Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • ہندی زبان کے معروف شاعر یشپال کا یوم وفات

    ہندی زبان کے معروف شاعر یشپال کا یوم وفات

    ہندی زبان کے معروف شاعر یشپال،صحافی، مصنف یشپال ضلع کانگرا میں 03 دسمبر 1903ء میں پیدا ہوئے، یشپال ہندی کے مارکسی ناول نگار مانے جاتے ہیں۔ ادب کے میدان میں قدم رکھنے سے پہلے وہ ایک انقلابی تنظیم سے وابستہ تھے۔ ان کے ابتدائی ناولوں میں انقلابی رحجان کا اثر دکھائی دیتا ہے۔ یشپال کے ناول تین رحجانات کے حامل ہیں۔ ”دادا کامریڈ“ رومانی انداز کا ناول ہے۔ اس کے کردار جذباتی اور تخیل پسند ہیں۔ اسے ہندی کا ایسا پہلا ناول قرار دیا گیا ہے جس میں سیاست اور رومانیت کا امتزاج ہے۔ دوسرا رحجان سماجی حقیقت نگاری کا ہے۔

    ”دیش دروہی“، ”دبیا“ اور ”پارٹی کامریڈ“ سماجی حقیقت نگاری کے ناول ہیں۔ ان میں ایسے سماج کی تمنا کی گئی ہے جس میں لوگ طبقوں میں بٹے ہوئے نہ ہوں۔ اس طرح کے ناولوں میں متوسط طبقے کی تصویر ملتی ہے۔ تیسرا رحجان فطرت پسندی کا ہے۔ ”منش کے روپ“ میں یشپال فطر پسندی کی طرف مائل نظر آتے ہیں۔ ”پرتشٹھا کا بوجھ“ اور ”دھرم رکھشا“ یشپال کی ایسی کہانیاں ہیں جن میں فطرت پسندی کی طرف جھکاؤ ملتا ہے۔ لیکن یشپال کے جس ناول کو سب سے زیادہ شہرت ملی وہ "جھوٹا سچ” ہے۔ اس ناول میں کا پس منظر تقسیم کے بعد کے فسادات ہیں۔

    تقسیم نے دونوں ملکوں کے مختلف فرقوں اور مختلف مذہبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے درمیان میں جو زہر گھولا اس کی موثر انداز میں تصویر کشی کی گئی ہے۔ یشپال اپنی تخلیقات میں سماجی برائیوں، اندھے عقائد اور سماجی ناانصافی کے خلاف اعلان جنگ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ 1976ء میں ”میری تیری اس کی بات“ پر ان کو ساہتیہ اکادمی انعام سے نوازا گیا اور یہ پدم بھوشن وصول کنندہ بھی تھے۔

    ابتدائی زندگی
    ۔۔۔۔۔۔
    یشپال 1903ء میں کانگڑا چوٹیوں میں واقع ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ ان کی اماں بہت غریب تھیں اور اپنے دو بچوں کی اکیلے پرورش کرنے کی ذمہ دار ان ہی کے کندھوں پر تھی۔ انھوں نے اس دور میں نشو و نما پائی جب برطانوی راج سے آزادی حاصل کرنے کے دعووں کی گونج میں اضافہ ہوچکا تھا اور ان کی اماں آریہ سماج کی کٹر حمایتی تھیں۔ انہوں نے غربت کے سبب ابتدائی تعلیم آریہ سماج کے گروکُل (روایتی مدرسہ) سے حاصل کی، جہاں مفت کھانے، کپڑوں اور ٹیوشن کی سہولت تھی۔

  • جیت کااحساس — ریاض علی خٹک

    جیت کااحساس — ریاض علی خٹک

    مچھیرے جال پھینک کر مچھلیاں پکڑتے ہیں. لیکن انسٹاگرام فیس بُک پر فخریہ اپنی پکڑی کسی مچھلی کے ساتھ تصاویر شئیر نہیں کرتے. کیونکہ اس میں کمال مقام اور جال کا بھی شریک ہوتا ہے. لیکن ایک کانٹا لٹکائے شکاری صرف ایک مچھلی پکڑتا ہے اور جیت کا ایسا احساس اسے ملتا ہے کہ وہ دنیا کو بتانا چاہتا ہے دیکھو میں نے مچھلی پکڑی. یہ میرا کمال ہے.

    یہ واقعی ایک کمال ہے. ایک مچھلی ساری جھیل دریا اور سمندر میں بکھری فطرت کی خوراک چھوڑ کر اگر اس کانٹے پر لپکے اور شکاری اسے شکار بنالے تو کمال ہی کہلائے گا. ایسے ہی ٹیکنالوجی کے اس دور میں کلک بیٹس ہنی ٹریپ اور آڈیو ویڈیوز کو سچ مان لینے والی مچھلیاں بھی کمال مثال ہوتی ہیں.

    ٹیکنالوجی کے اس دور میں جب کچے کے ڈاکو بھی وائس چینجر سوفٹویر سے لڑکی کی آواز میں کوئی مرغا ایسا پھنسا لیتے ہیں جو سب کچھ چھوڑ کر جنگل میں چلا جاتا ہے. تو یہ اس ڈاکو شکاری کا کمال ہی ہے. البتہ اس مرغے کی یہ جہالت ہوگی. ایسے ہی سیاسی مقاصد کیلئے آڈیوز ویڈیوز کا استعمال کرنے والے ہوں یا انٹرنیٹ پر لوگوں کے کلکس سمیٹنے والے چینلز کی سرخیاں ہوں ان کو سچ سمجھنے والی آڈینس یہی بے وقوف مچھلیاں ہی ہوتی ہیں.

    جب تک دریا کی مچھلیوں کو عقل نہیں آئے گی شکاریوں کا شکار جاری رہے گا. ہمارے ہاں یہ شکار جس زور و شور سے جاری ہے یہ صرف یہاں جہالت کا حساب بتا رہا ہے.

  • ایسا کچھ میرا مطلب نہیں تھا!!! — محمد جمیل احمد

    ایسا کچھ میرا مطلب نہیں تھا!!! — محمد جمیل احمد

    جب میں اپنی ایک کلاس فیلو کے ساتھ کچھ کھانے کسی ریسٹورنٹ پر گیا تھا تو یہ میرا کسی لڑکی کے ساتھ ریسٹورنٹ پر جانے کا پہلا تجربہ تھا ۔۔۔ کلاس ختم ہونے پر گیٹ تک جاتے چار پانچ دوستوں کا کچھ کھانے کا پلان بن رہا تھا جو کہ ناران کاغان، مری، جھیل سیف الملوک، وادی سُون اور آزاد کشمیر کی سیر کے پلان کی طرح تقریباً کینسل ہو ہی رہا تھا ۔۔۔ مگر پھر ہم دو لوگ بچ گئے ۔۔۔ مجھے تو ہاسٹل واپس جانا تھا اس وجہ سے کوئی جلدی نہیں تھی اور اس بیچاری کو بھوک نے ستایا تھا اسکی مجبوری تھی ۔۔۔

    اب جیسا کہ ہمارا کوئی سین تو کیا ش اور ع یہاں تک کہ غ بھی نہیں تھا اس وجہ سے میری پوری توجہ صرف ایک ہی چیز پر تھی اور وہ تھا بروسٹ ۔۔۔ میں چاہتا تھا میں زیادہ کھالوں تاکہ خدانخواستہ پیسے مجھے بھی دینے پڑ جائیں تو دُکھ نہ ہو ۔۔۔ اس نے دو ریگولر بوتلیں آفر کیں تو میں نے کہا کہ ایک ہالف لٹر منگوا لو اور ساتھ دو گلاس منگوا لو ۔۔۔ دو ریگولر سے ایک ہالف لیٹر سستی پڑ جائے گی ۔۔۔ لیکن نہیں پائی ۔۔۔ اسکا بھائی تو بارلے ملک ہوتا ہے ۔۔۔ اس نے ریگولر ہی دو منگوانی تھیں ۔۔۔

    ٹھیک ہے منگوا لو ۔۔۔

    اس نے اپنے گلابی گالوں پر گِری بالوں کی لٹ کو سلیقے سے ہٹاتے ہوئے لبوں پر مسکراہٹ دیتے مجھ سے پوچھا ۔۔۔

    "تم بروسٹ زیادہ اسپیڈ سے نہیں کھارہے۔۔۔”

    میں: نارمل اسپیڈ ہے ۔۔۔ ویسے تم بھی اسپیڈ سے کھالو، تمہیں بھوک کافی لگی تھی ۔۔۔

    (اس نے اخلاقیات کی عظیم مثال قائم کرتے ہوئے کوئی جواب نہیں دیا ۔۔۔ )

    وہ: تمہیں کہیں جانا ہے اب ؟؟؟

    میں: کیوں ؟؟؟ ۔۔۔

    وہ: میرے ساتھ آجاؤ، مجھے کچھ نقشے خریدنے ہیں ۔۔

    میں: میرے ابو کونسا نقشے بنانے والے محکمے میں ہوتے ہیں جو میں نقشے خریدنے تمہارے ساتھ جاؤں۔۔۔

    وہ: تو نہ جاؤ ۔۔۔ بروسٹ کھانے کے لئے آنے کا پتا تھا, اب نقشے خریدنے کے لئے وہاں تک جاتے تکلیف ہوتی ہے ؟؟؟

    میں: شکر کر میں تیرے ساتھ بروسٹ کھانے آگیا۔۔۔ مجھے کتنے ضروری کام ہیں تیری سوچ ہے ۔۔۔

    وہ: جانا ہے یا نہیں ۔۔۔ ہاں یا ناں ؟؟؟

    میں: ہاں ۔۔۔

    اس نے بِل دیا، ہم نقشے خریدنے چلے گئے ۔۔۔ اگلے دن کلاس ختم ہوئی تو میں نے پوچھا ۔۔۔

    "آج کوئی نقشے وغیرہ تو نہیں خریدنے ؟؟؟”

    وہ: نہیں ۔۔۔

    میں : چلو کوئی گل نہیں ۔۔۔ میں اپنے لئے کوئی ریگولر نقشوں والی ڈھونڈ لیتا ہوں ۔۔۔

    وہ: تیرے ساتھ جو جائے گی وہ بڑے امیر باپ کی بیٹی ہی ہوگی ۔۔۔ تم نے کچھ کھانے سے لیکر واپس جانے تک کسی ایک جگہ بھی نہیں پوچھنا ہوتا کہ پیسے میں دے دوں ۔۔۔

    میں: مطلب پیسوں کا تعلق ہے بس ؟؟؟ (جذبات کا وار کرتے ہوئے)۔۔۔

    وہ: ارے نہیں وہ مطلب نہیں تھا میرا ۔۔۔

    میں: او رہنے دے ، تیرا جو مطلب تھا ۔۔ بتا کل کتنے پیسوں کا بروسٹ کھلایا ہے ۔۔۔ رکشے کا کرایہ بھی بتا اور بھی کوئی لگے تو بتا۔۔۔ (میں اپنا بٹوہ جیب سے نکالتے ہوئے ۔۔۔) تعلق پیسوں کا ہی ہے تو حساب کرلیتے ہیں ناں۔۔۔ کونسا کوئی دیکھ رہا ہے ۔۔۔ اسطرح بندے کو ذلیل کرنے کے لئے پیسے پیسے نہیں سناتے ہوئے، نہ کوئی اوقات ہوتی ہے پیسوں کی ۔۔۔ بتا کتنے لگے کل ۔۔۔

    وہ: یار سیریسلی ایسا کچھ میرا مطلب نہیں تھا ۔۔۔

    میں: مطلب وغیرہ نہیں چاہیں یار مہربانی۔۔۔ کلاس کے بعد مجھے سب کے پاس کھڑے کرکے پیسوں کے لئے ذلیل کررہی ہو مزید تیرے مطلب نہیں جاننے مجھے ۔۔۔

    بات گلے شکوے کرنے تک پہنچی تو ہم نے کیفے بیٹھ کر ساری غلط فہمیاں دور کیں، چائے پی، نگٹس کھائے اس نے پیسے دئیے اور ہم ہنسی خوشی گھر چلے گئے۔۔۔

  • بیگم زیب النساء حمید اللہ ،پاکستان کی پہلی خاتون انگریزی مصنفہ، صحافی، ایڈیٹر اور شاعرہ

    بیگم زیب النساء حمید اللہ ،پاکستان کی پہلی خاتون انگریزی مصنفہ، صحافی، ایڈیٹر اور شاعرہ

    بیگم زیب النساء حمید اللہ ،پاکستان کی پہلی خاتون انگریزی مصنفہ، صحافی، ایڈیٹر اور شاعرہ

    25 دسمبر یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بیگم زیب النساء صاحبہ کو بہت سے اہم ترین اور منفرد اعزازات حاصل ہیں اور یہ سب کچھ انہیں خداداد صلاحیتوں کی بدولت حاصل ہوا۔ زیب النساء 25 دسمبر 1921 میں کولکتہ کے ایک علمی اور ادبی مسلم گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد صاحب واجد علی ایک نامور لکھاری تھے جنہوں نے سب سے پہلے شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کی شاعری کا بنگالی زبان میں ترجمہ کیا۔ ان کے والد نے اپنی ہونہار صاحبزادی کو اعلی تعلیم دلائی۔ہندوستان کی تقسیم کے باعث ان کا خاندان کراچی پاکستان منتقل ہو گیا۔ زیب النسا کی شادی 1940 میں ایک کاروباری شخصیت خلیفہ محمد حمید اللہ سے ہوئی جس سے انہیں دو بیٹیاں نیلوفر اور یاسمین پیدا ہوئیں۔ زیب النسا نے 1948 میں انگریزی اخبار روزنامہ ڈان سے کالم نگاری کا آغاز کیا جبکہ 1958 میں انہوں نے کراچی سے انگریزی میں Mirror کے نام سے ماہنامہ جریدہ نکالا جو کہ بہت جلد پاکستان کا ایک مقبول ترہن جریدہ بن گیا ۔ وہ "مرر” کی ایڈیٹر اور پبلشر خود ہی تھیں جبکہ وہ ادارت اور کالم نگاری کے علاوہ شاعری بھی کرتی تھیں اس طرح وہ پاکستان میں انگریزی زبان کی پہلی خاتون صحافی، کالم نگار ، ایڈیٹر ، پبلشر اور انگریزی شاعرہ بن گئیں جو کہ بہت بڑے اعزازات ہیں ۔ اپنے کالمز اور اداریوں میں حکومت کی غلط پالیسیوں پر زبردست تنقید کی وجہ سے ان کے جریدے کی اشاعت پر پابندی عائد کر دی گئی لیکن انہوں نے معروف قانون دان اے کے بروہی کی توسط سے سپریم کورٹ میں حکومت کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا اور یہ مقدمہ انہوں نے جیت لیا اور پاکستان میں کسی بھی خاتون صحافی کا مقدمہ جیتنے کا پہلا اعزاز بھی ان کے حصے میں آیا۔

    محترمہ فاطمہ جناح اور بیگم رعنا لیاقت علی خان ان کی بہترین دوستوں میں شامل تھیں ۔ زیب النسا صاحبہ کے خاوند پاکستان میں باٹا شوز کمپنی کے چیف ایگزیکٹو کے عہدے پر فائز تھے۔ 1970 میں ان کے شوہر حمید اللہ صاحب کا آئر لینڈ تبادلہ کر دیا گیا تو زیب النسا بھی ان کے ہمراہ ڈبلن آئر لینڈ منتقل ہو گئیں لیکن کراچی پاکستان میں ان کی آمد و رفت کا سلسلہ جاری رہا۔ 1983 میں ان کے شوہر محترم کا کراچی میں انتقال ہوا۔ زیب النسا کو پاکستان کی پہلی خاتون مبصر ہونے اور الازہر یونیورسٹی قاہرہ سے خطاب کرنے کا بھی اعزاز حاصل رہا ہے ۔ 10 ستمبر 2000 میں ان کا کراچی میں انتقال ہوا ۔ کراچی کی مشہور گلی ” زیب النسا اسٹریٹ” ان کے نام سے منسوب ہے ۔ بیگم زیب النساء حمید اللہ کی انگریزی تصانیف کی تفصیل درج ذیل ہے۔

    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)Indian Bouquet
    ۔ 1941
    ۔ (2)Lotus Leaves
    ۔ 1946
    ۔ (3)Sixty Days in
    ۔ America
    ۔ 1956
    ۔ (4)The Young Wife
    ۔ 1958
    ۔ (5)The Flute of
    ۔ Memory
    ۔ 1964
    ۔ (6)Poems
    ۔ 1972

  • 26 دسمبر ،اردو کی منفرد لہجے کی شاعرہ پروین شاکر کا یومِ وفات

    26 دسمبر ،اردو کی منفرد لہجے کی شاعرہ پروین شاکر کا یومِ وفات

    مر بھی جائوں تو کہاں لوگ بھلا ہی دیں گے
    لفظ میرے، مرے ہونے کی گواہی دیں گے

    26 دسمبر اردو کی منفرد لہجے کی شاعرہ پروین شاکر کا یومِ وفات

    یہ دُکھ نہیں کہ اندھیروں سے صلح کی ہم نے
    ملال یہ ہے کہ اب صبح کی طلب بھی نہیں

    سیدہ پروین شاکر 24 نومبر 1954 ء کو پاکستان کے شہر کراچی میں پیدا ہوئیں۔ آپ کے والد کا نام سید شاکر حسن تھا۔ ان کا خانوادہ صاحبان علم کا خانوادہ تھا۔ ان کے خاندان میں کئی نامور شعرا اور ادبا پیدا ہوئے۔ جن میں بہار حسین آبادی کی شخصیت بہت بلند و بالا ہے۔آپ کے نانا حسن عسکری اچھا ادبی ذوق رکھتے تھے انہوں بچپن میں پروین کو کئی شعراء کے کلام سے روشناس کروایا۔ پروین ایک ہونہار طالبہ تھیں۔ دورانِ تعلیم وہ اردو مباحثوں میں حصہ لیتیں رہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ریڈیو پاکستان کے مختلف علمی ادبی پروگراموں میں شرکت کرتی رہیں۔ انگریزی ادب اور زبانی دانی میں گریجویشن کیا اور بعد میں انہی مضامین میں جامعہ کراچی سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ پروین شاکر استاد کی حیثیت سے درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ رہیں اور پھر بعد میں آپ نے سرکاری ملازمت اختیار کر لی۔

    سرکاری ملازمت شروع کرنے سے پہلے نو سال شعبہ تدریس سے منسلک رہیں، اور 1986ء میں کسٹم ڈیپارٹمنٹ ، سی۔بی۔آر اسلام آباد میں سیکرٹری دوئم کے طور پر اپنی خدمات انجام دینے لگیں۔1990 میں ٹرینٹی کالج جو کہ امریکہ سے تعلق رکھتا تھا تعلیم حاصل کی اور 1991ء میں ہاورڈ یونیورسٹی سے پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ پروین کی شادی ڈاکٹر نصیر علی سے ہوئی جس سے بعد میں طلاق ہوئی ۔

    شاعری میں آپ کو احمد ندیم قاسمی صاحب کی سرپرستی حاصل رہی۔آپ کا بیشتر کلام اُن کے رسالے فنون میں شائع ہوتا رہا۔ 1977ء میں آپ کا پہلا مجموعہ کلام خوشبو شائع ہوا۔ اس مجموعہ کی غیر معمولی پذیرائی ہوئی اور پروین شاکر کا شمار اردو کے صف اول کے شعرامیں ہونے لگا۔ خوشبو کے بعد پروین شاکر کے کلام کے کئی اور مجموعے صد برگ، خود کلامی اور انکار شائع ہوئے۔ آپ کی زندگی میں ہی آپ کے کلام کی کلیات ’’ماہ تمام‘‘ بھی شائع ہوچکی تھی جبکہ آپ کا آخری مجموعہ کلام کف آئینہ ان کی وفات کے بعد اشاعت پذیر ہوا۔

    26 دسمبر 1994ء کو اس خبر نے ملک بھر کے ادبی حلقوں ہی نہیں عوام الناس کو بھی افسردہ اور ملول کردیا کہ ملک کی ممتاز شاعرہ پروین شاکر اسلام آباد میں ٹریفک کے ایک اندوہناک حادثے میں وفات پاگئی ہیں۔
    پروین شاکر کو اگر اردو کے صاحب اسلوب شاعروں میں شمار کیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ انہوں نے اردو شاعری کو ایک نیا لب و لہجہ دیا اور شاعری کو نسائی احساسات سے مالا مال کیا۔ ان کا یہی اسلوب ان کی پہچان بن گیا۔ آج بھی وہ اردو کی مقبول ترین شاعرہ تسلیم کی جاتی ہیں۔

    پروین شاکر نے کئی اعزازات حاصل کئے تھے جن میں ان کے مجموعہ کلام خوشبو پر دیا جانے والا آدم جی ادبی انعام، خود کلامی پر دیا جانے والا اکادمی ادبیات کا ہجرہ انعام اور حکومت پاکستان کاصدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سرفہرست تھے۔

    پروین شاکر اسلام آباد کے مرکزی قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

  • زندہ رہیں تو کیا ہے جو مرجائیں ہم تو کیا، یوم وفات منیر نیازی

    زندہ رہیں تو کیا ہے جو مرجائیں ہم تو کیا، یوم وفات منیر نیازی

    زندہ رہیں تو کیا ہے جو مرجائیں ہم تو کیا، یوم وفات منیر نیازی

    زندہ رہیں تو کیا ہے جو مرجائیں ہم تو کیا
    دنیا سے خامشی سے گزر جائیں ہم تو کیا

    منیر نیازی

    پیدائش:09اپریل 1928ء
    ہوشیار پور، ہندوستان
    وفات:26دسمبر 2006ء

    نام محمد منیر خاں قبیلہ نیازی پٹھان اور تخلص منیر ہے۔ 09اپریل 1928ء کو خان پور ضلع ہوشیار پور میں پیدا ہوئے۔۱۹۴۷ء میں بی اے کیا۔ تقسیم ہند کے بعد پاکستان آگئے۔مختلف اخبارات اور جرائد سے وابستہ رہے۔ فلمی نغمہ نگاری کی۔غزل ان کی بنیادی شناخت ہے۔پابند اور آزاد نظمیں بھی کافی تعداد میں لکھی ہیں۔ نثری نظمیں بھی لکھتے تھے۔پنجابی کے بھی بہت اچھے شاعر تھے۔وہ اردو اور پنجابی کے ۳۰؍ سے زائد کتابوں کے مصنف تھے۔ اردو شاعری کے چند مجموعوں کے نام یہ ہیں : ’تیز ہوا اور تنہا پھول‘،’جنگل میں دھنک‘، ’دشمنوں کے درمیان شام‘، ’ماہ منیر‘، ’اس بے وفاکا شہر‘،’چھ رنگین دروازے‘۔ان کو یکجا کرکے ’’کلیات منیر‘، ’غزلیات منیر‘، اور ’نظم منیر‘، چھپ گئی ہے۔26؍دسمبر2006ء کو لاہور میں انتقال کرگئے۔ انھیں اکادمی ادبیات پاکستان کا ’کمال فن‘ ایوارڈ دیا گیا۔ انھیں حسن کارکردگی ایوارڈ کے علاوہ دومرتبہ ستارۂ امتیاز سے بھی نوازا گیا۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:221

    اشعار
    ۔۔۔۔۔

    کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے
    سوال سارے غلط تھے جواب کیا دیتے

    آواز دے کے دیکھ لو شاید وہ مل ہی جائے
    ورنہ یہ عمر بھر کا سفر رائیگاں تو ہے

    اب کون منتظر ہے ہمارے لیے وہاں
    شام آ گئی ہے لوٹ کے گھر جائیں ہم تو کیا

    خواب ہوتے ہیں دیکھنے کے لیے
    ان میں جا کر مگر رہا نہ کرو

    یہ کیسا نشہ ہے میں کس عجب خمار میں ہوں
    تو آ کے جا بھی چکا ہے، میں انتظار میں ہوں

    خیال جس کا تھا مجھے خیال میں ملا مجھے
    سوال کا جواب بھی سوال میں ملا مجھے

    اپنی ہی تیغ ادا سے آپ گھائل ہو گیا
    چاند نے پانی میں دیکھا اور پاگل ہو گیا

    غم کی بارش نے بھی تیرے نقش کو دھویا نہیں
    تو نے مجھ کو کھو دیا میں نے تجھے کھویا نہیں

    عادت ہی بنا لی ہے تم نے تو منیرؔ اپنی
    جس شہر میں بھی رہنا اکتائے ہوئے رہنا

    آ گئی یاد شام ڈھلتے ہی
    بجھ گیا دل چراغ جلتے ہی

    محبت اب نہیں ہوگی یہ کچھ دن بعد میں ہوگی
    گزر جائیں گے جب یہ دن یہ ان کی یاد میں ہوگی

    مدت کے بعد آج اسے دیکھ کر منیرؔ
    اک بار دل تو دھڑکا مگر پھر سنبھل گیا

    وہ جس کو میں سمجھتا رہا کامیاب دن
    وہ دن تھا میری عمر کا سب سے خراب دن

    شہر کی گلیوں میں گہری تیرگی گریاں رہی
    رات بادل اس طرح آئے کہ میں تو ڈر گیا

    شہر کا تبدیل ہونا شاد رہنا اور اداس
    رونقیں جتنی یہاں ہیں عورتوں کے دم سے ہیں

    خواہشیں ہیں گھر سے باہر دور جانے کی بہت
    شوق لیکن دل میں واپس لوٹ کر آنے کا تھا

    کٹی ہے جس کے خیالوں میں عمر اپنی منیرؔ
    مزا تو جب ہے کہ اس شوخ کو پتا ہی نہ ہو

    جانتا ہوں ایک ایسے شخص کو میں بھی منیرؔ
    غم سے پتھر ہو گیا لیکن کبھی رویا نہیں

    میں تو منیرؔ آئینے میں خود کو تک کر حیران ہوا
    یہ چہرہ کچھ اور طرح تھا پہلے کسی زمانے میں

    کل میں نے اس کو دیکھا تو دیکھا نہیں گیا
    مجھ سے بچھڑ کے وہ بھی بہت غم سے چور تھا

    کوئی تو ہے منیرؔ جسے فکر ہے مری
    یہ جان کر عجیب سی حیرت ہوئی مجھے

    وقت کس تیزی سے گزرا روزمرہ میں منیرؔ
    آج کل ہوتا گیا اور دن ہوا ہوتے گئے

    تھکے لوگوں کو مجبوری میں چلتے دیکھ لیتا ہوں
    میں بس کی کھڑکیوں سے یہ تماشے دیکھ لیتا ہوں

    اک اور دریا کا سامنا تھا منیرؔ مجھ کو
    میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا

    تم میرے لیے اتنے پریشان سے کیوں ہو
    میں ڈوب بھی جاتا تو کہیں اور ابھرتا

    کسی اکیلی شام کی چپ میں
    گیت پرانے گا کے دیکھو

    منیرؔ اس خوب صورت زندگی کو
    ہمیشہ ایک سا ہونا نہیں ہے

    پوچھتے ہیں کہ کیا ہوا دل کو
    حسن والوں کی سادگی نہ گئی

    اچھی مثال بنتیں ظاہر اگر وہ ہوتیں
    ان نیکیوں کو ہم تو دریا میں ڈال آئے

    ایک وارث ہمیشہ ہوتا ہے
    تخت خالی رہا نہیں کرتا

    جانتے تھے دونوں ہم اس کو نبھا سکتے نہیں
    اس نے وعدہ کر لیا میں نے بھی وعدہ کر لیا

    زندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیا
    دنیا سے خامشی سے گزر جائیں ہم تو کیا

    رہنا تھا اس کے ساتھ بہت دیر تک مگر
    ان روز و شب میں مجھ کو یہ فرصت نہیں ملی

    میں اس کو دیکھ کے چپ تھا اسی کی شادی میں
    مزا تو سارا اسی رسم کے نباہ میں تھا

    مکاں ہے قبر جسے لوگ خود بناتے ہیں
    میں اپنے گھر میں ہوں یا میں کسی مزار میں ہوں

    میری ساری زندگی کو بے ثمر اس نے کیا
    عمر میری تھی مگر اس کو بسر اس نے کیا

    بے چین بہت پھرنا گھبرائے ہوئے رہنا
    اک آگ سی جذبوں کی دہکائے ہوئے رہنا

    غیروں سے مل کے ہی سہی بے باک تو ہوا
    بارے وہ شوخ پہلے سے چالاک تو ہوا

    منیرؔ اچھا نہیں لگتا یہ تیرا
    کسی کے ہجر میں بیمار ہونا

    چاہتا ہوں میں منیرؔ اس عمر کے انجام پر
    ایک ایسی زندگی جو اس طرح مشکل نہ ہو

    ہے منیرؔ تیری نگاہ میں
    کوئی بات گہرے ملال کی

    کچھ دن کے بعد اس سے جدا ہو گئے منیرؔ
    اس بے وفا سے اپنی طبیعت نہیں ملی

    زمیں کے گرد بھی پانی زمیں کی تہہ میں بھی
    یہ شہر جم کے کھڑا ہے جو تیرتا ہی نہ ہو

    مجھ سے بہت قریب ہے تو پھر بھی اے منیرؔ
    پردہ سا کوئی میرے ترے درمیاں تو ہے

    جرم آدم نے کیا اور نسل آدم کو سزا
    کاٹتا ہوں زندگی بھر میں نے جو بویا نہیں

    کیوں منیرؔ اپنی تباہی کا یہ کیسا شکوہ
    جتنا تقدیر میں لکھا ہے ادا ہوتا ہے

    دل عجب مشکل میں ہے اب اصل رستے کی طرف
    یاد پیچھے کھینچتی ہے آس آگے کی طرف

    گھٹا دیکھ کر خوش ہوئیں لڑکیاں
    چھتوں پر کھلے پھول برسات کے

    میں ہوں بھی اور نہیں بھی عجیب بات ہے یہ
    یہ کیسا جبر ہے میں جس کے اختیار میں ہوں

    اس کو بھی تو جا کر دیکھو اس کا حال بھی مجھ سا ہے
    چپ چپ رہ کر دکھ سہنے سے تو انساں مر جاتا ہے

    کچھ وقت چاہتے تھے کہ سوچیں ترے لیے
    تو نے وہ وقت ہم کو زمانے نہیں دیا

    تیز تھی اتنی کہ سارا شہر سونا کر گئی
    دیر تک بیٹھا رہا میں اس ہوا کے سامنے

    اس حسن کا شیوہ ہے جب عشق نظر آئے
    پردے میں چلے جانا شرمائے ہوئے رہنا

    کتنے یار ہیں پھر بھی منیرؔ اس آبادی میں اکیلا ہے
    اپنے ہی غم کے نشے سے اپنا جی بہلاتا ہے

    ہستی ہی اپنی کیا ہے زمانے کے سامنے
    اک خواب ہیں جہاں میں بکھر جائیں ہم تو کیا

    تھا منیرؔ آغاز ہی سے راستہ اپنا غلط
    اس کا اندازہ سفر کی رائیگانی سے ہوا

    بیٹھ کر میں لکھ گیا ہوں درد دل کا ماجرا
    خون کی اک بوند کاغذ کو رنگیلا کر گئی

    اپنے گھروں سے دور بنوں میں پھرتے ہوئے آوارہ لوگو
    کبھی کبھی جب وقت ملے تو اپنے گھر بھی جاتے رہنا

    یہ اجنبی سی منزلیں اور رفتگاں کی یاد
    تنہائیوں کا زہر ہے اور ہم ہیں دوستو

    شہر میں وہ معتبر میری گواہی سے ہوا
    پھر مجھے اس شہر میں نا معتبر اس نے کیا

    لیے پھرا جو مجھے در بہ در زمانے میں
    خیال تجھ کو دل بے قرار کس کا تھا

    جنگلوں میں کوئی پیچھے سے بلائے تو منیرؔ
    مڑ کے رستے میں کبھی اس کی طرف مت دیکھو

    نیند کا ہلکا گلابی سا خمار آنکھوں میں تھا
    یوں لگا جیسے وہ شب کو دیر تک سویا نہیں

    میں بہت کمزور تھا اس ملک میں ہجرت کے بعد
    پر مجھے اس ملک میں کمزور تر اس نے کیا

    میں خوش نہیں ہوں بہت دور اس سے ہونے پر
    جو میں نہیں تھا تو اس پر شباب کیوں آیا

    وہم یہ تجھ کو عجب ہے اے جمال کم نما
    جیسے سب کچھ ہو مگر تو دید کے قابل نہ ہو

    رویا تھا کون کون مجھے کچھ خبر نہیں
    میں اس گھڑی وطن سے کئی میل دور تھا

    اٹھا تو جا بھی چکا تھا عجیب مہماں تھا
    صدائیں دے کے مجھے نیند سے جگا بھی گیا

    ایسا سفر ہے جس کی کوئی انتہا نہیں
    ایسا مکاں ہے جس میں کوئی ہم نفس نہیں

    دل کی خلش تو ساتھ رہے گی تمام عمر
    دریائے غم کے پار اتر جائیں ہم تو کیا

    غیر سے نفعت جو پا لی خرچ خود پر ہو گئی
    جتنے ہم تھے ہم نے خود کو اس سے آدھا کر لیا

    گلی کے باہر تمام منظر بدل گئے تھے
    جو سایۂ کوئے یار اترا تو میں نے دیکھا

    وہ کھڑا ہے ایک باب علم کی دہلیز پر
    میں یہ کہتا ہوں اسے اس خوف میں داخل نہ ہو

    ہم بھی منیرؔ اب دنیا داری کر کے وقت گزاریں گے
    ہوتے ہوتے جینے کے بھی لاکھ بہانے آ جاتے ہیں
    یہ نماز عصر کا وقت ہے
    یہ گھڑی ہے دن کے زوال کی

    بڑی مشکل سے یہ جانا کہ ہجر یار میں رہنا
    بہت مشکل ہے پر آخر میں آسانی بہت ہے

    ڈر کے کسی سے چھپ جاتا ہے جیسے سانپ خزانے میں
    زر کے زور سے زندہ ہیں سب خاک کے اس ویرانے میں
    آنکھوں میں اڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دھول
    عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو

    صبح کاذب کی ہوا میں درد تھا کتنا منیرؔ
    ریل کی سیٹی بجی تو دل لہو سے بھر گیا

    دن بھر جو سورج کے ڈر سے گلیوں میں چھپ رہتے ہیں
    شام آتے ہی آنکھوں میں وہ رنگ پرانے آ جاتے ہیں

    اب کسی میں اگلے وقتوں کی وفا باقی نہیں
    سب قبیلے ایک ہیں اب ساری ذاتیں ایک سی

    وہ جو میرے پاس سے ہو کر کسی کے گھر گیا
    ریشمی ملبوس کی خوشبو سے جادو کر گیا

    مہک عجب سی ہو گئی پڑے پڑے صندوق میں
    رنگت پھیکی پڑ گئی ریشم کے رومال کی

    جن کے ہونے سے ہم بھی ہیں اے دل
    شہر میں ہیں وہ صورتیں باقی

    رات اک اجڑے مکاں پر جا کے جب آواز دی
    گونج اٹھے بام و در میری صدا کے سامنے

    خوشبو کی دیوار کے پیچھے کیسے کیسے رنگ جمے ہیں
    جب تک دن کا سورج آئے اس کا کھوج لگاتے رہنا

    شاید کوئی دیکھنے والا ہو جائے حیران
    کمرے کی دیواروں پر کوئی نقش بنا کر دیکھ

    اک تیز رعد جیسی صدا ہر مکان میں
    لوگوں کو ان کے گھر میں ڈرا دینا چاہئے

    منیرؔ اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے
    کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ

    تو بھی جیسے بدل سا جاتا ہے
    عکس دیوار کے بدلتے ہی

    ایک دشت لا مکاں پھیلا ہے میرے ہر طرف
    دشت سے نکلوں تو جا کر کن ٹھکانوں میں رہوں

    یہ میرے گرد تماشا ہے آنکھ کھلنے تک
    میں خواب میں تو ہوں لیکن خیال بھی ہے مجھے

    چاند چڑھتا دیکھنا بے حد سمندر پر منیرؔ
    دیکھنا پھر بحر کو اس کی کشش سے جاگتا

    جب سفر سے لوٹ کر آئے تو کتنا دکھ ہوا
    اس پرانے بام پر وہ صورت زیبا نہ تھی

    دیکھے ہوئے سے لگتے ہیں رستے مکاں مکیں
    جس شہر میں بھٹک کے جدھر جائے آدمی

    ملتی نہیں پناہ ہمیں جس زمین پر
    اک حشر اس زمیں پہ اٹھا دینا چاہئے

    سن بستیوں کا حال جو حد سے گزر گئیں
    ان امتوں کا ذکر جو رستوں میں مر گئیں

    لائی ہے اب اڑا کے گئے موسموں کی باس
    برکھا کی رت کا قہر ہے اور ہم ہیں دوستو

    زندہ لوگوں کی بود و باش میں ہیں
    مردہ لوگوں کی عادتیں باقی

    دشت باراں کی ہوا سے پھر ہرا سا ہو گیا
    میں فقط خوشبو سے اس کی تازہ دم سا ہو گیا

    مرے پاس ایسا طلسم ہے جو کئی زمانوں کا اسم ہے
    اسے جب بھی سوچا بلا لیا اسے جو بھی چاہا بنا دیا

    جی خوش ہوا ہے گرتے مکانوں کو دیکھ کر
    یہ شہر خوف خود سے جگر چاک تو ہوا

    امتحاں ہم نے دیئے اس دار فانی میں بہت
    رنج کھینچے ہم نے اپنی لا مکانی میں بہت

    یہ سفر معلوم کا معلوم تک ہے اے منیرؔ
    میں کہاں تک ان حدوں کے قید خانوں میں رہوں

    ہے منیرؔ حیرت مستقل
    میں کھڑا ہوں ایسے مقام پر

    کھڑا ہوں زیر فلک گنبد صدا میں منیرؔ
    کہ جیسے ہاتھ اٹھا ہو کوئی دعا کے لیے

    تنہا اجاڑ برجوں میں پھرتا ہے تو منیرؔ
    وہ زرفشانیاں ترے رخ کی کدھر گئیں

    چمک زر کی اسے آخر مکان خاک میں لائی
    بنایا سانپ نے جسموں میں گھر آہستہ آہستہ

    قبائے زرد پہن کر وہ بزم میں آیا
    گل حنا کو ہتھیلی میں تھام کر بیٹھا

    مکان زر لب گویا حد سپہر و زمیں
    دکھائی دیتا ہے سب کچھ یہاں خدا کے سوا

    کوئلیں کوکیں بہت دیوار گلشن کی طرف
    چاند دمکا حوض کے شفاف پانی میں بہت

    ہوں مکاں میں بند جیسے امتحاں میں آدمی
    سختیٔ دیوار و در ہے جھیلتا جاتا ہوں میں

    بہت ہی سست تھا منظر لہو کے رنگ لانے کا
    نشاں آخر ہوا یہ سرخ تر آہستہ آہستہ

    زوال عصر ہے کوفے میں اور گداگر ہیں
    کھلا نہیں کوئی در باب التجا کے سوا

  • کپیلا واتسیاین معروف ادیبہ اور موسیقی و  رقص کی اسکالر تھیں

    کپیلا واتسیاین معروف ادیبہ اور موسیقی و رقص کی اسکالر تھیں

    تاریخ ولادت: 25 دسمبر 1928ء
    دہلی
    تاریخ وفات:16 ستمبر 2020ء
    دہلی
    والدین:رام لال ملک
    ستیہ وتی ملک
    مادر علمی:دہلی یونیورسٹی
    مشی گن یونیورسٹی
    بنارس ہندو یونیورسٹی

    25 دسمبر 1928 کو دہلی میں پیدا ہونے والی کپیلا واتسیاین معروف ادیبہ اور موسیقی و رقص کی اسکالر تھیں۔ انھوں نے بنارس ہندو یونیورسٹی اور امریکہ کے مشی گن یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی تھی۔ کپیلا جی، جو سنگیت ناٹک اکیڈمی کی فیلو رہ چکیں تھیں، ممتاز ڈانسر شمبھو مہاراج اور مشہور مورخ واسودیو شرن اگروال کی شاگردہ بھی تھیں۔

    وہ راجیہ سبھا کے لئے 2006 میں نامزد رکن مقرر کی گئی تھیں اور فائدہ کے عہدے کے تنازع کی وجہ سے انہوں نے راجیہ سبھا کی رکنیت چھوڑ دی تھی۔ اس کے بعد وہ دوبارہ راجیہ سبھا کی رکن نامزد کی گئیں۔ واتسیاین نیشنل اندرا گاندھی آرٹ سینٹر کی بانی سکریٹری تھیں اور انڈیا انٹرنیشنل سینٹر کی لائف ٹائم ٹرسٹی بھی تھیں۔ انھوں نے ہندوستانی ناٹیاشاسترا اور ہندوستانی روایتی فن پر سنجیدہ اور علمی کتابیں لکھیں۔ وہ ملک میں ہندوستانی فن کی سرکاری اسکالر کے طور پر سمجھی جاتی تھیں۔

    واتسیاین ہندی کی مشہور مصنفہ ستیہ وتی ملک کی بیٹی تھیں اور ان کے بھائی کیشیو ملک ایک مشہور انگریزی شاعر اور فن نقاد تھے۔ انہوں نے ساٹھ کی دہائی میں محکمہ تعلیم میں سکریٹری کی حیثیت سے بھی کام کیا۔ ان کی شادی سچدآنند ہیرآنند واتسیاین سے ہوئی تھی لیکن چند برسوں کے بعد ان سے طلاق ہوگئی اور اس کے بعد وہ تنہا زندگی گزارتی رہیں۔

  • تحریر میں بنتی نہیں جو بات ہے دل میں

    تحریر میں بنتی نہیں جو بات ہے دل میں

    تحریر میں بنتی نہیں جو بات ہے دل میں
    کیا درد ہے شعروں میں سمویا نہیں جاتا

    صوفیہ بیدار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تحریر و تعارف : آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اصل نام:. صوفیہ صنم
    قلمی نام اور تخلص: صوفیہ بیدار
    تاریخ پیدائش:25دسمبر 1964ء
    جائے پیدائش:سیالکوٹ
    نام والد:عبد اللہ ادیب
    زبان:اردو
    اصناف:شاعری
    تصنیفات:
    خاموشیاں
    تاراج

    صوفیہ بیدار صاحبہ اردو اور پنجابی کی نامور پاکستانی ادیبہ، شاعرہ، کالم نگار،صحافی اور بیوروکریٹ ہیں۔ ان کی تحریروں میں ملکی و معاشی اور معاشرتی مسائل کو بہترین پیرائے میں بیان کیا جاتا ہے۔ وہ ملکی اور بیرون ملک ادبی تقاریب اور مشاعروں میں خصوصی طور پر بلائے جاتے ہیں۔ قارئین اخبارات میں چھپنے والے ان کے کالمز ہزاروں کی تعداد میں بڑے شوق اور دلچسپی کے ساتھ پڑھتے اور متاثر ہوتے ہیں ، میں بھی قارئین کی اس فہرست میں شامل ہوں۔ صوفیہ بیدار کی اردو اور پنجابی شاعری بہت عمدہ اور خوب صورت ہوتی ہے ۔ وہ ایک افسر اعلی کی حیثیت سے بھی اپنے فرائض پوری دیانتداری کے ساتھ سرانجام دیتی ہیں وہ ڈائریکٹر آرٹس کونسل کے عہدے پر بھی فائز رہ چکی ہیں۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اک درد کہن آنکھ سے دھویا نہیں جاتا
    جب رنج زیادہ ہو تو رویا نہیں جاتا

    مٹ جانے کی خواہش کو مٹایا نہیں کرتے
    کھو دینے کے ارمان کو کھویا نہیں جاتا

    جلتے ہوئے کھلیان میں اگتی نہیں فصلیں
    خوابوں کو کبھی آگ میں بویا نہیں جاتا

    جب حد سے گزرتے ہیں تو غم غم نہیں رہتے
    اور ایسی زبوں حالی میں رویا نہیں جاتا

    تحریر میں بنتی نہیں جو بات ہے دل میں
    کیا درد ہے شعروں میں سمویا نہیں جاتا

    سلگی ہیں مری آنکھ میں اک عمر کی نیندیں
    آنگن میں لگے آگ تو سویا نہیں جاتا

    یوں چھو کے در دل کو پلٹ آتا ہے واپس
    اک وہم محبت کا کہ گویا نہیں جاتا

    اب صوفیہؔ اس طرح سے دل پہ نہیں بنتی
    اب اشکوں سے آنچل کو بھگویا نہیں جاتا

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بتوں کی آنکھ میں کیا خواب جھلملاتا ہے
    رکا ہوا ہو جو منظر تو کون آتا ہے

    اسی کے لمس سے زندہ نقوش ہیں میرے
    وہ اپنے ہاتھ سے مورت میری بناتا ہے

    وہ ظرف دیکھ کے دیتا ہے درد چاہت کے
    پھر اس کے بعد محبت کو آزماتا ہے

    ردائے چرخ میں ٹانکے ہیں ہجر نے تارے
    یہ سوت صدیوں کی خاموشیوں نے کاتا ہے

    وفا کا لکھتا ہے انجام عشق سے پہلے
    پھر اس کے بعد نگر پیار کا بساتا ہے

    تمھارے ہوتے ہوئے خاک ہو گئی کیسے
    تمھارے ساتھ مرا کس طرح کا ناتا ہے

    رکا ہوا ہے جو منظر وہ اس کا حصہ ہے
    بھلا لکیر سے باہر بھی کوئی آتا ہے

  • 24 دسمبر مہاجر ثقافت کا دن

    24 دسمبر مہاجر ثقافت کا دن

    برصغیر پاک و ہند کی تقسیم کے بعد کراچی حیدرآباد میں ہندوستان سے آنے والے لوگ اپنے ساتھ مختلف علاقوں کی ثقافت بھی ساتھ لائے تھے ۔ان کا لباس ۔رہن سہن ۔رسم و رواج۔کھانے ۔زبان مقامی لوگوں سے مختلف تھی جس کا اظہار آج بھی ہوتا ہے

    بریانی بھی ان میں سے ایک ہے کہ یوں تو پورے پاکستان میں بنائی اور کھائی جاتی ہے لیکن کراچی حیدرآباد کے علاؤہ بریانی کے نام پر لوگ دھوکا ہی کھاتے ہیں۔

    بریانی پاکستان کی قومی ڈش نہیں لیکن یہ یقینی طور پر کراچی والوں کے لئے پسندیدہ ترین ہے، جو ہمیشہ مزیدار بریانی کی تلاش میں رہتے ہیں۔ بریانی کی ایک مکمل پلیٹ میں خوشبو دار چاول، گوشت کے پیسز شامل ہوتے ہیں۔ جو بہت ہی مزید اراور لذیذ ہوتے ہیں۔

    بریانی پورے ملک میں یہ شادیوں اور مختلف پروگراموں کے لئے پیش کی جاتی ہے لیکن کھانے پینے کے حوالے سے مشہور تمام شہروں میں کراچی حیدرآباد میں سب بہترین بریانی بنائی جاتی ہے۔ایسا اس وجہ سے ہے کہ کراچی کے لوگ اس حیرت انگیز پکوان کو کھانا پکانا اچھی طرح جانتے ہیں۔بریانی بہترین غذائیت سے بھرپور کھانا ہے۔ یہ پیٹ میں نہیں جاتی بلکہ سیدھے سیدھے دل میں اتر جاتی ہے

    آپ نے خوشبودار، مزے دار اور ذائقہ دار بریانی، کراچی کی مشہور بریانی یا کراچی کی خاص بریانی جیسے بورڈز تو اکثر دکانوں پر دیکھے ہوں گے لیکن کراچی کی اصل بریانی ہر جگہ دستیاب نہیں کیوں کہ صرف نام رکھنے سے اصل بریانی نہیں بن جاتی۔

    پاکستان کے معاشی حب کراچی میں کئی طرح کی بریانی دستیاب ہے جن میں تہ دار بریانی، بیف بریانی، کراچی بریانی، وائٹ بریانی، زعفرانی بریانی، مصالحے دار بریانی، تکہ بریانی، سندھی بریانی اور مکس بریانی قابل ذکر ہیں۔

    کراچی میں بریانی کے مشہور علاقے:

    کراچی کا علاقہ صدر بریانی کے لیے سب سے زیادہ مشہور ہے پورے شہر میں اس جیسی بریانی کہیں نہیں ملتی۔

    صدر کی مشہور بیف بریانی:صدرکی سب سے مشہور بریانی ، بیف بریانی ہے جس کا اپنا ایک منفرد ذائقہ ہے۔ اب مختلف جگہوں پر چکن یا مٹن بریانی بننے لگی ہے لیکن بیف بریانی ہی اصل بریانی ہوتی ہے۔ مصالحے دار گرم چاولوں کے ساتھ نرم اور چکنے گائے کے گوشت کی مزیدار بوٹیاں، جسے دیکھتے ہی منہ میں پانی آجاتا ہے۔

    صدر کی تہ دار بریانی:صدر کی چکن، مٹن اور بیف کی تہ دار بریانی بھی اپنی مثال آپ ہے۔ اس میں پہلے چاولوں کی ایک تہ لگائی جاتی ہے پھر اس پر ذائقے اور لذت سے بھر پور تیار کردہ مصالحے کی ایک اور تہ لگا دی جاتی ہے۔ اسی طرح باری باری چاولوں اور مصالحے کی تہیں لگا کراسے دم دے دیا جاتا ہے۔

    صدر کی مکس بریانی: یہ بھی تہ دار بریانی کی طرح ہوتی ہے، فرق صرف یہ ہے کہ اس میں زردہ رنگ ملایا جاتا ہے اور چاولوں کے ساتھ مصالحے کی تہیں لگانے کے بعد انہیں مکس کر دیا جاتا ہے۔

    صدر کی وائٹ اور زعفرانی بریانی: صدر میں ایک اور منفرد اور مزیدار بریانی بھی دستیاب ہے جس میں رنگ کے بجائے زعفران کا استعمال کیا جاتا ہے اور یہ کہلاتی ہے وائٹ زعفرانی بریانی جس کا مزہ بھی سب سے الگ ہوتا ہے۔

    برنس روڈ کی کراچی بریانی: برنس روڈ، کراچی کی مشہور اور قدیم فوڈ اسٹریٹ پر ویسے تو بریانی کی بہت سی دکانیں ہیں لیکن سب سے مشہور یہاں کی کراچی بریانی ہے۔

    چٹ پٹی بریانی: یہ وہ بریانی ہے جو کراچی کی ہر دوسری گلی میں دستیاب ہے خاص طور پر گلشن اقبال میں اکثر دکانوں پر ملتی ہے لیکن اس کا ذائقہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔ خاص طورپر گلشن کےعلاقے موتی محل کی ایک دکان پردستیاب چٹ پٹی بریانی کا اپنا ہی مزہ ہے۔

  • نوبل انعام یافتہ بیسویں صدی کے عظیم ڈراما نگار اور شاعر ہیرالڈ پینٹر کا یوم وفات

    نوبل انعام یافتہ بیسویں صدی کے عظیم ڈراما نگار اور شاعر ہیرالڈ پینٹر کا یوم وفات

    نوبل انعام یافتہ مصنف اور بیسویں صدی کے عظیم ڈراما نگار اور شاعر۔(پیدائش:10 اکتوبر 1930ءلندن،وفات:24 دسمبر 2008ء لندن) ڈراما نگاری میں اپنے مخصوص اسٹائل ’پنٹریسک‘ سے پہچانے جاتے ہیں۔ پنٹر کے کرداروں کی ڈائیلاگ کی ادائیگی کے دوران لمبی خاموشی کو ’پینٹرسک اسٹائل‘ کا نام دیا جاتا ہے۔

    ہیرالڈ پینٹر نے تیس سے زائد ڈرامے لکھے جن میں ’دی کیئر ٹیکر، ’ہوم کمنگ‘ اور ’بیٹریئل‘ بہت مشہور ہوئے۔ ہیرالڈ پینٹر ایک سیاسی سوچ کے حامل شخصیت تھے اور زندگی آخری برسوں میں وہ اپنی سیاسی تحریروں کے وجہ سے پہچانے جانے لگے۔لندن کے علاقے ہیکنی میں پیدا ہونے والے ہیرالڈ پینٹر بائیں بازو کی سوچ رکھتے تھے اور امریکہ اور برطانیہ کی خارجہ پالیسی کے بڑا نقادوں میں سے ایک تھے۔ انہوں نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ انہوں نے زندگی صرف ایک بار دائیں بازو کی جماعت کنزویٹو پارٹی کی رہنما مارگریٹ تھیچر کے حق میں ووٹ ڈالا اور وہ ان کی ان کی زندگی کا سب سے ’شرمناک عمل‘ تھا۔

    عراق جنگ
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ہیرالڈ پینٹر نے سن دو ہزار تین میں عراق پر امریکا اور برطانیہ کی جارحیت کی ڈٹ کر مخالفت کی۔ انہوں نے 2005ء میں اپنی نوبل پرائز تقریب میں اپنی تقریر میں مطالبہ کیا کہ صدر بش اور ٹونی بلیئر پر عالمی عدالت انصاف میں جنگی جرائم کے تحت مقدمہ چلنا چاہیے۔ ہیرالڈ پینٹر نے کہا تھا کہ بیشتر سیاست دان ’طاقت اور طاقت پر اپنے کنٹرول کی بقا میں دلچسپی رکھتے ہیں، سچائی میں نہیں۔‘پِنٹر نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ سیاست دان سمجھتے ہیں کہ یہ ’ضروری ہے کہ لوگ لاعلم رہیں، سچائی سے بے خبر رہیں، یہاں تک کہ اپنی زندگی کی سچائی سے بھی۔ ہیرالڈ پنٹر مزید کہا کہ عراق پر حملہ کرنے سے پہلے امریکا کا دعویٰ تھا کہ صدام حسین کے پاس وسیع تباہی کے ہتھیار تھے، جو سچ نہیں تھا۔

    ڈرامے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ہیرالڈ پینٹر نہ صرف تیس سے زائد ڈرامے لکھے بلکہ بے شمار ڈارموں میں خود بھی اداکاری کی۔ وہ ایک اعلیٰ پائے کے شاعر بھی تھے۔

    ہیرالڈ پینٹر نے دو(2) شادیاں کیں۔ ان کے پہلی اہلیہ سے ان کا ایک بیٹا ہے۔ یہ بات بہت کم لوگوں معلوم ہو گی کہ انھیں کرکٹ سے بہت دلچسپی تھی ۔وہ اپنی ذاتی زندگی میں اپنی بذلہ سنجی کے لیے اپنے قریبی احباب کے حلقے میں پسند کیے جاتے تھے۔ انھوں نے شاعری، مضمون نگاری بھی کی مگر ان کا اصل میدان ڈرامہ نگاری تھا اور یہی ان کی شناخت ہے۔ ہیرالڈ پینٹر کا انتقال 78 سال کی عمر میں 24 دسمبر 2008 کو لندن میں ہوا۔
    انھوں نے بتیس (32) ڈرامے لکھے۔
    ۔ (1)The Room
    ۔ (1957)
    ۔ (2)Old Times
    ۔ (1970)
    ۔ (3)The Birthday Party
    ۔ (1957)
    ۔ (4)Monologue
    ۔ (1972)
    ۔ (5)The Dumb Waiter
    ۔ (1957)
    ۔ (6)No Man’s Land
    ۔ (1974)
    ۔ (7)A Slight Ache
    ۔ (1958)
    ۔ (8)Betrayal
    ۔ (1978)
    ۔ (9)The Hothouse
    ۔ (1958)
    ۔ (10)Family Voices
    ۔ (1980)
    ۔ (11)The Caretaker
    ۔ (1959)
    ۔ (12)Other Places
    ۔ (1982)
    ۔ (13)A Night Out
    ۔ (1959)
    ۔ (14)A Kind of Alaska
    ۔ (1982)
    ۔ (15)Night School
    ۔ (1960)
    ۔ (16)Victoria Station
    ۔ (1982)
    ۔ (17)The Dwarfs
    ۔ (1960)
    ۔ (18)One For The Road
    ۔ (1984)
    ۔ (19)The Collection
    ۔ (1961)
    ۔ (20)Mountain Language
    ۔ (1988)
    ۔ (21)The Lover
    ۔ (1962)
    ۔ (22)The New World Order
    ۔ (1991)
    ۔ (23)Tea Party
    ۔ (1964)
    ۔ (24)Party Time
    ۔ (1991)
    ۔ (25)The Homecoming
    ۔ (1964)
    ۔ (26)Moonlight
    ۔ (1993)
    ۔ (27)The Basement
    ۔ (1966)
    ۔ (28)Ashes to Ashes
    ۔ (1996)
    ۔ (29)Landscape
    ۔ (1967)
    ۔ (30)Celebration
    ۔ (1999)
    ۔ (31)Silence
    ۔ (1968)
    ۔ (32)Remembrance of
    ۔ Things past
    ۔ (2000