Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • کتاب دل کی گیتا ،ترجمہ خواجہ دل محمد،تحریر:زین سلیم

    کتاب دل کی گیتا ،ترجمہ خواجہ دل محمد،تحریر:زین سلیم

    مہابھارت کی جنگ کو گزرے ہوئے تقریباً سات ہزار سال سے بھی زیادہ عرصہ بیت چکا ہے۔ کُروکشیتر کے میدان میں لڑی جانے والی یہ جنگ بظاہر دو بڑے لشکروں کے درمیان تھی مگر اس کے باطن میں ایک اور جنگ بھی جاری تھی۔ایک انسان کی اپنے آپ سے جنگ یہی انسان پانڈوؤں کا جواں مرد ارجن تھا، جو میدان جنگ میں کھڑا اپنے سامنے اپنے ہی عزیز و اقارب کو دیکھ رہا تھا۔ کہیں اس کے گرو کھڑے تھے، کہیں چچا، کہیں بھائی، کہیں بھتیجے اور کہیں قریبی دوست۔ جن لوگوں کے خلاف اسے ہتھیار اٹھانا تھا وہی اس کی محبتوں اور رشتوں کا حصہ تھے۔ (یہاں پر اہل علم کے لیے ایک اشارہ ہے جو بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ بات کیا ہو رہی ہے۔) چنانچہ ارجن ایک ایسے دوراہے پر پہنچ گیا جہاں اس کی عقل اور جذبات باہم دست و گریباں تھے۔ اسے فیصلہ کرنا تھا کہ کیا کرے اور کیا نہ کرے۔

    گیتا مہابھارت ہی کا ایک اہم حصہ ہے۔ ارجن رتھ پر سوار تھا اور شری کرشن اس کے سارتھی تھے۔ ارجن کی درخواست پر شری کرشن نے رتھ کو دونوں فوجوں کے درمیان لا کھڑا کیا۔ کوروؤں کی فوج پر نگاہ پڑتے ہی ارجن کے دل پر ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ اس کے ہاتھ سے کمان چھوٹ گئی اور وہ شکستہ خاطر ہو کر رتھ میں بیٹھ گیا۔ اس وقت اسے صرف بیرونی جنگ کا نہیں بلکہ اپنے اندر کی جنگ کا بھی سامنا تھا۔ یہ دراصل دھرم اور اَدھرم فرض اور جذبات حق اور باطل عمل اور تذبذب کی جنگ تھی۔

    شری کرشن نے اس موقع پر ارجن کی ٹوٹی ہوئی ہمت کو پھر استوار کیا اور اس کے من کے اندھیرے کو دور کیا۔ انہوں نے اسے زندگی فرض، نشکام کرم اور کرم یوگ کے مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے سمجھایا کہ انسان کو محض جذبات کی وجہ سے اپنے فرض سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔ شری کرشن کے اس اپدیش سے ارجن کو روحانی قوت حاصل ہوئی اور وہ دوبارہ ادائے فرض کے لیے کھڑا ہو گیا۔ یوں گیتا کا موضوع محض ایک قدیم جنگ نہیں رہتا بلکہ ہر دور کے انسان کے اندر جاری کشمکش کی علامت بن جاتا ہے۔

    مہابھارت کی روایت میں دھرت راشٹر دریودھن کے والد اور کورو خاندان کے بزرگ پیدائشی طور پر نابینا تھے۔ جنگ کے آغاز میں مہارشی ویاس ان کے پاس آئے اور انہیں جنگ کا نظارہ کرنے کے لیے ایک غیر معمولی بصیرت عطا کرنے کی پیش کش کی لیکن دھرت راشٹر نے اپنے خاندان کی تباہی اپنی آنکھوں سے دیکھنے سے انکار کر دیا۔ اس پر مہارشی ویاس نے سنجے کو ایسی روحانی بصیرت عطا کی کہ وہ محل میں بیٹھے بیٹھے میدان جنگ کے تمام حالات دیکھ سکتا تھا۔ سنجے جنگ کے واقعات دھرت راشٹر کو سناتا رہا۔ اسی سلسلے میں اس نے دونوں فوجوں کی صف بندی اور جنگ کی صورت حال بیان کرنے کے بعد ارجن اور شری کرشن کا وہ مکالمہ سنایا جو آگے چل کر بھگوت گیتا کے نام سے معروف ہوا۔

    بھگوت گیتا میں اٹھارہ ادھیائے اور تقریبا سات سو شلوک ہیں۔ شری کرشن نے ان شلوکوں میں آتما پرماتما، بھگتی، کرم، گیان، پرکرتی اور انسانی زندگی کے بنیادی مسائل پر وسیع گفتگو کی ہے۔ گیتا کا ایک امتیاز یہ بھی ہے کہ اس میں زندگی کے انتہائی پیچیدہ روحانی اور فلسفیانہ سوالات کو ایک مکالمے کی صورت میں بیان کیا گیا ہے۔
    اسی فلسفیانہ متن کو خواجہ دل محمد نے اردو شاعری کے قالب میں ڈھالا اور اسے "دل کی گیتا” کا نام دیا۔ خواجہ دل محمد ایک قادرالکلام شاعر تھے اور وسیع علمی و شعری پس منظر رکھتے تھے۔ انہوں نے گیتا کا محض لفظی ترجمہ نہیں کیا بلکہ اسے آسان رواں اور منظوم اردو میں ایک ایسی داستان کی صورت پیش کیا ہے جس میں فلسفہ بھی ہے شاعری بھی اور تمام شلوک بھی موجود ہیں جو ایک روحانی فکر رکھتے ہیں ۔ گیتا کے تمام اٹھارہ ادھیاؤں اور شلوکوں کو منظوم صورت میں پیش کرنا بجائے خود ایک بڑا ادبی کارنامہ ہے۔دل کی گیتا کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ خواجہ دل محمد نے گیتا کے مشکل فلسفیانہ تصورات کو آسان شعری زبان میں منتقل کیا ہے۔ ہندو متھالوجی، ہندو مذہبی تصورات اور ارجن و شری کرشن کے مکالمے کے فکری نکات کو انہوں نے اشلوکوں کی صورت میں اردو کے قاری کے سامنے رکھا ہے۔ گیتا میں سب سے بنیادی سوال خدا کی ہستی کا ہے کیا خدا ہے۔۔ گیتا اس کا جواب دیتی ہے کہ خدا ہے بلکہ خدا ہی ہے۔ دوسرے الفاظ میں گیتا میں وحدت وجود کا تصور نمایاں نظر آتا ہے۔ خدا ہر جگہ موجود ہے۔ سورج کے جلال میں اس کی تابانی ہے چاند کے شباب میں اس کی دلفریبی پھولوں میں اس کی نفاست ہے، سمندر میں اس کی بے پایانی، آسمان میں اس کی بلندی اور زمین میں اس کی کارفرمائی ہے۔ گویا جدھر دیکھو ادھر ہی خدا کا جلوہ نظر آتا ہے۔ کائنات کا ذرہ ذرہ اسی سے وابستہ ہے اگر وہ نہ ہو تو یہ شیرازہ منتشر ہو جائے گا۔

    یہاں ایک اور اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر خدا ہر چیز میں موجود ہے تو کیا وہ قابل تقسیم ہے۔ گیتا کا جواب ہے نہیں، ہرگز نہیں۔ اس کی تقسیم محال ہے۔ وہ اپنی ذات میں واحد اور کامل ہے لیکن ہر شے میں اس کی جلوہ گری ضرور ہے۔ یہی فلسفیانہ نکتہ خواجہ دل محمد نے شعر میں بھی بیان کیا ہے کہ اس کی تقسیم محال ہے مگر اس کا ہر شے میں حصہ ضرور ہے۔ یوں خدا ہر شے میں موجود ہوتے ہوئے بھی کسی ایک شے میں محدود نہیں ہوتا۔

    گیتا کے فلسفے میں آتما یعنی روح کو بھی بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ انسان صرف اپنے جسم کا نام نہیں۔ خواجہ دل محمد گیتا میں انسان کی ساخت کو پیکرِ کثیف، پیکرِ لطیف اور آتما کے حوالے سے بیان کرتے ہیں۔ پیکرِ کثیف یعنی تن، انسان کی ادنی فطرت کا مظہر ہے جبکہ پیکر لطیف سے مراد حواس من عقل وغیرہ ہیں جو اس کی اعلی فطرت سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان سب سے بلند آتما یعنی روح ہے۔ جو انسان کی اصل حقیقت ہے۔ دوسرے لفظوں میں انسان محض جسم نہیں اس کی اصل شناخت اس کی روح ہے۔
    آتما اور پرماتما کے تعلق کو خواجہ دل محمد نے نہایت خوب صورت انداز میں شعری پیکر عطا کیا ہے
    سن ارجن میں ہوں آتما بالیقیں
    جو جانداروں کے دل میں مکیں
    میں ہوں مثل جاں اہل جاں میں نہاں
    میں اول میں میں آخر میں ہوں درمیاں
    ان چار مصرعوں میں پرماتما کی ہمہ گیری اور آتما سے اس کے تعلق کا تصور بڑی خوب صورتی سے سامنے آتا ہے۔ خدا ہر جاندار کے دل میں مقیم ہے روح کی مانند اہلِ جاں میں پوشیدہ ہے اور وجود کی ابتدا انتہا اور درمیان ہر مقام پر اس کی جلوہ گری ہے۔
    گیتا میں پرکرتی یعنی مادی دنیا کے بارے میں بھی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ اس کے تین بنیادی گن یا عناصر ہیں۔ ستوگن، رجوگن اور تموگن۔
    ستوگن روشنی پاکیزگی علم اور توازن کی علامت ہے۔
    رجوگن صفات جزباتی اور دنیاوی کہا گیا ھے۔
    تموگن اتما جب تن کے پنجرے میں آتی ہے اور مایا کے پردے میں چھپ جاتی ہے تو یہی آتما روح انسانی کہلاتی ہے۔

    گیتا کے فلسفے میں گیان اور گیانی کا تصور بھی نہایت اہم ہے۔ گیان محض معلومات یا ظاہری علم کا نام نہیں بلکہ ایسی باطنی معرفت ہے جو انسان کو اپنی حقیقت اور پروردگار کی حقیقت سے آشنا کرتی ہے۔ جس شخص کو گیان حاصل ہو جائے اس کی دنیا نرالی ہو جاتی ہے۔ وہ دن رات خدا کے خیال میں مست رہتا ہے۔ اس کے دل میں سکون ہوتا ہے اور سکھ دکھ کا اس پر پہلے جیسا اثر نہیں رہتا۔ وہ ظاہری حالات سے اوپر اٹھ کر باطن کے اطمینان کی طرف سفر کرتا ہے۔
    اسی طرح گیتا میں بھگتی کی عظمت بھی بیان کی گئی ہے۔ اس کے اصول طریقے سچے بھگت کے اوصاف اور اس کے طرز زندگی پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ حقیقی بھگت محض ظاہری عبادت کرنے والا نہیں بلکہ وہ شخص ہے جو اپنے دل کو خدا کی محبت سے منور کرتا ہے اور اپنی زندگی کو عاجزی بے غرضی ضبط نفس اور نیک عمل کے سانچے میں ڈھالتا ہے۔ گیتا کا ایک خوب صورت تصور یہ ہے کہ خدا اپنے سچے بھگتوں سے بے انتہا محبت کرتا ہے۔ یہاں بندے اور خدا کا تعلق محض خوف اور حکم کی پابندی تک محدود نہیں رہتا بلکہ محبت اور عقیدت کا روحانی رشتہ بن جاتا ہے۔

    ارجن اور شری کرشن کا مکالمہ دل کی گیتا میں اپنی شعری صورت میں خاص کشش پیدا کرتا ہے۔ ارجن کا ایک سوال ملاحظہ فرمائیں :
    کہاں سن کے ارجن نے، سنیے حضور
    جہاں میں ہوا آپ کا اب ظہور
    ووسوان پہلے ہی موجود تھا
    تو یوگ آپ سے اس نے کیوں کر لیا
    اس کے جواب میں شری کرشن فرماتے ہیں:
    سن ارجن ہوئے ہیں یہاں بار بار
    تمہارے ہمارے جنم بے شمار
    مجھے حال ان سب کا معلوم ہے
    ترا حافظہ ان سے محروم ہے۔
    خواجہ دل محمد نے ان اشعار کے ذریعے گیتا کے ایک گہرے فلسفیانہ تصور کو نہایت آسان زبان میں بیان کیا ہے۔ مکالمے کی روانی بھی برقرار ہے اور فلسفے کی معنویت بھی۔

    دل کی گیتا کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ خواجہ دل محمد نے گیتا کے پیغام کو صرف قدیم زمانے تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے آج کے انسان کے باطن سے بھی جوڑا ہے۔ ان کے نزدیک آج بھی مہابھارت کی جنگ ہو رہی ہے۔انسان کا تن کُروکشیتر کا میدان ہے اور من دھرم کَشیتر ہے۔
    کھیت میں جو بیج بویا جائے گا ویسا ہی پھل ملے گا۔ آم کی گٹھلی سے آم اور نیم کے بیج سے نیم کا پودا نکلے گا۔ اسی طرح محبت کے بیج سے محبت اور نفرت کے بیج سے نفرت پیدا ہوگی۔ انسان کے اندر بھی حق و باطل نیکی و بدی کی فوجیں ہر وقت برسر پیکار ہیں۔
    نیکی کی فوج کا سردار ضمیر ہے جو یُدھشٹر کی طرح جنگ میں ثابت قدم رہتا ہے جبکہ بدی کی فوج کا سردار نفس امارہ ہے جو دھرت راشٹر کی طرح دوسرے کے راج کو ہضم کرنا چاہتا ہے۔ اس تشبیہ کے ذریعے مہابھارت کا پورا منظرنامہ انسان کے اندر منتقل ہو جاتا ہے۔ انسان خود میدان جنگ بن جاتا ہے اور اس کے اندر نیکی اور بدی کی قوتیں ایک دوسرے کے مقابل کھڑی نظر آتی ہیں۔
    ارجن کی طرح انسان کو بھی چاہیے کہ اپنی رتھ یعنی قوت عمل کی باگ ڈور خدا کے ہاتھ میں دے جذبات کو فرائض پر غالب نہ آنے دے اور حق کے لیے پوری کوشش کرے۔ اپنے تمام کام نشکام کرم سمجھ کر خدا کے لیے اور خدا ہی کا کام سمجھ کر انجام دے۔ یہی وہ روحانی قوت ہے جو انسان کو اپنی اندرونی جنگ میں کامیابی کی طرف لے جاتی ہے۔
    گیتا کی عظمت کا اندازہ اس بات سے بھی کیا جا سکتا ہے کہ مہاتما گاندھی نے اسے ہندو مذہبی اور روحانی روایت میں غیر معمولی اہمیت دی۔ ان سے منسوب قول ہے:
    جب تک گیتا موجود ہے ہندو دھرم زندہ ہے۔
    اس پس منظر میں خواجہ دل محمد کی دل کی گیتا کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ انہوں نے ایک قدیم ہندو دھرم کی مذہبی فلسفیانہ اور روحانی متن کو اردو شاعری میں منتقل کرکے دو مختلف تہذیبی اور لسانی دنیاؤں کے درمیان ایک ادبی پل قائم کیا ہے۔ گیتا کے اٹھارہ ادھیائے اور اس کے شلوک جب اردو کے شعری قالب میں ڈھلتے ہیں تو ایک ایسا متن سامنے آتا ہے جو فلسفے کے طالب علم ادب کے قاری اور روحانی فکر رکھنے والے شخص تینوں کے لیے کشش رکھتا ہے۔
    آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ دل کی گیتا محض ایک منظوم ترجمہ نہیں بلکہ گیتا کے فلسفے کو اردو کے قاری تک پہنچانے کی ایک اہم ادبی کاوش ہے۔ خواجہ دل محمد نے آتما، پرماتما گیان، بھگتی، کرم، پرکرتی اور انسانی باطن کی کشمکش جیسے مشکل موضوعات کو شعر کے ذریعے آسان بنانے کی کوشش کی ہے۔ یہی اس کتاب کا اصل حسن ہے کہ کُروکشیتر کا میدان ہزاروں برس پیچھے نہیں رہتا بلکہ انسان کے اپنے دل میں آکربس جاتا ہے۔ ارجن کا سوال آج بھی ہمارا سوال ہےشری کرشن کا اپدیش آج بھی انسان کو اپنے فرض اپنے باطن اور اپنی روح کی طرف متوجہ کرتا ہے۔
    اردو منظوم گیتا کی جب بھی بات ہوگی خواجہ دل محمد کی "دل کی گیتا” کا ذکر ناگزیر رہے گا۔

  • جوڑواں بہن بھائی (اسلام آباد اور راولپنڈی)،تحریر:ندیم یعقوب گوہر

    جوڑواں بہن بھائی (اسلام آباد اور راولپنڈی)،تحریر:ندیم یعقوب گوہر

    اسلام آباد اور راولپنڈی محض جڑواں شہر نہیں ہیں، بلکہ قدرت کے بنائے ہوئے وہ تن جڑے بہن بھائی ہیں جن کا ناطہ ایک مگر نصیب الگ الگ لکھ دیا گیا۔ اسلام آباد وہ نواب زادہ، اجلا نکھرا اور متمول بھائی ہے جس کے بال ہمیشہ سلیقے سے سنوارے ہوئے ہیں اور جس کے دامن سے مہنگے پرفیوم کی خوشبو اٹھتی ہے، جبکہ راولپنڈی وہ سیدھی سادی، پسینے میں شرابور غریب بہن ہے جو چولہے کے آگے بیٹھی ساری عمر اسی بھائی کے ناز نخرے اٹھاتی رہتی ہے۔ غریب بہن لاکھ چاہے کہ بھائی کے کندھے سے کندھا ملا کر چلے، مگر اسلام آباد کی بے نیازیاں کم ہونے کا نام نہیں لیتیں۔ اہلِّ اسلام آباد راولپنڈی والوں کو ایسے دیکھتے ہیں جیسے امیر گھرانے کے مغرور بچے گاؤں سے آئی ہوئی کسی غریب پھپھو کے پنڈی مارکہ بچوں کو گھورتے ہیں کہ "ہائے اللہ! یہ جانگلی کہاں سے آن پہنچے؟”

    دونوں کی سرحدوں پر بسنے والے بے چارے تو شناخت کے ایسے دلکش بحران کا شکار ہیں کہ دل سی ڈی اے کے لیے دھڑکتا ہے اور نکاح نامے پر مجبوری میں آر ڈی اے کی مہر لگی ہوتی ہے۔ ادھر کوئی گلی محلے کا پلاٹ بیچنا ہو تو اشتہار میں جلی حروف سے لکھ دیا جاتا ہے "اسلام آباد کے عین سنگم پر”، تاکہ خریدار کو لگے کہ وہ پیرس کا ٹکٹ خرید رہا ہے، چاہے گلی کے نکڑ پر پنڈی کا کھلا گٹر ہی اس کا استقبال کیوں نہ کر رہا ہو! پنڈی کا باسی دوسرے شہر جا کر دھیمے سے اپنا تعارف ‘اسلام آباد’ کہہ کر کروانے کی معصوم حسرت پالتا ہے، مگر شناختی کارڈ پر تھانہ وارث خان یا گنج منڈی کا پتہ کھلتے ہی یہ بھرم ریت کی دیوار ثابت ہوتا ہے۔

    انتظامی عجوبہ دیکھیے کہ دونوں کے سر پر ایک ہی سورج چمکتا ہے اور ایک ہی بادل برستا ہے، مگر موسمی احکامات کا تماشا ہی نرالا ہے۔ اسلام آباد کے دفتر میں افسر کافی کا گھونٹ بھر کر فرماتے ہیں کہ "ابھی گرمی کا احساس نہیں ہوا”، مگر سڑک کا ایک موڑ مڑتے ہی پنڈی کی حدود میں گرمی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری ہو چکا ہوتا ہے۔ سردیوں میں دونوں کے دانت یکساں بجتے ہیں، لیکن پنڈی کی مائیں چھٹی منا کر صبح کے وقت گیس کے ننھے شعلے کا ماتم کرتی ہیں اور بچوں کو زبردستی اسلام آباد کے سکولوں میں دھکیل آتی ہیں کہ "جا بیٹا، بھائی کے شہر میں تعلیم کا سیزن چل رہا ہے!” ادھر جب پنڈی کے سکول کھلتے ہیں تو اسلام آباد کے برگر بچے گھروں میں لحاف اوڑھے پاپ کارن اڑاتے نظر آتے ہیں۔

    دن چڑھے راولپنڈی کے ہزاروں بابو، کلرک اور محنت کش سرخ میٹرو کے ڈبوں میں جھولتے ہوئے اسلام آباد کی رونقیں بحال کرنے پہنچتے ہیں۔ بھائی کے ایوانوں اور سڑکوں کو چمکانے کے لیے بہن کا سارا دن پسینہ بہتا ہے، اور شام ہوتے ہی اسلام آباد ان سب کو واپس پنڈی کی طرف دھکیل کر خود کو پرسکون اور اشرافیہ بنا لیتا ہے۔ اسلام آباد نو بجتے ہی بتی بجھا کر کمبل اوڑھ لیتا ہے، جبکہ راولپنڈی کے کرتار پور اور باڑہ بازار کی رونقیں آدھی رات کو انگڑائی لے کر جاگتی ہیں۔ بھائی رات کو ابلی ہوئی سبزی اور سلاد چبا کر واک کرتا ہے، اور غریب بہن آدھی رات کو تلی ہوئی چانپیں، نہاری اور فالودہ اڑا کر زندگی کے مزے لوٹتی ہے۔

    محبت کا یہ تضاد بھی کمال ہے؛ پولن اور الرجی مارگلہ کے سرسبز ماتھے سے اڑتی ہے اور چھینکیں راولپنڈی کی پرانی بستیوں کے مقدر میں آتی ہیں۔ جب بادل برستے ہیں تو اسلام آباد کی کافی شاپس میں رومانیت کا غلغلہ مچتا ہے، مگر وہی بارش پنڈی کی تنگ گلیوں میں گھس کر گٹروں کے ابلنے اور نالہ لئی کے سائرن بجاتی ہے۔ بھائی کے لیے بارش کافی کا گھونٹ ہے تو بہن کے لیے چھت ٹپکنے اور پانی نکالنے کا امتحان! کسی وی آئی پی پروٹوکول پر اسلام آباد سنسان ہو کر ناکے لگا لے تو ٹریفک کا سارا عذاب مری روڈ اور فیض آباد کے گلے آ پڑتا ہے۔

    اسلام آباد فائیو اسٹار مالز میں اپنی امارت سجاتا ہے مگر اس کی بیگمات بھی پردوں، لیسوں اور جہیز کے سودے سلف کے لیے راجہ بازار اور موتی بازار کے دھکے کھانے پنڈی ہی آتی ہیں۔ منہ دھلے، اجلے نکھرے اسلام آباد کو تکتے تکتے جب راولپنڈی کی بارہ مہینے بہتی ناک یعنی ‘نالہ لئی’ نظر آتی ہے تو لوگ بے ساختہ مارگلہ کی پہاڑیوں کی طرف رخ موڑ لیتے ہیں۔ مگر قسمت کی ستم ظریفی دیکھیے؛ اسلام آباد جتنا مرضی ناک بھوں چڑھا لے، ذائقے دار کھانوں کے چٹخارے لینے، سستی شاپنگ کرنے اور اپنے بنگلوں کے پردے سلوانے کے لیے اسے اندھیرا ہوتے ہی اسی غریب بہن کے در پر حاضری دینی پڑتی ہے!

  • کپتان جی ،تحریر:دانیال حسن چغتائی

    کپتان جی ،تحریر:دانیال حسن چغتائی

    عبدالرشید فاروقی وہ نام ہے جو بچوں کا اسلام کے صفحات پر ہمارے بچپن کا خوبصورت اور نکھرا ہوا نقش رہا ہے۔ ہم نے ان کی سحر انگیز کہانیاں پڑھیں، ان کی تحریروں سے گہرا تعلق قائم رہا لیکن اشتیاق احمد صاحب کے بعد بچوں کا اسلام سے رابطہ ٹوٹا، ویسے ہی بہت سے نامور قلم کاروں کی تحریروں سے بھی تعلق کا سلسلہ منقطع ہو گیا۔

    لیکن کچھ رفاقتیں اور کتابیں تلاش ہی کر لیتی ہیں۔ حال ہی میں بچوں کی کہانیوں کے ایک مقابلے میں مجھے دوسری پوزیشن ملنے پر میاں اسحاق سنز کی طرف سے دو کتب بطور انعام بھیجی گئیں۔ ان تحائف میں ایک کتاب فاروقی صاحب کی بھی شامل تھی، جن کی تحریروں سے طویل عرصے بعد کتابی صورت میں دوبارہ شرفِ ملاقات حاصل ہوا۔ 128 صفحات پر مشتمل یہ کتاب پڑھ کر پرانی یادیں ایک بار پھر تازہ ہو گئیں۔
    موجودہ دور میں جہاں کاغذ کی گرانی کی وجہ سے کتابوں کی قیمتیں بہت حد تک بڑھ چکی ہیں، وہاں اس خوبصورت اور ہلکے وزن والی کتاب کی قیمت انتہائی مناسب اور عام قارئین کی پہنچ میں رکھی گئی ہے، جو ادارے کی کتب دوستی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ مصنف نے کتاب کا پیش لفظ اپنے بھائی کے نام کیا ہے اور ان کی مختصر سی اور محبت بھری ابتدائی گفتگو کے بعد کہانیوں کا دلکش سفر شروع ہوتا ہے۔
    کتاب کا آغاز پہلی کہانی مزا نہیں آتا سے ہوتا ہے جس میں جانوروں کی معصوم دنیا کا خاکہ بنا کر بچوں کو اہم تربیتی سبق دیا گیا ہے کہ جو کام بھی ادھورا یا نامکمل چھوڑ دیا جائے، اس کا نتیجہ کبھی اچھا نہیں ہوتا۔ کام کی تکمیل ہی کامیابی کی پہلی شرط ہے۔

    پانی پانی جسم بچوں کو نماز کی اہمیت اور اس کی برکات سے آگاہ کرنے کے لیے لکھی گئی ہے۔ کہانی کا انداز انتہائی دلچسپ اور اسلوب ایسا اثر انگیز ہے کہ بچپن ہی سے عبادات کی ترغیب دینے کے لیے بہترین ثابت ہوتا ہے۔
    کانچ کی گولیاں بچوں کی کھلاڑی دنیا کی اس کہانی میں اتحاد، اتفاق اور باہمی یگانگت کا درس بہت خوبصورت اور اثر انگیز پیراۓ میں دیا گیا ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ بکھر جانے والے کبھی جیت نہیں سکتے۔
    انجام دیہاتی زندگی اور ماحول پر مبنی یہ روایتی مگر سچی کہانی ہے، جس میں ظالم اور مغرور وڈیرے کی سرکشی کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ کہانی اپنے منطقی انجام میں یہ سبق دیتی ہے کہ جب ظلم اور زیادتی حد سے بڑھ جائے تو قدرت کا نظام انصاف حرکت میں آتا ہے اور برائی کا انجام ہمیشہ تباہی ہی ہوتا ہے۔
    کمزور محبت ایسے شخص کے گرد گھومتی ہے جو دنیا کی بے جا مصروفیات اور چکا چوند میں الجھ کر اپنے بوڑھے والدین کو بالکل بھول چکا تھا مگر قدرت کا نظام دیکھیے کہ خود اس کے اپنے بچوں نے اس کو اس بات کا احساس دلایا کہ والدین خواہ کتنے ہی ضعیف اور پختہ عمر کیوں نہ ہو جائیں، انہیں زندگی کے ہر موڑ پر اپنی اولاد کی محبت اور توجہ کی اشد ضرورت رہتی ہے۔

    خوشی نہیں دیتے بیدار مغز اور حساس بیٹے کی کہانی ہے جو اپنے باپ کو سگریٹ نوشی جیسی موذی اور نقصان دہ عادت سے چھڑانے کی جدوجہد کرتا ہے۔ کہانی یہ مثبت پیغام دیتی ہے کہ کبھی کبھی اولاد کی محبت اور دانشمندی بھی بڑے بزرگوں کو راہِ راست پر لانے کا باعث بن جاتی ہے۔
    کپتان جی کتاب کی عنوان کہانی ہے۔ اس میں انتہائی باریک بینی کے ساتھ یہ حقیقت سامنے لائی گئی ہے کہ چاہے گھر کا نظام ہو، عملی زندگی ہو یا کھیل کا میدان، اسے صرف وہی شخص کامیابی سے چلا سکتا ہے جو کھیل کی بساط، اس کی چالوں اور باریکیوں کو سمجھتا ہو۔ اگر کوئی نااہل اور غیر متعلقہ شخص کسی ذمہ دار عہدے پر بیٹھ جائے تو وہ پورے نظام کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیتا ہے۔
    تلاشِ معاشرے کے ان درد مند اور بے سہارا بچوں کی کہانی ہے جن کی تکلیف کا احساس عام طور پر کوئی نہیں کرتا۔ یہ تحریر ان انسانیت دوست اداروں اور افراد کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے جو ایسے بے کس طبقے کے لیے کام کرتے ہیں اور ترغیب دیتی ہے کہ معاشرے کے ان کمزور طبقوں کو آگے لانے کے لیے ایسے اداروں کا ہاتھ بٹانا چاہیے۔

    کتاب میں شامل دیگر کہانیاں بھی بے حد دلچسپ، رواں اور با مقصد ہیں۔ ہر کہانی کے دامن میں کوئی نہ کوئی اخلاقی، دینی سبق پوشیدہ ہے جو بچوں اور نوجوانوں کی کردار سازی میں بنیادی کردار ادا کر سکتا ہے۔
    میں یہ بہترین اور تربیتی کتاب بھیجنے پر میاں اسحاق سنز کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں اور محترم عبدالرشید فاروقی صاحب کا بھی ممنون ہوں کہ انہوں نے ایسی شاہکار کتاب تخلیق کی جو موجودہ دور میں نسلِ نو کی تربیت کے لیے بہترین علمی و اخلاقی تحفہ ہے۔

  • درخشاں ستارے،تحریر : جاویدؔ ڈینی ایل

    درخشاں ستارے،تحریر : جاویدؔ ڈینی ایل

    نفسا نفسی اور خود غرضی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں اِس جہان نے یہ منظر بھی دیکھا کہ اِسی نسلِ آدم میں سے ایسی ہستیاں بھی اِس دُنیا میں جلوہ افروز ہوئیں جنھوں نے خود غرضی کی اِس اندھیری رات کو اپنی شخصیت کی چکا چوند روشنی سے منور کر دیا۔ جہاں لوگ خود غرضی میں بنیادی اِنسانی حقوق کی پامالی تک کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے وہاں ایسی پُرخلوص، ہمدرد، اِنسانیت سے بے لوث محبت کرنے والی شخصیات نے اِس دُنیا میں جنم لیا جنھوں نے مخلوقِ خدا کی خدمت میں رنگ و نسل، مذہب و ملت اور علاقائی تفریق کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے جذبۂ اِنسانیت سے معمور ہو کر اپنا تن، من، دھن کچھ ایسے انداز سے وقف کر دیا کہ آج ہر خاص و عام اُن کا نام عقیدت و احترام سے لیے بغیر رہ نہیں سکتے ہیں۔

    یوں تو دُنیا بھر میں بے شمار ایسی شخصیات ہیں جنھوں نے اِنسانیت کی خدمت میں بے مثال کردار ادا کیا ہے اور کر بھی رہی ہیں، مگر جن شخصیات کا ذکر مَیں یہاں کرنا چاہتا ہوں وہ مدر ٹریسا، ڈاکٹر روتھ فاؤ اور عبدالستار ایدھی ہیں جن کا جذبۂ خدمت اپنی مثال آپ ہے۔

    یاد رہے مدر ٹریسا کو اِنسانیت کی خدمت کے صِلہ میں 1979 ء میں نوبل پیس پرائز سے نوازا (نوبل پرائز ایک بین الاقوامی اعزاز ہے، جس کا بانی الفریڈ نوبل ہیں، یہ ایوارڈ نوبل فاؤنڈیشن، اسٹاک ہوم، سویڈن کے زیرِ انتظام دیا جاتا ہے ) ۔ یہی نہیں انڈین حکومت نے 2010 میں اُن کی تصویر والا ایک سو روپے مالیت کا سکہ جاری کیا اور محکمہ ڈاک نے 1980 میں اُن کی تصویر والا ڈاک ٹکٹ بھی جاری کر کے اُنھیں خراجِ تحسین پیش کیا۔

    اِس کے علاوہ دیگر کئی ممالک نے مدر ٹریسا کی خدمت کے اعتراف میں سکے اور ڈاک ٹکٹ جاری کیے۔ مدر ٹریسا 5 ستمبر 1997 کو اپنی موت کے تقریباً دو دہائیوں بعد ، باضابطہ طور پر کلکتہ کی سینٹ ٹریسا بن گئی۔ پوپ فرانسس نے کلکتہ کی مدر ٹریسا کو ویٹیکن سٹی کے سینٹ پیٹرز اسکوائر میں ہزاروں لوگوں کے سامنے رومن کیتھولک چرچ کی سینٹ قرار دیا۔

    ڈاکٹر روتھ کیتھرینا مارتھا فاؤ کی خدمات کو سراہتے ہوئے پاکستان پوسٹ نے 2017 میں آٹھ روپے مالیت کا ڈاک ٹکٹ جاری کیا اور حکومت پاکستان نے 2017 میں پچاس روپے مالیت کا سکہ بھی جاری کیا۔ یاد رہے 1988 ء میں اُنھیں پاکستان کی شہریت دی گئی اور پاکستان کی جانب سے ہلالِ پاکستان، ستارہِ قائداعظم، ہلالِ امتیاز، جناح ایوارڈ اور نشانِ قائداعظم جیسے ایوارڈز سے نوازا گیا۔

    اِنسانیت کے لئے عبدالستار ایدھی کی خدمات کو سراہتے ہوئے پاکستان پوسٹ نے 2016 ء میں بیس روپے مالیت کا ڈاک ٹکٹ جاری کیا اور حکومتِ پاکستان نے 2016 ء میں ہی پچاس روپے مالیت کا سکہ بھی جاری کیا۔ 1988 ء میں امریکہ میں زلزلے کے متاثرین کی خدمت کے اعتراف میں اُنھیں ”لینن پیس پرائز“ دیا گیا۔ 1989 ء میں عبدالستار ایدھی کو حکومتِ پاکستان کی جانب سے سِول ایوارڈ ”نشانِ امتیاز“ بھی دیا گیا۔ کئی اداروں اور تنظیموں نے اُنھیں شیلڈز اور ایوارڈ پیش کیے۔

    برصغیر پاک و ہند کے اُفق پر یہ درخشاں ستارے امر ہو گئے ہیں اور اب ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج جہاں کہیں بھی اِنسانیت کے جذبہ سے سر شار خدمت گزاروں کا نام آئے گا اُن کی فہرست اِن مذکورہ تین ناموں کے بغیر ادھوری رہے گی۔

    مجھے محبی عرفان نشاطؔ چوہدری کی غزل جو اُنھوں نے اپنی فیس بک وال پر پوسٹ کی، اُس کے دو شعر یاد آرہے ہیں جو اِن شخصیات پر صادق آتے ہیں، ملاحظہ کیجیے ؛
    جبینِ جہاں کے درخشاں ستارے
    محبت کے گُلشن کے یہ پھول سارے
    قلم کیا کہے اب نشاؔط اِن کی بابت
    یہ انسانیت کے ہوئے استعارے

  • صحیح اور مستند روایات پر مشتمل ،تاریخ خلفائے راشدین ،تبصرہ نگار: ارشاد احمد ارشد

    صحیح اور مستند روایات پر مشتمل ،تاریخ خلفائے راشدین ،تبصرہ نگار: ارشاد احمد ارشد

    اس وقت امت مسلمہ فکری انتشار، اختلاف اور زوال کا شکار ہے اور دشمن درپے آزار ہے ۔امت کا اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ یہ اتحاد عملی کوششوں اور تحریر وتقریر کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔ ان حالات میں زیر تبصرہ کتاب ’ ’ صحیح اور مستند روایات پر مشتمل تاریخ خلفائے راشدین ‘‘ کا مطالعہ ہر خاص وعام کے لیے بہت اہم ہے ۔یہ کتاب امت کے لئے مینار ہ نور کی حیثیت رکھتی ہے اور زوال کے اس دور میں امت کو مثالی رہنمائی فراہم کرتی ہے۔’’ خلفائے راشدین ‘‘ کی مبارک زندگیوں ، ادوار ِ خلافت اور طرز خلافت پر لاتعداد کتابیں لکھی گئی اور لکھی جاتی رہیں گی ان میں ایک شاندار اضافہ ’’ صحیح اور مستند روایات پر مشتمل تاریخ خلفائے راشدین ‘‘ ہے ۔ یہ شاندار علمی، تاریخی اور تحقیقی کتاب مفسر قرآن ابو نعمان سیف اللہ خالد کی علمی کاوش ہے جو ان کے گہرے مطالعہ ، دینی بصیرت اور خالص علمی ذوق کی آئینہ دار ہے ۔ ابو نعمان سیف اللہ خالد کا نام علمی حلقوں میں محتاج تعارف نہیں ۔ وہ فہم قرآن کے ماہر مفسر ، مصنف ، معروف خطیب اور پر اثر داعی کتاب وسنت ہیں ۔ وہ تمام مروجہ دینی علوم پر گہری دسترس اور میدان سیاست سے بھی آشنائی رکھتے ہیں ۔ انھوں نے ملکِ عزیز کے نامور علمی و فکری مرکزجامعہ سلفیہ فیصل آباد کی آغوشِ تربیت سے سندِفراغت حاصل کی ۔ وفاق المدارس السلفیہ کے زیرِ اہتمام ایم اے عربی اور ایم اے اسلامیات کے امتحانات میں غیر معمولی کامیابی حاصل کر کے اپنی علمی وجاہت کا لوہا منوایا۔ عربی زبان و ادب پر دسترس حاصل کر نے کیلئے فاضلِ عربی کیا ۔گورنمنٹ کالج آف ایجوکیشن لاہور سے بی ایڈ کی ڈگری حاصل کر کے تدریسی فنون میں مہارت حاصل کی۔ علم کے چشموں سے مزید سیراب ہونے کے لیے بہاولپور یونیورسٹی سے ایم اے اسلامیات کی ایک اور سند اپنے نام کی۔ علم کی شمع روشن کرنے کے لیے ساہیوال کالج میں مسلسل چھ برس تک بطور لیکچرار طلبہ کی علمی و فکری آبیاری کرتے رہے ہیں ۔ ان کی تحریر میں علم کی سنجیدگی، فکر کی پختگی اور اسلوب کی دلکشی یکجا نظر آتی ہے جو قاری کو نہ صرف تاریخ سے روشناس کراتی ہے بلکہ اسے رہنمائی اور بصیرت بھی عطا کرتی ہے۔
    ابو نعمان سیف اللہ خالد کئی ایک کتابوں کے مصنف ہیں جیسا کہ ’’ زاد المجاہد ‘‘ ۔۔۔۔’’ صحیح سیرتِ انبیا ‘‘ اور ’’ تفسیر دعوۃ القرآن ۔ پانچ جلدوں اور چار ہزار صفحات پر مشتمل تفسیر’’ دعوۃ القرآن ‘‘ ایک شاہکار تصنیف ہے جس نے اپنے اسلوب، سلاست اور فکری گہرائی کے باعث عوام و خواص دونوں میں قبولِ عام پایا ہے ۔جبکہ زیر تبصرہ تصنیف تاریخِ خلفائے راشدین محض ایک تاریخی کتاب نہیں بلکہ تحقیق، دیانت اور علمی بصیرت کا ایک درخشاں نمونہ ہے۔ یہ کاوش صحیح اور مستند روایات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے، جس میں عہدِ خلافتِ راشدہ کے حالات و واقعات کو نہایت متوازن، مدلل اور سلیقہ مند انداز میں پیش کیا گیا ہے۔صحیح اور مستند روایات پر مشتمل اپنی نوعیت کی ایک نہایت اہم، وقیع اور علمی کاوش ہے، جو اسلامی تاریخ کے اس درخشاں باب کو معتبر اور مستند انداز میں پیش کرتی ہے جسے خلافتِ راشدہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
    اس کتاب کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا تحقیقی اور مستند اسلوب ہے۔ مصنف نے روایات کے انتخاب میں غیر معمولی احتیاط اور دیانت داری سے کام لیا ہے صرف انہی روایات کو شامل کیا ہے جو معتبر کتبِ حدیث اور مستند تاریخی مصادر سے ثابت ہیں۔ اس طرزِ تحقیق نے کتاب کو عام تاریخی کتب سے ممتاز کر دیا ہے، کیونکہ یہاں محض واقعات کی ترتیب نہیں بلکہ ان کی صحت اور وثقاہت کو بھی بنیادی حیثیت دی گئی ہے۔

    کتاب میں خلفائے راشدین سیدنا ابوبکر صدیق، سیدنا عمر فاروق، سیدنا عثمان غنی اور سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنھم کی حیاتِ مبارکہ کو نہایت جامع، مدلل اور متوازن انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ ہر خلیفہ کے دورِ خلافت کو اس کے سیاسی، انتظامی، معاشرتی اور روحانی پہلوئوںکے ساتھ بیان کیا گیا ہے جس سے قارئین کو نہ صرف تاریخی معلومات حاصل ہوتی ہیں بلکہ اسے قیادت، عدل اور حکمرانی کے اصول بھی سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ادبی لحاظ سے بھی یہ کتاب ایک اعلی معیار کی حامل ہے۔ اس کا اسلوب نہایت شستہ، رواں اور دلنشین ہے، جو قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ عبارت میں سنجیدگی اور وقار کے ساتھ ساتھ ایک خاص روحانی تاثیر بھی موجود ہے جو قاری کے دل میں خلفائے راشدین کی عظمت اور ان کے کردار کی بلندی کو مزید اجاگر کرتی ہے۔ یہ کتاب محض معلومات فراہم نہیں کرتی بلکہ ایک فکری اور روحانی تربیت کا ذریعہ بھی ہے۔
    جذباتی پہلو سے دیکھا جائے تو یہ کتاب قارئین کے دلوں میں اسلامی تاریخ کے اس روشن دور کے لیے محبت، عقیدت اور فخر کے جذبات کو بیدار کرتی ہے۔ خلفائے راشدین کی سادگی، انکساری، عدل پسندی اور اللہ کے حضور جوابدہی کا احساس پڑھ کر انسان خود احتسابی پر مجبور ہو جاتا ہے ۔ سیدنا ابوبکر صدیق کے اخلاص ، سیدنا عمر فاروق کے عدل،سیدنا عثمان غنی کی سخاوت اور سیدنا علی رضی اللہ عنھم کی حکمت و شجاعت کے واقعات دل کو جھنجھوڑ دیتے ہیں اور ایک مثالی معاشرے کی تصویر آنکھوں کے سامنے لے آتے ہیں۔
    پروفیشنل نقطہ نظر سے یہ کتاب طلبہ، اساتذہ ، محققین، علما، سیاستدانوں ، حکمرانوں ، عسکری ماہرین، تجزیہ نگاروں اور عام قارئین سب کے لیے یکساں مفید ہے اور عملی رہنمائی پیش کرتی ہے کہ حکمرانی کن اصولوں پر استوار ہونی چاہیے۔ اس میں پیش کیے گئے واقعات اور فیصلے آج کے پیچیدہ معاشرتی اور سیاسی مسائل کے حل کے لیے بھی رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
    خلاصہ یہ کہ تاریخِ خلفائے راشدین ایک ایسی کتاب ہے جو علم، تحقیق، ادب اور جذبات کا حسین امتزاج ہے۔ یہ نہ صرف ماضی کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے بلکہ حال کو سنوارنے اور مستقبل کو بہتر بنانے کی بھی راہ دکھاتی ہے۔ ان شاء اللہ یہ کتاب کتب قوم کی فکری رہنمائی اور تعمیر میں بنیادی کردار ادا کرے گی لہذا ہر خاص وعام کے لیے اس کا مطالعہ ناگزیر ہے ۔خوبصورت وجاذب نظر سرورق، عمدہ طباعت کی حامل 652صفحات پر مشتمل کتاب کی قیمت 2100روپے ہے ۔ یہ کتاب 4۔ لیک روڈ چوبرجی لاہور ، ہادیہ حلیمہ سنٹر اردو بازار لاہور ، الواحد ٹاور ابولحسن اصفہانی روڈ گلشن اقبال پر دستیاب ہے یا کتاب براہ راست حاصل کرنے کیلئے درج ذیل نمبر 042-37301365پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔

  • کن فیکون: عشقِ رسول ﷺ کے 2270 صفحات تبصرہ،شاہدنسیم چوہدری

    کن فیکون: عشقِ رسول ﷺ کے 2270 صفحات تبصرہ،شاہدنسیم چوہدری

    محمد یعقوب فردوسی کا ایک تاریخی ادبی کارنامہ۔

    پاکستان کی ادبی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو یہ سرزمین ہمیشہ سے شعر و ادب کے ایسے نابغۂ روزگار اہلِ قلم پیدا کرتی رہی ہے جنہوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے نہ صرف اردو ادب کے دامن کو وسعت دی بلکہ اپنے عہد کی تہذیبی، روحانی اور فکری ترجمانی بھی کی۔ بالخصوص نعتیہ ادب ہماری شعری روایت کا وہ مقدس باب ہے جس میں لفظ محض لفظ نہیں رہتا بلکہ عقیدت کا اظہار، محبت کا وسیلہ اور دل کی کیفیت کا آئینہ بن جاتا ہے۔ جب کوئی شاعر اپنی تمام تر فکری اور تخلیقی توانائی عشقِ رسولِ اکرم ﷺ کی نذر کر دیتا ہے تو اس کی کاوش محض ادبی تخلیق نہیں رہتی، بلکہ ایک روحانی سرمایہ بن جاتی ہے۔

    اسی روشن روایت میں محمد یعقوب فردوسی کا نام ایک منفرد حوالہ بن کر سامنے آتا ہے۔ ان کی نعتیہ ماہیوں پر مشتمل ضخیم کتاب ’’کن فیکون‘‘ بلاشبہ ایک غیر معمولی ادبی کارنامہ ہے۔ 2270 صفحات پر مشتمل یہ کتاب نہ صرف اپنی ضخامت کے اعتبار سے حیران کن ہے بلکہ نعتیہ ماہیوں جیسی مختصر شعری صنف کو اس وسعت، تسلسل اور تسلسلِ عقیدت کے ساتھ پیش کرنا بھی اپنی نوعیت کی ایک منفرد کاوش ہے۔ دستیاب ادبی رپورٹ کے مطابق ’’کن فیکون‘‘ کو پاکستان کی سب سے زیادہ صفحات پر مشتمل ماہیوں کی کتاب قرار دیا گیا ہے۔ یہ اعزاز یقیناً محمد یعقوب فردوسی کے لیے بھی باعثِ فخر ہے اور پاکستان کے نعتیہ ادب کے لیے بھی ایک قابلِ ذکر اضافہ۔
    ’’کن فیکون‘‘ نام ہی اپنے اندر ایک وسیع معنوی دنیا سمیٹے ہوئے ہے۔ یہ عنوان تخلیق، قدرت، امرِ الٰہی اور وجود کے اسرار کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ جب یہی عنوان عشقِ رسول ﷺ کے اظہار کے لیے منتخب کیا جائے تو اس میں ایک خاص روحانی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ کتاب کے 2270 صفحات کو محض کاغذ کے صفحات سمجھنا اس تخلیقی سفر کی قدر و قیمت کو کم کر دینا ہوگا۔ دراصل ہر صفحہ شاعر کے ذوق، مطالعے، مشاہدے، عقیدت، فکری وابستگی اور مسلسل ریاضت کی ایک منزل ہے۔

    ماہیے کی صنف اپنی ساخت کے اعتبار سے مختصر ہے۔ چند مصرعوں میں ایک کیفیت، ایک منظر، ایک جذبہ یا ایک خیال سمو دینا شاعر کے لیے آسان کام نہیں۔ مختصر شعری قالب میں بات کو مکمل کرنا، جذبے کو مؤثر بنانا اور تاثیر کو برقرار رکھنا فنِ شاعری کی باریکیوں سے واقفیت کا تقاضا کرتا ہے۔ اگر یہی صنف نعتیہ اظہار کا ذریعہ بن جائے تو شاعر کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے، کیونکہ نعت صرف شعری حسن کا نام نہیں؛ اس میں عقیدت، احترام، ادب اور محبت کے تقاضے بھی شامل ہوتے ہیں۔
    محمد یعقوب فردوسی نے ماہیے کے اسی مختصر قالب کو عشقِ مصطفیٰ ﷺ کے وسیع موضوع سے جوڑ کر ایک ایسا تخلیقی سفر اختیار کیا جس کی طوالت 2270 صفحات تک پہنچتی ہے۔ یہ بات اپنی جگہ حیرت انگیز ہے کہ ایک شاعر نے ایک ہی صنف اور ایک ہی مقدس موضوع سے وابستہ رہتے ہوئے اتنی وسیع تخلیقی دنیا آباد کی۔ مگر اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ یہ ضخامت محض تعداد کا مظاہرہ نہ بنے بلکہ عقیدت کے تسلسل کی علامت بنے۔

    نعتیہ شاعری میں اصل حسن الفاظ کی کثرت نہیں بلکہ دل کی کیفیت ہے۔ ایک سچا نعت گو جب حضور اکرم ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں اپنے جذبات پیش کرتا ہے تو وہ دراصل اپنے دل کی دنیا کو الفاظ کا لباس پہناتا ہے۔ اسی لیے نعت پڑھنے والا صرف شعر نہیں پڑھتا، وہ شاعر کے دل کی دھڑکن بھی محسوس کرتا ہے۔ ’’کن فیکون‘‘ کے حوالے سے یہی پہلو اسے ایک خاص اہمیت عطا کرتا ہے کہ یہ کتاب عشقِ رسول ﷺ کو ایک مسلسل تخلیقی تجربے کے طور پر سامنے لاتی ہے۔
    ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ کسی کتاب کے 2270 صفحات تک پہنچنے کے لیے صرف ادبی صلاحیت کافی نہیں ہوتی۔ اس کے پیچھے برسوں کی محنت، مطالعہ، لکھنے کا معمول، شعری ریاضت، زبان پر گرفت اور سب سے بڑھ کر ایک مستقل جذبہ درکار ہوتا ہے۔ آج کے تیز رفتار دور میں، جب قاری طویل تحریر پڑھنے سے بھی گریزاں نظر آتا ہے، ایسے وقت میں اتنا ضخیم نعتیہ شعری سرمایہ تخلیق کرنا محمد یعقوب فردوسی کی غیر معمولی استقامت کا ثبوت ہے۔
    یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ ایک شاعر کو اتنی طویل تخلیقی مسافت طے کرنے کی قوت کہاں سے ملتی ہے؟ اس کا جواب شاید عشق میں پوشیدہ ہے۔ جس موضوع سے انسان کو قلبی وابستگی ہو، اس کے اظہار کے لیے الفاظ کبھی کم نہیں پڑتے۔ محبت کا عالم یہ ہوتا ہے کہ انسان ایک ہی محبوب کا ذکر بار بار کرتا ہے، مگر ہر بار اس کے دل پر ایک نئی کیفیت اترتی ہے۔ یہی کیفیت جب شعر کا روپ اختیار کرتی ہے تو ایک شعر دوسرے شعر سے مختلف ہونے کے باوجود اسی مرکزِ محبت سے جڑا رہتا ہے۔

    محمد یعقوب فردوسی کی ’’کن فیکون‘‘ کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ یہ محض ایک ضخیم کتاب نہیں بلکہ محبتِ رسول ﷺ کی ایک طویل ادبی دستاویز ہے۔ اس میں شاعر نے ماہیے کے ذریعے اپنی عقیدت کا اظہار کیا اور ایک ایسی صنفی روایت کو بھی وسعت دی جس پر مزید تحقیقی اور تنقیدی کام کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔
    نعتیہ ادب کی تاریخ بہت قدیم اور وسیع ہے۔ اردو، فارسی، عربی اور برصغیر کی دیگر زبانوں میں بے شمار شعراء نے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں عقیدت کے پھول پیش کیے۔ کسی نے غزل کے پیرائے میں نعت کہی، کسی نے قصیدہ اختیار کیا، کسی نے نظم کو ذریعہ بنایا اور کسی نے اپنی مخصوص صنف کے ذریعے عشقِ رسول ﷺ کا اظہار کیا۔ محمد یعقوب فردوسی کا ماہیے کو وسیلہ بنانا اور پھر اسی صنف میں ہزاروں صفحات پر مشتمل نعتیہ سرمایہ تخلیق کرنا اسی روایت میں ایک منفرد اضافہ ہے۔
    ادب میں بعض کتابیں اپنی فنی خوبیوں کے باعث یاد رکھی جاتی ہیں، بعض اپنی فکری گہرائی کے سبب، بعض اپنے موضوع کی ندرت کی وجہ سے اور بعض اپنی غیر معمولی ضخامت یا وسعت کے باعث۔ ’’کن فیکون‘‘ ان تمام پہلوؤں میں گفتگو کا ایک دروازہ کھولتی ہے۔ اس کتاب کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا حجم ہے، مگر اس کا اصل حسن اس جذبے میں تلاش کیا جانا چاہیے جس نے شاعر کو اتنی طویل تخلیقی مسافت پر گامزن رکھا۔
    یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ محمد یعقوب فردوسی صرف ایک کتاب کے شاعر نہیں بلکہ ادبی سرگرمیوں سے وابستہ ایک صاحبِ قلم کے طور پر بھی اپنی شناخت رکھتے ہیں۔ تصویر میں شائع شدہ ادبی تحریر کے مطابق وہ تنقیدی ادب کے حوالے سے انٹرنیشنل کمالِ فن ایوارڈ 2024ء اور 2025ء بھی حاصل کر چکے ہیں۔ یہ امر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ان کی ادبی شناخت صرف نعتیہ شاعری تک محدود نہیں بلکہ تنقیدی اور دیگر ادبی جہات بھی ان کی تخلیقی شخصیت کا حصہ ہیں۔
    تاہم ’’کن فیکون‘‘ ان کے ادبی سفر میں ایک ایسا سنگِ میل دکھائی دیتی ہے جسے نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔ کسی شاعر کی ادبی زندگی میں ایسے مواقع کم آتے ہیں جب اس کی ایک تخلیق پورے ادبی منظرنامے میں ایک الگ سوال اٹھا دے۔ 2270 صفحات پر مشتمل نعتیہ ماہیوں کی کتاب بھی ایسا ہی ایک سوال ہے: کیا مختصر شعری صنف اتنی وسعت پیدا کر سکتی ہے؟ محمد یعقوب فردوسی کا جواب ان کی کتاب کی صورت میں ہمارے سامنے موجود ہے۔
    یہ کتاب نئی نسل کے لیے بھی کئی حوالوں سے قابلِ مطالعہ ہے۔ آج کا نوجوان مختصر اظہار، فوری تاثر اور ڈیجیٹل مواد کے عہد میں زندگی بسر کر رہا ہے۔ ایسے ماحول میں 2270 صفحات پر مشتمل شعری کتاب کا وجود اسے یہ پیغام دیتا ہے کہ ادب صرف چند سطروں یا چند لمحوں کی سرگرمی نہیں، بلکہ ایک عمر کی ریاضت بھی ہو سکتا ہے۔ کتاب ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ تخلیق کے لیے صبر، تسلسل اور اپنے موضوع سے وفاداری بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
    ’’کن فیکون‘‘ کو صرف ایک ریکارڈ یا اعزاز کی کتاب بنا کر دیکھنا بھی مناسب نہیں ہوگا۔ ادبی دنیا میں ریکارڈ اپنی جگہ اہمیت رکھتے ہیں، مگر ریکارڈ وقت کے ساتھ نئے ریکارڈ سے بدل سکتے ہیں۔ اصل چیز وہ تخلیقی سرمایہ ہے جو کتاب اپنے اندر محفوظ کرتی ہے۔ اگر کوئی ضخیم کتاب قاری کو محبت، عقیدت، فکر اور زبان کے نئے ذائقوں سے آشنا کر دے تو اس کی اہمیت محض ضخامت سے کہیں آگے نکل جاتی ہے۔

    محمد یعقوب فردوسی کے اس کارنامے کی ایک اور خوبصورتی یہ ہے کہ انہوں نے ایک ایسی صنف کو نعتیہ اظہار کے لیے استعمال کیا جسے عام طور پر عوامی اور لوک شعری روایت سے جوڑا جاتا ہے۔ ماہیے کی سادگی، روانی اور اختصار اسے عام قاری کے قریب لے آتا ہے۔ جب یہی سادگی نعتیہ جذبات کے ساتھ ملتی ہے تو ادب اور عوامی ذوق کے درمیان ایک خوبصورت پل قائم ہوتا ہے۔
    ہمارے معاشرے میں نعتیہ ادب کی اہمیت محض ادبی نہیں بلکہ تہذیبی اور روحانی بھی ہے۔ نعت پڑھنے اور سننے والے کے لیے یہ محبت اور عقیدت کا وسیلہ بنتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نعت گو شاعر کا قلم ایک خاص ذمہ داری کا حامل ہوتا ہے۔ اسے لفظوں کے انتخاب، اسلوب، احترام اور عقیدت کے تقاضوں کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھنا پڑتا ہے۔ اس حوالے سے ایک ضخیم نعتیہ کتاب تخلیق کرنا یقیناً ایک بڑی ذمہ داری بھی ہے اور ایک بڑی سعادت بھی۔
    محمد یعقوب فردوسی نے ’’کن فیکون‘‘ کے ذریعے اس ذمہ داری کو ایک وسیع ادبی منصوبے کی صورت دی ہے۔ 2270 صفحات ایک عدد ضرور ہے، مگر اس عدد کے پیچھے ایک شاعر کی طویل محنت، مسلسل وابستگی اور عشقِ رسول ﷺ کی وہ کیفیت موجود ہے جس نے اسے قلم اٹھانے پر آمادہ رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ ’’کن فیکون‘‘ کا ذکر محض ایک کتاب کے حوالے سے نہیں بلکہ ایک تخلیقی عزم کے حوالے سے بھی ہونا چاہیے۔
    ایسے اہلِ قلم کسی بھی معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ان کی کتابوں کو صرف تعریفی کلمات تک محدود نہ رکھیں بلکہ ان پر علمی، تحقیقی اور تنقیدی گفتگو بھی کریں۔ جامعات کے اردو اور اسلامیات کے شعبوں میں ایسی کتابوں پر تحقیق ہونی چاہیے۔ ماہیے کی صنف کے حوالے سے ’’کن فیکون‘‘ ایک اہم تحقیقی موضوع بن سکتی ہے۔ اس میں موجود نعتیہ مواد، اسلوب، زبان، تشبیہات، استعارات، بحور، موضوعاتی تنوع اور فنی خصوصیات پر باقاعدہ تحقیقی مقالے لکھے جا سکتے ہیں۔ یوں یہ کتاب صرف شاعر کی ذاتی کامیابی نہیں رہے گی بلکہ نعتیہ ادب اور ماہیے کی صنف کے تحقیقی ذخیرے میں بھی اپنا مقام پیدا کرے گی۔
    ہمیں یہ اعتراف بھی کرنا چاہیے کہ ادب میں کسی غیر معمولی کاوش کی پذیرائی صرف مصنف کی حوصلہ افزائی نہیں ہوتی بلکہ پورے ادبی معاشرے کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ جب کوئی شاعر اپنی زندگی کا بڑا حصہ تخلیق کے لیے وقف کرتا ہے تو معاشرے کو بھی اس کے ادبی سفر کو محفوظ اور نمایاں کرنے میں کردار ادا کرنا چاہیے۔ اخبارات، رسائل، ادبی فورمز، جامعات اور ثقافتی اداروں کو چاہیے کہ ’’کن فیکون‘‘ جیسی کتابوں پر مذاکرے، نشستیں اور تحقیقی پروگرام منعقد کریں تاکہ اس کتاب کے فنی اور ادبی پہلو سامنے آ سکیں۔
    محمد یعقوب فردوسی کو اس غیر معمولی کاوش پر خراجِ تحسین پیش کرنا دراصل ایک ایسے جذبے کو سلام پیش کرنا ہے جس نے لفظ کو عبادتِ محبت کا وسیلہ بنا دیا۔ یہ خراجِ تحسین صرف اس لیے نہیں کہ انہوں نے 2270 صفحات لکھے، بلکہ اس لیے بھی کہ انہوں نے نعتیہ ماہیے کو ایک ایسی وسعت دی جس پر آنے والے اہلِ قلم غور کریں گے، محققین کام کریں گے اور قارئین اس میں اپنے ذوق کے مطابق محبت کے رنگ تلاش کریں گے۔
    ’’کن فیکون‘‘ یقیناً محمد یعقوب فردوسی کے نام سے جڑا ہوا ایک اہم ادبی حوالہ ہے۔ یہ کتاب ہمیں یہ سبق بھی دیتی ہے کہ اگر جذبہ سچا ہو، مقصد بلند ہو اور قلم مسلسل چلتا رہے تو مختصر سے مختصر صنف بھی ایک وسیع ادبی کائنات میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
    آخر میں محمد یعقوب فردوسی صاحب کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے نعتیہ ادب میں ایک ایسی کاوش پیش کی جو اپنے حجم، موضوع اور صنفی انفرادیت کے باعث طویل عرصے تک گفتگو کا موضوع بن سکتی ہے۔ 2270 صفحات کی ’’کن فیکون‘‘ دراصل 2270 صفحات سے کہیں بڑھ کر ہے؛ یہ محبتِ رسول ﷺ کے اظہار کا ایک طویل سفر، ایک شاعر کی مسلسل ریاضت اور نعتیہ ادب کے لیے ایک قابلِ قدر تحفہ ہے۔
    دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ محمد یعقوب فردوسی صاحب کے قلم کو مزید قوت، وسعت اور تاثیر عطا فرمائے، ان کی اس کاوش کو شرفِ قبول بخشے اور ’’کن فیکون‘‘ کو نعتیہ ادب کی دنیا میں ہمیشہ ایک معتبر اور منفرد حوالہ بنائے۔
    یہ کتاب صرف پڑھی نہیں جائے گی، اس پر گفتگو بھی ہوگی؛
    یہ صرف ایک ادبی کارنامہ نہیں، عشقِ مصطفیٰ ﷺ کے اظہار کی ایک طویل داستان ہے۔

  • سخن ِتازہ کی شاعرہ ،مجموعہ  صاحب ،تبصرہ نگار۔ عرفان خانی

    سخن ِتازہ کی شاعرہ ،مجموعہ صاحب ،تبصرہ نگار۔ عرفان خانی

    فنون لطیفہ کی صنف ادب زمانہ قدیم سے مقبول ترین صنف ہے اور صنف ادب میں سب سے زیادہ مقبول صنف غزل ہے یہ وہ صنف جو لکھنے والا لکھتا ہی جاتا ہے اور گانے والا گاتا ہی جاتا ہے یہی نہیں اس کا مطالعہ کرنے والا پڑھتا ہی جاتا ہے اس کی وجہ غزل کے نۓ رنگ ہیں غزل ہر دور میں کسی نۓ خیال میں قاری کے سامنے آئی جس کی وجہ سے توجہ کا مرکز ہے ۔ غزل کا ہر شعر الگ سے منظر کو پیش کرتا ہے جس سے پانچ یا اس سے زائد اشعار میں مختلف مضامین شامل ہوتے ہیں کبھی کبھی غزل جمالیاتی رنگ میں اپنا قد بڑھاتی ہے اور کبھی حقیقی در سے روشن ہوتی نظر آتی ہے ۔ اس صنف میں کسی منظر کو چاہے وہ عارضی ہو چاہے وہ دائمی ہو چاہے وہ خوابی ہو چاہے وہ ناممکنات میں سے ہو چاہے وہ دردو الم کی چیخ ہو چاہے وہ حسن کی تعریف ہو چاہے وہ غم کی داستاں ہو چاہے موسموں کا رنگیں مزاج ہو چاہے وہ رودادِ غربت ہو چاہے وہ دل کی باتیں ہوں چاہے وہ اشکوں کا سمندر ہو چاہے وہ زخموں کی مالا ہو غرض یہ کہ ہر منظر ہر حادثہ, ہر واقعہ, ہر انداز فکر اس میں سمونے کی جگہہ ہے یہی وجہ ہے قاری کو مطالعہ میں لطف اور لکھاری کو مضامین سمیٹنے کا موقع ملتا ہے اسی موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوۓ محترمہ پروین سجل نے نجانے کتنے موضوعات سخن کو مجموعہ
    "صاحب ” میں سجایا ہے پروین سجل چونکہ کہنہ مشق اور مسلسل لکھاری ہیں اب تک ان کے 12 مجموع منظر عام پر آ چکے ہیں "ممکن ” سے شروع ہونے والا سفر ” تکیہ” تک کا سفر کامیابی سے طے کرنے کے بعد اگلے پڑاو کی جانب رواں ہے ہم آج بات کریں کے انکے شعری مجموعہ "صاحب ” پر اور جو انکا تازہ شعری مجموعہ ” تکیہ ” ” اس پر پھر کسی دن اظہار خیال ہوگا کیونکہ وہ مجموعہ ابھی زیر مطالعہ ہے۔

    پروین سجل انتہائی سلجھی ہوئی اور معتبر ادبی شخصیت کے جانی پہچانی جانے والی شاعرہ, ادیبہ, اور صحافی ہیں
    ان کو علوم پر خاصی دسترس حاصل ہے یہی وجہ ہے کہ ان کے اشعار میں الفاظ کا خاصا زخیرہ ہے جو طویل کہانی, حادثہ, کو چند الفاظ میں بیان کر نے کی خاصیت رکھتا ہے ایک اچھے لکھاری کی پہچان ہی کم الفاظ میں مقصد سمیٹنا ہے ورنہ شعر اور کہانی, افسانہ وغیرہ میں فرق جاننا مشکل ہو جاتا ۔ طویل خیال و خواب کو دو مصرع میں ایسے قید کرنا کہ جب اس کی تشریح ہو تو کئی صفحات پر مشتمل ہو اسی کا نام شعر ہے ۔

    بلاشبہ پروین سجل کے اشعار اس میعار پر ہیں کہ وہ شعر ہیں اور وہ اشعار میں ہر منظر کو ڈھالنے کی دسترس رکھتی ہے کوئی بھی شاعرہ جب غزل کی جانب آئی تو سب سے پہلے نقاد کی نگاہ اس کے نسائی ادب کی جانب گئی کیوں کہ وہ صنف نازک ہے ظاہر ہے صنف نازک کا لہجہ نسائی خواہش و خواب سے جڑا ہے مگر کچھ شاعرات
    کے ہاں نسائی لہجہ کم کم ملا اسکی وجہ کہ وہ آپ بیتی کے خیال پر نہیں بلکہ عوام بیتی اور حالات حاضرہ کی حس کی مالکہ ہے جو اپنے دکھ درد اپنی خواہشوں اپنے خوابوں کی بجاۓ انسانی دردو آلم کو محسوس کرنے لگی،قدرتی مناظر سے قربت بڑھانے لگی اور یہی مقام نسانی حس کی نازکی کا وہ مقام ہوتا ہے جہاں سے اک پختہ کار شاعرہ کے خیال کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اشعار منفرد خیال سے مزیں اور اسلوب سخن کی پہچان ہو سکتی ہے پروین سجل کے ہاں رومانی اسلوب بہت کم ہے فقر اور فکر کے ساتھ حقیقی اسلوب ان کے ہاں زیادہ ہے جس کی وجہ وہ دور حاضر کی شاعرات میں منفرد اسلوب کی شاعرہ ہیں انکے اشعار میں قرب ِ ممکنات اور تلاش فقر ہے جو کہ مفکرانہ سوچ کے اس دھارے پر لے جاتا ہے جہاں سے بہت دور کا منظر بھی قریب دیکھا جا سکتا ہے شاعر یاتو منظر واقعہ حادثہ کو دیکھ کر شعر کہتا ہے یا ہھر وہ اس کیفئیت سے گزر کر شعر تخلیق کرتا ہے یا پھر اسے الہامی طور شعر ملتا ہے محسوسات اور حساسیئت بھی زریعہ شعر ہیں ۔

    جیسا کہ یہ شعر اک ایسا شعر جس میں کرب کا وہ خیال ہے جسے شعر میں سموتے ہوۓ شاعر کی کفیئت کا اندازہ کر سکتے ہیں اندھیری رات بھی ہو اور چراغ جو امید کا سہارا ہو وہ بھی بجھ جاۓ اس کے بجھنے سے ساۓ بھی بجھ جائیں خاص اشارہ یہ کہ ساۓ سے سایہ الگ ہونا یہ نیا اچھوتا خیال ہے جسے شاعرہ نے بخوبی نبھایا ہے
    مطالعہ کیجۓ

    جلتا چراغ بجھ گیا ساۓ بھی بجھ گۓ
    تیرہ شبی نے ساۓ سے سایہ الگ کیا ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پرانے خیال کو نۓ انداز میں بیان کرنا بھی دسترسِ فن کا خاصا ہے

    فقط کچّے گھڑے کے واسطے میں
    یہ دریا ہاتھ سےروکے کھڑی ہوں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    شاعرہ نے اشعار میں فرضیات و لفظیات سے کام نہیں لیا بلکہ حقیقی خیال کا پیرہن پہنایا ہے اس شعر میں نیا رنگ یہ ہے ساۓ کو بستر بنا دیا یہ جدید رنگ ہے جس میں شاعرہ نے ناممکن کو ممکن بنا دیا شعر دیکھیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کیا وجودِ خام سے لپٹی تھکن
    کھول کر سایا ہی بستر کر لیا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    چند اشعار اپکے زوق سخن کے لۓ
    گردشِ چرخ چین لینے دو
    تنگی ء جاں کو آستیں کافی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پاؤں ڈالے تھے جونہی پانی میں
    بول اٹھے کنارے آپس میں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    شہر سارا نہ اٹھا صبح تلک
    ؔموجہ ء گل نے نافہ چھوڑا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سب سجل چھوڑ دیا چھوڑ دیا
    ذکر تیرے کا نہ کلمہ چھوڑا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جیسا کہ اوپر کہا گیا شاعرہ کا نسائی رنگ کم اور حقیقت کا شعری رنگ زیادہ ہے پروین سجل کو علوم ِ سخن پر جو دسترس ہے انکے عمیق سخنی اور علمی بصیرت کا ثبوت اپنے اشعار میں بڑی خوبی سے بیان کرتی ملتی ہے جیسا اک شعر
    مری آنچل کی سلوٹ ناپتے ہو
    تری دستار کے خط سب پرانے
    غرض یہ ” صاحب” کی تخلیقارہ نہ صرف روائیت سے جڑی بلکہ جدید ادب میں بھی اپنا حصہ شامل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے اچھوتے اور جدید اشعار کا نیا پن خود بخود شاعرہ کی ادبی قدامت کا فیصلہ دیتے نظر آتے ہیں
    انکا تازہ شعری مجموعہ ” تکیہ ” میرے مطالعہ میں ہے جو کہ "صاحب ” کے بعد مجھے ملا اس مجموعہ میں انکا سخنی وجدان بھرپور انداز میں اچھی اور جدید شاعرہ کے طور سامنے آۓ گا کچھ دن بعد اظہار خیال شائع کرونگا ۔
    مجموعہ "صاحب ” پر لکھتے وقت محسوس ہوا کہ یہ مجموعہ بھی کئی صفحات کا مضمون لکھنے پر مجبور کر رہا ہے مگر کتاب چہرہ پر کوئی مطالعہ نہیں کرتا یہ وجہ ہے کہ اسے مختصر شائع کیا ورنہ پروین سجل کی شاعری
    موضوعات کے حوالہ سے اک داستاں نہیں بلکہ کئی داستانوں پر مشتمل ہے جسکا کتاب چہرہ پر احاطہ ممکن نہیں
    میری دعا کہ محترمہ پروین سجل اپنے کھرے , سچے اور حقیقی خیالات کے ساتھ ہمیشہ سر بلند رہے آمین

  • جمہوریت چائے میں،تحریر: یوحنا جان

    جمہوریت چائے میں،تحریر: یوحنا جان

    چائے کی شدت اور اس کا استعمال آج کی ضروریاتِ زندگی میں اول درجہ کا حامل ہے۔ ذخیرہ اندوزی سے لے کر رسد تک، پھر اس کے بعد قابلِ رشک۔ یہ وہ عمل ہے جو آن کی آن میں بڑی سے بڑی شخصیت کو بھی اپنی گرفت میں لے کر ایک کپ میں مار دیتا ہے۔ یوں کہوں تو بس ایک کپ کی مار ہے اور کیا۔
    انھی خیالات میں چند دن قبل اپنے قریبی دوست کو ٹیلی فون کیا، جو اپنی سیاسی مصروفیات کے پیشِ نظر کافی حد تک رابطہ منقطع کر چکا تھا۔ اس "چُکا” کا تو مجھے علم نہیں، البتہ ایک اندازے کے مطابق اس لفظ کا مصدر لیا جائے تو “چُکنا” بن جاتا ہے جس کا مفہوم آپ باآسانی سمجھ سکتے ہیں۔ اس وقت جس ملک و قوم کا حصہ تصور کرتا ہوں وہاں اس کا استعمال سرِعام ہے، جیسے چائے کی پیالی کے ساتھ کیک، رس، اور چاہت فتح علی کا نام-
    آپ سمجھ تو گئے ہی ہوں گے کہ میں کیا کہنا چاہتا ہوں؟
    وہ دوست قد میں چھوٹا لیکن حرکات میں متضاد۔ فون پر بات ہو رہی تھی۔ معمول کے مطابق گپ شپ کا آغاز سلام و دعا سے ہوا۔ یہ اگرچہ رسمی ہوتا ہے، پر حسبِ معمول پوچھا:
    “تم کہاں غائب ہو گئے ہو؟ ایک وقت تھا کہ کبھی کوئی دن بغیر ملے نہیں گزرتا تھا، پر اب تو…”
    اس کا کہنا: “اب وقت نہیں رہا۔”
    میں ایک دم چونک گیا۔ یہ کیسا جملہ؟
    اس پر اصرار کیا کہ "میں تمھاری بات سمجھا نہیں۔ ذرا روشنی ڈالو۔”
    وہ بولا: "ابھی میٹنگ میں جانے لگا ہوں، بعد میں کبھی بتاؤں گا۔”
    میں نے جلدی سے کہا: "کل شام تمھارے گھر آؤں گا، تب اس پر بات ہو گی۔ ابھی فون رکھتا ہوں۔”
    میں اس کے لہجے اور جملے سے کافی حیران بھی تھا اور پریشان بھی۔ خیر، کیا کِیا جا سکتا ہے؟ ہر بات میں کہنے والا یہی کہتا ہے وہ وقت نہیں رہاکہ زمانہ خراب ہے، لیکن سورج تو آج بھی اپنے مقررہ راستے اور وقت پر طلوع ہوتا ہے۔ آج بھی ایک دن میں چوبیس گھنٹے، سال میں بارہ مہینے ہیں، پر یہ…؟
    ماضی کے لوگ بھی اسی زمین سے پیدا ہو کر اسی زمین میں جا چھپے ہیں اور اب اسی دھرتی پر رہنے والوں کا عکس خود ہی تضاد لیے ہوئے ہے مسئلہ پہ مسئلہ پیدا کیے ہوئے ہے۔ فرق کہاں؟
    اگلے روز شام کو میں اپنے دوست اکرام کے گھر پہنچا۔ دروازے پر دستک دی، ملازم آیا۔ میں نے اسے بتایا:
    "میں اکرام صاحب سے ملنے آیا ہوں۔ ان کا ایک قریبی اور آج کے زمانے کا فریبی دوست ہوں۔”
    اس نے کہا: "اندر آئیے صاحب، گھر پر ہی ہیں۔”
    میں کمرے میں داخل ہوا، بے تکلفی سے ملا اور گلے لگایا۔ اس لمحے اس کا لہجہ بدلا بدلا سا تھا۔ اندر فرق، خیال کا تضاد اور ماضی و حال کا فاصلہ۔ نہ جانے وہ ماضی کا انسان کہاں اور یہ حال کا بے حال کہاں؟
    میں بیٹھا۔ اس نے چائے بنانے کے لیے ملازم کو کہا جو فرماں برداری میں کافی احترام سے پیش آ رہا تھا۔
    چند منٹوں میں چائے آئی۔ اس کے چائے کے انداز کو دیکھتے ہی میں کافی حد تک انجان بھی لگا اور حیرانی کے عالم میں کبھی چائے کو دیکھتا اور کبھی اس کے چہرے کو۔ یہ الم یا ظلم، تو کبھی بے عقلی کی قلم، سپیرے کی بین یا انسان کی توہین، عقل کا ہادی اسی کی بربادی…
    ان تاثرات میں ابھی محو تھا کہ چائے کا پیالہ ڈسپوزایبل سفید رنگ کا میرے آگے رکھ دیا گیا۔ جسے ہاتھ میں تھامتے ہی اس کی آواز کانوں تک ٹکرائی:
    "کچھ اور…؟”
    میں نے فوراً کہا: "نہیں جناب، یہی کافی ہے۔”
    چائے کا ذائقہ کافی اچھا معلوم ہوا۔ اسے پیتے پیتے آخر پوچھ ہی لیا:
    "آج یہ ڈسپوزایبل تک نوبت کیسے آ گئی؟ کیا گھر میں یہی چلتا ہے؟ پہلے ایک پیالہ اور ہم نوالہ پر اب مخالف نظر…؟”
    اس نے زور سے قہقہہ لگایا اور بولا:
    "اوہ پگلے! یہ جمہوریت کی چائے ہے۔”
    میں چائے پیتے رُک بھی گیا اور رُل بھی۔ مزید دریافت کرنے کی کوشش کی تو اس نے کہا:
    "چائے کا ذائقہ اچھا ہے؟”
    میں نے کہا: “بالکل۔”
    اس نے کہا: “تمھیں چائے سے غرض ہے تو وہ پیو۔”
    میں نے اصرار کیا: "پر یہ والا کپ کیوں؟”
    ایک دم وہ لمبا قہقہہ لگاتے ہوئے بولا:
    "اوہ میرے یار! نہ دھونے کی فکر، نہ سنبھالنے کا سیاپا۔ کیا سمجھے تم، اب میرے چاچا بن گئے ہو؟ جب ان کا کام تمام ہو گیا تو پھر دوبارہ کی کیا ضرورت۔۔۔۔؟”
    یہاں شاہ بکتے ہیں، فقیر بکتے ہیں… یہ وہ جملہ تھا جس نے ابھی تک ہوش میں نہیں آنے دیا۔ اس خطے کے لوگ—امیر، صغیر اور کبیر—سب کے سب ذائقہ اور لذت کے مارے حقیقت کھو چکے ہیں۔ علم کا فن نہ اہمیت کا تن، اس تن کے منوں من ذخیرہ اندوزی اور چائے کا سن (زمانہ)۔
    میں نے وضاحتی وار کرتے ہوئے پوچھا: "یہ مطلب ذرا سمجھاؤ۔”
    اس نے ٹانگ پر ٹانگ رکھتے ہوئے سینہ چوڑا کیا، ایک ہاتھ لمبا کر کے دوسری کرسی پر رکھا اور بولا:
    "میں نے جمہوریت میں ایک بات سیکھی ہے۔
    لفظوں میں ذائقہ، لبوں پر رنگ
    جمہوریت چائے میں میرے سنگ، عوام کا پیسہ اور یہ جنگ میرے اپنے مجھ سے تنگ
    روٹی کپڑا اور مکان، صرف کہنے کی حد تک جان،اٹھتر سالوں میں خلوت تضاد جلوت پایا، صرف ایک ہی نعرہ گایا۔
    مذہبی پجاری اور حلوے کے ٹھیکے، اب صرف دیکھنا غربت اوہ فیکے…”
    میں نے چائے کا کپ پیا اور خالی کپ کو میز پر رکھنے لگا تو فوراً جواب آیا:
    "جاتے وقت یہ ٹوکری میں پھینک دینا۔”
    باہر نکلتے وقت ذہن میں بے چینی کے انبار اور ضمیر آواز دے رہا تھا:
    جمہوریت نام ہے ایک مذاق کا،
    کہنے اور کرنے میں عیاں ہوا ایک فرقِ سیاق و سباق کا،
    ہوئے نہ اب بھی آشنا اپنے آپ سے، تو کیا کہوں یہ نہیں مانے اپنے باپ سے، دکھائی دی پوشاک سفید رنگ سے لبریز، پر انسان کرتا ہے انسان سے گریز۔

  • کتاب سے رشتہ،تحریر : جاویدؔ ڈینی ایل

    کتاب سے رشتہ،تحریر : جاویدؔ ڈینی ایل

    ہم ایک ایسے عہد میں زندہ ہیں جہاں دنیا ہماری انگلیوں کی پور پر سمٹ آئی ہے۔ ایک چھوٹی سی سکرین پر دنیا بھر کی خبریں، تصاویر، خیالات اور معلومات لمحوں میں ہمارے سامنے آ جاتی ہیں۔ گلوبل ورلڈ نے فاصلے مٹا دیے ہیں، سوشل میڈیا نے ابلاغ کو غیر معمولی رفتار دی ہے اور مصنوعی ذہانت نے معلومات تک رسائی کے ایک نئے دور کا آغاز کیا ہے۔ بظاہر علم کبھی انسان کے اتنا قریب نہیں تھا جتنا آج ہے، مگر ایک سوال پھر بھی اپنی جگہ موجود ہے؛ کیا معلومات کی فراوانی نے ہمارے اندر علم کی گہرائی بھی پیدا کی ہے؟

    ہم بہت کچھ دیکھ اور سن رہے ہیں، مگر کیا ہم ٹھہر کر پڑھ بھی رہے ہیں؟ کیا ہمارے پاس کسی ایک خیال کے ساتھ کچھ دیر بیٹھنے، کسی کتاب کے ایک باب پر غور کرنے یا کسی کردار کے دکھ میں شریک ہونے کا وقت باقی ہے؟ یہی وہ مقام ہے جہاں کتاب کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں ہو جاتی ہے۔ کتاب محض کاغذ، سیاہی اور الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ انسانی تجربے، دانش، مشاہدے اور احساس کا محفوظ خزانہ ہے۔ ایک کتاب اپنے مصنف کی برسوں کی سوچ کو چند گھنٹوں کے مطالعے میں ہمارے سامنے رکھ دیتی ہے۔ ہم اُن لوگوں سے مکالمہ کر سکتے ہیں جنہیں شاید کبھی دیکھا نہ ہو، اُن زمانوں میں سفر کر سکتے ہیں جنہیں کبھی جیا نہ ہو اور اُن تجربات سے سیکھ سکتے ہیں جن کے لیے شاید ایک پوری زندگی بھی کم پڑ جائے۔

    مقدس کتب بھی تحریر، علم اور محفوظ شدہ دانش کی قدر کا احساس دلاتی ہیں۔ اُن کی تعلیم کا ایک بنیادی پہلو یہ ہے کہ اہم پیغام کو لکھ کر محفوظ کیا جائے تاکہ آنے والی نسلیں بھی اسے پڑھ سکیں۔ یہی تصور آج بھی ہمارے لیے معنی رکھتا ہے کہ جو علم تحریر میں محفوظ ہو جاتا ہے، وہ وقت کی گردش سے گزر کر نسلوں تک پہنچتا ہے۔ انسانی تہذیب کی تاریخ بھی بڑی حد تک کتابوں کے صفحات میں محفوظ ہے۔ قوموں کی جدوجہد، فلسفے، ادبی تحریکیں، سائنسی دریافتیں، مذہبی افکار اور معاشرتی تبدیلیاں کتابوں کے ذریعے ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوئی ہیں۔ کتاب انسان کو محض معلومات نہیں دیتی بلکہ اپنے آپ، اپنے معاشرے اور دنیا کو سمجھنے کی صلاحیت بھی عطا کرتی ہے۔اِسی احساس کو راقم (جاوید ڈینی ایل) اپنی شاعری میں یوں بیان کرتے ہیں؛
    کتابوں کی خوشبو سہانی رہے
    نئی فکر میں بھی روانی رہے
    کتابوں سے رشتہ بھی باقی رہے
    قلم کی صدا جاودانی رہے
    واقعی کتاب صرف ماضی کی یادگار نہیں بلکہ نئی فکر کی بنیاد بھی ہے۔ قلم کی آواز تبھی زندہ رہتی ہے جب اس کے پیچھے مطالعے، مشاہدے اور فکر کی روشنی موجود ہو۔

    آج سوشل میڈیا ہماری زندگی کا اہم حصہ ہے۔ا اس نے اظہار، رابطے اور معلومات کے دروازے عام کر دیے ہیں۔ کتابوں، رسائل اور علمی مواد کو بھی سوشل میڈیا کے ذریعے وسیع حلقۂ قارئین تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ لیکن سوشل میڈیا کی سب سے بڑی خوبی رفتار ہے، جبکہ کتاب کی سب سے بڑی خوبی گہرائی۔ سوشل میڈیا ہمیں ایک خبر سے دوسری خبر، ایک ویڈیو سے دوسری ویڈیو اور ایک خیال سے دوسرے خیال تک تیزی سے لے جاتا ہے۔ اس دوران ہماری توجہ مسلسل تقسیم ہوتی رہتی ہے۔ ہم بہت کچھ دیکھ لیتے ہیں، مگر ضروری نہیں کہ بہت کچھ سمجھ بھی پائیں۔ کتاب اس کے برعکس ہمیں ٹھہرنا سکھاتی ہے۔ وہ کہتی ہے؛ ذرا رک جاؤ، اس جملے کو دوبارہ پڑھو، اس خیال پر غور کرو اور اسے اپنے اندر اترنے دو۔ یہی مطالعے کی تربیت ہے۔

    مصنوعی ذہانت نے معلومات تک رسائی کو مزید آسان بنا دیا ہے۔ چند لمحوں میں کسی موضوع کا خلاصہ، ترجمہ، تشریح یا ابتدائی معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔ طلبہ، اساتذہ، محققین، صحافی اور لکھاری اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ مگر یہ فرق ہمیشہ پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ مصنوعی ذہانت معلومات تک پہنچنے میں مدد کر سکتی ہے، مطالعے کا انسانی تجربہ فراہم نہیں کر سکتی۔ اے آئی کسی کتاب کا خلاصہ بتا سکتی ہے، مگر پوری کتاب پڑھنے کا تجربہ نہیں دے سکتی۔ وہ کسی شاعر کے کلام کی تشریح کر سکتی ہے، مگر اس شاعری کو دل سے گزرنے کا احساس پیدا نہیں کر سکتی۔ وہ کسی ناول کے کردار کا تعارف کرا سکتی ہے، مگر کئی دن تک اس کردار کے ساتھ جینے کی کیفیت نہیں دے سکتی۔ اس لیے اے آئی کو کتاب کا متبادل بنانے کے بجائے کتاب تک پہنچنے کا وسیلہ بنانا چاہیے۔اِسی خیال کو راقم (جاویدؔ ڈینی ایل) اپنی غزل میں جدید عہد کے تناظر میں یوں سمیٹتے ہیں؛
    نیا عہد ہے، علم کی راہ پر
    مگر فکر میں بھی جوانی رہے
    مشینوں سے حاصل ہو دانش مگر
    دلوں میں محبت سہانی رہے
    یہی دراصل ہمارے عہد کا اصل توازن ہے۔ مشین اور انسان، معلومات اور فکر، رفتار اور گہرائی —- ہمیں ان سب کے درمیان ایک مثبت اور بامعنی تعلق قائم کرنا ہے۔

    ڈیجیٹل دنیا کا ایک اور مسئلہ غیر مصدقہ معلومات، افواہوں اور سطحی مطالعے کا پھیلاؤ ہے۔ ایک مختصر پوسٹ یا وائرل ویڈیو کو حقیقت سمجھ لینا آسان ہو گیا ہے۔ معتبر کتاب ہمیں کسی موضوع کے پس منظر، تسلسل اور مختلف پہلوؤں کو سمجھنے کا موقع دیتی ہے۔ آج کے نوجوان کے لیے صرف پڑھنا کافی نہیں؛ صحیح چیز پڑھنا اور تنقیدی انداز میں پڑھنا بھی ضروری ہے۔اب سوال یہ ہے کہ نسلِ نو کو کتاب کی طرف کیسے مائل کیا جائے؟ اس کا جواب صرف نصیحت میں نہیں بلکہ ماحول کی تبدیلی میں ہے۔ ہم نوجوانوں سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ موبائل چھوڑ دو اور کتاب پڑھو، کیونکہ اُن کی تعلیم، رابطہ اور معلومات کا بڑا حصہ اسی ٹیکنالوجی سے وابستہ ہے۔ ہمیں موبائل اور کتاب کو ایک دوسرے کا دشمن بنانے کے بجائے دونوں میں مثبت تعلق پیدا کرنا ہوگا۔

    نوجوان کی دلچسپی سے مطالعے کا آغاز کیا جا سکتا ہے۔ جسے تاریخ پسند ہے، اسے تاریخ کی کتاب دی جائے؛ جسے شاعری پسند ہے، اسے شعری مجموعہ؛ جسے سائنس میں دلچسپی ہے، اسے سائنسی کتاب اور جسے کہانیاں پسند ہیں، اسے معیاری افسانہ یا ناول دیا جائے۔ کتاب کا درست انتخاب خود مطالعے کی طرف ایک دعوت ہے۔والدین بچوں کو کتابیں تحفے میں دیں اور گھر میں مطالعے کا ماحول پیدا کریں۔ تعلیمی ادارے ریڈنگ کلب، کتابی نشستیں، مصنف سے ملاقاتیں، کتاب پر گفتگو اور مطالعاتی سرگرمیاں شروع کریں۔ گھر میں والدین صرف یہ نہ پوچھیں کہ کتنے صفحات پڑھے بلکہ یہ بھی پوچھیں: “اس کتاب نے تمہیں کیا سوچنے پر مجبور کیا؟” اس طرح کتاب محض مطالعے کی چیز نہیں رہتی بلکہ فکر اور مکالمے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ایک نوجوان اگر ہر ماہ صرف ایک اچھی کتاب مکمل پڑھ لے تو سال میں بارہ کتابیں اس کے فکری سرمائے کا حصہ بن سکتی ہیں۔ دس برس میں یہی تعداد ایک سو بیس تک پہنچ سکتی ہے۔ سوچیے، ایک سو بیس سنجیدہ کتابیں کسی نوجوان کے ذہنی اور فکری سفر کو کس قدر بدل سکتی ہیں!۔

    گھر کی لائبریری بھی اسی سفر کا اہم حصہ ہے۔ بڑی لائبریری ضروری نہیں؛ چند درجن اچھی کتابیں بھی ایک مضبوط آغاز ہو سکتی ہیں۔ اصل اہمیت کتابوں کی تعداد سے زیادہ اُن کے ساتھ تعلق کی ہے۔ جب بچے والدین کو مطالعہ کرتے دیکھتے ہیں تو کتاب ایک اضافی سرگرمی نہیں رہتی بلکہ زندگی کا حصہ بن جاتی ہے۔راقم (جاوید ڈینی ایل) بھی کتاب کو زندگی کے سفر کا ایک لازمی ساتھی قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں؛
    کتابوں کو رکھ لیں شریکِ سفر
    یہ تہذیب اپنی نشانی رہے
    کھُلے علم کا دَر، بڑھے آگہی
    دلوں میں سدا ضوفشانی رہے

    واقعی کتاب انسان کے ہاتھ میں صرف چند صفحات نہیں رکھتی بلکہ اس کے ذہن میں آگہی کا چراغ روشن کرتی ہے۔ اچھی کتاب انسان کے تجربے کو وسیع کرتی ہے۔ ادب ہمیں دوسروں کے دکھ سمجھنا سکھاتا ہے، شاعری اُن احساسات کو زبان دیتی ہے جنہیں ہم خود بیان نہیں کر پاتے، تاریخ ہمیں قوموں کے عروج و زوال سے آگاہ کرتی ہے اور سوانح ہمیں کامیابی کے پیچھے چھپی جدوجہد دکھاتی ہے۔ یوں کتاب انسان کو اپنے محدود تجربے سے نکال کر انسانی تجربے کی وسیع دنیا میں لے جاتی ہے۔یہ بھی ضروری نہیں کہ کتاب ہمیشہ کاغذی صورت میں ہو۔ ای بکس، آڈیو بکس، آن لائن لائبریریاں اور ڈیجیٹل اشاعت نے کتاب کو نئی شکلیں دے دی ہیں۔ اصل مسئلہ کتاب کی شکل نہیں بلکہ مطالعے کی عادت ہے۔ نوجوان ڈیجیٹل دنیا سے فائدہ اٹھائیں، مصنوعی ذہانت سے مدد لیں اور سوشل میڈیا کو مثبت اظہار کے لیے استعمال کریں، مگر اپنے ذہن کو مسلسل مختصر اور تیز رفتار مواد کا عادی نہ بنائیں۔

    اسی فکر کو عملی تحریک میں ڈھالنے کی ایک قابلِ قدر کوشش ریڈنگ ریوائیول پروجیکٹ (ٹی۔ آر۔ آر۔ پی)، کتاب دوستی کی ایک نئی تحریک ہے، جس کے روحِ رواں ڈاکٹر ایورسٹ جان ہیں۔ اس تحریک کا مقصد نوجوان نسل میں مطالعے کی عادت کو زندہ کرنا اور کتاب سے ٹوٹا ہوا رشتہ بحال کرنا ہے۔ اس کا نصب العین ”قارئین کو مفکرین اور مفکرین کو رہنماؤں میں بدلنا“ اس یقین کی ترجمانی کرتا ہے کہ قوموں کا مستقبل سوچنے، سوال کرنے اور تحقیق کو عمل میں ڈھالنے والوں سے بنتا ہے۔اس تحریک کے پانچ بنیادی ستون — پڑھیں، غور کریں، تحقیق کریں، لکھیں اور بانٹیں — مطالعے کو ایک مکمل فکری سفر بناتے ہیں۔ ٹی۔ آر۔ آر۔ پی دراصل کتاب، فکر اور روشن مستقبل سے رشتہ جوڑنے کی ایک بامعنی دعوت ہے۔

    ہمیں کتاب اور ٹیکنالوجی میں سے کسی ایک کا انتخاب نہیں کرنا؛ ہمیں ٹیکنالوجی کے ساتھ کتاب کا سفر جاری رکھنا ہے۔ مصنوعی ذہانت معلومات تک پہنچا سکتی ہے، سوشل میڈیا دنیا سے جوڑ سکتا ہے، مگر گہرا مطالعہ ہی ہمارے اندر سوال، شعور، تخیل، تنقیدی فکر اور انسانی احساس پیدا کرتا ہے۔کتاب سے رشتہ دراصل ماضی سے جڑنے کا نام نہیں بلکہ مستقبل کی تعمیر کا وسیلہ ہے۔ جس نسل کے ہاتھ میں کتاب ہوتی ہے، اُس کے پاس صرف چند صفحات نہیں ہوتے؛ اُس کے ہاتھ میں سوال کرنے، سوچنے، سمجھنے اور بہتر مستقبل تعمیر کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔سکرین ہمیں دنیا دکھاتی ہے، مصنوعی ذہانت معلومات تک پہنچاتی ہے، مگر کتاب ہمیں دنیا کو سمجھنے، انسان کو پڑھنے اور خود کو دریافت کرنے کا ہنر دیتی ہے۔اور اِسی احساس کے ساتھ راقم (جاوید ڈینی ایل) اپنی غزل کے مقطع میں کہتے ہیں؛
    جہاں بھی ہو جاویدؔ علم و ہنر
    نہ کوئی لگن رائیگانی رہے
    آئیے، اس برق رفتار عہد میں کچھ دیر ٹھہریں، ایک کتاب کھولیں اور اپنی نسلِ نو کے ہاتھ میں بھی کتاب رکھیں۔ کیونکہ کتاب سے رشتہ صرف مطالعے کا رشتہ نہیں؛ یہ شعور، تہذیب، انسانیت اور روشن مستقبل سے رشتہ ہے۔

  • گجرات کا جوہری و نگینہ رائے فصیح اللہ جرال ،تحریر: زین سلیم جاجووال

    گجرات کا جوہری و نگینہ رائے فصیح اللہ جرال ،تحریر: زین سلیم جاجووال

    سرزمین گجرات سخنورں کی بستی اپنے دامن میں گوہر نایاب ہے گجرات جو روز اول سے ہی بے شمار ادبی شخصیات کا مسکن رہا ہے ہر دور میں گجرات ادبی حوالے سے نثرنگاری ہو تاریخ نویسی ہو یا پھر شاعری یہ خطہ ہمیشہ سے ہی شاداب رہا ہے اسی بستی گجرات میں ایک جوہری ایک نگینہ رائے فصیح اللہ جرال نثر نگاری، تذکرہ نویسی اور تاریخ نویسی کے حوالے سے نمایاں مقام رکھتا ہے۔ یہ جوہری و نگینہ جرال خاندان کا سپوت اپنے ادبی حلقہ میں نہ صرف گجرات میں بلکہ پنجاب بھر کے دور دراز علاقوں میں کتاب دوستی کتب بینی کے خؤالے سے جانا جاتا ہے۔ رائے فصیح اللہ جرال تیکھے نین نقش باوقار شخصیت کا حسین عکس جو آنکھوں میں اعتماد کی چمک لیے ھے اور نگاہ میں فطری وقار جھلکتا نوجوان کسی کو بھی اپنئ مسکراہٹ سے متاثر کر سکتا ہے طبیعت میں تلاطم پن جو ہر وقت کسی نہ کھوج تاریخ شناسی اور تاریخ کی جستجو اور کھوج مگن رہتا ھے جس کے چہرے پر ہنسی اور شرارت کے تاثرات جو ہر ایک محفل میں خوبصورت الفاط اور قہقہوں کی گھونج محفل میں رنگ بھرتے ہوئۓ نظر آئۓ گا۔

    آج دسمبر کی سرد صبح آنکھ کھلی شیڈول پر نظر گئی اور دفتری کام نہ ہونے کی وجہ سے سے فصیح سے رابطہ ہوا کہ گجرات آپ کی طرف آ رہا ہوں تو کسی مقام پر بیٹھ کر گپ شپ لگاتے ہیں تو فصیح بھائی کی جانب سے شیرانی مرکز تحقیق و اشاعت کے کتب خانے میں نشست رکھنے اور وہاں پر چائے پر مدعو کیا۔ جہاں پر چائے کی مٹھاس اور کتابوں کی مہک ہو وہاں کیسے کوئی اس نشست کو منع کر سکتا ہے تو بغیر کسی دیر کے بندہ نا چیز رائے فصیح اللہ جرال کے کتب خانہ میں پہنچ گیا جہاں سب سے پہلے چائے کے ساتھ کئی قسم کے لوازمات پیش کیے گئے چائے کے ساتھ گپ شپ کا سلسلہ جاری تھا کہ چند دیر بعد گجرات کے ادبی ستارے احسان فیصل کنجائی یاور عباس صاحب اور منیر چشتی صاحب تشریف لائے جن کے ساتھ فصیح کی معاونت میں کھانے کی ٹیبل پر گفتگو اور تقریب کی روداد سنی اور آخر میں چائے پینے کے بعد احسان فیصل کنجائی یاور عباس صاحب اور منیر چشتی صاحب روانہ ہوئے تو ہم دوبارہ شیرانی مرکز و تحقیق فصیح اللہ جرال کے کتب خانے میں تشریف لے گئے۔۔۔۔
    قبروں میں نہیں ہم کو کتابوں میں اتارو
    ہم لوگ محبت کی کہانی میں مریں ہیں
    اب ہم چائے اور کتب کے درمیان گفتگو کا سلسلہ جاری ہو گیا جہاں ادب کے ساتھ ساتھ تاریخ نویسی اور بے شمار ادبی شخصیات کی کتب پر تبصرے کیے۔

    شرانی کتب مرکز و تحقیق گجرات میں گہرے دریا کی مانند ہے جہاں غوطہ زن ہو کر ادب فلسفہ اور تاریخ کے گہرے الفاظ میں کب شام ہو جائے پتہ ہی نہ چلے اس خوبصورت نشست میں رائے فصیح اللہ جرال کے قیمتی خزانے کا دیدار کیا جن میں 1802 سے 1812، 1908 ،1912 ،1934 کی قیمتی مجلے دیکھنے کو ملے اور اس کے ساتھ ساتھ قلمی نسخہ بھی دیکھنے کو ملے لاکھوں کی مالیت رکھنے والے مجلے اور نایاب کتب کا دیدار اور خوشبو نے فصیح بھائی کی کتب بینی سے محبت کا احساس دلایا اور نایاب اور قدیم خطوط دیکھنے کو ملے جو ان کے آباو اجداد کو مہاراجہ ہری سنگھ نے لکھے یہ سب دیکھنے کے بعد یہ احساس دلایا کہ اپنے اباؤ اجداد کا خزانہ ایسے جان کے ساتھ لگا کر رکھتے ہیں۔ ہماری گفتگو کے درمیان موضوع سخن ادبی شخصیات میں شریف کنجائی غنیمت کنجائی ن م راشد غالب احمد قاسمی اور اس کے علاوہ عالمی ادب کے مصنفین کو موضوع سخن بنایا اور دور حاضر میں کلیم احسان بٹ صاحب کی کتب اور ان پر تبصرہ ہوا۔
    میں نے جب سے مطالعہ کو زینت بنایا تب سے اردو ادب کے بڑے بڑے ناولوں کتابوں میں نامور شخصیات کے رسالؤں اور انکے مجلے جن کا نام سن رکھا تھا لیکن اج پہلی دفعہ انہیں شرانی مرکز و تحقیق کے سرپرست فصیح اللہ جرال کے کتب خانے میں دیکھ کر دل باغ باغ ہو گیا۔

    ان قدیم اور نایاب چیزوں میں سے انگریز گزٹ قلمی نسخے سکھی سلطنت کے خطوط انگریز دور کے گزٹ مغلیہ سلطنت کے نایاب خطوطو چاندی کے اوراق میں درج قلمی نسخے اور خط 12 بارویں ہجری کی نایاب کتب اور فارسی میں درج قلمی نسخے یہ تمام خزانہ ایک جوہری ایک نگینہ فصیح جرال شیرانی مرکز تحقیق گجرات میں لیے بیٹھا ہے۔
    فصیح بھائی کتب بینی سے شوق اور محبت اس بات کی دلیل ہے کہ کتب بینی اور کتاب آنے والی صدی میں محفوظ ہاتھوں میں ہے ان قلمی نسخوں اور قدیم کتب میں سے دو چند نسخے ہمیں بھی عنایت ہوۓ جن نسخہوں کا دیدار ہوا ان میں پریت لڑی،الحلال، لہراں، مخزن، پنجابی ادب ملٹری گزٹ, آستانہ, اردو ادب کا علمی ادبی رسالہ ھمایوں، نصرت، سسی دا دکھ قلمی نسخہ، جگدیپش، القادر نوشاہی، جگت مہرشی، آستانہ، علم العقاد پنچابی، گجرات بعہد قدیم و جدید، امروز کے رسالے، فخر زمان صاحب کے رسالے، نصرت رسالہ درویش اور بے شمار قیمتی اثاثہ موجود ہے اور ان سب میں نایاب خطوط ہری سنگھ اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور کے بھی شامل ہیں
    ان قلمی نسخے کے دیدار کے علاوہ فصیح کی جانب بے شمار کتب عنایت ہوئی کہتے ہیں کہ دریائے میں جب ایک قطرے کے حصول کے لیے جایا جائے تو اس میں صرف ایک قطرہ ہی نکالنا چاہیے نہ کہ قطرے کی بجائے ایک کنواں اور پھر کنویں سے ایک چشمہ یا آبشار نکال لیں ایسا ہر گز نہیں اور آج ہم نے بھی شیرانی مرکز و تحقیق سے ایک قطرے کی بجائے ایک آبشار چشمہ نہری صورت میں نکال کر اپنے کتب خانہ جاجوال میں لے ائے ہیں جس میں 50 سے زائد کتب جن میں فلسفہ تاریخ ادب ناول شاعری اور بے شمار تاریخی کتب اور نایاب کتب شامل ہے فصیح بھائی کی محبت اس بات کی دلیل ہے کہ آج انہوں نے نہ صرف نایاب کتب عنایت کی بلکہ لاکھوں کی مالیت کی کتب عنایت کر کے اپنا قرضدار اور گرویدہ بنا لیا ہے شیرانی تحقیق و مرکز کا یہ شدائی فصیح اللہ جرال گجرات میں کتب بینی کو فروغ دینے میں سرگرداں ھے شیرانی مرکز و تحقیق کا یہ شدائی نہ صرف کتاب کو شائع کرتا ہے بلکہ قائرین تک بغیر کسی رقم کسی لالچ کے ان تک پہنچاتا اھے راۓ فصیح اللہ جرال نے گجرات میں ادب کو فروغ دینے کی ایک نئی روایت قائم کی ہۓ ہم اس بات پر شرانی مرکز و تحقیق اور اس کے ممبران کو اور خصوصا رائے فصیح اللہ جرال کو مبارکباد پیش کرتے ہیں اور اس کے لیے دعا گو ہیں کہ ائندہ بھی ادب کی خدمات میں سرگرداں رہے اور ادب کی خدمات کرتا رہے۔
    زین سلیم جاجووال