Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • برصغیر کے معروف شاعر نواب مصطفے خان شیفتہ کا یوم ولادت

    برصغیر کے معروف شاعر نواب مصطفے خان شیفتہ کا یوم ولادت

    بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام ہوگا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نواب مصطفے خان شیفتہ

    مصطفٰی خان شیفتہ ( پیدائش:27 دسمبر 1809ء دہلی، وفات:11 جولا‎ئی 1869ء) جہانگیر آباد کے جاگیردار، اردو فارسی کے باذوق شاعر اور نقاد تھے۔ انھوں نے الطاف حسین حالی کو مرزا غالب سے متعارف کروایا تھا۔ دہلی میں ایک بہت بڑی لائبریری ان کی ملکیت تھی جسے 1857ء میں باغیوں کے لوٹا اور آگ لگا دی تھی۔ انگریزوں نے بغاوت کی شبہ میں سات سال قید سنائی لیکن ہندوستان کے نام ور عالم نواب صدیق حسن خان کی سفارش سے ان کا ”جرم“ معاف ہوگیا اور پنشن مقرر ہوئی۔

    نواب مصطفی خان شیفتہ کی اولاد
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    نواب مصطفی خان شیفتہ کی اولاد میں نواب اسحاق خان بیٹے اور نواب محمد اسماعیل خان پوتے تھے۔ جو 1883ء میں آگرہ میں پیدا ہوئے۔ اس کے بعد کیمبرج یونیورسٹی انگلستان سے بار ایٹ لا کیا اور وطن واپس آ گئے۔ نواب محمد اسماعیل خان تحریک خلافت میں بھی شریک رہے اور یوپی خلافت کانفرنس کے چیف آرگنائزر کی حیثیت سے نمایاں خدمات انجام دیں۔

    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔
    گلشنِ بے خار
    تقریظ: غالب پر تعریفی تنقید

    اشعار
    ۔۔۔۔۔
    اتنی نہ بڑھا پاکیٔ داماں کی حکایت
    دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ

    اظہار عشق اس سے نہ کرنا تھا شیفتہؔ
    یہ کیا کیا کہ دوست کو دشمن بنا دیا

    جس لب کے غیر بوسے لیں اس لب سے شیفتہؔ
    کمبخت گالیاں بھی نہیں میرے واسطے

    ہم طالب شہرت ہیں ہمیں ننگ سے کیا کام
    بد نام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا

    شاید اسی کا نام محبت ہے شیفتہؔ
    اک آگ سی ہے سینے کے اندر لگی ہوئی

    بے عذر وہ کر لیتے ہیں وعدہ یہ سمجھ کر
    یہ اہل مروت ہیں تقاضا نہ کریں گے

    ہزار دام سے نکلا ہوں ایک جنبش میں
    جسے غرور ہو آئے کرے شکار مجھے

    فسانے یوں تو محبت کے سچ ہیں پر کچھ کچھ
    بڑھا بھی دیتے ہیں ہم زیب داستاں کے لیے

    آشفتہ خاطری وہ بلا ہے کہ شیفتہؔ
    طاعت میں کچھ مزہ ہے نہ لذت گناہ میں

    کس لیے لطف کی باتیں ہیں پھر
    کیا کوئی اور ستم یاد آیا

    دل بد خو کی کسی طرح رعونت کم ہو
    چاہتا ہوں وہ صنم جس میں محبت کم ہو

    اڑتی سی شیفتہؔ کی خبر کچھ سنی ہے آج
    لیکن خدا کرے یہ خبر معتبر نہ ہو

    شب وصل کی بھی چین سے کیونکر بسر کریں
    جب یوں نگاہبانی مرغ سحر کریں

    اے تاب برق تھوڑی سی تکلیف اور بھی
    کچھ رہ گئے ہیں خار و خس آشیاں ہنوز

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    مر گئے ہیں جو ہجر یار میں ہم
    سخت بیتاب ہیں مزار میں ہم
    تا دل کینہ ور میں پائیں جگہ
    خاک ہو کر ملے غبار میں ہم
    وہ تو سو بار اختیار میں آئے
    پر نہیں اپنے اختیار میں ہم
    کب ہوئے خار راہ غیر بھلا
    کیوں کھٹکتے ہیں چشم یار میں ہم
    کوئے دشمن میں ہو گئے پامال
    آمد و رفت بار بار میں ہم
    نعش پر تو خدا کے واسطے آ
    مر گئے تیرے انتظار میں ہم
    گر نہیں شیفتہؔ خیال فراق
    کیوں تڑپتے ہیں وصل یار میں ہم

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    دل لیا جس نے بے وفائی کی
    رسم ہے کیا یہ دل ربائی کی
    تذکرہ صلح غیر کا نہ کرو
    بات اچھی نہیں لڑائی کی
    تم کو اندیشۂ گرفتاری
    یاں توقع نہیں رہائی کی
    وصل میں کس طرح ہوں شادی مرگ
    مجھ کو طاقت نہیں جدائی کی
    دل نہ دینے کا ہم کو دعویٰ ہے
    کس کو ہے لاف دل ربائی کی
    ایک دن تیرے گھر میں آنا ہے
    بخت و طالع نے گر رسائی کی
    دل لگایا تو ناصحوں کو کیا
    بات جو اپنے جی میں آئی کی
    شیفتہؔ وہ کہ جس نے ساری عمر
    دین داری و پارسائی کی
    آخر کار مے پرست ہوا
    شان ہے اس کی کبریائی کی

  • معروف شاعرہ صائمہ الماس مسرو کا یوم پیدائش

    معروف شاعرہ صائمہ الماس مسرو کا یوم پیدائش

    صائمہ منزلوں کی خواہش بھی
    راہ کا خم ہے اور کیا مانگوں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    معروف شاعرہ. نثرنگار،افسانہ افسانہ نگار اور کالم نویس صائمہ الماس 27دسمبر 1977ء کو لاہور میں پیدا ہوئیں ان کا قلمی نام صائمہ الماس مسرو ہے ان کی تصنیفات میں دکھ بولتے ہیں، اکھیوں اوہلے، کون کہاوے دو، لوگ کیا کہیں گے، محبت بھیک میں دے دو شامل ہیں-

    غزل
    ۔۔۔۔۔

    ترے رخ کی تلاوت ہو
    تو دل کی پوری حاجت ہو
    یہی میری حقیقت ہے
    کہ تم میری حقیقت ہو
    محبت بھی عبادت ہے
    بشرطیکہ عبادت ہو
    ہماری آنکھ ہے مجرم
    کہ تم بھی خوبصورت ہو
    غزل الماس کی ہو تم
    مری زندہ کرامت ہو

    غزل
    ۔۔۔۔
    آنکھ پُرنم ہے اور کیا مانگوں
    یہ عطا کم ہے ؟ اور کیا مانگوں
    زندگی ، زندگی بنانے کو
    آپ کا غم ہے اور کیا مانگوں
    نیند سے مالا ہوں جس میں
    رتجگا ضم ہے اور کیا مانگوں
    شورشِ جسم و جان سے پہلے
    ہٗو کا عالم ہے اور کیا مانگوں
    صائمہ منزلوں کی خواہش بھی
    راہ کا خم ہے اور کیا مانگوں

    اشعار
    ۔۔۔۔
    لبوں کو پیاس نے گھیرا ہوا ہے
    اسی احساس نے گھیرا ہوا ہے

    ملا ہے حکمِ ہجرت جب سے ان کو
    مجھے بن باس نے گھیرا ہوا ہے
    ۔۔۔۔۔۔
    تجھ سے جب رابطہ نہیں ہوتا
    چین جی کو ذرا نہیں ہوتا

    جان جاؤگے چوٹ لگنے پر
    درد ہوتا ہے یا نہیں ہوتا

    نظم
    ۔۔۔۔
    گزارش
    ۔۔۔۔۔۔
    میں لکھنے بیٹھتی ہوں تو
    بہت بیزار کرتا ہے
    تمھارا اس طرح کاغذ کے سینے پر ابھر آنا
    مرے لفظوں کے آنگن پر ترے بادل کا سایہ ہے
    میں لفظ ہجر لکھوں تو یہ دنیا وصل پڑھتی ہے
    جو لفظِ خواب لکھوں تو مجھے لگتا ہے کاغذ پر
    تمھاری آنکھ رکھی ہے
    پسِ معنی کسی عنواں میں تیرا تذکرہ آئے
    تو سر تا پا

  • برصغیر کے عظیم شاعر مرزا نوشہ اسد اللہ خان غالب کا یوم ولادت

    برصغیر کے عظیم شاعر مرزا نوشہ اسد اللہ خان غالب کا یوم ولادت

    ریختے کے تمہیں استاد نہیں ہو غالب
    کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا

    مرزا غالب

    تاریخ ولادت:27 دسمبر 1797ء
    تاریخ وفات:15 فروری 1869ء

    نجم الدولہ، دبیر الملک، مرزا نوشہ اسد اللہ خان غالب بہادر نظام جنگ (27دسمبر 1797ء – 15 فروری 1869ء) اردو زبان کے سب سے بڑے شاعروں میں ایک ہیں۔ غالب کی عظمت کا راز صرف ان کی شاعری کے حسن اور بیان کی خوبی ہی میں نہیں ہے۔ ان کاا صل کمال یہ ہے کہ وہ ز ندگی کے حقائق اور انسانی نفسیات کو گہرائی میں جاکر سمجھتے تھے اور بڑی سادگی سے عام لوگوں کے لیے بیان کردیتے تھے۔ غالب جس پر آشوب دور میں پیدا ہوئے، اس میں انھوں نے مسلمانوں کی ایک عظیم سلطنت کو برباد ہوتے ہوئے اور باہر سے آئی ہوئی انگریز قوم کو ملک کے اقتدار پر چھاتے ہوئے دیکھا۔ غالباً یہی وہ پس منظر ہے جس نے ان کی نظر میں گہرائی اور فکر میں وسعت پیدا کی۔

    مرزا غالب کا نام اسد اللہ بیگ خاں تھا۔ باپ کا نام عبداللہ بیگ تھا ۔ آپ 27 دسمبر 1797ء میں آگرہ میں پیدا ہوئے۔ غالب بچپن ہی میں یتیم ہو گئے تھے ان کی پرورش ان کے چچا مرزا نصر اللہ بیگ نے کی لیکن آٹھ سال کی عمر میں ان کے چچا بھی فوت ہوگئے۔ نواب احمد بخش خاں نے مرزا کے خاندان کا انگریزوں سے وظیفہ مقرر کرا دیا۔ 1810ء میں تیرہ سال کی عمر میں ان کی شادی نواب احمد بخش کے چھوٹے بھائی مرزا الہٰی بخش خاں معروف کی بیٹی امراءبیگم سے ہو گئی شادی کے بعد انھوں نے اپنے آبائی وطن کو خیر باد کہہ کر دہلی میں مستقل سکونت اختیار کرلی۔
    شادی کے بعد مرزا کے اخراجات بڑھ گئے اور مقروض ہوگئے۔ اس دوران میں انہیں مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ور قرض کا بوجھ مزید بڑھنے لگا۔ آخر مالی پریشانیوں سے مجبور ہو کر غالب نے قلعہ کی ملازمت اختیار کر لی اور 1850ء میں بہادر شاہ ظفر نے مرزا غالب کو نجم الدولہ دبیر الملک نظام جنگ کا خطاب عطا فرمایا اور خاندان تیموری کی تاریخ لکھنے پر مامور کر دیا اور 50 روپے ماہور مرزا کا وظیفہ مقرر ہوا۔

    غدر کے بعد مرزا کی سرکاری پنشن بھی بند ہو گئی ۔ چنانچہ انقلاب 1857ء کے بعد مرزا نے نواب یوسف علی خاں والی رامپور کو امداد کے لیے لکھا انہوں نے سو روپے ماہوار وظیفہ مقرر کر دیا جو مرزا کو تادم حیات ملتا رہا۔ کثرتِ شراب نوشی کی بدولت ان کی صحت بالکل تباہ ہو گئی مرنے سے پہلے بے ہوشی طاری رہی اور اسی حالت میں 15 فروری 1869ء کو انتقال فرمایا۔

    غالب اور عہدِ غالب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ڈاکٹر مولا بخش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    غالب کے متن سے معاملہ کرنے والے کئی نقادوں کو اس امر کی شکایت ہے کہ غالب کے اشعار یہ نہیں بتاتے کہ وہ کس عہد میں لکھے گئے ہیں۔یہ سوال کرنے سے پہلے ہمیں ذرا غالب نے جس صنف سے معاملہ کیاہے اس کی فطرت کو بھی دیکھ لینا چاہئے۔کیا ہم یہ نہیں جانتے کہ غزل کے اشعار میں روح عصر اس طرح سے واضح طور پر نظر نہیں آسکتی جس طرح ہمیں کسی نظم ،افسانے،ناول،مکتوب وغیرہ میں یا خاکہ یا مرثیہ اور مثنوی میں نظر آتی ہے۔غزل کے دو مصرعوں میں پہلی کوشش تو یہ ہوتی ہے کہ ان اشعار میں اگر زمانے کو پیش کرنا ضروری بھی ہو جائے تو وہ زمانہ مثلاً ماضی یا مستقبل یا حال نقلی حال بناکر پیش کیاجاتاہے تاکہ پڑھنے والا ہر زمانے میں اسے اپنے زمانے کا مسئلہ سمجھے۔اس کے باوجود غزل کی شاعری کی داخلی ساخت میں اترنے کے بعد شاعر کا عہد اور اس عہد کے سوالات اور مسائل کا نظارہ کیاجاسکتاہے۔

    غالب کی شاعری میں ان امور سے متعلق انکشاف کے لیے حددرجہ ذہین قاری کی ضرورت ہے ادب کا رشتہ شاعر یا ادیب کے عہد سے جوڑنے کا مطلب یہ ہے کہ ادب تخلیق کرنے والے ادیب اپنے عہد سے آنکھیں بچا کر ادب کی تخلیق نہیں کر سکتے، لیکن یہ بھی اتنا ہی بڑا سچ ہے کہ آج جو با معنی ہے وہ ادب کل بھی اتنا ہی با معنی ہوگا اس کی گارنٹی کون دے سکتاہے؟اسی لیے مکمل طور پر ادیب اگر اپنے عہد کی ترجمانی کرنے لگ جائیں تو یہ ضرور ہے کہ ادب اور صحافت میں کوئی فرق نہیں رہ جائے گا۔

    اس لیے بڑے شعرا اور ادیب یہ جانتے ہیں کہ ایک عہد کا محاورہ دوسرے عہد سے میل نہیں کھاتا۔اس لیے وہ اپنے فن پاروں کو دوسرے عہد میں بھی اتنے ہی بامعنی بنانے کے جتن سے واقف ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ غالب اپنے عہد میں جتنے بامعنی تھے یا نہ تھے آج اس سے کہیں زیادہ بامعنی ہیں یا نہیں ہیں؟ اس پہلو پر بھی غور کرنا چاہیے۔ بات وہی ہے کہ اگر اپنے عہد کی تصویر کے ساتھ ساتھ ادیب اپنا ایک منفرد عہد بھی خلق کرتاہے تو وہ ہر زمانے میں اپنی معنویت بر قرار رکھنے میں کامیاب ہوجاتاہے۔غالب اردو میں کچھ اسی طرح کے جتن کے ذریعے ہر عہد میں مقبول اور مشہور شاعر کے روپ میں زندہ ہیں۔غالب کو یہ احساس تھا کہ وہ صرف اپنے عہد کے شاعر نہیں ہیں بلکہ یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ وہ اپنے عہد کے شاعر کے طور پر خود کو پیش کرنا ہی نہیں چاہتے تھے۔اسی لیے تو انہوں نے برملا طور پر یہ کہا تھا:

    ہوں گرمیٔ نشاطِ تصور سے نغمہ سنج
    میں عندلیبِ گلشن نا آفریدہ ہوں
    میں چشم وا کشادہ و گلشن نظر فریب
    لیکن عبث کہ شبنم خورشید دیدہ ہوں

    اگر پہلے شعر پر غور کریں تو اعلان کیا ہے کہ یہ ایک ایسے انسان کی شاعری ہے جس کا زمانہ ابھی پیدا نہیں ہوا ہے یعنی یہ مستقبل کی شاعری ہے۔ دوسرے شعر میں ایک ایسے انسان کی تصویر پیش کی ہے جو اہل نظر ہے اور آگاہ ہے۔لیکن اس کا کیا کیجیے کہ یہ دنیا جادو کی پوٹلی ہے جسے سمجھنا بہت مشکل ہے۔تس پر ستم یہ کہ اس پر غور کرنے کی عمر ایسی ملی ہے جیسے سورج کسی شبنم کے قطرے کو دیکھنا چاہے۔ظاہر ہے کہ سورج نکلتے ہی شبنم کا وجود ختم ہوجاتا ہے۔ کیا اس سے یہ اندازہ نہیں ہوتا ہے کہ شاعر جس عہد میں جی رہا ہے اُسے پوری طرح سے سمجھنا اس کے لیے کتنا مشکل ہے۔ ادب اور عہد کے رشتے پر غور کرنے والوں نے ان امور سے صرف نظر کیاہے۔

    بڑے ادیب جانتے ہیں کہ ایک ہی عہد میں کئی عہد ہوتے ہیں اور تاریخ کے اندر بھی کئی تاریخیں ہوتی ہیں جسے فوق التاریخ کا نام دیاگیاہے۔غالب کی نگاہ اس حقیقت پر ہے۔وہ ماضی،حال اور مستقبل پر یکساں طور پر نگاہ ڈالتے ہیں۔ان کے نزدیک ان میں سے کوئی اہم یا غیر اہم نہیں ہے۔ہاں! وہ ان تینوں زمانوں کے نقائص کا احساس رکھتے ہیں اور ان تینوں زمانوں سے نباہ کرنے کا منفرد زاویۂ نظر بھی رکھتے ہیں۔

    غالب اپنے ماضی کے ورثے کے قائل تھے لیکن جو اچھی قدریں تھیں انھیں وہ اپناتے نظر آتے ہیں اوربری قدروں کو رد بھی کرتے ہیں جیسے اپنے سے پہلے کے شعرا کو جس قدر وہ عقیدت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں وہ جگ ظاہر ہے:

    ریختے کہ تمہیں استاد نہیں ہو غالب
    کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا

    اتنا ہی نہیں وہ مشرقی تہذیب کے زوال کی طرف بھی نگاہ رکھتے ہیں اور زوال کے اس منظر کو دیکھ کرکڑھتے نظر آتے ہیں لیکن آخر کار وہ زمانے کی رو کو اور تبدیلی کی فطرت کو تسلیم بھی کر لیتے ہیں۔ایسے میں وہ کہتے ہیں:

    وہ بادۂ شبانہ کی سرمستیاں کہاں
    اٹھیے بس اب کہ لذّتِ خواب سحر گئی
    دل میں ذوقِ وصل و یادِ یار تک باقی نہیں
    آگ اس گھر کو لگی ایسی، کہ جو تھا جل گیا

    ان اشعار کے معنی اخذ کرتے وقت قاری کا دھیان غالب کے عہد کے اجتماعی دکھ اور مغلیہ تہذیب کے زوال کی طرف بھی جاتاہے۔ بہرصورت غالب بھی اس جاگیردارانہ بلکہ آمرانہ نظام کا ایک حصہ تھے۔انہیں انگریزوں سے باضابطہ پنشن ملا کرتاتھا جو بعد کے ادوارمیں بند ہو جانے کے بعد غالب نے تقریباً دو دہائیوں تک پنشن کا مقدمہ لڑا اور باضابطہ ہار بھی گئے۔ایک ایسا شخص جس نے عیش و عشرت کی راتیں اور حسیں قہقہوں کے دن گزارے ہوں، وہ یہ کیونکر نہ کہے کہ ‘وہ بادۂ شبانہ کی سرمستیاں کہاں’ اور اپنے دل کو کیونکر اس طرح نہ سمجھا لے کہ چلیے زمانے کا یہی دستور ہے۔ ع

    ہد غالب میں طرز حکومت کے بدلنے اور ایک نئی قوم انگریز کی آمد نے ہر کس و ناکس کے ذہنوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیاتھا۔پرانی تہذیبی قدریں Cultural Values شطرنج کے مہروں کی طرح باری باری پٹتی چلی جا رہی تھیں۔انگریزوں کے لائے ہوئے صنعتی انقلاب کی وجہ سے نیا اخلاقی نظام مرتب ہو رہاتھا۔ایسے میں مشرقی تہذیب کے دلدادہ اشخاص اور کیاکہہ سکتے تھے اس کے سوا کہ ‘آگ اس گھر کو لگی ایسی کہ جو تھا جل گیا۔’ یعنی ایک طرف تو وہ میر سے منسوب اپنے ماضی کی قدروں کے دلدادہ معلوم ہوتے ہیں تودوسری طرف وہ سر سید کی کتاب ‘آئین اکبری’ کی تقریظ لکھتے ہوئے ماضی کے اس ورثے کے تحفظ کے رویے کو یہ کہہ کر رد کردیتے ہیں کہ مردہ پروری کوئی مبارک کام نہیں ہے۔ لیکن انہوں نے ‘آثار الصنادید’ کے ذریعے اپنے ماضی کے ورثہ کو محفوظ کرنے کے سرسید کے جذبے کو سراہا بھی تھا، کیونکہ اس کتاب کے ذریعے مستقبل کے منصوبے تیار کرنے میں مدد مل سکتی تھی۔

    دہلی کالج کے قیام کے بعد مغربی سائنس کے اصولوں کے عام ہونے کے اثرات غالب پر کیوں کر مرتب ہوئے اس حقیقت کا اظہار کیا ہے۔ظاہر ہوا کہ فن کار اپنے عہد کی تعمیر ماضی کے ورثے کے عیب و نقائص پر نگاہ رکھتے ہوئے ان میں سے کچھ کو رد تو کچھ کو قبول کرتے ہوئے کرتاہے۔اس طرح وہ اپنے عہد کی مخلوق کے ساتھ ساتھ خالق بھی بن جاتاہے۔

    اگر غالب کی سوانح کا ترتیب وار ذکر کیاجائے تو اس کے ذریعے عہد غالب کی سیاسی،ثقافتی، مذہبی اور اقتصادی صورتحال ہمارے سامنے آجائے گی۔ ان کے خطوط میں ان کی زندگی اور اپنے عہد کے حالات زیادہ مذکور ہوئے ہیں لیکن یہاں ان کے حوالے نہیں دیے جارہے ہیں۔

    مرزا کا آنا جانا دہلی میں اس وقت شروع ہوا جب شاہ عالم ثانی کی آنکھیں غلام قادر روہیلہ نے پھوڑ دی تھیں۔ شاہ عالم سندھیاکے چنگل میں تھے ۔انگریز لارڈ ویلزلی نے بادشاہ کو اس چنگل سے چھڑانے کی پیش کش کی۔1803میں انگریزی فوج قلعے میں داخل ہوئی۔جنرل آکٹر لونی دہلی میں انگریز ریذیڈنٹ مقرر ہوا۔بادشاہ پنشن دار ہو گیا۔1806میں اکبر شاہ ثانی تخت نشیں ہوئے اور اکتیس سال حکومت کی،وہ بھی انگریزوں کے پنشن دار تھے۔ہاکنس ریزیڈنٹ مقرر ہوا مگر چوں کہ وہ گھمنڈی تھا اس لیے ایک معاملہ فہم ریذیڈنٹ ولیم فریزر مقرر کیاگیا۔یہ وہی ریذیڈنٹ ہے جو نو اب شمس الدین خاں کے خلاف غالب کے پنشن کے سلسلے میں حوصلہ افزائی کی تھی۔

    اس کے مارے جانے کے بعد مٹکاف ریزیڈنٹ مقرر ہوا۔یہ اور ان جیسے دیگر انگریزوں کی آئیڈیولوجی یہ تھی کہ خدا نے ہندوستانیوں کی حالت سدھارنے کے لیے انہیں ہندوستان بھیجا ہے، یعنی ہم لوگ نجات دہندہ ہیں۔راجہ رام موہن رائے اور بعد میں سر سید نے بھی انگریزی راج کو اپنے لیے باعث ترقی سمجھا۔انگریزی تعلیم کی وکالت کے پیچھے میں یہی تصور پوشیدہ تھا۔اس وقت کے انگریز حاکم کو فارسی زبان و ادب سے خاص شوق ہوتا تھا اور اس لحاظ سے غالب کی ان دنوں ایسے افسروں کے نزدیک بڑی قدر تھی۔پھر غالب قدامت پرستی کے بجائے جدت پسندی میں یقین رکھتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ انہوں نے مغربی تہذیب کے بنیادی اصولوں کا خیر مقدم کیا۔

    غالب کے خسر مرزا الٰہی بخش کا انگریزوں میں اثر و رسوخ جگ ظاہر تھا جس کے توسط سے غالب کی راہ و رسم بھی اونچے طبقے سے پیدا ہوئی۔سبھی جانتے ہیں کہ غالب نے آگرہ میں گیارہ سال کی عمر سے ہی شعر کہنا شروع کر دیاتھا او بیدل کی پیروی میں حد درجہ مشکل گو ثابت ہوئے تھے، لیکن جب وہاں پہنچے تو مولوی فضل حق خیر آبادی کے مشورے کے مطابق طرز بیدل کو چھوڑ کر سلیس اور صاف شعر کہنے لگے۔ لیکن یہ صرف ایک قصہ ہے۔سچ تو یہ ہے کہ غالب نے نہ طرز بیدل کو چھوڑا نہ روش عام سے ہٹ کر شعر کہنے کا طریقہ چھوڑا۔ بلکہ وہ حسب ضرورت غزل میں زبان کو بطور رجسٹر استعمال کرنے لگے۔ یعنی جہاں فارسی آمیز،طویل اضافتوں والی اردو کی ضرورت تھی ،وہاں انہوں نے اخیر عمر تک وہی انداز برقرار رکھا اور جہاں تخیل پر جذبے نے قابو پالیا وہاں اردو کا وہ رجسٹر سامنے آگیا جسے میرؔ نے اپنے مصرعے سے واضح کیا تھا۔ غالب میر کے اسی فقرے ‘‘پر مجھے گفتگو عوام سے ہے’’ والی زبان میں شعر کہنے کی روش اختیار کرنی شروع کر دی۔

    اس عہد کی ایک اہم اور انقلابی تحریک وہابی تحریک تھی جس کا مقصد انگریزوں کو ہندوستان کی مقدس دھرتی سے نکال باہر کرنا تھا۔غالب کا اس تحریک سے براہ راست کوئی رشتہ تو نہ تھا لیکن اس تحریک سے وابستہ بہت سے اشخاص سے ان کی راہ و رسم تھی۔ اس تحریک کا اثر غالب کی شاعری میں بھی تلاش کیا جا سکتاہے۔1857کی تباہی اور اس کے بعد کی صورتحال کے اشارے بھی غالب کی شاعری میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔لیکن غالب تو بقول خورشید الاسلام :

    ‘‘گویا بچپن میں غالب،مغلوں،مرہٹوں اور انگریزوں کی مربیانہ توجہ سے بالواسطہ فیضیاب رہے۔غالباً ان کی سمجھ میں یہ بات نہ آتی ہوگی کہ مغل بادشا ہ ہے اور نہیں بھی ہے۔مرہٹہ مغلوں کا نائب ہے اور حاکم بھی ہے۔انگریز مسلمان نہیں،ہندو نہیں،لیکن دہلی پر حکومت کرتاہے اور میرے خاندان کے بزرگ ہر طاقت کے ساتھ ہیں۔اور سچ پوچھو تو کسی کے ساتھ بھی نہیں۔ممکن ہے انہوں نے کسی فقیر کو استاد نظیر کا یہ بند گاتے سنا ہو،اور اس سے اپنے زمانہ کی سیاست کا بھید پا گئے ہوں:

    کپڑے کسی کے لال ہیں روٹی کے واسطے
    لمبے کسی کے بال ہیں روٹی کے واسطے
    باندھے کوئی رومال ہیں روٹی کے واسطے
    سب کشف اور کمال ہیں روٹی کے واسطے
    جتنے ہیں، روپ سب یہ دکھاتی ہیں روٹیاں

    خورشید الاسلام نے غالب کے زمانے یا عہد کو کلی طور پر پیش کیاہے۔نظیر کی شاعری نے بھی کیونکر غالب کو ان کے اپنے عہد کے سمجھنے میں اہم رول ادا کیاتھا یا کیا ہوگا،اس بابت خورشید الاسلام کی توضیح قابل داد ہے۔
    پروفیسر محمد حسن نے اپنے مضمون ‘دو غالب’ میں ظاہر ہے ایک غالب تو اسی کو قرار دیا ہے جس کا نام اسد اللہ خاں تھا اور جس کے باپ کا نام عبد اللہ بیگ اور چچا نصر اللہ بیگ فوجی سردار تھے۔اس کے ساتھ ہی ایک دوسرے غالب بھی بین السطو ر میں جھانکتے ہیں۔محمد حسن لکھتے ہیں کہ:

    ”یہ دوسرا غالبؔ کہیں روح عصر تو نہیں؟بزرگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ہر لمحہ سہ جہتی ہوتاہے ایک شخصی واردات کا درجہ رکھتاہے دوسرا سماجی یا اجتماعی شعور کی جہت تیسرا عصری زندگی کے سیل رواں کا حصہ ہوتاہے۔غالبؔ نے جب آنکھ کھولی تو انقلاب فرانس دنیا کو تہہ و بالا کر چکا تھا۔نپولین کی گھن گرج ٹیپو سلطان تک پہنچ چکی تھی جو اپنے شہنشاہ کی جگہCITIZENکہنے لگا تھا۔سائنس اور فکرنئی منزلیں پا رہے تھے، ورڈورزتھ اور شیلے کی آوازیں نغمے بکھیر چکی تھیں (محمد حسن،نصرت پبلشرز،لکھنؤ 1977،ص:15)

    یہ تو تصویر تھی اس وقت کی دلی اور وہاں کی ادبی کہکشاؤں کی ۔ اب زمانے کی ہوا کیونکر چلی اور کیا کیا بدل گیا، یہ بھی ایک بدیہی حقیقت ہے کہ مرزا غالب اپنے عہد کے دوسرے افراد کی طرح اپنے طبقے سے گہری وابستگی رکھتے ہیں۔یعنی وہ طبقاتی افتراق میں یقین رکھتے ہیں لیکن انہیں ایسا کرتے ہوئے بھی یہ احساس ہے کہ یہ سب کچھ آگے چل کر بہت جلد ختم ہو جائے گا۔غالب کی زندگی ہی کیا ہندوستان کی تاریخ میں1857کی جنگ آزادی جسے انگریزوں نے غدر سے عبارت کیا،ایک ایسے طوفان سے عبارت کی جا سکتی ہے جس نے ہندوستان کی تہذیبی اور ثقافتی زندگی میں تبدیلیوں کی ایک لہر پیدا کر دی۔محمد حسن نے اپنے دوسرے مضمون’’غالب اور جدید ذہن‘‘میں لکھا ہے کہ:

    ‘‘غدر1857کوغالب نے رستخیز بیجا کہا اور وہ اس رستخیز کے قلزم خون سے گزرے۔ اس دور کی پوری خونخواری، درندگی اور تباہی کو اپنی آنکھ سے دیکھا اور ہر لمحہ دل خون کیا۔ مگر ان واقعات کی تصویریں ان کی شاعری میں بہت بھونڈی ہیں البتہ ان کے مکاتیب نہایت خوبصورت اور پر تاثیر ہیں۔اس آشوب سے جو کچھ کرب انہیں ملا وہ غزل میں کسی اور عنوان میں ڈھل گیا۔ان کی شاعری ان کے دور ہی کی نہیں آنے والے ادوار کی زبان بن گئی۔’’ (محمد حسن، نصرت پبلشرز، لکھنؤ 1977، ص 84)

    پروفیسر محمد حسن نے دبی زبان سے ہی سہی، یہاں غالب کے متن کا اپنے عہد سے رشتے کے منقطع ہونے کا شکوہ کیاہے۔یہ بات پوری طرح صحیح نہیں ہے۔غالب کے یہاں عصر کی روح کی پیش کش بہت واضح طور پر ہے، بلکہ وہ متن کی زیریں ساخت میں موجود ہے،جسے کرید کر قاری بر آمد کر سکتاہے۔پروفیسر عتیق اللہ نے لکھا ہے:

    ”غالب کوئی مشن لے کر نہیں چلے تھے ان کی وسیع المشربی صوفیا کی تعلیمات کے توسط ہی سے نہیں بلکہ عام شعری رویے کے تحت ان کے ضمیر کی آواز تھی۔مردہ پروری کو نامبارک قرار دینے،درس نظامی کے روایتی ضوابط کو نشان زد کرنے،نئے ذریعہ ابلاغ و ترسیل نیز آرام و آسائش مہیا کرنے والی سہولتوں اور تکنیکی وسائل کی اجرا کاری میں انہیں یقینا ترغیبات کاایک جہان موجزن نظر آیاتھا۔

    لیکن اس نئے منظر نامے سے وہ کوئی ایسا تصور نہیں قائم کر سکےجو نئی نسل میں نیا طرز احساس پیدا کرنے کا سامان مہیا کرتا۔ ‘انکار ’ کے رویے پر کاربند ہونے کے باجود غالب کا باغیانہ شعور پوری طرح نہ تو پروان چڑھ سکا اور نہ ان کے قویٰ میں اتنی جولانی تھی کہ اپنے خیالات کو تحریک میں بدلنے کے لیے کوئی عملی راہ اختیار کرتے۔“

    (بیانات،عتیق اللہ،کتابی دنیا،2011،ص:43,46,47)
    اس عبارت کو پڑھنے کے بعد اندازہ ہوا کہ خواجہ منظور حسین نے غالب کے دیوان سے ایسے بہت سے اشعار پیش کیے ہیں جن میں غالب اپنے عہد کی آئیڈیولوجی کی ترجمانی کرتے نظر آتے ہیں لیکن آفتاب احمد خاں نے ان کے اس خیال سے اتفاق نہیں کیاہے۔بات یہ نہیں ہے کہ کسی شاعر کے یہاں اپنے عہد کی خبر نظم ہو جائے۔غالب کو معلوم تھا کہ خبر اور شاعری میں فرق ہے۔غزل کے شعر سے اس طرح کی امید بھی بہت زیادہ صائب نہیں ہے۔جب عہد ہی بجائے خود ایک تہہ دار متن ہو تو اس کی پیش کش کے طریقے بھی حد درجہ رمزیہ ہو سکتے ہیں۔ہمارے نقاد اس حقیقت پر نگاہ نہیں رکھتے۔

    غالب نے اپنے دیوان میں ایسے بے شمار اشعار کہے ہیں جو ان کے عہد اور ان کی ذاتی زندگی کو آفاقی رنگ میں پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے شہزادہ سلیم کا قصیدہ اس امید پر لکھا کہ شاید شہزادہ سلیم ہی ہندوستان کا بادشاہ بنیں گے۔ظفر زندگی بھر غالب سے خفا رہے اور جب ظفر سے ان کی وابستگی بعد کے زمانوں میں ہوئی توانہوں نے ایک قصیدہ میں ذوق کی غزل سرائی پر کچھ تیکھے تبصرے کر دیے اور ظفر کو یہ سب کچھ اچھا نہیں لگا اور غالب نے مندرجہ ذیل شعر میں جس کی معذرت چاہی:

    استاد شہ سے ہو مجھے پرخاش کا خیال
    یہ تاب ، یہ مجال، یہ طاقت نہیں مجھے
    سو پشت سے ہے پیشۂ آبا سپہ گری
    کچھ شاعری ذریعۂ عزت نہیں مجھے

    ان اشعار کے سیاق و سباق سے واقف قاری یہ اندازہ کر سکتاہے کہ شعرا اپنے عہد کے حکمرانوں کی وجہ سے کہاں کہاں اپنی انا سے سمجھوتہ کرتے تھے۔غالب نے اس معذرت میں بھی اپنی شان برقرار رکھی ہے۔شاہ سے معذرت کرتے ہوئے بھی انہوں نے دوسرے شعر میں یہ کہہ کر کہ وہ بہادر سپاہیوں کی اولاد میں سے ہیں اور ایسا نہیں ہے کہ اس کی عزت صرف شاعری کی وجہ سے ہو،اپنے اندر کی ٹوٹتی ہوئی انا کو مجتمع کرنے کی کوشش کی ہے۔ غالب کے مندرجہ ذیل اشعار ان کی ذاتی زندگی اور اس عہد کے انسانوں کی نفسیات کو پیش کرتے ہیں ملاحظہ فرمائیں:

    غالب چھٹی شراب پر اب بھی کبھی کبھی
    پیتا ہوں روزِ ابر و شبِ ماہ تاب میں
    غالب وظیفہ خوار ہو، دو شاہ کو دعا
    وہ دن گئے کہ کہتے تھے’’نوکر نہیں ہوں میں‘‘
    غالب خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں
    روئیے زار زار کیا؟ کیجئے ہائے ہائے کیوں؟
    لکھنؤ آنے کا باعث نہیں کھلتا یعنی
    ہوس سیر و تماشا، سو وہ کم ہے ہم کو
    زندگی اپنی جب اس شکل سے گزری غالب
    ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے
    ہوا ہے شہہ کا مصاحب، پھرے ہے اتراتا
    وگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے
    نصرت الملک بہادر مجھے بتلا کہ مجھے
    تجھ سے جو اتنی ارادت ہے وہ کس بات سے ہے
    اور میں وہ ہوں کہ گرجی میں کبھی غور کروں
    غیر کیا خود مجھے نفرت مری اوقات سے ہے

    مذکورہ بالا اشعار صرف آپ بیتی نہیں ہیں بلکہ کسی عہد میں ایک حساس انسان یا فرد اپنے زمانے کی اتھارٹی (Authority) سے کہاں کہاں سمجھوتے کرتاہے،اپنی انا کو برقرار رکھتاہے،اس کی کہانی ان اشعار میں در آئی ہے۔کسی بھی عہد میں فرد کی نا قدری کا خاص طور سے اس فرد کا جو حساس اور فن کار ہو،اس کا دل کیونکر خون کے آنسو روتاہے،اس درد کو غالب کے اس شعر میں محسوس کیاجاسکتاہے جس میں انہوں نے ’غالب خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں‘جیسا خیال قلم بند کیاہے۔کیا کسی انسان کے نہیں ہونے سے اس دنیا کے کانوں پر کوئی جوں نہیں رینگتی؟اگر ایسا ہے تو کیوں؟کیا یہ مستحسن ہے،کیا جیتے جاگتے انسان کے اتنے ہی معنی ہیں کہ جب وہ نہ رہے تو اس کی کمی کا احساس تک نہ ہو؟ یہ اور ان جیسے بہت سے دکھوں کا ذکر غالب کی شاعری میں نجی واردات کے حوالے سے کیا گیا ہے۔ مثلاً اس ذیل میں یہ شعر بھی روح عصر کو بڑی صفائی سے ہمارے سامنے رکھتے ہیں:

    ہوگا کوئی ایسا بھی کہ غالب کو نہ جانے
    شاعر تو وہ اچھا ہے، پہ بدنام بہت ہے
    قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں
    رنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن

    جو لوگ غالب کی سوانح سے واقف ہیں انہیں پہلا شعر سمجھتے دیر نہیں لگے گی۔اپنی ہی سوانح کے ذریعے غالب نے ایک آفاقی صداقت بھی بیان کر دی ہے۔شاعر ہونا الگ بات ہے اور اچھا انسان ہونا الگ بات۔غالب اپنے عہد کا ایک ایسا فرد ہے جو جاگیردارانہ سماج کی لاش پر بیٹھا رو رہاہے۔صنعتی انقلاب کی تیز دھمک نے ملکیوں کو کیونکر طرح طرح کے قرضوں کی طرف دھکیل دیاتھا، یہ سب کچھ اس عہد کی تاریخ کے حوالے ہو چکاتھا۔یہاں غالب نام کے کسی ایسے فرد کا بھی ذکر ہے جو شراب کے لیے بھی قرض لیتا تھا۔ انسان چاہے جس سطح پہ بھی جی رہاہو اچھے دنوں کے آنے کی امید اس کی سرشت میں شامل ہے۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    نقش فریادی ہے کس کی شوخیٔ تحریر کا
    کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا
    کاو کاو سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ
    صبح کرنا شام کا لانا ہے جوئے شیر کا
    جذبۂ بے اختیار شوق دیکھا چاہیے
    سینۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا
    آگہی دام شنیدن جس قدر چاہے بچھائے
    مدعا عنقا ہے اپنے عالم تقریر کا
    بسکہ ہوں غالبؔ اسیری میں بھی آتش زیر پا
    موئے آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا
    آتشیں پا ہوں گداز وحشت زنداں نہ پوچھ
    موئے آتش دیدہ ہے ہر حلقہ یاں زنجیر کا
    شوخیٔ نیرنگ صید وحشت طاؤس ہے
    دام سبزہ میں ہے پرواز چمن تسخیر کا
    لذت ایجاد ناز افسون عرض ذوق قتل
    نعل آتش میں ہے تیغ یار سے نخچیر کا
    خشت پشت دست عجز و قالب آغوش وداع
    پر ہوا ہے سیل سے پیمانہ کس تعمیر کا
    وحشت خواب عدم شور تماشا ہے اسدؔ
    جو مزہ جوہر نہیں آئینۂ تعبیر کا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    گلشن میں بندوبست بہ رنگ دگر ہے آج
    قمری کا طوق حلقۂ بیرون در ہے آج
    آتا ہے ایک پارۂ دل ہر فغاں کے ساتھ
    تار نفس کمند شکار اثر ہے آج
    اے عافیت کنارہ کر اے انتظام چل
    سیلاب گریہ درپئے دیوار و در ہے آج
    معزولیٔ تپش ہوئی افراط انتظار
    چشم کشادہ حلقۂ بیرون در ہے آج
    حیرت فروش صد نگرانی ہے اضطرار
    سر رشتہ چاک جیب کا تار نظر ہے آج
    ہوں داغ نیم رنگیٔ شام وصال یار
    نور چراغ بزم سے جوش سحر ہے آج
    کرتی ہے عاجزیٔ سفر سوختن تمام
    پیراہن خسک میں غبار شرر ہے آج
    تا صبح ہے بہ منزل مقصد رسیدنی
    دود چراغ خانہ غبار سفر ہے آج
    دور اوفتادۂ چمن فکر ہے اسدؔ
    مرغ خیال بلبل بے بال و پر ہے آج

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    جہاں تیرا نقش قدم دیکھتے ہیں
    خیاباں خیاباں ارم دیکھتے ہیں
    دل آشفتگاں خال کنج دہن کے
    سویدا میں سیر عدم دیکھتے ہیں
    ترے سرو قامت سے اک قد آدم
    قیامت کے فتنے کو کم دیکھتے ہیں
    تماشا کہ اے محو آئینہ داری
    تجھے کس تمنا سے ہم دیکھتے ہیں
    سراغ تف نالہ لے داغ دل سے
    کہ شب رو کا نقش قدم دیکھتے ہیں
    بنا کر فقیروں کا ہم بھیس غالبؔ
    تماشائے اہل کرم دیکھتے ہیں
    کسو کو زخود رستہ کم دیکھتے ہیں
    کہ آہو کو پابند رم دیکھتے ہیں
    خط لخت دل یک قلم دیکھتے ہیں
    مژہ کو جواہر رقم دیکھتے ہیں

  • ہندی زبان کے معروف شاعر یشپال کا یوم وفات

    ہندی زبان کے معروف شاعر یشپال کا یوم وفات

    ہندی زبان کے معروف شاعر یشپال،صحافی، مصنف یشپال ضلع کانگرا میں 03 دسمبر 1903ء میں پیدا ہوئے، یشپال ہندی کے مارکسی ناول نگار مانے جاتے ہیں۔ ادب کے میدان میں قدم رکھنے سے پہلے وہ ایک انقلابی تنظیم سے وابستہ تھے۔ ان کے ابتدائی ناولوں میں انقلابی رحجان کا اثر دکھائی دیتا ہے۔ یشپال کے ناول تین رحجانات کے حامل ہیں۔ ”دادا کامریڈ“ رومانی انداز کا ناول ہے۔ اس کے کردار جذباتی اور تخیل پسند ہیں۔ اسے ہندی کا ایسا پہلا ناول قرار دیا گیا ہے جس میں سیاست اور رومانیت کا امتزاج ہے۔ دوسرا رحجان سماجی حقیقت نگاری کا ہے۔

    ”دیش دروہی“، ”دبیا“ اور ”پارٹی کامریڈ“ سماجی حقیقت نگاری کے ناول ہیں۔ ان میں ایسے سماج کی تمنا کی گئی ہے جس میں لوگ طبقوں میں بٹے ہوئے نہ ہوں۔ اس طرح کے ناولوں میں متوسط طبقے کی تصویر ملتی ہے۔ تیسرا رحجان فطرت پسندی کا ہے۔ ”منش کے روپ“ میں یشپال فطر پسندی کی طرف مائل نظر آتے ہیں۔ ”پرتشٹھا کا بوجھ“ اور ”دھرم رکھشا“ یشپال کی ایسی کہانیاں ہیں جن میں فطرت پسندی کی طرف جھکاؤ ملتا ہے۔ لیکن یشپال کے جس ناول کو سب سے زیادہ شہرت ملی وہ "جھوٹا سچ” ہے۔ اس ناول میں کا پس منظر تقسیم کے بعد کے فسادات ہیں۔

    تقسیم نے دونوں ملکوں کے مختلف فرقوں اور مختلف مذہبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے درمیان میں جو زہر گھولا اس کی موثر انداز میں تصویر کشی کی گئی ہے۔ یشپال اپنی تخلیقات میں سماجی برائیوں، اندھے عقائد اور سماجی ناانصافی کے خلاف اعلان جنگ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ 1976ء میں ”میری تیری اس کی بات“ پر ان کو ساہتیہ اکادمی انعام سے نوازا گیا اور یہ پدم بھوشن وصول کنندہ بھی تھے۔

    ابتدائی زندگی
    ۔۔۔۔۔۔
    یشپال 1903ء میں کانگڑا چوٹیوں میں واقع ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ ان کی اماں بہت غریب تھیں اور اپنے دو بچوں کی اکیلے پرورش کرنے کی ذمہ دار ان ہی کے کندھوں پر تھی۔ انھوں نے اس دور میں نشو و نما پائی جب برطانوی راج سے آزادی حاصل کرنے کے دعووں کی گونج میں اضافہ ہوچکا تھا اور ان کی اماں آریہ سماج کی کٹر حمایتی تھیں۔ انہوں نے غربت کے سبب ابتدائی تعلیم آریہ سماج کے گروکُل (روایتی مدرسہ) سے حاصل کی، جہاں مفت کھانے، کپڑوں اور ٹیوشن کی سہولت تھی۔

  • جیت کااحساس — ریاض علی خٹک

    جیت کااحساس — ریاض علی خٹک

    مچھیرے جال پھینک کر مچھلیاں پکڑتے ہیں. لیکن انسٹاگرام فیس بُک پر فخریہ اپنی پکڑی کسی مچھلی کے ساتھ تصاویر شئیر نہیں کرتے. کیونکہ اس میں کمال مقام اور جال کا بھی شریک ہوتا ہے. لیکن ایک کانٹا لٹکائے شکاری صرف ایک مچھلی پکڑتا ہے اور جیت کا ایسا احساس اسے ملتا ہے کہ وہ دنیا کو بتانا چاہتا ہے دیکھو میں نے مچھلی پکڑی. یہ میرا کمال ہے.

    یہ واقعی ایک کمال ہے. ایک مچھلی ساری جھیل دریا اور سمندر میں بکھری فطرت کی خوراک چھوڑ کر اگر اس کانٹے پر لپکے اور شکاری اسے شکار بنالے تو کمال ہی کہلائے گا. ایسے ہی ٹیکنالوجی کے اس دور میں کلک بیٹس ہنی ٹریپ اور آڈیو ویڈیوز کو سچ مان لینے والی مچھلیاں بھی کمال مثال ہوتی ہیں.

    ٹیکنالوجی کے اس دور میں جب کچے کے ڈاکو بھی وائس چینجر سوفٹویر سے لڑکی کی آواز میں کوئی مرغا ایسا پھنسا لیتے ہیں جو سب کچھ چھوڑ کر جنگل میں چلا جاتا ہے. تو یہ اس ڈاکو شکاری کا کمال ہی ہے. البتہ اس مرغے کی یہ جہالت ہوگی. ایسے ہی سیاسی مقاصد کیلئے آڈیوز ویڈیوز کا استعمال کرنے والے ہوں یا انٹرنیٹ پر لوگوں کے کلکس سمیٹنے والے چینلز کی سرخیاں ہوں ان کو سچ سمجھنے والی آڈینس یہی بے وقوف مچھلیاں ہی ہوتی ہیں.

    جب تک دریا کی مچھلیوں کو عقل نہیں آئے گی شکاریوں کا شکار جاری رہے گا. ہمارے ہاں یہ شکار جس زور و شور سے جاری ہے یہ صرف یہاں جہالت کا حساب بتا رہا ہے.

  • ایسا کچھ میرا مطلب نہیں تھا!!! — محمد جمیل احمد

    ایسا کچھ میرا مطلب نہیں تھا!!! — محمد جمیل احمد

    جب میں اپنی ایک کلاس فیلو کے ساتھ کچھ کھانے کسی ریسٹورنٹ پر گیا تھا تو یہ میرا کسی لڑکی کے ساتھ ریسٹورنٹ پر جانے کا پہلا تجربہ تھا ۔۔۔ کلاس ختم ہونے پر گیٹ تک جاتے چار پانچ دوستوں کا کچھ کھانے کا پلان بن رہا تھا جو کہ ناران کاغان، مری، جھیل سیف الملوک، وادی سُون اور آزاد کشمیر کی سیر کے پلان کی طرح تقریباً کینسل ہو ہی رہا تھا ۔۔۔ مگر پھر ہم دو لوگ بچ گئے ۔۔۔ مجھے تو ہاسٹل واپس جانا تھا اس وجہ سے کوئی جلدی نہیں تھی اور اس بیچاری کو بھوک نے ستایا تھا اسکی مجبوری تھی ۔۔۔

    اب جیسا کہ ہمارا کوئی سین تو کیا ش اور ع یہاں تک کہ غ بھی نہیں تھا اس وجہ سے میری پوری توجہ صرف ایک ہی چیز پر تھی اور وہ تھا بروسٹ ۔۔۔ میں چاہتا تھا میں زیادہ کھالوں تاکہ خدانخواستہ پیسے مجھے بھی دینے پڑ جائیں تو دُکھ نہ ہو ۔۔۔ اس نے دو ریگولر بوتلیں آفر کیں تو میں نے کہا کہ ایک ہالف لٹر منگوا لو اور ساتھ دو گلاس منگوا لو ۔۔۔ دو ریگولر سے ایک ہالف لیٹر سستی پڑ جائے گی ۔۔۔ لیکن نہیں پائی ۔۔۔ اسکا بھائی تو بارلے ملک ہوتا ہے ۔۔۔ اس نے ریگولر ہی دو منگوانی تھیں ۔۔۔

    ٹھیک ہے منگوا لو ۔۔۔

    اس نے اپنے گلابی گالوں پر گِری بالوں کی لٹ کو سلیقے سے ہٹاتے ہوئے لبوں پر مسکراہٹ دیتے مجھ سے پوچھا ۔۔۔

    "تم بروسٹ زیادہ اسپیڈ سے نہیں کھارہے۔۔۔”

    میں: نارمل اسپیڈ ہے ۔۔۔ ویسے تم بھی اسپیڈ سے کھالو، تمہیں بھوک کافی لگی تھی ۔۔۔

    (اس نے اخلاقیات کی عظیم مثال قائم کرتے ہوئے کوئی جواب نہیں دیا ۔۔۔ )

    وہ: تمہیں کہیں جانا ہے اب ؟؟؟

    میں: کیوں ؟؟؟ ۔۔۔

    وہ: میرے ساتھ آجاؤ، مجھے کچھ نقشے خریدنے ہیں ۔۔

    میں: میرے ابو کونسا نقشے بنانے والے محکمے میں ہوتے ہیں جو میں نقشے خریدنے تمہارے ساتھ جاؤں۔۔۔

    وہ: تو نہ جاؤ ۔۔۔ بروسٹ کھانے کے لئے آنے کا پتا تھا, اب نقشے خریدنے کے لئے وہاں تک جاتے تکلیف ہوتی ہے ؟؟؟

    میں: شکر کر میں تیرے ساتھ بروسٹ کھانے آگیا۔۔۔ مجھے کتنے ضروری کام ہیں تیری سوچ ہے ۔۔۔

    وہ: جانا ہے یا نہیں ۔۔۔ ہاں یا ناں ؟؟؟

    میں: ہاں ۔۔۔

    اس نے بِل دیا، ہم نقشے خریدنے چلے گئے ۔۔۔ اگلے دن کلاس ختم ہوئی تو میں نے پوچھا ۔۔۔

    "آج کوئی نقشے وغیرہ تو نہیں خریدنے ؟؟؟”

    وہ: نہیں ۔۔۔

    میں : چلو کوئی گل نہیں ۔۔۔ میں اپنے لئے کوئی ریگولر نقشوں والی ڈھونڈ لیتا ہوں ۔۔۔

    وہ: تیرے ساتھ جو جائے گی وہ بڑے امیر باپ کی بیٹی ہی ہوگی ۔۔۔ تم نے کچھ کھانے سے لیکر واپس جانے تک کسی ایک جگہ بھی نہیں پوچھنا ہوتا کہ پیسے میں دے دوں ۔۔۔

    میں: مطلب پیسوں کا تعلق ہے بس ؟؟؟ (جذبات کا وار کرتے ہوئے)۔۔۔

    وہ: ارے نہیں وہ مطلب نہیں تھا میرا ۔۔۔

    میں: او رہنے دے ، تیرا جو مطلب تھا ۔۔ بتا کل کتنے پیسوں کا بروسٹ کھلایا ہے ۔۔۔ رکشے کا کرایہ بھی بتا اور بھی کوئی لگے تو بتا۔۔۔ (میں اپنا بٹوہ جیب سے نکالتے ہوئے ۔۔۔) تعلق پیسوں کا ہی ہے تو حساب کرلیتے ہیں ناں۔۔۔ کونسا کوئی دیکھ رہا ہے ۔۔۔ اسطرح بندے کو ذلیل کرنے کے لئے پیسے پیسے نہیں سناتے ہوئے، نہ کوئی اوقات ہوتی ہے پیسوں کی ۔۔۔ بتا کتنے لگے کل ۔۔۔

    وہ: یار سیریسلی ایسا کچھ میرا مطلب نہیں تھا ۔۔۔

    میں: مطلب وغیرہ نہیں چاہیں یار مہربانی۔۔۔ کلاس کے بعد مجھے سب کے پاس کھڑے کرکے پیسوں کے لئے ذلیل کررہی ہو مزید تیرے مطلب نہیں جاننے مجھے ۔۔۔

    بات گلے شکوے کرنے تک پہنچی تو ہم نے کیفے بیٹھ کر ساری غلط فہمیاں دور کیں، چائے پی، نگٹس کھائے اس نے پیسے دئیے اور ہم ہنسی خوشی گھر چلے گئے۔۔۔

  • بیگم زیب النساء حمید اللہ ،پاکستان کی پہلی خاتون انگریزی مصنفہ، صحافی، ایڈیٹر اور شاعرہ

    بیگم زیب النساء حمید اللہ ،پاکستان کی پہلی خاتون انگریزی مصنفہ، صحافی، ایڈیٹر اور شاعرہ

    بیگم زیب النساء حمید اللہ ،پاکستان کی پہلی خاتون انگریزی مصنفہ، صحافی، ایڈیٹر اور شاعرہ

    25 دسمبر یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بیگم زیب النساء صاحبہ کو بہت سے اہم ترین اور منفرد اعزازات حاصل ہیں اور یہ سب کچھ انہیں خداداد صلاحیتوں کی بدولت حاصل ہوا۔ زیب النساء 25 دسمبر 1921 میں کولکتہ کے ایک علمی اور ادبی مسلم گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد صاحب واجد علی ایک نامور لکھاری تھے جنہوں نے سب سے پہلے شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کی شاعری کا بنگالی زبان میں ترجمہ کیا۔ ان کے والد نے اپنی ہونہار صاحبزادی کو اعلی تعلیم دلائی۔ہندوستان کی تقسیم کے باعث ان کا خاندان کراچی پاکستان منتقل ہو گیا۔ زیب النسا کی شادی 1940 میں ایک کاروباری شخصیت خلیفہ محمد حمید اللہ سے ہوئی جس سے انہیں دو بیٹیاں نیلوفر اور یاسمین پیدا ہوئیں۔ زیب النسا نے 1948 میں انگریزی اخبار روزنامہ ڈان سے کالم نگاری کا آغاز کیا جبکہ 1958 میں انہوں نے کراچی سے انگریزی میں Mirror کے نام سے ماہنامہ جریدہ نکالا جو کہ بہت جلد پاکستان کا ایک مقبول ترہن جریدہ بن گیا ۔ وہ "مرر” کی ایڈیٹر اور پبلشر خود ہی تھیں جبکہ وہ ادارت اور کالم نگاری کے علاوہ شاعری بھی کرتی تھیں اس طرح وہ پاکستان میں انگریزی زبان کی پہلی خاتون صحافی، کالم نگار ، ایڈیٹر ، پبلشر اور انگریزی شاعرہ بن گئیں جو کہ بہت بڑے اعزازات ہیں ۔ اپنے کالمز اور اداریوں میں حکومت کی غلط پالیسیوں پر زبردست تنقید کی وجہ سے ان کے جریدے کی اشاعت پر پابندی عائد کر دی گئی لیکن انہوں نے معروف قانون دان اے کے بروہی کی توسط سے سپریم کورٹ میں حکومت کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا اور یہ مقدمہ انہوں نے جیت لیا اور پاکستان میں کسی بھی خاتون صحافی کا مقدمہ جیتنے کا پہلا اعزاز بھی ان کے حصے میں آیا۔

    محترمہ فاطمہ جناح اور بیگم رعنا لیاقت علی خان ان کی بہترین دوستوں میں شامل تھیں ۔ زیب النسا صاحبہ کے خاوند پاکستان میں باٹا شوز کمپنی کے چیف ایگزیکٹو کے عہدے پر فائز تھے۔ 1970 میں ان کے شوہر حمید اللہ صاحب کا آئر لینڈ تبادلہ کر دیا گیا تو زیب النسا بھی ان کے ہمراہ ڈبلن آئر لینڈ منتقل ہو گئیں لیکن کراچی پاکستان میں ان کی آمد و رفت کا سلسلہ جاری رہا۔ 1983 میں ان کے شوہر محترم کا کراچی میں انتقال ہوا۔ زیب النسا کو پاکستان کی پہلی خاتون مبصر ہونے اور الازہر یونیورسٹی قاہرہ سے خطاب کرنے کا بھی اعزاز حاصل رہا ہے ۔ 10 ستمبر 2000 میں ان کا کراچی میں انتقال ہوا ۔ کراچی کی مشہور گلی ” زیب النسا اسٹریٹ” ان کے نام سے منسوب ہے ۔ بیگم زیب النساء حمید اللہ کی انگریزی تصانیف کی تفصیل درج ذیل ہے۔

    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)Indian Bouquet
    ۔ 1941
    ۔ (2)Lotus Leaves
    ۔ 1946
    ۔ (3)Sixty Days in
    ۔ America
    ۔ 1956
    ۔ (4)The Young Wife
    ۔ 1958
    ۔ (5)The Flute of
    ۔ Memory
    ۔ 1964
    ۔ (6)Poems
    ۔ 1972

  • 26 دسمبر ،اردو کی منفرد لہجے کی شاعرہ پروین شاکر کا یومِ وفات

    26 دسمبر ،اردو کی منفرد لہجے کی شاعرہ پروین شاکر کا یومِ وفات

    مر بھی جائوں تو کہاں لوگ بھلا ہی دیں گے
    لفظ میرے، مرے ہونے کی گواہی دیں گے

    26 دسمبر اردو کی منفرد لہجے کی شاعرہ پروین شاکر کا یومِ وفات

    یہ دُکھ نہیں کہ اندھیروں سے صلح کی ہم نے
    ملال یہ ہے کہ اب صبح کی طلب بھی نہیں

    سیدہ پروین شاکر 24 نومبر 1954 ء کو پاکستان کے شہر کراچی میں پیدا ہوئیں۔ آپ کے والد کا نام سید شاکر حسن تھا۔ ان کا خانوادہ صاحبان علم کا خانوادہ تھا۔ ان کے خاندان میں کئی نامور شعرا اور ادبا پیدا ہوئے۔ جن میں بہار حسین آبادی کی شخصیت بہت بلند و بالا ہے۔آپ کے نانا حسن عسکری اچھا ادبی ذوق رکھتے تھے انہوں بچپن میں پروین کو کئی شعراء کے کلام سے روشناس کروایا۔ پروین ایک ہونہار طالبہ تھیں۔ دورانِ تعلیم وہ اردو مباحثوں میں حصہ لیتیں رہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ریڈیو پاکستان کے مختلف علمی ادبی پروگراموں میں شرکت کرتی رہیں۔ انگریزی ادب اور زبانی دانی میں گریجویشن کیا اور بعد میں انہی مضامین میں جامعہ کراچی سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ پروین شاکر استاد کی حیثیت سے درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ رہیں اور پھر بعد میں آپ نے سرکاری ملازمت اختیار کر لی۔

    سرکاری ملازمت شروع کرنے سے پہلے نو سال شعبہ تدریس سے منسلک رہیں، اور 1986ء میں کسٹم ڈیپارٹمنٹ ، سی۔بی۔آر اسلام آباد میں سیکرٹری دوئم کے طور پر اپنی خدمات انجام دینے لگیں۔1990 میں ٹرینٹی کالج جو کہ امریکہ سے تعلق رکھتا تھا تعلیم حاصل کی اور 1991ء میں ہاورڈ یونیورسٹی سے پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ پروین کی شادی ڈاکٹر نصیر علی سے ہوئی جس سے بعد میں طلاق ہوئی ۔

    شاعری میں آپ کو احمد ندیم قاسمی صاحب کی سرپرستی حاصل رہی۔آپ کا بیشتر کلام اُن کے رسالے فنون میں شائع ہوتا رہا۔ 1977ء میں آپ کا پہلا مجموعہ کلام خوشبو شائع ہوا۔ اس مجموعہ کی غیر معمولی پذیرائی ہوئی اور پروین شاکر کا شمار اردو کے صف اول کے شعرامیں ہونے لگا۔ خوشبو کے بعد پروین شاکر کے کلام کے کئی اور مجموعے صد برگ، خود کلامی اور انکار شائع ہوئے۔ آپ کی زندگی میں ہی آپ کے کلام کی کلیات ’’ماہ تمام‘‘ بھی شائع ہوچکی تھی جبکہ آپ کا آخری مجموعہ کلام کف آئینہ ان کی وفات کے بعد اشاعت پذیر ہوا۔

    26 دسمبر 1994ء کو اس خبر نے ملک بھر کے ادبی حلقوں ہی نہیں عوام الناس کو بھی افسردہ اور ملول کردیا کہ ملک کی ممتاز شاعرہ پروین شاکر اسلام آباد میں ٹریفک کے ایک اندوہناک حادثے میں وفات پاگئی ہیں۔
    پروین شاکر کو اگر اردو کے صاحب اسلوب شاعروں میں شمار کیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ انہوں نے اردو شاعری کو ایک نیا لب و لہجہ دیا اور شاعری کو نسائی احساسات سے مالا مال کیا۔ ان کا یہی اسلوب ان کی پہچان بن گیا۔ آج بھی وہ اردو کی مقبول ترین شاعرہ تسلیم کی جاتی ہیں۔

    پروین شاکر نے کئی اعزازات حاصل کئے تھے جن میں ان کے مجموعہ کلام خوشبو پر دیا جانے والا آدم جی ادبی انعام، خود کلامی پر دیا جانے والا اکادمی ادبیات کا ہجرہ انعام اور حکومت پاکستان کاصدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سرفہرست تھے۔

    پروین شاکر اسلام آباد کے مرکزی قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

  • زندہ رہیں تو کیا ہے جو مرجائیں ہم تو کیا، یوم وفات منیر نیازی

    زندہ رہیں تو کیا ہے جو مرجائیں ہم تو کیا، یوم وفات منیر نیازی

    زندہ رہیں تو کیا ہے جو مرجائیں ہم تو کیا، یوم وفات منیر نیازی

    زندہ رہیں تو کیا ہے جو مرجائیں ہم تو کیا
    دنیا سے خامشی سے گزر جائیں ہم تو کیا

    منیر نیازی

    پیدائش:09اپریل 1928ء
    ہوشیار پور، ہندوستان
    وفات:26دسمبر 2006ء

    نام محمد منیر خاں قبیلہ نیازی پٹھان اور تخلص منیر ہے۔ 09اپریل 1928ء کو خان پور ضلع ہوشیار پور میں پیدا ہوئے۔۱۹۴۷ء میں بی اے کیا۔ تقسیم ہند کے بعد پاکستان آگئے۔مختلف اخبارات اور جرائد سے وابستہ رہے۔ فلمی نغمہ نگاری کی۔غزل ان کی بنیادی شناخت ہے۔پابند اور آزاد نظمیں بھی کافی تعداد میں لکھی ہیں۔ نثری نظمیں بھی لکھتے تھے۔پنجابی کے بھی بہت اچھے شاعر تھے۔وہ اردو اور پنجابی کے ۳۰؍ سے زائد کتابوں کے مصنف تھے۔ اردو شاعری کے چند مجموعوں کے نام یہ ہیں : ’تیز ہوا اور تنہا پھول‘،’جنگل میں دھنک‘، ’دشمنوں کے درمیان شام‘، ’ماہ منیر‘، ’اس بے وفاکا شہر‘،’چھ رنگین دروازے‘۔ان کو یکجا کرکے ’’کلیات منیر‘، ’غزلیات منیر‘، اور ’نظم منیر‘، چھپ گئی ہے۔26؍دسمبر2006ء کو لاہور میں انتقال کرگئے۔ انھیں اکادمی ادبیات پاکستان کا ’کمال فن‘ ایوارڈ دیا گیا۔ انھیں حسن کارکردگی ایوارڈ کے علاوہ دومرتبہ ستارۂ امتیاز سے بھی نوازا گیا۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:221

    اشعار
    ۔۔۔۔۔

    کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے
    سوال سارے غلط تھے جواب کیا دیتے

    آواز دے کے دیکھ لو شاید وہ مل ہی جائے
    ورنہ یہ عمر بھر کا سفر رائیگاں تو ہے

    اب کون منتظر ہے ہمارے لیے وہاں
    شام آ گئی ہے لوٹ کے گھر جائیں ہم تو کیا

    خواب ہوتے ہیں دیکھنے کے لیے
    ان میں جا کر مگر رہا نہ کرو

    یہ کیسا نشہ ہے میں کس عجب خمار میں ہوں
    تو آ کے جا بھی چکا ہے، میں انتظار میں ہوں

    خیال جس کا تھا مجھے خیال میں ملا مجھے
    سوال کا جواب بھی سوال میں ملا مجھے

    اپنی ہی تیغ ادا سے آپ گھائل ہو گیا
    چاند نے پانی میں دیکھا اور پاگل ہو گیا

    غم کی بارش نے بھی تیرے نقش کو دھویا نہیں
    تو نے مجھ کو کھو دیا میں نے تجھے کھویا نہیں

    عادت ہی بنا لی ہے تم نے تو منیرؔ اپنی
    جس شہر میں بھی رہنا اکتائے ہوئے رہنا

    آ گئی یاد شام ڈھلتے ہی
    بجھ گیا دل چراغ جلتے ہی

    محبت اب نہیں ہوگی یہ کچھ دن بعد میں ہوگی
    گزر جائیں گے جب یہ دن یہ ان کی یاد میں ہوگی

    مدت کے بعد آج اسے دیکھ کر منیرؔ
    اک بار دل تو دھڑکا مگر پھر سنبھل گیا

    وہ جس کو میں سمجھتا رہا کامیاب دن
    وہ دن تھا میری عمر کا سب سے خراب دن

    شہر کی گلیوں میں گہری تیرگی گریاں رہی
    رات بادل اس طرح آئے کہ میں تو ڈر گیا

    شہر کا تبدیل ہونا شاد رہنا اور اداس
    رونقیں جتنی یہاں ہیں عورتوں کے دم سے ہیں

    خواہشیں ہیں گھر سے باہر دور جانے کی بہت
    شوق لیکن دل میں واپس لوٹ کر آنے کا تھا

    کٹی ہے جس کے خیالوں میں عمر اپنی منیرؔ
    مزا تو جب ہے کہ اس شوخ کو پتا ہی نہ ہو

    جانتا ہوں ایک ایسے شخص کو میں بھی منیرؔ
    غم سے پتھر ہو گیا لیکن کبھی رویا نہیں

    میں تو منیرؔ آئینے میں خود کو تک کر حیران ہوا
    یہ چہرہ کچھ اور طرح تھا پہلے کسی زمانے میں

    کل میں نے اس کو دیکھا تو دیکھا نہیں گیا
    مجھ سے بچھڑ کے وہ بھی بہت غم سے چور تھا

    کوئی تو ہے منیرؔ جسے فکر ہے مری
    یہ جان کر عجیب سی حیرت ہوئی مجھے

    وقت کس تیزی سے گزرا روزمرہ میں منیرؔ
    آج کل ہوتا گیا اور دن ہوا ہوتے گئے

    تھکے لوگوں کو مجبوری میں چلتے دیکھ لیتا ہوں
    میں بس کی کھڑکیوں سے یہ تماشے دیکھ لیتا ہوں

    اک اور دریا کا سامنا تھا منیرؔ مجھ کو
    میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا

    تم میرے لیے اتنے پریشان سے کیوں ہو
    میں ڈوب بھی جاتا تو کہیں اور ابھرتا

    کسی اکیلی شام کی چپ میں
    گیت پرانے گا کے دیکھو

    منیرؔ اس خوب صورت زندگی کو
    ہمیشہ ایک سا ہونا نہیں ہے

    پوچھتے ہیں کہ کیا ہوا دل کو
    حسن والوں کی سادگی نہ گئی

    اچھی مثال بنتیں ظاہر اگر وہ ہوتیں
    ان نیکیوں کو ہم تو دریا میں ڈال آئے

    ایک وارث ہمیشہ ہوتا ہے
    تخت خالی رہا نہیں کرتا

    جانتے تھے دونوں ہم اس کو نبھا سکتے نہیں
    اس نے وعدہ کر لیا میں نے بھی وعدہ کر لیا

    زندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیا
    دنیا سے خامشی سے گزر جائیں ہم تو کیا

    رہنا تھا اس کے ساتھ بہت دیر تک مگر
    ان روز و شب میں مجھ کو یہ فرصت نہیں ملی

    میں اس کو دیکھ کے چپ تھا اسی کی شادی میں
    مزا تو سارا اسی رسم کے نباہ میں تھا

    مکاں ہے قبر جسے لوگ خود بناتے ہیں
    میں اپنے گھر میں ہوں یا میں کسی مزار میں ہوں

    میری ساری زندگی کو بے ثمر اس نے کیا
    عمر میری تھی مگر اس کو بسر اس نے کیا

    بے چین بہت پھرنا گھبرائے ہوئے رہنا
    اک آگ سی جذبوں کی دہکائے ہوئے رہنا

    غیروں سے مل کے ہی سہی بے باک تو ہوا
    بارے وہ شوخ پہلے سے چالاک تو ہوا

    منیرؔ اچھا نہیں لگتا یہ تیرا
    کسی کے ہجر میں بیمار ہونا

    چاہتا ہوں میں منیرؔ اس عمر کے انجام پر
    ایک ایسی زندگی جو اس طرح مشکل نہ ہو

    ہے منیرؔ تیری نگاہ میں
    کوئی بات گہرے ملال کی

    کچھ دن کے بعد اس سے جدا ہو گئے منیرؔ
    اس بے وفا سے اپنی طبیعت نہیں ملی

    زمیں کے گرد بھی پانی زمیں کی تہہ میں بھی
    یہ شہر جم کے کھڑا ہے جو تیرتا ہی نہ ہو

    مجھ سے بہت قریب ہے تو پھر بھی اے منیرؔ
    پردہ سا کوئی میرے ترے درمیاں تو ہے

    جرم آدم نے کیا اور نسل آدم کو سزا
    کاٹتا ہوں زندگی بھر میں نے جو بویا نہیں

    کیوں منیرؔ اپنی تباہی کا یہ کیسا شکوہ
    جتنا تقدیر میں لکھا ہے ادا ہوتا ہے

    دل عجب مشکل میں ہے اب اصل رستے کی طرف
    یاد پیچھے کھینچتی ہے آس آگے کی طرف

    گھٹا دیکھ کر خوش ہوئیں لڑکیاں
    چھتوں پر کھلے پھول برسات کے

    میں ہوں بھی اور نہیں بھی عجیب بات ہے یہ
    یہ کیسا جبر ہے میں جس کے اختیار میں ہوں

    اس کو بھی تو جا کر دیکھو اس کا حال بھی مجھ سا ہے
    چپ چپ رہ کر دکھ سہنے سے تو انساں مر جاتا ہے

    کچھ وقت چاہتے تھے کہ سوچیں ترے لیے
    تو نے وہ وقت ہم کو زمانے نہیں دیا

    تیز تھی اتنی کہ سارا شہر سونا کر گئی
    دیر تک بیٹھا رہا میں اس ہوا کے سامنے

    اس حسن کا شیوہ ہے جب عشق نظر آئے
    پردے میں چلے جانا شرمائے ہوئے رہنا

    کتنے یار ہیں پھر بھی منیرؔ اس آبادی میں اکیلا ہے
    اپنے ہی غم کے نشے سے اپنا جی بہلاتا ہے

    ہستی ہی اپنی کیا ہے زمانے کے سامنے
    اک خواب ہیں جہاں میں بکھر جائیں ہم تو کیا

    تھا منیرؔ آغاز ہی سے راستہ اپنا غلط
    اس کا اندازہ سفر کی رائیگانی سے ہوا

    بیٹھ کر میں لکھ گیا ہوں درد دل کا ماجرا
    خون کی اک بوند کاغذ کو رنگیلا کر گئی

    اپنے گھروں سے دور بنوں میں پھرتے ہوئے آوارہ لوگو
    کبھی کبھی جب وقت ملے تو اپنے گھر بھی جاتے رہنا

    یہ اجنبی سی منزلیں اور رفتگاں کی یاد
    تنہائیوں کا زہر ہے اور ہم ہیں دوستو

    شہر میں وہ معتبر میری گواہی سے ہوا
    پھر مجھے اس شہر میں نا معتبر اس نے کیا

    لیے پھرا جو مجھے در بہ در زمانے میں
    خیال تجھ کو دل بے قرار کس کا تھا

    جنگلوں میں کوئی پیچھے سے بلائے تو منیرؔ
    مڑ کے رستے میں کبھی اس کی طرف مت دیکھو

    نیند کا ہلکا گلابی سا خمار آنکھوں میں تھا
    یوں لگا جیسے وہ شب کو دیر تک سویا نہیں

    میں بہت کمزور تھا اس ملک میں ہجرت کے بعد
    پر مجھے اس ملک میں کمزور تر اس نے کیا

    میں خوش نہیں ہوں بہت دور اس سے ہونے پر
    جو میں نہیں تھا تو اس پر شباب کیوں آیا

    وہم یہ تجھ کو عجب ہے اے جمال کم نما
    جیسے سب کچھ ہو مگر تو دید کے قابل نہ ہو

    رویا تھا کون کون مجھے کچھ خبر نہیں
    میں اس گھڑی وطن سے کئی میل دور تھا

    اٹھا تو جا بھی چکا تھا عجیب مہماں تھا
    صدائیں دے کے مجھے نیند سے جگا بھی گیا

    ایسا سفر ہے جس کی کوئی انتہا نہیں
    ایسا مکاں ہے جس میں کوئی ہم نفس نہیں

    دل کی خلش تو ساتھ رہے گی تمام عمر
    دریائے غم کے پار اتر جائیں ہم تو کیا

    غیر سے نفعت جو پا لی خرچ خود پر ہو گئی
    جتنے ہم تھے ہم نے خود کو اس سے آدھا کر لیا

    گلی کے باہر تمام منظر بدل گئے تھے
    جو سایۂ کوئے یار اترا تو میں نے دیکھا

    وہ کھڑا ہے ایک باب علم کی دہلیز پر
    میں یہ کہتا ہوں اسے اس خوف میں داخل نہ ہو

    ہم بھی منیرؔ اب دنیا داری کر کے وقت گزاریں گے
    ہوتے ہوتے جینے کے بھی لاکھ بہانے آ جاتے ہیں
    یہ نماز عصر کا وقت ہے
    یہ گھڑی ہے دن کے زوال کی

    بڑی مشکل سے یہ جانا کہ ہجر یار میں رہنا
    بہت مشکل ہے پر آخر میں آسانی بہت ہے

    ڈر کے کسی سے چھپ جاتا ہے جیسے سانپ خزانے میں
    زر کے زور سے زندہ ہیں سب خاک کے اس ویرانے میں
    آنکھوں میں اڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دھول
    عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو

    صبح کاذب کی ہوا میں درد تھا کتنا منیرؔ
    ریل کی سیٹی بجی تو دل لہو سے بھر گیا

    دن بھر جو سورج کے ڈر سے گلیوں میں چھپ رہتے ہیں
    شام آتے ہی آنکھوں میں وہ رنگ پرانے آ جاتے ہیں

    اب کسی میں اگلے وقتوں کی وفا باقی نہیں
    سب قبیلے ایک ہیں اب ساری ذاتیں ایک سی

    وہ جو میرے پاس سے ہو کر کسی کے گھر گیا
    ریشمی ملبوس کی خوشبو سے جادو کر گیا

    مہک عجب سی ہو گئی پڑے پڑے صندوق میں
    رنگت پھیکی پڑ گئی ریشم کے رومال کی

    جن کے ہونے سے ہم بھی ہیں اے دل
    شہر میں ہیں وہ صورتیں باقی

    رات اک اجڑے مکاں پر جا کے جب آواز دی
    گونج اٹھے بام و در میری صدا کے سامنے

    خوشبو کی دیوار کے پیچھے کیسے کیسے رنگ جمے ہیں
    جب تک دن کا سورج آئے اس کا کھوج لگاتے رہنا

    شاید کوئی دیکھنے والا ہو جائے حیران
    کمرے کی دیواروں پر کوئی نقش بنا کر دیکھ

    اک تیز رعد جیسی صدا ہر مکان میں
    لوگوں کو ان کے گھر میں ڈرا دینا چاہئے

    منیرؔ اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے
    کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ

    تو بھی جیسے بدل سا جاتا ہے
    عکس دیوار کے بدلتے ہی

    ایک دشت لا مکاں پھیلا ہے میرے ہر طرف
    دشت سے نکلوں تو جا کر کن ٹھکانوں میں رہوں

    یہ میرے گرد تماشا ہے آنکھ کھلنے تک
    میں خواب میں تو ہوں لیکن خیال بھی ہے مجھے

    چاند چڑھتا دیکھنا بے حد سمندر پر منیرؔ
    دیکھنا پھر بحر کو اس کی کشش سے جاگتا

    جب سفر سے لوٹ کر آئے تو کتنا دکھ ہوا
    اس پرانے بام پر وہ صورت زیبا نہ تھی

    دیکھے ہوئے سے لگتے ہیں رستے مکاں مکیں
    جس شہر میں بھٹک کے جدھر جائے آدمی

    ملتی نہیں پناہ ہمیں جس زمین پر
    اک حشر اس زمیں پہ اٹھا دینا چاہئے

    سن بستیوں کا حال جو حد سے گزر گئیں
    ان امتوں کا ذکر جو رستوں میں مر گئیں

    لائی ہے اب اڑا کے گئے موسموں کی باس
    برکھا کی رت کا قہر ہے اور ہم ہیں دوستو

    زندہ لوگوں کی بود و باش میں ہیں
    مردہ لوگوں کی عادتیں باقی

    دشت باراں کی ہوا سے پھر ہرا سا ہو گیا
    میں فقط خوشبو سے اس کی تازہ دم سا ہو گیا

    مرے پاس ایسا طلسم ہے جو کئی زمانوں کا اسم ہے
    اسے جب بھی سوچا بلا لیا اسے جو بھی چاہا بنا دیا

    جی خوش ہوا ہے گرتے مکانوں کو دیکھ کر
    یہ شہر خوف خود سے جگر چاک تو ہوا

    امتحاں ہم نے دیئے اس دار فانی میں بہت
    رنج کھینچے ہم نے اپنی لا مکانی میں بہت

    یہ سفر معلوم کا معلوم تک ہے اے منیرؔ
    میں کہاں تک ان حدوں کے قید خانوں میں رہوں

    ہے منیرؔ حیرت مستقل
    میں کھڑا ہوں ایسے مقام پر

    کھڑا ہوں زیر فلک گنبد صدا میں منیرؔ
    کہ جیسے ہاتھ اٹھا ہو کوئی دعا کے لیے

    تنہا اجاڑ برجوں میں پھرتا ہے تو منیرؔ
    وہ زرفشانیاں ترے رخ کی کدھر گئیں

    چمک زر کی اسے آخر مکان خاک میں لائی
    بنایا سانپ نے جسموں میں گھر آہستہ آہستہ

    قبائے زرد پہن کر وہ بزم میں آیا
    گل حنا کو ہتھیلی میں تھام کر بیٹھا

    مکان زر لب گویا حد سپہر و زمیں
    دکھائی دیتا ہے سب کچھ یہاں خدا کے سوا

    کوئلیں کوکیں بہت دیوار گلشن کی طرف
    چاند دمکا حوض کے شفاف پانی میں بہت

    ہوں مکاں میں بند جیسے امتحاں میں آدمی
    سختیٔ دیوار و در ہے جھیلتا جاتا ہوں میں

    بہت ہی سست تھا منظر لہو کے رنگ لانے کا
    نشاں آخر ہوا یہ سرخ تر آہستہ آہستہ

    زوال عصر ہے کوفے میں اور گداگر ہیں
    کھلا نہیں کوئی در باب التجا کے سوا

  • کپیلا واتسیاین معروف ادیبہ اور موسیقی و  رقص کی اسکالر تھیں

    کپیلا واتسیاین معروف ادیبہ اور موسیقی و رقص کی اسکالر تھیں

    تاریخ ولادت: 25 دسمبر 1928ء
    دہلی
    تاریخ وفات:16 ستمبر 2020ء
    دہلی
    والدین:رام لال ملک
    ستیہ وتی ملک
    مادر علمی:دہلی یونیورسٹی
    مشی گن یونیورسٹی
    بنارس ہندو یونیورسٹی

    25 دسمبر 1928 کو دہلی میں پیدا ہونے والی کپیلا واتسیاین معروف ادیبہ اور موسیقی و رقص کی اسکالر تھیں۔ انھوں نے بنارس ہندو یونیورسٹی اور امریکہ کے مشی گن یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی تھی۔ کپیلا جی، جو سنگیت ناٹک اکیڈمی کی فیلو رہ چکیں تھیں، ممتاز ڈانسر شمبھو مہاراج اور مشہور مورخ واسودیو شرن اگروال کی شاگردہ بھی تھیں۔

    وہ راجیہ سبھا کے لئے 2006 میں نامزد رکن مقرر کی گئی تھیں اور فائدہ کے عہدے کے تنازع کی وجہ سے انہوں نے راجیہ سبھا کی رکنیت چھوڑ دی تھی۔ اس کے بعد وہ دوبارہ راجیہ سبھا کی رکن نامزد کی گئیں۔ واتسیاین نیشنل اندرا گاندھی آرٹ سینٹر کی بانی سکریٹری تھیں اور انڈیا انٹرنیشنل سینٹر کی لائف ٹائم ٹرسٹی بھی تھیں۔ انھوں نے ہندوستانی ناٹیاشاسترا اور ہندوستانی روایتی فن پر سنجیدہ اور علمی کتابیں لکھیں۔ وہ ملک میں ہندوستانی فن کی سرکاری اسکالر کے طور پر سمجھی جاتی تھیں۔

    واتسیاین ہندی کی مشہور مصنفہ ستیہ وتی ملک کی بیٹی تھیں اور ان کے بھائی کیشیو ملک ایک مشہور انگریزی شاعر اور فن نقاد تھے۔ انہوں نے ساٹھ کی دہائی میں محکمہ تعلیم میں سکریٹری کی حیثیت سے بھی کام کیا۔ ان کی شادی سچدآنند ہیرآنند واتسیاین سے ہوئی تھی لیکن چند برسوں کے بعد ان سے طلاق ہوگئی اور اس کے بعد وہ تنہا زندگی گزارتی رہیں۔