Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • حقیقت نے انہیں سمیٹ کے حیدر بنا دیا

    حقیقت نے انہیں سمیٹ کے حیدر بنا دیا

    صدیوں پہ تھے محیط جو اوصاف انبیاء
    حقیقت نے انہیں سمیٹ کے حیدر بنا دیا

    شاہد نقوی

    11 اپریل 1916 یوم ولادت
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اردو ادب میں سلام ، نوحہ ، مرثیہ اور منقبت کے حوالے سے ایک بہت بڑے شاعر سید کلیم آل عبا شاہد نقوی 11 اپریل 1916 میں اتر پردیش ہندستان کے شکار پور شہر میں سید فدا علی اور نور جہاں بیگم کے گھر میں پیدا ہوئے ۔ ابتدائی تعلیم وہیں سے حاصل کی ۔ تقسیم ہند کے بعد وہ اپنے خاندان کے ہمراہ ہجرت کر کے کراچی پاکستان میں آباد ہو گئے۔ شاعری انہوں نے ہندوستان میں ہی شروع کر دی تھی وہ ابتدا میں غزل گو شاعر تھے اور وہاں ہونے والے مشاعروں میں اکثر غزل ہی پڑھا کرتے تھے مگر پاکستان آنے کے بعد انہوں نے غزلیہ شاعری کی بجائے نوحہ اور مرثیہ گوئی پر اپنی تمام تر توجہ اور دلچسپی مرکوز کر دی مجالس عزا اور پی ٹی وی وغیرہ میں وہ پیش پیش رہتے تھے ۔ پاکستان میں وہ مرثیہ گو شعراء کی فہرست میں صفحہ اول میں شمار ہوتے تھے ۔ شاہد نقوی صاحب کے ایک بھائی عابد حشری اور قریبی عزیز سجاد احمد رزمی بھی بہت اچھے شاعر تھے۔ شاہد نقوی کی اولاد میں کل 13 بچے تھے ان کے بیٹے شکیل احند نقوی اور صاحبزادی سیدہ نرگس حیات ہیں اور ماشاء الله سیدہ نرگس صاحبہ اردو کی مشہور و معروف شاعرہ ہیں جو کہ نرگس رضا کے نام سے مشہور ہیں ۔ ان کا خاندان کہکشاں انچولی کراچی میں آباد ہے۔ جوش ملیح آبادی ،فیض احمد فیض اور طالب جوہری صاحب شاہد نقوی کے ہمعصر شعرا اور ان کے حلقہ احباب میں شامل تھے ۔ سید شاہد نقوی کو کلیم آل عبا کا خطاب علامہ طالب جوہری نے دیا تھا کراچی ، جام شورو اور لاہور کے تعلیمی اداروں کے نصاب میں ان کی شاعری کا حوالہ دیا گیا ہے. جبکہ ایف سی کالج لاہور کی ایک طالبہ صبغہ فاروق نے شاہد نقوی کے فن اور شخصیت پر صدر شعبہ اردو ڈاکٹر آغا سہیل کی نگرانی میں ایم اے اردو کیلیے تحقیقی مقالہ تحریر کیا ہے 10 جولائی 2011 میں شاہد نقوی صاحب کی کراچی میں وفات ہوئی۔

    کلیم آل عبا شاہد نقوی کی تصانیف

    1 صراط سلسبیل 2 نفس مطمئن 3 کرب جاوداں 4 رومال زہرا 5 ضمیر مصلوب 6 حصار حرم زیارت ناحیہ کا منظوم ترجمہ 7 حدیث کسا منظوم 8 والعصر

    چند منتخب قطعات

    صدیوں پہ تھے محیط جو اوصاف انبیاء
    حق نے انہیں سمیٹ کے حیدر بنا دیا

    پتہ چلا کہ ہمیں ہیں حسین کے غم تک
    سمجھ رہے تھے کہ ہم تک حسین کا غم ہے

    ہیں گود میں حسن کو پیمبر لیے ہوئے
    یعنی جواب طعنہ ابتر لیے ہوئے

    اے معنی مولا میں الجھنے والو
    جو تم بن نہیں سکتے وہ مولا ہیں علی

  • اک رہزن کو امیر کارواں سمجھا تھا میں

    اک رہزن کو امیر کارواں سمجھا تھا میں

    اک رہزن کو امیر کارواں سمجھا تھا میں
    اپنی بدبختی کو منزل کا نشاں سمجھا تھا میں

    دوارکا داس شعلہ

    10؍اپریل 1983 یوم وفات

    نام #لالہدوارکاداس اور تخلص #شعلہؔ تھا۔
    13؍اگست 1910ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ لاہور کے ایک عوامی مدرسے میں آٹھویں جماعت تک تعلیم حاصل کی۔ ان کے والد معروف طبیب تھے جن کا دواخانہ انارکلی بازار لاہور میں تھا۔ پڑھائی میں دل نہ لگنے کی وجہ سے ان کے والد نے انھیں اپنے دواخانہ میں شیشی دھونے اور ہاتھ بٹانے کے لیے رکھ لیا۔ اسی دوران انھیں شاعری کا شوق پیدا ہوا، مشورۂ سخن ابوالاثر حفیظؔ جالندهری صاحب سے کرتے رہے۔ 1947ء میں تقسیم ہند بعد اپنے کنبے کے ساتھ دہلی چلے آئے۔ عمر آخر تک دہلی ہی آپ کا مسکن رہا۔
    دوارکا داس شعلہؔ نے 10؍اپریل 1983ء کو دہلی میں وفات پائی۔
    #بحوالہ ریختہ ڈاٹ_کام

    منتخب غزلیں

    اپنوں کے ستم یاد نہ غیروں کی جفا یاد
    وہ ہنس کے ذرا بولے تو کچھ بھی نہ رہا یاد

    کیا لطف اٹھائے گا جہان گزراں کا
    وہ شخص کہ جس شخص کو رہتی ہو قضا یاد

    ہم کاگ اڑا دیتے ہیں بوتل کا اسی وقت
    گرمی میں بھی آ جاتی ہے جب کالی گھٹا یاد

    محشر میں بھی ہم تیری شکایت نہ کریں گے
    آ جائے گی اس دن بھی ہمیں شرط وفا یاد

    اللہ ترا شکر کہ امید کرم ہے
    اللہ ترا شکر کہ اس نے بھی کیا یاد

    کل تک ترے باعث میں اسے بھولا ہوا تھا
    کیوں آنے لگا پھر سے مجھے آج خدا یاد

    ذرا نگاہ اٹھاؤ کہ غم کی رات کٹے
    نظر نظر سے ملاؤ کہ غم کی رات کٹے

    اب آ گئے ہو تو میرے قریب آ بیٹھو
    دوئی کے نقش مٹاؤ کہ غم کی رات کٹے

    شب فراق ہے شمع امید لے آؤ
    کوئی چراغ جلاؤ کہ غم کی رات کٹے

    کہاں ہیں ساقی‌ و مطرب کہاں ہے پیر حرم
    کہاں ہیں سب یہ بلاؤ کہ غم کی رات کٹے

    کہاں ہو میکدے والو ذرا ادھر آؤ
    ہمیں بھی آج پلاؤ کہ غم کی رات کٹے

    نہیں کچھ اور جو ممکن تو یار شعلہؔ کی
    کوئی غزل ہی سناؤ کہ غم کی رات کٹے

    ایک رہزن کو امیر کارواں سمجھا تھا میں
    اپنی بد بختی کو منزل کا نشاں سمجھا تھا میں

    تیری معصومی کے صدقے میری محرومی کی خیر
    اے کہ تجھ کو صورت آرام جاں سمجھا تھا میں

    دشمن دل دشمن دیں دشمن ہوش و حواس
    ہائے کس نا مہرباں کو مہرباں سمجھا تھا میں

    دوست کا در آ گیا تو خود بخود جھکنے لگی
    جس جبیں کو بے نیاز آستاں سمجھا تھا میں

    قافلے کا قافلہ ہی راہ میں گم کر دیا
    تجھ کو تو ظالم دلیل رہرواں سمجھا تھا میں

    میرے دل میں آ کے بیٹھے اور یہیں کے ہو گئے
    آپ کو تو یوسف بے کارواں سمجھا تھا میں

    اک دروغ مصلحت آمیز تھا تیرا سلوک
    یہ حقیقت تھی مگر یہ بھی کہاں سمجھا تھا میں

    زندگی انعام قدرت ہی سہی لیکن اسے
    کیا غلط سمجھا اگر یار گراں سمجھا تھا میں

    پھیر تھا قسمت کا وہ چکر تھا میرے پاؤں کا
    جس کو شعلہؔ گردش ہفت آسماں سمجھا تھا میں

  • میں روشنی ہوں فلک پہ قیام کرتی ہوں

    میں روشنی ہوں فلک پہ قیام کرتی ہوں

    یہ لوگ کیوں میری آنکھوں کو دیکھتے ہیں بتا
    میں روشنی ہوں فلک پہ قیام کرتی ہوں

    کرن وقار

    یوم وفات : 10 اپریل 2021ء

    اردو اور پنجابی کی معتوف شاعرہ اور کالم نگار کرن وقار 1987 میں اوکاڑہ پنجاب پاکستان میں پیدا ہوئیں۔ وہ شاعری اور اخبارات کے لیے کالم لکھتی رہیں ۔ 10 اپریل 2021 کو34 سال کی عمر میں لاہور کے ایک ہسپتال میں کورونا کے سبب انتقال کر گئیں۔ ان کی دو سالہ اکلوتی بیٹی آئمہ یتیم ہو گئی۔ جبکہ کرن صاحبہ کی وفات سےقبل ایک ماہ کے دوران ان کی والدہ اور ان کے ایک بھائی بھی کورونا میں مبتلا ہو کر انتقال کر گئے تھے ۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    رات بھر انتظار کرتی رہی
    میں ستارے شمار کرتی رہی

    یاد آتی رہی تری ہر پل
    اور مجھے بے قرار کرتی رہی

    میں وہ لڑکی ہوں جو محبت پر
    سارے جذبے نثار کرتی رہی

    اس نے دھوکے دیئے مجھے ہر بار
    اور میں اعتبار کرتی رہی

    دل کے بہلانے کو خزاں رت میں
    ذکرِ فصلِ بہار کرتی رہی

    جس کو آنا تھا وہ آچکا کرن
    خود کو میں یونہی خوار کرتی رہی

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    پیڑ جو باثمر نہیں ہوتا
    وہ کبھی معتبر نہیں ہوتا

    دل سے جب تک نہیں نکلتی ہے
    بات میں کچھ اثر نہیں ہوتا

    مجھ کو منزل کبھی نہیں ملتی
    تو اگر ہم سفر نہیں ہوتا

    ایک در سے جو لو لگاتا ہے
    وہ بھی دربدر نہیں ہوتا

    زخم سب کو بھلا دکھائیں کیوں
    ‘ہر کوئی چارہ گر نہیں ہوتا

    میں کرن بس خدا سے ڈرتی ہوں
    مجھ کو لوگوں سے ڈر نہیں ہوتا

  • صدیوں میں جو رشتوں کے محل ہم نے بنائے

    صدیوں میں جو رشتوں کے محل ہم نے بنائے

    لمحوں میں انہیں وقت کی سازش نے گرایا
    صدیوں میں جو رشتوں کے محل ہم نے بنائے

    صادقہ نواب سحر

    8 اپریل 1959 یوم پیدائش
    ۔……………………….

    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اردو اور ہندی کی نامور ادیبہ، شاعرہ، افسانہ نویس، ناول نگار ، ڈرامہ رائٹر اور ماہر تعلیم صادقہ نواب سحر 8 اپریل 1959 میں گنٹور(آندھرا پردیش) میں پیدا ہوئیں ۔انھوں نے اردو میں ایم اے اورپی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ بلکہ ہندی اور انگریزی میں بھی ایم اے کی ڈگریاں حاصل کیں ۔اردو ادب کی دنیا میں وہ ایک ناول نگار؛افسانہ نگار ؛شاعرہ؛ڈراما نگار؛تنقید نگار؛مترجم اور بچوں کی ادیبہ کی حیثیت سے معروف ہیں۔ صادقہ نواب سحر کا اصل نام صادقہ آرا ہے ان کے والد کا نام خواجہ میاں شیخ اور شوہر کا نام محمد اسلم نواب ہے۔ وہ مختلف تعلیمی اداروں میں لیکچرار کی حیثیت سے فرائض سر انجام دینے کے بعد کے ایم سی کالج کھپولی مہاراشٹر میں ایسوسی ایٹ پروفیسر کی حیثیت سے رٹائر ہوئیں۔ ان کے اردو شعری مجموعے ، ست رنگی، باوجود، چھوٹی سی یہ دھرتی، دریا کوئی سویا سا اردو افسانوی مجموعے، خلش بے نام سی، انگاروں کے پھول، بیچ ندی کا مچھیرا ، اردو ڈراموں کا مجموعہ ” مکھوٹو کے درمیان” ہندی افسانوی مجموعے ” منت” شیشے کا دروازہ ” شائع ہو چکے ہیں۔

    غزل

    تمہاری یاد میں ڈوبے کہاں کہاں سے گئے
    ہم اپنے آپ سے بچھڑے کہ سب جہاں سے گئے

    نئی زمین کی خواہش میں ہم تو نکلے تھے
    زمین کیسی یہاں ہم تو آسماں سے گئے

    زمانے بھر کو سمیٹا تھا اپنے دامن میں
    پلٹ کے دیکھا تو خود اپنے ہی مکاں سے گئے

    یہ کھوٹے سکے ہیں الفاظ اس صدی کی سنو
    یہ ان کا دور نہیں یہ تو اس جہاں سے گئے

    سحر فضول کی خواہش ہے زندگی جینا
    مرے تو لوگ نہ جانیں گے کس جہاں سے گئے

  • آنند مورتی،روحانی پیشوا، مصنفہ کا یوم پیداش

    آنند مورتی،روحانی پیشوا، مصنفہ کا یوم پیداش

    پیدائش:08 اپریل 1966ء
    امرتسر
    شہریت:بھارت

    آنند مورتی گرو ماں ہندستان کی ایک روحانی رہنما جو توحید الہٰ کی داعیہ ہیں۔ ہندو، مسلم، بدھ، مسیحی، یہودی اور صوفیا سب کے یہاں گرو ماں کی باتیں احترام سے سنی جاتی ہیں۔ گرو ماں کی بیشتر تقریروں کا محور جنس، مذہب، سیاست اور قومیت ہوتا ہے۔
    گرو ماں کو جلال الدین رومی سے خصوصی مناسبت ہے اور ان کے فارسی اشعار کو ہندی زبان میں ترجمہ کرکے انہیں گایا کرتی ہیں۔
    تعلیمات
    ۔۔۔۔۔۔
    گرو ماں کی تعلیمات میں توحید الہٰ پر خصوصی زور دیا جاتا ہے۔ نیز وہ مراقبہ، یوگا، محاسبہ نفس اور اخلاص کی تعلیم بھی دیتی ہیں۔ ساتھ ہی وہ تصوف، زین، تانتر اور یوگا میں مذکورہ مراقبہ نفس کے طریقوں کو بیان کرتی ہیں۔ گرو ماں شعور ذات کی اہمیت کی داعی ہیں نیز ان کا قول ہے کہ سالکین کو نفسانی خواہشوں اور مذہبی قیود سے آزاد رہنا چاہیے۔ انھیں کی وجہ سے سالکین کو روحانی تجربات سے محرومی ہوتی ہے۔
    آشرم
    ۔۔۔۔۔
    گرو ماں کا مرکزی آشرم سونی پت ضلع کے گنور شہر میں واقع ہے۔

  • جگر مراد آبادی

    جگر مراد آبادی

    جگر مرادآبادی

    6 اپریل 1890

    بیسویں صدی کے اردو کے مشہور شاعروں میں سے ایک بے پناہ مقبولیت کے لئے معروف. جگر آزاد طبیعت کے مالک اور حُسن پرست تھے۔ ان کا شمار اردو کے مقبول ترین شعرا میں ہوتا ہے۔ جگر کو اپنے عہد وہ شہرت اور مقبولیت ملی جو بہت کم شاعروں کو نصیب ہوئی۔ اس میں ان کی رنگا رنگ شخصیت کے ساتھ ان کے رنگِ تغزّل اور ترنم کا بڑا دخل ہے۔ کئی شعرا نے جگر کا طرزِ شاعری اپنانے اور ان کے ترنّم کی نقل کرنے کی کوشش کی، لیکن اس مقام و مرتبے کو نہ پہنچ سکے جو جگر کا خاصّہ تھا۔

    ًمختصر تعارف

    جگر مراد آبادی کا اصل نام علی سکندر تھا اور تخلص جگر تھا ۶ اپریل ۱۸۹۰ ء کو مراد آباد میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گھر اور مقامی مکتب میں ہوئی، جہاں اردو اور فارسی کے علاوہ عربی بھی سیکھی۔ رسمی تعلیم میں دھیان نہ تھا، سو اسے ادھورا چھوڑ دیا۔ شاعری ورثے میں ملی تھی، کیوں کہ ان کے والد اور چچا شاعر تھے۔ جگر نے اصغر گونڈوی کی صحبت اختیار کی اور بعد میں شعروسخن کی دنیا میں نام و مقام بنایا جگر رندِ بلانوش تھے۔ ان کی زندگی اور شخصیت کے بعض پہلو ایسے بھی ہیں جنھیں بیان کرنا مناسب نہیں۔ تاہم جگر بہت مخلص، صاف گو اور ہمدرد انسان تھے۔ آخر عمر میں ترکِ مے نوشی کا انھیں خاص فائدہ نہ ہوا اور صحّت بگڑتی چلی گئی، مالی حالات دگرگوں ہوگئے اور جگر موت کے قریب ہوتے چلے گئے جگر مراد آبادی پاک و ہند کے مشاعروں کی جان ہوا کرتے تھے۔ انھیں دعوت دے کر بلایا جاتا اور منتظمین ان کی ناز برداری کرتے۔ جگر سامعین سے بے پناہ داد وصول کرتے۔ بھارتی حکومت نے انھیں ’’پدما بھوشن‘‘ خطاب دیا۔ علی گڑھ یونیورسٹی نے انھیں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری دی۔ ان کے آخری مجموعہ کلام ’’آتِش گل‘‘ پر ان کو ’’ساہتیہ اکیڈمی‘‘ سے پانچ ہزار روپیہ انعام اور دو سو روپیہ ماہانہ وظیفہ مقرر ہوا تھا۔ ’آتش گل‘ کے علاوہ ’’داغ جگر‘‘ اور ’’شعلۂ طور‘‘ ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ۹؍ستمبر ۱۹۶۰ کو اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔

    جگر مرادآبادی کا یوم پیدائش پر ان کے کچھ منتخب اشعار بطور خراج عقیدت.

    اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کا کام نہیں
    فیضان محبت عام سہی عرفان محبت عام نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ان کا جو فرض ہے وہ اہل سیاست جانیں
    میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ہم کو مٹا سکے یہ زمانہ میں دم نہیں
    ہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    دل میں کسی کے راہ کئے جا رہا ہوں میں
    کتنا حسیں گناہ کئے جا رہا ہوں میں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    محبت میں اک ایسا وقت بھی دل پر گزرتا ہے
    کہ آنسو خشک ہو جاتے ہیں طغیانی نہیں جاتی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    جو ذرا سی پی کے بہک گیا اسے میکدے سے نکال دو
    یہاں تنگ نظر کا گزر نہیں یہاں اہل ظرف کا کام ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ابتدا وہ تھی کہ جینا تھا محبت میں محال
    انتہا یہ ہے کہ اب مرنا بھی مشکل ہو گیا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اپنا زمانہ آپ بناتے ہیں اہل دل
    ہم وہ نہیں کہ جن کو زمانہ بنا گیا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    یہ عشق نہیں آساں اتنا ہی سمجھ لیجے
    اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    آباد اگر نہ دل ہو تو برباد کیجیے
    گلشن نہ بن سکے تو بیاباں بنائیے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاد
    اب مجھ کو نہیں کچھ بھی محبت کے سوا یاد
    ۔۔۔۔۔۔۔
    کیا حسن نے سمجھا ہے کیا عشق نے جانا ہے
    ہم خاک نشینوں کی ٹھوکر میں زمانا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اک لفظ محبت کا ادنیٰ یہ فسانا ہے
    سمٹے تو دل عاشق پھیلے تو زمانہ ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    جان کر من جملۂ خاصان مے خانہ مجھے
    مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ مجھے.

  • یوم ولادت، شہلا شہناز، معروف شاعر، ادیبہ

    یوم ولادت، شہلا شہناز، معروف شاعر، ادیبہ

    میں محبت میں کفایت نہیں کرنے والی
    خرچ کرنے کو دل و جان بھی لا سکتی ہوں

    شہلا شہناز

    اصل نام : شہناز
    قلمی نام : شہلا شہناز
    تاریخ پیدائش:07 اپریل 1976ء
    جائےپیدائش: فیصل آباد
    رہائش : گوجرانوالہ
    تعلیم: ماسٹرز
    پیشہ : لیکچرار شپ
    ادب سے تعلق: بہت گہرا
    مشاغل : کتاب پڑھنا اور کری ایشنز
    پسندیدہ شاعر، ادیب: اقبال، پروین شاکر، مجید امجد
    پسندیدہ کتب:خوشبو۔ اور بھی بہت ہیں
    ادبی خدمات: کچھ پیپرز اور میگزینز میں
    کبھی کبھار لکھ لیتی ہوں آرٹیکلز
    پیغام :ادب سیکھیں اور سکھائیں

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    آنکھ میں عکسِ خوش امکان بھی لا سکتی ہوں
    میں ترے عشق پہ ایمان بھی لا سکتی ہوں
    پھول اور پیڑ بہت میرا کہا مانتے ہیں
    میں بیاباں میں گلستان بھی لا سکتی ہوں
    تم عداوت کا بیابان جہاں دیکھتے ہو
    میں وہاں پیار کا ارمان بھی لا سکتی ہوں
    جس جگہ مسندِ ہر سود پہ تم بیٹھے ہو
    میں وہاں کرسی نقصان بھی لا سکتی ہوں
    اے خلش مجھ کو تڑپنے کا کوئی شوق نہیں
    ورنہ جب چاہوں نمکدان بھی لا سکتی ہوں
    میں محبت میں کفایت نہیں کرنے والی
    خرچ کرنے کو دل و جان بھی لا سکتی ہوں

    نمونۂ کلام
    ۔۔۔۔۔۔
    میں رنگ کو نہیں خوشبو کو پھول جانتی ہوں
    کہا تھا زخم سے تتلی نے مسکراتے ہوئے

    اس بار سمندر نے بلایا نہیں مجھ کو
    اس بار کسی دشت کی دعوت ہے مرے پاس

    کانچ کی چڑیا کس طرح اڑتی
    کشش چشمِ کوہسار میں تھی

    تم مرے ان دنوں کے ساتھی ہو
    جب میں بت جھڑ کے اعتبار میں تھی

    حرف کو پھول بنانے کا ہنر ہے مرے پاس
    تجھ کو لکھنے کے لیے رنگ دگر ہے مرے پاس

    ادھر گھمائیے اپنی ڈری ڈری آنکھیں
    حضور دشت کی جانب ذرہ ہرن کرئیے

    گلاب کی طرح مہکا چکے ہیں آپ مجھے
    جنابِ خار ذرا ٹھیک سے چبھن کرئیے

    وہ مجھ سے مجھ کو مانگتا رہتا ہے رات دن
    پر اس کی التماس میں طاقت تو ہے نہیں

  • معروف شاعرہ رفعت ناہید وفات پا گئیں

    معروف شاعرہ رفعت ناہید وفات پا گئیں

    روز اک چھاؤں سی آ رکتی ہے دروازے پر
    کون ہے کب سے بلاتا ہے جو باہر مجھ کو
    رفعت ناہید

    معروف شاعرہ رفعت ناہید مختصر علالت کے بعد ملتان میں انتقال کر گئیں۔

    ان کے بیٹے سعد ظفر کا کہنا ہے کہ آج سحری کے وقت ان کی اچانک طبیعت خراب ہونے پر ہسپتال لے جایا گیا، لیکن ہم انھیں بچا نہ سکے۔ رفعت ناہید معروف شاعر سعید ظفر اور نامور افسانہ نگار ،ماہر تعلیم اور بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کے سنڈیکیٹ کی رکن پروفیسر فرحت ظفر کی بہن تھیں

    سن ری چمیلی !!!
    میری سہیلی
    بڑی سیانی اور ہشیار
    تو نے میرا رنگ چرایا
    خوشبو میری ساری لے لی
    آ کے بیچ بہار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تھے گفتگو میں مگن ہجر ،رات ، تنہائی

    سلام میں نے کیا ، خاندان چھوڑ دیا

    رفعت ناہید

  • معروف شاعر منور بدایونی

    معروف شاعر منور بدایونی

    پیچھے مڑ مڑ کر نہ دیکھو اے "منور” بڑھ چلو
    شہر میں احباب تو کم ہیں سگے بھائی بہت

    منور بدایونی (پیدائش: 2 دسمبر 1908ء – وفات: 6 اپریل 1984ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے ممتاز شاعر تھے۔اُن کا تخلص منور تھا۔

    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    منور بدایونی 2 دسمبر، 1908ء کو لکھنؤ، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام ثقلین احمد تھا۔ ان کے شعری مجموعوں میں منور نعتیں، منوغزلیں اور منور قطعات اور منور نغمات شامل ہیں۔ ان کی کی شعری کلیات منور کلیات کے نام سے اشاعت پزیر ہوچکی ہے۔ منور بدایونی کے چھوٹے بھائی محشر بدایونی بھی اردو کے ممتاز شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔

    تصانیف
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)منور نعتیں
    ۔ (2)منور غزلیں
    ۔ (3)منور قطعات
    ۔ (4)منور نغمات
    ۔ (5)کلیات منور
    نمونۂ کلام
    ۔۔۔۔۔
    اشعار
    ۔۔۔۔۔
    پیچھے مڑ مڑ کر نہ دیکھو اے منورؔ بڑھ چلو
    شہر میں احباب تو کم ہیں سگے بھائی بہت

    جو دل کو دے گئی اک درد عمر بھر کے لیے
    تڑپ رہا ہوں ابھی تک میں اس نظر کے لیے

    علاج کی نہیں حاجت دل و جگر کے لیے
    بس اک نظر تری کافی ہے عمر بھر کے لیے

    اب کنج لحد میں ہوں میسر نہیں آنسو
    آیا ہے شب ہجر کا رونا مرے آگے

    نظر آتی ہیں سوئے آسماں کبھی بجلیاں کبھی آندھیاں
    کہیں جل نہ جائے یہ آشیاں کہیں اڑ نہ جائیں یہ چار پر

    وفات
    ۔۔۔۔۔
    منور بدایونی 6 اپریل 1984ء کو کراچی، پاکستان میں وفات پاگئے۔ وہ کراچی میں عزیز آباد کے قبرستان آسودۂ خاک ہیں۔

  • بھارت کی معروف صحافی فاطمہ زکریا

    بھارت کی معروف صحافی فاطمہ زکریا

    فاطمہ زکریا (تاریخ ولادت:17 فروری 1936ء،تاریخ وفات:06 اپریل 2021ء) ممبئی ٹائمز کی ایڈیٹر تھیں اور بعد میں ٹائمز آف انڈیا کی سنڈے ایڈیٹر ہوئیں۔ انھوں نے تاج ہوٹلز کے تاج میگزین کی ایڈیٹر کے طور پر بھی کام کیا۔

    مرحومہ فاطمہ زکریا ممبئی ٹائمز کی سابقہ ​​ایڈیٹر ، اور ٹائمز آف انڈیا کےسنڈے ایڈیشن ایڈیٹرکی بھی ایڈیٹر رہی تھیں۔ٹائمزآف انڈیا سے علحیدگی کے بعد فاطمہ زکریا تاج ہوٹل کے تاج میگزین کی ایڈیٹر بھی رہیں۔ ان کا دفتر ممبئی کے تاج محل ہوٹل میں واقع تھا۔ڈاکٹر رفیق زکریا کے2004 میں انتقال کےچند سال فاطمہ زکریا تاریخی شہر اورنگ آباد مہاراشٹر منتقل ہوگئی تھیں جہاں ان کے مرحوم شوہر نے مولانا آزاد ایجوکیشن ٹرسٹ قائم کیاتھا۔ یہ ان کا اسمبلی حلقہ تھا جہاں سے وہ کافی بار منتخب ہوئے اور ریاستی کابینہ میں وزیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ فاطمہ زکریانے اورنگ آباد کے ان تعلیمی اداروں کو اس حد تک تبدیل کیا کہ ان کا موازنہ ایشیا کے بہترین مراکز تعلیم سے کیا جاسکے۔

    زکریا نے اورنگ آباد میں مولانا آزاد ایجوکیشن ٹرسٹ کے کیمپس میں پہلا ریٹ فائیو اسٹار ہوٹل دی تاج ریذیڈنسی کے قیام کے لئے تاج گروپ آف ہوٹلوں میں شمولیت اختیار کی۔ وہ کافی ٹیبل میگزین تاج کی ایڈیٹر بن گئیں۔ اس کے بعد ، انہوں نے ایک برٹش یونیورسٹی کے ساتھ اتحاد میں ایک ہوٹل مینجمنٹ کورس متعارف کرایا۔ اس کورس کو ہندوستان میں بہترین اور قابل احترام تسلیم کیا جاتا ہے۔ وہ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ہوٹل مینجمنٹ اورنگ آباد کے بورڈ میں بھی رہیں۔وہ خود یالے یونیورسٹی کی تعلیم یافتہ تھیں ،ایک میمن مسلم۔فیملی سے تعلق رکھنے والی فاطمہ زکریا کی پرورش کرافورڈ مارکیٹ جیسے مسلم اکثریتی علاقے میں ہوئی تھی،لیکن انہوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور صحافت کے پیشہ سے وابستہ ہوئیں۔

    سنٹر فار ایڈوانسڈ اسٹڈیز ، شملہ کے خطوط پر ہائر لرننگ سنٹر قائم کرنے کے عمل میں ر ہیں۔ یہ جون 2010 سے کارآمد ہوا اور حقیقی علماء اور ماہرین تعلیم کو تحقیقی سرگرمیاں انجام دینے میں مدد فراہم کررہاہے، زکریا کو سیکولرسٹ سمجھا جاتا ہے ، تاہم وہ مسلمانوں کی تعلیمی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے خصوصی خیال رکھتی تھیں۔انہیں ہندوستان حکومت نے 2006 میں پدما شری دیا تھا۔ مرحومہ فاطمہ زکریا مولانا آزاد ایجوکیشن ٹرسٹ اور سوسائٹی کی بالترتیب چیئرپرسن اور صدر بھی تھیں،جبکہ مہاراشٹر کالج ممبئی کی صدر اور آل انڈیا خلافت کمیٹی اور بی ایڈ کالج کی بھی صدر نشین تھیں۔