے اثرات ” ہے۔ چولستانی قصولیوں کے قصوں کے اثرات کو دوسرے سرائیکی وسیب میدانی، تھل و دمان کے قصولیوں کے قصوں پر اثرات کو ان پہلوؤں سے تجزیاتی و تقابلی تحقیق سے ثابت کیا گیا۔قصے کےعنوانات کے حوالے سے، قصے کے آغاز سے،مذہب پرستی،روحانیت اور عقیدت پرستی کے حوالے سے، ہیرو،شاہی کرداروں، مافوق الفطرت عناصر کے حوالے سے،گھریلو اور مقامی وسیبی کرداروں کے حوالے سے، فانا اور فلورا، آکھانیں/ضرب المثل،دعائیں،ثقافت، محاوریں اور ٹھیٹھ زبان کے استعمال کے حوالے سے شخصیات، شئیں،جگہوں کے حوالے سے،متن و فکری سانجھ کے حوالے سے سرائیکی چولستانی قصوں کے اثرات کا سرائیکی وسیب کے دوسرے خطوں کے قصولیوں کے قصوں پر لیا گیا ہے۔

    آج بھی جدید عہد میں چولستان جیپ ریلی،چولستان یونیورسٹی کے اثرات تھل جیپ ریلی و تھل یونیورسٹی پر واضح ہیں۔روہی چینل،روہی آٹوز، روہی ٹرانسپورٹ سروس اب سرائیکی وسیب سمیت پورے پاکستان میں نظر آرہی ہے۔چولستانی فنکار ہر جگہ اپنے اثرات مرتب کررہےہیں۔ویندے وگدے، ویندے وگدے،واہ واہ ہے اللہ بادشاہ ہے کاغذاں دی بیڑی ہے مکوڑا ملاح ہے۔خلقت پئی چڑھدی ہے ساڈی صلاح ہے۔ہک ہا بادشاہ،وہ تاں صرف زمینی ٹوٹے دا بادشاہ ہا، اصل بادشاہ تاں صرف آپ اللہ اے۔۔متنی ٹوٹے جو ہمیں چولستانی لوک قصوں میں بار بار ملتے ہیں۔یہی ایک جیسا ٹیکسٹ ہمیں دوسرے سرائیکی قصوں پر بطور اثرات نظر آتے ہیں۔لوک قصے کی جدید ٹیکنالوجی ہمیں فلم،تھیٹر، ڈرامے،فنکشنز میلوں اور مشاعروں میں نظر آرہی ہے۔

    مقالہ نگار ڈاکٹر محمد الطاف خان ڈاھر نے آخر میں اپنے تھیسز کی ریکمنڈیشنز/کمنٹس/سفارشات جو مرتب کیں ہیں،آنے والے نئے ریسرچرز کے لیے بہترین معاون ثابت ہوگیں۔میرے نزدیک یہی مقالے کا محاکمہ/نتائج یعنی حاصل مقاصد بھی ہیں۔سفارشات Comments/Recommendations قصہ بنیادی طور پر انسانیت کی اصلاح و تربیت کے لیے ایک مضبوط اور سایہ دار درخت کی طرح نسلاں کے لیے پھل بھی ہے چھاؤں بھی ہے،جس طرح تپتے صحراء میں جال کا گھاٹا درخت پیلھوں پھل اور گھاٹی چھاؤں دونوں کا باعث نعمت خداوندی ہے،جس کی چھپر چھاؤں کے نیچے ضعیف نحیف بڈھڑے قصولی اپنا ما فی الضمیر قصے کی شکل میں بیان کرتے ہیں ۔ان کی اور ان کے پاس قصوں کے خزانے کی بقاء، حکمت ودانش کی حفاظت بہت ضروری ہے۔

    چولستانی قصےگو اس سے پہلے جو اپنے قیمتی ادبی خزانے کے ساتھ دنیا سے پردہ کرجائیں،فوری جدید ٹیکنالوجی کی بدولت ان کی اپنی آواز وچ قصوں کو ریکارڈ کرکے محفوظ کرلیا جائے ۔چولستانی قصولیوں کی طرح تھل،دمان سمیت پورے سرائیکی وسیب کے قصولیاں کو مراعات یافتہ بنایا جائے۔ان کی معاشی ترقی و خوشحالی کے لئے فوری انفراسٹرکچر و مالی امداد کااعلان کیا جائے تاکہ یہ لوگ اقتصادی آسودگی کے ساتھ سرائیکی قصوں کو ہم تک پہنچا سکیں۔ہر چولستانی قصولی دراصل ہک آرٹسٹ ہے، اس لیے ان کے سماجی مقام و مرتبہ کے لیے قصولیوں کے درمیان مقابلے کرائے جائیں ۔ایوارڈز،میڈلز وظائف مقرر کیے جائیں۔چولستانی قصےگو اور ان کی نئی نسل کے لئے اعلی تعلیم وتربیت اور صحت کے ماڈل ادارے تعمیر کیے جائیں ۔پاکستان کے تمام تعلیمی اداروں اور سرکاری نوکریوں میں چولستانی قصولیاں کے بچوں کوٹہ مقرر کیا جائے۔مال مویشی و جڑی بوٹیاں کی حفاظت کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں ۔

    روہی چولستان کا خطہ وادی ہاکڑہ چھ ہزار سال قدیم تہذیب وتمدن کا آمین ہے۔قلعہ ڈیراور،پتن منارہ،گنویری والا کے آس پاس قصولیوں کی فلاح وبہبود کے لیے کلچرل اینڈ آرکیالوجی سوسائٹی ریسرچ سنٹرز تعمیر ہونے چاہئیں،تاکہ مقامی لوک ادب،وذڈم، حکمت و دانش کو فروغ دیا جاسکے۔ ریڈیو، ٹیلی ویژن، چینلز ، آگاہی سمینار میں آن ائیر قصولیوں کے قصے چلائے جائیں۔ہفتہ وار پروگرام کا باقاعدہ آغاز کیا جائے ۔ تاکہ نئی نسل کو اپنےادبی ورثے کے ساتھ شناخت ہوسکے۔چولستان جیپ ریلی و تھل جیپ ریلی کے موقع پر چولستانی و تھلوچڑ قصہ گو کے فن کی حوصلہ افزائی کے لئے سرکاری سطح پر انتظامات کئے جائیں۔ان افراد کی حوصلہ افزائی کیلئے انفرادی وظائف مقرر ہونے چاہئیں تاکہ چولستانی قصہ گو اور مقامی دستکاری کی صنعت کی بہتری کیلئے مالی امداد ہوسکے۔

    قومی و صوبائی سطح کی نصاب سازی میں چولستانی قصولیوں کے قصوں کو شامل کیا جائے۔سرائیکی چولستانی قصولیوں سمیت تھل،دمان پورے وسیب کے قصولیوں کے حقوق کے تحفظ کی آگاہی کے لیے نیشنل و انٹرنیشنل سطح سہ ماہی و سالانہ سمینار،اجلاس،مشاعرے وغیرہ کا انعقاد ہونا چاہیے۔روہی چولستان کے ادیب،دانشور،شاعر قصولیوں کے قصوں کے اثرات کی بدولت چولستان یونیورسٹی و چولستان جیپ ریلی سے تھل جیپ ریلی،تھل یونیورسٹی کا قیام عمل میں آیا ہے،ہر یونیورسٹی میں چولستانیات شعبے کھولیں جائیں۔ روہی چینل، روہی آٹوز، روہی بس سروس پورے سرائیکی خطہ سمیت پورے پاکستان میں نظر آنا خوش آئند ہے۔فنون لطیفہ کے شعبوں میں روہی چولستان آرٹ بھی شامل کیا جائے۔

    چولستانی سرائیکی قصولیوں کے قصوں نے جو اثرات سرائیکی لوک قصہ گو کے قصوں پر مرتب کیے ہیں، وہ پہلو یہ ہیں۔عنوانات کے اعتبار سے،قصے کے آغاز کے حوالے سے، مذہب پرستی،روحانیت اور عقیدت پرستی کے اعتبار سے،ہیرو، شاہی کرداروں اور مافوق الفطرت عناصر کے حوالے سے، گھریلو اور مقامی وسیبی کرداروں کے حوالے سے ، فانا، فلورا کے حوالے سے،آکھانیں،دعائیں،ثقافت،محاوریں اور ٹھیٹھ زبان کے استعمال کے حوالے سےشخصیات،جگہوں،شئیں کے اعتبار سے،متن اور فکری سانجھ کے حوالے سے اثرات پر آنے والے نئے ریسرچرز ایک ایک پہلو پر ایم فل، پی ایچ ڈی مقالے لکھیں گے۔

    چولستانی قصہ گو میدا رام،سمارا ، مجید مچلا، مہر غلام رسول،احمد غزالی کے قصوں کے اثرات طاہر غنی (تھل)، ملک عبداللہ عرفان (میدانی)، ملک آصف سیال (دمان) کے قصوں پر واضح ہیں۔سرائیکی مہان صوفی شاعر حضرت خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ کا اٹھارہ سال روہی چولستان میں گزارنا،انہاں کے آفاقی کلام میں روہی،چولستان کا قصہ موجود ہے۔کلام میں موجود چولستانی بودوباش کو عام کرنے کے لیے عالمی سطح پر ریسرچ انسٹیٹیوٹ بنائیں جائیں۔
    ختم شد

  • پی ایچ ڈی مقالے بعنوان "سرائیکی لوک قصے اتے چولستانی قصے دے اثرات” کا مطالعاتی جائزہ

    پی ایچ ڈی مقالے بعنوان "سرائیکی لوک قصے اتے چولستانی قصے دے اثرات” کا مطالعاتی جائزہ

    پی ایچ ڈی مقالے بعنوان "سرائیکی لوک قصے اتے چولستانی قصے دے اثرات” کا مطالعاتی جائزہ
    تحقیق و تحریر:ارشاد احمد خان ڈاھر
    پہلی قسط
    سرائیکی وسیب سمیت پورے پاکستان میں میٹھی زبان کا اعزاز سرائیکی زبان کو حاصل ہے۔ جس طرح آم کو پھلوں کا بادشاہ اس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ وہ مٹھاس میں اپنی مثال آپ ہے، اسی طرح سرائیکی زبان میں محبت و احترام جیسی خوبصورت روحانی مٹھاس آم، کھجور، شہد، گڑ کی رس بھری ہوئی ہے۔ سات دریاؤں کی سرزمین سرسبز خطہ، روحانیت، معدنیات اور زراعت کی دولت سے مالا مال ہے۔

    ماں اور مادری زبان سے بےپناہ محبت اور عقیدت فطری تقاضا ہے۔ ریسرچ میتھڈالوجی سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ ماں بولی میں تعلیم و تربیت، علم و ادب کے فروغ سے شرح خواندگی میں اضافہ ممکن ہے۔ ماں کی گود ہی انسانی شعور کی بیداری کی پہلی یونیورسٹی ہوتی ہے۔ تحقیق و تنقید کی بدولت ہمیشہ قومی تعلیمی ادارے اپنا نام روشن کرتے ہیں۔

    اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور پاکستان کی تعمیر و طرز اور تعلیمی ماحول کو قاہرہ، مصر کی یونیورسٹی الازہر کے طرز پر ارتقائی اعتبار سے بنایا گیا تھا۔ تعلیم و تربیت ہی قوموں کی ترقی و خوشحالی کا راز ہے۔ مادری زبانوں میں علم کا حصول درحقیقت انسانی آرٹ اینڈ کلچر، تہذیب و تمدن، تاریخ، تصوف، رسوم و رواج کو فروغ دینا ہوتا ہے۔ دنیا کی ہر زبان اپنی کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔

    قدیم وادی ہاکڑہ تہذیب و تمدن، روہی چولستان کے ساتھ وادی سندھ میں سرائیکی زبان صدیوں سے اپنا ادبی، سماجی، ثقافتی، شعوری، تاریخی، تنقیدی و تحقیقی سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔ مادری زبان ہی دراصل انسانی عروج کا تاج ہے۔ ہر آدمی اپنا ما فی الضمیر آسان اور مؤثر ترین انداز میں صرف ماں بولی میں بیان کرسکتا ہے۔

    قصہ ہر زبان کے شاعری و نثری ادب کا نوبل قیمتی اثاثہ ہے۔ مادری زبان میں ابلاغ ایک فطری اور آسان ترین عمل ہے۔ رب العزت خود قصہ گو ہیں۔ قرآن مجید کی ایک سورہ "القصص” درحقیقت ادب کی صنف قصہ کو عروج بام بخشنے کا مقصود ہے۔ اس میں بے شمار و بے پناہ موضوعات کا خزانہ موجود ہے۔ قصہ لوگوں کے لیے وصیت، رشد و ہدایت کے ساتھ خوبصورت تفریح کا باعث بھی ہے۔

    سرائیکی لوک قصے نے اپنے وسیب کو علم، دانش و تربیت کا بہترین نصاب مہیا کیا ہے۔ اگر دنیا سے کتابیں ختم ہوجائیں تو قصے زبانی طور پر زندہ رہیں گے۔ وہ نسل در نسل، سینہ بہ سینہ، پیڑھی در پیڑھی اپنی تخلیق ادب کو دنیا تک پہنچاتے رہیں گے اور پھر کتابیں اور لائبریریاں وجود میں آئیں گی۔ لکھی ہوئی تحریر ہمیشہ اپنا لوہا منواتی ہے۔

    شاید دنیا کے پہلے ادیب نے کونی فارم رسم الخط میں کوئی قصہ ہی لکھا ہوگا، جو دنیا کی 6500 سال پرانی میسوپوٹامیا، سومیری تہذیب و تمدن کی نشاندہی کرتا ہے۔ مصری اہرام اور سوڈانی اہرام دریائے نیل پر قدیم تاریخی آباد شہروں کی گواہی ہیں۔ اردن کے پرانے کھنڈرات اور محلات کا ثبوت ہزاروں سالوں کی انسانی منظم معاشرے کا قدیم حوالہ ہے۔

    آثار قدیمہ کی تحقیق سے معلوم ہورہا ہے کہ وادی سندھ تہذیب و تمدن کی ماں 6000 سال پرانی وادی ہاکڑہ تہذیب و تمدن، موجودہ روہی چولستان ہے۔ دریائے ہاکڑہ، جسے دریائے گھاگھرا، گھگھر، گھارا، یا دریائے سرسوتی بھی کہا جاتا ہے، کا ذکر دنیا کے قدیم ترین ویدک ادب میں موجود ہے۔

    تقریباً ساڑھے چھ سو سال پرانی قصہ گوئی کی تاریخ کے مطابق، جب دریائے ہاکڑہ نے اوچ شریف میں سیلاب کی صورت میں ورلڈ ہیریٹیج مقبرے بی بی جند وڈی، حلیم و نوریا کے آدھے حصے کو نقصان پہنچایا، تو حکم ربی اور کرامت ولی کامل حضرت شیر شاہ سید جلال الدین حیدر سرخ پوش بخاریؒ سے دریائے ہاکڑہ واپس چلا گیا اور شہر مزید تباہی سے محفوظ رہا۔

    "سرائیکی لوک قصے اتے چولستانی قصے دے اثرات” کے مقالہ نگار ڈاکٹر محمد الطاف خان ڈاھر ہیں، جبکہ نگران مقالہ پروفیسر ڈاکٹر جاوید حسان چانڈیو، سابق چیئرمین شعبہ سرائیکی و ڈین فیکلٹی آف آرٹس اینڈ لینگویجز، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور (پاکستان) ہیں۔ شعبہ سرائیکی نے 25 ستمبر 2024ء بروز بدھ اوپن ڈیفنس میں کامیابی پر پی ایچ ڈی ڈگری کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔

    بیرونی ممتحن پروفیسر ڈاکٹر مقبول حسن گیلانی، سابق پرنسپل گورنمنٹ صادق ایجرٹن گریجویٹ کالج بہاولپور اور یونیورسٹی آف ایجوکیشن، ملتان کیمپس تھے۔ ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر نے ایم اے سرائیکی میں تھیسز بعنوان "احمدپور شرقیہ دی سرائیکی ادبی گوجھی” پروفیسر ڈاکٹر جاوید حسان چانڈیو کی زیر نگرانی 2007ء تا 2009ء مکمل کیا تھا۔

    محقق ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی نے اپنے پی ایچ ڈی مقالے کا انتساب اپنے روحانی مرشد کامل حضرت سید شیر شاہ جلال الدین حیدر سرخ پوش بخاریؒ کے نام کیا ہے۔ والدین سمیت دنیا کے تمام قصہ گوؤں کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔

    قصہ عربی زبان کا لفظ ہے، جس کا مطلب واقعہ، حادثہ، کہانی، کتھا، یا داستان ہے۔ سرائیکی وسیب کا خوبصورت جغرافیہ قدرتی حسن سے مزین ہے۔ دھرتی کے باکمال حصوں میں میدانی، پہاڑی، تھلوچڑ اور روہی چولستان واضح ہیں۔ سرائیکی علاقہ اپنے منفرد تہذیب و تمدن، ثقافتی و ادبی ورثے کا مالک ہے۔ یہاں کے قدرتی وسائل میں معدنیات، دستکاریاں اور مال مویشی ملکی معاشی استحکام اور خوشحالی میں بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں۔

    اس سال سرائیکی زبان و ادب کو انٹرنیشنل لینگویجز میں شامل کیا گیا ہے۔ موجودہ عہد کے آثار قدیمہ کے ماہرین کی تحقیق میں ملنے والے صحرائے چولستان کے مختلف مقامات سے شواہد کے مطابق، وادی ہاکڑہ تہذیب و تمدن (روہی چولستان، گنویری والا، پتن منارہ، قلعہ ڈیراور وغیرہ) کو وادی سندھ تہذیب و تمدن (ہڑپہ و موہنجوداڑو) کی ماں مانا گیا ہے۔

    ہمیشہ ماں اپنی اولاد پر اپنی تہذیب و تمدن اور تربیتی اثرات مرتب کرتی ہے۔ سرائیکی زبان میں قصہ گوئی ایک قدیم فن ہے۔ شاعری اور نثری ادب میں سرائیکی قصہ اپنی پوری روشن دلیل کے ساتھ نمایاں ہے۔
    جاری ہے۔۔۔

  • کیا مادری زبان انسانی معاشرے میں یکجہتی،ادب اور ثقافتی شعورکا نام ہے؟

    کیا مادری زبان انسانی معاشرے میں یکجہتی،ادب اور ثقافتی شعورکا نام ہے؟

    کیا مادری زبان انسانی معاشرے میں یکجہتی،ادب اور ثقافتی شعورکا نام ہے؟
    تحریر :ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھرجلالوی
    ہر سال اقوام متحدہ کی طرف سے 21 فروری کو مادری زبانوں کی اہمیت و افادیت کے حوالے سے دنیا میں دن منایا جاتا ہے۔مادری زبان کیا ہے؟ اس کی سماج میں کیا حیثیت ہے؟ اس کا انسانیت کی بقاء و خوشحالی میں کوئی کلیدی کردار ہے؟چند سوالات کی تحقیقات کے بعد ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر کائنات کی تخلیق میں مرکزی اہمیت موضوع انسان ہے تو پھر لسان کی بدولت انسان عظیم سے عظیم تر، فن سے فنون لطیفہ تک ہر شے کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ہر چیز کی سجاوٹ زبان کی بدولت ممکن ہوئی ہے۔نامعلوم سے معلوم تک ، زمین سے آسمان تک کا ناقابل تسخیر سفر زبان کا مرہون منت ہے۔جس کو لینگویج بھی کہا جاتا ہے۔

    علم وادب کے سارے خزانوں کی چابی مادری زبان ہے،جس کو عرف عام میں ماں بولی سے بھی جانا جاتا ہے۔زبان سے ادب اور ادب سے معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔دنیا کے پہلے انسان نے ماں بولی میں اپنے اندرونی و بیرونی احساسات و جذبات کو پرکھا ہوگا۔دنیا کے تمام مذاہب کی روحانی اخلاقی اقدار کی کتابوں میں مادری زبانوں کے نمونے نمایاں ہیں۔قرآن مجید مختلف زبانوں اور قبائل کے گروہ سے انسانوں کی شناخت کرتاہے۔آدمی اپنی مشکل کو حل کرنے کے لیے ہمیشہ مادری زبان کا سہارا لیتا ہے۔جو لوگ مادری زبانوں سے محبت نہیں کرتے دراصل وہ لوگ اپنے انسان نہ ہونے کی دلیل پیش کرتے ہیں۔احترام آدمیت ہی اصل میں محبت واتحاد انسانیت ہے۔درخت اگر جسم ہے تو پھل یعنی رس اس کی روشن روح ہے۔

    ہر عہد میں ہر نبی نے لوگوں کو ان کی ماں بولی میں فلسفہ حقانیت و واحدنیت کی تلقین کرتے رہے۔دنیاکی خوبصورتی و خوشحالی عورت سے مزین ہے۔عورت جس کا حسین ترین چہرہ ماں کی شکل میں ہے۔آج بھی بچہ اپنی ممتا کی گود میں سکون واطمینان اور مکمل اعتماد و آزادی محسوس کرتا ہے۔خود اللہ کریم نے انسان سے محبت کے پیمانے کو ماں سے ستر گناہ زیادہ محبت سے تشبیہ دی ہے۔اگر ماں سے بچے کی تہذیب وتمدن اور معاشرہ میں اخلاقیات کی ضرورت پوری ہوتی ہے تو دراصل ماں سے محبت اور روحانی فیض مادری زبان کے بحر بیکراں سے ممکن ہے۔ماں باپ کا احترام اصل میں ماں بولی کے احترام کا عملی آغاز ہے۔ماں کا دودھ اور اس کی شہد جیسی مٹھاس بھری تربیت ہر ایک کو دنیا کا کامیاب تجربہ کار انسان بناتی ہے۔انسان کے بہترین فہم وشعور کی پہلی درسگاہ ماں کی لوری اور ماں بولی ہی ہے۔یہ وہ شیشہ ہے جس میں انسان کی علمی،ادبی،روحانی،سماجی،تاریخی اور ثقافتی ورثے کی ہر ممکن چیز نظر آتی ہے۔بچہ دل و دماغ میں سب سے پہلے ماں کی خوبصورت فکری خوشبو بھری آواز سے اپنے آپ کو معطر کرتاہے۔

    دنیا کی کسی بھی لسان یا زبان سے نفرت کا مطلب انسان کے وجود اور احترام انسانیت کے فلسفے کو جلانے کے مترادف ہے۔انسان کے اپنے ضمیر کی ہر بات کو یقینی آسان ترین طریقے سے صرف مادری زبان میں ہی ابلاغ کرسکتا ہے۔مادری زبان آپس میں اتحاد،یکجہتی اور احساس محبت کو فروغ دیتی ہے۔حسد اور نفرت کوختم کرتی ہے۔ایک دوسرے کے ساتھ خوشحالی اور تعمیر نو کا سبب بنتی ہے۔پاکستان ایک کثیر خوبصورت زبانوں اور ثقافتوں کا محبتوں بھرا اعجاز و گلدستہ ہے۔پاکستان کی تمام مقامی زبانیں قومیت و اتحاد کا مضبوط ترین چہرہ ہیں۔ہر زبان کا فروغ علم و دانش کے اثاثے میں اضافے کا باعث ہے۔ہر ماں مقدم و محترم ہے۔اسی طرح ہر ماں بولی بھی مکمل عزت و توقیر کی علامت ہے۔
    انسانیت کے ورثے کی کنجی مادری زبان ہے۔

    پاکستان میں اردو، سندھی،پنجابی،سرائیکی،پشتو،بلوچی ،براہوی،ماڑواری،ہندکو،پوٹھوہاری، بلتی ،پہاڑی وغیرہ میری مادری زبانیں میری آنکھوں کی ٹھنڈک اور روحانی فیضان کا حصول ہیں۔مادری زبان ہی آسان ترین عملی مثالی علم و تربیت کے ساتھ اصلی آگاہی کا زینہ ہے۔ہر زبان کا شاعر ، ادیب اور فنکار اپنی مادری زبان کا اعلی ترین مہذب نمونہ ہے۔جس طرح باغ میں ہر پھول کی اپنی ہیئت اور خوشبو مسلمہ ہے۔ اس طرح ہر ماں بولی کا اپنا مکمل وجود فوک وزڈم ہے۔

    ماہرین لسانیات و سماجیات کے ساتھ میڈیکل سائنس بھی اب مادری زبان کی شناخت،حقیقت اور عرفان وبرکات کو مان چکی ہے۔جس ملک و قوم نے اپنی مادری زبانوں کی عزت و عظمت کو سمجھا اور جانا اس نے دنیا میں راج کیا بھی ہے اور کر رہیں ہیں۔اگر تمام سائنسی علوم کو مادری زبانوں میں منتقل کر دیا جائے تو اعلی ترین ہنرمند افراد پیدا ہوں گے۔جو ناصرف اپنے ملک و قوم کو ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ترقی و خوشحالی کا قیمتی سرمایہ ثابت ہو ں گے۔

    تمام صوفیاء کرام نے ہمیشہ لوگوں کی بھلائی ، فلاح، روحانی و معاشرتی اقدار میں ماں بولی کا ہی کامیاب راستہ اپنایا۔سرائیکی زبان کے مہان صوفی بزرگ شعراء کرام میں حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر ملتانی ،حضرت خواجہ غلام فرید ،جدید رفعت عباس،سندھی زبان کے مہان صوفی بزرگ حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی،حضرت سچل سرمست ،بلوچی زبان حضرت مست توکلی، پشتو رحمان بابا ،خوشحال خان خٹک، پنجابی شاعر حضرت وارث شاہ رحمتہ اللہ علیہ سب نے مادری زبانوں میں اظہار رائے اور امن و محبت کا پیغام دیا ہے، انسانی خوشی اور غم کا بہترین مدعا ماں بولی ہوتی ہے۔ سرائیکی علاقے میں سرائیکی یونیورسٹی اور سرائیکی بنک کے قیام سے وسیب کے لوگوں میں خود اعتمادی اور کلچرل ادبی سرگرمیوں میں خوبصورت اضافہ ہوگا-ضلع چترال پاکستان سمیت دنیا بھر میں کثیر اللسانی خطہ ہونے کا خوبصورت اعزاز بھی رکھتاہے۔

    دنیا کے نوبیل یافتہ ماہر سماجیات ولسانیات نوم چومسکی زبانوں کی اہمیت کو سائنسی تحقیق سے ثابت کیا ہے کہ دل اور دماغ کے درمیان مضبوط ترین پل راستہ زبان ہے۔انسانی جسم میں لسان کو مرکزی کردار سمجھا جاتا ہے۔مادری زبان کی افادیت یہ ہے کہ فطرت اس کی خود حفاظت کرتی ہے۔لیکن اگر اس میں بار بار رکاوٹ ڈالی جائے تو متروک ہونے کا شدید ترین خطرہ نمودار ہونا شروع ہو جاتا ہے۔کسی بھی انسان کی مادری زبان سے نفرت دراصل اس انسان کو غلام اور حقیر تر بنانے کی گھٹیا ترین کوشش ہوتی ہے۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق پاکستان میں براہوی 1 فیصد ،ہندکو 2 فیصد، بلوچی 3، پشتو 8 فیصد،اردو انگلش 8 فیصد، سرائیکی 10 فیصد ،سندھی 12 فیصد جب کہ پنجابی 48 فیصد بولی جاتی ہے۔ لیکن 2010ء میں ہایئر ایجوکیشن کمیشن کے نوٹیفکیشن کے مطابق سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان سرائیکی کو مانا گیا ہے۔سرائیکی کو آم و شہد کی طرح دنیا کی میٹھی ترین بھی کہا جاتا ہے۔سرائیکی اب دنیا کی عالمی زبانوں کےگروہ میں شمولیت اختیار کر چکی ہے۔زبانوں اور ثقافتوں کا تنوع آپس میں امن، اتحاد ویکجہتی کی فضا قائم کر تا ہے۔

    مادری زبان کا تحفظ انسان کی حکمت و دانش کو محفوظ کرنے کا سبب ہے۔زبان بھی عروج و زوال کے مراحل سے گزرتی ہے۔کسی بھی زبان کو اگر سرکاری سرپرستی حاصل نہ ہو تو وہ زبان ختم ہو سکتی ہے کائنات کی تخلیق بھی زبان مخصوص آواز کن فیکون سے ہوئی۔پاکستان میں زبانوں و لہجوں میں باگری،آیر، بدیشی، کھوار، کبوترا،فارسی،گرگلا،لواری، کچھی، کلامی،ماڑواری،سانسی، دری، لواری کھیترانی ،گجراتی، بروشسکی، شینا، توروالی، پھالولہ، اوڈ، ارمری، اوشوجو، واگھری، واخی، یدغہ کاٹی، کشمیری بھایا ،جنداوڑا، کوہستانی، چلیسو بلتی وغیرہ کو شدید ترین خطرات کا سامنا ہے۔اگر ایک انسان کو بچانا پوری انسانیت کو بچانے کے مترادف ہے تو پھر کیا ایک لسان مادری زبان کا تحفظ پوری انسانیت کے تحفظ کے برابر نہیں ہے۔

    ہمیں بھی سوئٹزرلینڈ کی طرح ہر زبان کو قومی زبان کا درجہ دینا چاہیے۔انسانیت کے عظیم ترین علمی، ادبی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ میں سب کو بڑھ چڑھ کر اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔21فروری کا دن دراصل مادری زبان کی برکات و خلوص بھرا محبت انسانیت کا دن ہے۔ہر خوبصورت پرندے کی آواز کی انفرادیت اصل ہر لسان کے الگ وجود کے تسلیم و رضا کا فطری آسان ترین نمونہ ہے۔انسانیت ادب کی تخلیقات مادری زبان سے ممکن ہے۔اس کے فروغ کے لیے ہم سب کو عملی طور کام کرنے کی ضرورت ہے۔میرا حکومت پاکستان سے پر زور مطالبہ ہے کہ مادری زبانوں کے فروغ کے لیے ہر تحصیل سطح پر انسٹیٹیوٹ بنائیں جائیں۔پرائمری سے میٹرک تک کی تعلیم کا ذریعہ مادری زبان ہونا چاہیے۔سرائیکی وسیب میں سرائیکی زبان کو فوری طور پرائمری سے میٹرک تک لازمی سبجیکٹ کے طور سکولوں میں پڑھائی جائے۔

    پاکستان میں سب سے زیادہ شعراء کرام سرائیکی زبان وادب کے ہیں۔سرائیکی مضمون کو سی ایس ایس اور پی ایم ایس امتحانات میں فوری شامل کیا جائے۔ سرائیکی سبجیکٹ کے عملی فروغ کے لیے سکولز ٹیچرز آسامیاں پیدا کی جائیں۔سرائیکی میٹرک و انٹرمیڈیٹ کلاسز کی کتابوں کی PTCB سے فوری چھپائی کرائی جائے۔اب الحمدللہ سرائیکی ایف اے فرسٹ ائیر کتاب حکومت پنجاب نے چھاپ کر بہترین تاریخی کام کیا ہے ۔تمام صوبوں میں باقی مضامین کی سرائیکی مضمون کو بھی فوری شامل نصاب کیا جائے ۔ سرائیکی لٹریری کلچرل، سرائیکی بنک و سرائیکی یونیورسٹی جیسے قومی اداروں کے فوری قیام سے سرائیکی خطے میں شعور ،شرح خواندگی ،روحانی، معاشی،سماجی اخلاقیات کے ساتھ ثقافتی ورثے میں بے پناہ اضافہ کے ساتھ علمی، ادبی سرگرمیوں کو فروغ ملےگا۔

    مادری زبان انسان کو دلیر، آزاد، مضبوط ترین اور کامیاب تجربہ کار بناتی ہے۔مادری زبان کی بدولت آدمی میں خوداعتمادی اور ہنرمندی کا جذبہ پروان چڑھتا ہے۔قومی اسمبلی و سینٹ میں اردو، انگلش کے ساتھ سرائیکی،پنجابی،سندھی،بلوچی،پشتو وغیرہ کوبھی سوئٹزرلینڈ کی طرح فوری طور پر تمام مادری زبانوں کوقومی زبانوں کا درجہ دیا جائے۔اس سے آپس میں امن،ثقافت،محبت واتحاد،یکجہتی اور استحکام پاکستان کے فلسفے کو فروغ ملے گا۔پاکستان تاریخی،روحانی، ادبی،تعلیمی،جغرافیائی ، معاشی،معاشرتی،سیاسی،علاقائی اور اخلاقی اقدار میں مضبوط ہوگا۔

    کیا حال سناواں دل دا،کوئی محرم راز نہ مل دا ( خواجہ فرید)

  • کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟چوتھی قسط

    کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟چوتھی قسط

    کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟
    ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    قسط کا خلاصہ
    سرائیکی قصے، جو ماضی میں نسلوں کے شعور کو جلا بخشتے رہے، آج بھی اتنے ہی اہم ہیں۔ سرائیکی زبان و ادب کے نامور محققین کے مطابق، یہ قصے سرائیکی وسیب میں ترقی و خوشحالی کے ضامن ہیں۔ قصوں نے انسانیت کو شرافت، صداقت، اور دیانت کے اصولوں پر قائم رہنے کا درس دیا ہے۔ سرائیکی لوک قصے ہمیں یہ یقین دلاتے ہیں کہ وہ ہمیشہ انسانی زندگی کے لیے رہنمائی کا ذریعہ رہیں گے۔
    چوتھی و آخری قسط
    اب ہم قصےکتابوں،انٹر نیٹ،،فلموں،ڈراموں،تھیٹر،سینما گھروں،ویڈیو گیمز اور ریڈیو کے ذریعے نہ صرف سنتے ہیں بلکہ دیکھتےاور محسوس بھی کرتے ہیں،گویا قصے کے ہم خود زندہ جاوید کردار ہیں۔خود قصے کی دنیا میں جی رہے ہوں۔ یہ سب کچھ "فکشن” افسانوی ادب کے نام سے جانا جاتا ہے۔اس طرح قصہ گوئی کا فن آج بھی زندہ ہے۔اور نئی نئی شکل اختیار کر رہا ہے۔قصوں کی کی داستان نے انسانیت کی مشترکہ آواز کے طور پر حضرت انسان کے ارتقاء میں ایک بنیادی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔یہ صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ قصے نےانسان کی زبان،ادب،شعور، فنون لطیفہ، اخلاقی اقدار،سلیقہ،ریتروایت،علمی،روحانی،شناخت،ثقافت اور سوسائٹی،قوم و ملک کی تشکیل نو میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے اور کرتا رہےگا۔

    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

    کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟
    قصولیوں کی پہلی ادبی بیٹھک ہی انسانوں کی پہلی یونیورسٹی کہلائی۔جہاں سے علوم کی فنی مہارتوں کے سیکھنے اور تعلیمی تربیت کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ماں کی گود میں بچہ سکون واطمینان قلب کا خوبصورت پہلاں مٹھاس بھری آواز میں قصے کے الفاظ ہی سنتا ہے۔قصے نے انسان کی سوچ کو پروان چڑھایا،تخلیقی صلاحیتوں کو تقویت بخشی اور تاریخ کو محفوظ کیا۔

    دوسری قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟
    مختلف زبانوں اور ثقافتوں کے تنوع سے بھریل لوک قصے ہی اپنی منفرد روایت اور پہچان رکھے ہوئےہیں۔انسانوں کےمشترکہ تجربات ومشاہدات ہم تک مختلف انداز میں قصے کی بدولت پہنچےہیں۔مثلاً، یونانی دیوتاؤں کی قصے،جہاں دیوی دیوتاؤں کو انسانوں کی طرح ہی جذبات اور کمزوریاں حاصل تھیں،ہندو متھالوجی و فلسفہ کے قصےجو روحانیت اور کائنات کے رازوں پر زیادہ زور دیتے ہیں،افریقی لوک قصے جن میں جانور اکثر انسانی کردار ادا کرتے ہیں اور اخلاقی سبق دیتے ہیں۔جاپانی تہذیب وتمدن سے جڑے لوک قصےجو فطرت اور انسان کے رشتے کو ایک مختلف تناظر میں پیش کرتے ہیں۔عبرانی و عربی زبان کے مہان کلاسیکل لوک قصے جیسا کہ "الف لیلہ ولیلہ(ایک ہزار ،ایک راتیں)” یہبادشاہوں،ملکہ،شہزادیوں،ملوک زادیوں،وزیروں،غلاموں اور سحر و جادو کے دلچسپ قصے جو ایک نئی دنیا سے روشناس کراتے ہیں۔

    تیسری قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

    کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟
    چائنیز وذڈم سے مالا مال قصے، جس میں ڈریگن اور اژدہاؤں کا ذکر ہے یہ طاقت،ترقی،خوشحالی اور قدرتی قوتوں کی علامت ہیں۔اہل فارس کی روحانی کرامتوں کے قصے،نیز خواجہ غلام فرید کی سرائیکی شاعری، کنفیوشس،شیخ سعدی،رفعت عباس کی تعلیمات پر مبنی حکایتیں جو ہمیں اخلاقیات اور حکمت سکھاتی ہیں۔یہ مختلف سلیقے،انداز اور نقطہ نظرہمیں کامیاب حیاتی گزارنے اور کائنات کے پر اسرار رازسمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔ قصے صرف تفریح نہیں بلکہ کسی قوم کی حقیقی معنوں میں میری سوچ کے مطابق تہذیب وتمدن، تاریخ، ثقافت کا آئینہ بھی ہوتےہیں۔جو ان کی سوچ،تربیت، عقائد،رسوم و رواج روایات اور ادب و فکری علوم کو بڑی خوبی سے بیان کرتے ہیں۔یہ مختلف انداز اور نقطہ نظر سے ہماری رہنمائی بھی کرتے ہیں۔

    مقامی سرائیکی قصوں کی روایت نے انسان کو ایک دوسرے سے جوڑنے اور دنیا کو سمجھنے کا ایک زبردست ذریعہ عطاء کیا ہے ۔قصے کیا ہمیشہ زندہ رہیں گے؟۔جی ہاں، جب تک دنیا ہے، امید ہے، محبت ہے اور اس کی رنگولی ہے قصے بھی زندہ رہیں گے ۔قصے عظیم مخلوق حیوان ناطق انسانوں ایک دوسرے سے رشتہ جوڑنے اور معاشرہ کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتے رہیں ہیں اور کرتے رہیں گے۔مگر دوسرے رخ سے انہی قصوں کی وجہ سے آپس میں جنگیں،لڑائیاں،نفرتیں اور سوسائٹی میں توڑ پھوڑ اور خون خرابا کی نوبتیں سامنے آئیں ہیں۔مگر ہمیشہ قصے کے حقیقی نتائج و تعلیمات فلسفہ امن و تربیت،کامیابی،بھلائی،فلاح انسانیت اور رشدوہدایت ہی رہے ہیں۔

    قصوں میں شر کی شکست ہی احترام آدمیت کی بقاء ہے۔قصہ مثبت اثبات و اثرات کا خوبصورت تذکرہ ہے۔نیکی و نصیحت کا باکمال ہنر قصہ گری ہے۔سرائیکی قصہ سرائیکی قوم کی اجتماعی یادداشت ہے۔اس نے ہر حملہ آور کا آدر کیا ہے۔دینی اور قومی قصے خاص طور پر اس حوالے سے مضبوط مثالیں ہیں۔سرائیکی زبان و ادب کے حکمت و دانش سے لبریز لوک قصے حقیقت،تخیلات، وہم، سچ اور جھوٹ، اچھا اور برا، محبت اور نفرت یعنی ماضی، حال اور مستقبل کے بارے سب کچھ علم و تربیت کے مخفی ظاہری راز اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں۔ قصوں میں انسانوں کے سماجی و اخلاقی اقدار کی عملی مثالی تصاویر موجود ہیں۔قدرت قصہ،کہانیوں،داستانوں اور افسانوں کو ایک طرف تو ہمارے لیے ایک قیمتی اثاثہ بناتی ہے اور دوسری طرف ایک پیچیدہ مسئلہ بھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے بارے میں سوالات جنم لیتے ہیں کہ انسان کے مستقبل میں ان قصوں کا کیا رول ہونا چاہئے یا ہوگا۔

    سوال یہ ہے؟کیا اب آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور ڈیجیٹل سوشل میڈیا دور میں قصوں کی اہمیت و افادیت کم ہو جائے گی؟اورکیا موجودہ انسانی صدی قصوں کی آخری صدی کہلائےگی؟اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کرے گا ۔مگر آج بھی قصوں کی اہمیت کم نہیں ہوئی۔آج بھی ہم قصے سننا اور پڑھنا پسند کرتے ہیں اور سینما گھروں میں فلموں کی نمائش دراصل انسانی قصے کی شعوری پختگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ہالی وڈ،لولی وڈ ،بالی وڈ موجود فلم انڈسٹریز قصوں کی عملی دنیا ہے۔قصے نے نیوز یعنی نارتھ،ایسٹ،ویسٹ، ساوتھ مشرق،مغرب،شمال جنوب کی فنی مہارتوں کو سیکھنے،دیکھنے،پڑھنے اور لکھنے کے عمل کو فروغ دیا۔ہمارے بہت سے تصورات و نظریات انہی قصوں اور افسانوں کی بنیاد پر بنے ہیں اور اسی لیے قصے کو دنیا میں سب سے طاقتور اور آسان فہم میڈیم سمجھا جاتا ہے۔

    سرائیکی لوک قصہ جس نے چھ ہزار سال قدیم ماں وادی ہاکڑہ تہذیب وتمدن اور بیٹی وادی سندھ تہذیب وتمدن کے ساتھ ہم عصر و ہم پلہ میسوپوٹومپیا سمیرین اور مصری اہرامی تہذیب وتمدن کے اعلی شعور کے ساتھ دنیا کو زندگی گزارنے کا سلیقہ اور نصیحت و وصیت کا عملی کامیاب نصاب مہیا کیا ہے۔سرائیکی لوک قصوں کی وذڈم کی حفاظت کرنے والے روہی چولستان، دمان پہاڑ، تھل،راوا ،میدان،دریائی و سمندری،ہڑپہ،جلیل پور،ہڑنڈ،سوئی وہاڑ،پتن منارہ، مہرگڑھ ،موہنجوداڑو،رحمان ڈھیری،بلوٹ قلعہ، ملتان شریف، اوچ شریف سمیت سرائیکی قدیم گنویری والا شہر کےقصولیوں کی طرح دنیا کے ہر قصولی کےتحفظ و مراعات کے لیے اقوام متحدہ آثارقدیمہ ریسرچ اداروں اور حکومت پاکستان کی طرح ہرملک کی حکومت کو ہنگامی بنیادوں پر اپنے لوک ورثے کے تحفظ کیلئے اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ورلڈ آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹس کو گنویری والا شہر پر ہاکڑہ یونیورسٹی بنانا ہوگی۔

    امن و تصوف کے روحانی قصے کی افادیت و تحفظ کی عملی ضمانت کیلئےحضرت سید جلال الدین حیدر سرخ پوش بخاری ع صوفی ازم اینڈ آرکیالوجی سائنس یونیورسٹی ورلڈ ہیرٹیج سٹی اوچ شریف میں فوری قائم کرنا ہوگی۔غزہ،دمشق،یوکرائن اور کشمیر سمیت دنیا کے ہر کونے سے جنگ ونفرت کے قصے کو ختم کرکے امن،رواداری،خوشحالی اور تصوف کے قصے کو عالم میں پھر سے عام کرنا ہوگا۔ورنہ نئی نسل اپنے قومی ورثے سے محروم رہ جائے گی۔شاید اپنی بقاء کا تحفظ بھی نہ کرسکے۔
    ختم شد

  • پروین شاکر، خوشبو بکھیرتی شاعرہ

    پروین شاکر، خوشبو بکھیرتی شاعرہ

    پروین شاکر، خوشبو بکھیرتی شاعرہ:26 دسمبر، پروین شاکر کی 30ویں برسی
    تحریر:ضیاء الحق سرحدی پشاور
    ziaulhaqsarhadi@gmail.com
    کُو بہ کُو پھیل گئی بات شناسائی کی ،اُس نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی

    پروین شاکر جس کے شعر رنگ و خوشبو بکھیرتے ہیں، ان کو بھلا کوئی کیسے بھول سکتا ہے۔ بیسویں صدی میں اردو کی ممتاز ترین شاعرہ پروین شاکر 24 نومبر 1952 کو کراچی میں سید ثاقب حسین کے گھر پیدا ہوئیں۔ ان کے والد خود بھی شاعر تھے اور ان کا تخلص شاکر تھا۔ اس نسبت سے پروین شاکر اپنے نام کے ساتھ شاکر لکھتی تھیں۔ برصغیر کی تقسیم کے بعد ان کے والد پاکستان ہجرت کر کے کراچی میں آباد ہوئے۔ پروین کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی، بعد میں رضیہ گرلز ہائی اسکول کراچی میں داخلہ لیا، جہاں سے انہوں نے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ اور پھر سرسید گرلز کالج کراچی سے آئی اے اور انگلش لٹریچر کے ساتھ بی اے آنرز کیا۔ پروین شاکر نے گریجویٹ ڈگری پہلے انگریزی لٹریچر میں اور پھر لسانیات (Linguistics) میں حاصل کی، جامعہ کراچی سے ایم اے کی ڈگری اسی عنوان کے تحت حاصل کی، پھر انہوں نے پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل کی۔ پروین شاکر نے ایم اے کی ایک ڈگری ہارورڈ یونیورسٹی امریکہ سے بھی حاصل کر رکھی تھی۔

    نوجوانی ہی سے شعر کہنے کا ہنر انہیں آ گیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے نو سال تک استاد کی حیثیت سے کارہائے نمایاں انجام دیے۔ اس کے بعد شعبہ کسٹم، گورنمنٹ آف پاکستان میں اپنے فرائضِ منصبی بھی ادا کرتی رہیں۔ 1986 میں وہ سیکنڈ سیکریٹری، سی بی آر (موجودہ ایف بی آر) اور ڈپٹی کلکٹر کسٹم بھی مقرر کی گئیں۔ راقم عرصہ دراز سے پاکستان کسٹمز اور ایف بی آر سے منسلک ہے۔ اکثر اوقات ایف بی آر، پاکستان کسٹمز اور دیگر اداروں کے ساتھ میٹنگ کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ اسی وجہ سے راقم کی مرحومہ پروین شاکر سے کئی ملاقاتیں ہوئیں۔ اُن کے مشاعروں میں شرکت اور اُن کو قریب سے جاننے کا موقع ملا۔ وہ لطیف جذبات کو لفظوں کا پیرہن دینے والی خوشبوؤں کی شاعرہ تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں بطورِ شاعرہ شہرت کی بلندیوں تک پہنچایا۔

    پروین شاکر کو ان کی خدمات کے اعتراف میں ان کی کتاب "خوشبو” پر آدم جی ایوارڈ اور پھر پاکستان کا سب سے اعلیٰ اعزاز "پرائڈ آف پرفارمنس” سے بھی نوازا گیا۔ موسم آتے جاتے رہے، ماہ و سال گزرتے رہے، مگر ان کے چاہنے والے آج بھی ان کی شاعری سے دل لگائے بیٹھے ہیں۔ پروین شاکر نے کم عمری میں ہی شعر کہنا شروع کر دیے تھے، مگر وقت کی پنکھڑیاں چنتے چنتے، آئینہ در آئینہ خود کو ڈھونڈتی، شہرِ ذات کے تمام دروازوں کو پھلانگتی، شاعرہ کی منزل تک پہنچیں۔

    بات پروین شاکر کی نظم کی کی جائے یا غزل کی، کتابوں کا ایک بہترین گلدستہ تیار کیا جا سکتا ہے، مگر جہاں ہر ہر لفظ ان کی پذیرائی کے گن گانے میں محو ہو، وہاں میرے چند الفاظ قارئین کو کہاں مطمئن کر پائیں گے۔ انسان کے کردار اور اس کی مجموعی شخصیت کی تعمیر میں ماحول کا بڑا اثر ہوتا ہے، لیکن ایک اور اہم شے جو کسی بھی انسان کی شخصیت سازی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے اور کبھی کبھی انسان کو اس کی شخصیت مکمل ہونے کے بعد بھی کسی نئے ماحول میں کھینچ لاتی ہے اور اس کی زندگی کا دھارا ہی بدل دیتی ہے، اس کا نام ہے "کتاب”۔

    چونکہ کتاب کا ذکر چل پڑا ہے تو پروین شاکر کی چند خوبصورت کتابوں کا تذکرہ نہ کرنا اردو ادب اور شاعری سے سراسر زیادتی کے مترادف ہوگا۔ اس لئے ان کی وہ کتابیں جو شائع شدہ ہیں اور لوگوں میں کافی مقبول بھی رہی ہیں ان میں "خوشبو” (1976)، "صد برگ” (1980)، "خود کلامی” (1990)، "انکار” (1990)، "ماہ تمام” (1994) اور "کف آئینہ” سرِ فہرست ہیں۔ جب یہ کتابیں شائع ہوئیں تو پروین شاکر ایک پختہ کار شاعرہ کے روپ میں نظر آئیں، لیکن ان کی شاعری خوشبو کی طرح دنیائے ادب کو معطر رکھے گی۔

    وہ خوشبو ہے، ہواؤں میں بکھر جائے گا
    مسئلہ پھول کا ہے، پھول کدھر جائے گا

    وہ خوش فکر شاعرہ تو تھیں، لیکن خوش شکل ہونا بھی ان کی شخصیت کو چار چاند لگا گیا۔ پروین شاکر اپنے ساتھ بے شمار یادیں لے گئیں۔ پی ٹی وی کے پروگراموں، مشاعروں اور ادبی جرائد، اخبارات میں کسی شاعرہ کو زیادہ اہمیت ملی تو وہ پروین شاکر تھیں۔ شاعری میں نئی نسل کا رول ماڈل تھیں، انہوں نے دلوں پر حکمرانی کی، ایک طرح سے وہ سخن کی شہزادی تھیں، جنہوں نے اپنی زندگی میں بے شمار اعزازات پائے۔ خوبرو شاعرہ نے ایک پاکستانی ڈاکٹر نصیر علی سے شادی کی۔ ان کا ایک بیٹا، سید مراد علی بھی ہے، لیکن ان کی شادی کا یہ سفر زیادہ طویل المدت نہیں تھا اور معاملہ طلاق پر جا کر اختتام پذیر ہوا۔ پروین شاکر کی شاعری میں لذتِ انتظار کی کیفیت بھی ملتی ہے۔

    وفات کے بعد ان کی دوست پروین قادر آغا نے "پروین شاکر ٹرسٹ” قائم کیا۔ پروین شاکر اپنی ہم عصر شاعرات کشور ناہید اور فہمیدہ ریاض کی شاعری پسند کرتی تھیں اور ان کیلئے تحسین کے جذبات رکھتی تھیں۔ وہ امریکہ میں بھی رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عام امریکی بہت فراخ دل اور محبت کرنے والے لوگ ہیں۔ ہر تہذیب کے اپنے مسائل ہوتے ہیں جن کو ایک خاص تناظر میں رکھ کر ہی دیکھا جا سکتا ہے۔

    پروین شاکر نے انسانی جذبوں کا سچ لکھا اور اس محبت کو عورت کی زبان سے ادا کرنا آسان کر دیا۔ پروین شاکر تنہائی، جدائی، ہجر و وصال، محبوب کے تصور میں گم، چاہنے اور چاہے جانے کی آرزو اور زندگی سے آنکھ ملانے والی شاعرہ تھیں۔ پروین شاکر نے بحیثیت ایک عورت ایسے ہی محبوب کا پیکر اپنی شاعری میں تراشا جو ذہن و گمان سے ماورا نہیں۔ ایک زندہ وجود ہے اور حسیات کے امکان میں موجود رہتا ہے۔

    شاعری کے ساتھ ساتھ انہوں نے کالم نگاری بھی کی اور راقم کا اس حوالے سے بھی ان سے رابطہ رہا۔ ان کی شاعری کا بنیادی وصف جراتِ اظہار تھا۔ ان کے شعروں میں اعتماد نمایاں تھا۔ ان کی چمکتی آنکھیں ایک نئی صبح کا خواب دیکھتی تھیں۔ ان کے احساسات و جذبات کی ترجمان ان کی شاعری حسن، محبت، غم و خوشی، سچائی اور خوبصورتی کی عکاسی کرتی ہے۔ جس طرح وہ خود خوبصورت و حسین تھیں، اسی طرح ان کی شاعری دلکش اور خوبصورت ہے۔ وہ خوبصورتی کی باتیں کرتی، رنگ و خوشبو کا پیغام دیتی نظر آتی ہیں، اپنے تمام تر صادق جذبوں سمیت ان کی مقبولیت پاکستان ہی میں نہیں بلکہ پاکستان کے باہر جہاں اردو بولنے اور سمجھنے والے ہیں۔ ان کی شاعری نوجوان نسل کا کریز بن گئی۔ نوجوان نسل کے رومانی جذبات کو گہرے فنکارانہ شعور اور کلاسیکی رچاؤ کے ساتھ پیش کرنا پروین شاکر کے اسلوب کی پہچان قرار پایا۔ جذبے کی جس سچائی سے پروین شاکر نے اردو شاعری کے قارئین کے دل و دماغ کو ان گہرائیوں کو آخر حد تک متاثر کیا ہے وہ سچائی تو "خوشبو” میں ان کے ذاتی کرب کی ٹیس تھی۔

    میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہار جاؤں گی
    وہ جھوٹ بولے گا اور لاجواب کر دے گا

    پروین شاکر 26 دسمبر 1994 کو اسلام آباد اپنے دفتر جانے کے لیے نکلی تھیں تو قریب ہی ایک موڑ پر بس کے ایک حادثے میں شدید زخمی ہونے کے صورت میں ہم سے روٹھ کر عدم کو سدھار گئیں۔ اللہ رب العزت اُن کے درجات بلند فرمائے۔ جس سڑک پر حادثہ ہوا اُس کا نام پروین شاکر کے نام سے منسوب کر دیا گیا ہے۔

    مر بھی جاؤں تو کہاں لوگ بھلا ہی دیں گے
    لفظ میرے، مرے ہونے کی گواہی دیں گے

  • سردار پبلی کیشن کی تیسری پنجابی ادبی کانفرنس

    سردار پبلی کیشن کی تیسری پنجابی ادبی کانفرنس

    سردار پبلی کیشن کی تیسری پنجابی ادبی کانفرنس
    تحریر: شاہد نسیم چوہدری
    فیصل آباد جو ہمیشہ سے ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے، حال ہی میں ایک اور شاندار ادبی تقریب کا میزبان بنا۔ سردار پبلی کیشن کے اشتراک سے فیصل آباد پریس کلب میں تیسری ادبی کانفرنس منعقد ہوئی۔ یہ کانفرنس نہ صرف ادب کے فروغ کا سبب بنی بلکہ پنجابی زبان کی ترویج کے حوالے سے ایک اہم قدم بھی ثابت ہوئی۔ کانفرنس دو حصوں پر مشتمل تھی۔ پہلا حصہ "ویر وے” کے موضوع پر مبنی تھا جس کی صدارت معروف ادبی شخصیت چوہدری الیاس گھمن نے کی، جبکہ دوسرا حصہ مشاعرے پر مشتمل تھا جس کی صدارت ڈاکٹر جعفر حسن مبارک نے کی، جو ادب کے میدان میں اپنی گہری بصیرت کے لیے جانے جاتے ہیں۔

    مشاعرے کا انعقاد اس کانفرنس کا ایک خاص پہلو تھا، جس میں ملک کے مختلف شہروں سے نامور شعرا نے شرکت کی۔ اس مشاعرے کی خاص بات یہ تھی کہ یہ پنجابی زبان کو مرکزیت دیتے ہوئے منعقد کیا گیا، جس میں ہر شاعر نے اپنے انداز میں پنجابی زبان و ثقافت کے رنگ بکھیرے۔ پروگرام کے دوران اسٹیج پر آصف سردار آرائیں اور لبنیٰ آرائیں نے بطور میزبان تقریب کو بہترین انداز میں پیش کیا۔

    مہمان خصوصی کے طور پر ڈاکٹر جعفر حسن مبارک کی موجودگی نے تقریب کو مزید وقار بخشا۔ ڈاکٹر جعفر حسن مبارک، جو کہ ایک نامور شاعر اور محقق ہیں، نے پنجابی زبان کی تاریخ، اس کی اہمیت اور موجودہ دور میں اس کے فروغ کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ زبان کسی بھی قوم کی شناخت ہوتی ہے، اور پنجابی ہماری ثقافتی وراثت کا ایک لازمی حصہ ہے۔

    کانفرنس کے دوران جن مشہور شعرا نے شرکت کی، ان میں شہزاد بیگ، کامران رشید، آزاد نقیبی، بشری ناز، نرگس رحمت، آصف سردار آرائیں، الیاس گھمن، امجد جاوید، انور انیق، ارشد بیلی، جاوید پنجابی، ڈاکٹر اظہر، سعید حسین ساجد، حامد رفیق، زبیر الجواد، سرور قمر قادری، شہباز علی شہباز، شمائلہ تبسم، عمران ساون، عبدالحمید، فوزیہ جاوید، کامران رشید اور لبنیٰ آرائیں شامل ہیں۔ ان تمام شعرا نے اپنے کلام کے ذریعے سامعین کو محظوظ کیا اور پنجابی زبان کے فروغ کے لیے اپنی محبت کا اظہار کیا۔ ان کے اشعار میں پنجابی ثقافت، انسانی جذبات، اور موجودہ سماجی مسائل کی عمدہ عکاسی نظر آئی۔

    تقریب کے دوران مقررین نے پنجابی زبان کی موجودہ صورتحال پر گفتگو کی اور اس کے تحفظ اور ترویج کے لیے عملی اقدامات اٹھانے پر زور دیا۔ آصف سردار آرائیں اور لبنیٰ آرائیں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمیں پنجابی زبان کو نئی نسل تک منتقل کرنے کے لیے جدید وسائل، جیسے کہ سوشل میڈیا، ایپلیکیشنز، اور پنجابی ادب کے جدید تراجم، کو اپنانا ہوگا۔

    اس تقریب کی کامیابی میں آصف سردار آرائیں اور لبنیٰ آرائیں کی محنت کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ یہ دونوں شخصیات، جو میاں بیوی ہیں، نے اس پروگرام کو کامیاب بنانے کے لیے انتھک محنت کی۔ ان کی ٹیم ورک اور پنجابی ادب سے محبت کی بدولت یہ کانفرنس ایک یادگار ایونٹ بن گئی۔

    اس کانفرنس کا سب سے بڑا پیغام یہ تھا کہ پنجابی زبان ہماری شناخت کا حصہ ہے، اور اس کی بقا و ترویج کے لیے ہمیں اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ ہر شریک نے اپنے کلام اور گفتگو کے ذریعے یہ باور کرایا کہ پنجابی زبان صرف ایک بولی نہیں بلکہ ہماری تہذیب اور تاریخ کا عکس ہے۔

    تیسری ادبی کانفرنس نے ادب کے فروغ اور پنجابی زبان کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے ایک نئی سمت متعین کی ہے۔ ایسے پروگرام نہ صرف زبان کے فروغ کا باعث بنتے ہیں بلکہ معاشرے میں شعور اجاگر کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ آصف سردار آرائیں اور لبنیٰ آرائیں کی انتھک کوششیں قابل تعریف ہیں، اور امید کی جاتی ہے کہ وہ مستقبل میں بھی ایسی تقریبات منعقد کرکے ادب و ثقافت کی خدمت کرتے رہیں گے۔

    سردار پبلی کیشن کی جانب سے تیسری پنجابی کانفرنس کا انعقاد ادب اور ثقافت کے فروغ کی ایک قابل تحسین کوشش ہے۔ یہ کانفرنس نہ صرف پنجابی زبان و ادب کے محبت کرنے والوں کو ایک پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے بلکہ اس زبان کی ترقی اور اہمیت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ اس کانفرنس کی روح رواں لبنیٰ آرائیں، جو سردار پبلی کیشن کی ڈائریکٹر ہیں، کی محنت اور لگن قابلِ ستائش ہے۔ لبنیٰ آرائیں نے اپنے ویژن اور عزم کے ساتھ ادب کے میدان میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ اس کانفرنس کے انعقاد میں ان کی انتھک محنت اور تنظیمی صلاحیتوں نے ایک مثالی ماحول پیدا کیا، جہاں شاعر، ادیب، اور دانشور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔

    کانفرنس کے دوران مقامی اور بین الاقوامی سطح پر مشہور پنجابی ادیبوں اور دانشوروں نے اپنے خیالات پیش کیے، جنہوں نے زبان و ثقافت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ اس کے علاوہ نوجوانوں کو بھی اپنی تخلیقی صلاحیتیں دکھانے کا موقع ملا۔

    یہ کانفرنس نہ صرف پنجابی ادب بلکہ زبان و ثقافت کے تحفظ اور ترویج کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ لبنیٰ آرائیں کی کاوشوں نے ثابت کیا کہ اگر جذبہ اور عزم ہو تو کسی بھی مقصد کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔

  • کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟تیسری قسط

    کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟تیسری قسط

    کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟
    تحریر:ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھرجلالوی
    قسط کا خلاصہ
    آج کے دور میں بھی قصے انسانی تخلیقی صلاحیتوں کو جلا بخشنے کا ذریعہ ہیں۔ قصے ہمیں سکھاتے ہیں کہ ہم مشترکہ انسانیت کے اصولوں کو اپنائیں۔ عالمی سطح پر ثقافتی میل جول میں بھی قصوں نے اہم کردار ادا کیا ہے، جیسے کہ اسلام آباد کے لوک ورثہ میلے میں سرائیکی جھمر کی پیشکش نے مختلف قوموں کو ایک دوسرے کے قریب کیا۔ قصے محض تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ علمی اور اخلاقی ورثے کی حفاظت کرتے ہیں۔

    تیسری قسط
    دادی اماں،نانی اماں،دادا جان،نانا جان تمام معزز بزرگوار ہستیاں حقیقی معنوں میں قصوں کی ابتدائی انسانی شعور گاہ ہیں۔جہاں سکون واطمینان قلب میسر آتا ہے۔ماضی میں بزرگوں کے قصوں کے ذریعے بچوں کو نہ صرف اعلی اخلاقی قدریں اور اچھے برے کی تمیز سکھائیں جاتیں تھیں بلکہ انہیں زندگی کے عملی پہلوؤں میں کامیاب حیاتی گزارنے کے طور طریقے،شکار،زراعت اور قدرتی خطرات سے بچنے کے علوم بھی سکھائے جاتے تھے۔یہ قصے بچوں کے لیے مثالی کردار پیش کرتے تھے۔جنہیں وہ اپنا آئیڈیل بناتے تھے اور ان کی شخصیت کی تشکیل نو میں اہم کردار ادا کرتے تھے۔اس طرح قصوں نے بچوں کی سماجی، اخلاقی اور عملی زندگیوں میں نمایاں کردار ادا کیا۔انہیں خاندان یا سوسائٹی کا ایک اچھا فرد بننے کے لیے تیار کیا۔

    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

    کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟
    جس نسل نے اپنے آباواجداد کے قصوں کی حکمت کے خزانوں کو اپنایا تو انہوں نے نئی دنیا اور نئےجہاں تخلیق کیے۔آج بھی قصے اور افسانے انسانوں کے لیے ایک ایسا دروازہ ہیں جو انہیں حقیقت کی دنیا سے ہٹ کر ایک خواب کی نئی دنیا میں لے جاتے ہیں۔اس سے ان کی تخیلاتی قوتتیں پھلتی پھولتیں اور آگے بڑھتیں ہیں اور وہ زندگی کے مختلف پہلوؤں کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے اور پرکھنے لگتے ہیں۔قصے انسانوں کی تخیلاتی قوت اور تخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے میں مددگار ثابت ہوئے ہیں اور انسان کو نئی نئی چیزیں دریافت کرنے اور سیکھنے کی ترغیب دیتے ہیں۔

    دوسری قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

    کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟
    ان قصوں کے ذریعے انسان خوابوں کی دنیا میں سیر کرتے ہیں اور اپنی خواہشات اور امیدوں کو پورا کرنے کے لیے عملی حقیقی زندگی میں نئی راہیں تلاش کرتے اور نئے پراجیکٹس کو عملی جامہ پہنانتے ہیں۔یہ قصے ہمیں یقین دلاتے ہیں کہ ناممکن کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔مثلاً،ریڈار، چاند گاڑی،سیٹلائیٹ،ٹیلی ویژن،ریڈیو،موبائل فون،ڈائزینر مشین،میزائل،ہوائی جہاز،انٹرنیٹ،سوشل میڈیا ڈیوائسز،روبوٹ اور خلائی سفر سب سے پہلے قصوں میں ہوائی جادوئی قالین،طلسماتی شیشہ،طلسماتی تیر و تلوار،اڈن کٹولہ وغیرہ ہی تصور کیے گئے تھے۔آج یہ سب حقیقت بن چکے ہیں۔یوں قصے اور افسانے نئی دنیاؤں کی تخلیق کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔

    مستقبل میں قصے میں موجود قصولیوں کے خواب آنے والے وقت میں سائنسی ترقی و تحقیقی سفر کا نیا جہاں بنے گے۔جو انسانوں کو نئی سوچوں اور امکانات کی طرف لےکرجاہیں گے۔قصوں کی زبان ہمیں غاروں میں موجود ابتدائی انسانی ہاتھوں سے بنی اشکال سے لکھی ملیں ہیں۔خوبصورت پتھروں سے مورتیوں پر نقش نگاری قدیم انسانی قصے کے نمونےہیں۔جیسے بچہ پیدائش کے وقت بول نہیں سکتا مگر اشاروں سے اپنی التجا ماں کو پیش کرتا رہتا ہے۔اس کی ماں اس کی ضرورتیں پوری کرتی رہتی ہے۔وقت کے ساتھ ساتھ وہ بچہ بڑا ہوکر اپنے مسائل و ضروریات لکھ کر بھی اور زبان سے بول کر بتاتا ہے۔زبان بھی اسی طرح پروان چڑھتی ہے۔میری کم سن تین سالہ بیٹی زینب الطاف ڈاھر بی بی اپنی ٹوٹی پھوٹی باتوں اور اشاروں اور آوازوں کے ذریعے کبھی کبھی پنسل سے دیواروں پر نرم ہاتھوں سے لکیروں کی مدد سے شکلیں بنا کر ہم میاں بیوی تک اپنا پیغام پہنچاتی ہے۔

    آج بھی دنیا کا پہلا انسانی رسم الخط تصویری اشکالی رسم الخط کو مانا جاتا ہے۔قدیم انسان نے اپنے قصوں کے ذریعے سے اپنا کتھارسس مدعے کو شجر،پتھر اور غار کی دیواروں پر اشکال بناکر اپنےپیغام کو آج کے انسان تک سانجھا کیا۔یہ نقش و نگار نہ صرف ان کی روزمرہ کی زندگی بلکہ ان کے عقائد اور تصورات کی بھی عکاسی کرتے ہیں ۔جس کو ہم آج ٹوٹم و ٹیبوز کا علم کہتے ہیں۔قصے میں قصولی جانوروں،چرند پرند،دریا،سمندر درختوں اور بادلوں کو بھی انسانوں کی طرح بات کرتے ہوئےدکھاتےتھے۔ان کے قصوں میں جادو،دیوی و دیوتا،مافوق الفطرت عناصر اور روحانی قوتوں سے لبریز کرداروں کی ایک بھیڑ ہوتی تھی۔جو ان کے لیے قدرت کا مظہر سمجھنے کی فلم انڈسٹری تھی۔

    آج جب ہم پیچیدہ زبانوں اور جدید ٹیکنالوجی کے دور میں جی رہے ہیں تو قصہ کے طور طریقے بھی بدل چکے ہیں۔روہیلے چولستانی قصولیوں میں میدا رام ، سمارا رام، مجید مچلا، فیض مائی بھٹی، میرے ابا جی سئیں غلام مصطفٰی خان ڈاھر، مہر غلام رسول، ملک عبداللہ عرفان، طاہر غنی، ملک آصف سیال، جام غلام یاسین لاڑ جیسے عظیم الشان قصہ گو بھی وسائل کی شدید کمی کے باوجود ماڈرن طریقےسے سوشل میڈیا ذرائع سے اپنے قصوں کو عام کرنے کی بھر پور کوشش کر رہے ہیں۔

    ان قصولیوں نے قصے کا آغاز اس باکمال مہارت سے کیا ہے کہ پوری کائنات کا مالک خالق حقیقی صرف اللہ پاک ہے۔باقی سب فنا ہے۔اس کا بنیادی مقصد صرف طاغوتی طاقتوں کے تکبر و غرور کی نفی کرنا ہے۔امن و اقتصادی آسودگی، عجز و احترام کو فروغ دینا ہے۔اللہ رب العزت جلال کی شہنشاہیت کو برقرار رکھنا ہے۔"واہ واہ ہے اللہ بادشاہ ہے کاغذاں دی بیڑی ہے مکوڑا ملاح ہے،خلقت پئی چڑھدی ہے ساڈی صلاح ہے۔ہک ہا بادشاہ، بادشاہواں دا بادشاہ وی خود اللہ پاک آپ بادشاہ ہے، اوہ ہک زمینی ٹوٹے دا بادشاہ ہا۔اوندی نگری ہی”۔اصل حکمران وہ ہے جو بشریات، جمادات،حیوانات اور نباتات کی نشوونما،خیر و برکت کےلیے ہمیشہ مثبت اقدامات اٹھائے۔

    ہمارے قصولی ہمارے سرائیکی وسیب کی عالمگیر فوک وزڈم آرکیالوجی ویب سائٹس بن چکے ہیں۔سوجھل وسیبی قصولیوں کی معاشی خوشحالی کے اقدامات حکومت پاکستان سمیت اقوام متحدہ آثار قدیمہ کی اہم ذمہ داری ہے۔قومی سرائیکی لوک دانش کے اثاثے کو محفوظ کرنے کے لیے مقامی روہی چولستانی قلعہ ڈیراور، چولستان جیپ ریلی کے سنڑ مقام پر میوزیم قائم ہونا چاہیے ۔جہاں دنیا بھر کے سیاح سرائیکی خطے کی 6000چھ ہزار سالہ قدیم تہذیب وتمدن وادی ہاکڑہ سرسوتی کے ساتھ سرائیکی عباسیہ شاہی ریاست بہاولپور کی خوشحالی سے بدحالی کے قصےکی حقیقت جان سکیں۔مقامی روہیلے چولستانی قصولیوں کو مراعات دیں جائیں۔ہمیں ان کی لوک دانش کو جدید ٹیکنالوجی سسٹم سے دنیا تک آن ائیر کرانے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔۔۔۔جاری ہے.

  • کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟دوسری قسط

    کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟دوسری قسط

    کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟
    تحریر:ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھرجلالوی
    قسط کا خلاصہ
    قصے انسانوں کے لیے ہمیشہ رہنمائی کا ذریعہ رہے ہیں۔ انبیاء کرامؑ کے قصے اور رسول اکرمﷺ کی زندگی کے واقعات انسانوں کی اخلاقی تربیت کا اہم ذریعہ ہیں۔ سرائیکی قصے صرف کہانیاں نہیں بلکہ انسانی زندگی کو ایک نیا زاویہ فراہم کرتے ہیں۔ ان کے ذریعے شعور، ثقافت اور روایتوں کی منتقلی ممکن ہوئی۔ ابتدائی ادوار میں قصہ گوئی انسانوں کے لیے اولین درسگاہ تھی، جہاں شکار، زراعت اور قدرتی خطرات سے نمٹنے کے طریقے سکھائے جاتے تھے۔ قصوں کی روح نے معاشرتی ہم آہنگی اور تعلقات میں استحکام پیدا کیا۔
    دوسری قسط
    حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت اماں حوا علیہ السلام کا جنت سے نکالے جانے کا قصہ،شیطان مردود کا انسان سے ازلی دشمنی کا قصہ آج بھی کتابوں کی زینت ہے۔قصہ دراصل انسانی شعور و عرفان کی خود رو تحفظ فراہم کردہ تخلیقی و تجزیاتی فکری صلاحیتوں کا مظہر ہے۔قصے کے گہرے رشتے نے انسان کی تاریخ کو رنگین بنا دیا ہے۔علم و دانش اور لسان و ثقافت کی افادیت و اہمیت کی شروعات قصوں کے ذریعے ممکن ہوئی۔ابتدائی مراحل سے انسان ایک دوسرے کو زندگی کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں سکھاتا رہا۔مثلاً بھوک سےلڑنے کے لیے شکار کے طریقے،پودوں کی پہچان،معدنیات وحشرات کے فوائد،موسموں کی تبدیلی،خطرناک جانوروں سے بچاؤ کے سلیقے قصوں کی بدولت بنیادیں بنیں۔یہ سب کچھ قصوں کے ذریعے نسل در نسل منتقل ہوتا رہا۔

    قصوں کا سننا اور سنانا یہ صرف معلومات کا تبادلہ خیال نہیں تھا بلکہ قصوں کی ثقافتی روح نے آپس میں تعلقات و اتحاد کو فروغ دیا۔قصولیوں کی ابتدائی قصہ گوئی کی محفل نے انسانوں کی چھپی صلاحیتوں و خوبیوں کو نیا ترقی پذیر رخ عطاء کیا۔جب انسان روزی روٹی اور ذرائع معاش کے لیے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتا رہا تب روحانی خیال کی مشعل سے تاریک راہوں میں روشنی پھیلانے کا قصہ ہی سبب بنا۔ایک بشر سے دوسرے بشر تک روایات، عقائد، رسوم و رواج،تاریخ کو منتقل کرنےکا ذریعہ بھی بنتا رہا۔کائنات کی تخلیق کو سمجھنے کا پہلا چارٹ انسانی سوچ تھی جو قصہ کی شکل میں ابتدائی انسانوں کے پاس منتقل ہوئی۔

    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟
    آج کی دنیا کی طرح فطرت کے پیچیدہ عمل کو سمجھنے کے لیے سائنسی طریقے و علوم کے ادارے نہیں تھے۔انہوں نے اپنی زندگی کے واقعات اور فطرت کی قوتوں کو سمجھنے کے لیے قصولی کے قصوں اور افسانوں کا سہارا لیا۔قصہ کی بیٹھک ہی پہلی انسانی سائنس کی لیبارٹری بنی۔ قصوں میں پرندوں پر سواری کرنا ،جادوئی قالین پر سوار ہوکر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی دراصل آج کے انسان کے لیے ہوائی جہاز، ائیر بس،ہوائی کاریں،پیرا شوٹ کی تکمیل ہے۔ بادلوں کی گرج، سورج اور چاند کی روشنی اور دیگر قدرتی مظاہر میں دیوی و دیوتاؤں کی نشانیاں بتانے والا قصولی دراصل آج کا سائنس دان ہے۔قصہ میرے نزدیک روحانیت تصوف اور سائینسیت طبعیات کی دو مضبوط ترین آنکھیں،صاف شفاف صحت مند دو کان،دو نالی والی مضبوط ناک، تجربات،ممکنات،تحقیقات،محسوسات و مشاہدات کو پرکھنے والا دل و دماغ ہے۔

    زلزلے کےجھٹکے کو قصولی نےزمین کو ہلانے والے دیہہ کا غصہ سمجھ لیا تھا، قصولی کے مطابق زمین کو ایک بڑے بیل نے اپنے سینگوں پر اٹھا رکھا ہے اور جب وہ حرکت کرتا ہے تو زلزلہ آجاتا ہے۔یہ قصے دراصل انسانی بقاء کے تحفظ کے محافظ تھے۔جن کی بدولت قدرتی آفات سے نمٹنے کی حکمت عملی و پالیسی نے جنم لیا۔قصے نے نہ صرف ان کی زندگی کو بامعنی بنا دیا تھا بلکہ انہیں اپنے اردگرد کی دنیا کو سمجھنے میں بھی مدد بھی فراہم کرتا رہا۔قصہ انسانیت کی بھلائی کے لئے کمپاس ،روبوٹ،ریڈار ثابت ہوا۔انسانی رشتوں کی خوبصورتی کو قصوں کی رفعت نے آپس میں اتحاد ویکجہتی،امن،محبت و احترام کا نیا جہاں دیا۔ ٹوٹے دلوں میں نیا خلوص بھر دیا۔ قصے صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتے بلکہ حکمت کے وہ عملی پل یا بریج ہیں جو انسانوں کو آپس میں ایک دوسرے سے جوڑتے ہیں۔آگ کے گرد بیٹھے لوگوں کی آوازیں،ہنسی خوشی و غمی کے آنسو جب قصوں میں ڈوب جاتے تھے تو ایک ہی دھڑکن بن جاتے ہیں ۔

    قصوں کی بدولت آج سات براعظموں میں ایشیا،افریقہ،شمالی امریکہ،جنوبی امریکہ،انٹارکٹکا،آسٹریلیا ،یورپ پر مشتمل تقریبا ساڑھے سات ارب کی انسانی آبادی،ساڑھے چھ ہزار مختلف زبانیں بولنے والوں،متنوع ثقافتوں اور خطے کے لوگوں کا ایک دوسرے کے درد اور معاشی ترقی کو سمجھنے اور قبول کرنے میں کامیاب مدد ملی ہے۔قصے کی طلسماتی فکری نتیجہ خیز طاقت نےسب کو ایک گلوبل ویلج میں خوشی خوشی جوڑ دیا ہے۔آج بھی اسلام آباد لوک ورثہ قومی ادارے میں غیر ملکی انسانوں کا امن بھرا سرائیکی جھمر،مقامی حسن، رقص و موسیقی ،سرسنگیت سے مزین سرائیکیت نےسندھی ،چین،افریقی،بلوچی،پنجابی،پشتو، اردو،بلتی،کشمیری،انگلش،جاپانی،امریکن اورجرمنی کو ایک ہی قصے کے کردار بنا دیئے ہیں۔

    ایک قصہ جس میں مختلف انسانی جذبات و احساسات کو سنتے تھے تو ان کے اندر ایک ہی طرح کے جذبات پیدا ہوتے تھے۔وہ ایک دوسرے کی بات سمجھتے تھے۔وہ ایک دوسرے کے غم اور خوشی میں شامل ہوتے تھے۔ قصوں نے انسانوں کو مشترکہ تجربات فراہم کیے ہیں اور انہیں محسوس کرایا ہے کہ وہ اکیلے نہیں ہیں۔انہوں نے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لایا۔سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیا۔ثقافتی گلدستے کو مضبوط کیا۔قصوں نےمعاشرتی تبدیلی لانے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔قصوں نےاحترام آدمیت کے فلسفے کو بلندیوں پر پہنچایا۔لوگوں کوحق سچ ،عدل و انصاف،برابری،معاشی خوشحالی و معاشرتی اقدار کی اعلی قیادت اور آزادی کے لیے مشترکہ جدوجہد کرنے کی ترغیب دی ہے۔

    سرائیکی لوک قصے اب ایک مکمل بااعتماد عملی دستاویزات کی شکل اختیار کرچکے ہیں۔جن کی مدد سے سرائیکی وسیب میں ہر طرف معاشی و اخلاقی ،خوشحالی و تعمیر نو نظر آئے گی۔قصے نےصرف تفریح نہیں بلکہ ہمیں مشترکہ ثقافتی ورثہ بھی عطاء کیا ہے۔ہمیں ایک مشترکہ انسانیت کا احساس دلایا ہے۔قصے نے ہمیں سکھایا کہ ہم سب انسان جن کا خون سرخ رنگ کا ہے۔آدم کی اولاد ہونے کی وجہ سے آدمی ہیں۔سب ایک دوسرے کا احترام کریں۔کوئی کسی کے ساتھ ظلم و بربریت نہ کرے۔ہر انسان کو علمی قابلیت،صلاحیت و خوبی کی بنا پر ترقی ملے۔قصہ کا پیغام آفاقیت صرف یہ ہے کہ انسان انسان کو ہمیشہ نفع پہنچائے۔شرافت،صداقت،ایمانت اور دیانت کو عام کرے۔اتحاد،محبت و یقین محکم ویکجہتی،تنظیم کی پاسداری کرے۔

    ہم سب ایک ہی قصے کے تنوع ترقی یافتہ کردار ہیں۔آج بھی اور پھر کل جب ہم ایک مشکل وقت سے گزر رہےہوں گے تو پھر ہمارے قصے ہمیں خیر،وصیت صبروتحمل،بھلائی،امید،بہادری،نیکی،جرات،سخت محنت اور تصوف کے آفاقی فلسفہ جلال سے ہماری رہنمائی کرکے ہمیں پھر سےکامیاب بنائیں گے۔سرائیکی قصہ سرائیکی وسوں کا ہمیشہ مضبوط حوصلہ اور امن کا ہتھیار رہا ہے۔انسانی زندگی کی پہلی بنیادی درسگاہ مادرعلمی اسکول خود ماں کی گود ہوتی ہے جہاں ہمیں پہلا سبق قصے کی شکل میں سکھایا جاتا ہے۔

    سرائیکی عالمی قصہ منظوم و منثور دونوں صنفوں میں سرائیکی شعراء کرام و نثر نگار قصولیوں کے پیغام آفاقیت کا خوبصورت فلسفہ ہے۔جودنیا کے لٹریچر کو متاثر کررہا ہے۔مادری زبان میں قصے کا ابلاغ صدیوں کی روحانی و عرفانی فضیلت کی تاثیر عطا کرتا ہے۔قصہ پہلا اسکول ہے جہاں سے علم وادب، حکمت و دانش کو سیکھنے،سمجھنےاورتعلیمی تربیت کا آغاز ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔

  • غیر مطبوعہ شاعری برائے فروخت۔۔۔!!

    غیر مطبوعہ شاعری برائے فروخت۔۔۔!!

    غیر مطبوعہ شاعری برائے فروخت۔۔۔!!
    شاہد نسیم چوہدری
    ادب اور شاعری انسانی معاشرت کی گہری عکاسی کرتے ہیں لیکن ادب کے اس روشن چہرے پر جب گروپ بندی، سطحیت اور تجارتی مفادات کے دھبے نظر آنے لگیں تو یہ ایک سنجیدہ سوال پیدا کرتا ہے کیا ادب اپنی تخلیقی بنیادوں سے دور ہو رہا ہے؟

    صفدر ہمدانی کی حالیہ فیس بک پوسٹ جس میں انہوں نے اپنی غیر مطبوعہ شاعری کو فروخت کے لیے پیش کیا، نے مجھے گہرے افسوس اور حیرت میں مبتلا کر دیا۔ یہ پوسٹ محض ایک اعلان نہیں بلکہ اس میں ہمارے معاشرتی اور ادبی ماحول کی تلخ حقیقتوں کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ صفدر ہمدانی کا نام اردو ادب میں کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ وہ پچھلے ساٹھ برس سے اردو ادب کے لیے خاموشی سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کی شاعری، نثر اور مرثیہ نگاری اس بات کی گواہ ہے کہ انہوں نے ہمیشہ تخلیق کو اپنے دل کی آواز سمجھا اور کبھی کسی طمع یا ستائش کی تمنا نہیں کی۔ لیکن ان کا یہ قدم کہ وہ اپنی غیر مطبوعہ شاعری کو فروخت کے لیے پیش کر رہے ہیں ایک ایسا لمحہ ہے جو اردو ادب کے موجودہ منظرنامے پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔

    ادبی ماحول میں تخلیق کی جگہ تجارت کا غلبہ ہو گیا ہے، ادب کا اصل مقصد انسانی جذبات، سماجی مسائل اور تخلیقی اظہار کو آگے بڑھانا ہے۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج کا ادبی ماحول ان مقاصد سے بہت دور جا چکا ہے۔ صفدر ہمدانی نے اپنی پوسٹ میں جن حقائق کا ذکر کیا وہ محض ان کا ذاتی تجربہ نہیں بلکہ ہر سنجیدہ تخلیق کار کی مشترکہ شکایت ہے۔

    مشاعرے جو کبھی شعری ثقافت اور تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار کا ذریعہ تھے آج محض تجارتی تقاریب بن چکے ہیں۔ ان میں شرکت کا انحصار شاعری کے معیار پر نہیں بلکہ ذاتی تعلقات اور مالی مفادات پر ہوتا ہے۔ ایسے ماحول میں صفدر ہمدانی جیسے سنجیدہ تخلیق کاروں کے لیے جگہ کم ہوتی جا رہی ہے۔ صفدر ہمدانی نے اردو کے فروغ کے نام پر ہونے والی عالمی اردو کانفرنسوں کی حقیقت کو بے نقاب کیا ہے۔ ان کانفرنسوں پر بھاری سرمایہ خرچ ہوتا ہے، لیکن ان کے نتائج نہایت مایوس کن ہیں۔ اردو زبان کو قومی سطح پر نافذ کرنے کا خواب آج بھی تشنہ ہے اور ان کانفرنسوں نے اس سلسلے میں کوئی عملی کردار ادا نہیں کیا۔

    بیرون ملک منعقد ہونے والے مشاعرے اور کانفرنسیں ایک الگ داستان ہیں۔ یہ تقاریب زیادہ تر مخصوص افراد کے لیے مواقع پیدا کرنے کا ذریعہ ہیں جبکہ حقیقی تخلیق کار ان سے باہر ہی رہتے ہیں۔ صفدر ہمدانی کی مرثیہ نگاری پچاس برسوں پر محیط ہے لیکن اس صنف کے ساتھ ہونے والے سلوک نے انہیں بھی مایوس کیا ہے۔ مرثیہ جو کبھی معاشرتی مسائل اور انسانی جذبات کا آئینہ دار تھا، آج رسمی تقاریب تک محدود ہو چکا ہے۔ یہ ادب کی وہ صنف ہے جسے ہمارے تحفظ کی اشد ضرورت ہے لیکن اس کے ساتھ ہونے والے رویے نے اس کے مستقبل کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔

    غیر مطبوعہ شاعری برائے فروخت: ادب کے زوال کی علامت لگ رہی ہے۔ صفدر ہمدانی کا اپنی غیر مطبوعہ شاعری کو فروخت کے لیے پیش کرنا ایک جانب ان کی مایوسی کو ظاہر کرتا ہے اور دوسری جانب یہ ادب کے زوال کی طرف اشارہ بھی ہے۔ ڈیڑھ ہزار کے قریب غیر مطبوعہ اشعار جو ان کے تخلیقی سفر کی گواہی دیتے ہیں ایسے قارئین اور شعری محققین کے منتظر ہیں جو ان کی قدر کریں۔ یہ اقدام شاید روایتی اصولوں سے ہٹ کر ہو لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ آج کا ادبی ماحول تخلیقی افراد کے لیے اتنا سازگار نہیں رہا کہ وہ اپنی تخلیقات کو معیاری پلیٹ فارمز تک پہنچا سکیں۔

    ادب کے لیے آگے کا راستہ دیکھنا چاہیے۔ صفدر ہمدانی کے اعلان کو ایک موقع کے طور پر لینا چاہیے تاکہ ہم اپنے ادبی ماحول کا جائزہ لے سکیں اور اس میں بہتری کے لیے اقدامات کر سکیں۔ ہمیں ادب کو گروپ بندی اور سطحیت سے آزاد کرنے کی ضرورت ہے۔ تخلیق کاروں کو وہ مقام دینا ہوگا جو ان کا حق ہے اور مشاعروں و کانفرنسوں کو ادب کے اصل مقاصد کے لیے استعمال کرنا ہوگا۔

    صفدر ہمدانی کی آواز ہم سب کی پکار ہونی چاہیے۔ صفدر ہمدانی کی پوسٹ ایک ایسی پکار ہے جسے سننے کی ضرورت ہے۔ یہ صرف ان کی ذاتی کہانی نہیں بلکہ ہر اس تخلیق کار کا درد ہے جو ادب سے محبت کرتا ہے۔ ہمیں اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے ادب کے اصل مقاصد کی طرف واپس لوٹنا ہوگا۔ اردو ادب ایک قیمتی اثاثہ ہے اور صفدر ہمدانی جیسے افراد اس کے اصل محافظ ہیں۔ ہمیں ان کی آواز کو سننا اور اس کا احترام کرنا ہوگا تاکہ ادب اپنی اصل روح کے ساتھ اگلی نسلوں تک پہنچ سکے۔

    صفدر ہمدانی کی تحریر اُس پکار کی ترجمان ہے جو ادب اور تخلیق کے حقیقی معنوں کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے کی گئی ہے۔ انہوں نے اپنی غیر مطبوعہ شاعری کو فروخت کے لیے پیش کیا ہے تاکہ وہ لوگ اسے اپنائیں جو اس کی قدر کریں اور اسے آگے بڑھائیں۔ یہ قدم شاید روایتی اصولوں سے ہٹ کر ہو لیکن تخلیق اور ادب کے تحفظ کے لیے اس سے بہتر راستہ شاید نہ ہو۔ میں ان تمام افراد کو دعوت دیتا ہوں جو ادب کے حقیقی علمبردار ہیں کہ آئیں اور اس مشن میں دل برداشتہ صفدر ہمدانی صاحب کا ساتھ دیں۔

    تو نے کمال کام یہ نادان کر دیا
    گھر میں مجھے خود اپنا ہی مہمان کر دیا

    بس اک ذرا سی بھول ہوئی اختلاف کی
    بے دخل کر کے تخت سے دربان کر دیا

    اے بد نصیب میرا یقیں مجھ سے چھین کر
    تجھ کو یہ زعم ہے مرا نقصان کر دیا

    بزدل تھا میں جو کر نہ سکا خود یہ انتظام
    صد شکر تم نے موت کا سامان کر دیا

    ہائے لگا کے آگ چراغاں کے شوق میں
    حاکم نے سارے شہر کو ویران کر دیا

    قد سے مرا سوال بڑا تھا سو اس لیے
    محسن کو اپنے داخل زندان کر دیا

    خیرات دے کے گزرا ہے جو میرے پاس سے
    اس نے کبھی مجھے بھی تھا بھگوان کر دیا

    یوں تو میں محتسب رہا اپنا تمام عمر
    تم نے مگر بتا کے یہ حیران کر دیا

    صفدرؔ قنوطیت کا یہ اعزاز جو ملا
    اعزاز دینے والے نے احسان کر دیا

    نوٹ: یہ کالم ایک تخلیقی قدم کے جواز اور ادب کی موجودہ حالت پر تنقید کے طور پر لکھا گیا ہے۔ امید ہے کہ یہ قارئین کو ادب کی گمشدہ قدروں پر سوچنے کی تحریک دے گا۔

  • پیرس میں ادبی محفل "ڈوھنگیاں چوٹاں” کی پذیرائی اور مشاعرہ

    پیرس میں ادبی محفل "ڈوھنگیاں چوٹاں” کی پذیرائی اور مشاعرہ

    پیرس میں ادبی محفل "ڈوھنگیاں چوٹاں” کی پذیرائی اور مشاعرہ
    پیرس سے عاکف غنی ملک کی رپورٹ
    دسمبر کا مہینہ یوں تو اداسی کے لیے مشہور ہے، خاص طور پر شعراء نے اس مہینے کو کچھ زیادہ ہی بدنام کر رکھا ہے۔ لیکن اگر اسی مہینے میں کسی ادبی نشست کا اہتمام ہو جائے تو یہ اداس مہینہ ادبی رونق میں بدل جاتا ہے۔ ایسی ہی ایک شاندار تقریب کا انعقاد پیرس کی معروف ناول نگار اور شاعرہ محترمہ شاز ملک نے اپنے دولت کدے پر کیا۔ اس یادگار شام کے انتظامات میں ان کے شوہر ملک سعید نے بھرپور تعاون کیا اور یوں دسمبر کی ایک سرد شام کو ادبی حوالے سے گرمجوش اور یادگار بنا دیا۔

    پیرس کے نواحی علاقے ولی اے لو بیل میں محترمہ شاز ملک کی رہائش گاہ پر منعقدہ اس تقریب کا مقصد راجہ زعفران کے پوٹھوہاری زبان میں شعری مجموعے "ڈوھنگیاں چوٹاں” کی پذیرائی اور اس کے ساتھ ایک محفل مشاعرہ کا انعقاد تھا۔ تقریب کی صدارت محترمہ شاز ملک نے کی، جبکہ مختلف شعرا اور ادیبوں نے کتاب پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

    "ڈوھنگیاں چوٹاں” پر اظہار خیال کرنے والوں میں ایاز محمود ایاز، محترمہ شاز ملک، شمیم آپا، شبانہ چوہدری، اور طاہرہ سحر شامل تھے۔ مقررین نے راجہ زعفران کی شاعری کی تعریف کرتے ہوئے اس کی ادبی اہمیت کو اجاگر کیا اور پوٹھوہاری ادب میں اس کے اضافے کو سراہا۔

    کتاب کی پذیرائی کے بعد محفل مشاعرہ کا آغاز ہوا جس میں معروف شعرا نے اپنا کلام پیش کیا اور حاضرین سے بھرپور داد سمیٹی۔ مشاعرے میں شرکت کرنے والے شعرا میں مس سعدیہ، طاہرہ سحر، شمیم آپا، نبیلہ آرزو، محمود راہی، عاشق رندھاوی، آصف آسی، مقبول الٰہی شاکر، ایاز محمود ایاز، راجہ زعفران، اور عاکف غنی شامل تھے۔

    شاعری کے اس خوبصورت سلسلے کے بعد میزبانوں کی جانب سے پرتکلف عشائیہ پیش کیا گیا۔ مہمانوں نے میزبانوں کی گرمجوشی اور اہتمام کو سراہا۔ اس تقریب نے بھیگتے، ٹھٹھرتے اور اداس دسمبر کو زبان و ادب کی چاشنی سے بھرپور کر کے ایک خوشگوار اور یادگار شام میں بدل دیا۔

    تقریب کی تصویری جھلکیاں