Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • نہ گنواؤ ناوک نیم کش دل ریزہ ریزہ گنوا دیا ،تحریر: سعد جامی

    نہ گنواؤ ناوک نیم کش دل ریزہ ریزہ گنوا دیا ،تحریر: سعد جامی

    نہ گنواؤ ناوک نیم کش دل ریزہ ریزہ گنوا دیا، اس مصرع کو اگر دوبارہ ترتیب دیا جائے تو آج کا شاعر، بلکہ میں خود اس کو یوں ترتیب دیتا
    نہ گنواؤ اپنی محبت، دل خستہ حال بس بیچ دیا،
    آج کل ہر جوان لڑکا لڑکی جو میری جیسی جسامت اور قد رکھتے ہیں وہ اس مرض کا شکار ہیں اور وجہ ہزاروں ہوں، اک وجہ ہم خود لکھاری ہیں جو ان کو اپنی ٹوٹی پھوٹی کہانیاں سناتے ہیں.
    خیر یہ مسئلہ ایسا ہے جس میں ہر بندہ اپنا خود کا فلسفہ رکھتا ہے –

    ملک کے حالات بڑے خراب ہیں، یہ بات مجھے کسی ٹی وی، اخبار یا سیاسی بندے سے نہیں ملی بلکہ محلے کی اک چھوٹی بچی جو مجھ سے کھانے کے پیسے مانگتی تھی اس سے پتا چلی کیونکہ اس نے اب مانگنا چھوڑ دیا اور گھر سے نکلنا بند کر دیا. وجہ پوچھی تو بتایا ملک میں چوروں کا ٹولہ آیا ہوا جو ہر گھر تک رسائی رکھتا ہے –
    میں خود لکھنا چھوڑا ہوا کیونکہ مایوسی گناہ ہے اور میں جب لکھتا ہوں منحوس ہی لکھتا ہوں. دنیا چاند پر پہنچ گئی اور ہم ابھی stellar Nursery پر ہیں
    جہاں ابھی ہماری ترقی کا سیارہ بن رہا ہے، چلو اچھے کی امید تو ہے!
    اک شہری ہونے کے ناطے ہمیں ایسا کیا کرنا جس سے ملک ترقی کرے؟ مجھ سے کسی نے سوال کیا جواباً میرے منہ سے نکل گیا "خودکشی
    جس پر وہ غصے میں آگے اور پھر مجھ سے کوئی سوال نہ کیا گیا –

    باقاعدہ اردو ادب سے محبت رکھنے کی وجہ سے مجھے بہت مواقع دیے گے – چار سالوں میں تیسری بار سٹیج پر آنے کا موقع ملا اور یوں عمر کے حساب سے چھ سات اور مواقع مل سکتے..
    پاکستان میں Adveritisment کا بول بالا بھی عام لوگ تک پہنچ چکا – اب اس بات کا اندازہ تب ہوا جب میں اک دور کھڑے رکشہ دیکھا، ڈرائیور بار بار کہہ رہ کے اک سواری اک سواری میں ڈورتا چلا گیا جب وہاں بیٹھا تو ساتھ والا اٹھ کھڑا ہوا اور ڈرائیور دوبارہ صدا دینے لگا اک سواری اک سواری –
    وقت کو مدنظر رکھتے ہوئے میں فیض احمد فیض کے غزل کے دو اشعار پیش کروں گا

    نہ گنواؤ ناوک نیم کش دل ریزہ ریزہ گنوا دیا

    جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو تن داغ داغ لٹا دیا

    مرے چارہ گر کو نوید ہو صف دشمناں کو خبر کرو

    جو وہ قرض رکھتے تھے جان پر وہ حساب آج چکا

  • اپنا گھر اب تو کسی اور کا گھر لگتا ہے

    اپنا گھر اب تو کسی اور کا گھر لگتا ہے

    محرم جاں کوئی دیوار نہ در لگتا ہے
    اپنا گھر اب تو کسی اور کا گھر لگتا ہے

    آفاق احمد صدیقی

    پیدائش:04 مئی 1928ء
    فرخ آباد، وبرطانوی ہند

    وفات:17 جون 2012ء
    کراچی، پاکستان

    مدفن:سخی حسن، کراچی

    مادر علمی:جامعہ علی گڑھ
    زبان:اردو، سندھی

    اعزازات:

    تمغائے حسن کارکردگی

    آفاق صدیقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو اور سندھی زبان کے نامور شاعر، نقاد، مترجم اور پروفیسر تھے۔

    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آفاق صدیقی 04 مئی، 1928ء کو فرخ آباد، اترپردیش، برطانوی ہندستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا پورا نام محمد آفاق احمد صدیقی تھا۔ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے فارغ التحصیل تھے۔ تقسیم ہند کے بعد وہ سکھر میں آباد ہوئے اور انہوں نے تدریس کے شعبے سے وابستگی اختیار کی۔

    ادبی خدمات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آفاق صدیقی کی مادری زبان اگرچہ اردو تھی لیکن انہیں فارسی، ہندی اور سندھی زبانوں پر بھی دسترس حاصل تھی۔ شاید اسی بنا پر انہیں تحقیق اور ترجمے سے بھی رغبت تھی اور ان کے قریبی دوستوں کے مطابق انہوں نے چالیس کے لگ بھگ تصانیف چھوڑی ہیں جن میں اٹھارہ تصانیف سندھی زبان میں ہیں۔ ان کے تحقیقی کام اور تراجم کو اردو اور سندھی ادب کے حوالے سے نہایت اہم تصور کیا جاتا ہے۔ انہوں نے شاہ عبداللطیف بھٹائی، سچل سرمست اور شیخ ایاز کی شاعری کو بھی اردو میں منتقل کیا۔ ان کی ان خدمات کی بنا پر انہیں سندھی اور اردو بولنے والوں کے درمیان ایک پل بھی قرار دیا جاتا تھا۔ 1951ء میں انہوں نے رسالہ کوہ کن نکالا۔ 1953ء میں سندھی ادبی سرکل قائم کیا۔

    آفاق صدیقی نے مسلم ایجوکیشنل سوسائٹی کے نام سے ایک تنظیم قائم کی جس نے سکھر اور شہر کے نواح میں چودہ ایسے اسکول قائم کیے جن میں کم اور اوسط آمدنی والے خاندانوں کے بچوں کو تعلیم دی جاتی تھی۔ تدریسی فرائض سے ریٹائر کیے جانے کے بعد وہ کراچی منتقل ہو گئے اور اردو سندھی ادبی فاؤنڈیشن کے نام سے ایک تنظیم قائم کی۔ اس تنظیم کے قیام کا مقصد ایسے ادیبوں کی کتابیں شائع کرانا تھا جو اپنی کتابیں خود شائع کرانے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔

    آفاق صدیقی کی تصانیف میں پاکستان ہمارا ہے، کوثر و تسنیم، قلب سراپا، ریزہ جاں، تاثرات، عکس لطیف، شاعر حق نوا، پیام لطیف، اقوال سچل، بساط ادب، بابائے اردو وادی مہران میں، ادب جھروکے ، گلڈ کہانی، ادب گوشے، ریگزار کے موتی، ماروی کے دیس میں اور جدید سندھی ادب کے اردو تراجم شامل ہیں۔ ان کی خود نوشت سوانح عمری صبح کرنا شام کا کے نام سے شائع ہوچکی ہے۔
    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ارمغان عقیدت
    ادب زاویے (مضامین)
    شاہ لطیف اور عصر حاضر (لطیفیات)
    سندھی ادب کے اُردو تراجم (ترجمہ)
    جدید سندھی ادب (تنقید)
    ریگزار کے موتی (شمالی سندھ کے شعرا)
    بابائے اُردو وادیٔ مہران میں
    بوئے گل و نالۂ دل (شیخ ایاز کا اُردو کلام) (ترتیب)
    ادب جھروکے (مضامین)
    شخصیت ساز (مضامین)
    احوال سچل()انتخاب کلام سچل سائیں
    پیام لطیف (شاہ لطیف کا پیام و کلام)
    شاعر حق نما (سچل سرمت کی شاعری اور شخصیت)
    تاثرات (تنقیدی مضامین)
    پاکستان ہمارا ہے (ملی نغمے)
    بڑھائے جا قدم ابھی
    صبح کرنا شام کرنا (خود نوشت سوانح عمری)
    سُر لطیف(گیت)
    کوثر و تسنیم (حمد،نعت و منقبت)
    عکس ِلطیف (لطیفیات)
    ریزہ جاں (شاعری)
    قلب سراپا (شاعری)
    محمد عثمان ڈیپلائی : شخصیت اور فن
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    حکومت پاکستان نے آفاق صدیقی کی خدمات کے صلے میں صدارتی اعزاز برائےحسن کارکردگی سے نوازا۔ اس کے علاوہ انہوں نے لطیف ایکسیلینس ایوارڈ بھی حاصل کیا۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کیا زمیں کیا آسماں کچھ بھی نہیں
    ہم نہ ہوں تو یہ جہاں کچھ بھی نہیں
    دیدہ و دل کی رفاقت کے بغیر
    فصل گل ہو یا خزاں کچھ بھی نہیں
    پتھروں میں ہم بھی پتھر ہو گئے
    اب غم سود و زیاں کچھ بھی نہیں
    کیا قیامت ہے کہ اپنے دیس میں
    اعتبار جسم و جاں کچھ بھی نہیں
    کیسے کیسے سر کشیدہ لوگ تھے
    جن کا اب نام و نشاں کچھ بھی نہیں
    ایک احساس محبت کے سوا
    حاصل عمر رواں کچھ بھی نہیں
    کوئی موضوع سخن ہی جب نہ ہو
    صرف انداز بیاں کچھ بھی نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    محرم جاں کوئی دیوار نہ در لگتا ہے
    اپنا گھر اب تو کسی اور کا گھر لگتا ہے

    ہم بھی دیکھیں تو کہیں جنس وفا کی صورت
    کوئی بتلائے وہ بازار کدھر لگتا ہے

  • یوم وفات، طارق عزیز

    یوم وفات، طارق عزیز

    تاریخ پیدائش:28 اپریل 1936ء
    ساہیوال
    تاریخ وفات:17 جون 2020ء

    اداکار، ٹی وی میزبان، شاعر اور سیاستدان

    وجہِ شہرت:بزم طارق عزیز ٹی وی شو
    ٹیلی ویژن:نیلام گھر ٹی وی سوال جواب کا شو
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔
    تمغا حسن کارکردگی 1992ء میں

    طارق عزیز (28 اپریل 1936ء) پاکستان کے نامور صداکار، اداکار اور شاعر تھے۔
    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔
    طارق عزیز 28 اپریل 1936ء کو جالندھر، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ جالندھر کی آرائیں گھرانے سے ان کا تعلق ہے۔ ان کے والد میاں عبد العزیز 1947 میں پاکستان چلے گئے۔ انھوں نے اپنا بچپن ساہیوال 142/9L میں گزارا۔ طارق عزیز نے ابتدائی تعلیم ساہیوال سے ہی میں حاصل کی۔ اس کے بعد انھوں نے ریڈیو پاکستان لاہور سے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کیا۔ جب 1964ء میں پاکستان ٹیلی ویژن کا قیام عمل میں آیا تو طارق عزیز پی ٹی وی کے سب سے پہلے مرد اناؤنسر تھے۔ تاہم 1975 میں شروع کیے جانے والے ان کے سٹیج شو نیلام گھر نے ان کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ یہ پروگرام کئی سال تک جاری رہا اور اسے بعد میں بزمِ طارق عزیز شو کا نام دے دیا گیا۔
    طارق عزیز ہمہ جہت شخصیت تھے۔ انھوں نے ریڈیو اور ٹی وی کے پروگراموں کے علاوہ فلموں میں بھی اداکاری کی۔ ان کی سب سے پہلی فلم انسانیت (1967 ) تھی اور ان کی دیگر مشہور فلموں میں سالگرہ، قسم اس وقت کی، کٹاری، چراغ کہاں روشنی کہاں، ہار گیا انسان قابل ذکر ہیں۔
    انھیں ان کی فنی خدمات پر بہت سے ایوارڈ مل چکے ہیں اور حکومتِ پاکستان کی طرف سے 1992ء میں حسن کارکردگی کے تمغے سے بھی نوازا گیا۔ طارق عزیز نے سیاست میں بھی حصہ لیا اور 1997 میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔
    تصنیفات
    ۔۔۔۔۔۔
    طارق عزیز ایک علم دوست شخصیت ہونے کے حوالے سے خود بھی قلم کو اپنے اطہار کا ذریعہ بناتے رہے ہیں۔ ان کا مطالعہ بہت وسیع ہے۔ ان کے کالموں کا ایک مجموعہ ’’داستان‘‘ کے نام سے اورپنجابی شاعری کا مجموعہ کلام ’’ہمزاد دا دکھ‘‘ شائع ہو چکا ہے۔ انہوں نے نہ صرف اردو بلکہ اپنی مادری زبان پنجابی میں بھی شاعری کی ہے۔
    پنجابی غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    گناہ کیہ اے، ثواب کیہ اے
    ایہہ فیصلے دا عذاب کیہ اے
    میں سوچناں واں چونہوں دِناں لئی
    ایہہ خواہشاں دا حباب کیہ اے
    جے حرف اوکھے میں پڑھ نئیں سکدا
    تے فیر جگ دی کتاب کیہ اے
    ایہہ سارے دھوکے یقین دے نے
    نئیں تے شاخ گلاب کیہ اے
    ایہہ ساری بستی عذاب وچ اے
    تے حکم عالی جناب کیہ اے

    آزاد نظم سے اقتباس
    ۔۔۔۔۔۔
    دوست یہ تو کی ہے تو نے بچوں کی سی بات
    جو کوئی چاہے پا سکتا ہے خوشبوؤں کے بھید
    اس میں دل پر گہرے درد کا بھالا کھانا پڑتا ہے
    ہنستے بستے گھر کو چھوڑ کے بن میں جانا پڑتا ہے
    تنہائی میں عفریتوں سے خود کو بچانا پڑتا ہے
    خوشبوگھر کے دروازوں پر کالے راس رچاتے ہیں
    جو بھی واں سے گزرے اس کو اپنے پاس بلاتے ہیں
    زہر بھری پھنکار سے اس کے جی کو خوب ڈراتے ہیں
    جو کوئی چاہے پا سکتا ہے خوشبووں کے بھید

    تنقید و آراء
    ۔۔۔۔۔۔
    پی ٹی وی کراچی کے سابق جی ایم قاسم جلالی نے طارق عزیز کی بحیثیت پروگرام کمپئیر فنی صلاحیتوں کا ان الفاظ میں اعتراف کیا ہے۔
    ”ان دنوں جبکہ پروگرام ریکارڈ کرنے کی بجائے براہ راست چلائے جاتے تھے، طارق عزیز کو سخت محنت کرنا پڑتی تھی۔پروگرام شروع کرنے کے بعد کسی اداکار یا کردار نے آنا ہوتا تھا اور اسے آنے میں تاخیر ہوجاتی تو طارق عزیز دیکھنے والوں کو اپنی ایسی باتوں میں لگا لیتے کہ تاخیر محسوس ہی نہیں ہوتی تھی ، یوں تاخیر کا عرصہ کمال خوبی سے ازخود نکل جاتا تھا۔“
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وکیپیڈیا سے ماخوذ

  • صبیحہ خانم کا دوسرا عشق

    صبیحہ خانم کا دوسرا عشق

    صبیحہ خانم کا دوسرا عشق

    کیسے کیسے لوگ /آغا نیاز مگسی

    میرا خیال ہے کہ ایک انسان وہ مرد ہو خواہ عورت زندگی میں جتنی بار بھی عشق کرتا ہے وہ اس کے پہلے عشق کی تجدید یا تسلسل ہوتا ہے اسے ہر نئے محبوب یا محبوبہ میں اپنا پہلا پیار یا پہلی محبت نظر آتی ہے پاکستان کی خوب صورت اداکارہ صبیحہ خانم کا دوسرا عشق بھی اس کی ” پہلی سی محبت ” کا تسلسل ہی معلوم ہوتا ہے ۔ صبیحہ خانم جن کا اصل نام مختار بیگم ان کے والد کا نام محمد علی عرف ماہیا اور والدہ کا نام اقبال بیگم عرف بالو ہے۔ صبیحہ خانم 16 اکتوبر 1935 میں گجرات میں پیدا ہوئیں۔ 1948 میں انہوں نے اسٹیج ڈراموں میں اداکاری کا آغاز کیا ۔ ڈرامہ رائٹر اور شاعر نفیس خلیلی نے انہیں اپنے اسٹیج ڈرامہ ” بت شکن ” میں متعارف کرایا اور انہوں نے ہی مختار بیگم کو صبیحہ خانم کا نام دیا۔ نفیس خلیلی ہی کی سفارش پر فلم ہدایتکار مسعود پرویز نے صبیحہ کو اپنی پہلی فلم ” بیلی” میں شامل کیا یہ فلم 1950 میں ریلیز ہوئی صبیحہ خانم کی بطور اداکارہ یہ پہلی فلم تھی اور مسعود پرویز کی بطور ہدایت کار بھی یہ پہلی فلم تھی۔ فلمی دنیا میں داخل ہونے کے بعد صبیحہ اس وقت کے مشہور فلمی اداکاروں لالہ سدھیر، سنتوش کمار اور درپن کے ساتھ اپنا فلمی کیریئر جاری رکھے ہوئے تھی ۔ اسی میل ملاپ اور قربت کے باعث صبیحہ کو اپنے دور کے ایک مشہور اور خوب صورت فلمی ہیرو سید عشرت عباس المعروف درپن سے عشق ہو گیا اور دونوں نے زندگی بھر ساتھ رہنے اور نبھانے کی غرض سے شادی کا فیصلہ کیا لیکن درپن کے والدین اور بڑے بھائی مشہور فلمی ہیرو سید موسیٰ رضا المعروف سنتوش کمار نے ان کی شادی کو اپنے خاندانی وقار کے منافی قرار دیتے ہوئے مخالفت کی جس کی وجہ سے صبیحہ خانم کی پہلی محبت ادھوری رہ گئی پھر عجیب بات یہ ہوئی کہ صبیحہ خانم کو فلموں میں ایک ساتھ کام کرتے کرتے سنتوش کمار سے محبت ہو گئی اور ان دونوں نے یکم اکتوبر 1958 میں خاندانی وقار کو خاطر میں لائے بغیر شادی کر لی۔ دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ سنتوش کمار پہلے سے شادی شدہ تھے جبکہ ان کے چھوٹے بھائی درپن اس وقت غیر شادی شدہ تھے لیکن وہ صبیحہ خانم کو حاصل کرنے سے محروم رہ گئے۔

    صبیحہ خانم کو بہت سے منفرد اور قابل فخر بلکہ تاریخی اہمیت کے حامل اعزازات حاصل رہے ہیں ان کا سب سے بڑا اعزاز یہ ہے کہ انہیں روس کے شہر تاشقند میں منعقد ہونے والے فلم فیسٹیول میں بہترین غیر ملکی اداکارہ کا ایوارڈ دیا گیا ان کا دوسرا تاریخی اعزاز یہ ہے کہ وہ پاکستان کی سلور جوبلی فلم ” دو آنسوں” کی ہیروئن تھیں ان کا تیسرا تاریخی اعزاز یہ ہے کہ انہیں پاکستان کی پہلی گولڈن جوبلی فلم” سسی” کی ہیروئن کا بھی اعزاز حاصل ہوا ۔ صبیحہ خانم کی یادگار فلموں میں ، اک گناہ اور سہی، سسی، دو آنسوں، عشق لیلیٰ ، دلا بھٹی، وعدہ، پاسبان، شیخ چلی اور سات لاکھ وغیرہ شامل ہیں ۔ وہ 1999 میں اپنی بیٹی فریحہ کے پاس امریکہ منتقل ہو گئیں اور 13 جون 2020 ریاست ورجینیا میں ان کا انتقال ہوا۔ صبیحہ کی دوسری بیٹی کا نام عافیہ اور اکلوتے بیٹے کا نام احسن رضا ہے وہ بھی امریکہ میں مقیم ہے۔ صبیحہ خانم کی 3 نواسیاں ہیں جن میں مہوش ، مہرین اور سحرش خان ہیں یہ تینوں بھی امریکہ میں مقیم ہیں ۔ سحرش خان کو امریکہ میں پاکستانی طلبہ اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی صدر رہنے کا اعزاز حاصل ہے وہ ایک وکیل بھی ہیں اور فلمی اداکارہ بھی ۔ صبیحہ خانم کی تدفین امریکی ریاست ورجینیا کے شہر اسٹرلنگ کے قبرستان میں کی گئی ہے۔

  • یوم پیدائش،امام احمد رضا خان بریلوی

    یوم پیدائش،امام احمد رضا خان بریلوی

    مصطفے جان رحمت پہ لاکھوں سلام
    یوم پیدائش،امام احمد رضا خان بریلوی

    1856 یوم پیدائش

    امام احمد رضا خان کی وجہ شہرت میں اہم آپ کی حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے محبت، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں لکھے نعتیہ مجموعے اور آپ کے ہزا رہا فتاوی کا ضخیم علمی مجموعہ جو 30 جلدوں پر مشتمل فتاوی رضویہ کے نام سے موسوم ہے۔ برصغیر پاک و ہند میں اہلسنت کی ایک بڑی تعداد آپ ہی کی نسبت سے بریلوی کہلاتے ہیں۔

    امام احمد رضا خان 14 جون 1856 بمطابق 10 شوال المکرم 1272 ھجری کو بریلی میں پیدا ہوئے ۔

    رسم بسم اللہ خوانی کے بعد ان کی تعلیم کا سلسلہ جاری ہو گیا۔ قرآن مجید ناظرہ ختم کرنے اور اردو فارسی کی کتابیں پڑھنے کے بعد مرزا غلام قادر بیگ سے میزان منشعب وغیرہ کی تعلیم حاصل کی، پھر آپ نے اپنے والد نقی علی خان سے مندرجہ ذیل اکیس علوم پڑھے : علم قرآن، علم تفسیر، علم حدیث، اصول حدیث، کتب فقہ حنفی، کتب فقہ شافعی و مالکی و حنبلی، اصول فقہ، جدل مہذب، علم العقائد و الکلام، علم نجوم، علم صرف، علم معانی، علم بیان، علم بدیع، علم منطق، علم مناظرہ، علم فلسفہ مدلسہ، ابتدائی علم تکحیہ، ابتدائی علم ہیئت، علم حساب تا جمع، تفریق، ضرب، تقسیم، ابتدائی علم ہندسہ۔

    تیرہ برس دس مہینے پانچ دن کی عمر میں 14 شعبان 1286 ھ مطابق 19 نومبر 1869ء کو آپ فارغ التحصیل ہوئے اور دستار فضیلت سے نوازے گئے۔ اسی دن مسئلہ رضاعت سے متعلق ایک فتوی لکھ کر اپنے والد ماجد کی خدمت میں پیش کیا۔ جواب بالکل صحیح تھا۔ والد ماجد نے ذہن نقاد و طبع وقاد دیکھ کر اسی وقت سے فتوی نویسی کی جلیل الشان خدمت آپ کے سپرد کردی۔ آپ نے تعلیم طریقت سید آل رسول مارہروی سے حاصل کی۔ مرشد کے وصال کے بعد بعض تعلیم طریقت نیز ابتدائی علم تکسیر و ابتدائی علم جفر و غیر ہ سید ابو الحسین احمد نوری مارہروی سے حاصل فرمایا۔ شرح چغمینی کا بعض حصہ عبد العلی رامپوری سے پڑھا۔

    فاضل بریلوی 1294ھ،1877ء میں اپنے والد نقی علی خان کے ہمراہ حضرت شاہ آل (م 1878ء ) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سلسلہ قادریہ میں بیعت سے مشرف ہو کر اجازت و خلافت سے بھی نوازے گئے۔

    یوں تو آپ نے1286ھ سے 1340ھ تک ہزاروں فتوے لکھے۔ لیکن سب کو نقل نہ کیا جاسکا، جو نقل کر لیے گئے تھے ان کا نام العطایا النبویہ فی الفتاوی رضویہ رکھا گیا۔ فتاویٰ رضویہ جدید کی 33 جلدیں ہیں جن کے کل صفحات 22 ہزار سے زیادہ کل سوالات مع جوابات 6847 اور کل رسائل 206 ہیں۔

    آپ نے قرآن مجید کا ترجمہ بھی کیا۔ آپ کے ترجمہ کا نام "کنز الایمان” ہے۔ جس پر آپ کے خلیفہ سید نعیم الدین مراد آبادی نے حاشیہ لکھا ہے۔ اس ترجمہ کو اب تک انگریزی (میں تین بار)، ہندی، سندھی، گجراتی، ڈچ، بنگلہ وغیرہ میں ڈھالا جا چکا ہے۔

    25 صفر 1340ھ مطابق 28 اکتوبر 1921ء کو جمعہ کے دن ہندوستانی کے وقت کے مطابق 2 بج کر 38 منٹ پر عین اذان کے وقت ادھر موذن نے حی الفلاح کہا اور ادھر امام احمد رضا خان نے داعی اجل کو لبیک کہا۔ آپ کا مزار بریلی میں ہے

  • اداکارہ ، فلمساز اور ہدایتکارہ سنگیتا

    اداکارہ ، فلمساز اور ہدایتکارہ سنگیتا

    14 جون 1957 یوم پیدائش

    اداکارہ ، فلمساز اور ہدایتکارہ سنگیتا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پاکستان کی معروف اداکارہ ، فلمساز اور ہدایتکارہ سنگیتا 14 جون 1957 کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد صاحب کا نام سید طیب حسین رضوی والدہ محترمہ کا نام سیدہ مہتاب رضوی ہے ۔ سنگیتا کا اصل نام سیدہ پروین رضوی ہے ۔ ان کی دو بہنیں نسرین رضوی اور حنا رضوی جبکہ ایک بھائی رضا علی رضوی ہیں ۔ ان کی بہن نسرین رضوی بھی اداکارہ ہیں جو کہ کویتا کے نام سے مشہور ہیں ۔ سنگیتا اور کویتا کی والدہ محترمہ مہتاب رضوی کا تعلق بھی فلمی دنیا سے رہا ہے۔ سنگیتا نے 1966 سے چائلڈ اسٹار کی حیثیت سے 12 سال کی عمر میں اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کیا اور 1971 میں وہ کراچی سے لاہور منتقل ہو گئیں ۔ سنگیتا صاحبہ نے دو شادیاں کی ہیں ۔ پہلی شادی اپنے ایک ساتھی اداکار ہمایوں قریشی سے کی جس سے انہیں ایک بیٹی پیدا ہوئی لیکن یہ شادی ناکام ہوئی جس کی وجہ سے ان کے درمیان علیحدگی ہو گئیں انہوں نے دوسری شادی ایک کاروباری شخصیت نوید اکبر بٹ صاحب سے کی اور ماشاء الله ان کی خوشگوار ازدواجی زندگی گزر رہی ہے ۔

  • ڈاچی والیا موڑ  مہار وے

    ڈاچی والیا موڑ مہار وے

    ڈاچی والیا موڑ مہار وے

    سریندر کور

    بلبل پنجاب کا خطاب پانے والی گلوکارہ اور شاعرہ

    14 جون 2006: یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بلبل پنجاب کے نام سے شہرت پانے والی گلوکارہ اور شاعرہ سریندر کور 25 نومبر 1929 کو لاہور میں پیدا ہوئیں ۔ وہ پنجابی لوک گیت کی صنف میں اپنی شراکت کے لیے مشہور تھیں۔ انہوں نے نے کئی مشہور اشعار گائے ہیں جن میں نند لال نورپوری، موہن سنگھ، امریتا پریتم اور دیگر نے لکھا ہےجبکہ کئی گیت اور اشعار خود ان کے اپنے لکھے ہوئے ہیں ۔انہوں نے بلھے شاہ کے پنجابی صوفی کافیاں بھی گائیں اور خوب پذیرائی حاصل کی۔ ان کے چند مقبول گانوں میں ‘جتی قصوری ۔پڑیاں نہ غریبی’، ‘گھمن دی رات لمی ہے جان میرے گیت لمے نے’، ‘اہنا آکھیاں’ ‘چ پون کیون کالرا’، ‘ماونتے دھیان’، ‘لٹھے دی چادر’، ‘کالا’ شامل ہیں۔ ڈوریا اور بہت کچھ۔ وہ اپنی بڑی بہن پرکاش کور کے ساتھ جوڑی کے ساتھ ملک بھر میں مشہور ہوگئیں۔ انہوں نے آسا سنگھ مستانہ، رنگیلا جٹ، کرنیل گل، دیدار سندھو اور یہاں تک کہ اپنی بیٹی ڈولی گلیریا اور پوتی سنائی کے ساتھ گایا ہے۔ چھ دہائیوں پر محیط اپنے کیریئر میں انہوں نے اپنے فنی کیریئر کا آغاز 1943 میں لاہور ریڈیو اسٹیشن سے کیا جبکہ مجموعی طور پر انہوں نے 2,000 سے زیادہ گانے ریکارڈ کیے۔ سال 1984 میں، انہیں پنجابی لوک موسیقی کے لیے سنگیت ناٹک اکادمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ انہیں 2006 میں حکومت ہند کی طرف سے چوتھا سب سے بڑا سول ایوارڈ پدم شری بھی ملا۔ انہیں ملینیم پنجابی سنگر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ انہیں 2002 میں گرو نانک دیو یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نوازا گیا۔ سریندر کور کا انتقال 14 جون 2006 کو 77 سال کی عمر میں نیو جرسی، امریکہ کے ایک ہسپتال میں ہوا۔ بھارت کے وزیر اعظم من موہن سنگھ نے سریندر کور کو ان کی وفات کے بعد بلبل پنجاب کا خطاب دیا۔

    سریندر کور تقسیم ہند کے بعد اپنے خاندان کے ہمراہ غازی پور ہندوستان منتقل ہو گئیں ۔ 1948 میں ان کی شادی دہلی یونیورسٹی کے پنجابی شعبہ کے سربراہ پروفیسر جوگندر سنگھ سوڈھی سے ہوئی تھی، جنہوں نے بعد میں ہندی فلم انڈسٹری میں ان کا کیریئر بنانے میں بہت بڑی مدد کی۔ یہ جوڑے پنجاب میں انڈین پیپلز تھیٹر ایسوسی ایشن کے سربراہ تھے۔ 2006 میں دور درشن پر ان کی زندگی اور شراکت پر ایک دستاویزی فلم، ’پنجاب دی کوئل‘۔ نشر کی گئی ان کی بہن پرکاش کور اور بڑی بیٹی ڈولی گلیریا بھی گلوکارہ ہیں۔ سریندر کور کی 3 بیٹیاں ہیں ۔ بڑی بیٹی ڈولی گلیریا پنجکولہ امریکہ میں رہتی ہیں جبکہ نندینی سنگھ اور پرمودنی نیو جرسی امریکہ میں آباد ہیں ۔

  • نامور مصنف، مترجم، سیاستدان چنگیز اعتما توف کا یوم وفات

    نامور مصنف، مترجم، سیاستدان چنگیز اعتما توف کا یوم وفات

    پیدائش:12 دسمبر 1928ء
    وفات:10 جون 2008ء
    نورنبرگ
    وجۂ وفات:نمونیا، گردے فیل
    طرز وفات:طبعی موت
    شہریت:سوویت اتحاد
    کرغیزستان
    جماعت:اشتمالی جماعت سوویت اتحاد
    مادر علمی:گورکی انسٹی ٹیوٹ برائے عالمی ادب
    مادری زبان:کرغیز زبان
    پیشہ ورانہ زبان:فرانسیسی، روسی، کرغیز
    اعزازات:
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اعزاز اکتوبر انقلاب (1988)
    آرڈر آف لینن (1971)

    چنگیز اعتماتوف سوویت اور کرغیزستان کے نامور مصنف، مترجم، سیاستدان، سفارت کار اور کرغیز و روسی ادب کی مشہور شخصیت تھے جو اپنے ناول ”جمیلہ“ کی وجہ سے مشہور و معروف ہیں۔
    حالات زندگی و تخلیقی دور
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    چنگیز اعتماتوف سوویت یونین میں کرغیزستان کے ایک گاؤں شیکر میں 12 دسمبر، 1928ء کو کرغیز باپ اور تاتار ماں کے گھر پیدا ہوئے۔ والد کو جوزف اسٹالن کی طرف سے 1938ء میں پھانسی دی گئی۔ چنگیز اعتماتوف نے ادبی زندگی کا آغاز 1952ء میں کیا اور 1959ء سے روسی اخبار پرودا کے لیے بطور کرگیز نامہ نگار لکھنا شروع کیا۔ انہیں اہم شناخت اپنی نصنف پہاڑوں اور مرغزاروں کی کہانیاں 1963ء سے حاصل ہوئی۔ اس تصنیف پر انہیں سال 1963ء کا لینن انعام دیا گیا۔ چنگیز اعتماتوف نے اپنی تخلیقات میں محبت، دوستی، جنگی ہیروازم اور کرغیز نوجوانوں کی سماجی و روایتی پابندیوں کو موضوع بنایا ہے۔ چنگیز اعتماتوف کی اہم تخلیقات میں دشوار راستہ 1958ء، روبرو 1957ء، جمیلہ 1958ء، پہلا استاد 1967ء، سفید دخانی کشتی 1970ء شامل ہیں۔
    سیاست و سفارت
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    چنگیز اعتماتوف ادیب کے علاوہ سیاست دان اور سفارت کار ہونے کی وجہ سے بھی مشہور ہیں۔ انہیں 1966ء میں سوویت یونین کی اعلیٰ سوویت کا رکن بنایا گیا۔ 1967ء میں اگزیکٹیو بورڈ برائے سوویت انجمن مصنفین کے رکن، مشیر برائے صدر سوویت یونین میخائل گورباچوف، سوویت سفیر برائے لکسمبرگ اور 1990ء میں کرغیزستان کے سفیر برائے یورپی یونین مقرر ہوئے۔
    تخلیقات
    ۔۔۔۔۔۔
    ناول و افسانے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔۔۔ 1956ء – دشوار راستہ
    ۔۔۔ 1957ء – روبرو
    ۔۔۔ 1958ء – جمیلہ
    ۔۔۔ 1962ء – پہلا استاد
    ۔۔۔ 1963ء – پہاڑوں اور
    ۔۔۔ مرغزاروں کی کہانیاں
    ۔۔۔ 1970ء – سفید دخانی کشتی
    ۔۔۔ 1977ء – سمندرکے کنارے
    ۔۔۔ دوڑتا ہوا چتکبری کتا
    ۔۔۔ 1986ء – تختۂ دارا
    ۔۔۔ 1986ء – جب پہاڑ گرتے ہیں
    انگریزی تراجم
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔۔۔ 1964ء
    ۔۔۔ Short Novels
    ۔۔۔ 1970ء
    ۔۔۔ Farewell Gul’sary
    ۔۔۔ 1972ء
    ۔۔۔ White Steamship
    ۔۔۔ 1972ء
    ۔۔۔ The White Ship
    ۔۔۔ 1973ء
    ۔۔۔ Tales of the Mountains
    ۔۔۔ and the Steppes
    ۔۔۔ 1975ء
    ۔۔۔ Ascent of Mount Fuji
    ۔۔۔ 1983ء
    ۔۔۔ Cranes Fly Early
    ۔۔۔ 1988ء
    ۔۔۔ The Day Lasts More
    ۔۔۔ Than a Hundred Years
    ۔۔۔ 1989ء
    ۔۔۔ The Place of the Skull
    ۔۔۔ 1989ء
    ۔۔۔ Time to Speak
    ۔۔۔ 1988ء
    ۔۔۔ he time to speak out
    ۔۔۔ 1990ء ۔۔۔ other Earth and
    ۔۔۔ Other Stories
    ۔۔۔ 2008ء
    ۔۔۔ Jamila
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔۔۔ 1963ء – لینن انعام، روس
    ۔۔۔ 1968ء 1977ء 1983ء
    ۔۔۔ سوویت ریاستی انعام، روس
    اداروں سے وابستگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔۔۔ 1966ء – رکن اعلیٰ سوویت
    ۔۔۔ برائے سوویت یونین
    ۔۔۔ 1967ء – رکن اگزیکٹیو بورڈ
    ۔۔۔ برائے سوویت انجمن مصنفین
    ۔۔۔ مشیر برائے صدر سوویت یونین
    ۔۔۔ میخائل گورباچوف
    ۔۔۔ سوویت سفیر برائے لکسمبرگ
    ۔۔۔ 1990ء -سفیر کرغیزستان
    ۔۔۔ برائے یورپی یونین
    وفات
    ۔۔۔۔۔
    چنگیز اعتماتوف 79 سال کی عمر میں 10 جون 2008ء کو نورنبرگ، جرمنی میں وفات پاگئے۔

  • بالی جٹی کا یوم وفات

    بالی جٹی کا یوم وفات

    بالی جٹی کا یوم وفات

    8 جون 1996: یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ چھلانگ لگا کر سٹیج پر آتیں تو تھیٹر کا پنڈال بڑھکوں، نعروں ، تالیوں اور سیٹیوں سے گونج اٹھتا ۔ تھیٹر کے ناظرین نے انہیں ببر شیرنی کا خطاب دیا تھا۔
    یہ تھیں بالی جٹی جن کا اصل نام عنایت بی بی تھا۔ وہ 1937ء میں ساہیوال میں پیدا ہوئیں۔ 1958ء میں انہوں نے پنجاب کے لوک تھیٹروں سے اپنے فنی کیریئر کا آغاز کیا جو میلوں ٹھیلوں پر شو کرتے تھے ۔ انہوں نے ہیر رانجھا، سسی پنوں، سوہنی مہینوال، مرزا صاحباں، لیلیٰ مجنوں، شیریں فرہاد، پیر مرادیا، ویر جودھ ، سلطانہ ڈاکو، قتل تمیزن اور نور اسلام وغیرہ متعدد ڈراموں میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ ان ڈراموں میں وہ اداکاری کے ساتھ ساتھ گلوکاری بھی کرتی تھیں۔ ان کے گائے ہوئے کئی گانے لوک گیتوں کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔
    انہوں نے عالم لوہار، عنایت بھٹی جیسے فن کاروں کے مقابل پرفارم کیا۔ ان کا گایا ایک ڈوئیٹ بہت مشہور ہوا جو انہوں نے اپنے تھیٹر کے فنکار امین کے ساتھ گایا تھا۔ جس کے بول تھے
    "آ لے کنجیاں رکھ لے سرہانے، چلی ہاں میں پیکیاں نوں”۔
    مختلف تھیٹروں سے وابستہ رہنے کے بعد انہوں نے اپنا ذاتی ’’شمع تھیٹر‘‘ بھی بنایا تھا جو بارہ سال چلا ، پھر کئی مسائل کی وجہ سے بند کرنا پڑا۔

    1967ء میں ریلیز ہونے والی ایک پنجابی فلم منگیتر میں بھی انہوں نے منور ظریف کے ساتھ اداکاری کی تھی۔

    بالی جٹی کی آواز بہت گرج دار اور بلند تھی جو تھیٹر کی دنیا میں ان کی مقبولیت کا ایک بہت بڑا سبب تھا۔ وہ مرزا صاحباں گانے میں کمال رکھتی تھیں۔
    کسی زمانے میں معاشرتی قیود کی وجہ سے زنانہ کردار بھی مرد کرتے تھے لیکن یہ ایک دلچسپ بات ہے کہ بالی جٹی حسب ضرورت مردانہ کردار بھی کرتی رہیں۔

    بالی جٹی کا 8 جون 1996ء کو انتقال ہوا اور سبزہ زار لاہور کے قبرستان میں سپردِ خاک کی گئیں۔

    گلوکارہ ریحانہ اختر بالی جٹی کی بہو تھیں اور گلوکارہ صائمہ اختر پوتی ہیں جو ان کی گائیکی کا انداز زندہ رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
    ان کا کوئی بیٹا گلوکاری کی طرف نہیں آیا لیکن کچھ گلوکار خود کو ان کا بیٹا بتا کر روزی کما رہے ہیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • اب مرے حکم کی تعمیل کہاں ممکن ہے

    اب مرے حکم کی تعمیل کہاں ممکن ہے

    پہلے اک عرض تمنا پہ بچھے جاتے تھے
    اب مرے حکم کی تعمیل کہاں ممکن ہے

    عشرت معین سیما

    6 جون : یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اصل نام عشرت ظہیر ہے قلمی نام عشرت معین سیماہے۔ والد کا نام معین الدین اور والدہ کا نام زبیدہ معین ہے۔ ان کے والدین نے ہندوستان کے صوبے بہار سے کراچی ہجرت کی تھی۔ وہ 6 جون 1968 کو کراچی میں پیدا ہوئیں ۔انہوں نے جامعہ کراچی سے ابلاغ عامہ میں ماسٹر جرمنی میں برلن یونیورسٹی سے دوسرا ماسٹر انڈولجی اور ابلاغیات میں کیا اور دو ہزار چودہ میں پی ایچ ڈی لسانیات/ ابلاغیات میں کیا۔ پہلے فری یونیورسٹی میں بطور اردو ہندی لیکچرار رہیں بعد ازاں جرمنی کے وزارت داخلہ میں مترجم اور ماہر لسانیات کے طور پر کام کر رہی ہیں ۔

    اب تک ان کی 9 اردو میں مختلف اصناف پر کتابیں آچکی ہیں۔ جن میں تین شعری مجموعے
    ۱-جنگل میں قندیل
    ۲- آئینہ مشکل میں ہے
    ۳۔ با اہتمامِ جنوں
    دو افسانوں کے مجموعے
    ۴- گرداب اور کنارے
    ۵- دیوار ہجر کے سائے
    ایک تحقیقی مضامین
    ۶-جرمنی میں اردو
    ایک سفر نامہ
    ۷-اٹلی کی جانب گامزن
    ۸- اداریہ نویسی اور پاکبان کے اداریے
    ۹- دیس دیس کے ملا جی ( ملا نصرالدین کی کہانیاں) تصوف اور مزاح کے تناظر میں

    اس کے علاوہ ایک سفر نامہ “اردو کی محبت میں” ہندوستان اور پاکستان کے اخبار میں ہفتہ وار شائع ہوا ہے۔ وہ بچوں کے ادب پر بھی کام کر رہی ہیں
    ۔ ان کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں کئی بین القوامی انعامات و اعزازات بھی مل چکے ہیں۔ جن میں بزم صدف نئی نسل ایوارڈ دو ہزار سترہ اور سینٹر آف ماڈرن اورینٹ برسلز کا اردو تدریس و صحافت کے حوالے سے ایوارڈ قابل ذکر ہے۔ اس کے علاوہ ترکی پاکستان ہندوستان برطانیہ اور یورپ کی کئی جامعات اور ادبی و علمی تنظیموں نے فروغ اردو زبان و ادب کے حوالے سے متعدد سند و شیلڈ سے نوازا ہے۔
    جرمن ادب و ادیب کے تعارف اور فن کلام کےاردو ترجمے سے متعلق بھی ایک کتاب جلد منظر عام پہ آنے والی ہے۔
    برلن میں پہلا ادبی جریدہ “ نئی کاوش “ جاری کیا اور پہلا ادبی ریڈیو “ آواز ادب گذشتہ دنوں شروع کیا جو نہایت کامیابی سے چل رہا ہے جس کے تحت پہلی یورپیئن اردو رائٹرز کانفرنس منعقد کروائی ۔
    عشرت معین سیما کو کئی بین القوامی جامعات اور تنظیموں و اداروں سے اعزازات اردو کی ترویج کے حوالے سے مل چکے ہیں۔

    اشعار

    کسی نے ہاتھ ملایا تھا سیما چاہت سے
    ہتھیلیوں میں ہماری ساد رہی خوشبو

    پہلے اک عرض تمنا پہ بچھے جاتے تھے
    اب مرے حکم کی تعمیل کہاں ممکن ہے

    قفس میں بیٹھ کے کرتی ہوں سیما ذکر چمن
    خزاں میں گوشہ محو بہار ہوں کب سے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وکیپیڈیا سے ماخوذ

    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی