Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • ناریل سے لوگ — ریاض علی خٹک

    ناریل سے لوگ — ریاض علی خٹک

    ناریل اندر سے انتہائی نرم اور باہر سے انتہائی سخت ہوتا ہے. کبھی آپ نے سوچا ایسا کیوں ہے.؟ ناریل کا صحت بخش بہترین پانی پیتے یا اس کی گری کھاتے کبھی اس سخت چھلکے کو دیکھا ہے جس نے یہ لذت سنبھال کر رکھی ہوتی ہے.؟ آپ نے بھلے نہ سوچا ہو ناریل یہ صدیاں سوچ سوچ کر اپنی شکل بنائی ہے.

    ناریل کے پیڑ بہت اونچے ہوتے ہیں. پھل اسکا کل ہے. اس کی نسل ہے. اس نسل کو زمین سے جوڑ بنانے کیلئے گرنا ہوتا ہے. ناریل اپنی بقا کیلئے جب بلند سے بلند ہو رہا تھا تو اس نے اپنی نسل کو زمین پر گرنے کی تکلیف سہنے کیلئے اس کا چھلکا انتہائی سخت کر دیا. اب یہ پھل بھلے اونچائی سے گر جائے ٹوٹے گا نہیں.

    انسانوں میں بھی انتہائی سخت مزاج کڑوے لوگ بلکل ناریل کی طرح ہوتے ہیں. وقت کی سختیاں جھیلتے بقا کی جبلت میں ان پر سخت چھلکے چڑ جاتے ہیں. ہم بھلے ان کو بے حس پتھر سمجھ لیں لیکن ہر پتھر کے سینے میں ایک دل ہوتا ہے. جس میں ایک سہما ہوا خوفزدہ بچہ چھپا بیٹھا ہوتا ہے. جسے ٹوٹ جانے سے ڈر لگتا ہے.

    ان کو توڑنے کی خواہش کی بجائے جب کوئی پپار سے ان کا حول اتار کر دیکھے تو پتہ چلتا ہے یہ تو زندگی سے بھرپور بہترین انسان ہے. تب ہم حیران ہوتے ہیں تو باہر سے یہ اتنا سخت کیوں تھا.؟ انسانوں کی اکثریت میں صبر نہیں اور جہاں صبر کم ہو آب حیات نمکین ہو وہاں پھر ناریل زیادہ ہوتے ہیں.

  • زندگی تجھ سے ہر اک سانس پہ سمجھوتا کروں

    زندگی تجھ سے ہر اک سانس پہ سمجھوتا کروں

    زندگی تجھ سے ہر اک سانس پہ سمجھوتا کروں
    شوق جینے کا ہے مجھ کو مگر اتنا بھی نہیں

    مظفر وارثی

    پیدائش:23دسمبر 1933ء
    میرٹھ، ہندوستان
    وفات:28جنوری 2011ء

    نام محمد مظفر الدین احمد صدیقی اور تخلص مظفر ہے۔23؍دسمبر 1933ء کو میرٹھ میں پیدا ہوئے۔ تقسیم ہند کے بعد پاکستان آگئے اور لاہور میں بودوباش اختیار کی۔ بہترین نعت گو کا ایوارڈ پاکستان ٹیلی ویژن سے 1980ء میں حاصل کیا۔ غالب اکیڈمی دہلی کی جانب سے بہترین شاعر کا ’’افتخار غالب‘‘ ایوارڈ حاصل کرچکے ہیں۔ متعدد فلموں کے گانے بھی لکھ چکے ہیں مگر جب سے نعت کہنا شروع کی، فلمی گانوں کو خیر آباد کہہ دیا۔ ا ن کی تصانیف کے نام یہ ہیں:’’برف کی ناؤ‘(مجموعۂ غزل)، ’باب حرم‘(نعت)، ’لہجہ‘(غزل)، ’نورازل‘(نعت) ، ’الحمد ‘(حمدوثنا)، ’حصار‘(نظم)، ’لہوکی ہریالی‘(گیت)، ’ستاروں کی آب جو‘(قطعات)، ’کھلے دریچے‘، ’بند ہوا‘ (غزل)،’کعبۂ عشق‘(نعت)، ’لاشریک‘، ’صاحب التاج‘، ’گئے دنوں کا سراغ‘، ’گہرے پانی‘۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:282

    نعتِ پاک
    ۔۔۔۔۔۔۔
    نہ میرے سخن کو سخن کہو
    نہ مری نوا کو نوا کہو
    میری جاں کو صحنِ حرم کہو
    مرے دل کو غارِ حرا کہو
    میں لکھوں جو مدحِ شہہِ اُمم
    اور جبرائیل بنیں قلم
    میں ہوں ایک ذرہء بےدرہم
    مگر آفتابِ ثناء کہو
    طلبِ شہہِ عربی کروں
    میں طوافِ حُبِ نبی کروں
    مگر ایک بےادبی کروں
    مجھے اُس گلی کا گدا کہو
    نہ دھنک، نہ تارا، نہ پھول ہوں
    قدمِ حضور کی دُھول ہوں
    میں شہیدِ عشقِ رسول ہوں
    میری موت کو بھی بقا کہو
    جو غریب عشق نورد ہو
    اُسے کیوں نہ خواہشِ درد ہو
    میرا چہرہ کتنا ہی زرد ہو
    میری زندگی کو ہرا کہو
    ملے آپ سے سندِ وفا
    ہوں بلند مرتبہء صفا
    میں کہوں محمدِ مصطفیٰ
    تم بھی صلے علیٰ کہو
    وہ پیام ہیں کہ پیامبر
    وہ ہمارے جیسا نہیں مگر
    وہ ہے ایک آئینہء بشر
    مگر اُس کو عکسِ خدا کہو
    یہ مظفر ایسا مکین ہے
    کہ فلک پہ جس کی زمین ہے
    یہ سگِ براق نشین ہے
    اسے شہسوارِ صبا کہو

    اشعار
    ۔۔۔۔۔۔
    زندگی تجھ سے ہر اک سانس پہ سمجھوتا کروں
    شوق جینے کا ہے مجھ کو مگر اتنا بھی نہیں

    لیا جو اس کی نگاہوں نے جائزہ میرا
    تو ٹوٹ ٹوٹ گیا خود سے رابطہ میرا

    پہلے رگ رگ سے مری خون نچوڑا اس نے
    اب یہ کہتا ہے کہ رنگت ہی مری پیلی ہے

    کچھ نہ کہنے سے بھی چھن جاتا ہے اعجاز سخن
    ظلم سہنے سے بھی ظالم کی مدد ہوتی ہے

    ہر شخص پر کیا نہ کرو اتنا اعتماد
    ہر سایہ دار شے کو شجر مت کہا کرو

    میں اپنے گھر میں ہوں گھر سے گئے ہوؤں کی طرح
    مرے ہی سامنے ہوتا ہے تذکرہ میرا

    تو چلے ساتھ تو آہٹ بھی نہ آئے اپنی
    درمیاں ہم بھی نہ ہوں یوں تجھے تنہا چاہیں

    جبھی تو عمر سے اپنی زیادہ لگتا ہوں
    بڑا ہے مجھ سے کئی سال تجربہ میرا

    وعدہ معاوضے کا نہ کرتا اگر خدا
    خیرات بھی سخی سے نہ ملتی فقیر کو

    مجھے خود اپنی طلب کا نہیں ہے اندازہ
    یہ کائنات بھی تھوڑی ہے میرے کاسے میں

    ڈبونے والوں کو شرمندہ کر چکا ہوں گا
    میں ڈوب کر ہی سہی پار اتر چکا ہوں گا

    خود مری آنکھوں سے اوجھل میری ہستی ہو گئی
    آئینہ تو صاف ہے تصویر دھندلی ہو گئی

    زخم تنہائی میں خوشبوئے حنا کس کی تھی
    سایہ دیوار پہ میرا تھا صدا کس کی تھی

    سانس لیتا ہوں کہ پت جھڑ سی لگی ہے مجھ میں
    وقت سے ٹوٹ رہے ہیں مرے بندھن جیسے

  • اردو کی شاعرہ، یاسمین یاس کا یوم پیدائش

    اردو کی شاعرہ، یاسمین یاس کا یوم پیدائش

    نام:یاسمین یاس
    تاریخ پیدائش:23 دسمبر 1974ء
    زبان: اردو
    اصناف:شاعری
    تصنیفات
    ۔۔۔۔۔۔
    1 . میرا جلنا ضرور ہوگیا ہے
    ۔2. . میرے بے خبر
    3 ۔ رات گئے آنکھوں سے

    مستقل پتا:ای-3، فرزانہ بلڈنگ، بلاک 7 ینڈ8
    فرسٹ فلور، ایس،ایم روڈ کراچی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    غزل

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    محبت سے بھی نفرت ہوگئی ہے
    عجب وحشت سی وحشت ہوگئی ہے

    فنا کرلو ڈالوں خود کو اور سب کو
    بتاؤں کیا جو حالت ہوگئی ہے

    جو رکھے یاد اس کو یاد رکھو
    محبت اب تجارت ہوگئی ہے

    زمانے بھر میں رسوا ہورہے ہیں
    یقیناً ہم سے غفلت ہوگئی ہے

    کسی پر زندگی قربان کردیں
    وہ چاہت ایک حسرت ہوگئی ہے

    کبھی وحشت تھی جس دیوانگی سے
    وہی اب میری قسمت ہوگئی ہے

  • ہمارے ہاں صرف کہانیاں ہیں —- ریاض علی خٹک

    ہمارے ہاں صرف کہانیاں ہیں —- ریاض علی خٹک

    احسان اللہ مونی ایک بنگالی فلسماز ہے. اس نے تقریباً 60 ملین ڈالر خرچ کر کے ڈھاکہ میں ڈپلیکیٹ تاج محل بنایا. احسان اللہ نے بتایا کہ 1980 میں وہ جب آگرہ گیا اور اس نے تاج محل دیکھا تو وہ اسے دیکھتا ہی رے گیا. اس نے سوچا کتنے غریب بنگالی ہوں گے جو زندگی بھر اس حسن تعمیر کو دیکھ ہی نہیں پائیں گے. اور اسی سے اسے خیال آیا کیوں نہ بنگلا دیش میں بھی ایک تاج محل بنایا جائے.

    بنگلا دیش میں تاج محل بن گیا. بیشک یہ اصلی تاج محل نہیں نہ حسن تعمیر میں اسے مات کر سکتا ہے. لیکن آج کوئی بنگالی خاندان جب اپنے بال بچوں کے ساتھ سیر کیلئے چار ایکڑ پر پھیلے اس تاج محل میں آتا ہے تو اپنے بچوں کو یہ ضرور بتا سکتا ہے آگرہ کا تاج محل بلکل ایسا ہی ہے.

    ہم لوگ جب کسی خوبصورت حسین یا تاریخی مقام پر جاتے ہیں تب ہم ایک خوف کا شکار ہو جاتے ہیں. یہ خوبصورت پل یہ حسین یادیں کہیں ہم کھو نہ دیں. ہم ان کو محفوظ کرنا چاہتے ہیں. تاکہ آنے والے وقتوں میں ہم بتا سکیں ہم نے یہ مقام دیکھا ہے. اس لئے ہم دھڑا دھڑ وہاں تصاویر نکالتے ہیں. کچھ بے وقوف اسی خوف کا شکار ہو کر وہاں اپنے نام لکھنا شروع کر دیتے ہیں.

    آپ آج بھی اپنی آنکھیں بند کر کے اپنی زندگی کے وہ حسین پل خوبصورت مقامات کا سوچیں تو آپ کو اکثریت یادیں وہ ملیں گی جو تصاویر میں نہیں ہوں گی. خوف کی ہر یاد دماغ بھول جاتا ہے. اپنی ماضی کی تصاویر آپ کو اجنبی لگیں گی. کچھ احسان اللہ مونی کی طرح لوگ بھی ہوتے ہیں. وہ یہ حسن اپنے ساتھ لے آتے ہیں. اپنی یادوں میں سب کو شامل کر لیتے ہیں.

    لندن پیرس سوئٹزرلینڈ کے حسن اور یادیں بیان کرتے لوگ یا دوسرے معاشروں کے انصاف اور انتظام کی کہانیاں سنانے والے ہمارے لوگ بھی اگر اپنے خوف سے نکل کر یہ حسن صفائی انتظام اور انصاف اپنے ساتھ لاتے اپنے آبائی علاقوں میں وہی مثل بنا کر دکھاتے تو یہاں کے غریب بھی اپنے بچوں کو دکھاتے دیکھو سوئٹزرلینڈ لندن پیرس کی سڑکیں گلیاں ایسی ہوتی ہیں. وہاں انصاف ایسا ہوتا ہے.

    لیکن ہمارے پاس کوئی احسان اللہ مونی نہیں. ہمارے ہاں صرف کہانیاں ہیں جن کو دیکھنے کیلئے ہماری نسل باہر جانے کے خواب دیکھتی ہے. ان دشوار راستوں پر یہ قوم اپنے لاکھوں بچے ہار گئی ہے.

  • ہمت اور حوصلہ — ریاض علی خٹک

    ہمت اور حوصلہ — ریاض علی خٹک

    آپ کو اگر جانوروں کی دنیا میں کوئی دلچسپی ہو اور آپ انکا مشاہدہ کرتے ہوں تب بہت سی عجیب باتیں آپ دیکھتے ہیں. جیسے زیبرا کے غول کے سب سے بڑے دشمن شیر ہوتے ہیں. لیکن آپ دیکھیں گے زیبرے اُسی وقت اطمینان اور سکون سے میدانوں میں گھاس چر رہے ہوتے ہیں جب شیروں کا خاندان دھوپ میں سامنے لیٹا ہو.

    لیکن جب شیر نظر نہ آرہے ہوں تو پورا غول خوفزدہ ہوتا ہے. ہوا سے بھی لمبی گھاس ہلے تو ڈر کر دوڑ لگا لیتے ہیں. آپ کو ان کی سراسیمگی باقاعدہ محسوس ہو رہی ہوتی ہے. ان کے کان کھڑے ہوتے ہیں. یہی حال انسان کا بھی ہوتا ہے. بس ہمیں اسے سمجھنا ہوتا ہے.

    وہم اندیشے ہمارے وہ خوف ہیں جو ہمیں تب ڈراتے ہیں جب ہمارا خوف ہمارے سامنے نہ ہو. جیسے ناکامی کا خوف ہو جیسے دوسروں کے سامنے مذاق بن جانے کا ڈر ہو. جیسے کچھ کھو دینے کا خوف ہو. سامنا کرنے کا ڈر ہو. ہمارا دماغ اس ان دیکھے خوف کا مختلف زاویوں سے تجزیہ کر رہا ہوتا ہے اور ہر تجزیے پر ہمارا ڈر مزید بڑھ رہا ہوتا ہے.

    ہم اس وقت یہ بھول جاتے ہیں کہ ہم نہ زیبرا ہیں نہ کوئی دوسرا جانور جسے خوف کا انتظار کرنا پڑے. ہم انسان ہیں اور ہمارے پاس یہ صلاحیت موجود ہے کہ بجائے خوف کے انتظار کے ہم خود اس خوف کے سامنے کھڑے ہو جائیں. ہم بھول جاتے ہیں کہ تقدیر ہماری لکھی جا چکی ہے.

    ہمت اور حوصلہ کسی دوسرے کو زمین پر گرانے کا نام بلکل نہیں ہے. یہ اپنے خوف کو ڈھونڈ کر اسے آزمانے کا نام ہے. یہی وہ تربیت ہے جو آزمائش سے پہلے جب ہم آزما لیتے ہیں تو کل جب وہ آزمائش سامنے کھڑی ہو تب ہم سکون سے اسے دیکھ رہے ہوتے ہیں. مقابلہ پھر بھی لازم ہوگا لیکن وہ خوف ڈر نہیں ہوگا جو آپ کو لڑنے سے پہلے ہی ہرا چکا ہوتا ہے.

  • بلقیس خانم :زندگی یادگار کرگئیں

    بلقیس خانم :زندگی یادگار کرگئیں

    "کچھ دن تو بسو میری آنکھوں میں”

    ,وہ تو خوشبو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا

    "اور”انوکھا لاڈلا”

    جیسے بے شمار مقبول گیت گانے والی گلوکارہ بلقیس خانم کراچی میں انتقال کرگئیں۔بلقیس خانم نے ریڈیو، ٹی وی کے ساتھ فلموں کے لئے بھی یاد گار گیت گائے۔ میوزک انڈسٹری نے ان کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا ہے
    وہ معروف ستار نواز استاد رئیس خاں کی بیوہ تھیں۔

  • بنجمن ڈزریلی:ناول نگار سے وزیراعظم بننے تک کا دلچسپ سفر

    بنجمن ڈزریلی:ناول نگار سے وزیراعظم بننے تک کا دلچسپ سفر

    پیدائش:21 دسمبر 1804ء
    لندن
    وفات:19 اپریل 1881ء
    مے فیئر
    شہریت:متحدہ مملکت برطانیہ عظمی و آئر لینڈ
    مذہب:کلیسائے انگلستان
    (اپنی زیادہ تر زندگی میں)
    یہودی (13ویں سال تک)
    جماعت:کنزرویٹو پارٹی
    رکن:رائل سوسائٹی
    پیشہ:سیاست داں، ناول نگار
    مصنف، سوانح نگار
    زبان:انگریزی
    ملازمت:جامعہ گلاسگو
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)رائل سوسائٹی فیلو
    ۔ (2)آرڈر آف گارٹر
    وزیر اعظم مملکت متحدہ
    مدت منصب
    ۔ 20 فروری 1874 – 21 اپریل 1880
    حکمراں، ملکہ وکٹوریہ
    مدت منصب
    ۔ 27 فروری 1868 – 1 دسمبر 1868
    قائد حزب اختلاف
    مدت منصب
    ۔ 01 دسمبر 1868 – – 17 فروری 1874
    چانسلر
    مدت منصب
    ۔ 06 جولائی 1866 – 29 فروری 1868
    مدت منصب
    ۔ 26 فروری 1858 – 11 جون 1859
    مدت منصب
    ۔ 27 فروری 1852 – 17 دسمبر 1852

    بنجمن ڈزریلی (پیدائش: 1804ء، انتقال: 1881ء) یہودی نژاد برطانوی وزیر اعظم۔ ابتدا میں ناول لکھتے تھ۔ 1837میں پارلیمنٹ کا رکن بنے۔ 1852ء میں وزیر خزانہ اور 1837ء میں وزیر اعظم بنے۔ کچھ عرصے بعد ان کی پارٹی ہار گئی لیکن نئے انتخابات میں کامیاب ہو کر 1874ء سے 1880ء تک پھر وزیر اعظم رہے۔ ان کے عہدِ وزارت میں مزدوروں کی بہبود کے لیے کارخانوں میں نئی اصلاحات کی گئیں۔ نہر سویز کے حصص خریدے گئے اور ملکہ وکٹوریہ ہندوستان کی ملکہ بنی۔

  • نینا جوگن:جس کی بولتی شاعری نے ایک نیا رنگ دیا

    نینا جوگن:جس کی بولتی شاعری نے ایک نیا رنگ دیا

    مشتاق ہیں مدت سے کچھ اشعار سنیں گے
    دیکھو جو کہیں بزم میں ” جوگن” نظر آئے

    : نینا جوگن

    تاریخ ولادت:21 دسمبر 1964ء
    تعلیم:بی اے (آنرز) فرسٹ کلاس فرسٹ
    بی ایڈ، مولوی، عالم، فاضل
    تصنیف:تمھارے نام (شعری مجموعہ)
    فخر الدین علی احمد میموریل کمیٹی
    لکھنؤ کے تعاون سے شائع
    مصروفیات:پڑھنا، لکھنا اور کھانا پکانا
    ادارت:معاون مدیر، سہہ ماہی ”کوہسار“ جرنل
    پتا:کوہسار، بیکھن پور-3، بھاگل پور-

    نیناجوگن:کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ فرضی نام ہے، حقیقت جو بھی ہو لیکن اس نام سے بہت سی کہانیاں شائع ہوئی ہیں، 1974ء کے بعد ہندوستان کے بیشتر رسائل میں ان کے افسانے شائع ہورہے ہیں، ان کے افسانوں میں زندگی کے حقائق اور اندرونی کیفیات کی سچی اور تیکھی ترجمانی ملتی ہے۔
    (’’بشکریہ بہار میں اردو افسانہ نگاری ابتدا تاحال مضمون نگار ڈاکٹر قیام نیردربھنگہ‘‘’’مطبع دوئم 1996ء‘‘)

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    نہ کوئی رند ، نہ ساقی ، نہ چھلکتی پیالی
    کہیں ٹوٹا ہوا شیشہ کہیں ساغر خالی
    آگیا روپ جو سبزے پہ تو کلیاں چٹکیں
    غنچہ و گل میں تلی خیر سے ڈالی ڈالی
    پھر چھماچھم کی بہاروں سے کھِلے دل کے کنول
    صحنِ گلشن میں ہوا آگئی اُتّر والی
    ہائے کیا وقت ہے کیا فصل ہے کیا موسم ہے
    کیف سے جس کے ہر اک آنکھ ہوئی متوالی
    یہ ہوائیں یہ نظارے یہ بہاریں یہ سماں
    دیکھتی ہے وہی پتلی جو ہے قسمت والی
    کوئی سنتا ہی نہیں نیناؔ کہانی آکر
    جی میں آیا تو خود اپنے ہی لئے دُہرالی

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    اے جذبِ محبت تری تاثیر سے شاید
    کچھ راہ پہ آئے کہ سرِ رہ گزر آئے
    اے دل کبھی آنا نہ لگاوٹ میں کسی کی
    ظاہر میں وہ اپنے ہیں پہ باطن میں پرائے
    ہرجائی کہا میں نے تو وہ غصہ میں آکر
    آنکھوں میں ابھی تھے ابھی دل میں اُتر آئے
    اڑتا ہے جبیں سائی سے سنگِ درِ جاناں
    یہ میری کرامت ہے کہ پتھر کے پتر آئے
    ملتے ہیں سرِ راہ تو کرتے ہیں شکایت
    جاتی ہوں تو کہتے ہیں کہ کہئے کدھر آئے
    مشتاق ہیں مدت سے کچھ اشعار سنیں گے
    دیکھو جو کہیں بزم میں جوگنؔ نظر آئے

  • صابرہ سلطانہ کا 77 واں یوم پیدائش

    صابرہ سلطانہ کا 77 واں یوم پیدائش

    21 دسمبر…… آج صابرہ سلطانہ کا 77 واں یوم پیدائش ہے۔
    صابرہ سلطانہ (اصل نام رابعہ) منگل 21 دسمبر 1945 کو بمبئی، بھارت میں ایک انتہائی قدامت پسند گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ ان کی اباو اجداد کا تعلق کشمیر سے تھا۔
    اس کے دوستوں کو یاد ہے کہ فلم ڈائریکٹر اے ایچ صدیقی نے صابرہ میں اداکاری کی زبردست صلاحیت کو پہچانا اور ساٹھ کی دہائی کے آغاز میں اسے فلم ‘انصاف’ (صابرہ کی پہلی فلم) کے لیے سائن کیا تھا۔ ‘انصاف’ میں نیلو اور کمال نے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ کراچی میں بنائی گئی تھی۔ اگلا، شباب کرنوی، جو اس وقت کے ایک مستحکم ہدایت کار تھے، نے انہیں اپنی دو فلموں، ‘جمیلہ’ اور ‘شکریہ’ کے لیے لیا۔ ان دونوں فلموں میں صابرہ نے مرکزی کردار ادا کیا، بعد ازاں وہ معروف ہدایت کار حسن طارق کی فلم ‘کنیز’ میں نظر آئیں۔ صابرہ نے ایک بوڑھی عورت کے اپنے سب سے زیادہ چیلنجنگ کردار کے ساتھ پورا انصاف کیا، جسے اس کی اپنی کوئی غلطی نہ ہونے کے ناانصافی کا نشانہ بنایا گیا۔

    انہوں نے ‘کنیز’ میں اپنے جاندار کردار کے لیے بے پناہ تعریفیں حاصل کیں۔ اس کے علاوہ ‘کنیز’ نے آخر کار انھیں ایک اعلیٰ ترین اداکارہ کے طور پر قائم کیا، جس کی وجہ ان کے شاندار فلمی کیرئیر میں اہم کردار ادا کرنے والی بہت سی چیزوں میں سے ایک وجہ صابرہ کی تھی۔ چہرے، پر سکون، مسکراہٹ، جس نے پرجوش عوام میں اس کا نام روشن کیا۔ مزید یہ کہ اس کی بے مثال طبیعت میں کچھ ایسا تھا جس نے فلم بینوں کو اپنی فلموں کے لیے لائن لگانے پر مجبور کیا۔ سلور اسکرین کی خوبصورتی صابرہ نے ایک خوبصورت لڑکی کا کردار ادا کیا۔ فلم ‘مجاہد’ میں جو ان کی حقیقی زندگی کے بہت قریب تھی، اس لحاظ سے کہ وہ ایک خوبصورت اور دلکش لڑکی تھی۔ اس کا ملکہ کا کردار تھا، جس نے فلم میں ان کی موجودگی کو چار چاند لگا دیا۔

    فلم’عادلیںں صابرہ نے اپنی تمام فلموں میں اپنا کام قابل تعریف انداز میں کیا۔ سخت مقابلے کے زمانے میں، انہوں نے ‘اعلان جیسی فلم میں اپنے بے شمار مداحوں کی داد حاصل کی۔ اس نے فلم ‘برما روڈ’ میں شاندار اداکاری کا مظاہرہ کیا۔ سحرا، جس کے گانے آج تک مقبول ہیں۔ صابرہ نے فلم ’بہادر‘ میں اپنے کردار سے لاکھوں لوگوں کو مسحور کیا تھا۔ کوئی پرانی یادوں کا شکار ہو جاتا ہے، کیونکہ وہ ‘شام سویرا’ اور احمد سرتاج کی فلم ‘ضدی’ جیسی بلاک بسٹر میں صابرہ کی جذباتی اداکاری کو یاد کرتا ہے، جس نے ساٹھ کی دہائی کو متاثر کیا تھا۔ مزید برآں، سپر ہٹ فلموں کے وسیع سلسلے میں، ان کے مخلص پرستار صابرہ کی فلموں ‘لگان’ اور ‘بزدل’ میں اداکاری کو کبھی نہیں بھولیں گے، جس میں ان کے ناقابل بیان جذبے اور احساس کو شامل کیا گیا تھا۔

    صابرہ کی فلمیں ‘چودہ سال’، ‘شریک حیات’، اور ‘معجزہ’ میں اپنے شدید محسوس اور پرکشش کرداروں کے لیے بہت قدر کی جاتی ہیں، جس نے ان کی شہرت کو بلندیوں تک پہنچایا۔اپنے فلمی کیرئیر کے دوسرے مرحلے میں انہوں نے متعدد فلموں میں کریکٹر رول ادا کیا۔

    جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے، چونکہ صابرہ کا تعلیمی پس منظر مضبوط تھا، اس لیے وہ لاہور میں اپنے ہی لڑکیوں کے اسکول میں گہری دلچسپی رکھتی ہے۔

    ان کی فلموں کی فہرست یہ ہیں: انصاف، تم نہ مانو، یہودی کی لڑکی، شکریہ، جمیلہ، ماں کا پیار، چھوٹی بہن ، بہو بیگم، عید مبارک، مجاہد، کنیز، معجزہ ، میرا سلام، عادل، انسان، نغمہ صہرا ، اعلان ، برما روڈ، شام سویرا، 14 سال، شریک حیات، سونے کی چڑیا ، صایقہ ، تاج محل، بزدل، دل دیکے دیکھو ، تخت اور تاج، آنسو بن گئے موتی، نورین، چاند سورج، غرناطہ ، چراغ کہاں روشنی کہاں، عجب خان آفریدی، بدلے گی دنیا ساتھی، دل ایک آئینہ ، سہاگ ، فرض، سرحد کی گود میں، نیا راستہ، زخمی، رنگیلا اور منور ظریف، جنگ اور امن ، انتظار، وطن مینا، مستانی محبوبہ، مسال، ہیرو، مرد جینے نہیں دیتے، قسمت، بالی جٹی، جگ ماہی، شرنگ دا بنگرو، تیرے پیار میں، جانور ، اور چلو عشق لڑائیں شامل ہیں ۔

  • حسن و خوبصورتی — ریاض علی خٹک

    حسن و خوبصورتی — ریاض علی خٹک

    دنیا میں ایک سے ایک حسین و خوبصورت پھل موجود ہیں . کینیڈا سے لیکر جنوبی اشیاء تک نارنجی بیر اگر آپ ان بیر کے درختوں پر دیکھیں گے تو دل فوری کھانے کو مچلے گا. سردی کے موسم میں شوخ سرخ رنگ کے بیر یورپی جنگلات میں دکھائی دیتے ہیں. بندہ دیکھتا ہی رے جائے.

    لیکن یہ آپ کھا نہیں سکتے. اگر غلطی سے کھا بھی لیا تو پچھتاتے رے جائیں گے. ہمارے بیر بظاہر اتنے خوبصورت نہیں لیکن آپ بے فکر کھا سکتے ہیں. بظاہر بدشکل مٹیالا چیکو بھی اندر سے مٹھاس کا خزانہ ہے. سمندر کا نیلگوں پانی بے تحاشا ہے. لیکن کسی پیاسے کی پیاس نہیں بجھا سکتا. صحرا میں بارش کا پانی سنبھالے تالاب بھلے گدلا ہو لیکن انسان اور مویشی اسے پی سکتے ہیں.

    حسن پر ہم کچھ دیر آنکھ جھپکنا ضرور بھول جاتے ہیں لیکن پھر بھی ہماری آنکھوں کو پندرہ سے انیس ہزار بار روز جھپکی لینی ہی ہوتی ہے. ہمیں نیند لازم چاہئے اور یہ آنکھیں سب کچھ بھول کر بند ہو جاتی ہیں. لیکن دل ہمارا چوبیس گھنٹے دھڑکتا ہے. اچھے اخلاق اور اچھے لوگوں کا دل خوبصورت ہوتا ہے. ایسے لوگ دل کو اچھے لگتے ہیں.

    حسن و خوبصورتی کا تعلق آنکھوں سے جوڑ بناتا ہے اس لئے ہر حسن کو زوال ہے. جبکہ اچھائی اور دل کی خوبصورتی نسل سے جوڑ بناتی ہے اس لئے وقت کے ساتھ اسکا حسن دوبالا ہوتا چلا جاتا ہے. یہ حسن اللہ کی نعمت اور ایسے حسین لوگ زندگی میں ہوں تو اللہ کی رحمت ہوتی ہے.