Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • دو روزہ تر بیتی کارگاہ بعنوان، رموز و اوقاف ،تحریر:  عنبرین فاطمہ

    دو روزہ تر بیتی کارگاہ بعنوان، رموز و اوقاف ،تحریر: عنبرین فاطمہ

    زیرِ اہتمام تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس، بانی و سرپرست محترمہ عمارہ کنول چودھری ، دو روزہ تربیتی نشست کے سلسلے میں پہلی نشست بعنوان رموز و اوقاف مورخہ 25 دسمبر، 2025 بروز جمعرات شب 8 بجے بذریعہ صوتی پیغام منعقد ہوئی۔

    علم و ادب سے لبریز اس تربیتی کارگاہ کی میزبانی و تربیت کی ذمہ داری محترمہ سدرہ تنولی نے انجام دی۔ نشست کا باضابطہ آغاز مادام سدرہ تنولی کے پرخلوص سلام اور تعارف سے ہوا۔ آپ کا تعلق خیبر پختونخوا کے خوبصورت شہر مانسہرہ سے ہے۔ ادبی دنیا میں آپ کا سفر متنوع قابل قدر ہے۔ آپ نہ صرف کہانی نویس، افسانہ نگار، کالم نگار اور تبصرہ نگار ہیں، بلکہ "لوحِ ادب اکادمی” کے نام سے ایک ادبی ادارہ بھی کامیابی سے چلا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ آپ ملکی اور بین الاقوامی سطح کے مختلف علمی و ادبی اداروں سے منسلک ہیں۔

    تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس کے زیرِ اہتمام نشست کا آغاز محترمہ سدرہ تنولی نے رموزِ اوقاف کے تعارف و اہمیت بتاتے ہوۓ کیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ جیسے بول چال میں آواز کا زیر و بم اور توقف جذبات کا اظہار کرتے ہیں، ویسے ہی تحریر میں رموزِ اوقاف معانی کی وضاحت اور ربط پیدا کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ انگریزی میں انہیں(Punctuation )کہتے ہیں۔ محترمہ سدرہ تنولی صاحبہ نے موضوع کو نہایت سلیقے سے بیان کیا، جس سے سامعین کو رموزِ اوقاف کی اہمیت کا بخوبی ادراک ہوا۔ انہوں نے نہ صرف ان علامات کی وضاحت کی بلکہ ان کے عملی استعمال پر بھی مفصل گفتگو کی۔

    انہوں نے بتایا کہ ” سکتہ” (،) کا استعمال جملے میں چھوٹے مرکبات یا الفاظ کے درمیان وقفے کے لیے کیا جاتا ہے، جبکہ "ختمہ” (۔) جملے کے اختتام پر استعمال ہوتا ہے تاکہ مفہوم مکمل طور پر واضح ہو جائے۔ "سوالیہ نشان” (؟) سوالات پر مبنی جملوں میں استعمال ہوتا ہے، جو قاری کو جملے کی نوعیت سے آگاہ کرتا ہے۔علامتِ استجابیہ (!) جسے ندائیہ یا استجابیہ بھی کہا جاتا ہے، جذبات جیسے خوشی، غم، حیرت یا تعجب کے اظہار کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

    "علامتِ تفصیل” (:)کی اہمیت بیان کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ یہ علامت کسی بات کی وضاحت یا اس کی تفصیل پیش کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے، اور قاری کو ذہنی طور پر تیار کرتی ہے کہ آگے کچھ وضاحتی نکات آئیں گے۔

    "واوین” (” ") کے بارے میں بتایا کہ یہ اقتباس یا کسی خاص جملے کو نمایاں کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، جبکہ "قوسین” ([ ]) ضمنی بات یا وضاحتی مواد کے اضافے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

    انہوں نے بڑی بصیرت سے واضح کیا کہ اگر رموزِ اوقاف کو ان کے مقررہ اصول و ضوابط کے مطابق استعمال نہ کیا جائے، تو نہ صرف جملے کا حسن متاثر ہوتا ہے بلکہ مفہوم میں بھی ابہام اور غلط فہمی پیدا ہو سکتی ہے۔

    نشست کے اختتام پر شرکاء نے محترمہ سدرہ تنولی سے مختلف سوالات کیے جن کے جوابات انہوں نے نہایت دلنشین، مدلل اور مؤثر انداز میں دیے۔

    یہ علمی نشست تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس کے زیرِ اہتمام منعقدہ دو روزہ تربیتی کارگاہ کا پہلا دن تھا،جو اختتام پذیر ہوا۔

    بطورِ طالب علم و نو آموز لکھاری، میرے لیے یہ نشست بے حد معلوماتی اور فائدہ مند ثابت ہوئی۔ رموزِ اوقاف کے استعمال کی اہمیت اور باریکیوں کو جان کر مجھے یقین ہو گیا کہ تحریر کی تاثیر انہی چھوٹی چھوٹی علامتوں سے وابستہ ہے۔ تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس اسی طرح کی تعلیمی، ادبی اور تہذیبی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رکھے تاکہ ہماری زبان، ثقافت اور فکری ورثے کو مزید تقویت حاصل ہو۔

  • امام ابن تیمیہ کی زندگی کے سنہرے واقعات ،تبصرہ نگار : عبدالغفار مجاہد

    امام ابن تیمیہ کی زندگی کے سنہرے واقعات ،تبصرہ نگار : عبدالغفار مجاہد

    امت محمدیہ میں اللہ نے لاتعداد علما اور فقہا پیدا فرمائے لیکن ان میں امام ابن تیمیہ ایک ہی تھے ۔صدیاں گزر گئیں امام ابن تیمیہ جیسی کوئی دوسری علمی شخصیت پیدا نہیں ہوئی ۔ امام صاحب کا تعلق حران کے معروف علمی خاندان سے تھا جس کے بارے میں بجا طور پر کہا جاسکتا ہے ” ایں ہمہ خانہ آفتاب است “ ۔ امام ابن تیمیہ حدیث ، تفسیر ، فقہ ، اصول فقہ ، تاریخ ، اسماءالرجال ، فسلفہ ،منطق ، ادب کے امام تھے ۔ ان کے علاوہ بھی وہ تمام علوم جو اس وقت رائج تھے حاصل کئے ۔ کوئی بھی ایسا علم نہ تھا جو حاصل نہ کیا ہو۔ تاہم علم تفسیر آپ کا پسندیدہ موضوع تھا ۔ آپ کی تربیت بہت ہی پاکیزہ علمی گھرانے میں ہوئی تھی ۔ قوت حافظہ غضب کا تھا جس کتاب کو ایک دفعہ دیکھ لیتے وہ آپ کو مکمل طور پر یاد ہوجاتی ۔ قرون اولیٰ کے بعد جن چند اہم شخصیات نے اسلام کی نشرواشاعت میں نمایاں کردار ادا کیا ان میں امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ سرفہرست ہیں ۔ امام ابن تیمیہ مجدد تھے اور علم وہدیت کا ایک ایسا سرچشمہ تھے جن کی ضیا پاشیوں سے دنیائے اسلام جگمگا اٹھی تھی ۔اگر ہم موجودہ حالات کا موازنہ امام صاحب کے دور سے کریں تو ہمیں کافی حد تک مطابقت نظر آتی ہے ۔امام صاحب کی زندگی میں دنیائے اسلام فتنہ تاتار کی غارت گری کا شکار تھی دینی ، سیاسی ، سماجی اور اخلاقی اعتبار سے زبوں حالی کا شکار تھی ، خلافت اسلامیہ پارہ پارہ ہوچکی تھی ۔ حقانیت کا آفتاب ڈوب چکا تھا کہ اللہ نے امام صاحب کو علم وہدی کا آفتاب بنا پر دمشق کے آسمان پر طلوع کیا ۔ آج بھی اگر ہم دیکھیں تو دنیائے اسلام اسی طرح کے حالات سے دوچار ہے ۔ گو کہ آج ہم میں امام ابن تیمیہ جیسی کوئی ہستی اور شخصیت موجود نہیں تاہم امام صاحب کی کتب سے ہم رہنمائی لے سکتے ہیں ۔

    زیر تبصرہ کتاب ” امام ابن تیمیہ کی زندگی کے سنہرے واقعات “ اسی نقطہ نظر سے لکھی گئی ہے ۔ یہ کتاب اہل علم کےلئے بہتر ین تحفہ ہے، اس کتاب کی اشاعت سے دارالسلام نے ایک اہم علمی خدمت انجام دی ہے ۔اردو زبان میں ایسی شہرہ آفاق، جامع ، علمی اور تحقیقی کتاب کی ضرورت عرصہ دراز سے محسوس کی جارہی تھی ۔ یہ اپنے موضوع پر شاندار ، بیمثال اور لاجواب کتاب ہے جو کہ دارالسلام انٹرنیشنل کے مینجنگ ڈائریکٹر عبدالمالک مجاہد کی تصنیف ہے ۔عبدالمالک مجاہد کہتے ہیں ساتویں صدی ہجری میں پیدا ہونے والے امام ابن تیمیہ نے اس وقت کی ملت اسلامیہ پر چھائے جمود ، تاریکی اور بزدلی کو اپنے قلم ، کردار اور گفتار سے دور کیا۔وہ ملت اسلامیہ کی ان چند شخصیات میں سے تھے جنھوں نے علمی جہاد کے ساتھ ساتھ قلمی جہاد بھی کیا ۔اپنی زبان وبیان اور گفتار وکردار سے مجاہدین اسلام میں جہاد کی روح پھونک دی جبکہ اپنی تلوار سے فتنہ تاتار کا منہ موڑ دیا ۔ یہ کتاب امام ابن تیمیہ کی زندگی ، حالات ، حیات اور خدمات کے متعلق میرے سالہاسال کے مسلسل مطالعہ کا ماحاصل ہے ۔ یہ کتاب علما ، طلبہ ، اساتذہ ، سیاستدانوں اور حکمرانوں سمیت ہر ایک کےلئے مشعل راہ ہے ۔ اس کتاب کے مطالعہ سے آج بھی ملت اسلامیہ پر چھائے جمود اور بزدلی کو دور کیا جاسکتا ہے ۔ امام ابن تیمیہ اپنے وقت کے مجدد ، مصلح اور مجاہد تھے ۔یہی وجہ تھی کہ وہ پوری زندگی حکومتی ایوانوں اور راہداریوں سے دور رہے ۔ انھوں نے کوئی عہدہ قبول نہیں کیا ۔ ساری زندگی مسجد اموی سے متصل ایک چھوٹے سے حجرے میں دین کی آبیاری ، درس وتدریس ، تصنیف وتحقیق اور جہاد فی سبیل اللہ میں گزار دی ۔ وہ راست بازی ، حق گوئی وبے باکی ، زہد وبہادری کے اعلیٰ منصب پر فائز تھے ۔کتاب میں امام صاحب کی ولادت ، خاندان ، ابن تیمیہ کہنے کی وجہ ، ابتدائی حالات ، علوم شریعت کی تجدید ، حصول علم ، دیگر عصری علوم کا حصول ، باکمال مصنف ، محبت رسول کا والہانہ جذبہ ، مخالفین کے درمیان ہمہ گیر شخصیت ، ملکی معاملات میں اصلاحی کردار ، امام صاحب بیحثیت بت شکن ، جیل کی زندگی ، کبائر علما ءکے ہاں امام ابن تیمیہ کا مقام ومرتبہ ، امام ابن تیمیہ بطور ایک مجدد ، تاتاری جنگوں میں شرکت ، شاہ تاتار سے گفتگو ، امام صاحب بطور ایک کامیاب مناظر ، راہبوں ، صلیبیوں ، پادریوں، نجومیوں ، صوفیوں سے مناظرے ، امام صاحب کا دور ابتلاوآزمائش ، ابتلا وآزمائش میں ثابت قدمی ، امام صاحب کے شاگردان رشید ، تصانیف ، آپ کی مشہور تصانیف ، فضل وکمال ، وفات اور جنازہ ۔۔۔۔۔جیسے اہم موضوعات کو زیر بحث بنایا گیا ہے ۔ 4کلر آرٹ پیپر پر طبع شدہ کتاب ظاہری اعتبار سے جتنی خوبصورت ہے باطنی اعتبار سے اس سے بھی کہیں زیادہ دلکش اور جاذب نظر ہے ۔ ایسی علمی ، اصلاحی اور رہنما کتاب کا مطالعہ ہر ایک کےلئے بے حد ضروری ہے ۔کتاب کی قیمت 2700 روپے ہے ۔یہ کتاب دارالسلام انٹرنیشنل کے مرکزی شوروم لوئر مال نزد سیکرٹیریٹ سٹاپ سے حاصل کی جا سکتی ہے یا کتاب براہ راست حاصل کرنے کے لیے درج فون نمبر 04237324034 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے

  • آج کا نوجوان کتاب سے دور، قلم نگار:  اقصیٰ جبار

    آج کا نوجوان کتاب سے دور، قلم نگار: اقصیٰ جبار

    خوابوں کے چراغ،
    جو کبھی لفظوں میں جلتے تھے،
    اب اندھیروں میں گم ہیں۔
    فطرت کے راز،
    فلسفے کی گہرائی،
    داستانوں کے جہان
    سب ایک دھند میں کھو چکے ہیں۔

    کتاب، جو تھی روشنی کی مشعل،
    اب خاموش ہے،
    ایک بھولی ہوئی یاد کی طرح۔
    صفحات پر پھیلا سکون کا پیام،
    اب شور کی گونج میں دب چکا ہے۔

    آنکھیں اسکرین کی روشنی میں گم،
    فکر کے قافلے راستہ بھول گئے ہیں۔
    نہ سوال باقی، نہ جواب کا شوق،
    صرف ایک خالی پن،
    ایک بے سمت دوڑ۔

    کیا ہم لوٹیں گے اُس دریا کی جانب،
    جہاں حرف بہتے تھے؟
    جہاں سوچ کی خوشبو
    ذہنوں کو مہکاتی تھی؟
    یا یہ فاصلہ
    اک نہ ختم ہونے والا فسانہ بن جائے گا؟

    کتاب اب بھی پکارتی ہے
    خاموشی میں، تنہائی میں،
    اپنے حرفوں کے چراغوں سے

    اقصیٰ جبار

  • تربیتی کارگاہ علمِ عروض  ،تحریر:عنبرین فاطمہ

    تربیتی کارگاہ علمِ عروض ،تحریر:عنبرین فاطمہ

    زیرِ اہتمام: تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس
    بانی و سرپرست: محترمہ عمارہ کنول چودھری

    تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس کی علمی و ادبی کاوشوں کے تسلسل میں، محترمہ عمارہ کنول چودھری کی سرپرستی میں ایک ماہ پر محیط تربیتی کارگاہ بعنوان علمِ عروض منعقد کی گئی۔ اس تربیتی کارگاہ کا بنیادی مقصد نئی نسل کو اردو شاعری کے فنی اور عروضی رموز سے آگاہ کرنا اور تخلیقی اظہار کو مستحکم عروضی بنیادوں پر استوار کرنا تھا۔

    اس تربیتی کارگاہ کا آغاز مادام شاہانہ ناز صاحبہ نے مقررہ وقت پر نہایت خوش اسلوبی اور وقار کے ساتھ کیا، جبکہ مادام معظمہ شمس تبریز صاحبہ علالتِ طبع کے باعث شرکت سے معذور تھیں۔ مادام شاہانہ ناز صاحبہ نے آغاز ہی میں نہ صرف تربیتی کارگاہ کی فضا کو علمی ذوق اور ادبی سنجیدگی سے ہم آہنگ کیا، بلکہ ابتدائی اسباق کے تحت نظم و نثر کے امتیاز، غزل کی ہیئت و ساخت، قافیہ و ردیف، مطلع و مقطع اور حروفِ روی جیسے بنیادی مگر نہایت اہم موضوعات کو نہایت مؤثر اور مربوط انداز میں پیش کیا۔

    جلد ہی مادام معظمہ شمس تبریز صاحبہ، جو خود ایک نامور شاعرہ اور لکھاری ہیں۔ انہوں نے تربیتی فرائض سنبھالتے ہوئے باقاعدہ طور پر علمِ عروض کی تدریس کا آغاز کیا۔ انہوں نے مکتوبی و ملفوظی حروف، تقطیع کے اصول، بحور اور افاعیل جیسے دقیق اور باریک مباحث کو اس قدر سہل، مربوط اور مؤثر انداز میں سمجھایا کہ طالبات کے دلوں میں اس علم کے لیے فطری دلچسپی پیدا ہونے لگی۔
    ایک یادگار لمحہ وہ تھا جب مادام معظمہ شمس تبریز صاحبہ نے تمام طالبات سے فرمایا:
    "سب نے فعلن فعلن فعلن فعلن کے وزن پر ایک ایک شعر لکھنا ہے!”

    یہ لمحہ تمام طالبات کو نہ صرف ایک نئے موڑ پر لے گیا بلکہ ان کے سیکھے ہوئے علم کو عملی جامہ پہنانے کا بہترین موقع بھی فراہم کر گیا۔ علمِ عروض کے تمام قواعد و اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے اشعار تحریر کرنا محض ایک تکنیکی عمل نہیں، بلکہ فنِ شعر وہ آئینہ ہے جس میں خیال نکھرتا ہے اور احساس چمکتا ہے۔

    طالبات نے نہایت ذوق و شوق کے ساتھ اشعار کہے اور یہ احساس مزید گہرا ہوتا چلا گیا کہ عروض صرف ایک فن نہیں بلکہ ایک شعوری تربیت ہے، جہاں الفاظ کا توازن اور جذبات کا رچاؤ یکجا ہو جاتا ہے۔

    کارگاہ کی انفرادیت یہ تھی کہ اس میں ہر عمر کی طالبات شامل تھیں۔ مادام معظمہ شمس تبریز صاحبہ کی شفقت، محبت اور مشفقانہ انداز ہر دل میں گھر کر گیا۔ جب وہ یہ فرماتیں:
    "بچو! مجھے معلوم نہیں آپ کس عمر کے ہیں، مگر میرے لیے آپ سب بچے ہی ہیں۔”
    تو ایک ایسا شفقت بھرا تعلق قائم ہو جاتا تھا جو سیکھنے کے عمل کو مزید مؤثر اور خوشگوار بنا دیتا۔

    یہ تربیتی کارگاہ نہ صرف علمِ عروض کے فہم کا ذریعہ بنی بلکہ تحریری اور تخلیقی صلاحیتوں کو جِلا بخشنے میں بھی ایک سنگِ میل ثابت ہوئی۔
    علمِ عروض کی اس بامقصد اور پُراثر تربیتی کارگاہ میں مادام معظمہ شمس تبریز صاحبہ نے نہ صرف نہایت خوش اسلوبی سے مفاہیمِ عروض کو آسان اور قابلِ فہم انداز میں سمجھایا، بلکہ عملی مشقوں کے ذریعے اس فن کو دلنشین اور بامعنی بھی بنا دیا۔
    کارگاہ کے دوران ایک اور یادگار لمحہ وہ تھا جب مادام معظمہ صاحبہ نے ہم سب سے باقاعدہ غزل لکھنے کی مشق کروائی۔ انہوں نے اپنی غزل کا ایک مقطع پیش کیا اور ہدایت دی کہ اسی کے قافیے اور ردیف کی پابندی کے ساتھ مکمل غزل تحریر کی جائے۔ وہ مقطع یہ تھا:
    اے شمس! اک دن میں دوستوں کو
    نکال پھینکوں گی آستیں سے

    اس مقطع میں قافیہ: "یں” اور ردیف: "سے” تھا، جس کی بنیاد پر طالبات نے نہایت خوبصورت اور بامعنی اشعار تخلیق کیے۔ اسی قافیہ و ردیف کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے بھی ایک غزل لکھی، جس کا ایک شعر کچھ یوں تھا:

    نہ تیرگی تھی، نہ روشنی تھی
    عجب مناظر تھے سرمگیں سے

    علمِ عروض کی اس بامقصد تربیتی کارگاہ کے اختتام پر مادام معظمہ شمس تبریز صاحبہ نے ایک جامع حتمی امتحان لیا، جس میں نہ صرف سابقہ تمام اسباق سے متعلق سوالات شامل تھے بلکہ عملی مشق کے طور پر ایک مکمل غزل بمع مطلع و مقطع تحریر کرنے کی ہدایت بھی دی گئی۔

    یہ مرحلہ تربیتی کارگاہ کا نچوڑ ثابت ہوا، جس نے طالبات کی فہم، مہارت اور تخلیقی صلاحیتوں کو حقیقی معنوں میں پرکھا۔ اس امتحان میں نمایاں کارکردگی دکھانے والی طالبات کے لیے تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس کی جانب سے اسناد کے اجرا کا اعلان بھی کیا گیا۔

    ان خوش نصیب اور قابلِ فخر طالبات میں زینب لغاری، حلیمہ طارق، عنبرین فاطمہ، حمیرا انور اور طوبیٰ نور خانم کے اسمائے گرامی سرفہرست ہیں، جنہوں نے اپنی محنت، لگن اور عروضی بصیرت کے ذریعے یہ اعزاز حاصل کیا۔ ان کی کامیابی نہ صرف ان کی ذاتی کاوش کا ثمر تھی بلکہ مادام محترمہ کی مؤثر رہنمائی اور شفقت آمیز تدریس کا جیتا جاگتا ثبوت بھی تھی۔
    اس تربیتی کارگاہ کا اختتام نہایت خوش اسلوبی سے ہوا۔ یہ بامقصد علمی تربیتی کارگاہ بانی و سرپرستِ تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس محترمہ عمارہ کنول چودھری کی زیرِ نگرانی منعقد ہوئی، جس کا مرکزی ہدف نئی نسل کو اپنی زبان، تہذیب اور ادبی روایتوں سے جوڑنا تھا۔

    اختتامی مرحلے پر یہ احساس دل میں جاگزیں ہوا کہ ایسی علمی و ادبی تربیتی کارگاہیں نہ صرف شعری فنون کے فروغ کا ذریعہ بنتی ہیں بلکہ قومی زبان سے محبت کو بھی مضبوط بنیادیں فراہم کرتی ہیں۔ میری دلی خواہش ہے کہ تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس کے تحت آئندہ بھی اسی نوع کی تربیتی نشستیں منعقد ہوتی رہیں، تاکہ ہماری آنے والی نسلیں اپنی زبان، ادب اور ثقافت سے نہ صرف آشنا بلکہ گہری وابستگی بھی اختیار کریں۔

    علمِ عروض کی اس تربیتی کارگاہ نے ہمیں سخن فہمی اور فنِ شعر سے شناسائی عطا کی۔ یہ سعادت تحریکِ دفاعِ قومی زبان و لباس کے زیرِ اہتمام نصیب ہوئی، جس پر ہم دل کی گہرائیوں سے شکر گزار ہیں۔

    آخر میں مادام معظمہ شمس تبریز صاحبہ، مادام شاہانہ ناز صاحبہ کی رہنمائی، اور بانی و سرپرست محترمہ عمارہ کنول چودھری کے اخلاص و عزم کو دل سے خراجِ تحسین پیش کرتی ہوں۔
    دعا ہے کہ یہ تحریک علم، تہذیب اور قومی شناخت کے فروغ میں ہمیشہ مؤثر کردار ادا کرتی رہے۔

    آمین ثم آمین۔

  • رومن رسم‌الخط کے نقصانات،تحریر:عمارہ کنول چودھری

    رومن رسم‌الخط کے نقصانات،تحریر:عمارہ کنول چودھری

    ہم پچھلے 75 سالوں سے پڑھتے آ رہے ہیں کہ اردو پاکستان کی قومی زبان ہے۔
    یہ صرف ایک خواہش ہی رہی کہ قومی زبان کو سرکاری و دفتری سطح پر رائج کیا جائے، مگر اس سے پہلے کہ اردو کا نفاذ ممکن ہوتا، ہماری قومی زبان اردو پر رومن رسم‌الخط کے خطرات منڈلانے لگے۔دورِ حاضر پر نظر ڈالیں تو ہمیں انگریزی سے زیادہ رومن رسم‌الخط سے خطرہ محسوس ہوتا ہے۔

    نئی نسل اردو لکھنا بھولتی جا رہی ہے، اور قوم ہر گزرتے دن کے ساتھ رومن رسم‌الخط کی عادی بنتی جا رہی ہے۔آج اگر ہم سماجی ذرائع ابلاغ پر نظر ڈالیں یا اپنے حلقۂ احباب کا مشاہدہ کریں، تو اکثریت رومن رسم‌الخط میں پیغام رسانی کرتی نظر آتی ہے۔

    اب نوجوان نسل کو رومن رسم‌الخط میں لکھنا تو آسان لگتا ہے، مگر اردو رسم‌الخط میں لکھنا مشکل محسوس ہوتا ہے۔
    مختلف حلقوں میں موجود نامور ادبی شخصیات کو دیکھیں تو بہت کم ایسے افراد ہیں جو اردو رسم‌الخط میں پیغامات لکھتے ہیں۔

    وہ ادیب اور مصنفین، جنہیں اردو نے شہرت بخشی اور آج بھی دے رہی ہے، وہ بھی رومن رسم‌الخط یا انگریزی میں لکھنے کو ترجیح دیتے ہیں، حالانکہ اردو ادب سے منسلک لکھاریوں پر زیادہ ذمّے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اردو کو ترجیح دیں اور محبت سے اسے اپنائیں۔

    آج، بحیثیتِ پاکستانی، ہمیں خود سے یہ سوال پوچھنا چاہیے اگر ہم اپنی قومی زبان اردو کو عزت اور ترجیح نہیں دیں گے، تو کون دے گا؟

  • افسانہ،جامہ جاہ  ،تحریر:پارس کیانی

    افسانہ،جامہ جاہ ،تحریر:پارس کیانی

    سائرہ آج یونیورسٹی جانے کے لیے تیار ہو رہی تھی۔ آئینے کے سامنے کھڑے ہوئے وہ اپنے سادے کپڑوں کو دیکھ کر دبی آواز میں بولی،
    "کاش… کبھی میں بھی اچھی لگوں۔”
    اس کی آواز میں حسرت تھی، مگر وہ جانتی تھی کہ گھر کے حالات مہنگی خواہشوں کی اجازت نہیں دیتے۔

    دروازہ کھلا تو امی اندر آئیں۔ ہاتھ میں ایک بیگ تھا۔
    "یہ لو بیٹا… آج تم یہ پہن کر جاؤ۔”
    سائرہ نے حیرت سے پوچھا، "امی! یہ… یہ تو نیا ہے؟ اور کافی مہنگا بھی لگ رہا ہے۔ کہاں سے لیا؟”

    امی نے مصنوعی مسکراہٹ کی اوٹ میں اپنی تھکن چھپاتے ہوئے کہا، "بس لے لیا۔ کبھی کبھی بیٹیوں کے لیے دل چاہتا ہے کچھ کر دوں… تم پہنو گی تو اچھی لگو گی۔”
    سائرہ نے کپڑے ہاتھ میں لیے تو محسوس ہوا جیسے کپڑا نہیں، امی کی کئی قربانیاں اس کی ڈنت میں میں لگی ہیں۔
    “امی۔۔۔۔۔ ضرورت نہیں تھی۔”
    امی نے نرمی سے جواب دیا، “ضرورت کبھی کبھی دل کی بھی ہوتی ہے، صرف جسم کی نہیں۔ جاؤ بیٹا، پہنو۔”

    سائرہ نے وہ کپڑے پہنے تو پہلی بار اسے لگا کہ شاید وہ واقعی اچھی لگ سکتی ہے۔ مگر دل میں عجیب سا بوجھ تھا۔ جیسے اس لباس کی قیمت اس کی اپنی شخصیت سے کہیں زیادہ ہو۔
    یونیورسٹی پہنچی تو ماحول یکسر بدل گیا۔
    علی نے اسے دیکھتے ہی کہا،
    سائرہ! آج تم بہت خوبصورت لگ رہی ہو!”
    نمرہ نے حیرت سے پوچھا، “یہ ڈریس کہاں سے لیا؟ بہت اسٹائلش ہے!”
    ایک اور لڑکی بولی، “یار، سائرہ! تمہاری کلاس” تو آج ہی بنی ہے!”

    سائرہ ان کی باتیں سنتی رہی، مگر تعریف کا ہر ہر تیر کی طرح دل میں چبھ رہا تھی۔
    اس نے دھیرے سے پوچھا، “میں اچھی لگ رہی ہوں… یا یہ کپڑے اچھے ہیں؟”

    نمرہ ہنس کر بولی، "ارے کپڑے تو انسان کو نکھار دیتے ہیں۔ آج تو تم پوری برانڈ لگ رہی ہو!”

    یہ لفظ” برانڈ” اس کے دل پہ بجلی بن کر گرا۔

    پورے دن وہ ہنستی رہی، باتیں کرتی رہی، مگر اندر اتھل پتھل جاری رہی۔
    اسے محسوس ہو رہا تھا جیسے لوگ اسے نہیں، اس کے لباس کو دیکھ رہے ہوں۔
    اس کی ذات کہیں پیچھے،
    اور اس کا لباس اس کا تعارف بن گیا ۔۔۔۔۔لباس کی اہنی دیوار کے پیچھے سے وہ ایڑیاں اٹھا اٹھا کر جھانک رہی تھی کہ لوگوں کو بتا سکے "میں یہاں ہوں” لیکن وہ گونگی چیخیں کسی کو سنائی نہ دیں۔

    شام کو واپس گھر پہنچ کر وہ سیدھی اپنے کمرے میں گئی۔ کپڑے اتار کر تہہ کرتے ہوئے اس نے امی کو آواز دی، "امی، لوگ۔۔۔۔۔( الفاظ گلے میں اٹک گئے )

    آج سب بہت اچھے تھے۔ سب تعریفیں کر رہے تھے۔”

    امی خوش ہو کر بولیں، "میں نے کہا تھا نا؟

    اچھا لباس انسان کو اعتماد دیتا ہے۔”
    ( کبھی کبھی اندر کے عقلمند انسان کو مار کر ،بظاہر ایک بے وقوف انسان کو بھی جینے کا حق دینا چاہیے )۔سائرہ کی ماں خود کلامی کے انداز میں گویا ہوئی۔

    سائرہ نے کپڑے کو ہاتھ میں پکڑا، پھر امی سے نظریں چرا کر آہستہ سے پوچھا، "امی… اگر میں یہی تعریفیں اپنے پرانے کپڑوں میں سن لیتی… تو شاید مجھے یقین آ جاتا کہ یہ میری اپنی قیمت ہے۔ لیکن آج… یہ سب سن کر میں عجیب الجھن میں ہوں۔”

    امی کچھ لمحے خاموش رہیں۔ پھر بولیں، “لوگوں کی نظر بدلتے دیر نہیں لگتی۔”

    سائرہ نے تلخی سے کہا، “ہاں امی… پر مسئلہ یہ ہے کہ آج ان کی نظر میں میں نہیں تھی… یہ برانڈ تھا۔ یہ کپڑے تھے۔ یہ قیمت تھی۔”

    امی نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا، مگر سائرہ کی آنکھوں میں وہ تیز چمک تھی جو کسی گہری سمجھ بوجھ کے بعد پیدا ہوتی ہے۔

    رات گئے وہ تنہا بیٹھی رہی۔ کھڑکی سے باہر اندھیری گلی دیکھتی، اور اندر روشنی میں رکھے ہوئے ان کپڑوں کو۔
    اس نے دھیرے سے، جیسے خود کو سمجھاتے ہوئے کہا:

    “اگر میری عزت، میرا وقار، میری اہمیت… کسی کپڑے کی قیمت سے وابستہ ہو سکتی ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ اصل میں میری کوئی قیمت تھی ہی نہیں۔”

    اس کی آواز ٹوٹ رہی تھی، مگر الفاظ بہت صاف تھے:

    “لوگوں کی نظر میں میں وہی تھی… بس آج دس ہزار کے کپڑوں نے مجھے بدل دیا۔”

    وہ نیچے دیکھ کر کپڑوں پر ہاتھ پھیرنے لگی ۔۔۔
    کپڑے نرم تھے، مگر حقیقت بہت کڑی۔
    اور اس وقت سارا نے اپنے ہاتھوں سے جلدی جلدی اپنے پورے جسم کو ٹٹول ڈالا، ایستادہ پنڈلیاں،نرم سینہ، چمکتے ،لہکتے بازو ،
    مہندی لگے ہاتھ ، روشن ماتھا ،دہکتے گال ،شکایت أمادہ گلابی ہونٹ ،مغرور ستواں ناک ،شفاف گردن ایسی کہ اندر پانی جاتا بھی دکھائی دے ،اور کچھ نہیں تو قیمتی دل ،آرزوؤں سے بھرا ہوا دل ،محبتیں بانٹنے اور محبت پا لینے کے لیے بے تاب دل ۔۔۔۔۔۔وہ جسم کے روئیں روئیں کی قیمت بنا رہی تھی کہ شاید اس کے لباس سے زیادہ قیمت کے نکل آئیں

    کیونکہ اس کے اندر کوئی چیخ رہا تھا ۔۔۔۔۔ُ
    سائرہ۔ ۔۔۔۔۔۔۔! ! ! ! !

    “تمہاری قیمت دس ہزار بھی نہیں تھی لوگوں کی نظر میں۔”۔ ۔ ۔ ۔ ۔

  • ابھرتی ہوئی شاعرہ  لیلی رب نواز کے اعزاز میں "شام پزیرائی” کا انعقاد،تحریر:  صائمہ اختر

    ابھرتی ہوئی شاعرہ لیلی رب نواز کے اعزاز میں "شام پزیرائی” کا انعقاد،تحریر: صائمہ اختر

    وہ خوبرو جو بچھڑنے کی بات کرنے لگا
    خزاں نے گھیر لیا خوش مزاج لڑکی کو
    تحریک دفاع قومی زبان و لباس شعبہ خواتین کی یہ روایت ہے کہ ہمیشہ نوجوان نسل، ان کے علم و فن / قابلیت اور جذبے کو سراہتی ہے۔ نئی ابھرتی ہوئی شاعرات اور لکھاریوں کے فکر و فن کو ادبی حلقوں سے روشناس کراتی ہے اور ان کے لیے ادب کی دنیا کی راہیں ہموار کرنا ہماری تحریک کا اولین مقصد ہے تاکہ ان کو وہ مقام و مرتبہ ملے جس کی وہ حق دار ہیں۔ اسی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے خوبصورت لب و لہجے کی مالک شاعرہ لیلی رب نواز کے اعزاز میں 3 نومبر 2025ء بروز بدھ ایک بزم "شام پذیرائی” کا انعقاد کیا گیا۔ جس کی صدارت بانی و سرپرست عمارہ کنول نے کی۔ عمارہ کنول نے بزم میں شریک تمام سامعین کو خوش آمدید کہا ۔بزم کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کی سعادت پرتاثیر آواز کی مالک حافظہ آصفہ ارشاد کو حاصل ہوئی۔ عائشہ راجپوت نے اپنے منفرد اور دلکش انداز میں حمدیہ اشعار پیش کیے۔ نظامت کے فرائض بھی محترمہ عائشہ راجپوت نے بڑی خوبصورتی اور احسن طریقے سے نبھائے۔ اس یادگار بزم میں محترمہ ام کسوہ، ندا عباس ( انگلستان)فہیمہ شیرازی ،عائشہ راجپوت ،نغمہ عزیز ،عنبرین فاطمہ ،عائشہ صدیق ،حمیرا انور،عائشہ فاطمہ ،فاطمہ اعجاز،عابدہ صابر، محترمہ تاشفہ،عائشہ سعد ،عائشہ یاسین اور راقمہ صائمہ اختر نے شرکت کی۔ محترمہ فہیمہ شیرازی ے بہت پیارے اور منفرد انداز میں میٹھی بولی سرائیکی میں اپنا کلام پیش کیا۔

    لیلی رب نواز کو دعوت سخن دیا گیا انہوں نے اپنا پسندیدہ خوبصورت کلام سنا کر سامعین سے خوب داد سمیٹی۔ عائشہ راجپوت ے لیلی رب نواز صاحبہ سے کچھ سوالات کیے شاعرہ نے بہت خوبصورت انداز میں تمام سوالات کے جوابات دئیے۔ انہوں نے بتایا ان کے پسندیدہ شاعر محسن نقوی ہیں۔ لیلی رب نواز نے اپنی شاعری کے موضوعات پر بات کی۔ محبت، احساس، قدرت کی خوبصورتی پیڑ، پہاڑ اور پھول ان کے پسندیدہ موضوعات ہیں۔ انہوں نے زندگی کے تلخ حقائق کو بہت کم موضوع سخن بنایا ہے۔ شعری فن کی خوبصورتی، الفاظ کا انتخاب اور وزن و بحر کا استعمال ذہنی سکون اور خوشی کا سبب بنتا ہے لیلی رب نواز کی شاعری سن کر بالکل ایسا ہی لگا۔ انہوں نے اپنی شاعری میں داخلی کیفیات، احساسات اور درد کی شدت کو بڑی سچائی اور خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ ان کی شاعری میں جذبات و احساسات کی گونج سنائی دیتی ہے۔ اختتام میں عمارہ کنول نے تمام سامعین کا شکریہ ادا کیا یوں ایک خوبصورت اور یادگار محفل اختتام کو پہنچی۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے تحریک دفاع قومی زبان و لباس اسی طرح ترقی کرتی رہے اور نو آموز لکھاریوں کے لیے ایسی محافل کا انعقاد کرتی رہے تاکہ ہم ادب اور اپنی زبان سے جڑے رہیں

  • رقیہ غزل کا منفرد ادبی رنگ،تحریر:سعدیہ ہاشم

    رقیہ غزل کا منفرد ادبی رنگ،تحریر:سعدیہ ہاشم

    ادب کے وسیع آسمان پر کچھ شخصیات ستاروں کی طرح نہیں، ماہتاب کی طرح طلوع ہوتی ہیں؛ ان کی روشنی میں چاندنی بھی ہوتی ہے، لطافت بھی، اور ایک ایسی شائستگی بھی جو نگاہ کو ٹھہرنے پر مجبور کر دے۔رقیہ غزل انہی ماہتاب چہروں میں سے ایک ہیں،ایک مکمل جمالیاتی تجربہ،ایک دلنشیں احساس،اور ایک ایسی خالص روشنی جو لفظوں کے کینوس پر اپنا عکس چھوڑ جاتی ہے۔

    رقیہ غزل کی خوبصورتی صرف ظاہری رنگ و نگار کا نام نہیں،یہ ایک تہذیبی جمال ہے، جس میں پاکستانی اقدار کی مہک اور نسائی وقار کی چمک ہم آہنگ ہو کر دل پر اترتی ہے۔ان کی موٹی، خواب رنگ آنکھیں ایسے لگتی ہیں جیسے ہر پل کسی نئے استعارے کو جنم دینے والی ہوں۔ان کی موجودگی میں یوں محسوس ہوتا ہے کہ محفل کا موسم بدل گیا ہو،ہوا میں نرمی گھل گئی ہو،لفظوں میں تازگی اتر آئی ہو،اور فضا میں ایک مسحورکن سا سکوت بکھر گیا ہو۔

    جب وہ پاکستان کے روایتی لباس میں ملبوس، سر پر نفاست سے رکھا ہوا دوپٹہ اوڑھے محفل میں قدم رکھتی ہیں، تو دیکھنے والے کے دل میں پہلی ہی نظر میں یہ احساس جاگ اٹھتا ہے کہ ادب ابھی زندہ ہے، اقدار ابھی سانس لے رہی ہیں۔
    دوپٹے کی نرم لہریں ان کے وجود پر یوں مہکتا ہوا سایہ ڈالتی ہیں جیسے شخصیت کے گرد روشنی کا ہالہ ہو،پاکیزگی، ذہانت اور لطافت کا امتزاج،رقیہ غزل جب بولتی ہیں تو لگتا ہے الفاظ زبان سے نہیں، نیلے آسمان سے اترتے ہیں۔ان کے لہجے میں نرم روشنی بھی ہے اور ہمت بھی،وہ سچ کہتی ہیں، وہ دلیل دیتی ہیں، مگر دل کی زمین کو زخمی نہیں کرتیں۔

    نوائے وقت میں ان کے کالم پڑھنے والا جانتا ہے کہ یہ صرف تحریر نہیں،سوچ کے دریچوں میں پڑتی ہوئی وہ دھوپ ہے جس سے بصیرت کا جگنو روشن ہوتا ہے۔ادبی محفل ہو اور رقیہ غزل موجود نہ ہوں تو محفل ایک رنگ کم محسوس ہوتی ہے۔وہ آتی ہیں تو محفل کا لہجہ بدل جاتا ہے،مشاعرہ گویا ایک نعتیہ سکون میں ڈھل جاتا ہے،اور سامعین ہمہ تن گوش ہو جاتے ہیں جیسے کوئی نادر نسخۂ کمال کھلنے ہی والا ہو۔ان کی شخصیت، ان کے لب و لہجے، ان کے اندازِ نشست و برخاست میں ایک ایسا جمال ہے جو ایک پوری محفل کو معنوی بنادیتا ہے۔

    اگر ایک جملے میں ان کا تعارف ممکن ہو تو یوں کہا جائے رقیہ غزل وہ خوبصورت تحریر ہے جسے خدا نے انسان کی صورت میں لکھا۔رقیہ غزل ادب کی وہ شخصیت ہیں جن کے ہونٹوں سے نکلا ہوا ہر شعر، ہر کالم، ہر جملہ ایک نئے سفر کی دعوت دیتا ہے۔ وہ صرف لکھتی نہیں وہ زندگی کے تجربات کو لفظوں میں ڈھال کر دوسروں کے دلوں میں رکھ دیتی ہیں۔
    ادب کے ایسے چراغ کم جلتے ہیں، مگر جب جلتے ہیں تو صدیوں تک روشنی دیتے رہتے ہیں

  • انیلا ناز کے اعزاز میں اپووا کے پی چیپٹر کی شاندار محفل،رپورٹ :ناز پروین

    انیلا ناز کے اعزاز میں اپووا کے پی چیپٹر کی شاندار محفل،رپورٹ :ناز پروین

    پچیس(25) نومبر کی شام پشاور کلب کا خواب انگیز اور پُرسکون ماحول، جاڑے کی گلابی خنک ہوا اور خوشگوار فضا… انہی دلکش لمحوں میں اپووا کے پی چیپٹر کے زیرِ اہتمام اے آئی جی پولیس پشاور محترمہ انیلا ناز صاحبہ کے اعزاز میں ایک خصوصی نشست کا اہتمام کیا گیا، جس میں متعدد ممبران نے شرکت کی۔

    ہم محترمہ انیلا ناز کے دِل سے مشکور و ممنون ہیں کہ انہوں نے مصروفیات کے باوجود ہماری اس محفل میں شرکت فرما کر نہ صرف ہماری حوصلہ افزائی کی بلکہ محفل کا وقار بھی بڑھایا۔اس موقع پر جائنٹ سیکرٹری لبنیٰ نوید نے جون سے اب تک اپووا کے پی چیپٹر کی شاندار کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ محض پانچ ماہ کے قلیل عرصے میں چیپٹر نے ادبی، سماجی، ثقافتی اور مذہبی نوعیت کے متعدد پروگرامات کامیابی سے منعقد کیے۔محترمہ انیلا ناز اے آئی جی پولیس نے اپووا کے پی چیپٹر کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہیں اس متحرک گروپ کا حصہ بننے پر فخر ہے۔

    نشست کے دوران باہمی مشاورت سے فیصلہ کیا گیا کہ دسمبر میں قائد ڈے، کرسمس ڈے اور اے پی ایس کے شہداء (16 دسمبر) کی مناسبت سے خصوصی تقاریب منعقد کی جائیں گی۔ ساتھ ہی آسیہ بی بی (ممبر اپووا کے پی چیپٹر) کے افسانوی مجموعے کی رونمائی پر بھی گفتگو ہوئی۔

    ممبران نے محترمہ انیلا ناز کی زندگی، جدوجہد اور پیشہ ورانہ کامیابیوں کو بڑی دلچسپی سے سنا اور انہیں کے پی کی خواتین کے لیے باعثِ فخر، حوصلہ افزا اور روشن مثال قرار دیا۔ جاڑے کی سرد شام میں گرم گرم چائے اور لوازمات نے محفل کی رونق کو مزید دوبالا کر دیا۔اختتام پر اپووا کے پی چیپٹر کی جانب سے محترمہ انیلا ناز کو پھولوں کا گلدستہ اور سووینیئر پیش کیا گیا، جبکہ محترمہ انیلا ناز کی طرف سے اپووا کی ممبران کو پولیس سووینیئر عطا کیا گیا جو اس باوقار نشست کی ایک خوبصورت یاد بن گیا۔تقریب میں فائزہ شہزاد (صدر)، ناز پروین (جنرل سیکرٹری)، لبنیٰ نوید (جائنٹ سیکرٹری)، روبینہ معین (نائب صدر)، امامہ نوید، فاطمہ افضال جبکہ فرزانہ منور نے اپنی بیٹیوں کے ہمراہ شرکت کی۔

  • طاہرہ ردا کے شعری مجموعے کی تقریب رونمائی ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    طاہرہ ردا کے شعری مجموعے کی تقریب رونمائی ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    شکاگو میں اُردو محبت کی وہ شام جسے تاریخ یاد رکھے گی سات سمندر پار امریکہ کی ریاست شکاگو میں پروفیسر مسرور قریشی کی شاندار میزبانی اور طاہرہ ردا کے شعری سفر کا روشن سنگِ میل : شکاگو، جسے دنیا کاروبار و صنعت کا مرکز سمجھتی ہے، 24 نومبر کی اس شام جب ادب کے رنگ اپنے اندر سمیٹے کھڑا تھا تو یہ شہر کسی علم و شعر کے دربار سے کم محسوس نہیں ہوتا تھا۔ عالمی دبستان ادب شکاگو اور شکاگو شناسی فورم کے زیرِ اہتمام ہونے والی اس تقریبِ رونمائی کو دیکھ کر ایسا لگتا تھا جیسے لفظوں کی بارات سجی ہو، اور اس بارات کی دلہن طاہرہ ردا اپنی پہلی کتاب “تیرے نام کے سارے شعر” کے ہاتھوں آج باقاعدہ ادب کی دنیا میں اتری ہوں۔یہ صرف کتاب کی رونمائی نہیں تھی، بلکہ محبت، تخلیق، تہذیب اور اُردو کے دیرینہ وقار کی تجدید تھی۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس تقریب کی روحِ رواں تھے پروفیسر مسرور قریشی—وہ شخصیت جنہوں نے اس شام کو ایک عام ادبی تقریب سے اٹھا کر ایک تاریخی لمحے میں بدل دیا۔

    پروفیسر مسرور قریشی — شکاگو میں اردو تہذیب کے سچے سفیر
    تقریب کے دروازوں سے داخل ہونے والا ہر شخص یہ محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا تھا کہ اس شام کا اصل حسن صرف طاہرہ ردا کی کتاب نہیں تھی، بلکہ وہ محبت بھری فضا تھی جو پروفیسر مسرور قریشی نے اپنی شخصیت سے پیدا کی۔ان کی استقبالیہ مسکراہٹ، حاضرین کے لیے احترام، اور طاہرہ ردا کے لیے ان کا شفقت بھرا انداز—سب نے مل کر اس محفل کو ایسی گرمائش دی کہ لوگ کہتے نہ تھکتے:“یہی محبت ہمیں الیناۓ سے یہاں تک کھینچ لائی ہے۔”پروفیسر صاحب نے نہ صرف نظامت کی بلکہ آغاز ہی میں ایک مربوط، سیر حاصل، ادبی مضمون کے ذریعے طاہرہ ردا کے شعری سفر کو اس طرح پیش کیا کہ حاضرین ایک لمحے کے لیے بھی اپنی نشستوں سے ہلے نہیں۔ان کے انداز میں تحقیق بھی تھی، محبت بھی، اور ایک استاد کا وقار بھی۔یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہاگر طاہرہ ردا اس تقریب کا عنوان تھیں، تو پروفیسر مسرور قریشی اس کے مرکزی معمار۔

    طاہرہ ردا — شکاگو کی ادبی دنیا کا روشن ستارہ
    اس تقریب کی اصل وجہ، اصل مرکز، اصل جذبہ—بلاشبہ طاہرہ ردا کی ذات تھی۔
    شکاگو کی یہ معروف شاعرہ، اینکر، اور سوشل میڈیا ایکٹیویسٹ برسوں سے تخلیق کے سنگ سفر کرتی آئی ہیں، مگر کتاب کی شکل میں اپنے شعور اور احساسات کو پیش کرنا ان کا خواب تھا، جو آج حقیقت بن کر سامنے آیا۔
    جب انہی کے ہاتھوں کتاب کا عنوان پڑھ کر سنایا گیا “تیرے نام کے سارے شعر”تو حاضرین نے اس عنوان میں وہ محبت، وہ نرمی اور وہ احساس محسوس کیا جو طاہرہ ردا کی شخصیت کا اصل جوہر ہے۔پاکستان سے لے کر امریکہ کے مختلف ریاستوں تک پھیلے ہوئے قارئین کی محبت اس دن واضح نظر آئی۔ درجنوں گلدستے، تحائف، محبت بھری تحسین، اور چاہنے والوں کی بھرپور شرکت—سب اس بات کا اعلان تھے کہ طاہرہ ردا نے شکاگو کی ادبی فضا میں اپنی انفرادیت ثابت کر دی ہے۔

    عباس تابش — سفیرِ عشق کا وقار، اور کتاب کی تقدیس
    شام کا سب سے جگمگاتا لمحہ وہ تھا جب عالمی شہرت یافتہ شاعر عباس تابش نے اس کتاب کی رونمائی کی۔
    ان کی آمد ہی تقریب کو وقار بخشنے کے لیے کافی تھی، مگر جب انہوں نے کہا:“یہ کتاب صرف طاہرہ ردا کی نہیں، بلکہ ان تمام لوگوں کی ہے جو اُردو سے محبت کرتے ہیں۔”و ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ہوں نے نہ صرف کتاب کی طباعت کے مراحل بیان کیے بلکہ عشق آباد پبلیکیشن کی جانب سے اسے شائع کرنا اپنے لیے اعزاز قرار دیا۔ان کا یہ کہنا کہ ردا کے اشعار میں محبت کی وہ سچائی ہے جسے لفظ کبھی دھوکہ نہیں دے سکتے”۔ود شاعرہ کے لیے کسی ایوارڈ سے کم نہ تھا۔ — شعراء وادباء کی شرکت محبت کی وہ لڑی جس نے فاصلے مٹا دیے اس تقریب کی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ امریکہ کے مختلف ریاستوں سے شعراء و ادباء طویل مسافت طے کر کے یہاں پہنچے۔اوہایو، میری لینڈ، آئیوا، اوہانیو، انڈیانا—ہر طرف سے محبت کے سفیر اس محفل کی رونق بنے،ڈاکٹر سعید پاشا ،مونا شہاب ،ڈاکٹر افضال الرحمن افسر ،ڈاکٹر توفیق انصاری احمد ،عابد رشید ،امین حیدر ،حمیرہ عقیل ،ریاض نیازی اور کئی دیگر معتبر نام ،ہر ایک نے طاہرہ ردا کی شاعری پر اپنے احساسات نہایت مدلل انداز میں پیش کیے، اور ان سب میں ایک بات مشترک تھی “طاہرہ ردا کا شعری سفر ابھی شروع ہوا ہے—مگر روشنی اس میں ابھی سے نظر آ رہی ہے۔”

    تقریب کا دل نشین ترین لمحہ وہ تھا جب پروفیسر مسرور قریشی نے طاہرہ ردا کو ان کے اشعار کے ساتھ ایک خوبصورت پورٹریٹ پیش کیا۔یہ صرف ایک تحفہ نہیں تھا بلکہ محبت، احترام اور تخلیقی رفاقت کا اظہار تھا۔پورے ہال نے کھڑے ہو کر تالیوں سے اس منظر کو سراہا۔محمد مجید اللہ خان نے عالمی مرکزی ادبیاتِ اردو کی جانب سےعباس تابش اورطاہرہ رداکو نشانِ سپاس پیش کیا۔یہ وہ لمحہ تھا جب محبت، محنت اور فن—تینوں اقدار ایک ساتھ مسکرا رہی تھیں۔محفل میں شعری اظہار کے ساتھ ساتھ حاضرین نے ایک ایک جملے کو دل سے محسوس کیا۔نون جاوید نے شعری ہدیہ پیش کیا، اور طاہرہ ردا نے اپنے تخلیقی سفر کے بارے میں بھرپور، جذباتی اور محبت بھری گفتگو کی۔ان کے پڑھتے ہی ہال محبت سے بھر گیا۔جیسے ہی کتاب کے ٹائٹل کے ساتھ کیک کاٹا گیا، ماحول جشن میں بدل گیا۔پھولوں کے ڈھیر، تحائف کی بارش، اور تصویروں کی بے شمار یادیں—یہ سب اس شام کو ہمیشہ کے لیے یادگار بنا گئے۔مظہر عالم، اشرف خان، منظر عالم، محمد مجید اللہ خان، محمد حسین، شاہد خان اور دیگر ساتھیوں نے اس تقریب کو اس قدر منظم کیا کہ حاضرین تعریف کیے بغیر رہ نہ سکے۔مہمان خصوصی فرحت خان کی موجودگی نے بھی تقریب کو صحافتی وقار بخشا۔ظہرانے کا اہتمام، چائے اور لوازمات، اور ادبی ماحول—یہ سب مل کر شکاگو میں اردو کی محبت کا وہ حسین نقش بنا گئے جو برسوں یاد رکھا جائے گا۔

    شکاگو کی تہذیبی یادگار — ایک ادبی عہد کی بنیاد
    شرکاء نے متفقہ طور پر کہا:“شکاگو لینڈ میں اس سے بڑی، منظم، محبت بھری اور ادبی اعتبار سے گہری تقریب پہلے کم ہی دیکھی گئی ہے۔”یہ محض ایک تقریب نہیں تھی، یہ اس بات کا اعلان تھی کہ اگر محبت ہو، اگر ادب کا جذبہ ہو، اگر لوگ خلوص سے مل بیٹھیں—تو دیارِ غیر میں بھی اردو اپنی پوری شان کے ساتھ زندہ ہے۔
    لفظوں کا سفر جاری ہے،طاہرہ ردا کی کتاب “تیرے نام کے سارے شعر” نہ صرف ان کے تخلیقی سفر کا آغاز ہے، بلکہ شکاگو کے ادبی منظرنامے میں ایک نیا باب بھی ہے۔پروفیسر مسرور قریشی کی محبت، دانشوری اور تنظیمی صلاحیت نے اس تقریب کو اس معیار تک پہنچایا جس کی مثال کم ملتی ہے۔
    یہ وہ شام تھی جو گزر تو گئی،
    مگر اپنے پیچھے محبت، تہذیب اور شعر کی خوشبو ہمیشہ کے لیے چھوڑ گئی،