Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • پھر اک بک فئیر ہے اور ہم ہیں دوستو.تحریر:راحت عائشہ

    پھر اک بک فئیر ہے اور ہم ہیں دوستو.تحریر:راحت عائشہ

    انیسواں کراچی انٹرنیشنل بک فئیر اپنے اختتام کو پہنچا ۔۔ یوں سمجھیں گویا کوئی عید تھی جو اس شہر میں کتابوں سے محبت رکھنے والے منا رہے تھے۔ ہماری خوش قسمتی تھی کہ جس دن کتاب میلے کا آغاز ہوا اسی دن ہم کراچی پہنچے۔ اور اگلے ہی دن بک فئیر میں ۔۔۔۔
    وہاں ایک عید کا سا سماں تھا ۔ بچوں کے کتاب گھر پر ہماری پہلی ملاقات فرحی نعیم سے ہوئی ،فہیم عالم صاحب اور کاوش صدیقی صاحب بھی وہیں موجود تھے ۔نئی نئی کتابیں دیکھ کر ہی دل کو بہت خوشی ہوئی ۔ یہاں ہماری ملاقات کاوش صدیقی صاحب کی جل پری سے بھی ہوئی ۔۔ اٹلانٹس کے اسٹال پر فاروق صاحب کے ساتھ ساتھ کرن صدیقی ، سمیر، ، عقیل عباس جعفری ، راشد اشرف ، محمود احمد مودی صاحبان جیسی شخصیات سے ملاقات ہوئی ۔ کچھ دیر بعد محبوب الٰہی مخمور صاحب اپنی صاحب زادی زوہا کے ساتھ تشریف لائے۔ کچھ دیر بات چیت ہوئی اور پھر ہم آگے چلے۔۔

    اسی دن ہمارے چچا حاطب صدیقی کی کتاب پھولوں کی زباں کی تقریب تھی جو پہلے چار بجے ہونی تھی اور اب پانچ بجے پر چلی گئی تھی اس لیے وہ ہال میں ایڈیٹر جسارت یحییٰ بن زکریا کے ساتھ چہل قدمی فرما رہے تھے۔ یہیں فیصل شہزاد صاحب بھی نظر آئے ۔یہاں پیاری فرزین لہرا بھی تھیں، خالد دانش بھی، معاذ معاویہ صاحب نے اپنی کتاب میرال کی گڑیا کا تحفہ بھی دیا ، معروف مترجم اسد الحسینی سے بھی ملاقات ہوئی اور انہوں نے بھی اپنی ایک عربی کتاب دی۔۔۔ ایک اسٹال پر ہمیں سر سلیم مغل اپنی نواسی کنزا کے ساتھ کتابیں خریدتے دکھائی دیے۔ ننھی کنزا بھی کتابوں کی خوشبو سے لطف اندوز ہو رہی تھیں۔۔۔ان کے ساتھ بک کارنر پر پہنچے تو وہاں علی اکبر ناطق اور گگن شاہد صاحب سے ملاقات ہوئی ۔ گگن صاحب نے ہمیں چائے پینے کی دعوت بھی دی لیکن کیا کریں کہ چائے ہمیں اچھی نہیں لگتی انہیں منع کرتے ہوئے بھی تھوڑا سا افسوس ہوا۔ بچوں کے کتاب گھر پر آئے تو دو پیاری پیاری بچیوں ایمن ، حبیبہ اور ان کی امی سے ملاقات ہوئی جو ہماری کہانیوں کی قاری نکلیں۔۔ انہوں نے ہم سے آٹو گراف لیا بچیوں کی خوشی دیکھ کر سچ پوچھیں تو ہمیں شاید ان سے زیادہ خوشی ہو رہی تھی ۔ اب چچا حاطب کی تقریب کا آغاز ہورہا تھا تو ہم اوپر تقریب میں چلے گئے جہاں حفصہ فیصل سے بھی ملاقات ہوئی ۔

    اگلی دن ہمیں ناجیہ شعیب صاحبہ ،فرزین لہرا، ان کی والدہ، آمنہ احسن، ایڈیٹر وی شائن نجیب حنفی صاحب ، ایڈیٹر ساتھی عبدالرحیم متقی ، سابق ایڈیٹر ساتھی اعظم طارق کوہستانی اور ساتھی کی دیگر ٹیم ممبران سے ملاقات ہوئی ۔ خوشی کی بات یہ بھی تھی کہ اس مرتبہ دسمبر کے ساتھی میں ہماری بھی ایک کہانی شامل ہے ۔
    اسما قادری سے بھی اچانک ملاقات ہوئی ۔۔ وہ کسی اور کو اپنا نام بتا رہی تھیں اور ہم نے وہیں انہیں پکڑ لیا۔۔۔

    ذوق شوق کے اسٹال پر مدیر صاحب نے ذوق شوق کا رسالہ اور ایک خوبصورت قلم کا تحفہ دیا۔۔
    اب کچھ کتابوں پر بات ہوجائے۔۔ اس مرتبہ بچوں کی اردو رنگین کتابوں میں کافی ورائٹی نظر آئی، دس بارہ صفحات پر مشتمل آرٹ پیپر پر رنگ برنگی تصویری کہانیوں کی قیمتیں پانچ چھ سو روپے تھیں جو بک فئیر میں آدھی قیمت پر دستیاب تھیں۔ ہال نمبر ایک اور ہال تین میں انگریزی ادب زیادہ تھا۔ بچوں کی انگریزی کتابیں بھی کافی معیاری قیمت پر تھیں۔ کہتے ہیں لوگ کتابیں نہیں پڑھتے لیکن یہاں تو بڑے، بچے بوڑھے سب ہی اپنی پسند کی کتابیں ڈھونڈ رہے تھے۔ کہیں اماں ابا بچوں سے پیسوں کے معاملے میں مک مکا کرتے بھی نظر آئے، میرا نہیں خیال کہ جو ان حالات میں (ایکسپو کے سامنے والی سڑک پر تعمیراتی کام کی وجہ سے ٹریفک) یہاں آئے، مہنگائی کے اس زمانے میں کتابیں خریدے اور پھر وہ پڑھے نا۔۔۔۔

    ہماری پیاری سہیلیاں صدیقی سسٹرز ہی دو دن میں ساٹھ کتابیں لے گئی ہیں۔ اور کتابیں بھی ایک سے بڑھ کر ایک ۔۔ اگر آپ کو اچھی کتابوں کے نام چاہییں تو گل رعنا صدیقی کی "دیوار "پر جھانک لیں۔۔
    عید کا اختتام ہوا۔ اب ان شاءاللہ کچھ کتابوں پر تبصرہ کتابیں پڑھنے کے بعد کرتے ہیں۔
    آپ نے بھی اس سال بک فئیر میں شرکت کی ؟ کیا آپ کو بھی ہماری طرح اس بک فئیر کا انتظار رہتا ہے ، ہاں جو کتابیں بک فئیر سے لی ہیں یا پڑھنے کے لیے جمع کر رکھی ہیں ان کے نام بھی بتا سکتے ہیں تاکہ ہمارے باقی احباب بھی مستفید ہو سکیں۔

    اے ذوق کسی ہمدمِ دیرینہ کا ملنا۔۔۔تحریر:راحت عائشہ

  • جون ایلیاء کی 93 ویں سالگرہ: اردو ادب کا بے مثال شاعر

    جون ایلیاء کی 93 ویں سالگرہ: اردو ادب کا بے مثال شاعر

    آج اردو ادب کے معروف شاعر، فلسفی، اور سوانح نگار جون ایلیاء کے مداح ان کی 93 ویں سالگرہ منارہے ہیں۔

    جون ایلیاء کا اصل نام سید جون اصغر تھا، اور وہ 14 دسمبر 1931ء کو بھارت کی ریاست اتر پردیش کے شہر امروہہ میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا تعلق ایک علمی و ادبی گھرانے سے تھا، جہاں ادب و ثقافت کی عظیم روایات کا آغاز ہوا۔ ان کے والد، علامہ شفیق حسن ایلیاء، ایک بلند پایہ عالم تھے، جنہوں نے اردو، فارسی، عربی، اور عبرانی زبانوں میں مہارت حاصل کی۔ ان کے بڑے بھائی، سید محمد تقی اور رئیس امروہوی بھی اردو ادب کی دنیا کے جانے پہچانے نام تھے۔

    جون ایلیاء نے اپنے ادبی سفر کا آغاز بچپن میں کیا، اور صرف 8 سال کی عمر میں پہلا شعر کہا تھا۔ اس کے بعد وہ شاعری میں گہرائی اور لطافت کی نئی راہیں کھولتے گئے اور اپنی زندگی بھر کی تخلیقی سفر میں وہ اردو ادب کے منفرد شاعر بن گئے۔جون ایلیاء کی شاعری میں ایک خاص نوعیت کی بے باکی اور انفرادیت تھی، جس کی بدولت وہ نوجوان نسل کے پسندیدہ شاعر بنے۔ ان کی تحریروں میں فلسفے، تاریخ، منطق، اور یورپی ادب کا حسین امتزاج پایا جاتا تھا۔ ان کا اندازِ تحریر اتنا نرالا اور جاندار تھا کہ وہ اردو کے روایتی اشعار سے ہٹ کر ایک نئی شعری فضا تخلیق کرنے میں کامیاب ہوئے۔ ان کی شاعری میں انسانی جذبات، محبت، تنہائی، اور دنیا کی حقیقتوں کا گہرا عکس تھا۔

    شاعری کے مجموعے اور ادبی خدمات
    جون ایلیاء کے مشہور شعری مجموعوں میں "شاید”، "یعنی”، "لیکن”، "گمان” اور "گویا” شامل ہیں۔ ان مجموعوں نے اردو ادب کی دنیا میں ایک نیا سنگ میل قائم کیا۔ ان کی شاعری کی خصوصیت یہ تھی کہ وہ ایک طرف جہاں حقیقتوں اور تلخ حقیقتوں کی عکاسی کرتے، وہیں دوسری طرف ان کے اشعار میں فلسفہ اور گہری سوچ بھی چھپی ہوئی ہوتی تھی۔جون ایلیاء نے نہ صرف شاعری میں بلکہ سوانح نگاری، فلسفے اور ادبی تنقید میں بھی نمایاں کام کیا۔ ان کی گہری بصیرت اور وسیع علم نے انہیں ایک منفرد مقام دیا۔ انہوں نے پاکستان کے معروف کالم نگار و افسانہ نگار زاہدہ حنا سے شادی کی تھی، تاہم یہ رشتہ کامیاب نہ ہو سکا۔

    اعزازات اور یادگار خدمات
    جون ایلیاء کی ادبی خدمات کو حکومتِ پاکستان نے بھی سراہا اور 2000ء میں انہیں "صدارتی تمغۂ حسنِ کارکردگی” عطا کیا۔ ان کے کلام کی بازگشت آج بھی اردو ادب کے محافل میں سنائی دیتی ہے۔جون ایلیاء 8 نومبر 2002ء کو اس دنیا سے رخصت ہوگئے، لیکن ان کی شاعری اور افکار آج بھی زندہ ہیں۔ انہیں کراچی کے سخی حسن قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔آج ان کی 93 ویں سالگرہ کے موقع پر ان کے مداح اور اردو ادب کے شائقین ان کی یادوں کو تازہ کر رہے ہیں، اور ان کی شاعری کو پڑھ کر اور سراہ کر انہیں خراجِ تحسین پیش کر رہے ہیں۔ جون ایلیاء کا کلام آج بھی ادب کی دنیا میں ایک نشانِ منزل کی حیثیت رکھتا ہے اور اردو شاعری کے دلدادہ افراد کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب کی چین کی ٹیکنالوجیز کمپنیوں کو آپریشن شروع کرنے کی دعوت

    اسلام آباد: ہوٹل میں لڑکی کی لاش ملنے کا کیس، ملزم علی رضا گرفتار

  • تسخیر کائنات

    تسخیر کائنات

    تسخیر کائنات
    مصنفہ :قرۃالعین خالد
    مبصر :اکبر علی شاہد
    ادبی افق پر قرۃالعین خالد کا نام پوری آب و تاب سے چمکنے لگا ہے۔ آپ کا قلم صحیح معنوں میں جہاد کر رہا ہے۔ آپ کا قلم کسی طور بھی مجاہد کی تلوار سے کم نہیں۔
    ان کی پہلی تصنیف” اضطراب سے اطمینان تک “پر پہلے تبصرہ کر چکا ہوں، اس کتاب میں قرآن کی ان آیات کا ذکر ہے جن میں مومنوں کو مخاطب کیا گیا ہے ۔ مصنفہ نے بہترین انداز میں ان آیات کا ترجمہ و تفسیر بیان کی ہے ان آیات کا موجودہ دور سے تعلق بھی سمجھایا ہے۔ میں سمجھتا ہوں اس کتاب کا ہر مومن کی لائبریری میں ہونا ضروری ہے ۔

    ان کی دوسری کتاب” تسخیر کائنات“ کالمز کا مجموعہ ہے ۔ مطالعہ کے دوران میں نے محسوس کیا یہ ان کے جذبات و احساسات کا مجموعہ ہے۔ انھوں نے جس خوبصورت انداز میں اپنے والدین کو خراج تحسین پیش کیا ہے وہ آنکھیں نم کر گیا ۔
    کتاب کا انتساب بھی انھوں نے اپنے والد محترم کے نام کیا ہے۔ لکھتی ہیں :
    بہت ہی پیارے انتہائی شفیق!
    سب سے محبت کرنے والے!
    انسان کے نام!
    خالد محمود
    میرے پیارے ابو جی! سلامت رہیں آمین

    اللہ پاک ہر بیٹی کی پہلی محبت اس کے والد کا سایہ اس کے سر پر سلامت رکھے آمین ثم آمین
    کتاب میں جناب قاسم علی شاہ، محمد ایوب صابر، نعمت اللہ ارشد گھمن، ہما مختار احمد اور ثنا آغا خان جیسے بہترین مصنفین کی رائے شامل ہے ۔ ان سب نے کتاب کو بہت سراہا ہے جو کہ کتاب کا حق ہے۔ یہ بلاشبہ ایک خوبصورت اور کردار ساز کتاب ہے۔ ہمارے معاشرے کے ہر پہلو پر تعمیری انداز میں بحث کی گئی ہے۔ رشتوں کی اہمیت و خوبصورتی پر خوب قلم چلایا گیا یے۔ مصنفہ نے کتاب میں نثر کے ساتھ ساتھ اپنی شاعری کے بھی کچھ نمونے شامل کیے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے ان کا شاعری کا ذوق بھی بہت خوب ہے۔ کتاب کے شروع میں رب کی ذات پاک پر چھوٹی سی نظم لکھی یے۔
    وہ والدین کے متعلق لکھتی ہیں :
    ؀ ان کے پیروں کے نیچے ہے جنت میری
    ان کی دعاؤں سے روشن ہیں بخت میرے

    رشتوں سے محبت کے ساتھ ساتھ انھوں نے بچوں کی تربیت پر خاصا زور دیا ہے، کتاب کی اہمیت جتائی ہے۔ سانحہ سیالکوٹ پڑھتے ہوئے یہ انکشاف ہوا کہ مصنفہ کتنا حساس دل رکھتی ہیں، ہر معاملے کو ہر رخ سے دیکھنے کی نگاہ رکھتی ہیں۔ ہر معاملے ہر واقعہ کو بیان کرتے ہوئے قرآن و حدیث کے حوالے ان کی دین سے محبت کی نشانی ہیں۔ کرونا کے تناظر پر لکھا ان کا کالم بھی پڑھنے لائق ہے۔
    ان کی تحریر” فریب “ پڑھ کر ایسا لگا جیسے دل کو کسی نے مٹھی میں بھینچ دیا گیا ہو۔
    ” آج صائمہ کو دیا گیا فریب خود اس کی جھولی میں آ گرا، فریب اپنے مالک کو تلاش کر ہی لیتا ہے ۔ “

    اف! کتنے سچے ہیں یہ الفاظ، آئینہ دکھاتے الفاظ ۔۔۔۔
    مصنفہ کی تحریر بعنوان سٹریس (زہنی دباؤ) ہم سب کو ضرور پڑھنی چاہیے، بہت مفید تحریر ہے، جگہ کی تنگی کا احساس نہ ہوتا تو میں یہ تحریر اس تبصرے میں مکمل طور پر شامل کر دیتا۔
    کیسا حسین اتفاق ہے کہ میں یہ تبصرہ بھی سال کے آخری ماہ دسمبر میں لکھ رہا ہوں ۔ نئے سال پر ان کی نثری نظم دل کو بہت بھلی لگی۔
    ابھی سال کے آخر میں
    مجھے کچھ وعدے کرنے ہیں
    کچھ نئے سپنے بننے ہیں
    بھلا کر ماضی کی غلطیوں کو
    نئی راہوں پر چلنا ہے
    مایوسیوں کے در چھوڑ کر
    مجھے بس آگے بڑھنا ہے
    مجھے منزل کو پانا ہے
    مجھے راستہ بنانا ہے

  • مذمتی کالم: بنام انور مقصود ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    مذمتی کالم: بنام انور مقصود ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    پاکستان میں ادب اور فنونِ لطیفہ ہمیشہ سے ایک اہم مقام رکھتے ہیں۔ ان شعبوں میں کئی شخصیات نے اپنی ذہانت، بصیرت اور تخلیقی صلاحیتوں سے قوم کو شعور و آگہی فراہم کی ہے۔ ان میں انور مقصود جیسا نام بھی شامل ہے، جنہیں پاکستانی معاشرے میں طنز و مزاح کے حوالے سے ایک ممتاز مقام حاصل ہے۔ مگر حالیہ دنوں میں ان کی جانب سے نیوی کے فوجیوں کی شہادت پر طنزیہ الفاظ کا استعمال، خاص طور پر "ڈوب مرنا” جیسے الفاظ، نہایت افسوسناک اور غیر ذمہ دارانہ ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف ان کی شخصیت پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے بلکہ قوم کے جذبات کو بھی ٹھیس پہنچاتا ہے۔شہداء کا مقام اور قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔شہداء کسی بھی قوم کا فخر اور سرمایہ ہوتے ہیں۔ وہ لوگ جو اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر قوم کی سلامتی اور آزادی کو یقینی بناتے ہیں، ان کا احترام ہر شہری کا فرض ہے۔ پاکستان نیوی کے اہلکار سمندروں میں اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر ملک کی حفاظت کرتے ہیں۔ ان کی قربانیاں کسی بھی صورت معمولی نہیں ہیں۔ سمندر کی گہرائیوں میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنا ایک ایسا عمل ہے جو نہایت ہمت اور بہادری کا متقاضی ہوتا ہے۔ انور مقصود جیسے سینئر اور باوقار ادیب کی جانب سے ان قربانیوں کا مذاق اڑانا نہ صرف شہداء کی توہین ہے بلکہ ان کے اہل خانہ اور پوری قوم کے جذبات کو بھی مجروح کرتا ہے۔ادب اور فنونِ لطیفہ کا مقصد ہمیشہ معاشرتی شعور کو بیدار کرنا اور عوام کو مثبت پیغام دینا رہا ہے۔ انور مقصود جیسے ادیب سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنی تخلیقات اور بیانات میں نہ صرف الفاظ کا احتیاط سے استعمال کریں بلکہ ایسی حساس موضوعات پر خاص طور پر ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ طنز و مزاح کا مطلب کسی کی تضحیک یا جذبات کو مجروح کرنا نہیں بلکہ مسائل کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ اصلاح کی طرف راغب کرنا ہوتا ہے۔ مگر "ڈوب مرنا” جیسے الفاظ نہ صرف غیر اخلاقی ہیں بلکہ ان میں کسی بھی قسم کی دانشمندی یا مزاح کا پہلو بھی موجود نہیں۔اسےضعیف العمری کہیں یا غیر ذمہ داری؟۔

    کچھ لوگ انور مقصود کے اس بیان کو ان کی ضعیف العمری اور بھول چوک کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں، مگر یہ دلیل کسی بھی طرح قابل قبول نہیں۔ ضعیف العمری کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنے الفاظ کے اثرات کو سمجھنے کی صلاحیت کھو بیٹھے۔ اگرچہ ان کی عمر کا لحاظ کیا جا سکتا ہے، لیکن ایک عوامی شخصیت ہونے کے ناطے ان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی زبان کا احتیاط سے استعمال کریں۔ ان کے چاہنے والوں میں ہر عمر کے لوگ شامل ہیں، اور ان کے بیانات براہ راست لوگوں کے ذہنوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔قوم کے جذبات پر اس بات کا شدید اثر پڑا ہے۔پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں مسلح افواج کو عوام کی بھرپور حمایت اور محبت حاصل ہے۔ یہاں فوجیوں کو نہ صرف محافظ بلکہ قومی ہیرو کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ان کی قربانیوں کا اعتراف ہر سطح پر کیا جاتا ہے۔ ایسے میں انور مقصود جیسے معروف فنکار کی جانب سے شہداء کا مذاق اڑانے والا بیان عوامی جذبات کو شدید ٹھیس پہنچاتا ہے۔ یہ بیان نہ صرف شہداء کے خاندانوں کے لیے باعثِ اذیت ہے بلکہ قوم کی مشترکہ یکجہتی اور قربانیوں کی قدردانی کے جذبے کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔

    اس بیان پرمعافی اور اصلاح کی ضرورت ہے۔یہ وقت انور مقصود کے لیے سنجیدگی سے غور کرنے کا ہے۔ ان پر لازم ہے کہ وہ اپنے بیان پر معافی مانگیں اور اپنی غلطی کا اعتراف کریں۔ ایک معافی نہ صرف ان کے لیے عزت بحال کرنے کا سبب بن سکتی ہے بلکہ یہ ان کی جانب سے شہداء اور ان کے اہل خانہ کے لیے احترام کا اظہار بھی ہوگا۔ انور مقصود کو اپنی حیثیت اور مقام کا درست استعمال کرتے ہوئے ایسے بیانات دینے سے گریز کرنا چاہیے جو قوم کے اتحاد کو نقصان پہنچائیں۔

    پاکستانی قوم ہمیشہ سے اپنے ادیبوں، شاعروں اور فنکاروں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی آئی ہے۔ یہ شخصیات قوم کے اخلاقی رہنما بھی ہوتی ہیں، اور ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ نہ صرف سماج کے مسائل پر روشنی ڈالیں بلکہ ایسی مثال قائم کریں جو نوجوان نسل کے لیے مشعلِ راہ بن سکے۔تحدیک نفاذ اردو کی سرپرست فاطمہ قمر صاحبہ نے انور مقصود کےاس بیان کا نوٹس لیتے ہو ئے سوشل میڈیا پر لکھا کہ انور مقصود ضعیف العمری میں گھٹیا بھانڈ بن چکا ہے۔شہادت کو ڈوب مرنا کہ کر,اس نے اسلامی شعار کا مذاق اڑایا ہے۔

    بحثیت محب وطن راقم فاطمہ قمر صاحبہ کے بیان کی پرزور تائید کرتا ہے۔انور مقصود کا پڑھے لکھے خاندان سے تعلق ہونا اور فاطمہ ٹریا بجیا کا بھائی ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا۔۔۔۔ذبردست نقاد، کمال کا فنکار اور ادیب ہونا بھی کوئی معنی نہیں رکھتا۔۔۔۔۔۔جو اپنے ملک، اپنی فوج کے بارے تضحیک آمیز کلمات بول کر ۔۔۔اسے نقادی،ادیبی اور فنکاری کے کپڑے پہنائے۔۔۔۔۔۔معذرت کے ساتھ انتہائی احترام کے ساتھ ایسے ہر شخص کو ہم ۔۔۔۔اپنی جوتی کی نوک پر رکھتے ہیں۔۔۔۔

    انور مقصود کی جانب سے نیوی کے فوجیوں کی شہادت پر طنزیہ تبصرہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور قابل مذمت ہے۔ شہداء کی قربانیاں کسی بھی قوم کے لیے قابل احترام ہوتی ہیں، اور ان پر طنز کرنا ان کے اہل خانہ اور پوری قوم کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف ہے۔ انور مقصود جیسے معروف ادیب سے ایسے غیر حساس بیان کی توقع نہیں کی جا سکتی تھی۔ ان کے الفاظ نہ صرف شہداء کی قربانیوں کی توہین ہیں بلکہ یہ معاشرتی اخلاقیات اور ادب کے اصولوں کے بھی منافی ہیں۔ ہم ان سے توقع کرتے ہیں کہ وہ اپنے بیان پر معافی مانگیں اور اپنی حیثیت کو مثبت انداز میں استعمال کریں تاکہ قوم کو یکجہتی اور احترام کے پیغام دیں۔ شہداء ہماری عزت اور فخر ہیں، ان کی قربانیوں کا احترام ہم سب پر فرض ہے۔۔۔۔۔میں فاطمہ قمر صاحبہ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے۔۔۔انور مقصود کی باتوں کا نوٹس لیا۔۔اور باوجود اس کے کہ جناب موصوف کا تعلق بھی ہمارےقلم قبیلے سے ہے۔۔۔۔بتا دیا کہ پاکستان اور اسکی افواج پر کوئی سمجھوتہ نہیں۔۔۔۔۔۔۔ویلڈن آپا جی۔۔۔ویلڈن۔۔۔ انور مقصود جیسے فنکار کو چاہیے کہ وہ اپنی حیثیت کو مثبت انداز میں استعمال کریں اور اپنے بیانات کے ذریعے قوم میں اتحاد، محبت، اور قربانیوں کا احترام پیدا کریں۔انور مقصود کے حالیہ بیان نے قوم کے دلوں میں ایک مایوسی کی لہر دوڑا دی ہے۔ یہ واقعہ ہمیں یہ یاد دہانی کرواتا ہے کہ الفاظ کی اہمیت اور ان کے اثرات کو کبھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ مسلح افواج اور ان کے شہداء ہماری قومی یکجہتی کی بنیاد ہیں، اور ان کی قربانیوں کا احترام ہم سب پر فرض ہے۔ انور مقصود جیسے ادیب کو اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے معافی مانگنی چاہیے اور اپنے الفاظ کے اثرات کو سمجھتے ہوئے آئندہ محتاط رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ ادب اور فن کی اصل روح یہی ہے کہ وہ معاشرے میں مثبت تبدیلی لائے اور ایسی مثال قائم کرے جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہو۔

    نوٹ: آج۔کا یہ مذمتی کالم بنام انور مقصود بڑے دکھی دل کے ساتھ لکھا ہے،لیکن پاکستانی افواج کی عزت اور شہداءکے احترام پر کوئی سمجھوتہ نہیں۔۔

    shahid naseem

  • کس کی لگن میں پھرتے ہو۔سفر نامہ سعید آسی.تبصرہ :شاہد نسیم چوہدری

    کس کی لگن میں پھرتے ہو۔سفر نامہ سعید آسی.تبصرہ :شاہد نسیم چوہدری

    سعید آسی اردو ادب کاوہ معتبر نام ہے، جو اپنی متنوع تحریری صلاحیتوں کی بنا پر ادب، صحافت اور تحقیق میں ہمیشہ یاد رکھاجائے گا۔ ان کا سفرنامہ "کس کی لگن میں پھرتے ہو” نہ صرف ایک کتاب ہے بلکہ ایک ایسا تخلیقی آئینہ ہے جو قارئین کو مالدیپ، برونائی، اور انڈونیشیا جیسے خطوں کی تہذیب، ثقافت، اور تاریخ کے حسین رنگ دکھاتا ہے۔ یہ سفرنامہ ایک ادیب کی خالص جمالیاتی حس اور محقق کی باریک بینی کا حسین امتزاج ہے، جس نے قارئین کو ان ممالک کے دلکش مناظر اور منفرد پہلوؤں سے روشناس کرایا۔کتاب کا عنوان "کس کی لگن میں پھرتے ہو” ایک شعری کیفیت اور فلسفیانہ گہرائی کا حامل ہے۔ یہ نہ صرف سفر کے ظاہری پہلو کو اجاگر کرتا ہے بلکہ اس کے باطنی معنی کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔ یہ نام قاری کو یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ شاید یہ سفر صرف مقامات کے بیچ کا نہیں بلکہ ایک روحانی، فکری، اور تہذیبی جستجو بھی ہے۔سعید آسی صاحب کی نثر کا کمال یہ ہے کہ وہ سادہ مگر موثر الفاظ میں اپنی بات کہنے کا ہنر جانتے تھے۔ ان کا یہ سفرنامہ بھی اس خوبی کا آئینہ دار ہے۔ ان کی تحریر کا بہاؤ اور مناظر کی جزئیات نگاری قارئین کو ان کے ساتھ ہر لمحہ محسوس کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ وہ نہ صرف مناظر کی تصویر کشی کرتے ہیں بلکہ مقامی افراد کے رہن سہن، ان کے خیالات اور اقدار کو بھی نہایت گہرائی سے پیش کرتے ہیں۔

    سعید آسی سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے ہمراہ 1990ء میں مالدیب گئے۔ حکومت سنبھالنے کے بعد نواز شریف کا یہ پہلا غیر ملکی دورہ تھا۔ سفرنامے کا پہلا باب ’’کالا پانی‘‘ پر مشتمل ہے۔ جس میں سعید آسی نے کالا پانی کی سزا پر دلچسپ معلومات فراہم کی ہیں۔
    سعید آسی مالدیپ کے نیلگوں پانیوں، شفاف ساحلوں اور قدرتی حسن کی شاندار تصویر کشی کرتے ہیں۔ وہ مقامی باشندوں کی سادگی، مہمان نوازی، اور مالدیپ کے منفرد ثقافتی ورثے کو بڑی محبت اور احترام سے بیان کرتے ہیں۔ ان کے مشاہدات نہ صرف سیاحتی مقامات تک محدود تھے بلکہ وہ ان جزائر کی تہذیب اور اس کی روحانی گہرائی میں بھی جھانکنے کی کوشش کرتے ہیں۔
    برونائی کا سفر سعید آسی نے مارچ 1996ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ کیا۔ سعید آسی نے اپنی کتاب میں ایسے واقعات کو بھی تحریر کیا ہے جو عام مسافروں کو جہاز کے سفر میں پیش آتے ہیں۔برونائی کی شاندار مسجدیں، سلطنت کا انتظام، اور لوگوں کی روحانی وابستگی سعید آسی کی نگاہ سے پوشیدہ نہ رہی۔ وہ برونائی کے عوام کی خوشحالی کو نہ صرف ان کے معاشی نظام بلکہ ان کے روحانی اصولوں سے جوڑتے ہیں۔ وہ اس بات پر روشنی ڈالتے ہیں کہ کس طرح یہ چھوٹا سا ملک اپنی دولت کے ساتھ ساتھ اپنی ثقافتی اور مذہبی شناخت کو محفوظ رکھے ہوئے ہے۔

    انڈونیشیا کا سفر اس کتاب کے سفرنامے کا آخری حد ہے۔ یہ سفر محترمہ بے نظیر بھٹو، آصف علی زرداری اور نصرت بھٹو کے ساتھ طے ہوا۔ اس دورے میں صدرسہارتو سے بھی ملاقات ہوئی۔ اس عظیم مسلمان لیڈر سے ملاقات کا تفصیلی اور سیر حاصل ذکر بھی سفرنامے بھی موجود ہے۔پاکستان میں کئی لوگوں نے سفرنامے لکھے ہیں لیکن ’’کس کی لگن میں پھرتے ہو‘‘ ایک منفرد اور دلچسپ سفرنامہ ہے۔ انڈونیشیا کی رنگا رنگی اور تہذیبی تنوع اس سفرنامے کا ایک اہم حصہ ہے۔ سعید آسی نے انڈونیشیا کے مختلف جزائر کی تاریخ، مذہبی ہم آہنگی، اور ان کی ثقافتی رنگینی کو اپنی نثر میں بڑی مہارت سے پیش کیا۔ وہ انڈونیشیا کے اسلامی ورثے کو خاص طور پر اجاگر کرتے ہیں اور اس کی اہمیت کو بیان کرتے ہیں۔یہ کتاب ایک عام سیاحتی سفرنامے سے بڑھ کر ایک فکری اور تہذیبی جستجو کی داستان معلوم ہوتی ہے۔ سعید آسی کا مشاہدہ محض خارجی دنیا تک محدود نہیں بلکہ وہ ان ممالک کے لوگوں کے جذبات، ان کی امنگوں، اور ان کی زندگی کی قدروں کو بھی گہرائی سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔”کس کی لگن میں پھرتے ہو” صرف ایک سفرنامہ نہیں بلکہ ایک دعوتِ فکر ہے۔ یہ کتاب قارئین کو سفر کے ظاہری لطف کے ساتھ ساتھ دنیا کے مختلف خطوں کی تہذیبی گہرائی اور روحانی تعلق کو سمجھنے کی ترغیب دیتی ہے۔ سعید آسی اپنے قارئین کو بتاتے ہیں کہ سفر صرف جگہوں کا بدلنا نہیں بلکہ اپنے اندر کی دنیا کو دریافت کرنے کا ایک وسیلہ بھی ہے۔
    saeed aasi
    سعید آسی کا یہ سفرنامہ اردو ادب میں ایک قیمتی اضافہ ہے۔ ان کی یہ کتاب ان لوگوں کے لیے ایک خزانہ ہے جو دنیا کو ایک سیاح، ایک محقق، اور ایک روحانی مسافر کی نظر سے دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ کتاب نہ صرف مالدیپ، برونائی، اور انڈونیشیا جیسے حسین ممالک کی عکاسی کرتی ہے بلکہ قاری کو ایک ادیب کی دنیا کے حسین سفر پر بھی لے جاتی ہے۔ سعید آسی کی نثر، مشاہدہ، اور فلسفیانہ سوچ ان کے قارئین کے لیے ہمیشہ ایک رہنمائی کا ذریعہ رہے گی۔آسی صاحب کی روزنامہ نوائے وقت کے ساتھ تقریبا پینتالیس برس کی رفاقت ہے۔ اُن کی کتاب ” کس کی لگن میں پھرتے ہو” بہت متاثر کن ہے۔اس کتاب کے منفرداسلوب نے انہیں اور زیادہ محبوب بنا دیا۔ وہ شعر و ادب سے بھی اتنی ہی محبت کرتے ہیں ، اُن کی اردو شاعری اور پنجابی شاعری کی دو کتابوں سمیت بارہ کتابیں منظر عام پر ہیں ۔ ایک بہت اہم دلچسپ اور منفرد بات یہ ہے کہ سعید آسی صاحب نے اپنی کسی کتاب کے لیے کسی کی رائے اوردیباچہ وغیرہ شامل نہیں کیا۔سعید آسی کے سفرنامے پر مشتمل یہ ایک ایسی کتاب ہے، جو ادب کی دنیا میں اپنی الگ ہی پہچان اور شناخت رکھتی ہے۔ قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل جناب علامہ عبدالستار صاحب نے اسے بڑے پیار و محبت کے ساتھ شائع کیا ہے۔اب یہ کتاب دوبارہ دستیاب ہے،آرڈر کرنے کیلئے ـ0515101-300-0092ــ پر رابطہ کیا جا سکتا ہے
    shahid naseem

  • ناول،میں قربان. تحریر:فرح رضوان

    ناول،میں قربان. تحریر:فرح رضوان

    میں قربان .قسط 1
    منیبه کا گھر برقی قمقموں سے جگمگا رہا تھا کیونکہ آج ہاؤس وارمنگ پارٹی تھی، شادی کے کئی برس بعد بھی منیبه اور وقاص اپنا خود کا مکان نہیں خرید پاۓ تھے لیکن دو سال قبل مری کے ٹرپ سے لوٹتے وقت بڑی ترنگ میں وقاص نےاپنے بیوی بچوں سے وعدہ کیا تھا کہ 2021 میں جب دنیا ملینیم سال منائے گی وہ بھی اپنے نۓ گھر میں یادگار جشن منائیں گے،قدرت مہربان تھی کاروبار اچھا چلا اور وعدہ پورا ہوگیا -اس وقت مہمانوں کی آمد سے خوب رونق لگی ہوئی تھی ،وقاص نے گھر کی کشادہ چھت پر بہترین عشائیے کا انتظام کیا ہوا تھا خوبصورتی سے سجی ہوئی کھانے کی ٹیبلز سے زرق برق ملبوسات پہنے مہمان پلیٹوں میں کھانا لے کر اپنی نشستوں پر اینجواۓ کر رہے تھے ،ہر کوئی وقاص کی محنت اور منیبه کے سلیقے کی تعریفیں کر رہا تھا،یہ سلسلہ جاری تھا کہ بیل بجی تو ملازم نے آکر بتایا کہ آرکسٹرا والے آگۓ ہیں-

    کھانے کے بعد غزل کی محفل اور رتجگے کا بندوبست وقاص کی جانب سے اپنے گھر اور سسرال والوں کے لیۓ خصوصی گفٹ تھا ،میوزیشنز کی آمد کی اطلاع پر سبھی کی بانچھیں کھل گئیں لیکن ! وقار ماموں اور ان کی پوری فیملی نے فوری طور پر کھانے سے ہاتھ روکے اور جانے کے لیے کھڑے ہو گۓ منیبه نے ماموں سسر سے درخواست کی کہ کم از کم بچوں کو کھانا تو کھانے دیتے لیکن انہوں نے ناگواری سے جواب دیا کہ "تم لوگوں کو پہلے آگاہ کرنا چاہیے تھا کہ یہ گانے بجانے کی محفل ہے تو ہم آتے ہی نہیں ،اب اگر معلوم ہو گیا ہے کہ یہ موسیقی کی محفل ہے تو ہمارے لیے یہ کھانا جائز نہیں” منیبه سخت ہکا بکا تھی کہ ابھی تو سب کچھ حلال تھا ایک دم سے حرام کیسے ہو گیا ! بہرحال ماموں کی فیملی بغیر کسی سے ملے سیدھے نیچے اترے اور یہ جا وہ جا ….اس بدمزگی اور کرکراہٹ پر سبھی نے وقاص اور منیبه کو تسلی دی کہ ان کی تو عادت ہی یہی ہے ،تم لوگوں نے انہیں بلایا ہی کیوں تھا.پھر سب نے رات بھر خوب میوزک اینجواۓ کیا بظاہر منیبه نے بھی لیکن اندر سے وہ بہت بے چین تھی ،اس لیۓ نہیں کہ اسے بے عزتی محسوس ہوئی تھی بلکہ اس بات پر کہ ایسا کیا ہوا کہ ماموں کے بچوں نے بھی اتنے لذیذ کھانے سے فوری ہاتھ روک لیے اور بخوشی رنگوں بھری محفل یکدم چھوڑ کر چلے گۓ –
    ——————-
    امی جی میں اپنی بہن کی آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ سکتا بتا دیں اس خبیث کو کہ اب ہم اسے واپس رلنے کے لیے نہیں بھیجیں گے،میں نے بات کی تو پھر اس سے ہاتھا پائی پولیس کچہری ہو جانی ہے ،شوکت نے غصے میں چاۓ کا کپ رکھتے ہوئے ماں کو اپنا فیصلہ سنایا اور روتی ہوئی بہن کے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے پچکارتے ہوئے جیب میں ہاتھ ڈال کر بٹوہ نکالتے ہوئے کہا "نہ رو میرا بچہ یہ لے یہ پیسے لے کر اپنی بھابھی کے ساتھ رکشے پر جاکے بدھ بازار سے نیا سوٹ لے آ …پھر بیوی کو ڈپٹ کر آواز لگائی او نادیہ کدھر ہے بھئی کاکے کو امی کو دے اور صابرہ کو بدھ بازار لے کر جا ،مونہہ سوجھ گیا ہے بیچاری کا سوکھ کر کانٹا ہوتی جارہی ہے جب سے بیاہ کر گئی ہے اس ہڈ حرام کے ساتھ "- سوٹ کا نام سنتے ہی صابرہ کے اداس چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی،مگر بہت لاڈ سے بھائی سے اٹھلا کر بولی نہیں میں نے بدھ بازار سے نہیں سوٹ لینا وہ جو نیا مال کھلا ہے نا ڈرائیونگ سینما کی جگہ پہ ….نادیہ نے جلدی سے کہا "وہ میلینیم مال ! ادھر تو بڑی مہنگی دکانیں کھلی ہیں ” شوکت نے بیوی کو جھڑک کر کہا تو اس کے بھائی کے پاس کمی ہے پھر جیب سے مزید رقم نکال کر بہن کو تھماتے ہوئے پوچھا کم تو نہیں پڑیں گے نا !صابرہ خوشی سے پیسے جھپٹتے ہوئے کمرے سے اپنی چادر لینے چلی گئی ،نادیہ نے کہا "میرے دانت کے درد کی دوا لاۓ ہیں نا اب برداشت نہیں ہو رہی درد مجھ سے ” شوکت چڑ کر بولا "جب سے آئی ہے میری زندگی میں کبھی صحت مند بھی رہتی ہے ؟ بچپن میں ماں باپ نے اچھی خوراک کھلائی ہوتی تو میرے سر یہ مصیبت تو نہ آتی "نادیہ نے جھگڑے سے بچنے کے لیے شوہر سے کہا مجھے پیسے دے دیں میں خود ہی لیتی آؤں گی ،شوکت نے خالی بٹوہ دکھاتے ہوئے کہا صبر کر لے آج تو پھر کل لیتا آؤں گا ”
    ————-
    اب کتنے دن استخارہ کرو گی نیک بخت تمہاری سگی بہن کا بیٹا ہے بچپن کا دیکھا بھالا ہےاور مجھے امید ہے کہ ناروے میں بھی یہ لڑکا بگڑا نہیں ہوگا ویسے بھی باجی اور نیاز بھائی نے شروع سے ہی اپنے اکلوتے بیٹے کی تربیت عمدہ اصولوں پر کی ہے…. اور دل کی بات کہوں تو میری اپنی خواہش تھی سلیمان کو آمنہ کے لیے مانگ کر اپنا داماد بنا لوں لیکن جانتی ہو نا پاکستانی کلچر ہمارے دین سے کتنا مختلف ہے ،لڑکی والے رشتہ مانگنے میں پہل نہیں کرسکتے، پتہ نہیں اور کتنے برس یہ سلسلہ چلے گا دوہزار بیس بھی گزرا جا رہا ہے لیکن !….ارے میں ہی بولے جارہا ہوں تم کب وظیفہ ختم کرکے بولو گی ….جواب میں زبیدہ نے رونا شروع کر دیا سراج صاحب کی آنکھیں بھی نم ہو گئیں وہ بیگم کو کندھے سے لگا کر تسلی دینا چاہ رہے تھے لیکن بیٹی کی جدائی کے خیال سے خود بھی رودیے –
    —————–
    "باجی یہ کیسی سہیلی ہیں آپ کی یہ ٹی وی نہیں دیکھتیں ؟ ” ثروت نے کل وقتی کم عمر ملازمہ کی طرف حیرت سے دیکھتے ہوئے پوچھا "کیا مطلب؟” ملازمہ نے سینڈوچز گنتے ہوئے کہا باجی 2021 چل رہا ہے اب کون اتنے بچے پیدا کرتا ہے،ٹی وی دیکھتیں تو سن لیتیں کہ بچے دو ہی اچھے ثروت نے حیرت اور مسکراہٹ دبا کر خفگی سے کہا "ماشاللہ کہتے ہیں اور اتنی بڑی بڑی باتیں چھوٹے بچوں کے مونہہ سے اچھی نہیں لگتیں،ان کے دو دو تو جڑواں بچے ہیں نا ” پھر ناشتے کی ٹرے لے کر لاؤنج میں آگئ جہاں ردا چھوٹے بیٹے کو گرمی لگنے پر ہلکے کپڑے پہنا رہی تھی ساتھ ہی دو عدد لڑتے ہوئے بیٹوں کا مقدمہ بھی سلجھ رہا تھا-ردا اس کے بچپن کی سہیلی تھی جس کی شادی بھی ثروت کے میاں عاقل کے دوست سے ہوگئی تھی اسی لیے ان کی فیملیز کی بہت بنتی تھی ،ساتھ سفر کرتے ساتھ ساتھ پکنک پر جاتے بچے بھی تقریبا ساتھ ہی ہوتے رہے لیکن ثروت کے پانچ بچے تھے جبکہ ردا کے آٹھ اور سب سے بڑا دس سال کا تھا .ردا بہت ہی ہنس مکھ اور کھلے دل کی لڑکی تھی ،ہاں یہ بھی قدرت کی مہربانی تھی اس پر کہ کم عمری میں شادی اور بچوں کے کاموں میں ایکٹیو رہنے کی وجہ سے وہ اب بھی لڑکی ہی دکھائی دیتی تھی ،اتنی مصروفیت کے باوجود سسرال کو دیکھنا ساس سسر کی پوری ذمہ داری نبھانا اور خوش باش رہنا ،شاید شوہر کی محبت اور توجہ بھی تھا اس کا راز .

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

    میں قربان .قسط 2
    نادیہ کو صابرہ پر کبھی ترس آجاتا کبھی غصه .
    غصہ اس لیے کہ وہ بہت اچھی طرح سمجھ رہی تھی کہ صابرہ کا شوہر خرم اتنا بھی برا انسان نہیں بلکہ وہ تو ایک شریف النفس انسان ہے جو بیوی کا اتنا غصّہ اور بار بار روٹھ کر میکے چلے جانا برداشت کر لیتا ہے لیکن بیوی کی مادی فرمائشیں پوری کرنے کی خاطر زیادہ کی لالچ میں حرام کی طرف نہیں جاتا اور یہ بات اس نے صابرہ کو کئ بار واضح طور پر بتا دی ہے.
    دوسری جانب صابرہ کی ازلی سستی گھر کے کاموں میں عدم دلچسپی اور اپنے سجنے سنورنے گھومنے پھرنے کے شوق کو پورا کرنے کی بے لگام خواہش اس کے شوہر کی تنخواہ سے بہت بڑھ کر ہے تو بیل کیسے منڈھے چڑھے ۔
    صابرہ بچپن سے اپنے ابا جی کی بہت ہی لاڈلی تھی ،جب جب اس کی ماں چاہتی کہ یہ گھر کے کام سیکھ جائے تو اس کا باپ ہمیشہ ہی اسے ان کاموں سے روک دیا کرتا تھا کہ میری بیٹی تھک جائے گی ، ماں بھی میاں کے سامنے تھوڑی بہت بات ہی کرپاتی تھی کہ آگے جا کر ہماری بچی کو نباہ میں بہت مشکل ہو جائے گی تو وہ کہتا کہ آگے اللہ آسانی کرے گا۔ میری شہزادی تو کسی بڑے گھر میں ہی بیاہ کر جائے گی جہاں اسے ان چھوٹے موٹے کاموں کو کرنا ہی نہیں پڑے ۔صابرہ اسی سوچ اور تربیت کے ساتھ بڑی ہوتی گئی، باپ اس کے نخرے اٹھاتا رہا وہ منہ سے کوئی بات نکالتی کہ مجھے فلاں چیز چاہیے اور کبھی اپنی تنگدستی کی وجہ سے وہ پورا نہیں کر پاتا تو پھر صابرہ نیند میں اس بارے میں رونا یا بڑبڑانا شروع کر دیتی تھی ماں کہا کرتی کہ یہ بڑبڑاتی نہیں ہے مکر کرتی ہے اور جب اس کو ہنسانا یا جگانا چاہتی تو باپ روک دیتا کہ نہیں میری شہزادی کی نیند خراب ہو جائے گی مگر اپنی بھوک اور نیندیں قربان کر کے اس کی فرمائش پوری کیا کرتا تھا.
    صابرہ کے والد اپنی بیٹی کے لاڈ کے سامنے اس کی ماں کی ایک نہیں سنتے تھے یوں اس کی پرورش میں یہ چیزیں شامل ہوتی چلی گئیں تو وہ ہر ایک سے زور زبردستی اپنا آپ منوانا شروع ہو گئی ۔
    یہ سب باتیں نادیہ کو اس لیے معلوم تھیں کہ وہ ان کے قریبی رشتہ داروں میں سے تھی ۔
    اور اکثر صابرہ کی ماں نادیہ کی ماں سے ہی مشورے کیا کرتی تھی۔
    رفتہ رفتہ صابرہ کا مزاج سخت سے سخت ہوتا چلا گیا ، زبان اس سے بھی زیادہ تیز ہوتی چلی گئی۔ جب اسے غصہ آتا تو اپنی ماں کو بھی اچھے سے باتیں سنانے سے نہ چوکتی اور محلے پڑوس میں کبھی کسی سے کوئی بات ہوجاتی تب بھی چھوٹے بڑے کا لحاظ کیے بغیر ان سے خوب لڑا کرتی ،رشتہ داروں میں سے کسی کی کوئی بات اسے بری لگتی تو گھر بیٹھے ہی ان کو برا بولتی رہتی اور باپ اس کا ساتھ دیتا رہتا کہ کیسے اپنے حق کی بات کرتی ہے میری بیٹی تو وہ اور شیر ہو جایا کر تی ۔ حتی کہ بعض دفعہ باپ سے بھی بد تمیزی کر جاتی لیکن وہ اسے لاڈ ہی مانتا ۔بہرحا ل تقدیر کے لکھے کو کون ٹال سکتا ہے، ایک دن صابرہ کے والد کا ہارٹ فیل ہوا اور وہ اسے روتا چھوڑ کر دنیا سے کوچ کر گۓ ۔
    والد کی وفات کے بعد گھر کا سارا بوجھ شوکت کے کاندھوں پر آ گیا ۔ وہ ابھی کالج میں ہی تھا ساتھ ہی سارے گھر کا ذمہ اٹھانا پڑا اس نے خود سے عہد کر لیا تھا کہ وہ صابرہ کو کبھی بھی باپ کی کمی محسوس نہ ہونے دے گا ۔تو باپ کی جگہ شوکت نے لے لی یعنی ماں جو سمجھتی تھی کہ اب بھی صابرہ کو راہ راست پر لایا جا سکتا ہے اس کی بیٹے کے سامنے کچھ نہ چل سکی،۔شادی کی عمر ہوئے تک صابرہ کی بدمزاجیوں کے جوہر محلے اور رشته داروں سب پر اتنے کھل چکے تھے کہ اس سے لوگ رشتہ کرنا تو دور اس کے لیے رشتہ لانے سے بھی ڈرا کرتے ،جس قسم کےرشتے خالہ رشتے والی لا رہی تھیں وہ صابرہ کو بالکل بھی پسند نہیں آرہے تھے، پھر جب اس کی عمر تھوڑی بڑھنی شروع ہوئی اور دو چارقریبی لوگوں نے بھی اسے سمجھایا کہ انسان کو اپنے ہی جیسے لوگ ملتے ہیں ، تم جس طرح کے خواب سجا کے بیٹھی ہو ایسا رشتہ مشکل سے ہی ملتا ہے،صبر سے کام لیتے ہوئے اللہ سےامید رکھو کہ شادی کے بعد جیسے جیسے تمہارے شوہر کی ترقی ہوگی تو تم سارے خواب پورے کر لینا لیکن صابرہ میں کمی صبر ہی کی توتھی ۔اسے اپنے ہونے والے شوہر کا سوشل اسٹیٹس بالکل بھی پسند نہیں آیا تھا،

    ہاں اسے شادی کرلینے کا آئیڈیا اس لیے پسند آ گیا تھا کہ پھر اماں جو کہتی تھیں کہ ابھی لپسٹک نہ لگاؤ، ابھی تیار ہو کے باہر نہ جاؤ ،بال نہ کھولو ان سب باتوں کی آزادی اسے شادی شدہ ہونے کے بعد مل جانی تھی اسے جہیز کے لیے بہت ساری چیزوں کا شوق تھا یہ ساری خواہشات اس کے بھائی نے پوری کیں تاکہ صابرہ کو باپ سے محرومی کا احساس نہ ہو
    اپنے بہت سے خرچے نظر انداز کر کے کئی خواہشات پس پشت ڈال کر شوکت نے بہن کے لیے جہیز تیار کیا ،اس سے بھی صابرہ میں ایک احساس تکبر پیدا ہو گیا تھا شادی کے دن سے ہی صابرہ نے بہت زیادہ سخت مزاجی اور ترش روی کا مظاہرہ کیا۔
    اس کے سسرال سے جب جوڑا آیا تو اس نے غصے میں اس کو اٹھا کے پٹخ دیا اور زیور ایک طرف ڈال دیے کہ یہ کوئی چڑھاوے پہنانے کی چیز ہے،ایسے ہلکے زیور پہنوں گی میں ! کم از کم میرے سسرال والوں کو اتنا اور اتنا تو کرنا ہی چاہیے تھا ،معیار اس نے اپنے ذہن میں اتنا زیادہ بلند کر کے رکھا تھا کہ وہ چیز پوری ہو کر نہیں دے رہی تھی ۔

    صابرہ کو سسرال کی ذمہ داریاں بھی اپنے سر نہیں لینی تھیں۔ اس نے چند ہی دنوں میں الگ گھر لینے کا مطالبہ کر دیا اور اس بات پر روٹھ کر میکے آ گئی اور تب سے یہ روٹھنا منانا شروع ہوا جو شادی کے دو سال بعد تک بھی جاری ہے لیکن کیونکہ اس کا شوہر جانتا ہےکہ اس لڑکی کا باپ بھی نہیں ہے اور یہ غریب گھر کے لڑکی ہے تو وہ جس حد تک رعایت کر سکتا تھا کرتا رہا ہے لیکن اب یوں محسوس ہونے لگا تھا کہ جیسےوہ بھی تھک چکا ہو
    نادیہ سوچ رہی تھی کہ عجیب انتہاؤں پر ہوتے ہیں لوگ میرے میکے میں بیٹیاں کتنی ہی لائق فائق ہوں ان کی قدر ہی نہیں لیکن لڑکا کتنا ہی نکما ہو اسے سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں جبکہ صابرہ کے کیس میں بیٹی کو سر پر بٹھا کر اسے اپنے ہی گھر میں ٹک کر بیٹھے رہنے کے قابل نہیں چھوڑا۔ کیا میں اپنی ہونے والی بیٹی کو اعتدال سے پال سکوں گی ؟
    ———-
    منیبہ پہروں بیٹھی سوچا کرتی تھی کہ اس کے شوہر نے کتنی محنت سے یہ گھر بنایا لیکن ساتھ ہی امریکہ کی ایمیگریشن کے لیے بھی کاغذات جمع کروا دیے تھے ،وہ بھرا پرا میکہ خاص کر بڑھاپے کو پہنچنے والے والدین کو چھوڑ کر کیسے رہ سکے گی ؟ کتنا مزہ آئے کہ ان کے پیپر ریجیکٹ ہو جائیں ،اگر ویزہ مل گیا تو کیا وہ عین وقت پر اپنے شوہر کو پاکستان چھوڑ کر نہ جانے کے لیے منا سکے گی ؟ کیا کریں گے فیملی کے بغیر ؟ اسے تو سسرال میں بھی مزہ ہی آتا تھا بس کبھی کبھی دونوں نندوں کی ناسمجھی سے بیزار سی ہو جایا کرتی تھی وہ بھی اپنے لیے نہیں ان ہی کے بچوں کی تربیت کے لیے.
    منیبه نے دبے لفظوں میں پہلے بھی اپنی دونوں ہی نندوں کو الگ الگ یہ بات سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ بلا شبہ ان میں مثالی محبت ہے اور ان کے شوہر بھی ایک دوسرے کے اچھے دوست ہیں لیکن آمنے سامنے اپارٹمینٹس میں مزید رہتے رہنا دانشوری ہرگز نہیں،ایک تو یہ کہ آپا کے بیٹے بڑے ہو رہے ہیں خالہ کے گھر بلا جھجک پہنچ جانے کی عادت پر ہی کم از کم پابندی ہونی چاہۓ، دوسرا یہ کہ نگہت کی بیٹی گو کہ چار پانچ سال کی کمسن بچی ہے لیکن کزنز کے ساتھ سودا سلف لینے تنہا بھیج دیا کرنا دونوں کی اولادوں کے لیے ٹھیک نہیں لفٹ میں ننھی نادان بچی کزنز کے ساتھ جائے یہ مناسب نہیں .جس پر نہ صرف دونوں بہنیں اس کی ذہنی آلودگی پر برس پڑی تھیں بلکہ بھائی سے بھی اس کی بیگم کی اس گھٹیا سوچ پر شکایت لگادی تھی جس پر وقاص منیبه پر بہت برہم ہوا تھا اور منیبه نے ان بھائی بہنوں کی بے عقلی پر ماتم کرکے اس معاملے سے خود کو الگ کرلینے کا پکا فیصلہ کر لیا تھا،البتہ ساس سسر جو آج کل نگہت کے گھر ہی رہنے گۓ ہوئے تھے ان تک غالبا یہ ان بن والی باتیں نہیں پہنچائی گئی تھیں تبھی انہوں نے اس کی پیشی طلب نہیں کی تھی لیکن ! آج ساس کی طبعیت کی خرابی کا سن کر اس سے رہا نہ گیا،جلدی جلدی پرہیزی کھانا تیار کیا کہ بچوں کے سکول سے واپس لوٹنے سے پہلے ہو آۓ گی
    تو انہیں سرپرائز دینے کی غرض سے بغیر اطلاع دییے پہنچ گئی لیکن اوپر آکر سوچا کہ اس سے پہلے کہ کوئی کڑوی بات سنائی جائے خود ہی بڑی آپا کو سلام کرتے ہوئے نگہت کی طرف جانا چاہۓ،لیکن دستک کے بعد دروازہ کھلنے پر اسے اپنے غصے پر قابو پانا مشکل لگ رہا تھا پہلے اسے صرف خدشہ تھا کہ آپا کا بڑا بیٹا راشد کسی فتنے کا شکار ہو چکا ہے اسی لیے نگہت کی معصوم حنا کو اس کی پہنچ سے دور رکھنا چاہۓ لیکن اس وقت تو اس کے پیروں تلے زمین نکل گئی جب ارشد نے بتایا کہ مما تو خالہ جانی کے گھر ہیں نانو کی خدمت کرنے گئی ہیں اس نے ڈپٹ کر پوچھا کہ حنا یہاں کیوں ہے تم سکول میں کیوں نہیں تو بڑے سکون سے جواب دیا کہ مامی سکول میں تو پڑھائی ہوتی ہی نہیں میں گھر پر ٹیسٹ کی تیاری کے لیے رک گیا تھا ….اور یہ حنا موٹلو اپنے گھر میں رہتی کہاں ہے کبھی بلو اسے لے آتا ہے کبھی سنی کبھی مما بابا بلا لیتے ہیں سارا دن کبھی کینڈیز کھاتی ہے کبھی چاکلیٹ وہاں گھر پر تو خالو جان اسے یہ کھانے سے منع کرتے ہیں نا ….منیبه کو دال میں کالا نہیں دال ہی کالی دکھائی دے رہی تھی لیکن کس سے کہتی ….شاہد بھائی ہاں وہ باپ ہیں حنا کے، ان کی غیرت کو جگانا پڑے گا،وہ اپنے ماتھے پر پڑی تیوریوں سے راشد کو باآور کروا چکی تھی کہ اسے یوں اکیلے گھر میں حنا کو ساتھ رکھنا سخت ناگوار گزرا ہے،اس نے حنا کا ہاتھ تھامے بہ مشکل ایک قدم ہی پیچھے کیا ہوگا تو خود کو نگہت کے گھر کے سامنے پایا.راشد ساتھ ہی آگیا تھا اور اس سے پہلے ہی بغیر دستک دیے سیدھا گھر کے اندر جاکر بتایا کہ بڑی مامی آئی ہیں .
    منیبہ غصے پر قابو پاتے ہوئے سب سے اچھے سے ملی ساس سے مسکرا کر پوچھا کہ سچ بتائیں کیا بدپرہیزی کی تھی تو سسر نے ہنستے ہوئے بتایا کہ سب آئسکریم کھا رہے تھے تو ہماری بیگم سے رہا نہیں گیا اب دیکھو ذرا کتنی تکلیف اٹھا رہی ہیں.
    منیبه نے پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "امی آپ کو لاسٹ ٹائم ڈاکٹر نے کتنی تاکید کی تھی نا کہ آپ کا جسم بہت کمزور ہو گیا ہے ٹھنڈی میٹھی کسی چیز کی لالچ میں نہیں آنا ورنہ صرف شگر نہیں بڑھے گی بلکہ نمونیہ بھی ہو سکتا ہے ” دونوں نندوں نے بہ یک زبان بھاوج کی بات کاٹی بلکہ آپا نے تو قدرے سخت لہجے میں کہا کہ "اللہ کی بندی بات تو اچھی کیا کرو”جبکہ نگہت نے منمناتے ہوئے کہا "بھابھی برا نہیں مانیے گا لیکن جب سے نیا گھر لیا ہے نا آپ نے لگتا ہے جیسے سب کو شرمندہ کرنے کا علم اٹھالیا ہے آپ نے” ،منیبه ہکا بکا رہ گئی ،نگہت کا شکوہ جاری تھا "میں اکیلے ہی محسوس نہیں کرتی کہ آپ کہیں کہ میں اپنے بھائی کی ترقی سے جلنے لگی ہوں نقاش بھائی بھی کہہ رہے تھے کہ اب وہ بات نہیں رہی بھابھی کے رویے میں”منیبه کی حیرت میں مزید اضافه ہو گیا تھا کہ اس کے پیٹھ پیچھے وہ نند اور دیور جن کا ہر بھلے برے وقت میں جی جان سے ساتھ دیا اس کے بارے میں کیا کیا باتیں کرتے ہیں ،مگر شادی کے اتنے عرصے بعد وہ یہ بھی جان چکی تھی کہ ان سب کو صفائی دینے پر یہ مل جل کر کوئی دوسرا الزام اس کے سر ڈال دیں گے لہذا وہ اس بات کو اگنور کر کے دھیمے سے اٹھ کر ساس کی سائیڈ ٹیبل پر رکھی دواؤں کا جائزہ لینے لگی …پھر ٹھٹھک کر مڑی اور آپا سے پوچھا "ان دونوں دواؤں کی ایکسپائری ڈیٹ تو بہت نزدیک کی ہے کس میڈیکل سٹور سے لی ہیں ؟ وقاص تو امی ابا کی دوائیں ہمیشہ اچھے سٹورز سے لیتے ہیں ،ختم ہو رہی تھیں دوائیں تو انہیں فون کر دیتے "- آپا نے چونک کر راشد کی طرف دیکھا کہ اس نے پھر پیسوں میں ڈنڈی مار لی ہے لیکن بھاوج کے سامنے بہانہ بنادیا کہ ارے یہ تو راشد جلد بازی میں نیچے والی دکان سے پورا پتہ لے آیا میں ابھی تم سے یہی تو کہنے والی تھی کہ وقاص کو کہہ دینا دفتر سے آتے وقت امی کی دوائیں لیتے آئے تم بیٹھو چاۓ تو پیو،راشد ماں کی آنکھوں میں قہر دیکھ کر واپس اپنے گھر ٹیسٹ کی تیاری کرنے چلا گیا

    میں قربان .قسط 3
    وقاص کھانے کے بعد چائے پیا کرتا تھا منیبه جب بھی چائے کا کپ لے کر اتی تو وہ کھانے کی پلیٹ کی طرف دیکھتی، اگر کھانا پورا ختم کر لیا ہو تو اس کا مطلب ہے کہ وقاص کو پسند آگیا ہے البتہ کھانے میں کبھی کوئی نقص ہوتا تو وہ برملا اس کا اظہار کرتا اور کبھی منیبه کو ہلکی پھلکی ڈانٹ بھی پڑ جایا کرتی کہ کھانا دھیان سے نہیں بناتی اور یہ ہمیشہ سے اس کی عادت تھی کہ اگر بیوی کی کوئی بات پسند آجاۓ تو اسے کوئی گفٹ دلا دیا کرتا تھا لیکن مونہہ سے کچھ نہیں بولتا تھا-منیبه کو ان اشیا کی ضرورت نہیں تھی ، اس کے کان تو ہردلعزیز متاع جان کے دو اعترافی بول کے لیے ترس رہے ہوتے تھے، ساری دنیا منیبه کی خوبیوں کی معترف تھی لیکن وہ جس سے سننا چاہتی تھی وہاں سے کوئی لفظ سماعتوں سے ٹکرانے کی جسارت نہ کرتا تھا-

    کھانے کی پلیٹ صاف تھی اسے یہ دیکھ کر اطمینان ہوگیا، چائے دے کے وہ وہیں بیٹھ کر باتیں کرنے لگی بچے اپنے کمرے میں ہوم ورک کر رہے تھے، وقاص کو یاد آیا تو بتانے لگا ” ارے آج دفتر میں آفتاب بھائی سے ملاقات ہوئی تھی تو وہ کہہ رہے تھے کہ پرسوں یہ لوگ ہماری طرف آئیں گے "اس پر منیبہ مسکرا کر بولی ” اچھا میں بچوں کو بتا دیتی ہوں” وقاص سمجھ گیا وہ بچوں سے کیا کہے گی اس لیے ذرا چڑ کر بولا "یار یہ بہت بری عادت ہوجاتی ہے بچوں کے اندر کہ وہ اپنی ہر چیز اٹھا کرکسی کے آنے سے پہلے چھپا دیں تو بڑے ہو کران میں بڑے لیول پر شیئرنگ کی ہمت اور عادت کیسے آئے گی ” منیبه نے دھیمے لہجے میں کہا ” بس کچھ نازک یا بہت خاص چیزیں جو نایاب ہوتی ہیں ان کے لیے ہی میں انہیں کہتی ہوں کہ ایک طرف سنبھال لیں کیونکہ دوسرے اکثر بہت بے دردی یا لاپرواہی سے استعمال کرتے ہیں میں اس لیے بھی احتیاط کرتی ہوں کہ چیزوں کے پیچھے ہمارے تعلقات خراب نہ ہوں، بچوں کی کچھ چیزوں کے ساتھ بہت زیادہ اٹیچمنٹ ہوتی ہے احساس تحفظ بھی تو ہمیں ہی دینا ہے نا انہیں اور جناب یہ بھی تو دیکھیں نا کہ ان اصولوں پر چل کر ہماری دوستی کتنے عرصے سے قائم ہے”- پھر جب وہ بچوں کومطلع کرتی ہے تو بیٹا بہت خوشی کا اظہار کرتا ہے جب کہ بیٹیاں شکوہ کرتی ہیں کہ "مما وہ لوگ ہمارے سارے کھلونے خراب کر دیتے ہیں اور گھر بھی گندا کر دیتے ہیں ہمیں بعد میں صاف کرنا پڑتا ہے ” وقاص بڑی بیٹی کوقریب بلاتا کر اس کے سر پہ ہاتھ پھیر کے کہتا ہے کہ اپنی چیزیں شیئر کرنے کی عادت ڈالتے ہیں،آپ کی بہت ساری پرانی چیزیں ایسی ہوں گی جو آپ کو یاد بھی نہیں ہوں گی کہ وہ کہاں ہیں کس کو دیں کس حال میں ہوں گی تو کبھی کبھی کچھ چیزیں اپ کے سامنے بھی اگر خراب ہو جاتی ہیں تو تھوڑا بہت صبر کر لینا چاہیے ،آپ اگر اپنی ہر چیز اٹھا کے رکھ دو گے توآپ کھیلو گے کیسے؟ پھر آپ کی باتیں بھی ختم ہو جائیں گی، پڑھائی تو نہیں کر سکتے نا جب دوست آتے ہیں ،تھوڑی بہت چیزیں شیئر کر لینی چاہیے اگر کوئی کھلونا ٹوٹا تو میں اپ کو دلا دوں گا”-بچوں نے سر ہلا کر اس کی بات سمجھ لینے کا سگنل دیا اور اپنے کمرے میں واپس چلے گئے –

    وقاص نے منیبه کی طرف شرارت سے دیکھتے ہوئے کہا” لڑکیوں کو تو بچپن سے شئیرنگ آنی چاہیے تاکہ شادی کے بعد اپنے شوہر کو اپنی مسلمان بہنوں سے شئیر کر سکیں” منیبه نے آنکھیں دکھاتے ہوئے کہا "پھر وہی مذاق ” تو وقاص نے ہنستے ہوئے کہا "مذاق کہاں کر رہا ہوں،دل کے ارمان اپنی بیوی کے سامنے نہیں رکھوں گا تو کہاں جاؤں گا میں بیچارہ ” منیبه نے نرمی سے کہا "میں یہ بات کسی بھی انداز میں آپ سے سننا نہیں چاہتی،بہت سی باتیں میں آپ کی ایک ہی بار میں مان لیتی ہوں تو یہ ایک بات آپ میرے بار بار منع کرنے کے باوجود بھی کیوں نہیں مانتے؟” پھر منیبه غصے میں برتن سمیٹ کر لیجانے لگی تو وقاص نے اسے کلائی سے پکڑ کرواپس بٹھا لیا اور بولا
    "تو منع کر دوں اس بیچاری کو نازک سا دل ٹوٹ جائے گا اس کا ….” منیبه غصے میں بھناتی ہوئی ہاتھ چھڑا کر کچن میں چلی گئی ،وقاص نے پیچھے سے آواز دی” ہنس رہی ہو نا ” نومی نے آکر بتایا "نہیں پاپا مما رو رہی ہیں ،آپ نے پھر سے ان کو رلا دیا میں تو اپنی بہنوں کو نہیں رلاتا”
    اگلے دن آفتاب اور ان کی بیگم ردا اپنے سب بچوں کے ساتھ پہنچے تو گھر میں ایک شور اور بڑی رونق والا ماحول ہو گیا بڑے عرصے بعد یہ لوگ ملے تھے ، دفتر اور بچوں کی مصروفیات کی وجہ سے کم کم ہی ملنا ہوتا تھا اورفون کی
    لائن تو اتنی خراب تھی کراچی میں کہ ایک بندہ بات کرتا تو تین اور لوگوں کی لائن اس میں کنیکٹ ہو جایا کرتی ویسے بھی پیچھے بچوں کا شور اتنا ہوتا تھا کہ فون پہ بات کرنا دشوار ہو جایا کرتا تھا -وقاص اور آفتاب اوپر ڈرائنگ روم میں چلے گئے بچے لاؤنج میں کھیل رہے تھے اور ساتھ والے کمرے میں منیبہ اور ردا بیٹھ کر باتیں کرنے لگے ردا کا چھوٹا والا کافی بھوکا نظرآ رہا تھا اس نے سب سے پہلے اس کا ڈائپر چینج کیا پھر بیگ سے پیالی چمچہ سیریل اور بوتل سب نکال کر مکس کر کے بچے کو کھلایا ،اس دوران منیبه نے ملازمہ کی مدد سے ٹیبل پر کھانا لگوایا کا یہ لوگ جب کبھی بھی ملتے تو بہت زیادہ پرتکلف کھانا نہیں ہوا کرتا تھا ،اچھی سی ایک دو چیزیں ہوتی تھیں اور سب مل کر خوشی سے کھا لیا کرتے تھے کھانے کو پر تکلف بنانے پہ ویسے اس لیے بھی ایک عرصے سے محنت نہیں کررہے تھے کہ انہیں سمجھ آچکا تھا کہ ہم اگر اس کام میں تھک چکے ہوں گے توآپس میں اچھے سے ایک دوسرے کو وقت نہیں دے سکیں گے اس لیے ملنے سے پہلے اپنی اور بچوں کی نیند پہ بہت توجہ دیا کرتے تھے- بہت محدود توانائی ہوتی ہے ایک انسان میں اس کو کس طرح استعمال کرنا ہے یہ سلیقہ انہیں وقت کے ساتھ ساتھ آگیا تھا-

    کھانے کے بعد بچوں کا شور کچھ اور زیادہ ہی ہو گیا تھا آفتاب کو سگریٹ پینے کی عادت تھی تو وہ یہ کہہ کر کہ ” ہم باہر سے بچوں کے لیے آئسکریم لے آتے ہیں”وقاص کے ساتھ چلے گئے پیچھے ردا اور منیبہ نے سوچا کہ بچوں کو ہم ٹی وی پر کچھ لگا کے دے دیتے ہیں تو اس نے وی سی آر کی لیڈ دراز سے نکالی اور شیشے کے کیبنیٹ میں سے کارٹون والی کیسٹ نکال کر لگا دی، بچے سکون سے بیٹھے تو منیبہ اور ردا ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے ردا ہنستے ہوئے کہنے لگی کہ "تمہیں پتہ ہے کہ جب کبھی بھی مجھے پتہ چلا کہ اب مزید ایک اور بچہ میری زندگی میں آرہا ہے تو سب سے زیادہ جب سپورٹ کی ضرورت تھی نا یار دیکھو اپنی ماں ہی سب سے زیادہ یاد آتی ہےنا تکلیف میں! لیکن میری ماں نے ہی مجھے تیسرے بچے کے بعد سے ہی ہر بار اتنا ڈاٹا اتنا ڈانٹا …وہ میری محبت میں ہی مجھے ڈانٹتی ہیں یہ بات مجھے پتہ ہے اگر نہ پتہ ہوتی تو شاید میں اور تکلیف میں چلی جاتی لیکن جب مجھے حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے مجھے ان کی گود چاہیے ہوتی ہے مگر وہ مجھے ایسے ڈانٹ رہی ہوتی ہیں جیسے یہ بچہ نکاح کے بغیر ہی آگیا ہے میری زندگی میں ، ماں کے بعد اگر مجھے کوئی سہولت چاہیے ہوتی ہے تو اپنی ڈاکٹر سے چاہیے ہوتی ہے جب میں ڈاکٹر کے پاس جاتی ہوں تو وہ میری شکل دیکھ کے کہتی ہے تم پھر آگئیں !” منیبہ نے کہا "پھر تم یہ سارا غصہ اپنے بچوں کے اوپر اتارتی ہو” ردا نے کہا "نہیں پہلے کرتی تھی اب مجھے سمجھ آگئی ہے کہ بچوں کو مارنا نہیں ہے پھر مجھے ابا نے یعنی میرے سسر نے بھی کہا کہ بچوں کے چہرے پر نہیں مارتے تو بس صبر کرنا ہوتا ہے بہن برداشت کرنا ہوتا ہے اور کیا اللہ تعالی نے کچھ پلان کیا ہوگا میرے لیے ان بچوں کے لیے ،دیکھو کچھ لوگ ترستے ہیں اولاد کی نعمت کے لیے اور کچھ لوگ اس نعمت کو سمجھ ہی نہیں پاتے” ردا کی آنکھیں نم ہو گئیں کہنے لگی "بہت سوں کو تو یہ بھی نہیں معلوم کہ رپورٹ پازیٹو آجاۓ تو پھر اپنا آپ ہی مارنا ہوتا ہے، اس بچے کو نہیں مارنا ہوتا ، اپنی میں قربان کرنی ہوتی ہے، جو آسان نہیں ہے لیکن مجھے اللہ تعالیٰ سے محبت ہے نا تو وہ آسان کر دیتا ہے ” منیبه اس کا ہاتھ پکڑ کر بیٹھ گئی اور بولی ” ، مجھے تو یہی سمجھ نہیں آتا کہ تم اپنے بچوں کے کام وام نمٹا کر ساس سسر کو کیسے دیکھ لیتی ہو اور اکیلی ہوتی ہو تمہارے شوہر مطلب کہ آفتاب بھائی کی میں برائی نہیں کر رہی ہوں لیکن مجھے سمجھ نہیں آتی کہ وہ خود اپنے والدین کی خدمت میں بہت کم ہوتے ہیں اور تم آگے آگے "تو ردا ہنس دی کہ اس بندے کے پاس وقت کہاں ہوتا ہے تمہیں خود اپنے شوہر کا بھی اندازہ ہو گا کہ دفتر والے فیملی کے لیے وقت کہاں رہنے دیتے ہیں ” پھر یہ کاروبار بھی کر رہے ہیں اس میں بھی ٹائم لگتا ہے تو یہ ہم سب کے لیے ہی کر رہے ہیں نا؟ یہ رزق حلال کما رہے ہیں اور ہم رزق حلال کو بچانے کے کام کر رہے ہیں؛ ہے کہ نہیں ؟ یہ جو میں اتنے کام بھاگ بھاگ کے کر لیتی ہوں ادھر ادھر کے وہ بھی میں اپنے شوہر کی محبت میں کرتی ہوں ، مطلب اگر میں نہیں کروں گی یہ سارے کام اور وہ آ کر کریں گے تو شوہر کا ٹائم مجھے کیسے ملے گا؟ میں ان کے حصے کے کام کر دیتی ہوں اور ان کا وقت مجھے مل جاتا ہے” منیبه کہتی ہے "اس طرح سے تو تم نے ڈبل لوڈ لے لیا تم اتنی اچھی بن کر رہو گی تو سب تمہارے اوپر اور کام کا بوجھ ڈالتے ہی چلے جائیں گے” تو ردا نے کہا ” نہیں میں سمجھتی ہوں کہ میرے اندر بہت زیادہ اعتماد آیا ہے ان تمام کاموں سے کہ جب آفتاب مجھے کہتے ہیں کہ اچھا تم نے یہ بھی کر لیا تو وہ مجھے بہت شاباشی دیتے ہیں،شکریہ ادا کرتے ہیں ،اعتراف کرتے ہیں کہ میں ان سے زیادہ ان کے والدین کا خیال رکھتی ہوں ،اور سچی بات ہے کہ اس سے زیادہ کی مجھے طلب ہے نہ ہوس ".
    ———————-
    کسی تناور درخت کو بھی بار بار ہلایا جائے تو وہ بھی اپنی جڑیں کمزور کر دیتا ہے ، یہی صابرہ کے ساتھ ہوتا نظر آ رہا تھا ، ماں بھی نہ رہی تھی اس وجہ سے نادیہ ہی اس سے بات کرنے کی کوشش کرتی تو صابرہ ہتھے سے اکھڑ جاتی اور یہ بات جب شوکت کو پتہ لگتی تو نادیہ اور شوکت کے اپنے رشتے میں کڑواہٹ پیدا ہوجاتی –
    ایک روز نادیہ سوئی ہوئی تھی کہ وہ خواب میں دیکھتی ہے کہ وہ اور صابرہ کسی جگہ پر گئی ہیں جہاں بہت رش ہے، اس کے ہاتھ میں اپنے بہت سارے زیور ہیں، وہ چاہتی ہے کہ اس میں سے کچھ صدقہ کر دے مگر وہاں
    رش اتنا زیادہ بڑھ جاتا ہے ، دھکم پیل ہوتی ہے کہ جب وہ اپنا پرس کھولتی ہے تو اس میں کافی سارے زیورات نیچے گر جاتے ہیں اور وہ ان کو جھک کر اٹھا بھی نہیں سکتی کیونکہ وہاں اتنا رش تھا تو لوگ نیچے گرے ہوئے زیورات کو لوٹنا شروع کر دیتے ہیں ، صابرہ اس صورتحال سے بے نیاز نادیہ سے کہتی ہے کہ مجھے پانی پینا ہے اور ضد لگا لیتی ہے کہ پانی پلا دیں، وہ دونوں مل کر ڈھونڈتے ہیں تو ایک جگہ نظر آتی ہے جہاں ابھی کنواں کھودا جا رہا ہوتا ہے لیکن اس میں پانی ابھی پورا ہوتا نہیں ہے ، گدلا پانی ہوتا ہے،وہاں جو کام کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ نہیں،
    آپ یہ نہ پیئیں ،یہ ابھی صاف نہیں ہے آپ تھوڑا سا صبر کر لیں اور آگے جا کر صاف پانی پی لیں ، لیکن صابرہ کہتی ہے مجھے یہی پانی چاہیے ، مٹی اس کے حلق میں پھنس جاتی ہے تو وہ اسے تھوک دیتی ہے ، اور جب وہ زور زور سے کھانس رہی ہوتی ہے تو تکلیف کی وجہ سے نادیہ کی آنکھ کھل جاتی ہے-
    نادیہ جب یہ خواب اپنی ماں کو سناتی ہے تو اس کی ماں اس پر بہت زیادہ غصہ کرتی ہے کہ تم صابرہ کے لیے ہلکان ہونا چھوڑ دو، وہ اپنے لیے اچھا فیصلہ نہیں کر پا رہی ہے جس سے تمہاری خوشیاں بھی اس کی بے صبری کی وجہ سے لٹ جائیں گی۔
    تمہارے پاس جو زیور تھے، وہ تمہاری خوشوں کا تھیلا تھا ،جو اس کی وجہ سے خراب ہو رہی ہیں اور وہ جو بھی دھکے پڑ رہے تھے وہ حالات ہیں جو اس کی بدزبانی کی وجہ سے آئیں گے اور اس میں تمہیں بھی پریشان ہو گی، اور وہ جو پانی والی بات ہے وہ اس کی بے صبری ہے کہ اس نے میٹھے پانی کا انتظار نہیں کیا اور وہی کیچڑ والا پانی پینےکی کوشش کی جسے تھوک دیا اور اس کو پھندا بھی لگ گیا ۔
    تو تم اپنے آپ کواس کی ساری کاروایوں سے دور رکھو اب آگے جو چیزیں بھی خراب ہوں گی ،اس سے تمہیں بہت تکلیف بھی ہو سکتی ہے تم اپنا صدقہ وغیرہ دو۔
    آخر وہی ہواجس کے بارے میں سب کو پہلےسے اندازہ تھا کہ ایسا ہو سکتا ہے ۔
    صابرہ کی کاہلی اور بدزبانی کی وجہ سے خرم ایک دن آپے سے باہر ہو گیا۔ وہ کبھی نہیں چاہتا تھا کہ اپنی بیوی پر ہاتھ اٹھائے لیکن اس روز یہ ہو گیا تو صابرہ نے رو رو کر بد دعائیں دے دے کر محلہ سر پر اٹھا لیا ،شوہر کے خاموش کروانے پر اس سے اتنی زیادہ بدزبانی کی کہ آواز تک بیٹھ گئی پھر بھی صبر نہ آیا تو غم و غصے میں شرکیہ، کفریہ الفاظ بولنے سے بھی باز نہ رہی- بہرحال محلے میں سے ہی جان پہچان کےلوگوں نے اس کے بھائی کے گھر فون کیا تو بھائی اسے لینے پہنچا صابرہ کو امید تھی کہ بھائی خرم سے میرے تھپڑ کا بدلہ ڈنڈے سوٹے سے لے گا لیکن محلےداروں نے ڈھیر ساری گواہیاں صابرہ کے خلاف اور خرم کے حق میں دینی شروع کردیں، لہٰذا یہ جھگڑاوہیں تھم گیا اور شوکت شرمندگی کے ساتھ بہن کو اپنے گھر لے آیا ۔ وہ حیران تھا کہ اسے اس سے پہلے وہ سب باتیں معلوم ہی نہیں تھیں جو محلے والوں نے بتائیں ۔
    جن سے اسے دلی صدمہ بھی ہوا کہ اس کی پیاری بہن کیسی نادان ہے اس نے نادیہ سے اپنا غم ہلکا کرتے ہوئے کہا اس پگلی نے اپنی زندگی کے ساتھ کیا کچھ کر ڈالا ہے۔نادیہ دل میں سوچ کر رہ گئی کہ "صرف اپنی زندگی یا ہم سب کی زندگیوں کے ساتھ ”
    ———-
    نادیہ کی طبعیت کافی خراب رہنے لگی تھی، اس کی دیکھ بھال صابرہ کے سر آچکی تھی وہ بہ مشکل کچن سنبھالتی اور تھک کر چور ہو جاتی ،شوکت دن بھر کا تھکا جب گھر آتا تو نہ کھانا بنا ملتا نہ ہی بیٹے سعد کا حلیہ ٹھیک ہوتا ،صبح ناشتے میں پاپے کھا کر نکلتا اور واپسی میں ہفتے بھر کھانے میں وہی پتلی کھچڑی یا دلیہ ملتا رہا جو صابرہ مارے باندھے نادیہ کے لیے بنا لیا کرتی تھی .
    شوکت پرایک نئی حقیقت آشکار ہو رہی تھی کہ اس کی بیوی نے گھر کو کتنی مستعدی سے جان مار کر سنبھالا ہوا تھا حتی کہ اس کی امی کو بھی آخر وقت تک اور صابرہ تو اب بھی کہیں شادی کر کے گھر سنبھال لینے کے قابل خود کو نہیں بنا سکی ہے ،لیکن جوان لڑکی ہے شادی تو کرنی ہی ہوگی مگر ایسے کیسے گھر چلاۓ گی اپنا ؟
    نادیہ اپنی کمزوری کی وجہ سے دلگرفتہ تو تھی لیکن خوش بھی تھی کہ شوکت کو اندازہ تو ہو جاۓ گا حالات کا ….تو کیا وہ اسے سراہے گا ؟ کیا کسی مسجد کے خطبے سے سکول سے والدین سے اپنے کام پر اس نے اتنی سی بات سیکھی ہو گی کہ بیوی کو سراہا جانا چاہۓ ، وہ چند لفظ اس کے ذمہ داری سے لائی ہوئی دواؤں پھلوں اور دودھ سے زیادہ نادیہ کو طاقت بخش دیتے،محبت کا اظہار شادی کے شروع دنوں میں تو مجھے تم سے محبت ہے کہہ دینے سے ہو جاتا ہے لیکن کچھ سال بعد کبھی کبھی مجھے تم پر فخر ہے ،مجھے تم پر بھروسہ ہے مجھے تھماری محنت کا ادراک ہے ،مجھے تمھارے صبر کی قدر ہے کچھ تو، کبھی تو ، اندھے فقیر کے کاسے میں کھنکھناتے ہوئے سکوں کی آواز کی مانند درکار ہوتے ہیں.

    اکرم چوہدری نجی ٹی وی کا عثمان بزدار ثابت،دیہاڑیاں،ہراسانی کے بھی واقعات

    اکرم چوہدری کا نجی ٹی وی کے نام پر دورہ یوکے،ذاتی فائدے،ادارے کو نقصان

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

    مناہل ملک کی لیک”نازیبا "ویڈیو اصلی،مفتی قوی بھی میدان میں آ گئے

  • ہاتھ میں ایک اچھی کتاب ،سب سے بڑا لطف،کچھ یادیں

    ہاتھ میں ایک اچھی کتاب ،سب سے بڑا لطف،کچھ یادیں

    میری سب سے بڑی پسندیدہ سرگرمیوں میں ہمیشہ پڑھنا شامل رہا ہے۔ جتنا مجھے یاد ہے، کتابیں ہمیشہ میرے ساتھ رہی ہیں، مجھے مختلف جہانوں میں لے جاتی ہیں، دلچسپ خیالات سے روشناس کراتی ہیں اور روزمرہ کی زندگی کے شور سے پناہ فراہم کرتی ہیں۔ لیکن حالیہ برسوں میں میں نے ایک تبدیلی محسوس کی ہے،پڑھنے کی وہ لذت جو پہلے تھی، آہستہ آہستہ کم ہوتی جا رہی ہے۔

    ماضی میں میرا گھر ایک ادبی میدان کی طرح تھا۔ ہر کمرے میں کتابوں کا اپنا مخصوص مقام ہوتا تھا۔ ہمیشہ میرے بستر کے قریب ایک کتاب رکھی ہوتی، ایک اور کتاب کچن میں رکھی ہوتی تاکہ چائے کا پانی اُبالنے کا انتظار کرتے ہوئے تھوڑی دیر کے لیے پڑھا جا سکے، اور ایک کتاب شوروم کے صوفے کی بانہوں پر رکھی ہوتی۔ ایک ان پڑھا خزانہ ہمیشہ تیار رہتا، میری پسند نرالی تھی.افسانہ، غیر افسانہ، اور درمیان کی سب چیزیں، یہ کوئی فرق نہیں پڑتا تھا، بس کتابیں مجھے اپنی طرف کھینچ لیتی تھیں۔

    حال ہی میں، تاہم، میں نے خود کو زیادہ تر مواد اسکرین پر پڑھنا شروع کر دیا،جو یا تو سہولت کی وجہ سے یا ضرورت کے تحت ہوتا ہے، نہ کہ حقیقی جوش و جذبے کے باعث، کمپیوٹر یا ٹیبلٹ پر پڑھنا وہ جادو نہیں رکھتا جو ایک جسمانی کتاب کے ساتھ ہوتا ہے۔ مجھے وہ حسی تجربہ یاد آتا ہے ،کتاب کا وزن ہاتھوں میں محسوس کرنا، نئے پرنٹ شدہ صفحات کی خوشبو، اور ہر صفحے کو پلٹتے وقت کی تسکین بخش سرسراہٹ۔ اس میں کچھ ایسا ہے جو بے بدل ہے کہ آپ کسی پسندیدہ اقتباس کو دوبارہ دوبارہ پڑھ سکیں جیسے آپ انہیں یادداشت میں محفوظ کر رہے ہوں۔

    جو چیز مجھے سب سے زیادہ یاد آتی ہے وہ اس سب کا ایک مقدس عمل ہے۔ صوفے پر پھیل کر ایک آرام دہ کمبل میں لپٹنا، ایئرل گرے یا کافی کا گرم کپ پاس میں رکھنا، اور ایک اچھی کتاب ہاتھ میں ہونا، ایسا لگتا ہے جیسے سب سے بڑی عیاشی ہو۔ یہ صرف پڑھنا نہیں ہے،یہ ایک فرار ہے، دن کے دباؤ سے آزاد ہونے کا ایک طریقہ ہے اور خود کو کرداروں کی زندگیوں میں غرق کرنے، سنسنی خیز کہانیاں کھولنے یا گہرے خیالات کو دریافت کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ کتاب کے ساتھ گزارا گیا وہ مقدس وقت زندگی کی سب سے خالص خوشیوں میں سے ایک ہے۔

    کتابیں میرے لیے صرف تفریح نہیں، بلکہ ضروری ہیں۔ میں تصور نہیں کر سکتی کہ کوئی تعطیلات بغیر کتابوں کے گزاری جائیں۔ اگر سفر میں کتابیں نہ ہوں تو ایسا لگتا ہے جیسے میں نے سفر کی روح کو پیچھے چھوڑ دیا ہو۔ اسی طرح، رات کو سونے سے پہلے کتاب نہ پڑھنا، چاہے صرف ایک صفحہ یا دو ہی ہوں، نامکمل سا محسوس ہوتا ہے۔ نیند سے پہلے کا وہ لمحہ، کتاب کے ساتھ، ایک چھوٹا مگر ضروری سکون ہوتا ہےیہ ایک اشارہ ہوتا ہے کہ دن پرامن طور پر ختم ہو رہا ہے۔

    جسمانی کتابوں سے اپنی محبت کو دوبارہ جلا دینا، ایسا لگتا ہے جیسے میں نے اپنے آپ کا ایک حصہ دوبارہ حاصل کیا ہو، کچھ ایسا جو دل سے سکون دہ اور بامعنی ہو۔ کیونکہ ایسی دنیا میں جہاں سب کچھ تیز رفتاری سے چل رہا ہو، پڑھنے کی قدیم لذت ایک نرم یاد دہانی ہے کہ ہمیں آہستہ چلنا چاہیے، سانس لینا چاہیے، اور الفاظ کی خوبصورتی میں غرق ہو جانا چاہیے۔

  • 8 فروری 2025 کو منعقد ہونیوالے عالمی مشاعرے کی تیاریوں کا جائزہ اجلاس

    8 فروری 2025 کو منعقد ہونیوالے عالمی مشاعرے کی تیاریوں کا جائزہ اجلاس

    عالمی مشاعرہ کمیٹی کا خصوصی اجلاس جہانگیر خان اسپورٹس کمپلیکس، کشمیر روڈ، کراچی میں شام 6 بجے منعقد ہوا۔ اس اجلاس کا مقصد 8 فروری 2025 کو منعقد ہونے والے عالمی مشاعرے کی تیاریوں کا جائزہ لینا، اس کی تشہیر کے لیے حکمت عملی مرتب کرنا، اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی تجاویز کو شامل کرنا تھا۔

    اجلاس میں کمیٹی کے معزز اراکین، کاروباری برادری کے نمائندوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھرپور شرکت کی۔ حاضرین نے مشاعرے کی کامیابی کے لیے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی اور اس کے انتظامات کو بہتر بنانے کے لیے مفید تجاویز بھی پیش کی گئیں ۔ شرکاء محفل نے مشاعرے کے پیغام کو زیادہ سے زیادہ افراد تک پہنچانے کے لیے ڈیجیٹل اور روایتی ذرائع ابلاغ کے مؤثر استعمال پر زور دیا۔ اس کے ساتھ مہمان شعراء کی فہرست کو جلد حتمی شکل دینے، سامعین کے لئے آرام دہ سہولتوں کی فراہمی، اور مشاعرے کے دوران اعلیٰ معیار کے آلات کے استعمال کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ مشاعرے کی لائیو اسٹریمنگ کے ذریعے عالمی سطح پر اس کے پیغام کو پھیلانے کی تجویز کو بھی سراہا گیا۔

    کاروباری برادری کے نمائندوں جناب ایس ایم تنور، ریاض احمد (مکہ مکرمہ) جناب خالد تواب، جناب میاں زاہد، جناب حنیف گوھر، جناب نوید بخاری، جناب زبیر چھایا، جناب جنید نقی اور دیگر نے اس مشاعرے کی کامیابی کے لیے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کروائی اور اسپانسرشپ کی پیشکش بھی کی۔ اس تعاون سے مشاعرے کی تیاریوں کو مزید تقویت ملےگی ۔ اجلاس کے دوران ایک مختصر مشاعرے کا بھی انعقاد کیا گیا، جس میں شعراء نے اپنے کلام سے حاضرین کو محظوظ کیا۔ یہ مختصر مشاعرہ نہ صرف اجلاس کے شرکاء کے لیے ایک یادگار لمحہ تھا بلکہ عالمی مشاعرے کے لئے ایک خوبصورت پیش خیمہ بھی ثابت ہوا۔

    جن شعرا کرام نے اپنا کلام پیش کیا ان کے نام یہ ہیں ۔
    صدف بنت اظہارِ ۔ہدایت سائر۔ ظفر بھوپالی۔طارق سبز واری۔ سلیم فوز اور ڈاکٹر شاداب احسانی شامل ہیں۔

    اجلاس میں مشاعرے کی کامیابی، ملک و قوم کی ترقی، اور ادب کے فروغ کے لئے خصوصی دعا کی گئی۔ اس موقع پر کئی معزز شخصیات نے اپنی موجودگی سے اجلاس کی رونق کو دوبالا کیا، جن میں حاجی رفیق پردیسی، فرحان الرحمان، شیخ راشد عالم، خالد جمیل شمسی، فیصل ندیم، ندیم معاز جی، عارف شیخانی، ڈاکٹر شاہ فیصل، انجینئر تنویر احمد، ندیم شیخ ایڈووکیٹ، خالد فرشوری، ظفر بھوپالی، محمود راشد۔ ہما۔بخاری اور عارف زبیری شامل ہیں۔

    یہ اجلاس عالمی مشاعرے کی تیاریوں کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہوا اور اس کے کامیاب انعقاد کے امکانات کو مزید روشن کر دیا۔ شرکاء کی دلچسپی اور تعاون سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ 8 فروری 2025 کو منعقد ہونے والا عالمی مشاعرہ ایک تاریخی اور یادگار ادبی تقریب ہوگی، جو پاکستانی ادب اور ثقافت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔
    رپورٹ ۔۔
    صدف بنت اظہار ۔
    مکتبہ حیدری پاکستان کراچی ۔

  • تبصرہ کتب،: فتاویٰ برائے خواتین

    تبصرہ کتب،: فتاویٰ برائے خواتین

    نام کتاب : فتاویٰ برائے خواتین
    جمع وترتیب : محمد بن عبدالعزیز المسند
    صفحات : 488
    قیمت 1450روپے
    ناشر : دارالسلام انٹرنیشنل ، لوئر مال ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ لاہور
    برائے رابطہ :042-37324034
    زیر نظر کتاب” فتاویٰ برائے خواتین “ روزمرہ زندگی میں خواتین کو درپیش مختلف نوعیت کے تمام اہم مسائل اور ان کے علمی و تحقیقی جوابات کا گرانقدر مجموعہ ہے جو کہ دینی کتابوں کی اشاعت کے عالمی ادارہ دارالسلام نے شائع کیا ہے۔ یہ کتاب بتاتی ہے کہ خواتین کو شرم و حیا اور حجاب و نقاب کے تقاضے ہمیشہ ملحوظ رکھنے چاہئیں۔ بچیوں کو اسلامی تعلیمات سے اچھی طرح روشناس کرانا چاہیے۔ جب وہ جوان ہو جائیں تو ان کی شادی کرنے کے لیے غایت درجہ احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ لڑکے کے انتخاب میں اس کے اخلاق و احوال دیکھنے چاہئیں۔ یہ تحقیق ضرور کرنی چاہیے کہ جس سے بچی کی شادی کی جارہی کیا وہ نماز کا پابند ہے یا نہیں؟ کسی بے نماز سے ہرگز شادی نہیں کرنی چاہیے۔ کوئی مرد لڑکی کی عمر سے دس پندرہ سال بڑا ہو اور وہ صالح اور صحت مند بھی ہو تو لڑکی کو ایسے مرد سے شادی کرنے یا نہ کرنے کا اختیار ہے لیکن بڑی عمر پر اعتراض کا کوئی حق نہیں۔ ایک فتوے میں ایک خاتون کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ اپنے شرابی اور بدکار شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرسکتی ہے۔متعدد فتووں میں بتایا گیا ہے کہ ایامِ حیض میں نماز، روزہ اور طواف بیت اللہ جیسی عبادت کی ممانعت ہے۔شیر خوار بچہ قے کر دے تو لباس ناپاک نہیں ہوتا۔ جو عزیز رشتہ دار نماز نہیں پڑھتے ان سے حسن سلوک کی تاکید کی گئی ہے ۔ روزے میں مسواک یا ٹوتھ برش کرنے سے کوئی حرج نہیں۔ ایک فتوے میں بتایا گیا ہے کہ کوئی خاتون کتنی ہی پڑھی لکھی ہو، مردوں کی امامت کرانے کی مجاز نہیں۔ ایک خاتون گھر میں اکیلی ہے، نماز پڑھ رہی ہے، دروازے پر مہمان آگیا، اس نے گھنٹی بجائی، اب یہ خاتون کیا کرے؟ اس سوال کا دلچسپ حکیمانہ جواب دیا گیا ہے۔ جو خاتون باریک دوپٹہ اوڑھ کر نماز پڑھے، اس کےلئے کیا حکم ہے۔ کسی خاتون کے پاس زیورات ہوں یا صرف سوناہو، اُس پر ادائے زکاة کے ضروری احکام بتائے گئے ہیں۔
    کتاب میں بتایا گیا ہے کہ طیارے کے سفر میں نماز کا وقت آجائے اس دوران نماز فوت ہونے کا اندیشہ ہوتو کیا کیا جائے؟ٹیلی فون پر لائن کے دوسری طرف کوئی نامحرم مرد بول رہا ہو تو اُسے جواب دیا جائے یا نہ دیا جائے ؟ ۔ بعض بیگمات کثرتِ اولاد پسند نہیں کرتیں، کیا وہ مانع حمل گولیاں کھا سکتی ہیں یا نہیں؟ مسلمان باورچی نہیں مل رہاکیا ایسی صورت میںغیر مسلم باورچی کھانا پکانے کےلئے رکھا جاسکتا ہے یا نہیں ؟ شادی کے بعد دولھا میاں کے ساتھ ہنی مون منانے کے لیے سفر و سیاحت پر جاناکیسا ہے؟ ۔
    ایک فتوے میں بتایا گیا ہے کہ شوہر فوت ہو جائے توکیا بیوی غسل دے سکتی ہے؟ اسی طرح بیوی وفات پا جائے توکیا شوہر غسل دے سکتا ہے؟۔کتاب میں یہ بھی واضح کردیا گیا ہے کہ اللہ نہ کرے کوئی مسلمان خود کشی کرلے توکیا اسے بھی غسل دیا جائے گا اور مسنون طریقے کے مطابق تجہیز و تکفین کی جائے گی ؟ ۔ کتاب میں ایک ایسی خاتون کے شوہر کی بے حسی کی داستان سنائی گئی ہے جو اگر چہ نمازی ہے لیکن اس نے بیوی کو فراموش کررکھا ہے۔ کوئی عزیز رشتہ دار آجائے تو ان کے سامنے بیوی کا مذاق اڑاتاہے اس مسئلے کا جو دانشمندانہ حل بتایا گیا ہے وہ غافل شوہروں کی اصلاح کی بہترین تدبیر ہے۔اسی طرح بعض نیک طبع شادی شدہ نوجوان لڑکیوں کو ازدواجی امور کے سلسلے میں کچھ ایسے سوالات کے جوابات دیے گیے ہیںجو ہر شادی شدہ خاتون کو پڑھنا چاہئیں تاکہ وہ عائلی زندگی کے دوران آسانی سے نماز کا التزام، روزے کی حفاظت اور جملہ عبادات کا اہتمام کر سکیں۔ کتاب میں بعض قابل رحم بدقسمت لڑکیوں کی طرف سے دل و نگاہ کے معاملات پیش کیے گئے ہیں اور اپنی خطا کا اعتراف کرتے ہوئے تلافی کا طریقہ پوچھا گیا ہے۔ ان کے جو سبق آموز اور ایمان افروز جوابات دیے گئے ہیں وہ پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں ۔اسی طرح جو خواتین حیا کے بوجھ سے دبی رہتی ہیں، شرم اور جھجک کی وجہ سے نازک مسائل زبان پر نہیں لاتیں، یہ کتاب ان کی نارسا آوازوں کا جواب ہے۔اس کتاب کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ کسی ایک فرد واحد کی کاوش نہیں بلکہ مفتی اعظم سعودی عرب الشیخ عبدالعزیز بن باز مرحوم ، الشیخ مفتی محمد بن صالح العثمین ،الشیخ مفتی عبداللہ بن عبدالرحمن الجبرین اور دارالافتاءکمیٹی سعودی عرب کے دیگر جید علما کے جوابات پر مشتمل ہے جس سے اس کتاب کی علمی وتحقیقی افادیت کئی گنا بڑھ گئی ہے ۔کتاب کا ترجمہ مولانا جاراللہ ضیا نے کیا ہے۔ افادیت اور اہمیت کے اعتبار سے اس کتاب کا ہر گھر میں ہونا اور اس کا مطالعہ ہر مسلمان خاتون کےلئے بے حد ضروری ہے

  • رویوں کا ادراک .تحریر:عینی ملک

    رویوں کا ادراک .تحریر:عینی ملک

    دو سال پہلے، جب بھی کوئی میری پوسٹ پر تضاد بھرا کمنٹ کرتا، تو میں فوراً دل برداشتہ ہو جاتی تھی۔ میرے ذہن میں بار بار یہ سوال آتا کہ آخر میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ میں خود کو مظلوم اور بےچارہ تصور کرتی، جیسے دنیا نے میرے خلاف کوئی سازش کر رکھی ہو۔ ہر منفی تبصرہ میرے دل کو گہرائی تک زخمی کر دیتا، اور میں گھنٹوں یہی سوچتی رہتی کہ شاید مجھ میں ہی کوئی کمی ہے۔

    پھر ایک وقت آیا جب میں نے ان چیزوں کو گہرائی سے دیکھنا شروع کیا۔ میں نے محسوس کیا کہ یہاں موجود ہر انسان کی سوچنے، سمجھنے اور شعور کی سطح مختلف ہے۔ کچھ لوگ اپنے حالات سے ستائے ہوئے ہیں، کچھ اپنی خوشی کا اظہار کرنا چاہتے ہیں، اور کچھ بس دوسروں کو نیچا دکھانے یا ان کی باتوں میں خامیاں نکالنے میں خوشی محسوس کرتے ہیں۔

    اسی دوران، میں نے ایک اور دلچسپ رویہ نوٹ کیا۔ بعض لوگ بے تُکی بات پر بھی واہ واہ کر کے چلے جاتے ہیں، جیسے انہوں نے کسی بات پر غور کیے بغیر ہی تعریف کرنا اپنی عادت بنا لی ہو۔ کبھی کبھی ان کی یہ تعریف مصنوعی لگتی تھی، اور کبھی یہ احساس ہوتا کہ شاید وہ محض اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے لیے ایسا کر رہے ہیں۔

    یہ سب دیکھ کر میں نے یہ جانا کہ لوگوں کے رویے اور ان کے ردعمل اکثر ان کی اپنی شخصیت، مزاج، یا حالات کا عکس ہوتے ہیں، نہ کہ میری بات یا میری شخصیت کا۔ تب میں نے یہ فیصلہ کیا کہ میں دوسروں کے تبصروں کو اپنے دل پر لینے کے بجائے، ان پر غور کیے بغیر آگے بڑھوں گی۔

    یہ شعور حاصل کرنا میرے لیے ایک طاقتور سبق تھا۔ میں نے سیکھا کہ اپنی زندگی کی خوشی اور سکون کو دوسروں کی رائے سے مشروط نہیں کرنا چاہیے۔ اب میں جانتی ہوں کہ دنیا کی رنگا رنگی اور لوگوں کے مختلف رویے اس دنیا کی خوبصورتی ہیں، اور ہمیں بس اپنے راستے پر اعتماد اور سکون کے ساتھ چلتے رہنا چاہیے۔اور اچھے لوگوں کی رائے کو اہمیت دینا چاہیے۔