Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • رومن رسم‌الخط کے نقصانات،تحریر:عمارہ کنول چودھری

    رومن رسم‌الخط کے نقصانات،تحریر:عمارہ کنول چودھری

    ہم پچھلے 75 سالوں سے پڑھتے آ رہے ہیں کہ اردو پاکستان کی قومی زبان ہے۔
    یہ صرف ایک خواہش ہی رہی کہ قومی زبان کو سرکاری و دفتری سطح پر رائج کیا جائے، مگر اس سے پہلے کہ اردو کا نفاذ ممکن ہوتا، ہماری قومی زبان اردو پر رومن رسم‌الخط کے خطرات منڈلانے لگے۔دورِ حاضر پر نظر ڈالیں تو ہمیں انگریزی سے زیادہ رومن رسم‌الخط سے خطرہ محسوس ہوتا ہے۔

    نئی نسل اردو لکھنا بھولتی جا رہی ہے، اور قوم ہر گزرتے دن کے ساتھ رومن رسم‌الخط کی عادی بنتی جا رہی ہے۔آج اگر ہم سماجی ذرائع ابلاغ پر نظر ڈالیں یا اپنے حلقۂ احباب کا مشاہدہ کریں، تو اکثریت رومن رسم‌الخط میں پیغام رسانی کرتی نظر آتی ہے۔

    اب نوجوان نسل کو رومن رسم‌الخط میں لکھنا تو آسان لگتا ہے، مگر اردو رسم‌الخط میں لکھنا مشکل محسوس ہوتا ہے۔
    مختلف حلقوں میں موجود نامور ادبی شخصیات کو دیکھیں تو بہت کم ایسے افراد ہیں جو اردو رسم‌الخط میں پیغامات لکھتے ہیں۔

    وہ ادیب اور مصنفین، جنہیں اردو نے شہرت بخشی اور آج بھی دے رہی ہے، وہ بھی رومن رسم‌الخط یا انگریزی میں لکھنے کو ترجیح دیتے ہیں، حالانکہ اردو ادب سے منسلک لکھاریوں پر زیادہ ذمّے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اردو کو ترجیح دیں اور محبت سے اسے اپنائیں۔

    آج، بحیثیتِ پاکستانی، ہمیں خود سے یہ سوال پوچھنا چاہیے اگر ہم اپنی قومی زبان اردو کو عزت اور ترجیح نہیں دیں گے، تو کون دے گا؟

  • افسانہ،جامہ جاہ  ،تحریر:پارس کیانی

    افسانہ،جامہ جاہ ،تحریر:پارس کیانی

    سائرہ آج یونیورسٹی جانے کے لیے تیار ہو رہی تھی۔ آئینے کے سامنے کھڑے ہوئے وہ اپنے سادے کپڑوں کو دیکھ کر دبی آواز میں بولی،
    "کاش… کبھی میں بھی اچھی لگوں۔”
    اس کی آواز میں حسرت تھی، مگر وہ جانتی تھی کہ گھر کے حالات مہنگی خواہشوں کی اجازت نہیں دیتے۔

    دروازہ کھلا تو امی اندر آئیں۔ ہاتھ میں ایک بیگ تھا۔
    "یہ لو بیٹا… آج تم یہ پہن کر جاؤ۔”
    سائرہ نے حیرت سے پوچھا، "امی! یہ… یہ تو نیا ہے؟ اور کافی مہنگا بھی لگ رہا ہے۔ کہاں سے لیا؟”

    امی نے مصنوعی مسکراہٹ کی اوٹ میں اپنی تھکن چھپاتے ہوئے کہا، "بس لے لیا۔ کبھی کبھی بیٹیوں کے لیے دل چاہتا ہے کچھ کر دوں… تم پہنو گی تو اچھی لگو گی۔”
    سائرہ نے کپڑے ہاتھ میں لیے تو محسوس ہوا جیسے کپڑا نہیں، امی کی کئی قربانیاں اس کی ڈنت میں میں لگی ہیں۔
    “امی۔۔۔۔۔ ضرورت نہیں تھی۔”
    امی نے نرمی سے جواب دیا، “ضرورت کبھی کبھی دل کی بھی ہوتی ہے، صرف جسم کی نہیں۔ جاؤ بیٹا، پہنو۔”

    سائرہ نے وہ کپڑے پہنے تو پہلی بار اسے لگا کہ شاید وہ واقعی اچھی لگ سکتی ہے۔ مگر دل میں عجیب سا بوجھ تھا۔ جیسے اس لباس کی قیمت اس کی اپنی شخصیت سے کہیں زیادہ ہو۔
    یونیورسٹی پہنچی تو ماحول یکسر بدل گیا۔
    علی نے اسے دیکھتے ہی کہا،
    سائرہ! آج تم بہت خوبصورت لگ رہی ہو!”
    نمرہ نے حیرت سے پوچھا، “یہ ڈریس کہاں سے لیا؟ بہت اسٹائلش ہے!”
    ایک اور لڑکی بولی، “یار، سائرہ! تمہاری کلاس” تو آج ہی بنی ہے!”

    سائرہ ان کی باتیں سنتی رہی، مگر تعریف کا ہر ہر تیر کی طرح دل میں چبھ رہا تھی۔
    اس نے دھیرے سے پوچھا، “میں اچھی لگ رہی ہوں… یا یہ کپڑے اچھے ہیں؟”

    نمرہ ہنس کر بولی، "ارے کپڑے تو انسان کو نکھار دیتے ہیں۔ آج تو تم پوری برانڈ لگ رہی ہو!”

    یہ لفظ” برانڈ” اس کے دل پہ بجلی بن کر گرا۔

    پورے دن وہ ہنستی رہی، باتیں کرتی رہی، مگر اندر اتھل پتھل جاری رہی۔
    اسے محسوس ہو رہا تھا جیسے لوگ اسے نہیں، اس کے لباس کو دیکھ رہے ہوں۔
    اس کی ذات کہیں پیچھے،
    اور اس کا لباس اس کا تعارف بن گیا ۔۔۔۔۔لباس کی اہنی دیوار کے پیچھے سے وہ ایڑیاں اٹھا اٹھا کر جھانک رہی تھی کہ لوگوں کو بتا سکے "میں یہاں ہوں” لیکن وہ گونگی چیخیں کسی کو سنائی نہ دیں۔

    شام کو واپس گھر پہنچ کر وہ سیدھی اپنے کمرے میں گئی۔ کپڑے اتار کر تہہ کرتے ہوئے اس نے امی کو آواز دی، "امی، لوگ۔۔۔۔۔( الفاظ گلے میں اٹک گئے )

    آج سب بہت اچھے تھے۔ سب تعریفیں کر رہے تھے۔”

    امی خوش ہو کر بولیں، "میں نے کہا تھا نا؟

    اچھا لباس انسان کو اعتماد دیتا ہے۔”
    ( کبھی کبھی اندر کے عقلمند انسان کو مار کر ،بظاہر ایک بے وقوف انسان کو بھی جینے کا حق دینا چاہیے )۔سائرہ کی ماں خود کلامی کے انداز میں گویا ہوئی۔

    سائرہ نے کپڑے کو ہاتھ میں پکڑا، پھر امی سے نظریں چرا کر آہستہ سے پوچھا، "امی… اگر میں یہی تعریفیں اپنے پرانے کپڑوں میں سن لیتی… تو شاید مجھے یقین آ جاتا کہ یہ میری اپنی قیمت ہے۔ لیکن آج… یہ سب سن کر میں عجیب الجھن میں ہوں۔”

    امی کچھ لمحے خاموش رہیں۔ پھر بولیں، “لوگوں کی نظر بدلتے دیر نہیں لگتی۔”

    سائرہ نے تلخی سے کہا، “ہاں امی… پر مسئلہ یہ ہے کہ آج ان کی نظر میں میں نہیں تھی… یہ برانڈ تھا۔ یہ کپڑے تھے۔ یہ قیمت تھی۔”

    امی نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا، مگر سائرہ کی آنکھوں میں وہ تیز چمک تھی جو کسی گہری سمجھ بوجھ کے بعد پیدا ہوتی ہے۔

    رات گئے وہ تنہا بیٹھی رہی۔ کھڑکی سے باہر اندھیری گلی دیکھتی، اور اندر روشنی میں رکھے ہوئے ان کپڑوں کو۔
    اس نے دھیرے سے، جیسے خود کو سمجھاتے ہوئے کہا:

    “اگر میری عزت، میرا وقار، میری اہمیت… کسی کپڑے کی قیمت سے وابستہ ہو سکتی ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ اصل میں میری کوئی قیمت تھی ہی نہیں۔”

    اس کی آواز ٹوٹ رہی تھی، مگر الفاظ بہت صاف تھے:

    “لوگوں کی نظر میں میں وہی تھی… بس آج دس ہزار کے کپڑوں نے مجھے بدل دیا۔”

    وہ نیچے دیکھ کر کپڑوں پر ہاتھ پھیرنے لگی ۔۔۔
    کپڑے نرم تھے، مگر حقیقت بہت کڑی۔
    اور اس وقت سارا نے اپنے ہاتھوں سے جلدی جلدی اپنے پورے جسم کو ٹٹول ڈالا، ایستادہ پنڈلیاں،نرم سینہ، چمکتے ،لہکتے بازو ،
    مہندی لگے ہاتھ ، روشن ماتھا ،دہکتے گال ،شکایت أمادہ گلابی ہونٹ ،مغرور ستواں ناک ،شفاف گردن ایسی کہ اندر پانی جاتا بھی دکھائی دے ،اور کچھ نہیں تو قیمتی دل ،آرزوؤں سے بھرا ہوا دل ،محبتیں بانٹنے اور محبت پا لینے کے لیے بے تاب دل ۔۔۔۔۔۔وہ جسم کے روئیں روئیں کی قیمت بنا رہی تھی کہ شاید اس کے لباس سے زیادہ قیمت کے نکل آئیں

    کیونکہ اس کے اندر کوئی چیخ رہا تھا ۔۔۔۔۔ُ
    سائرہ۔ ۔۔۔۔۔۔۔! ! ! ! !

    “تمہاری قیمت دس ہزار بھی نہیں تھی لوگوں کی نظر میں۔”۔ ۔ ۔ ۔ ۔

  • ابھرتی ہوئی شاعرہ  لیلی رب نواز کے اعزاز میں "شام پزیرائی” کا انعقاد،تحریر:  صائمہ اختر

    ابھرتی ہوئی شاعرہ لیلی رب نواز کے اعزاز میں "شام پزیرائی” کا انعقاد،تحریر: صائمہ اختر

    وہ خوبرو جو بچھڑنے کی بات کرنے لگا
    خزاں نے گھیر لیا خوش مزاج لڑکی کو
    تحریک دفاع قومی زبان و لباس شعبہ خواتین کی یہ روایت ہے کہ ہمیشہ نوجوان نسل، ان کے علم و فن / قابلیت اور جذبے کو سراہتی ہے۔ نئی ابھرتی ہوئی شاعرات اور لکھاریوں کے فکر و فن کو ادبی حلقوں سے روشناس کراتی ہے اور ان کے لیے ادب کی دنیا کی راہیں ہموار کرنا ہماری تحریک کا اولین مقصد ہے تاکہ ان کو وہ مقام و مرتبہ ملے جس کی وہ حق دار ہیں۔ اسی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے خوبصورت لب و لہجے کی مالک شاعرہ لیلی رب نواز کے اعزاز میں 3 نومبر 2025ء بروز بدھ ایک بزم "شام پذیرائی” کا انعقاد کیا گیا۔ جس کی صدارت بانی و سرپرست عمارہ کنول نے کی۔ عمارہ کنول نے بزم میں شریک تمام سامعین کو خوش آمدید کہا ۔بزم کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کی سعادت پرتاثیر آواز کی مالک حافظہ آصفہ ارشاد کو حاصل ہوئی۔ عائشہ راجپوت نے اپنے منفرد اور دلکش انداز میں حمدیہ اشعار پیش کیے۔ نظامت کے فرائض بھی محترمہ عائشہ راجپوت نے بڑی خوبصورتی اور احسن طریقے سے نبھائے۔ اس یادگار بزم میں محترمہ ام کسوہ، ندا عباس ( انگلستان)فہیمہ شیرازی ،عائشہ راجپوت ،نغمہ عزیز ،عنبرین فاطمہ ،عائشہ صدیق ،حمیرا انور،عائشہ فاطمہ ،فاطمہ اعجاز،عابدہ صابر، محترمہ تاشفہ،عائشہ سعد ،عائشہ یاسین اور راقمہ صائمہ اختر نے شرکت کی۔ محترمہ فہیمہ شیرازی ے بہت پیارے اور منفرد انداز میں میٹھی بولی سرائیکی میں اپنا کلام پیش کیا۔

    لیلی رب نواز کو دعوت سخن دیا گیا انہوں نے اپنا پسندیدہ خوبصورت کلام سنا کر سامعین سے خوب داد سمیٹی۔ عائشہ راجپوت ے لیلی رب نواز صاحبہ سے کچھ سوالات کیے شاعرہ نے بہت خوبصورت انداز میں تمام سوالات کے جوابات دئیے۔ انہوں نے بتایا ان کے پسندیدہ شاعر محسن نقوی ہیں۔ لیلی رب نواز نے اپنی شاعری کے موضوعات پر بات کی۔ محبت، احساس، قدرت کی خوبصورتی پیڑ، پہاڑ اور پھول ان کے پسندیدہ موضوعات ہیں۔ انہوں نے زندگی کے تلخ حقائق کو بہت کم موضوع سخن بنایا ہے۔ شعری فن کی خوبصورتی، الفاظ کا انتخاب اور وزن و بحر کا استعمال ذہنی سکون اور خوشی کا سبب بنتا ہے لیلی رب نواز کی شاعری سن کر بالکل ایسا ہی لگا۔ انہوں نے اپنی شاعری میں داخلی کیفیات، احساسات اور درد کی شدت کو بڑی سچائی اور خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ ان کی شاعری میں جذبات و احساسات کی گونج سنائی دیتی ہے۔ اختتام میں عمارہ کنول نے تمام سامعین کا شکریہ ادا کیا یوں ایک خوبصورت اور یادگار محفل اختتام کو پہنچی۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے تحریک دفاع قومی زبان و لباس اسی طرح ترقی کرتی رہے اور نو آموز لکھاریوں کے لیے ایسی محافل کا انعقاد کرتی رہے تاکہ ہم ادب اور اپنی زبان سے جڑے رہیں

  • رقیہ غزل کا منفرد ادبی رنگ،تحریر:سعدیہ ہاشم

    رقیہ غزل کا منفرد ادبی رنگ،تحریر:سعدیہ ہاشم

    ادب کے وسیع آسمان پر کچھ شخصیات ستاروں کی طرح نہیں، ماہتاب کی طرح طلوع ہوتی ہیں؛ ان کی روشنی میں چاندنی بھی ہوتی ہے، لطافت بھی، اور ایک ایسی شائستگی بھی جو نگاہ کو ٹھہرنے پر مجبور کر دے۔رقیہ غزل انہی ماہتاب چہروں میں سے ایک ہیں،ایک مکمل جمالیاتی تجربہ،ایک دلنشیں احساس،اور ایک ایسی خالص روشنی جو لفظوں کے کینوس پر اپنا عکس چھوڑ جاتی ہے۔

    رقیہ غزل کی خوبصورتی صرف ظاہری رنگ و نگار کا نام نہیں،یہ ایک تہذیبی جمال ہے، جس میں پاکستانی اقدار کی مہک اور نسائی وقار کی چمک ہم آہنگ ہو کر دل پر اترتی ہے۔ان کی موٹی، خواب رنگ آنکھیں ایسے لگتی ہیں جیسے ہر پل کسی نئے استعارے کو جنم دینے والی ہوں۔ان کی موجودگی میں یوں محسوس ہوتا ہے کہ محفل کا موسم بدل گیا ہو،ہوا میں نرمی گھل گئی ہو،لفظوں میں تازگی اتر آئی ہو،اور فضا میں ایک مسحورکن سا سکوت بکھر گیا ہو۔

    جب وہ پاکستان کے روایتی لباس میں ملبوس، سر پر نفاست سے رکھا ہوا دوپٹہ اوڑھے محفل میں قدم رکھتی ہیں، تو دیکھنے والے کے دل میں پہلی ہی نظر میں یہ احساس جاگ اٹھتا ہے کہ ادب ابھی زندہ ہے، اقدار ابھی سانس لے رہی ہیں۔
    دوپٹے کی نرم لہریں ان کے وجود پر یوں مہکتا ہوا سایہ ڈالتی ہیں جیسے شخصیت کے گرد روشنی کا ہالہ ہو،پاکیزگی، ذہانت اور لطافت کا امتزاج،رقیہ غزل جب بولتی ہیں تو لگتا ہے الفاظ زبان سے نہیں، نیلے آسمان سے اترتے ہیں۔ان کے لہجے میں نرم روشنی بھی ہے اور ہمت بھی،وہ سچ کہتی ہیں، وہ دلیل دیتی ہیں، مگر دل کی زمین کو زخمی نہیں کرتیں۔

    نوائے وقت میں ان کے کالم پڑھنے والا جانتا ہے کہ یہ صرف تحریر نہیں،سوچ کے دریچوں میں پڑتی ہوئی وہ دھوپ ہے جس سے بصیرت کا جگنو روشن ہوتا ہے۔ادبی محفل ہو اور رقیہ غزل موجود نہ ہوں تو محفل ایک رنگ کم محسوس ہوتی ہے۔وہ آتی ہیں تو محفل کا لہجہ بدل جاتا ہے،مشاعرہ گویا ایک نعتیہ سکون میں ڈھل جاتا ہے،اور سامعین ہمہ تن گوش ہو جاتے ہیں جیسے کوئی نادر نسخۂ کمال کھلنے ہی والا ہو۔ان کی شخصیت، ان کے لب و لہجے، ان کے اندازِ نشست و برخاست میں ایک ایسا جمال ہے جو ایک پوری محفل کو معنوی بنادیتا ہے۔

    اگر ایک جملے میں ان کا تعارف ممکن ہو تو یوں کہا جائے رقیہ غزل وہ خوبصورت تحریر ہے جسے خدا نے انسان کی صورت میں لکھا۔رقیہ غزل ادب کی وہ شخصیت ہیں جن کے ہونٹوں سے نکلا ہوا ہر شعر، ہر کالم، ہر جملہ ایک نئے سفر کی دعوت دیتا ہے۔ وہ صرف لکھتی نہیں وہ زندگی کے تجربات کو لفظوں میں ڈھال کر دوسروں کے دلوں میں رکھ دیتی ہیں۔
    ادب کے ایسے چراغ کم جلتے ہیں، مگر جب جلتے ہیں تو صدیوں تک روشنی دیتے رہتے ہیں

  • انیلا ناز کے اعزاز میں اپووا کے پی چیپٹر کی شاندار محفل،رپورٹ :ناز پروین

    انیلا ناز کے اعزاز میں اپووا کے پی چیپٹر کی شاندار محفل،رپورٹ :ناز پروین

    پچیس(25) نومبر کی شام پشاور کلب کا خواب انگیز اور پُرسکون ماحول، جاڑے کی گلابی خنک ہوا اور خوشگوار فضا… انہی دلکش لمحوں میں اپووا کے پی چیپٹر کے زیرِ اہتمام اے آئی جی پولیس پشاور محترمہ انیلا ناز صاحبہ کے اعزاز میں ایک خصوصی نشست کا اہتمام کیا گیا، جس میں متعدد ممبران نے شرکت کی۔

    ہم محترمہ انیلا ناز کے دِل سے مشکور و ممنون ہیں کہ انہوں نے مصروفیات کے باوجود ہماری اس محفل میں شرکت فرما کر نہ صرف ہماری حوصلہ افزائی کی بلکہ محفل کا وقار بھی بڑھایا۔اس موقع پر جائنٹ سیکرٹری لبنیٰ نوید نے جون سے اب تک اپووا کے پی چیپٹر کی شاندار کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ محض پانچ ماہ کے قلیل عرصے میں چیپٹر نے ادبی، سماجی، ثقافتی اور مذہبی نوعیت کے متعدد پروگرامات کامیابی سے منعقد کیے۔محترمہ انیلا ناز اے آئی جی پولیس نے اپووا کے پی چیپٹر کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہیں اس متحرک گروپ کا حصہ بننے پر فخر ہے۔

    نشست کے دوران باہمی مشاورت سے فیصلہ کیا گیا کہ دسمبر میں قائد ڈے، کرسمس ڈے اور اے پی ایس کے شہداء (16 دسمبر) کی مناسبت سے خصوصی تقاریب منعقد کی جائیں گی۔ ساتھ ہی آسیہ بی بی (ممبر اپووا کے پی چیپٹر) کے افسانوی مجموعے کی رونمائی پر بھی گفتگو ہوئی۔

    ممبران نے محترمہ انیلا ناز کی زندگی، جدوجہد اور پیشہ ورانہ کامیابیوں کو بڑی دلچسپی سے سنا اور انہیں کے پی کی خواتین کے لیے باعثِ فخر، حوصلہ افزا اور روشن مثال قرار دیا۔ جاڑے کی سرد شام میں گرم گرم چائے اور لوازمات نے محفل کی رونق کو مزید دوبالا کر دیا۔اختتام پر اپووا کے پی چیپٹر کی جانب سے محترمہ انیلا ناز کو پھولوں کا گلدستہ اور سووینیئر پیش کیا گیا، جبکہ محترمہ انیلا ناز کی طرف سے اپووا کی ممبران کو پولیس سووینیئر عطا کیا گیا جو اس باوقار نشست کی ایک خوبصورت یاد بن گیا۔تقریب میں فائزہ شہزاد (صدر)، ناز پروین (جنرل سیکرٹری)، لبنیٰ نوید (جائنٹ سیکرٹری)، روبینہ معین (نائب صدر)، امامہ نوید، فاطمہ افضال جبکہ فرزانہ منور نے اپنی بیٹیوں کے ہمراہ شرکت کی۔

  • طاہرہ ردا کے شعری مجموعے کی تقریب رونمائی ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    طاہرہ ردا کے شعری مجموعے کی تقریب رونمائی ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    شکاگو میں اُردو محبت کی وہ شام جسے تاریخ یاد رکھے گی سات سمندر پار امریکہ کی ریاست شکاگو میں پروفیسر مسرور قریشی کی شاندار میزبانی اور طاہرہ ردا کے شعری سفر کا روشن سنگِ میل : شکاگو، جسے دنیا کاروبار و صنعت کا مرکز سمجھتی ہے، 24 نومبر کی اس شام جب ادب کے رنگ اپنے اندر سمیٹے کھڑا تھا تو یہ شہر کسی علم و شعر کے دربار سے کم محسوس نہیں ہوتا تھا۔ عالمی دبستان ادب شکاگو اور شکاگو شناسی فورم کے زیرِ اہتمام ہونے والی اس تقریبِ رونمائی کو دیکھ کر ایسا لگتا تھا جیسے لفظوں کی بارات سجی ہو، اور اس بارات کی دلہن طاہرہ ردا اپنی پہلی کتاب “تیرے نام کے سارے شعر” کے ہاتھوں آج باقاعدہ ادب کی دنیا میں اتری ہوں۔یہ صرف کتاب کی رونمائی نہیں تھی، بلکہ محبت، تخلیق، تہذیب اور اُردو کے دیرینہ وقار کی تجدید تھی۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس تقریب کی روحِ رواں تھے پروفیسر مسرور قریشی—وہ شخصیت جنہوں نے اس شام کو ایک عام ادبی تقریب سے اٹھا کر ایک تاریخی لمحے میں بدل دیا۔

    پروفیسر مسرور قریشی — شکاگو میں اردو تہذیب کے سچے سفیر
    تقریب کے دروازوں سے داخل ہونے والا ہر شخص یہ محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا تھا کہ اس شام کا اصل حسن صرف طاہرہ ردا کی کتاب نہیں تھی، بلکہ وہ محبت بھری فضا تھی جو پروفیسر مسرور قریشی نے اپنی شخصیت سے پیدا کی۔ان کی استقبالیہ مسکراہٹ، حاضرین کے لیے احترام، اور طاہرہ ردا کے لیے ان کا شفقت بھرا انداز—سب نے مل کر اس محفل کو ایسی گرمائش دی کہ لوگ کہتے نہ تھکتے:“یہی محبت ہمیں الیناۓ سے یہاں تک کھینچ لائی ہے۔”پروفیسر صاحب نے نہ صرف نظامت کی بلکہ آغاز ہی میں ایک مربوط، سیر حاصل، ادبی مضمون کے ذریعے طاہرہ ردا کے شعری سفر کو اس طرح پیش کیا کہ حاضرین ایک لمحے کے لیے بھی اپنی نشستوں سے ہلے نہیں۔ان کے انداز میں تحقیق بھی تھی، محبت بھی، اور ایک استاد کا وقار بھی۔یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہاگر طاہرہ ردا اس تقریب کا عنوان تھیں، تو پروفیسر مسرور قریشی اس کے مرکزی معمار۔

    طاہرہ ردا — شکاگو کی ادبی دنیا کا روشن ستارہ
    اس تقریب کی اصل وجہ، اصل مرکز، اصل جذبہ—بلاشبہ طاہرہ ردا کی ذات تھی۔
    شکاگو کی یہ معروف شاعرہ، اینکر، اور سوشل میڈیا ایکٹیویسٹ برسوں سے تخلیق کے سنگ سفر کرتی آئی ہیں، مگر کتاب کی شکل میں اپنے شعور اور احساسات کو پیش کرنا ان کا خواب تھا، جو آج حقیقت بن کر سامنے آیا۔
    جب انہی کے ہاتھوں کتاب کا عنوان پڑھ کر سنایا گیا “تیرے نام کے سارے شعر”تو حاضرین نے اس عنوان میں وہ محبت، وہ نرمی اور وہ احساس محسوس کیا جو طاہرہ ردا کی شخصیت کا اصل جوہر ہے۔پاکستان سے لے کر امریکہ کے مختلف ریاستوں تک پھیلے ہوئے قارئین کی محبت اس دن واضح نظر آئی۔ درجنوں گلدستے، تحائف، محبت بھری تحسین، اور چاہنے والوں کی بھرپور شرکت—سب اس بات کا اعلان تھے کہ طاہرہ ردا نے شکاگو کی ادبی فضا میں اپنی انفرادیت ثابت کر دی ہے۔

    عباس تابش — سفیرِ عشق کا وقار، اور کتاب کی تقدیس
    شام کا سب سے جگمگاتا لمحہ وہ تھا جب عالمی شہرت یافتہ شاعر عباس تابش نے اس کتاب کی رونمائی کی۔
    ان کی آمد ہی تقریب کو وقار بخشنے کے لیے کافی تھی، مگر جب انہوں نے کہا:“یہ کتاب صرف طاہرہ ردا کی نہیں، بلکہ ان تمام لوگوں کی ہے جو اُردو سے محبت کرتے ہیں۔”و ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ہوں نے نہ صرف کتاب کی طباعت کے مراحل بیان کیے بلکہ عشق آباد پبلیکیشن کی جانب سے اسے شائع کرنا اپنے لیے اعزاز قرار دیا۔ان کا یہ کہنا کہ ردا کے اشعار میں محبت کی وہ سچائی ہے جسے لفظ کبھی دھوکہ نہیں دے سکتے”۔ود شاعرہ کے لیے کسی ایوارڈ سے کم نہ تھا۔ — شعراء وادباء کی شرکت محبت کی وہ لڑی جس نے فاصلے مٹا دیے اس تقریب کی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ امریکہ کے مختلف ریاستوں سے شعراء و ادباء طویل مسافت طے کر کے یہاں پہنچے۔اوہایو، میری لینڈ، آئیوا، اوہانیو، انڈیانا—ہر طرف سے محبت کے سفیر اس محفل کی رونق بنے،ڈاکٹر سعید پاشا ،مونا شہاب ،ڈاکٹر افضال الرحمن افسر ،ڈاکٹر توفیق انصاری احمد ،عابد رشید ،امین حیدر ،حمیرہ عقیل ،ریاض نیازی اور کئی دیگر معتبر نام ،ہر ایک نے طاہرہ ردا کی شاعری پر اپنے احساسات نہایت مدلل انداز میں پیش کیے، اور ان سب میں ایک بات مشترک تھی “طاہرہ ردا کا شعری سفر ابھی شروع ہوا ہے—مگر روشنی اس میں ابھی سے نظر آ رہی ہے۔”

    تقریب کا دل نشین ترین لمحہ وہ تھا جب پروفیسر مسرور قریشی نے طاہرہ ردا کو ان کے اشعار کے ساتھ ایک خوبصورت پورٹریٹ پیش کیا۔یہ صرف ایک تحفہ نہیں تھا بلکہ محبت، احترام اور تخلیقی رفاقت کا اظہار تھا۔پورے ہال نے کھڑے ہو کر تالیوں سے اس منظر کو سراہا۔محمد مجید اللہ خان نے عالمی مرکزی ادبیاتِ اردو کی جانب سےعباس تابش اورطاہرہ رداکو نشانِ سپاس پیش کیا۔یہ وہ لمحہ تھا جب محبت، محنت اور فن—تینوں اقدار ایک ساتھ مسکرا رہی تھیں۔محفل میں شعری اظہار کے ساتھ ساتھ حاضرین نے ایک ایک جملے کو دل سے محسوس کیا۔نون جاوید نے شعری ہدیہ پیش کیا، اور طاہرہ ردا نے اپنے تخلیقی سفر کے بارے میں بھرپور، جذباتی اور محبت بھری گفتگو کی۔ان کے پڑھتے ہی ہال محبت سے بھر گیا۔جیسے ہی کتاب کے ٹائٹل کے ساتھ کیک کاٹا گیا، ماحول جشن میں بدل گیا۔پھولوں کے ڈھیر، تحائف کی بارش، اور تصویروں کی بے شمار یادیں—یہ سب اس شام کو ہمیشہ کے لیے یادگار بنا گئے۔مظہر عالم، اشرف خان، منظر عالم، محمد مجید اللہ خان، محمد حسین، شاہد خان اور دیگر ساتھیوں نے اس تقریب کو اس قدر منظم کیا کہ حاضرین تعریف کیے بغیر رہ نہ سکے۔مہمان خصوصی فرحت خان کی موجودگی نے بھی تقریب کو صحافتی وقار بخشا۔ظہرانے کا اہتمام، چائے اور لوازمات، اور ادبی ماحول—یہ سب مل کر شکاگو میں اردو کی محبت کا وہ حسین نقش بنا گئے جو برسوں یاد رکھا جائے گا۔

    شکاگو کی تہذیبی یادگار — ایک ادبی عہد کی بنیاد
    شرکاء نے متفقہ طور پر کہا:“شکاگو لینڈ میں اس سے بڑی، منظم، محبت بھری اور ادبی اعتبار سے گہری تقریب پہلے کم ہی دیکھی گئی ہے۔”یہ محض ایک تقریب نہیں تھی، یہ اس بات کا اعلان تھی کہ اگر محبت ہو، اگر ادب کا جذبہ ہو، اگر لوگ خلوص سے مل بیٹھیں—تو دیارِ غیر میں بھی اردو اپنی پوری شان کے ساتھ زندہ ہے۔
    لفظوں کا سفر جاری ہے،طاہرہ ردا کی کتاب “تیرے نام کے سارے شعر” نہ صرف ان کے تخلیقی سفر کا آغاز ہے، بلکہ شکاگو کے ادبی منظرنامے میں ایک نیا باب بھی ہے۔پروفیسر مسرور قریشی کی محبت، دانشوری اور تنظیمی صلاحیت نے اس تقریب کو اس معیار تک پہنچایا جس کی مثال کم ملتی ہے۔
    یہ وہ شام تھی جو گزر تو گئی،
    مگر اپنے پیچھے محبت، تہذیب اور شعر کی خوشبو ہمیشہ کے لیے چھوڑ گئی،

  • طاہرہ ردا کے پہلے شعری مجموعے” تیرے نام کے سارے شعر” کی شاندار تقریب رونمائی

    طاہرہ ردا کے پہلے شعری مجموعے” تیرے نام کے سارے شعر” کی شاندار تقریب رونمائی

    عالمی دبستان ادب شکاگو اور شکاگوشناسی فورم کے تحت شکاگو کی معروف شاعرہ، اینکر اور سوشل میڈیا ایکٹیویسٹ طاہرہ ردا کے شعری مجموعے "تیرے نام کے سارے شعر "کی تقریب رونمائی ہوئی۔

    تقریب رونمائی اردو ادب کے عالمی شہرت یافتہ شاعر عباس تابش” سفیرِ عشق” کے ہاتھوں ہوئی۔ اس تقریب رونمائی میں امریکہ کی مختلف ریاستوں سے شعراء اور ادیبوں نے اور شکاگو لینڈ کے دوستوں اور ریاست الیناۓ کے مختلف شہروں سے کافی تعداد میں شائقین ادب اور طاہرہ ردا کے دوستوں اور شعرا نے شرکت کی۔ طاہرہ ردا کی فیملی نے بھرپور شرکت کی ۔ تقریب کے میزبان پروفیسر مسرور قریشی نے تمام شرکاء کی آمد پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے شکریہ ادا کیا اور طاہرہ ردا کے شعری سفر پر ایک سیر حاصل مضمون پڑھا۔ پروفیسر مسرور قریشی نے بیرون ریاست الیناۓ سے آنے والے شعراء و ادیبوں کا بھرپور شکریہ کرتے ہوئے کہا کہ اردو کی محبت میں آپ کی آمد پر ہم سب اپ کے ممنون ہیں۔ پروگرام میں ڈاکٹر سعید پاشا اوہایو، مونا شہاب میری لینڈ، عتیق حیدر اوہانیو، اکرام بسرہ آئیوا، خرم سہیل اوہانیو، ڈاکٹر قطب الدین ابو شجاع انڈیانا سے تشریف لائے۔

    کتاب کی طباعت عباس تابش کے ادارے عشق آباد سے ہوئی۔ انہوں نے طاہرہ کے شعری مجموعے کی طباعت کے مراخل بتاتے ہوئے طاہرہ ردا کے شعری کلام کے محاسن پر گفتگو کرتے ہوئے ان کے شعروں پر داد دی۔ ڈاکٹر توفیق انصاری احمد نے طاہرہ کے شعری کلام کو سراہا۔ پروفیسر مسرور قریشی نے طاہرہ ردا کو شکاگو میں نئی کتاب کی مبارکباد دیتے ہوئے ان کی خدمات کو سراہا۔ پروفیسر مسرور قریشی نے عباس تابش کو "سفیر عشق” کا خطاب دیا کہ وہ اردو کے عشق میں ملکوں ملکوں سفر کر کے نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔ طاہرہ ردا کی کتاب شخصیت اور کمیونٹی میں فال رول ادا کرنے پر مونا شہاب، اکرام بسرہ، ڈاکٹر سعید پاشا، عابد رشید، امین حیدر، ڈاکٹر افضال الرحمن افسر، ریاض نیازی، شگفتہ حسین، حمیرہ عقیل، ڈاکٹر زاہد ملک نے خطاب کیا محمد مجید اللہ خان صدر وبانی عالمی مرکزی ادبیات اردو کی جانب سے عباس تابش اور طاہر ردا کو نشان سپاس پیش کیا گیا۔ پروفیسر مسرور قریشی نے طاہرہ ردا کو انکے اشعارپر مشتمل ان کی تصویرکے ساتھ ایک شاندار پورٹریٹ پیش کیا۔ کتاب کے ٹائٹل کے ساتھ کیک کاٹا گیا شرکاء کی جانب سے طاہرہ ردا کو ایک درجن سے زائد پھولوں کے گلدستے اور تحائف پیش کیے گئے۔

    شرکاء کی تواضع کے لیے ظہرانے کا اہتمام تھا۔ پروگرام میں چائے اور دیگر لوازمات موجود تھے شرکا کے مطابق شکاگو لینڈ میں یہ ایک بھرپور ادبی تقریب تھی۔ جن پر منتظمین کو مبارکباد دی گئی۔ پروگرام میں مظہر عالم نے جزوی طور پر پاور پوائنٹ پریزنٹیشن پیش کی ،تقریب کے انتظامات مظہر عالم، اشرف خان، منظر عالم ،محمد حسین، محمد مجید اللہ خان ،شاہد خان اور دیگر ساتھیوں نے سنبھالے ہوئے تھے۔ تقریب میں مہمانِ خصوصی صحافی فرحت خان اورشاہ رخ ویڈیو فوٹوگرافی کر رہے تھے جبکہ پاکستان کے ممتاز ٹی وی چینل 92 کے نمائندہ امریکہ انصاری رضوی ویڈیو بنا رہے تھے اور خصوصی طور پر رپورٹ بنا رہے تھے۔شرکاء کے مطابق شکاگو لینڈ میں یہ ایک شاندار ویادگار تقریب تھی۔
    رپورٹ.ثوبیہ راجپوت

  • میرا اپووا،تحریر:ملک یعقوب اعوان

    میرا اپووا،تحریر:ملک یعقوب اعوان

    آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن،اپووا ایک تنظیم ہی نہیں ایک ادارہ ہے جس سے ہزاروں لوگ بلاواسطہ یا براہ راست جڑے ہوئے ہیں اور مستفید ہو رہے ہیں،اپووا اپنے احباب اور جڑے لوگوں کی عزت اور عزت نفس کا محافظ ہے اور الحمدللہ دن رات محنت لگن خلوص سے جانب منزل رواں دواں ہے اور اپنی صلاحیتوں اور نت نئے پروگرامز متعارف کروانے پہ اپنی مثال آپ ہے
    آزمائشوں اور تجربات سے گزر کر مذید پختہ ہوتا جا رہا ہے
    ایم ایم علی نے جو پودا لگایا تھا اج وہ پوری قدوقامت کے ساتھ کھڑا پھل دے رہا ہے
    کئی پھل گر کر پرندے کھا گئے کئی خشک ہو گئے مگر پودا اپنی جگہ پر قائم ہے
    ہمیشہ کی طرح نو نومبر کو بھی یوم اقبال پہ اپووا نے ایک منفرد اور بابرکت تقریب کا انعقاد کیا جس میں اپووا کے خیر خواہ اوربے لوث چاہنے والوں کا جم غفیر تھا لاکھوں کے نقد انعامات اور بکس تقسیم کی گئیں
    تمام ممبران نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا
    میں دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں ایم ایم علی اور اس ساری محفل کے روح رواں جناب پروفیسر ناصر بشیر صاحب حافظ زاہد صاحب اور سفیان فاروقی اور محترمہ پروفیسر سمیرا صاحبہ ماریہ خان،لاریب، حفضہ خالد ایمن سعید اور دیگر تمام معزز خواتین و حضرات کا جنہوں نے اس مقدس محفل میں حصہ لیا،اور شکر گزار ہوں ان تمام معزز مہمانان گرامی قدر کا جو شامل ہوئے،
    انشاءاللہ تعالیٰ اپووا اسی طرح کے شاندار پروگرام کر کے اپنی شناخت کو خوب سے خوب تر کی طرف لیجانے کی ڈگر پہ چلتا رہیگا انشاء اللّه
    اور مجھے فخر ہے کہ میں اپووا کا ایک کارکن ہوں،ایک بار پھر ایم ایم علی،جناب پروفیسر ناصر بشیر صاحب اور تمام اپووا کے محبت کرنے والوں خیر خواہوں کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد
    اور اگر کسی کا نام بھول گیا ہوں تو معذرت خواہ
    ہمارا نعرہ ہے کہ
    اپووا تھا
    اپووا ہے
    اپووا رہے گا
    انشاءاللہ تعالیٰ

  • اپووا کی تقریبِ عطائے ارمغانِ عقیدت،  تحریر:طارق نوید سندھو

    اپووا کی تقریبِ عطائے ارمغانِ عقیدت، تحریر:طارق نوید سندھو

    آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) کے زیراہتمام ایک نہایت بامعنی اور روح پرور تقریب، “عطائے ارمغانِ عقیدت”لاہور کے مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی۔ یہ تقریب ایک ادبی نشست نہیں تھی بلکہ دلوں کی کیفیات، عشقِ رسول ﷺ کے رنگ اور قلم کی لطافتوں کا حسین امتزاج تھی۔یہ محفل اُن خوش نصیب اہلِ قلم کے نام تھی جنہوں نے اپووا کے تحت منعقدہ مراسلاتی مہم میں سرورِ کائنات ﷺ کے حضور خطوط تحریر کیے۔ ان خطوط میں کسی نے ندامت کے آنسو لفظوں میں سموئے، کسی نے عقیدت کے پھول نذر کیے، تو کسی نے اپنی زندگی کے مدعا کو آقائے دو جہاں ﷺ کے حضور بیان کیا۔ ہر خط اپنے اندر ایک داستانِ عشق، ایک نغمۂ محبت اور ایک پیامِ وفا سمیٹے ہوئے تھا۔

    تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآنِ کریم اور نعتِ رسولِ مقبول ﷺ سے ہوا جس نے فضا کو معطر کردیا۔حافظ محمد زاہد نے تلاوت کی جبکہ حفصہ خالد نے نعت رسول مقبول پڑھی، اپووا کے بانی صدر ایم ایم علی نے شرکا کو خوش آمدید کہاسینئر وائس چیئرمین ملک یعقوب اعوان بھی محفل پرنور کی زینت بنے، ان کی گفتگو میں ادب کے فروغ اور عشقِ رسول ﷺ کی ترویج کا جوش نمایاں تھا۔تقریب میں بطورِ مہمانِ خصوصی اور شریکِ محفل، مجھے بھی عزت و احترام سے نوازا گیا۔ اپووا کی پوری ٹیم کی محبت اور خلوص نے دل کو ممنون کر دیا۔ اس موقع پر جناب ایم ایم علی، ناصر بشیر و دیگر نے بھی خطاب کیا،

    اختتامی لمحات میں اُن تمام لکھنے والوں کو یادگاری اسناد اور ارمغانِ عقیدت سے نوازا گیا جنہوں نے اپنے خطوط کے ذریعے عشق و عقیدت کا حق ادا کیا۔ ان تحریروں میں وہ کیف و جذب تھا جو لفظوں سے نہیں بلکہ دل کی گہرائیوں سے پھوٹتا ہے۔یہ تقریب دراصل ایک عہدِ نو کی بشارت تھی کہ جب لفظ عشق کے تابع ہوں اور قلم محبت کے رنگ میں تر ہو، تو ادب عبادت بن جاتا ہے۔ اپووا کی یہ کاوش یقیناً ادبی تاریخ میں محبتِ رسول ﷺ کے فروغ کی ایک روشن مثال بن کر یاد رکھی جائے گی۔

    جب قلم محبت کے چراغ جلائے،
    اور دل عقیدت کی روشنی میں بھیگ جائے،
    تو الفاظ محض حروف نہیں رہتے، وہ دعائیں بن جاتے ہیں۔
    “تقریبِ عطائے ارمغانِ عقیدت” دراصل انہی دعاؤں کا سنگم تھی
    جہاں محبتِ رسول ﷺ نے ہر دل کو منور کیا،
    اور ہر قلم نے اپنی سیاہی کو نعت کی خوشبو سے معطر کر دیا۔

  • تبصرہ کتب،20 احادیث فار کڈز

    تبصرہ کتب،20 احادیث فار کڈز

    قوموں کی تعمیر صرف عمارتوں اور صنعتوں سے نہیں ہوتی بلکہ کردار اور ایمان سے ہوتی ہے۔ کردار کی تعمیر وہی قوم کر سکتی ہے جو اپنی نئی نسل کو اپنے دینی و اخلاقی سرمایے سے روشناس کرائے۔ اور ہمارے لیے سب سے بڑا سرمایہ قرآن و سنت ہے۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
    "میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ رہا ہوں، اگر انہیں تھامے رکھو گے تو کبھی گمراہ نہ ہوگے؛ اللہ کی کتاب اور میری سنت۔”یہ فرمان آج بھی اتنا ہی زندہ ہے جتنا ساڑھے چودہ سو برس پہلے تھا۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اپنی نئی نسل کے ذہنوں میں قرآن و سنت کی روشنی اتارنے کا وہ حق ادا کیا ہے جو ہونا چاہیے؟ افسوس کہ آج ہمارے بچوں کی لائبریریاں رنگ برنگی کہانیوں اور مغربی کرداروں سے بھری پڑی ہیں مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث، ان کے پیغام اور ان کی سنت کے حوالے سے مواد نہایت کم بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے۔یہی وہ خلا ہے جسے دارالسلام انٹرنیشنل نے اپنی خوبصورت کاوش 20 احادیث فار کڈز (انگلش) سے پر کرنے کی ایک کامیاب کوشش کی ہے۔ یہ کتاب بچوں کے معصوم ذہن کو سامنے رکھ کر مرتب کی گئی ہے۔ بیس صحیح احادیث کا انتخاب، ان کا نہایت سادہ ترجمہ اور عام فہم تشریح، اور ساتھ ہی دلچسپ مشقیں یہ سب کچھ مل کر کتاب کو ایک ایسی تحریر بنا دیتے ہیں جو صرف پڑھنے کے لیے نہیں بلکہ دل میں اترنے کے لیے ہے۔یہ کتب خانوں کی سجی سجائی الماریوں کے لیے نہیں بلکہ گھروں کے ڈرائنگ روم، کلاس روم کی میز اور ہر اس جگہ کے لیے ہے جہاں بچوں کے ذہن پروان چڑھ رہے ہیں۔ کیونکہ بچے ہی تو ہمارے کل کا سرمایہ ہیں۔ اگر ان کے دل میں ابھی سے سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور احادیث کی روشنی ڈال دی جائے تو آنے والی نسلیں یقیناً گمراہی کے اندھیروں سے بچ جائیں گی۔کتاب کی ایک اور بڑی خوبی اس کی طباعت ہے۔ چہار رنگوں کے ساتھ آرٹ پیپر پر چھپی ہوئی یہ کتاب بچے کے ذوق کو اپیل کرتی ہے۔ رنگوں کی یہ دلکشی اس کے پیغام کو اور زیادہ جاذبِ نظر بنا دیتی ہے۔ سادہ سا مواد اگر خوبصورت انداز میں پیش کیا جائے تو وہ ذہن پر کئی گنا زیادہ اثر ڈال دیتا ہے، اور یہی خصوصیت اس کتاب کو بھی امتیازی حیثیت دیتی ہے۔قیمت کے اعتبار سے بھی کتاب ہر والدین کی دسترس میں ہے۔ محض 450 روپے میں یہ قیمتی تحفہ لاہور کے معروف ادارے دارالسلام انٹرنیشنل سے دستیاب ہے۔ ایک ایسی سرمایہ کاری جو ہر مسلمان گھرانے کو کرنی چاہیے، کیونکہ اس کا منافع دنیاوی دولت نہیں بلکہ بچوں کے دلوں میں ایمان کی روشنی ہے۔یہ کتاب صرف ایک اشاعتی منصوبہ نہیں بلکہ ایک تحریک ہے۔ یہ والدین کو دعوت دیتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کے ہاتھ میں محض کھلونے نہ دیں، بلکہ سیرتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشبو سے آراستہ وہ تحفہ دیں جو انہیں زندگی بھر روشنی عطا کرے۔ یہ اساتذہ کو بھی پیغام دیتی ہے کہ وہ نصاب کے بوجھ سے نکل کر بچوں کے لیے وہ علمی غذا فراہم کریں جو ان کے کردار کو سنوارے۔حقیقت یہ ہے کہ 20 احادیث فار کڈز ہماری نئی نسل کے لیے ایک چراغ ہے۔ ایک ایسا چراغ جو گھروں کی دیواروں سے زیادہ دلوں کو روشن کرتا ہے۔ یہ کتاب صرف خریدنے کے لیے نہیں بلکہ اپنانے کے لیے ہے، اور ہر اس والدین پر قرض ہے جو اپنی اولاد کو ایمان کی امانت دینا چاہتا ہے۔یہ کتاب دارالسلام انٹرنیشنل 36لوئر مال نزد سیکرٹریٹ لاہور پر دستیاب ہے