Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • بچوں کے مصنف؛ سابق گورنر سندھ حکیم محمد سعید کا چوبیسواں  یوم شہادت

    بچوں کے مصنف؛ سابق گورنر سندھ حکیم محمد سعید کا چوبیسواں یوم شہادت

    بچوں کے مصنف؛ سابق گورنر سندھ حکیم محمد سعید کا چوبیسواں یوم شہادت

    بچوں کیلئے دلچسپ تحریریں لکھنے والے معروف مصنف اور سابق گورنر سندھ حکیم محمد سعید کی شہادت کو آج 24 برس مکمل ہوچکے ہیں۔ حکیم محمد سعید کی ملک و قوم اور بچوں کیلئے تحریری و سماجی خدمات بھلائی نہیں جاسکتیں۔ سابق گورنر سندھ حکیم محمد سعید نے حکمت کے ساتھ ساتھ علومِ دینی، حفظِ قرآن اور بچوں کے ادب پر زبردست کام کیا۔ ان کی علمی و ادبی خدمات اور گورنرسندھ کے طور پر قومی خدمات تاریخ کا روشن باب بن گئیں۔

    معروف مصنف و محقق حکیم محمد سعید شہید کی تصانیف بڑی تعداد میں عوام الناس کیلئے وسیلۂ روزگار اور تحصیلِ علم کا ذریعہ ثابت ہو رہی ہیں۔ آپ ایک عالمی شہرت یافتہ معالج، مایہ ناز ادیب اور طبی محقق تھے جن کی کامیابیوں کی داستان طویل ہے۔ سابق گورنر حکیم محمد سعید 9 جنوری 1920ء کے روز بھارتی دارالحکومت دہلی میں پیدا ہوئے، ابھی عمر 2 برس ہی تھی کہ والد کی وفات نے آپ کی زندگی کو مشکلات سے دوچار کردیا، پھر بھی آپ نے 9 برس کی عمر میں قرآن حفظ کرکے دنیا کو حیران کردیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے کہا سبسڈیز نہیں دینی چاہئیں. وزیر خزانہ
    بنوں:سیکورٹی فورسزکا دہشت گردوں کے خلاف آپریشن:ایک دہشت گرد ہلاک
    ڈاکٹرمحمد بن عبدالکریم الیسہ کےدورہ سےپاکستان اورسعودی عرب کے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے: طاہراشرفی
    پاکستان آزاد ہوا تو آپ نوجوان تھے، جس کے بعد آپ نے سب کچھ بھارت میں چھوڑ کر پاکستان کو اپنا وطن بنانے کا فیصلہ کیا اور اہلِ خانہ کے ہمراہ 9 جنوری 1948ء کو شہرِ قائد آ پہنچے اور قائدِ اعظم محمد علی جناح کی زندگی میں انہیں دیکھا۔ حکیم محمد سعید نے 11 ستمبر 1948ء کو قائدِ اعظم کی وفات سے لے کر یومِ وفات تک ملک کی سیاسی و قومی تاریخ کا گہرائی سے مطالعہ کیا۔ آپ کو 17 اکتوبر 1998ء کے روز دہشت گردوں نے روزے کی حالت میں فائرنگ کرکے شہید کردیا تھا۔

  • بدنصیب — عمریوسف

    بدنصیب — عمریوسف

    آج صبح اٹھتے ہی اسے فکروں نے آ گھیرا ۔ سوچوں کا وہی سلسلہ جو رات سوتے وقت ٹوٹا تھا صبح اٹھتے ہی دوبارہ بحال ہوگیا ۔ فکر معاش کے خیالات کا طوفان اس کے دماغ میں پھر چلنا شروع ہوگیا ۔ بہتر مستقبل کی توقعات اسے پھر ستانے لگیں ۔ دوستوں کی محفل میں بھی اس نے گفتگو کا موضوع بہتر نوکری ہی بنائے رکھا ۔ پھر اسے ضروری کام کے سلسلے میں کہیں جانا تھا کام کے دوران بھی وہ یہی سوچتا رہا کہ روٹی کیسے کماوں اور آنے والے وقت کو کیسے بہتر بناوں ؟

    واپسی پر وہ پررونق بازاروں سے گزر رہا تھا لیکن روٹی کی فکر نے اس رونق سے بے خبر کیے رکھا ۔

    چلتے چلتے اسے پارک نظر آئی جہاں اس کا پسندیدہ گوشہ تھا جہاں تنہائی تھی ، سکون تھا ، خاموشی تھی جہاں وہ گھنٹوں بیٹھا اپنے ساتھ وقت گزارتا تھا ۔ لیکن روٹی کے فکر نے اس پارک سے بھی بے خبر کیے رکھا ۔

    اس کے بچپن کا دوست اسے ملا جس کے ساتھ وہ لوگوں کے گھروں میں پٹاخے پھینک کر چھپ جاتا اور گھر والوں کی ہربراہٹ کو انجوائے کرتا ، لیکن وہ روٹی کی فکر میں اپنے دوست کو بھی نظر انداز کرگیا ۔

    سورج غروب ہوا اور شام کے سائے بڑھ گئے ، اندھیرا چھانے لگا اور وہ گھر کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے جانے لگا ۔ گھر میں داخل ہوا تو اس کی بیوی اس کے انتظار میں تھی اس نے جلدی سے روٹی تیار کی اور اس کے سامنے لا کر رکھ دی وہ روٹی کمانے کی فکر میں اتنا گھر چکا تھا کہ اس نے روٹی کو یہ کہتے ہوئے سائیڈ پر کردیا کہ میرا کھانے کو دل نہیں کررہا ۔۔۔۔

    چشم فلک نے یہ منظر دیکھا کہ انسان کتنا بدنصیب ہوتا ہے جو چند لمحوں کے جینے کا سلیقہ بھی نہیں جانتا جو روٹی کی فکر میں روٹی ہی چھوڑ دیتا ہے ۔

  • اسلامی شرعی فلم — شہنیلہ بیلگم والا

    اسلامی شرعی فلم — شہنیلہ بیلگم والا

    حمزہ عباسی کے اس بیان کے بعد میرے ذہن میں فلم کا جو خاکہ بنا ہے وہ کچھ یوں ہے؛

    صبح صبح نور ویلے ہیرو کے کمرے کا سین دکھایا جاتا ہے جہاں ہیرو فجر کی نماز کی تیاری میں مشغول ہے. ہیرو کی گھنی داڑھی سے وضو کے پانی کے قطرے ٹپک رہے ہیں. ہیرو نے چٹا سفید جوڑا پایا ہے. مسجد جانے سے پہلے ہیرو سر پہ عمامہ باندھنا ہرگز نہیں بھولا.

    مسجد میں باجماعت نماز ادا کرنے کے بعد مولوی صاحب کا بیان سنا جس میں ملک کے بدترین حالات کا زمہ دار فحاشی کو ٹھہرایا گیا تھا. خاص طور پر ان خواتین کو جہنمی قرار دیا گیا تھا جو جینز پہن کر ملک میں سیلاب لانے کی زمہ دار ہیں.

    بیان سننے کے بعد ہیرو وہیں اذکار اور تلاوت میں مشغول ہوگیا اور پھر اشراق کی نماز ادا کر کے گھر کی طرف روانہ ہوا.

    گھر پہنچ کر والدہ کے ہاتھ کا ناشتہ تناول فرمایا. چونکہ اسلامی فلم ہے اس لیے والدہ نے سارا ناشتہ ٹوپی برقع پہن کر سرو کیا. چونکہ آواز کا بھی پردہ ہوتا ہے اس لیے والدہ نے دعا دینے کے بجائے سر پہ ہاتھ پھیرنے پر اکتفا کیا.

    ناشتہ کرنے کے بعد ہیرو اپنے مدرسے روانہ ہوگیا جہاں وہ بچوں کو انتہائی شفقت اور محبت سے قرآن حفظ کرواتا تھا. عصر کی نماز سے فارغ ہو کر ہیرو گھر پہنچا، جہاں اس کے والد اور بڑے بھائی دو بزرگوں کے ساتھ تشریف فرما تھے. ہیرو جب سلام کر کے ان کے پاس بیٹھا تو پتا چلا کہ قاری عبدالقدوس کی دختر کا رشتہ ہیرو کے ساتھ کرنے کا ارادہ ہے. دونوں گھرانوں کے بزرگوں نے استخارا ادا کر لیا ہے. ہیرو کے گھر کی خواتین بنت عبدالقدوس کو دیکھ آئی ہیں. لیکن چونکہ اسلامی فلم ہے اس لیے ہیروئین کی جھلک بھی نہیں دکھائی جا سکتی. فلم بین قاری عبدالقدوس اور اس کے بیٹوں کو دیکھ کر امیجن کرلیں کہ ان کی بیٹی اور بہن کیسی لگتی ہوگی ( داڑھی ہٹا کر).

    فلم اسلامی ہی سہی لیکن ہیرو کے تو جذبات ہیں. رات عشاء کی نماز کے بعد بیان سننے میں بھی ہیرو کا دل نہیں لگ رہا تھا. بار بار قاری عبدالقدوس اور اس کے بیٹوں کے چہرے نگاہوں کے سامنے گھوم رہے تھے. ہیرو نے ذہن کو بٹانے کے لیے سائیڈ ٹیبل پہ پڑی کتب سے ” رفع الیدین حنفی علماء کرام کی نظر میں” پڑھنے کے لیے اٹھا لی. اس کے بعد نیند نہ آنے کی صورت میں ” ٹخنے کھلے رکھنے کی تحدید” بھی پڑھنے کا ارادہ کرلیا کہ نیت کا بھی ثواب ہے.

  • بھنگ والے پکوڑے — ریاض علی خٹک

    بھنگ والے پکوڑے — ریاض علی خٹک

    پرانی بات ہے لاہور میں شدید برسات کے دوران ہمارے ایک کولیگ نے پکوڑے بنوائے اور بڑی چاو سے سب دوستو کو آفس میں دعوت دی. دعوت دینے والے سے میں نے کہا تم لوگ بسم اللہ کرو میں بعد میں تمہیں جوائن کرتا ہوں. لیکن اُس نے کہا نہیں فیصلہ ہوا ہے کہ جب سب جمع ہوں گے تب ہی دعوت سٹارٹ ہوگی.

    میں نے پوچھا پکوڑے بنائے کس نے ہیں.؟ اس نے جس کولیگ کا نام لیا اسکا نام سنتے ہی میں نے کہا پھر تم لوگ کھاو. میں نہیں آرہا. بہت اصرار ہوا لیکن میں نے کہا ” نہیں” دعوت تو ہمارے بغیر ہوگئی لیکن بعد از دعوت پتہ چلا یہ بھنگ والے پکوڑے تھے کیونکہ پھر کوئی روئے جا رہا تھا کوئی قہقہے لگا رہا تھا.

    سوشل میڈیا میں بھی ہم خبر سے پہلے خبر دینے والے کا نام دیکھتے ہیں. وہ نام ہی بتا دیتا ہے خبر میں سچائی کتنی اور پراپیگنڈا کتنا ہے. اس میں جو جتنا زیادہ غیر جانبداری کا دعویدار ہوتا ہے وہ اُتنا ہی زیادہ یکطرفہ پراپیگنڈا کرنے والا ہوتا ہے. سالوں سے اس فورم پر ایک دوسرے کو جاننے والے اس کے باوجود ایک دوسرے کے پکوڑے کھانا معاف نہیں کرتے.

  • رن مرید ۔۔۔ دوسرا رخ — ستونت کور

    رن مرید ۔۔۔ دوسرا رخ — ستونت کور

    کافی عرصہ ہوا کسی رسالے میں پڑھا تھا کہ :

    اگر انسان کو ماں سے محبت ہو تو۔۔۔ عبادت۔

    باپ سے محبت ہو تو۔۔۔ فرض۔

    بھائی سے محبت ہو تو۔۔۔ اخوت ۔

    بہن سے محبت ہو تو ۔۔۔ شفقت۔

    کام، کاروبار سے محبت ہو تو۔۔۔ احساسِ ذمہ داری ۔

    ملک سے محبت ہو تو ۔۔۔ حب الوطنی ۔

    اور اگر ۔۔۔۔ بیوی سے محبت ہو تو لوگ کہتے ہیں "رن مرید ہے ” یا ” بیوی کے نیچے لگ گیا ہے ۔”.

    اور یہ حقیقت ہے کہ اس معاشرے میں ‘محبوبہ/گرل فرینڈ’ کے لیے شعر لکھنا اور ‘بیوی’ پر عجیب و غریب لطیفے بنانا، پوسٹ کرنا باضابطہ ٹرینڈ بن چکا ہے۔

    کسی شخص کو رن مرید کا طعنہ دینے والے عام طور پر دو لوگ ہوتے ہیں ۔

    1- دوست ۔
    2- اہلِ خانہ ۔

    کسی شخص کو بیوی سے محبت و الفت پر رن مرید کا طعنہ دینے والے اکثر اس کے دوست ہوتے ہیں ۔۔۔ لیکن یہ وہ لوگ ہوتے ہیں کہ :

    یا تو خود "سرٹیفائیڈ سنگل” ہوتے ہیں کوئی انہیں اپنی بیٹی تو دور کی بات اپنی بائیک بھی مستعار دینے پر راضی نہیں ہوتا۔

    یا پھر اس قسم کے شادی شدہ کے جن کی شادی منگل سوتر باندھنے کے بجائے "نرڑ” باندھنے کے مترادف ہوتی ہے ۔۔۔۔ (نرڑ : کسی سرکش بکروٹے، وچھے یا کٹے کو قابو میں رکھنے کے لیے اس کی ٹانگ رسی کے زریعے کسی گائے، بھینس یا بیل کے ساتھ باندھ دینا ).

    جن کی بیوی اگر انہیں رات موبائل میں مگن دیکھ کر ” سوجائیے ، کافی رات ہوگئی ہے ۔۔۔” کے بجائے ” مرن جوگیا، تینو موت کیوں نئیں پیندی پئی؟” جیسے الفاظ سے نوازتی ہیں۔

    یعنی جن کی عمر بھر اپنی بیوی کے ساتھ نہیں بنتی انہوں نے ظاہر ہے جیلس ہونا ہی ہے کسی دوسرے کو بیوی کے ساتھ ہنستا بستا دیکھ کر ۔

    تو احباب !! اگر کوئی دوست یا کولیگ کہے کہ آپ رن مرید ہو تو کہنا ” میری ایک ہی اکلوتی لاڈلی بیوی ہے۔۔۔ اب اس سے پیار نہ کروں تو کیا تمہاری بیوی سے عشق لڑاؤں؟ کمال کرتے ہو پانڈے جی!”

    اور پھر آجاتے ہیں گھر والے ،

    ایکچولی سب سے زیادہ تکلیف تو ماؤں کو ہوتی ہے ۔۔۔ یعنی جو مائیں "چاند سی بہو” کو ” بڑی چاہ سے ” لائی ہوتی ہیں ۔۔۔ ایک ماہ بعد انہیں لگتا ہے کہ ” یہ ڈائن ہے جس نے میرے بیٹے پر تعویز کرکے اسے اپنے بس میں کرلیا ہے .”

    ارے آنٹی جی۔۔۔۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ آپ کا بیٹا پوری عمر بچہ ہی بنا رہے ؟ آپکی گودی میں بیٹھا رہے اور آپ پوری عمر اسے لوری سناتی رہیں ؟

    بھئی۔۔۔ اگر آپ کا بیٹا کسی غیر لڑکی کے ساتھ وقت گزارتا تو تشویش کی بات تب تھی۔۔۔ اپنی ‘سگی’ بیوی کے ساتھ کچھ وقت بِتا لے ، اس کے ساتھ گھومنے پھرنے چلا جائے یا اسے کوئی گفٹ خرید کر دے تو ان ذیابیطس زدہ بڈھی کھوسٹ کُٹنیوں کو لگتا ہے کہ ” بیٹا ہاتھ سے نکل گیا ہے۔”

    تو احبابِ گرامی ، اگر آپ کو کوئی ” رن مرید” کہے تو مسکرا کر جواب دیں کہ کسی شُف شُف پیر یا ” سائیں رکشہ ساڑ” کا مرید بننے سے اچھا ہے کہ بنا رن مرید ہی بنا رہے۔

    بشکریہ : آل برصغیر انجمنِ بیگمات ۔

  • جب میں نے ٹویٹر کو "ہینڈل دیا” — اشرف حماد

    جب میں نے ٹویٹر کو "ہینڈل دیا” — اشرف حماد

    گزشتہ ہفتے، میں نے کچھ ایسا کیا جو بہت سے لوگ ہر روز کرتے ہیں: میں نے ایک مذاق ٹویٹ کیا. اس معاملے میں مذاق ایک جعلی کالج انگریزی کلاس مضمون کی ایک تصویر تھی جو میں نے ٹام اور جیری کے بارے میں ٹائپ کیا تھا، پھر اسے ٹویٹ کرنے سے پہلے مایوس سرخ قلم کے نوٹ اور ڈی گریڈ کے ساتھ نشان زد کیا گیا تھا جیسے میں اس کی عقل کے اختتام پر پروفیسر تھا. واضح ہونے کے لئے، میں کالج پروفیسر نہیں ہوں – میں اصل میں جے ایم( جھک مارنا) میں کام کرتا ہوں اور ایک مزاحیہ کردار ہوں جو وادی میں کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے، ممکنہ طور پر دوسرے لوگوں کے لئے جو جے ایم میں کام کرتے ہیں. لیکن اس نے ہزاروں لوگوں کو نہیں روکا.

    گزشتہ پیر کے بعد سے ، ٹویٹ کو مٹھی بھر بڑے انسٹاگرام اکاؤنٹس پر پوسٹ کیا گیا ہے ، جو ٹویٹر پر ایل او ایل جی او پی اور بز فیڈ کے ذریعہ شیئر کیا گیا ہے ، جو بڑے عالمی نیوز سائٹوں کا احاطہ کرتا ہے ، اور اس وقت اس پر تقریبا ایک ملین لائیکس ہیں ، جس کے جواب "میں نے طویل عرصے سے اتنی سختی سے نہیں ہنسا ہے” سے لے کر "آپ کو گرفتار کیا جانا چاہئے” تک۔ تو یہ سب کیسے ہوا ، اور ایک گونگا مذاق دیکھنا کیسا ہے جسے آپ نے کنٹرول سے باہر وائرل ٹویٹر لمحے میں سرپل بنا دیا ہے؟ اس سب کی وضاحت کرنے میں مدد کرنے کے لئے، میں نے پورے کو دستاویزی کیا.

    کچھ مضحکہ خیز لائن میں ترمیم کے ساتھ گڑبڑ کرنے کے بعد ، میں اپنے "کاغذ” کی دوسری کاپی پرنٹ کرتا ہوں جس کے ساتھ میں چاہتا ہوں کہ میرا حتمی ورژن کیا ہو۔ تاہم، مجھے احساس ہے کہ ایک طالب علم کے لئے ٹام اور جیری کے بارے میں صرف ایک کاغذ میں ہاتھ ڈالنا بہت عجیب ہے. یہ تفویض کیا تھی؟ لہذا میں مشہور ٹامس کے بارے میں سوچتا ہوں اور اوپر ایک لائن شامل کرتا ہوں ، یہ دعوی کرتے ہوئے کہ تفویض عظیم گیٹسبی سے ٹام بوکانن کے بارے میں ہونا چاہئے تھا۔

    میرے دوپہر کے کھانے کے وقت میں جانے کے لئے تین منٹ کے ساتھ، میں نے کیپشن کے ساتھ ٹویٹ پوسٹ کیا "اس سمسٹر میں میرا پہلا انگریزی کورس سکھانا فائدہ مند رہا ہے لیکن میں نہیں جانتا کہ اس طالب علم کے ساتھ کیا کرنا ہے،” اس بات کو یقینی بنانا کہ ٹویٹر کے لئے اسے صحیح طریقے سے "ہینڈل” کریں، اپنے دوستوں سے کچھ پسند کرنے کی امید ہے.

    اسے کچھ ریٹویٹس اور تقریبا سو لائکس ملتے ہیں۔ میرا ایک دوست جو ایک جے ایم شو میں کام کرتا ہے مجھے مصنفین کے کمرے سلیک کا اسکرین شاٹ بھیجتا ہے ، اور وہ ان تمام مضحکہ خیز تفصیلات پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں جو میں نے اس میں ڈال دی ہیں۔

    کیا میری زندگی بدل گئی ہے؟ واقعی نہیں. میرے پاس اپنی شرارت کے بارے میں کچھ مضامین ہیں اور ٹویٹر پر کچھ ہزار مزید پیروکار ہیں۔

    لیکن میں جے ایم آفس میں اپنے دوپہر کے کھانے کے وقفے پر اپنی میز پر واپس آ گیا ہوں. میں لاکھوں لوگوں کے لئے اپنے ایک ہٹ گانے کو انجام دینے کی طرح وائرل ہونے کی وضاحت کروں گا: اگرچہ یہ ایک بہت ہی خوفناک چار منٹ ہے ، جب آپ کام کرلیں تو باہر نکلنے کے لئے ان سب فائلوں کو دیکھنے کے لئے تیار رہیں۔ لہذا میں موجودہ صورتحال کے پیش نظر کشتیاں جلا کر ٹویٹر کے کوزے میں ہاتھ پاؤں مارتا ہوں۔

  • زندگی کو جینے کیلئے ہمیں مرنا سیکھنا ہوتا ہے — ریاض علی خٹک

    زندگی کو جینے کیلئے ہمیں مرنا سیکھنا ہوتا ہے — ریاض علی خٹک

    ایک بیج ایک تناور سرسبز و آباد پودے کی جڑوں میں اپنی زندگی قربان کرتا ہے تب ہی ایک نئی زندگی کی کامیابی ممکن ہوتی ہے. کامیابی ایک انعام ہے کوئی لاٹری یا اتفاق نہیں ہوتا.

    آپ ایک نوجوان عاشق کو دیکھیں. اسکا گھر ماں باپ بہن بھائی دوست احباب سب کچھ ہوں گے. لیکن ایک عشق سب کچھ فراموش کرا دیتا ہے یہاں تک کے وہ مرنے پر بھی تیار ہو جاتا ہے. ایک نشئی بھی اپنی دنیا سے کٹ کر نشے کی دنیا میں خود کو گم کر دیتا ہے. اسے بھی پتہ ہوتا ہے اسکا انجام کیا ہے؟

    یہ ایک انسانی مزاج ہے. جب سمٹنے پر آتا ہے تو زندگی کے ایک اکیلے رنگ کو پوری کائنات سمجھ لیتا ہے. اور اس رنگ کے بغیر زندگی موت لگتی ہے. جب پھیلنے پر آتا ہے تو وسیع کائنات بھی اس کو چھوٹی لگتی ہے. یہ جن کو ہم کامیاب سمجھتے ہیں یہ جیتے جی خود کو کسی ایک مقام پر مار چکے ہوتے ہیں.

    ان کی مثال اس بیج کی طرح ہوتی ہے جو پھر سمٹنے سے انکار کر دیتے ہیں. یہ زمین کا سینہ چیرتے نکل آتے ہیں. نہ کوئی طوفان نہ کوئی موسم ان کو پھر روک پاتا ہے. یہ خوف کی زنجیریں بہت پہلے اپنے اندر توڑ چکے ہوتے ہیں. تب یہ دنیا کو نئے رنگ نئی خوشبو دیتے ہیں. دنیا ان کو رشک سے دیکھ رہی ہوتی ہے.

    زندگی کو جینے کیلئے ہمیں مرنا سیکھنا ہوتا ہے. روزانہ کی نیند بھی موت کی طرح ہمیں سب کچھ بھلا کر دوبارہ تعمیر کرتی ہے. نئے دن کا نیا سورج روزانہ ایک نئی اُمید لے کر آتا ہے. ہمیں بس ایک ہی فیصلہ کرنا ہوتا ہے آج سمٹ کر اپنی محدود دنیا میں مرنا ہے یا اس دنیا کا حصہ بننا ہے جو ہمارا انتظار کر رہی ہے.

  • حکیم حضرات اور "زبان گردی” — ستونت کور

    حکیم حضرات اور "زبان گردی” — ستونت کور

    بچوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ اپنے والدین بالخصوص والدِ گرامی سے مختلف چیزوں ، کینڈیز، سنیکس اور کھلونوں کی فرمائشیں کرتے رہتے ہیں ۔۔۔۔ کہیں پڑا کہ ایک صاحب کے بچوں نے کہا کہ ” ہمیں کاٹن کینڈی اور رائس کیک کھانے ہیں ” تو وہ صاحب کہتے ہیں ” یہ کیا چیزیں ہیں ؟ کبھی نہ دیکھیں نہ سنی نہ کھائیں۔” تو بچوں نے جب موبائل پر انہیں پکچرز دکھائیں تو وہ بولے ” اوہ اچھا انہیں کھاتے تو ہمارا پورا بچپن گزرا انہیں ہم لچھا اور مرُونڈا کہا کرتے تھے ".

    ہمارے ہاں یعنی پاک و ہند و بنگال میں حکماء کرام کی ایک صدیوں پرانی عادت ہے کہ خوامخواہ اپنی بات میں وزن پیدا کرنے ، دوسروں پر اپنی علمیت کا رعب بٹھانے اور اپنی طبی قابلیت ثابت کرنے کے لیے حکماء کرام ہمیشہ مشکل اور ثقیل الفاظ کا استعمال کرتے ہیں پھر چاہے وہ امراض کے نام ہوں یا ادویہ کے نام۔

    مثلاً روغنِ کنجد ، عرقِ بادیان ، آبِ گھیکوار، قہوہِ نیشکر ، کشتہِ بیضہ مرغ، معجونِ خرما ، شربتِ گلُ سرخ، معجونِ سمک بحری ۔۔۔ وغیرہ وغیرہ وغیرہ ۔
    اب۔۔۔

    سننے یا پڑھنے والوں کو یہ بھاری بھرکم عربی و فارسی اصلاحات سننے پر یہ گمان ہوتا ہے کہ یہ ” صدیوں پرانے قیمتی و نایاب نسخے ” دارصل ہمالے کی برفیلی چوٹیوں پر اگنے والی کسی نایاب جڑی بوٹی۔۔۔۔ بارش کے بعد صحرائے صحارا کے ٹیلوں پر پھوٹنے والے کسی مشروم ۔۔۔۔ ایمازون کے جنگلات میں پائے جانے والے کسی پھل۔۔۔۔رانگاماٹی کی بلندیوں پر اگنے والے کسی پھول ۔۔۔۔ یا اوقیانوس کی گہرائیوں سے نکالے جانے والے کسی مونگے سے بنائی جاتی ہوں گی ۔۔۔۔۔ لیکن۔۔۔۔۔ فی الحقیقت یہ سب نام اور ان جیسے درجنوں دیگر بھی جو آپ نے پڑھے ، سنے ہوں گے کسی محلے کی کریانہ شاپ سے ملنے والے عام آئٹمز کے نام ہیں ۔۔۔۔ جیسا کہ میں نے بتایا :

    روغنِ کنجد(تِل کا تیل) ، عرقِ بادیان (سونف کا عرق ) ، آبِ گھیکوار (کوار گندل/ایلوویرا کا Gel)، قہوہِ نیشکر (گنے کی چائے) ، کشتہِ بیضہ مرغ (مرغی کے انڈے کا کشتہ) ، معجونِ خرما (کجھور کا پیسٹ ) ، آب گلُ سرخ (عرق گلاب)، معجونِ سمک بحری( سمندری مچھلی سے بنی کوئی دوا ).

    بھئی ، سیدھا سیدھا پھوٹ دینے میں کیا حرج ہے ؟ ان کو لگتا ہے کہ عام روزمرہ کا نام بول دیا تو ان کی دکانداری کو گرہن لگ جائے گا ۔۔۔ یوں تو میڈیکل ادویات کے بھی فارمولوں کے طویل اور پیچیدہ نام ہوتے ہیں لیکن فارما والے عام طور پر ان ناموں کی مختصر شکل یا پھر الگ سے مناسب سا نام استعمال کرتے ہیں مثلاً Soluble Aspirin کا نام "ڈسپرین ” وغیرہ ۔

    اور پھر ادویات ہے نہیں یہ حضرات امراض کے نام بھی عجیب و غریب قسم کے رکھتے ہیں ۔۔۔ لیکن وہ پھر کبھی سہی !!

  • مسلمانوں کی اقسام اور بریانی کے فرقے — طاہر محمود

    مسلمانوں کی اقسام اور بریانی کے فرقے — طاہر محمود

    اے ایمان والو ! بے شک تم پہ اتوار کو بریانی اسی طرح فرض کی گئی ہے جیسے رمضان میں پکوڑے۔

    مسلمانوں اور بریانی کی بہت سی اقسام ہیں۔ فرق بس مسالوں کا ہے ۔ کچھ میں تیکھا پن زیادہ ، کچھ کے بنانے کا طریقہ الگ ۔ کچھ نرے ویجیٹیرین ٹائپ ۔ سادہ ۔ رنگ برنگے ۔ کچھ تہہ در تہہ ۔ پھر برتنوں کے فرق سے ذائقہ اور خوشبو بھی بدل جاتی ۔ ہر فرقے کے نائی اور ہر پکوان سینٹر کے مولانے کا طریقہ بھی جدا ۔ اور دونوں کے نزدیک انہی کی ریسیپی مستند ، سینہ بہ سینہ اور الہامی ہوتی۔ اگر کسی اور فرنچائز سے بریانی یا عقیدہ لیا جائے تو یہ برا مان جاتے ۔ ہر اک نے بڑا سا بورڈ لگایا ہوا جس پہ جلی حروف سے بریانی یا اسلام لکھا ہوا ہے اور کاؤنٹر پہ موٹا سا سیٹھ خشمگیں نظروں سے رہگیروں کو تکتا ہے۔

    جعلساز بھلا کب پیچھے رہتے ؟ جیسے لاہور میں گندے مندے پلاؤ میں ذرا سا بریانی مسالا ڈال کے دم لگاتے وقت زردہ رنگ ڈال دیا جاتا اور اسے بریانی کہا جاتا۔ ویسے ہی دو چار نعرے ایجاد کر کے بعض قاتل، دہشت گرد اور ڈاکو بھی خود کو خالص مسلمان کہتے۔ دونوں میں سے کسی پہ اعتراض کیا جائےتو لاہوریے آستینیں چڑھا کے اور ڈاکو جتھے بنا کے لڑنے مرنے کو آ جاتے۔ غریب مسافر ہو یا مسلمان۔ ہاں میں ہاں ملا کے ، پیسے دے کے جان بخشوانی پڑتی۔ چاہے ہزار ہزار میں ہی سہی۔

    ابتدا میں جب اسلام اور بریانی نازل ہوئے تو اجزائے ترکیبی بڑے واضح اور سادہ تھے۔ دونوں زود ہضم تھے۔ عمل کرنا اور بنانا آسان ۔ جیسے جیسے اسلام کا نور اور بریانی کی خوشبو چار دانگ عالم میں پھیلے۔ قبول عام ہوا ۔ چند ہی سالوں میں اک بڑا فرقہ الگ ہوا اور اپنی شناخت ہی الگ بنا لی۔ گوشت اور چاول وہی تھے مگر نام ” پلاؤ” تھا۔ اس کے معتقدین بھی کثیر بن گئے ۔ ( فرقے کا نام آپ کی سوجھ بوجھ پہ چھوڑ دیتے ) ۔

    جب دیگر بلاد و امصار میں بریانی اور اسلام پہنچے تو وہاں کے باسیوں نے ان دونوں پہ نت نئے تجربات کیے اپنے اپنے ٹیسٹ کے مطابق۔ پہلے یہ صرف بریانی اور اسلام تھے ۔ اب بریانی صرف بریانی نہ رہی بلکہ بمبئی بریانی ، کراچی بریانی ، وائٹ ویجیٹیبل بریانی ،انڈہ بریانی ، بیف بریانی ، مٹن بریانی ، تکہ بریانی ،قیمہ بریانی ،صفوی بریانی ،تہاری بریانی ، کلیانی بریانی ، کوفتہ بریانی ، فِش بریانی ، حیدرآبادی بریانی ، کچے گوشت کی بریانی ، جھینگا بریانی کے نام سے جانی جانے لگی۔ اسی طرح اسلام اب شیعہ ، اثنا عشری ،نصیری ، سنی ، بریلوی، دیوبندی ،مقلد ،غیر مقلد ، وہابی ، حیاتی ،مماتی ، رضوی ، درودی ، بارودی ، ناصبی ، تفضیلی ، غامدی وغیرہ کے ٹیگ سے جانا جاتا ہے۔

    البتہ پاک و ہند میں جب بریانی اور اسلام پہنچے تو دونوں میں مسالا جات اتنے تیز کر دیے گئے کہ اب اوپر نیچے سے دھواں نہ نکلے تو سواد نہیں آتا۔ عربوں کے بقول تو برصغیرے کلمہ پڑھ کے نرے باؤلے ہی ہو گئے ۔( دروغ بر گردن ِ یوسفی ) ۔ خود عرب میں ان دنوں اسلام اور بریانی "مندی” کا شکار ہیں۔ باقی پسماندہ جگہوں پہ آلو اور مذہب کا چلن زیادہ ہے۔

    باقی اب ہمارا دعوٰی ہے کہ ہم سے بریانی کھائیں یا اسلام سیکھیں۔ دونوں معدے پہ گراں نہ گزریں گے۔ نہ ہی پیٹ میں باؤ گولا یا دماغ میں آتش گولا بننے کے امکانات ہیں۔ تاہم ریسیپی سینہ بہ سینہ چلے گی اور پلیٹ حسینہ بہ حسینہ ۔

  • فیس بُک کے دانِشور —- اشرف حماد

    فیس بُک کے دانِشور —- اشرف حماد

    فیس بک کی دنیا بھی عجیب و منفرد دنیا ہے۔ فیسبک پر بھانت بھانت کی بولیاں سننے کو ملتی ہیں۔ اس دنیا کے تقاضے ہی کچھ عجیب و غریب ہیں۔ یہاں محلاتی سازشیں پریموٹ ہوتی ہیں۔ فیس بک پر تصوارتی دنیا کی حکومتیں بنائی بھی جاتی ہیں اور گرائی بھی جاتی ہیں۔

    ادھر دنیا جہاں کو ورلڈ آرڈر دیا بھی جاتا ہے اور اس کی دھجیاں بکھیری بھی جاتی ہیں۔ یہاں مذاہب کی اشاعت و ترویج بھی ہوتی ہے اور بیخ کنی بھی۔ یہاں سخن سازی بھی ہوتی ہے اور سخن شکنی بھی اتنی ہی شدومد سے ہوتی ہے۔ ادھر قصیدہ گوئی بھی ہوتی ہے اور کردار کشی بھی۔

    فیس بک پر مزاح کے ایسے لطیف نمونے بھی دریافت ہوتے ہیں کہ طبعیت ہشاش بشاش ہو جائے اور مزاح کے نام پر خشت باری بھی ایسی ہوتی ہے کہ روح اندر تک لہولہان ہو جاۓ !

    اس دنیاء فیسبک میں آباد ہوۓ راقم کو بھی "عشرہ دراز” ہو گیا ہے اور اس دنیا کے حسن و قبح سب کا وقتاً فوقتاً نظارہ کیا ہے۔ بہت کچھ سیکھنے اور بہت کچھ سکھانے کا بھی موقع ملا۔ سکھانے کا موقع ایسے ملا کہ کچھ مہربان ایسے بھی تھے جنہوں نے ہماری غلطیوں سے سبق سیکھا۔ ہماری کوتاہ اندیشیوں اور حماقتوں سے سبق حاصل کیا اور یوں ہم بھی سکھانے والوں میں شامل رہے۔ جہاں تک رہی بات سیکھنے کی، تو ارباب دانش سے بھی سامنا ہوا اور عقل و دانش کے موتی سمیٹے۔ اربابِ حل و عقد سے بھی تصادم ہوا کہ زخمی روح اور سلگتے دماغ سے آئندہ کے لیے ایسے اصحاب سے میلوں دوری کا عہد کرتے ہوۓ بلاک کا بٹن دباتے رہے۔

    فیس بک ایک لا منتہائی ہجوم ہے جس میں انسانی سروں کا ایک سمندر تا حد نظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ ان سروں میں کن کن خیالات کے "سر خراب” موجزن ہیں، ان کا اندازہ لگانے میں وقت لگتا ہے۔ کسی پیچ پر سینکڑوں لائک دیکھ کر آپ کو فیس بکی دانشور کی قابلیت و بصیرت کا ادراک نہیں ہو سکتا۔ بہت ممکن ہے کہ یہاں لائک کا بٹن دبانے والے وہ منچلے ہوں جو جنسیات کے دلدادہ ہوں اور دماغوں میں شہوانی خیالات کی طلاطم خیز لہروں میں بہتے ہوئے وہ اس پیج تک آ پہنچے ہوں اور مزاج اور خواہش کے عین مطابق یہاں من پسند خیالات کا سمندر بہہ رہا ہو۔ دانش ور صاحب اپنی سفلانہ دانش سے خود بھی اشنان کر رہے ہوں اور دوسروں کو بھی غسل دانش سے بہرہ مند کر رہے ہوں۔

    کچھ دانشور حضرات وہ بھی ہیں جن کی سیاسی بلوغت ابھی پروان بھی نا چڑھی تھی کہ انہوں نے عالمانہ لیکچر دینا شروع کر دیا اور شومئی قسمت کے ہم خیالوں کا تانتا بھی بندھ گیا۔ اب وہ اپنی سیاسی دانش کی کچی پکی ہانڈی لیے فیس بک کے بازار کے منجھے ہوئے دانش ور اور تجزیہ کار بن چکے ہیں۔ غرض ہر عقل کے دشمن کو یہاں اپنے دل کی گرم مسالے والی بھڑاس نکالنے کے لیے قائد میسر آ گیا۔ یوں وہ قائد میاں پرانے وقتوں کے واٹر کولر کے مشہور برانڈ ہی بن بیٹھے کہ نل کھولو اور اناپ شناپ سے لباب بھرے کولر سے سیراب ہو لو۔ ایسے کچھ اصحاب سینکڑوں مداحین کے جلو میں اپنا چورن بیچتے ہوئے، کانوں کے پردے چیرتی صدائیں لگاتے نظر آتے ہیں۔

    ایک طبقہ ایسا بھی فیس بکی دانشوروں کا ہے جو مذہب بیزار خیالات کا اظہار بنا کسی تردد اور لگی لپٹی کے کرتے ہیں۔ یہ دانشور زیادہ تر اپنی فیک آئی ڈی سے محو تکلم ہوتے ہیں یا آئی ڈی تو اصل ہوتی ہے لیکن موصوف سات دور دیش پار کسی محفوظ، صحت افزا مقام سے زہر بھرے، پھن لہراتے مخاطب ہوتے ہیں اور انکے مجمع میں انکے ہم خیال بھی داد و تحسین کے ڈونگرے برسا رہے ہوتے ہیں۔ یا کم از کم وجدانہ کیفیت میں اثبات میں سر ہلا رہے ہوتے ہیں۔ کثیر تعداد میں وہ مرد فساد بھی ہوتے ہیں جو اپنے مذہبی عقائد کی چوکیداری کرتے ہوۓ لٹھ لہرا لہرا کر ماں بہن ایک کر رہے ہوتے ہیں۔

    وہ دانشور بھی اپنی "مقدس مشنری” کاروائیوں میں خرگرم ہوتے ہیں جن کو مذہبی جنونیت اور سخت گیری سے شدید الرجی ہوتی ہے۔ وہ مذہبی اعتدال پسندی کی راہ ہموار کرنے کے لیے کسی نا کسی مذہبی تحریر میں سوچوں کا رخ موڑنے والے کسی نا کسی نکتہ کو یوں اجاگر کر دیتے ہیں کہ غیر محسوس طریقے سے قاری اسکا ہدف بنتا ہے، اور اپنی فکر کی تبدیلی کو محسوس کیے بغیر اس پیج کو آستانہ بناۓ فیض یابی کا شوق سمائے یہاں حاضری دیتا رہتا ہے اور یوں ایسے دانشور اپنی ادبی اور فکری مہارت سے اپنے پیج پر زایرین کا ہجوم لگانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور خوب لائک اور لو سائن تو حاصل کرتے ہی ہیں ساتھ پوسٹ کے زیریں حصے میں خوب سوالاتی اور تائیدی جملوں کا انبار لگا لیتے ہیں۔

    ایسے بے شمار دانشوڑ "حسرات” بھی سوشل میڈیا کی دنیا کا لازم حصہ ہیں جو اپنی اداسی اور تنہائی کا تریاق اپنے فالوورز کے کمنٹس میں ڈھونڈتے ہیں۔ وہ خود پسندی کے مرض میں اس قدر مبتلا ہوتے ہیں کہ انکی زیادہ تر پوسٹس انکی رنگ برنگی تصاویر پر مبنی ہوتی ہیں۔ اس مقصد کے لیے وہ اپنی کلوز اپ سیلفیاں اور مانگے تانگے کی دانش اپنی وال پر بکھیرتے رہتے ہیں۔

    کئی خواتین و حضرات کو ایسے کاٹ دارجملے لکھنے میں خصوصی ملکہ حاصل ہوتا ہے کہ ادب و مزاح کے بے تاج بادشاہ بھی انکے متوقع پوٹینشل کو نظر انداز نہی کر سکتے۔ الفاظ کے حسن ترتیب سے بظاہر بے معنی سی بات کو بھاری بھرکم معنی سے لاد دیتے ہیں۔

    سیاستدانوں کے منہ سے بے ساختہ نکلے ہوئے سیاسی بیانات کو کیچ کرنے والے دانشوروں کی بھی کمی نہیں جو ان کو مزاح کا رنگ و روغن کرنے کے بعد ایسا جاذب نظر بناتے ہیں کہ دن بھر کے بحث و تکرار سے تھکے ماندے بزنس مین ، بیویوں کے ستاۓ ہوۓ شوہر اور شوہروں سے خار کھائی بیویاں اور افسرانِ بالا کی جھاڑ پھٹکار کے مارے ہوۓ ملازمین یہاں اپنی اپنی فلاسفی اور علمیت کی یلغار کر کے کسی فاتح کی طرح گردن اکڑاۓ دیگر شرکا سے واہ واہ کی آس لگاۓ گھنٹوں فیس بک کے سامنے دھرنا دیے بیٹھے رہتے ہیں۔

    ایسے کئ مذہبی شخصیات کے پیچز بھی ہوتے ہیں جہاں متفقین مریدین کے درجۂ الفت تک پہنچے ہوتے ہیں۔ وہاں ایک سطحی سی بات پر بھی لبیک لبیک کی صدائیں بلند ہو رہی ہوتی ہیں۔ اختلافی بات کا مطلب توہین مذہب کے دائرے میں قدم رکھنے کے مترادف ہوتا ہے۔ ایسی مذموم حرکت کے مرتکب پر وہ سنگ پاشی ہوتی ہے کہ الاحفیظ الامان۔ یہاں یا تو آداب محفل ملحوظ خاطر رہیں یا پھر یہاں سے میلوں دوری ہی آپ کے حق میں بہتر ہے۔ اسکے علاوہ کسی اور آپشن کی سوچ بھی دماغ میں مت لائیے گا۔

    کچھ لوگ چیتھڑوں سے امارت کے سفر پر گامزن ہوتے ہیں۔ وہ جب بھی کسی مہنگے ریسورنٹ پرکھانا کھائیں یا غلطی سے کسی فضائی سفر پر روانہ ہوں تو فیس بک پر اسکی اشاعت کو نہیں بھولتے۔ وہ پہلی فرصت میں اپنے دورے کی پبلک سٹی کرکے یار لوگوں پر "دورے” ڈالتے ہیں۔ چاہے باقی اہم ترین زمہ داریاں بھول جائیں۔

    دانشوروں کی ایک قسم سیاست کی آڑ میں اپنی جھگڑالو اور کینہ پرور مزاج کی تشنگی دور کرنے کے لیے ہر وقت مخالفین کو چڑانے کے لیے انتہائی نازیبا اور غیر مہذب تصاویر و جملے لکھ کر انہیں لڑائی پراکساتے رہتے ہیں اور جب من پسند نتائج حاصل ہوتے ہیں تو دل کے نہاں خانوں میں چین ہی چین پاتے ہیں۔

    کچھ دانشور محتاط طبع ہونے کے باعث زندگی کو محض بچ بچا کر انجوائے کرنے کو ہی کامیابی سمجھتے ہیں۔ وہ شعر وشاعری و رومانوی گیتوں کو شیئر کرتے رہتے ہیں اور زائرین کی قلیل یا کثیر تعداد سے پریشان یا خوش نہی ہوتے بلکہ اطمینان قلب کے ساتھ لگی بندھی عادت کا تسلسل رکھتے ہیں۔

    اور کچھ لوگ ان تمام اوصاف کا کچھ نا کچھ حصہ اپنی طبعیت میں رکھتے ہیں وہ گرگٹ کی طرح روز رنگ بدلتے ہیں ۔ کبھی کچھ کبھی کچھ یعنی فیس بک مختلف النوع دانشوران کا چوپال ہے جہاں ہر مزاج کا حامل اپنی استطاعت کے مطابق ذہنی خوراک حاصل و منتقل کرتا ہے۔