Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • تمباکو نوشی تحریر: صلاح الدین

    تمباکو نوشی تحریر: صلاح الدین

    دنیا  بھر میں سب زیادہ تعداد میں فروخت ہونے والی اشیاء میں سے ایک سگریٹ بھی ہے۔تمباکو نوشی کی عادت بعد میں دیگر منشّیات مثلاً چرس ، ہیروئن ، شیشہ وغیرہ کے استعمال کا سبب بن جاتی ہے۔ یعنی سگریٹ نوشی باقی منشیات کی جانب پہلا قدم کہلائی جا سکتی ہے۔

    روزانہ سینکڑوں لوگ تمباکو نوشی کی لت میں مبتلا ہوتے ہیں اور سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ یہ وبا ہماری نوجوان نسل کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔

    نوجوان کسی بھی ملک اور قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں، ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے شروع سے ہی ان پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ مغربی ممالک میں سکول سے ہی نوجوانوں کو تمباکو نوشی کے مضر اثرات کے بارے میں آگاہی دی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ وہ ممالک کافی حد تک تمباکو نوشی پر قابو پانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

    تمباکو نوشی پھیپھڑوں کے انتہائی مضر ہے, تمباکو نوشی سے سانس لینے میں دشواری، کھانسی اور دمہ جیسی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں جو کہ آگے جا کر انسانی زندگی کے خاتمے کا سبب بھی بنتی ہیں۔ تمباکو نوشی کی وجہ سے دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ بھی رہتا ہے عام لوگوں کے مقابلے میں تمباکو نوشی لوگوں کو دل کا دورہ پڑنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

    تمباکو نوشی کی وجہ سے تمباکو نوش تو متاثر ہوتے ہی ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس کے ساتھ رہنے والے لوگ بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ خاص طور پر تمباکو کے دھوئیں سے بچے بہت متاثر ہوتے ہیں ان میں دمہ اور دوسری متعدی بیماریوں کے پھیلنے کا خدشہ رہتا ہے۔

    تمباکو نوشی کرنے والے افراد کو سوچنا چاہیے انکی اس بری عادت کا ان کی صحت پر تو برا اثر ہوتا ہی ہے اس کے ساتھ اس کے عزیز بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ تمباکو نوش افراد کو چاہیے جتنا جلدی ممکن ہو اس بری عادت سے چھٹکارا حاصل کریں۔

    حکومتی سطح پر تمباکو نوشی کے مضر اثرات کی جانب سے کوئی خاص آگہی مہم نہیں شروع کی گئی جس سے اس وبا کو کم کرنے میں کوئی مدد مل سکے۔ اس لیے انسداد تمباکو نوشی کی مہم چلانی چاہیے جس میں معاشرے کے سب طبقات، می ڈیا وغیرہ کو بھی بھر پور حصہ لینا چاہیے۔ سکول اور کالج کے نصاب میں انسداد تمباکو نوشی کے متعلق مضمون ہونا چاہیے جس میں تمباکو نوشی کے مضر اثرات کے بارے میں مکمل آگاہی ہو تاکہ انہیں شروع سے ہی تمباکو نوشی جیسی بری عادت سے دور رکھا جا سکے۔ 

    بسوں، مارکیٹس، دفاتر اور عوامی جگہوں پر تمباکو نوشی کی سختی سے ممانعت ہو تاکہ اردگرد کے لوگوں کو تمباکو کے دھوئیں سے محفوظ بنایا جا سکے اور جو کوئی اس پر عمل نہ کرے تو اس کو جرمانہ اور قید کی سزا ہونی چاہیے۔ 

    سماجی رابطوں کی مختلف ایپس ٹویٹر، فیس بک اور انسٹاگرام وغیرہ پر بھی تمباکو نوشی کے خلاف بہترین مہم چلائی جا سکتی ہے اس لیے آئیے ہم سب مل کر عہد کریں کہ ہم اپنے ملک سے تمباکو نوشی کی وبا کو کم کرنے میں اپنی پوری کوشش کریں گے۔

  • نفسیاتی دباو   تحریر : تعمیر حسین

    نفسیاتی دباو تحریر : تعمیر حسین

    زندگی میں کوئ نا کوئ واقع ایسا رونماں ہوتا ہے جس سے انسان ڈپریشن کا مریض بن جاتا ہے اس کو نفسیاتی بیماری کہا جاتا ہے کیونکہ اس بیماری کا زیادہ اثر دماغ پہ پڑتا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ  جسمانی کمزوری بھی ہونے لگتی ہےنفسیات ۔۔۔

    نفسیات ایک ایسی بیماری ہے جو انسان کو ماضی سے نہیں نکلنے دیتی ایک نفسیاتی انسان تلخ ہونے کے ساتھ ساتھ الگ تھلک رہنے لگتا ہے اسکو یہی لگتا ہے میں الگ دنیا کا ہوں مجھے کوئ سمجھ نہیں سکتا اور ہوتا بھی ایسے ہی ہے ایسے انسان کو ہم سمجھنے کے بجائے اور تکلیف دیتے ہیں اور وہ مزید تلخ ہوتا جاتا ہے

    ایسا انسان توجہ کے ساتھ پیار چاہتا ہے انسان کو نفسیاتی بنانے میں اس کے اردگرد کا ماحول اور وہ لوگ شامل ہوتے ہیں جن سے وہ جوڑا ہوا ہوتا ہے سوشل میڈیا کے تعلقات انسان کو  نفسیاتی بنانے میں سب سے پہلے ہے وقت گزاری سے کہیں لوگوں کی زندگیاں برباد ہوگئ عارضی تعلقات دکھ کا باعث بن کے انسان کو روحانی طور پہ ختم کررہے ہیں

    دوسروں کو تکلیف دینا دل آزاری کرنا ہمارا مذہب اسلام نہیں سیکھاتا دوسروں کو محبتوں کے جال میں پھنسانا  اور کسی کا ناجائز فائدہ اٹھانا 

    کیا یہ جائز ہے؟؟ جو ہر کوئ اس راہ پہ گامزن ہورہا ہے ہمارا مستقبل یہ تو نہیں تھا کہ اپنوں کی بربادی کا خود ہی سبب بنے خدارا ہوش کیجیے دوسروں کو عزت دیجیے استعمال نا کیجئے نفساتی بنانے اور کسی کو زندہ مار دینے میں کوئ فرق نہیں کسی کا دل دکھانے کی کوئ معافی نہیں

    ایک نفسیاتی انسان یا تو خاموش ہوجاتا ہے یا پھر مختصر جواب دینے لگتا ہے وہ اپنی الگ دنیا میں رہنے لگتا ہے اسکو کسی سے لگاو نہیں رہتا نا وہ اپنا صیح خیال رکھ پاتاہے نا کھانے پینے کی اسکو خبر ہوتی ہے اور نا روز مرہ کے  کاموں پہ توجہ دے  پاتا ہے تنہا رہنے لگتا ہے اور کمتری کا شکار ہوجاتا ہے 

    اور مایوسی میں جینے لگتا ہے 

    ایسے انسان کو کسی دوسرے کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے ڈپریشن کا علاج باتوں سے بھی کیا جاسکتا ہےوہ یہی چاہتا ہے  کوئ اسکے سنے اور سمجھے 

    وقت سب سے زیادہ قیمتی ہے دوسروں کو اچھا وقت دے انکے کام ائے اور نفسیاتی انسان پاگل نہیں ہوتا لہذا اس کو سمجھنے کی کوشش کریں اور دوسروں کے لیے ذہنی سکون کا باعث بنے اور سوشل میڈیا کے تعلقات سے پرہیز کیا جائے کیونکہ ہر کوئ اپنی اصل شناخت سے موجود نہیں ہوتا ایک انسان کے سو نام اور پہچان بنی ہوتی ہے اور مختلف چہروں میں چھپا ہوا ہوتا ہے اور سوشل میڈیا پہ ویسے بھی ہر کوئ نیک پرہیزگار بنا ہوتا ہے لازمی نہیں حقیقت میں وہ ویسا ہی ہو جیسا وہ ثابت کر رہا ہو خوشیار رہے خود کو ایسے لوگوں سے بچا کے رکھے جو اپکو ذہنی طور پہ بیمار کر دے اپنا خیال رکھا جائے  اور خود کو کاموں میں مصروف رکھے تاکہ اکیلا پن ڈپریشن کی بیماری میں مبتلا نا کرے 

    تلخ ہونا کوئ عداوت نہیں 

    مٹھاس میں زہر پوشیدہ نا ہو
             

    Official Twitter Account ‎@J_Tameer

  • دفاعِ پاکستان _ تجدیدِ ایمان تحریر بینیش عباس

    دفاعِ پاکستان _ تجدیدِ ایمان تحریر بینیش عباس

    حُبُّ الْوَطَنِ مِنَ الْاِیْمَانِ "وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے”

    بچپن سے پڑھتے سنتے جوان ہوئے اس مشہور مقولے کو صحت کے اعتبار سے نبی ﷺ سے منسوب نہ بھی کیا جائے تو آپ ﷺ کی وطن سے محبت بہت سے مقامات پر عیاں ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے مکہ مکرمہ کو چھوڑ کر ہجرت کی تو شہر مکہ کو مخاطب کرکے یہ الفاظ ارشاد فرمائے، جو ترمذی شریف میں موجود ہیں "اے مکہ! تو کتنا پیارا شہر ہے، تو مجھے کس قدر محبوب ہے، اگر میری قوم مجھے تجھ سے نہ نکالتی تو میں تیرے سوا کسی دوسرے مقام پر سکونت اختیار نہ کرتا” معلوم ہوا کہ اپنے شہر، صوبے اور مُلک سے محبت ایک فطری جذبہ ہے جو شرعاً بھی پسندیدہ ہے۔

    آج فیملی میں بیٹھے ایک انتہائی پیارے اور قریبی رشتے سے یہ بحث ہو گئی کہ "شادی کے شروع دنوں میں ہی بیوی کی بات مان کر کسی یورپی ملک میں سیٹل ہو جاتا تو آج پانچ سالہ جڑواں بچے بھی یورپ نیشنل ہوتے بروقت فیصلہ نہ کرنے اور اولاد کو پرسکون زندگی سے دور رکھ کر ان کا مستقبل داو پر لگا دیا” وطن اور جھنڈے کی حرمت پہ قربان مجھ جیسے آشفتہ سر کو بات دل سے رُلا گئی، میں نے کہا کہ حاجی صاحب اللہ کی دنیا کی سیر کرنے کی حد تک تو ٹھیک لیکن اپنے وطن جیسا تو کچھ بھی نہیں ہے، تم اچھی زندگی کا حق رکھتے ہو، لیکن اپنی جوانی کے 30-40 سال دشتِ غیر میں سکون سے گزارنے کے بعد آخر وہ کیا چیز ہے جو بیماری زدہ وجود کو وطن واپس آنے پہ مجبور کرتی ہے؟ وہ کونسی گیدڑ سنگی ہے جو لاشوں اور تہذیب سے عاری جوان اولاد کو وطن واپس کھینچ لاتی ہے؟ تو حاجی صاحب کہنے لگے وہ بے وقوف ہوتے ہیں جو ایسے فیصلے کرتے ہیں، لاش کا کیا ہے کہیں بھی دبا دو میں اولاد کا مستقبل کبھی داوء پر نہیں لگاوں گا۔ اور اس مسقتبل کو محفوظ کرنے کے لئے وہ حاجی صاحب جنہوں نے ساری جوانی باپ دادا کی وراثت شدہ مال پہ گزاری اب 41 سالہ عمر میں تن من سے انگریزی سیکھنے پہ لگے ہیں کہ زبان کا مسئلہ نہ ہو کہ بہرحال سال کے اندر اندر سویڈن یا کسی بھی دوسرے یورپی ملک کا ورک پرمٹ لے کر یہاں سے نکلنا ہے۔ اس ساری بحث میں آوازیں اونچی بھی ہوئیں اور رشتے کا احترام بھی پسِ پشت ڈالا گیا، دل بھی رویا کہ یہ ہیں وہ لوگ جن کی پرسکون نیندوں کے لئے ہزاروں جوان اپنی راتیں قربان کرتے ہیں، سینکڑوں خاندانوں کے اثاتے اپنی جان دے کر دن کا سکون قائم رکھتے ہیں۔ میرے بس میں ہو تو ان جیسوں کی لاشیں وصول کرنے سے بھی انکار کر دوں کہ یہ بھی غداری ہی ایک شکل ہے۔

    یاد کریں لیبیا، شام، ایران، عراق کو۔۔۔ اور سوچیں دوسروں کی عطا کردہ زندگی کسی بھی سرزمین پر بھلا کیسے سکون دے سکتی ہے؟اسرائیل کی مثال سامنے ہے انسانیت دشمن ممالک کسیے کسی پرسکون زندگی کی ضمانت ہو سکتے ہیں؟ زیادہ پرانی بات نہیں افغانستان سے امریکہ کا حالیہ انخلاء ہم سب کے سامنے ہے کہ کس طرح لوگوں نے اچھی زندگی کے ڈھونگ( بروقت ضرورت امریکی مقاصد کے لئے استعمال) میں آ کر کیسے بزرگوں اور بڑوں اور بچوں نے کوششیں نہیں کی، کس طرح جہازوں سے لاشیں گریں اور ابھی ہفتہ بھی نہیں گزرا کہ افغان کیمپوں میں موجود لوگوں کو خوراک کی کمی اور بنیادی ضرورت کے مسائل کے انبار تلے دبا دیا، شکایت کرنے والوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ یہ زندگی ان کا ذاتی انتخاب تھا۔

    ہر بیرونِ ملک مقیم پاکستانی کا کردار بھی ایک جیسا نہیں، ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو خاندان اور وطن کی خاطر دیارِ غیر میں اپنی زندگی کاٹ دیتے ہیں کہ اولاد کو اسی ملک میں روشن مستقبل دے سکیں، قرضے میں ڈوبا ملک غیر ملکی معاشی تسلط سے باہر آ سکے یقین جانیں ان کی یہ زندگی جہاد سے کم نہیں ان کو ممتاز کرنے والی چیز بھی ان کی وطن سے محبت و وفاداری ہی ہے۔ جن کو یہ ملک پاکستان پسند نہیں وہ بصد شوق اپنے اثاثے اور خاندان سمیٹ کر کسی بھی دوسری جگہ جا کر اپنی زندگی گزارنے میں آزاد ہیں لیکن پھر ایسوں کی لاشیں بھی ہم لینے سے انکار کرتے ہیں یہ وطنِ عزیز قبرستان نہیں ہے کہ ایسی لاشوں کے لئے خون دے کر اس کی سالمیت کو تو قائم نہیں رکھا ہوا۔

    صد شکر کہ اللہ نے وطن سے محبت و وفاداری کو دل میں ایمان کی طرح غیر مشروط ہی رکھا، پرودگارا دعا کرتی ہوں ان لوگوں میں سے اٹھانا جو وطن کی حرمت کے لئے دل، دماغ، قلم، جان و مال اپنے ذاتی مفاد و آرام کو پس پشت ڈال کر قربان کرتے ہیں کہ یہ عزت یہ مقام سب کے حصے میں نہیں آتا۔ آمین۔ اس دفاع کے دن آئیے عہد کریں خود سے کہ اپنی اولادوں کو مال اور دین کی طرح وفا و حب الوطنی بھی وراثت میں دیں گے۔

    ‎@BetaGirl__

  • دفاع” پارٹ اوّل تحریر : اے ار کے

    دفاع” پارٹ اوّل تحریر : اے ار کے

     
    یومِ دفاع ہر سال 6 ستمبر کو  پاک بھارت جنگ 1965ء میں افواج پاکستان کی فتح   ، دفاعی کارکردگی اور قربانیوں کی یاد میں منایا جاتا ہے۔
    اس کا مقصد پاکستان کے دفاع اور عسکری طاقت کو مضبوط کرنے کی یاددہانی ہے تا کہ ہر آنے والے دن میں کسی بھی حملے سے بطریق ءاحسن نمٹا جا سکے
    اس دن سکول کالجز اور جامعات کے علاوہ سرکاری دفاتر میں6ستمبر 1965کی پاک بھارت جنگ کے شہداء اور غازیوں کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے اور بھارت کے اس حملے کی پسپائی کا تذکرہ کیا جاتا ہے جس میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا،
    ہر پاکستانی اپنی فوج کے دفاع پر فخر کرتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ پاک فوج ہر محاذ پر سرخرو ہے،
    6ستمبر 1965ء کا دن عسکری اعتبار سے تاریخ عالم میں کبھی نہ بھولنے والا قابلِ فخردن ہے جب کئی گنا بڑے ملک نے افرادی تعداد میں کئی گنا زیادہ لشکر اور دفاعی وسائل کے ساتھ اپنے چھوٹے سے پڑوسی ملک پر کسی اعلان کے بغیر رات کے اندھیرے میں فوجی حملہ کر دیا۔ اس چھوٹے مگر غیور اور متحد ملک نے اپنے دشمن کے جنگی حملہ کا اس پامردی اور جانثاری سے مقابلہ کیا کہ دشمن کے سارے عزائم خاک میں مل گئے۔ بین الاقوامی سطح پر بھی اسے شرمندگی اٹھانا پڑی۔ جارحیت کرنے والا وہ بڑا ملک ہندوستان اور غیور و متحد چھوٹا ملک پاکستان ہے
    1965ء کی ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہونے والی اس جنگ میں ثابت ہوا کہ جنگیں ریاستی عوام اور فوج متحد ہو کر ہی لڑتی اور جیت سکتی ہیں۔ پاکستانی قوم نے اپنے ملک سے محبت اور مسلح افواج کی پیشہ وارانہ مہارت اورجانثاری کے جرأت مندانہ جذبے نے ملکر نا ممکن کو ممکن بنا کر دکھایا،
    پاکستان پر1965ء میں ہندوستان کی طرف سے جنگ کا تھوپا جانا پاکستانی قوم کے ریاستی نصب العین دوقومی نظریہ،قومی اتحاد اور حب الوطنی کو بہت بڑا چیلنج تھا۔ جسے جری قوم نے کمال و قار اور بے مثال جذبہ حریت سے قبول کیا اور لازوال قربانیوں کی مثال پیش کر کے زندہ قوم ہونے کاثبوت دیا۔ دوران جنگ ہر پاکستانی کو ایک ہی فکر تھی کہ اُسے دشمن کا سامنا کرنا اور کامیابی پانا ہے۔جنگ کے دوران نہ تو جوانوں کی نظریں دشمن کی نفری اور عسکریت طاقت پر تھی اور نہ پاکستانی عوام کا دشمن کو شکت دینے کے سوا کوئی اورمقصد تھا۔ تمام پاکستانی میدان جنگ میں کود پڑے تھے۔اساتذہ، طلبہ، شاعر، ادیب، فنکار، گلوکار ، ڈاکٹرز، سول ڈیفنس کے رضا کار ،مزدور،کسان اور ذرائع ابلاغ سب کی ایک ہی دھن اور آواز تھی کہ” اے مرد مجاہد جاگ ذرا اب وقت شہادت ہے آیا”ستمبر 1965ء کی جنگ کا ہمہ پہلو جائز لینے سے ایک حقیقی اور گہری خوشی محسوس ہوتی ہے کہ وسائل نہ ہونے کے باوجود اتنے بڑے اور ہر لحاظ سے مضبوط ہندوستان کے مقابلے میں چھوٹے سے پاکستان نے وہ کون سا عنصر اورجذبہ تھا، جس نے پوری قوم کو ایک سیسہ پلائی ہوئی نا قابل عبور دیوار میں بدل دیا تھا۔ مثلاً ہندوستان اور پاکستان کی مشترکہ سرحد”رن آف کچھ” پر طے شدہ قضیہ کو ہندوستان نے بلا جواز زندہ کیا فوجی تصادم کے نتیجہ میں ہزیمت اٹھائی تو یہ اعلان کر دیا کہ آئندہ ہندوستان پاکستان کے ساتھ جنگ کے لیے اپنی پسند کا محاذ منتخب کرے گا اس کے باوجود پاکستان نے ہندوستان سے ملحقہ سرحدوں پر کوئی جارحانہ اقدام نہ کیے تھے۔ صرف اپنی مسلح افواج کومعمول سے زیادہ الرٹ کررکھا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ چھ ستمبر کی صبح جب ہندوستان نے حملہ کیا تو آناً فاناً ساری قوم، فوجی جوان اور افسر سارے سرکاری ملازمین جاگ کر اپنے اپنے فرائض کی ادائیگی میں مصروف گئے۔ صدر مملکت فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے ایمان فروز اور جذبۂ مرد حجاہد سے لبریزقوم سے خطاب کی وجہ سے ملک اللہ اکبر پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اُٹھا۔فیلڈ مارشل ایوب خان کے اس جملے”پاکستانیو! اٹھو لا الہ الا اللہ کا ورد کرتے ہوئے آگے بڑھو اوردشمن کو بتا دو کہ اس نے کس قوم کو للکارا”ان کے اس خطاب نے قوم کے اندر گویا بجلیاں بھردی تھیں۔ پاکستان آرمی نے ہر محاذ پر دشمن کی جارحیت اور پیش قدمی کو حب الوطنی کے جذبے اورپیشہ وارانہ مہارتوں سے روکا ہی نہیں، انہیں پسپا ہونے پر بھی مجبور کر دیا تھا۔ ہندوستانی فوج کے کمانڈر انچیف نے اپنے ساتھیوں سے کہا تھا کہ وہ لاہور کے جم خانہ میں شام کو شراب کی محفل سجائیں گے۔ ہماری مسلح افواج نے جواب میں کمانڈر انچیف کے منہ پر وہ طمانچے جڑے کہ وہ مرتے دم تک منہ چھپاتا پھرا۔ لاہور کے سیکٹر کو میجر عزیز بھٹی جیسے سپوتوں نے سنبھالا، جان دے دی مگر وطن کی زمین پر دشمن کا ناپاک قدم قبول نہ کیا۔

    جاری۔۔۔۔

    ٹویٹر ہینڈل :@chalakiyan 

  • ٹویٹر پہ فالورز بڑھانے کا انتہائی آسان طریقہ تحریر:محمد عمران خان

    میں کافی عرصے سے ٹویٹر استعمال کر رہا ہوں شروع میں تو مجھے بالکل ٹویٹر کا کچھ خاص علم نہیں تھا پھر آہستہ آہستہ سب چیزیں سمجھ آنا شروع ہو گئیں۔ میں اپنے فالورز کو بڑھانے کیلئے کافی کوشش کرتا رہتا تھا مگر ہر کوشش ناکام ہو جاتی ۔
    کئ بار فالورز بڑھانے کیلئے لوگوں نے فالورز لسٹوں میں بھی شامل کیا مگر زیادہ فائدہ نہیں ہوا۔ میں بہت لوگوں کو فالو کر لیتا تھا مگر زیادہ تر لوگ فالو بیک نہیں دیتے تھے۔ ایک دن غصے میں میں نے چند لوگوں کو چھوڑ کر اکثر کو انفالو کر دیا۔ پھر میری فالونگ لسٹ، میری فالورز لسٹ سے بہت کم ہو گئ۔ یعنی اب میرے فالورز زیادہ تھے اور میں نے کم لوگوں کو فالو کر رکھا تھا باقیوں کو انفالو کر دیا۔ پھر آہستہ آہستہ خود ہی فالورز آنا شروع ہو گئے اور میں صرف انہیں فالو بیک دیتا گیا ۔
    میں نے نئے لوگوں کو جو میرے فالورز نہیں تھے انہیں فالو کرنا چھوڑ دیا، صرف جو فالو کرتا اسے فالو بیک کر دیتا یہ سلسلہ چلتا رہا جو کہ ابھی تک یہ سلسلہ جاری ہے۔ اور میرے فالورز گواہ ہیں کہ اب الحمداللہ ایک ہفتے میں کم از کم میرے 1000 فالورز آجاتے ہیں ۔
    تو میں آپ سب کو فالورز بڑھانے کیلئے بہت آسان طریقہ بتاتا ہوں، سب سے پہلے تو آپ فالونگ لسٹ میں جائیں اور تمام ان لوگوں کو انفالو کرتے جائیں جنہوں نے آپکو فالو بیک نہیں کیا ہوا ۔ مثال کے طور اگر آپ کے فالورز 500 ہیں اور فالونگ لسٹ میں آپ نے 1500 لوگوں کو فالو کر رکھا ہے تو سب کو انفالو کر دیں۔ اب اگر آپ کے پاس 500 فالورز ہیں تو فالونگ لسٹ میں 450 لوگ ہونے چاہئیں۔ یعنی فالورز زیادہ ہوں اور فالونگ کم ہو ۔
    پھر آپ کو جو لوگ فالو کریں انہیں بروقت فالو بیک کرتے جائیں ۔
    اور اپنے اکاونٹ سے اچھے اچھے ٹویٹس کریں لیکن روزانہ ٹویٹس لازمی کریں ۔ فالورز تب آتے ہیں جب ٹائم لائن پہ آپکا کوئی ٹویٹ نظر آتا ہے ۔ جب آپ کوئی ٹویٹ ہی نہیں کریں گے تو آپ کسی کی بھی ٹائم لائن پر دکھائی نہیں دیں گے، جب کہیں نام و نشان نہیں ہوگا تو آپکو لوگ فالو کیسے کریں گے؟
    لہذا فالورز بڑھانے والی لسٹوں سے جان چھڑوائیں اور خود اپنے اکاونٹ سے کچھ نہ کچھ ٹویٹ کرتے رہا کریں ۔ چوبیس گھنٹوں میں کم از کم 10 ٹویٹس ضرور کیا کریں ۔ پھر آپ کے پاس اتنے فالورز آئیں گے کہ آپ فالو بیک کرتے کرتے تھک جائیں گے ۔
    اب کچھ لوگ سوچ رہے ہوں گے کہ ہم فالونگ لسٹ کیسے کم کریں مثلا 500 فالورز ہیں تو فالونگ بھی تو 500 ہوگی نا ، جی ہاں آپ ٹھیک ہیں مگر تھوڑی سی مزید محنت کر لیں کہ کچھ فالورز کی پروفائل کا چکر لگا لیں ، بہت سارے لوگ ملیں گے جنہوں نے فحش تصاویر، فحاش ویڈیوز شئیر کی ہوتی ہیں اگر شئیر نہیں کی ہوتی تو لائک کی ہوتی ہیں، یا یہ چیز نہ ملے تو ایک اور چیز ضرور ملے گی وہ یہ کہ اکثر لوگوں نے پاک فوج کے خلاف ٹویٹس کیے ہوتے ہیں، ریاست مخالف ٹویٹ شئیر کیے ہوتے ہیں یا لائک کیے ہوتے ہیں، انہیں فورا انفالو کریں ۔ ہم اور نہیں تو کم از کم انہیں فالو نہ کرکے انکی حوصلہ شکنی ضرور کر سکتے ہیں ۔ اکثر لوگوں نے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا ٹویٹس میں حصہ لیا ہوتا ہے، انکو بے نقاب کریں اور فورا انفالو کریں، اچھے لوگوں کو فالونگ لسٹ میں رہنے دیں باقی صاف کر دیں ۔

    ان شاء اللہ میری باتوں پہ غور کر کے عمل کرنے سے تمام دوستوں کو فائدہ ہوگا ۔
    اللہ تعالی ہم سب کو سوشل میڈیا اچھے کاموں میں استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
    پاکستان زندہ باد
    @Imran1Khaan

  • ۔۔سگریٹ نوشی        جان کی دشمن تحریر فرزانہ شریف

    ۔۔سگریٹ نوشی جان کی دشمن تحریر فرزانہ شریف

    آپ نے اکثر دیکھا ہوگا جس گھر میں سگریٹ کے عادی لوگ رہتے ہیں ان کے گھر کے در و دیوار میں بھی سگریٹ کی ناخوش گوار سی مہک رچی بسی ہوگی کہ طبعیت پر خوشگوار سا اثر محسوس ہورہا ہوتا ہے لیکن ایک انسان کی اس عادت سے باقی پورا گھر بھی اس زہر کا شکار ہورہا ہوتا ہے۔۔
    جو لوگ اپنے خاندان سے پیار کرتے ہیں وہ اس بری لت سے چھٹکارا پا لیتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ سگریٹ کا دھواں نہ صرف سگریٹ کے عادی بندے کے متاثر کررہا ہوتا ہے بلکہ اپنے پیاروں میں بھی یہ زہر لاشعوری طور پر بانٹ رہا ہوتا ہے جس سے انسان کے پھیپھڑے سب سے پہلے متاثر ہوتے ہیں اس کے بعد اس کو گلے کا کینسر بھی ہوجاتا ہے اور یہ کینسر لا علاج بیماری ہے ۔تو سوچتی ہوں کہ یہ کیسا اپنی فیملی سے پیار ہے کہ اپنے چند منٹس کے سکون کی خاطر اپنے پیاروں میں کینسر جیسی خوفناک بیماری بانٹ رہا ہوتا ہے وہ انسان جیسے نہ اپنی جان کی پرواہ نہ اپنے خاندان کی ۔۔میں تو اسے پھر بے حسی ہی کہوں گی کہ ایک تو کینسر جیسی بیماری اوپر سے پیسے کا ضیاع ۔
    میں نے اکثر لوگوں کو مہنگے ترین سگریٹ لیکر پیتے دیکھا ہے اورسوچتی ہوں اس بندے کی سوچ پر کہ کیا وہ یہ سمجھتا ہے اس سے وہ پھیپھڑوں کے کینسر سے بچ جائے گا نہیں ۔۔بےشک آپ مہنگے سگریٹ لے کر پئیں یا سستے اس نے آپکو اندر سے مکمل کھوکھلا کردینا ہے ۔اس سے ہڈیاں کمزور ہونی شروع ہوجاتی ہیں کہ ایک وقت آتا ہے کہ آپ کو تھوڑی سی بھی کہیں سے ٹھوکر لگ جائے تو ہڈی ٹوٹنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے کیونکہ انسانی جسم کی ہڈی اندر سے کھوکھلی ہوچکی ہوتی ہے اسی طرح دل کے مریضوں کے لیے سگریٹ نوشی بہت نقصان دہ ہوتی ہے۔اس سے خون گاڑھا ہو جاتا ہے اور آہستہ آہستہ انسان اس سٹیج پر پہنچ جاتا ہے جہاں سے واپسی ناممکن ہوجاتی ہے ہارٹ اٹیک ہونے کے خطرناک خطرات حد سے ذیادہ بڑھ جاتے ہیں کہ انسان خدانخواستہ موت کی وادی میں پہنچ جاتا ہے سوچیں آپکی ذندگی آپکی فیملی کے لیے کتنی ایم ہے کیا آپ اپنی فیملی کو آنسوووں کا تحفہ دینا پسند کریں گے جن سے آپ خود بےحد پیار کرتے ہیں ۔۔
    سگریٹ پینے والے کے دماغ کی حسیں آہستہ آہستہ کام کرنی چھوڑنے لگ جاتی ہیں کیونکہ سگریٹ کے تمباکو میں موجود نکوٹین ہمارے دماغ کے اس حصے کو کنٹرول کر لیتا ہے جس کے ذریعہ ہم سوچ بچار کرتے ہیں اور ذندگی کےفیصلے کرتے ہیں۔ جب نکوٹین دماغ تک پہنچتی ہے تو پھر لاشعوری طور پر انسان بار بار سگریٹ پینے لگ جاتا ہے

    اگر اسے بروقت سگریٹ نہ ملے تو وہ عادی نشئی جیسی حالت میں چلا جاتا ہے انتہائی چڑچڑاپن ۔روکھا پن اس کی طبعیت میں میں شامل ہوجاتا ہے جس سے اکثر گھریلو مسائل جنم لیتے ہیں گھر میں لڑائی جھگڑے بےسکونی جیسی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے ۔۔!!
    میں نے آج تک کسی سگریٹ پینے والے کے دانت سفید نہیں دیکھے۔عجب سے بد نما پیلے سے دانت ۔۔
    ایسے دانت نہ صرف دیکھنے میں برےلگتے ہیں بلکہ جبڑوں اور دانتوں کی جڑوں میں پیلا سا پتھر نما ٹارسا جم جاتا ہے جو ان کو بہت کمزور بنا دیتا ہے۔ کہ آہستہ آہستہ انسان کے دانت بھی ختم ہوجاتے ہیں اور وہ وقت سے پہلے بوڑھا نظر آنے لگ جاتا ہے ۔
    پاکستان بلکہ پوری دنیا میں سگریٹ کی ڈبی پر کینسر ذدہ ہونٹ کی تصویر چھاپ کر وزارت صحت اپنا فرض ادا کردیتے ہیں بس جسے لوگ ڈر ہی تو جائیں گے ۔یہ لوگ ایک قسم کے نشے کے عادی ہوچکے ہیں جی ہاں نشے کہ عادی وہ اسطرح کی انسان کو نشہ نہ ملے وہ تڑپنا شروع ہوجاتا ہے اس کی عزت نفس ختم ہوکر رہ جاتی ہے سیم اسی طرح عادی سگریٹ نوش کو بھی اس کا نشہ نہ ملے تو پھر وہ بھی آوٹ آف کنٹرول ہوجاتا ہے اسے کھانے کے لیے روٹی ملے یا نہ ملے لیکن سگریٹ ضرور ملے ایسی حالت ہوجاتی ہے سگریٹ نوش کی کہ بعض اوقات اسے اپنی عزت نفس کا بھی سودا کرنا پڑ جاتا ہے ۔۔
    حکومت وقت کو اس کی روک تھام کے لیے کوئی عملی قدم اٹھانا چاہئیے صرف سگریٹ کی ڈبی پر کینسر کی تصویر لگا کر اپنا فرض پورا نہ کرے سگریٹ مہنگے کرے اور لوگوں کی عام کھانے پینے کی چیزیں سستی کرے کہ عام عوام بھی سکون سے جی سکیں ۔۔
    سگریٹ نوشی اور تمباکو نوشی کی روک تھام کے لیے باغی ٹی وی نے ٹھوس اقدامات اٹھائے ہیں عوام کو اگہائی مہم شروع کرکے ۔۔ مبشر لقمان ۔جناب ممتاز حیدر اعوان اور ان کی ٹیم کو سرخ سلام جو معاشرے میں اس زہر کے خلاف دن رات اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں دوسرے ٹی وی چینلز کوبھی باغی ٹی وی کو فالو کرنا چاہئیے تاکہ معاشرے میں اس ناسور کی تقسیم سے روکا جاسکے اس کے لیے انفرادی طور پر ہر انسان کو بھی اپنا حصہ ڈالنا چاہئیے ۔۔
    اللہ میرے وطن کو شاد آباد رکھے ہر قسم کی آفات سے بچا کررکھے اللہ میرے ملک کی عوام کو اتنا شعور عطا فرما دے اپنا اچھا برا سمجھنے کی صلاحیت عطا فرما دے کہ ہر وہ کام کرے جو اس کے لیے اس کی فیملی کے لیے اس کے ملک کے لیے سود مند ہو ۔۔آمین

  • علم ایک طاقت ہے تحریر: عاصمہ قریشی

    علم ایک طاقت ہے تحریر: عاصمہ قریشی

     اس جملے کے مختلف ورژن ثقافتوں کیساتھ زمانے بھر میں موجود ہے۔ 10 ویں صدی میں فقرہ کی تاریخ کے پہلے ورژن، جیسے نہج البلاگہ میں:

     "علم طاقت ہے اور یہ اطاعت کا حکم دے سکتا ہے،”

     یا پھر فارسی شاعر فردوسی کے الفاظ:

     "قابل وہ ہے جو عقلمند ہے۔”

     بائبل کتاب میں ایک عبرانی جملہ ہے جس کا تقریبا ایک ہی ترجمہ کیا گیا تھا۔ مثال کے طور پر لاطینی میں سب سے پہلے:

     "ور ساپاانس اٹ فورٹاس ایسٹ اٹ ور دوکٹوس روبسٹوس اٹ والادو،”

     اور پھر انگریزی بادشاہ جیمز بائبل مثال کے طور پر:

     "ایک عقلمند آدمی مضبوط ہے، علم آدمی کی طاقت میں اضافہ کرتا ہے۔”

     علم طاقت کا مطلب یہ ہے کہ کسی شخص کو اس علم کا استعمال کرتے ہوئے اپنی زندگی پر تعلیم اور مکمل کنٹرول ہے. تعلیم یافتہ افراد زندگی میں چیزوں کو آسانی سے سنبھال سکتے ہیں۔ علم سب سے مضبوط ذریعہ ہے جو لوگوں کو طاقت فراہم کرتا ہے اور علم کو زمین پر کسی اور طاقت سے شکست نہیں دی جاسکتی ہے۔ ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ، علم ایک ایسے شخص کو طاقت دیتا ہے جو اپنے حقوق کی جنگ لڑتا ہے اور دنیا کا مقابلہ کرتا ہے۔ علم نے انسان اور جانور میں فرق پیدا کیا ہے۔ انسانوں کا جسمانی طاقت میں جانوروں سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا لیکن، انسان صرف علم کی طاقت کی وجہ سے زمین پر سب سے طاقتور مخلوق رہا ہے۔ انسان جسمانی طاقت میں جانوروں سے کمزور ہے. انسان علم سے قوت حاصل کرتا ہے اور جسمانی قوت پر انحصار نہیں کرتا۔ انسان زمین پر بہت تیز اور سمجھ دار مخلوق ہے کیونکہ وہ اپنے علم، تحقیق اور تجربات سے دنیا کو بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    علم انسان کو یہ جاننے کی طاقت دیتا ہے کہ فطرت کی قوتوں کو کس طرح کنٹرول کرنا ہے اور فوائد حاصل کرنے کے لئے ان کا استعمال کرنا ہے۔ علم حاصل کرنا ہماری زندگی کا اہم حصہ ہے۔ علم کے ذریعے ہم صحیح اور غلط، اچھا یا برا کے درمیان فرق کرنے کے قابل ہیں۔ علم ہماری مستقبل کی منصوبہ بندی میں ہماری مدد کرتا ہے اور ہمیں صحیح راستے پر گامزن کرتا ہے۔ اس سے ہمیں اپنی کمزوریوں، غلطیوں پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ زندگی میں مشکلات کا سامنا کرنے اور ان پر جلد از جلد قابو پانے میں بھی مدد ملتی ہے۔ علم انسان کو زندگی میں ذہنی اور اخلاقی ترقی دے کر زیادہ طاقتور بناتا ہے۔ معاشرے اور ملک میں مثبت تبدیلیاں لانے کے لئے علم ایک نہایت اہم ذریعہ ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ علم ہی کامیابی اور خوشی کا ستون ہے۔ اس لیے ہمیں علم حاصل کرنا چاہیے اور ایمانداری سے کام کرنا چاہیے اور اپنے معاشرے کو برائی سے بچانا چاہیے مختصر یہ کہ علم لوگوں کو لڑائی جھگڑوں اور دیگر معاشرتی برائیوں سے دور رکھ کر معاشرے میں امن قائم رکھتا ہے۔

    سیاہ طرز میموری مٹانے والا چھڑی قسم کی صورتحال میں ایک مرد کی کمی، میں ایسی صورتحال کا تصور نہیں کرسکتا جہاں کوئی آپ سے آپ کا علم لے سکے۔

     یہاں تک کہ اگر باقی سب کچھ آپ سے، اپنے مال، آپ کی سماجی حیثیت، یا آپ کی صحت کی طرح لیا گیا تھا -آپ اب بھی آپ کو آپ کو یاد کرنے کا انتظام کر سکتے ہیں کہ سیکھا ہے تمام معلومات پڑے گا۔

    دراصل، اگر آپ نے اس طرح کے بدترین صورت حال کو برداشت کیا تو آپ شاید اس سے زیادہ علم کے ساتھ ختم ہوجائیں گے۔ حکمت بھی، یقینی طور پر۔ جو مجھے میرے اگلے نکتے پر لاتا ہے:

     یہ بہترین چاندی کی پرت ہے

     اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ آپ کی زندگی میں مکمل طور پر پاگل گڑبڑ چیزیں کم ہوجاتی ہیں، آپ تجربے کے لئے سمجھدار ہوں گے۔

     اگر اس مخصوص لمحے میں چیزیں خوفناک ہیں تو، آپ کم از کم اس حقیقت میں راحت حاصل کرسکتے ہیں کہ آپ کو یہ تسلی انعام کے طور پر ہوگی۔ کبھی کبھی یہ بھی اس سے زیادہ سے زیادہ اضافہ کرنے کے لئے بھی جاتا ہے -صرف ایک خلاصہ زندگی میں شرکت کی ٹرافی کے بجائے کچھ حد تک مفید ہے.

    آپ کو یہ معلوم کرنا ختم ہوسکتا ہے کہ آپ نے جو کچھ سیکھا وہ اس سے کہیں زیادہ قیمتی تھا جس کے بارے میں آپ نے سوچا کہ آپ کھو گئے ہیں، یا فیصلہ کریں کہ آپ جو بھی تکلیف سے گزرے وہ اس کے قابل تھا جس کے بارے میں آپ کو اپنے بارے میں یا زندگی کے بارے میں معلوم ہوا۔

     یہ ہمیں آزاد کرتا ہے

     علم ہمیں دنیا میں زندہ رہنے اور پنپنے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔ یہ آزادی ہے، اور آپ کے اندر آزادی کے بغیر حقیقی طاقت نہیں ہے.

    مزید علم ہمیں بہتر طور پر فیصلے کرنے کے قابل بناتا ہے، نیز اس منطقی اور اخلاقی بنیادوں کا فیصلہ کرنا ہے جس پر ہم اپنے فیصلے کر رہے ہیں۔

     علم اور حکمت ہمیں بہتر انتخاب کرنے میں مدد کرتی ہے. جب ہم بہتر انتخاب کرتے ہیں تو ہم خود کا زیادہ احترام کرتے ہیں، اور جب ہم خود کا زیادہ احترام کرتے ہیں تو، ہم بہتر انتخاب جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ سائیکل طاقتور ہے۔

     جب یہ واضح ہوجائے کہ ہم اپنی عزت کرتے ہیں تو دوسرے بھی ہماری زیادہ عزت کرنے آتے ہیں جو بے حد طاقتور بھی ہے۔

     اس بات سے انکار نہیں ہے کہ علم طاقت ہے -لیکن یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے

     بڑی طاقت کے ساتھ بڑی ذمہ داری آتی ہے.

     کبھی بھی سیکھنے سے باز نہ آئیں، اور اپنی طاقتوں کو اچھے کام کے لئے استعمال کرنا یاد رکھیں۔

    Twitter ID: ‎@AQsmt2

  • ادھورے خط  تحریر : محمّد اسحاق بیگ

    ادھورے خط تحریر : محمّد اسحاق بیگ

    السلام علیکم!

    آج گرمی اپنے شباب پر ہے اپنے تمام تر جاہ و جاللال کے ساتھ ، گرم کر دینے کے عمل سے ، گرمی کی اتنی شدت اور میرا بوائلر  روم سب سے گرم ہے۔ اتنی شدید گرمی میں میرا بوائلر  روم جہنم کا ایک گوشہ معلوم ہوتا ہے ۔اور جب بوائلر  روم کے اندر جانا پڑتا ہے تو گرمی کی شدت میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔اور پسینہ آنا شروع ہو جاتا ہے۔جسے  پچلھے سال کیمسٹری لیب میں کیمسٹری کے پریکٹیکل کرنے میں آتا تھا ۔

      اتنی گرمی کے باوجود لیب کوٹ پہننا ضروری ہوتا لیب کوٹ جلتی ہوئی گیس جلاتی ہوئی دھوپ اور لیب کی بند کھڑکیاں ،لڑکیوں کے لال ہوتے سرخ سیب کی طرح رخسار ،ماتھوں پر بالوں کا لٹ کی صورت میں ٹھہر  جانا کتنا بھلا لگتا تھا۔

      مجے یہاں کی گرمی دیکھ کر وہ سب یاد أگیا

      کیمسٹری لیب، فزکس لیب ( Y) بس کا سفر،  اور تم  لوگوں کو بہت گرمی محسوس ہوتی تھی اور  مجے مزہ آتا تھا   یہاں بھی لوگوں کو گرمی محسوس ہوتی ہے اور میں لطف اندوز ہوتا ہوں کیونک میری فطرت  میں گرمی سردی ،خزاں، بہار ہر  موسم لطف اندوز ہونے کی عادت ہے۔

      

    ١٩مَی 1993ء

    اوپر کی سطور میں تقریبا” ١٥ دن پہلے لکھ چکا ہوں ۔١٨ مئی کو تمہارا خط مجے ملا حالات سے اگاہی ہوئی میں تم لوگوں کے خطوط کا ہی انتظار کر رہا تھا اسد کا رویہ قابلٔ افسوس تھا کہ اس نے خط تم لوگوں کو تک نہ پہنچاۓ۔

     تمہارا خط مجے مل گیا تھا۔ افسوس ہے کہ تم نے پنسل سے لکھا ہے خط لکھنے کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں۔ خط لکھنا ایک مہذب  کام ہے تم لوگ کب اپنا آپ مکمل کرو گے توقیر ، تم سب جتنے بھی ہو میرے حلقہ احباب  میں ، کام  میں اپنی زندگی کے  اصل رخ دیکھنا جانتے ہو کیا اسا ممکن نہیں ہے کہ میں اپنے ملنے والوں سے تم دوستوں کی تعریف کرتا ہوں ممکن ہے ان کو لگتا  ہو کہ میرے دوست عام راستوں پر چلنے کے عادی نہیں ہیں۔ اور تم لوگ ہو کہ کوئی نہ کوئی ایسی حرکت کر جاتے ہو  جس سے میری ناک چڑھ کر ماتھے سے جا لگتی ہے۔ بھلا سوچو میری چڑھی ہوئی ناک دیکھ لاہور والے کیا  سوچیں  گے۔ 

     کچھ تو خیال کرو خیر چھوڑو ان باتوں کو کہیں ایسا نہ ہو کہ خط اپنی باتوں کی نذر  ہو جاۓ۔

    ہاں میں پنجاب کا رہنے والا پنجاب کا پنجابی ہوں  مجے اکثر جامعہ ملیہ کالج کا  کلاس روم پریکٹیکل  لیب یاد آتا ہے۔خاص طور پر ان گرمیوں  میں جو آج کل لاہور پر مسلط ہے ۔

     پچھلے سال کراچی میں بھی  شدید گرمی تھی۔اندازہ پریکٹیکل کرنے کے دوران یا  Y بس کا سفر کرنے  پر ہوتا تھا۔یا چند  جو ہماری کلاس میں گوری چٹی لڑکیوں کے سرخ ہوتے ہوۓ گالوں کو دیکھ کر اندازہ ہوتا تھا۔

    یہ وہ باتیں ہیں جو میں اکثر یہاں اپنے بوائلر  روم میں بیٹھ کر سوچتا ہوں کیونکہ یہاں سوچنے اور لکھنے کے علاوہ کچھ اور کام نہیں ہوتا عجیب نوکری ہے پندرہ دن ہو گئے ہیں ،آتا ہوں ، سوچتا ہوں شام چار بجے گھر کے لئے روانہ ہو جاتا ہوں۔اور  رات گئے تک آوارہ گردی کرتا ہوں اور صبح پھر ڈیوٹی پر آ کر سو جاتا ہوں۔

    ویسے مجھے یہ اپنی ڈیوٹی بہت اچھی لگتی ہے۔کیونکہ اس ڈیوٹی کی وجہ سے میں صبح سورج کے ساتھ خواب سے حقیقت کی طرف طلوع ہوتا ہوں۔یعنی صبح ٥ بجے اور مغرب کی طرف جاتی رات دیکھتا ہوں۔اور مشرق سے دبے پاؤں آتی  خوشگوار صبح دیکھتا ہوں۔جب میں پہلی بار اٹھا تو کچھ پہر انکشاب ہوا کہ سورج میرے گھر سے تقریبا ایک میل کے فاصلے پر رہتا ہے۔

    رات تمہارا خط ملا اور آج میری ماں نے دو پراٹھے اور آلو ٹماٹر کے ساتھ بھون کر مجھے دیے لے بیٹھ جا۔دوپہر جب بھوک لگے تو باہر سے کھانے کی بجائے یہ کھانا۔میں نے کھایا۔مجھے انڈوں کا صفر یاد آیا۔میں آپ ہی آپ مسکرا پڑا۔پھر تمہیں خط کا جواب دینے بیٹھ گیا۔

    پرسوں والے دن مجھے بتانا جب رزلٹ آئے ، اور پرسوں والا  دن ہمارے کالج کی چھت پر رہتا  ہے۔تمہیں اتنا نہیں پتا تمہاری غفلت پر افسوس ہے لیکن نظر بہت کم لوگوں کو آتا ہے۔پرنسپل کو نظر آتا ہے۔یا اسحاق  کو۔ پنسل  سے لکھنے والوں کو تو بالکل نظر نہیں آتا۔اور نہ ہی انگلش ٹیچر کو نظر آتا ہے۔اور کل ٹیکنیکل کالج کی چھت پر رہتا ہے۔ اور سورج میرے گھر سے ایک میل کے فاصلے پر ہے۔

    آہ یہ چیزیں تمھیں نظر نہیں آیئں گیں ۔

    آ تجھے میں گنگنانا چاہتا ہوں۔

    اچھے اور پیارے لڑکے۔

    اؤ چند لمحوں ، چند سالوں ، چند صدیوں کے لئے میرے پاس آؤ۔

    میرے قریب بیٹھو

    میں تمہیں کچھ سمجھاؤں میں تمہں ایک سچی اور کھڑی لیہ پر لگاؤں۔اور تم سمجو گے ان حقیقتوں کو جو بہت  اکلیت میں ہیں۔جن تک ہر دور میں چند انسان پہنچ پاتے ہیں ۔ سب زندہ ہیں ، سب مردے ہیں مرے ہوۓ۔ آؤ پیارے میرے پاس بیٹھو۔تم محسوس کرو گے جو مر چکے ہیں۔وہ موجود ہیں۔اور جو زندہ ہیں۔وہ کہی چلے گئے ہیں جو مر جاتے ہیں وہ اپنے وجود میں آ جاتے ہیں۔اور زندہ غائب ہو جاتے ہیں۔ہا۔ہا۔ہا۔تم نہ سمجھ پاؤ گے۔کیونکہ تم محض ایک سایہ کی طرح زندگی گزار رہے ہو۔جو ہوتا ہے لیکن  کچھ نہیں کرتا۔

    تم کیا کرتے ہو؟کیا کیا ہےآج تک؟ جو گزر گۓ وہ کچھ کر گۓ۔ جو کچھ گزار رہے ہیں وہ بھی کچھ نہ کچھ کر رہے ہیں۔اور تم_____۔

    تم کو اپنی ذات کا نہیں پتہ__ محض ایک ساۓ کی طرح زندگی گزار رہے ہو۔آؤ ۔ گھبراؤ مت۔اٹھ کھڑے ہو۔ابھی سفر بہت لمبا ہے۔اور کھٹن۔اور تم مسافر۔

    اب تک ان راستوں پر چلتے آۓ ہو۔جو پامال ہو چکے ہیں۔جن پر کتنے ہی انسان محض کیڑے مکوڑے کی طرح سفر کرتے ہیں۔اور تم بھی ان میں محض ایک کیڑے کی حیثیت رکھتے ہو۔

    اب بھی وقت ہے۔چھوڑو ان پامال راستوں کو۔آو۔ ادھر آؤ ۔اس وحشت میں۔پر منظر جنگل میں۔اس وادی میں۔نیلی جھیل کے کنارے۔جہاں کئی  انسان کے قدم اب تک نہیں پہنچ سکے ۔  آؤ سفر اب بھی طویل ہے۔ اور بالکل اجنبی۔نئ راہوں کی تلاش میں نکل کھڑے ہو۔عام انسانوں کی صف میں سے نکل آؤ ۔پھر دیکھو تم کو یہ انسان محض سایوں کی طرح نظر آئے گے۔اور سائے کی کیا حقیقت ہوتی ہے؟

    گرمی نے تو ناک میں دم کر رکھا ہے لیکن میں ___

    سب کنٹین کی طرف جا رہے  ہیں کھانے کے لئے میں بھی جاؤں گا اب کچھ ہی دیر بعد۔شہتوت کی چھاؤں میں شیخ کے ہاتھ کی پکی ہوئی روٹی کھاؤں گا۔شہتوت کی چھاوں بہت سکون بخش ہے۔کھانے کے بعد ٹھنڈا پانی ‏پیؤنگا۔سکون سے آنکھیں بند کروں گا گرمی سے پیاری کوئل کی صدا سنوں  گا۔چڑیوں کی چوں ۔چوں اور کوؤں کی کائیں کائیں۔

     سورج جادوگر ہے پیارے۔

      

     @Ishaqbaig___

     

  • تھائی لینڈ کی سیر  حصہ دوم تحریر محمد آصف شفیق

    تھائی لینڈ کی سیر  حصہ دوم تحریر محمد آصف شفیق

     

    تھکے ہارے پیدل چلتے چلتے  گوگل میپ  کے سہارے ہوٹل تلاش کرنے میں کامیاب ہوگیا    ہوٹل کے کاونٹر پر موجود عملے نے مسکراتے چہروں سے استقبال کیا  اور ریزرویشن کی  تفاصیل  طلب کی ہم نے بھی سب کچھ موبائل میں ہی  رکھا ہوا تھا  آنے کا مقصد پوچھا  بتا یا بزنس ٹرپ  ہے تو  آو بھگت میں کچھ زیادہ اضافہ  محسوس کیا  ٹھنڈا پانی پیش کیا گیا اور ہال میں موجود  صوفے پر  بیٹھنے اور  کچھ  دیر انتظار کا کہا گیا 

    یہا ں  پہنچ کر پتا  چلا کہ چیک آوٹ کا وقت   دو بجے ہے اور  کمرہ تیار کرکے واپس ہمیں  چار بجے   تک ملے  گا  یعنی  پورے  چار گھنٹے  ہال میں  صوفہ پر  بیٹھ کا  چپ چاپ انتظار کرنا ہوگا کہ کب  چار بجیں  اور کب  ہمیں  اپنا کمرہ ملے    ، موسم وہاں کا کافی  گرم  تھا  اور ہوا میں  نمی کی وجہ سے  اے سی ہال  سے  باہر نکلتے  ہی پسینے  چھوٹنے  لگتے  میں نے بھی   صوفہ پر ہی دراز ہونامناسب سمجھا اور خاموشی سے   اپنی  باری کا انتظار شروع کردیا

    چار بجنے سے  پورے دس منٹ پہلے کمال  مہربانی کرتے ہوئے عملے نے   کارڈ تھما دیا اورہم نے  بھی لفٹ کی  راہ لی سارا ہی نظام ڈیجیٹل  تھا ہم  نے بھی پہلی بار کسی اچھے ہوٹل میں  رہائش  رکھی  تھی  لفٹ کھول لی مگر دو تین بار مختلف  بٹن  دبانے کے  بعد بھی جب  کچھ  نہ بنا تو چارو ناچار  باہر کھڑے  سیکیورٹی  گارڈ کو بتایا کہ بھائی  ساتویں  فلور پر کس طرح جائیں  اس نے  بھی کمال بے نیازی سے میرا کارڈ  لیا اور سینسر کے آگے کر کارڈ واپس کر کے  باہر نکل  گیا  تو ہمیں سمجھ آئی  کہ بھائی  آئندہ  یہ کرشماتی  کارڈ ہی کام  آئے گا ہر جگہ   ، ہوٹل کا محل وقوع بہت اچھا تھا   مین  بازار  صرف دس پندرہ منٹ میں  پیدل  جایا  جا سکتا تھا

      کراچی سے بینکاک مسلسل  پانچ گھنٹے کی نان سٹاپ فلائٹ اور موسم کی خرابی کی وجہ سے سارا راستہ بیلٹ باندھ  کر  گزارنے اور  ناہموار فلائٹ نے ٹھیک  ٹھاک  تھکا دیا تھا  اور اتر کر جیسے ہی  نیٹ کی سم لے لر موبائل اون کیا تو کراچی  اوبر پر سفر جو کہ تین  سو میں تھا اور اس ظالم نے تیرہ سو لے لئے  اس کی ای میل موصول ہونے سے تھکن  میں اضافہ ہو گیا  سب سے پہلے  گھر والوں کو خیریت سے پہنچنے  کی  خبر دی اور چینج کرکے  سونے کی تیاری  کی   ، ہر بندے میں اچھی  بری عادات  ہوتی ہیں  مجھ میں بھی ہیں  پینٹ شیلٹ کا استعمال صرف  دفتر اور سفر میں ہی کرتاہوں باقی اوقات میں  شلوار قمیض  پہننا ہی معمول وہاں پہنچ کر سب سے پہلے  قومی لباس پہنا اور  سو گئے  

    اچھا خاصا سونے کے بعد بھوک نے تنگ کیا تو چاروناچار  اٹھے نہا کر فریش ہوکر تیاری  کرنا چاہی کپڑے استری کرنے کیلئے ہیلپ لائن پر کال کی تو  فوراً ہی استری مہیا کردی گئی  کپڑے استری کئے  اور  اپنے پرانے تجربے کی روشنی میں ہوٹل  کی لوکیشن  ویٹس ایپ پر شئر کر لی  تاکہ  بوقت ضرورت کام آسکے پہلے   بھی ایک دفعہ سیر کو نکلے تھے تو ہوٹل کا راستہ بھول گئے تو کافی دوڑ دھوپ  کرنی پڑی تھی تب سے اب تک جہاں بھی جاتے ہیں  فوراً وہاں   کی لوکیشن  شئر کر لیتے ہیں  میں نے تو یہ معمول بنا لیا ہے جہاں جائیں   احتیاطاً ایسا کرلیں   نئی  جگہ نیا ملک  اور اکثر زبان  سے  نابلد ہونا ایک  بہت بڑا مسعلہ  ہوتا ہے  بندہ نہ سمجھا سکے نہ سمجھ سکے  تو مصیبت  بن جاتی 

    آجکل  سمارٹ فون نے نماز کے اوقات اور قبلہ  کے تعین میں  کافی آسانی کردی ہے ایسی کئی  ایپلیکیشنز موجود ہے جو  بہت مناسب ہیں ان حوالوں سے آپ دنیا میں جہاں کہیں بھی  جائیں آپکو نمازوں کے اقات  اور قبلہ کی   سمت کا سہی تعین   ہوجاتا ہے   ، نماز پڑھی اور کھانے کی تلاش میں  اندرون شہر پہنچے  مگرکافی تلاش  کے بعد فیصلہ کیا کہ  کے ایف سی سرچ کیا جائے اور مچھلی والا  برگر کھا کر گزارا کر لیا جائے تو اچھا  ہے   ، کچھ پیسے  میں   کراچی سے احتیاطاً تبدیل کروا کر تھائی کرنسی ساتھ لے گیا تھا مگر جس چیز نے وہاں سب  سے زیادہ  ساتھ دیا وہ  سعودیہ کا  کریڈٹ کارڈ  تھا جب چاہیں  جہاں  چاہیں استعمال کرلیں  جو بھائی  بہن  سیر کو جانا چاہیں میں انہیں  کہوں گا کہ سب کے پہلے کریڈٹ کارڈ  ضرور بنوائیں آجکل تو پاکستان میں بھی  کم و بیش سب  بینک یہ سہولت  دے  رہے  ہیں  مگر اس  حوالے سے فیصل بینک  بہت  اچھا ہے اس  کے ڈیبٹ کارڈ کو آ پ  کریڈٹ کارڈ کی طرح استعمال کر سکتے ہیں  جس کا تجرنہ میں نے بھی کیا  جب آخری ایام میں پیسے ختم ہوگئے تو میں نے  وہاں  سے  لوکل کرنسی  نکلوائی 

    پہلا دن تھا  کھانا کھا کر واپس ہوٹل آکر پھر سونے کو ہی ترجیح  دی  اگلے  دن صبح صبح اٹھ  کر شہر کا دورہ شروع کیا  تو پتا چلا کہ کراچی ہی نہیں  بلکہ  یہاں پر بھی دکانیں  دیر سے  کھلتی ہیں ناشتہ کیلئے  ایک شامی  ہوٹل والا مل گیا عربی  جاننے کی وجہ سے کافی آسانی ہو گئی وہ بھی خوش ہوگیا کہ چلو کوئی تو عربی بولنے سمجھنے والا آیا    اس طرح ہم نے اپنی سیر کا آغاز کیا  یہاں کی ساحلی پٹی دیکھنے کے قابل ہے  بہترین  لوکیشنز بہترین انتظامات   اور کم خرچ میں آپ  بھر پور سیر کر سکتے ہیں سیر و تفریح کیلئے آنے والوں میں بھارت اور سعودیہ کے افراد زیادہ نظر آئے  باقیوں  کی نسبت

    اب کچھ دن گزار کر ہم بھی راستوں سے مانوس ہوگئے تھے  اس لئے اپنی مرضی کاکھانا بھی مل رہا تھا اور مختلف مالز اور بڑی بڑی مارکیٹیں بھی گھوم  رہے تھے  بڑے بڑے  مالز اور مارکیٹوں کے لاسٹ فلور پر فوڑ سٹریٹ کا رواج یہاں  بھی ہے  کسی بھی بڑی مارکیٹ کے لاسٹ فلور پر جائیں تو فاسٹ فوڈ کے ساتھ ساتھ روائیتی  کھانا بھی آسانی سے مل  جاتا ہے  یہ سب  باتیں  کورونا کی  وبا سے  پہلے کی ہیں  اب کی صورتحال تو وہاں جانے والے ہی بتا پائیں  گے

    کپڑے  کے تھری پیس سوٹس سستے اور معیاری مل جاتے ہیں ان پر انڈین سرداروں کی اجارہ داری ہے ہر  دکان میں آپ کو انڈین سردار ہی ملیں  گے بڑے ہنس مکھ اور تعاون کرنے والے آپ  اپنی مرضی اور پسند کا کپڑہ  سلیکٹ کرلیں  درزی دکانوں میں ہی موجود  ہیں  اسی وقت سلائی کر دیتے  ہیں ،  اس کام کو فائدہ مند پایا اور بلیوں کی خوراک کے حوالے سے بھی آپ وہاں سے پاکستان لاکر فروخت کر سکتے ہیں

    بہر حال کچھ دن گزار کر واپسی کی راہ لی  سعودیہ سے صرف ایک ماہ کی چھٹی تھی اس دوران کئی اور کام بھی کرنے ہوتے  ہیں  واپسی ہوٹل والوں نے  صبح ہی آگاہ کر دیا کہ آپ جلد ہوٹل چھوڑ دیں  تو اچھاہے  ساتھ پوچھ بھی لیا کہ ٹیکسی منگوا دیں آپ کو   میں نے شکریہ ادا کیا کہ نہیں میں خود چلا جاوں  گا  ہوٹل سے میٹرو اسٹیشن  تک پیدل پہنچے میٹرو پینچ کر ائرپورٹ کا  ٹکٹ لیا اور اس طرح سستی میٹرو کا فائدہ اٹھاتے ہوئے     ائر پورٹ وقت سے پہلے پہنچ گئے  بورڈنگ کیلئے آٹو میٹک مشینیں  لگی ہیں ہم نے بھی اپنا بورڈنگ پاس اشو کیا اور  ویٹنگ لاونج  میں جانے سے  پہلے  پھر سے  امیگریشن والے آپ کے پاسپورٹ کو سٹیمپ بھی کرتے ہیں اور جو پیپر وہاں پہنچنے پر بھرا  تھا وہ بھی مانگتے ہیں  ہم نے وہ پیپر تعویز کی طرح سنبھال رکھا تھا چار پانچ تہیں کھول کر پیش کردیا  امیگریشن آفیسر نے مسکرا کر وصول کیا تو سمجھ گیا کہ میری طرح دوسرے پاکستانی بھی شاید ایسا ہی کرتے ہوں  ، جو بھی  بیرون ملک سیر کو کم خرچ میں جانا چاہے اس کیلئے  تھائی لینڈ اچھی جگہ ہے 

    @mmasief

     

  • سیگریٹ نوشی ایک لعنت ہے اسکو کیسے روکیں  تحریر    اکرام اللہ نسیم

    سیگریٹ نوشی ایک لعنت ہے اسکو کیسے روکیں تحریر    اکرام اللہ نسیم

    پاکستان کے طول وعرض میں سیگریٹ نوشی انتہائی درجے تک بڑھ گئی تقریبا ہر دوکان پر سیگریٹ با آسانی سے مل جاتا ہے یوں سمجھیں موت کا سامان ہر دوکان پر باآسانی مل جاتا ہے 

     چھوٹا ہو یا بڑا سیگریٹ نوشی کو صحت کے لیے نقصان دہ نہیں سمجھتا بس جب من کیا سیگریٹ نکالا جلایا بغیر کسی ٹینشن کے سیگریٹ نوشی کی اور چل دئیے

    اب اس لعنت سے لوگوں کو بچانے کے لئے کون کون سی ترکیبوں کو عمل میں لاکر لوگوں کو اس لعنت سے بچائیں

    سب سے پہلے اسمبلی سے سیگریٹ نوشی کے خلاف ایسا سخت قانون پاس کیا جائے تاکہ لوگ اسکے چھوڑنے پر مجبور ہو رہ جائے تاکہ عوام اس لعنت سے بچ سکیں اور لوگوں کی زندگیاں محفوظ ہوسکیں

    جب اسمبلی سے اس کے بارے میں بل پاس ہوجائے گا جب پکڑ دھکڑ شروع ہوجائے گی تو سیگریٹ نوشی میں کافی حد تک کمی آجائے گی ان شاءاللہ

    اس میں سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ دوکانداروں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے چونکہ دوکانداروں کی تعداد معلوم ہوتی ہے جب گاہک کی تعداد معلوم نہیں ہوتی لہذا ریاستی ادارے دوکانداروں کے خلاف گھیرا تنگ کرے

    ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ محلے یا بازار  کے دوکانداروں کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ اگر کسی بھی دوکاندار کے پاس سیگریٹ مل گئی یا کسی کو فروخت کرتے ہوئے پکڑا گیا اس بندے کا بائیکاٹ پورا محلہ کرے گا اور اس سے کوئی چیز بھی محلے والا نہیں خریدے گا

    نہ اسکے ساتھ کوئی تجارتی لین دین کرے گا کیونکہ یہ دوکاندار فساد کا جڑ ہے

    بعض علاقوں میں جرگے کا سسٹم رائج ہوتا ہے وہاں سیگریٹ نوشی کو روکنا اتنا مشکل نہیں ہوتا

    کیونکہ جو بات جرگے میں رکھ دی جاتی ہے پورا علاقہ پورا محلہ اس بات کی پابندی کرتا ہے

    یہ جرگہ سسٹم قبائلی علاقوں اور شمالی علاقوں میں اب بھی رائج ہے

    سیگریٹ نوشی کے روک تھام کے لئے والدین سب سے زیادہ اہم کردار ادا کرسکتے ہیں

    اگر والدین بچوں کی بچپن ہی میں ذہن سازی کریں کہ سیگریٹ کے یہ یہ نقصان ہیں اگر آپ سیگریٹ نوشی کرو گے تو آپ کے پھیپھڑے ختم ہو جائیں گے آپ سانس لینے کے قابل بھی نہیں رہیں گے 

    جب والدین بچپن سے یہی ذہن سازی کریں گے

    ممکن ہی نہیں کہ کل وہی بچہ بڑا ہو کر سیگریٹ نوشی کرے اور سیگریٹ نوشی جیسے لعنت کے ذریعے اپنے پھیپھڑوں کو نقصان پہنچائے 

    انفرادی طور پر بھی اگر آپ کا کوئی دوست بھائی سیگریٹ نوشی کے بدترین لعنت میں مبتلاء ہیں اسے ترغیب دیں اور اسکو سیگریٹ نوشی جیسے لعنت سے بچانے کے لئے اپنی قوت خرچ کریں تاکہ پاکستان کا معاشرہ سیگریٹ نوشی جیسے بدترین لعنت سے بچ سکیں

    اگر کسی سگریٹ میں اس قسم کا تمباکو ہو کہ جس سے اعضاء رئیسہ دل و دماغ وغیرہ کو سخت نقصان پہونچتا ہو تو اس کا پینا ناجائز اور سخت مکروہ ہے اگر ایسا نہ ہو تو بھی اس کا ترک بہرحال احوط و بہتر ہے سگریٹ پینا "بلا ضرورت شوقیہ پینا مکروہ ہے

    ٹویٹر اکاؤنٹ ہینڈل

    @realikramnaseem