Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • اللہ کے دئے پر مکمل راضی ہونا!!! — ریاض علی خٹک

    اللہ کے دئے پر مکمل راضی ہونا!!! — ریاض علی خٹک

    ایک پھول کا حُسن اُس کلی کے صبر میں ہے جس نے اس حسن کو سمیٹ کر رکھا ہوتا ہے. دنیا کی نظروں سے دور یہ کلی پرت در پرت اپنے پتے ترتیب سے بنا رہی ہوتی ہے. ایک لاروا اپنے حول میں بند تتلی کے وہ پر بہت صبر سے بنا رہی ہوتی ہے جو اس بظاہر بدشکل کیڑے کو خوبصورت رنگ دے کر قوت پرواز دے گا.

    ہم لوگ اس صبر پر گواہ نہیں ہوتے. ہم تو کھلے ہوئے پھول اور اس پر لپکتی خوبصورت پروں کی تتلیاں دیکھ کر سمجھتے ہیں شائد یہ پیدا ہی ایسے ہوئے. ہم انسان جو دیکھتے ہیں اسے ہی مان لیتے ہیں. اس لئے ایک سادہ سا سوال بھی ہمیں کنفیوز کر دیتا ہے جیسے کوئی پوچھ لے کیا آپ خود کو پسند کرتے ہیں.؟

    ہماری اکثریت خود کو ہی نہیں جانتی. کیونکہ خود کی پسندیدگی کا مطلب اللہ کے دئے پر مکمل راضی ہونا ہے. ایسے لوگ خود پر دوسروں کی رائے سے متاثر نہیں ہوتے. ان کو خوش رہنے کیلئے باہر کے اسباب کی ضرورت نہیں ہوتی. یہ خود کے ساتھ خوش رے سکتے ہیں اور منفی لوگوں کیلئے ان کی ذات پر صبر کے ویسے ہی پردے ہوتے ہیں جیسے کلی یا لاروے نے اپنے رنگ بچائے ہوتے ہیں.

    اس لئے ہم خود کو پسند کرنے کا دعویٰ کرتے ہچکچاتے ہیں. ہم دوسروں کے رنگ دیکھ کر ان کو خوش قسمت اور خود کو بدقسمت سمجھتے ہیں. اسی بدقسمتی میں ہم اپنی زندگی کے پیچھے دوڑ پڑتے ہیں. شائد کچھ رنگ ہم بھی جمع کر لیں؟ اور زندگی ایک دوڑ بن جاتی ہے. ہم تھک جاتے ہیں. خود سے راضی شخص جبکہ ایک صحرا میں بھی ایسے ہی خوش ہوگا جیسے یہ کوئی گلستان ہو. خود سے راضی اپنے بنانے والے سے راضی ہوتا ہے. اور مالک اس سے راضی ہوکر اسے وہ رنگ دیتا ہے جسے دیکھ کر دوسرے اسے خوش قسمت سمجھتے ہیں.

  • اردو کےعظیم شاعرخواجہ میر درد کا یوم وفات

    اردو کےعظیم شاعرخواجہ میر درد کا یوم وفات

    تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو
    دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں

    خواجہ میر درد

    یوم وفات : 7جنوری 1785
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اردو کے عظیم شعراء کی فہرست میں شامل سیدخواجہ میر درد، میر تقی میر کے ہمعصر 1721ء میں دلی میں پیدا ہوئے خواجہ میر دردؔ کو اردو میں صوفیانہ شاعری کا امام کہا جاتا ہے۔ دردؔ اور تصوف لازم و ملزوم بن کر رہ گئے ہیں۔ یقیناً دردؔ کے کلام میں تصوف کے مسائل اور صوفیانہ حسّیت کے حامل اشعار کی کثرت ہے لیکن انہیں محض اک صوفی شاعر کہنا ان کی شاعری کے ساتھ ناانصافی ہے۔ ابتدائی تذکرہ نویسوں نے ان کی شاعری کو اس طرح محدود نہیں کیا تھا، صوفی شاعر ہونے کا ٹھپہ ان پر بعد میں لگایا گیا۔

    میر تقی میرؔ نے، جو اپنے سوا کم ہی کسی کو خاطر میں لاتے تھے، انہیں ریختہ کا "زور آور” شاعر کہتے ہوئے انہیں "خوش بہار گلستان، سخن” قرار دیا۔ محمد حسین آزاد نے کہا کہ دردؔ تلواروں کی آبداری اپنے نشتروں میں بھر دیتے ہیں، مرزا لطف علی صاحب، "گلشن سخن” کے مطابق دردؔ کا کلام "سراپا درد و اثر "ہے۔

    میر حسن نے انھیں، آسمان، سخن کا خورشید قرار دیا، پھر امداد اثر نے کہا کہ معاملات تصوف میں ان سے بڑھ کر اردو میں کوئی شاعر نہیں گزرا اور عبد السلام ندوی نے کہا کہ خواجہ میر دردؔ نے اس زبان (اردو) کو سب سے پہلے صوفیانہ خیالات سے آشنا کیا۔ ان حضرات نے بھی دردؔ کو تصوف کا ایک بڑا شاعر ہی مانا ہے ان کے کلام کی دوسری صفات سے انکار نہیں کیا ہے۔ شاعری کی پرکھ، یوں بھی "کیا کہا ہے” سے زیادہ ” کیسے کہا ہے” پر مبنی ہوتی ہے دردؔ کی شاعری کے لئے بھی یہی اصول اپنانا ہو گا۔

    دردؔ ایک صاحب اسلوب شاعر ہیں۔ ان کے بعض سادہ اشعار پر میرؔ کے اسلوب کا دھوکہ ضرور ہوتا ہے لیکن توجہ سے دیکھا جائے تو دونوں کا اسلوب یکسر جداگانہ ہے۔ درد کی شاعری میں غور و فکر کا عنصر نمایاں ہے جبکہ میرؔ فکر کو احساس کا تابع رکھتے ہیں البتہ عشق میں سپردگی اور گداز دونوں کے یہاں مشترک ہے اور دونوں آہستہ آہستہ سلگتے ہیں۔ دردؔ کے یہاں مجازی عشق بھی کم نہیں۔ جیتے جاگتے محبوب کی جھلکیاں جابجا ان کے کلام میں مل جاتی ہیں۔ ان کا مشہور شعر ہے۔

    کہا جب میں ترا بوسہ تو جیسے قند ہے پیارے
    لگا تب کہنے پر قند مکرر ہو نہیں سکتا

    دردؔ کی شاعری بنیادی طور پر عشقیہ شاعری ہے ان کا عشق مجازی بھی ہے، حقیقی بھی اور ایسا بھی جہاں عشق و مجاز کی سرحدیں باقی نہیں رہتیں۔ لیکن ان تینوں طرح کے اشعار میں احساس کی صداقت واضح طور پر نظر آتی ہے، اسی لئے ان کے کلام میں تاثیر ہے جو صناعی کے شوقین شعراء کے ہاتھ سے نکل جاتی ہے۔

    دردؔ نے خود کہا ہے "فقیر نے کبھی شعر آورد سے موزوں نہیں کیا اور نہ کبھی اس میں مستغرق ہوا۔کبھی کسی کی مدح نہیں کی نہ ہجو لکھی اور فرمائش سے شعر نہیں کہا” درد ؔکے عشق میں بیچینی نہیں بلکہ ایک طرح کی طمانیت قلب، سکون اور پاکیزگی ہے جعفر علی خاں اثر کے بقول دردؔ کے پاکیزہ کلام کے لئے پاکیزہ نگاہ درکار ہے۔

    دردؔ کے کلام میں عشق و عقل، جبر و اختیار، خلوت اور انجمن، سفر در سفر، بے ثباتی و بے اعتباری، بقا اور فنا، مکان و لامکاں، وحدت و کثرت، جزو و کل توکل اور فقر کے مضامین کثرت سے ملتے ہیں۔ فی زمانہ، تصوف کا وہ برانڈ، جس کے دردؔ تاجر تھے، اب فیشن سے باہر ہو گیا ہے۔ اس کی جگہ سنجیدہ طبقہ میں سرمد اور رومی کا برانڈ اور عوام میں بلھے شاہ، سلطان باہو اور "دمادم مست قلندر” والا برانڈ زیادہ مقبول ہے۔

    غزل کی شاعری برملا کم اور اشاروں میں زیادہ بات کرتی ہے اس لئے اس میں معانی کی حسب منشاء جہات تلاش کر لینا کوئی مشکل کام نہیں یہ غزل کی ایسی طاقت ہے کہ وقت کے تند جھونکے بھی اس چراغ کو نہیں بجھا سکے ایسے میں اگر مجنوںؔ گوکھپوری نے دردؔ کے کلام میں "کہیں دبی ہوئی اورکہیں اعلانیہ، کبھی زیر لب اور کبھی کھلے ہونٹوں شدید طنز کے ساتھ زمانہ کی شکایت اور زندگی سے بیزاری کی علامتیں” تلاش کیں تو بہرحال ان کا ماخذ دردؔ کا کلام ہی تھامجنوں کہتے ہیں درردؔ اپنے زمانہ کے حالات سے ناآسودگی کا اظہار کرتے ہیں۔

    دردؔ کے کلام کو ان کے زمانہ کے معاشرتی اور فکری ماحول اور ان کی نجی شخصیت کے حوالہ سے پڑھنا چاہئے۔ جہاں تک پیرایۂ بیان کا تعلق ہے اپنی بات کو دبے لفظوں میں تشنۂ وضاحت چھوڑ جانا دردؔ کو تمام دوسرے شعراء سے ممتاز کرتا ہے۔ اس طرح کے اشعار میں ان کہی بات، وضاحت کے مقابلہ میں زیادہ اثردار ہوتی ہے۔ حیرت و حسرت کا یہ دھندھلا سا اظہار ان کے اشعار کا خاص جوہر ہے۔ اس سلسلہ میں رشید حسن خاں نے پتے کی بات کہی ہے وہ کہتے ہیں "دردؔ کے جن اشعار میں خالص تصوف کی اصطلاحیں استعمال ہوئی ہیں یا جن میں مجازیات کو صاف صاف پیش کیا گیا ہے وہ نہ دردؔ کے نمائندہ اشعار ہیں نہ ہی اردو غزل کے۔

    یہ بات ہم کو مان لینی چاہئے کہ اردو میں فارسی کی صوفیانہ شاعری کی طرح بلند پایہ متصوفاننہ شاعری کا فقدان ہے۔ ہاں، اس کے بجائے اردو میں حسرت، تشنگی اور یاس کا جو طاقتور آہنگ کارفرما ہے، فارسی غزل اس سے بڑی حد تک خالی ہے-

    مجموعی طور پر دردؔ کی شاعری دل اور روح کو متاثر کرتی ہے۔ جذباتیت اور شاعرانہ "استادی” کا اظہار ان کا شعار نہیں، دردؔ موسیقی کے ماہر تھے، ان کے کلام میں بھی موسیقیت ہے۔ دردؔ تبھی شعر کہتے تھے جب شعر خود کو ان کی زبان سے کہلوا لے۔ اسی لئے ان کا دیوان بہت مختصر ہے۔

    خواجہ میر دردؔ 07؍جنوری 1785ء کو دہلی میں انتقال کر گئے۔

    ریختہ ڈاٹ کام سے ماخوذ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    خواجہ میر درد کی شاعری سے انتخاب
    . ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سیر کر دنیا کی غافل زندگانی پھر کہاں
    زندگی گر کچھ رہی تو یہ جوانی پھر کہاں
    ——–
    زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے!
    ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے
    ——–
    اذیت مصیبت ملامت بلائیں
    ترے عشق میں ہم نے کیا کیا نہ دیکھا
    ——–
    تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو
    دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں
    ——–
    نہیں شکوہ مجھے کچھ بے وفائی کا تری ہرگز
    گلا تب ہو اگر تو نے کسی سے بھی نبھائی ہو
    ——–
    جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھا
    تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا
    ——–
    میں جاتا ہوں دل کو ترے پاس چھوڑے
    مری یاد تجھ کو دلاتا رہے گا
    ——–
    کبھو رونا کبھو ہنسنا کبھو حیران ہو جانا
    محبت کیا بھلے چنگے کو دیوانہ بناتی ہے
    ——–
    ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے
    میرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تو سما سکے
    ——–
    جان سے ہو گئے بدن خالی
    جس طرف تو نے آنکھ بھر دیکھا
    ——–
    ہے غلط گر گمان میں کچھ ہے
    تجھ سوا بھی جہان میں کچھ ہے
    ——–
    ان لبوں نے نہ کی مسیحائی
    ہم نے سو سو طرح سے مر دیکھا
    ——–
    دشمنی نے سنا نہ ہووے گا
    جو ہمیں دوستی نے دکھلایا
    ——–
    حال مجھ غم زدہ کا جس جس نے
    جب سنا ہوگا رو دیا ہوگا
    ——–
    ہر چند تجھے صبر نہیں درد ولیکن
    اتنا بھی نہ ملیو کہ وہ بدنام بہت ہو
    ——–
    درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
    ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کر و بیاں
    ——–
    تمنا تری ہے اگر ہے تمنا
    تری آرزو ہے اگر آرزو ہے
    ——–
    مجھے یہ ڈر ہے دل زندہ تو نہ مر جائے
    کہ زندگانی عبارت ہے تیرے جینے سے
    ——–
    کاش اس کے رو بہ رو نہ کریں مجھ کو حشر میں
    کتنے مرے سوال ہیں جن کا نہیں جواب
    ——–
    آگے ہی بن کہے تو کہے ہے نہیں نہیں
    تجھ سے ابھی تو ہم نے وے باتیں کہی نہیں
    ——–
    کھل نہیں سکتی ہیں اب آنکھیں مری
    جی میں یہ کس کا تصور آ گیا
    ——–
    دل بھی اے دردؔ قطرۂ خوں تھا
    آنسوؤں میں کہیں گرا ہوگا
    ——–
    قاصد نہیں یہ کام ترا اپنی راہ لے
    اس کا پیام دل کے سوا کون لا سکے
    ——–
    ساقی مرے بھی دل کی طرف ٹک نگاہ کر
    لب تشنہ تیری بزم میں یہ جام رہ گیا
    ——–
    ایک ایمان ہے بساط اپنی
    نہ عبادت نہ کچھ ریاضت ہے
    ——–
    ہم تجھ سے کس ہوس کی فلک جستجو کریں
    دل ہی نہیں رہا ہے جو کچھ آرزو کریں

  • صف اول کےفلمی نغمہ نگار و شاعرمسروانور:6 جنوری یوم پیدائش

    صف اول کےفلمی نغمہ نگار و شاعرمسروانور:6 جنوری یوم پیدائش

    ہم کو کس کے غم نے مارا یہ کہانی پھر سہی
    کس نے توڑا دل ہمارا یہ کہانی پھر سہی

    مسرور انور
    6 جنوری یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پاکستان کی صف اول کے فلمی نغمہ نگار و شاعر مسرو انور 6 جنوری 1944 میں ہندوستان کے شہر شملہ میں پیدا ہوئے ۔ ان کا اصل نام انور علی تھا۔ تقسیم ہند کے بعد وہ لاہور پاکستان ہجرت کر گئے۔ انہیں شاعری کا شوق بچپن سے تھا اور فلم و موسیقی سے بھی گہری دلچسپی تھی۔ اسی شوق اور دلچسپی کے سبب فلم ہدایت کار پرویز ملک اور فلمی موسیقار سہیل رعنا سے ان کی دوستی ہو گئی۔ اس دوستی اور میل جول کے باعث انہیں فلموں کے لیے گیت لکھنے کی پیش کش کی گئی جو کہ انہوں نے قبول کر لی اور 1962 میں انہوں نے فلم ” بنجارن” کے لیے گیت لکھ کر اپنے کیریئر کا شاندار آغاز کر دیا دوسری فلم ” ارمان” تھی تیسری فلم ” ہیرا اور پتھر” تھی اس فلم کے گیتوں نے بھی دھوم مچادی تھی۔ جس کے بعد ان کے مشہور اور سپر ہٹ گیتوں اور گانوں کی طویل فہرست ہے۔ انہوں نے نگار ایوارڈ سمیت کئی دیگر اہم اعزازات بھی حاصل کیے۔ مسرو انور نے فلمی نغمہ گاری کے علاوہ غزل اور ملی نغمے بھی لکھے۔ گلوکار غلام علی کی آواز میں ان کی گائی ہوئی غزل
    ہم کو کس کے غم نے مارا یہ کہانی پھر سہی
    کس نے توڑا دل ہمارا یہ کہانی پھر سہی

    نے پاکستان اور ہندوستان میں مقبولیت اور پذیرائی کا ایک ریکارڈ قائم کیا۔ ان کا ملی نغمہ

    سوہنی دھرتی اللہ رکھے قدم قدم آباد تجھے

    نے بھی ملک بھر میں دھوم مچا دی ۔ وہ ایک بہترین شخصیت کے مالک تھے ان کے چہرے پر مسکراہٹ اور معصومیت مستقل طور پر قائم رہتی تھی جس کی وجہ سے انہوں نے Baby Face کے خطاب سے نوازا گیا۔ یکم اپریل 1996 میں لاہور میں ان کی وفات ہوئی۔

    منتخب کلام

    ہم کو کس کے غم نے مارا یہ کہانی پھر سہی
    کس نے توڑا دل ہمارا یہ کہانی پھر سہی
    دل کے لٹنے کا سبب پوچھو نہ سب کے سامنے
    نام آئے گا تمہارا یہ کہانی پھر سہی

    نفرتوں کے تیر کھا کر دوستوں کے شہر میں
    ہم نے کس کس کو پکارا یہ کہانی پھر سہی

    کیا بتائیں پیار کی بازی وفا کی راہ میں
    کون جیتا کون ہارا یہ کہانی پھر سہی

    اپنی جاں نذر کروں ،اپنی وفا پیش کروں
    قوم کے مرد ِمجاہد تجھے کیا پیش کروں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    دل میں پیدا کیا اک جذبۂ تازہ تُو نے
    میرے گیتوں کو نیا حوصلہ بخشا تُو نے
    کیوں نا تجھ کو انہی گیتوں کی نوا پیش کروں
    اپنی جاں نذر کروں، اپنی وفا پیش کروں
    قوم کے مرد ِمجاہد تجھے کیا پیش کروں

    اکیلے نہ جانا ھمیں چھوڑ کر تم
    تمھارے بنا ھم بھلا کیا جئیں گے

    بھولی ہوئی ہوں داستاں گزرا ہوا خیال ہوں
    جس کو تم نہ سمجھ سکے میں ایسا اک سوال ہوں
    تم نے مجھے بھلا دیا نظروں سے یوں گرا دیا
    جیسے کبھی ملے نہ تھے ایک راہ پر چلے نہ تھے
    تھم جاؤ میرے آنسوؤں ان سے نہ کچھ گلہ کرو
    وہ حسن کی مثال ہیں میں عشق کا زوال ہوں
    جس کو وہ نہ سمجھ سکے میں ایسا ایک سوال ہوں
    کرنا ہی تھا اگر ستم دینا تھا عمر بھر کا غم
    عہد وفا کیا تھا کیوں چاہت سے دل دیا تھا کیوں
    تم نے نگاہ پھیر لی اب میں ہوں میری بےبسی
    بھولی ہوئی ہوں داستاں گزرا ہوا خیال ہوں
    ——
    مجھے تم نظر سے گرا تو رہے ہو
    مجھے تم کبھی بھی بھلا نہ سکو گے
    نہ جانے مجھے کیوں یقیں ہو چلا ہے
    میرے پیار کو تم مٹا نہ سکو گے
    مری یاد ہوگی جدھر جاؤ گے تم
    کبھی نغمہ بن کے کبھی بن کے آنسو
    تڑپتا مجھے ہر طرف پاؤ گے تم
    شمع جو جلائی ہے میری وفا نے
    بجھانا بھی چاہو بجھا نہ سکو گے
    کبھی نام باتوں میں آیا جو میرا
    تو بےچین ہو ہو کے دل تھام لو گے
    نگاہوں میں چھائے گا غم کا اندھیرا
    کسی نے جو پوچھا سبب آنسوؤں کا
    بتانا بھی چاہو بتا نہ سکو گے

    کچھ لوگ روٹھ کر بھی لگتے ھیں کتنے پیارے
    چپ رہ کے بھی نظر میں ھیں پیار کے اشارے
    یہ شان بے نیازی یہ بے رخی کا عالم
    بے باک ھو گیا ھے ان کا مزاج بر ھم
    اک پل میں نےھم نے دیکھے کیا کیا حسین نظارے
    کچھ لوگ روٹھ کر بھی لگتے ھیں کتنے پیارے
    فربان جائیں اے دل ھم ان کی اس ادا کے
    خود بھی سلگ رھے میں ھم کو جلا جلا کے
    ھیں کتنے خوبصورت اس آگ کے شرارے
    کچھ لوگ روٹھ کر بھی لگتے ھیں کتنے پیارے

    یوں اسنے پیار سے میری بانہوں کو چھو لیا
    منزل نے جیسے شاخ کے راہوں کو چھو لیا
    اک پل میں دل پہ کیسے قیامت گزر گئی
    رگ رگ میں اسکے حسن کی خوشبو بکھر گئی
    زلفوں کو میرے شانے پہ لہرا گیا کوئی
    یوں زندگی کی راہ میں ٹکرا گیا کوئی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اب اس دل تباہ کی حالت نا پوچھیے
    بے نام آرزو کی لذت نا پوچھیے
    اک اجنبی تھا روح کا ارمان بن گیا
    اک حادثہ تھا پیار کا عنوان بن گیا
    منزل کا راسته مجھے دکھلا گیا کوئی
    یوں زندگی کی راہ میں ٹکرا گیا کوئی

    اے دل تجھے اب ان سے یہ کیسی شکایت ہے
    وہ سامنے بیٹھے ہیں کافی یہ عنایت ہے

    الہٰی آنسو بھری زندگی کسی کو نہ دے
    خوشی کے ساتھ غم بے کسی کسی کو نہ دے

    خاموش ہیں نظارے اک بار مسکرادو
    کہتی ہیں یہ بہاریں ہنسنا ہمیں سیکھا دو

    سُونی پڑی رہیں گی یہ پربتوں کی راہیں
    یونہی کُھلی رہیں گی ان وادیوں کی بانہیں
    جب تک جُھکی یہ نظریں ہنس کہ نہ تم اُٹھا دو
    خاموش ہیں نظارے اک بار مسکرادو

    دل دھڑکے میں تم سے کیسے کہوں
    کہتی ہے میری نظر شکریہ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ابھی ڈھونڈ ہی رہی تھی تمہیں یہ نظر ہماری
    کہ تم آ گئے اچانک بڑی عمر ہے تمہاری

    ابھی کچھ ہی دیر پہلے بڑا زکر تھا تمہارا
    کئی بار ڈھرکنوں نےتمہیں پیار سے پکارا

    مٹا انتظار دل کا ہوئ ختم بےقراری
    ہمیں پیار کی خوشی سے کیا آشنا تم ہی نے
    تمہیں پیار ہم وہ دیں گے جو دیا نہ ہو کسی نے
    کہ تمہاری زندگی ہے ہمیں جان سے بھی پیاری
    وہ نظر کے سامنے ہے جسے ہم نے دیں صداٗئیں
    جو قرار بن کے آیا اُسے کیوں نہ دیں دُعائیں
    کیئے آرزو نے سجدے دل نے نظر اُتاری
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اک بار ملو ہم سے تو سو بار ملیں گے
    ہم جیسے کہاں تم کو طلبگار ملیں گے

    کیسے یہ کہیں تم سے ہمیں پیار ہے کتنا
    آنکھوں کی طلب بڑھتی ہے دیکھیں تمہیں جتنا

    اس دنیا میں کم ایسے پرستار ملیں گے
    ہم جیسے کہاں تم کو طلبگار ملیں گے

    دل کی جگہ سینے میں محبت ہے تمھاری
    اب میری ہر اک سانس امانت ہے تمھاری

    ہم بن کے تمہیں پیار کی مہکار ملیں گے
    ہم جیسے کہاں تم کو طلبگار ملیں گے

    ہم جیسے کہاں تم کو طلبگار ملیں گے

  • باہر کی آلودگی — ریاض علی خٹک

    باہر کی آلودگی — ریاض علی خٹک

    چاول کے پودے سے نکلے ریشے سے بنے تتامی غالیچے جاپانی تہذیب کی نشانی ہیں. اسے یہ گھر میں بچھاتے ہیں اسی پر بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں اور اسی پر لیٹ کر سو جاتے ہیں. مسئلہ یہ ہے کہ یہ تتامی غالیچہ کافی نازک ہوتا ہے. یہ گیلا ہو جائے تو بھی مسئلہ، گرد آلود ہوا تو فنگس لگ جاتی ہے. جاپانیوں نے اسکا حل صفائی میں نکالا. جاپانی گھر بہت صاف ستھرے ہوتے ہیں. گھر کا ہر فرد اندر داخل ہونے سے پہلے جوتے نکال لیتا ہے. بھاری بھرکم کپڑے دروازے پر ہی اتار لیتا ہے اور ان کے برتن گہرے بڑے ہوتے ہیں. تاکہ کچھ گرنے کا چانس ہی کم ہو.

    یورپ اور دوسرے ٹھنڈے ممالک میں بھی گھر کے دروازوں پر ایک ہینگر سٹینڈ ہوتا ہے. آپ اپنے اوور کوٹ اور لمبے بھاری جوتے دروازے پر اتار کر داخل ہوتے ہیں. ہمارے ہاں ایسے رواجوں کی طرف کم ہی کسی کا دھیان جاتا ہے. ہم سب کچھ پہنے گھر میں داخل ہوتے ہیں. باہر کے استعمال کے جوتے ہی کیا باہر کی زندگی بھی اپنے ساتھ کھینچ کر اندر لے آتے ہیں.

    کوئی بھی کاروبار ہو آفس ہو نوکری ہو یا روزگار اس میں اونچ نیچ کام کا حصہ ہے. بلکل ویسے ہی جیسے روز آتے جاتے سڑک کی ٹریفک پر ہمارا کنٹرول نہیں ہوتا ایسے ہی کام کی ایک اپنی ٹریفک ہوتی ہے. کبھی کھلی سڑک ملتی ہے کبھی ٹریفک جام تو کبھی سگنلز بند تو کبھی یہاں ٹکر وہاں ٹکر. لیکن یہ عملی زندگی کے میدان کا کھیل ہی تو ہے.

    مسئلہ تب بنتا ہے جب ہم یہ سب کچھ سر پر سوار کر لیں. اور بڑے مسائل تب بنتے ہیں جب یہ سواریاں ہم اپنے ساتھ گھر پر بھی لے آئیں. گھر میں سارا دن انتظار کرتے بچے خواتین تتامی کے غالیچے کی طرح نازک اور کمزور ہوتے ہیں. وہ یہ پریشر برداشت نہیں کر سکتے. اور ماحول بگڑنے لگتا ہے. ہمیں بھی اپنے دروازوں پر ہینگر لگانے چاہئے. جہاں گھر کا رواج بنا دیا جائے کہ باہر کی آلودگی یہاں ٹانگ کر اندر آنا ہے.

    ایک پرسکون گھر سے سکون حاصل کر کے نکلا فرد پھر دن بھر کا یہ کھیل سکون سے کھیل سکتا ہے.

  • محبت اور وفا کی کہانیاں — ریاض علی خٹک

    محبت اور وفا کی کہانیاں — ریاض علی خٹک

    کونو میگریگا آئرش باکسر ہے. ایک بار اپنی بیوی پر ہوئے ایک سوال پر اُس نے کہا جب مجھے کوئی نہیں جانتا تھا تب بھی میں ایک باکسر بننا چاہتا تھا. مجھے اپنا یہ خواب پورا کرنے کیلئے وقت تربیت اور ایک اتھلیٹ کی خوراک چاہئے تھے. آئرلینڈ میں ڈبلن سے تیس کلومیٹر دور کرائے کے ایک چھوٹے سے فلیٹ میں تب میرے ساتھ ایک ہی ہستی تھی. وہ میری بیوی تھی.

    اسے یقین تھا کہ میں باکسر بن جاوں گا. اسی نے وہ تکلیف اٹھائی وہ دور میرے ساتھ برداشت کیا جب ہمارے پاس کچھ نہ تھا لیکن خواب بہت بڑے تھے. آج میرے پاس سب کچھ ہے میں اس کیلئے کوئی بھی گھر گاڑی خرید سکتا ہوں. لیکن وہ کل بھی مجھے خوش دیکھنا چاہتی تھی اور آج بھی وہ میرے لئے ہی خوش ہے.

    محبت اور وفا کی کہانیاں کبھی ایک منظر دیکھ کر سمجھ نہیں آتیں. رتن ٹاٹا نے کیوں شادی نہیں کی.؟ وفا کی یہ داستان آج ایک کامیاب مشہور و دولتمند شخص کو دیکھ کر سمجھ نہیں آئے گی جب تک تاریخ کے ورق پلٹ کر آپ لاس اینجلس امریکہ کی اُس لڑکی تک نہ چلے جائیں جس سے رتن نے شادی کا وعدہ کیا تھا.

    محبت اور وفا کی کہانیاں بہت انمول ہوتی ہیں. جب کوئی وفا کی اپنی کہانی میں ثابت قدم رہتا ہے وقت پھر اس کہانی اور اس کے کرداروں کو کامیاب بناتا ہے. اتنا کامیاب جسے اکثریت جان لے. وفا کی یہ کہانی پھر مثال بنتی ہے کچھ نئی کہانیوں کی ابتداء ہوتی ہے.

  • آلو کی بھجیا — عین حیدر

    آلو کی بھجیا — عین حیدر

    بچے کو ٹیوشن پر چھوڑ کر واپس گھر جا رہے تھے تو بیگم نے ایک ڈیپارٹمنٹل سٹور پر رکنے کو کہا۔۔ میرے دل کی دھڑکنوں کے ساتھ ساتھ جیب کی غربت بھی ہچکولے لینے لگی۔۔ وجہ پوچھنے پر بیگم نے بتایا کہ آلو خریدنے ہیں۔۔۔

    میں نے شکوک و شبہات کے بیچوں بیچ بائیک پارکنگ میں کھڑی کی اور بیگم کو لے کر سٹور میں داخل ہو گیا۔۔۔

    بیگم سیدھی کاسمیٹک اور جیولری والی سائیڈ کی طرف لپکی۔۔ کافی دیر تک جیولری اور دوسری اشیاء دیکھتی رہی۔۔۔ وہاں سے کراکری والے پورشن میں چل دی۔۔۔ میں بھی لیلے کی طرح پیچھے ہو لیا۔۔۔ کچھ دیر شیشے اور پلاسٹک کی کراکری اٹھا اٹھا کر دیکھتی رہی۔۔۔

    بیگم کی حسرت بھری نگاہوں اور والہانہ انداز سے مجھے لگا کہ آج لمبا خرچہ ہونے والا ہے۔۔۔میں نے دل ہی دل میں پارکنگ میں کھڑی اپنی پرانی بائیک کی قیمت لگائی تو بیس بائیس ہزار سے زیادہ ملتے نظر نہ آئے۔۔۔ رکشے کا کرایہ جیب میں رکھ کر بھی خریداری کرنے پر وہ سب کچھ نہیں ملنے والا تھا جو بیگم دیکھ رہی تھی۔۔۔

    میرے اندر درد کی ایک لہر ابھری اور سوچ آئی کہ لوئر مڈل کلاس کی خواتین کتنی حسرتیں دل میں دبا کر زندگی جھیلتی ہیں۔۔ لیکن غریب اور مجبور خاوند تو صرف دعائیں ہی کر سکتا ہے، چنانچہ میں نے اب دعاؤں پر زور دیا۔۔ اور بیگم کے دل کے نرم ہونے کی دعائیں کرنے لگا۔۔ شاید قبولیت کی گھڑی تھی، بیگم وہاں سے واپس پلٹی اور سبزی والے علاقے کی طرف چل دی، جاتے جاتے ہینڈ بیگز، پرفیومز اور دیگر چیزوں کے قریب رک رک کر دیکھتی رہی۔۔۔

    میں بدستور لیلے کی طرح پیچھے پیچھے ہی پھرتا رہا ۔۔۔ آخر کار اس نے ایک کلو آلو خرید ہی لئے تو میں نے سکون کا سانس لیا۔۔۔ میں نے کاؤنٹر پر پیسے ادا کئے اور ہم باہر آ گئے ۔۔۔

    بائیک پر بیٹھتے ہوئے میں نے پوچھا۔۔۔ "بیگم، لینے تو تم نے صرف ایک کلو آلو تھے، اور دیکھ پورا سٹور آئی ہو”…

    اگرچہ میرا سوال کئی قسم کے خطرات کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔۔لیکن بیگم نے کمال سادگی سے جواب دیا ۔۔۔۔ کہنے لگی "راشد علی، بات یہ ہے کہ جب قسمت میں آلو لکھے ہوں تو بندہ لگژری آئٹمز دیکھ کر ہی خوش ہو لیتا ہے”۔۔۔

    بات تو بیگم کی سچ ہی تھی لیکن میں بھی کیا کر سکتا تھا، چنانچہ خود کو آلو آلو سا سمجھتے ہوئے بائیک کو کک لگائی اور گھر کو چل دیئے۔۔۔

    راستے میں ایک بڑا شادی ہال پڑتا ہے۔۔وہاں پہنچے تو سڑک پر کافی رش تھا، شاید ابھی ابھی بارات پہنچی تھی اور گاڑیوں میں سے گویا سجی سنوری پریاں نکل نکل کر شادی ہال کے اندر جا رہی تھیں۔۔۔

    میں نے بائیک ایک طرف روک دی۔۔اور اللہ کی بنائی ہوئی حسین جمیل مخلوق کو انہماک سے دیکھنے لگا۔۔۔

    بیگم نے کچھ دیر تو صبر کیا، پھر بولی ۔۔ "اب چلیں گے بھی یا دلہن کو وداع کر کے ہی جانے کا ارادہ ہے”…

    میں نے جواب دیا۔۔۔”بیگم، اصل میں تمہاری بات یاد آ گئی تھی۔۔۔تم نے بالکل ٹھیک کہا تھا”۔۔۔

    کہنے لگی۔۔۔ "کون سی بات یاد آ گئی اب”..؟

    میں نے جواب دیا۔۔۔”وہی، جو تم نے کہا کہ جب قسمت میں آلو لکھے ہوں تو بندہ لگژری آئٹمز دیکھ کر ہی خوش ہو لیتا ہے”۔۔۔

    میری بات سنتے ہی بیگم کا ضبط جواب دے گیا اور گھر پہنچنے تک آلو کی بھجیا تقریباً تیار ہو چکی تھی۔۔۔

  • روڈولف کرسٹوف ائیوکن  جرمن زبان کے آدرشی فلسفی

    روڈولف کرسٹوف ائیوکن جرمن زبان کے آدرشی فلسفی

    روڈولف کرسٹوف ائیوکن جرمن زبان کے آدرشی فلسفی

     


    پیدائش:05 جنوری 1846ء
    اوریش
    وفات:15 ستمبر 1926ء
    یئنا
    شہریت:جرمنی, جرمن سلطنت
    رکن:رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز
    اولاد:والٹر ائیوکن
    مادر علمی:جامعہ گوٹنجن
    جامعہ ہومبولت
    زبان:جرمن
    ملازمت:جامعہ جینا
    ہارورڈ یونیورسٹی
    جامعہ بازیل
    اعزازات:
    نوبل انعام برائے ادب
    (1908)

    روڈولف کرسٹوف ائیوکن 1846ء تا 1926ء ) ایک جرمن زبان کے آدرشی فلسفی تھا جس کو 1908ء میں نوبل انعام برائے ادب دیا گیا۔ ائیوکن نے اپنے آدرشیت کی تقلیب کی اور اسے روحانی تلاش میں بدل دیا۔ ائیوکن کی شہرت مختصر عرصے کی تھی اور آج اس کی تحریریں کم و بیش فراموش کی جا چکی ہیں۔ فلسفیانہ مطالعات کے علاوہ اس نے مذہب پر بھی کتابیں لکھیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ائیوکن کو ملنے والا انعام دراصل الفریڈ نوبل کی جزوا نامکمل وصیت کی مطابقعت میں تھا جس کی رو سے ادب کا انعام آدرشی رجحان کے حاصل کام میں کمال کے اعتراف میں بھی دیا جا سکتا تھا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عالمی ادبی شخصیات کا تعارفی سلسلہ
    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • البرٹ کامو یا البیغ کامو:ایک فرانسیسی فلسفی

    البرٹ کامو یا البیغ کامو:ایک فرانسیسی فلسفی

    پیدائش:07 نومبر1913ء
    الذرعان
    وفات:04 جنوری 1960ء
    ولیبلوین
    وجۂ وفات:کار حادثہ
    مدفن:لورمارین
    رہائش:فرانس
    شہریت:فرانس
    رکن:امریکی اکادمی برائے سائنس و فنون
    زوجہ:فرانسائن فیئر
    مادر علمی:جامعہ الجزائر (1935-مئی 1936)
    تخصص تعلیم:فلسفہ
    تعلیمی اسناد:ماسٹر آف آرٹس
    دائرۂ عمل: مصنف، فلسفی، ناول نگار
    صحافی، مضمون نگار، ڈراما نگار
    منظر نویس، شاعر
    مادری زبان:فرانسیسی
    زبان:فرانسیسی
    کارہائے نمایاں:موت کی خوشی
    مؤثر:نطشے
    عسکری خدمات
    لڑائیاں اور جنگیں:دوسری جنگ عظیم
    اعزازات:
    نوبل انعام برائے ادب (1957)

    البرٹ کامو یا البیغ کامو (فرانسیسی: Albert Camus) ایک فرانسیسی فلسفی تھے جنھوں نے بے شمار مشہور کتب لکھیں۔ ان کوادب پر 1957 میں نوبل پرائز دیا گیا تھا۔ آپ الجزائر میں 1913 میں پیدا ہوئے جس وقت فرانسیسوں کی سربراہی تھی۔
    موجودیت
    ۔۔۔۔۔۔
    البیغ کامو کی کتابوں کو موجودیت کی مثالیں سمجھی جاتی ہیں۔
    مذہبی خیالات
    ۔۔۔۔۔۔
    البرٹ خدا و مذہب پر یقین نہیں رکھتا تھا مگر پھر بھی یہ سمجھتا تھا کہ وہ ملحد نہیں ہے۔ خدا کو جھٹلانے کا انسانی زندگی کے لیے کیا منطقی نتیجہ نکلتا ہے، کیمس نے اسے ان الفاظ میں بیان کیا: You will never live if you are looking for the meaning of life یعنی اگر تم زندگی کے معنی جاننے کی کوشش کرو گے تو زندہ نہ رہ سکو گے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عالمی ادبی شخصیات کا تعارفی سلسلہ
    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • سینٹ لوئیس امریکا میں پیدا ہوا،تعلیم برطانیہ میں حاصل کی

    سینٹ لوئیس امریکا میں پیدا ہوا،تعلیم برطانیہ میں حاصل کی

    پیدائش: 26 ستمبر 1888ء
    وفات : 04 جنوری 1965ء
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    انگریزی زبان کا مشہور شاعر اور نقاد سینٹ لوئیس امریکا میں پیدا ہوا۔ آکسفورڈ یونیورسٹی اور ہارورڈ یونیورسٹی میں تعلیم پائی۔ ہارورڈ یونیورسٹی میں انگریزی شاعری کا پروفیسر مقرر ہوا۔ 1915ء میں برطانیہ چلا گیا اور وہیں مستقل سکونت اختیار کر لی۔ 1922ء میں ایک ادبی رسالہ Criterionجاری کیا۔ جو 1929ء میں بند ہو گیا۔ 1948ء میں ادب کا نوبل پرائز ملا۔ بعد میں آکسفورڈ یونیورسٹی میں شاعری کا پروفیسر ہوا اور او۔ ایم کا اعلی برطانوی خطاب پایا۔ متعدد منظوم ڈراموں کا مصنف ہے۔ آخری دنوں میں فیر اینڈ فیر پبلشر کا اڈیٹر رہا۔ تنقیدی نظریات بھی بہت زیادہ مشہور ہوئے۔ رومانیت کے سخت خلاف تھا۔ اور اس کے خلاف شخصیت سے گریز اور معروضی تلازمے کے نظریات پیش کیے۔ اس کا نظریہ روایت اردو ادب پر بھی اثر انداز ہوا اور کئی اردو نقاد مثلاً محمد حسن عسکری، ڈاکٹر جمیل جالبی، ڈاکٹر سید عبد اللہ اور ڈاکٹر عابد علی عابد ان سے متاثر نظر آتے ہیں۔

    ایلیٹ ادب اور زندگی‘ دونوں میں معیارات کے نفوذ اور غیر شخصی و غیرذاتی‘ میلانات و رجحانات کا قائل ہے۔ اسی لیے وہ‘ احساس رفتہ اور احساس روایت کو ضروری سمجھتا ہے۔اس کی نظر میں‘ تمام ادبی فن پارے ایک سلسلہ میں‘ تنظیم و ترتیب پاتے ہیں۔ اس کے خیال میں‘ روایت کے یہ معنی نہیں ہیں‘ کہ ادب کو محض چند تعصبات سے پاک رکھا جائے۔ تعصبات روایت کے تشکیلی عمل کے دوران‘ وجود پکڑتے ہیں۔
    ایلیٹ کے روایت سے متعلق خیالات کا‘ لب لباب کچھ یوں ٹھہرے گا:
    1- روایت لکیر کےفقیر ہونے کا نام نہیں۔
    2- روایت کے حصول کے لیے‘ محنت و کاوش سے‘ کام لینا پڑتا ہے۔
    3- تاریخی شعور کا مطلب یہ ہے‘ کہ شاعر کو احساس ہو‘ کہ ماضی صرف ماضی ہی نہیں‘ بلکہ اس کے اعلی اور آفاقی عناصر‘ ایک زندہ شے کی طرح‘ نشوونما پاتے ہوئے‘ حال میں پہنچ گیے ہوتے ہیں۔
    4- شاعری کی ادبی حیثیت کا اندازہ‘ کسی شاعر کی‘ دیگر شعرا کے کلام ہی سے لگایا جا سکتا ہے۔ اس کی مجرد طور پر‘ قدروقیمت کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا‘ کیوں کہ وہ پورے ادبی نظام کا‘ حصہ ہوتا ہے۔
    5- ہر نیا فن پارہ‘ اپنے نئے پن سے تمام فن پاروں کی قدروقیمت کو متاثر کرتا ہے۔ اس کی روشنی میں گزشتہ کے فن پاروں کا‘ پھر سے جائزہ لینا پڑتا ہے۔
    6- ایمان دارانہ تنقید‘ شاعر پر نہیں‘ شاعری پر ہونی چاہیے۔ یہ اس لیے ضروری ہے‘ کہ کسی ایک نظم کا تعلق‘ دوسری نظموں سے ہوتا ہے۔
    7- نظم صرف ایک مفہوم ہی نہیں‘ اپنا زندہ وجود رکھتی ہے۔ اس کے مختلف حصوں سے‘ جو ترکیب بنتی ہے‘ وہ واضح حالات کی فہرست سے مختلف ہوتی ہے۔ وہ احساس یا جذبہ یا عرفان جو نظم سے حاصل ہوتا ہے‘ وہ شاعر کے ذہن میں ہوتا ہے۔
    اس مضمون کی تیاری میں درج ذیل کتب سے استفادہ کیا گیا ہے

    مغرب کے تنقیدی اصول پروفیسر سجاد باقر رضوی مطبع عالیہ 1966
    ارسطو سے ایلیٹ تک ڈاکٹر جمیل جالبی نیشنل فاؤنڈیشن 1975ء
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • برِ صغیر کی معروف علمی، ادبی اور سماجی شخصیت،عطیہ فیضی

    برِ صغیر کی معروف علمی، ادبی اور سماجی شخصیت،عطیہ فیضی

    برِ صغیر کی معروف علمی، ادبی اور سماجی شخصیت

    عطیہ فیضی (ولادت: 1 اگست 1877ء، وفات: 4 جنوری 1967)

    عطیہ فیضی کون تھی؟

    یہ تین بہنیں تھیں۔ سب سے بڑی نازی بیگم، ان سے چھوٹی زہرا بیگم اور آخری عطیہ بیگم۔ صرف عطیہ نے اپنا نام اپنے خاندانی لقب فیضی کی نسبت سے عطیہ فیضی رکھا۔ ان کے والد علی حسن آفندی کا تعلق ایک عرب نژاد خاندان سے تھا جو اپنے ایک بزرگ فیض حیدر کے نام کی نسبت سے فیضی کہلاتا تھا۔ یہ لوگ تجارت پیشہ تھے اور تجارتی کاموں کے سلسلے میں بمبئی سے لے کر کاٹھیاواڑ تک پھیل گئے تھے۔ عرب، ترکی اور عراق کے عمائد اور عوام سے بھی تعلقات تھے۔ اس خاندان میں علم وادب کا چرچا تھا۔ عطیہ کبھی کبھی دعویٰ کیا کرتی تھیں کہ ان کا خاندان ترکی النسل ہے لیکن عام طور پر انھیں عرب نژاد ہی خیال کیا جاتا تھا۔

    نازی بیگم: علی حسن آفندی کی سب سے بڑی بیٹی عطیہ فیضی سے نو سال بڑی تھیں۔ یہ بھی استنبول میں ۱۸۷۲ء کو پیدا ہوئیں۔ نازی بیگم نے ترکی کے اعلیٰ تعلیمی اداروںمیں تعلیم حاصل کی۔ ان کو ترکی، انگریزی، عربی اور فارسی میں اچھی دستگاہ حاصل تھی۔ بعد میں انھوں نے گجراتی اور اُردو زبان میں بھی مہارت پیدا کر لی۔ ابھی ۱۳ برس کی تھیں کہ ان کی شادی بمبئی کے قریب واقع ایک چھوٹی سی ریاست جنجیرہ کے نواب سرسیدی احمد خاں سے کر دی گئی۔

    سرسیدی احمد خاں کے اجداد حبشہ (ایتھیوپیا) کے ساحل پر آباد تھے۔ وہاں سے نقل مکانی کر کے یہ بمبئی آئے اور جنجیرہ کے جزیرے میں آباد ہو گئے۔ بعد میں وہ اس جزیرے کے حکمران بن گئے۔ یہ تحقیق نہیں ہو سکی کہ یہ خاندان جنجیرہ میں کب آباد ہوا اور کب وہاں ان کی حکمرانی قائم ہوئی۔ سسرال میں نازی بیگم کو رفیعہ سلطان کا لقب دیا گیا اور وہ ہر ہائی نس نازی رفیعہ سلطان آف جنجیرہ کہلائیں۔

    اپنے حسنِ عمل کی بدولت یہ جزیرے میں کافی ہر دل عزیز تھیں۔ ان کو علم و ادب سے گہرا لگائو تھا اور وہ اربابِ علم کی بے حد قدر دان تھیں۔ مولانا شبلی نعمانی کی شہرہ آفاق تصنیف سیرت النبیﷺ کی تیاری میں ان کی تحریک اور اعانت بھی شامل تھی۔ مولانا نے اس کا کافی حصہ جنجیرہ کی پر سکون فضا میں رہ کر مکمل کیا۔

    سفرِ یورپ کے دوران نازی بیگم کو علامہ اقبال اور کئی دوسرے مشاہیر سے بھی ملاقات کا موقع ملا۔ علامہ اقبال ان کی علمی وجاہت سے بہت متاثر ہوئے اور یہ شعر ان کی نذر کیے:
    اے کہ تیرے آستانے پر جبیں گستر قمر
    اور فیضِ آستاں بوسی سے گل برسر قمر
    روشنی لے کر تیری موجِ غبارِ راہ سے
    دیتا ہے ایلائے شب کو نور کی چادر قمر

    نازی بیگم نے شبلی نعمانی کی میزبانی کے علاوہ کئی بار علامہ اقبال، مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی، قائد اعظم محمد علی جناح، مسز سروجنی نائیڈو اور ملک کے متعدد دوسرے نامور اربابِ علم اور اہل سیاست کی میزبانی کا شرف بھی حاصل کیا۔ بقول نازی بیگم قائد اعظم ان سے فرمایا کرتے تھے کہ مجھے جنجیرہ آ کر بہت آرام اور سکون ملتا ہے۔ وہ جنجیرہ میں اپنا بیشتر وقت محل سے ملحق باغ میں گزارا کرتے تھے۔

    عطیہ فیضی نے بھی اپنی بہنوں کی طرح استنبول میں اعلیٰ تعلیم پائی اور ترکی، عربی، فارسی، انگریزی، اُردو اور گجراتی میں اچھی استعداد بہم پہنچائی۔ ان کی بڑی بہن نازی بیگم کی شادی ۱۸۸۵ء میں نواب جنجیرہ (بمبئی) سے ہوئی تو یہ بھی ان کے ساتھ جنجیرہ میں رہنے لگیں۔ عطیہ اپنے والدین کی بہت لاڈلی تھیں اور سب بہنوں میں زیادہ شوخ وچنچل بھی۔ اس کے ساتھ ہی وہ بڑی ذہین و فطین اور علم و ادب کی شیدائی بھی تھیں۔ جنجیرہ ایک پُر فضا جزیرہ تھا۔

    نازی بیگم کی دعوت پر ملک کے بڑے بڑے اہلِ سیاست اور اربابِ علم کی یہاں آمد آمد ہوئی ان میں مولاناشبلی نعمانی بھی شامل تھے۔ ان کو عطیہ کی ذہانت، علم وادب سے شغف اور دوسرے اوصاف نے بے حد متاثرکیا اور وہ ان کے مداح بن گئے۔ عطیہ بھی شبلی نعمانی کی بہت قدر دان تھیں۔ ان کے درمیان خط وکتابت بھی ہوتی رہتی تھی۔ جس میں بے تکلفی کا ایک مخصوص رنگ پایا جاتا تھا۔ بالخصوص مولانا شبلی کے خطوں میں، بعض اصحاب نے اس بے تکلفی کو کوئی اور رنگ دینے کی کوشش کی ہے لیکن یہ بے تکلفی ہمیشہ ایک حد کے اندر رہی اور عطیہ ہمیشہ انھیں (شبلی کو) عزت کا ایک مقام دیتی رہیں۔

    ۱۹۰۳ء میں عطیہ کی شادی ایک عالمی شہرت یافتہ مصور رحیمن (رحمین) سے ہوئی۔ وہ یہودی نژاد تھے لیکن مسلمان ہو گئے تھے۔ یہ ڈاکٹر فیضی رحیمن کے نام سے مشہور تھے۔ ان کی بنائی ہوئی تصویریں دنیا کے مختلف عجائب گھروں اور آرٹ گیلریوں کی زینت رہیں۔ ہندوستان میں پیدا ہوئے لیکن تعلیم و تربیت یورپ میں ہوئی۔ وہیں مصوری، افسانہ نگاری اور مضمون نویسی میں شہرت حاصل کی۔ وہاں سے اچانک ہندوستان آ گئے اور پھر یہیں کے ہو رہے۔

    قیام پاکستان کے بعد نازی بیگم اور عطیہ فیضی کے ساتھ یہ پاکستان آ گئے اور کراچی میں مستقل اقامت اختیار کی۔ کراچی میں ان کی زندگی کے آخری چند سال بڑی پریشانیوں میں گزرے اس کی کچھ تفصیل آگے آئے گی۔ بعض لوگوں نے اس شادی پر اعتراض کیا، شبلی نعمانی کو خبر ہوئی تو انھوںنے یہ شعر کہے:

    عطیہ کی شادی پہ کسی نے نکتہ چینی کی
    کہا میں نے جاہل ہے یا احمق ہے یا ناداں ہے
    بتانِ ہند کافر کر لیا کرتے تھے مسلم کو
    عطیہ کی بدولت آج اک کافر مسلماں ہے

    مولانا شبلی نے ایک مرتبہ قیامِ جنجیرہ کے دوران عطیہ کو مخاطب کر کے یہ اشعار کہے:

    کسی کو یاں خدا کی جستجو ہو گی تو کیوں ہو گی
    خیالِ روزہ و فکرِ وضو ہو گی تو کیوں ہو گی
    ہوائے روح پرور بھی یہاں کی نشہ آور ہے
    یہاں فکرِ مے وجام و سبو ہو گی تو کیوں ہو گی
    کہاں یہ لطف، یہ سبزہ یہ منظر یہ بہارستان
    عطیہ تم کو یادِ لکھنو ہو گی تو کیوں ہو گی

    اور جب ان کو لکھنو میں جنجیرہ کی یاد ستاتی تو کہتے:

    یاد میں صحبت ہائے رنگیں جو جزیرے میں ہیں
    وہ جزیرے کی زمین تھی یا کوئی مے خانہ تھا

    ۷،۱۹۰۶ء میں نازی بیگم اپنے شوہر اور دوسرے اہل خاندان کے ساتھ یورپ گئیں تو عطیہ بھی ان کے ساتھ تھیں۔ انگلستان میںان کی علامہ اقبال سے خوب ملاقاتیں رہیں اور ابنِ عربی کے فلسفۂ تصوف پر طویل مباحث ہوتے (علامہ اس وقت بسلسلۂ تعلیم انگلستان میںتھے) علامہ اقبال عطیہ سے اس قدر متاثر ہوئے کہ ان کو راز دار بنا لیا۔ اپنے ذاتی حالات اور ذہنی کیفیات تک سے ان کو آگاہ کرتے تھے اور اپنا کلام بھی انھیں بھیجتے تھے۔ اقبال کے خطوط عطیہ بیگم کے نام طبع ہو چکے ہیں۔

    ان کو دیکھ کر دونوں کے باہمی روابط کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ عطیہ فیضی بڑی خوبیوں کی مالک تھیں لیکن فی الحقیقت ان کو ملک گیر شہرت مولانا شبلی کی شاعری اور علامہ اقبال کے قلم نے عطا کی اور وہ برصغیر کی نامور خواتین میں شمار ہوئیں۔ ماہر القادری نے عطیہ سے بعض ذاتی ملاقاتوں اور ان مجالس کا کچھ احوال بھی لکھا ہے جو عطیہ کے خصوصی ذوق اور خود ان کے رونقِ محفل ہونے کی وجہ سے منعقد ہوئیں اور ساتھ ہی ساتھ ان کے آخری ایام کی دھندلی سی ایک تصویر ہمیں دکھاتے ہیںجس سے پتا چلتا ہے کہ دھوپ چھائوں کا کھیل بھی کیا کھیل ہے۔ لکھتے ہیں:

    ’’یہ قصہ نشاطیہ تو ہے ہی مگر کسی حد تک المیہ (ٹریجڈی) بھی ہے۔ شبلی نعمانی کے تذکرے میں عطیہ فیضی کا نام آتا ہے۔ مولانا شبلی نعمانی سے مجھے بے انتہا محبت بھی ہے اور عقیدت بھی۔ اسی نسبت اور تعلق کے سبب عطیہ فیضی کے نام سے میں بہت دنوں سے واقف تھا۔ فنون لطیفہ سے عطیہ کو جو خاص شغف تھا اس کے تذکرے بھی لوگوں کی زبانی سنے تھے۔

    ماہرالقادری