Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • سزائیں دیتی ہے مکر و فریب کی دنیا صداقتوں کا ہے اظہار اک خطا کی طرح:سیدہ فرحت کی بولتی شاعری

    سزائیں دیتی ہے مکر و فریب کی دنیا صداقتوں کا ہے اظہار اک خطا کی طرح:سیدہ فرحت کی بولتی شاعری

    سزائیں دیتی ہے مکر و فریب کی دنیا
    صداقتوں کا ہے اظہار اک خطا کی طرح

    سیدہ فرحت

    یوم وفات: 11؍فروری 2003

    اصل نام کرامت فاطمہ اور تخلص سیدہ فرحت تھا۔
    یکم؍اپریل 1938ء کو بھوپال مدھ پردیش میں پیدا ہوئیں۔ آٹھویں کلاس تک بھوپال میی سلطانیہ اسکول میں تعلیم پائی جہاں ان کے والد محکمہ پولیس کی ملازمت کے سلسلے میں مقیم تھے۔ ان کے انتقال کے بعد اپنے ماموں ڈاکٹر عابد حسین کے پاس جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی آگئیں اور ان کی نگرانی میں گھر پر ہی تعلیم حاصل کی۔ بارہ سال کی عمر سے شاعری شروع کی، جعفر علی خاں اثر سے کلام پر کچھ عرصے تک اصلاح لی۔ ان کا کلام ماہنامہ ’’شاہراہ‘‘، ’’نئ روشنی‘‘، ’’آجکل‘‘ آور دیگر رسائل میں شائع یوتا رہا۔
    جب جامعہ ملیہ میں انجمن ترقی پسند مصنفین کی شاخ قائم ہوئ تو اس کی ممبر بنیں۔ شادی کے بعد علی گڑھ منتقل ہوگئیں۔ وہاں 1962ء میں خواتین کی ادبی انمجمن ’’بزم ادب‘‘ قائم کی جو آج بھی فعال ہے۔ فلاحی کاموں میں بھی سرگرم رہیں۔
    11؍فروری 2003ء کو علی گڑھ میں انتقال کر گئیں۔
    ان کے دو شعری مجموعے ’’بزم خیال‘‘ اور’’سازحیات‘‘ ہیں اور بچوں کے لئے نظموں کی کتاب ’’بچوں کی مسکان‘‘ہے۔ ان کی بیٹی نے سن 2016ء میں’’کلیات سیدہ فرحت‘‘ شائع کی۔

    بحوالہ ریختہ ڈاٹ کام

    سیدہ فرحتؔ صاحبہ کی شاعری سے انتخاب

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بحر ہستی میں تلاطم کبھی ایسا تو نہ تھا
    خیر و شر کا یہ تصادم کبھی ایسا تو نہ تھا

    کھوجتا رہتا تھا انسان وہ گم گشتہ بہشت
    خود بناتا ہے جہنم کبھی ایسا تو نہ تھا

    بھیجے ہر دور میں جس نے کہ پیمبر اپنے
    وہ خدا ذہنوں سے گم ہے کبھی ایسا تو نہ تھا

    ساز دل جو کبھی نغمات طرب گاتا تھا
    اب ہے محروم ترنم کبھی ایسا تو نہ تھا

    علم کے گوہر نایاب جو دیتا تھا کبھی
    اب ہے خوناب وہ قلزم کبھی ایسا تو نہ تھا

    قتل انسان تو اب روز کا معمول ہوا
    دل سے مفقود ترحم کبھی ایسا تو نہ تھا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    نہ فرش خاک پہ ٹھہریں گے نقش پا کی طرح
    رواں دواں ہیں فضاؤں میں ہم ہوا کی طرح

    پکار وقت کی نزدیک تھی مگر ہم نے
    سنا ہے دور سے آتی ہوئی صدا کی طرح

    سزائیں دیتی ہے مکر و فریب کی دنیا
    صداقتوں کا ہے اظہار اک خطا کی طرح

    خدا کرے تجھے احساس درد و غم نہ رہے
    دعائے خیر وہ دیتے ہیں بد دعا کی طرح

    نہ ہو سخن میں جو شان پیمبری ممکن
    خموش رہ کے بھی دیکھیں ذرا خدا کی طرح

    جھلک دکھائے کہیں تو امید کا سورج
    ہجوم یاس ہے امڈی ہوئی گھٹا کی طرح

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سوز دل پاس وفا درد جگر ہے کہ نہیں
    جو تھا مسجود ملائک وہ بشر ہے کہ نہیں

    فرش گیتی سے سر عرش پہنچنے والے
    کوچۂ دل سے تری راہ گزر ہے کہ نہیں

    گرم بازار ہے ہر سمت ہوس خیزی کا
    جذبۂ عشق کا بھی دل پہ اثر ہے کہ نہیں

    جس میں ہو جلوہ فگن کون و مکاں کی وسعت
    اہل دانش میں وہ انداز نظر ہے کہ نہیں

  • پاکستان لٹریچرفیسٹیول کا آغاز10 فروری کو لاہورمیں ہو گا

    پاکستان لٹریچرفیسٹیول کا آغاز10 فروری کو لاہورمیں ہو گا

    لاہور: پاکستان لٹریچر فیسٹیول کا آغاز 10 فروری کو لاہورمیں ہوگا جس کا افتتاح نگراں وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علیٰ شاہ کریں گے۔ فیسٹیول کے 50 سے زائد سیشن ہوں گے جس میں تفریح، مزاح، موسیقی، ڈانس کے علاوہ ادب،تعلیم، معیشت، کتابوں کی تقریب رونمائی،ملک کے معروف دانشوروں اور فن کاروں کے ساتھ گفتگو شامل ہوگی۔

    عمران خان سے صدرمملکت عارف الرحمن علوی کی اہم ملاقات، انتخابات کی تاریخ نہ دینے…

    افتتاحی تقریب میں پنجاب کے وزیر اطلاعات و ثقافت عامر میر اور سندھ کے وزیر ثقافت اور تعلیم سید سردار شاہ بھی شرکت کریں گے۔

    الحمراءآرٹس کونسل میں، انور مقصود، صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت عامر میر، سیکرٹری اطلاعات و نشریات علی نواز ملک اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر الحمرا ذوالفقار ذلفی کے ہمراہ صدر آرٹس کونسل پاکستان کراچی احمد شاہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 15 سال سے کراچی آرٹس کونسل اردو کانفرنس منعقد کر رہی ہے، اب ہم ایک نیا برانڈ متعارف کرا رہے ہیں، پاکستان میں یکجہتی کی بہت ضرورت ہے، کلچر اور ادب کے ذریعے ملک کی تمام اکائیوں کو جوڑا جا سکتا ہے۔

    ننکانہ : میونسپل کمیٹی کے ملازمین کو تنخواہیں نہ مل سکیں،سینیٹری ورکرز کا شدید…

    انہوں نے کہا کہ لاہور ادبی و تہذیبی مرکز رہا ہے، دلی اور چندی گڑھ سے لوگ یہاں پڑھنے آتے تھے، ہم نوجوان نسل کو آپس میں جوڑ رہے ہیں، لاہور کے بعد گوادر،مظفر آباد،گلگت،پشاور، اسلام آباد اور کراچی میں اس فیسٹیول کا انعقاد ہو گا۔احمد شاہ کا کہنا تھا کہ اس کے بعد ہم امریکہ کے مختلف شہروں ہیوسٹن، نیویارک، شکاگو، ڈیلس اور ٹورنٹو میں پاکستان لٹریچر فیسٹیول کا انعقاد کیا جائے گا۔

    انور مقصود نے کہا کہ اگر لاہور نہ ہوتا تو پاکستان میں اردو نہ ہوتی، ہر آدمی کا حق ہے کہ اس کا آنے والا دن اچھا ہو، حالات برے ہیں لیکن ہمیں اچھے کی امید رکھنی چاہیے، نوجوان ہمارا مستقبل ہیں، ملک میں تعلیم کو پنپنے نہیں دیا گیا کیونکہ اس ملک کے بچے پڑھ گئے تو الیکشن میں ووٹ نہیں دیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے نوجوان بہت ذہین ہیں، عقل اور سمجھ کے ساتھ ہماری نوجوان نسل سچی ہے، احمد شاہ جس کام میں ہاتھ ڈالتے ہیں وہ کامیاب ہوتا ہے، اس فیسٹیول کے انعقاد میں زلفی کی بہت محنت ہے۔

    صوبائی وزیر ثقافت و اطلاعات عامر میر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ محمد احمد شاہ پاکستان لٹریچر فیسٹیول ایونٹ کے روح رواں ہیں، انور مقصود ہمارے ملک کے لیجنڈ ہیں، اس فیسٹیول کی بنیاد اور محنت احمد شاہ کی ہے، پاکستان کے معاشرے میں جو شدت پسندی بڑھ گئی ہے اس سے نکلنے کے لیے ایسے ایونٹس بہت ضروری ہیں۔ذوالفقار زلفی نے کہا کہ ہم احمد شاہ کو خوش آمدید کہتے ہیں، اس فیسٹیول کے لیے احمد شاہ دن رات محنت کر رہے ہیں، الحمرا ہر قدم میں ان کے ساتھ ہے ، عامر میر کی قیادت میں ہم بھرپور ساتھ دیں گے۔

  • امریکی شاعرہ اور کہانی نویس الزبتھ بشپ

    امریکی شاعرہ اور کہانی نویس الزبتھ بشپ

    امریکی شاعرہ اور کہانی نویس الزبتھ بشپ
    (Elizabeth Bishop)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پیدائش: 8 فروری 1911
    وفات: 6 اکتوبر 1979

    امریکی شاعرہ اور کہانی نویس الزبتھ بشپ امریکہ کی ریاست میسا چیوسیس کے چھوٹے سے شہر ورکرسٹر Worcester میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد ایک کنٹریکٹر تھے جب ان کی عمر آٹھ سال تھی تو ان کے والد کا انتقال ہوگیا تھا اور ان کی والدہ صدمے سے ذہنی مریضہ بن گئی۔

    ان کی شاعری پر میریں مور Marianne Moore کے لبرل خیالات کا گہرا اثر رہا۔ انھوں نے نیویارک کے وارسر کالج سے 1934 میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی۔ بشپ کی نظمیں” ایک ادبی جریدے ٹرائیل بیلنس” میں شائع ہو چکی ہیں۔

    1949-1950 کے دوران وہ واشنگٹن میں شعبہ شاعری کی مشیر رھی۔

    ان کی شاعری کا اسلوب منفرد نوعیت کا ہے۔ وہ اپنی شاعری میں اپنے آپ کو” تسخیر”کرنا چاہتی ہیں۔ اور الزبتھ بشپ ” آبلہ فریبی” سے فاصلہ رکھے ہوئی ہیں۔

    ان کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ” لزبن "ہم جنس نسواں” تھی۔ یہ غلط تاثر ہے۔ ان کا کہنا ہے وہ عورتوں کی شاعری کرتی ہیں۔ بقول ان کے "عورتوں کی زیادہ تر شاعری فطرتا نیلے رنگ کے گیت ہوتے ہیں جس میں آہ و زاری کی جاتی ہے اور درد کا شکار ہوکر سادیت کے گیت لکھتی ہے۔

    1956 میں انھیں پولینٹرز انعام مل چکا ہے۔ ان کی زندگی پر بابرا ھوکر نے ایک فلم This House on Elizabeth Bishop کے نام سے بنائی۔

    بشپ کی تحریروں کی عمدہ اور شاندار خصوصیات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ان کو صدیوں پرانے شعری رویوں سے آگہی اور اس کی کلیوں کو وہ سمتیں ہیں جن کو بڑی ہی مہارت سے اپنی شاعری میں سمودینے کی تخلیقی ہنر مندی ان کو آتی ہے۔ وہ اپنے جذباتی شعری اظہار کو اعتدال کے ساتھ کنٹرول کر لیتی ہیں۔ وہ اپنے جذباتی اور حساس کو بڑی مہارت سے شعری پیکر اور اس کو جمالیاتی طور پر تشکیل دے لیتی ہیں۔ جب قاری ان کے جذبوں سے آگاہ ہوتا ہے تو وہ "بلبلاتا ” بھی ہے۔ دراصل ان کے شعری فن میں یہ بات تو ہے کہ وہ اپنے ” زخموں” کو کمال ہوشیاری سے چھپا بھی لیتی ہیں۔ مگر وہ اپنی ذاتی واردات اور زخموں کو بے نقاب کرنے کے لیے اساطیری فکریات اور ڈھانچے سے اسلوبیاتی اور اپنا شعری بیانیہ ترتیب دیتی ہیں۔

    مجھے لگتا ہے کہ ہمیں بشپ کی شاعری کا مطالعہ اور تجزیہ اسرار اور پر اسرار کے ساتھ کرنا ہے۔ جس طرح ان کی شاعری صرف شاعرہ کو کشف، الہام اور وحی کے بغیر طاقتور، مباحثہ احساسات سے اپنے آپ کو الگ کرتی ہے۔ بشپ نے اس وقت جمالیاتی صوابدید کا ایک راستہ اپنایا جب اس کے بہت سے ہم عصر شعرا ان کی شعری فطانت کا کا تعاقب کررہے تھے. اور ان کی شاعری کے بہت سے ٹکڑوں کو رد و بدل کرنے بعد شائع کرنے والے شعرا کی بھی کمی نہ تھی۔ جس میں بشپ کی شعری فضا اور خوشبو محسوس ہوتی تھی۔ یہ دھوکہ دہی اور پریشانی کا سبسب بھی بنی۔ جس میں جمالیات اور تخلیقی مرکبیات، عمل کیمیائی کے بعد مراقبے کا شکار ہوجاتی ہے۔ جو ان کا حفاظتی حصار تھا۔ وہ التباس کا شکار رہی۔ مگر ان کی یہ تشکیک اور تشویش تو ہے مگر یہ مراقبہ نہیں ہے۔ یہ اصل میں شاعرہ کے نئے شعری اظہار کی تلاش اور جستجو ہے۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ” بلی کی لوری”

    ” میاوں”۔۔۔۔ نیند خواب ہوجاتے ہیں
    اپنی بڑی آنکھوں کو بند کرلو
    ایک مسرت آمیز حیرانگی کے ساتھ
    پیاری ” میاوں” ۔۔۔ اپنی چڑھتی ہوئی تیوری کو گرا دو
    بس تعاون کرو
    ایک بلی کا بچہ نہ ڈوب جائے
    مارکسی حالت میں
    خوشی اور محبت دونوں تمہارے ہوجائیں گے
    ” میاں” ۔۔۔ اداس نہ ہو
    خوشی کے دن جلد آرہے ہیں
    نیند —– اور انھیں آنے دو

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    الزبتھ بشپ کی تصانیف

    North & South (Houghton Mifflin, 1946)
    Poems: North & South. A Cold Spring (Houghton Mifflin, 1955) —winner of the Pulitzer Prize[1]
    A Cold Spring (Houghton Mifflin, 1956)
    Questions of Travel (Farrar, Straus, and Giroux, 1965)
    The Complete Poems (Farrar, Straus, and Giroux, 1969) —winner of the National Book Award[2]
    Geography III (Farrar, Straus, and Giroux, 1976)
    The Complete Poems: 1927–1979 (Farrar, Straus, and Giroux, 1983)
    Edgar Allan Poe & The Juke-Box: Uncollected Poems, Drafts, and Fragments by Elizabeth Bishop ed. Alice Quinn (Farrar, Straus, and Giroux, 2006)
    Poems, Prose and Letters by Elizabeth Bishop, ed. Robert Giroux (Library of America, 2008) ISBN 9781598530179
    Poems (Farrar, Straus, and Giroux, 2011)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • سورن لتا سے  سعیدہ بانو تک کا سفر

    سورن لتا سے سعیدہ بانو تک کا سفر

    اداکارہ سورن لتا

    یوم وفات : 8 فروری
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سورن لتا 20 دسمبر 1924ء کو راولپنڈی کے ایک سکھ گھرانے میں پیدا ہوئی تھیں۔ سورن لتا کے فنی کیریئر کا آغاز 1942ء میں رفیق رضوی کی فلم آواز میں ایک ثانوی کردار سے ہوا تھا۔ 1943ء میںوہ نجم نقوی کی فلم تصویر میں پہلی مرتبہ بطور ہیروئن جلوہ گر ہوئیں، اس فلم کے ہیرو نذیر تھے۔نذیر کے ساتھ ان کی اگلی فلم لیلیٰ مجنوں تھی۔ یہی وہ فلم تھی جس کے دوران انہوں نے اسلام قبول کرکے نذیر سے شادی کرلی۔ ان کا اسلامی نام سعیدہ بانو رکھا گیا۔ اس زمانے میں انہوں نے جن فلموں میں کام کیا ان میں رونق، رتن، انصاف، اس پار اور وامق عذرا کے نام سرفہرست ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد وہ اپنے شوہر نذیر کے ہمراہ پاکستان آگئیں جہاں انہوں نے اپنے ادارے کے بینر تلے فلم "_سچائی” بنائی۔ اس فلم میں ہیرو اور ہیروئن کا کردار نذیر اور سورن لتا نے ادا کیا۔ اسی سال پاکستان کی پہلی سلور جوبلی فلم” پھیرے” ریلیز ہوئی۔ اس فلم کے فلم ساز ، ہدایت اور ہیرو نذیر تھے جبکہ ہیروئن سورن لتا تھیں۔” پھیرے” کی کامیابی کے بعد نذیر اور سورن لتا کی پنجابی فلم” لارے” اور اردو فلم "انوکھی داستان” ریلیز ہوئیں۔

    1952ء میں نذیر نے شریف نیر کی ہدایت میں فلم ” بھیگی پلکیں” تیار کی جس میں سورن لتا نے الیاس کاشمیری کے ساتھ ہیروئن کا کردار ادا کیا۔ اس فلم میں نذیر نے ولن کا کردار ادا کیا تھا۔ 1953ء میں سورن لتا کی چار مزید فلمیں ، شہری بابو، خاتون،نوکراور ہیر ، ریلیز ہوئیں۔ اس کے بعد بھی سورن لتا کی کئی اور فلمیں نمائش پذیر ہوئیں جن میں سوتیلی ماں، صابرہ، نور اسلام، شمع، بلو جی اورعظمت اسلام، شامل تھیں۔ عظمت اسلام سورن لتا کی بطور ہیروئن اور نذیر کی بطور فلم ساز اور ہدایت کار آخری فلم تھی۔ اس کے بعد سورن لتا نے چند مزید فلموں میں کریکٹر ایکٹر کردار ادا کئے تاہم چند برس بعد فلمی صنعت سے کنارہ کش ہوگئیں۔ سورن لتا ایک تعلیم یافتہ اداکارہ تھیں ، انہوں نے لاہور میں جناح پبلک گرلز اسکول کی بنیاد رکھی اور آخری وقت تک اس کی روح و رواں اور سربراہ رہیں۔
    8 فروری 2008ء کو برصغیر پاک و ہند کی نامور ہیروئن سورن لتا لاہور میں وفات پاگئیں۔ وہ لاہور میں آسودۂ خاک ہیں۔

  • چی این لونگ:ایک شہنشاہ اور فاضل، ادیب، عالم، نامور جرنیل بھی

    چی این لونگ:ایک شہنشاہ اور فاضل، ادیب، عالم، نامور جرنیل بھی

    پیدائش:25 ستمبر 1711ء
    بیجنگ
    وفات:07 فروری 1799ء
    بیجنگ
    مدفن:مشرقی چنگ مقابر
    شہریت:چنگ سلطنت
    اولاد:نسل
    مناصب
    شہنشاہ چین
    برسر عہدہ
    08 اکتوبر 1735- 9 فروری 1796ء

    چی این لونگ ایک شہنشاہ ہوتے ہوئے فاضل، ادیب، عالم اور نامور جرنیل تھا۔ اس کے عہد میں چین آزاد اور اقتدار کا ممتاز مظہر تھا۔ اس کا دور امن و امان کا حامل تھا۔ اس کی موت کے بعد شاہی کو ایسا زوال آیا کہ وہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی اور جمہوریت نے جنم لے لیا۔
    ابتدائی حالات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    چی این لونگ یونگ چینگ کا ولی عہد تھا جو حرم کے ایک خواص کی بطن سے پیدا ہوا تھا۔ اس کی ابتدائی زندگی مطالعہ اور تحقیقات میں گزری۔ اس کو امور سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ وہ حکومت کے نظم و نسق کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتا تھا۔ اس کے علمی شوق اور افضیلت نے اسے دور دور تک مشہور کر رکھا تھا۔ وہ تصنیف، تالیف یا تحقیق میں اس قدر محو تھا کہ اسے عوام حالات تک معلوم نہیں تھے۔
    تخت نشینی
    ۔۔۔۔۔۔
    جب چی این لونگ کے باپ کا انتقال ہوا تو اس کی عمر پچیس سال تھی۔ امرائے حکومت نے اسے مجبور کیا کہ وہ امور سلطنت کی ذمہ داریاں سنبھال لے۔ اس نے جواب میں کہا کہ کسی ملک کی حکمرانی بڑی ذمہ داریوں کا کام ہے۔ جو اعلیٰ روایات ہمارے اسلاف نے قائم کی انہیں ایک آن کے ساتھ لیکر آگے بڑھنا تا کہ ملک ترقی کر سکے۔ عوام کے حقوق کی حفاظت اور بیرونی اقوام کے حملوں سے مادر وطن کا تحفظ ایسی ذمہ داریاں ہیں جسے شاید میں اچھی طرح سے انجام نہ دے سکوں۔ چی این لونگ کا یہ جواب وزرائے سلطنت کو اس قدر پسند آیا کہ وہ اس کی تخت نشینی پر زور دینے لگے۔ وزراء نے چی این لونگ کو آخر مجبور کر دیا کہ وہ تخت و تاج کی ذمہ داریاں سنبھال لے۔ چنانچہ لنگ 1735ء میں تخت نشین ہوا۔ تخت نشینی کے بعد اس نے چار اتالیق مقرر کیے جو اسے امور سیاست سے واقف کراتے تھے۔
    یورپی مبلغین
    ۔۔۔۔۔۔
    علحدگی پسند چینی یہ نہ چاہتے تھے کہ مسیح اور دوسرے مذاہب کے داعی چین میں آ کر اپنے مذہب کا پرچار کریں جس وجہ سے چینی مذہب اور اس کی انفرادیت کو ٹھیس پہنچے۔ یہ نفرت انگیز اور کشیدہ جذبات چی این لونگ کے دادا کے زمانے سے پرورش پا رہے تھے۔ اس طویل عرصے میں یورپ کے مشزیز اپنے اثرات کو وسیع اور ہمہ گیر بنا رہے تھے۔ چی این لونگ نے امتناعی احکامات نافذ کر دیے کہ غیر مذاہب کی تبلیغ کو فوراً ختم کر دیا جائے۔ مبلغین جو تبلیغ کے علاوہ ایک سیاسی مقصد بھی رکھتے تھے اس لیے انہوں نے ان پابندیوں کی پروا نہیں کی اور اپنا کام جاری رکھا۔ جب چی این لونگ کو قانون کی خلاف ورزی کی اطلاع ملی تو اس نے ان مبلغین کو سخت ترین سزائیں دلوایں جو قانون کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔ یہ کشمکش اس وقت شدید ترین ہو گئی جب جزائر فلپائن کے چینی باشندوں کو ہسپانوی باشندوں نے مسیحیت قبول نہ کرنے پر سخت سزائیں دیں گئی۔ اس کی خبر جب چین پہنچی تو چی این لونگ نے حکم دیا کہ ہسپانوی تبلیغ گھر جو چین میں تعمیر ہے سب کو مسمار کر دیا جائے۔ اس کے علاوہ ہسپانوی مبلغین کو قتل کرنے کا حکم بھی دیا جس کی وجہ سے ہسپانوی مبلغین کو چن چن کر قتل کیا گیا۔
    یورپی تاجر
    ۔۔۔۔۔۔
    چی این لونگ مسیحیت اور مغربی اقوام کا سخت دشمن تھا اس نے تبلیغ مسیحیت کو حددود چین میں ممنوع قرار دیا تھا۔ بیرونی تاجروں پر کڑی نگرانی کا انتظام کر رکھا تھا۔ بندرگاہوں پر ایک خاص عہدہ دار جو ہوپو کے نام سے بھی مشہور ہے کا تقرر کیا گیا جو درآمدات اور برآمدات پر نگرانی کرتا۔ تاجروں پر سختیاں اور پابندیوں کو دیکھ کر جارج سوم شہنشاہ انگلستان نے چی این لونگ کے دربار میں اپنے قاصد میکارٹنی کو بھیجا۔ مگر چی این لونگ نے میکارٹنی کو بے نیل و مراد لوٹنے پر مجبور کر دیا تھا۔ ان ناکامیوں کا حل مغربی اقوام نے عجیب و غریب نکالا۔ ان لوگوں نے کثیر مقدار میں افیون کی درآمد شروع کر دی۔ چینیوں میں افیون کے اس شدید استعمال نے اخلاقی و مالی نقصانات پیدا کر دیے۔ مانچو حکمرانوں نے افیون کی تجارت ختم کرنے کے لیے موت کی سزا مقرر کر دی تھی۔ جس کی انتہا یہ ہوئی کہ افیون کی تجارت کی وجہ سے بیرونی اقوام اور چین میں 1841ء میں جنگ بھی ہوئی جس میں چین کو شکست ہوئی۔
    وسط ایشیا کے جنگجو
    ۔۔۔۔۔۔۔
    وسط ایشیا کے جنگجو سرادر چین کی آزادی اور امن کے لیے مستقل خطرہ تھے۔ چین کی سیاست میں جب کبھی انحاط دیکھتے چین پر حملہ کر دیتے۔ چی این لونگ نے اس خطرے کو پوری طرح محسوس کیا اور یہ طے کیا کہ چین کے مستقل اس خطرے کے ارتفاع سے امن کی ایک ضمانت دلائی جائے۔ چنانچہ چی این لونگ نے کثیر ترفیت یافتہ فوج تیار کی اور مناسب موقع کا انتظار کیا۔ وقت کا انتظار اس لیے کیا جا رہا تھا کہ وسط ایشیا بے امنی، قتل اور غارت گری کا ایک خونی مرکز تھا۔ چی این لونگ سے بیشتر شاہان چین کی یہ جرات نہ ہو سکی تھی کہ وہ اس بارود خانے میں چنگاری پھینکیں۔ چی این لونگ نے موافق موسم میں مناسب حالات کے ساتھ ایک کثیر فوج لے کر وسط ایشیا کے جنگجو سرداروں پر حملہ کر دیا۔ اس خون ریز لڑائی میں چی این لونگ کو فتح نصیب ہوئی اور تمام سرداروں کو اس نے زیر نگین کر لیا۔ اس مہم میں خاشگر، یارقند، خوقند اور سارا وسط ایشیا تسخیر کر لیا گیا۔
    سلطنت میں وسعت
    ۔۔۔۔۔۔۔
    وسط ایشیا کے جنگجو سرداروں کو زیر نگین کرنے کے بعد چی این لونگ نے 1768ء میں برما پر حملہ کر دیا تھا۔ یہ جنگ چار سال تک جاری رہی۔ اس جنگ میں چینی فوجیں برما کے دار الحکومت تک تو نہیں پہنچ پائی لیکن چین کی سیادت کو حکومت برما نے تسلیم کر لیا تھا۔ اس کے بعد 1792ء میں چینی افواج نے نیپال پر حملہ کیا تھا۔ اس لڑائی میں چین کو فتح حاصل ہوئی تھی۔ شہنشاہ چی این لونگ کی سلطنت کی حدود افغانستان اور ہندوستان کے قریب قریب تک پھیلی ہوئی تھی۔
    دستبرداری
    ۔۔۔۔۔۔۔
    چی این لونگ کو 1795ء میں دستبردار ہونا پڑا کیونکہ چینی قانونی کے لحاظ سے کوئی بھی بادشاہ ساٹھ سال سے زیادہ عرصہ حکومت نہیں کر سکتا تھا۔دستبرداری کے بعد بھی چی این لونگ امور سلطنت کی نگرانی کرتا رہا۔
    دور حکومت
    ۔۔۔۔۔۔۔
    چی این لونگ کا دور فتوحات سے قطع نظر اندرونی طور پر امن و امان کا حامل تھا۔ غریبوں اور کسانوں کی فلاح کے لیے کئی قوانین بنائے۔ چی این لونگ چین کا وہ عالم، مدبر، فن کار اور جنگجو فرمانروا ہے جس نے اپنی قابلیت سے چین کی علمی اور سیاسی زندگی میں بیش بہا اور گرانقد اضافے کیے۔ چی این لونگ چین کا آخری فرمانروا ہے جو چین کی عظمت و جلال کا ایک ممتاز مظہر تھا۔

  • چارلس ڈکنز:انگلستان کا مشہور ناول نویس

    چارلس ڈکنز:انگلستان کا مشہور ناول نویس

    پیدائشی نام:Charles John Huffam Dickens
    پیدائش:07 فروری 1812ء
    وفات:09 جون 1870ء
    وجۂ وفات:دماغی جریان خون
    مدفن:ویسٹمنسٹر ایبی
    طرز وفات:طبعی موت
    شہریت:متحدہ مملکت برطانیہ عظمی و آئر لینڈ
    مملکت متحدہ
    مادری زبان:انگریزی

    چارلس ڈکنز یا چارلز ڈکنز (انگریزی: Charles Dickens) انگلستان کا مشہور ناول نویس تھا۔ چارلس ڈکنز 07فروری 1812ء کو لینڈ پورٹ برطانیہ میں پیدا ہوا۔ بچپن میں نامساعد حالات سے گزرا۔ جس کی جھلک اس کے ناول اولیور ٹوسٹ اور ڈیوڈ کاپر فیلڈ میں ملتی ہے۔ عملی زندگی کا آغاز ایک وکیل کے منشی کی حیثیت سے کیا۔ بعد ازاں شارٹ ہینڈ سیکھ لی اور ایک اخبار کا رپورٹر ہو گیا۔ ان دونوں ملازمتوں میں ڈکنز کو وہ سب مواد دستیاب ہوا جو بعد میں اس نے اپنے ناولوں میں استعمال کیا۔ 1836ء میں ادبی زندگی کا آغاز کیا ماہنامے میں قسط وار داستان Pickwick Papeers لکھ کر کیا جو بہت مقبول ہوئی۔ 1842ء میں امریکا کا دورہ کیا۔
    ہندستان میں 1857ء کی جنگ آزادی (جسے برطانوی غدر کہتے ہیں) میں مقامی آبادی کو شکست کے بعد انگریزی تادیبی کارروائیوں پر ڈکنز کا بیان:
    I wish I were commander-in-chief in India … I should proclaim to them that I considered my holding that appointment by the leave of God, to mean that I should do my utmost to exterminate the race.
    وفات
    ۔۔۔۔۔۔
    09 جون 1870ء کو اُس کا کینٹ برطانیہ میں انتقال ہو گیا۔

  • وحشت آباد مکانوں میں نہیں جی لگتا،بشری رحمان بلبل پاکستان

    وحشت آباد مکانوں میں نہیں جی لگتا،بشری رحمان بلبل پاکستان

    وحشت آباد مکانوں میں نہیں جی لگتا
    شہر سے دور نکل جانے کو جی چاہتا ہے

    بشری رحمان بلبل پاکستان

    7 فروری 2022 یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نامور پاکستانی ،ادیبہ،مصنفہ، شاعرہ ، ناول نگار ،افسانہ نگار،ڈرامہ نویس،کالم نگار اور سینئر پارلیمنٹرین بشریٰ رحمن 29 اگست 1944میں بہاولپور پنجاب میں پیدا ہوئیں ۔انہوں نے ابتدائی تعلیم بہاولپور سے اور ایم اے صحافت کی ڈگری پنجاب یونیورسٹی لاہور سے حاصل کی ۔ 1960 میں لاہور کے ایک معروف صنعتکار میاں عبدالرحمن سے شادی ہوئی ۔ بشریٰ رحمن کی اب تک 14 کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں ناول،افسانے، شاعری، ڈرامے اور کہانیاں شامل ہیں ۔ ان کو پی ٹی وی پر نشر ہونے والے اپنے لکھے ڈرامہ سیریل سے شہرت حاصل ہوئی ۔ وہ ایک اخبار میں "چادر چار دیواری اور چاندنی” کے عنوان سے کالم نگاری بھی کرتی تھیں سائرہ ہاشمی کے ساتھ مل کر انہوں نے ایک ادبی تنظیم ” بزم ہم نفساں ” کا قیام عمل میں لایا جس کے زیر اہتمام وہ ہر ماہ اپنی رہائش گاہ پر ماہانہ مشاعرے کا انعقاد کرتی تھیں جس میں لاہور کے نامور شعراء اور شاعرات شریک ہو کر اپنا کلام پیش کرتے تھے بشری صاحبہ نے ایک ادبی ماہنامہ ” وطن دوست ” کا بھی اجراء کیا تھا ۔ انہوں نے ادب و سیاست اور صحافت کے شعبے میں بڑا نام کمایا۔ وہ دو بار پنجاب کی صوبائی اسمبلی کی رکن اور دو بار قومی اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں ۔ اسمبلی میں ان کی خوش گفتاری اور بہترین فقروں اور الفاظ کے استعمال کی بنا پر انہیں ” بلبل پاکستان” کے خطاب سے نوازا گیا تھا ۔ 7 فروری 2022 کو 78 برس کی عمر میں کرونا وائرس میں مبتلا ہو کر لاہور میں ان کا انتقال ہوا۔ معروف شاعرہ نیلما ناہید درانی نے ان کی وفات پر بڑے دکھ اور کرب کا اظہار کرتے ہوئے ان کو ان الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا” خوب صورت شخصیت، دلفریب مسکراہٹ، غزالی آنکھوں اور رس بھرے لہجے کی مالک” ۔ بشری صاحبہ کی شائع ہونے والی کتابوں میں ،بت شکن، چپ، پشیمان ، پیاسی،چارہ گری ،خوب صورت ، عشق عشق، قلم کہانیاں ، مولانا ابوالکلام آزاد،ایک مطالعہ، چاند سے نہ کھیلو، بہشت،لازوال،دانا رسوائی ، صندل میں سانسیں چلتی ہیں ،بے ساختہ، کس موڑ پر ملے ہو، الله میاں جی اور ، تیرے سنگ در کی تلاش شامل ہیں ان کی آخری تصنیف "سیرت طیبہ صلی الله علیہ وسلم” ہے ۔ ان کی خوش قسمتی ہے کہ انہوں نے سیرت طیبہ کی کتاب مکمل کر کے وفات پائی ہے امید ہے کہ یہ تصنیف ان کی عاقبت سنوارنے کا باعث بنے گی جبکہ انہوں نے آخری افسانہ "_گیسو” دسمبر 2021 میں لکھا جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ مرد کو باغی بنانے میں عورت کا کردار زیادہ ہے شادی شدہ خواتین اپنے شوہر کو بلا جواز شک کی نظر سے دیکھتی ہیں اور ان کی ٹوہ میں لگی رہتی ہیں جس کی وحہ سے شوہر تنگ آ کر اپنے گھر سے باہر غیر محرم خواتین سے رابطہ استوار کرنے کی طرف مائل ہوتے ہیں ۔ بشریٰ رحمن صاحبہ کو حکومت پاکستان کی جانب سے 2007 صدارتی ایوارڈ ستارہ امتیاز سے نوازا گیا۔

    چند منتخب اشعار

    تیرے ہاتھوں میں پگھل جانے کو جی چاہتا ہے
    آتش شوق میں جل جانے کو جی چاہتا ہے

    وحشت آباد مکانوں میں نہیں جی لگتا
    شہر سے دور نکل جانے کو چاہتا ہے

    ہم سے یہ رسم کی زنجیر بھی کب ٹوٹ سکی
    دل کی ضد پر بھی مچل جانے کو جی چاہتا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہمارے شہر کے ہر موڑ پر اک یاد بیٹھی ہے
    نظاروں کی یہ برساتیں ہمیں واپس عطا کر دو

    مرے سجدوں کی رعنائی محبت میں نہ کام آئی
    معطر باوضو راتیں ہمیں واپس عطا کر دو

  • نامور فلمی شاعر سیّد خورشید علی کا یوم پیدائش

    نامور فلمی شاعر سیّد خورشید علی کا یوم پیدائش

    اصل نام:سید خورشید علی
    قلمی نام:تنویر نقوی
    تاریخ ولادت:06 فروری 1919ء
    تاریخ وفات:01نومبر 1972ء

    اردو کے نامور فلمی شاعر تنویر نقوی کا اصل نام سیّد خورشید علی تھا اور وہ 6 فروری 1919ء کو لاہور میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا تعلق ایک علمی اور ادبی گھرانے سے تھا اور ان کے بڑے بھائی بھی نوا نقوی کے نام سے شاعری کرتے تھے۔ تنویر نقوی نے 15 سال کی عمر میں شاعری شروع کی اور 21 سال کی عمر میں1940 ء میں ان کا پہلا مجموعہ سنہرے سپنے کے نام سے شائع ہوا اس سے قبل 1938ء میں وہ ہدایت کار نذیر کی فلم شاعر سے فلمی نغمہ نگاری کا آغاز کرچکے تھے۔
    قیام پاکستان کے بعد 1950ء میں تنویر نقوی پاکستان چلےگئے جہاں انھوں نے اپنے بے مثل گیتوں سے دھوم مچا دی تنویر نقوی کے مقبول نغمات کی فہرست بے حد طویل ہے جن میں زندگی ہے یا کسی کا انتظار (فلم سلمیٰ)‘ جان بہاراں‘ رشک چمن (فلم عذرا)‘ کہاں تک سنو گے کہاں تک سنائوں (فلم انارکلی)‘ رم جھم رم جھم پڑے پھوار (فلم کوئل)‘ زندگی میں ایک پل بھی چین آئے نا (فلم ہم سفر)‘ رقص میں ہے سارا جہاں (فلم ایاز) اے دل تری آہوں میں اثر ہے کہ نہیں ہے (فلم تاج محل) اور 1965ء کی جنگ میں نشرہونے والا نغمہ رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو سرفہرست ہیں۔

    تنویر نقوی نے کئی فلموں کے لیے کئی فلموں کے لیے کئی خوبصورت نعتیں بھی تحریر کیں جن میں فلم نور اسلام کی نعت شاہ مدینہ‘ یثرب کے والی اور فلم ایاز کی نعت بلغ العلیٰ بکمالہٖ خصوصاً قابل ذکر ہیں۔
    تنویرؔ نقوی کا انتقال یکم نومبر 1972ء کو لاہور میں ہوا۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    ہمارے واسطے ہر آرزو کانٹوں کی مالا ہے
    ہمیں تو زندگی دے کر خدا نے مار ڈالا ہے

    ادھر قسمت ہے جو ہر دم نیا غم ہم کو دیتی ہے
    ادھر ہم ہیں کہ ہر غم کو ہمیشہ دل میں پالا ہے

    ابھی تک اک کھٹک سی ہے ابھی تک اک چبھن سی ہے
    اگرچہ ہم نے اپنے دل سے ہر کانٹا نکالا ہے

    غلط ہی لوگ کہتے ہیں بھلائی کر بھلا ہوگا
    ہمیں تو دکھ دیا اس نے جسے دکھ سے نکالا ہے

    تماشا دیکھنے آئے ہیں ہم اپنی تباہی کا
    بتا اے زندگی اب اور کیا کیا ہونے والا ہے

  • پاکستان  کے نامور صحافی اور ماہر معاشیات صدیق بلوچ  کا یوم وفات

    پاکستان کے نامور صحافی اور ماہر معاشیات صدیق بلوچ کا یوم وفات

    6 فروری 2018
    ۔۔.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پاکستان کے نامور صحافی اور ماہر معاشیات صدیق بلوچ کا یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے ممتاز صحافی، مصنف اور ماہر معاشیات صدیق بلوچ 10 فروری 1940 کو لیاری کراچی میں میر جنگیان خان کے گھر میں پیدا ہوئے۔ ان کے پر دادا ایران سے نقل مکانی کر کے کراچی میں آباد ہوئے تھے ۔ صدیق بلوچ نے ابتدائی تعلیم کراچی کے گورنمنٹ پرائمری اسکول سے حاصل کی جبکہ میٹرک سندھ مدرستہ الاسلام سے کیا ، سندھ آرٹس اینڈ کامرس کالج سے ماسٹر اور کراچی یونیورسٹی سے معاشیات میں ڈگری حاصل کی ۔ وہ زمانہ طالب علمی سے ہی سیاسی سرگرمیوں میں فعال رہے تھے ، کامرس کالج میں طلبہ یونین کے صدر اور نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے فعال رہنما رہے۔ تعلیم سے فراغت کے بعد انہوں نے کراچی کے ایک نجی کالج میں کچھ عرصہ مدرس کے طور پر اپنے فرائض سرانجام دیے جہاں فیض احمد فیض پرنسپل تعینات تھے لیکن جلد ہی فیض احمد فیض اور صدیق بلوچ کالج کی ملازمت چھوڑ کر صحافت کے شعبے سے وابستہ ہو گئے۔ صدیق بلوچ جوکہ اپنے قریبی حلقوں میں لالہ صدیق بلوچ کے نام سے پکارے جاتے تھے ،نے پاکستان کے سب بڑے انگریزی اخبار "ڈان” سے اپنے صحافتی کیرئیر کا آغاز کیا ۔ انہوں نے ڈان میں سب ایڈیٹر ،اسٹاف رپورٹر ،کرائم رپورٹر اور کالم نگار کی حیثیت سے اپنی صحافتی خدمات انجام دیں ۔ صدیق بلوچ صاحب ایک سیاسی کارکن بھی تھے اس لیے انہوں نے نیشنل عوامی پارٹی (نعپ) سے بھی وابستگی رکھی اور ملکی سیاست میں بہت فعال کردار ادا کرتے رہے اور ممتاز بلوچ قوم پرست رہنما میر غوث بخش بزنجو،سردار عطاء اللہ خان مینگل اور نواب خیر بخش خان مری کے بہت قریب رہے۔ میر غوث بخش بزنجو جب بلوچستان کے پہلے سول گورنر مقرر ہوئے تو انہوں نے صدیق بلوچ کو اپنا پی آر او مقرر کیا لیکن جب” نعپ” کی منتخب حکومت کو برطرف کیا گیا تو سردار عطاء الله خان مینگل اور میر غوث بخش بزنجو سے قریبی تعلقات کی بنا پر صدیق بلوچ کو بھی گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا۔ جیل سے رہائی کے بعد انہوں نے پھر سے اپنی سیاسی اور صحافتی سرگرمیاں شروع کر دیں۔ کراچی میں انہوں نے اپنے والد صاحب کے نام سے منسوب "جنگیان ہوٹل”بھی کھول رکھا تھا اور وہ سیاسی کارکنوں کے لیے "لنگر خانہ” کا کام دے رہا تھا جس میں سیاسی کارکنان کو بلا امتیاز مفت کھانا فراہم کیا جاتا تھا دلچسپ اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اپنے دور کے سیاسی اور صحافتی قلندر لالہ صدیق بلوچ جنگیان ہوٹل میں آنے والے سیاسی کارکننوں کو کھانا پیش کرنے کے لیے خود "ویٹر” کے فرائض بھی سرانجام دیتے تھے۔

    صدیق بلوچ نے انگریزی اخبار ڈان سے طویل وابستگی کے بعد علیحدگی اختیار کر کے کراچی سے ” سندھ ایکسپریس ” کے نام سے انگریزی اخبار جاری کیا لیکن مالی مشکلات کے باعث 2 سال بعد انہیں یہ اخبار بند کرنا پڑا۔ 1992 میں صدیق بلوچ نے بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے "بلوچستان ایکسپریس ” کے نام سے ایک انگریزی اخبار جاری کیا اور 2002 میں کوئٹہ سے ہی اردو اخبار ” روزنامہ آزادی ” کا بھی اجرا کیا۔ لالہ صدیق بلوچ کے یہ دونوں اخبار بلوچستان میں صحافیوں کے لیے درسگاہ کی حیثیت رکھتے تھے جہاں صدیق بلوچ ایک استاد کی حیثیت سے صحافیوں کی خصوصی تربیت کرتے تھے۔ صدیق بلوچ کراچی یونین آف جرنلسٹ کے دو بار صدر اور کراچی پریس کلب کے نائب صدر بھی رہ چکے تھے ۔ وہ اپنے دونوں اخبارات میں نہایت پابندی کے ساتھ صوبائی اور ملکی صورتحال پر کالم لکھتے تھے جن کی تحریروں کو عوام اور مقتدر حلقوں میں خصوصی توجہ کے ساتھ پڑھا جاتا تھا۔ وہ بلوچستان کا سیاسی مقدمہ بھی بڑی مضبوطی سے لڑتے تھے اس لیے انہیں ” بلوچستان کے حقوق کے سفیر” کے خطاب سے بھی پکارا جاتا تھا۔ ملک کے ایک نامور صحافی کی حیثیت سے ان کے مقتدر حلقوں خواہ حکومتی اکابرین صدر،وزیراعظم، گورنر ، وزیر اعلیٰ ،وفاقی اور صوبائی وزرا اور اعلیٰ سطح کے سول افسران کے ساتھ تعلقات تھے مگر انہوں نے کبھی بھی ان سے کوئی ناجائز فائدہ اور مراعات حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی ۔ وہ بلوچی زبان و ادب اور ثقافت کے ایک سب سے بڑے نجی ادارے "بلوچی اکیڈمی کوئٹہ ” کے چیئرمن بھی رہے۔ انہوں نے بلوچستان کے معاشی اور اقتصادی مسائل کے حوالے سے دو جلدوں پر مشتمل انگریزی میں ایک کتاب” پولیٹیکل اکانامی آف بلوچستان ” شائع کی ۔ صدیق بلوچ 4 زبانوں اردو،بلوچی،انگریزی اور سندھی پر عبور رکھتے تھے ۔ پاکستان کے یہ مایہ ناز صحافی 6 فروری 2018 میں علالت کے باعث دوران علاج کراچی میں انتقال کر گئے لیکن اپنی اعلیٰ صحافتی خدمات کے باعث وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے ۔ صدیق صاحب کے پسماندگان میں 5 فرزند محمد عارف، محمد آصف، محمد طارق ، محمد ظفر اور محمد صادق بلوچ شامل ہیں جنہوں نے اپنے عظیم باپ کے صحافتی ورثے کو سنبھال رکھا ہے۔ وہ کوئٹہ سے شائع ہونے والے دونوں اخبار ،بلوچستان ایکسپریس اور "آزادی” کو چلا رہے ہیں تاہم آجکل کے ناسازگار حالات کے باعث انہیں شدید مالی مسائل اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس کی سب سے بڑی وجہ اخبارات کو سرکاری اشتہارات کی مد میں نظرانداز کرنا ہے ۔ لالہ صدیق بلوچ صاحب کے صحافی شاگرد سندھ اور بلوچستان میں پھیلے ہوئے ہیں جن میں میرے ہوم ڈسٹرکٹ نصیر آباد سے تعلق رکھنے والے معروف صحافی ڈیرہ مراد جمالی پریس کلب کے سابق صدر ولی محمد زہری سابق صدر نصیر احمد مستوئی اور کوئٹہ پریس کلب کے شیخ عبدالرزاق بھی شامل ہیں ۔

  • معروف ادیبہ، شاعرہ، محقق اورماہرہ تعلیم  بلقیس عمرانی کا یوم پیدائش

    معروف ادیبہ، شاعرہ، محقق اورماہرہ تعلیم بلقیس عمرانی کا یوم پیدائش

    6 فروری 1985

    معروف ادیبہ، شاعرہ، محقق اورماہرہ تعلیم بلقیس عمرانی کا یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نام اور تخلص . . بلقیس
    قبیلہ ۔ عمرانی بلوچ

    والد صاحب کا نام: غلام جان عمرانی بلوچ
    والدہ محترمہ کا نام: بی بی صفوری
    آبائی وطن : بلوچستان
    جائے ولادت: کراچی
    تاریخِ ولادت:06 فروری 1985ء
    تعلیم:ایم اے اردو
    پی ایچ ڈی اردو
    پیشہ: لیکچرار اردو
    گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج، کراچی
    تلمذ: پروفیسر ڈاکٹر شاداب احسانی
    سابق صدرنشیں شعبۂ اردو جامعہ کراچی
    تصنیفات:
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کلام میر میں بحورواوزان کا
    فنی اور موضوعی جائزہ
    (مقالہ پی ایچ ڈی
    تحقیقی مضمون بعنوان
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)میرکی شاعرانہ عظمت اور
    ۔ بحر مضارع اخرب مکفوف
    ۔ محذوف مقصور تحقیقی جائزہ
    ۔ شائع شدہ شش ماہی مجلہ اردو
    ۔ جلد 95,شمارہ دوم
    ۔ 2019،انجمن ترقی اردو پاکستان
    ۔ کراچی۔
    ۔ (2)مرزا غالب کی فارسی کلیات
    ۔ جلداول تا سوم کا
    ۔ عروضی مطالعہ ۔زیر طبع
    (3) قدیم بلوچی داستانوں میں
    ۔ عورت کا کردار
    ۔ شائع شدہ زاویے(تانثی ادب)
    ۔ کتابی سلسلہ نمبر 3
    ۔ شعبہ اردو بریلی کالج،2018,دہلی

    نظم
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اخبار فروش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کراچی کی کسی مشہور شاہراہ پر
    کوئی اخبار ہاتھوں میں لیے بچہ
    ہزاروں گاڑیوں کے درمیاں سگنل جہاں کچھ دیر کو ہی بند ہوتا ہے
    صدا وہ یہ لگاتا ہے
    ارے بابو!…..سنو گے آج کی تازہ خبر؟؟؟
    وزیرِ اعلیٰ نے تعلیم کردی مفت صوبے میں
    ارے بابو! سنو تو آج کی تازہ خبر!
    کہ آٹے دال کی اب قیمتوں میں اور اضافہ ہوگیا ہے
    آج کی تازہ خبر!
    اک باپ نے غربت کے ہاتھوں اپنے بچوں کو کھلا کر زہر خود بھی خودکشی کرلی!!
    یہی بچہ صدا دیتا ہوا اور آگے بڑھتا ہے
    اچانک…..
    اچانک دور سے اک چمچماتی کار گاڑی بند سگنل توڑ کر تیزی سے بچے کو کچل کر آگے بڑھتی ہے….
    لہو میں تر سڑک کے دو کناروں پر پڑے ہیں آج کے اخبار
    یہی ہے آج کی تازہ خبر۔۔۔۔۔

    نظم
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ Goodbye2020
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وبا کے سال کی یہ آخری شب ہے
    چلو اس کو وداع کرلیں
    دعا کرلیں کہ آنے والا سورج اک نئی امید لے آئے
    گزرتے سال کے ان تین سو پینسٹھ دنوں کے دکھ
    کبھی نہ لوٹ کے آئیں
    بلائیں اور وبائیں آفتیں اس کی
    سبھی کو ڈھلتاسورج ساتھ لے ڈوبے

    نظم
    ۔۔۔۔۔۔۔
    حیات بلوچ کی شہادت پر:
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    باپ کا لختِ جگر لیٹا زمیں پہ خوں میں تر
    موت کا منظر کبھی ایسا نہ دیکھا پیشتر
    باپ ماتھے پر دے بوسہ، بولے واری جائے ماں
    اٹھ ارے جانِ پدر سینا مرا چھلنی نہ کر
    ماں کرے فریاد ہاتھوں کو اٹھائے چیخ کر
    چپ ہے کیوں میری حیات، اس کو اٹھا جھنجھوڑ کر
    اور پکارے رب کو ”الباعث مرے المنتقم“
    تُو جگا بیٹے کو میرے، ظلم پر انصاف کر
    بے گنہ مارا گیا ہے، اس کی باقی تھی حیات
    تُو گراتا کیوں نہیں ہے آسماں اس قہر پر؟
    کھینچ اس قاتل کی رسی اور نہیں کرنا دراز
    دیکھ بڑھتا جارہا ہے آئے دن ظالم کا شر
    کیا یہ میداں کربلا ہے؟ یا ہے تربت کی زمیں؟
    ہے یہاں بلقیس بھی نوحہ کناں اس ظلم پر