Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • اپووا ادبی کانفرنس سرگودھا کا احوال ،رپورٹ۔ مدیحہ کنول

    اپووا ادبی کانفرنس سرگودھا کا احوال ،رپورٹ۔ مدیحہ کنول

    اپووا ادبی کانفرنس سرگودھا کا احوال ،رپورٹ۔ مدیحہ کنول
    آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن(اپووا) لاہور میں نہایت کامیاب اور عظیم الشان ادبی تقریبات اور ورکشاپس منعقد کرواتی رہی ہے سال 2022کی آخری تقریب کے لیے اپووا نے شاہینوں کے شہر سرگودھا کا انتخاب کیا ،سرگودھا ادب کا گہوارہ ہے اور ادب کے بہت سے درخشندہ ستارے اپووا کو وہاں لے جانے کا سبب بنے ۔بہت سے قدآور علمی ادبی اور خوبصورت شخصیات اور چمکتے ناموںکو ایک چھت تلے اکٹھا کرنے کا بیڑہ اپووا نے اٹھایا اور بلاشبہ اسے پار بھی لگایا۔تقریب کے انتظامات کو مکمل کرنے کے لیے راقم اور تنظیم کے بانی و صدر ایم ایم علی ایک دن پہلے سرگودھا پہنچے ۔ چونکہ یہ تقریب سول ڈیفنس ہال میں ہونا تھی اس لئے سرگودھا پہنچتے ہی پہلی میٹنگ چیف وارڈن سول ڈیفنس محترمہ سائرہ خان سے ہوئی ۔ انہوں نے انتظامی امور میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کروای ۔ اور اپنےعملے کو طلب کرکے ہمارے ساتھ مل کرانتظامات مکمل کروانے کی ہدائت کی ۔کالمنگار اور سماجی کارکن طیب نوید نے بھی ہمیں جوائن کیا اورانتظامات کوحتمی شکل دینے میں ہماری مدد کی ۔ہال میں انتظامات سےفارغ ہو کر طیب نوید نے ہمارے اعزاز میں ڈنرکا اہتمام کیا۔ایڈوکیٹ سعدیہ ہما شیخ جو کہ تنظیم کی لیگل ایڈوائزر بھی ہیں اور اس تقریب کی میزبان بھی تھیں سعدیہ آپی نے میزبانی نبھای اور خوب نبھائی۔ ہمیں بہت اپنائیت کا احساس دلایا،ہمارے لیے سرگودھا میں قیام وطعام کی تمام ذمہ داری بہت اچھے طریقے سے نبھائی۔24دسمبر کی صبح 9بجے سول ڈیفنس ہال میں ادبی کانفرنس کی تمام تیاریاں مکمل تھیں ۔معزز مہمانوں کی آمد شروع ہوچکا تھا ۔لاہور سے اپووا کے دو کارواں بھی پہنچ چکے تھے ۔ ایک کارواں کی قیادت تنظیم کے سنئیر نائب صدر حافظ محمد زاہد کر رہے تھے ان کے ساتھ لیجنڈ اداکار راشد محمود ، معروف ڈرامہ نگار شگفتہ بھٹی ،ینگ ڈرامہ نگار زید بلوچ،نائب صدر اسلم سیال سیکرٹری انفارمیشن سفیان فاروقی،ہارر رائٹر فلک زاہد،ڈبیٹر حفصہ خالد شامل تھیں ۔جبکہ دوسرے کارواں کی قیادت خواتین ونگ کی نائب صدر ریحانہ عثمانی کررہیں تھیں ،ان کے ساتھ ہر دلعزیز شاہین اشرف آپا،دلشاد نسیم ،ثمینہ سید،علیمہ جبیں،نرگس نوراور مریم راشد شامل تھیں۔نمرہ ملک خصوصی طور پر تلہ گنگ سے جبکہ شانیہ چوہدری سیالکوٹ سے تشریف لائیں۔ اس بار سحرش خان ،ثمینہ طاہر بٹ زرش بٹ اور عبداللہ لیاقت کی کمی شدت سے محسوس ہوئی اپووا کے یہ متحرک ممبران اپنی اپنی مصروفیات کی وجہ سے ادبی کانفرنس میں شرکت نہ کر سکے۔

    ہال کے اندر تمام تر چیزوں کو مینج کرنے کی ذمہ داری انچارج سوشل میڈیا ساجدہ چوہدری کے ذمہ تھی۔ جبکہ تقریب کی نقابت کی ذمہ داری راقم نے نبھائی۔ تقریب کا باقاعدہ آغاز قاری عمر دراز خان کی دلسوز تلاوت سے ہوا ۔ جبکہ نعت رسول مقبول اقراء افضل پیش کی ۔ دیگر مہمان گرامی میں ، وفاقی وزیر مملکت تسنیم قریشی ،لیجنڈ اداکار راشد محمود،معروف بزنس مین اور مصنف زبیر انصاری ،اپووا کے بانی و صدر ایم ایم علی،معروف قانون دان سعدیہ ہما شیخ، چیف وارڈن (اسلام آباد) مہر شاہد اقبال، چیف وارڈن (سرگودھا) سائرہ خان، معروف دانشور ہارون رشید،معروف شاعر حیات بھٹی،لیکچرار و شاعرمرتضی حسن شیرازی،پرنسپل لاکالج ظفر اقبال،شاعر ممتاز عارف، معروف ڈرمہ نگار جہانزیب قمر اور شگفتہ بھٹی، ثمینہ گل،منزہ گوئیندی،منزہ احتشام ،نجمہ منصور،جاوید آغا،معروف ڈائجسٹ رائٹر اور مصنفہ نایاب جیلانی اور لیکچرار وشاعرہ ثمینہ سید تھے ۔علمی وادبی شخصیات نے تقریب سے خطاب کرتے ہوے کہا کہ ادب کو زندہ رکھنے کی یہ کاوش موجودہ حالات میں بہت اہمیت کی حامل ہے ۔لکھاری کو چاہیے کہ وہ حق اور سچ لکھے۔ ایک لکھاری ہی کسی بھی معاشرے کی اچھائی اور برائی دونوں موضوعات پر روشنی ڈال سکتا ہے ۔اور معاشرے کی مثبت تبدیلی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے ۔ مقررین کا کہنا تھا کہ سرگودھا میں اس نوعیت کی یہ پہلی ادبی کانفرنس ہے۔مقررین کی طرف سے اپووا کے سرپرست اعلی اور بانی و صدر کی فروغِ ادب کے لئے کی جانے والی کاوشوں کو سراہا گیا ۔ دوران تقریب مہمانوں میں ،ایوارڈز،میڈل اور سرٹیفکیٹس بھی تقسیم کئے گئے۔ اس موقع پر معروف پنجابی شاعر حیات بھٹی کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ تقریب کے آخر میں اپووا کے سنئیرنائب صدر حافظ محمد زاہد نے تقریب میںتشریف لانے پر معزز مہمانوں کاشکریہ ادا کیا ۔ تقریب کے اختتام پر شرکاء کے لیئے کھانے کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔یوں اپووا ادبی کانفرنس بہت ساری خوبصورت یادوں کے ساتھ ہمارے دلوں میں انمٹ نقوش چھوڑ کر اختتام پذیر ہوگئی ۔

  • سمترا نندن پنت ہندوستان کے ایک معروف شاعر:دنیا بھرمیں مقبول

    سمترا نندن پنت ہندوستان کے ایک معروف شاعر:دنیا بھرمیں مقبول

    پیدائش:20 مئی 1900
    ۔۔۔ Kausani، North-Western
    ۔۔۔ Provinces
    ۔۔۔ برطانوی ہند کے صوبے اور علاقے
    وفات:28 دسمبر 1977ء
    الٰہ آباد، اتر پردیش، بھارت
    قومیت:Indian
    تعلیم:Hindi Literature
    موضوع:Sanskrit
    اہم اعزازات:پدم بھوشن (1961)
    گیان پیٹھ انعام (1968)

    سمترا نندن پنت ہندوستان کے ایک معروف شاعر تھے۔ وہ 20ویں صدی کے ہندی زبان کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے اور پسند کیے جانے والے شعرا میں سے ہیں۔ وہ رومانی شاعر تھے جنہوں نے فطرت، عوام اور ان کی خوبصورتی کو اپنا موضوع سخن بنایا۔
    پس منظر
    ۔۔۔۔۔۔
    پنت کی ولادت اتراکھنڈ کے الموڑا ضلع کے کوسانی گاؤں میں ہوئی۔ وہ درمیانی درجہ کے براہمن خاندان میں پیدا ہوئے۔ ولادت کے چند گھنٹوں بعد ہی والدہ چل بسیں۔ انھیں پھر کسی سے کبھی لگاؤ نہیں ہوا۔ انھوں نے والد، دادی/نانی یا بھائی سے والہانہ تعلق قائم نہیں کیا اور یہ ان کی تحریروں میں صاف جھلکتا ہے۔ گویاکہ یہی سوچ ان کے شاعر ہونے کا محرک ثابت ہوئی۔ ان کے والد چائے کے ایک باغ میں کام کرتے تھے۔ وہ وہاں منیجر تھے اور زمین میں بھی ان کی شراکت داری تھی۔ پنت گاؤں میں ہی پلے بڑھے اور وہیں سے انھیں فطرت میں دلچسپی پیدا ہو گئی اور یہی دلچسپی ان کی شاعری کا موضوع بنی۔
    انہوں نے 1918ء میں کوینس کالج بنارس میں داخلہ لیا اور سروجنی نائڈو اور رابندر ناتھ ٹیگور کا مطالعہ شروع کیا۔ ان دو شخصیات نے پنت کو خوب متاثر کیا۔ انھوں کچھ انگریزی رومانی شاعروں کو بھی پڑھا۔ 1919ء میں وہ الہ آباد چلے گئے۔ 1926ء میں ان کا پہلا دیوان پلو شائع ہوا۔ انھوں نے محسوس کیا کہ برج بھاشا اور گزرے زمانے کی بات ہوگئی۔ اگر شہرت حاصل کرنی ہے تو نئی زبان (ہندی) میں لکھنا ہوگا۔
    ادبی سفر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    پنت نے گرچہ ہندی میں لکھنا شروع کیا تھا مگر وہ سنسکرت سے متاثر ہندی لکھتے تھے۔ انھوں نے شاعری، مضمون نگاری اور ڈراما میں کل 28 کتابیں شائع کیں۔ وہ شاعری کے کئی مناہج سے متاثر تھے۔
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    1968ء میں انہیں گیان پیٹھ انعام دیا گیا۔ “کالا اور بوڑھا چاند“ کے لیے انہیں ساہتیہ اکیڈمی اعزاز ملا۔ انہیں 1961ء میں حکومت ہند نے پدم بھوشن سے نوازا۔
    وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    28 دسمبر 1977ء کو الہ آباد میں ان کی وفات ہوگئی۔

  • عادتوں کا اس حصار — ریاض علی خٹک

    عادتوں کا اس حصار — ریاض علی خٹک

    پرندے پالنے والا ایک شخص اپنے پنجرے کا دروازہ کھول دیتا. پرندے ہوا میں اڑنے لگتے وہ انکا بڑا سا پنجرا صاف کرتا پانی اور دانہ ڈالتا اور پرندے سارے واپس پنجرے میں آجاتے. یہ دروازہ بند کر لیتا. میں نے ایک بار پوچھا ان کو یہ عادت کیسے دی.؟ اُس نے بتایا پنجرے کا دروازہ کھولنے سے پہلے انکا پیٹ نہیں بھرا جاتا. یہ خالی پیٹ جب اڑتے ہیں تو بھوک ان کو یاد دلاتی ہے کہ پیٹ بھرنے کا سامان پنجرے میں ہے. یہ واپس آجاتے ہیں.

    یہی حال ہماری عادتوں کا بھی ہوتا ہے. قرآن شریف میں ہے خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍؕ-سَاُورِیْكُمْ اٰیٰتِیْ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِ(۳۷) یعنی” آدمی جلد باز بنایا گیا۔ اب میں تمہیں اپنی نشانیاں دکھاؤں گا تومجھ سے جلدی نہ کرو” جلد بازی کا عنصر ہماری فطرت کا عنصر ہے. ہم اپنے فیصلے فوری نتائج فوری تسکین اور فوری تسلی اطمینان کیلئے کرتے ہیں. اور یہ پھر ہماری عادت بن جاتی ہے.

    عادتوں کے اس حصار کو آپ پنجرا کہہ لیں اسے کمفرٹ زون کہہ لیں یا اپنی شخصیت ہم جب اس کے قابو میں آتے ہیں تو یہ ہم سے صبر اور اپنے نفس کے خلاف مزاحمت چھین لیتی ہے. ہم ان خواہشات کے اسیر ہو جاتے ہیں جو وقتی تسکین تو بن سکتی ہیں لیکن دوررس کامیابی نہیں. ہم خود بھی اسے مانتے ہیں لیکن خود سے جیت نہیں سکتے.

    پرندے بھی تیار دانہ چھوڑ کر تلاش کی ہمت چھوڑ دیتے ہیں اسی لئے اس پنجرے کو اپنا نصیب سمجھ لیتے ہیں. ہم بھی عادات کی فوری تسکین چھوڑ کر نئی تلاش اور اس کی ہمت و مشقت سے گھبرا کر واپس اپنے حول میں بند ہو کر اسے اپنا نصیب سمجھ لیتے ہیں. عادت کے قیدی کے پاس نکلنے کا بس ایک ہی راستہ ہوتا ہے یہ صبر و ہمت کا راستہ ہے.

  • پاکستانی اداکارہ کا  ,, Inner View” — آصفہ عنبرین قاضی

    پاکستانی اداکارہ کا ,, Inner View” — آصفہ عنبرین قاضی

    ( کسی بھی اداکارہ سے خوبصورتی کا راز پوچھیں تو وہ ہمیشہ ,, اندر کی خوبصورتی اور ڈھیرا سارا پانی بتاتی ہیں ، مجال ہے جو حقیقت بتا دیں ۔ ایک ایسی ہی سلیبرٹی کا انٹرویو پڑھیے )

    *آخر میں اپنے دیکھنے والوں کو اس خوبصورتی کا راز بتانا چاہیں گی ؟
    کوئی راز نہیں ڈئیر

    *نہیں! آپ کے پرستار جاننا چاہتے ہیں ۔

    کوئی خاص راز نہیں، Its peace of mind actually

    *تو کیا باقی لڑکیاں مینٹل ڈس آرڈر کا شکار ہیں یا انھیں مرگی کے دورے پڑتے ہیں؟

    اوہ نو ۔۔۔ ایسا تو نہیں ، ایکچویلی دن میں پندرہ سے بیس گلاس پانی بس۔۔۔

    * یہ پانی جاتا کہاں ہے؟ مطلب بیس گلاس پانی پی کر آپ ہل جل کیسے لیتی ہیں ؟ شوٹنگ کب کرتی ہیں اور لیٹرین کتنی بار جاتی ہیں
    یہ تو مینج کرنے پہ ہے نااا سویٹ ہارٹ

    * کیسے مینج ہوتا ہے، ہماری خواتین آدھا گلاس پانی پی لیں تو تین بار بس رکواتی ہیں ۔ آپ کا پانی بخارات بن کے اڑ جاتا ہے کیا؟

    نو ، نو ایکچوئیلی میں کھانے میں صرف سبزیاں اور دالیں لیتی ہوں بس ۔۔۔۔ اس لیے سکن گلو کرتی ہے۔

    *ادھر شلجم ، گوبھی اور ثابت مسور منہ کو آ جاتی ہیں مگر مجال ہے جو منہ پر رونق آئے ۔ کیا آپ سبزیاں ” Tony & Guy” سے لیتی ہیں؟

    او مائی گاڈ۔۔۔ یہ سب نیچرل بیوٹی ہے ، بالکل قدرتی

    *آپ کی نیچرل ہے تو کیا باقی لڑکیاں پلاسٹک کی بنی ہیں ؟ بتا کیوں نہیں دیتی آپ

    کیا بتاوں ۔۔۔ رئیلی کچھ بھی نہیں لگاتی ، یہ سب انر بیوٹی ہے ڈارلنگ !

    مان لیتی ہوں میم ۔۔۔

    اوکے میری شوٹنگ کا وقت ہوگیا ، چلتی ہوں ۔ بااائے

    *ارے ، ارے ۔۔۔ سنیے ! آپ کا بیگ میرے دوپٹے سے الجھ کر الٹ گیا ہے ، رکیے

    اوہ سوری ۔۔ یہ تو سب چیزیں بکھر گئیں مائی گاڈ

    *کوئی بات نہیں میڈم ، میں اٹھا دیتی ہوں ۔۔۔

    یہ رہا آپ کا مسکارا ، یہ بلش آن ، اور یہ فاونڈیشن، کنسیلر ، فیس پاوڈر ۔۔۔ یہ میز کے نیچے فیس پرائمر ، آئی پرائمر ، لپ گلوس ، آئی شیڈوز’ ہائی لائٹر ، برونزر بھی پڑے ہیں ، یہ لیجیے ۔۔۔ یہ واقعی ” Inner beauty ” ہی ہے کیونکہ پرس سے نکلی ہے ۔

    غازے کی تہہ نے ڈھانپ لیں چہرے کی سلوٹیں،

    تازہ پلاسٹر میں ۔۔۔۔۔۔ عمارت قدیم ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!

  • چراغ تلے اندھیرا — ریاض علی خٹک

    چراغ تلے اندھیرا — ریاض علی خٹک

    دور سے اگر آپ زرافہ کو دیکھیں گے تو آپ کو یہ جانور عجیب ہی لگے گا. چھ فٹ لمبی اگلی ٹانگوں کے پیچھے دونوں ٹانگیں چھوٹی ہیں. اوپر سے گردن مینار پاکستان بنی ہوتی ہے. لیکن اتنی لمبی گردن نہیں کہ زمین کو چھو لے. اس لئے جب زرافہ پانی پیتا ہے تو بے ہنگم انداز میں دونوں ٹانگیں باہر کی طرف پھیلا کر گردن پہلے نیچے لاتا ہے.

    آپ سوچیں گے یہ صبح صبح لالہ کو زرافہ کیوں یاد آگیا.؟ تو وجہ یہ ہے کہ اکثر لوگ بھی زرافہ کی طرح ہی ہوتے ہیں. یہ دوسروں کو جب دیکھتے ہیں تو خود پہاڑ پر بیٹھ جاتے ہوں. کیونکہ دوسروں کو ان کے مسائل کے حل پھر ایسے بتا رہے ہوں گے جیسے پہاڑ پر بیٹھا شخص نیچے والے کو ہدایات دے رہا ہو.

    لیکن یہی شخص اپنے مسائل کو پھر ایسا دیکھتا ہے جیسے وہ مسائل نہ ہوں بلکہ کوہ ہندوکش کا پہاڑی سلسلہ ہو جسے پار کرنا ہے. یہ آپ کو اور خود کو یہ یقین دلائیں گے کہ انکا قد چھوٹا نہیں بلکہ ان کے چیلنج ہی اتنے عظیم ہیں جو یہ ان کو حل نہیں کر پائے.

    آپ کو یقین نہیں تو کسی بھی محفل میں اپنے کچھ مسائل بیان کر کے دیکھیں. سب آپ کو ایسے حل بتائیں گے کہ جیسے ایک چھٹکی بھر مسئلہ ہی تو ہے. ایسے عظیم لوگوں سے بھرا یہ ملک یہ معاشرہ پھر اتنے مسائل کا شکار کیوں ہے.؟ اسکا جواب یہ ہے کہ ہم سب زرافے ہیں. ہمیں دور کی چیزیں تو نظر آتی ہیں لیکن اپنے قدموں کی گھاس نہیں چر سکتے. ہم سارا دن اپنے ملک ہی کیا دنیا بھر کے بڑے بڑے مسائل کا حل بتاتے ہیں لیکن اپنے چھوٹے چھوٹے مسائل حل نہیں کرسکتے.

    زرافہ کی گردن اگر نیچے نہیں آسکتی تو اسے قدرت نے ایسا بنایا ہے. لیکن ہمارے چراغ تلے جو اندھیرا ہے یہ ہم نے خود تخلیق کیا ہوا ہوتا ہے. دکھاوے کے پہاڑوں سے نیچے اتر کر اگر اپنی زندگی اپنے مسائل کیلئے ہم وقت نکالیں. ان پر بات کریں انکا سامنا کریں یہ پھر پہاڑ جیسے نہیں لگتے.

  • سندھ کےعظیم شاعرشیخ مبارک علی ایاز کا یوم وفات

    سندھ کےعظیم شاعرشیخ مبارک علی ایاز کا یوم وفات

    شیخ مبارک علی ایاز المعروف شیخ ایاز (پیدئش: 23 مارچ، 1923ء – وفات: 28 دسمبر، 1997ء) سندھی زبان کے بہت بڑے شاعر ہیں۔ آپ کو شاہ عبدالطیف بھٹائی کے بعد سندھ کا عظیم شاعر مانا جاتا ہے۔ اگر آپ کو جدید سندھی ادب کے بانیوں میں شمار کیا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔

    آپ مزاحمتی اور ترقی پسند شاعر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ آپ کی پیدائش 23 مارچ، 1923ء میں شکارپور میں ہوئی۔ آپ نے درجنوں کتابیں لکھیں اور سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی رہے۔ آپ نے "شاہ جو رسالو” کا اردو میں منظوم ترجمہ کیا جو اردو ادب میں سندھی ادب کا نیا قدم سمجھا جاتا ہے۔

    23 مارچ، 1994ء کو آپ کو ملک سب سے بڑا ادبی ایوارڈ ہلال امتیاز 16 اکتوبر، 1994ء کو فیض احمد فیض ایوارڈ ملا۔ شیخ ایاز کا انتقال حرکت قلب بند ہونے سے 28 دسمبر، 1997ء کو کراچی میں ہوا۔

    کتابیات
    ۔۔۔۔۔۔
    شاعری
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)نیل کنٹھ اور نیم کے پتے۔ (اردو)
    ۔ (2)الوداعی گیت – الوداعی گيت
    ۔ (3)جو بیجل نے اکھیا (پنجابی)
    نثر
    ۔۔۔۔
    ۔ (1)سفید وحشی (سندھی کہانیاں)
    ۔ (2)جی کاک ککوریا کاپری (سندھی میں خط)
    ۔ (3)جگ مڑوئی سپنو (سوانح عمری)
    ۔ (4)ساھیوال جی ڈائری

  • روس کے غنائی شاعر سرگیئی الیکساندرووچ یسینن کا یوم وفات

    روس کے غنائی شاعر سرگیئی الیکساندرووچ یسینن کا یوم وفات

    سرگیئی الیکساندرووچ یسینن روسی (پیدائش: 3 اکتوبر 1895ء – وفات: 27 دسمبر 1925ء) روس کے غنائی شاعر تھے۔

    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔
    یسینن 3 اکتوبر 1895ء کو روسی سلطنت کے صوبے ریازان کے گاؤں کنستن تینووہ میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے کلیسائی استادوں کے اسکول میں تعلیم حاصل کی۔ سرگیئی یسینن سولہ سترہ سال کی عمرمیں پہلی نظمیں لکھیں اور سینٹ پیٹرزبرگ گئے جہاں ان کی ملاقات الکساندر بلوک، گرودیتسکی، کلیوئیف اور دوسرے شاعروں ادیبوں سے ہوئی۔ ڈیڑھ سال انھوں نےسینٹ پیٹرزبرگ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی اور اس کے بعد اپنے گاؤں واپس آگئے۔

    انھوں نے اپنی خود نوشت میں 1925ء میں لکھا کہ ”انقلاب کے برسوں میں پوری طرح سےانقلاب اکتوبر کی طرف تھا لیکن ہر چیز کو میں نے اپنی طرح سے کسانی رجحانات کے ساتھ قبول کیا۔“

    باکو کے 26 کمیساروں کے بارے میں (جنہیں رجعت پرست انقلاب دشمنوں نے مصالحت کا دھوکا دے کر قتل کر دیا تھا) ان کی نظم یسینن کی بے مثال طبائی کی بہترین مثالوں میں ہے۔ یہ نظم انھوں نے ماورائے قفقاز میں اپنے قیام کے دوران میں لکھی۔

    نظمیں
    ۔۔۔۔۔۔
    ماں کے نام خط
    روس سوویت والا
    الوداع
    خزاں
    میں اپنے گاؤں کا آخری شاعر ہوں
    پوگاچیف
    ایک خاتون کے نام خط
    کالاشخص
    کچلوف کا کتا

    وفات
    ۔۔۔۔۔۔
    روس کے غنائی شاعر سرگیئی یسینن 30 سال کی عمر میں 28 دسمبر 1925ء کو لینن گراد (موجودہ سینٹ پیٹرزبرگ)، سویت یونین میں انتقال کر گئے۔

  • پروفیسر سحر انصاری:اردوزبان کے معروف شاعراور ادیب بھی

    پروفیسر سحر انصاری:اردوزبان کے معروف شاعراور ادیب بھی

    عجیب ہوتے ہیں آداب رخصت محفل
    کہ وہ بھی اٹھ کے گیا جس کا گھر نہ تھا کوئی

    پروفیسر سحر انصاری

    27 دسمبر 1941 یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اردو زبان کے معروف شاعر، ادیب ، نقاد ، ماہرِتعلیم اورمیرے استادِ محترم پروفیسر سحر انصاری 27 دسمبر 1941 کو اورنگ آباد (دکن) میں پیدا ہوئے 1973 میں بلوچستان یونیورسٹی سے بطوراستاد پیشہ وارانہ سرگرمی کا آغاز کیا ۔ بعد ازاں جامعہ کراچی کے شعبہ تدریس سے وابستگی اختیار کی ۔ پہلی کتاب نمود 1976 میں شایع ہوئی جسے بے حساب پزیرائی حاصل ہوئی۔ خدا سے بات کرتے ہیں ان کا دوسرا شعری مجموعہ ہے۔ حکومت پاکستان کی جانب سے ان کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں 2015 میں ستارہ امتیاز سے نوازا گیا۔
    ..
    جانے کیوں رنگ بغاوت نہیں چھپنے پاتا
    ہم تو خاموش بھی ہیں سر بھی جھکائے ہوئے ہیں
    ..
    صدا اپنی روش اہل زمانہ یاد رکھتے ہیں
    حقیقت بھول جاتے ہیں فسانہ یاد رکھتے ہیں
    ہجوم اپنی جگہ تاریک جنگل کے درختوں کا
    پرندے پھر بھی شاخ آشیانہ یاد رکھتے ہیں
    ہمیں اندازہ رہتا ہے ہمیشہ دوست دشمن کا
    نشانی یاد رکھتے ہیں نشانہ یاد رکھتے ہیں
    ہم انسانوں سے تو یہ سنگ و خشت بام و در اچھے
    مسافر کب ہوا گھر سے روانہ یاد رکھتے ہیں
    دعائے موسم گل ان کو راس آ ہی نہیں سکتی
    جو شاخ گل کے بدلے تازیانہ یاد رکھتے ہیں
    ہماری سمت اک موج طرب آئی تو یاد آیا
    کہ کچھ موسم ہمیں بھی غائبانہ یاد رکھتے ہیں
    غرور ان کو اگر رہتا ہے اپنی کامیابی کا
    سحرؔ ہم بھی شکست فاتحانہ یاد رکھتے ہیں

  • افسانہ نویس  و ناول نگار اور مترجم قیصر نذیر خاورانتقال کرگئے.

    افسانہ نویس و ناول نگار اور مترجم قیصر نذیر خاورانتقال کرگئے.

    قیصر نذیر خاورؔ یکم اگست 1953ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ رہائش انارکلی میں تھی. 1976ء میں پنجاب یونیورسٹی سے جیالوجی اور 1983ء میں پبلک ایڈمنسٹریٹریشن میں ڈگریاں حاصل کیں. اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن میں ملازم ہوئے اور بطور ڈائریکٹر جنرل (ایجوکیشن) ، او پی ایف ریٹائر ہوئے ۔
    ترقی پسند لٹریچر کی اشاعت کیلئے دوستوں نے مل کر جو ادارہ مکتبہ فکر و دانش قائم کیا تھا، اس کے شرکاء نے اگرچہ الگ الگ کئی ادارے قائم کرلئے لیکن مکتبہ فکرودانش کا نام قیصر نذیر خاور نے زندہ رکھا. اپنی تمام کتابیں اسی ادارے کے نام سے شائع کیں.

    قیصر نذیر خاور کی تخلیقات و تراجم :

    انگولا سے زائر تک ، 1976
    یک سِنگھے ‘ ( بارہ افسانے )، جاپان کے مشہور ادیب ہاروکی موراکامی کے منتخب افسانوں کے اردو تراجم 2012
    حکایات ِ عالم‘ ( 101 حکایات کا انتخاب اور اردو ترجمہ، 2018ء،
    ۔جولیٹ اور دیگر کہانیاں، (نوبل انعام یافتہ ادیبہ ایلس منرو کے دس منتخب افسانوں کا ترجمہ، 2018ء،

    ۔عالمی ادب سے ایک انتخاب ، ( دنیا بھر سے 25 منتخب ادیبوں کے تعارف کے ساتھ ان کے منتخب افسانوں کا اردو ترجمہ 2018ء،

    ۔عالمی ادب اور افسانچہ، (196 افسانچے)، 2018ء،

    ۔”دوسری نسل کا المیہ”، برناڈ شیلنک (Bernhard Schlink) کے جرمن ناول Der Vorlese اور پر مبنی فلم The readerکے اسکرپٹ کا ترجمہ 2019ء

    ۔”وارفکشن: سرحد کے آس پاس کہیں اور دیگر افسانے”، (منتخب افسانوں کےاردو تراجم اور طبع زاد تحریریں) ، 2019ء،
    ۔”اپنی محفل سے مت نکال ہمیں”، کازُوا اِشیگورو کے ناول Never Let Me Go کا اردو ترجمہ اور مضامین، 2020ء،

    "جھوٹ کی سرزمین اور دیگر افسانے” (عالمی ادب سے منتخب 28 افسانوں کا اردو ترجمہ) ، 2020ء

    "انجان نگر میں کھلی کھڑکی اور دیگر افسانے” (عالمی ادب سے منتخب افسانوں کا اردو ترجمہ) ، 2020ء

    "مچھلیوں کی خودکشی اور دیگر افسانے” (عالمی ادب سے منتخب افسانوں کا اردو ترجمہ)، 2020ء

    "کیوں ھوئے خوار و زبوں”، جے ایشر (Jay Asher) کے ناول THIRTEEN REASONS WHY کا اردو ترجمہ، 2020ء،
    کلب نا آفریدہ ( کامریڈ کلب علی شیخ کے مضامین )، 2021ء

    "انُوکل اور دیگر کہانیاں”، مصنف: ستیہ جِت رے، قیصر نذیر خاور، 2021ء
    "دی فادر ، دی سَن اینڈ دی ہولی گھوسٹ”، (طبع زاد ناولٹ) 2022ء

    "ادھ کھلے دریچے”، (طبع زاد ناولٹ)، 2022ء
    "فائٹ کلب ” ، فینش ادب: افسانے، شاعری، بچوں کی کہانیاں ، (Finland Literature) ، قیصر نذیر خاور، غلام حسین غازی 2022ء

  • تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے،معروف شاعرہ شبینہ ادیب  کا یوم پیدائش

    تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے،معروف شاعرہ شبینہ ادیب کا یوم پیدائش

    تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے

    معروف شاعرہ شبینہ ادیب 27 دسمبر 1974ء کو کانپور، اترپردیش میں عزیز احمد اور ریبو بیگم کے ہاں پیدا ہوئیں ان کی شادی جوہر کان پوری سے ہوئی ان کے ہاں ایک بیٹی طوبیٰ جوہر پیدا ہوئی ان کی تصنیف میں تم میرے پاس رہو“ (شعری مجموعہ) شامل ہے-

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    خموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں، دلوں میں اُلفت نئی نئی ہے
    ابھی تکلف ہے گفتگو میں، ابھی محبت نئی نئی ہے

    ابھی نہ آئے گی نیند تمکو، ابھی نہ ہمکو سکوں ملے گا
    ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ، ابھی یہ چاہت نئی نئی ہے

    بہار کا آج پہلا دن ہے، چلوچمن میں ٹہل کے آئیں
    فضا میں خوشبو نئی نئی ہے، گلوںمیں رنگت نئی نئی ہے

    جو خاندانی رئیس ہیں وہ مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا
    تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے

    ذرا سا قدرت نے کیا نوازا، کہ آ کے بیٹھے ہو پہلی صف میں
    ابھی سے اڑنے لگے ہوا میں، ابھی تو شہرت نئی نئی ہے

    بموں کی برسات ہو رہی ہے،پُرانے جانباز سو رہے ہیں
    غلام دُنیا کو کر رہاہے، وہ جسکی طاقت نئی نئی ہے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تمہارا چہرہ چراغوں میں کون رکھتا ہے
    مری طرح تمہیں آنکھوں میں کون رکھتا ہے

    خدا کی ذات پہ ہم کو یقین ہے ورنہ
    دئیے جلاکے ہواؤں میں کون رکھتا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی