Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • سیف انداز بیاں رنگ بدل دیتا ہے

    سیف انداز بیاں رنگ بدل دیتا ہے

    سیف انداز بیاں رنگ بدل دیتا ہے
    ورنہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں ہے

    سیف الدین سیف

    پیدائش:20مارچ 1922ء
    امرتسر، ہندستان
    وفات:12 جولائی1993ء
    لاہور، پاکستان

    سیف الدین نام اور سیف تخلص تھا۔ 20 مارچ 1922ء کو امرتسر میں پیدا ہوئے۔بعض سیاسی ومذہبی مسائل پر ارباب کالج سے الجھ پڑنے کی وجہ سے امتحان سے روک دیا گیا۔ مجبوراً سیف نے تعلیم سے منہ موڑلیا اور تلاش معاش میں سرگرداں ہو گئے ۔ ۱۹۴۶ء میں فلمی لائن اختیار کی۔ فلمی نغمہ نگاری او رمکالمے لکھنا ان کا ذریعہ معاش بن گیا۔ انھوں نے مستقل طور پر لاہور میں اقامت اختیار کرلی۔ سیف کو کم سنی ہی سی شعروسخن سے دل چسپی تھی۔ انھوں نے غزل ، رباعی ، طویل ومختصر نظمیں اور گیت سبھی کچھ لکھا ہے۔ مگر غزل سے فطری لگاؤ تھا۔ 12جولائی 1993ء کو لاہور میں انتقال کرگئے۔’’خم کا کل‘‘ کے نام سے ان کا شعری مجموعہ شائع ہوگیاہے ۔ ’’کف گل فروش‘‘ ان کے دوسرے شعری مجموعے کا نام ہے۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:129

    منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    کیا قیامت ہے ہجر کے دن بھی
    زندگی میں شمار ہوتے ہیں

    دل ویراں کو دیکھتے کیا ہو
    یہ وہی آرزو کی بستی ہے

    سیفؔ انداز بیاں رنگ بدل دیتا ہے
    ورنہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں

    تمہارے بعد خدا جانے کیا ہوا دل کو
    کسی سے ربط بڑھانے کا حوصلہ نہ ہوا

    آج کی رات وہ آئے ہیں بڑی دیر کے بعد
    آج کی رات بڑی دیر کے بعد آئی ہے

    تم کو بیگانے بھی اپناتے ہیں میں جانتا ہوں
    میرے اپنے بھی پرائے ہیں تمہیں کیا معلوم

    کتنا بیکار تمنا کا سفر ہوتا ہے
    کل کی امید پہ ہر آج بسر ہوتا ہے

    مری داستان حسرت وہ سنا سنا کے روئے
    مرے آزمانے والے مجھے آزما کے روئے

    بولے وہ کچھ ایسی بے رخی سے
    دل ہی میں رہا سوال اپنا

    زندگی کس طرح کٹے گی سیفؔ
    رات کٹتی نظر نہیں آتی

    شور دن کو نہیں سونے دیتا
    شب کو سناٹا جگا دیتا ہے

    غم گسارو بہت اداس ہوں میں
    آج بہلا سکو تو آ جاؤ

    جس دن سے بھلا دیا ہے تو نے
    آتا ہی نہیں خیال اپنا

    شاید تمہارے ساتھ بھی واپس نہ آ سکیں
    وہ ولولے جو ساتھ تمہارے چلے گئے

    کتنے انجان ہیں کیا سادگی سے پوچھتے ہیں
    کہیے کیا میری کسی بات پہ رونا آیا

    حسن جلوہ دکھا گیا اپنا
    عشق بیٹھا رہا اداس کہیں

    کبھی جگر پہ کبھی دل پہ چوٹ پڑتی ہے
    تری نظر کے نشانے بدلتے رہتے ہیں

    پاس آئے تو اور ہو گئے دور
    یہ کتنے عجیب فاصلے ہیں

    کوئی ایسا اہل دل ہو کہ فسانۂ محبت
    میں اسے سنا کے روؤں وہ مجھے سنا کے روئے

    چلو میکدے میں بسیرا ہی کر لو
    نہ آنا پڑے گا نہ جانا پڑے گا

    تم نے دیوانہ بنایا مجھ کو
    لوگ افسانہ بنائیں گے تمہیں

    ہمیں خبر ہے وہ مہمان ایک رات کا ہے
    ہمارے پاس بھی سامان ایک رات کا ہے

    میرا ہونا بھی کوئی ہونا ہے
    میری ہستی بھی کوئی ہستی ہے

    جی نہیں آپ سے کیا مجھ کو شکایت ہوگی
    ہاں مجھے تلخئ حالات پہ رونا آیا

    اپنی وسعت میں کھو چکا ہوں میں
    راہ دکھلا سکو تو آ جاؤ

    دل ناداں تری حالت کیا ہے
    تو نہ اپنوں میں نہ بیگانوں میں

    ایسے لمحے بھی گزارے ہیں تری فرقت میں
    جب تری یاد بھی اس دل پہ گراں گزری ہے

    آپ ٹھہرے ہیں تو ٹھہرا ہے نظام عالم
    آپ گزرے ہیں تو اک موج رواں گزری ہے

    یہ آلام ہستی یہ دور زمانہ
    تو کیا اب تمہیں بھول جانا پڑے گا

    سیفؔ پی کر بھی تشنگی نہ گئی
    اب کے برسات اور ہی کچھ تھی

    تھکی تھکی سی فضائیں بجھے بجھے تارے
    بڑی اداس گھڑی ہے ذرا ٹھہر جاؤ

    کیوں اجڑ جاتی ہے دل کی محفل
    یہ دیا کون بجھا دیتا ہے

    دل نے پایا قرار پہلو میں
    گردش کائنات ختم ہوئی

    دشمن گئے تو کشمکش دوستی گئی
    دشمن گئے کہ دوست ہمارے چلے گئے

    کیسے جیتے ہیں یہ کس طرح جیے جاتے ہیں
    اہل دل کی بسر اوقات پہ رونا آیا

    رات گزرے نہ درد دل ٹھہرے
    کچھ تو بڑھ جائے کچھ تو گھٹ جائے

    قریب نزع بھی کیوں چین لے سکے کوئی
    نقاب رخ سے اٹھا لو تمہیں کسی سے کیا

    اس مسافر کی نقاہت کا ٹھکانہ کیا ہے
    سنگ منزل جسے دیوار نظر آنے لگے

    پھول اس خاکداں کے ہم بھی ہیں
    مدعی دو جہاں کے ہم بھی ہیں

  • یوم وفات مضطر خیر آبادی

    یوم وفات مضطر خیر آبادی

    نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں
    جو کسی کے کام نہ آ سکے میں وہ ایک مشت غبار ہوں

    مضطر خیر آبادی کا اصل نام سید محمد افتخار حسین جبکہ مضطر تخلص تھا – ’اعتبار الملک‘ ، ’اقتدار جنگ بہادر‘ خطاب ملے، 1865ء میں خیرآباد(یوپی) بھارت میں پیدا ہوئے۔ مولانا فضل حق خیرآبادی کے نواسے اور شمس العلماء عبدالحق خیرآبادی کے بھانجے تھے۔

    محمد حسین ، بسمل(بڑے بھائی) اور امیر مینائی سے تلمذ حاصل تھا۔ مضطر ریاست ٹونک کے درباری شاعر تھے۔ ان کا دیوان چھپا نہیں۔ جاں نثاراختران کے فرزند رشید تھے20 مارچ1927ء کوگوالیارمیں انتقال کرگئے۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد اول)،محمد شمس الحق،صفحہ:241

    منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔
    وقت دو مجھ پر کٹھن گزرے ہیں ساری عمر میں
    اک ترے آنے سے پہلے اک ترے جانے کے بعد

    مصیبت اور لمبی زندگانی
    بزرگوں کی دعا نے مار ڈالا

    نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں
    جو کسی کے کام نہ آ سکے میں وہ ایک مشت غبار ہوں

    مرے گناہ زیادہ ہیں یا تری رحمت
    کریم تو ہی بتا دے حساب کر کے مجھے

    علاج درد دل تم سے مسیحا ہو نہیں سکتا
    تم اچھا کر نہیں سکتے میں اچھا ہو نہیں سکتا

    بوسے اپنے عارض گلفام کے
    لا مجھے دے دے ترے کس کام کے

    برا ہوں میں جو کسی کی برائیوں میں نہیں
    بھلے ہو تم جو کسی کا بھلا نہیں کرتے

    لڑائی ہے تو اچھا رات بھر یوں ہی بسر کر لو
    ہم اپنا منہ ادھر کر لیں تم اپنا منہ ادھر کر لو

    اسیر پنجۂ عہد شباب کر کے مجھے
    کہاں گیا مرا بچپن خراب کر کے مجھے

    وہ گلے سے لپٹ کے سوتے ہیں
    آج کل گرمیاں ہیں جاڑوں میں

    اک ہم ہیں کہ ہم نے تمہیں معشوق بنایا
    اک تم ہو کہ تم نے ہمیں رکھا نہ کہیں کا

    اگر تقدیر سیدھی ہے تو خود ہو جاؤ گے سیدھے
    خفا بیٹھے رہو تم کو منانے کون آتا ہے

    ہمارے ایک دل کو ان کی دو زلفوں نے گھیرا ہے
    یہ کہتی ہے کہ میرا ہے وہ کہتی ہے کہ میرا ہے

    مرے دل نے جھٹکے اٹھائے ہیں کتنے یہ تم اپنی زلفوں کے بالوں سے پوچھو
    کلیجے کی چوٹوں کو میں کیا بتاؤں یہ چھاتی پہ لہرانے والوں سے پوچھو

    ان کا اک پتلا سا خنجر ان کا اک نازک سا ہاتھ
    وہ تو یہ کہیے مری گردن خوشی میں کٹ گئی

    آنکھیں نہ چراؤ دل میں رہ کر
    چوری نہ کرو خدا کے گھر میں

    ایسی قسمت کہاں کہ جام آتا
    بوئے مے بھی ادھر نہیں آئی

    یاد کرنا ہی ہم کو یاد رہا
    بھول جانا بھی تم نہیں بھولے

    مدہوش ہی رہا میں جہان خراب میں
    گوندھی گئی تھی کیا مری مٹی شراب میں

    ان کو آتی تھی نیند اور مجھ کو
    اپنا قصہ تمام کرنا تھا

    دم خواب راحت بلایا انہوں نے تو درد نہاں کی کہانی کہوں گا
    مرا حال لکھنے کے قابل نہیں ہے اگر مل گئے تو زبانی کہوں گا

    اے عشق کہیں لے چل یہ دیر و حرم چھوٹیں
    ان دونوں مکانوں میں جھگڑا نظر آتا ہے

    آئنہ دیکھ کر غرور فضول
    بات وہ کر جو دوسرا نہ کرے

    جو پوچھا منہ دکھانے آپ کب چلمن سے نکلیں گے
    تو بولے آپ جس دن حشر میں مدفن سے نکلیں گے

    محبت میں کسی نے سر پٹکنے کا سبب پوچھا
    تو کہہ دوں گا کہ اپنی مشکلیں آسان کرتا ہوں

    وقت آرام کا نہیں ملتا
    کام بھی کام کا نہیں ملتا

    صبح تک کون جئے گا شب تنہائی میں
    دل ناداں تجھے امید سحر ہے بھی تو کیا

    ایک ہم ہیں کہ جہاں جائیں برے کہلائیں
    ایک وہ ہیں کہ جہاں جائیں وہیں اچھے ہیں

    وہ شاید ہم سے اب ترک تعلق کرنے والے ہیں
    ہمارے دل پہ کچھ افسردگی سی چھائی جاتی ہے

    زلف کو کیوں جکڑ کے باندھا ہے
    اس نے بوسہ لیا تھا گال کا کیا

    اے بتو رنج کے ساتھی ہو نہ آرام کے تم
    کام ہی جب نہیں آتے ہو تو کس کام کے تم

    بازو پہ رکھ کے سر جو وہ کل رات سو گیا
    آرام یہ ملا کہ مرا ہات سو گیا

    عدو کو چھوڑ دو پھر جان بھی مانگو تو حاضر ہے
    تم ایسا کر نہیں سکتے تو ایسا ہو نہیں سکتا

    اکٹھے کر کے تیری دوسری تصویر کھینچوں گا
    وہ سب جلوے جو چھن چھن کر تری چلمن سے نکلیں گے

    جگانے چٹکیاں لینے ستانے کون آتا ہے
    یہ چھپ کر خواب میں اللہ جانے کون آتا ہے

    حال دل اغیار سے کہنا پڑا
    گل کا قصہ خار سے کہنا پڑا

    میرے اشکوں کی روانی کو روانی تو کہو
    خیر تم خون نہ سمجھو اسے پانی تو کہو

    اپنی محفل میں رقیبوں کو بلایا اس نے
    ان میں بھی خاص انہیں جن کی ضرورت دیکھی

    عمر سب ذوق تماشا میں گزاری لیکن
    آج تک یہ نہ کھلا کس کے طلب گار ہیں ہم

    حال اس نے ہمارا پوچھا ہے
    پوچھنا اب ہمارے حال کا کیا

    میں مسیحا اسے سمجھتا ہوں
    جو مرے درد کی دوا نہ کرے

    تصور میں ترا در اپنے سر تک کھینچ لیتا ہوں
    ستم گر میں نہیں چلتا تری دیوار چلتی ہے

    انھوں نے کیا نہ کیا اور کیا نہیں کرتے
    ہزار کچھ ہو مگر اک وفا نہیں کرتے

    تم اگر چاہو تو مٹی سے ابھی پیدا ہوں پھول
    میں اگر مانگوں تو دریا بھی نہ دے پانی مجھے

    اٹھے اٹھ کر چلے چل کر تھمے تھم کر کہا ہوگا
    میں کیوں جاؤں بہت ہیں ان کی حالت دیکھنے والے

    آؤ تو میرے آئنۂ دل کے سامنے
    ایسا حسیں دکھاؤں کہ ایسا نہ ہو کہیں

    ہم سے اچھا نہیں ملنے کا اگر تم چاہو
    تم سے اچھے ابھی ملتے ہیں اگر ہم چاہیں

    ان بتوں کی ہی محبت سے خدا ملتا ہے
    کافروں کو جو نہ چاہے وہ مسلمان نہیں

    جفا سے انہوں نے دیا دل پہ داغ
    مکمل وفا کی سند ہو گئی

    حسرتوں کو کوئی کہاں رکھے
    دل کے اندر قیام ہے تیرا

    دل کو میں اپنے پاس کیوں رکھوں
    تو ہی لے جا اگر یہ تیرا ہے

    بچھڑنا بھی تمہارا جیتے جی کی موت ہے گویا
    اسے کیا خاک لطف زندگی جس سے جدا تم ہو

    پردے والے بھی کہیں آتے ہیں گھر سے باہر
    اب جو آ بیٹھے ہو تم دل میں تو بیٹھے رہنا

    اک صدمۂ محبت اک صدمۂ جدائی
    گنتی کے دو ہیں لیکن لاکھوں کی جان پر ہیں

    تڑپ ہی تڑپ رہ گئی صرف باقی
    یہ کیا لے لیا میرے پہلو سے تو نے

    اے حنا رنگ محبت تو ہے مجھ میں بھی نہاں
    تیرے دھوکے میں کوئی پیس نہ ڈالے مجھ کو

    زباں قاصد کی مضطرؔ کاٹ لی جب ان کو خط بھیجا
    کہ آخر آدمی ہے تذکرہ شاید کہیں کر دے

    میرا رنگ روپ بگڑ گیا مرا یار مجھ سے بچھڑ گیا
    جو چمن خزاں سے اجڑ گیا میں اسی کی فصل بہار ہوں

    فنا کے بعد اس دنیا میں کچھ باقی نہیں رہتا
    فقط اک نام اچھا یا برا مشہور رہتا ہے

    جب میں نے کہا دل مرا پامال کیا کیوں
    کس ناز سے بولے کہ محبت کی سزا تھی

    دل کیا کرے جو راز محبت کا کھل گیا
    میں کیا کروں کہ عشق ہی اک نامور سے ہے

    عشق کا کانٹا ہمارے دل میں یہ کہہ کر چبھا
    اب نکلواؤ تو تم ان سے نکلوانا مجھے

    آپ سے مجھ کو محبت جو نہیں ہے نہ سہی
    اور بقول آپ کے ہونے کو اگر ہے بھی تو کیا

    ساقی نے لگی دل کی اس طرح بجھا دی تھی
    اک بوند چھڑک دی تھی اک بوند چکھا دی تھی

    خط پھاڑ کے پھینکا ہے تو لکھا بھی مٹا دو
    کاغذ پہ اترتا ہے بہت تاؤ تمہارا

    احباب و اقارب کے برتاؤ کوئی دیکھے
    اول تو مجھے گاڑھا اوپر سے دباتے ہیں

    کچھ تمہیں تو ایک دنیا میں نہیں
    اور بھی ہیں سیکڑوں اس نام کے

    تیری رحمت کا نام سن سن کر
    مبتلا ہو گیا گناہوں میں

    اس سے کہہ دو کہ وہ جفا نہ کرے
    کہیں مجھ سا اسے خدا نہ کرے

    باقی کی محبت میں دل صاف ہوا اتنا
    جب سر کو جھکاتا ہوں شیشہ نظر آتا ہے

    کوئی لے لے تو دل دینے کو میں تیار بیٹھا ہوں
    کوئی مانگے تو اپنی جان تک قربان کرتا ہوں

    ہزاروں حسن والے اس زمیں میں دفن ہیں مضطرؔ
    قیامت ہوگی جب یہ سب کے سب مدفن سے نکلیں گے

    سنو گے حال جو میرا تو داد کیا دو گے
    یہی کہو گے کہ جھوٹا ہے تو زمانے کا

    جناب خضر راہ عشق میں لڑنے سے کیا حاصل
    میں اپنا راستہ لے لوں تم اپنا راستہ لے لو

    چوکی نظر جو زاہد خانہ خراب کی
    توبہ اڑا کے لے گئی بوتل شراب کی

    کوئی اچھا نظر آ جائے تو اک بات بھی ہے
    یوں تو پردے میں سبھی پردہ نشیں اچھے ہیں

    جیے جاتے ہیں پستی میں ترے سارے جہاں والے
    کبھی نیچے بھی نظریں ڈال اونچے آسماں والے

    دل کام کا نہیں تو نہ لو جان نذر ہے
    اتنی ذرا سی بات پہ جھگڑا نہ چاہئے

    میری ارمان بھری آنکھ کی تاثیر ہے یہ
    جس کو میں پیار سے دیکھوں گا وہی تو ہوگا

    نہیں منظور جب ملنا تو وعدے کی ضرورت کیا
    یہ تم کو جھوٹی موٹی عادت اقرار کیسی ہے

    دم نکل جائے گا رخصت کا ابھی نام نہ لو
    تم جو اٹھے تو بٹھا دوں گا عزاداروں میں

    اس کا بھی ایک وقت ہے آنے دو موت کو
    مضطرؔ خدا کی یاد ابھی کیوں کرے کوئی

    پہلے ہم میں تھے اور اب ہم سے جدا رہتے ہیں
    آپ کاہے کو غریبوں سے خفا رہتے ہیں

    محبت قدرداں ہوتی تو پھر کاہے کا رونا تھا
    ہمیں بھی تم سمجھتے تم کو جیسا ہم سمجھتے ہیں

    وہ مذاق عشق ہی کیا کہ جو ایک ہی طرف ہو
    مری جاں مزا تو جب ہے کہ تجھے بھی کل نہ آئے

    حسینوں پر نہیں مرتا میں اس حسرت میں مرتا ہوں
    کہ ایسے ایسے لوگوں کے لیے ظالم قضا کیوں ہے

    اپنے دل کو تری آنکھوں پہ فدا کرتا ہوں
    آج بیمار پہ بیمار کی قربانی ہے

    طریق یاد ہے پہلے سے دل لگانے کا
    اسی کا میں بھی ہوں مجنوں تھا جس گھرانے کا

    خواہش دید پہ انکار سے آتے ہیں مزے
    ایسے موقعے پہ تو پردہ بھی مزا دیتا ہے

    خوب اس دل پہ تری آنکھ نے ڈورے ڈالے
    خوب کاجل نے تری آنکھ میں ڈورا کھینچا

    تو نہ آئے گا تو ہو جائیں گی خوشیاں سب خاک
    عید کا چاند بھی خالی کا مہینہ ہوگا

    میں نہیں ہوں نغمۂ جاں فزا مجھے سن کے کوئی کرے گا کیا
    میں بڑے بروگ کی ہوں صدا میں بڑے دکھی کی پکار ہوں

    تیری الجھی ہوئی باتوں سے مرا دل الجھا
    تیرے بکھرے ہوئے بالوں نے پریشان کیا

    کہہ دو ساقی سے کہ پیاسا نہ نکالے مجھ کو
    عمر بھر روئیں گے مٹی کے پیالے مجھ کو

    دیکھ کر کعبے کو خالی میں یہ کہہ کر آ گیا
    ایسے گھر کو کیا کروں گا جس کے اندر تو نہیں

    تمنا اک طرح کی جان ہے جو مرتے دم نکلے
    جدائی اک طرح کی موت ہے جو جیتے جی آئے

    چاہت کی تمنا سے کوئی آنچ نہ آئی
    یہ آگ مرے دل میں بڑے ڈھب سے لگی ہے

    کوچۂ یار سے یا رب نہ اٹھانا ہم کو
    اس برے حال میں بھی ہم تو یہیں اچھے ہیں

    کیسے دل لگتا حرم میں دور پیمانہ نہ تھا
    اس لیے پھر آئے کعبے سے کہ مے خانہ نہ تھا

    وہاں جا کر کیے ہیں میں نے سجدے اپنی ہستی کو
    جہاں بندہ پہنچ کر خود خدا معلوم ہوتا ہے

    نہیں ہوں میں تو تری بندگی کے کیا معنی
    نہیں ہے تو تو خدا کون ہے زمانے کا

    کسی کے درد محبت نے عمر بھر کے لیے
    خدا سے مانگ لیا انتخاب کر کے مجھے

    لطف قربت ہے مے پرستی میں
    میں خدا دیکھتا ہوں مستی میں

    دم دے دیا ہے کس رخ روشن کی یاد میں
    مرنے کے بعد بھی مرے چہرے پہ نور تھا

    ایمان ساتھ جائے گا کیوں کر خدا کے گھر
    کعبے کا راستہ تو کلیسا سے مل گیا

    بت خانے میں کیا یاد الٰہی نہیں ممکن
    ناقوس سے کیا کار اذاں ہو نہیں سکتا

    کسی کے کم ہیں کسی کے بہت مگر زاہد
    گناہ کرنے کو کیا پارسا نہیں کرتے

    ہستئ غیر کا سجدہ ہے محبت میں گناہ
    آپ ہی اپنی پرستش کے سزا وار ہیں ہم

    کسی نے نہ دیکھا ترے حسن کو
    مری صورت حال دیکھی گئی

    قبر پر کیا ہوا جو میلا ہے
    مرنے والا نرا اکیلا ہے

    عیسیٰ سے دوائے مرض عشق نہ ہوگی
    ہاں ان کو کوئی ڈھونڈ کے لے آئے کہیں سے

    اٹھتے جوبن پہ کھل پڑے گیسو
    آ کے جوگی بسے پہاڑوں میں

    عیسیٰ کبھی نہ جاتے لیکن تمہارے غم میں
    وہ بھی تو مر رہے ہیں جو آسمان پر ہیں

    یہی صورت وہاں تھی بے ضرورت بت کدہ چھوڑا
    خدا کے گھر میں رکھا کیا ہے ناحق اتنی دور آئے

    گئے ہم دیر سے کعبے مگر یہ کہہ کے پھر آئے
    کہ تیری شکل کچھ اچھی وہیں معلوم ہوتی ہے

    اے خدا دنیا پہ اب قبضہ بتوں کا چاہیے
    ایک گھر تیرے لیے ان سب نے خالی کر دیا

    مرے ان کے تعلق پر کوئی اب کچھ نہیں کہتا
    خدا کا شکر سب کے منہ میں تالے پڑتے جاتے ہیں

    اک ہم کہ ہم کو صبح سے ہے شام کی خوشی
    اک تم کہ تم کو شام کا دھڑکا سحر سے ہے

    کیا اثر خاک تھا مجنوں کے پھٹے کپڑوں میں
    ایک ٹکڑا بھی تو لیلیٰ کا گریباں نہ ہوا

    نہ رو اتنا پرائے واسطے اے دیدۂ گریاں
    کسی کا کچھ نہیں جاتا تری بینائی جاتی ہے

    ہمارے میکدے میں خیر سے ہر چیز رہتی ہے
    مگر اک تیس دن کے واسطے روزے نہیں رہتے

    یہ تو ممکن نہیں محبت میں
    آپ جو کچھ کہیں وہ ہم نہ کریں

    نظر کے سامنے کعبہ بھی ہے کلیسا بھی
    یہی تو وقت ہے تقدیر آزمانے کا

    یہ پیدا ہوتے ہی رونا صریحاً بدشگونی ہے
    مصیبت میں رہیں گے اور مصیبت لے کے اٹھیں گے

    ٹھہرنا دل میں کچھ بہتر نہ جانا
    بھرے گھر کو انہوں نے گھر نہ جانا

    اب کون پھرے کوئے بت دشمن دیں سے
    اللہ کے گھر کیوں نہ چلے جائیں یہیں سے

    جب ان کی پتیاں بکھریں تو سمجھے مصلحت اس کی
    یہ گل پہلے سمجھتے تھے ہوا بے کار چلتی ہے

    دل ان کو مفت دینے میں دشمن کو رشک کیوں
    ہم اپنا مال دیتے ہیں اس میں کسی کا کیا

    جتنے بت ہیں میں سب پہ مرتا ہوں
    میرا ایمان ایک ہو تو کہوں

    اسی کو پی کے ہوتی ہے شفا بیمار الفت کو
    دوا قاتل ترے تلوار کے پانی کو کہتے ہیں

    بتوں میں نور ذات کبریا معلوم ہوتا ہے
    مجھے کچھ دن سے ہر پتھر خدا معلوم ہوتا ہے

    خدا کی دین کا موسیٰ سے پوچھیے احوال
    کہ آگ لینے کو جائیں پیمبری مل جائے

    عاشقوں کی روح کو تعلیم وحدت کے لیے
    جس جگہ اللہ رہتا ہے وہاں رہنا پڑا

    محبت بت کدے میں چل کے اس کا فیصلہ کر دے
    خدا میرا خدا ہے یا یہ مورت ہے خدا میری

    نہ اس کے دامن سے میں ہی الجھا نہ میرے دامن سے یہ ہی اٹکی
    ہوا سے میرا بگاڑ کیا ہے جو شمع تربت بجھا رہی ہے

    یہ تو سمجھا میں خدا کو کہ خدا ہے لیکن
    یہ نہ سمجھا کہ سمجھ میں مری کیوں کر آیا

    زاہد تو بخشے جائیں گنہ گار منہ تکیں
    اے رحمت خدا تجھے ایسا نہ چاہئے

    کچھ نہ پوچھو کہ کیوں گیا کعبے
    ان بتوں کو سلام کرنا تھا

    ساقی مرا کھنچا تھا تو میں نے منا لیا
    یہ کس طرح منے جو دھری ہے کھنچی ہوئی

    کعبے میں ہم نے جا کے کچھ اور حال دیکھا
    جب بت کدہ میں پہنچے صورت ہی دوسری تھی

    تم کیوں شب جدائی پردے میں چھپ گئے ہو
    قسمت کے اور تارے سب آسمان پر ہیں

    آہ رسا خدا کے لیے دیکھ بھال کے
    ان کا بھی گھر ملا ہوا دشمن کے گھر سے ہے

    وہ پہلی سب وفائیں کیا ہوئیں اب یہ جفا کیسی
    وہ پہلی سب ادائیں کیا ہوئیں اب یہ ادا کیوں ہے

    حال زاہد جو مئے ناب کا پوچھے تو کہوں
    ہے یہ وہ چیز جو کافر کو مسلمان کرے

    کسی کے تیر کو چھاتی سے ہم لگائے رہے
    تمام عمر کلیجے کے پار ہی رکھا

    صورت تو ایک ہی تھی دو گھر ہوئے تو کیا ہے
    دیر و حرم کی بابت جھگڑے فضول ڈالے

    پڑا ہوں اس طرح اس در پہ مضطرؔ
    کوئی دیکھے تو جانے مار ڈالا

    خال و عارض کا تصور ہے ہمارے دل میں
    ایک ہندو بھی ہے کعبے میں مسلمان کے ساتھ

    وہ کریں گے وصل کا وعدہ وفا
    رنگ گہرے ہیں ہماری شام کے

    اس سے پہلے میں کبھی آباد گھر بستی میں تھا
    آج مضطرؔ ایک اجڑا جھونپڑا جنگل میں ہوں

    ساقی تری نظر تو قیامت سی ڈھا گئی
    ٹھوکر لگی تو شیشۂ توبہ بھی چور تھا

    خدا بھی جب نہ ہو معلوم تب جانو مٹی ہستی
    فنا کا کیا مزا جب تک خدا معلوم ہوتا ہے

    دھوکے سے بلا کر جو ملا تھا تو وہ مجھ سے
    جب ملتے ہیں کہتے ہیں دغاباز کہیں کا

    میری ہستی سے تو اچھی ہیں ہوائیں یا رب
    کہ جو آزاد پھرا کرتی ہیں میدانوں میں

    قیامت میں بڑی گرمی پڑے گی حضرت زاہد
    یہیں سے بادۂ گل رنگ میں دامن کو تر کر لو

    خدمت گشت بگولوں کو تو دی صحرا میں
    میں بھی برباد ہوں مجھ کو بھی کوئی کام بتا

    نگاہوں میں پھرتی ہے آٹھوں پہر
    قیامت بھی ظالم کا قد ہو گئی

    جا کے اب نار جہنم کی خبر لے زاہد
    ندیاں بہہ گئیں اشکوں کی گنہ گاروں میں

    پھونکے دیتا ہے کسی کا سوز پنہانی مجھے
    اب تو میری آنکھ بھی دیتی نہیں پانی مجھے

    وہ کہتے ہیں یہ ساری بے وفائی ہے محبت کی
    نہ مضطرؔ بے وفا میں ہوں نہ مضطرؔ بے وفا تم ہو

    بت کدہ میں تو تجھے دیکھ لیا کرتا تھا
    خاص کعبے میں تو صورت بھی دکھائی نہ گئی

    محبت کا اثر پھر دیکھنا مرنے تو دو مجھ کو
    وہ میرے ساتھ زندہ دفن ہو جائیں عجب کیا ہے

    مرا رونا ہنسی ٹھٹھا نہیں ہے
    ذرا روکے رہو اپنی ہنسی تم

    جو پوچھا دل ہمارا کیوں لیا تو ناز سے بولے
    کہ تھوڑی بے قراری اس دل مضطرؔ سے لینا ہے

    میرے غبار کی یہ تعلی تو دیکھیے
    اتنا بڑھا کہ عرش معلی سے مل گیا

    یہ نقشہ ہے کہ منہ تکنے لگا ہے مدعا میرا
    یہ حالت ہے کہ صورت دیکھتا ہے مدعی میری

    رنج غربت میں دیکھ کر مجھ کو
    دل صحرا بھی باغ باغ ہوا

    تمہاری جلوہ گاہ ناز میں اندھیر ہی کب تھا
    یہ موسیٰ دوڑ کر کس کو دکھانے شمع طور آئے

    وہ پاس آنے نہ پائے کہ آئی موت کی نیند
    نصیب سو گئے مصروف خواب کر کے مجھے

    جلے گا دل تمہیں بزم عدو میں دیکھ کر میرا
    دھواں بن بن کے ارماں محفل دشمن سے نکلیں گے

    وہ کہتے ہیں کہ کیوں جی جس کو تم چاہو وہ کیوں اچھا
    وہ اچھا کیوں ہے اور ہم جس کو چاہیں وہ برا کیوں ہے

    یہاں سے جب گئی تھی تب اثر پر خار کھائے تھی
    وہاں سے پھول برساتی ہوئی پلٹی دعا میری

    میں تری راہ طلب میں بہ تمنائے وصال
    محو ایسا ہوں کہ مٹنے کا بھی کچھ دھیان نہیں

    نمک پاش زخم جگر اب تو آ جا
    مرا دل بہت بے مزہ ہو رہا ہے

    پڑ گئے زلفوں کے پھندے اور بھی
    اب تو یہ الجھن ہے چندے اور بھی

    زلف کا حال تک کبھی نہ سنا
    کیوں پریشاں مرا دماغ ہوا

    قیس نے پردۂ محمل کو جو دیکھا تو کہا
    یہ بھی اللہ کرے میرا گریباں ہو جائے

    مسیحا جا رہا ہے دوڑ کر آواز دو مضطرؔ
    کہ دل کو دیکھتا جا جس میں چھالے پڑتے جاتے ہیں

    تیرے گھر آئیں تو ایمان کو کس پر چھوڑیں
    ہم تو کعبے ہی میں اے دشمن دیں اچھے ہیں

    خضر بھی آپ پر عاشق ہوئے ہیں
    قضا آئی حیات جاوداں کی

    روح دیتی رہی ترغیب تعلی برسوں
    ہم مگر تیری گلی چھوڑ کے اوپر نہ گئے

    قاصد نے خبر آمد دلبر کی اڑا دی
    آیا بھی تو کم بخت نے بے پر کی اڑا دی

    جلوۂ رخسار ساقی ساغر و مینا میں ہے
    چاند اوپر ہے مگر ڈوبا ہوا دریا میں ہے

    ساقی وہ خاص طور کی تعلیم دے مجھے
    اس میکدے میں جاؤں تو پیر مغاں رہوں

    اڑا کر خاک ہم کعبے جو پہنچے
    حقیقت کھل گئی کوئے بتاں کی

    میرا دل مضطرؔ بت کافر سے لگا ہے
    اور آنکھ مری سوئے خدا دیکھ رہی ہے

  • کہ جیسے آیا نہیں اور ہزار بار گیا

    کہ جیسے آیا نہیں اور ہزار بار گیا

    بس ایک بار وہ آیا اور اس پے یہ عالم
    کہ جیسے آیا نہیں اور ہزار بار گیا

    الطاف گوہر

    یوم پیدائش: 17 مارچ 1923
    ۔………………………………………..
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پاکستان کے ممتاز ادیب، شاعر، مصنف، صحافی، دانشور اور بیوروکریٹ الطاف گوہر 17 مارچ 1923 میں گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام راجہ الطاف حسین اور پنجابی کے جنجوعہ قبیلے سے تعلق تھا۔ ان کی مادری زبان پنجابی تھی مگر اردو اور انگریزی زبان پر بھی انہیں عبور تھا۔ ابتدا میں وہ ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہوئے لیکن بعد ازاں سی ایس ایس کا امتحان پاس کر کے سرکاری آفیسر بن گئے۔ وہ صحافت سے بھی وابستہ رہے انگریزی اخبار ڈان کے مدیر رہے جبکہ حکومت پاکستان کے سیکریٹری اطلاعات جیسے اہم منصب پر بھی فائز رہے۔ وہ جنرل ایوب خان کے بہت قریب رہے یہی وجہ ہے کہ بدنام زمانہ پریس اینڈ پبلیکیشنز آرڈیننس کے نفاذ کو ان کا ذہنی اختراع کہا جاتا ہے۔ انہوں نے قید وبند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں ۔ انہوں نے صحافت بھی کی اور شاعری بھی کی مولانا مودودی کی تفسیر تفہیم القرآن کا انہوں نے انگریزی میں ترجمہ کیا۔ انہوں نے سوانح نگاری بھی کی۔ 14 نومبر 2000 کو الطاف گوہر کی 77 برس کی عمر میں اسلام آباد میں وفات ہوئی۔ ان کے نمایاں قلمی کام درج ذیل ہیں ۔

    گوہر گزشت (آپ بیتی)

    لکھتے رہے جنوں کی حکایت

    ایوب خان:فوجی راج کے پہلے دس سال

    تفہیم القرآن کا انگریزی میں ترجمہ

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    چند منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ صحرا کبھی تو ٹوٹے گا یہ خبط کبھی تو پھوٹے گا
    یہ سناٹا یہ خاموشی مجبور فغاں ہو جائے گی

    ہم تو یونہی کبھی کبھی کہتے ہیں چھیڑ سے غزل
    پیشہ وروں پے کیا بنی اہل زباں کو کیا ہوا

    بس ایک بار وہ آیا اوراس پے یہ عالم
    کہ جیسے آیا نہیں اور ہزار بار گیا

    پھر رہے ہیں سر بازار تماشا بن کر
    بد گمانی تری ظالم ابھی باقی ہے

    نظم
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دھوپ کے سائے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    شام دلہن کی طرح
    اپنے رنگوں میں نہائی ہوئی شرمائی ہوئی بیٹھی ہے
    گوشۂ چشم سے کاجل کی سیاہی ابھی آنسو بن کر
    بہتے غازے میں نہیں جذب ہوئی
    ابھی کھوئی نہیں بالوں کی دل افروز پریشانی میں
    مسکراتی ہوئی سیندور کی مانگ
    گھلتے رنگوں میں ابھی کاہش جاں باقی ہے
    گھلتے رنگوں کا کوئی کیا جانے
    کب مٹیں کیسے مٹیں
    شب کی تاریکیاں ہر سمت بکھر جائیں تو آرام ملے
    یہ چمکتے ہوئے ذرے نہ رہیں
    ذوق تماشا نہ رہے
    کوئی تمنا نہ رہے
    اک کرن چھوڑ کے جاتی ہی نہیں
    چشم گیں کرتی ہوئی کھیل رہی ہے اب تک
    زرد رو گھاس کے سینے پہ تھرکتی ہوئی بڑھ جاتی ہے
    سنگریزوں کی نگاہوں میں چمکتی ہوئی لوٹ آتی ہے
    کوئی سمجھائے اسے جاؤ چلی جاؤ یہاں اب کیا ہے
    دھوپ کے کانپتے سایوں کو ذرا بڑھنے دو
    شب کی تاریکیاں چھا جانے دو
    میں نے سو بار کہا ایک نہ مانی اس نے
    مسکراتی ہوئی شاخوں پہ لرزتی ہی رہی
    یوں بھی تڑپانے میں اک لطف تو ہے سوز تو ہے
    رنگ گھلتے ہیں گھلیں گے آخر
    گھلتے رنگوں کا کوئی کیا جانے
    کب مٹیں کیسے مٹیں
    اپنے رنگوں میں نہائی ہوئی شرمائی ہوئی
    شام دلہن کی طرح بیٹھی رہی بیٹھی رہی

  • یوم ولادت، یاسمین حمید

    یوم ولادت، یاسمین حمید

    ایک دیوار اٹھائی تھی بڑی عجلت میں
    وہی دیوار گرانے میں بہت دیر لگی

    یاسمین حمید

    تاریخ پیدائش:18 مارچ 1951ء
    جائے پیدائش:لاہور
    زبان:اردو
    اصناف:شاعری
    تصنیفات
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)ہم دو زمانوں میں پیدا ہوئے
    ۔ 2018
    ۔ (2)دوسری زندگی-2007
    ۔ (3)فنا بھی ایک سراب-2001
    ۔ (4)پس آئینہ-1998
    ۔ (5)آدھا دن اور آدھی رات
    ۔ 1996
    ۔ (6)حصار بے در و دیوار-1991
    ایوارڈز:ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ایوارڈ
    مستقل پتا:ڈی۔2؍124، فیزI
    ڈیفنس ہائوسنگ اتھارٹی لاہور

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یاسمین حمید تعلیم، ادب اور آرٹ کے شعبوں سے پچیس برس سے زیادہ عرصے سے منسلک ہیں۔ 2007 سے وہ لاہور یونیورسٹی آف مینیجمنٹ سائینسز (لَمز) میں اردو ادب پڑھاتی آئی ہیں۔ لَمز میں وہ زبان و ادب کے گُرمانی سیَنٹر کی سربراہ بھی ہیں۔ یاسمین حمید اردو میں شاعری کی پانچ کتابیں تصنیف کر چکی ہیں: ’پسِ آئینہ‘ (۱1988)، ’حصارِ بے در و دیوار‘ (1991)، ’آدھا دن اور آدھی رات‘ (1996)، ’فنا بھی ایک سراب‘ (2001) اور ’بے ثمر پیروں کی خواہش (2012)۔ پہلی چار کتابیں 2007 میں سات سوَ صفحوں پر مشتمل مجموعے کے طور پر ’دوسری زندگی‘ کے عنوان سے شائع ہوئیں۔ اُن کی کتاب ’پاکستانی اردو وَرس‘ 2010 میں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کی اور 2012 میں اسے یوُ بی ایَل اور جنگ نے ادبی تحسین کے اعزاز سے نوازا۔ 2013 میں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے اُن کی تالیف کی ہوئی کتاب ’ڈے بریَک: رائیٹنگز آن فیض‘ شائع کی۔ اُن کی تالیف کی ہوئی ایک اور کتاب ’نیا اردو افسانہ‘ سنگِ میل نے 2014 میں شائع کی۔ 2008 میں حکومتِ پاکستان نے انھیں ادبی خدمات کے لیے تمغۂ امتیاز سے نوازا۔

    منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔
    خوشی کے دور تو مہماں تھے آتے جاتے رہے
    اداسی تھی کہ ہمیشہ ہمارے گھر میں رہی

    ہمیں خبر تھی بچانے کا اس میں یارا نہیں
    سو ہم بھی ڈوب گئے اور اسے پکارا نہیں

    پردہ آنکھوں سے ہٹانے میں بہت دیر لگی
    ہمیں دنیا نظر آنے میں بہت دیر لگی

    جس سمت کی ہوا ہے اسی سمت چل پڑیں
    جب کچھ نہ ہو سکا تو یہی فیصلہ کیا

    ذرا دھیمی ہو تو خوشبو بھی بھلی لگتی ہے
    آنکھ کو رنگ بھی سارے نہیں اچھے لگتے

    اس عمارت کو گرا دو جو نظر آتی ہے
    مرے اندر جو کھنڈر ہے اسے تعمیر کرو

    سمندر ہو تو اس میں ڈوب جانا بھی روا ہے
    مگر دریاؤں کو تو پار کرنا چاہیئے تھا

    اگر اتنی مقدم تھی ضرورت روشنی کی
    تو پھر سائے سے اپنے پیار کرنا چاہیئے تھا

    اپنی نگاہ پر بھی کروں اعتبار کیا
    کس مان پر کہوں وہ مرا انتخاب تھا

    مسلسل ایک ہی تصویر چشم تر میں رہی
    چراغ بجھ بھی گیا روشنی سفر میں رہی

    جو ڈبوئے گی نہ پہنچائے گی ساحل پہ ہمیں
    اب وہی موج سمندر سے ابھرنے کو ہے

    اتنی بے ربط کہانی نہیں اچھی لگتی
    اور واضح بھی اشارے نہیں اچھے لگتے

    میں اب اس حرف سے کترا رہی ہوں
    جو میری بات کا حاصل رہا ہے

    اس کے شکستہ وار کا بھی رکھ لیا بھرم
    یہ قرض ہم نے زخم کی صورت ادا کیا

    مری ہر بات پس منظر سے کیوں منسوب ہوتی ہے
    مجھے آواز سی آتی ہے کیوں اجڑے دیاروں سے

    کیوں ڈھونڈنے نکلے ہیں نئے غم کا خزینہ
    جب دل بھی وہی درد کی دولت بھی وہی ہے

    رستے سے مری جنگ بھی جاری ہے ابھی تک
    اور پاؤں تلے زخم کی وحشت بھی وہی ہے

    کسی کے نرم لہجے کا قرینہ
    مری آواز میں شامل رہا ہے

    ایک دیوار اٹھائی تھی بڑی عجلت میں
    وہی دیوار گرانے میں بہت دیر لگی

  • ثروت اباظہ ،مصر کے ناول نگارکا یوم وفات

    ثروت اباظہ ،مصر کے ناول نگارکا یوم وفات

    تاریخ پیدائش:28 جون 1927ء
    تاریخ وفات:17 مارچ 2002ء
    شہریت:مصر
    پیشہ:مصنف

    ثروت اباظہ کا پورا نام ثروت دسوقی اباظہ ہے۔ وہ مصر کے جانے مانے صحافی اور ناول نگار تھے۔ وہ محافظہ الشرقیہ کی بڑی شخصیتوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انھوں نے عربی زبان و ادب کی بہت خدمت کی ہے۔ ان کا تعلق اباظہ خاندان سے ہے جو مصر کا علمی و ادبی خاندان تصور کیا جاتا ہے۔ ان کے والد دسوقی اباظہ ادیب تھے اور چچا عزیز اباظہ شاعر ہیں۔ ان کے ایک اور چچا فکری اباظہ بھی ادیب اور کاتب تھے۔ ان کا شہرہ آفاق ناول” ارب من الأيام” ہے جو 1960ء کی دہائی میں ٹی وی پر بھی نشر ہوا تھا۔

    ادبی زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ثروت اباظہ نے جامعہ فواد اول سے 1950ء میں قانون میں گریجویشن کیا اور بطور وکیل اپنے کیرئر کی شروعات کی۔ وہ محض 16 برس کے تھے کہ ادب میں دلچسپی لینی شروع کر دی تھی۔ انہوں نے کم عمری میں ہی افسانہ لکھنا شروع کردیا تھا اور ان کی کہانی اور افسانے ریڈیو پر نشر ہونے لگے۔ اس کے بعد انھوں نے ناول کی جانب رخ کیا۔ انھوں نے ایک تاریخی قصہ” ابن عمار” لکھا اور اس کے بعد ایک ڈراما” الحیاۃ لنا” (ہماری زندگی) لکھا۔

    وہ 1974ء میں مجلہ "الاذاعہ والتلفزيون” کے رئیس التحریر بنے اور 1975ء تا 1988ء مجلہ” اہرام” کے ادبی شعبہ کے صدر رہے۔ وہ مجلس شوریٰ کے معتمد بھی رہے۔ انھوں نے متعدد ناول، قصے، فلمی کہانی، ڈراما لکھے۔ ان کے کئی ناول بعد میں فلمائے بھی گئے اور متعدد ریڈیو پر نشر ہوئے۔
    17 مارچ 2002ء کو بعمر 74 انتقال کرگئے۔

  • ظفر لشاری (لاشاری)  سرائیکی زبان کے پہلے ناول نگار

    ظفر لشاری (لاشاری) سرائیکی زبان کے پہلے ناول نگار

    ظفر لشاری (لاشاری) سرائیکی زبان کے پہلے ناول نگار

    یوم وفات : 16 مارچ 2020
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ظفر محمود لشاری (لاشاری) 9 دسمبر 1948ء کو احمد پور شرقیہ/ڈیرہ نواب صاحب کے نواحی علاقے محراب والا میں پیدا ہوئے، انہوں نے ابتدائی تعلیم احمد پور شرقیہ سے حاصل کی، 1967ء میں میٹرک کیا، ایس ای کالج بہاول پور میں ایف ایس سی کے لئے داخلہ لیا لیکن ٹی بی میں مبتلا ہوجانے کی وجہ سے تعلیم ادھوری چھوڑنی پڑی ۔ کافی عرصہ سینی ٹوریم میں زیر علاج رہے. صحت یاب ہونے پر چنی گوٹھ میں پی ٹی سی ٹیچر کے طور پر ملازمت کا آغاز کیا۔ پرائیویٹ ایم اے پنجابی، ایم اے سرائیکی اور ایم ایڈ کیا۔ ہیڈ ماسٹر بھی بنے۔ 2008ء میں ریٹائرڈ ہوئے۔

    سرائیکی زبان میں پہلا ناول "نازو” انہوں نے ہی لکھا۔ یہ 1971ء میں سرائیکی ادبی مجلس بہاول پور نے شائع کیا۔ دوسرا سرائیکی ناول "پہاج” 1987ء میں پنجابی ادبی بورڈ نے شائع کیا۔ افسانوں کا مجموعہ "تتیاں چھاواں” کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ ان کی دوسری کتابیں "جانباز جتوئی: حیاتی تے فن” ،”خواجہ فرید کے تعلیمی نظریات” اور”سرائیکی لوک سہرے” ہیں۔ 16 مارچ 2020 میں ان کی وفات ہوئی۔

  • یوم پیدائش، پروین اعتصامی،معروف ایرانی شاعرہ

    یوم پیدائش، پروین اعتصامی،معروف ایرانی شاعرہ

    پیدائش:16 مارچ 1907ء
    تبریز
    وفات:05 اپریل 1941ء
    تہران
    شہریت:ایران
    زبان:فارسی
    شعبۂ عمل:شاعری
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نوٹ: ویکی پیڈیا انگلش کے مطابق تاریخ ولادت 17 مارچ 1907ء درج ہے ۔

    پروین اعتصامی بروز ہفتہ یکم صفر المظفر 1325ھ مطابق 16 مارچ 1907ء کو شہر تبریز میں پیدا ہوئیں۔ ماہر لسانیات علی اکبر دہخدا کے مطابق پروین اعتصامی کا اصل نام ” رخشندہ“ تھا۔
    والدین و حیات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پروین کے والد اعتصام الملک مرزا یوسف اعتصامی تھے۔ پروین کے داد مرزا ابراہیم خان مصطفوی اعتصام الملک تھے جو شہر آشتیان صوبہ مرکزی سے ہجرت کرکے تبریز آ گئے تھے۔ بعد ازاں شہنشاہ نصیر الدین شاہ قاچار کے حکم پر اُنہیں وزارت خزانہ در صوبہ آذربائیجان میں مقرر کیا گیا۔ پروین کے چار بھائی تھے۔ پروین کی والدہ کا 1973ء میں اِنتقال ہوا۔
    تعلیم کا حصول
    ۔۔۔۔۔۔۔
    بعد میں یہ خاندان تبریز سے تہران چلا آیا اور یہاں پروین نے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ تہران میں پروین نے امریکن گرلز کالج میں تحصیل علم کیا۔ 1924ء میں اِیران بیتھل اسکول سے گریجویشن کیا۔
    1926ء سے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    1941ء تک
    ۔۔۔۔۔۔۔
    کے حالات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    1926ء میں پروین کو اِیران کے شاہی دربار سے مستقبل کی ملکہ کی اتالیق کے عہدے کی پیشکش کی گئی مگر پروین نے اِنکار کر دیا۔ 1934ء میں پروین کی شادی ہوئی اور وہ کرمان شاہ منتقل ہوگئیں۔ مگر یہ شادی صرف دس ہفتوں تک رہ سکی اور وہ واپس تہران آگئیں۔ 1938ء- 1939ء میں وہ کافی مہینے ایک لائبریری ”دانش گاہِ سرائے عالی“ میں ملازمت کرتی رہیں جو اَب تہران کی تربیت معلم یونیورسٹی کہلاتی ہے۔ 1938ء میں پروین کے والد مرزا یوسف اعتصامی آشتیانی کا اِنتقال ہوا جب پروین کی عمر 31 سال تھی۔
    پروین اعتصامی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    بحیثیت شاعرہ
    ۔۔۔۔۔۔۔
    پروین سات یا آٹھ سال کی تھیں جب اُن کا شاعری میں ذوق نمایاں ہونے لگا تھا۔ اُن کے والد نے اُن کا یہ ذوق دیکھتے ہوئے حوصلہ افزائی کی۔ 1921ء-1922ء میں اُن کی پہلی ایک شعری نظم ایک رسالہ بہار میں چھپی۔ 1935ء میں پروین کا شعری مجموعوں پر مبنی دِیوان شائع ہوا جس میں 156 نظمیں تھیں۔ اِس دیوان کے لیے ایک تقریظ مشہور فارسی شاعر محمد تقی بہار نے بھی لکھی۔
    1941ء میں پروین کے اِس دِیوان کا دوسرا ایڈیشن اُن کے بھائی مرزا ابو الفتح اعتصامی نے پروین کی وفات کے بعد شائع کیا۔ یہ ایڈیشن سابقہ کے مقابلے میں ضخیم تھا، اِس میں 209 مختلف شعری مرکبات جن میں قصیدہ، غزل، قطع اور رباعیاں شامل تھیں اور کل اشعار کی تعداد 5606 تھی۔
    اپنی مختصر سی حیات میں پروین بڑے شعرا کے مدِ مقابل آ گئی تھیں۔ اُن کی شاعری میں فارسی کے کلاسیکی دور کی جھلک واضح دکھائی دیتی ہے۔ اُن کے شعری مجموعوں میں 42 قصیدے اور قطع ایسے ہیں جن کا کوئی عنوان منتخب نہیں کیا گیا۔ یہ قدیم فارسی شعرا سنائی اور ناصر خسرو کی مطابقت رکھتے ہیں۔ بعض دوسرے قصیدے فطرت، حالات زندگی کو نمایاں کرتے ہیں۔ پروین کے دِیوان میں کچھ غزلیں عشیقہ زندگی کے متعلق بھی ہیں جو اُن کے رومان پسند ہونے کی نشان دہی کرتی ہیں۔
    پروین کے دِیوان میں مناظرے کی شاعری زیادہ مفصل انداز میں پائی جاتی ہے۔ مناظرے کے انداز میں کل 65 نظمیں موجود ہیں۔
    وفات
    ۔۔۔۔۔
    پروین اعتصامی کا اِنتقال 34 سال کی عمر میں بروز ہفتہ 8 ربیع الاول 1360ھ مطابق 05 اپریل 1941ء کو شہر قم، ایران میں ہوا۔ پروین کو قم میں اُن کے والد کے قریب دفن کیا گیا۔

  • پروفیسر ڈاکٹر سعادت سعید اردو زبان کے معروف شاعر

    پروفیسر ڈاکٹر سعادت سعید اردو زبان کے معروف شاعر

    ہے جس کا تخت سجدہ گاہ خاص و عام شہر
    میں اس سے ملنے کے لیے بے کل نہیں رہا

    سعادت سعید

    پیدائش:15 مارچ 1949ء
    لاہور
    شہریت: پاکستان
    مادر علمی:جامعہ پنجاب

    پروفیسر ڈاکٹر سعادت سعید اردو زبان و ادب سے تعلق رکھنے والے معروف نقاد، شاعر اور محقق ہیں۔ آپ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی، لاہور میں پروفیسر اور صدر شعبۂ اردو کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں اور ان دنوں بطور پروفیسر مذکورہ یونیورسٹی سے وابستہ ہیں۔ علاوہ ازیں، آپ انقرہ یونیورسٹی، ترکی میں اردو و پاکستان اسٹڈیز چئیر سے بھی منسلک رہے۔
    ابتدائی زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    سعادت سعید 15 مارچ، 1949ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ڈاکٹر اللہ دتہ (الف د) نسیم بھی اردو زبان و ادب کے استاد تھے۔
    تعلیم
    ۔۔۔۔۔۔
    سعادت سعید نے ابتدائی تعلیم منٹگمری یعنی ساہیوال سے حاصل کی۔ 1967ء میں گورنمنٹ کالج، ساہیوال سے بی اے کرنے کے بعد آپ اعلیٰ تعلیم کے لیے لاہور آ گئے۔ 1969ء میں انھوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اردو کا امتحان پاس کیا اور بہترین کارگردگی پر انھیں طلائی تمغے اور بابائے اردو گولڈ میڈل سے نوازا گیا۔ 1988ء میں انھوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ہی اردو زبان و ادب میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔
    تدریسی خدمات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    سعادت سعید نے اپنے تدریسی کیرئیر کا آغاز 1970ء میں بطور لیکچرار گورنمنٹ کالج راوی روڈ سے کیا۔ اسی سال وہ گورنمنٹ اسلامیہ کالج، لائلپور سے وابستہ ہوئے۔ تین برس بعد وہ اسلامیہ کالج، ریلوے روڈ، لاہور آ گئے، جہاں انھوں نے 1986ء تک خدمات انجام دیں۔ بعد ازاں، وہ بطور اسسٹنٹ پروفیسر منتخب ہو کر گورنمنٹ کالج، لاہور چلے گئے۔ 1995ء میں ان کا بطور ایسوسی ایٹ پروفیسر انتخاب ہوا اور چار برس بعد وہ اردو و پاکستان اسٹڈیز چیئر، انقرہ یونیورسٹی کے لیے منتخب ہو کر ترکی چلے گئے۔ وطن واپس آ کر وہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی سے بطور پروفیسر منسلک ہو گئے، جہاں انھوں نے صدر شعبۂ اردو کے طور پر بھی کام کیا۔ 2009ء سے تا حال وہ مذکورہ یونیورسٹی سے بطور سینئر وزٹنگ پروفیسر مذکورہ یونیورسٹی سے وابستہ ہیں۔
    تخلیقات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    (1) کجلی بن (نظموں کا مجموعہ)
    سنگ میل ،لاہور، 1988ء
    (2)اقبال اور مجلہ ساہیوال
    بزم اقبال، لاہور، 1989ء
    (3) تہذیب، جدیدیت اور ہم
    اقبال۔ شریعتی فاؤنڈیشن، لاہور، 1991ء
    (4) مثنوی پس چہ باید کرد اے اقوام شرق
    (اردو نثری ترجمہ)، اقبال۔
    شریعتی فاؤنڈیشن، لاہور، 1992ء
    (5) جہت نمائی،
    دستاویز مطبوعات ،لاہور، 1995ء
    (7) فن اور خالق،چند جدید نظم گو
    شعرا کے مطالعے
    دستاویز مطبوعات ،لاہور، 1998ء
    (8) ادب اور نفی ادب ،ادبی نظریہ سازی
    دستاویز مطبوعات ،لاہور، 1998ء
    (9) اقبال ایک ثقافتی تناظر
    دستاویز مطبوعات ،لاہور، 1998ء
    (10) چاند وقت، ترکی شاعری
    از سرپل کلفل، (ترجمہ)
    مکتبہ الفاروق، لاہور، 1998ء
    (11) فنون آشوب (طویل نظم)
    مکتبہ ابلاغ، لاہور، 2002ء
    (12) بانسری چپ ہے (شعری مجموعہ)
    دستاویز مطبوعات، لاہور، 2002ء
    (13) شناخت (شعری مجموعہ)
    مکتبہ نسیم، لاہور، 2007ء

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    آنکھوں سے وہ کبھی مری اوجھل نہیں رہا
    غافل میں اس کی یاد سے اک پل نہیں رہا
    کیا ہے جو اس نے دور بسا لی ہیں بستیاں
    آخر مرا دماغ بھی اول نہیں رہا
    لاؤ تو سرّ دہر کے مفہوم کی خبر
    عقدہ اگرچہ کوئی بھی مہمل نہیں رہا
    شاید نہ پا سکوں میں سراغ دیار شوق
    قبلہ درست کرنے کا کس بل نہیں رہا
    دشت فنا میں دیکھا مساوات کا عروج
    اشرف نہیں رہا کوئی اسفل نہیں رہا
    ہے جس کا تخت سجدہ گہہ خاص و عام شہر
    میں اس سے ملنے کے لیے بے کل نہیں رہا
    جس دم جہاں سے ڈولتی ڈولی ہی اٹھ گئی
    طبل و علم تو کیا کوئی منڈل نہیں رہا

    نظم
    ۔۔۔۔۔
    مرنے کا خوف
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    سر زمین تمنا کی مٹی سلاخیں اگانے لگی ہے
    گرفتار ہونے کا موسم
    سر قریۂ آبرو
    آفتاب ہلاکت کی صورت چمکنے لگا ہے
    شعاعوں کے نوکیلے پنجوں نے جسموں کو زخمی کیا ہے
    بھنور در بھنور روشنی کے سمندر
    طوفان قیدی ہوئے
    یہ بستی گناہوں سے معمور آفت رسیدوں کی بستی ہے
    نوزائدہ آرزو انتہاؤں کے امکاں سمیٹے
    ضمیروں میں لتھڑی جرائم زدہ خواہشوں کو
    مٹائے تو کیسے
    رگوں کے دریچوں سے لپٹی فصیلوں کو ریزوں کی صورت
    ہوا میں اچھالے تو کیسے
    کہ اس کا نوشتہ فقط از سر نو گرفتار ہونا
    نے دائروں کے تسلط میں جینا
    سیاہی کے باطن میں موجود غاروں میں رہنا
    ہلاکت کی سرچشمہ گاہوں سے
    آزاد رہنے کی عظمت سے واقف ہواؤ
    ہماری فصیلوں کی جانب بھی آؤ
    ہمیں یہ بتاؤ
    گرفتار ہونا ہمارا نوشتہ نہیں تھا
    ارادوں میں موجود طوق و سلاسل
    ہوس ناک دہشت
    تمنا کی مٹی میں فولاد ہوتے رہے ہیں
    خود اپنی توانا حقیقت
    گرفتار کرنے سے قاصر رہے میں

    نظم
    ۔۔۔۔۔
    اپنی محرومی کا دکھ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں نوحہ لکھتا ہوں اپنے خلیوں کے چھلنی خوابوں اے
    سر زمین ہوس میں پھیلے سراب آسا کھلے گلابوں کا
    منظروں کے لہو میں گھلتی غلیظ مٹی کی باتوں کا
    مرے وجود سیہ بختی میں اجڑے اشکوں کے گرد سائے قفس بنے میں
    میں دائروں کے مہین تاروں کی
    ناتمامی میں
    ریشہ ریشہ سمٹ گیا ہوں
    کہانیوں کے دبیز پردوں کی تہ میں عریاں
    تمہاری آنکھوں کی مسکراہٹ عذاب بن کر
    مرے سفر کی ہر ایک منزل میں آ چھپی ہے
    میں نوحہ لکھتا ہوں
    زرد سوچوں کا
    کالی سانسوں کا
    اپنے ہونٹوں کے شمسی لفظوں کا ذائقوں کا
    تمہارے سینے پہ کنڈلی مارے جو سانپ بیٹھا ہے
    اس کی خونی زباں کا نوحہ
    خود اپنے باطن کے خشک صحرا میں
    اجلے تاروں کی تابناکی کا
    خواہشوں سے بھری ہواؤں کی کائناتوں کا نوحہ لکھتا ہوں نوحہ خواں ہوں

  • بردی قربابائیف، جدید ترکمانی ادب کے بانی

    بردی قربابائیف، جدید ترکمانی ادب کے بانی

    پیدائش:15 مارچ 1894ء
    تیجن
    وفات:03 مارچ 1974ء
    اشک آباد
    شہریت:سلطنت روس
    سوویت اتحاد
    جماعت:اشتمالی جماعت سوویت اتحاد
    رکن:اکیڈمی آف سائنس سویت یونین
    زبان:ترکمن زبان
    اعزازات:
    آرڈر آف لینن
    اعزاز اکتوبر انقلاب

    بردی مرادووچ قربابائیف ترکمانستان کے عوامی ادیب، ترکمانی ادب کے بانی، شاعر، ناول نگار، ڈراما نویس، صحافی اور ترکمانی ادب کے مسلم الثبوت استاد ہیں۔
    حالاتِ زندگی
    ۔۔۔۔۔۔
    بردی قربابائیف 03 مارچ 1894ء میں ترکمانستان میں تیجین کے پاس ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے۔
    ان کی زندگی کا راستہ بھی وہی تھا جو ان کی قوم کے لاکھوں ہنرمند سپوتوں کا تھا جنھوں عظیم اکتوبر نے زندگی کی چوٹی پر پہنچایا۔ خانہ جنگی کے برسوں میں وہ ماورائے کیسپین محاذ پر فوجی اور سیاسی کارکن تھے اور اس کے بعد انھوں نے ترکمانیہ میں سوویت اقتدار کی تعمیر کی۔
    بردی قربابائیف نے لینن گراد اسٹیٹ یونیورسٹی کے شعبۂ شرقیات میں تعلیم حاصل کی۔ 1924ء میں بردی قربابائیف پیشہ ور ادیب بن گئے۔ ان کا رزمیہ ناول فیصلہ کن قدم، ناول اور طویل افسانے نیبت داغ، سفید سونے کے دیس کا اَئی سلطان، پھٹ پڑنے والا بند، پانی کی بوند-سونے کا ریزہ، شمالی بعید کی روشنی” وغیرہ عظیم اکتوبر کے اور عوام کی جدوجہد کے فنکارانہ وقائع ہیں۔ ان کی بہت سی نظموں میں آئیلار کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ یہ نظم حب الوطنی کی جنگ عظیم کے برسوں میں عوام کے لازوال کارناموں کے بارے میں ہے۔ انہیں بجا طور پر جدید ترکمانی ادب کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے جن کی تخلیقات روس کی ساری قوموں اور بہت سے بیرونی مملک کے لوگوں کی دسترس میں ہیں اور وہ انہیں قدر و منزلت کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔[5]آپ نے گوگول، لیرمونتوف، پشکن اور ٹالسٹائی کے تراجم ترکمانی زبان میں کیے۔ 1944ء – 1950ء تک وہ نے ترکمانستان کے ادیبوں کی انجمن کے صدر رہے۔
    تخلیقات
    ۔۔۔۔۔۔
    ناول اور افسانے
    ۔۔۔۔۔۔
    فیصلہ کن قدم
    نیبت داغ
    سفید سونے کے دیس کا اَئی سلطان
    پھٹ پڑنے والا بند
    پانی کی بوند-سونے کا ریزہ
    شمالی بعید کی روشنی
    نظمیں
    ۔۔۔۔۔
    جرات میندوں کا گیت
    آئیلار
    اداروں سے وابستگی
    ۔۔۔۔۔۔
    صدر ترکمانستان کے ادیبوں کی انجمن
    (1944ء -1950ء)
    رکن ترکمانی سائنس اکادمی
    نائب سپریم سوویت برائے ترکمانستان
    رکن مرکزی کمیٹی برائے 21، 22 اور
    23 ویں کانگریس برائے کمیونسٹ پارٹی بیلاروس
    رکن کمیٹی برائے اسٹالن انعام
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔
    بردی قربابائیف کو 1948ء میں سوویت ریاستی اسٹالن انعام 1951ء میں سوویت یونین کا ریاستی انعام، سوویت یونین کا لینن انعام اور سوشلست محنت کے ہیرو کا انعام دیا گیا۔ اس کے علاوہ ترکمانی ادب کے سلسلے میں آپ کی گرانقدر خدمات کے صلہ میں 1970ء میں مختوم قلی انعام بھی دیا گیا۔
    وفات
    ۔۔۔۔۔۔
    بردی قربابائیف اشک آباد، ترکمانستان میں 80 سال کی عمر میں 03 مارچ 1974ء کو انتقال کر گئے۔

  • طاہرہ واسطی (اداکارہ و مصنفہ)

    طاہرہ واسطی (اداکارہ و مصنفہ)

    طاہرہ واسطی (اداکارہ و مصنفہ)
    پیدائش : نومبر 1944
    وفات: 11 مارچ 2012
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ماضی کی خوب صورت پاکستانی اداکارہ اور مصنفہ طاہرہ واسطی نومبر 1944 میں خوشاب /سرگودھا میں پیدا ہوئیں۔ ابتدائی تعلیم خوشاب اور سرگودھا میں حاصل کی جس کے بعد ان کا خاندان لاہور منتقل ہوا۔ طاہرہ واسطی نے 1968 میں بطور اداکارہ اپنے فنی کیریئر کا آغاز سعادت حسن منٹو کے ایک ناول پر بنانے گئے ڈرامہ ” جیب کترا ” سے کیا لیکن پی ٹی وی کے ڈرامہ سیریل ” آخری چٹان ” میں ملکہ ازابیل کے کردار میں انہیں لازوال شہرت ملی جس سے وہ پاکستان کی صف اول کی اداکارائوں کی فہرست میں شامل ہو گئیں ۔ 1980 میں انہوں نے معروف اداکار اور انگریزی کے نیوز کاسٹر رضوان واسطی سے شادی کی جس سے انہیں دو بچے پیدا ہوئے۔

    ان کے دونوں بچوں بیٹا عدنان واسطی اور بیٹی لیلیٰ واسطی اور ان کی بھانجی ماریہ واسطی نے بھی فن اداکاری کو اپنا لیا ۔ طاہرہ واسطی نے بطور مصنفہ کئی ڈرامے تحریر کیے جن میں ان کا لکھا ہوا مشہور ڈرامہ ” کالی دیمک ” بھی شامل ہے جو کہ انہوں نے ایڈز کے موضوع پر لکھا تھا ۔ 1980 سے 1990 تک طاہرہ واسطی پاکستان کی سب سے زیادہ مشہور و مقبول اور مصروف اداکارہ رہیں ۔ وہ 1990 میں لاہور سے کراچی منتقل ہو گئیں ۔ طاہرہ واسطی کے مشہور ٹی وی ڈراموں میں ، کشکول، جانگلوس، آخری چٹان ، جیب کترا، اس کی بیوی، ٹیپو سلطان ، دل دریا دہلیز وغیرہ ہیں ۔ وہ فالج کا شکار ہو کر مختصر علالت کے بعد 11 مارچ 2012 میں کراچی میں انتقال کر گئیں ۔