Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • آج پروین شاکر کا 29 واں یوم وفات ہے۔تحریر:حسین ثاقب

    آج پروین شاکر کا 29 واں یوم وفات ہے۔تحریر:حسین ثاقب

    آج پروین شاکر کا 29 واں یوم وفات ہے۔

    چھبیس نومبر 1994 کی وہ صبح مجھے اور میرے سرکاری معاصرین کو اب بھی یاد ہوگی جب ایک ناقابل یقین اطلاع ملی کہ ہماری بیچ میٹ پروین شاکر ٹریفک کے ایک حادثے میں شدید زخمی ہو گئی ہیں۔ وہ صبح کے وقت دفتر جارہی تھیں۔ گاڑی کے ڈرائیور کے بارے میں بھی اطلاع کچھ اچھی نہیں تھی لیکن پروین کے بارے میں سب لوگ پُرامید تھے کہ اسے کچھ نہیں ہوگا۔ زخم جلد مندمل ہوں گے اور وہ اپنی زندگی میں واپس آ جائے گی۔ اس زمانے میں موبائل فون عام نہیں تھے اس لئے لمحہ بہ لمحہ اپ ڈیٹ نہیں مل سکتی تھی۔ بہت سے لوگ ہسپتال میں جمع تھے اور کچھ مجھ جیسے کاہل الوجود دفتر میں بیٹھے فون کر کر کے ادھر ادھر سے خبر حاصل کر رہے تھے۔

    بالآخر خبر آ گئی لیکن یہ وہ خبر نہیں جس کے لئے دعائیں کی جارہی تھیں۔ قدرت کو شاید کچھ اور ہی منظور تھا۔ پروین شاکر اپنی بھری جوانی میں اپنے سول سروس کے کیرئر کے آغاز اور شاعرانہ کیرئر کے عروج پر پہنچ کر دنیا سے رخصت ہو گئی۔ اس کی عمر گو کہ صرف بیالیس برس تھی لیکن وہ اتنی کم عمری میں ناصر کاظمی کی طرح شعر و ادب کی دنیا میں ایسا مقام و مرتبہ حاصل کر چکی تھی جو بہت کم شعراء کو نصیب ہوا۔ شاید کاتبِ تقدیر کی مشیت میں اس کی آمد کا مقصد پورا ہو چکا تھا۔ اس شہرت اور مقام و مرتبے کا لوگ صرف خواب ہی دیکھ سکتے ہیں۔ اس زمانے کا اسلام آباد ایک خاموش اور پُرسکون شہر ہوا کرتا تھا۔ اس کی المناک موت کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور لوگ اس کے جاننے والوں کو پرسہ دینے لگے۔
    parveen

    وہیں دفتر میں بیٹھے بیٹھے مجھے صرف دس دن پہلے کی بات یاد آ رہی تھی۔ مجھے اسلام آباد میں تعینات ہوئے ایک سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا تھا۔ اور مجھے کسٹمز سروس کے کسی صاحب اختیار کا رابطہ نمبر درکار تھا۔ میں نے اپنے رفیقِ کار سرور زیدی سے کہا کہ کسٹم کے کسی بھی دفتر میں فون کر کے متعلقہ افسر کا فون نمبر پوچھ لیں۔ سرور نے تھوڑی دیر بعد ہی گھبرائے ہوئے لہجے میں بتایا کہ فون کسی میڈم نے براہ راست ہی اٹھا لیا جو آپ سے بات کرنا چاہتی ہیں اور آپ کو پہلے ہی بتا دوں کہ وہ آپ کا نام سننے کے بعد غصے میں لگتی ہیں۔

    "ثاقب!” فون ملتے ہی دوسری طرف سے آواز آئی، "اسلام آباد کب آئے؟” مجھے آواز پہچاننے کے لئے ذرا مہلت چاہئے تھی اس لئے آئیں بائیں شائیں کرنے لگا تو پھر آواز آئی کہ اب کیا مجھے اپنا تعارف کرانا پڑے گا۔ میں نے ڈانٹ ڈپٹ کے ڈر سے فورا” جھوٹ گھڑ کر کہا کہ کچھ ہی ہفتے ہوئے ہیں۔ میں آواز پہچان گیا تھا کیونکہ یہ سگنیچر ڈانٹ ڈپٹ صرف پروین شاکر کی ہی ہو سکتی تھی۔

    "آتے ہی فون کیوں نہیں کیا؟ ملنے کیوں نہیں آئے؟”

    میں نے فوراً وعدہ کیا کہ جلد حاضر ہوں گا۔ ابھی یہ وعدہ پورا کرنے کے بارے میں سوچ ہی رہا تھا کہ یہ دن آن پہنچا۔ صرف دس دن پہلے کی بات تھی کہ وہ زندہ سلامت نہ صرف ہمارے درمیان موجود تھی بلکہ ڈانٹ ڈپٹ اور شکوہ شکایت بھی کر رہی تھی۔

    پروین شاکر سول سروس میں ہماری ہمعصر تھی جسے ہماری زبان میں بیچ میٹ کہتے ہیں۔ اس کا ہمعصر ہونا ایک اعزاز تھا۔۔اگرچہ وہ اپنے منفرد شاعرانہ لب و لہجے اور اپنی ناموری کی وجہ سے ہم میں بہت ممتاز حیثیت رکھتی تھی پھر بھی اس کے ساتھ معاصرانہ چشمک اور یکطرفہ ڈانٹ ڈپٹ بھی چلتی رہتی تھی۔

    انہی دنوں اردو کے صاحب اسلوب شاعر جناب محبوب خزاں کراچی سے اسلام آباد آئے ہوئے تھے۔ وہ اکثر ملاقات کے لئے تشریف لاتے۔ اس دن آئے تو نہایت غمزدہ تھے۔ میں اپنے مربی اور مرشد جناب اطہر زیدی صاحب کی خدمت میں حاضر تھا۔ ان کے ساتھ اس المناک سانحہ پر بات ہو رہی تھی کہ خزاں صاحب تشریف لائے اور کہنے لگے کہ سمجھ نہیں آ رہی تھی کس کے ساتھ پروین شاکر کی موت کی تعزیت کروں۔ تم مل گئے ہو تو دلی تعزیت قبول کرو۔ آخر بیچ میٹ بھی تو فیملی سے کم نہیں ہوتے۔
    pavren

    اس دن اطہر زیدی صاحب کے دفتر میں بیٹھ کر ہم نے پروین شاکر کے لئے ایک تعزیتی ریفرنس منعقد کیا جس میں ہم تینوں ہی شریک تھے۔ محبوب خزاں صاحب نے پروین کی شاعری پر بڑی خوبصورت گفتگو کی۔ اس نے اپنے شعر کے ذریعے معاشرے کے استحصالی رویوں کے خلاف علم بغاوت بلند کر رکھا تھا۔ اس کی بغاوت میں بھی حسن تھا، شعریت تھی اور صنف نازک کے ان جذبوں کی ترجمانی تھی جو بوجوہ سامنے نہیں لائے جا سکتے۔ محبوب خزاں صاحب نے ایک شعر سنایا جو پروین کے منفرد نسائی لب و لہجے کا عکاس تھا۔

    تجھے مناؤں کہ اپنی انا کی بات سنوں
    الجھ رہا ہے مرے فیصلوں کا ریشم پھر

    پروین نے 1981 میں مقابلے کا امتحان دیا۔ ذرا اس کے شاعرانہ مرتبے کا تصور کریں کہ اس امتحان کے اردو کے پرچے میں خود اس کی شاعری کے بارے میں بھی سوال پوچھا گیا تھا۔ اس وقت اس کی عمر صرف انتیس برس تھی۔ اگلے برس جب نتیجہ سامنے آیا تو اس میں پروین شاکر کی پوزیشن دوسری تھی اور اسے فارن سروس کے لئے چنا گیا تھا۔ ہمارا یہ بیچ سول سروس کی عصری ترتیب میں دسواں کامن کہلاتا ہے۔ میرٹ میں اس سے اگلا نمبر ایک اور لائق فائق خاتون رعنا مسعود کا تھا۔ یہ اتفاق کی بات ہے کہ کورس کے اختتام پر پروین کو بہترین پروبیشنر اور رعنا کو بہترین آل راؤنڈر کا اعزاز ملا۔
    parveen

    اکیڈمی میں پروین شاکر کی وجہ سے ادبی سرگرمیاں بہت بڑھ گئی تھیں۔ وہ خود تو نجی وجوہات کی بناء پر لو پروفائل پر رہنا چاہ رہی تھی لیکن ان سرگرمیوں کے لئے اس کا نام ہی بہت تھا۔ اسی کی وجہ سے ہم نے اکیڈمی میں ایک عظیم الشان مشاعرہ برپا کیا جس کی صدارت احمد ندیم قاسمی صاحب نے کی۔ سید جاوید (شاہ جی) ہمارے بیچ میٹ اور خوبصورت شاعر ہیں۔ وہ اور میں بھاگ دوڑ کرکے شاعروں کو دعوت دینے جاتے۔ پروین کا نام سن کر کسی شاعر نے اپنا روایتی نخرہ نہیں دکھایا اور بغیر کوئی مشکل پیدا کئے مشاعرے میں شرکت کی حامی بھری۔ خیال رہے کہ شعراء کرام کو کسی قسم کا اعزازیہ پیش نہیں کیا گیا تھا۔ صرف لانے لے جانے کی سہولت دی گئی تھی۔ اس کے باوجود ہر شاعر نے مشاعرے میں شرکت کی اور اسے کامیاب بنایا۔ (جاری ہے)

    حکایت اللہ.ازقلم، حسین ثاقب

    ہم شرمندہ ہیں!! (سانحہ جڑانوالہ) ،ازقلم:حسین ثاقب

    علامہ اقبال کا پاکستان کیوں نہ بن سکا؟ تحریر:حسین ثاقب

    hussain saqib

  • تبصرہ کتب: بچوں کےلئے سنہری سیرت سے منتخب واقعات

    تبصرہ کتب: بچوں کےلئے سنہری سیرت سے منتخب واقعات

    نام کتاب : بچوں کےلئے سنہری سیرت سے منتخب واقعات
    مولف : عبدالمالک مجاہد
    صفحات : 255۔۔۔4کلر آرٹ پیپر
    قیمت : 3250روپے
    ناشر : دارالسلام انٹرنیشل ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لوئر مال لاہور
    رسالت ماٰ ب ﷺ بچوں کے بھی رسول ہیں ۔ آپ ﷺ بچوں کے ساتھ بے انتہا محبت فرمایا کرتے تھے ۔ جبکہ بچے بھی نبی رحمت ﷺ سے محبت کرتے اور آپ ﷺ پرجان قربان کرنے کےلئے تیار رہتے تھے ۔ معوذ ومعاذ دو ننھے منے بچوں کی رسالت ماٰ ب کے ساتھ محبت اور جانثاری تاریخ اسلام کاایک روشن باب اور ہمارے بچوں کےلئے مشعل راہ ہے ۔ آج ہم پر بھی بطور والدین فرض ہے کہ اپنے بچوں کے دل ودماغ میں نبی رحمت ،رسول معظم ﷺ کی اس طرح کی محبت وعقیدت راسخ کریں جو محبت معوذ ومعاذ رضی اللہ عنھما کے والدین نے اپنے بچوں کے دلوں میں پیدا کی تھی ۔ اس کےلئے ضروری ہے کہ بچوں کو رسول پاک ﷺ کے واقعات سنائے جائیں اور ایسی کتابیں پڑھنے کےلئے دی جائیں جن میں نبی مکرم رسول رحمت ﷺ کی سیرت بیان کی گئی ہو ۔ زیر نظر کتاب ” بچوں کےلئے سنہری سیرت سے منتخب واقعات “ اسی پس منظر میں لکھی گئی ہے ۔

    کتاب کے مﺅلف عبدالمالک مجاہد ہیں ۔ دارالسلام انٹرنیشنل بچوں کےلئے اسلامی ، اصلاحی ، تربیتی کتابیں شائع کرنے میں عالمی شہرت کاحامل ہے جبکہ عبدالمالک مجاہدسیرت النبی ﷺ پر بہت سی کتابیں لکھ چکے ہیں ان میں بہت سی کتابیں ایسی ہیں جو بطور خاص بچوں کےلئے لکھی گئی ہیں ۔” بچوں کے لیے سنہری سیرت کے منتخب واقعا ت “ میں دلچسپ اور دیدہ زیب پیرائے میں سیرت النبی ﷺ بیان کی گئی ہے تاکہ بچے بچیاں نبی ﷺ کی پاکیزہ سیرت سے آگاہ ہوکر اسلامی اخلاق و کردار اپنا سکیں اور مروجہ لٹریچر کی آلودگی اور قباحتوں سے بچے رہیں جو انھیں افسانوی اور دیومالائی کہانیوں کی لت میں مبتلا کرکے اسلامی اخلاق سے آراستہ نہیں ہونے دیتا ۔ اسی ضرورت کے پیش نظر یہ کتاب شائع کی گئی ہے۔ اس پاکیزہ مجموعے کو شرعی حدود کا خیال رکھتے ہوئے چہار رنگ تصویروں اور خاکوں سے مزین کیا گیا ہے تاکہ بچے تصاویر کے ذریعے سے واقعات کو سمجھیں اور اللہ کے رسول ﷺ کی سیرت سے واقف ہو سکیں ۔تاہم کتاب میں اللہ کے نبی ﷺ یا کسی صحابی کو تصویر یا خاکے میں نہیں دکھایاگیا ۔ یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ یہ خوبصورت اور دیدہ زیب کتاب بچوں بچیوں کو بے حد پسند آئے گی اوراس کے مطالعہ سے ہمارے بچوں کےلئے سیرت مقدسہ کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا بہت آسان ہوجائے گا۔یہ کتاب 81عنوانات پر مشتمل ہے اس کی ایک اہم خوبی یہ ہے کہ آسان فہم کےلئے ہر عنوان کے آخر میں سوال و جواب بھی دیے گیے ہیں تاکہ بچے غور سے پڑھیں اور سوالات کے ذریعے ان واقعات کو یاد رکھ سکیں ۔ آرٹ پیپر پر شائع کردہ یہ کتاب مضمون کے اعتبار سے جتنی خوبصورت ہے طباعت کے اعتبار سے بھی بہت دلکش اور دیدہ زیب ہے ۔

    دارالسلام نے انگریزی ترجمہ کے ساتھ” سٹڈی دی نوبل قرآن “ شائع کردیا 

    خطاطی کی خدمت کے پانچ سال کی تکمیل، دارالسلام میں تقریب

    نوجوان نسل کے لیے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت

    اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات

    ”سیرت حسن وحسین رضی اللہ عنھما“

    نام کتاب : توحید کی آواز

  • میں ہنسی بھی میں گڑگڑائی بھی،وہ نہ یوں ٹھہرا اور نہ یوں ٹھہرا

    میں ہنسی بھی میں گڑگڑائی بھی،وہ نہ یوں ٹھہرا اور نہ یوں ٹھہرا

    میں ہنسی بھی میں گڑگڑائی بھی،وہ نہ یوں ٹھہرا اور نہ یوں ٹھہرا

    نصرت زہرا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تعارف : آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    معروف شاعرہ اور صحافی نصرت حسین زہرا کا تعلق کراچی پاکستان سے ہے ان کے والدین کا تعلق امرتسر سے ہے جو کہ تقسیم ہند سے چند ماہ قبل ہجرت کر کے پاکستان آگئے ۔ ان کے والد صاحب کا نام امانت علی اور والدہ محترمہ کا نام فہمیدہ بانو ہے ان کے 3بھائی اور 5 بہنیں ہیں ۔نصرت زہرا نے کراچی یونیورسٹی سے فلسفے میں ایم اے کیا ہے ۔وہ ایشیا کے پہلے پنجابی نیوز چینل اپنا ٹی وی میں بحیثیت نیوز اینکر فرائض انجام دے چکی ہیں وہ دنیائے ادب کے مقبول ترین ادبی پروگرام” بزمِ شاعری” میں بحثیت میزبان ایک برس تک بخوبی فرائض انجام دیے انہوں نے پاکستان کی مقبول ترین شاعرہ پروین شاکر کی شاعری اور شخصیت سے متاثر ہو کر شاعری شروع کی اور وہ پروین شاکر کو ہی شاعری میں اپنا استاد مانتی ہیں ۔انہوں نے پروین شاکر کی سوانح حیات ” پارہ پارہ” کے نام سے تحریر کی ہے ۔نصرت زہرا کی شاعری کا مجموعہ” الفراق ” ترتیب و اشاعت کے مرحلے میں ہے۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    نوک ہر خار پر جو خوں ٹھہرا
    مری ہستی میں تو جنوں ٹھہرا

    تری راہوں کو چن لیا دل نے
    پھر مرے خواب کا زبوں ٹھہرا

    جانے کس دھن میں چل رہی تھی ہوا
    خطۂ یاس میں سکوں ٹھہرا

    رنگ بدلے کئی زمانوں نے
    دل کی حالت کہ جوں کا توں ٹھہرا

    میں ہنسی بھی میں گڑگڑائی بھی
    وہ نہ یوں ٹھہرا اور نہ یوں ٹھہرا

    کیا کہا تو نے دل گرفتہ سے
    پرچم آس سرنگوں ٹھہرا

    مضمحل تھا کوئی بہت کل رات
    پھر طلسمات کا فسوں ٹھہرا

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کیسے طوفان اس سفر میں ہیں
    جیسے کچھ حادثے نظر میں ہیں

    میرے بھی دل میں راکھ اڑتی ہے
    تیرے بھی خواب اس اثر میں ہیں

    وہ گھنا پیڑ ہو کہ سایہ طلب
    آخرش سب ہی چشم تر میں ہیں

    پیاس سے دم مرا بھی گھٹتا ہے
    شب کے سناٹے بھی خبر میں ہیں

    خواہش بے نوا ہے جب سے سوا
    تیرے افسانے ہر نگر میں ہیں

  • ماں دعا دیتی رہی ہم پھولتے پھلتے رہے

    ماں دعا دیتی رہی ہم پھولتے پھلتے رہے

    رنج دکھ آلام سب دور سے ٹلتے رہے
    ماں دعا دیتی رہی ہم پھولتے پھلتے رہے

    رانا خالد محمود قیصر

    12 دسمبر : یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تحریر و تعارف : آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    رانا خالد محمود قیصر
    تاریخ پیدائش : 12 دسمبر1961
    جائے پیدائش۔۔پڈعیدن ضلع نوشہرو فیروز۔۔سندھ
    تعلیم۔۔۔ایم اے (اردو۔۔۔تاریخ_ عمومی) ایم بی اے فنانس ۔۔ایل ایل بی(ایس ایم لاء کالج۔۔کراچی) ایم فل اردو۔۔کراچی یونیورسٹی( حسن حمیدی احوال و آثار بحوالہ ترقی پسند شاعر) ریسرچ اسکالر۔ پی ایچ ڈی ۔کراچی یونیورسٹی۔۔موضوع۔۔سندھ میں اردو غزل۔ادبی و سیاسی رجحانات

    ملازمت۔۔۔پاکستان اسٹیل ملز 1981تا جون 1987۔ الائیڈ بنک۔۔ 1987 تاریخ 2021۔۔ریٹائرڈ بطور ریجنل ہیڈ آپریشنز/ بزنس

    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔۔۔

    اذفر کون ہے۔۔۔اذفر زیدی اور تلامذہ کا تزکرہ
    گلشن عقیدت۔۔۔اذفر زیدی کا تقدیسی کلام۔۔مرتب
    ہندسوں کے درمیان۔۔غزلیں
    ادبی جمالیات مضامین
    امید سہارا دیتی ہے غزلیں
    ارباب قرطاس و قلم مضامین
    آگہی۔۔مضامین
    مقالہ۔ایم فل۔۔حسن حمیدی احوال و آثار بحوالہ ترقی پسند شاعر
    ہجر_ ناتمام غزلیں
    مری جستجو مدینہ ۔۔حمد و نعت سلام و منقبت۔
    تخلیق_ حمد و نعت کی تعمیری تنقید
    نگاہ_ صداقت۔ غزلیں
    پرکار۔۔غزلیں
    عصری ادب اور تنقیدی روئیے
    عکس_ اذہان

    کراچی اور پڈ عیدن ضلع نوشہرو فیروز سے تعلق رکھنے والے اردو کے نامور ادیب، شاعر، مصنف ، محقق اور بینکار رانا خالد محمود قیصر صاحب کا خاندان تقسیم ہند کے بعد ہندوستان سے ہجرت کر کے 1947 میں پڈ عیدن سندھ میں آباد ہوا۔ رانا خالد محمود قیصر صاحب 7 بھائی اور ان کی 4 بہنیں ہیں ۔ رانا خالد ابتدائی تعلیم کے بعد مزید تعلیم اور روزگار کے سلسلے میں کراچی منتقل ہو گئے مگر اپنے پیدائشی شہر پڈ عیدن میں اب بھی ان کا گھر موجود ہے وہاں سے ان کا تعلق نہیں ٹوٹا ۔ رانا صاحب نے 1974 سے شاعری شروع کر دی ، 1987 میں نوابشاہ میں شادی کی ۔ اولاد میں انہیں 3 بیٹیاں منزہ خالد، ڈاکٹر مائدہ خالد اور ماہ رخ جبکہ دو بیٹے رانا عبدالمنان کمپیوٹر انجنیئر اور رانا عبدالحنان سائٹ ویئر انجنیئر فاسٹ یونیورسٹی کراچی ہیں ۔

    رانا خالد محمود قیصر کی شاعری سے چند منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،۔۔۔۔۔۔۔۔

    میکدے ہوں گے مگر ایسے کہاں ہیں قیصر
    ایک ساغر سے ہزاروں کو پلانے والے

    ریت الفت میں یہ ڈالی جائے
    راہ آپس میں نکالی جائے

    روز کے لڑنے سے تو بہتر ہے
    ایک دیور اٹھا لی جائے

    رنج دکھ آلام سب دور سے ٹلتے رہے
    ماں دعا دیتی رہی ہم پھولتے پھلتے رہے

    اپنا بنا کے ہم نے رکھا دل نہ رہ سکا
    تم نے نظر ملائی تھی کہ اپنا دل گیا

    مسکراتی ہے مجھے دیکھ کر اب ان کی نظر
    آج بدلی ہوئی تقدیر نظر آتی ہے

    ٹھنڈک رہے گی آنکھوں میں قیصر مری سدا
    اے جان تیرے حسن کے منظر سمیٹ لوں

  • ایک پوسٹ گریجویٹ شاعرہ کا معصومانہ سوال

    ایک پوسٹ گریجویٹ شاعرہ کا معصومانہ سوال

    کیسے کیسے لوگ / آغا نیاز مگسی

    گزشتہ شب واٹس ایپ پر خیبر پختون خواہ سے تعلق رکھنے والی ایک پوسٹ گریجویٹ شاعرہ صاحبہ کے ساتھ اپنے اپنے علاقوں کے متعلق تعارفی سلسلہ شروع ہوا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کا تعلق کس شہر سے ہے تو میں نے جواب میں عرض کیا کہ میرا تعلق ڈیرہ مراد جمالی نصیر آباد بلوچستان سے ہے تو انہوں نے کہا کہ یہ بلوچستان پنجاب میں ہے یا سندھ صوبے میں ؟ مجھے ان کے اس غیر متوقع بلکہ معصومانہ سوال پر ایک لمحے کیلئے تھوڑا سا غصہ آیا لیکن جلد ہی میں نے غصے پر قابو پاتے ہوئے وضاحت کی کہ محترمہ بلوچستان نہ تو پنجاب میں ہے اور نہ ہی سندھ میں واقع ہے بلکہ یہ بھی پاکستان کا ایک صوبہ ہے تاہم ، میں ان کو اس وقت یہ بتانا بھول گیا کہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور معدنیات و دیگر قدرتی وسائل کے لحاظ سے شاید دنیا کا سب سے امیر ترین صوبہ ہے لیکن یہ الگ بات ہے کہ اس کے باوجود غربت اور پسماندگی میں بھی بلوچستان ایک عالمی ریکارڈ رکھتا ہے۔

    کراچی کی ایک سینیئر شاعرہ جو کہ بیرون دنیا کے کئی ممالک کا دورہ کر چکی ہیں وہ گزشتہ 4 ماہ سے مجھ سے پوچھتی رہتی ہیں کہ آغا صاحب آپ کس شہر سے ہیں ؟ اور میرا ہر بار وہی جواب ہوتا ہے کہ ڈیرہ مراد جمالی نصیر آباد بلوچستان سے ہوں ان سے بھی سینیئر ترین شاعرہ جرمنی کی ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ بلکہ مذہبی اسکالر بھی ہیں وہ گزشتہ 5 سال سے سال میں ایک یا دو بار مجھ سے رابطہ کر کے پوچھتی ہیں کہ آغا صاحب وہ جو آپ نے میرا تعارف لکھا تھا اگر آپ کے پاس اس کی کاپی ہے تو پلیز مجھے سینڈ کریں مجھ سے کسی اخبار یا میگزین والے نے مانگا ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ میں واٹس ایپ پر انہی کی ڈی پی سے کاپی پیسٹ کر کے انہیں دوبارہ ارسال کر کے ان کی ڈھیر ساری دعائیں سمیٹ لیتا ہوں ایسا معاملہ صرف خواتین تک محدود نہیں ہے۔

    نصیر آباد میں ایک ڈپٹی کمشنر صاحب کافی عرصہ پہلے تعینات تھے میں جب بھی ان سے کسی سلسلے میں ملاقات کیلئے جاتا تو مجھے بڑے اخلاق سے کہتے کہ ” جی جناب حکم فرمائیں آپ کس ڈپارٹمنٹ سے ہیں ” ۔؟

  • جو ایک پل کے لیے خود بدل نہیں سکتے

    جو ایک پل کے لیے خود بدل نہیں سکتے

    جو ایک پل کے لیے خود بدل نہیں سکتے
    وہ کہہ رہے ہیں کہ سارا جہاں بدل ڈالو

    مظفر علی سید

    6 دسمبر 1929: یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اردو کے معروف نقاد ، محقق اور شاعر مظفر علی سید 6 دسمبر 1929ء کو امرتسر پنجاب (ہندوستان) میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم امرتسر میں اور مزید تعلیم لاہور میں حاصل کی۔ 15 اگست 1947 میں ہندوستان کی تقسیم و آزادی کے بعد مظفر علی سید اپنے خاندان کے ہمراہ ہندوستان سے ہجرت کر کے لاہور پاکستان منتقل ہو گئے ۔مظفر علی سید کی تصانیف میں "تنقید کی آزادی”، "فکشن، فن اور فلسفہ” اور "پاک فضائیہ کی تاریخ” شامل ہیں۔ انھوں نے اردو شاعری میں کلاسیکل غزل گوئی کو ترجیح دی اور چند بہترین غزلیں لکھی ہیں اس کے علاوہ انھوں نے نامور ادیب مشفق خواجہ کے کالموں کے تین مجموعے "خامہ بگوش کے قلم سے” ، "سخن در سخن” اور "سخن ہائے گفتنی” کے نام سے بھی مرتب کئے۔
    ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں۔
    1. تنقید کی آزادی (تنقید)
    2. پاک فضائیہ کی تاریخ (تاریخ)
    3. یادوں کی سرگم (خاکے)
    4. احمد ندیم قاسمی کے بہترین افسانے (ترتیب)
    5. خامہ بگوش کے قلم سے (ترتیب)
    6. سخن در سخن (ترتیب)
    7. سخن ہائے گفتنی (ترتیب)
    8. سخن اور اہل سخن
    9. 1001سوال جواب(معلومات عامہ) طبع فیروز سنز
    فکشن ، فن اور فلسفہ ( ڈی ایچ لارنس کے تنقیدی مضامین کے تراجم)
    10. لسانی و عرضی مقالات ( مجموعہ مضامین)
    11. "تنقید ادبیات اردو”( از سید عابد علی عابد) کاتنقیدی جائزہ

    مظفر علی سیدؔ نے 28؍جنوری 2000ء کو لاہور میں وفات پائی اور لاہور کے کیولری گراؤنڈ کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے ۔

    مظفر علی سید کی شاعری سے انتخاب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بہت نحیف ہے طرز فغاں بدل ڈالو
    نظام دہر کو نغمہ گراں بدل ڈالو

    دل گرفتہ تنوع ہے زندگی کا اصول
    مکاں کا ذکر تو کیا لا مکاں بدل ڈالو

    نہ کوئی چیز دوامی نہ کوئی شے محفوظ
    یقیں سنبھال کے رکھو گماں بدل ڈالو

    نیا بنایا ہے دستور عاشقی ہم نے
    جو تم بھی قاعدۂ دلبراں بدل ڈالو

    اگر یہ تختۂ گل زہر ہے نظر کے لیے
    تو پھر ملازمت گلستاں بدل ڈالو

    جو ایک پل کے لیے خود بدل نہیں سکتے
    یہ کہہ رہے ہیں کہ سارا جہاں بدل ڈالو

    تمہارا کیا ہے مصیبت ہے لکھنے والوں کی
    جو دے چکے ہو وہ سارے بیاں بدل ڈالو

    مجھے بتایا ہے سیدؔ نے نسخۂ آساں
    جو تنگ ہو تو زمیں آسماں بدل ڈالو

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہر ایک راہ سے آگے ہے خواب کی منزل
    ترے حضور سے بڑھ کر غیاب کی منزل

    نہیں ہے آپ ہی مقصود اپنا جوہر ذات
    کہ آفتاب نہیں آفتاب کی منزل

    کچھ ایسا رنج دیا بچپنے کی الفت نے
    پھر اس کے بعد نہ آئی شباب کی منزل

    مسافروں کو برابر نہیں زمان و مکاں
    ہوا کا ایک قدم اور حباب کی منزل

    محبتوں کے یہ لمحے دریغ کیوں کیجے
    بھگت ہی لیں گے جو آئی حساب کی منزل

    ملے گی بادہ گساروں کو شیخ کیا جانے
    گنہ کی راہ سے ہو کر ثواب کی منزل

    مسام ناچ رہے ہیں معاملت کے لیے
    گزر گئی ہے سوال و جواب کی منزل

    ملی جو آس تو سب مرحلے ہوئے آساں
    نہیں ہے کوئی بھی منزل سراب کی منزل

    مزاج درد کو آسودگی سے راس کرو
    کہاں ملے گی تمہیں اضطراب کی منزل

    رہ جنوں میں طلب کے سوا نہیں سیدؔ
    اگرچہ طے ہو خدا کی کتاب کی منزل

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سیدؔ تمہارے غم کی کسی کو خبر نہیں
    ہو بھی خبر کسی کو تو سمجھو خبر نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مضمون کی تیاری میں ویکیپیڈیا سے بھی مدد لی گئی

    موجود ہو تو کس لیے مفقود ہو گئے
    کن جنگلوں میں جا کے بسے ہو خبر نہیں

    اتنی خبر ہے پھول سے خوشبو جدا ہوئی
    اس کو کہیں سے ڈھونڈھ کے لاؤ خبر نہیں

    دل میں ابل رہے ہیں وہ طوفاں کہ الاماں
    چہرے پہ وہ سکون ہے مانو خبر نہیں

    دیکھو تو ہر بغل میں ہے دفتر دبا ہوا
    اخبار میں جو چھاپنا چاہو خبر نہیں

    نوک زباں ہیں تم کو شرابوں کے نام سب
    لیکن نشے کی بادہ پرستو خبر نہیں

    کاغذ زمین شور قلم شاخ بے ثمر
    کس آرزو پہ عمر گزارو خبر نہیں

    سیدؔ کوئی تو خواب بھی تصنیف کیجیے
    ہر بار تم یہی نہ سناؤ خبر نہیں

  • تبصرہ کتب،نام کتاب : توحید کی آواز

    تبصرہ کتب،نام کتاب : توحید کی آواز

    نام کتاب : توحید کی آواز
    مصنف : مولانا عثمان منیب ، حافظ محمد اقبال
    صفحات : 328
    ناشر : دارالسلام انٹر نیشنل ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لوئر مال ، لاہور
    برائے رابطہ : 042-37324034
    انسان کی تخلیق فطرت توحید پر ہوئی ہے اس لیے اسے سمجھنا ہر انسان کے لیے نہایت ضروری اور آسان ہے لیکن افسوس کہ توحید کی دعوت جس قدر عام فہم اور عقل و شعور رکھنے والوں کو اپیل کرتی ہے کچھ لوگوں نے آج اسے اتنا ہی مشکل بنا دیا ہے ۔ جس توحید کے تصور کو نمایاں کرنے کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انتھک محنت کی اور قران مجید کی سینکڑوں آیات اور امثال کے ذریعے اس کے درست مفہوم کو سمجھانے کی کوشش کی وہ تصور آج فلاسفہ کی موشگافیوں کی نظر ہوچکا ہے یعنی توحید کی صاف ستھری دعوت کو چھوڑ کر ہم ا نہی پہلیوں میں سرگرداں ہو گئے ہیں جن سے نکالنے کے لیے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تھے۔ توحید کے حقیقی تصور کو اجاگر کرنے کے لیے دارالسلام نے ایک جامع کتاب ” توحید کی آواز “ ترتیب دی ہے جو درج ذیل خصوصیات کی حامل ہے :

    اس کی زبان سادہ اور عام فہم ہے۔ علمی مباحث کو عوام الناس کے لیے آسان انداز میں پیش کیا گیا ہے ۔ ذات باری تعالی کے حوالے سے مذاہب عالم کے تصورات پر روشنی ڈالی گئی ہے اور ان میں پائے جانے والے توحید کے تصور کی حقیقت آشکارا کی گئی ہے ۔ توحید کی اقسام بیان کر کے ان میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کی وضاحت کی گئی ہے ۔ شرک اور اس کے مظاہر کا مدلل رد کیا گیا ہے نیز دور حاضر کے حساس مسئلے یعنی مسئلہ تکفیر کی مکمل وضاحت کرتے ہوئے اس کے اصول و ضوابط پر روشنی ڈالی گئی ہے یوں ان اہم اور مفید مباحث پر مشتمل یہ کتاب علماءطلباءاور عوام کے لیے توشہ علم اور رشد و ہدایت کا ذریعہ ہے ۔

    کتاب میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ نزول قرآن کے وقت ذات باری تعالی کے بارے میں اس وقت کے مذاہب اور اقوام میں کیا تصور پایا جاتا تھا مثلاََ چینی تہذیب میں ذات باری تعالیٰ کا کیا تصورتھا ۔ اسی طرح ہندوستانی ، شمنی ، ایرانی مجوسی ، یہودی، عیسائی ، یونانی ، مشرکین مکہ اور اہل عرب کے ہاں ذات باری تعالیٰ کے بارے میں کیا تصور پایا جاتا تھا ۔ یہ تمام تصورات بیان کرنے کے بعد بتایا گیا ہے کہ قران مجید نے توحید کا کیا تصور اور سبق دیا ہے ۔ کتاب میں معرفت باری تعالیٰ کے عقلی اور نقلی دلائل بیان کیے گئے ہیں جو دل کو چھوتے اور عقل کو جھنجھوڑتے ہیں ۔ توحید کے لغوی و اصطلاحی معنی ، توحید کی حقیقت واہمیت توحید کی فضیلت ، توحید کی اقسام ، صفات باری تعالیٰ کے بارے میں ائمہ اسلاف کے اقوال کے بارے میں بتایا گیا ہے ۔ کتاب میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ توحید باری تعالی ہی تمام عبادات کی بنیاد ہے توحید اور مسئلہ تکفیر پر بھی بحث کی گئی ہے صحیح عقیدہ توحید کے حصول کا طریقہ کار بھی بتایا گیا ہے ۔ قرآن مجید اور احادیث کی روشنی میں شرعی اور غیر شرعی وسیلہ پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے ۔مسلمانوں پر مختلف تہذیبوں کے اثرات کو زیر بحث لاتے ہوئے فلسفہ وحدت الوجود ، وحدت الشہود اور حلول کے بارے میں بتایا گیا ہے ۔ تقدیر ایک اہم ترین اور حساس مسئلہ ہے اس کی بھول بھلیوں میں بڑے بڑے دانشور اور اہل علم الجھ کر رہ گئے اور صراط مسقتیم سے بھٹک گئے ہیں لہذا تقدیر کے مسئلہ کی حقیقت اور ماہیت کو بھی سمجھنا ضروری ہے اس ضمن میں یہ بتایا گیا ہے کہ کیا ہر چیز تقدیر میں لکھی ہوئی ہے اور کیا دعا سے تقدیر بدل سکتی ہے ؟ ان تمام سولات کے جوابات تفصیل سے دیے گئے ہیں جنھیں پڑھ کر انسان کےلئے مسئلہ تقدیر کو سمجھنا نہایت آسان ہوجاتا ہے ۔ جادو کی بعض اقسام ، قرآنی تعویذ ، غیر قرآنی تعویذ ، علم نجوم کی شرعی حیثیت، بدفالی اور بدشگونی کی حقیقت جیسے اہم موضوعات پر بھی سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے۔ یوں یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ توحید کے موضوع پر پیش نظر کتاب ایک منفرد کاوش ہے ۔اس کتاب کی اہم ترین خوبی یہ ہے کہ اس میں علمی باریکیوں کی بجائے عام فہم اسلوب اختیار کیا گیا ہے ۔یوں یہ کتاب اہل علم کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کےلئے بھی بے حد مفید ہے ۔

    دارالسلام نے انگریزی ترجمہ کے ساتھ” سٹڈی دی نوبل قرآن “ شائع کردیا 

    خطاطی کی خدمت کے پانچ سال کی تکمیل، دارالسلام میں تقریب

    نوجوان نسل کے لیے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت

    اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات

    ”سیرت حسن وحسین رضی اللہ عنھما“

  • یہ بھرا شہر بھی تنہا نظر آتا ہے مجھے

    یہ بھرا شہر بھی تنہا نظر آتا ہے مجھے

    کوئی تنہائی کا احساس دلاتا ہے مجھے
    یہ بھرا شہر بھی تنہا نظر آتا ہے مجھے

    نور جہاں ثروت ،اردو صحافت کی خاتون اول

    28 نومبر 1949: یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہندوستان کی نامور شاعرہ اور صحافی نورجہاں ثروت 28 نومبر 1949ء کو دہلی میں پیدا ہوئیں انہوں نے دہلی کالج سے گریجویشن کیا جبکہ 1971 میں دہلی یونیورسٹی سے ایم اے کیا ۔ تعلیم سے فراغت کے بعد وہ جواہر لال یونیورسٹی دہلی میں لیکچرر مقرر ہوئیں اس کے بعد ڈاکٹر ذاکر حسین کالج میں بھی تعینات ہوئیں۔ بعد ازاں صحافت سے دلچسپی کے باعث شعبہ صحافت سے وابستہ ہو گئیں۔ ان کے صحافتی کیریئر کا آغاز 1986 ء میں روزنامہ قومی اخبار سے رپورٹر کی حیثیت سے ہوا انہیں کسی بھی اردو اخبار کی پہلی خاتون رپورٹر کا اعزاز حاصل ہوا جبکہ 1988 میں وہ روزنامہ انقلاب دہلی کی ریزیڈنٹ ایڈیٹر مقرر ہوئیں جو کہ اردو صحافت میں پہلی خاتون ایڈیٹر کا منفرد اعزاز ہے ۔ اور اسی لیے انہیں اردو صحافت کی ’خاتون اول‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ انھیں کئی اہم اعزازات سے بھی نوازا گیا جن میں لالہ جگت نرائن صحافت ایوارڈ (1985ء)‘ راجدھانی سوتنتر لیکھک ایوارڈ (1986ء)‘ نشانِ اردو برائے ادبی خدمات (1989ء)‘ نئی آواز برائے صحافت ایوارڈ (1994ء)‘ میر تقی میر ایوارڈ (1995ء)‘ انٹر نیشنل ایسوسی ایشن آف فار ایجوکیشن فار ورلڈ برائے صحافت (1999ء)‘ قومی تحفظ و بیداری ایشین اکیڈمی آف فلم اینڈ ٹیلی ویژن ایوارڈ (2000ء)‘ میڈیا انٹر نیشنل ایوارڈ (2002ء) اور اردو اکادمی دہلی ایوارڈ (2010ء) شامل ہیں۔ جبکہ 2009 میں انہیں 50 ہزار روپے پر مشتمل بہترین شاعرہ کا ایوارڈ بھی دیا گیا۔ نور جہاں دہلی کی ٹکسالی اردو بولتی تھیں ۔ انہوں نے شادی نہیں کی ۔ 7 اپریل 2010 میں دہلی کی ایک نواحی بستی نوین شاہدرہ میں تنہائی کی حالت میں ان کا انتقال ہوا۔ 1995 میں ان کا شعری مجموعہ ” بے نام شجر” کے نام سے شائع ہوا۔ وہ ایک منفرد کالم نگار بھی تھیں جن کے کالم کی سرخی کسی شعری مصرع پر مبنی ہوتی تھی ۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کون تنہائی کا احساس دلاتا ہے مجھے
    یہ بھرا شہر بھی تنہا نظر آتا ہے مجھے

    جانے کس موڑ پہ کھو جائے اندھیرے میں کہیں
    وہ تو خود سایہ ہے جو راہ دکھاتا ہے مجھے

    اس کی پلکوں سے ڈھلک جاؤں نہ آنسو بن کر
    خواب کی طرح جو آنکھوں میں سجاتا ہے مجھے

    عکس تا عکس بدل سکتی ہوں چہرہ میں بھی
    میرا ماضی مگر آئینہ دکھاتا ہے مجھے

    وہ بھی پہچان نہ پایا مجھے اپنوں کی طرح
    پھول بھی کہتا ہے پتھر بھی بتاتا ہے مجھے

    اجنبی لگنے لگا ہے مجھے گھر کا آنگن
    کیا کوئی شہر نگاراں سے بلاتا ہے مجھے

    کسی رت میں بھی مری آس نہ ٹوٹی ثروتؔ
    ہر نیا جھونکا خلاؤں میں اڑاتا ہے مجھے

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پھر کوئی اپنی وفا کا واسطہ دینے لگا
    دور سے آواز مجھ کو حادثہ دینے لگا

    طے کرو اپنا سفر تنہائیوں کی چھاؤں میں
    بھیڑ میں کوئی تمہیں کیوں راستہ دینے لگا

    راہزن ہی راہ کے پتھر اٹھا کر لے گئے
    اب تو منزل کا پتا خود قافلہ دینے لگا

    غربتوں کی آنچ میں جلنے سے کچھ حاصل نہ تھا
    کیسے کیسے لطف دیکھو فاصلہ دینے لگا

    شہر نا پرساں میں اے ثروتؔ سبھی قاضی بنے
    یعنی ہر نافہم اپنا فیصلہ دینے لگا

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یوں تو کہنے کو ہم عدو بھی نہیں
    ہاں مگر اس سے گفتگو بھی نہیں

    وہ تو خوابوں کا شاہزادہ تھا
    اب مگر اس کی جستجو بھی نہیں

    وہ جو اک آئینہ سا لگتا ہے
    سچ تو یہ ہے کہ روبرو بھی نہیں

    ایک مدت میں یہ ہوا معلوم
    میں وہاں ہوں جہاں کہ تو بھی نہیں

    ایک بار اس سے مل تو لو ثروتؔ
    ہے مگر اتنا تند خو بھی نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عمر بھر دیکھا ہوا وہ آرزو کا خواب تھا
    کہ آسودہ ہوئی ہوں اپنے ہی انکار سے

  • تمام چہرے ہیں چہروں کے نام ہیں ہی نہیں

    تمام چہرے ہیں چہروں کے نام ہیں ہی نہیں

    میں دیکھتا ہوں انہیں روز گزر جاتا ہوں
    تمام چہرے ہیں چہروں کے نام ہیں ہی نہیں

    الیاس بابر اعوان،شاعر، ناول نگار، افسانہ نگار، نقاد، محقق، کالم نگار

    پیدائش:28 نومبر 1976ء

    تعلیم:ایم اے (اردو)
    پی ایچ ڈی
    مادر علمی:جامعہ پنجاب
    اصناف:شاعری، تنقید، افسانہ
    ناول، تحقیق، ترجمہ
    نمایاں کام:
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)خواب دگر
    ۔ (2)نووارد
    ۔ (3)ایک ادھوری سرگزشت
    ۔ (4)معاصر متن کی دریافت
    ۔ (5)جدید تنقیدی تصورات
    ۔ (6)منحرف
    مستقل پتا:ایچ۔141، آبادی نمبر2
    دیم اسٹریٹ،ٹنچ بھاٹہ، راولپنڈی

    الیاس بابر اعوان راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے نوجوان شاعر اور افسانہ نگار ہیں۔
    ولادت
    ۔۔۔۔۔
    الیاس بابر اعوان کی پیدائش 28 نومبر 1976ء، راولپنڈی، صوبہ پنجاب، پاکستان میں ہوئی۔ ان کے والد کا نام محمد افضل اعوان ہے۔
    مادرِ علمی
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)فیڈرل گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول
    ۔ نمبر ا صدر لاہور
    ۔ (2)فیڈرل گورنمنٹ ڈگری کالج
    ۔ لاہور کینٹ
    ۔ (3)گورنمنٹ شالیمار ڈگری کالج
    ۔ باغبانپورہ لاہور
    ۔ (4)نیشنل یونیورسٹی آف مارڈرن لینگوئجز
    ۔ اسلام آباد
    ۔ (5)رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی
    ۔ اسلام آباد
    ۔ (6)بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی
    ۔ اسلام آباد
    تعلیم
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)پی ایچ ڈی اسکالر
    ۔ (انگریزی ادب)
    ۔ (2)پی جی ڈی
    ۔ ( پروفیشنل ایتھکس اینڈ ٹیچنگ میتھڈولجیز)
    ۔ (3)ایم فل (انگریزی ادب)
    ۔ (4)ایم اے انگریزی ادب و لسانیات
    ۔ (5)ایم اے اردو ادب و لسانیات
    ۔ (6)ایم ایڈ
    شاعری
    ۔۔۔۔۔۔
    اکیسویں صدی کی پہلی دہائی میں شعر و ادب کی دنیا میں وارد ہوئے۔ اسلام آباد میں نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگوئجز میں انگریزی ادب کے لیکچرر ہیں۔ اردو، انگریزی اور پنجابی میں لکھتے ہیں۔ حلقہ ارباب ِ ذوق راولپنڈی کے چار سال تک سیکرٹری رہے اور جدیدادبی تنقیدی فورم کے بانی ہیں۔ اردو میں تنقید، نظم، غزل اور افسانے کے ساتھ ساتھ انگریزی میں شاعری اور افسانے بھی لکھتے ہیں۔
    مجموعہ کلام
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)خوابِ دِگر (شعری مجموعہ)-2012ء
    ۔ پبلشر: رمیل پبلیشرز راولپنڈی
    ۔ (2)نووارد ( نظمیہ مجموعہ)- 2016ء
    ۔ سانجھ پبلشرز لاہور نے شائع کیا
    زیر طباعت
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)معاصر متن کی دریافت:
    ۔ (تنقیدی مضامین)
    ۔ پبلشر: کتاب محل لاہور
    ۔ (2)جدید تنقیدی تصورات
    ۔ مترجم: الیاس بابر اعوان
    ۔ پبلشر: کتاب محل لاہور
    ۔ (3)منحرف۔ نظموں کا مجموعہ
    ۔ (زیر ـ اشاعت)

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    صرف آزار اٹھانے سے کہاں بنتا ہے
    مجھ سا اسلوب زمانے سے کہاں بنتا ہے
    آنکھ کو کاٹ کے کچھ نوک پلک سیدھی کی
    زاویہ سیدھ میں آنے سے کہاں بنتا ہے
    کچھ نہ کچھ اس میں حقیقت بھی چھپی ہوتی ہے
    واقعہ بات بنانے سے کہاں بنتا ہے
    حسن یوسف سی کوئی جنس بھی رکھو اس میں
    ورنہ بازار سجانے سے کہاں بنتا ہے
    اس میں کچھ وحشت دل بھی تو رکھی جاتی ہے
    باغ بس پھول اگانے سے کہاں بنتا ہے
    راستہ بنتا ہے تشکیل نظر سے بابرؔ
    خاک کی خاک اڑانے سے کہاں بنتا ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    آنکھ کھلے گی بات ادھوری رہ جائے گی
    ورنہ آج مری مزدوری رہ جائے گی
    جی بھر جائے گا بس اُس کو تکتے تکتے
    کچی لسی میٹھی چُوری رہ جائے گی
    اُس سے ملنے مجھ کو پھر سے جانا ہوگا
    دیکھنا پھر سے بات ضروری رہ جائے گی
    تھوڑی دیر میں خواب پرندہ بن جائے گا
    میرے ہاتھوں پر کستوری رہ جائے گی
    تم تصویر کے ساتھ مکمل ہو جاؤ گے
    لیکن میری عمر ادھوری رہ جائے گی

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    ٹوٹی میز اور جلی کتابیں رہ جائیں گی
    ڈرون گرے گا امن کی باتیں رہ جائیں گی
    لڑنے والے روشن صبحیں لے جائیں گے
    میری خاطر اندھی شامیں رہ جائیں گی
    سچ لکھنے والے سب ہجرت کر جائیں گے
    بازاروں میں قلم دواتیں رہ جائیں گی
    یوں لگتا ہے رستے میں سب لٹ جائے گا
    گھر پہنچوں گا تو کچھ سانسیں رہ جائیں گی
    امیدوں پر برف کا موسم آ جائے گا
    دیواروں پر دیپ اور آنکھیں رہ جائیں گی
    ہم دروازے میں ہی روتے رہ جائیں گے
    جانے والوں کی بس باتیں رہ جائیں گی

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    غلام زادوں میں کوئی غلام ہے ہی نہیں
    ہمارے شہر میں سچ کا نظام ہے ہی نہیں
    یہ لوگ جلد ہی پتھر میں ڈھلنے والے ہیں
    یہاں کسی سے کوئی ہم کلام ہے ہی نہیں
    میں دیکھتا ہوں انہیں اور گزرتا جاتا ہوں
    تمام چہرے ہیں چہروں کے نام ہے ہی نہیں
    تمہاری مرضی ہے رکھ لو ہمیں یا ٹھکرا دو
    ہمارے پاس محبت کا دام ہے ہی نہیں
    یہ لوگ اسے تری تصویر ہی سمجھتے ہیں
    پر اس کے جیسا کوئی خوش کلام ہے ہی نہیں
    وہاں پہ خوابوں کو خیرات کر کے چلتے بنو
    جہاں شعور حلال و حرام ہے ہی نہیں
    ذرا سی لہجے کی نرمی سے مان جائیں گے
    کہ بگڑے لوگوں کا کوئی امام ہے ہی نہیں

    منقول

  • کوئی ہم سا ہو تو سامنے آئے

    کوئی ہم سا ہو تو سامنے آئے

    طاہرہ سید

    یوم پیدائش 6 نومبر 1958

    پاکستان کی ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ ،خوب صورت گلوکارہ طاہرہ سید 6 نومبر 1958 میں پیداہوئیں۔ وہ برصغیر کی نامور کلاسیکل گلوکارہ ملکہ پکھراج اور معروف ادیب و مصنف سید شبیر حسین شاہ کی بیٹی ہیں ۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے گریجویشن اور قانون کی ڈگری حاصل کی ۔ انہوں نے بچپن ہی میں 10 سال کی عمر سے گائیکی شروع کی جبکہ 14 سال کی عمر میں 1969 میں وہ پہلی بار ریڈیو پاکستان اور 1970 میں پی ٹی وی پر گانے کیلئے آئیں۔ اپنی والدہ ملکہ پکھراج، استاد اختر حسین اور استاد نذر حسین سے موسیقی کی تربیت حاصل کی ۔ انہوں نے پاکستان کے علاوہ امریکہ اور ہندوستان سمیت کئی ممالک میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا ۔ حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں تمغہ صدارت سے نوازا گیا ۔ اپریل 1985 میں نیشنل جیوگرافک میگزین نے طاہرہ سید کو اپنے سرورق /ٹائٹل پر شائع کیا۔ طاہرہ سید نے 1975 میں معروف ٹی وی کمپیئر اور وکیل سید نعیم بخاری سے شادی کی جس سے انہیں ایک بیٹی کرن اور ایک بیٹا حسنین پیدا ہوا۔ طاہرہ سید اور اس وقت کے وزیر اعظم وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی 1990 میں ایک دوسرے سے محبت ہو گئی ۔ نواز شریف انہیں پی سی بھوربن میں بلا کر رات دیر گئے تک ان سے ” غزلیں ” سنتے رہتے جس کو وہ معاوضے میں سینیٹر سیف الرحمان کی کمپنی ” ریڈکو ” کے ذریعے ہر ماہ 10 لاکھ روپے بینک ٹو بینک ٹرانسفر کرا دیتے تھے۔

    طاہرہ سید کی نواز شریف سے زیادہ قربت کے باعث نعیم بخاری نے طاہرہ کو طلاق دے دی ۔ نعیم بخاری سے علیحدگی کے بعد طاہرہ نے دوسری شادی نہیں کی جبکہ نعیم بخاری نے دوسری شادی کی جس سے ایک بیٹا اور دو بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ طاہرہ کے دونوں بچے وکیل بن گئے۔ کرن بخاری نیو یارک میں اور حسنین بخاری مسقط میں وکالت کر رہے ہیں ۔ طاہرہ سید اب بھی رومانویت پسند ہیں ان کا کہنا ہے کہ ہر عورت کی زندگی میں رومان کو خاص اہمیت حاصل ہے اگر مجھے پھول دے یا کارڈ لکھ کر ارسال کرے یہ مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔ طاہرہ کے گائے ہوئے کئی گیت ، غزلیں اور نغمے بہت مشہور ہیں جن میں

    1 ہر اک جلوہ رنگین مری نگاہ میں ہے

    2 ہم سا کوئی ہو تو سامنے آئے

    3یہ عالم شوق کا دیکھا نہ جائے ،و دیگر شامل ہیں