Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • ساغرؔ خیامی

    ساغرؔ خیامی

    ساغرؔ خیامی

    7 جون 1936: یوم پیدائش

    اصل نام :رشیدالحسن
    تخلص : ساغرؔ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ساغرؔ خیامی کا شمار طنزومزاح کے ممتاز ترین شاعروں میں ہوتا ہے ۔ ان کی پیدائش ۷ جون ۱۹۴۶ کو لکھنؤ کے ایک علمی اور تہذٰبی گھرانے میں ہوئی ۔ پرانے لکھنؤ کا یہ گھرانہ اپنی تہذیبی پاسداریوں اور اپنی ادبی اور عملی سرگرمیوں کے لئے معروف تھا ۔ ساغر خیامی کے دادا ان کے والد اور ان کے بھائی سب شاعری کرتے تھے ۔ ساغر نے ابتدا میں غزل کی روایتی قسم کی شاعری کی لیکن اپنے بھائی ناظر خیامی (جو طنز ومزاح کے ایک اچھے شاعر تھے) کے اثر سے طنز ومزاح کی شاعری کی طرف آگئے ۔
    ساغر کی ابتدائی تعلیم عربی و فارسی سے ہوئی اس کے بعد انہوں نے انگریزی کی تعلیم حاصل کی اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے غیر تدریسی عملے سے وابستہ ہوگئے ۔

    ساغر کے شعری مجموعے ’انڈر کریز‘ اور ’پس روشنی‘ ’ قہقہوں کی بارات ‘ ’ کچھ وہاں کیلئے‘ بہت مقبول ہوئے ۔ ساغر کی نظموں میں طنز ومزاح دنوں ایک ساتھ گھل مل گئے ہیں ان کی نظموں میں ایسی صورتحال بنتی ہے کہ پڑھنے اور سننے والا ہنستے ہنستے اداس ہونے لگتا ہے اور اپنے آس کی بظاہر سہی سالم نظر آنے والی دنیا کو ایک بہت بدلی ہوئی آنکھ سے دیکھنے لگتا ہے ۔ ساغر ہمارے اس مہذب معاشرے کی منافقتوں کو بہت چالاکی سے طنز کا نشانہ بناتے ہیں ۔ غالب کو مرکز میں رکھ کر کہی گئیں ساغر کی نظمیں بہت مقبول ہوئیں ۔’ غالب اپارٹمینٹ ‘ ’ غالب دلی میں ‘ آج بھی بہت دلچسپی سے پڑھی اور سنی جاتی ہیں ۔ ساغر مشاعروں میں بھی اپی ہی ایک لے میں کلام پڑھتے تھے ۔ ۱۹ جون ۲۰۰۸ کو ممبئی میں ان کا انتقال ہوا
    …..

    ساری جفائیں سارے کرم یاد آ گئے
    جیسے بھی یاد آئے ہوں ہم یاد آ گئے

    جب بھی کہیں سے پیار ملا یا خوشی ملی
    دنیا کے درد و رنج الم یاد آ گئے

    دیکھیں ہیں جب بھی گل کے قریں چند تتلیاں
    کتنے خیال و خواب بہم یاد آ گئے

    لکھا تھا تم نے خط میں کہ تم نے بھلا دیا
    کیا حادثہ ہوا ہے کہ ہم یاد آ گئے

    پردیس میں جو آئی نظر نرگسی نگاہ
    اک با وفا کے دیدۂ نم یاد آ گئے

    مدت ہوئی ہے بچھڑے ہوئے اپنے آپ سے
    دیکھا جو آج تم کو تو ہم یاد آ گئے

    سلجھائیں جب بھی زیست کی ساغرؔ نے گتھیاں
    ناگاہ تیری زلف کے خم یاد آ گئے

  • گھر کے تمام بچوں میں تھوڑی بڑی تھی میں، ورثے میں دکھ تھے سو مجھے حصہ بڑا ملا

    گھر کے تمام بچوں میں تھوڑی بڑی تھی میں، ورثے میں دکھ تھے سو مجھے حصہ بڑا ملا

    گھر کے تمام بچوں میں تھوڑی بڑی تھی میں
    ورثے میں دکھ تھے سو مجھے حصہ بڑا ملا

    عابدہ تقی ( ادیبہ و شاعرہ)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تعارف و تبصرہ : آغا نیاز مگسی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پاکستان کی نامور ادیبہ، شاعرہ، نقاد، افسانہ نویس اور سفر نامہ نگار سیدہ عابدہ تقی صاحبہ کا تعلق اسلام آباد سے ہے لیکن ان کی ولادت 11 نومبر 1969 میں ان کے ننہیال کے گھر راولپنڈی میں ہوئی ۔ ان کے والد صاحب کا نام سید تقی حسین اور والدہ محترمہ کا نام رابعہ خاتون ہے ۔ عابدہ اپنے 7 بہن بھائیوں میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ وہ 4 بہنیں اور 3 بھائی ہیں۔ ان کا تعلق سادات نقوی البھاکری اور علمی و ادبی خاندان سے ہے ۔

    عابدہ کے والد نے اردو میں نعت، منقبت اور سلام پر مبنی شاعری کی ہے پیشے کے لحاظ سے وہ پاکستان ایئر فورس کے فلائنگ ونگ سے وابستہ رہے ہیں جبکہ ان کے دادا جان سید باغ حسین شاہ نقوی کربلائی نے فارسی اور پنجابی میں مدحت رسول، سلام اور منقبت پر مبنی شاعری کی ہے۔ عابدہ تقی صاحبہ کی مادری زبان پنجابی ہے ۔ انہیں اردو اور انگریزی زبان پر عبور حاصل ہے جبکہ وہ عربی اور فارسی زبانیں بھی جانتی ہیں۔ انہوں نے ابتدائی و میٹرک اور سیکنڈری تعلیمات کے بعد پنجاب یونیورسٹی لاہور سے Msc Geography کیا ہے۔ عابدہ نے اپنے کالج لائف کے زمانے سے شاعری شروع کی۔

    معروف شاعر نیساں اکبر آبادی شاعری میں ان کے استاد رہے ہیں ۔ عابدہ تقی کی شاعری حمد، نعت، سلام ، منقبت ، غزل اور نظمیہ اصناف پر مبنی ہے ان کی شاعری میں سماجی ، معاشی و معاشرتی مسائل پر نظر ہے اور قلبی واردات بھی شامل ہے ان کو اپنی ذات کا دکھ بھی ہے تو زمانے کا غم بھی ہے ان کی شاعری میں خوف، مایوسی، ہجر و فراق، احساس محرومی، کسی انہونی کا خوف اور شکوہ شامل ہے تو کہیں وہ خود اعتمادی کا مظاہرہ کرتی نظر آتی ہیں لیکن ان کی شاعری میں وصل کا احوال نہیں ملتا، مجموعی طور پر ان کی شاعری متاثر کن اور دلپذیر ہے جو قاری اور سامع کو اپنی طرف متوجہ کرنے پر مجبور کرنے کی قوت رکھتی ہے۔

    عابدہ تقی ایک بھرپور اور فعال علمی و ادبی زندگی گزار رہی ہیں ۔ انہیں حلقہ ارباب ذوق اسلام آباد کی پہلی خاتون سیکریٹری مقرر ہونے کا اعزاز حاصل ہوا ہے وہ 2011 سے 2013 تک اس عہدے پر فائز رہی ہیں وہ اسلام آباد ادبی فورم کی بھی 2 سال سیکریٹری رہی ہیں۔ وفاقی اردو یونیورسٹی اسلام آباد کی جانب سے ایم فل کی ایک طالبہ مدیحہ فاطمہ نے ” عابدہ تقی کی ادبی خدمات” کے عنوان سے صدر شعبہ اردو ڈاکٹر محمد وسیم کی نگرانی میں تھیسس مکمل کیا ہے۔

    پیشے کے لحاظ سے وہ ایک نجی ادارے میں اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں ۔ انہوں نے تنقید و افسانہ نگاری کے علاہ ایک سفر نامہ بھی لکھا ہے جو کہ ایران ، عراق اور شام کے مقامات مقدسہ کی زیارت و روداد اور مشاہدات پر مبنی ہے۔ عابدہ نے ایران ، عراق اور شام کے علاوہ امریکہ، برطانیہ اور کویت کی بھی سیاحت کی ہے۔ عابدہ کی اب تک شائع ہونے والی تصانیف کی فہرست درج ذیل ہے۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)دوسرا فرشتہ-2005
    ۔ (2)فصیل خواب سے آگے-2003
    ۔ (3)دستک باب ِعلم پر-2002
    ۔ (4)منبر سلونی کی اذاں-1999

    عابدہ تقی صاحبہ کی شاعری سے انتخاب

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہوئے تھے خوابوں کے معمار بھی اکیلے ہی
    تو اب گرائیں یہ میناربھی اکیلے ہی

    کسی کی پور پہ رکنے کی آس میں آنسو
    ڈھلک گیا سرِ _رخسار بھی اکیلے ہی

    الجھ رہا تھا تلاطم سے کیسے کچا گھڑا
    گواہ تھا کوئی اُس پار بھی اکیلے ہی

    یہ عشق شامل ِ دستورِ قصر ہو کہ نہ ہو
    ہے سرخرو تہہِ دیوار بھی اکیلے ہی

    جب ایک ضرب ہی ٹھہری ہے جیت کی منصف
    تو رن میں جائیں گے اس بار بھی اکیلے ہی

    یہ کہہ کے اٹھ گئے چوپال سے پرانے لوگ
    سنیں گے اب تو سماچاربھی اکیلے ہی

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہوا سے خوشبو کا کوئی پیام آیا نہیں
    دیے جلائے مگر خوش خرام آیا نہیں

    اسی کا متن تب و جاں کا کر رہا ہے حصار
    وہ ایک خط جو ابھی میرے نام آیا نہیں

    ابھی چاند کی خاطر دریچے کھولنا کیا
    ابھی تو شام ہے ، ماہِ تمام آیا نہیں

    ہمارے ہاتھ بھی در کھٹکھٹانا چاہتے ہیں
    جو انتخاب ہو دل کا وہ باب آیا نہیں

    دلوں کے سودے میں نقصان ہو بھی سکتا ہے
    شعور تھا تو سہی میرے کام آیا نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گھر کی کھوئی رونق پلٹ آئی ہے تو اب
    غم ستانے لگا ہے شہر کی ویرانی کا

    ان دنوں زیست کا اطراف میں ہے ایک ہی ڈھب
    خوف انہونی کا دھڑکا کسی انجانی کا

    ایک خطبے سے بدل آئی ہوں طاقت کا نصاب
    تخت کو جیت کے زندان سے آئی ہوں

    مرا ہم قدم کسی چاندنی کی جلو میں تھا
    اسے کیا خبر کہ میں چل رہی تھی غبار میں

    دشت احساس میں اڑتی ہے اسی درد کی دھول
    جانے والے نے پلٹ کے بھی نہ دیکھا ہم کو

    یک بہ یک رونق کدوں کے درمیاں سے کٹ گئے
    ایک اس سے کٹ کے ہم سارے جہاں سے کٹ گئے

    یاد رکھتا کون ایسے میں کسی عنوان کو
    مرکزی کردار ہی جب داستاں سے کٹ گئے

    گھر کے تمام بچوں میں تھوڑی بڑی تھی میں
    ورثے میں دکھ تھے سو مجھے حصہ بڑا ملا

  • فرانز کافکا ،بیسویں صدی کے بہترین ناول نگار

    فرانز کافکا ،بیسویں صدی کے بہترین ناول نگار

    3 جون 1924 یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فرانز کافکا کا شمار بیسویں صدی کے بہترین ناول نگاروں میں ہوتا ہے۔ وہ 3 جولائی 1883 چیک ریپبلکن کے شہر پراگ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیلم سے لے کر قانون کی ڈگری تک پراگ میں ہی تعلیم حاصل کی ۔ وہ یہودی مذہب سے تعلق رکھتے تھے ۔ ان کے والد کا نام ہرمن اور والدہ محترمہ کا نام جوئی تھا۔ ان کی مادری زبان عبرانی تھی ۔ ان کا اصل نام امسخل تھا عبرانی زبان میں اس کا معنی ” کوا” ہے جسے چیک زبان میں کافکا اور ہندی زبان میں کاگا کہا جاتا ہے اور وہ فرانز کافکا کے نام سے مشہور ہوئے۔ کوے کو بدنصیبی ،نحوست اور شر کی علامت تصور کیا جاتا ہے اور اتفاق سے کافکا بھی زندگی بھر بدنصیبی کا شکار رہے جس کی وجہ سے انہوں نے تنگ آ کر خودکشی کی کوشش کی مگر ان کے دوست میکس برڈ نے ان کو خودکشی کرنے سے روک لیا۔

    انہوں نے اپنی زندگی میں 3 بار عشق کیا ان کا پہلا عشق 1912 میں فیرو لین نامی لڑکی سے ہوا 5 سال تک ان کے درمیان جذباتی تعلق قائم رہا جس کے بعد فرولین کی شادی ہو گئی اور کافکا دل تھام کر رہ گیا۔ 1920 میں ان کا دوسرا عشق ملینا نامی ایک لڑکی سے ہو گیا جو کہ شادی شدہ تھی اس لیے اس سے ان کی شادی ممکن نہیں ہو سکی ۔ ملینہ نے بھی کافکا کو ٹوٹ کر چاہا کیوں کہ اسے اپنے شوہر سے محبت نہیں ملی تھی ۔ ایک بار کافکا نے ملین کو خط میں لکھا کہ میں بہت خراب، بیکار اور رشتے نہ نبھانے والا نہیں ہوں جس پر ملینا نے اسے جواب میں لکھا کہ خواہ تم ایک لاش کی طرح ہی کیوں نہ ہو لیکن مجھے پھر بھی تم سے ہی محبت رہے گی۔ 1923 میں ان کا تیسرا عشق ڈورا ڈائمنڈ نامی لڑکی سے ہوا لیکن یہاں پر بھی عشق و محبت میں ناکامی اس کا مقدر بن گئی ڈورا کی شادی بھی کہیں اور ہو گئی جس کے باعث کافکا نے زندگی بھر شادی نہیں کی ۔ انہوں نے اپنے ناول اور افسانے وغیرہ جلانے کا ارادہ کیا مگر ان کے دوست میکس برڈ نے ایسا نہیں ہونے دیا۔ میکس برڈ کے ساتھ مل کر انہوں نے صیہونی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ 3 جون 1924 میں وہ ٹی بی کے مرض میں ویانا کے ایک سینی ٹوریم ہسپتال میں انتقال کر گئے۔ کافکا کی وفات کے بعد ان کے دوست میکس برڈ نے ان کی کتابیں شائع کروائیں جن میں ناول”دی ٹرائل ” قلعہ” اور امریکا اور ایک افسانہ A Hunger Artist شامل ہیں ۔ 2017 میں یاست جواد نے کافکا کا کے شاہکار ناول The Triel کا ” مقدمہ” کے نام سے اردو زبان میں ترجمہ کر کے نیشلطبک فائونڈیشن سے شائع کروایا جبکہ محمد عاصم بٹ نے ان کے افسانہ کا ” فاقہ کش فنکار” کے عنوان سے اردو میں ترجمہ کیا۔ فرانز کافکا کے ناول” دی ٹرائل ” پر 4 فلمیں بن چکی ہیں ۔

  • اے اہل وطن جس وقت تم مجھے بلاؤ گے

    اے اہل وطن جس وقت تم مجھے بلاؤ گے

    اے اہل وطن جس وقت تم مجھے بلاو گے
    مجھے سرباز دیکھو گے مجھے جانباز پاو گے

    یوسف عزیز مگسی

    ترقی پسند بلوچ سردار، شاعر، ،،سیاست دان اور صحافی

    31 مئی 1935: یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    عظیم بلوچ رہنما، صحافی ، شاعر اور دانشور نواب یوسف عزیز مگسی کی تعریف کرتے ہوئے مولانا ظفر علی خان نے اپنی ایک نظم میں کہا ہے کہ

    تم کو خفی عزیز ہے ہم کو جلی عزیز
    عارض کا گل تمھیں، ہمیں دل کی کلی عزیز
    لفظ بلوچ مہرو وفا کا کلام ہے
    معنی ہیں اس کلام کے یوسف علی عزیز

    جبکہ شاعر مشرق اور مفکر پاکستان حضرت علامہ محمد اقبال نے انہی یوسف عزیز مگسی کی شخصیت اور جدوجہد سے متاثر ہو کر ” بڈھے بلوچ کی بیٹے کو نصیحت ” کے عنوان سے انتہائی خوب صورت نظم لکھی ۔ نواب یوسف عزیز مگسی حیرت انگیز خواہ سحر انگیز شخصیت کے مالک تھے کہ ان سے جو بھی ملتا تھا وہ ان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا جس کا واضح ثبوت علامہ اقبال اور مولانا ظفر علی خان جیسی عظیم شخصیات کا ان کی انگریز سرکار اور بلوچ معاشرے میں ہونے والی ناانصافیوں اور زیادتیوں کے خلاف جدوجہد اور جذبے سے متاثر ہو کر اس کے اعتراف میں اپنی شاعری میں اس کا اظہار کرنا ہے ۔ یوسف عزیز مگسی کمال کی شخصیت تھے اور ایسی شخصیات بقول علامہ اقبال ہزاروں سال بعد پیدا ہوتی ہیں ۔ یوسف عزیز بہ یک وقت سیاست دان، صحافی، شاعر اور خلق خدا و محروم اور مظلوم طبقات کے خدمت گار تھے ۔ وہ ایک روایت شکن ، ترقی پسند اور انقلابی قبائلی سردار تھے ۔

    یوسف عزیز مگسی 1908 میں جھل مگسی بلوچستان میں پیدا ہوئے وہ ایک بہت بڑے قبائلی سردار نواب قیصر خان مگسی کے فرزند تھے ۔ نواب قیصر خان مگسی کے 3 بیٹے تھے جن میں باالترتیب گل محمد خان، یوسف علی خان اور محبوب علی خان تھے ۔ بلوچ اور سندھی معاشرے میں محاورے کے طور پر اگر کسی کی طاقت اور شخصیت کو چیلنج کرنا ہو تو یہ کہا جاتا ہے کہ ” کون سے نواب قیصر خان کے بیٹے ہو یا یہ کہ کون سا تم کانبھو خان کے بیٹے ہو” ۔ تو یہ یہ یوسف عزیز اسی نواب قیصر خان کے بیٹے تھے جبکہ سندھ کے سابق وزیر اعلی جام صادق علی، کانبھو خان کے بیٹے تھے ۔ نواب قیصر خان مگسی، بلوچستان پر برطانوی راج اور اس کے گماشتوں کے سخت مخالف تھے اس وجہ سے وہ بلوچ قوم میں بہت مقبول اور برطانوی سرکار اور ان کے حمایت یافتہ بلوچ حکمرانوں کی نظر میں باغی اور مجرم ٹھہرے جس کی وجہ سے ان کو بلوچستان سے جلاوطن کر کے ملتان بھیج دیا گیا اور وہیں ان کی وفات ہوئی۔ نواب قیصر خان مگسی کی جلاوطنی کے بعد ان کے بڑے صاحبزادے گل محمد خان کو مگسی قبیلے کا نواب مقرر کیا گیا ۔ نواب گل محمد خان ایک درویش صفت شاعر تھے زیب تخلص استعمال کرتے تھے وہ 10 زبانوں میں شاعری کرتے تھے جن میں فارسی زبان بھی شامل تھی اور ان کا شمار فارسی زبان کے بڑے شعراء میں ہوتا ہے ۔ نواب گل محمد خان زیب مگسی ایک غیر فعال سردار ثابت ہوئے جس کی بناء پر ان کے چھوٹے بھائی یوسف علی خان مگسی کو نواب منتخب کیا گیا ۔ یوسف علی خان مگسی بھی شاعر تھے یہ اردو اور فارسی زبان میں شاعری کرتے تھے اور ” عزیز ” تخلص استعمال کرتے تھے جس کی وجہ سے وہ ” یوسف عزیز مگسی” کے نام سے مشہور ہوئے ۔

    نواب یوسف عزیز مگسی 22 سال کی عمر میں مگسی قبیلے کے سربراہ یعنی نواب مقرر ہوئے تھے ۔ یوسف عزیز بہت باشعور، حساس، بہادر اور رحم دل قسم کی شخصیت کے مالک تھے ۔ انہوں نے بحیثیت بلوچ سردار کے دیکھا اور محسوس کیا کہ ان کی سرزمین پر برطانوی سامراج کا تسلط ہے اور ان کے حمایت یافتہ خان آف قلات میر محمود خان اور ان کے وزیر اعظم شاہ شمس اپنی ہی بلوچ قوم کا نہ صرف بدترین استحصال کر رہے ہیں بلکہ ظلم اور جبر کا ریکارڈ قائم کر دیا ہے ۔ خان آف قلات میر محمود خان ظلم اور جبر کا استعارہ بن گئے تھے ان کے دور میں خان آف قلات کی کٹھ پتلی حکومت اور برطانوی سرکار کے خلاف لکھنا اور بولنا یا احتجاج کرنا سنگین ترین جرم سمجھا جاتا تھا ۔ بلوچستان میں آج بھی اگر کوئی شخص کسی بھی قسم کی جرئت یا طاقت کا استعمال اور اظہار کرے تو یہ محاورہ استعمال کیا جاتاہے کہ ” مر گیا محمود خان ” یعنی محمود خان نہیں ہے اس لیئے فلاں بندہ خود کو طرم خان یا 30 مار خان سمجھ رہا ہے ۔ ایسے ظلم ، جبر ، گھٹن اور خوف و دہشت کے ماحول میں نواب یوسف عزیز مگسی، برطانوی سرکار اور حکومت قلات کے خلاف شیر کی طرح سینہ سپر ہو کر سامنے آ گئے ۔

    نواب یوسف عزیز مگسی نے بلوچ قوم اور بلوچ سرزمین پر بسنے والے عوام میں شعور بیدار کرنے برطانوی راج اور قلات گورنمنٹ کے ظلم اور جبر کے خلاف علم بغاوت بلند کرتے ہوئے صحافت اور شاعری کا استعمال شروع کر دیا ۔ انہوں نے اپنی ایک نظم میں بلوچ قوم سے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ

    کرم بے تیغ بقدر وسعت جسے ہو ذوق تماشا کفن بدوش آئے

    اب آگے مرحلہ آتا ہے سخت کوشی کا
    ہمارے ساتھ نہ اب کوئی عیش کوش آئے

    یوسف عزیز نے کراچی سے البلوچ کے نام سے اخبار جاری کیا جس میں بلوچ قوم اور بلوچ سرزمین پر برطانوی سرکار اور ان کی حمایت یافتہ حکومت قلات کی زیادتیوں، ناانصافیوں، ظلم اور جبر کے خلاف خبریں اور تبصرے اور اداریہ لکھا جاتا تھا حکومت نے ان کے اخبار کو بند کر دیا اس کے بعد یوسف عزیز نے مختلف ناموں سے اخبارات جاری کیے جن میں ترجمان بلوچستان، بلوچستان جدید اور ینگ بلوچ وغیرہ شامل تھے حکومت نے ان سب اخبارات پر پابندی عائد کر کے بند کر دیا ۔ یوسف عزیز نے بلوچ قوم کے مسائل پر 2 مرتبہ جیکب آباد میں سالانہ آل انڈیا بلوچ کانفرنس کا انعقاد کر کے بلوچ سرداران اور اکابرین کو تحریک آزادی کی جدوجہد میں شامل کرنے پر آمادہ کرنے کی تاریخی کوشش کی ۔ یوسف عزیز نے ” بلوچستان کی فریاد ” کے عنوان سے لاہور سے ایک کتابچہ شائع کیا جس میں خان آف قلات کے وزیر اعظم شاہ شمس کے ظلم اور جبرو استبداد کو عوام کے سامنے لایا گیا جس کے جرم میں یوسف عزیز کو ایک سال زندان میں ڈالا گیا اور بھاری جرمانہ بھی کیا گیا ۔

    نواب یوسف عزیز مگسی پہلے بلوچ سردار تھے جنہوں نے خواتین کے بنیادی حقوق کے لیے آواز بلند کی اور بلوچ قوم کے بیٹوں سمیت بلوچ بیٹیوں کی تعلیم پر بھی زور دیا ۔ یوسف عزیز نے جھل مگسی میں جامعہ یوسفیہ قائم کیا جس میں طلبہ کو مفت تعلیم دی جاتی اور باہر کے طلبہ کے لیے طعام اور قیام کا بھی بندوبست کیا گیا جبکہ بچیوں کے لیے اسلامی اور جدید علوم کی غرض سے جھل مگسی کے علاقے میں اسکول اور مدرسے قائم کیے۔ انہوں اپنی زرعی آمدن کی 10 فیصد رقم تعلیم کے فروغ کے لیے مختص کر دیا تھا جبک مریضوں کے علاج کے لیے اپنی ذاتی رقم سے شفا خانے قائم کیے اور پانی کی قلت کے پیش نظر انہوں نے اپنےذاتی خرچ پر” کیر تھر نہر” قائم کر کے عباسی خلیفہ ہارون الرشید کی ملکہ زبیدہ کی جانب سے قائم کردہ "نہر زبیدہ ” کی یاد تازہ کر دی ۔ بلوچ قوم کے یہ عظیم محسن، قائد اور دانشور صرف 27 سال کی عمر میں 31 مئی 1935 میں کوئٹہ کے ہولناک زلزلے میں جانبحق ہو گئے ۔ بلوچ قوم کے دلوں میں آج بھی ان کی ناگہانی موت کا سوگ اور غم تازہ ہے ۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ نواب یوسف عزیز مگسی کا نہ تو مقبرہ بنایا گیا ہے اور نہ ہی ان کی شاعری اور مضامین اور افکار کو محفوظ کر کے کتابی شکل دی گئی ہے ۔ چوں کہ نواب یوسف عزیز مگسی دن رات قومی جدوجہد میں مصروف تھے اس لیئے وہ کم سنی میں شادی نہیں کر سکے تو ان کی وفات کے بعد ان کے چھوٹے بھائی محبوب علی خان مگسی کو، مگسی قبیلے کا نواب مقرر کیا گیا ۔ مگسی قبیلے کے موجودہ نواب، بلوچستان کے سابق گورنر اور سابق وزیر اعلی ذوالفقار علی خان مگسی، نواب محبوب علی خان مگسی کے پوتے اور نواب سیف اللہ خان مگسی کے صاحبزادے ہیں ۔

  • یوم وفات،زیب النساء،فارسی کی شاعرہ

    یوم وفات،زیب النساء،فارسی کی شاعرہ

    گرچہ من لیلی اساسم، دل چو مجنون دونواست
    سر بہ صحرا می زنم لیکن حیا زنجیر پا است

    زیب النساء

    یدائش:15 فروری 1638ء
    دولت آباد
    وفات:26 مئی 1702ء
    دہلی
    مدفن:لاہور
    رہائش:آگرہ
    والد:اورنگ زیب عالمگیر
    والدہ:دلرس بانو بیگم
    بہن/بھائی:زبدۃ النساء،
    بدر النساء
    زینت النساء
    مہر النساء
    سلطان محمد اکبر
    بہادر شاہ اول
    محمد اعظم شاہ
    محمد کام بخش
    مغل محمد سلطان
    خاندان:مغلیہ سلطنت
    زبان:فارسی
    شعبۂ عمل:شاعری

    ہندوستان کے بادشاہ اورنگزیب کی بیٹی عالمہ، فاضلہ، عارفہ اور فارسی زبان کی شاعرہ تھی۔ زیب النساء نے تین سال کے عرصے میں قرآن مجید حفظ کیا۔ فارسی، عربی اور اردو زبان سے کافی واقفیت پیدا کرلی۔ ہیت، فلسفہ اور ادبیات میں بھی کافی درک حاصل کرلی۔ دانشمند، ادب دوست اور شاعر پرور تھی۔ ان کی حمایت کرتی یہی وجہ ہے کہ بہت زیادہ کتابیں، رسالے اور دیوان اس کے نام لکھے گئے ہیں۔ ان کے والد ہر کام میں اس سے مشورہ کرتے تھے۔ شادی نہیں کی۔ 65سال کی عمر میں وفات پاگئیں۔ زیب المنشات اور زیب التفاسیر کتابیں ان کے آثار ہیں۔
    پیدائش
    ۔۔۔۔۔
    زیب النساء (خواتین کی زینت)، شہزادہ محی الدین(مستقبل کے شہنشاہ اورنگ زیب) کی سب سے بڑی صاحبزادی، شادی کے ٹھیک نو ماہ بعد 15 فروری 1638 کو دکن کے شہر دولت آباد میں پیدا ہوئیں۔ ان کی والدہ دلرس بانو بیگم اورنگزیب کی پہلی بیوی اور چیف ساتھی تھیں اور صفویڈ ایران(فارس) کی حکمران سلطنت کے ممتاز خاندان کی شہزادی تھیں۔ زیب النساء اپنے والد کی چہیتی بیٹی تھی۔
    تعلیم اور کارنامے
    ۔۔۔۔۔
    اورنگ زیب نے دربار کی ایک خاتون حفیظہ مریم پر زیب النساء کی تعلیم کی ذمہ داری ڈالی۔ ایسا لگتا ہے کہ زیب النسا کو اپنے والد کی ذہانت اور ادبی ذوق ورثہ میں ملی تھی کیونکہ زیب النساء نے فقط تین سال میں قرآن حفظ کیا اور سات سال کی عمر میں حافظہ بن گئیں۔ اس موقع پر ان کے والد نے ایک زبردست دعوت اور عوامی تعطیل منایا۔ شہزادی کو اس کے خوش و خرم والد نے 30000 سونے کے سکے کا انعام بھی دیا۔ اورنگ زیب نے اپنی شہزادی بیٹی کو اچھی طرح تعلیم دینے کے لیے استانی بی کو بھی بطور انعام سونے کے30000 سکے دئے۔
    تب زیب النساء نے اس وقت کے علوم کو محمد سعید اشرف مازندرانی سے سیکھا ، جو فارسی کے عظیم شاعر بھی تھے۔ وہ فلسفہ ، ریاضی ، فلکیات،ادب سیکھتی تھیں اور فارسی ، عربی اور اردو کی ماہر تھیں۔ خطاطی میں بھی ان کی اچھی شہرت تھی۔
    اس کی لائبریری نے دوسرے تمام لوگوں کے نجی ذخیرے کو پیچھے چھوڑ دیا اور اس نے اس کے حکم کے مطابق ادبی کام پیش کرنے یا اس کے لیے مخطوطات نقل کرنے کے لیے بہت سارے علما کو آزادانہ تنخواہوں پر ملازمت دی اس کی لائبریری میں قانون ، ادب ، تاریخ اور الٰہیات جیسے ہر موضوع پر کام ہوا۔
    زیب النساء ایک نیک دل خاتون تھیں اور ہمیشہ ضرورت مند لوگوں کی مدد کرتی تھیں۔ اس نے بیوہ خواتین اور یتیموں کی مدد کی۔ اس نے نہ صرف لوگوں کی مدد کی بلکہ ہر سال وہ حجاج کو مکہ اور مدینہ بھیجتیں۔ انہوں نے موسیقی میں بھی دلچسپی لی۔
    اورنگزیب کا انضمام
    ۔۔۔۔۔
    جب شاہجہان کے بعد اورنگ زیب شہنشاہ ہوا تو زیب النساء 21 سال کی تھی۔ جب اورنگ زیب کو اپنی بیٹی کی صلاحیت اور قابلیت کے بارے میں معلوم ہوا تو وہ اس سے اپنی سلطنت کے سیاسی امور پر تبادلہ خیال کرنا شروع کیا اور اس کے مشورے سنتا۔ کچھ کتابوں میں اس کا تذکرہ کیا گیا ہے کہ جب جب زیب النساء دربار میں حاضر ہوتیں اس کے استقبال کے لیے ہر بار اورنگزیب تمام شاہی شہزادوں کو بھیجتا۔ زیب النساء کی چار دیگر چھوٹی بہنیں تھیں: زینت النساء ، زبدۃ النساء ، بدر النساء اور مہر النساء۔

    نمونہ کلام
    ۔۔۔۔۔
    گرچہ من لیلیٰ اساسم، دل چو مجنون دونواست
    سر بہ صحرا می زنم لیکن حیا زنجیرِ پا است

    دخترِ شاہم ولیکن رو بہ فقر آوردہ ام
    ‘زیب’ و ‘زینت’ بس ہمینم نامِ من زیب النساء است

    تاریخ پاک و ہند میں اس کے بارے میں لکھا گیا ہے کہ زیب النساء نے عربی اور فارسی کی اعلٰی تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ قرآن پاک بھی حفظ کیا۔ شعروشاعری میں اپنے استاد ملا محمد سعید اشرف ماژندارانی سے اصلاح لی، علما اور اہل فن کی بھر پور سرپرستی کی اور ان کے لیے ایک اعلٰی پائے کا کتب خانہ قائم کیا۔

    اشعار کا نمونہ ملاحظہ ہو:۔

    بشکند دستی کہ خم در گردنِ یاری نشد
    کور بہ چشمی کہ لذت گیر دیداری نشد
    صد بہار آخر شد و ہر گل بہ خرقی جا گرفت
    غنچۂ باغِ دلِ ما زیب دستاری نشد

  • پھر یوں ہوا کہ عشق کے جھانسے میں آ گئے

    پھر یوں ہوا کہ عشق کے جھانسے میں آ گئے

    پہلے تو ایک عمر گزاری نشاط میں
    پھر یوں ہوا کہ عشق کے جھانسے میں آ گئے

    حرا قاسمی

    پیدائش: 26 مئی 2001
    تعلیم: ایم اے انگریزی
    آغاز شاعری: 2016
    پتہ : ہندوستان صوبہ اترپردیش ضلع اٹاوہ

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    دکھ کی دیوار گرانے سے رہی
    یعنی میں خود کو بچانے سے رہی
    چھوڑ جائے گی یہ ریزہ کر کے
    زندگی ساتھ نبھانے سے رہی
    دل نے سوچا ہے تری وحشت کو
    سو مجھے نیند تو آنے سے رہی
    درد ہوتے ہی چھلک جائیں گے
    اشک آنکھوں میں چھپانے سے رہی
    خود ہی احوال سمجھ لے میرا
    میں تجھے دل تو دکھانے سے رہی
    دور ہو جائیں اندھیرے مجھ سے
    ایسی قندیل جلانے سے رہی
    اب یہاں اہل ستم رہتے ہیں
    اب میں زنجیر ہلانے سے رہی
    لوگ محروم سماعت ہیں حراؔ
    حال غم ان کو سنانے سے رہی

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    وحشتوں کے نگر میں رہتے ہیں
    یعنی ظلم و ضرر میں رہتے ہیں
    بار سر پر اٹھائے نفرت کا
    لوگ شہر خطر میں رہتے ہیں
    منزلوں کی تلاش میں ہم لوگ
    رات دن بس سفر میں رہتے ہیں
    مسند دل پہ جن کا قبضہ ہو
    کب وہ زیر و زبر میں رہتے ہیں
    وہ جو رہتے تھے دل کی دنیا میں
    اب دکھوں کے کھنڈر میں رہتے ہیں
    ہم وہ جدت پسند ہیں جو حراؔ
    کرگسوں کے نگر میں رہتے ہیں

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    دامن چھڑا کہ دشت سے ہالے میں آ گئے
    ہم جیسے بد نصیب بھی گھاٹے میں آ گئے
    روداد سن کے اُس کی کیا یوں تو ضبط پر
    کچھ اشک میری آنکھ کے پیالے میں آ گئے
    پہلے تو ایک عمر گزاری نشاط میں
    پھر یوں ہوا کہ عشق کے جھانسے میں آ گئے
    تنہائیوں کا درد سمجھنے لگے ہیں ہم
    اے ہجر! جب سے تیرے گھرانے میں آ گئے
    دن بھر سجائی شوق سے بزمِ طرب حرا
    آئی جو شب تو دکھ کے احاطے میں آ گئے

  • مسرت شاہین  ،کامیاب  اداکارہ ناکام  سیاستدان ،

    مسرت شاہین ،کامیاب اداکارہ ناکام سیاستدان ،

    اردو ، پشتو اور پنجابی فلموں کی مشہور پاکستانی اداکارہ اور رقاصہ مسرت شاہین 23 مئی 1954 میں ڈیرہ اسماعیل خان میں پیدا ہوئیں۔ وہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون اداکارہاور ڈانسر ہیں جنہوں نے اسلامک کلچر میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ مسرت شاہین کی وجہ شہرت پشتو فلموں میں مخصوص قسم کا رقص کرنا ہے جن کے ڈانس کی وجہ سے ان کے چاہنے والے افراد کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ وہ سینما کی اسکرین پر جب بھی ڈانس کرتے ہوئے جلوہ گر ہوتی تھیں تو سینماؤں میں موجود تماشبین دیوانہ وار سیٹیاں بجاتے ہوئے جھومنے لگ جاتے تھے جیسے ان پر سحر یا وجد طاری ہو گیا ہو۔ مسرت شاہین نے مجموعی طور پر 216 فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے جن میں پشتو کی 120 فلمیں ، پنجابی کی 58 اردو کی 33 اور 5 ڈبل ورژن فلمیں شامل ہیں ۔

    ان کی مشہور فلموں میں حسینہ ایٹم بم، آوارہ اور دھمکی ، زلزلہ ، دلہن ایک رات کی، وغیرہ شامل ہیں ۔ مسرت شاہین نے 2000عیسوی سن میں پاکستان تحریک مساوات (P T M) کے نام سے اپنی ایک سیاسی جماعت قائم کی اور 2002 کے عام انتخابات میں ڈیرہ اسماعیل خان سے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے مقابلے میں الیکشن لڑنے کا اعلان کیا ۔ مولانا اور اداکارہ ، رقاصہ اور سیاست دان کے درمیان مقابلہ بڑا دلچسپ رہتا تھا ۔ مسرت شاہین کہتی تھیں کہ میں ڈیرہ اسماعیل خان کی اصل باشندہ ہوں مولانا صاحب پنیالہ کے ہیں اس لیے ووٹ کی اصل حقدار میں ہوں ساتھ میں وہ رواداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ بھی کہتیں کہ مولانا فضل الرحمن صاحب قابل احترام بزرگ شخصیت اور میرے بھائیوں جیسے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ ہر بار مولانا سے الیکشن میں شکست سے دوچار ہوتی رہی ہیں لیکن اس کے باوجود سیاست سے مایوس یا دل برداشتہ نہیں ہوئیں اور مستقبل میں کامیابی کیلئے اب بھی پرامید دکھائی دیتی ہیں ۔

  • ہم نے کتنے دھوکے میں سب  جیون  کی  بربادی کی

    ہم نے کتنے دھوکے میں سب جیون کی بربادی کی

    ہم نے کتنے دھوکے میں سب جیون کی بربادی کی
    گال پہ اک تل دیکھ کے ان کے سارے جسم سے شادی کی

    ضمیر جعفری

    پیدائش:01 جنوری 1916ء
    جہلم، پاکستان
    وفات:12 مئی 1999ء
    نیو یارک، ریاستہائے متحدہ امریکہ

    سید ضمیر حسین شاہ نام اور ضمیر تخلص تھا۔ 01 جنوری 1916ء کو پیدا ہوئے۔ آبائی وطن چک عبدالخالق ، ضلع جہلم تھا۔ اسلامیہ کالج، لاہور سے بی اے کا امتحان پاس کیا۔ فوج میں ملازم رہے اور میجر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ راول پنڈی سے ایک اخبار’’بادشمال‘‘ کے نام سے نکالا۔ کچھ عرصہ اسلام آباد کے ترقیاتی ادارے سے منسلک رہے۔ پاکستان نیشنل سنٹرسے بھی وابستہ رہے۔ ضمیر جعفری دراصل طنزومزاح کے شاعرتھے۔کبھی کبھی منہ کا ذائقہ بدلنے کے لیے سنجیدہ اشعار بھی کہہ لیتے تھے۔ یہ نظم ونثر کی متعدد کتابوں کے مصنف تھے۔ 12؍ مئی1999ء کو نیویارک میں انتقال کرگئے۔ تدفین ان کے آبائی گاؤں چک عبدالخالق میں ہوئی۔ ان کی مطبوعہ تصانیف کے نام یہ ہیں:’’کارزار‘‘، ’’لہو ترنگ‘‘، ’’جزیروں کے گیت‘‘، ’’من کے تار‘‘ ’’مافی الضمیر‘‘، ’’ولایتی زعفران‘‘، ’’قریۂ جاں‘‘، ’’آگ‘‘، ’’اکتارہ‘‘، ’’ضمیر یات‘‘۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:50

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    ہم زمانے سے فقط حسن گماں رکھتے ہیں
    ہم زمانے سے توقع ہی کہاں رکھتے ہیں
    ایک لمحہ بھی مسرت کا بہت ہوتا ہے
    لوگ جینے کا سلیقہ ہی کہاں رکھتے ہیں
    کچھ ہمارے بھی ستارے ترے دامن پہ رہیں
    ہم بھی کچھ خواب جہان گزراں رکھتے ہیں
    چند آنسو ہیں کہ ہستی کی چمک ہے جن سے
    کچھ حوادث ہیں کہ دنیا کو جواں رکھتے ہیں
    جان و دل نذر ہیں لیکن نگہ لطف کی نذر
    مفت بکتے ہیں قیامت بھی گراں رکھتے ہیں
    اپنے حصے کی مسرت بھی اذیت ہے ضمیرؔ
    ہر نفس پاس غم ہم نفساں رکھتے ہیں

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    اپنی خبر نہیں ہے بجز اس قدر مجھے
    اک شخص تھا کہ مل نہ سکا عمر بھر مجھے
    شعلوں کی گفتگو میں صبا کے خرام میں
    آواز دے رہا ہے کوئی ہم سفر مجھے
    شاید انہیں کا عجز مرے کام آ گیا
    جن دوستوں نے چھوڑ دیا وقت پر مجھے
    شب کو تو ایک قافلۂ گل تھا ساتھ ساتھ
    یا رب یہ کس مقام پہ آئی سحر مجھے
    ہنستے رہے فلک پہ ستارے زمیں پہ پھول
    اچھا ہوا کہ عمر ملی مختصر مجھے
    مدت کے بعد اس نے سر انجمن ضمیرؔ
    دیکھا نگاہ عام سے اور خاص کر مجھے

    اشعار
    ۔۔۔۔۔
    بہن کی التجا ماں کی محبت ساتھ چلتی ہے
    وفائے دوستاں بہر مشقت ساتھ چلتی ہے

    اب اک رومال میرے ساتھ کا ہے
    جو میری والدہ کے ہاتھ کا ہے

    ہم نے کتنے دھوکے میں سب جیون کی بربادی کی
    گال پہ اک تل دیکھ کے ان کے سارے جسم سے شادی کی

    ہنس مگر ہنسنے سے پہلے سوچ لے
    یہ نہ ہو پھر عمر بھر رونا پڑے

    ایک لمحہ بھی مسرت کا بہت ہوتا ہے
    لوگ جینے کا سلیقہ ہی کہاں رکھتے ہیں

    ان کا دروازہ تھا مجھ سے بھی سوا مشتاق دید
    میں نے باہر کھولنا چاہا تو وہ اندر کھلا

    درد میں لذت بہت اشکوں میں رعنائی بہت
    اے غم ہستی ہمیں دنیا پسند آئی بہت

  • الیکساندرفادیئیف

    الیکساندرفادیئیف

    پیدائش:11 دسمبر 1901ء
    وفات:13 مئی 1956ء
    وجۂ وفات:شوٹ
    طرز وفات:خودکشی
    شہریت: سلطنت روس
    جماعت:اشتمالی جماعت سوویت اتحاد (1918ء)
    پیشہ:مصنف، سیاست داں، صحافی، مشہور شخصیت
    مادری زبان:روسی
    پیشہ ورانہ زبان:روسی
    اعزازات
    آرڈر آف لینن

    الیکساندرالیکساندرووچ فادیئیف سوویت روسی ناول نگار، شریک بانی انجمنِ سوویت مصنفین ہیں۔
    پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔
    الیکساندرفادیئیف روسی سلطنت کے صوبے توور کے کمری نامی قصبے میں 24 دسمبر 1901ء کو پیدا ہوئے۔
    تخلیقی دور
    ۔۔۔۔۔۔
    الیکساندرفادیئیف کا شمار سوویت ادب کے بانیوں میں ہوتا ہے۔ میکسم گورکی کی موت کے بعد انھوں نے بہت برسوں تک ”سوویت ادیبوں کی انجمن“ کی رہنمائی کی۔ روپوش چھاپہ ماروں اور خانہ جنگی کی زندگی سے زبردست سبق حاصل کرکے انھوں نے بیسویں صدی کی تیسری دہائی میں لکھنا شروع کیا۔ فادیئیف کے ناولوں ”شکست“، ”قافلہ شہیدوں کا“ اور ”اودے گے قوم کا آخری آدمی“ کو سوویت ادب کے بیش بہا خزانے میں جگہ ملی۔
    تخلیقات
    ۔۔۔۔۔۔
    ناول
    ۔۔۔۔۔
    شکست
    قافلہ شہیدوں کا (1945ء)
    اودے گے قوم کا آخری آدمی
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔
    الیکساندرفادیئیف کو 1946ء میں ناول ”قافلہ شہیدوں کا“ پر سوویت ریاست ”اسٹالن انعام“ دیا گیا۔
    وفات
    ۔۔۔۔۔
    الیکساندرفادیئیف نے 54 سال کی عمر میں 13 مئی 1956ء میں ماسکو اوبلاست، سویت یونین میں خودکشی کی۔

  • اٹھتے نہیں ہیں ہاتھ مرے اس دعا کے بعد

    اٹھتے نہیں ہیں ہاتھ مرے اس دعا کے بعد

    سب کچھ خدا سے مانگ لیا تجھ کو مانگ کر
    اٹھتے نہیں ہیں ہاتھ مرے اس دعا کے بعد

    آغا حشر کاشمیری

    پیدائش:03اپریل 1879ء
    بنارس، ہندستان
    وفات:28اپریل 1935
    لاہور، پاکستان

    آغا حشر کا اصل نام آغا محمد شاہ تھا۔ ان کے والد غنی شاہ بسلسلہ تجارت کشمیر سے بنارس آئے تھے اور وہیں آباد ہو گئے تھے۔ بنارس ہی کے محلہ گوبند کلاں، ناریل بازار میں03 اپریل 1879کو آغاحشر کا جنم ہوا۔
    آغا نے عربی اور فارسی کی ابتدائی تعلیم حاصل کی اور قرآن مجید کے سولہ پارے بھی حفظ کیے۔ اس کے بعد ایک مشنری اسکلول جے نارائن میں داخل کرائے گئے۔ مگر نصابی کتابوں میں دلچسپی نہیں تھی اس لیے تعلیم نا مکمل رہ گئی۔
    بچپن سے ہی ڈرامہ اور شاعری سے دل چسپی تھی۔ سترہ سال کی عمر سے ہی شاعری شروع کر دی اور 18 سال کی عمر میں آفتاب ِ محبت کے نام سے ڈرامہ لکھا جسے اس وقت کے مشہور ڈرامہ نگاروں میں مہدی احسن لکھنوی کو دکھایا تو انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ ڈرامہ نگاری بچوں کا کھیل نہیں ہے۔
    منشی احسن لکھنوی کی اس بات کو آغا حشر کاشمیری نے بطور چیلنچ قبول کیا اور اپنی تخلیقی قوت، اور ریاضت سے اس طنز کا ایسا مثبت جواب دیا کہ آغا حشر کے بغیر اردو ڈرامہ کی تاریخ مکمل ہی نہیں ہو سکتی، انہیں جو شہرت، مقبولیت، عزت اور عظمت حاصل ہے، وہ ان کے بہت سے پیش رؤوں اور معاصرین کو نصیب نہیں ہے۔
    مختلف تھیٹر کمپنیوں سے آغا حشر کاشمیری کی وابستگی رہی، اور ہر کمپنی نے ان کی صلاحیت اور لیاقت کا لوہا مانا۔ الفریڈ تھیٹریکل کمپنی کےلئے آغا حشر کو ڈرامے لکھنے کا موقع ملا، اس کمپنی کے لیے آغا حشر نے جو ڈرامے لکھے، وہ بہت مقبول ہوئے۔ اخبارات نے بھی بڑی ستائش کی۔ آغا حشر کی تنخواہوں میں اضافے بھی ہوتے رہے۔
    آغا حشر کاشمیری نے اردو، ہندی اور بنگلہ زبان میں ڈرامے لکھے جس میں کچھ طبع زاد ہیں اور کچھ وہی ہیں جن کے پلاٹ مغربی ڈراموں سے ماخوذ ہیں۔
    آغا حشر کاشمیری نے شکسپیر کے جن ڈراموں کو اردو کا قالب عطا کیا ہے ، ان میں شہیدناز، صید ہوس، سفید خون، خواب ہستی بہت اہم ہیں۔
    آغا حشر کاشمیری نے رامائن اور مہابھارت کے دیومالائی قصوں پر مبنی ڈرامے بھی تحریر کیے ہیں ، جو اس وقت میں بہت مقبول ہوئے۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    یاد میں تیری جہاں کو بھولتا جاتا ہوں میں
    بھولنے والے کبھی تجھ کو بھی یاد آتا ہوں میں
    ایک دھندلا سا تصور ہے کہ دل بھی تھا یہاں
    اب تو سینے میں فقط اک ٹیس سی پاتا ہوں میں
    او وفا نا آشنا کب تک سنوں تیرا گلہ
    بے وفا کہتے ہیں تجھ کو اور شرماتا ہوں میں
    آرزوؤں کا شباب اور مرگ حسرت ہائے ہائے
    جب بہار آئے گلستاں میں تو مرجھاتا ہوں میں
    حشرؔ میری شعر گوئی ہے فقط فریاد شوق
    اپنا غم دل کی زباں میں دل کو سمجھاتا ہوں میں

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    سوئے مے کدہ نہ جاتے تو کچھ اور بات ہوتی
    وہ نگاہ سے پلاتے تو کچھ اور بات ہوتی
    گو ہوائے گلستاں نے مرے دل کی لاج رکھ لی
    وہ نقاب خود اٹھاتے تو کچھ اور بات ہوتی
    یہ بجا کلی نے کھل کر کیا گلستاں معطر
    اگر آپ مسکراتے تو کچھ اور بات ہوتی
    یہ کھلے کھلے سے گیسو انہیں لاکھ تو سنوارے
    مرے ہاتھ سے سنورتے تو کچھ اور بات ہوتی
    گو حرم کے راستے سے وہ پہنچ گئے خدا تک
    تری رہ گزر سے جاتے تو کچھ اور بات ہوتی

    اشعار
    ۔۔۔۔۔
    گویا تمہاری یاد ہی میرا علاج ہے
    ہوتا ہے پہروں ذکر تمہارا طبیب سے

    سب کچھ خدا سے مانگ لیا تجھ کو مانگ کر
    اٹھتے نہیں ہیں ہاتھ مرے اس دعا کے بعد

    گو ہوائے گلستاں نے مرے دل کی لاج رکھ لی
    وہ نقاب خود اٹھاتے تو کچھ اور بات ہوتی

    گو حرم کے راستے سے وہ پہنچ گئے خدا تک
    تری رہ گزر سے جاتے تو کچھ اور بات ہوتی