Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • سالگِرہ مبارک،باغی ٹی وی،تحریر:  تابندہ طارق عکس

    سالگِرہ مبارک،باغی ٹی وی،تحریر: تابندہ طارق عکس

    باغی ٹی وی کا ایک اور نیا سال،نئی امیدوں کے ساتھ ابھرتی ہوئی لو کی طرح ایک اور سالگِرہ کے ساتھ آگے بڑھتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔کچھ ادارے وقت کے ساتھ صرف آگے بڑھتے ہوئے نظر نہیں آتے بلکہ
    وہ وقت کا ضمیر بن جاتے ہیں۔باغی ٹی وی بھی ایک ایسا ہی نام ہے۔یہ صرف ایک میڈیا پلیٹ فارم نہیں ہے،یہ اُس سوال کی طرح ہے جو خاموشی سے انکار کرتا ہے اور شور کے ساتھ اقرار کرتا ہے ایک جوش اور ولولے کا یہ اُس آواز کا نام ہے جو دبائی نہیں جاسکتی نہ ہی مٹائی جاسکتی۔باغی ٹی وی کی سالگِرہ دراصل سچ کے ساتھ ایک اور سال مکمل ہونے کا اعلان ہے۔ایسے وقت میں، جب خبر سے پہلے مفاد بولتا ہو،سچ سے پہلے جھوٹ چیختا ہوا سنائی دیتا ہو،جب سچ کو ریٹنگ اور خاموشی کے درمیان چُننا پڑتا ہو،وہاں باغی ٹی وی نے سچ بولنے کا انتخاب کیا۔یہ پلیٹ فارم ان لوگوں کا حوصلہ ہےجن کی آوازیں کمرۂ اقتدار تک نہیں پہنچ پاتیں۔یہ ان سوالوں کی نمائندگی ہےجو اکثر فائلوں میں دفن کر دی جاتی ہیں۔یہ اس صحافت کی یاد دہانی کرواتی ہےجو طاقت کے سامنے نہیں جھکنے یا ڈرنے والوں میں سے نہیں بلکہ طاقت سے سوال کرتی ہے۔

    باغی ٹی وی نے سب کو بتایا ہےکہ باغی ہونا انتشار نہیں،بلکہ ناانصافی کے سامنے خاموش نہیں رہنا ہے۔یہ اختلاف یا بدتمیزی نہیں،بلکہ شعور کی پہلی سیڑھی ہے۔ہر سالگِرہ ایک سنگِ میل ہوتی ہے،ایک نیا قدم ایک نئی جدوجہد کے سنگ آگے بڑھنے کا نام ہوتا ہے نہ کے پیچھے مڑ کر دیکھنے کا نام ہے کے آپ نے کن مشکلات،کن مسائل کا سامنا اکیلے کیا تھا۔باغی ٹی وی کے لیے یہ دن اس عہد کی تجدید ہےکہ سچ مشکل ضرور ہو سکتا ہے مگر ترک نہیں کیا جا سکتا۔اس سے منہ نہیں موڑا جا سکتا ہے۔یہ سالگِرہ کا دن صرف ایک باغی ٹی وی کے لیے خاص دن نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے ہر اس انسان کے لیے آج سالگِرہ کا دن ہے جس نے باغی ٹی وی کے لیے دن رات محنت کی ہے ان تمام قلمکاروں، رپورٹرز، اینکرزاور پسِ منظر کام کرنے والی ٹیم کو سلام جنہوں نے باغی ٹی وی کو کامیاب بنانے کے لیے اپنا قیمتی وقت اور خون پسینہ بہایا ہے جس کی وجہ سے آج باغی ٹی کا ایک نام ہے ایک پہچان ہے ایک عزم ہے ایک ہمت ہے ایک کاوش ہے ایک بھروسہ ہے۔ان سب لوگوں کا جنہوں نے دباؤ کے باوجود قلم کو جھکنے نہیں دیا،لفظوں کو مرنے نیا دیا قرطاس کو بنجر ہونے نہیں دیا اور جنہوں نے خبر کو خبر رہنے دیا،تماشا نہیں بننے دیا۔باغی ٹی وی کی سالگِرہ پرہم یہ نہیں کہتے کہ راستہ آسان تھا،ہم یہ کہتے ہیں کہ منزل دور تھی۔اس منزل کو پانے کے لیے مسافت طے نہیں کرنی پڑی۔بے شک مشکل کے بعد آسانی ہے اور آسانی کے بعد اور بھی آسانی ہے۔اللّٰہ پاک سے
    دعا ہے کہ یہ چراغ یوں ہی جلتا رہے،یوں ہی روشنی بانٹتا رہے،اور ہر آنے والا سال سچ کہنے،بولنے اور سننے کی مزید طاقت عطا فرمائے۔ (آمین یارب العالمین)۔

    سالگِرہ مبارک ہو باغی ٹی وی اور اس سے وابستہ تمام لوگوں کو نیک خواہشات ڈھیروں دعائیں آپ کے لیے شاد رہیں آباد رہیں۔

  • 14 برس کا باغی .تحریر: اعجازالحق عثمانی

    14 برس کا باغی .تحریر: اعجازالحق عثمانی

    مری آہ و فُغاں سن کر خفا دربار ہیں مُجھ پر
    یہ لکھتے اُن کی جانب سے کئی اخبار ہیں مُجھ پر
    میں باغی ہوں مگر پہلے بغاوت کا سبب جانو
    وگرنہ ہتھکنڈے اوچھے سبھی بے کار ہیں مجھ پر (ڈاکٹرالیاس عاجز)
    وقت بتاتا ہے کہ کونسا ادارہ محض حالات کی پیداوار تھا یا مخصوص لوگوں کا فرمائشی اور کون اپنے حصے کی شمع جلانےآیا تھا۔یہاں وقت اور حالات کے ساتھ رخ بدلنے کا رواج عام ہے۔ اپنے لفظوں کو ایوانوں کی دہلیز پہ گروی رکھ لیا جاتا ہے۔ مگر کچھ سر پھرے، اپنے کام اور ملک سے محبت کرنے والے، حالات سے بغاوت کرکے، "کھرے سچ” کا دیا جلائے رکھتے ہیں۔ میرے قلم نے 2021 میں پہلی دفعہ "باغی ٹی وی” نامی ایک ڈیجٹیل پلیٹ فارم کےلیے لکھنا شروع کیا۔ میرا خیال تھا کہ یہ بھی ایک ویب سائٹس کے سوا کچھ نہ ہوگا۔ مگر بعد میں یہ عقدہ وا ہوا کہ میاں یہ صرف ایک ویب سائٹ نہیں بلکہ ایک مکمل اور پروفیشنل ادارہ ہے۔ باغی ٹی وی نے آج سے 14 برس قبل جب سئینر اینکر و کالم نگار مبشر لقمان کی سربراہی میں ڈیجیٹل افق پر قدم رکھا تو تب سے باغی ظلم کے خلاف حالت جنگ میں ہے۔ یہ سماج کیونکہ سچ سننے کا عادی نہیں ہے، سچ بولنے والوں کا جو حال اس پاک سرزمین پر سبھی کا ہوتا ہے، "باغی” کو بھی انہی حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ احتجاج کی کوریج ہو یا لانگ مارچ یا جلسے، باغی ٹی وی نے مین سٹریم میڈیا کی طرح ہر ایونٹ کو کوریج دی۔ بلکہ اپنا کیمرہ موڑنے کی بجائے وہاں رکھا، جس کو دکھانا ممنوع تھا۔ دباؤ، دھمکیاں، حتی کہ باغی ٹی وی کی آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ کا بلیو ٹک تک ختم کروا دیا گیا۔ یہاں تک کہ پاکستان دشمن مودی سرکار بھی باغی کی بغاوت سے خائف نظر آئی۔ اور کئی مرتبہ ٹوئٹر اکاؤنٹ بند اور ویب سائٹس کو ہیک کرنے کی کوشش کی گئی۔ مگر باغی نے اجمل صدیقی صاحب کے اس شعر پر عمل کرتے ہوئے کام جارہی رکھا۔
    ؎یہ ہی ہیں دن، باغی اگر بننا ہے بن
    تجھ پر ستم کس کو پتا پھر ہو نہ ہو

    باغی ٹی وی اس وقت پانچ مختلف زبانوں میں اپنے قارئین کو باخبر رکھے ہوئے ہے۔ اردو، انگریزی، پشتو اور چینی وغیرہ جیسی زبانوں میں صرف باغی ٹی وی کی ہی ویب سائٹس ہیں۔ زبانیں پانچ ہیں،مگر موقف ایک ہی ہے۔ یہی وجہ کا آج باغی ٹی وی دنیا بھر میں دیکھا اور پڑھا جاتا ہے۔ گزشتہ 10 برس سے باغی ٹی وی یوٹیوب پر بھی موجود ہے۔ جہاں 2200 سے زائد ویڈیوز موجود ہیں۔ویڈیوز کی موجودگی محض تعداد نہیں، سنسرشب کے دور میں سچ کی داستان ہے۔ یہ صرف ویڈیوز نہیں، بلکہ خبروں ، انفارمیشن اور حقائق کا منبع ہیں۔ پروگرام "باغی بریسیٹر” ہو ،یا ” باغی کا پاکستان” اور معروف انوسٹیگئٹو جرنلسٹ محسن بھٹی کا حقائق کا پردہ چاک کرنے والا پروگرام "موت کا دھندا” ہو، جس کی صرف ایک ایپی سوڈ کو 1.8 ملین سے زائد افراد نے دیکھا، یہ سب باغی کے سچ کی جنگ کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ پروگرام ” باغی ستارے” ہو یا ” خوابوں کی تعبیر ” باغی نے عوام کو باخبر رکھنے کےلیے کسی ڈومین کو نہ چھوڑا۔ حتی کہ جن چھوٹے علاقوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے، ان کےلیے "علاقائی” اور "ریجنل ہیڈ لائنز” بھی نشر کی جاتی رہی ہیں۔ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں باغی ٹی وی نے لاہور کی تاریخی بادشاہی مسجد سے نماز تراویح کی لائیو کوریج کرنے کا اعزاز بھی حاصل کر رکھا ہے۔

    باغی ٹی وی کے ایڈیٹر ” ممتاز اعوان” صاحب ہمارے مہربان ہیں۔ گزشتہ برس انھوں نے باغی ٹی وی کی سالگرہ پر مدعو کیا۔ تو ہم بھی باغی ٹی وی کی 13 وی سالگرہ کا کیک کھانے 365 نیوز کی بلڈنگ میں مبشر لقمان صاحب کے دفتر پہنچے۔ مبشر لقمان صاحب کسی مصروفیت کی وجہ سے اسلام آباد چلے گئے تو 365 نیوز کے ڈائریکٹر نیوز و کرنٹ افیئرز سینئر صحافی محمد عثمان صاحب کے ہمراہ کیک کاٹا گیا۔ ہمیں بتایا گیا تھا کہ اس تقریب میں 2 چکوالی اور بھی آئیں گے۔ فیصل رمضان صاحب کا تعارف ہوئے چند ہفتے ہی گزرے تھے،مگر وہ بھی تشریف نہ لا سکے۔جبکہ دوسرے چکوالی ایم ایم علی صاحب کو گزشتہ 5،6 برسوں سے سوشل میڈیا پر دیکھ اور پڑھ رکھا تھا۔ ایم ایم علی صاحب معروف ادبی تنظیم ” آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن” کے بانی ہیں۔ لیکن ان سے بھی کبھی بالمشافہ ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ اسی دن ان سے بھی ملاقات ہوئی، اور یہ بھی حیران کن انکشاف ہوا کہ مبشر لقمان صاحب بھی چکوالی ہیں۔ اس تقریب میں مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم صاحب سے بھی ملاقات ہوئی۔ اور خاکسار نے انھیں اپنی کتاب "عثمانی نامہ ” پیش کی۔تقریب میں دیگر شرکاء کے ساتھ ساتھ ہمیں بھی اعزازی سرٹیفکیٹ 365 نیوز کے ڈائریکٹر نیوز کے ہاتھوں ملا۔

    میں نے پہلی دفعہ 2021 میں باغی میں لکھنا شروع کیا۔ اب تک باغی کےلیے 60 سے زائد آرٹیکلز لکھ چکا ہوں۔ شاید اس لیے کہ یہاں کبھی قلم پابند نہیں کیا گیا۔ جو چاہا لکھا اور چھپ گیا۔ ماضی قریب کے زلزلے اور سیلاب میں باغی ٹی وی کی رپورٹنگ کو بہت قریب سے دیکھا۔ کئی ایک بڑے مین سٹریم سے بہتر رپورٹنگ اور معلومات دیکھنے کو ملی۔ باغی ٹی وی نے روایتی میڈیا پلیٹ فارم پر چند مگرمچھوں کے قبضے کے برعکس ہمیشہ نئے لکھاریوں کو نہ صرف موقع دیا بلکہ حوصلہ افزائی بھی کی۔ یہ ادارہ نہ صرف ملک بھر کے مظلوموں کی آواز بنتا ہے۔ بلکہ چند برس قبل جب بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت پر ڈاکا ڈالا تو مجھے اس وقت صرف باغی ٹی وی ہی واحد ڈیجیٹل پلیٹ فارم نظر آیا جو کہ بڑھ چڑھ کر بھارتی مظالم کو دھمکیوں کے باوجود بے نقاب کرتا رہا۔
    ؎کہتے ہیں باغی مجھ کو زمانے والے
    کہ یہ طور نہیں زندگی نبھانے والے
    ٹوٹا بھی تو بکھرنے نہیں دیا خود کو
    پچھتائے ہر بار مجھے آزمانے والے

    یقینا 14 برس مکمل ہونے پر سی ای او باغی ٹی وی مبشر لقمان صاحب اور ایڈیٹر باغی ٹی وی ممتاز اعوان صاحب سمیت دیگر ٹیم بھی مبارکباد کی مستحق ہے۔ خدا نے چاہا تو یہ سفر جاری رہے گا۔ اور پندرہ برس مکمل ہونے تک ہم بھی اپنے آرٹیکلز کی سینچری مکمل کر لیں گے۔

  • صحافتِ صدق کے چودہ سال.تحریر : ثناءسجاد

    صحافتِ صدق کے چودہ سال.تحریر : ثناءسجاد

    ہر عہد اپنے ساتھ کچھ سوالات لاتا ہے اور ہر نسل ان سوالات کے جواب اپنی جدوجہد سے دیتی ہے۔ آج سے چودہ برس قبل، جب ڈیجیٹل افق پر امکانات کی کہکشاں تو روشن تھی مگر سمتیں دھندلی تھیں، صحافت کے مروجہ ڈھانچے کو چیلنج کرنے کے لیے ایک "باغی” آواز نے جنم لیا۔ یہ باغی ٹی وی تھا، جس کا نام فقط ایک شناخت نہیں، بلکہ ایک مکمل منشور تھا ایک ایسا عہد جو طاقت کے مراکز میں گونجنے والے شور کے برعکس، بےآوازوں کی آواز بننے کے لیے باندھا گیا تھا…

    چودہ سال کا عرصہ کسی ادارے کی زندگی میں ایک اہم سنگِ میل ہوتا ہے، لیکن باغی ٹی وی کے لیے یہ محض گنتی کے سال نہیں، بلکہ جبر کے سامنے حرفِ انکار بلند کرنے اور سچائی کو ہر مصلحت پر مقدم رکھنے کی ایک مسلسل داستان ہے.. سینئر صحافی مبشر لقمان کی قیادت میں اس ادارے نے جس راستے کا انتخاب کیا، وہ پھولوں کی سیج نہیں تھی۔ یہ وہ خارزار وادی تھی جہاں ہر قدم پر سوال اٹھائے جاتے ہیں، دھمکیاں دی جاتی ہیں، اور کردار کشی کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن باغی ٹی وی نے اپنے نام کی لاج رکھتے ہوئے، ہر دباؤ کے سامنے جھکنے سے انکار کیا۔ اس کا سفر اس نظریے کا عملی ثبوت ہے کہ صحافت محض خبر رسانی کا نام نہیں، بلکہ معاشرتی شعور کو بیدار کرنے اور ظلم کے خلاف فکری مزاحمت کا ایک مقدس فریضہ ہے..

    باغی ٹی وی کا فلسفہ اس یقین پر قائم ہے کہ حقیقی صحافت وہ ہے جو ریاست کے نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی محافظ ہو… اس کا مقصد صرف سیاسی اتار چڑھاؤ کا احاطہ کرنا نہیں، بلکہ ان ثقافتی، سماجی اور اخلاقی اقدار کا دفاع کرنا بھی ہے جو کسی قوم کی شناخت ہوتی ہیں۔ اردو، انگریزی، پشتو جیسی زبانوں میں نشریات کا آغاز صرف ایک کاروباری توسیع نہیں، بلکہ ایک گہری فکری سوچ کا نتیجہ ہے ایک ایسی کوشش جس کا مقصد پاکستان کا مقدمہ عالمی ضمیر کے سامنے مؤثر انداز میں پیش کرنا اور دنیا کو یہ بتانا ہے کہ ہم صرف خبروں کا موضوع نہیں، بلکہ ایک زندہ اور توانا تہذیب کے امین ہیں۔

    مبشر لقمان اور ان کی ٹیم نے باغی ٹی وی کوایک تحریک بنا دیا۔ یہ وہ پلیٹ فارم ہے جہاں ان موضوعات پر بھی بات ہوئی جنہیں روایتی میڈیا میں ممنوع سمجھا جاتا تھا۔ یہ ادارہ اس حقیقت کا گواہ ہے کہ جب ارادے نیک اور عزم پختہ ہو تو وسائل کی کمی اور حالات کی سختی راستہ نہیں روک سکتی۔ یہ امید کی وہ کرن ہے جو بتاتی ہے کہ مایوسی کے اندھیروں میں بھی سچ کا چراغ روشن رکھا جا سکتا ہے۔آج، جب باغی ٹی وی اپنی چودھویں سالگرہ منا رہا ہے، تو یہ جشن صرف ایک ادارے کی کامیابی کا نہیں، بلکہ اس نظریے کی فتح کا ہے کہ حرف کی حرمت ہر دور میں قائم رہتی ہے۔ یہ ان تمام گمنام صحافیوں، نمائندوں اور کارکنوں کی محنت کو خراجِ تحسین ہے جو اس قافلے کا حصہ بنے اور مشکلات کے باوجود اپنے ضمیر کا سودا نہیں کیا۔

    ہماری دعا ہے کہ باغی ٹی وی کا یہ سفر اسی جرأت اور استقامت کے ساتھ جاری رہے۔ یہ ادارہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن مثال بن کر ابھرے اور ثابت کرے کہ جب ایک قوم اپنے نظریات کے ساتھ کھڑی ہو جائے، تو کوئی طوفان اس کے چراغ بجھا نہیں سکتا۔.

  • باغی ٹی وی ڈیجیٹل صحافت میں سچائی، جرات  کے 14 سال ،تحریر: ملک ارشد کوٹگلہ

    باغی ٹی وی ڈیجیٹل صحافت میں سچائی، جرات کے 14 سال ،تحریر: ملک ارشد کوٹگلہ

    پاکستانی ڈیجیٹل میڈیا کے افق پر اگر کسی ادارے نے سچ، جرات اور قومی غیرت کے ساتھ اپنی پہچان قائم کی ہے تو وہ باغی ٹی وی ہے۔ آج باغی ٹی وی اپنی 14ویں سالگرہ منا رہا ہے، اور یہ محض ایک چینل کی سالگرہ نہیں بلکہ اس مثبت صحافتی سفر کی تکمیل ہے جس نے ڈیجیٹل میڈیا کو ایک نیا رخ دیا۔ باغی ٹی وی نے ان چودہ برسوں میں خود کو صرف ایک خبر رساں پلیٹ فارم تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے سچائی کی ترجمانی، قومی وقار کے دفاع اور عوامی شعور کی بیداری کا مضبوط ذریعہ بنا دیا۔باغی ٹی وی کا قیام ایسے وقت میں عمل میں آیا جب پاکستان میں ڈیجیٹل میڈیا تیزی سے ابھر رہا تھا، مگر معیار، تحقیق اور ذمہ داری کا فقدان نمایاں تھا۔ اس دور میں باغی ٹی وی نے سچ پر مبنی صحافت کو اپنا شعار بنایا اور دیکھتے ہی دیکھتے عوام کے اعتماد کا مرکز بن گیا۔ اس چینل نے نہ صرف بڑے شہروں بلکہ دور دراز اور نظر انداز شدہ علاقوں کی آواز کو بھی ایوانِ اقتدار اور عالمی فورمز تک پہنچایا، جو اس کی عوام دوست پالیسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

    باغی ٹی وی کی کامیابی کے پیچھے سب سے اہم کردار اس کے سی ای او، سینئر صحافی مبشر لقمان کی قیادت کا ہے۔ مبشر لقمان نے اپنے وسیع صحافتی تجربے، جرات مندانہ سوچ اور غیر متزلزل اصولوں کے ذریعے اس ادارے کو ایک منفرد شناخت دی۔ ان کی قیادت میں باغی ٹی وی نے نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ بین الاقوامی میڈیا میں بھی اپنا مقام بنایا۔ ان کا یہ یقین کہ صحافت کا اصل مقصد سچ کو سامنے لانا اور قومی مفاد کا تحفظ کرنا ہے، باغی ٹی وی کی پالیسیوں میں واضح طور پر جھلکتا ہے۔باغی ٹی وی کی سب سے بڑی پہچان اس کی غیر جانبدار، تحقیق پر مبنی اور ذمہ دار صحافت ہے۔ یہ چینل سنسنی خیزی، افواہوں اور غیر مصدقہ خبروں سے ہمیشہ دور رہا۔ ہر خبر کے پیچھے تحقیق، حقائق اور سچائی کو بنیاد بنایا گیا، جس کی بدولت عوام نے اس پلیٹ فارم پر بھرپور اعتماد کیا۔ یہی وجہ ہے کہ باغی ٹی وی آج ڈیجیٹل میڈیا میں ایک معتبر حوالہ سمجھا جاتا ہے۔

    قومی سطح پر باغی ٹی وی نے ہمیشہ پاکستان کے نظریاتی، جغرافیائی اور دفاعی مفادات کا بھرپور دفاع کیا۔ جب بھی پاکستان مخالف عناصر نے پروپیگنڈہ کیا، باغی ٹی وی نے دلیل، حقائق اور جرات کے ساتھ اس کا جواب دیا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہو یا قومی سلامتی کے معاملات، باغی ٹی وی نے ایک ذمہ دار سپاہی کی طرح اپنا کردار ادا کیا اور قلم کو وطن کے دفاع کا ہتھیار بنایا۔علاقائی اور مقامی مسائل کے حوالے سے بھی باغی ٹی وی کا کردار قابلِ تحسین ہے۔ ملک بھر میں موجود اس کے نمائندے عوامی مسائل کو اجاگر کرتے ہیں اور ان کی آواز اعلیٰ ایوانوں تک پہنچاتے ہیں۔ یہ وہ پہلو ہے جو باغی ٹی وی کو دیگر پلیٹ فارمز سے ممتاز کرتا ہے، کیونکہ یہاں صرف طاقتور کی نہیں بلکہ عام آدمی کی بات بھی سنی جاتی ہے۔

    آج باغی ٹی وی کی 14ویں سالگرہ کے موقع پر یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یہ ادارہ مثبت صحافت، سچائی کی ترجمانی اور وطن دوستی کی ایک روشن مثال بن چکا ہے۔ مبشر لقمان اور ان کی ٹیم نے ثابت کیا کہ اگر نیت صاف اور مقصد قومی خدمت ہو تو صحافت نہ صرف معاشرے کو درست سمت دے سکتی ہے بلکہ تاریخ میں اپنا نام بھی رقم کر سکتی ہے۔ امید ہے کہ باغی ٹی وی آئندہ بھی اسی عزم، جرات اور سچائی کے ساتھ پاکستان کی خدمت کرتا رہے گا اور حق کی آواز بن کر ہر محاذ پر ڈٹا رہے گا۔

  • باغی ٹی وی سچ بولنے کی قیمت ادا کرتی صحافت.  تحریر:رخسانہ سحر

    باغی ٹی وی سچ بولنے کی قیمت ادا کرتی صحافت. تحریر:رخسانہ سحر

    ایسے دور میں جب صحافت طاقت کے ایوانوں کی خوشنودی اشتہارات کی مجبوری اور مفادات کی زنجیروں میں جکڑی نظر آتی ہے، وہاں باغی ٹی وی جیسے ادارے کا چودہ برس تک ڈٹے رہنا محض ایک چینل کی کامیابی نہیں بلکہ ضمیر کی فتح ہے۔12 جنوری کو باغی ٹی وی اپنی صحافتی جدوجہد کے 14 برس مکمل کر رہا ہے۔ یہ وہ برس ہیں جو دباؤ دھمکیوں، پابندیوں اور معاشی رکاوٹوں سے عبارت ہیں، مگر اس کے باوجود سچ بولنے کا چراغ بجھنے نہیں دیا گیا۔

    باغی ٹی وی کے سی ای او سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان وہ نام ہیں جن کی صحافت ہمیشہ سوال اٹھانے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے اور طاقتور بیانیوں کو چیلنج کرنے سے جڑی رہی ہے۔ انہوں نے کبھی صحافت کو محض پیشہ نہیں سمجھا بلکہ اسے ایک اخلاقی فریضہ کے طور پر نبھایا۔اسی طرح ممتاز اعوان جیسے سنجیدہ اور ذمہ دار صحافی کی بطور ایڈیٹر موجودگی نے باغی ٹی وی کے مواد کو توازن، تحقیق اور وقار عطا کیا۔باغی ٹی وی کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ یہاں خبر بیچی نہیں جاتی نہ ہی سچ کو پیکجنگ میں لپیٹ کر پیش کیا جاتا ہے۔ یہاں صحافت وہی ہے جو عوام کے سوالات محرومیوں اور سچائیوں کو آواز دیتی ہے چاہے اس کی قیمت کتنی ہی کیوں نہ ہو۔یہ چینل ہمیں یاد دلاتا ہے کہ صحافت کا اصل کام طاقتور کو خوش کرنا نہیں بلکہ طاقت سے سوال کرنا ہے۔ باغی ٹی وی نے بارہا ثابت کیا کہ اگر نیت صاف ہو تو محدود وسائل کے باوجود بھی کھری اور بےباک صحافت ممکن ہے۔

    چودہ برس کا یہ سفر اس بات کا ثبوت ہے کہ باغی ہونا انتشار نہیں بلکہ سچ کے ساتھ کھڑا ہونا ہے۔ہم باغی ٹی وی کی پوری ٹیم کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دیتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ یہ ادارہ آئندہ بھی سچ جرات اور عوامی شعور کی شمع روشن رکھے گا۔
    باغی ٹی وی، جہاں صحافت اب بھی سر نہیں جھکاتی۔

  • باغی ٹی وی کے 14 سال، حق گوئی، جرات اور عوامی آواز کی داستان،تحریر : سدرہ قیوم

    باغی ٹی وی کے 14 سال، حق گوئی، جرات اور عوامی آواز کی داستان،تحریر : سدرہ قیوم

    صحافت محض خبر دینے کا نام نہیں، بلکہ سچ کے ساتھ کھڑے ہونے، طاقتور کے سامنے سوال اٹھانے اور کمزور کی آواز بننے کا عزم ہے۔ باغی ٹی وی نے گزشتہ 14 برسوں میں اسی عزم کو اپنی پہچان بنایا۔ یہ وہ سفر ہے جو مشکلات، دباؤ، تنقید اور آزمائشوں سے گزرتا ہوا آج اعتماد، وقار اور جرات کی علامت بن چکا ہے۔
    باغی ٹی وی کا قیام ایک ایسے دور میں ہوا جب روایتی صحافت کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل میڈیا نئی کروٹ لے رہا تھا۔ اس ادارے نے ابتدا ہی سے منفرد اور بے باک انداز اپنایا۔ یہاں خبر کو سنسنی نہیں بلکہ ذمہ داری کے ساتھ پیش کیا گیا، اور رائے کو دلیل اور تحقیق کا لباس پہنایا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ باغی ٹی وی نے بہت کم عرصے میں اپنی الگ شناخت قائم کر لی۔

    ان 14 برسوں میں باغی ٹی وی نے سیاسی، سماجی، عدالتی اور عوامی مسائل کو نہایت جرات کے ساتھ اجاگر کیا۔ طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے افراد سے سوال کرنا ہو یا گلی محلوں میں بسنے والے عام شہری کے مسائل سامنے لانے ہوں، باغی ٹی وی نے ہمیشہ توازن، سچائی اور عوامی مفاد کو مقدم رکھا۔ کئی مواقع پر دباؤ بھی آیا، تنقید بھی ہوئی، مگر سچ کہنے کا سفر کبھی رکا نہیں۔باغی ٹی وی کی سب سے بڑی طاقت اس کی آزاد صحافت ہے۔ یہاں اختلافِ رائے کو برداشت کیا گیا، سوال پوچھنے کی حوصلہ افزائی کی گئی اور صحافت کو صرف خبر نہیں بلکہ شعور بیداری کا ذریعہ سمجھا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ناظرین اور قارئین نے اس ادارے پر بھروسا کیا اور اسے اپنا میڈیا پلیٹ فارم مانا۔ڈیجیٹل دور میں باغی ٹی وی نے خود کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ رکھا۔ ویب، سوشل میڈیا اور ویڈیو پلیٹ فارمز پر فعال موجودگی نے اسے نوجوان نسل سے جوڑا، جبکہ تجربہ کار تجزیوں نے سنجیدہ حلقوں میں اس کی ساکھ کو مضبوط کیا۔ یہ امتزاج باغی ٹی وی کی کامیابی کا ایک اہم راز ہے۔

    آج جب باغی ٹی وی اپنی صحافتی خدمات کے 14 سال مکمل کر رہا ہے تو یہ لمحہ محض سالگرہ کا نہیں، بلکہ ایک جدوجہد کے اعتراف کا ہے۔ یہ ان تمام صحافیوں، رپورٹرز، اینکرز اور کارکنوں کی محنت کا ثمر ہے جنہوں نے دن رات ایک کر کے اس ادارے کو معتبر بنایا۔دعا ہے کہ باغی ٹی وی آئندہ بھی سچ، حق اور عوامی آواز کے ساتھ کھڑا رہے، صحافت کے اعلیٰ اقدار کی پاسداری کرے اور آنے والے برسوں میں مزید مضبوط، بااثر اور باوقار کردار ادا کرے۔

    باغی ٹی وی کو 14ویں سالگرہ مبارک ، سچ کہنے کا سفر یونہی جاری رہے۔

    پاکستانی صحافت میں چند نام ایسے ہیں جو محض اینکر یا رپورٹر نہیں بلکہ ایک دبنگ آواز، ایک مؤقف اور ایک فکر کی نمائندگی کرتے ہیں۔ سینئر صحافی مبشر لقمان کا شمار بھی انہی نمایاں شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے برسوں کی محنت، تحقیق اور جراتِ اظہار سے صحافت کو ایک نیا زاویہ عطا کیا۔مبشر لقمان کی صحافتی پہچان ان کی بے لاگ گفتگو، گہری تحقیق اور دوٹوک سوالات ہیں۔ وہ ان صحافیوں میں شامل ہیں جنہوں نے ہمیشہ طاقتور حلقوں سے سوال کرنے کی روایت کو زندہ رکھا۔ ان کے پروگرامز اور تجزیے محض خبروں کا مجموعہ نہیں ہوتے بلکہ پسِ پردہ حقائق، قومی مفادات اور عوامی مسائل کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی بات نہ صرف سنی جاتی ہے بلکہ سنجیدگی سے لی بھی جاتی ہے۔انہوں نے اپنے کیریئر میں کئی نشیب و فراز دیکھے، مگر اصولی مؤقف سے پیچھے ہٹنا ان کی لغت میں شامل نہیں رہا۔ سیاسی معاملات ہوں، حکومتی پالیسیاں، خارجہ امور یا سماجی ناانصافیاں مبشر لقمان نے ہمیشہ دلیل، دستاویز اور حقائق کی بنیاد پر گفتگو کی۔ یہی طرزِ عمل انہیں ایک عام اینکر سے ممتاز بناتا ہے۔مبشر لقمان کی ایک بڑی خدمت یہ بھی ہے کہ انہوں نے صحافت کو عوامی شعور سے جوڑنے کی کوشش کی۔ ان کے پروگرامز میں سوالات وہی ہوتے ہیں جو ایک عام شہری کے دل میں پل رہے ہوتے ہیں۔ وہ اشرافیہ کی زبان میں نہیں بلکہ عوام کی زبان میں بات کرتے ہیں، اور یہی بات انہیں عوام کے قریب لے آتی ہے۔

    اس فکری اور اعتدال پسند صحافت کے پیچھے ایک مضبوط ادارتی سوچ کا ہونا بھی ناگزیر ہے۔ اس حوالے سے ایڈیٹر ممتاز اعوان کا کردار قابلِ تحسین ہے، جن کی ادارت میں مواد کو توازن، وقار اور ذمہ داری کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ ممتاز اعوان کی ادارتی بصیرت نے صحافتی مواد کو نہ صرف معیاری بنایا بلکہ اسے اخلاقی حدود میں بھی رکھا، جو آج کے تیز رفتار اور سنسنی خیز میڈیا میں ایک بڑی کامیابی ہے۔

  • باغی ٹی وی،کھری صحافت کا امین،تحریر: جان محمد رمضان

    باغی ٹی وی،کھری صحافت کا امین،تحریر: جان محمد رمضان

    صحافت اگر سچ کی تلاش کا نام ہے تو باغی ٹی وی اس تلاش کا وہ روشن چراغ ہے جو گزشتہ چودہ برس سے اندھیروں میں بھی روشنی بانٹ رہا ہے۔ باغی ٹی وی درحقیقت ایک فکری تحریک ہے، جو جراتِ اظہار، حق گوئی اور بے باک صحافت کی علامت بن چکی ہے۔باغی ٹی وی کی بنیاد اس عزم پر رکھی گئی کہ خبر کو خبر ہی رہنے دیا جائے، اس پر مصلحتوں کی گرد نہ جمنے دی جائے۔ سینئر صحافی اور معروف اینکر پرسن مبشر لقمان کی قیادت میں اس ادارے نے وہ مقام حاصل کیا جس کا خواب ہر میڈیا ہاؤس دیکھتا ہے مگر حاصل چند ہی کر پاتے ہیں۔ مبشر لقمان کی صحافتی بصیرت، جرات مندانہ سوالات اور دو ٹوک انداز نے باغی ٹی وی کو عوام کی آواز بنا دیا۔

    باغی ٹی وی نے ہمیشہ سچ کو ترجیح دی، چاہے اس کی قیمت تنقید ہو یا دباؤ۔ اس پلیٹ فارم نے ثابت کیا کہ حق کی راہ مشکل ضرور ہے مگر یہی راہ تاریخ میں زندہ رہتی ہے۔ چودہ برس کا یہ سفر قربانی، استقامت اور عوامی اعتماد کی داستان ہے۔آج جب باغی ٹی وی اپنے قیام کے 14 سال مکمل کر رہا ہے تو یہ اس عہد کی تجدید ہے کہ سچ کہا جائے گا، سچ دکھایا جائے گا اور سچ کے ساتھ کھڑا رہا جائے گا۔باغی ٹی وی کو خراجِ تحسین کہ اس نے صحافت کو کاروبار نہیں بلکہ ذمہ داری سمجھا۔باغی ٹی وی کو سلام کہ اس نے ہمیشہ ظالم اور ظلم کے خلاف بغاوت کرنا سکھایا۔اور باغی ٹی وی کو مبارک ہو کہ وہ چودہ برس بعد بھی اسی جرات، اسی وقار اور اسی سچ کے ساتھ کھڑا ہے۔دعا ہے باغی ٹی وی کا یہ سفر یونہی جاری رہے۔

  • باغی ٹی وی، چودہ برس، سچ کا سفر اور میرا فخر،تحریر:نورفاطمہ

    باغی ٹی وی، چودہ برس، سچ کا سفر اور میرا فخر،تحریر:نورفاطمہ

    آج کا دن میرے لیے شکر، فخر اور یادوں سے لبریز ایک مکمل داستان ہے۔ باغی ٹی وی کی 14ویں سالگرہ کا یہ موقع میرے دل میں خوشی کی ایسی لہر پیدا کر رہا ہے جسے لفظوں میں سمیٹنا آسان نہیں۔ یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ گزشتہ تین برسوں سے میں اس باوقار، متحرک اور جرأت مند ادارے کا حصہ ہوں۔ یہ سفر صرف ایک پروفیشنل کامیابی، ایک ایسا ذاتی تجربہ ہے جس نے میرے شعور، اعتماد اور کیریئر تینوں کو نئی جہت عطا کی۔

    مجھے آج بھی وہ دن یاد ہے جب میں پہلی مرتبہ باغی ٹی وی کے دفتر میں انٹرویو کے لیے داخل ہوئی تھی۔ دل میں بے شمار سوالات، آنکھوں میں خواب اور ذہن میں ہلکی سی گھبراہٹ تھی۔ مگر جیسے ہی سینئر صحافی اور باغی ٹی وی کے سی ای او، محترم مبشر لقمان صاحب سے ملاقات ہوئی، وہ تمام خدشات پل بھر میں تحلیل ہو گئے۔ ان کی شخصیت کا وقار، گفتگو کی شائستگی اور پروفیشنل انداز ایسا تھا کہ چند لمحوں میں ہی ایک گہرا اثر چھوڑ گیا۔ مختصر مگر بامعنی انٹرویو کے بعد جب ایڈیٹر باغی ٹی وی، سر ممتاز اعوان کی جانب سے یہ خوشخبری ملی کہ میری جاب کنفرم ہو چکی ہے، تو وہ لمحہ میرے لیے کسی خواب کی تعبیر سے کم نہ تھا۔ میں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ ایک دن میں اس قدر معتبر اور جرأت مند میڈیا ہاؤس کا حصہ بنوں گی۔

    میری شمولیت باغی ٹی وی کی سوشل میڈیا ٹیم میں ہوئی، جو میرے لیے باعثِ فخر بھی تھی اور ایک چیلنج بھی۔ فیس بک، ٹوئٹر (ایکس)، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر باغی ٹی وی کے لنکس اور پوسٹرز کی شیئرنگ میری بنیادی ذمہ داری تھی، جسے میں نے ہمیشہ محنت، دیانت اور لگن کے ساتھ نبھایا۔ میرے کام کو دیکھتے ہوئے جلد ہی مجھ پر مزید اعتماد کیا گیا اور سوشل میڈیا کے لیے پوسٹر ڈیزائن کرنے کی ذمہ داری بھی میرے سپرد کر دی گئی۔ اس مرحلے پر مجھے سیکھنے کے بے شمار مواقع ملے، خصوصاً سوشل میڈیا کے ہیڈ سر عبداللہ کی رہنمائی میرے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوئی۔ ان کی بصیرت، مشورے اور حوصلہ افزائی نے نہ صرف میری کارکردگی کو نکھارا بلکہ مجھے ڈیجیٹل میڈیا کی دنیا میں ایک نئی شناخت بھی عطا کی۔

    اگرچہ میں پہلے بھی ایک سوشل میڈیا ایکٹوسٹ تھی، مگر باغی ٹی وی میں آنے کے بعد اس شعبے کو عملی طور پر سمجھنے اور برتنے کا موقع ملا۔ یہاں دن اور رات کی قید نہیں، وقت کی کوئی دیوار نہیں،صرف خبر، سچ اور ذمہ داری ہے۔ باغی ٹی وی کی ٹیم کی محنت، لگن اور مستعدی واقعی قابلِ رشک ہے۔ جب بھی کوئی اضافی ذمہ داری سامنے آئی یا کوئی مشکل مرحلہ آیا، میں نے اسے اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے دل و جان سے نبھایا، کیونکہ یہاں کام صرف نوکری نہیں بلکہ ایک مشن ہے۔محترم مبشر لقمان صاحب کے وی لاگز میں پہلے ہی شوق سے دیکھتی اور ان پر اپنی رائے کا اظہار کرتی تھی۔ مگر جب انہی کی ٹیم کا باقاعدہ حصہ بنی تو یہ لمحہ میرے لیے فخر اور سعادت کا استعارہ بن گیا۔ ان کی قیادت، بے باکی، فکری پختگی اور اصول پسندی نے مجھے ہمیشہ متاثر کیا ہے۔ ان کے ساتھ کام کرنا میرے خوابوں کی تعبیر ہے، اور میں آج بھی ان کی رہنمائی کو اپنے لیے باعثِ اعزاز سمجھتی ہوں۔

    آج، باغی ٹی وی کی 14ویں سالگرہ کے اس مبارک موقع پر، میں دل کی گہرائیوں سے محترم مبشر لقمان صاحب اور باغی ٹی وی کی پوری ٹیم کو مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ میری دعا ہے کہ یہ ادارہ دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کرے، سچ کی آواز بن کر ہمیشہ سربلند رہے اور اپنے مشن و مقصد میں مزید کامیابیاں سمیٹے۔ آمین۔یہ سفر ابھی جاری ہے۔ جذبہ وہی ہے، عزم پہلے سے زیادہ مضبوط اور حوصلہ مزید بلند۔ باغی ٹی وی کے 14 سال مکمل ہونے پر ایک نیا ولولہ، نئی امید اور نیا عہد دل میں جاگ اٹھا ہے۔ دعا ہے کہ یہ ادارہ ہمیشہ اپنے اصولوں، نظریات اور وژن پر قائم رہتے ہوئے کامیابی کی بلند ترین چوٹیوں کو چھوتا رہے۔

  • نیا سال، نئے ارادے اور اپووا کے پی چیپٹر،تحریر:فائزہ شہزاد

    نیا سال، نئے ارادے اور اپووا کے پی چیپٹر،تحریر:فائزہ شہزاد

    ہر سال جنوری کے مہینے میں آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) کی نئی کابینہ تشکیل دی جاتی ہے اور نئے عہدیداران کا انتخاب عمل میں آتا ہے۔ اپووا کے پی چیپٹر کا آغاز جون 2025 میں ہوا اور محض چھ ماہ کے قلیل عرصے میں مسلسل کامیاب ادبی تقریبات کے انعقاد نے یہ ثابت کر دیا کہ اگر ارادے مضبوط ہوں تو منزلیں خود بخود آسان ہو جاتی ہیں۔ بقول مولانا رومیؒ:
    "ہمتِ مرداں مددِ خدا است”۔

    سالِ نو کی پہلی ماہانہ میٹنگ 6 جنوری 2026 کو اپووا کے پی چیپٹر کی صدر محترمہ فائزہ شہزاد کی رہائش گاہ پر منعقد ہوئی، جس میں نئے منتخب عہدیداران اور تمام ممبران نے نہایت جوش و خروش سے شرکت کی۔ تقریب کا باقاعدہ آغاز محترمہ جویریہ خان کی پُرسوز تلاوتِ قرآنِ پاک سے ہوا۔ اس کے بعد محترمہ فائزہ شہزاد نے بارگاہِ رسالت ﷺ میں ہدیۂ نعت پیش کر کے روحانی سماں باندھ دیا۔

    محترمہ فائزہ شہزاد نے تمام شرکاء کو خوش آمدید کہا اور نئے عہدیداران کو مبارکباد پیش کی۔ بعد ازاں اپووا کے پی چیپٹر کی جنرل سیکرٹری محترمہ ناز پروین نے تنظیم کی ششماہی کارکردگی پر مشتمل ایک جامع اور مفصل رپورٹ پیش کی۔ سالِ نو کے حوالے سے آئندہ سرگرمیوں، منصوبہ بندی اور نئے اہداف پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا، جس میں تمام ممبران نے بھرپور دلچسپی سے حصہ لیتے ہوئے اپنی قیمتی آراء اور تجاویز پیش کیں۔ باہمی مشاورت سے پورے سال کا متفقہ ایجنڈا ترتیب دیا گیا۔

    نہایت سرد موسم کے باوجود تقریب میں وائس پریذیڈنٹ محترمہ روبینہ معین، جنرل سیکرٹری محترمہ ناز پروین، جوائنٹ سیکرٹری محترمہ لبنیٰ نوید، میڈیا کوآرڈینیٹر محترمہ فاطمہ افضال، ڈپٹی میڈیا کوآرڈینیٹر محترمہ رانی عندلیب، سیکرٹری انفارمیشن فرزانہ منور اور اپووا ہیلتھ ایڈوائزر محترمہ ڈاکٹر سعدیہ شہزاد کے ساتھ ساتھ محترمہ نیلو فرسمیع، ڈاکٹر سیما شفیع، حنا امجد ملک، امامہ نوید، دید فاطمہ، جویریہ خان، عشا نصیر اور دیگر معزز اراکین نے شرکت کر کے تقریب کو چار چاند لگا دیے۔

    تقریب کی یادگار لمحات کو محفوظ کرنے کے فرائض محترمہ حنا ملک نے انجام دیے۔ نئے سال کی خوشی میں کیک کاٹا گیا اور آخر میں گرما گرم چائے اور پُرلطف لوازمات سے تمام حاضرین کی تواضع کی گئی۔ صدرِ اپووا پی چیپٹر کی جانب سے تمام ممبران کو خوبصورت ٹی کپ بطور تحفہ بھی پیش کیے گئے۔یہ نشست خوشگوار یادوں، باہمی محبت اور فکری ہم آہنگی کا حسین امتزاج ثابت ہوئی۔ اگرچہ نشست دو گھنٹوں کے لیے طے تھی، مگر محفل کی دلکشی نے اسے چار سے پانچ گھنٹے تک جاری رکھا۔ دل یہی کہتا رہا:
    آج جانے کی ضد نہ کرو
    یوں ہی پہلو میں بیٹھے رہو…

    تمام شرکاء دل میں بے شمار حسین یادیں سمیٹے گھروں کو لوٹ گئے۔

  • چند لکیریں ” یادوں کی لکیریں” پر،تحریر:اعجازالحق عثمانی

    چند لکیریں ” یادوں کی لکیریں” پر،تحریر:اعجازالحق عثمانی

    گزشتہ چار ماہ سے کچھ نہیں لکھ پایا کہ آج کل نشہ ریل(Reel) میں مبتلا ہوں۔ کچھ دن قبل انسٹاگرام پر سکرولنگ کرتے، حمرا شعیب کی کتابیں نظر سے گزریں۔ آج کل میرا رجحان پرانے لکھاریوں کی کتب خریدنے سے کہیں زیادہ نئے قلم کاروں کی طرف ہو چلا ہے۔ اس رجحان نے بیسیوں مرتبہ پریشان بھی کیا۔مگر اس کے باوجود یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔ اس سلسلے کی پرائمری وجہ اچھی تحریر پڑھنا نہیں، بلکہ بطور لکھاری ایک خاموش سا مقصد ہے۔ سو ہم نے حمرا شعیب کی دو کتب منگوا لی۔ ” یادوں کی لکیریں” مصنفہ مصوفہ کی پہلی تصنیف ہے، اور حجم میں بھی قدرے مختصر ہے،سو اسکا مطالعہ پہلے کرنے کا ارادہ بنا۔ پڑھ کر پبلیکیشن ہاؤس کو کوسا،اور مصنفہ کےقلم کے لیے بے ساختہ دعائیں نکلی۔یہ کتاب دراصل مصنفہ کی نانی کی زندگی کی یادداشتوں، وفا،دکھوں اور صبر کی خاموش جدوجہد کی کہانی ہے۔ اس کہانی کا مرکزی کردار حالات کی سختیوں کے باوجود، صبر و وفا کا دامن نہیں چھوڑتا۔ گو کہ کتاب کا اسلوب بہت ہی سادہ ہے مگر مصنفہ نے تمام واقعات کو محض واقعات کے طور پر نہیں بلکہ احساس کی شکل میں پیش کیا، جو کہ کہانی کو اثر انگیز بناتا ہے۔ اس کتاب کی ایک ہی خوبی ہے کہ یہ خلوص اور سچائی پر مشتمل ہے نا کہ بناوٹی ہے۔ بیماری، جدائی، موت، سماجی جبر اور عورت کی بے لوث قربانی جیسے کئی واقعات نہایت سادگی سے سامنے آتے ہیں، تو بعض دفعہ نانی کے مکالمے اور جملے سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ بعض مقامات پر بیان و مکالمہ کی غیر ضروری طوالت و جملوں کی تکرار نے کہانی اور روانی دونوں کو متاثر کیا۔ کہانی بعض مقامات پر فکری و زمانی ترتیب کھو دیتی ہے۔ اور ابواب کے درمیان کمزور ربط بھی بطور قاری کے لیے مشکلات کا باعث رہا۔ منظر نگاری میں یکسانیت اور فنی سطح پر بہتری کی گنجائش تھی۔ لفظ مصنف کے ہوتے ہیں، مگر ورق (کتاب) پبلیکیشن ہاؤس کی۔ مگر بدقسمتی سے کتاب دیکھ کر پبلیکیشن ہاؤس کی غفلت نمایاں طور پر نہیں آئی۔ املا، رموز اوقات اور زبان کی بنیادی غلطیاں چیخ چیخ کر بتا رہی ہیں کہ مسودہ کسی معیاری ادارتی عمل سے گزرا ہی نہیں۔ متن کی ترتیب، پیراگراف کی نشت۔۔۔۔ افسوس۔ مگر لفظوں کی چمک دمک سے پرے، سچائی کی سیاہی سے لکھنے پر حمرا شعیب کو مبارک باد اور دعائیں۔