Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • سارے قصور اور سزائیں عورت سے ہی منسوب ہیں کیا؟ تحریر مدثرہ مبین

    سارے قصور اور سزائیں عورت سے ہی منسوب ہیں کیا؟ تحریر مدثرہ مبین

    2 سال کی بچی گود می لیے شوہر کے بے دریغ ظلم کے بعد سسکیاں لیتے ہوئے آج بھی اماں ابا کی رخصتی کے وقت کی گئ نصیحتیں یاد کرتے ہوۓ درد کو دبانے کی نا کام کوشش کر رہی ہے. اماں نے کہاں تھا بیٹی تمہیں ہر حال میں شوہر کا حکم بجا لانا ہے کچھ بھی ہو برداشت کرنا ہے اور ابا کا کہنا تھا اس گھر سے ڈولی اٹھ رہی ہے شوہر کے گھر سے میت ہی اٹھے گی.
    انہیں لفظوں کی مالا کو سینے سے لگائے پچھلے 10 سالوں سے وہ شوہر کی ہر ناانصافی کو برداشت کر رہی ہے. اور ہر بار کی طرح ذہن میں اٹھنے والے سوالوں کو صبر کی تھپکی سے سلا دیتی ہے. کیونکہ جانتی ہے طلاق کے دھبے کے ساتھ معاشرہ اس کو کبھی قبول نہیں کرے گا.
    مردوں کے اس معاشرے میں سارے قصور اور سزائیں عورت کے لیے ہی تو ہیں.
    شوہر بیوی کی عزت نہ کرے تو قصور اسکا
    بیٹیاں پیدا ہو تو بھی قصوروار عورت
    کسی سے نکاح کی خواہش ظاہر کرنے پر سزا اسکا مقدر
    عورت کو بلیک میل کرکے اسے بداخلاقی پر مجبور کیا جائے تو بھی قصور اسکا
    شوہر پسند کی شادی نہ ہونے پر طلاق دے دے تو بھی قصور اسکا
    عورت کی عصمت دری کی جائے تو بھی قصوروار وہی
    وہ بھائی جو کسی لڑکی کے ساتھ محض وقت گزاری کے لیے ہوٹلوں اور پارکوں کی زینت بنا رہتا ہے بہن کی پسند کی شادی کی ضد پر اسے غیرت کے نام پر قتل کرنے پر ذرا عار محسوس نہیں کرتا. ستم ظریفی یہ کہ اسکا قتل کرنا بھی کسی کو قابل سزا نہیں لگتا.
    بحیثیت مسلمان اور روز آخرت پر ایمان رکھنے کے باوجود یہ زمینی خدا شاید اس گمان میں ہیں کہ روز محشر حساب صرف عورتوں کا ہی ہوگا مرد کو اس کے مرد ہونے کے جواز پر بے حساب بحش دیا جائے گا. وہ بھول چکے ہیں کہ روز محشر ہر ذی روح کا حساب ہوگا جس نے جو بھی بویا ہے وہ کاٹنا پڑے گا وہاں محض جنس کی بنیاد پر رہائی نہیں ہوگی.
    کب قفل اتارے جائیں گے اور درد سناۓ جائیں گے
    جو مر جاتے ہیں ذہنوں میں وہ خواب بچاۓ جائیں گے
    کب تک دنیا کی رسموں پہ یونہی جذبے وارے جائیں گے
    آخر کب تک بنتِ حواں کے کرداد داغے جائیں گے
    مرتی ہیں غیرت کے نام پہ بیٹیاں ہی ہمیشہ کب بیٹے مارے جائیں گے
    مانا مرد کو عورت سے بلند رتبہ دیا گیا ہے لیکن فضیلت تو صرف تقوی کی بنیاد پر ہے. افضل وہ ہیں جو دوسروں کے حق میں بہتر ہیں جو دوسروں کے حق ادا کرنے والے ہیں نہ کہ صرف اپنے حقوق پر زور دینے والے.
    میری تمام ماؤں بہنوں سے درخواست ہے خدارا بیٹی کی تربیت کے ساتھ ساتھ بیٹے کی تربیت پر بھی زور دیں اور انہیں بتاۓ گناہ کرنے والا چاہے مرد ہو یا عورت سزا دونوں کے لیے یکساں ہے.بحیثیت مسلمان اور روز آخرت پر ایمان رکھنے کے باوجود یہ زمینی خدا شاید اس گمان میں ہیں کہ روز محشر حساب صرف عورتوں کا ہی ہوگا مرد کو اس کے مرد ہونے کے جواز پر بے حساب بحش دیا جائے گا. وہ بھول چکے ہیں کہ روز محشر ہر ذی روح کا حساب ہوگا جس نے جو بھی بویا ہے وہ کاٹنا پڑے گا وہاں محض جنس کی بنیاد پر رہائی نہیں ہوگی.
    کب قفل اتارے جائیں گے اور درد سناۓ جائیں گے
    جو مر جاتے ہیں ذہنوں میں وہ خواب بچاۓ جائیں گے
    کب تک دنیا کی رسموں پہ یونہی جذبے وارے جائیں گے
    آخر کب تک بنتِ حواں کے کرداد داغے جائیں گے
    مرتی ہیں غیرت کے نام پہ بیٹیاں ہی ہمیشہ کب بیٹے مارے جائیں گے
    مطالبہ تو یہ ہے کہ گناہ کی سزا اگر عورت کے لیے ہے تو مرد کیوں بری الذمہ ہے. دنیا میں کہی بھی سزا اور جزا کے قانون میں کیا مرد اور عورت کی تفریق ہے.
    مانا دین اسلام میں مرد کو عورت سے بلند رتبہ دیا گیا ہے لیکن فضیلت تو صرف تقوی کی بنیاد پر ہے. افضل وہ ہیں جو دوسروں کے حق میں بہتر ہیں جو دوسروں کے حق ادا کرنے والے ہیں نہ کہ صرف اپنے حقوق پر زور دینے والے.
    میری تمام ماؤں بہنوں سے درخواست ہے خدارا بیٹی کی تربیت کے ساتھ ساتھ بیٹے کی تربیت پر بھی زور دیں اور انہیں بتاۓ گناہ کرنے والا چاہے مرد ہو یا عورت سزا دونوں کے لیے یکساں ہے. انہیں ایسا مرد بناۓ تو معاشرے میں بگاڑ کا سبب نہیں بلکہ بہتری کا امین ہو.
    @MudasraMobeen

  • تمباکو نوشی اور اس کے اثرات تحریر : اسامہ خان

    تمباکو نوشی اور اس کے اثرات تحریر : اسامہ خان

    تمباکو نوشی ہمیشہ اپنے دوست احبابو سے لگتی ہے۔ ایک لڑکا پیدا ہوتا ہے پڑتا ہے لکھتا ہے بڑا ہوتا ہے اور اپنے دوستوں کے ساتھ گھومتا پھرتا ہے اور زندگی میں اسکو کچھ ایسے دوست ملتے ہیں جو نشہ تو کرتے ہیں سب دوستوں کو بھی کہتے ہیں کہ آپ بھی کریں اور ان لوگوں کا اپنے دوستوں کو نشے پر لگانے کا بڑا ہی کوئی ایک میرا طریقہ ہوتا ہے یہ اپنے دوست کو ایسے سگریٹ نوشی اور دیگر نشو  میں پھنساتے ہیں جیسے یہ کوئی بہت ہی اچھا کام ہو شروع شروع میں وہ دوست اپنے نئے دوست کو سگریٹ بھی دیتے ہیں اور نشہ بھی دیتے ہیں آہستہ آہستہ جب اس کو اس چیز کی لت لگ جاتی ہے تو اس کو کہتے ہیں اپنے لیے بھی لے اور ہمارے لیے بھی لے آؤ کیونکہ ان کا کام صرف نشہ پینا ہوتا ہے بے شک وہ اپنے پیسوں سے پیا یا کسی اور کے پیسوں سے اب وہ لڑکا بھی مجبور ہوتا ہے کیونکہ اس کو نشے کی لت لگ چکی ہوتی ہے تو اپنے لیے بھی لے کر آتا ہے اور دوستوں کے لیے بھی لے کر آتا ہے آہستہ آہستہ یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے ایک وقت ایسا آتا ہے کے گھر والوں کو پتہ چل جاتا ہے کہ یہ سگریٹ نوشی کرتا ہے لیکن اس وقت بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے والدین بچے کو ہمارے بھی صحیح روکے بھی صحیح تو لیکن وہ بچہ نہیں روک سکتا کیونکہ اس کو اس چیز کی لت لگ چکی ہوتی ہے جب والدین سمجھاتے ہیں کہ بیٹا یہ سگریٹ نوشی نہیں کرتے تو اس وقت ان کو اس چیز کی سمجھ نہیں آتی کہ ہمارے لیے یہ بات صحیح ہے کیونکہ ان کو صرف اس لعت کو پورا کرنا ہوتا ہے کیونکہ اس کے دوستوں نے اس کو ایسا جال میں پھنسایا ہوتا ہے وہ سگریٹ نوشی کو ہی اپنا سب کچھ سمجھ بیٹھتا ہے کاش کہ ہم اپنے بچوں کو ایسے لوگوں سے دور رکھیں۔ کیونکہ سگریٹ نوشی ایک ایسی لعنت ہے جو آج کل بہت تیزی سے بڑھتی جا رہی ہے آج کل کے نوجوان کھانا کھائیں کیا نہ کھائیں سگریٹ ضرور پیتے ہیں کیونکہ وہ اس لت میں اس حد تک آگے بڑھ چکے ہوتے ہیں کہ اگر وہ سگریٹ نہ پینے ہیں تو وہ کھانا بھی نہیں کھاسکتے لیکن یہں سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ اپنے بچوں کو سگریٹ نوشی سے کیسے بچایا جا سکتا ہے اس کا ایک بہترین حل ہے والدین سیگریٹ نوشی سے خود دور رہیں جب بچے دیکھیں گے کہ ہمارے والدین سگریٹ نوشی سے دور رہتے ہیں تو وہ بھی اس چیز کے نزدیک نہیں جائیں گے کیونکہ ان کو بچپن سے ہی اس چیز کی عادت نہیں ہوگی لیکن پھر بھی ان پر نظر رکھیں کہ ان کے کوئی ایسے دوست نہ ہو جو سگریٹ نوشی کرتے ہیں اپنے بچوں کا خاص کر پندرہ سال سے لے کر بیس سال کی عمر تک خیال رکھیں اس کے بعد بچہ ہر بات کو سمجھنے لگ جاتا ہے اور اگر بیس سال تک وہ بچہ سگریٹ نوشی نہیں کرتا تو آگے بہت زیادہ چانسز ہوتے ہیں کہ سگریٹ نوشی نہیں کرے گا لیکن اس معاشرے میں بہت سے ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو بچوں کو ولگر آتے ہیں کہ پریشانی میں سگریٹ نوشی کرنی چاہیے اس سے پریشانی کم ہوتی ہے حالانکہ یہ سراسر جھوٹ ہے اس بات کو میں اس اس بات سے جھوٹ کہوں گا کیا ہمارے حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جن پر زندگی کی بہت سی مشکلات آئیں لیکن انہوں نے کبھی اللہ کے سوا کسی سے مدد نہیں مانگی پریشان ہونا تو دور کی بات ہے کیونکہ ان کو پتا تھا جو کرنا ہے میرے پیارے رب نے کرنا ہے اس کے حکم کے بغیر کچھ بھی نہیں ہو سکتا لیکن آج کا مسلمان پتہ نہیں کس بات پر یقین کرتا ہے اور سگریٹ نوشی پر اتر آتا ہے والدین سے گزارش ہے کہ وہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں تاکہ بچے سگریٹ نوشی سے دور رہیں اور اللہ نہ کرے اگر آپ کی وجہ سے سگریٹ نوشی میں منسلک ہے تو براہ کرم اس کا علاج کریں اور سگریٹ نوشی سے اس کو دور کریں سگریٹ نوشی کی وجہ سے بہت سی بیماریاں جنم لے رہی ہیں جس میں سب سے بڑی بیماری کینسر ہے آج ہم اپنے بچوں کا خیال رکھیں گے تو کل ان کا مستقبل اچھا ہوگا اللہ پاک ہم سب کے بچوں کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور ہمارے بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچائے رکھے
    Twitter: ‎@usamajahnzaib

  • عورت اور معاشرہ؟   تحریر فیضان علی

    عورت اور معاشرہ؟  تحریر فیضان علی

    ‏:

    معاشرے میں عورت کو کس نگاہ سے دیکھا جاتا ہے کیا عورت کو ہمارے معاشرے کی لعنت سمجھا جاتا ہے کیوں؟ اس جدید دور میں احمقانہ سلوک کیا جا رہا ہے؟ کیوں ہم لوگوں نے اپنی آخرت کی فکر چھوڑ دی ہے؟ کیوں ہم لوگ جاہلوں سے بھی بد تر ہوتے جا رہے ہیں کیوں ایسا ہو رہا ہے؟ 

    اگر عورت پہ فحاشی کا دبہ لگا کر معاشرہ کو بدنام کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوا کے عورت معاشرے کو خراب کر رہی ہے؟ صرف عورت ہی اس معاشرے کی زمہ دار نہیں ہے اس معاشرے میں مرد بھی رہتے ہیں جن کو با اخلاق ہونا لازمی ہے معاشرے کی زمہ داری کسی ایک فرد پہ نہیں ہے اس کے لیے مرد اور خواتین دونوں کو با کردار ،با اخلاق ہونا ضروری ہے، 

    عورت کو کوئی ترجی نہیں دیتا کسی کی ماں، بہن، بیٹی ،بیوی کیا انکو معاشرے میں عزت سے زندگی گزارنے کا حق نہیں ہے؟ اگر ہم کسی کی عورت کے بارے میں الٹے خیالات سوچ سکتے ہیں تو یہ بات بھی سوچ لینی چاہیے کے کوئی ہمارے گھر کی عورتوں کے لیے بھی غلط خیالات تصور کر سکتا ہے

    اس معاشرے میں عورت کے ساتھ کیا جا رہا ہے اور اس کے زمہ دار کون لوگ ہیں کن لوگوں کی وجہ سے معاشرہ خراب اور بد کردار ہوتا جا رہا ہے، 

    آئیے اب آپ کو بتاتا ہوں کے اس معاشرے میں انسانیت کس حد تک گیر چکی ہے اور درندگی کس حد تک پھیل گئی ہے کے لوگوں میں خوف خدا بلکل ختم ہو چکہ ہے، 

     عورت کے لباس سے شروع کرتا ہوں کے عورت نے اگر ساڑھی پہنی ہے ,شلوار قمیض پہنی ہے,ٹراوذر پہنا ہے,چوڑی دار پاجامہ پہنا ہے,سر سے پاوں تک چادر میں لپٹی ہے دوپٹہ گلے میں ڈالا ہےدوپٹے کے بغیر ہےپوری آستینیں پہنی ہیں,آدھی آستینیں ہیں برقعہ پہنا ہے یا ٹانگیں ننگی ہے چاہے جس بھی طرح کے لباس میں ہو اس کا ریپ ہو جاتا ہے

    عورت چاہے 3 سال کی بچی ہے,4 سال کی سکول جانے والی ,8 سال کی قرآن پاک پڑھنے جانے والی,14 سال کی بلوغت میں قدم رکھنے والی, 20 سال کی جوان,40 سال کی ,50 سال می بزرگ,70 سال کی برگزیدہ یا پھر قبر میں لیٹی ہو ریپ کر دی جاتی ہے

    عورت کا مذہب اسلام ہو. سکھ ہو ,عیسائیت ہو,یہودیت ہو,جین مت ہو,بدھ ہو ,چاہے وہ کسی بھی مذہب سے ہو مسلک سے ہو فرقے سے ہو یا وہ ان سب سے نا تعلق رکھتی ہو اس کو ریپ کر دیاجاتا ہے

    کالی ہو ,گوری ہو,سانولی ہو,موٹی ہو,پتلی ہو,چھوٹی ہو,یا لمبی ہو اپاہج ہو اس کا ریپ ہونے کی خبریں آتی ہیں

    ہمارے مزہب نے عورت کو بہت عزت دی ہے عورت کو بہت بڑا مقام دیا ہے کہیں ماں کے قدموں تلے جنت کا رتبہ کہیں بیٹی جیسی نعمت عطاء کر کے اللہ رب العزت رحمتیں نازل فرماتا ہے اور اللہ رب العزت بیٹی عطاء کر کے فرماتا ہے اے میرے بندے میں خود تیرے ساتھ ہوں اتنا بڑا رتبہ عورت زات کو میں نے یا اپ نے نہیں دیا؟ نہیں یہ رتبہ عورت کو اللہ پاک نے دیا ہے پھر ہم لوگ کیوں بھول جاتے ہیں کے ہمیں بھی کسی عورت نے جنا ہے ہم بھی کیسی عورت سے پیدا ہوئے ہیں اگر اپ مرد پیدا کیے گئے ہو تو کیا اس کا مطلب اپ عورت کی عزت کرنا چھوڑ دوگے؟ اے انسان تیری کیا اوقات ہے تجھے اس بات کا اندازہ بھی ہے توں کس سے پیدا کیا گیا ہے یہ سوال ہم سب کے لیے ایک سوالیہ نشان ہے، 

    قرآن مجید میں اللہ پاک فرماتا ہے کے”اے انسان ہم نے تمہیں ایک گندے پانی کی بوند س پیدا کیا ہے” اس کے بعد اب انسان کی کیا اوقات رہ جاتی ہے کے پلیت پانی سے انسان کی پیدائش ہوئی انسان کی اوقات کچھ بھی نہیں رہتی مگر یہی انسان بڑا ہو کر خود کو بہت خوبصورت سمجھنے لگ جاتا پیسہ کیا پاس اجاتا ہے وہ انسانیت ہی بھولا دیتا ہے اس کے ساتھ ساتھ انسان کی سوچ مفلوج ہو جاتی ہے اور حیوانیت سر چڑھ کر بولنے لگتی ہے مسئلہ اگر لباس,عمر مذہب,رنگ,سائز کا نہیں تو پھر مسئلہ ہے کیا مسئلہ ہے ہوس ,ہوس زدہ ذہنوں کا مسئلہ ہے درندگی کا مسئلہ ہے بھوک کا اور مسئلہ ہے "انسانیت” سے گرنے کا، جب انسان کے اندر سے انسانیت ختم ہو جاتی ہے تو پیچھے صرف ایک چیز حیوانیت بچتی ہے جس کا انسانیت سے کوئی تعلق نہی کیوں کے اگر انسانیت ہے تو انسان اشرف المخلوق ہے ورنہ انسانیت کے بغیر انسان باقی نہیں رہتا اللہ پاک سے دعا کرتا ہوں کے مجھے اور آپ سب کو با کردار اور بااخلاق ہونے کے ساتھ ساتھ اچھا انسان بنائے اور ہمیں اپنے معاشرے میں انسانیت اور اخلاقیات کو سئ معنوں میں سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین 🙏

    اپ مجھے ٹویٹر پہ بھی فالو کر سکتے ہیں

     "فیضان علی”

    ‎@Faizan_Ali92

  • اخلاقی جرائم تحریر:خالد عمران

    اخلاقی جرائم تحریر:خالد عمران

    کسی عاقل و بالغ شخص کا جان بوجھ کر کسی بھی قانون کی خلاف ورزی کرنا جرم کہلاتا ھے۔موجودہ دور میں جرائم کسی بھی معاشرے کا ایک لازمی جزو بن چکے ہیں۔جرم تو جرم ہی ہوتا ھے خواہ وہ اخلاقی جرم ہو یا جنسی طور۔جرم ہمارے معاشروں میں اس قدر سرایت کرچکا ھے کہ اس نے نہ کسی شخص انفرادی زندگی محفوظ ھے اور نہ ہی اجتماعی، ہر خاص و عام اس کی زد میں آچکا ھے۔ہمارے معاشرے میں اب جو جرائم کے حالات ہیں یہ کسی وضاحت کا محتاج نہیں ھے ایسے لگتا ھے جیسے پورا معاشرہ ہی جرائم کی لپیٹ میں آچکا ھے۔آج بڑے بڑے دانشور اور مہذب تعلیم یافتہ افراد بھی اپنے زاویے کے مطابق اس کے اصل محرکات اور اسباب پر اپنا نکتہ نظر پیش کرتے نظر آتے ہیں۔کوئی ان جرائم کو بیروزگاری قرار دیتا ھے تو کوئی حکومت کی ناقص پالیسیوں کو مورد الزام ٹھہراتا ھے۔
    ترقی یافتہ ممالک بھی جرائم سے محفوظ نظر نہیں آتے،بلکہ ترقی پذیر ممالک کی نسبت ان ممالک میں مجرمان نت نئے طریقوں سے جرائم کرتے نظر آتے ہیں۔ہر معاشرے کے کچھ اصول ہوتے ہیں جس کے مطابق وہاں کے لوگ اپنی زندگیاں بسر کرتے ہیں،اور اپنے روز مرہ زندگی کے معاملات ان ہی اصولوں کے تحت سرانجام دیتے ہیں۔ اگر کسی بھی معاشرے میں قانون کی بالا دستی قائم نہ ہوسکے تو وہ معاشرے کی تباہی کا باعث بنتا ھے اور جرائم کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوتا ھے۔اس سے عوام بدحالی اور ناانصافی کا شکار ہوجاتی ھے، جس کی وجہ سے معاشرہ زلت و رسوائی کا شکار ہوجاتا ھے۔
    پاکستان میں اخلاقی جرائم میں کثرت سے اضافہ ہوا ھے اس وقت پاکستان کے تقریباً تمام بڑے شہروں میں بداخلاقی اور بےحیائی کے اڈے قائم ہیں سب سے ذیادہ تشویشناک اور تکلیف دہ بات یہ ھے کہ ان اڈوں کو اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مکمل قانونی تفظ دیا جاتا ھے اور ان اڈوں پر کام کرنے والی طوائفوں کو کھلے عام چھٹی دے دی گئ ھے ملک پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں نے کبھی بھی قحبہ گری کو روکنے کے لئے کبھی ازخود نوٹس لینے کی جسارت نہیں کی، اگر پنجاب کی بات کی جائے تو لاہور کی سب سے بڑی اور تاریخی بادشاہی مسجد کے سائے تلے موجود برائے کے ان اڈوں کے تدارک کے لئے پاکستان بننے کے بعد سے اب تک پولیس اعلیٰ حکام کے حکم نامے کی منتظر ھے۔اگر ہم ماضی پر نگاہ ڈالیں تو لال مسجد کے خطیب اور طالب علموں پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ وہ اسلام میں موجود مساج سنٹر کو بند کروانے کے لئے قانون ہاتھ میں لینے کی کوشش کررہے تھے جبکہ میڈم شمیم نامی خاتون ہے کاروبار میں بے جا مداخلت کررہے تھے، لال مسجد کی انتظامیہ کا یہ اقدام انتہائی قابل ستائش ھے کہ انہوں نے برائی کو ازخود ختم کرنے کی بھرپور کوشش کی لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ھے کہ ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو یہ سب نظر کیوں نہیں آتا؟ مولانا عبد العزیز کا یہ اقدام اگر خلاف قانون تھا تو ملک میں موجود بے حیائی کے یہ اڈے اور مساج سنٹرز کس قانون کے تحت چلائے جارہے ہیں؟ کوئی پوچھنے والا کیوں نہیں ھے یہاں؟
    پاکستان کے دنیا میں نقشے پر ابھرنے کے ساتھ ہی یہ ملک مختلف جرائم میں دھنستا چلا گیا، اسلامی ملک ہونے کے باوجود بھی شراب کی درآمد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ھے بڑے بڑے ہوٹلوں میں کھلے عام شراب دستیاب ہے، اس کے علاوہ بے شمار ایسے جرائم میں اضافہ ہوا ھے۔

    اخلاقی جرائم کے حوالے سے اس وقت عوامی رائے دو حصوں میں تقسیم ہوچکی ھے، ایک طرف جہاں یہ کہا جاتا ھے کہ جرم کا ارتکاب کرنے والے مجرمان کو قرار واقعی ہی سزا دینی چاہیے وہ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ کچھ لوگوں کی یہ رائے ہے کہ یہ ہر فرد کا انفرادی عمل ھے ہمیں کسی کی نجی زندگی میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے میرے خیال سے زاتی عمل کا یہ مطلب ہرگز یہ نہیں ھے کہ آپ خلاف قانون ہر عمل کرتے پھریں۔یہاں یہ بات قابلِ غور ھے کہ اگر اسلام میں شخصی آزادی کا تصور ہوتا تو زانی، شرابی کبھی بھی سزا کے مرتکب قرار نہ پاتے۔ ایک اسلامی ریاست میں صرف مالی بدعنوانیوں کے خاتمے کے ساتھ ساتھ اخلاقی جرائم کی بھی بیخ کنی لازمی ھے جب تک حکومت مالی جرائم کے ساتھ اخلاقی جرائم کے خاتمے کے لئے ٹھوس اقدامات نہیں کرتی اس وقت یقیناً حکومت اپنی آئینی اور مذہبی ذمہ داریوں سے ہر گز عہدہ برآں نہیں ہوسکتی

    ۔۔Written by

     : Khalid
     Imran Khan
    :‎@KhalidImranK۔

  • معیارزندگی تحریر: تیمور خان

    معیارزندگی تحریر: تیمور خان

    معیارزندگی  کیا ہے ؟ اس کی کوئی ایک تعریف نہیں ہے جس پہ تمام لوگوں کو جمع کیا جاسکے۔ ہر جگہ ہرسماج اور ہربرادری میں اس تعریف الگ الگ ہے۔

     انسان اپنے معیار پہ زندہ رہنے کی کوشش کرے یہ کوئی بری بات بھی نہیں ہے مگر جب انسان اپنے قائم کردہ معیار کو اپنے لئے لازم اور فرض ٹھہرالیتا ہے یا پھر دوسروں کے معیار زندگی کو اپنانے میں سماجی براربری یا برتری سمجھنے لگتا ہے تو یہ چیز کبھی کبھی جان لیوا بھی ہوجاتی ہے۔

    سیدنا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بھی اس مسئلہ کا شافی حل رکھتی ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہایت سادگی کی زندگی بسر کیا کرتے تھے، اپنے احباب اور دوستوں کے ساتھ اس طرح گھل مل کر بیٹھا کرتے تھے کہ آنے والا شخص کنفیوژ ہوکر پوچھتا تھا کہ تم میں محمد کون ہے؟ کھانا پینا، پہننا اوڑھنا، اٹھنا بیٹھنا ،سونا جاگنا سارا کچھ سادگی سے بھرا تھا اور بے جا تکلف سے پاک و صاف تھا۔آپ ص کی پسند بھی ایسی نہ تھی کہ جسے عام آدمی اگر اپنانا چاہے تو نہ اپنا سکے۔

    اہل مدینہ کو گوہ یعنی سانڈا پسند تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دسترخوان کھایا بھی گیا مگر آپ کو پسند نہ آیا تو آپ نے کبھی نہیں کھایا،مگر کسی کو منع بھی نہیں کیا۔

    من تشبہ بقوم فھو منھم (جو کوئی کسی قوم کی نقالی کرے وہ اسی میں سے ہے) میں ایک نحیف اشارہ یہ ہیکہ مذہبی طور پہ کوئی مسلمان کسی کی نقالی نہ کرے۔ مسلمانوں کو محسوس ہونا چاہیے کہ اس کا کلچر سارے عالم میں بہترین کلچرہے۔

    کبھی کبھار جب باہر سے کوئی امیر ملنے آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک یمنی جبہ زیب تن فرماتے اور ملنے جاتے اور اس کا جواب یہ دیتے کہ انہیں ایسا نہ لگے کہ مسلمانوں کا امیر بالکل ہی کنگال ہے۔

    صحابہ کرام کوطواف کعبہ  کے پہلے تین چکر میں دلکی چال چلنے کو کہا تاکہ اہل مکہ کو یہ باور کرایا جائے کہ ایمان لانے کے بعد مسلمان لاغر نہیں ہوئے۔

    انسان اپنے لئے کوئی معیار اور اسٹنڈرڈ نہ بنائے کہ اس کے بغیر وہ جی نہیں سکتا مثلا ہفتہ میں ایک دن یا دو دن گوشت کھانا،بغیر جوتے کے باہر نہ نکلنا ،تہبند پہن کر باہر جانے کو معیوب سمجھنا،بغیر گوشت کے دعوت نہ کرنا،ادھار کی چیز پہ مہمانوں کی ضیافت کرنا،اپنے مسائل کو بلاوجہ چھپانے کی کوشش کرنا،لوگوں کے سامنے یہ ظاہر کرنا کہ وہ بڑا امیر انسان ہے جبکہ قرضوں میں مبتلا ہونا۔بغیر تحفہ و تحائف کے کسی کے گھر ملنے نہ جانا۔لوگوں کو قیمتی گفٹ دینا۔شان وشوکت کی مہمان نوازی کرنا۔۔۔۔۔۔

    المھم پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ان عیوب سے بالکل پاک تھی لہذا انہیں کوئی فکر اور ٹینشن نہیں تھا۔اپنے لئے چونکے سوچنے کی ضرورت ہی نہیں تھی لہذا ہمیشہ اوروں کیلئے سوچتے تھے۔

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم پہ پھٹے کپڑے ہوتے تھے جسےسب دیکھتے تھے،فاقہ سے پیٹ پہ پتھر بندھے تھے اسے سبھوں نے دیکھا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقروض تھے سب کو پتہ تھا،اپنی پیاری بیٹی کو باندی نہ دی اور نصیحت کی کہ بیٹا تسبیح پڑھ لیا کرو اس سے تمہاری تکان دور ہوجایا کرے گی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اتنی دولت نہ تھی کہ وہ کبھی زکوٰۃ ادا کرپاتے،سونے کیلئے نرم بستر بھی میسرنہ تھا پیٹھ پہ چٹائی کا نشان دیکھ کرحضرت عمر رضی اللہ عنہ رو پڑے۔

    دراصل ہماری شان شوکت ہماری ایمانداری ، امانت داری اورعدہ پورا کرنے ،قرض سے دور بھاگنے اور اچھے معاملات برتنے میں ہے جسے ہم نے یکسر نظر انداز کردیا ہے اور اس کی جگہ ہم نے مصنوعی چیزوں کو اپنی پہچان بنانا شروع کر دیا ہے ۔

    یاد رکھیں کہ پیتل پہ سونے کی پرت خواہ کتنی بھی کم کیوں نہ ہو مگر قیمتی سونا ہی ہوتا ہے پیتل نہیں ۔

    اے ذوقؔ تکلف میں ہے تکلیف سراسر 

    آرام سے وہ ہیں جو تکلف نہیں کرتے.

    ‎@ImTaimurKhan

  • دین کی روشنی میں قل، چالیسواں اور دیگر رسومات۔ تحریر: محمد اسعد لعل

    دین کی روشنی میں قل، چالیسواں اور دیگر رسومات۔ تحریر: محمد اسعد لعل

    اس دنیا میں ہر ایک کے لیے زندگی اور موت کا کارخانہ چل رہا ہے۔ موت و حیات کا یہ کارخانہ بنایا ہی اسی لیے گیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آزما سکیں ۔جس وقت کوئی عزیر دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو انسان کو صدمہ پہنچتا ہے، یہ صدمہ پہنچنا بھی فطری عمل ہے اس لیے فطری اظہار پر دین میں کوئی پابندی نہیں، لیکن اس کو حدود میں رہنا چاہیے۔ وہ حدود آپﷺ نے مختلف موقعوں پر واضح فرما دیے ہیں۔ نوحہ نہ کیا جائے، چیخ وپکار نہ کی جائے اور اس طرح کی آوازیں بلند نہ کی جائیں جس سے اللہ تعالیٰ کی ناشکری کا اظہار ہو۔

    اس موقعے پر اللہ تعالیٰ سے تعلق کا اظہار کرنا چاہیے، خود موت کو یاد کرنا چاہیے، اگر انسان صدمے کی کیفیت میں ہو تو خاموشی کو ترجیح دیں، اللہ کی کتاب کی طرف رجوع کریں، نیکی اور خیر کی باتیں کریں اور سنیں۔انسان کو ان چیزوں کا اہتمام کرنا چاہیے، لیکن صدمہ پہنچا ہے تو فطری طور پر کچھ وقت لگتا ہے جس کے بعد انسان سنبھلنا شروع ہو جاتا ہے، اس میں بھی آپ ﷺ نے فرمایا ہے کہ تین دن بہت ہیں۔ یعنی اگر آپ تین دن لوگوں کے لیے تعزیت کے لیے بیٹھ گئے ہو، اپنا کام کاج چھوڑا ہوا ہے یا اس صدمے کی کیفیت میں بسر کر رہے ہیں تو بس یہ تین دن بہت ہیں۔ اس کے بعد خود کو اس کیفیت سے نکالنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

    یہ دنیا کیوں کہ دارالعمل ہے تو آپ موت ہی کے ساتھ وابستہ ہو کر تو نہیں رہ سکتے۔ لوگ اس دنیا میں آ رہے ہیں اور بہت سے لوگ اس دنیا سے رخصت بھی ہو رہے ہیں۔ ہمارے بہت سے عزیز دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں، اولاد سے بڑھ کر کیا چیز ہوتی ہے۔۔۔لیکن آپﷺ کو اپنے آغوش میں بیٹھے ہوئے بچوں کو رخصت کرنا پڑا ہے۔ اس میں نہ پیغمبروں کو استثناء حاصل ہے نہ ہی بڑے اور نیک لوگوں کو استثناء ہے۔ اس کو ایک حقیقت کے طور پر قبول کر کے ہی زندگی بسر کی جا سکتی ہے۔

    ہمارے دین نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ ایسے موقعوں پر صبر کیا جائے۔ صبر کی اللہ تعالیٰ نے بہت غیر معمولی جزا بیان کی ہے۔ یعنی وہ صبر ہے کہ جس کے ساتھ اللہ کی خوشنودگی حاصل ہوتی ہے، صبر ہے کہ جس کے نتیجے میں آپ کو اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ملتی ہیں، اور صبر ہی ہے جس کا صلح اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ جنت ہے۔

    جیسا کہ آپ ﷺ نے فرمایا ہے تعزیت کے لیے تین دن بہت ہیں، اسکے بعد آپ دنیا کے معاملات میں مصروف ہو جائیے۔ اگر آپ دنیا کے معاملات میں مصروف ہوں گے تو صدمے کی کیفیت میں بھی کمی ہو گی، آدمی کا دماغ پلٹتا ہے، خیالات میں تبدیلی آتی ہے ورنہ تو ظاہر ہے کہ اگر آپ صدمہ کی کیفیت میں بیٹھے رہیں گے تو وہ چیز زیادہ اثر انداز ہو گی۔ بعض لوگ زیادہ حساس بھی ہوتے ہیں، تو کوشش کرنی چاہیے کہ جتنی جلدی ممکن ہو اس سے نکل جانا چاہیے۔

    میت کے لیے ایصالِ ثواب تو  ہر وقت، ہر موقعہ پر کرنا جائز ہے اور اس کے لیے گھر میں ہی جو افراد جمع ہوں اور دعوت کے بغیر ہی اپنی خوشی سے کچھ پڑھ لیں اور قرآن پڑھنے کے عوض اجرت کا لین دین نہ ہو تو اس کی دین میں اجازت ہے۔ اس کے بعد یہ جو رسومات ہمارے ہاں بنا لی گئی ہیں مثال کے طور پر قل، چالیسواں، جمعرات، برسی وغیرہ یہ ہندوستان کی چیزیں ہیں ان کا دین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اگر ان میں کوئی دینی چیز شامل کی جائے گی تو اس میں کوئی شک نہیں کہ اسے بدعت قرار دیا جائے گا۔ اور بدعت سے ہر حال میں خود کو محفوظ رکھنا چاہیے۔ 

    اللہ تعالی ہم سب کو دین اور شریعت کے مطابق زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین

    @iamAsadLal

    twitter.com/iamAsadLal

  • رنگیلاالیکشن کمیشن  تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    لگتا ہے الیکشن کمیشن شفاف اور منصفانہ انتخابات ،نئی انتخابی اصلاحات اور اوورسیز پاکستانیوں کے حق راۓ دہی کے خلاف دم ٹھونک کے میدان میں آگیا ہے۔

    الیکٹرونک ووٹننگ مشین کے خلاف قائمہ کمیٹی میں پیش کئے 37 اعتراضات ،اعتراضات کم اور لطیفے زیادہ لگتے ہیں۔

    خاص طور پر یہ اعتراض تو تاریخی پزیرائ کا باعث بن چُکا ہے۔جس میں الیکشن کمیشن نے کچھ زیادہ ہی دور کی کوڑی لاتے ہوۓ کہا کہ اس مشین کو ایلفی ڈال کر جام کیا جا سکتا ہے۔اس اعتراض پر تو اگرارسطو بھی زندہ ہوتا تو شائد خود کُشی کو ترجیح دیتا۔

    کل سے اس ایلفی والی بات کو لیکر الیکشن کمیشن کی جو دُرگت سوشل میڈیا پر بن رہی ہے،وہ شائد اس کمیشن خور کمیشن کے لئے کافی ہو۔

    ایلفی کی بحیثیت ایک پراڈکٹ کے،جتنی مشہوری کمیشن والوں نے کروادی ہے،اتنی شائد وہ کروڑوں کے اشتہارات چھپوا کر بھی نہ کر پاتے۔

    ایلفی والے ماوراۓ عقل اعتراض کے علاوہ دیگر اعتراضات بی اسی طرح چُوں چُوں کا مُربہ ہی ہیں۔

    ان اعتراضات کو تو اعتراض براۓ اعتراض کہنا بھی مناسب نہیں لگتا۔

    کسی ایک اعتراض میں بھی عقل و شعور کی ہلکی سی رمق بھی نہیں ہے۔

    بس لگتا ہے کہ موجودہ حکومت کو نیچا دکھانے کے لئے کسی کے اشارے پر کھیل تماشا کیا جا رہا ہے۔

    الیکشن کمیشن میں بیٹھی کٹھ پُتلیوں کی ڈوریاں کہاں سے ہل رہی ہیں،

    سب کو پتہ ہے۔یہ گٹھ جوڑ روز روشن کی طرح عیاں ہے۔

    اس گٹھ جوڑ کو خونی لبرلز کی حمایت سب کچھ واضح کرنے کے لئے کافی ہے۔

    الیکشن کمیشن اپنی پوری توانائیاں اس بات پہ صرف کر رہا ہے کہ کسی طرح آئندہ انتخابات کو شفاف انعقاد سے روک کر اسی دقیانوسی طریقے سے منعقد کروایا جاۓ،

    جس میں مُردے بھی ووٹ ڈالنے آجاتے ہیں۔

    پرانے سسٹم میں جعلی ووٹوں کا اندراج اب کوئ راز والی بات نہیں۔

    پنجاب میں ن لیگ اور سندھ میں پی پی امیدواران بیس سے پچیس ہزار بوگس ووٹوں کا تحفہ لیکر گھر سے نکلتے ہیں،

    جس کے بعد انہیں مدمقابل امیدوار تو ہرانے کی پوزیشن میں آہی نہیں سکتا،

    ہاں اگر بدقسمتی آڑے آجاۓ تو الگ بات۔

    کمیشن نے صرف الیکٹرونک ووٹننگ مشین میں ٹانگ نہیں اڑائ ہوئ بلکہ انتخابی اصلاحات کی شدید مخالفت کا بیڑہ بھی اُٹھارکھا ہے۔

    کمیشن اس وقت ن لیگ ،پی پی اور فضل الرحمن کی جماعت کی طرح پی ڈی ایم کا باقاعدہ حصہ نظر آتا ہے۔

    انوکھے لاڈلے کمیشن کی ایک اور ضد یہ بھی ہے کہ حکومتی کوششوں کے برعکس اوورسیز پاکستانیوں کو بھی حق راۓ دہی سے محروم رکھا جاۓ۔

    یہ وہی اوورسیز پاکستانی ہیں،جنہیں وزیر اعظم پاکستان عمران خان ملک کا اثاثہ کہتے نہیں تھکتے،

    یہ وہی اوورسیز پاکستانی ہیں،

    جن کے بھیجے گئے زرمبادلہ کے باعث ملک معیشت کا پہیہ رواں دواں ہے۔

    جبکہ کمیشن والے ان سے سوتیلی ماں والا سلوک کرنے پر تُلے ہیں۔

    الیکشن کمیشن کو تو بس اتنا کسی نے بتا دیا ہے کہ اگر اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ ڈالنے کا حق دے دیا جاۓ تو پی ٹی آئ کو فائدہ ہوگا،

    کیونکہ بعض تجزیوں کے مطابق بیرون ملک پاکستانیوں کی اکثریت عمران خان کے وژن کی حامی ہے۔

    اسی ایک مفروضے کی بدولت کمیشن والے سر دھڑ کی بازی لگاۓ ہوۓ ہیں کہ کسی طرح بھی،

    اوورسیز پاکستانیوں کو اس حق سے محروم رکھ کر ن لیگ اور پی پی کو اس سیاسی نقصان سے بچایا جاۓ۔

    الیکشن کمیشن کے 37 اعتراضات میں نہ تو کوئ ٹھوس دلیل ہے اور نہ ہی کوئ ایسی وجہ،

    جو الیکٹرونک ووٹننگ مشین کی افادیت کو کم کر سکے۔

    پاکستان میں روایت بن چکی ہے کہ ہر الیکشن میں ہارنے والا نہ تو اپنی شکست تسلیم کرتا ہے اور نہ ہی آئندہ پانچ سال وہ جیتنے والے کو دلجمعی سے کام کرنے دیتا ہے۔

    دھاندلی کا رونا روتے روتے پانچ سال گزر جاتے ہیں اور پھر نئے رونے دھونے کی بنیاد رکھنے کے لئے نئے بوگس،غیر شفاف اور ایک اور متنازعہ انتخابات کا انعقاد کروا دیا جاتا ہے۔

    یہ سارا گورکھ دھندا الیکشن کمیشن کی چھتر چھایا میں ہوتا ہے۔

    پھر بھی وہ دھاندلی زدہ الیکشن کروانے پر بضد ہے۔

    سب کچھ جانتے بوجھتے ہوۓ بھی وہ انجان بنے بیٹھے ہیں۔

    وہ بے قرار ہو کر پیچ وتاب کھاۓ جا رہے ہیں کہ آئندہ انتخابات بھی اُن کے آقاؤوں کی خواہش کے عین مطابق کرواۓ جا سکیں،

    اتنی بے قراری ظاہر ہے،

    بے سبب تو نہیں ہوتی،

    جاننے والے اس بے قراری کا سبب جانتے بھی ہیں اور اس سبب کو دور کرنےکی تدبیر کرنا بھی جانتے ہیں۔

    اس تدبیر کا استعمال الیکشن کمیشن کے مکمل ایکسپوز ہونے کے بعد یقینا” کیا بھی جاۓ گا،

    کیونکہ ملک کی تقدیر زیادہ دیر ان کمیشنوں کی نظر نہیں کی جا سکتی۔

    پہلے ہی بہت دیر ہو چُکی،

    مُلک کا ہر ادارہ تباہ کیا جا چُکا۔

    اگر مُلک کو چلانا ہے تو ان کمیشنوں کو ہر صورت راہ راست پہ لانا ہو گا۔

    ان سے بغیر کمیشنوں کے فرائض سرانجام دلوانا ہوں گے۔

    انکی مادر پدر آزادی نے ان کے پیٹ تو بھر دئے ہیں مگر ملک کی جڑیں کھوکھلا کر دی ہیں۔

    الیکشن کمیشن جیسے اداروں کی زور زبردستیوں،

    من مانیوں اور بدمعاشیوں سے لگتا ہے کہ ملک ان جیسے اداروں کا ماتحت ہے نا کہ یہ ادارے اس ملک کے ماتحت۔

    ہر بار متنازعہ انتخابات کی شرمناک تاریخ رکھنے کے باوجود الیکشن کمیشن اپنا وطیرہ بدلنے کو تیار نہیں۔

    بے شمار اور بے حساب لعن طعن کے باوجود کمیشن اپنا قبلہ بدلنے کو تیار نہیں۔

    مگر اب یہ زیادہ دیر نہیں چل سکتا۔

    اس قسم کے جانبدار کمیشنوں اور مافیاز کو مزید اس ملک کی تقدیر سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    اب ان اداروں کو قانون کے تابع لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    یہی وہ وقت ہے،

    جب ان بگڑوں تگڑوں کو سیدھا کیا جا سکتا ہے۔اداروں کا اس وقت ایک پیج پر ہونا اس ملک کی خوش قسمتی ہے۔اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور اس ملک کو بنانا سٹیٹ بنانے والوں کو نتھ ڈالنی چاہیے۔

    عمران خان اللہ کے بعد اس ملک کے محب وطن عوام کی آخری امید ہے۔

    اگر عمران خان کے دور میں یہ بوسیدہ نظام درست نہ ہوا تو پھر کبھی نہیں ہو گا،

    خدانخواستہ بالخصوص اگر ن لیگ یا پی پی برسر اقتدار آگئیں تو اس بوسیدہ نظام کے ٹھیک ہونے کی اُمید ہمیشہ کے لئے دم توڑ جاۓ گی،

    پھر یہ نظام سدھرنے کے بجاۓ مزید اُجڑے گا،

    کیونکہ یہ دونوں پارٹیاں بذات خود اس بوسیدہ اور فرسودہ نظام کی معمار ہیں۔

    یہ کمیشن نما مافیاز انہیں کے لگاۓ ہوۓ ہوۓ بُوٹے ہیں۔

    ان پارٹیوں نے خود انہیں حرام کھلا کھلا کے ایسے کمیشنوں کی آبیاری کر رکھی ہے۔

    اپنے ہاتھوں سے لگاۓ گئے پودے کون اپنے ہاتھوں سے تلف کرتا ہے؟

    خاص طور پر کرپشن کے وہ پودے،

    جو ان کی کرپشن پر شجر سایہ دار کی طرح چھاؤں بنا کے رکھتے ہوں #

    تحریر ۔سید لعل حسین بُخاری

    @lalbukhari

  • بدلنا تو پڑے گا ہی”  تحریر؛ ارباز رضا بُھٹہ

    بدلنا تو پڑے گا ہی” تحریر؛ ارباز رضا بُھٹہ

    اس وقت اگر دیکھا جائے تو ہمارے چھوٹے سے چھوٹے بچے کے ذہن میں بھی یہ بات بٹھا کر رکھ دی گئی ہے کہ مغربی اقوام خصوصاً ان کے لیڈرز جو کہ خود کو دنیا پر مزید اوپر کرنے اور مسلمانوں کو دن بدن نیچا کرنے میں لگے ہوئے ہیں ہمارے سخت مخالف ہیں اور روز بروز سازشوں میں مصروف عمل ہیں۔ خدانخواستہ میں اس بات کا انکاری نہیں ہوں اور نہ ہی یہ سمجھتا ہوں کہ وہ لوگ ٹھیک کر رہے ہیں۔

    اس وقت بات اس انداز سے بچوں کے آگے پیش کرنی چاہیے کہ دیکھو! جب تک ہمارے پاس طاقت و اقتدار، علم اور مستقبل کی بہترین پلاننگ رہی تب تک تو ہم نے بھی کھل کر ان لوگوں کی دھلائی کی۔ اس بات میں شک نہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے ادوار کے علاوہ بھی چند ادوار میں بہترین انداز سے غیر مسلموں کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا گیا مگر بات زیادہ تر بادشاہوں کے ادوار پر ہو رہی ہے۔ جس بادشاہ کا جتنا بس چلا اس نے اتنا ہی خود کا یعنی مسلمانوں کا اور غیر مسلموں کا نقصان کیا۔ خود خزانے سمیٹے اور غریبوں کو دن بدن قریب تر کر دیا گیا۔ تمام آسائشیں خود کے لیے حاصل کی اگر عوام کو دیا بھی تو ناتلافی نقصان۔ خیراس بات کا خلاصہ میں چند انہی جملوں میں کرنا چاہوں گا کہ جب حقیقی اسلام جو کہ خدا اور اس کے رسول کا تھا درباری اسلام میں تبدیل ہوا تب ہی ایسےمسائل نے جنم لیا جن کی وجہ سے ہم دن بدن بستی میں چلے گئے۔

    یہ بات تاریخ کے اوراق میں قلم بند ہے کہ جب یورپ میں سر درد کو بدروحوں کے چمٹے سے تشبیہ دی جاتی تھیں اور انہیں بدروحوں کو نکالنے کے لیے سر میں کیلیں ٹھونکیں جاتی تھی۔ اس وقت عراق میں مسلمان جدید کیمسٹری اور ادویات کی بنیاد رکھ رہے تھے۔ جہاں ابن سینا ایسی کتاب لکھ رہا تھا جسے اکیسویں صدی میں پڑھا جانا تھا۔ دوسری جانب جابر بن حیان وہ کتاب لکھ رہا تھا جسے آگے چل کر "بائبل” کا خطاب ملنا تھا۔ پھر آہستہ آہستہ ان درباری بادشاہوں کے اسلام کی وجہ سے جس میں صرف اور صرف ظلم و ستم کو آگے کر کے دکھایا گیا ساتھ ہی ان ادوار میں وہ بکے ہوئے مولوی جنہوں نے اسلام اور بادشاہت کے نظام کو باہم ملا کر رکھ دیا دن بدن مسلمانوں کے زوال کا باعث بنے۔ ایک بات میں اکثر سوچتا ہوں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات مبارک جو کہ ظاہری طور پر صرف 63 برس تھی اس میں بھی صرف 23 سال کے عرصے میں اسلام بےحد پھیلا وہ بھی عمل اور اخلاق سے۔ مگر اس وقت سے اب تک اگر اسلام پھیلا بھی ہے تو کس ratio سے؟

    ​ خیر اگر ہم اپنے بچوں کو بغیر کسی کی پرواہ کیے یہی بتا دیں بیٹا جب تک ہمارے پاس قوت و طاقت علم کی بدولت تھی ہم نے ترقی کی اور دوسری اقوام کو اسلام کی جانب اخلاقی طور پر دعوت دینے کی بجائے ہم نے ڈنڈے کے زور پر کام کیا۔ یہاں میں بادشاہوں کے اسلام کے بات کر رہا ہوں نہ کہ اولیائے کرام کے پھیلائے گئے اسلام کی۔ مگر جب ہم سے یہی سب چیزیں ختم ہوئی جب ہم نے بھی بو علی سینا اور جابر بن حیان کے دور کے یورپی لوگوں کے جیسے کام شروع کر دیے یعنی مختلف بیماریوں کو ہم نے تعویذ و جادو اور دم و درود پر رکھ لیا بنا ان کا علاج کیے اور وہ ہمارے بزرگوں والا کام( یعنی سائنس کی مدد سے علاج) کرنے لگے تو انہوں نے مزید دریافتیں کی اور سائنس کو ترقی دی۔ تب انہوں نے نہ ہی دن دیکھا نہ رات، نہ ہی عراق و شام اور نہ ہی افغانستان و پاکستان انہوں نے ہمیں ہر لحاظ سے پستی کی جانب دھکیلنے کی بھرپور کوشش کی اور کیا کہنے ہم نے بھی جانب پستی ہی جانا پسند فرمایا۔ اس لیے ترقی یافتہ دور میں بھی ہمارا کوئی حال نہیں ہے ہم ظاہری طور پر بدلنا چاہتے ہیں مگر اندرونی طور پر پستی کو پسند کیے ہوئے ہیں اور اس سے نکلنا تو دور کی بات ہم نکلنے کا سوچتے تک نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے ہم مار کھا رہے ہیں اور کھاتے رہیں گے۔ ہماری دنیا میں کہیں عزت نہیں ہو گی چاہے وہ ہمیں اپنے مقاصد کی خاطر کھلائیں یا پھر دہشت گرد کہ کر مار دیں ان کی مرضی ہے۔ اس میں ہم بےبس ہیں۔ اس لیے جب تک ہم نہیں بدلیں گے جب تک تعلیمی میدان میں آگے نہیں چلے جاتے تب تک ہر ملک، شہر اور گلی میں مسلمان ذلیل و خوار ہوتے رہیں گے۔

    @Haider_Arbaz_01

  • اتحاد و یکجہتی پہلا اصول ہے قوموں کی بقاء کا تحریر:شمسہ بتول

    اتحاد و یکجہتی پہلا اصول ہے قوموں کی بقاء کا تحریر:شمسہ بتول

    ✨اتحاد و یکجہتی پہلا اصول ہے قوموں کی بقاء کا✨
    قومی یکجہتی کسی بھی ملک کی فلاح و بہبود کے لیے سب سے زیادہ ضروری ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے ہمیں قوم کی تعمیر کے لیے تین رہنما اصول سکھائے تھے۔ وہ اصول اتحاد ، ایمان اور نظم و ضبط ہیں۔ انہوں نے تینوں میں سب سے زیادہ اہم اتحاد ہے اور بے شک اتحاد اجتماعی زندگی میں تیز اور دیرپا ترقی کے لیے سب سے قیمتی اصول ہے۔
    ایک قوم ان لوگوں کا مجموعہ ہے جو کسی خاص علاقے میں رہتے ہیں اور تاریخی پس منظر رکھتے ہیں اور قومی مفادات کی خاطر مشترکہ طور پر کوششیں کرتے ہیں۔ ملک و ملت کی خاطر یکجا ہو کر تمام تعصبات کو مٹا کر مل جل کر کوشش کرنی انہیں منظم بناتا ہے۔
    اتحاد و یکجہتی بہترین نظام زندگی کے طور پر اسلام کی عظمت اور پھیلاؤ کے لیے ہے کہ پاکستان کے مسلمانوں نے خود کو ہندوؤں سے الگ کر دیا۔ لہذا ہماری بقا اور ترقی کا راز اسلام کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھنا ہے۔ پاکستان میں قومی اتحاد کی زیادہ ضرورت ہے کیونکہ ہمارے طاقتور پڑوسی اور دشمن بھارت نے ابھی تک ہمارے آزاد وجود کو قبول نہیں کیا ہے اور ہر وقت ہمیں نقصان پہنچانے کے اور بین الاقوامی سطح پر ہمارا امیج خراب کرنے کے لیے کوٸی نہ کوٸی سازش کرتا رہتا ہے۔ کچھ دوسری طاقتیں بھی ہیں جو کسی نظریاتی ریاست کو اپنی سرحدوں کے قریب ترقی کرتے نہیں دیکھ سکتی ہیں ۔ پاکستان کے دشمن ہمیشہ ملک میں قومی وحدت کو کمزور کرنے اور اسے ختم کرنے کے لیے کسی نہ کسی موقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔ ہماری اہم ضرورت ایک قوم کے طور پر اپنے اتحاد کو مضبوط بنانا ہے جس نظریے پہ علامہ اقبال نے پاکستان کا خواب دیکھا اور قاٸد اعظم نے اس خواب کو عملی جامہ پہنایا ہم سب کو بحیثیت قوم اس نظریہ پر متحد ہونا ہے تا کہ بیرونی طاقتیں ہم پہ مسلط نہ ہو سکیں ہمیں نقصان نہ پہنچا سکیں۔ مزید وقت ضائع کیے بغیر ہمیں اپنے ملک میں اسلامی نظام زندگی متعارف کرانا چاہیے کیونکہ اسلام قومی وحدت اخوت اور مساوات پیدا کرنے میں مدد کرتا ہے اسلام نے بھاٸی چارے کا ایک دوسرے سے حسن سلوک کا انسانیت کا اور بحیثیت قوم متحد ہونے کا درس دیا۔ اسلام سماجی انصاف کی ضمانت دیتا ہے اور کسی بھی قسم کی تفریق یا امتیازی سلوک کی اجازت نہیں دیتا۔ اسلام نے معاشرے کے ہر فرد کو حقوق دیے ہیں۔ اقلیتوں کو تحفظ دیا ہے ۔ اسلام معاشرے میں عدل وانصاف کا ضامن ہے۔
    اقبال رح نے فرمایا تھا: کہ ہر فرد ملت کے مقدر کا ستارہ ہے💫 ۔ ہمیں اپنے اند بحیثیت قوم اتفاق اور بھاٸی چارے کی فضاء قاٸم کرنی ہے جو وطن عزیز کی بقا اور ترقی کے لیے بہت ضروری ہے۔
    اس کے علاوہ ہمیں پاکستان میں جمہوریت اور نمائندہ حکومت کی کامیابی کے لیے ہم لوگوں کو حکومت کے معاملات میں شرکت کا احساس دلا کر انہیں محب وطن بنا سکتے ہیں پاکستان کے مساٸل کو حل کرنا یا اسکی ترقی صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں ہم سب کو بھی مل جل کر اس کی فلاح و بہبود کے لیے کردار ادا کرنا ہو گا کرپشن ، رشوت ، بدعنوانی کا خاتمہ کرنا ہو گا۔
    علاقائی مسائل کو مرکزی حکومت کی مداخلت کے بغیر آزادانہ طور پر حل کرنا چاہیے۔ زبان اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اسے تعلیم کا ذریعہ بنایا جائے ۔ ہماری زبان ہماری شناخت ہے اور ایک دوسرے تک اپنا پیغام پہنچانے کا بہترین زریعہ ہے ۔
    مختلف صوبوں کے درمیان تجارتی اور سفری سہولیات بھی مہیا کی جائیں پریس ، سوشل میڈیااور ٹیلی ویژن بھی لوگوں کے نقطہ نظر کو ڈھالنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ اگر ہم ملک میں حقیقی معنوں میں قومی وحدت پیدا کریں گے تو ہم اپنے ملک کی سالمیت کے لیے ہر چیلنج کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ آپس میں اتحاد و اتفاق قاٸم کرو گے تو تمام دشمنوں کو زیر کر سکو گے اور ترقی یافتہ قوم بن کے ابھرو گے مگر اگر آپس میں ہی الجھ جاٶ گے تو دشمن تمہیں نقصان پہنچاۓ گا ۔ہم سب اس ملت کے کے مقدر کا ستارا ہیں ایک قوم ہیں متحد رہیں تا کہ وطن عزیز مزید مضبوط ہو 😇
    شمسہ بتول
    @sbwords7

  • چھ ماہ کے مولود بچے کا فیصلہ تحریر: احسان الحق

    مدینے میں ایک عورت کے ہاں شادی کے محض 6 ماہ بعد بچے کی پیدائش ہوئی حالانکہ عموماً شادی کے 9 ماہ بعد یا کم سے کم 7 ماہ بعد خواتین بچوں کو جنم دیتی ہیں. بچے کی پیدائش کا سن کر لوگوں نے چہ میگوئیاں شروع کر دیں کہ 6 ماہ کے حمل کے بعد بچہ کیسے پیدا ہو سکتا ہے. اسی وجہ سے لوگوں نے شک کرنا شروع کر دیا کہ یہ عورت حقوق زوجیت میں خیانت کی مرتکب ہوئی ہے. لوگوں نے الزامات لگانا شروع کر دئیے کہ یہ بچہ اس کے شوہر کا نہیں بلکہ یہ بچہ شادی سے پہلے کا ہے.

    امیرالمؤمنین خلیفہ ثانی حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کے پاس اس عورت کا مقدمہ پہنچا تو آپ نے ملزمہ کو طلب فرماتے ہوئے اس پر مقدمہ چلانے کے بعد رجم کرنے کی سزا کا حکم صادر فرمایا. دربار خلافت میں امیرالمؤمنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہہ بھی موجود تھے. آپ حضرت علیؓ خلیفہ ثانی حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کے قاضی کے عہدے پر تھے. آپ نے امیرالمؤمنین کے عورت کو رجم کرنے کے فیصلے سے مخالفت کرتے ہوئے فرمایا کہ

    "یہ عورت قابل سرزنش نہیں ہے. اس کے خلاف رجم کی سزا درست نہیں. اگر تم لوگ صرف اس لئے عورت کو گناہ گار سمجھ رہے ہو کہ بچہ شادی کے 6 ماہ بعد پیدا ہوا ہے تو اس وجہ سے عورت قابل سزا نہیں اور نہ ہی اس عورت پر یہ الزام عائد ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے شوہر کے حق میں مخلص نہیں ہے. یہ بچہ عورت کے شوہر کا ہے”

    حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کا جواب سن کر لوگ تعجب کا شکار ہو گئے اور پوچھنے لگے کہ کیسے؟

    آپ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہہ نے  سورہ "احقاف” کی آیت نمبر 15 کی تلاوت کرتے ہوئے لوگوں بتایا کہ

    "عورت کے حمل کا اور بچے کو دودھ چھڑانے کا عمل 30 ماہ کا ہے” (الاحقاف15)

    مطلب حمل اور رضاعت کی پوری مدت 30 ماہ یعنی 2 سال اور 6 ماہ ہے.

    اسی طرح سے سورہ بقرہ کی تلاوت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ

    "مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں” (البقرہ 233)

    حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مطابق دودھ پلانے کی مدت دو سال یعنی 24 مہینے ہے اور حمل اور رضاعت کی کل مدت 30 ماہ ہے. ان 30 مہینوں میں سے 24 مہینے دودھ پلانے کے اور 6 مہینے حمل کے ہیں. لہذٰا اگر کوئی عورت 6 ماہ میں بچے کو جنم دے تو یہ بچہ اس کے شوہر کا ہوگا اور وہ عورت قابل سرزنش نہیں ہوگی.

    حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کے علم اور آپکی ذہانت کی وجہ سے ایک عورت رجم ہوتے ہوتے بچ گئی.

    حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ  حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہہ نے مزکورہ دونوں آیات سے اور سورہ لقمان کی آیت 14 سے یہ استدلال کیا ہے کہ وضع حمل کی کم سے کم مدت 6 ماہ ہے. 6 ماہ کے حمل کے بعد بچے کی پیدائش پر عورت کی سرزنش نہیں کی جاسکتی. حضرت علیؓ کا استنباط صحیح اور قوی ہے. اس دلیل اور رائے سے امیرالمؤمنین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہہ اور دیگر اصحابِ رسولﷺ نے اتفاق کیا ہے.

    سلف صالحین کا یہ دستور تھا کہ نوعیت مسئلہ سمجھنے کے بعد اجتہاد کی بنیاد پر فیصلہ کرتے. اگر ان کے فیصلے کے خلاف قرآن مجید کی کوئی آیت یا حدیث پیش کی جاتی تو وہ فوراً اپنے فیصلے پر اللہ اور اس کے رسولﷺ کے فیصلے کو ترجیح دینے میں بالکل پس و پیش نہیں کرتے تھے. مذکورہ بالا واقعہ اس حوالے سے بہترین مثال ہے.

    @mian_ihsaan