Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • محبتوں کےاسیر(قیدی )بے آبرو تحریر:افشین

    محبتوں کےاسیر(قیدی )بے آبرو تحریر:افشین

    رشتوں کے تَقّدس کو پامال کرنا عزت دینے کے بجائے بدنام کرنا ۔
    اس دور کی نوجوان نسل یہ سمجھ نہیں پاتی کہ پیار محبت عشق ہوتا کیا ہے؟ کسی سے دو چار باتیں کر کے انکو لگتا ہے محبت ہوگئ یا کسی کی خوبصورتی، کردار ،بول چال کو دیکھ کے اس سے محبت ہوگئ ۔پیار کیا ہے محبت کیا ہے ؟ عشق کیا ہے ؟ اس احساس کو سمجھنے کے بجائے انکو ہر دوسرے تیسرے انسان میں دلچسپی ہورہی ہوتی ہے۔ دل پھینک نہیں ہونا چاہیے۔ پیار کی ایک حد ہوتی ہے ۔پیار اور محبت کا جذبہ دونوں میں واضع فرق ہے ۔ محبت جس سے ہوجائے اس انسان کو کسی سے بانٹا نہیں جا سکتا اسکی ہر ادا سے محبت ہو جاتی ہے وہ کچھ برا بھی کرے پھر بھی آپکو اچھا لگے گا ۔ آپ اسکا خیال رکھتے ہیں۔ کوشش کرتے ہیں اسکو ہر خوشی دیں۔محبت کی بھی حدود ہوتی ہیں کچھ محبتوں میں جنون بھی شامل ہوجاتا ہے اور جنونیت خطرناک ہوتی ہے ۔ محبت بھروسے کا نام ہے شک بھی بلاوجہ پیدا نہیں ہوتا تیسرا انسان دو انسانوں کے درمیان جب نظر آنے لگے اور اپنی حدود پار کر رہا ہو پھر شک بھی تب ہی پیدا ہوتا ہے کھونے کا ڈر انسان کو شک تک لے جاتا ہے محبت پاکیزہ رشتہ ہے مگر نوجوان نسل اس رشتے کو بے آبرو کر رکھا ہے۔ محبت ہے تو ملنے آجاو محبت ہے تو یہ کرو وہ کرو ناجائز کام کرواتےہیں کیا یہ محبت ہیں؟؟ نہیں یہ محبت نہیں حوس ہے یہ بات بھی درست ہے کہ محبت میں قربت خود بخود ہوجاتی ہے پر انسان خود پہ قابو رکھے اپنی محبت کو بے آبرو نا کرے ۔ محبت کے نام پہ بہت سی لڑکیوں کو بے آبرو کردیا جاتا ہے جب نکاح نہیں کرسکتے زنا بھی مت کریں ۔ یہ کیسی محبتیں ہیں؟؟ محبت تو عزت دینے کانام ہے کوشش کی جاتی ہے جس سے محبت ہو اسکو عزت دی جائے بے آبرو نا کیا جائے ۔ زمانے بھر میں محبت کو رسوا کرنے والے محبت کے طلب گار ہو ہی نہیں سکتے۔ محبت نہ تو وقت گزاری کا نام ہے نا ضرورت کا ۔لازمی نہیں جن سے محبت ہو انکو پا لیا جائے سچی محبتیں میں زیادہ ادھوری ہی دیکھی ہیں ۔ جو نہیں مل پاتے انکو میں ایکدوسرے کے نام پہ جیتے دیکھامحبت تب کرنا جب عزت دینا سیکھ جائیں نام کی محبتیں بے آبرو کر دیتی ہیں۔ محبت کے نام پہ نا جائز کام کروائے جاتے ہیں اگر آج آپ کسی کے ساتھ برا کریں گے آپ کے حصے میں بھی وہی کچھ آئےگا ۔ سوشل میڈیا کی دنیا میں بہن بھائی کے رشتے کو بھی بے آبرو کر رکھا ہے کہتے بہن ہیں پھر نیت خراب رکھتے ہیں۔ بہن کہنا مطلب گھر میں موجود بہنوں جیسی عزت دو صرف منہ سے بہن کہنے والے اور بعد میں کچھ اور کہہ دینے والے بے شرم ہوتے ہیں پاک رشتوں کو بے آبرو کرنے والے عزت دار نہیں ہوسکتے حدود میں رہنا سیکھے جس کو بہن بولا ہے اسکو دل سے عزت دیں بہن کو دوست کہنا اور پھر حدود پار کرنا ہمارا مذہب اسلام تو ایسے نہیں سیکھاتا عزت دار لڑکیوں کے لیے میرا پیغام ہے ایسے مردوں سے دور رہیں ۔ اور مرد حضرات برائے مہربانی کسی کو بے آبرو ناکریں نا محبت کے نام پہ نا کسی اور جھانسے میں ۔
    محبت کرنے والا تم سے نکاح کرے گا اگر کسی مجبوری میں یہ ممکن نہیں پھر بھی وہ تم کو بے آبرو نہیں کرے گا ۔
    ایسے مرد حضرات پہ ہرگز یقین کر کے اپنی دہلیز پار مت کرنا جن کو عزت دینا نہ آتی ہو داغ کا دھبہ عورت کے کردار پہ ہی لگتا ہے چاہے قصور ہو یا نہ ہو ۔ اپنی عزت اللّلہ کے بعد آپ کے ہاتھوں میں ہے۔کسی بھی نا محرم رشتے پہ اندھا بھروسہ کر کے خود کو نقصان نہ پہنچائیں ۔کچھ مرد حضرات آپکو بہت عزت دیں گے پھر وہی تمھاری عزت کو داغ دار کر دیں گے اکیلے ملنا حد سے زیادہ خطرناک ہے بہت سے واقعات رونماں ہوتے دیکھے ہیں عزت دینے والا کوئی نا جائز مطالبہ نہیں کرتا ۔ عورت کا ہمارے معاشرے میں محبت کرنا بھی گناہ ہے جبکہ مرد جو بھی کرئے اسکی عزت پہ داغ نہیں لگتا کیونکہ وہ مرد ہے ۔
    اسیر محبت میں نہ کر خود کو رسوا ۔ توڑ دے وہ زنجیر جس میں توں ہے جھکڑا۔
    بناصرف اسی کو توں اپنا جو سیکھائے عزت میں کیسے رکھتے ہیں مان اپنا ۔

    @Hu__rt7

  • سوشل میڈیا اور قومی ذمہ داری تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم

    سوشل میڈیا اور قومی ذمہ داری تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم

    سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان

     
    یہ بات ایک حقیقت بن چکی ہے کہ دور جدید میں سوشل میڈیا کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔بلکہ اب سوشل میڈیابعض مقامات پر کسی بھی خبر سے متعلق پہلا ذریعہ تصور کیا جانے لگا ہے۔یہاں تک کہ مین اسٹریم میڈیا اور نیوز چینلز بھی سوشل میڈیا کو بطور پرایمری سورس استعمال کرر ہے ہیں۔ زمانہ کی تبدیلیوں اور گلوبل ولیج کے تصور کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا نے معاشروں پر اپنے مثبت اور منفی دونوں طرح کے اثرات مرتب کئے ہیں۔ اس بات میں کسی قسم کے شک کی گنجائش ہی نہیں ہے کہ عالمی استعمار کی ایک کوشش یہ بھی رہی ہے کہ سوشل میڈیا سے متعلق سافٹ وئیرز اور نت نئی ایپلیکیشنز کی ایجاد کے پس پردہ مقاصد میں دنیا کی قوموں اور اذہان کو کنٹرول کرناہے۔حقیقت یہی ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعہ عالمی استعماری نظام اور قوتیں یہ چاہتی ہیں کہ دنیا کی دیگر قومیں ان کے سامنے محکوم رہیں۔عالمی استعمار کا سب سے بڑا ہدف یہی ہے کہ وہ سوشل میڈیا کو بطور آلہ یا ہتھیار استعمال کر کے یہ جاننا چاہتا ہے کہ دنیا کی دیگر اقوام کے سوچنے کا طرز کیا ہے؟ یا یہ کہ اقوام کا طرز تفکر کیا ہے اور اسے استعماری قوتیں اپنے مفادات کے لئے کس طرح تبدیل کر سکتی ہیں۔اس مقالہ میں نہ تو سوشل میڈیا کے فوائد کی لسٹ بیان کی جا سکتی ہے اور نہ ہی سوشل میڈیا کے استعمال کے نقصانات کی فہرست بیان کرنا مقصود ہے۔
    موجودہ حالات کے تناظر میں کہ جب پاکستان ایک ایسے حساس دور سے گزر رہا ہے کہ جب اندرونی اور بیرونی دشمن ہر ممکنہ کوشش کر رہے ہیں کہ کوئی موقع بھی ہاتھ سے خالی نہ جانے دیا جائے۔ ایک طرف عالمی استعمار بالخصوص امریکی نظام حکومت ہے کہ جس کا مقصد ہمیشہ سے پاکستان جیسے ممالک کو کمزور کرنا ہی رہا ہے تا کہ اس بہانے سے ہی پاکستان اور ایسے دیگر ممالک پر براہ راست فوجی تسلط یا بالواسطہ تسلط حاصل رہے۔لہذا امریکہ پاکستان کا ایک ایسادشمن ہے کہ جس نے دوست کا لباس پہن رکھا ہے۔امریکہ کے ساتھ ساتھ اس کی ناجائز اولاد اسرائیل ہے کہ جس کا نظریاتی دشمن ہی پاکستان ہے۔ اب امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ اہداف کا جائزہ لیا جائے تو دونوں کے لئے ہی پاکستان مہم ہے۔ دونوں ہی چاہتے ہیں کہ پاکستان میں ان کا اثر ونفوذ بڑھ جائے۔ ویسے تو امریکہ اور اسرائیل کے پاکستان کے خلاف کئی ایک مذموم عزائم ہیں لیکن ایک سب سے بڑا ناپاک منصوبہ جس کے لئے ہمیشہ دونوں ہی سرگرم عمل رہتے ہیں وہ مسلم دنیا میں پاکستان کی طاقتور اور باصلاحیت افواج کو کمزور کرنا ہے۔ ماضی میں لکھے گئے کئی ایک مقالہ جات میں اس کی تفصیلات بھی بیان کی جا چکی ہیں۔ امریکہ سمیت اسرائیل اور دیگر دشمن طاقتیں یہ بات اچھی طرح سے جانتی ہیں کہ کسی بھی مسلم دنیا کے مضبوط ملک کو اگر کمزور کرنا ہے یا اس کے خلاف سازش کرنا ہے تو پہلے اس کے سب سے مضبوط اور آہنی ستون یعنی فوج پرحملہ کیا جائے۔ موجودہ دور میں حملہ سے مراد کوئی فوجی اور عسکری حملہ نہیں ہے بلکہ ایسا حملہ ہے کہ جس کے ذریعہ لوگوں کے اذہان کو تبدیل کیا جائے۔لوگوں کے دلوں میں اپنے ہی وطن کی افواج اور رکھوالوں کے خلاف زہر گھول دیا جائے تا کہ جب دشمن کاری ضرب لگانے کے لئے تیاری کرے تو اس ضرب کو روکنے والی فرنٹ لائن قوت ہی ناکارہ ہو چکی ہو۔ یہی کام امریکہ اور اسرائیل سمیت ان کی حواریوں نے مسلم دنیا کے دیگر ممالک بالخصوص شام، عراق، لیبیا اور مصر سمیت دیگر ممالک میں انجام دیا اوربعد ازاں اپنے من پسند عزائم کی تکمیل کو پروان چڑھایا۔
    حالیہ دور میں دشمن اپنے اسی منصوبہ کی تکمیل کے لئے سب سے زیادہ جس ہتھیار کا استعمال کر رہاہے وہ سوشل میڈیا کا استعمال ہے۔سوشل میڈیا پر نوجوانوں ک اذہان کو خراب کرنے اور انہیں اپنے ہی ملک و قوم اور افواج کے مقابلہ پر لا کھڑا کرنے کے لئے جو ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے وہ سوشل میڈیا ہی ہے۔اسی سوشل میڈیا پر بھارت، یورپی ممالک اور کچھ عرب ممالک سے پاکستان کے خلاف بے بنیاد پراپیگنڈا کیا جاتا ہے۔ یہ منفی پراپیگنڈا ایسے اوقات میں شدت اختیار کر لیتا ہے جب ملک ک ی اندرونی سیکورٹی سے متعلق حالات تبدییل ہو رہے ہوتے ہیں۔یا اس طرح کہہ لیجئے کہ جب سیکورٹی فورسز غیر ملکی ایماء پر کام کرنے والی دہشت گرد تنظیموں اور گروہوں کے خلاف کاری ضرب لگانا شروع کرتے ہیں تو ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت سوشل میڈیا پر طوفان بد تمیزی کا آغاز کر دیا جاتا ہے۔ تحقیقات سے یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ مذہبی منافرت پھیلانے، لسانی اختالافات کو ہوادینے سمیت افواج پاکستان کے خلاف منفی اور غلیظ زبان کا استعمال کرنے میں یورپی ممالک سمیت بھارت، دبئی اور کچھ عرب ممالک سے نیٹ ورکنگ کے تانے بانے ملتے ہیں۔ بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ پاکستان کی ماضی کی حکومت ہو یا موجودہ حکومت ہو ابھی تک ملک کے اندر سوشل میڈیا کے بے دریغ استعمال کو کنٹرول کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہیں۔اس کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہے کہ جب بھی سوشل میڈیا کے بارے میں کنٹرول کرنے کی بات کی جاتی ہے تو سوشل میڈیا کے موجد مغربی ممالک سب سے پہلے پاکستان میں آزادی اظہار رائے پر حملہ جیسے نعروں کا واویلا شروع کرتے ہیں۔حالانکہ خود ان مغربی ممالک کی حالت دیکھی جائے تو وہاں سی این این جیسے خود کے نیوز چینل کو بھی بند کر دیا جاتا ہے لیکن کوئی بھی آزادی اظہار پر قد غن کا نعرہ بلند کرتا ہوا نظر نہیں آتا ہے۔
    دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر جن ممالک سے پاکستان میں آگ بھڑکانے کی سرگرمیاں نظر آتی ہیں خود ان ممالک کی حکومتوں نے اپنے ملک کی اندرونی سیکورٹی صورتحال کو بہتر رکھنے کے لئے کئی ایک رکاوٹی نظام متعارف کروا رکھے ہیں۔ خود بھارت کی بات کریں تو بھارت میں کسی بھی سوشل میڈیا کے سافٹ وئیر اور ایپلیکیشن کے ادارے کو اس وقت تک بھارت میں کام کرنے کی اجازت نہیں ہے کہ جب تک اس کمپنی کا آفس بھارت کے اندر سے کام نہ کرے اور اس کمپنی کا ایک نمائندہ بھارت میں موجود نہ ہو۔ اسی طرح عرب امارات اور سعودی عرب سمیت دیگر چند عرب ممالک میں سوشل میڈیا کے نیٹ ورک پر پابندیاں عائد ہیں۔باہر سے جانے والے مسافر یا عارضی طور پر رہائش رکھنے والے باقاعدگی سے کسی بھی طرح کا سافٹ وئیر آزادانہ استعمال نہیں کر سکتے۔
    ان تمام باتوں کا مقصد ہر گز یہ نہیں ہے کہ معاشرہ کو جدید طرز فکر س ے دور کر دیا جائے یا سوشل میڈیا کا استعمال نہ کیا جائے۔البتہ ان باتوں کو بیان کرنے کے اہم مقاصد میں سب سے پہلا مقصد یہ ہے کہ پاکستان کے نوجوان او ر ذی شعور طبقہ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے استعمال کو عاقلانہ انداز میں استعمال کرے اور نیچے دوسروں لوگوں تک اس کی ترغیب دے۔ اسی طرح ان باتوں کو بیان کرنے کا دوسرا اور سب سے اہم مقصد یہ ہے کہ حکومت پاکستان کو چاہئیے کہ سوشل میڈیا کو مادر پدر آزاد رکھنے کی بجائے اپنے قومی مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے اگر ضروری پابندیاں یا کچھ روک تھام کی ضرورت ہو تو ایسے اقدامات سے ہر گز گریز نہ کیا جائے۔دور جدید کے سیاسی نظام کا یہ تقاضہ ہے کہ ہر ملک اور ریاست اپنے قومی اور مشترکہ مفاد کے لئے ایسی پالیسیوں کو ترتیب دیتے ہیں کہ جو ریاست کے مفاد اور عوامی مفاد میں ہو۔ اس کام کے لئے اگر وقتی طور پر قانون سازی کی ضرورت بھی ہو تو سینیٹ اور قومی اسمبلی میں قانون سازی کی جائے۔ان اقدامات سے جہاں معاشرے میں بڑھتے ہوئے بگاڑ کو روکنے میں مدد حاصل ہو گی وہاں ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بہت بڑی مدد بھی ہو گی کہ جو فرنٹ لائن پر نہ صرف عسکری جہاد میں مصروف عمل ہیں بلکہ سرحدوں کے اندر بھی دشمن کی گھناؤنی سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے دن رات چوکس رہتے ہوئے خدمات انجام دیتے ہیں۔
    خلاصہ یہ ہے کہ معاشرے کی اصلاح اور عوام الناس کو با شعور کرنا ہر ذی شعور پاکستانی شہری کی قومی ذمہ داری ہے اور ہم سب کو مل کر اس قومی ذمہ داری کو انجام دینا ہو گا اور وطن عزیز کے لئے ایک روشن مستقبل کی بنیاد ڈالنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ 

  • سید علی شاہ گیلانی کی میراث؛ کشمیری نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ   تحریر: محمد اختر

    سید علی شاہ گیلانی کی میراث؛ کشمیری نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ تحریر: محمد اختر

    بزرگ حریت رہنما سید علی شاہ گیلانی 92 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ سید علی شاہ گیلانی کا انتقال ایک بہت بڑا نقصان ہے، لیکن ایک مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں پختہ یقین ہے کہ ہم سب قادر مطلق ہیں اور اسی کی طرف لوٹیں گے۔مزید یہ کہ وہ نظریہ اور مزاحمت کا نام تھا۔ حریت رہنما مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی ناجائز قبضے کے خلاف ایک نہ سمجھوتہ کرنے والا مہم جو تھے۔ آج، انہوں نے ہمیں پیچھے چھوڑ دیا، لیکن ان کی میراث کشمیر کے نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ  ہے۔ آپ دنیا کے کئی نوجوانوں سے زیادہ بہادر تھا۔ حریت رہنماسید علی شاہ گیلانی نے اپنی زندگی کا بہت بڑا حصہ گھر میں نظربندی میں گزارا، کیونکہ انہوں نے ہمیشہ بھارتی افواج کے ظلم کے خلاف آواز بلند کی۔ سید علی شاہ گیلانی کی آواز کشمیریوں کی تحریک آزادی کی علامت تھی، وہ خود ساری زندگی آزادی کے نعرے لگاتے رہے، انہوں نے نوجوانوں کے خون کو گرمایا، بھارتی افواج کو للکارتے رہے۔سید علی شاہ گیلانی اب ہمارے درمیان نہیں ہیں، لیکن انہوں نے نوجوان نسل کو آزادی اور جوش کا جو پیغام دیا ہے وہ کشمیری نوجوانوں کی رگوں میں رہے گا۔ تحریک آزادی کی جو فصل آپ نے بوئی ہے وہ کشمیریوں کی آئندہ نسلوں کے لیے آزادی کا پھل ضرور لائے گی۔سید علی شاہ گیلانی بلند حوصلہ، عزم، آزادی سے محبت اور آزادی کی قدر کو سمجھنے والے انسان تھے۔ انہیں دیکھ کر کبھی ایسا نہیں لگتا تھا کہ وہ بوڑھے ہیں،اُنکی آنکھوں میں ہمیشہ آزادی کی چمک دیکھی گئی۔وہ واقعی ایک تاریخی شخصیت تھے۔ 14 اگست 2020 کو حکومت پاکستان نے انہیں مقبوضہ جموں وکشمیر کے مظلوم عوام کے لیے ان کی قابل ذکر خدمات اور قربانیوں کے اعتراف میں ملک کے اعلیٰ ترین سول اعزاز ”نشانِ پاکستان” سے نوازا۔سید علی شاہ گیلانی کو بھارتی فوج نے بارہا حراست میں لیا اور زندگی کا ایک طویل عرصہ نظر بند رکھا۔، لیکن پھر بھی بھارت کے یہ اوچھے ہتکھنڈ ے ان کی آواز کو خاموش نہیں کر سکے، ان کی سوچ کو محدود نہیں کر سکے، ان کے خیالات کو بھی قید نہیں کر سکے، اور نا ہی آزادی کے جذبہ کی سختی کو کم کر سکے۔ آج،سید علی شاہ گیلانی دم توڑ چُکے ہیں،مگر اُن کی وفات نے کشمیریوں کی تحریک آزادی میں زندگی کا ایک نیا باب شروع کر دیا ہے۔سید علی شاہ گیلانی 29 ستمبر 1929 کو پیدا ہوئے۔ وہ جماعت اسلامی مقبوضہ جموں و کشمیر کے رکن بھی رہے۔ بعدازاں انہوں نے تحریک حریت کے نام سے اپنی پارٹی بنائی۔وہ کُل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین بھی رہے۔ انہیں ہمیشہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی قبضے کا مضبوط مخالف اور مظلوم کشمیریوں کی طاقتور آواز سمجھا جاتا تھا۔ انہیں کشمیریوں کی تحریک آزادی کا روشن چہرہ اور آزادی کی حقیقی آواز سمجھا جاتا تھا۔سید علی شاہ گیلانی نے اپنی پوری زندگی جدوجہد آزادی میں صَرف کی۔ سید علی شاہ گیلانی کشمیر کو پاکستان کے ساتھ الحاق ہوتے نہیں دیکھ سکے،مگر انہوں نے کشمیریوں کو آزادی کے حقیقی معنی سے آشناء کر دیا۔ان شاء اللہ! کشمیر آزاد ہو گا، سید علی شاہ گیلانی کا خواب پورا ہو گا۔ وہ اپنی زندگی میں کشمیر کی آزادی کو نہیں دیکھ سکے، لیکن جس ثابت قدمی سے کشمیری آزادیِ جدوجہد جاری ہے اِس یہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ کشمیری یقینا جلد آزادی کی منزل ِ مقصود تک ضرور پہنچیں گے۔ دنیا کی کوئی طاقت کشمیریوں کی آزادی کو روک نہیں سکتی۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سید علی شاہ گیلانی کی زندگی بتاتی ہے کہکشمیری قیادت پر بھارتی مظالم عام کشمیریوں سے زیادہ ہیں مگر غیور کشمیری قیادت آج بھی اپنی زمین پر ثابت قدمی سے کھڑی ہے اور پہلے سے زیادہ جرات کے ساتھ آزادی کا نعرہ بلند کر رہی ہے۔ اللہ رب العزت سید علی شاہ گیلانی ؒ کو دائمی امن عطا فرمائے،جنت میں ان کے درجات بلند کر ے اور کشمیریوں کو آزادی کی نعمت سے نوازے۔ (آمین)

    @MAkhter_

  • بیروزگاری کا دیمک عقیل راجپوت کے قلم سے تحریر عقیل احمد راجپوت

    بیروزگاری کا دیمک عقیل راجپوت کے قلم سے تحریر عقیل احمد راجپوت

    سفید پوش لوگوں کے لئے بیروزگاری موت سے بھی بدترین ہوتی ہے حکمرانوں کی معاشی پالیسیوں کے باعث ملک میں بیروزگاری کی شرح میں اضافے کی وجہ سے سفید پوش طبقہ انتہائی اذیت سے دوچار ہے فلاحی تنظیمیں لوگوں کے لئے بہت سے اقدامات کررہی ہیں مگر مہنگائی اور بیروزگاری میں کمی نا ہونے اور مزید اضافےکے سبب وہ بھی ان لوگوں کی معاونت فراہم کرنے سے قاصر ہیں

    کورونا کے باعث دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی بیروزگاری کی شرح میں اضافے کی وجہ سے لوگ فاقوں کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں کراچی کا ایکوکیٹڈ نوجوان فوڈ پانڈا اور بائیکیا پر ڈیلیوری کرکے اپنا گزر بسر کررہا ہے کاروبار ختم ہورہےہیں فیکٹریاں بند ہورہی ہے لوگ بیروزگاری کے دلدل میں پھنسے جارہے ہیں مگر کوئی پوچھنے والا نہیں 

    بیروزگاری کی وجہ سے کئی لوگ خود کشیاں کر چکے باپ اپنے بچوں کو زہر دے کر خود زہر پی رہا ہے بچوں کو بھوک سے بلکتے ہوئے دیکھتی مائیں نہروں میں بچوں کے ساتھ چھلانگ لگا رہی ہے ہر گزرتے دن کے ساتھ بیروزگاری کی شرح میں اضافہ ہورہا ہے مہنگائی ہر گزرتے دن کے ساتھ لوگوں سے جینے کی امید چھین رہی ہے کاروبار کرنے والے نوکری پر اور نوکریوں پر جانے والے لوگ گھروں تک پہنچ گئے ہیں اور یہ سلسلہ روز و شب بڑھتا چلا جارہا ہے 

    ہر محلے میں کارخانوں کی جگہ دستر خوان کھل رہے ہیں لوگ چندہ جمع کرکے لوگوں کو ایک وقت کی روٹی دینے کی کوششوں میں مصروف ہیں مگر دستر خوان اور پناہ گاہ اس کا حل نہیں ہیں جب تک حکومت لوگوں کو روزگار فراہم نہیں کرے گی یہ لنگر خانے بڑھتے جائیں گے عوام غربت کی لکیر سے نیچے جاتے جائیں گے ملک میں فوری طور پر معاشی پالیسیوں کے بنائے جانے اور ان پر جنگی بنیادوں پر عمل کرنے کی ضرورت ہے 

      

    بیروزگاری کی وجہ سے بچوں کی تعلیم چھوٹ رہی ہیں معاشرے میں جاہلیت پروان چڑھنے کا اندیشہ ہے لوگ بیروزگاری کی وجہ سے ایک وقت کی روٹی نہیں کھا پارہے تو وہ اپنے بچوں کو تعلیم کیسے دلوا سکتے ہیں سرکاری اسکولوں میں تعلیم کا نظام نا ہونے کے برابر ہے ایک غریب آدمی اگر اپنے بچوں کو سرکاری اسکول میں داخل کروا بھی دے تو بھی اس کے بچوں کا مستقبل تاریک ہی ہونا ہے

    حکمرانوں ملک میں ہنر مند افراد پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے  پوری دنیا اپنی قوم کے ہنر سے فائدے حاصل کرکے ہی ترقی کی راہ پر گامزن ہوتی ہیں مگر ہمارے انجینئر ڈاکٹر بیروزگاری کی حالت میں جوکر بن کر روڈوں پر بھیک مانگنے کے بعد ہی اگر نوکریوں پر جائیں گے تو یہ حکمرانوں کے ظلم کی اعلیٰ مثال ہے   تعلیم یافتہ نوجوان ڈگریاں لیکر برگر چپس اور چائے کا اسٹال لگا رہا ہے مایوسی میں گھرا انجینئر اپنی ڈگریاں فروخت کر رہا ہے ملک کا مستقبل بیروزگاری کی وجہ سے ایک نوکری کے لئے ہزاروں درخواست کے نیچے دبتا چلا جارہا ہے میرے ملک کا نام روشن کرنے والا پڑھا لکھا طالب علم اپنی ڈگری کو آگ لگا کر اپنا مستقبل تاریک کررہا ہے اور ہم سب اچھا ہے کا گیت گا رہے ہیں 

    میں ملک کی عدلیہ افواج پاکستان کے کمانڈر سول سوسائٹی اور سیاست دانوں سے ہاتھ جوڑ کر درخواست کرتا ہوں کہ ملک کی بنیادوں پر لگی اس بیروزگاری کی دیمک کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں ورنہ خدا نا خواستہ یہ دیمک ملک کے مستقبل کو کھا نا جائے اور میرا پیارا پاکستان ترقی کی راہ سے ہٹ کر آپ لوگوں کی بے حسی کو کبھی بھول نا پائے اور تاریخ میں یہ بات نا کہی جائے کے ہر شعبے میں ہنر مندی رکھنے والی قوم کو اس کے فیصلہ ساز ایسے ملے کے وہ ملک کو ترقی کی بجائے پستی کی طرف لے چلے 

  • پاکستان کے ہمسایہ ممالک تحریر:فرقان اسلم

    پاکستان کے ہمسایہ ممالک تحریر:فرقان اسلم

    وطنِ عزیز پاکستان 14 اگست 1947ء کو معرضِ وجود میں آیا۔ پاکستان بننے کے لیے مسلمانانِ ہند نے ایک طویل جدوجہدکی اور لاکھوں جانوں کی قربانیاں دیں۔ اور طرح طرح کے ظلم و ستم سہے۔ پھر کہیں جاکر اللّٰہ پاک نے اس عظیم نعمت سے نوازا۔ پاکستان ایک نور ہے اور نور کو زوال نہیں آتا۔

    بظاہر تو تقسیم کے وقت وطنِ عزیز کے مسلمانوں کے ہاتھ کچھ خاص زر و دولت نہ آیا۔ بلکہ یہاں آکر بہت ساری مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن اللّٰہ پاک کے خاص کرم اور فضل کی بدولت کئی مسائل اور جنگوں کے باوجود پاکستان قائم ہے اور انشاءاللہ تاقیامت قائم رہے گا۔ 40 سال کے قریب ملک پر فوج نے حکمرانی کی اور 34 سال یہ ملک جمہوری حکمرانوں کے زیرِ تسلط رہا۔

    اب ہم پاکستان کے محل وقوع پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ پاکستان براعظم ایشیا میں ایک انتہائی اہم اور سٹریٹجک لوکیشن پر واقع ہے۔ جس پر ہر ملک کی نظر ہے۔ پاکستان دنیا میں دفاعی اعتبار سے بھی اہمیت کا حامل ہے۔ اب پاکستان کے ہمسایہ ممالک کی بات کرتے ہیں۔

    (1) پاکستان کے ایک طرف ہندوستان ہمارا ایک بڑا ہمسایہ ملک واقع ہے۔ جو رقبے میں پاکستان سے سات گنا بڑا ہے اور آبادی میں بھی پاکستان سے بہت بڑا ہے۔ جس کے ساتھ قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک امن قائم نہیں ہوسکا۔ کیونکہ ہندوستان نے مقبوضہ کشمیر پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ اور کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے اس لیے جب تک کشمیر آزاد نہیں ہوتا ہندوستان کے ساتھ بہتر تعلقات قائم نہیں ہوسکتے۔ اس لیے اس مسئلے کا جلد سے جلد حل ضروری ہے کیونکہ ماضی میں بھی اس کی وجہ سے کئی جنگیں لڑی جا چکی ہیں۔ اس مسئلے کا سب سے آسان اور پرامن حل ریفرنڈم ہے کہ کشمیر کے عوام کیا چاہتے ہیں۔ لیکن ہندوستان یہ کرنے پر راضی نہیں کیونکہ کشمیری عوام پاکستان کا ساتھ دیتے ہیں۔ 

    (2) پاکستان کا دوسرا سب سے بڑا ہمسایہ افغانستان ہے دونوں ملکوں کی سر حد تقریباً 2500 کلومیٹر طویل ہے۔ جیسا کہ افغانستان کی تاریخ کا سب کو علم ہے کہ یہ ملک تقریباً پچھلے 45 سال سے حالت جنگ میں ہے اور پاکستان نے اتنے سالوں سے افغان مہاجرین کو پناہ دے رکھی ہے اور 50 لاکھ افغان مہاجرین کو گھر کا فرد بنا کے رکھا ہے لیکن افغان جنگ صرف ان تک محدود نہ رہی بلکہ پاکستان کے قبائلی علاقوں کے ساتھ ساتھ بالخصوص خیبر پختونخواہ اور پورے پاکستان کو متاثر کیا ہے۔ افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات دونوں ملکوں کے مفاد میں ہیں کیونکہ دونوں اسلامی ملک ہیں۔ جبکہ دونوں ممالک کے عوام بھی یہی چاہتے ہیں کہ امن قائم ہو لیکن شرپسند عناصر نہیں چاہتے کہ ایسا ہو۔ اب افغانستان کے حالات پہلے کی نسبت بہت حد تک ٹھیک ہیں اور آنے والے دنوں میں مزید بہتری کی توقع کی جارہی ہے۔ 

    (3) تیسری جانب ایران ہے جس نے سب سے پہلے پاکستان کو تسلیم کیا تھا۔ جو گزشتہ کئی دہائیوں سے تقریباً پوری دنیا کی طرف سے پابندیوں کا شکار ہے۔ حالانکہ ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات بہت زیادہ اہمیت رکھتے ہیں لیکن عالمی پالیسیوں کی وجہ سے ہم ایران کے ساتھ زیادہ اچھے تجارتی تعلقات استوار نہیں کر سکتے اور ہماری خوشحالی میں بڑی وجہ بھی یہی ہے۔ حالانکہ اگر ہمارے اچھے تعلقات قائم ہوں تو دونوں ممالک کو بہت فائدہ ہوگا۔ پچھلے چند سالوں ایران اور ایران کے تعلقات میں کافی بہتری آرہی ہے۔

    (4) چوتھا ہمسایہ ملک چین ہے جو پاکستان کا بہترین دوست ہے۔ اور ہمیشہ مشکل حالات میں پاکستان کی مدد بھی کرتا ہے۔ بلکہ ایک محاورہ بھی بنا ہوا ہے کہ پاکستان اور چین کی دوستی سمندر سے گہری اور ہمالیہ سے بلند ہے۔ پاکستان اور چین کے ہمیشہ مشکل حالات میں ایک دوسرے کی مدد کی ہے۔ پاک چائنہ اکنامک کوریڈور دونوں ملکوں کے مفادات کیلئے بہت اہم اور ضروری ہے اور پاکستان کیلئے امید کی کرن اور خوشحالی کی ضمانت ہے۔ اس کوریڈور کی تکمیل کے بعد پاکستان ترقی کی طرف گامزن ہو گا۔ انشاءاللہ 

    اگر آپ کا ہمسایہ اچھا ہو تو یہ بھی اللّٰہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ کیونکہ ان کے ہر طرح کا لین دین اور تعلقات ہوتے ہیں۔ اسی طرح ہمسایہ ممالک کے بھی تعلقات ہوتے ہیں۔ اصل میں خارجہ پالیسی اس معاملے میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اگر کسی ملک کی سفارت کاری بہترین ہوگی تو اس ملک کے تعلقات بھی بہترین ہوں گے۔جب بھی پاکستان کے کسی ملک کے ساتھ اچھے تعلقات قائم ہوتے ہیں تو اس کی راہ میں روڑے اٹکائے جاتے ہیں۔ 

    اللّٰہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللّٰہ پاک وطن عزیز کی حفاظت فرمائے اور اسے اسلام اور امن کا گہوارہ بنائے۔ ہمیں بھی اپنے ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے دن رات کوشش کرنی چاہیئے اور اللّٰہ سے امید رکھنے چاہیئے۔ اللّٰہ تعالیٰ ملک پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔ 

    سدا رہنا پاکستان زندہ باد۔۔!!

    @RanaFurqan313

  • سگریٹ نوشی کے انٹرنیشنل بہانے  تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    سگریٹ نوشی کے انٹرنیشنل بہانے تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    جس طرح سگریٹ نوشی ایک بین الاقوامی ،خطرناک اور مضر صحت مسئلہ ہے۔
    اسی طرح سگریٹ پینے والے افراد سگریٹ پُھونکنےکے بھی انٹرنیشل قسم کے جواز گھڑتے رہتے ہیں۔
    حالانکہ ان کی یہ توجیحات غالب کے اس شعر کی طرح دل کی تسلی کے لئے ہی ہوتی ہیں کہ
    ہم کو معلوم ہے،جنت کی حقیقت لیکن
    دل کے خوش رکھنے کو ،غالب یہ خیال اچھا ہے۔
    سگریٹ نوش افراد عرصہ دراز سے سگریٹ نوشی کا یہ جواز گھڑتے آرہے تھے کہ سگریٹ پینے سے وزن کم رہتا ہے۔
    مگر تازہ ترین سٹڈی میں یہ تھیوری غلط اور خود ساختہ ثابت ہو چُکی ہے۔
    امریکی ریاست اوریگان کے ایک تجرباتی سنٹر میں 400افراد پر دو سال تک جو تجربات کیے گئے،
    اُن کے مطابق جو لوگ سگریٹ نوشی کرتے تھے،
    اُن کا وزن ایسے افراد سے تین گُنا زیادہ بڑھتا ہے،
    جو سگریٹ نوشی نہیں کرتے۔
    اسی طرح کچھ سگریٹ نوش خواتین و حضرات یہ بھی کہتے پاۓ گئے کہ سگریٹ پینے سے اُن کا جسم ہلکا رہتا ہے۔
    اُن کا خیال ہے کہ سگریٹ پینے سے ان کے ہاضمے کا نظام چونکہ درست رہتا ہے،
    لہذا انہیں اپنے جسم میں بھاری پن کا احساس نہیں ہوتا۔
    نئی ریسرچ سے یہ سب تھیوریاں اُلٹ ثابت ہو چکی ہیں۔
    بھاری پن یا بدہضمی کی وجوہات میں بزات خود سگریٹ نوشی شامل ہے،
    کیونکہ جسم کے ہر حصے کا دوسرے سے براہ راست تعلق ہوتا ہے،
    اگر سگریٹ نوشی سے آپکے پھیپھڑے متاثر ہوں،آپکا نظام تنفس درست نہ ہو،
    آپ امراض قلب کا شکار ہوں،
    بلڈ پریشر کا سامنا کر رہے ہوں،
    یا سگریٹ نوشی سے آپ کو زیا بیطس جیسے موذی مرض نے آ گھیرا ہو تو کامن سینس کی بات ہے کہ آپ کا معدہ بھی متاثر رہے گا۔
    اور اگر آپ کا معدہ درست طریقے سے کام نہ کر رہا ہو تو پھر آپ بھاری پن محسوس کریں گے نا کہ ہلکا پن۔
    لہذا سگریٹ نوشوں کا یہ استدلال بھی بغیر کسی جاندار دلیل کے ہے کہ وہ سگریٹ نوشی سے ہلکا پن محسوس کرتے ہیں۔
    یہ وہم کے سوا کچھ نہیں۔
    یہ سوچنا بھی اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے برابر ہے کہ سگریٹ آپ کو کسی قسم کا طبعی فائدہ پہنچا رہا ہے۔
    بس آپ اپنی اور اپنے خاندان کی بہتری کے لئے یہ کریں کہ اپنے آپ کو سگریٹ کی لت نہ لگنے دیں۔
    شروع میں اس عمل کو روکنا آسان ہوتا ہے،
    مگر جب آپ پوری طرح سگریٹ نوشی کا شکار ہوجائیں گے تو پھر اس بری عادت کے چُنگل سے نکلنا مُشکل ہو گا۔
    اس سے چھٹکارے کے لئے آپ کو بہت سے پاپڑ بیلنے پڑیں گے۔
    ہو سکتا ہے آپ کو کسی ایسے ہیلتھ سنٹر جانا پڑے جہاں ایسے ہی منشیات کے عادی مریضوں کا علاج کیا جاتا ہو۔
    سگریٹ نوشی کے بعد آپکا سٹیٹس بھی ایک مریض کا ہو گا۔
    اور اس حقیقت سے کون واقف نہیں کہ آجکل کے دور میں کسی بھی مرض کے لئے کتنے بھاری اخراجات درکار ہوتے ہیں۔؟
    کچھ بعید نہیں کہ آپ کو بھی سگریٹ نوشی سے جان چھڑوانے کے لئے ایسے ہی کچھ اخراجات بھی برداشت کرنا پڑیں۔
    سگریٹ نوشی کے بعد لگنے والی بیماریوں کا علاج شروع کرنے کے ساتھ ہی ڈاکٹر سگریٹ نوشی ترک کرنے کی شرط رکھ دیتا ہے۔
    اس عالم میں آپ کو دو محاذوں پر لڑنا پڑتا ہے،
    ایک بیماری سے اور دوسرا سگریٹ نوشی کی جان لیوا عادت سے۔
    سگریٹ نوشی کی عادت موجودہ دور میں صرف سگریٹس تک محدود نہیں ہے
    بلکہ اب تو سگار،حُقہ اور شیشہ جیسی وبائیں بھی دن بدن پھیل رہی ہیں۔کہا جاتا ہے کہ زمانہ قدیم سے حقے کا رواج ہی سگریٹ،گُٹکا،نسوار،بیڑی،سگار ،پان اور شیشہ جیسی قباحتیں معرض وجود میں لے کر آیا۔
    بدقسمتی سے متزکرہ بالا سب چیزوں میں تمباکو ہی استعمال ہوتا ہے۔
    جو سب بیماریوں کی جڑ ہے۔
    اسی تمباکو میں نکوٹین نامی زہریلا مادہ ہوتا ہے،
    جواکثر وبیشتر دل کے امراض کا باعث بنتا ہے۔
    سگریٹ نوشی کےشکار افراد میں سے 20فیصد ،امراض قلب کا شکار ہو کر دنیا سے چلے جاتے ہیں۔
    محتاط اندازے کے مطابق سالانہ ایک لاکھ بیس ہزار افراد اسی مرض سے لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔
    امراض قلب کی سنگین ترین صورت میں آپکو اوپن ہارٹ سرجری جیسے مشکل ترین آپریشن سے گزرنا پڑتا ہے،
    اوپن ہارٹ سرجری ڈاکٹرز اسی وقت تجویز کرتے ہیں،
    جب دل کو خون سپلائ کرنے والی نالیاں اور بلڈ ویسلز سُکڑ کر بہت تنگ ہو چکے ہوتے ہیں،
    جس سے دل کو خون کی فراہمی ایک تسلسل سے نہیں ہو پاتی جو ہارٹ اٹیک کا بھی باعث بنتی ہے۔
    ہارٹ اٹیک سے کچھ ہی خوش قسمت افراد ہی بچ پاتے ہیں۔
    بعض دفعہ تو مریض آپریشن سے پہلے ہی ہارٹ اٹیک کا شکار ہو کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔
    سگریٹ نوش افراد میں دل کی ان نالیوں کو تنگ کرنے کا باعث بھی یہی نکوٹین ہی ہوتی ہے،
    ہر قسم کا تمباکو اس نکوٹین کامنبع ہوتا ہے۔
    کچھ لوگ سگریٹ کا استعمال ترک کرنے کے لئے نسوار پان،کافی یا حقے کا استعمال شروع کر دیتے ہیں۔
    یہ بھی ایک بے کار فارمولہ اور بے مقصد پریکٹس ہے،
    اس سے کسی قسم کا فائدہ نہیں ہونے والا،
    آپ کنواں چھوڑ کر کھائ میں گرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
    سگریٹ چھوڑنے کے لئے بہترین تدابیر میں سے کچھ درج زیل ہیں
    سگریٹ نوشی کی طلب بڑھنے کی صورت میں کُھلی فضا میں چلے جائیں،
    لبے لمبے سانس لیں،ہلکی پُھلکی ورزش کریں،
    اپنے خیالات کو سگریٹ سے ہٹانے کے لیے کچھ اور سوچنا شروع کر دیجیے،
    پانی زیادہ پیجیے تاکہ نکوٹین سے بننے والے فاسد مادے آپ کے جسم سے نکل سکیں،
    کھانا کھانے کے بعد سگریٹ کی طلب ہونے پر پودینہ والی یا لیموں والی سبز چاہے پئییں،
    سگریٹ نوش دوستوں سے میل ملاقات کا سلسلہ بوقت ضرورت ہی جاری رکھیے۔
    سگریٹ نوشی ترک کیجیۓ
    زندگی کی طرف لوٹیے،
    آپ کے پیارے آپ کے منتظر ہیں۔
    خدارا۔
    اُنہیں کسی امتحان میں مت ڈالیے#

    @lalbukhari

  • رشتے کیسے نبھائیں؟؟ تحریر:  زہراء مرزا

    رشتے کیسے نبھائیں؟؟ تحریر:  زہراء مرزا

    .
    انسان جب جنت میں اکیلا تھا تو اسے حوا عطا کی گئی. پھر آدم و حوا کا ایک رشتہ تخلیق ہوا. آدم و حوا سے نسل آدم بڑھتی گئی اور بہن بھائی، چاچو، ماموں، خالہ، پھوپھی جیسے اجزاء ملے. خاندان بنے اور خاندان سے ایک بات بڑھتی ہوئی معاشرے تک جا پہنچی.
    دنیا میں رہتے ہوئے ہر انسان کی کچھ بنیادی ضروریات ہیں. جن میں رشتے بھی ایک بڑی اور اہم ضرورت ہیں. رشتوں سے محنت اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت سلیم میں رکھ چھوڑی ہے.
    اولاد کی ماں باپ سے الفت اس دنیا کی حسین ترین الفت ہے. خاوند اور بیوی کا تعلق ایک خوبصورت ترین تعلق ہے. بہن بھائیوں کی ایک دوسرے کے لیے کشش اور محبت کی لازوال کہانی ہے.
    .
    جوں جوں معاشرہ بڑھنے لگا تعلقات بڑھتے رہے. لوگ بڑھنے لگے ضروریات بڑھنے لگی.
    مادیت پرستی کی جانب جب معاشرے نے سفر شروع کیا تو انسان خدا کی عطا کردہ فطرت سلیم سے اعراض برتنے لگا.
    فطرت پر جب مادی ضروریات کو اہمیت ملنے لگی تو عداوتوں کے نئے باب کھلنے لگے.
    جب ہمارے مادی مفادات کو ٹھیس پہنچنے لگی تو ہم نے محبت سے منہ موڑ لیا.
    خدا کی فطرت سے ہٹ کر کسی چیز کو پانے کی جستجو نے پہلا قتل کروا دیا.
    جب معاشرے میں طاقتور نے وسائل کو غصب کرنا شروع کیا تو بھوک نے چوری اور لوٹ مار کی راہ دکھا دی.
    بات بڑھتی گئی اور آج کے حالات آپکے سامنے ہیں.
    دنیا میں ہر فرد، گروہ اور سوسائٹی اپنے مفادات کے تحفظ میں کارفرما ہے. بات فقط اپنے مفادات کے تحفظ تک رہتی ہو شاید اتنی نہ بگڑتی.
    بات بڑھنے لگی اور معاملہ لوگوں کو نیچا کر کے اور پیروں تلے روند کر آگے بڑھنے کی جانب چل نکلا.
    .
    آج معاشرے میں جہاں اتنی خرابیاں ہیں وہیں ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ انسان اپنے رشتوں سے دور ہوتا جا رہا ہے.
    .
    آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے رشتوں کو کیسے بچائیں.
    .
    اس ضمن میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ ہمیں ایثار اور قربانی کا بنیادی سبق ازبر کرنا ہوگا.
    اپنی ضروریات اور خواہشات پر اپنے ساتھ جڑے لوگوں کی ضروریات اور خواہشات کو ترجیح دینا ہوگی.
    اگر کسی رشتے کو بچاتے ہوئے آپکا مالی نقصان ہو رہا ہے تو اس بات کی فکر نہ کریں.
    .
    دوسری اہم بات یہ ہے کہ برداشت کرنا سیکھیں.
    ہمارے استاد محترم کہا کرتے ہیں کہ بیٹا رشتہ داری نبھانا ایسے ہے جیسے آپ ون وے ٹریفک میں چل رہے ہیں.
    جہاں آپکو اس بات کا خیال رکھنا ہے کہ آپ اصول نہ توڑیں اور اپنی لائن میں رہیں. وہیں اس بات پر بھی خصوصی توجہ دینی ہے کہ کوئی اصول توڑ رہا ہے تو نقصان سے کیسے بچا جائے.
    اگر کوئی گاڑی مخالف سمت سے آ رہی ہو تو آپ یہ سوچ کر اپنی دھن میں نہیں چل سکتے کہ میں تو ٹھیک ہوں بلکہ آپ فوری طور پر نقصان سے بچنے کی پیش بندی کرتے ہیں. اور نقصان سے بچنے کے بعد فریق ثانی کو پیار سے سمجھاتے ہیں. اسے یہ احساس دلاتے ہیں کہ آپ غلطی پر ہیں.
    اسی طرح رشتوں میں بھی دوسروں کی غلطیوں کو برداشت کرنا سیکھیں. اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو یقیناً سب کا نقصان ہوگا.
    .
    تیسری سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایک دوسرے کو عزت دیں.
    اگر آپ خود کو دوسروں سے سپریم سمجھیں گے تو ہمیشہ معاملات میں الجھے رہیں گے. خود کو دوسروں سے اہم سمجھنے والے کبھی کسی کو بنیادی عزت و احترام نہیں دے سکتے.
    ایسے افراد بلا کے ہٹ دھرم ہو جاتے ہیں. جب اس طرح کی صورتحال پیش آ جائے تو انسان اپنی غلطی تسلیم کرنے سے انکار کر دیتا ہے. بلکہ خود کو غلط سمجھتا ہی نہیں. لہٰذا خود کو بھی انسان سمجھیں اور اپنی غلطی کی اصلاح کرتے رہیں.
    .
    چوتھی اہم چیز جو رشتوں کی بقا کے لیے بے حد ضروری ہے کہ آپ رشتہ داروں سے جھوٹ مت بولیں. جھوٹ ویسے بھی ایک لعنت ہے. مگر جب آپ اپنے رشتہ داروں کو اندھیرے میں رکھتے ہیں اور قدم قدم جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں تو یقینا لوگ آپ کا اعتبار کرنا چھوڑ دیں گے.
    اور اعتماد اور اعتبار کسی بھی رشتے کو چلانے کا ایندھن ہوتے ہیں.
    اگر اعتبار یا اعتماد ختم ہو جائے تو رشتوں کی گاڑی کا چلنا محال ہو جاتا ہے.
    پھر آپ جھوٹ اور دھوکے کے جتنے چاہیں دھکے لگا لیں. زندگی کی گاڑی اپنی رفتار سے نہیں چل سکتی.
    .
    یہ چند بنیادی باتیں ہیں جو رشتوں کو بچانے اور محبتوں کے فروغ کا ذریعہ ہیں.
    عمل کیجیے اور اپنے پیاروں کے ساتھ ہنستے مسکراتے رہیں..
    شکریہ

     

    @zaramiirza : ٹویٹر اکاونٹ

  • قسمت ، محنت اور کامیابی    تحریر : مقبول حسین بھٹی

    قسمت ، محنت اور کامیابی  تحریر : مقبول حسین بھٹی

    1997 میں ، مشہور سرمایہ کار اور کثیر ارب پتی ، وارن بفیٹ نے ایک سوچے سمجھے تجربے کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے کہا ، "تصور کریں کہ آپ کے پیدا ہونے سے 24 گھنٹے پہلے ایک جنتی آپ کے پاس آئے گا۔”

    "جینی کہتی ہے کہ آپ جس معاشرے میں داخل ہونے والے ہیں اس کے قوانین کا تعین کر سکتے ہیں اور آپ جو چاہیں ڈیزائن کر سکتے ہیں۔ آپ کو سماجی قواعد ، معاشی قواعد ، حکومتی قواعد وضع کرنا ہوں گے۔ اور یہ قوانین آپ کی زندگی اور آپ کے بچوں کی زندگی اور آپ کے پوتے پوتیوں کی زندگی کے لیے غالب رہیں گے۔ "لیکن ایک پکڑ ہے ،” انہوں نے کہا۔ "آپ نہیں جانتے کہ آپ امریکہ یا افغانستان یا پاکستان میں امیر یا غریب ، مرد یا عورت ، کمزور یا قابل جسم پیدا ہونے والے ہیں۔ آپ سب جانتے ہیں کہ آپ کو ایک بیرل سے ایک گیند نکالنی ہوگی جس میں 5.8 بلین گیندیں ہوں گی۔ اور یہ تم ہو۔ ”

    "دوسرے الفاظ میں ،” بفیٹ نے مزید کہا ، "آپ اس میں حصہ لیں گے جسے میں ڈمبگرنتی لاٹری کہتا ہوں۔ اور یہ سب سے اہم چیز ہے جو آپ کی زندگی میں آپ کے ساتھ ہونے والی ہے۔ یہ اس بات کا تعین کرنے جا رہا ہے کہ آپ کس اسکول میں جاتے ہیں ، آپ کتنی محنت کرتے ہیں ، ہر قسم کی چیزیں۔ جب اس طرح وضاحت کی جائے تو ، زندگی میں قسمت ، بے ترتیب اور اچھی قسمت کی اہمیت سے انکار کرنا مشکل لگتا ہے۔ اور واقعی ، یہ عوامل ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ لیکن آئیے ایک دوسری کہانی پر غور کریں۔ جب اس طرح وضاحت کی جائے تو ، زندگی میں قسمت ، بے ترتیب اور اچھی قسمت کی اہمیت سے انکار کرنا مشکل لگتا ہے۔ اور واقعی ، یہ عوامل ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ لیکن آئیے ایک دوسری کہانی پر غور کریں۔

    1969 میں ، ویت نام کی جنگ کے چودھویں سال کے دوران ، یو یو نامی چینی سائنس دان کو بیجنگ میں ایک خفیہ تحقیقی گروپ کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ یونٹ صرف اس کے کوڈ کے نام سے جانا جاتا تھا: پروجیکٹ 523۔ چین ویت نام کے ساتھ ایک اتحادی تھا ، اور پروجیکٹ 523 اینٹی ملیریا ادویات تیار کرنے کے لیے بنایا گیا تھا جو فوجیوں کو دی جا سکتی ہیں۔ بیماری ایک بہت بڑا مسئلہ بن چکی تھی۔ ویت نام کے بہت سے فوجی جنگل میں ملیریا سے مر رہے تھے۔ ٹو نے اپنے کام کا آغاز سراگ ڈھونڈ کر کیا جہاں وہ انہیں مل سکتی تھی۔ اس نے پرانے لوک علاج کے بارے میں دستی کتابیں پڑھیں۔ اس نے قدیم تحریروں کی تلاش کی جو سینکڑوں یا ہزاروں سال پرانی تھیں۔ اس نے پودوں کی تلاش میں دور دراز علاقوں کا سفر کیا جس میں کوئی علاج ہو سکتا ہے۔ کئی مہینوں کے کام کے بعد ، اس کی ٹیم نے 600 سے زائد پودے اکٹھے کیے اور تقریبا 2،000 2 ہزار ممکنہ علاج کی فہرست بنائی۔ آہستہ آہستہ اور طریقے سے ، ٹو نے ممکنہ ادویات کی فہرست کو 380 تک محدود کر دیا اور لیب چوہوں پر ان کا ایک ایک کر کے تجربہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبے کا سب سے مشکل مرحلہ تھا۔ "یہ ایک بہت ہی محنت طلب اور تکلیف دہ کام تھا ، خاص طور پر جب آپ کو ایک کے بعد ایک ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔”

    سینکڑوں ٹیسٹ کیے گئے۔ ان میں سے بیشتر نے کچھ حاصل نہیں کیا۔ لیکن ایک ٹیسٹ چنگھاؤ کے نام سے مشہور میٹھے کیڑے کے پودے کا ایک اقتباس امید افزا لگتا ہے۔ ٹو اس امکان سے پرجوش تھا ، لیکن اس کی بہترین کوششوں کے باوجود ، پلانٹ کبھی کبھار ایک طاقتور اینٹی ملیریا ادویات تیار کرتا تھا۔ یہ ہمیشہ کام نہیں کرے گا۔ اس کی ٹیم پہلے ہی دو سال سے کام پر تھی ، لیکن اس نے فیصلہ کیا کہ انہیں شروع سے دوبارہ شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ تو نے ہر امتحان کا جائزہ لیا اور ہر کتاب کو دوبارہ پڑھا ، کسی چیز کے بارے میں کوئی اشارہ تلاش کیا جس سے وہ چھوٹ گیا تھا۔ پھر ، جادوئی طور پر ، وہ دی ہینڈ بک آف پرسکیپریشن فار ایمرجنسی کے ایک جملے پر ٹھوکر کھا گئی ، جو 1500 سال پہلے لکھی گئی ایک قدیم چینی تحریر ہے۔ مسئلہ گرمی کا تھا۔ اگر نکالنے کے عمل کے دوران درجہ حرارت بہت زیادہ تھا تو میٹھے کیڑے کے پودے کا فعال جزو تباہ ہو جائے گا۔ ٹو نے کم ابلتے نقطہ کے ساتھ سالوینٹس کا استعمال کرتے ہوئے تجربے کو نئے سرے سے ڈیزائن کیا اور بالآخر ، اس کے پاس اینٹی ملیریا ادویات تھیں جو 100 فیصد وقت کام کرتی تھیں۔ یہ ایک بہت بڑی پیش رفت تھی ، لیکن اصل کام ابھی شروع ہوا تھا۔ ہاتھ میں ثابت ادویات کے ساتھ ، اب یہ انسانی آزمائشوں کا وقت تھا۔ بدقسمتی سے ، چین میں اس وقت کوئی نئی سنٹر نہیں تھیں جو نئی ادویات کی آزمائشیں کر رہی ہوں۔ اور منصوبے کی رازداری کی وجہ سے ، ملک سے باہر کسی سہولت پر جانا سوال سے باہر تھا۔ وہ مردہ انجام کو پہنچ چکے تھے۔ تب جب آپ نے رضاکارانہ طور پر ادویات کی کوشش کرنے والا پہلا انسانی موضوع بننے کی کوشش کی۔ میڈیکل سائنس کی تاریخ کی ایک جرات مندانہ حرکت میں ، وہ اور پروجیکٹ 523 کے دو دیگر ممبران نے خود کو ملیریا سے متاثر کیا اور اپنی نئی دوا کی پہلی خوراک وصول کی۔ یہ کام کر گیا. تاہم ، اس کی ایک کامیاب دوا کی دریافت اور اس کی اپنی زندگی کو لائن پر ڈالنے کی خواہش کے باوجود ، ٹو کو اپنی نتائج کو بیرونی دنیا کے ساتھ شیئر کرنے سے روکا گیا۔ چینی حکومت کے سخت قوانین تھے جو کسی بھی سائنسی معلومات کی اشاعت کو روکتے تھے۔ وہ بے قرار تھی۔ ٹو نے اپنی تحقیق جاری رکھی ، بالآخر دوا کی کیمیائی ساخت کو سیکھنا – ایک کمپاؤنڈ جسے سرکاری طور پر آرٹیمیسنین کہا جاتا ہے – اور دوسری اینٹی ملیریا ادویات بھی تیار کرنے جا رہا ہے۔ یہ 1978 تک نہیں تھا ، اس کے شروع ہونے کے تقریبا ایک دہائی بعد اور ویت نام جنگ ختم ہونے کے تین سال بعد ، آخر کار ٹو کا کام بیرونی دنیا کے لیے جاری کیا گیا۔ اسے سال 2000 تک انتظار کرنا پڑے گا اس سے پہلے کہ عالمی ادارہ صحت ملیریا کے خلاف دفاع کے طور پر علاج کی سفارش کرے۔ آج ، ملیریا کے مریضوں کو 1 ارب سے زیادہ بار آرٹیمیسینن علاج دیا گیا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس نے لاکھوں جانیں بچائی ہیں۔ ٹو یویو پہلی خاتون چینی شہری ہیں جنہوں نے نوبل انعام حاصل کیا ، اور میڈیکل سائنس میں اہم شراکت کے لیے لاسکر ایوارڈ حاصل کرنے والی پہلی چینی شخصیت ہیں۔

  • تمباکو نوشی لعنت ہے”  تحریر: حسیب احمد

    تمباکو نوشی لعنت ہے” تحریر: حسیب احمد

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں سگریٹ نوشی کا استعمال کیا جاتا ہے اور دنیا میں آئے لوگ لاکھوں لوگ اس کو خریدتے ہیں اور نوش کرتے ہیں۔ دنیا میں سگریٹ وہ واحد چیز ہے جو ہر جگہ دستیاب ہوتی ہے اور لاکھوں سگریٹ روزانہ کی بنیاد پر تیار کیئے جاتے ہیں۔

    پاکستان میں بھی سگریٹ پینے والے لوگ ہزاروں نہیں لاکھوں کی تعداد میں ہیں اور اندازہ لگائیں روزانہ کی بنیاد پر کتنے لوگ خرید کرتے ہیں اور کتنا ریونیو جنریٹ ہوتا ہے سگریٹ کمپنیوں کا۔ اور ہم اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں سگریٹ نوشی کرکے۔ 

    پہپہڑوں کی بندش ہوجاتی ہے اور سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہوتا ہے ہمیں ہی تکلیف ہوگی ناکہ ان کمپنیوں کو ان کو صرف پیسے سے مطلب ہے۔ اگر ہم لعنت سے اپنی جان چھڑا لیں تو خدا کی قسم جو یہ پیسہ ان چیزوں پر خرچ کررہے اس کو بچا سکتے ہیں اور یہ پیسہ مستقبل میں ہمیں کام ائے گا اور اگر ہم تمباکو نوشی کرتے رہے تو ایک دن اس ہماری جان جائے گی اور اس کے ذمہ دار ہم خود ہونگے۔

    تو آج سے ہی عزم کرلیتے ہیں ہم جتنا ہوسکے گا اس لعنت سے اپنی اور اپنے پیاروں کی جان بچائیں۔ اپنی نسلوں کو تحفظ دیں یا ناکہ اس تمباکو نوشی سے اپنی نسلوں کی جائیں خطرے میں ڈالیں۔

    تمباکو نوشی کو توڑنا ایک مشکل عادت ہے کیونکہ تمباکو میں بہت زیادہ نشہ آور کیمیکل نیکوٹین ہوتا ہے۔ ہیروئن یا دیگر نشہ آور ادویات کی طرح ، جسم اور دماغ تیزی سے سگریٹ میں نیکوٹین کی عادت ڈالتے ہیں۔ جلد ہی ، ایک شخص کو صرف نارمل محسوس کرنے کی ضرورت ہے۔ 

    کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ ای سگریٹ باقاعدہ سگریٹ سے زیادہ محفوظ ہیں کیونکہ ان میں تمباکو نہیں ہوتا۔ لیکن ان میں موجود دیگر اجزاء بھی خطرناک ہیں۔ در حقیقت ، ای سگریٹ استعمال کرنے والے لوگوں میں پھیپھڑوں کو شدید نقصان اور یہاں تک کہ موت کی بھی اطلاعات ہیں۔ لہذا ماہرین صحت ان کے استعمال کے خلاف سختی سے خبردار کرتے ہیں۔ ہکہ پانی کے پائپ ہیں جو منہ کے ساتھ نلی کے ذریعے تمباکو نوشی کرتے ہیں۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ سگریٹ سے زیادہ محفوظ ہیں کیونکہ دھواں ٹھنڈا ہوتا ہے جب یہ پانی سے گزرتا ہے۔ لیکن کالے گنک کو دیکھو جو ایک ہکہ نلی میں بنتا ہے۔ اس میں سے کچھ صارفین کے منہ اور پھیپھڑوں میں داخل ہو جاتے ہیں۔ اور چونکہ ان کے پاس فلٹرز نہیں ہیں اور لوگ اکثر انہیں طویل عرصے تک استعمال کرتے ہیں ، ان کی صحت کے خطرات اور بھی زیادہ ہو سکتے ہیں۔ ہکہ عام طور پر مشترکہ ہوتے ہیں ، لہذا پائپ کے ساتھ ساتھ جراثیم کے گرد پھیلنے کا اضافی خطرہ ہوتا ہے۔

    آج سے عہد کریں نا خود نوش کریں گے نا کسی کو کرنے دیں گے اور اپنے مستقبل کے ایک اچھا اقدام اٹھائیں گے۔

    تمباکو نوشی ہمیں اور ہماری آنے والی نسلوں کو برباد اور تباہی کے دہانے پر پہنچا دیتی ہے۔ 

    پاکستان میں ہزاروں لوگ اس کے ادی ہوجاتی ہیں. لوگ خود کو اس نشے میں اندھا کرتے ہیں اور اپنی صحت والی زندگی سے کھیلتے ہیں. پاکستان میں لوگ نشے سے ایسے لیپٹ جاتے ہیں جیسے سردیوں میں کمبل سے لوگ لیپٹ جاتے ہیں۔غیر قانونی طور پر کمپنیاں بغیر ٹیکس اس ملک میں بیچتے ہیں۔ اس سے عوام کو ان کمپنیوں کی وجہ سے بھر پور ٹیکس دینے پر مجبور ہوجاتے ہیں اور ٹیکس ریونیو جمع نا ہونے کی وجہ سے پاکستان کی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں پھر پاکستان کے غریب سے غریب تر ہوجاتے ہیں اور فائدہ صرف یہ نشہ آور کیمیکل نیکوٹین بنانے والی کمپنیاں اٹھاتی ہیں۔

    @jaanbazHaseeb 

    https://twitter.com/JaanbazHaseeb?s=09 

  • آئیے خوشیاں تلاش کریں۔(میری سوچ) تحریر:کرنل ریٹائرڈ افتخار نقوی لاہور

    آئیے خوشیاں تلاش کریں۔(میری سوچ) تحریر:کرنل ریٹائرڈ افتخار نقوی لاہور

    قارئین نے پچھلے کچھ عرصہ میں دیکھا ہو گا کہ ہر دوسری سپیس (ٹوئیٹر پر) اسی موضوع پر ہو رہی تھی۔ اس وقت حالات حاضرہ، معاشی صورتحال، انحطاط کا شکار ہمارا معاشرہ، تربیت سے عاری نوجوان، والدین کی لاپرواہی سے رقم داستان، نوکریوں کا فقدان، کرونا کی بڑھتی گھٹتی غیر یقینی فضاء، امید و بیم میں پھنسی زندگی کی کشتی ہچکولے لیتی بڑھ تو رہی ہے لیکن ذہنی دباؤ، اور تناؤ کی صورتحال نے تقریبا” ہر شخص کو بےحال اور بدحواس کر رکھا ہے۔ صرف یہی معاملہ ہوتا تو شاید انسان وقتی طور پر صبر آزما حالات کا مقابلہ احسن طریقہ سے کر لیتا لیکن پاکستان میں رشوت ستانی کا بازار گرم ہے، اعمال کی بداعمالیوں سے پریشان ہے، سفارش اپنے عروج پر چل رہی ہے۔ اگرچہ حکومتی اقدامات بہت کئے جا رہے ہیں، لیکن جب قانون نافذ کرنے والے خود ملوث ہوں تو پرسان حال کوئی نہیں۔ ان تمام معاملات میں سونے پر سہاگہ مہنگائی کا اژدہا ہے کہ ہر شئے کو نگلنے کے درپئے محسوس ہوتا ہے۔ غریب انسان ایک جانب معاشی ابتری کا رونا ہی رو رہے ہیں کہ دوسری جانب امیر خاندانوں کے بے راہرو جوانوں نے غریب کی عزت کا جنازہ نکالنا شروع کردیا۔ آئے روز کے واقعات نے عجیب خوف کی فضاء پیدا کرکے ہر عزتدار انسان کو پریشان کر رکھا ہے۔ جہاں یہ سب کچھ ہو رہا ہے وہاں محکمہ پولیس کی نااہلی اور عدالتوں کی سست روی کا شکار معاشرے کو فقط بے انصافی اور غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر رہی ہیں۔
    ان بیرونی حالات کے ساتھ ہی خاندانی نظام بھی ان عوامل کے اثرات سے بچ نہیں پا رہا۔ اثرات کم یا زیادہ ہر خاندان پر پڑتے نظر آتے ہیں۔ انفرادی طور پر قوم نظر نہیں آتی تھی تو اجتماعی طور پر نظام ناکام نظر آ رہا ہے۔ قریبی رشتوں نے بھی آنکھیں پھیرنا شروع کر دیں۔ سگے بہن بھائی کرونا کا سنتے ہی کانوں کو ہاتھ لگاتے ہیں، لمبے زمینی فاصلے، سماجی فاصلوں میں تبدیل ہونے لگے۔ اولاد، والدین، بہن بھائی، اقرباء اور پڑوسی، یعنی سبھی سماجی بندھنوں سے نکل کر سماجی فاصلوں کے راستوں پر گامزن ہو رہے ہیں۔ المیہ تو یہ ہے، کہ سب کام بخوشی اور رضا و رغبت سرانجام پا رہا ہے۔

    اب ان حالات میں ہر پاکستانی خوشی کی تلاش میں ہے۔ بظاہر اوپر والے حالات کسی کو بھی دل کا عارضہ عطا کرنے کیلئے کافی ہیں۔ لیکن کیا یہ سب ایسے ہی ہے جیسا کہ نظر آ رہا ہے؟ سوال تو اٹھتا بھی ہے اور اکثر جہلاء میڈیا پر بیٹھ کر ان حالات کو مزید بڑھا چڑھا کر اپنی روزی روٹی کمانے میں مصروف ہیں۔ رہی سہی کسر یورپی میڈیا پوری کر دیتا ہے جو آئے دن ایسے ہونے والے واقعات کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتا نظر آئیگا۔ اپنے آپ سے چند سوالات کریں۔
    ۔ کیا یہ جنسی، راہزنی، ڈکیتی، چوری، بدمعاشی وغیرہ کے واقعات پہلے نہ ہوتے تھے؟
    ۔ کیا سب واقعات "قومی سطح کی خبر” کی حیثیت سے پیش کئے جاتے تھے؟
    ۔ کیا ہمارا میڈیا اچھائیاں بھی اسی انداز سے خبروں میں اسی رفتار سے شامل کرتا ہے؟
    میرا خیال ہے کہ قارئین پر صورتحال بہت واضح ہو سکتی ہے اگر عمیق نگاہوں سے جائزہ لیا جائے۔ امید کا دامن چھوڑنا ناصرف عقلمندی نہیں بلکہ ناامیدی کو کفر کہا گیا ہے۔ کسی معاشرے کی تباہی اس کی قومی تباہی بن جاتی ہے۔ آئیے دو سطحوں پر الگ الگ بات کریں۔

    قومی سطح۔

    ہر پاکستانی کو چاہئیے کہ اپنے آپکو کسی بھی سیاسی پارٹی کا مستقل رکن یا سپورٹر نہ سمجھے۔ کسی بھی پارٹی کی سپورٹ فقط الیکشن تک محدود کر دیں۔ الیکشن کے بعد پوری قوم غیرجانبدار بن جائے۔ حکومت کا ساتھ ہر شخص غیر مشروط طور پر دے۔ لیکن ہر غلط کام پر سب ایک ہو کر آواز بلند کریں۔ سختی سے روکنے کی کوشش کریں۔ تصحیح کریں۔ درستگی کا عمل شروع کرائیں۔ ہر برائی کے خلاف سینہ سپر ہو جائیں۔ رشوت لینے والوں کو بےنقاب کریں۔ سفارش کرانے والوں کے نقاب نوچ لیں۔ برائی سے نفرت کو عروج پر پہنچا دیں۔ حکومت کی تشکیل کے بعد اگلے الیکشن تک کسی سیاسی کال پر کان مت دھریں۔ یوں رفتہ رفتہ قائدین کی فہرست سے نااہل لوگ نکلتے رہیں گے۔ یاد رکھیں یہ ہم سب کا ووٹ ہے جو ایک عام آدمی کو کندھا دیکر ایوان اقتدار تک پہنچاتا ہے۔ تو آئیے اسی ووٹ کے ذریعے ایسے قائدین کو جو بداعمال ہوں، بدکردار ہوں یا نااہل ہوں، کندھا دیکر ہمیشہ کیلئے سیاسی قبرستان میں دفن کر دیں۔

    محدود اور خاندانی سطح۔
    اپنے اردگرد نگاہ رکھیں۔ کسی برائی پر آنکھ بند کرنا چھوڑ دیں۔ خود سے گریبان پکڑنے کی عادت ڈالیں۔ لیکن یہ سب تبہی ممکن ہے جب خود صاحب کردار ہونگے۔ اچھے برے کی تمیز رکھتے ہونگے۔ رشتوں کا تقدس اور خاندان کی اہمیت سے آگاہ ہونگے۔ یہ صبر آزما طویل راہ ہے اور مسافر کی قوت برداشت کا کڑا امتحان بھی ہے۔ حالات مقابلہ کرنے سے درست ہوتے ہیں ناکہ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لینے سے خود بخود سدھرنے والے ہیں۔ ہر کام حکومت کے کرنے کا نہیں ہوتا۔ عوام کا بہت عمل دخل ہوتا ہے۔ اپنے سے درستگی کا عمل شروع کرنے والے لوگ جلد ایسے حالات پر قابو پا سکتے ہیں۔ آخر بے راہرو لوگ کسی خاندان سے ہی تو ہیں، ہم سب سے ہی تو جڑے ہیں تو پھر صاحبان کردار کیوں بدکردار کی شامت بن کر سامنے نہیں آ سکتے؟
    میری چند تجاویز آخر میں ہر فرد کیلئے عرضی ہیں۔
    1۔ اپنے بچونکو درست و صحیح کی پہچان دیں۔
    2۔ اپنے بچونکو معاشرے پر بوجھ مت بنائیں بلکہ ہنرمند بنا کر معاشرے کیلئے رحمت بنا دیں۔
    3۔ اپنے گھروں میں بچونکو صاحبان کردار بنائیں۔
    4۔ یاد رکھیں کہ پریوں کی کہانیاں، یورپ کی تاریخ، فکشن وغیرہ سے زیادہ سبق آموز، جاندار اور کردار ساز کہانیاں اسلام کی تاریخ میں ہیں۔
    5۔ قرآنی تعلیمات کو فقط فرض ہی مت سمجھیں بلکہ انسان کی فطرتی ضرورت مان کر بچونکو کو سکھائیں۔
    6۔ رشتوں کا پاس، پڑوسی کے حقوق، اقرباء کے حقوق، عزت و احترام کے اسباق، استاد کے مقام کا تعین، کام پر اسلام کے قوانین کا اطلاق، زندگی میں شریعت کی اہمیت۔۔۔ سب ہی چھوٹی عمر میں بچونکی تعلیم کا نصاب ہونا لازم ہے جو والدین کی اولین ترجیحات میں ہونا لازم ہے۔
    7۔ انفرادیت سے نکال کر اجتماعیت کی طرف رغبت دیں۔

    حکومتی سطح پر بھی بہت سے کام ہونے والے ہیں جو بنیاد کو درست سمت دے سکتے ہیں۔ کسی زمانہ میں ہماری دینیات میں مضامین میں اہل بیت ع اور اصحاب رض کی کہانیاں اور اہم واقعات شامل تھے جنہیں رفتہ رفتہ نکال دیا گیا۔ ان سب کی موجودگی میں معاشرہ اتنا متشدد اور پریشانی سے دوچار نہ تھا اور ناہی منفی سوچ نظر آتی تھی۔ بہتر ہے کہ حکومت اس پر خاص توجہ دے اور نصاب کو بہتر انداز میں تشکیل دے تاکہ معاشرے کی تعمیر نو ہو سکے۔
    اگر ہم سب ایک مقصد زندگی میں بنا لیں تو انفرادی طور پر اس کے حصول میں کوشاں ہو جاتے ہیں اور ذہن میں منفی رجحانات ختم ہو جاتے ہیں۔
    یاد رہے خوشی کا تعلق ہی مثبت سوچ سے جڑا ہے۔ جس دن ذہن سے منفی سوچ کا خارج کرکے مثبت سوچ کو لے آئے، یہی معاشرہ خوشیوں کا گہوارہ بن سکتا ہے۔

    ٣١ اگست ٢٠٢١ء