Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • سیّد محمد علی جمال زادہ۔ ایک ایرانی ادیب، افسانہ نگار، مزاح نگار اور مترجم

    سیّد محمد علی جمال زادہ۔ ایک ایرانی ادیب، افسانہ نگار، مزاح نگار اور مترجم

    پیدائش:13 جنوری 1892ء
    اصفہان
    وفات:08 نومبر 1997ء
    جنیوا
    شہریت:ایران
    پیشہ:ماہرِ لسانیات، مصنف، مؤرخ
    ناول نگار، مترجم، شاعر
    زبان:فارسی

    سیّد محمد علی جمال زادہ۔ ایک ایرانی ادیب، افسانہ نگار، مزاح نگار اور مترجم تھے۔
    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    سید محمد علی جمال زادہ اصفہانی، 13 جنوری 1892ء کو اصفہان پیدا ہوئے۔ پھر آپ کا گھرانہ تہران منتقل ہوگیا۔ آپ نے تہران اور بیروت میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد پھر فرانس میں قانون کی ڈگری بھی حاصل کی۔ جمال زادہ کے مقالات فارسی اور جرمنی زبان میں بے شمار ہیں۔ آپ روز نامہ ”کاوہ“ کے مدیر بھی رہے۔ بعد میں برلن کے ایرانی سفارت خانے میں ملازم ہوگئے۔ پھر سوئٹزرلینڈ چلے گئے اور انجمن بین المللی کے دفتر میں جو جینیوا ہے، اس میں تقریباً 27 سال کام کیا۔ ان کی شہرت کا آغاز اس زمانہ میں ہوا جب 1921ء میں انھوں نے اپنے افسانوں کا پہلا مجموعہ ”یکے بود ویکے نبود“ شائع کیا۔ جو چھ افسانوں پر مشتمل تھا، اس کے بعد آپ کے مزید افسانوی مجموعے شائع ہوئے۔ آپ نے تاریخ و ادب اور سیاسی اور سماجی کتب بھی تحریر کیں۔
    سید محمد علی جمال زادہ فارسی افسانہ نویسی میں ایک ممتاز مقام کے مالک ہیں۔ انھوں نے ہی سب سے پہلے فنِ افسانہ نویسی کو ایران میں شروع کیا۔ محمد علی جمال زادہ نے افسانوں میں قصوں اور لوک کہانیوں کے انداز کو چھوڑ کر حقیقت نگاری کا نیا انداز اختیار کیا ہے۔ فارسی زبان پر انھیں پوری دسترس حاصل تھی۔ اپنے افسانوں میں انھوں نے نہ صرف عام اور روز مرہ کی زبان اور محاورے استعمال کیے گئے بلکہ سیاسی اورسماجی موضوعات کے ساتھ طنزیہ پیرایہ بھی استعمال کیا گیا۔ جمال زادہ کی کہانیوں میں پلاٹ کو مرکزیت حاصل رہتی ہے اور وہ اپنی کہانیوں کا اختتام موپاساں اور او ہینری کی طرح ڈرامائی اور چونکانے والے انداز میں کرتے ہیں لیکن انھوں نے زبان کا جو انداز اختیار کیا، اس نے فارسی میں افسانے کے لیے جس زبان کی بنیاد رکھی، وہ اب تک برقرار ہے۔ محمد علی جمال زادہ 8 نومبر 1997ء کو جینیوا سوئزرلینڈ میں انتقال کر گئے۔
    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔
    تاریخ و ادب
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)گنج شایان ( 1335 ہجری)
    ۔ (شایان کا خزانہ)
    ۔ (2)تاریخ روابط روس با ایران
    ۔ ( 1372ہجری) (ایران روس تعلقات)
    ۔ (3)پندنامۂ سعدی یا گلستان نیکبختی
    ۔ (1317ہجری) (پندنامۂ سعدی)
    ۔ (4)قصہ قصہ ہا
    ۔ (از روی قصص المعمای تنکابنی
    ۔ 1321ہجری) (کہانیوں کی کہانی)
    ۔ (5)بانگ نای
    ۔ (داستان ہای مثنوی معنوی
    ۔ 1337ہجری) (پائپ کی آواز)
    ۔ (6)فرہنگ لغات عوامانہ
    ۔ (1341ہجری) (عوامی لغت)
    ۔ (7)طریقۂ نویسندگی و داستان سرایی
    ۔ (1345ہجری) (کہانی نویسی
    ۔ اور داستان سرائی کے طریقے)
    ۔ (8)سرگزشت حاجی بابای اصفہانی
    ۔ (1348ہجری) (سرگزشت حاجی بابا اصفہانی)
    ۔ (9)اندک آشنایی با حافظ
    ۔ (1366ہجری)
    ۔ (حافظ کے ساتھ تھوڑی سی آشنائی)
    کہانیاں افسانے
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)یکی بود، یکی نبود
    ۔ (1300ہجری)
    ۔ (ایک دفعہ کا ذکر)
    ۔ (2)عمو حسینعلی (جلد اول شاہکار)
    ۔ (1320ہجری) (حیاتِ چچا حسین علی )
    ۔ (3)سر و تہ یہ کرباس (1323ہجری)
    ۔ (1944) (کینوس کے اوپر و نیچے)
    ۔ (4)دارالمجانین (1321ہجری)
    ۔ (1942) (پاگل خانہ)
    ۔ (5)زمین، ارباب، دہقان
    ۔ (زمین، جاگیردار، کسان)
    ۔ (6)صندوقچہ اسرار (1342ہجری)
    ۔ (1963) (صندوقچۂ اسرار)
    ۔ (7)تلخ و شیریں (1334ہجری)
    ۔ (1955) (تلخ و شیرین )
    ۔ (8)شاہکار (دوجلدیں) (1337ہجری)
    ۔ (شاہکار )
    ۔ (9)فارسی شکر است(فارسی میٹھی ہے)
    ۔ (10)راہ آب نامہ(راہ آب نامہ)
    ۔ (11)قصہ ہای کوتاہ برای
    ۔ بچہ ہای ریش دار (1352ہجری)
    ۔ 1973) (داڑھی * والے بچوں کے لیے
    ۔ مختصر کہانیاں )
    ۔ (12)قصۂ ما بہ سر رسید
    ۔ (1357ہجری)
    ۔ (1978)
    ۔ (ختم ہو گئی ہماری کہانی)
    ۔ (13)قلتشن دیوان (1325ہجری)
    ۔ (1946)
    ۔ (دیوانِ قلتشن)
    ۔ (14)صحرای محشر
    ۔ (عذاب کا صحرا)
    ۔ (15)ہزار پیشہ (1326ہجری)
    ۔ (1947)
    ۔ (ہزار پیشے والا فرد)
    ۔ (16)معصومہ شیرازی
    ۔ (1333ہجری)
    ۔ (1954)
    ۔ معصومہ شیرازی )
    ۔ (17)ہفت کشور(سات ممالک)
    ۔ (18)قصہ ہای کوتاہ قنبرعلی
    ۔ (1338ہجری)
    ۔ (1959)
    ۔ (قنبر علی مختصر کہانیاں )
    ۔ (19)کہنہ و نو
    ۔ (نئی اور پرانی )
    ۔ (20)یاد و یاد بود
    ۔ (نصیحت اور یادگار)
    ۔ (21)قیصر و ایلچی
    ۔ کالیگولا امپراتور روم
    ۔ (رومن شہنشاہ کالیگولا
    ۔ قیصر اور ایلچی)
    ۔ (21)غیر از خدا ہیچکس نبود
    ۔ (1340ہجری)
    ۔ (1961)
    ۔ (خدا کے سوا کوئی نہیں )
    ۔ (22)شورآباد
    ۔ (1341ہجری)
    ۔ (1962)
    ۔ (شورآباد )
    ۔ (23)خاک و آدم
    ۔ (مٹی اور آدم)
    ۔ (24)آسمان و ریسمان
    ۔ (1343ہجری)
    ۔ (1964)
    ۔ (آسمان اور ڈور)
    ۔ (25)مرکب محو
    ۔ (1344ہجری)
    ۔ (1965)
    ۔ (غائب سیاہی )
    سیاست ومعاشرت
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)آزادی وحیثیت انسانی
    ۔ (1338ہجری)
    ۔ (آزادی و انسانی وقار)
    ۔ (2)خاک وآدم
    ۔ (1340ہجری)
    ۔ (مٹی اور آدم)
    ۔ (3)زمین، ارباب، دہقان
    ۔ (1341ہجری)
    ۔ (زمین، جاگیردار، کسان)
    ۔ (4)خلقیات ما ایرانیان
    ۔ (1345ہجری)
    ۔ (ایران کی ہماری اقدار)
    ۔ (5)تصویر زن
    ۔ در فرہنگ ایران
    ۔ (1357ہجری)
    ۔ (ایران میں خواتین کی تصویر)
    تراجم
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)قہوہ خانہ سورات
    ۔ یا جنگ ہفتاد ودو ملت
    ۔ (برنارڈن دی سینٹ پیرے)
    ۔ (1340ہجری)
    ۔ (سورت کافی ہاؤس
    ۔ Le Café du Surat by
    ۔ Bernardin de Saint-Pierre)
    ۔ (2)ویلہلم تل (فیڈرک شیللر)
    ۔ (1334ہجری)
    ۔ (ویلہم ٹیل
    ۔ Wilhelm Tell by
    ۔ Friedrich Schiller)
    ۔ (3)داستان بشر (ہنڈرک وان لون)
    ۔ (1335ہجری)
    ۔ (داستانِ بشر
    ۔ The Story of Mankind
    ۔ by Hendrik Willem
    ۔ van Loon)
    ۔ (4)دون کارلوس (فیڈرک شیلر)
    ۔ (ڈون کارلوس
    ۔ Don Carlos by
    ۔ Friedrich Schiller)
    ۔ (5)خسیس (مولیر)
    ۔ (کنجوس L’Avare by Molière)
    ۔ (6)داستان ہای برگزیدہ
    ۔ (اہم داستان)
    ۔ (7)دشمن ملت (ہینرک ایبسن)
    ۔ (قوم کا دشمن
    ۔ En Folkerfiende
    ۔ by Henrik Ibsen)
    ۔ (8)داستانہای ہفت کشور
    ۔ (مجموعہ)
    ۔ (سات ملکوں کی کہانیاں )
    ۔ (9)بلای ترکمن در ایران قاجاریہ
    ۔ (بلوک ویل)
    ۔ (10)قنبرعلی جوانمرد شیراز
    ۔ (آرتور کنت دوگوپینو)
    ۔ (11)سیر وسیاحت در ترکستان وایران
    ۔ (ہانری موزر)
    ۔ (12)جنگ ترکمن (کونٹ دی گبینو)
    ۔ (جنگِ ترکمان
    ۔ Turkmen War by
    ۔ Conte de Gobineau)
    ۔ (13)کباب غاز
    دیگر
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)کشکول جمالی
    ۔ (2)صندوقچۂ اسرار

  • ڈور وے ایفیکٹ!!! — ریاض علی خٹک

    ڈور وے ایفیکٹ!!! — ریاض علی خٹک

    بہت چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی ہیں جو کسی کی شخصیت کا بیانیہ بن جاتی ہیں. جیسے دوسروں کیلئے دروازہ کھول کر کھڑے ہو جانا. یہ دروازہ اگر آپ کھول سکتے ہیں تو دوسرا بھی کھول سکتا ہے. لیکن کسی کا یہ دروازہ آپ کیلئے کھول کر کھڑا ہونا آپ کو وہ عزت دیتا ہے جو بتا رہا ہوتا کہ آپ اہم ہیں آپ کا وقت اور توانائی اہم ہے.

    چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی ہیں جو آپ کو اپنی سمجھ دیتی ہیں. جیسے ڈور وے ایفیکٹ ہو. آپ کچھ لینے دوسرے کمرے میں گئے لیکن جاکر بھول گئے لینے کیا آیا تھا. کیونکہ ہمارے دماغ کی ڈیزائینگ ایسی ہے کہ جب یہ کوئی دروازہ پار کرتا ہے منظر اور ماحول بدل جاتا ہے تو اس کو اپنی یادداشت ری ایڈجسٹ کرنی ہوتی ہے. ایسے میں وہ یہ بھول جاتا ہے میں یہاں آیا کیوں تھا.

    ان چھوٹی چھوٹی باتوں کے چھوٹے چھوٹے حل ہوتے ہیں. جیسے کاپی میں کچھ لکھنا ہے لیکن قلم دوسرے کمرے میں ہے تو کاپی ہاتھ میں لے کر جائیں آپ کبھی قلم نہیں بھولیں گے. البتہ یہی چھوٹی باتیں زندگی کی بڑی بڑی باتیں سمجھاتی ہیں. مثلاً مایوسی کسی ایک مقام کسی ایک منظر کی ہوتی ہے. اسے ہی زندگی سمجھ کر زندگی سے مایوس ہوجانے کی بجائے کوئی دوسرا دروازہ کھول لیں. ماحول اور منظر جب بدل جائے گا تو زندگی پر آپ کی سوچ بھی بدل جائے گی.

    زندگی سے مایوس لوگ کسی ایک ماحول اور منظر کے گرفتار لوگ ہوتے ہیں. ایسے میں دوسروں کیلئے دروازہ کھول کر کھڑے ہونے والے لوگ بہت عظیم ہوتے ہیں. ان کا یہ چھوٹا سا کام دوسروں کو اپنی ذات میں معتبر بنا دیتا ہے.

  • سول انجنئیر بننا منع ہے!!! — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    سول انجنئیر بننا منع ہے!!! — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    حج کا دوسرا دن تھا اور ہم منیٰ کی مرکزی شاہراہ پر کھڑے اس ادھیڑ عمر پاکستانی جوڑے کو پریشانی اور خوف کے عالم میں آپس میں جھگڑتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔ ہم نے ہمت کرکے ان سے پوچھا کہ اگر کوئی مسئلہ ہے تو ہم ان کی مدد کر سکتے ہیں۔ پہلے تو وہ ہم سے کچھ گھبرائے لیکن ہمارے اصرار پر خاتون نے روتے ہوئے بتایا کہ وہ کل رات سے راستہ بھولے ہوئے ہیں اور انہیں اپنا خیمہ نہیں مل رہا۔ اگر ہم ان کو ان کے خیمے تک پہنچانے میں کچھ مدد کر دیں تو وہ ہمارے شکر گزار ہوں گے۔

    اس وقت تک گوگل میپ نہیں آیا تھا اور سمارٹ فون بھی اتنا سمارٹ نہیں ہوا تھا۔ہزاروں کی تعداد میں ایک جیسے خیموں میں اپنا خیمہ تلاش کرنا بعض لوگوں کے لیے ایک بہت بڑی مصیبت تھا۔بہت بڑی تعداد میں پاکستانی حجاج خصوصاْ اپنے گروپ سے بچھڑ جانے والے لوگ اپنے خیمے تک مشکل سے واپس پہنچ پاتے۔

    ہم نے پہلے دن ہی پاکستانی حج مشن کے منیٰ میں کیمپ سے منٰی کے خیموں کا لے آوٹ میپ لے کیا تھا اور اپنی سول انجنئیرنگ کی سمجھ بوجھ کا کام میں لاتے نہ صرف خود اپنے خیمے تک با آسانی پہنچ جاتے بلکہ دوسرے حجاج کی بھی مدد کرتے ۔ ہم اپنے آفس سے تین سال انجنئیر دوست اکٹھے ہی حج کے لئے آئے ہوئے تھے اور منیٰ کے قیام کے دوران فارغ وقت میں راستہ بھولے حجاج کی نقشے کی مدد سے ان کے خیموں تک راہنمائی کرتے رہتے ۔

    بہرحال اس جوڑے کا خیمہ مین روڈ کے پاس ہی تھا اور ہم انہیں دو تین منٹ میں ہی منزلِ مقصود پر لے گئے۔ اپنی رہائش پر پہنچتے ہی رات بھر منیٰ میں بھٹکنے والی خاتون شوہر پر پھٹ پڑی

    “لخ دی لعنت تیری سول انجُئیرنگ تے۔ ساری رات ہم خیمے کے سامنے گزرتے رہے اور خوار ہو گئے مگر اس نالائق انجنئیر کو خیمہ نہ مل سکا جب کہ ان عام سے لڑکوں نے دو منٹ میں تلاش کر لیا ۔میں تو سات پشتوں تک وصیت کر جاؤں گی کہ اپنے بچوں کو سول انجنئیر نہ بنانا۔۔۔۔ پینجاپی سے ترجمہ”

    پتہ چلا کہ حاجی صاحب سول انجنئیر ہیں اور ایل ڈے میں ڈپٹی ڈائریکٹر ہیں۔ہم تینوں دوست اب تک اس تبصرے سے محظوظ ہوتے ہیں۔

  • اگاتھا کرسٹی (  جاسوسی اور کرائم ناول کی ملکہ)

    اگاتھا کرسٹی ( جاسوسی اور کرائم ناول کی ملکہ)

    اگاتھا کرسٹی ( جاسوسی اور کرائم ناول کی ملکہ)

    12 جنوری 1976 یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عالمی ادب سے انتخاب : آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    جاسوسی اور کرائم ناول کی ملکہ کا خطاب حاصل کرنے والی دنیا کی مشہور ترین ناول نگار اگاتھا کرسٹی کا پورا نام اگاتھا میری کلیرسا کرسٹی تھا اور وہ 15 ستمبر 1890 کو برطانیہ میں پیدا ہوئی تھیں۔ وہ ایک کثیر التصانیف ادیبہ تھیں اور انھوں نے 87 ناول تحریر کیے جن کا ترجمہ دنیا کی 103 زبانوں میں ہوا اور جن کی 30 کروڑ کاپیاں فروخت ہوئیں۔
    سنہ 1914 میں ان کی پہلی شادی آرچی بالڈ پیسٹی سے ہوئی مگر 1928 میں ان کی علیحدگی ہو گئی۔ پھر سنہ 1930 میں اُن کی دوسری شادی میکس میلووان سے ہوئی جو آثار قدیمہ کے شعبے سے منسلک تھے اور انھیں مشرق وسطیٰ کی قدیم تاریخ کا ماہر سمجھا جاتا تھا۔
    میکس میلووان کا اولین کام میسوپوٹیمیا کی تہذیب کے دارالحکومت ’اُر‘ کو بازیافت کرنا تھا۔ وہیں ان کی ملاقات اگاتھا کرسٹی سے ہوئی تھی جن کے ساتھ بہت جلد وہ رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئے۔ میکس میلووان کی تحقیق اور تحریر کا کام جاری رہا اور انھوں نے مشرق وسطیٰ کی بہت سارے قدیم مقامات پر تحقیقی کام کیا جن میں عراق اور شام کے بہت سے تہذیبی مراکز شامل تھے۔
    وہ عراق میں برٹش سکول آف آرکیالوجی کے ڈائریکٹر بھی رہے اور سنہ 1956 میں ان کی پہلی تصنیف ’25 ایئرز آف میسوپوٹیمین ڈسکوری’ منظر عام پر آئی۔

    آثار قدیمہ سے دلچسپی سنہ 1960 میں انھیں پاکستان کھینچ لائی۔ یہ دورہ میکس میلووان کا تھا اور جوڑے نے اس دوران کراچی، موئن جو دڑو، لاہور اور کئی دوسرے شہروں کا دورہ کیا۔ مگر اخبارات نے زیادہ اہمیت اگاتھا کرسٹی کو دی جو اس 15 روزہ دورے میں اُن کے ساتھ ساتھ رہیں۔
    اس بات کا اندازہ اس فیچر سے ہوتا ہے جو چھ مارچ 1960 کو ’السٹریٹڈ ویکلی آف پاکستان‘ میں شائع ہوا۔
    اگاتھا کرسٹی نے اس جریدے کے مدیر کو بتایا کہ وہ اور ان شوہر بہت عرصے سے اس خطے کی سیاحت کرنے کے خواہش مند تھے۔ انھوں نے کہا: ’میں ابھی پندرہ روز تک انڈیا کا دورہ بھی کر کے آئی ہوں مگر میں نے وہ دورہ مسز میلووان کے نام سے کیا اور وہاں کسی کو میری شناخت معلوم نہ ہو سکی۔‘
    شاید یہ اس پاکستانی صحافی کی ذہانت اور حاضر دماغی کی داد دے رہی تھیں جنھوں نے مسز میلووان کا راز بھانپ لیا تھا۔
    السٹریٹڈ ویکلی میں شائع ہونے والے انٹرویو میں اگاتھا کرسٹی نے بتایا کہ ان کے شوہر دس سال سے عراق میں میسوپوٹیمیا کی تہذیب پر کام کر رہے تھے اور اب وہ اس موضوع پر اپنی کتاب مکمل کرنے والے ہیں جس کے لیے انڈیا اور پاکستان کے قدیم مقامات اور یہاں سے دریافت ہونے والے آثار قدیمہ کا جائزہ لینا بہت ضروری تھا۔

    السٹریٹڈ ویکلی آف پاکستان کے مدیر نے اگاتھا کرسٹی سے پوچھا کہ وہ ناول لکھنے کے لیے کیا طریقہ کار اختیار کرتی ہیں۔ اگاتھا کرسٹی نے کہا کہ وہ پہلے کہانی کا اختتام سوچتی ہیں اور پھر ناول لکھنا شروع کرتی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ایک ناول لکھنے میں انھیں تقریباً تین ماہ درکار ہوتے ہیں۔
    وہ اپنا ناول خود ٹائپ کرتی ہیں اور اس دوران کسی کو اجازت نہیں ہوتی کہ وہ اس ناول کو پڑھ سکے۔ ان کے مطابق تحریر کا سب سے مناسب وقت رات کا پچھلا پہر ہے۔ اس وقت میں تحریر پر توجہ مرکوز کرنا بہت آسان ہوتا ہے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ اُن کا پسندیدہ ناول ’اینڈ دین دیئر ور نن‘ ہے۔
    دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی ناول اگاتھا کرسٹی کی سب سے مقبول کتاب ثابت ہوئی ہے اور اس کی دنیا بھر میں 10 کروڑ سے زائد کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں۔
    اگاتھا کرسٹی سے پوچھا گیا کہ ان کے پسندیدہ جاسوسی ناول نگار کون ہیں تو انھوں نے مائیکل گلبرٹ اور مارجوری ایلنگھم کے نام لیے جبکہ امریکی مصنّفین میں ان کے پسندیدہ جاسوسی ناول نگار الزبتھ ڈیلی اور ارل اسٹینلے گارڈنر تھے۔ انھوں نے کہا ’ان مصنفین کی کردار سازی لاجواب ہے۔‘
    اگاتھا کرسٹی سے یہ بھی پوچھا گیا کہ برطانیہ کے مشہور سراغ رساں ادارے سکاٹ لینڈ یارڈ سے ان کے تعلقات کیسے ہیں۔ اس پر جواب ملا کہ وہ صرف چند مرتبہ اس ادارے کے لوگوں سے ملی ہیں۔ ان کے مطابق ادارے کے لوگ ان کے ناولوں کو دلچسپ ضرور تصور کرتے ہیں مگر حقیقت سے دور۔۔
    انھوں نے کہا کہ برطانیہ میں ہونے والے کچھ قتل ایسے بھی تھے جن کی پولیس رپورٹ میں نے بڑی دلچسپی سے پڑہی مگر میں نے انھیں کبھی اپنے ناول کے قالب میں نہیں ڈھالا۔
    اس انٹرویو میں اگاتھا کرسٹی نے اپنے مشہور کردار ہرکیول پویئرو کے بارے میں بھی بتایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی مصنف کو جاسوسی ناول کا طویل سلسلہ لکھنا ہو تو اسے کچھ ’سٹاک کریکٹر‘ تخلیق کرنے پڑتے ہیں۔

    ’ہرکیول پویئرو بھی میرا ایسا ہی ایک کردار ہے۔ یہ کردار میں نے پہلی جنگ عظیم میں بلجیم سے برطانیہ ہجرت کرنے والے ایک پولیس افسر کو سامنے رکھ کر تراشا تھا۔ وہ پولیس افسر تو کب کا وفات پا چکا مگر میرا کردار اب بھی زندہ ہے۔‘
    اگاتھا کرسٹی نے ہنستے ہوئے کہا ’اگر وہ پولیس افسر اس وقت زندہ ہوتا تو اس کی عمر 103 سال کے لگ بھگ ہوتی۔‘
    جب اگاتھا کرسٹی سے پوچھا گیا کہ کیا وہ پاکستان کے پس منظر میں کوئی ناول تخلیق کرنا چاہیں گی تو انھوں نے اس کا جواب نفی میں دیا۔ انھوں نے کہا کہ کسی ایسے ملک کے پس منظر میں ناول لکھنا بہت مشکل ہے جسے وہ بہت کم جانتی ہیں۔ ’یہ کام صحافی تو کر سکتے ہیں مگر کوئی تخلیقی ادیب نہیں۔‘
    کہا جاتا ہے کہ سنہ 1960 کے اس دورے کے بعد اگاتھا کرسٹی ایک مرتبہ پھر پاکستان سے گزریں۔ اس بات کے راوی سہیل اقبال ہیں۔
    انھوں نے اپنے ایک مضمون میں جو، ابن صفی میگزین میں شائع ہوا تھا، لکھا ہے کہ سنہ 1965 کے لگ بھگ اگاتھا کرسٹی نے کسی اور ملک جاتے ہوئے کراچی ایئر پورٹ کے وی آئی پی لاﺅنج میں کچھ دیر قیام کیا تھا۔
    ان کے اس قیام کا کچھ لوگوں کو پہلے سے علم تھا جن میں ریڈیو پاکستان کے پروڈیوسر رضی اختر شوق اور روزنامہ حریت سے منسلک صحافی اے آر ممتاز شامل تھے اور وہ اگاتھا کرسٹی سے ملنے ایئر پورٹ پہنچ گئے۔
    انھوں نے دوران گفتگو پاکستانی جاسوسی ادب کا ذکر کیا تو اگاتھا کرسٹی مسکرائیں اور بولیں: ’مجھے اُردو نہیں آتی لیکن برصغیر کے جاسوسی ادب سے تھوڑی بہت واقفیت رکھتی ہوں۔ اردو میں صرف ایک اوریجنل رائٹر ابن صفی ہیں اور سب اس کے نقال ہیں، کسی نے بھی اس سے ہٹ کر کوئی نئی راہ نہیں نکالی۔‘

  • اچھے دنوں کی اُمید!!! — ریاض علی خٹک

    اچھے دنوں کی اُمید!!! — ریاض علی خٹک

    زندگی کا موسم ایک سا نہیں رہتا اس میں نشیب و فراز آتے ہیں. جب وقت موافق نہ ہو تو تنہا ایک معصوم سا پودا بھی اسے بھانپ لیتا ہے. وہ ہوا میں قدرت کی مہربان نمی جب کم دیکھتا ہے سورج کو دہکتے اور آسمان کو بادلوں سے صاف دیکھتا ہے. آس پاس خشک ہوتے میدان اور مرجھائے چہروں والے گھاس کی تلاش میں چرتے مویشی دیکھتا ہے تو یہ بھی پریشان ہو جاتا ہے.

    لیکن پودا روتا نہیں ہے. کیونکہ اوپر اللہ اور نیچے اس تنہا کو سننے والا کوئی دستیاب نہیں ہوتا. وہ اپنے پتوں پر بنے چھوٹے چھوٹے سوراخ یعنی stomata بند کر لیتا ہے جیسے طوفان کے آثار دیکھ کر ہم اپنی کھڑکیاں دروازے مضبوطی سے بند کرتے ہیں. وہ اپنی جمع توانائی اپنی جڑوں پر لگا کر ان کو زمین کی مہرباں گود میں پھیلانے لگتا ہے. وہ اپنا اوسموس سسٹم ری ایڈجسٹ کرتا ہے.

    پودا اپنی بقا کی خاموش جنگ لڑنے لگتا ہے. اس کے مرجھائے پتے اُس انتظار پر البتہ گواہ ہوتے ہیں جو آسمان کو دیکھ رہے ہوتے ہیں. یہاں تک کے وقت دوبارہ مہربان ہو جائے آسمان پر کالی گھٹائیں چھا جائیں اور منظر بدل جائے. انسان بھی وقت کے اس نشیب و فراز میں اسی طرح پریشان ہو جاتے ہیں. کچھ مرجھائے ہوئے چہروں کے پیچھے بقا کی یہی جنگ چل رہی ہوتی ہے.

    انسانوں کو البتہ زبان ملی ہوئی ہے. وہ احساس ملا ہے جو دوسرے کی پریشانی نہ صرف محسوس کر سکتا ہے بلکہ اسے بانٹ بھی سکتا ہے. ہم ایک دوسرے کو اچھے دنوں کی اُمید دے سکتے ہیں. ہم کسی کی خزاں میں اپنی بہار کے کچھ رنگ دے کر اس انتظار کو آسان بنا سکتے ہیں. یہی انسانیت کا شرف ہے جو اسے جانوروں اور پودوں سے ممتاز کرتا ہے.

  • خود فریبی ایک روگ ہے!!! — ریاض علی خٹک

    خود فریبی ایک روگ ہے!!! — ریاض علی خٹک

    ایک پرندہ اپنے انڈوں بچوں کو سانپ سے بچانے کیلئے گھونسلا ایسا بناتا ہے جو سانپ کو فریب دیتا ہو. وہ سامنے کی طرف ایک خانہ بناتا ہے جو خالی ہوتا ہے. اس کے اوپر سے ایک سرنگ گھوم کر پیچھے جاتی ہے جہاں وہ انڈے بچے دیتا ہے. سانپ خالی خانہ میں منہ مار کر مایوس چلا جاتا ہے. اللہ رب العزت نے جانوروں اور پرندوں کو بھی اپنے حصے کی عقل دی ہے.

    پرندہ یہ فریب دوسرے سے کرے تو سمجھ آتا ہے. لیکن کچھ لوگ یہی فریب اپنے ساتھ کرتے ہیں. اسے خود فریبی یا self deception کہتے ہیں. اس میں انسان خود سے جھوٹ بولتا ہے، ایک جھوٹ چھپانے کیلئے پھر دوسرا اور یہ سلسلہ اتنا پھیل جاتا ہے کہ ہماری ذات جھوٹ کے بنے جال میں ایسے چھپ جاتی ہے جیسے مکڑی کا کوئی جال ہو.

    یہ جھوٹ کیا ہوتا ہے.؟ جب ہم سچائی اور حقیقت کا سامنا کرنے سے گریز شروع کر دیں. جب ہم وہ نہ ہوں جو ہم دکھانے کے جتن کر رہے ہوتے ہیں. جب ہم سمجھ لیں ہم نے جو سمجھا جانا یہی اٹل ہے. تب ہم دوسروں سے ڈرتے ہیں کوئی اسے رد نہ کردے. ہم خود سے بھی ڈرتے ہیں اور اپنی ہر کمی کوتاہی کمزوری کیلئے تاویلات ڈھونڈنا شروع کر دیتے ہیں.

    شخصیت پھر تعصبات کا شکار بن جاتی ہے. جو بات کام یا فرد آپ کی تائید کرتا ہے آپ اسے پسند کرتے ہیں. جسے آپ ناپسند کریں اس پر بات کرتے اس سے سامنا کرتے گھبراتے ہیں. اپنی کمزوری کو چھپانے کیلئے خود سے اور دوسروں سے جھوٹ بولتے ہیں. شخصیت کے گھونسلے میں سامنے کچھ تو پس پردہ کچھ اور ہوتا ہے. زندگی چوکیداری کرتے بیت رہی ہوتی ہے.

    یہ خود فریبی ایک روگ ہے. جیسے قرآن سورۃ

    البقرة میں منافقین کے بارے کہتا ہے.

    فِىۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌۙ فَزَادَهُمُ اللّٰهُ مَرَضًا ‌ۚ وَّلَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌۙۢ بِمَا كَانُوۡا يَكۡذِبُوۡنَ‏ ۞

    "ان کے دلوں میں روگ ہے چنانچہ اللہ نے ان کے روگ میں اور اضافہ کردیا ہے اور ان کے لئے دردناک سزا تیار ہے، کیونکہ وہ جھوٹ بولا کرتے تھے. ” خود فریبی بھی اپنی ذات اور بندگی سے ایک منافقت ہی ہے.

  • انشاء جی اٹھو اب کوچ کرو اس شہر میں جی کو لگانا کیا:ابن انشا کا یوم وفات

    انشاء جی اٹھو اب کوچ کرو
    اس شہر میں جی کو لگانا کیا
    11 جنوری 1978
    ممتاز ادیب، شاعر ، سیاح اور کالم نگار ابن انشا کا یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اردو کے ممتاز ادیب، شاعر،کالم نویس ،سفر نامہ نگار اور سیاح ابن انشا کا اصل نام شیر محمد خان تھا، وہ 15 جون 1927ء کو موضع تھلہ ضلع جالندھر میں پیدا ہوئے۔ جامعہ پنجاب سے بی اے اور جامعہ کراچی سے اردو میں ایم اے کیا۔ انہوں نے 1960ء میں روزنامہ ’’امروز‘‘ کراچی میں درویش دمشقی کے نام سے کالم لکھنا شروع کیا۔ 1965ء میں روزنامہ ’’انجام‘‘ کراچی اور 1966ء میں روزنامہ جنگ سے وابستگی اختیار کی جو ان کی وفات تک جاری رہی۔ وہ اک طویل عرصہ تک نیشنل بک کونسل کے ڈائریکٹر رہے۔ زندگی کے آخری ایام میں حکومت پاکستان نے انہیں انگلستان میں تعینات کردیا تھا تاکہ وہ اپنا علاج کرواسکیں لیکن سرطان کے بے رحم ہاتھوں نے اردو ادب کے اس مایہ ناز ادیب کو ان کے لاکھوں مداحوں سے جدا کرکے ہی دم لیا۔ ابن انشا کا پہلا مجموعہ ٔ کلام ’’چاند نگر‘‘ تھا۔ اس کے علاوہ ان کے شعری مجموعوں میں ’’اس بستی کے ایک کوچے میں” اور ’’دلِ وحشی‘‘ شامل ہیں۔ انہوں نے اردو ادب کو کئی خوبصورت سفرنامے بھی عطا کئے جن میں آوارہ گرد کی ڈائری، دنیا گول ہے، ابن بطوطہ کے تعاقب میں، چلتے ہو تو چین کو چلیے اور نگری نگری پھرا مسافرشامل ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی دیگر کتابوں میں اردو کی آخری کتاب، خمارِ گندم ،باتیں انشا جی کی اور قصہ ایک کنوارے کا قابل ذکر ہیں۔ جناب ابن انشا کا انتقال 11 جنوری 1978ء کو لندن کے ایک اسپتال میں ہوا اور انہیں کراچی میں دفن کیا گیا۔

    ابن انشاء کی شاعری سے انتخاب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    انشاء جی اٹھو اب کوچ کرو اس شہر میں جی کو لگانا کیا
    وحشی کو سکوں سے کیا مطلب جوگی کا نگر میں ٹھکانا کیا

    اس شہر میں کس سے ملیں ہم سے تو چھوٹیں محفلیں
    ہر شخص تیرا نام لے ہر شخص دیوانا ترا

    کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا ترا
    کچھ نے کہا چاند ہے کچھ نے کہا چہرا ترا

    ہم کسی در پہ نہ ٹھٹکے نہ کہیں دستک دی
    سیکڑوں در تھے مری جاں ترے در سے پہلے

    جلوہ نمائی بے پروائی ہاں یہی ریت جہاں کی ہے
    کب کوئی لڑکی من کا دریچہ کھول کے باہرجھانکی ہے

  • وقت اور صبر!!! — ریاض علی خٹک

    وقت اور صبر!!! — ریاض علی خٹک

    جوئے کیلئے پوری دنیا میں مشہور لاس ویگاس کے کسی جوا خانے میں آپ کو گھڑی نظر نہیں آئے گی. وہ چاہتے ہی نہیں کہ اپنی کمائی کو جوئے کی ٹیبل پر رکھنے والے جواری کو وقت گزرنے کا احساس ہو. آپ کسی بھی بڑے ڈیپارٹمنٹل سٹور میں چلے جائیں اس کی دیواروں پر بھی گھڑی نہیں ہوگی. وہ بھی نہیں چاہتے گاہک کو ہماری اشیاء سے بھری الماریوں کے درمیان وقت کا حساب یاد رہے.

    مشہور زمانہ روسی ادیب لیو ٹالسٹائی نے کہا تھا دنیا کے سب سے بڑے جنگجو وقت اور صبر ہیں. اگر آپ ادب کے میدان سے تعلق نہیں رکھتے تو چلیں دنیا کے کسی بھی امیر ترین انسان سے پوچھیں دولت کی کوئی یک لفظی چابی کیا ہے.؟ وہ بتائے گا "سرمایہ کاری” یعنی انویسٹمنٹ. وقت ہماری سرمایہ کاری ہے.

    ہمارا سرمایہ ہمارا "وقت” ہے. وقت کے اس بازار میں اگر آپ ہیں تو سرمایہ وقت آپ کے پاس ہے . چیلنج ایک ہی ہوگا آپ اپنے اس سرمائے کی سرمایہ کاری کیسے کرتے ہیں.؟ جوا اسی لئے حرام ہے کیونکہ اس سرمایہ کاری میں آپ نہیں ہوتے بلکہ آپ اپنے چانس یا نصیب کو سامنے کردیتے ہیں. بازاروں کو اس لئے پسند نہیں کیا جاتا کیونکہ اس میں آپ اپنا وقت ضائع کر رہے ہوتے ہیں. وقت کے اس سرمائے کی حفاظت آپ کی ذمہ داری ہے.

    اس سرمایہ وقت کی حفاظت صبر کہلاتا ہے. بے صبر اپنا سرمایہ وقت جواری کی طرح ہار رہا ہوتا ہے. وقت کے بہترین جنگجو پھر صبر سے اپنے وقت کا حساب کرتے ہیں اور بروقت اپنے فیصلے کرتے ہیں.

  • لطیفے اور رشتے!!! —- ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

    لطیفے اور رشتے!!! —- ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

    بیوی کے رشتے پر انتہا درجے کے مذاق اور لطائف بنا کر بیوی کو خودسر ،ہڈدھرم، لالچی اور کم عقل ثابت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی ۔ بیوی کا برابری کا درجہ ان لطائف کی زد میں آ کے مسلسل کمتر حیثیت اختیار کرتا جا رہا ہے ۔

    پچھلے دنوں احباب نے نوٹس کیا ہو گا کہ میں نے اپنے پیج پر ایک ایکٹیویٹی کی جس میں تمام لطائف شوہر یا مرد کے متعلق شیئر کیے ۔

    چند بار حضرات ہنسے لیکن پھر دبا دبا احتجاج بلند ہونا شروع ہوا کہ اپ تو مردوں کی کلاس لے رہی ہیں ۔ شوہروں پر تو لطیفے لکھتی ہیں بیوی پر بھی لکھیں ۔ ان لطائف میں وقتی ہنسی سے بڑی رمز چھپی ہے ۔ لطیفہ اور ہنسی پیچھے رہ جاتی ہے بیوی یا شوہر سے متعلق ایک منفی نکتہ ذہن میں خفیہ طور پر جڑ پکڑ جاتا ہے ۔

    بعینہ یہی حال پھوپھی ماموں اور سالے کے رشتے پر لطائف بنا کر کیا گیا ۔ یعنی جو بےلوث محبت کے رشتے ہیں ان پر مخفی ،منفی پیغام کے ساتھ بنے لطائف سے ان کی تحقیر کی جائے ۔ اس طرح نئی جنریشن اور پہلے سے موجود بالغ لیکن کم عقل جنریشن کے اذہان میں ان رشتوں کی اہمیت کم کر کے انہیں محض مذاق بنا کر رکھ دیا جائے ۔

    جو شوہر دوستوں میں بیوی کے لطائف سن کر آئے وہ بیوی کو لطیفے سنائے یا نہ سنائے اپنی بیوی کو اسی تناظر میں دیکھے گا ضرور ۔
    بیوی کی بہن کیسی ہی دیندار کیوں نہ ہو اسے بہنوئی دل ہی دل میں سالی (نہایت ذومعنی ) کے رشتے سے یاد کرے گا ۔
    بیوی کا بھائی کیسا ہی معزز کیوں نہ ہو رہے گا وہ سالا ہی، یہ لفظ معاشرے میں کتنا معزز ہے سبھی واقف ہیں ۔

    اچھا دیور بھابی پر روایتی ٹپے موجود ہیں لطائف موجود نہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس محترم لیکن نامحرم رشتے کی بنا لطیفے بنائے ہی اسقدر تحقیر کر دی گئی ہے کہ اپ سوشل میڈیا پر لفظ دیور یا بھابی لکھ کے سرچ بھی نہیں کر سکتے ۔ صرف گٹر ابلتا ہے ۔

    بلاشبہ جب حضور اکرم ص نے دیور کو بھابی کے لیے موت قرار دیا تو اس کی وجہ بھی تھی ۔ یہی حد بعینہ بہنوئی اور سالی کے رشتے پر بھی عاید رہنی چاہیے ۔

    بچے کے ماموں کتنے ہی سمجھدار پروقار ہستی کیوں نہ ہوں اس لفظ کو بےوقوف کا مترادف بنا دیا گیا ہے ۔

    پھوپھو، جان نثار ماں جیسی ہستی کیوں نہ ہو اسے صوتی مماثلت اور لطائف کے زور پر پھپھے کٹنی کے مترادف ٹھہرا دیا گیا ۔پھوپھو کو تو باقاعدہ ایک رویہ ڈکلیئر کر دیا گیا ہے ۔ ایسا مخلص رشتہ جو پہلے ہی ازدواجی بندھن کی وجہ سے میکے سے دور رہنے پر مجبور ہو اسے برا بنا کر بالکل ہی میکے سے دور کر دیا گیا ہے۔ بھلا کون سی بیوی اپنی راجدھانی میں پھپھے کٹنی فسادن کی آمد پسند کرے گی ۔ پس بھابی نے نند اور باپ نے پھوپھو کو خود سے دور کر دیا ہے ۔ بھتیجے تو اس رشتے کی مٹھاس سے محروم ہوئے ہی لیکن والدین کے جانے کے بعد بھائی کے گھر سے میکے کی خوشبو تلاش کرنے والی بہن کا میکہ اگر دوسری بہن قائم رکھے تو رکھے بھائی تو لفظ پھوپھو کے خوف سے دور رہنا پسند کرنے لگے ہیں

    ان لطائف نے رفتہ رفتہ سالا سالی گالی ، دیور بھابی گالی ، ماموں احمق کے اور پھوپھو پھپھے کٹنی کے مترادف بنا دیے ہیں ۔ ساس جلاد یا ہٹلر کے اور سسرال، سسرائیل جیل یا قید کے مترادف بنا دیے ہیں ۔ لفظ بیوی لطائف کی روشنی میں کم عقل ،کم فہم ،دکھ درد نہ سمجھنے والی ،خرچیلی جھگڑالو، سکون نہ دے سکنے والی، جلدباز اور پھوہڑ عورت کے کردار کا آفیشل نام بن گیا ہے ۔

    یہ سبھی عزت کے رشتے تھے جنہیں ہنسی مذاق میں بے توقیر کر دیا گیا ہے ۔اب اس کا مداوا محض بہترین گھریلو تربیت سے ہی ممکن ہے جہاں والدین اپنی اولاد کو تمام رشتوں باتوں سے اور ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے حفظ و مراتب سے کماحقہ متعارف کروائیں۔

    سچ ہے ضرورت سے زیادہ مذاق عزت میں کمی کا باعث بنتا ہے ۔

  • امید اور یقین —- ریاض علی خٹک

    امید اور یقین —- ریاض علی خٹک

    بنی اسرائیل کی روایات میں آتا ہے نوجوان داود علیہ السلام نے جب جالوت کے مظالم اور خوف کے بارے میں سنا تو اپنے بھائی سے پوچھا تم لوگ اس کے خلاف کھڑے کیوں نہیں ہوتے.؟ ان کے بھائی نے کہا کیا تم نہیں دیکھتے وہ کتنا بڑا دیو ہے. کتنا لمبا چوڑا ہے. کیا اس کو مارا جا سکتا ہے.؟ داود نے کہا ہاں میں دیکھ رہا ہوں اسے جس طرف سے بھی نشانہ لگاو یہ بچ ہی نہیں سکتا.

    اور انہوں نے اسے اپنی غلیل سے مار دیا تھا. بڑی چیزوں کا یہی مسئلہ ہوتا ہے. کوئی نشانہ خطا ہی نہیں ہوتا. جیسے بڑے بڑے پہاڑ ہوں. ایک چیلنج کی طرح ناقابل عبور لگتے ہیں. لیکن ان کے چھوٹے چھوٹے درے ان کی بلندی کے راستے بن جاتے ہیں. ایک چھوٹی سی سرنگ لمحوں میں اسے پار کرا دیتی ہے اور پہاڑ دیکھتا رے جاتا ہے.

    بڑی بڑی چوٹیاں جیسے کے ٹو ماونٹ ایورسٹ ہم نے چار پانچ پڑاو میں تقسیم کر کے نہ صرف سر کر لیں بلکہ سر کرتے چلے جا رہے ہیں. ہم دوسروں میں شیشے کی طرح خود کو دیکھتے ہیں. دوسرے بھی ہم میں خود کو شیشے میں دیکھتے ہیں. لیکن جب آپ اپنی ذات کے سچ کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں تو یہ شیشے ختم ہو جاتے ہیں.

    داود کے بھائی کو جالوت میں ڈرا سہما ہوا اپنا آپ نظر آرہا تھا. جالوت کو دوسروں میں اپنا دیو قامت قد اور رعب و دبدبہ نظر آرہا تھا. لیکن داود علیہ السلام کو ایک ایسا دیو ہیکل جسم جسے جس طرف سے بھی مارو نشانہ خطا ہو ہی نہیں سکتا. اس لئے بڑے خواب بڑے چیلنج دیکھنے والے بھلے ان چوٹیوں کو سر نہ بھی کریں وہ کسی نہ کسی پڑاو پر سر کرنے کی امید اور یقین ضرور رکھتے ہیں.