Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • قرت العین حیدر ، ایک موسیقار

    قرت العین حیدر ، ایک موسیقار

    قرت العین حیدر ، ایک موسیقار

    کیسے کیسے لوگ/ آغا نیاز مگسی

    دنیا میں ایسی بہت سی نامور شخصیات گزری ہیں اور کچھ اس وقت بھی موجود ہیں جن کی شہرت اور پہچان کسی ایک وجہ سے ہوتی ہے مگر وہ اپنی اس شہرت کے علاوہ دیگر شعبوں میں بھی خصوصی مہارت رکھتی ہیں ایسی شخصیات میں حضرت امیر خسرو اور شکیلہ بانو بھوپالی سب سے نمایاں اور واضح مثال ہیں ۔ امیر خسرو کی شہرت اردو، ہندی اور فارسی کے ایک بہت بڑے شاعر کی تھی لیکن وہ شاعر کے علاوہ ایک بہت بڑے گائیک، قوال اور موسیقار بھی تھے اور اسی طرح ماضی قریب میں شکیلہ بانو بھوپالی اردو کی پہلی خاتون قوال اور موسیقار کی حیثیت سے مشہور تھیں مگر وہ اردو کی پہلی خاتون صاحب دیوان شاعرہ بھی تھیں بالکل اسی طرح اردو کی ممتاز ادیبہ قرت العین حیدر کی پہچان ایک افسانہ نگار اور ناول نگار کی تھی مگر وہ اس کے علاوہ ایک بہترین موسیقار بھی تھیں مگر اس حوالے سے ان کی شہرت اور پہچان نہیں ہو سکی۔ قرت العین حیدر ہارمونیم اور ستار سمیت موسیقی کے دیگر سازندے بھی بڑی مہارت سے بجاتی تھیں اس سلسلے میں انہوں نے سورج بخش سری واستو، راج کمار شیوپوری اور گیانوٹی بھٹناگر سے موسیقی کی خصوصی تربیت حاصل کی تھی یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ایک ماہر موسیقار کی حیثیت سے نہ صرف موسیقی کے موضوع پر مختلف جرائد و رسائل میں کئی خصوصی مضامین لکھے بلکہ برصغیر کے ممتاز کلاسیکل فنکار استاد بڑے غلام علی خان کے فن گائیکی اور موسیقی پر ایک کتاب بھی لکھی۔

  • تم آو انیسہ سے اگر ملنے کی خاطر

    تم آو انیسہ سے اگر ملنے کی خاطر

    تم آو انیسہ سے اگر ملنے کی خاطر
    بدھ وار بھی ہوگا اتوار مری جان

    انیسہ صابری

    والد کا نام:محمد اسحاق انصاری (مرحوم)
    والدہ کا نام:کلثوم النساء (مرحؤمہ)
    شوہر کا نام: محمد صابر انصاری

    تاریخ ولادت:27 اپریل 1977ء
    جائے پیدائش :انصار نگر، گواہ چوک
    ویشالی، بہار

    موجودہ پتہ :4 بنواری لال رائےروڈ
    پیل خانہ، ہوڑہ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تعارف: آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔. ۔۔

    انیسہ صابری کا اصل نام انیسہ انصاری ہے مگر 11 مئی 1994 میں محمد صابر انصاری سے شادی ہونے کےبعد اپنے شوہر کے نام کی نسبت سے انیسہ صابری کا نام اختیار کیا۔ انہوں نے 2015 سے شاعری کی ابتدا کی اور فیروز اختر سے شاعری میں اصلاح لی ۔ انیسہ کے شوہر ہندی زبان کے معروف شاعر اور صحافی ہیں۔ انیسہ اور محمد صابر انصاری کو اللہ تعالی نے 3 بچوں فاطمہ صابری محمد شارق انصاری اور سلیمہ صابری کی اولاد کی نعمت سے نوازا مگر 4 مئی 2007 کو ان کا 5 سالہ اکلوتا بیٹا شارق انصاری اپنے محلے کے بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے اچانک غائب ہو گیا جس کا آج تک کوئی سراغ نہیں مل سکا ۔ اس عظیم سانحے اور صدمے نے ان دونوں کو نڈھال کر دیا ہے جس کی وجہ سے وہ محض زندہ لاش بنے ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود یہ لوگ دنیاوی امور خوش اسلوبی کے ساتھ سرانجام دے رہے ہیں۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بجھتے ہوئے دیئے کو جلایا ہے آپ نے
    دل میں مرے خوشی کو جگایا ہے آپ نے
    ایسے نظر کا تیر چلایا ہے آپ نے
    دل کو مرے دیوانہ بنایا ہے آپ نے
    غم آپ نے دیئے تو مرا حوصلہ بڑھا
    کیسے کہوں کہ دل کو دکھایا ہے آپ نے
    ہیں کس کے انتظار میں آنکھیں بچھی ہوئیں
    کس کے لیے یہ گھر کو سجایا ہے آپ نے
    لوگوں نے خوب داد بھی دی ، تالیاں بجیں
    محفل میں جو بھی شعر سنایا ہے آپ نے
    دنیا کی چشم آپ پہ اس وقت ہے اٹھی
    جب بارِ غم انیسہ اٹھایا ہے آپ نے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    زخم طعنوں سے بھر رہی ہوں میں
    اور تجھے یاد کر رہی ہوں میں
    دل کو ہے یہ گماں ، تُو آئے گا
    تیری خاطر سنور رہی ہوں میں
    آرزو تم سے ملنے کی ہے مگر
    پر زمانے سے ڈر رہی ہوں میں
    مجھ کو یاد آتا ہے سدا وہ پل
    جب تری ہم سفر رہی ہوں میں
    جس پہ چلتی تھی ساتھ میں تیرے
    اس سے اب بھی گزر رہی ہوں میں
    میں انیسہ کسی کی ہو نہ سکی
    آج بھی اس پہ مر رہی ہوں میں

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    انکار کرو یا کرو اقرار مری جان
    الفت نہیں جاتی کبھی بیکار مری جان
    زحمت تو ذرا ہوگی مگر دیکھ لے اس کو
    بیمار ترا ہے پسِ دیوار مری جان
    ظالم ہے کوئی اور کوئی مظلوم جہاں میں
    ہے سب کا الگ دہر میں کردار مری جان
    گر ساتھ ترا ہو تو نہیں غم کوئی مجھ کو
    ہر دن ہے مرے واسطے تہوار
    تم آؤ انیسہ سے اگر ملنے کی خاطر
    بدھوار بھی ہو جائے گا اتوار مری جان

  • کتابیں ساتھ دیتی ہیں،ازقلم:حسین ثاقب

    کتابیں ساتھ دیتی ہیں،ازقلم:حسین ثاقب

    کتابیں ساتھ دیتی ہیں

    (عالمی یوم کتاب کے حوالے سے)

    حسین ثاقب

    کتابیں ساتھ دیتی ہیں
    کتابیں روشنی ہیں، دوست ہیں اور رہنما بھی ہیں
    کسی منزل پہ جانا ہو
    کسی رستے پہ چلنا ہو
    کتابیں مشعلیں بن کر
    اندھیرے راستوں کو جگمگاتی ہیں
    کتابیں ہاتھ تھامے منزلوں تک لے کے جاتی ہیں
    کتابوں میں دفینے ہیں، جواہر ہیں، خزانے ہیں
    دفینے علم و حکمت کے، جواہر عشق و مستی کے
    خزانے شاعری کے اور ہر اس حسن و خوبی کے
    جنہیں اپنا کے ملتی ہے کچھ ایسی سروری جس سے
    خدا انسان کی تخلیق پہ خود ناز کرتا ہے
    کتابیں جس بھی صورت میں ملیں
    تہذیب کا اک خوبصورت استعارہ ہیں
    نشانِ منزلِ مقصود ہیں اپنی
    سو تم دیکھو اگر کچھ قافلے ایسے
    جو اپنی منزلوں سے دور بھٹکے پھر رہے ہوں
    اور ایسے راستوں پہ گامزن ہوں
    جو فقط تاریکیوں کی سمت جاتے ہیں
    تو ان کا ہاتھ تھامو اور
    ان کا رخ کتابوں کی طرف موڑو
    کتابیں ان کو ان کی منزل مقصود تک پہنچا کے آئیں گی
    قیامت تک رفیقِ خاص بن کر دوستی کا مان رکھیں گی
    کتابیں ساتھ دیتی ہیں

  • داغ دل ہم کو یاد آنے لگے

    داغ دل ہم کو یاد آنے لگے

    داغ دل ہم کو یاد آنے لگے
    لوگ اپنے دیے جلانے لگے

    اقبال بانو

    یوم وفات: 21 اپریل 2009

    پاکستان کی معروف غزل گائیک و گلوکارہ اقبال بانو کو مداحوں سے بچھڑے 14 برس بیت گئے‘ ان کی آواز میں گایا فیض احمد فیض کا کلام ’ہم دیکھیں گے‘ آج بھی برصغیر کے عوام دلوں کی آواز ہے۔اقبال بانو کو بچپن سے ہی موسیقی سے لگاؤتھا جسے پروان چڑھانے میں ان کے والد نے اہم کردارادا کیا، انتھک محنت اور باقاعدہ تربیت کے بعد موسیقی کی دنیا میں قدم رکھنے والی اقبال بانو نے جو گایا کمال کردیا۔

    انھوں نے فلم گمنام ، قاتل ، انتقام، سرفروش، عشق لیلی اور ناگن جیسی سپرہٹ فلموں میں گیت گائے ۔فلم قاتل میں ان کی آواز میں گایا ہواگیت پائل میں گیت ہیں چھم چھم کے، تولاکھ چلے ری گوری تھم تھم کے نے انھیں شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیا.
    اقبال بانو کوغزل گائیکی کے ساتھ ساتھ کلاسیکل، نیم کلاسیکل، ٹھمری اوردادھرہ میں بھی خاص ملکہ حاصل تھا۔ وہ اردو، پنجابی ، فارسی زبانوں پر مکمل عبور رکھتی تھیں، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے مختلف زبانوں میں حاصل ہونے والی خصوصی مہارت سے دنیائے موسیقی میں نمایاں مقام حاصل بنایا۔

    انہیں 1990 میں صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔ اقبال بانو 21اپریل 2009 کو 74 برس کی عمر میں مختصر علالت کے بعد جہان فانی سے کوچ کرگئی تھیں۔

  • حال دل اس کو سنا کر ہے بہت خوش کوثر

    حال دل اس کو سنا کر ہے بہت خوش کوثر

    حال دل اس کو سنا کر ہے بہت خوش کوثر
    لیکن اب سوچ ذرا تری اوقات کیا رہ گئی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    21 اپریل 1934

    ادیب، شاعر،صحافی اور سیاستدان مولانا کوثر نیازی کا یومِ وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔………..
    پاکستان کے ممتاز ادیب ، شاعر ،سیاستدان،صحافی، مقرر اور دانشور مولانا کوثر نیازی 21 اپریل 1934 میں ضلع میانوالی کے ایک گاوں موسی خیل میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد صاحب کا نام فتح محمد خان نیازی ہے جبکہ مولانا کوثر نیازی کا اصل نام محمد حیات خان ہے۔ مولانا کے والد فتح خان نیازی اور چچا مظفر خان نیازی اپنے علاقہ کی بااثر شخصیات میں شامل تھے ۔ مولانا کوثر نیازی پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ، سابق صدر اور سابق وزیر اعظم ذوالفقارعلی بھٹو کے قریبی اور بااعتماد ساتھیوں میں شامل تھے۔ بھٹو کی کابینہ میں پہلے وفاقی وزیر مذہبی اموراور بعد ازاں وفاقی وزیر اطلاعات مقرر کیے گئے محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنے دور اقتدار میں انہیں اسلامی نظریاتی کونسل کا چیئر مین مقرر کیا تھا۔ مولانا کئی کتابوں کے مصنف ہیں جن میں ان کی ایک کتاب ” اور لائن کٹ گئی” کو بہت شہرت اور پذیرائی ملی۔ ” دیدہ ور” بھی ان کی تصنیف ہے ۔ انہوں نے لاہور سے ایک ہفت روزہ ” شہاب” کا بھی اجرا کیا تھا۔ مولانا صاحب کی 19 مارچ 1994 میں اسلام آباد میں وفات ہوئی۔

    مولانا کوثر نیازی صاحب
    ۔۔۔۔۔۔
    چند لمحوں کے لیے ایک ملاقات رہی
    پھر نہ وہ تو نہ وہ میں اور نہ وہ رات رہی

    تجھے کچھ اس کی خبر بھی ہے بھولنے والے
    کسی کو یاد تیری بار بار آئی ہے
    وہ مل نہ سکے یاد تو ہے ان کی سلامت
    اس یاد سے بھی ہم نے بہت کام لیا ہے

    اپنے وحشت زدہ کمرے کی اک الماری میں
    تیری تصویر عقیدت سے سجا رکھی ہے

    اے مسیحا کبھی تو بھی تو اسے دیکھنے آ
    تیرے بیمار کو سنتے ہیں کہ آرام نہیں

    اس نے اخلاص کے مارے ہوئے دیوانے کو
    ایک آوارہ و بد نام سا شاعر جانا

    بے سبب آج آنکھ پر نم ہے
    جانے کس بات کا مجھے غم ہے

    حال دل اس کو سنا کر ہے بہت خوش کوثرؔ
    لیکن اب سوچ ذرا کیا تری اوقات رہی

    ضرور تیری گلی سے گزر ہوا ہوگا
    کہ آج باد صبا بے قرار آئی ہے
    یہ درد کہ ہے تیری محبت کی امانت
    مر جائیں گے اس درد کا درماں نہ کریں گے

    پرکھنے والے مجھے دیکھ اس طرح بھی ذرا
    اگر ہے کھوٹ تو کیسے چمک رہا ہوں میں

    تباہی کی گھڑی شاید زمانے پر نہیں آئی
    ابھی اپنے کئے پر آدمی شرما ہی جاتا ہے

    میں نے ہر گام اسے اول و آخر جانا
    لیکن اس نے مجھے لمحوں کا مسافر جانا

    جذبات میں آ کر مرنا تو مشکل سی کوئی مشکل ہی نہیں
    اے جان جہاں ہم تیرے لیے جینا بھی گوارا کرتے ہیں

    ہر مرحلۂ غم میں ملی اس سے تسلی
    ہر موڑ پہ گھبرا کے ترا نام لیا ہے

    منجدھار میں ناؤ ڈوب گئی تو موجوں سے آواز آئی
    دریائے محبت سے کوثرؔ یوں پار اتارا کرتے ہیں

    بر سر عام اقرار اگر نا ممکن ہے تو یوں ہی سہی
    کم از کم ادراک تو کر لے گن بے شک مت مان مرے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کبھی جو نکہت زلف نگار آئی ہے
    فضائے مردۂ دل میں بہار آئی ہے

    ضرور تیری گلی سے گزر ہوا ہوگا
    کہ آج باد صبا بے قرار آئی ہے

    کوئی دماغ تصور بھی جن کا کر نہ سکے
    یہ جان زار وہ لمحے گزار آئی ہے

    تجھے کچھ اس کی خبر بھی ہے بھولنے والے
    کسی کو یاد تیری بار بار آئی ہے

    خدا گواہ کہ ان کے فراق میں کوثرؔ
    جو سانس آئی ہے وہ سوگوار آئی ہے

  • نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے

    نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے

    شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ؒ

    یوم وفات: 21 اپریل 1938

    مختصر تعارف

    نام محمد اقبال، ڈاکٹر ،سر، تخلص اقبال۔ لقب ’’حکیم الامت‘‘، ’’ترجمان حقیقت‘‘، ’’مفکراسلام‘‘ اور ’’شاعر مشرق‘‘۔

    ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ۹؍نومبر ۱۸۷۷ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ایف اے مرے کالج، سیالکوٹ سے کیا۔ عربی، فارسی ادب اور اسلامیات کی تعلیم مولوی میر حسن سے حاصل کی۔۱۸۹۵ء میں لاہور آگئے۔ بی اے اور ایم اے کی ڈگریاں لینے کے بعد گورنمنٹ کالج، لاہور میں فلسفے کے پروفیسر ہوگئے۔۱۹۰۵ء میں بیرسٹری کی تعلیم کے لیے انگلستان چلے گئے۔ وہاں قانون کے ساتھ فلسفے کی تعلیم بھی جاری رکھی۔ہائیڈل برگ(میونخ) یونیورسٹی میں ’’ایران میں مابعد الطبیعیات کا ارتقا‘‘ پر مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی ۱۹۲۲ء میں ان کی اعلا قابلیت کے صلے میں حکومت برطانیہ نے ’’سر‘‘ کا خطاب عطا کیا ۔ ۱۹۲۷ء میں پنجاب کی مجلس مقننہ کے ممبر چنے گئے۔۱۹۳۰ء میں مسلم لیگ کے صدر منتخب ہوئے جو خطبہ دیا اس میں مسلمانوں کی ایک علیحدہ مملکت کا مطالبہ پیش کیا جس کا نتیجہ بالآخر قیام پاکستان کی صورت میں برآمد ہوا علامہ اقبال نے شروع میں کچھ غزلیں ارشد گورگانی کو دکھائیں۔ داغ سے بذریعہ خط کتابت بھی تلمذ رہا۔علامہ اقبال بیسویں صدی کے اردو کے سب سے بڑے شاعر ہیں۔ان کے اردو مجموعہ ہائے کلام کے نام یہ ہیں: ’’بانگ دار‘‘، ’’بال جبریل‘‘، ’’ضرب کلیم‘‘،’’ارمغان حجاز‘‘(اردو اور فارسی کلام)۔ ’’کلیات اقبال‘‘ اردو بھی چھپ گئی ہے ۔ فارسی تصانیف کے نام یہ ہیں:’’اسرار خودی‘‘، ’’رموز بے خودی‘‘، ’’پیام مشرق‘‘، ’’زبور عجم‘‘، ’’جاوید نامہ‘‘، ’’مسافر‘‘، ’’پس چہ باید کرد‘‘ علامہ اقبال ۲۱؍اپریل، ۱۹۳۸ بمطابق ۲۰، صفر المصفر ۱۳۵۷ء کو فجر کے وقت اپنے گھر جاوید منزل میں طویل علالت کے باعث خالق حقیقی سے جا ملے اور ان کو لاہور میں بادشاہی مسجد کے پہلو میں سپرد خاک کیا گیا.

    شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ؒ کا یوم پیدائش پر ان کے کچھ منتخب اشعار بطور خراج عقیدت.

    کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میں
    کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبین نیاز میں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی
    تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن
    ۔۔۔۔۔۔۔
    خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
    خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    نہ پوچھو مجھ سے لذت خانماں برباد رہنے کی
    نشیمن سیکڑوں میں نے بنا کر پھونک ڈالے ہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    یقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم
    جہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    جنہیں میں ڈھونڈھتا تھا آسمانوں میں زمینوں میں
    وہ نکلے میرے ظلمت خانۂ دل کے مکینوں میں

    ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
    بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    تو نے یہ کیا غضب کیا مجھ کو بھی فاش کر دیا
    میں ہی تو ایک راز تھا سینۂ کائنات میں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    حرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایک
    کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک

    اگر ہنگامہ ہائے شوق سے ہے لا مکاں خالی
    خطا کس کی ہے یا رب لا مکاں تیرا ہے یا میرا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    عجب مزہ ہے مجھے لذت خودی دے کر
    وہ چاہتے ہیں کہ میں اپنے آپ میں نہ رہوں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    سوداگری نہیں یہ عبادت خدا کی ہے
    اے بے خبر جزا کی تمنا بھی چھوڑ دے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے
    ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    نہ تو زمیں کے لیے ہے نہ آسماں کے لیے
    جہاں ہے تیرے لیے تو نہیں جہاں کے لیے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخر
    کرتے ہیں خطاب آخر اٹھتے ہیں حجاب آخر
    ۔۔۔۔۔۔۔
    یوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہو
    تم سبھی کچھ ہو بتاؤ مسلمان بھی ہو
    ۔۔۔۔۔۔۔
    وطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہے
    تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر
    تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
    ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے نومیدی
    مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں
    مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا
    ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی
    کھلتے ہیں غلاموں پر اسرار شہنشاہی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    میر عرب کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے
    میرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    باغ بہشت سے مجھے حکم سفر دیا تھا کیوں
    کار جہاں دراز ہے اب مرا انتظار کر
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبان عقل
    لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں
    تو میرا شوق دیکھ مرا انتظار دیکھ
    ۔۔۔۔۔۔۔
    دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یا رب
    کیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہو
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ڈھونڈتا پھرتا ہوں میں اقبال اپنے آپ کو
    آپ ہی گویا مسافر آپ ہی منزل ہوں میں

  • جب پیار نہیں ہے تو بھلا کیوں نہیں دیتے

    جب پیار نہیں ہے تو بھلا کیوں نہیں دیتے

    جب پیار نہیں ہے تو بھلا کیوں نہیں دیتے
    خط کس لیے رکھے ہیں جلا کیوں نہیں دیتے
    ..
    حسرت جے پوری

    یومِ پیدائش : 15 اپریل 1922

    اصل نام محمد اقبال حسین اور حسرت تخلص تھا۔ ۱۹۱۸ء میں پیدا ہوئے۔ آبائی وطن جے پور(بھارت) تھا۔ روزگار کے سلسلے میں بمبئی آگئے۔ بمبئی میں انھوں نے کئی سال تک بس کنڈکٹری کی۔ اس سے قبل اوپیراہاؤس کے فٹ پاتھ پر کھلونے فروخت کیے۔ اسکول میں معمولی ملازمت کی۔ اس دوران ان کی شاعری کا شغل جاری رہا۔ایک مشاعرے میں پرتھوی راج کو ان کا کلام بہت پسند آیا۔ ان کی وساطت سے انھیں راج کپور کی فلم’’برسات‘‘ میں گانے لکھنے کا موقع مل گیا۔ اس طرح وہ فلمی دنیا سے منسلک ہوگئے۔ وہ بالی ووڈ (بمبئی) کے ممتاز نغمہ نگار تھے۔ ۱۷؍ستمبر۱۹۹۹ء کو بمبئی میں اس جہان فانی سے کوچ کرگئے۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:95
    منتخب کلام
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہم راتوں کو اٹھ اٹھ کے جن کے لیے روتے ہیں
    وہ غیر کی بانہوں میں آرام سے سوتے ہیں

    ہم اشک جدائی کے گرنے ہی نہیں دیتے
    بے چین سی پلکوں میں موتی سے پروتے ہیں

    ہوتا چلا آیا ہے بے درد زمانے میں
    سچائی کی راہوں میں کانٹے سبھی بوتے ہیں

    انداز ستم ان کا دیکھے تو کوئی حسرتؔ
    ملنے کو تو ملتے ہیں نشتر سے چھبوتے ہیں
    ….۔۔۔۔۔

    یہ کون آ گئی دل ربا مہکی مہکی
    فضا مہکی مہکی ہوا مہکی مہکی
    وہ آنکھوں میں کاجل وہ بالوں میں گجرا
    ہتھیلی پہ اس کے حنا مہکی مہکی
    خدا جانے کس کس کی یہ جان لے گی
    وہ قاتل ادا وہ قضا مہکی مہکی
    سویرے سویرے مرے گھر پہ آئی
    اے حسرتؔ وہ باد صبا مہکی مہکی

    شعلہ ہی سہی آگ لگانے کے لیے آ
    پھر نور کے منظر کو دکھانے کے لیے آ
    یہ کس نے کہا ہے مری تقدیر بنا دے
    آ اپنے ہی ہاتھوں سے مٹانے کے لیے آ
    اے دوست مجھے گردش حالات نے گھیرا
    تو زلف کی کملی میں چھپانے کے لیے آ
    دیوار ہے دنیا اسے راہوں سے ہٹا دے
    ہر رسم محبت کو مٹانے کے لیے آ
    مطلب تری آمد سے ہے درماں سے نہیں ہے
    حسرتؔ کی قسم دل ہی دکھانے کے لئے آ

  • سيمون دی بووار ،دی سیکنڈ سیکس کی خالق

    سيمون دی بووار ،دی سیکنڈ سیکس کی خالق

    سيمون دی بووار (The Secnd Sex کی خالق)

    یومِ پیدائش : 9 جنوری 1908
    یوم وفات : 14 اپریل 1986

    سيمون دی بووار ( Simone de Beauvoir) عالمی شہرت یافتہ فرانسیسی ادیبہ، ناول نگار، آپ بیتی نگار، مصنفہ، فلسفی اور سیاسی کارکن تھیں جن کی کئی کتابیں شائع ہوئیں ۔ وہ 9 جنوری 1908ء کو فرانس کے شہر پیرس میں پیدا ہوئیں اور 14 اپریل 1986ء کو پیرس میں ہی اُن کا انتقال ہوا اور وہیں سپرد خاک ہوئیں۔

    سيمون دی بووار کی شہرہ آفاق تصنیف : عورت یا سیکنڈ سیکس . جو اپنے انگریزی نام سیکنڈ سیکس سے مشہور ہے، 1949ء میں شائع ہونے والی مشہور فرانسیسی وجودی سیمون دی بووار کی نسائیت سے متعلق کتاب ہے، جس میں مصنفہ نے پوری تاریخ میں خواتین کے ساتھ ہونے والے سلوک پر بحث کی ہے۔سیمون دی بووار نے 1946ء سے 1949ء کے درمیان میں تقریباً 14 ماہ میں تحقیق کی اور کتاب لکھی۔اس نے اسے دو جلدوں میں، حقائق اور خرافات اور رواں تجربہ میں شائع کیا ۔کچھ ابواب پہلے لیس ٹیمپس ماڈرنز میں شائع ہوئے۔سیمون دی بووار کی یہ مشہور کتاب، دی سیکنڈ سیکس The Second Sex اکثر نسائیت کے فلسفے کا ایک بڑا کام اور نسائیت کی دوسری لہر کا نقطۂ آغاز سمجھا جاتا ہے۔

    خلاصہ: سیمون دی بووار سوال اٹھاتی ہے کہ عورت کیا ہے؟ اس کا موقف ہے کہ انسان کو پہلے سے طے شدہ (یعنی انسان سے مراد مرد) سمجھا جاتا ہے، جب کہ عورت کو "دوسری” (یعنی انسان کی مونث) سمجھا جاتا ہے: "اس طرح انسانیت (سے مراد صرف) مرد ہے اور مرد، عورت کی خود سے نسبت ظاہر کرتا ہے۔” سیمون دی بووار نے مختلف مخلوقات (مچھلی، کیڑے مکوڑے، ممالیہ) نطفہ سے انڈا کے تعلق کو بیان کرتے ہوئے انسان تک جاتی ہے۔ وہ نسل کے لحاظ سے عورتوں کی ذات کے تئیں مطابقت بیان کرتی ہے، مرد اور خواتین کی فزیالوجی کا موازنہ کرتی ہے، اس نتیجے پر کہ اقدار فعلیات پر مبنی نہیں ہوسکتے ہیں اور حیاتیات کے حقائق کو وجودیاتی، معاشی، معاشرتی اور فعلیاتی تناظر کی روشنی میں دیکھنا چاہئے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وکیپیڈیا سے ماخوذ
    تلاش و ترتیب : آغا نیاز مگسی

  • ثمینہ احمد اور منظر صہبائی کو شادی کی تیسری سالگرہ مبارکباد

    ثمینہ احمد اور منظر صہبائی کو شادی کی تیسری سالگرہ مبارکباد

    ثمینہ احمد اور منظر صہبائی کو شادی کی تیسری سالگرہ مبارکباد

    آج سے 3 سال قبل کرونائی وباء کے خوفناک موسم میں 70 سالہ اداکارہ ثمینہ احمد اور اتنی ہی عمر کے اداکار منظر صہبائی نے ایسی عمر میں نکاح کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس عمر میں زیادہ تر لوگ ایسا کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے . سچ تو یہ ہے کہ اس عمر میں ساتھی کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے لیکن معاشرے کے دباؤ کی وجہ سے اکثر لوگ دوبارہ شادی کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے . ثمینہ احمد کی پہلی شادی مشہور پاکستانی فلم ڈائریکٹر فرید احمد کے ساتھ ہوئی تھی لیکن کچھ سال بعد ان کے پہلے شوہر نے انھیں چھوڑ کر اداکارہ شمیم آرا سے نکاح کر لیا تھا . ثمینہ احمد نے اپنے دونوں بچوں کو اکیلے پالا اور مثالی زندگی گزاری .

    منظر صہبائی اپنی پہلی بیوی اور بچوں کے ساتھ بہت سالوں تک جرمنی میں رہائش پذیر تھے . کچھ سال پہلے ان کی بیوی کی وفات ہو گئی . ثمینہ احمد اور منظر صہبائی دھوپ کی دیوار کے سیٹ پر پہلی بار ملے . یہ اس ڈرامے میں میاں بیوی کا کردار نبھا رہے تھے . دونوں کی اچھی دوستی ہو گئی اور یہ دوستی جلد ہی پیار میں بدل گئی . منظر صہبائی نے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر ثمینہ احمد کو شادی کی پیشکش کی جسے سن کر انھے اچھا تو لگا لیکن ان کے لئے یہ قدم اٹھانا آسان نہیں تھا . دونوں کے بچوں نے ان کی حوصلہ افزائی کی اور اس طرح ان کا نکا ح ہو گیا . منظر صہبائی اور ثمینہ احمد کی ہنستی مسکراتی زندگی سے صاف ظاہر ہے کے اگر بہترین شریک حیات مل جائے تو انسان کسی بھی عمر میں ایک بار پھر سے جی اٹھتا ہے . جس طرح لوگوں نے ان کو بے انتہا پیار دیا اس سے بھی صاف ظاہر ہے کے پاکستانی معاشرہ میں ایسے رشتوں کو اچھی نظر سے دیکھا جاتا ہے .

    ثمینہ احمد اور منظر صہبائی کا کہنا ہے کے کسی کے ساتھ کسی بھی عمر میں پیار ہونا فطری عمل ہے اور جب ایسا ہو تو اس شخص کو زندگی کا حصّہ بنا لینا چا ہیئے یہ سوچے بغیر کے لوگ کیا کہیں گے .

  • وارث لدھیانوی

    وارث لدھیانوی

    دیساں دا راجہ میرے بابل دا پیارا
    دلاں ٹھہر جا یار دا نظارا لین دے

    وارث لدھیانوی

    اصل نام: چوہدری محمد اسماعیل

    پیدائش:11 اپریل 1928ء
    لدھیانہ، پنجاب
    (برطانوی ہندوستان)
    وفات:05 ستمبر 1992ء
    لاہور، پاکستان
    قلمی نام:وارث لدھیانوی
    زبان:پنجابی
    نسل:پنجابی
    شہریت:پاکستانی
    اصناف:فلمی نغمہ نگاری
    نمایاں کام:
    ۔۔۔۔۔۔
    دیساں دا راجہ میرے بابل دا پیارا نغمہ
    دلاں ٹھہر جا یار دا نظارا لین دے (نغمہ)
    جھانجھریا پہنا دو، بندیا بھی چمکا دو (نغمہ)
    باریں برسیں کھٹن گیا سیں (نغمہ)

    وارث لدھیانوی (پیدائش: 11 اپریل، 1928ء – وفات: 5 ستمبر، 1992ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے پنجابی زبان کے شاعر اور فلمی نغمہ نگار ہیں جو اپنے گیتوں دیساں دا راجا میرے بابل دا پیارا ، باریں برسیں کھٹن گیا سیں اور دلاں ٹھہر جا یار دا نظارا لین دے کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں۔

    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔
    وارث لدھیانوی 11 اپریل، 1928ء کو لدھیانہ، پنجاب (برطانوی ہندوستان) میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام چوہدری محمد اسماعیل تھا۔ ابتدا میں عاجز تخلص کرتے تھے پھر استاد دامن کے شاگرد ہوئے اور وارث تخلص کر لیا۔ ابتدا میں وہ محکمہ ریلوے میں کلرک تھے۔ بعد ازاں نوکری چھوڑ کر فلمی دنیا سے وابستہ ہوگئے۔
    وارث لدھیانوی نے لاتعداد پنجابی فلموں کے نغمات تحریر کیے جن میں کرتار سنگھ، مکھڑا، رنگیلا، دو رنگیلے، باوجی، شیر خان اور شعلے کے نام سرفہرست ہیں۔
    مشہور فلمیں
    ۔۔۔۔۔۔
    شہری بابو
    کرتار سنگھ
    رنگیلا
    دو رنگیلے
    باؤجی
    شیر خان
    شعلے
    مکھڑا
    انوکھا داج
    ہیر
    ہیر سیال
    پہلا وار
    ڈاکو راج
    ضدی
    مشہور نغمات

    اساں جان کے میت لئی اکھ وے (ہیر)
    دلا ٹھہر جا یار دا نظارا لین دے (مکھڑا)
    پہلی واری اج اوہناں اکھیاں نیں تکیا
    ایہو جیہا تکیا کہ ہائے مار سٹیا(ٹھاہ)
    آسینے نال لگ جا ٹھاہ کر کے (ٹھاہ)
    نی چنبے دیے بند کلیئے (پہلا وار)
    دیساں دا راجا میرے بابل دا پیارا (کرتار سنگھ)
    باریں برسیں کھٹن گیا سیں (کرتار سنگھ)
    جھانجھریا پہنا دو، بندیا بھی چمکا دو (شیر خان)
    سانوں وی لے چل نال وے
    بائو سوہنی گڈی والیا (باؤجی)
    وفات
    ۔۔۔۔۔۔
    وارث لدھیانوی 05 ستمبر 1992ء کو لاہور، پاکستان میں وفات پا گئے۔