Baaghi TV

Category: ادب و مزاح

  • آج کی دنیا -خاموش پیغام  تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    آج کی دنیا -خاموش پیغام تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    آج کل ہم جس دنیامیں زندہ ہیں ، اس کےحالات بہت چونکا دینے والے ہیں۔ یہ کہناغلط نہ ہوگاکہ ہمارے زمانے میں پریوں کی جوکہا نیاں تھیں وہ اب سچی ثابت ہوگئی ہیں ۔ اب انسان خلاء کی سیراتنے آرام سے کر رہے ہیں جیسے گھر کی چہار دیواری مں بیٹھے ہوں اور اب توانسان چاند پر ڈیرے ڈال چکا ہے اوراب تو وہ دوسرے سیاروں پر بھی کمند ڈالنے کی فکر میں ہے۔ دنیا کے کسی بھی ملک سے کوئی سامان خریدنا ہو تو بس گھر بیٹھےایک معمولی کارڈ سے ادائیگی کر کے منگایا جاسکتا ہے، ایک معمولی ساہٹن دباکر ہم اپنے مکان میں روشنی کا سیلاب لا سکتے ہیں، ایک بٹن دہاتے ہی گھر بیٹھے ہم رنگارنگ موسیقی سن سکتے ہیں اورفورا ہی دوسرابٹن دباکر زندہ تماشا یعنی ٹیلی وزن دیکھ سکتے ہیں۔ دنیا میں رونما ہونے والے واقعات چشم زدن میں آپ کے سامنے آجاتے ہیں، ایک چھوٹاسا آلہ کان اور منہ سے لگانے کے بعد هم ایک ایسے دوست کو دیکھتے ہوئے براہ راست بات چیت کر سکتے ہیں جو ہم سے آدھی دنیا کے فاصلے کے برابر دور بیٹھا ہے، ہم جب چاہیں گوگل کی مدد سےاپنے ذہنی دریچوں کوکھول سکتے ہیں ، ہم سیکنڈوں میں بادلوں اور بلندیوں پر چمکتے ہوئے ستاروں کے بارے میں قیمتی معلومات کا خرانہ حاصل کر سکتے ہیں، ان چٹانوں کے بارے میں بہت کچھ جان سکتے ہیں جو ہمارے پاؤں کے نیچے دفن ہیں، اپنےجسم کی ساخت کو سمجھنااب کوئ مشکل نہیں رہا، اس کے ساتھ ہی ہم تندرست رہنے کے طریقے بھی معلوم کر سکتے ہیں اور یہ وہ معلومات ہیں جو کہ اب سے ہزاروں سال پہلے کےبڑے بڑے علماء کو بھی معلوم نہیں تھیں۔
    اب تو ہم قدیم بادشاہوں سے کہیں زیادہ بہتر موسیقی سن سکتے ہیں، اب ہم دنیا سے مختلف ممالک کی بہترین نقاشی اورسنگ تراشی کے نمونے بآسانی گھر بیٹھےدیکھ سکتے ہیں، ہم اگر چاہیں تو معمولی سی کوشش سے بہترین موسیقار، مصور اور مجسمہ ساز بن سکنے ہیں۔ اپنے خیالات و محسوسات کو بہترین پیرایوں میں ظاہرکرنے کے طریقے سیکھ سکتے ہیں۔ اب توآپ یہ کہھہ سکتے ہیں کہ یہ کوئی کمال کی بات نہیں اور نہ اسے پہلے کی طرح جادو کہاجاسکتاہے۔
    ہمارے آبا واجداد کے بچپن میں نہ ریڈیو تھے اور نہ ہوائی جہاز ۔ اسی طرح جب آپ کے والد بچے تھے تو ٹیلیوژن کا نام و نشان بھی نہ تھا۔ آنے والی کل کو آپ کے بچے کیا کچھ دیکھیں گے آج آپ اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے لیکن اب اس کا انحصار آپ کی زات پر ہے ہرنئی ایجا دکا فائدہ بخش پہلو بھی ہوتا ہے اور نقصان دہ بھی۔ ہوائی جہاز میں بیٹھ کر آپ دور دراز علاقوں میں جاکر تفریح کر سکتے ہیں لیکن یہ ہی جہاز مکانوں، کارخانوں اور شہروں پر بم گرا کر انہیں مٹی کے ڈھیر بھی بنا سکتے ہیں ۔ ریڈیو اور ٹی وی کے ذریعے آپ دنیا کی بہترین موسیقی اور تفریحی پروگرام دیکھ اورسن کر خوش ہوسکتے ہیں اور یہی ریڈیو اور ٹی وی دشمن کی فوجوں کوحملہ کرنے کی ہدایت دے سکتا ہے ۔ ایٹم بم نیار کر نے والی مشینیں مہلک بم بھی تبار کرتی ہیں اور آپ کو تکلیف دہ امراض سے نجات بھی دلاسکتی ہیں۔ درسگاہوں میں ہم حکمت و دانائی کی باتیں سیکھتے ہیں لیکن کہیں کہیں ان درسگاہوں میں طالب علموں کو دوسرے انسانوں سے نفرت کرنے کی تعلیم بھی دی جاتی ہے یہ مقولہ بالکل درست ہے کہ "علم کے صحیح استعمال سے انسان ترقی کی بلندیوں پر چڑھتا ہے اور اس کے غلط استعمال سے تنزلی کی پستیوں میں جاگرتا ہے” ۔ہمیں دنیا کے تمام انسانوں سے وہی سلوک کرنا چاہیے جو ہم ان سے اپنے ساتھ چاہتے ہیں ۔ اگرہم نے اس سنہری اصول پرعمل نہ کیا تو ہمارے تمام منصوبے، زندگی کی تمام مسرتیں اور دنیا کی تمام نعمتیں خاک میں مل جائیں گی اورانسان اپنی مسلسل اور انتھک جدوجہد سے ترقی کی جس معراج پر پہنچا ہے ، وہ ماضی کا ایک بھیا نک خواب بن کر رہ جائے گی ۔

    @Azizsiddiqui100

  • بے پردگی اور ہماری عوام  تحریر: راجہ ارشد محمود

    بے پردگی اور ہماری عوام تحریر: راجہ ارشد محمود

    اسلامی جمہوریہ پاکستان ملک ہے جس کو اسلام کی بنیاد پر حاصل کیا گیا۔ جس کی بنیاد ہی کلمہ طیبہ پر رکھی گئی۔پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ۔۔۔۔۔۔۔
    جسے حاصل کرنے کا سب سے بڑا مقصد ہی یہ تھا کہ یہاں مسلمان اپنے دین اسلام کی تعلیمات کے عین مطابق اپنی زندگی پوری آزادی کے ساتھ گزاریں۔ کیونکہ برصغیر ہندوستان میں مسلمانوں پر ہر طرح سے زندگی تنگ کردی گئی تھی۔

    ان کا فقط جرم یہ ٹھہرا کہ وہ مسلمان تھے۔ اسی وجہ سے ان پر زور و شور سے ظلم و ستم کیا جاتا رہا۔ مسلمانوں سے انگریزوں اور ہندوؤں کی غلامی کروائی جاتی رہی۔ ان کے لیے وہاں نہ کوئی تحفظ تھا اور نہ ہی عزت۔

    بس ہر سوں مسلمانوں کا قتل عام تھا۔ مسلمان عورتوں کی عزت تو چار دیواری کے اندر بھی محفوظ نہیں تھی۔ ایسے میں اللّٰہ پاک نے مسلمانوں کو تکالیف سے نکالنے کے لیے ہمارے عظیم لیڈر قائد اعظم محمد علی جناح کو بھیجا ۔ جنہوں نے اپنے مسلمان بہن بھائیوں کے لیے آزادی کی جنگ لڑی۔ اپنی انتھک محنت سے مسلمانوں کے لیے الگ وطن اسلامی جمہوریہ پاکستان حاصل کیا۔

    پر انھیں کیا پتا تھا کہ وہ جس قوم کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ دے رہے ہیں وہ قوم آگے چل کر اسی مغرب کی پیروی کرنے والی یے۔ کیا یہ سچ نہیں کہ آج پاکستان کی عوام بہت حد تک مغربی کلچر کے دلدادہ ہوگئے ہیں؟ پہلے تو بات صرف ان کے ڈرامے اور فلمیں دیکھے جانے تک کی تھی پر اب تو ہمارے معاشرے میں مکمل طور پر مغرب کا کلچر اپنی جڑیں گاڑ رہا ہے۔ اس میں قصور وار کوئی دوسرا تیسرا نہیں بلکہ صرف اور صرف ہم خود ہیں، ہمارا معاشرہ ہے۔

    جو مغربی کلچر کو فروغ دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہا۔ شادیوں بیاہوں کی تقریبات میں گھٹیا سے گٹھیا لباس تن کرنا اب کوئی بہت بڑی بات نہیں رہی۔ وہیں آج سرعام سڑکوں پر بےلباس گھومنا پھرنا بھی عام ہوگیا ہے۔ وہی ملک جسے آزادی کے ساتھ اسلام کی پیروی کرنے کے لیے حاصل کیا گیا تھا آج اسلام کے تمام احکامات کو رد کرتے ہوئے ہمارے معاشرے کی کچھ عورتیں جب میرا جسم میری مرضی کا نعرہ لگاتی ہیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔

    یہ سب باتیں صرف عورتوں تک ہی محدود نہیں رہیں ہمارے معاشرے کے مرد حضرات بھی کسی سے کم نہیں ۔ یہاں ایسے مرد بھی پائے جاتے ہیں جو اپنے بےشرم اور بےحیا ہونے کا مکمل ثبوت دیتے ہوئے راہ چلتی عورتوں کو حراساں کرتے ہیں اور پھر موقع دیکھتے ہیں بھوکے کتوں کی طرح انھیں نوچ ڈالتے ہیں۔ اس کے علاؤہ انھیں بےپردہ ہونے میں بھی وقت نہیں لگتا۔ ابھی کچھ روز قبل کی بات ہے جب سوشل میڈیا پر چند تصاویر وائرل ہوئیں۔

    جس میں ایک مرد فیشن کے نام پر اپنا پورا بدن برہنہ کیے ہوئے اپنے جسم کی نمائش کروا رہا تھا۔ تو پھر میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کے اس قسم کی بےشرمی، بےحیائی اور بےپردگی کو فروغ دینے میں سب سے زیادہ کردار پاکستان کی عوام کا ہے۔ جو ایسے نمونوں کو شوق سے دیکھتے ہوئے ان کی پزیرائی کرتے ہیں ۔ اللہ پاک ہم سب کا حامی ناصر ہو

    @RajaArshad56

  • انگلش ۔دوست یا دشمن تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    ہم پی آئ اے کی فلائیٹ پر چھ لوگ محو سفر تھے،

    یہ فلائیٹ اسلام آباد سے ابو ظہبی جا رہی تھی،

    ہم 6لوگوں کاتعلق ایک ہی شہر سے تھا۔

    اتفاق سے ہم ایک ہی کمپنی کے ورک ویزوں پر وہاں جا رہے تھے۔

    مزید اتفاق یہ کہ ہم سب کا جاب بھی ایک ہی تھا۔

    ہم سب قدرے گھبراۓ ہوۓ بھی تھے کہ نہ جانے وہاں پہنچ کر ہم کلک کر پائیں گے یا نہیں؟

    ہمارے اس گروپ میں ہم سب کی فنی تعلیم تو برابر تھی۔

    مگر تجربے کے لحاظ سے میں اُن سب سےپیچھے تھا۔

    میرا کام کا تجربہ اُن سب سے کم تھا۔

    اس لحاظ سے میری گھبراہٹ کا ان سے زیادہ ہونا فطری تھا۔

    یہ چیز مجھے مسلسل پریشان کیے جا رہی تھی۔

    پورے سفر میں طرح طرح کے خیالات آتے رہے،

    کیونکہ ایک تو ویزہ بہت مہنگا خریدا تھا تو دوسرا فیملی کی بہت زیادہ توقعات بھی ہم سب سے وابستہ تھیں۔

    شام کے وقت ہم جونہی ابوظہبی 

    ائیر پورٹ پر لینڈ ہوۓ تو دل کی دھڑکنیں مزید تیز ہو گئیں کہ اب نجانے کیا ہو؟

    نہ جانے کن حالات سے گزرنا پڑے؟

    ائیر پورٹ سے لینے ہمارا ایک مشترکہ دوست آیا ہوا تھا۔

    اُسکی لش پش کرتی نئی گاڑی،

    ہاتھ میں گولڈ لیف کا سگریٹ اور آنکھوں میں رے بین کا چشمہ دیکھ کر ہم سب کے دلوں میں بھی حسرت جاگی کہ نہ جانے کتنے کٹھن مرحلوں کے بعد ہم بھی اسی طرح کی شان وشوکت کے حامل ہوں گے؟

    مگر ابھی کہاں؟

    ابھی تو عشق کے کئی امتحاں باقی تھے۔

    دوست کی رہاشگاہ پررات جیسے تیسے کروٹیں بدلتے گزری۔

    اگلی صبح اُٹھ کر بے دلی سے ناشتہ زہر مار کیا،

    کیونکہ مستقبل کو لیکر زہنی طور پر 

    بے یقینی کی سے کیفیت تھی۔

    جس کے باعث کچھ اچھا نہیں لگ رہا تھا!

    اگلی صبح کپنی کے ہیڈ آفس گئے تو انہوں نے میڈیکل وغیرہ کے لئے ایک دن بعد آنے کو کہا،

    یوں کرتے کراتے چند دنوں بعد ہمیں ایک ورک سائیٹ پر جانے کا پروانہ تھما دیا گیا۔

    کمپنی ڈرائیور کے ہمراہ ہم سب دوست متحدہ عرب امارات کے شہر العین جا پہنچے،

    جہاں پہ ہمارا پراجیکٹ تھا۔

    مجھے کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک شاکر نامی شخص کے کمرے میں رکھا گیا۔

    شاکر بھائ انتہائ ملنسار اور تعاون کرنے والے شخص تھے۔

    اُن کے ساتھ ٹائم کافی اچھا گزرا۔

    اگلی صبح ہمیں بس کے زریعے پراجیکٹ کے سائیٹ آفس پہنچایا گیا،جہاں ہماری ملاقات ہمارے فلسطینی پراجیکٹ مینیجر انجینئر فتحی سے کروائ گئی۔

    انجینئر فتحی پہلی ہی ملاقات میں کافی سخت آدمی لگا۔

    اُس نے ملاقات کے شروع ہی میں بتا دیا کہ ہمارا اس پراجیکٹ پر رہنا کنسلٹنٹ کمپنی کے ریذیڈینٹ انجینئر مصر سے تعلق رکھنے والے امریکن  پاسپورٹ ہولڈراللہ دین میکاوی کے انٹرویو پر انحصار کرے گا!

    یہ سُنتے ہی تقریبا” ہم سب ہی کے اوسان خطا ہو گئے کہ پتہ نہیں اس انٹرویو میں کیا پوچھا جاۓ گا؟

    پتہ نہیں کتنے مشکل سوالات ہوں گے؟

    یہ سب باتیں ہمیں اگلی صبح تک مضطرب رکھنے کے لئے کافی تھیں۔

    رات رہائشی کیمپ میں واپسی پر شاکر بھائ سے اس انٹرویو کی بابت استفسار کیا،

    مگر انہوں نے کہا کہ مجھے کچھ آئیڈیا نہیں کہ انٹرویو کیسا ہو گا؟

    کیونکہ بقول شاکر بھائ کے۔

    یہ انٹرویوز کا سلسلہ ابھی ہی شروع ہوا ہے۔

    پہلے تو بغیر انٹرویو کے ہی ڈیوٹی پر لگا دیا جاتا تھا۔

    یہ سُن کر اپنی قسمت پر اور زیادہ افسوس ہونے لگا کہ

    یااللہ ہم سے کونسی غلطی ہوئ ہے کہ جب ہم نے آنا تھا تو انٹرویو پروگرام بھی شروع ہونا تھا۔

    کاش ہم بھی اسی وقت آجاتے جب بغیر انٹرویوزکے نیا پار چڑھ جاتی تھی۔

    مگر اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا،

    سواۓ انٹرویو والی پُل صراط سے گزرنے کے۔

    انٹرویو سے پہلی والی اس رات ہم سب دوستوں نے ڈائریاں کھول کر کچھ نوٹس اور تھیوری و فارمولوں وغیرہ کا مطالعہ کیا مگر شومئی قسمت کہ انٹرویو کے پریشر کے باعث کچھ نیا زہن میں جانے کے بجاۓ پرانا بھی نکلتا محسوس ہوا۔

    خیر کُفر ٹوٹا خدا خدا کر کے،

    بالاخر انٹرویو کی فیصلہ کُن گھڑی آن پہنچی۔

    انٹرویو کے لئے ہم سب کو باری باری اسی کنسلٹنٹ ریذیڈینٹ انجینئر اللہ دین میکاوی کے کمرے میں بھیجا گیا۔

    میری باری پر جونہی میں کمرہ میں داخل ہوا تو سلام دعا کے فورا” بعد میکاوی سر نے مجھے کہا کہ 

    :لگتا ہے مسٹر بخاری کہ آپ کی نیند پوری نہیں ہوئ؟

    یہ سُن کر میرے تو جیسے ہاتھوں کے طوطے ہی اُڑ گئے،

    مجھے لگا کہ یہ بندہ بڑا تیز ہے،

    اس نے میری ہڑبڑاہٹ ہی سے اندازہ لگا لیا ہے کہ مجھ میں تجربے کی کمی ہے۔

    خیر جوں توں کر کے یہ ایک گھنٹہ طویل انٹرویو اختتام پزیر ہوا۔

    انٹرویو کے دوران میکاوی سر نے مجھے دس منٹ کا چاۓ پینے کے لئے وقفہ دیا تو میں نے سُکھ کا سانس لیا۔

    ان غنیمت دس منٹوں میں چاۓ کا تو حلق سے اترنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا،

    تاہم اس وقت کو میں نے اپنی سانسیں بحال کرنے اور چہرے پر تھوڑا بہت اعتماد بحال کرنے کے لیے صرف کیا۔

    دس منٹ کے وقفے کے بعد جب میں دوبارہ انٹرویو کے لئے کمرے میں گیا تو میری کیفیت کچھ اچھی تھی،کیونکہ انٹرویو کے پہلے مرحلے میں مجھے کچھ ان جانا سا حوصلہ ملا تھا۔

    میرے بعد ہم سب چھ کے چھ دوستوں کے انٹرویو مکمل کراۓ گئے۔

    انٹرویو کے خاتمے کے بعد میکاوی سر نے ہم سب کو کہا کہ اب تم چلے جاؤ اور اپنی اپنی نیند پوری کرو۔

    میں کل تک انٹرویو کے رزلٹس سے آپ کے پراجیکٹ مینیجر کو آگاہ کر دوں گا۔

    ہم سب شکریہ ادا کر کے ایکبار پھر کمپنی کیمپ میں واپس آگئے۔

    اگلی رات ہم سب کے لئے پچھلی راتوں سے بھی بھاری تھی،

    کیونکہ اگلے دن ہماری قسمت کا فیصلہ ہونا تھا۔

    اگلی صبح ہم سب کے کیرئر کے لئے بہت ہی اہم تھی۔

    بس یوں سمجھیے کہ یہ رات بھی کانٹوں پر ہی گزری،

    نیند تو جیسے کوسوں دور تھی۔

    کروٹیں بدلتے بدلتے رات گزری اور صبح پھر ہم سائیٹ آفس جا پہنچے۔

    کچھ دیر انتظار کے بعد ہمیں ہمارے پی ایم نے اپنے دفتر بُلایا اور انٹرویوز کے رزلٹ کے بارے میں بتاتے ہوۓ ہوۓ جو انکشاف کیا،

    وہ سواۓ میرے ،

    باقی سب کے لئے بہت ہی شاکنگ تھا۔

    میکاوی سر نے صرف مجھے کامیاب قرار دیا تھا،

    کیونکہ بقول اُن کے،

    میں ان کے سوالوں کے زبانی اور تحریری جواب دینے میں کافی حد تک کامیاب رہا تھا۔

    اگرچہ ان میں پچاس فیصد جواب تو غلط تھے مگر میں ان کے سوالوں کے جواب میں بے تکان بولتا رہا اور جب انہوں نے لکھنے کا کہا تو میں لکھنے میں بھی کامیاب رہا۔

    بتاتا چلوں کہ ہمارے یہ انٹرویوز انگلش زبان میں تھے۔

    اور میری اکیڈمک کوالیفیکیشن دوسرے دوستوں سے زیادہ ہونے کی وجہ سے انگلش میں جواب دیتے وقت کچھ زیادہ پریشانی نہیں ہوئ۔

    جبکہ باقی دوستوں کا ہاتھ انگلش میں بہت تنگ تھا،

    جیسا کہ ہم میں سے اکثر پاکستانیوں کے ساتھ یہ مشکل رہتی ہے۔

    وہ  سب میکاوی سر کے زیادہ تر سوالات اس وجہ سے سمجھ ہی نہیں پاۓ کیونکہ یہ سوالات انگریزی زبان میں پوچھے گئے تھے۔

    میرا فیلڈ کا تجربہ اُن سب سے کم تھا،

    ٹیکنیکی طور پروہ سب مجھ سے اچھے پروفیشنل تھے۔

    مگر کمزور انگلش کی وجہ سے مار کھا گئے۔

    انٹرویو کی ناکامی سے میرے اُن دوستوں کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا،

    کیونکہ پہلے تین مہینے ہم سب کا پروبیشن پیریڈ چل رہا تھا،

    جس میں کمپنی کے پاس ورکرز کو اپنی توقعات پر پورا نہ اترنے کے باعث تادیبی کاروائ کااختیار ہوتاہے۔

    میرے ان دوستوں کے پیکیج بھی تبدیل کئے گئے،

    انکی تنخواہوں میں چالیس فیصد تک کمی کر کے دوسری سائیٹ پر ٹرانسفر کر دیا گیا۔وہاں بھی انکی مشکلات کم نہ ہوسکیں اور وہ لمبا عرصہ جدوجہد میں رہے۔

    میں انگلش پر قدرے عبور اور اپنی خوش قسمتی سے اکیلا آدمی تھا،

    جو اسی پراجیکٹ پر سروائیو کر گیا،

    جس کے لئے ہمیں پاکستان سے لایا گیا تھا۔

    میں تقریبا” پراجیکٹ کے اختتام تک وہیں رہا اور الحمدللہ پراجیکٹ کی  کامیاب تکمیل میں بھرپور حصہ ڈالا۔

    اس زاتی تجربے اور مشاہدے کو آپ کے گوش گزارنے پر مجھے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے اس بیان نےمجبور کیا،جس میں انہوں نے چند روزانگلش زبان کے بارے میں کچھ ناپسندیدگی کا تاثر دیا۔

    مجھے وزیر اعظم کے اس بیان سے جزوی طور پر اختلاف ہے،

    ہم انگلش سے دور نہیں رہ سکتے،

    ایسا کرنے سے ہم دنیا سے دور ہو جائیں گے،

    انگلش بیرون ملک خصوصا” گلف میں نوکریوں کے لئے اہم ترین ٹُول ہے۔

    اس پر عبور حاصل کرنا بہت اہم اور ضروری ہے،

    ہو سکتا ہے کہ وزیر اعظم جو کہنا چاہ رہے ہوں،

    ہم ان کی بات اس تناظر میں سمجھ نہ پاۓ ہوں۔

    تاہم ہو سکتاہے کہ عمران خان کا مدعا یہ ہو کہ انگلش نہ آنے کی وجہ سے اپنے آپ کو احساس کمتری کا شکار نہ ہونے دیں۔

    یہ بات وزن رکھتی ہے کہ ہم اپنے آپ کو اور اپنی سوچ کو اتنا ہی اہم سمجھیں،

    جتنا گورے اپنی بات کو سمجھتے ہیں۔

    مگر انگلش ایک انٹرنیشنل زبان ہے،

    اسے سیکھنا ہمارے بچوں کے لئے بہت ضروری ہے۔

    بیرون ملک کام کرنے کے لئے یہ زبان انکی کامیابی کی ضمانت بن سکتی ہے۔

    اسلئے انگلش کی بطور زبان ،

    قدروقیمت سے انکار ممکن ہی نہیں۔

    کیا پتہ آپکی فیلڈ میں ٹیکنیکل تجربے کی کمی کو انگلش زبان دور کر کے اسی طرح قسمت کا دروازہ کھول دے۔

    جس طرح مجھ پر اللہ پاک نے اپنا کرم کیا#

    تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    @lalbukhari

  • کتابیں اور کتب خانے .تحریر:صائمہ رحمان

    کتابیں اور کتب خانے .تحریر:صائمہ رحمان

    کتابوں کی اہمیت اور ضرورت کسی بھی دور میں ختم نہیں ہو سکتی کیونکہ کتابیں ہماری بہترین دوست ہوتی ہیں۔ اور ہمیں سیر کرواتی ہیں معلومات کا بہترین ذریعہ ہے لیکن ہر شخص اس بات پر متفق ہے کہ مطالعہ کرنے سے علم و معلومات میں اضافہ ہوتا ہے لیکن ہر شخص مطالعہ نہیں کرتا البتہ جو لوگ مطالعہ کرتے ہیں وہ اس سے فائدے حاصل کرتے ہیں۔ موجودہ دور میں مطالعہ نہ کرنا بہت دیکھا جارہا ہے لوگوں میں کتب بینی کا شوق ختم ہوتا جا رہا ہے لوگ زیادہ محنت کرنے کے بجائے انٹرنیٹ سے معلامات حاصل کرنا زیادہ آسان سمجھتے ہیں بعض لوگ اپنی ملازمت سے مطمئن ہوکر مطالعہ چھوڑ دیتے ہیں۔ تجارت پیشہ افراد اپنی کاروباری مصروفیات کا بہانہ بناتے ہیں اور جو لوگ مطالعہ کرتے ہیں ان میں سے بھی بیشتر افراد بے ترتیب مطالعہ کرتے ہیں، کبھی کوئی کتاب اٹھالی، کبھی کوئی کتاب دیکھ لی، اس لئے مطالعہ کے باوجود کچھ حاصل نہیں کر ۔ہم کتابوں کا مطالعہ کیوں کرتے ہیں اس کے لئے ہمیں سمجھنے کے لئے پہلے ہمیں کتابوں کو سمجھنا ضروری ہے۔ کتابیں پڑھنا آپ کی جسمانی اور ذہنی صحت دونوں کو فائدہ پہنچاتا ہے ، اور وہ فوائد زندگی بھر قائم رہ سکتے ہیں۔ وہ ابتدائی بچپن میں شروع ہوتے ہیں اور سینئر سالوں تک جاری رہتے ہیں۔ یہاں ایک مختصر وضاحت دی گئی ہے کہ کتابیں پڑھنا آپ کے دماغ کو اور آپ کے جسم کو کیسے بہتر بنا سکتا ہے۔پڑھنا آپ کے ذہن کو لفظی طور پر بدل دیتا ہے۔ مصروف رکھنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
    ایم آر آئی اسکین کا استعمال کرتے ہوئے ، محققین نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پڑھنے میں دماغ میں سرکٹس اور سگنلز کا ایک پیچیدہ نیٹ ورک شامل ہوتا ہے۔ جیسے جیسے آپ کی پڑھنے کی صلاحیت پختہ ہوتی جاتی ہے ، وہ نیٹ ورک بھی مضبوط اور زیادہ نفیس ہوتے جاتے ہیں۔
    کہانیاں جو کرداروں کی اندرونی زندگی کو دریافت کرتی ہیں – دوسروں کے جذبات اور عقائد کو سمجھنے کی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہیں۔ جو طالب علم چھوٹی عمر سے باقاعدگی سے کتابیں پڑھتے ہیں ، وہ آہستہ آہستہ بڑی ذخیرہ الفاظ تیار کرتے ہیں۔

    کتابیں پڑھنے کے فوائد یہ آپ کی زندگی پر کس طرح مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔دماغ کو مضبوط کرتا ہےالفاظ کی تعمیر کرتا ہے۔علمی زوال کو روکتا ہےتناؤ کو کم کرتا ہےڈپریشن کو دور کرتا ہے۔
    اکثر کتابیں پڑھنے کے فوائد کو نہیں سمجھتے ، کچھ کہتے ہیں کہ یہ وقت کا ضیاع ہے ، کچھ اسے بورنگ سمجھتے ہیں ، اور بہت سی وجوہات کی بنا پر لوگ یقین رکھتے ہیں یا کہہ سکتے ہیں کہ ان کی ذہنیت ہے کہ کتابیں پڑھنا اتنا مفید نہیں ہے اور اس کا کوئی فائدہ نہیں ، صرف ایک وقت کا ضیاع ، توانائی کا ضیاع ، تاہم حقیقت اس طرح کی ذہنیت کے برعکس ہے ، اس کی مختلف وجوہات ہیں کیوں کہ پڑھنا بہت اہم اور فائدہ مند ہے۔
    کتب بینی آپ کو نئی چیزوں ، نئے طریقوں ، نئی تفہیم ، نئی معلومات ، حالات کو سنبھالنے کے نئے طریقے اور ان کو حل کرنے کے نئے طریقوں سے روشناس کراتا ہے ، پڑھتے ہوئے آپ چیزوں کو مختلف نقطہ نظر سے سمجھتے ہیں ، اس سے آپ کو دنیا اور اپنے آپ کو ایک مختلف انداز میں سمجھنے اور سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ ، پڑھنے سے آپ کو اپنے مشاغل معلوم کرنے میں مدد مل سکتی ہے ، اور آپ ایسی چیزوں کو دریافت کر سکتے ہیں جو بالآخر آپ کا کیریئر اور مستقبل میں کامیابی بن جاتی ہیں
    پڑھنا آپ کو اپنے آپ کو مختلف طریقے سے سمجھنے میں مدد دیتا ہے ، یہ آپ کے ذہن کو کھولتا ہے ، اور آپ کو اپنی زندگی میں آنے والی تبدیلیوں کو قبول کرنے میں مدد دیتا ہے ، اور آپ کو زندگی کے مختلف مثبت پہلوؤں کو سمجھنے میں بھی مدد دیتا ہے۔ اور دنیا کو زیادہ صحیح طریقے سے سمجھنے میں آپ کی مدد کرتا ہے۔ پڑھنا آپ کو ہوشیار بناتا ہے۔انسانی تہذیب کے ارتقاء داستان کتاب اور کتب خانوں کے تذکرے کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی یہ سب تاریخ ان کتابوں میں بند ہیں تحریروں اور دستاویزات کے ان ذخیروں کو جس جگہ محفوظ کیا گیا وہی کتب خانے کی ابتدائی شکل تھی۔
    کتب خانےپہلا اور اہم فائدہ مفت کتابیں مل جاتی ہے کتب خانے یعنی لائبریری کو کتابوں کا خزانہ کہنا غلط نہیں ہو گا جی ہاں! مفت کتابیں! ہم اکثر بھول جاتے ہیں کہ لائبریریاں آپ کو کتابیں بالکل مفت میں لینے دیتی ہیں۔ آپ کو کسی بھی کتاب کے لیے ایک پیسہ خرچ کرنے کی ضرورت نہیں ہے جو آپ ادھار لیتے ہیں۔ وہ لوگ جو شوق سے پڑھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ کتابیں بہت مہنگی ہوسکتی ہیں اور اگر آپ کوئی خریدنے جاتے ہیں تو آپ کی جیب میں بہت بڑا نقصان ہوسکتا ہے۔ ایک بار پڑھنے کے لیے کتابیں خریدنا حماقت کا اشارہ ہو سکتا ہے۔ آپ کو صرف ایک مہنگی کتاب کیوں خریدنی چاہیے تاکہ اسے بیکار بنا سکیں جب آپ اس کے ساتھ کام کر لیں۔ ہوشیار انتخاب کریں اور مقامی لائبریری کی طرف جائیں اور جتنی کتابیں آپ لے سکتے ہیں ادھار لیں۔ یہ بہت مفید بھی ہے کیونکہ آپ کے پاس کتابیں حاصل کرنے کی کوئی حد نہیں ہوگی اور آپ اس کے مکمل ہونے کے بعد اس کا تبادلہ کر سکتے ہیں اور پڑھنے کے لیے ایک نئی کتاب حاصل کر سکتے ہیں۔ کتاب پڑھنے کی خواہش کو صرف اس لیے ختم نہ کریں کہ یہ مہنگی ہے۔ لائبریری کارڈ حاصل کریں اور لطف اٹھائیں۔
    ہر قسم کی کتابوں کی دستیابی۔ لائبریری کتابوں کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ آپ کو یہاں ہر قسم کی کتابیں مل سکتی ہیں۔ مختلف نوع کی کتابیں جیسے سائنس فکشن ، افسانہ اور بہت کچھ لائبریری میں لوگوں کے لیے ادھار لینے کے لیے رکھا گیا ہے۔ آپ لائبریری میں موجود کتابوں کو بہت سے مختلف مقاصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ آپ اپنی تحقیق میں مدد کے لیے دیگر حوالہ کتابوں کے ساتھ مطالعہ کرنے میں مدد کے لیے ٹیکسٹ بکس استعمال کر سکتے ہیں۔ مختلف قسم کی کتابوں کی دستیابی آپ کی زندگی کو آسان بنا دے گی کیونکہ آپ کو پورے شہر میں کتابیں ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں ہے اور ایک چھت تلے ہر چیز مل سکتی ہے۔

    email saima.arynews@gmail.com
    Twitter Account: https://twitter.com/saimarahman6

  • ٹیکنالوجی اور سائنس کے درمیان واقفیت   تحریر: زاہد کبدانی

    ٹیکنالوجی اور سائنس کے درمیان واقفیت تحریر: زاہد کبدانی

    ٹیکنالوجی پر اس تحریک میں ، ہم اس بات پر بات کرنے جا رہے ہیں کہ ٹیکنالوجی کیا ہے ، اس کے استعمال کیا ہیں ، اور یہ بھی کہ ٹیکنالوجی کیا کر سکتی ہے؟ سب سے پہلے ، ٹیکنالوجی سے مراد مشینری بنانے ، مانیٹر کرنے اور ڈیزائن کرنے کے لیے تکنیکی اور سائنسی علم کا استعمال ہے۔ نیز ، ٹیکنالوجی انسانوں کی مدد کرنے والے دوسرے سامان بنانے میں مدد دیتی ہے۔

    ٹیکنالوجی پر مضمون – ایک فائدہ یا فائدہ؟

    ماہرین برسوں سے اس موضوع پر بحث کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ، ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی کو آسان بنانے کے لیے ایک طویل راستہ طے کیا لیکن اس کے منفی پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کئی سالوں میں تکنیکی ترقی نے آلودگی میں شدید اضافہ کیا ہے۔ نیز ، آلودگی صحت کے بہت سے مسائل کی ایک بڑی وجہ بن گئی ہے۔ اس کے علاوہ ، اس نے لوگوں کو جوڑنے کے بجائے معاشرے سے کاٹ دیا ہے۔ سب سے بڑھ کر ، اس نے مزدور طبقے سے بہت سی نوکریاں چھین لی ہیں۔

    چونکہ وہ مکمل طور پر مختلف شعبے ہیں لیکن وہ ایک دوسرے پر منحصر ہیں۔ نیز ، یہ سائنس کی شراکت کی وجہ سے ہے ہم نئی جدت پیدا کر سکتے ہیں اور نئے تکنیکی اوزار بنا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ، لیبارٹریوں میں کی جانے والی تحقیق ٹیکنالوجیز کی ترقی میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ دوسری طرف ، ٹیکنالوجی سائنس کے ایجنڈے کو بڑھا دیتی ہے۔

    ہماری زندگی کا اہم حصہ۔

    باقاعدگی سے ترقی پذیر ٹیکنالوجی ہماری زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکی ہے۔ نیز ، نئی ٹیکنالوجیز مارکیٹ میں طوفان برپا کر رہی ہیں اور لوگ وقت کے ساتھ ان کی عادت ڈال رہے ہیں۔ سب سے بڑھ کر ، تکنیکی ترقی قوموں کی ترقی اور ترقی کا باعث بنی ہے۔

    ٹیکنالوجی کا منفی پہلو۔

    اگرچہ ٹیکنالوجی ایک اچھی چیز ہے ، ہر چیز کے دو رخ ہوتے ہیں۔ ٹیکنالوجی کے بھی دو پہلو ہیں ایک اچھا اور دوسرا برا۔ یہاں ٹیکنالوجی کے کچھ منفی پہلو ہیں جن پر ہم بات کرنے جا رہے ہیں۔

    آلودگی۔

    نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ صنعت کاری بڑھتی ہے جو ہوا ، پانی ، مٹی اور شور جیسے بہت سے آلودگیوں کو جنم دیتی ہے۔ نیز ، وہ جانوروں ، پرندوں اور انسانوں میں صحت سے متعلق کئی مسائل پیدا کرتے ہیں۔

    قدرتی وسائل کا ختم ہونا۔

    نئی ٹیکنالوجی کے لیے نئے وسائل درکار ہوتے ہیں جس کے لیے توازن بگڑ جاتا ہے۔ بالآخر ، یہ قدرتی وسائل کے زیادہ استحصال کا باعث بنے گا جو بالآخر فطرت کے توازن کو بگاڑ دیتا ہے۔

    بے روزگاری۔

    ایک مشین بہت سے کارکنوں کی جگہ لے سکتی ہے۔ نیز ، مشینیں بغیر کسی رکے کئی گھنٹوں یا دنوں تک مسلسل رفتار سے کام کر سکتی ہیں۔ اس کی وجہ سے ، بہت سے مزدوروں نے اپنی نوکری کھو دی جو بالآخر بے روزگاری میں اضافہ کرتی ہے۔

    ٹیکنالوجی کی اقسام۔

    عام طور پر ، ہم ٹیکنالوجی کا ایک ہی پیمانے پر فیصلہ کرتے ہیں لیکن حقیقت میں ، ٹیکنالوجی مختلف اقسام میں تقسیم ہے۔ اس میں انفارمیشن ، تخلیقی ، صنعتی، تخلیقی  اور بھی بہت کچھ شامل ہے۔ آئیے ان ٹیکنالوجیز پر مختصر بحث کریں۔

    صنعتی ٹیکنالوجی۔

    یہ ٹیکنالوجی مشینوں کی تیاری کے لیے انجینئرنگ اور مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجی کو منظم کرتی ہے۔ نیز ، یہ پیداواری عمل کو آسان اور آسان بنا دیتا ہے۔

    تخلیقی ٹیکنالوجی۔

    اس عمل میں آرٹ ، اشتہارات اور پروڈکٹ ڈیزائن شامل ہیں جو سافٹ وئیر کی مدد سے بنائے جاتے ہیں۔ نیز ، اس میں تھری ڈی پرنٹرز ، ورچوئل رئیلٹی ، کمپیوٹر گرافکس اور دیگر پہننے کے قابل ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔

    انفارمیشن ٹیکنالوجی

    اس ٹیکنالوجی میں معلومات بھیجنے ، وصول کرنے اور ذخیرہ کرنے کے لیے ٹیلی کمیونیکیشن اور کمپیوٹر کا استعمال شامل ہے۔ انٹرنیٹ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی بہترین مثال ہے۔

    آج ہر وہ چیز جو ہم اپنی روز مرہ زندگی میں استعمال کرتے ہیں وہ ٹیکنالوجی کا تحفہ ہے اور جس کے بغیر ہم اپنی زندگی کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ نیز ، ہم ان حقائق سے انکار نہیں کر سکتے کہ اس سے ہمارے اردگرد کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

    ٹیکنالوجی پر مضمون پر عمومی سوالات

    Q.1 انفارمیشن ٹیکنالوجی کیا ہے؟

     یہ ٹیکنالوجی کی ایک شکل ہے جو مطالعے کے لیے ٹیلی کمیونیکیشن اور کمپیوٹر سسٹم استعمال کرتی ہے۔ نیز ، وہ ڈیٹا بھیجتے ، بازیافت کرتے اور محفوظ کرتے ہیں۔

    Q.2 کیا ٹیکنالوجی انسانوں کے لیے نقصان دہ ہے؟

     نہیں ، ٹیکنالوجی انسانوں کے لیے نقصان دہ نہیں جب تک کہ اس کا صحیح استعمال نہ ہو۔ لیکن ، ٹیکنالوجی کا 

    غلط استعمال نقصان دہ اور مہلک ہو سکتا ہے۔

    @Z_Kubdani

  • اور سگریٹ نوشی جان لے گئی     تحریر: نصرت پروین

    اور سگریٹ نوشی جان لے گئی تحریر: نصرت پروین

    وہ نومبر کی سرد رات تھی۔ مہندی کی تقریب میں جہاں تمام لوگ مہندی کی رسم میں مگن تھے وہیں چند قدم کے فاصلے پر موجود کمرے میں ایک خوبصورت نوجوان صوفے پہ برا جمان بیٹھا نشے کے ابتدائی قدم سگریٹ کے لمبے لمبے کش لے رہا تھا۔ جو گزشتہ دنوں ہی والد کے شفقت بھرے سائے سے محروم ہوا تھا۔ اور ماں کا عزم تھا کہ بیٹے کو معاشرے کے لئے مسیحا یعنی بہترین ڈاکٹر بنائے۔لیکن وہ کہاں جانتی تھی کہ جسے وہ معاشرے کے لئے مسیحا بنانے کے خواب دیکھ رہی تھی وہ تو معاشرتی لعنت نشے کا ابتدائی سفر طے کرتے ہوئے خود کو موت کے منہ میں دھکیل رہا تھا۔ پھر کافی ماہ گزر گئے اور وہ شہر میں مقیم بظاہرتو ڈاکٹر لیکن خفیہ طور پر نشے کی لعنت سے موت تک کا سفر طے کر رہا تھا۔ پھر ایک دن ماں کو واٹس ایپ پر ایک تصویر موصول ہوئی جسے دیکھتے ہی وہ ایک نہ ختم ہونے والی اذیت میں مبتلا ہو گئی۔ اس کا لختِ جگر اپنے دو عزیز دوستوں کے ساتھ بیٹھا شیشہ پینے جیسی لعنت میں مبتلا تھا۔ اور اب بہت دیر ہو چکی تھی۔ دو دن بعد ہی ماں کو پتہ چلا کہ اس کا اکلوتا بیٹا کینسر جیسے تکلیف دہ مرض میں مبتلا ہسپتال میں موجود ہے۔ ماں آنسوؤں کے سمندر کو حلق سے اتار کر وہاں پہنچی۔ سامنے اپنے عزیز جان بیٹے کو دیکھا تو پہلے سے موجود شدید اذیت میں اور اضافہ ہوا۔ اور پھر وہ نوجوان مسلسل 53 دن کینسر جیسے مرض کے ساتھ زندگی موت کی کشمکش میں گزار کر آخر کار ایک شام دنیا سے چلا گیا اور تنہا ماں عمر بھر کے لئے ایک شدید اذیت ناک حالت میں مبتلا ہو کر اپنے حوش و حواس کھو بیٹھی۔
    یہ ہمارے معاشرے میں بہت سے گھرانوں کی کہانی ہے جن کا اغاز سگریٹ سے ہوتا ہے اور پھر نشے کی سیڑھیاں عبور کرتے ہوئے خود کو موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں لیکن اپنے سے جڑے لوگوں کو بھی ہمیشہ کی اذیت میں مبتلا کر جاتے ہیں۔
    سگریٹ نوشی کے بارے میں کہا جاتا ہے:
    "گھر پھونک تماشا دیکھ”
    سگریٹ نوشی جسے نشے کی حرام لعنت کی پہلی سیڑھی کہا جاتا ہے۔ اور پھر اس کے بعد کئی اور تاریک سیڑھیاں ہوتی ہیں جو انسان کو تباہی کے دہانے پہ لے جاتی ہیں۔ بد قسمتی سے سگریٹ نوشی ہمارے معاشرے میں فیشن کے نام پر چھوت کی طرح پھیل رہی ہے۔ اور المیہ یہ ہے کہ اکثریت سگریٹ پینا برا نہیں سمجھتی۔ لیکن اس کے جان لیوا نتائج کسی سے چھپے نہیں۔ پھر بھی کھلا تضاد پایا جاتا ہے کہ ایک طرف سگریٹ پینے والوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اور اور دوسری طرف اس کے اذیت ناک نتائج بھی سب کو بھگتنے پڑتے ہیں۔ بہت سے نوجوان جن میں لڑکیاں بھی شامل ہیں۔ وہ جنہوں نے اپنا مستقبل شاندار بنانا ہوتا ہے اس لعنت میں مبتلا ہو کر موت کو پکار رہے ہوتے ہیں۔ اور اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی موت کا پروانہ تحریر کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ بہت تکلیف دہ ہے کہ جس قوم کے افراد ہی غیر صحت مند سرگرمیوں میں مشغول ہوں یا ان کی صحت ہی انحطاط پذیر ہو وہ قوم اپنی ترقی اور خوشحالی کے عظیم الشان منصوبوں پر کیسے عمل پیرا ہو کر اپنی آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کی ضمانت دے سکتی ہے۔؟سگریٹ نوشی انسانی صحت کے لئے انتہائی مہلک کردار ادا کر کے تمام جسمانی اور ذہنی صلاحیتوں کو مفلوج کر دیتا ہے۔ سگریٹ نوشی معاشرے کے لئے زہرِ قاتل کی حثیت رکھتی ہے۔ لوگوں کی کثیر تعداد ایسی ہے جن کا کہنا ہے کہ وہ کام کے بوجھ اور ذہنی تناؤ دور کرنے لئے سگریٹ کا استعمال کرتے ہیں۔ لیکن میڈیکل تحقیقات سے ثابت ہے کہ ان اقوال میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ انسان کو سگریٹ پیتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ تناؤ کم ہو رہا ہے لیکن ایسا نہیں ہوتا دراصل کچھ لمحے کام سے وقفہ مل جاتا ہے اور پھر سگریٹ میں موجود نیکوٹین دماغ کو متاثر کرتی ہے۔ اور انسان جب کام کرنے لگتا ہے تو سگریٹ کی طلب پھر سے ہونے لگتی ہے یوں وہ اس لعنت کا عادی ہوجاتا ہے۔ اور کیفییت ایسی ہوجاتی ہے کہ:
    "چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی”
    ہماری قومی دولت کا ایک بہت بڑا حصہ محض سگریٹ نوشی جیسی فضول عادت کی نذر ہوجاتا ہے اور پھر اس عادت کے باعث پیدا ہونے والے مہلک امراض کے مقابلے میں ہمارا گراں قدر زر مبادلہ ضائع ہوجاتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل عالمی صحت کے مطابق سگریٹ نوشی کرنے والوں میں سے زیادہ تر لوگوں کے مرنے کی وجہ سگریٹ نوشی ہی ہوتی ہے۔ سگریٹ نوشی سے ہر سال مرنے والوں کی تعداد ستر لاکھ ہے۔ دنیا بھر میں اسی فیصد سگریٹ نوشی کرنے والے ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک سے تعلق رکھتے ہیں ۔ اسلامی ممالک میں بھی بہت سے لوگ سگریٹ نوشی پر اربوں ڈالر خرچ کرتے ہیں۔ صرف پاکستان میں سگریٹ نوشی اور اس سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے علاج پر تین کھرب روپے خرچ ہوتے ہیں۔ جبکہ سعودی عرب میں اٹھائیس ارب ڈالر، مصر میں گیارہ ارب پاؤنڈ اسی پر خرچ کئے جاتے ہیں۔ ترکی میں صرف سگریٹ نوشی سے بیماریوں کا شکار ہونے والوں پر گیارہ ارب ڈالر کی رقم خرچ ہوتی ہے۔ اس طرح دنیا بھر میں آٹھ لاکھ نوے ہزار بچے ہر سال سگریٹ کے دھوئیں سے زہر آلودہ فضا کی وجہ سے مر جاتے ہیں۔ جو خود تو سگریٹ نوشی نہیں کرتے لیکن سگریٹ نوشی جیسے مضر اثرات کا شکار ہوجاتے ہیں۔ دنیا بھر میں ہر سال پینسٹھ کھرب ڈالر کی خطیر رقم سگریٹ بنا کر اسے دھوئیں کی نظر کر دینے پر خرچ ہوتی ہے۔ اتنی بڑی رقم کو کنویں میں اڑانے کی بجائے اگر غربا اور ضرورتمندوں میں خرچ کیا جائے تو دنیا بھر کے ضرورتمندوں کا ایک بہت بڑا حصہ اس سے فائدہ اٹھا کر اپنی زندگی بہتر کر سکتا ہے۔ اور سگریٹ نوشی سے مرنے والے لاکھوں لوگ اپنی زندگیاں محفوظ بنا سکتے ہیں۔
    سگریٹ نوشی صرف خود سگریٹ پینے والوں کو ہی نہیں بلکہ ان کے ارد گرد موجود لوگوں کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔ ایسے افراد جو خود سگریٹ نہیں پیتے صرف اس دھوئیں سے سانس لیتے ہیں ان کے لئے دل کے دورے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
    سگریٹ نوشی ایک ایسی لعنت ہے جو بہت سی بیماریوں کا سبب بنتی ہے۔ بہت سے لوگ پھیپھڑوں کے امراض میں مبتلا ہوجاتے ہیں ۔ کچھ کینسر جیسے امراض کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اخلاقی اعتبار سے دیکھیں تو بھی سگریٹ نوشی قابلِ مذمت ہے اس سے اور بہت سی اخلاقی بیماریاں پھیلتی ہیں۔ بہت سے لوگ گمراہ ہوجاتے ہیں۔ یہ ایک ایسا فعل ہے جسے کسی بھی مذہب میں جائز نہیں سمجھا جاتا۔ آپ اسلام سے ہٹ کر کسی اور سکالر سے پوچھ لیں جس نے واقعی سگریٹ پر تحقیق کی ہو تو اس کے خلاف بہت کچھ بتا دے گا۔ اور اسلام کی بات کریں تو شریعت میں دو آراء پائی جاتی ہیں۔ ایک کے مطابق یہ مکروہ ہے اور ایک کے مطابق حرام ہے اور حرام والی رائے زیادہ مضبوط ہے۔
    اللہ نے قرآن میں فرمایا:
    وَ لَا تُلۡقُوۡا بِاَیۡدِیۡکُمۡ اِلَی التَّہلُکَةِ
    ترجمہ: اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو۔
    سورۃ البقرہ: 195
    اور سگریٹ نوشی کرنے والا خود کو موت کے منہ میں دھکیل کر ہلاکت کو دعوت دیتا ہے۔
    اِنَّ الۡمُبَذِّرِیۡنَ کَانُوۡۤا اِخۡوَانَ الشَّیٰطِیۡنِ ؕ وَ کَانَ الشَّیۡطٰنُ لِرَبِّهٖ کَفُوۡرًا ﴿۲۷﴾
    ترجمہ: بے جا خرچ کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے پروردگار کا بڑا ہی ناشکرا ہے۔
    سورۃ بنی اسرائیل:27
    اور سگریٹ نوشی پر ایک خطیر رقم فضول خرچی کے طور پر خرچ کر کے اس شیطانی فعل کو انجام دیا جاتا ہے۔
    اور کھانا تو رزق ہوتا ہے۔ اگر سگریٹ رزق ہوتا تو آپ اسے پینے سے پہلے بسم اللہ پڑھتے۔ اسے پینے کے بعد الحمدللہ پڑھتے۔ اور کیا روٹی کا ٹکرا بچا کر اسے پاؤں میں کچل دیا جاتا ہے اسی طر ح اگر آپ چاول کھا رہے ہوں تو کیا آپ تھوڑے سے بچا کر یوں مسل کر پھینک دیں گے نہیں آپ ایسا نہیں کریں گے کیونکہ وہ رزق ہے۔ لیکن سگریٹ تو رزق نہیں ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ انسان اسے پاؤں تلے روند دیتا ہے۔
    آپ صرف اپنی فطرت سے پوچھیں جو اللہ نے آپ کو دی ہے۔ جس فطرت کی بنا پر اللہ نے آپ کو تخلیق کیا۔ اللہ نے آپ کو فطرتِ سلیم پر پیدا کیا ہے۔ آپ اپنے اندر سے پوچھیں یہ حلال ہے یا حرام؟ جواب خود ہی آجائے گا۔ کہ یہ اچھی چیزوں میں سے نہیں ہے۔ اگر آپ اس لت میں ملوث ہیں تو چھوڑ دیجئے۔ ایک مسلمان جو اپنے آپ کو پاکیزگی کی طرف لے جاتا ہے اسے یہ عمل زیب نہیں دیتا۔ اور اللہ توبہ کرنے والوں اور پاک صاف رہنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ تو اس گھناؤنے فعل سے توبہ کیجئے اور پاکیزگی اختیار کیجیے۔
    جزاکم اللہ خیراً کثیرا
    @Nusrat_writes

  • ہماری معیشت کو درپیش مساٸل تحریر:شمسہ بتول

    ہماری معیشت کو درپیش مساٸل تحریر:شمسہ بتول

    پاکستان کی معیشت کو اندرونی اور بیرونی طور پر بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے۔ اندرونی طور پر معیشت کو درپیش مساٸل میں کم برآمدی شعبے ، سستی درآمدات پر زیادہ انحصار ، ایندھن اور توانائی کی زیادہ قیمت ، اعلی شرح سود ، کم تربیت یافتہ لیبر فورس ، سرمایہ کاری پر کم منافع ، جدید ٹیکنالوجی کی کمی وغیرہ شامل ہے ۔ان معاشی مسائل نے ایک بڑی آبادی کے لیے موثر طریقے سے پیداوار کی فراہمی کو مشکل بنا دیا ہے اور ان سب کی وجہ سے بالواسطہ طور پر بیرونی معاشی بحران پیدا ہوا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر ہماری برآمدات کم اور درآمدات زیادہ ہونے کی وجہ سے توازنِ اداٸیگی میں بگاڑ ہیدا ہوتا جس نے ملک کو ایک بار پھر آئی ایم ایف کے قرض کے بوجھ تلے دبا دیا اور آٸی ۔ایم ۔ایف کی سخت پالیسیز کو اپنانے پہ مجبور کر دیا۔گھریلو صنعت اور پیداوار کو برقرار رکھنے اور بڑھانے کے لیے ہمیں معاشی پالیسیز کو بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ اگر صنعت کو بڑھانے کے لیے مزید درآمدات کی جاٸیں تو اس طرح ہمارے اپنے غیر ملکی ذخائر میں کمی واقع ہو گی یا وہ ختم ہو جاٸیں گے۔ غیر ملکی ذخائر میں کمی ناپسندیدہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا باعث بنتی ہے جس سے ہماری معیشت مزید ابتری کی طرف جاۓگی۔ ہمیں اپنی درآمدات کو کم سے کم کرنا ہو گا اور متبادل ذراٸع دریافت کرنا ہوں گے تا کہ کرنٹ اکاٶنٹ خسارے سے بچا جا سکے ۔
    آئی ایم ایف کی سخت پالیسیز اور سود کی شرح میں اضافہ کی وجہ سے ہماری معیشت مزید کمزور ہو رہی ۔ ملک کا یہ کمزور معاشی ڈھانچہ ایک تنگ صنعتی بنیاد ، کم برآمدات ، زیادہ ایندھن اور توانائی کی قیمتوں ، متضاد تجارتی پالیسیوں ، غیر صنعت کاری کا نتیجہ ہے۔فاٸنل اشیاء کی برآمدات اور خام مال کی درآمدات ملکی وساٸل کا بہترین استعمال نہ کرنا یہ سب ناقص معاشی کارکردگی کی وجہ بنتی ہیں جب برآمدات درآمدات سے کم ہوتی ہیں تجارتی خسارہ پیدا ہوتا ہے۔ یہ تجارتی خسارہ ملک کے قیمتی غیر ملکی ذخائر کو کھا جاتا ہے۔ یہ تجارتی خسارہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بھی پیدا کرتا ہے۔ پاکستان کی برآمدات تقریبا $ billion 22 فراہم کرتی جبکہ اس کی درآمدات $ 52bn کے گرد گھوم رہی ہیں۔ 30 بلین ڈالر کا تجارتی خسارہ جو ہوا اسے قرض لے کر پورا کیا جاتا پھر world Bank ہو یا IMF یہ ترقی یافتہ ممالک کے اصولوں پہ عمل کرتے ہوۓ ترقی پزیر ممالک کو سخت شراٸط پر قرض دیتے جس سے آہستہ آہستہ ہماری معیشت مزید خسارہ کا شکار ہونے لگتی
    آئی ایم ایف سے قرض لینے سے عارضی طور پر تو کرنٹ اکاٶنٹ خسارہ کنٹرول ہو جاتا ۔ لیکن یہ مصنوعات کو مہنگا کر دے گا ہماری روپے کی قدر مزید گر جاتی اور اس طرح مہنگائی میں مزید اضافہ ہو جاتا ۔ یہ معیشت کے لیے غیر متنازعہ صورتحال پیدا کرتا ۔
    موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے کے ایک سال بعد ڈالر کے مقابلے میں ہمارے روپے کی قدر مزید گری اور ڈالر 112 سے 165 روپے تک مہنگا ہوا۔ پاکستان قدرتی زخاٸر سے مالا مال ملک ہے ہمارے پاس وہ تمام وساٸل موجود ہیں جن کو بہتر طریقے سے استعمال کر کے ہم معیشت کے بہت سے مساٸل پر قابو پا سکتے۔ہمارے پاس لیبر فورس کی بھی کوٸی کمی نہیں لیکن ہمیں اس لیبر فورس کو ٹرینگز دینا ہو گی انہیں سکلز سکھانا ہونگی ۔ ہمارے پاس خام مال کے وسیع زخاٸر ہیں ہم ان وساٸل کو استعمال کر کے اشیاء کو اپنے ملک میں پیدا کرنے پر ترجیح دیں اور فاٸنل پروڈکٹس کو عالمی منڈی میں پیش کریں۔ ہماری صنعت تباہ حالی کا شکار اسلیے بھی ہے کیونکہ ہم خام مال سستے داموں درآمد کرتے اور مہنگے داموں ان سے اشیاء خریدتے جسکی وجہ سے توازن اداٸیگی بگڑ جاتا۔ لیکن اگر ہم اس خام مال سے خود اشیاء تیار کریں گے تو اس سے ہماری معیشت پر اچھا اثر پڑے گا ہماری گھریلو صنعت کو فروغ حاصل ہو گا لوگوں کو روزگار ملے گا اور ہمارے زرمبادلہ میں بہتری آۓگی
    ہزاروں مسائل سے دوچار معیشت کی بحالی کے لیے مزید ٹھوس اقدامات کی بھی ضرورت ہے۔ پاکستان قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے اور صرف اتنا ہی نہیں قرضوں کا یہ سلسلہ ہماری آنے والی نسلوں تک جا رہا 2018 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پیدا ہونے والا ہر بچہ تقریباً 130,000 کا مقروض ہے جو وقت کے ساتھ بڑھتا ہوا ہی نظر آ رہا۔ اس وقت بیرونی قرضہ 116.3 بلین ڈالر ہے۔معیشت کی بحالی کے لیے آئی ایم ایف ڈیل پر انحصار کرنا ایک خوفناک غلطی ہوگی۔ ہمیں اپنے وساٸل اپنی لیبر فورس اور انسانی سرماۓ کے وساٸل کو بروۓ کار لانا ہو گا ایک بہترین انتظامی ڈھانچہ تشکیل دینا ہو گا جو معیشت کو بحالی کی طرف لے جاۓ ورنہ مستقبل میں ہمیں مزید نقصان اٹھانا پڑے گا۔

    @b786_s

  • سگریٹ نوشی سے ہونے والی جان لیوا بیماریاں تحریر فضل عباس

    سگریٹ نوشی سے ہونے والی جان لیوا بیماریاں تحریر فضل عباس

    کسی بھی چیز کی زیادتی کو اسکی عادت ہو جانے کو نشے کا نام دیا جاتا ہے ،پھر وہ نشہ وہ عادت چاہے کسی چیز کی ہو یا انسان کی آپکو تباہی کے دہانے تک لے جاتی ہے جہاں آپ اپنی زندگی اور اپنے سے جڑے لوگوں کیلیے صرف باعث تکلیف بن کر رہ جاتے ہیں
    یوں تو بہت سے نشے ہیں لیکن سب سے سستہ اور نوجوان نسل میں برقی رفتار سے پھیلتا ہوا نشہ سگریٹ نوشی ہے
    سگریٹ نوشی دو طرح کی ہوتی ہے
    ایکٹو سموکنگ، جس میں کوئی بھی شخص براہ راست سگریٹ نوشی کرتا ہے اور اس زہریلے دھویں زہریلے مواد کے ساتھ اپنی رگوں میں اتار کر لمحہ لمحہ موت کو قریب کرتا ہے۔
    اور
    پیسو سموکنگ ،جس میں آپ بذات خود سگریٹ نوشی نہیں کرتے لیکن آپ کے ارد گرد موجود سگریٹ نوشوں کے سگریٹ کا دھواں ہوا میں شامل ہوکر آپکے پھیپھڑوں تک جاتا ہے۔
    سگریٹ نوشی نا صرف ہمیں معاشرتی طور پر تباہ و برباد کرتی ہے بلکہ انسانی صحت پر بھی بری طرح اثر انداز ہوتی ہے ، اور جان لیوا بیماریوں کا باعث بنتی ہے، جن میں مبتلا ہو کر ہر سال لاکھوں لوگ لقمہ اجل بن جاتے ہیں ۔
    سگریٹ نوشی سے ہونے والی دس بڑی بیماریاں اور ان کے جسم انسانی پر اثرات درج زیل ہیں

    1 پھیپھڑوں کا کینسر
    ہر سال پھیپھڑوں کے کینسر کے باعث موت کا شکار ہونے والے دس لاکھ افراد میں سے %85 ایسے لوگ ہیں جن میں کینسر کا سبب سگریٹ نوشی ہے ۔
    سگریٹ میں موجود زہریلے مرکبات سانس کی نالی سے ہوتے ہوئے پیپھڑوں تک رسائی حاصل کرتے ہیں اور خلیات کو تباہ کرتے ہیں ۔ مرض کے ابتدائی دور میں اسکی علامات ظاہر نہیں ہوتی عموما اس کی تشخیص آخری مراحل میں ہوتی ہے ۔اسکی عام علامات میں ،مسلسل کھانسی ،کھانسی کے دوران منہ سے خون کا آنا،سانس لینے میں رکاوٹ ،سینے کی تکلیف ،اور سر درد وغیرہ شامل ہیں
    بر وقت ڈاکٹر سے رجوع،سگریٹ نوشی کا بائیکاٹ ،مکمل احتیاط اور علاج کے زریعے اس بیماری سے چھٹکارہ ممکن ہے
    2. (دائمی رکاوٹ پلمونری بیماری) COPD
    ایک رکاوٹ پھیپھڑوں کی بیماری ہے جس کی وجہ سے سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ سنگین طویل مدتی معذوری اور ابتدائی موت کا سبب بنتا ہے۔ سی او پی ڈی تھکاوٹ سے شروع ہوتی ہے اور، پھر خراب ہوتی جاتی ہے ، یہاں تک کہ سیڑھیوں کے مختصر سیٹ پر چڑھنا یا پیدل چلنا ناممکن ہے۔ یہ لوگوں کو ان کے گھروں میں قید کردیتی ہے ، اپنی پسند کی چیزیں کرنے یا دوستوں کو دیکھنے سے قاصر ہے۔ تمام سی او پی ڈی کا تقریبا 80 فیصد سگریٹ نوشی کی وجہ سے ہوتا ہے۔

    3۔دل کی بیماری
    تمباکو نوشی آپ کے جسم کے تقریبا ہر عضو کو نقصان پہنچاتی ہے ، بشمول آپ کے دل۔ تمباکو نوشی آپ کی شریانوں میں رکاوٹ اور تنگی کا سبب بن سکتی ہے ، جس کا مطلب ہے کہ آپ کے دل میں خون اور آکسیجن کا بہاؤ کم ہے۔ جب امریکہ میں سگریٹ کا استعمال کم ہوا تو دل کی بیماریوں کی شرح بھی کم ہوئی۔ پھر بھی ، دل کی بیماری امریکہ میں موت کی پہلی وجہ بنی ہوئی ہے۔

    4.دمہ/ استھما
    دمہ پھیپھڑوں کی ایک دائمی بیماری ہے جو آپ کے پھیپھڑوں سے ہوا کو باہر سے اندر اوراندر سے باہر منتقل کرنا مشکل بناتی ہے – دوسری صورت میں اسے "سانس لینے” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ چونکہ سگریٹ کا دھواں ہوا کے راستوں کو پریشان کرتا ہے ، یہ اچانک اور شدید دمہ کے حملوں کو متحرک کرسکتا ہے۔ دمہ ایک سنگین صحت کی حالت ہے۔ تمباکو نوشی اسے مزید خراب کرتی ہے۔

    5۔زیابیطس
    اگر آپ سگریٹ نوشی کرتے ہیں تو آپ کو ٹائپ 2 ذیابیطس ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ تمباکو نوشی نہ کرنے والوں کے مقابلے میں ٹائپ 2 ذیابیطس کا خطرہ 30 سے ​​40 فیصد زیادہ ہے۔ مزید برآں ، تمباکو نوشی ذیابیطس کی تشخیص کے بعد پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھاتا ہے ، جیسے دل اور گردے کی بیماری ، ٹانگوں اور پیروں میں خون کا ناقص بہاؤ (جو کہ انفیکشن اور ممکنہ کٹائی کا باعث بنتا ہے) ، اندھا پن اور اعصاب کو نقصان پہنچاتا ہے۔

    6۔اسٹروک
    چونکہ تمباکو نوشی آپ کی شریانوں کو متاثر کرتی ہے ، اس لیے یہ فالج کا باعث بن سکتی ہے۔ فالج اس وقت ہوتا ہے جب آپ کے دماغ کو خون کی فراہمی عارضی طور پر بند ہو جائے۔ دماغ کے خلیات آکسیجن سے محروم ہوتے ہیں اور مرنا شروع ہو جاتے ہیں۔ فالج ، دماغی فعل میں تبدیلی اور موت کا سبب بن سکتا ہے۔ اسٹروک ریاست ہائے متحدہ میں موت کی پانچویں اہم وجہ اور بالغ معذوری کی ایک اہم وجہ ہے۔

    7۔اندھا پن ، موتیابند اور عمر سے متعلقہ میکولر انحطاط۔

    تمباکو نوشی آپ کو اندھا کر سکتی ہے۔ یہ آپ کی آنکھوں کو نقصان پہنچاتی ہے اور اس کے نتیجے میں بینائی ضائع ہو سکتی ہے۔ عمر سے متعلق میکولر انحطاط تمباکو نوشی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یہ 65 اور اس سے زیادہ عمر کے بالغوں میں اندھے پن کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

    8۔خواتین میں تولیدی اثرات۔

    تمباکو نوشی عورتوں میں ایکٹوپک حمل کا سبب بن سکتی ہے ، جو اس وقت ہوتا ہے جب ایک فرٹیلائزڈ انڈا بچہ دانی کے علاوہ کسی اور جگہ لگاتا ہے۔ انڈا زندہ نہیں رہ سکتا اور اگر علاج نہ کیا گیا تو ماں کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ تمباکو نوشی بھی زرخیزی کو کم کرنے کا سبب بنتی ہے ، اس کا مطلب حاملہ ہونا زیادہ مشکل بناتا ہے۔

    9۔قبل از وقت ، کم پیدائشی وزن والے بچے۔
    تمباکو نوشی کے اثرات نہ صرف ماں کی صحت پر بلکہ اس کے بچے پر بھی پڑتے ہیں۔ حاملہ ہونے کے دوران تمباکو نوشی سے بچے وقت سے پہلے اور کم پیدائشی وزن کے ساتھ پیدا ہو سکتے ہیں۔ بہت جلد یا بہت چھوٹے پیدا ہونے والے بچوں میں صحت کی پیچیدگیوں اور یہاں تک کہ موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

    10. کینسر کی 10 سے زائد دیگر اقسام بشمول بڑی آنت ، گریوا ، جگر ، معدہ اور لبلبے کا کینسر

    بنیادی طور پر ، تمام کینسر۔ کینسر کے مریضوں اور زندہ بچ جانے والے دونوں کے لیے ، سگریٹ نوشی کرنے والوں میں دوسرا پرائمری کینسر ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ اور اب ہم جان چکے ہیں کہ تمباکو نوشی کم از کم ایک درجن کینسر کا سبب بنتی ہے ، بشمول جگر اور کولوریکٹل ، اور پروسٹیٹ کینسر کے مریضوں کی بقا کی شرح کو کم کرتی ہے۔
    لہذا حکومت اور ہر ایک شخص تمباکو نوشی ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کرے

  • ملک میں اصل گڑبڑ کہاں ہے؟ جیسی عوام ویسے حکمران (قسط ۔ 06) تحریر: محمداحمد

    جیسا کہ پچھلی 5 تحریروں میں بتایا کہ کس طرح ضمیر کی سودے بازی ہوتی ہے کیسے آدم زاد بکتا ہے کیسے لوگوں نے دھوکے بازی کرکے انسانی زندگی کو مفلوج کیا ہوا ہے یہ ایسا ناسور ہے جو نسل در نسل تباہ کر دیتا ہے  اِسی مقصد کیلئے آج واضع کریں گے کہ کیسے بھینس کو دودھ بڑھانے کے ٹیکے لگانا ،شوارمے میں مرہ جانوروں کا گوشت ،شادیوں میں مری ہوئی مرغیوں کا گوشت ، منرل واٹر میں نلکے کا پانی کی ملاوٹ کس طرح سے کر رہے ہیں

    بھینس کو دودھ بڑھانے کے ٹیکے لگانا:

    بھینسوں کو ٹیکہ لگانے کی وجہ سے عورتوں میں ہارمونز کی تبدیلی اور بہت سی دوسری بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے ہر جگہ پر ٹیکے کھولے عام دستیاب ہوتے ہیں ٹیکوں سے بھینس کی عمر میں کمی کے ساتھ خواتین میں ہارمونز کی تبدیلی اور چہروں پر ضرورت سے زیادہ بال اگنے جیسی بیماریوں میں اضافہ ہوا ہے گائے اور بھینسوں میں دودھ کی پیداوار بڑھانے کے لیے انہیں اوکسیٹوسن نامی ٹیکہ لگایا جاتا ہے جس سے مویشیوں کے دودھ دینے کی پیداوار بڑھ جاتی ہے۔ دوسری جانب زہریلا دودھ پینے سے انسانی جانوں کو شدید خطرات کا سامنا کرنا پڑھتا ہے حکومت کو چاہیے اس کی روک تھام کیلئے چھاپے مارے جائیں تاکہ جو دودھ دیہات سے شہروں کی طرف جاتا ہے اس میں انسانی جان کے خطرات کم سے کم ہوسکے

    شوارمے میں مرہ جانوروں کا گوشت:

    کھلی جگہوں سے مردہ گاۓ ، بھینس کے گوشت کو اکٹھا کیا جاتا ہے اس کے بعد مختلف جگہوں پر پہنچا دیا جاتا ہے اور وہاں سے سپلائی کرکے مردہ جانوروں کا گوشت سیل کیا جاتا ہے حکومت اس کی روک تھام کےلئے اقدام کر رہی ہے کہ کسی طرح ایسا گوشت جو تلف کرنا چاہیے استعمال کرتے ہیں ان کو پکڑا جا سکے جب ہم ہوٹل میں یا شوارما کھاتے ہیں تو ہمیں اندازہ نہیں ہوتا جو ہم گوشت استعمال کر رہے ہیں وہ حلال ہے یا حرام

    شادیوں میں مری ہوئی مرغیوں کا گوشت: 

    شادیوں میں مری ہوئی مرغیوں کا گوشت بہت دفعہ پکڑا گیا ہے لیکن قرار واقع سزا نا ملنے کی وجہ سے دن بدن یہ کام عروج پکڑتا جا رہا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ مرغیاں رکھنے والے صحیح طریقے سے خیال نہیں رکھتے جیسے کہ اگر ناقص  صفائی کا انتظام ہو تو مرغیوں میں بیماریوں کے اثرات واضع ہو جاتے ہیں وہی مرغیاں مارکیٹ میں سستے داموں بیچ کر انہیں ختم کیا جاتا ہے جبکہ شادیوں میں جب گوشت کی ضرورت ہوتی ہے تو ہم آرڈر دے کر چلے جاتے ہیں کہ فلاں وقت آ کر لے جائیں گے حالانکہ ہمیں چاہیے کہ جتنی مقدار میں بھی مرغیوں کا گوشت لینا ہو اسے اپنے ہاتھوں سے زبح کروانا چاہیے لیکن اج کل کے دور میں نفسہ نفسی کے عالم میں وقت کی قلت بہت زیادہ ہے اسی وجہ سے تاجر / دوکاندار اس چیز کا فائد اٹھاتے ہیں اور مردہ مرغیوں کا گوشت سیل کر دیتے ہیں بات رسوائی کی ضرور ہے مگر ہے حقیقت 

    منرل واٹر میں نلکے کے پانی کی ملاوٹ: 

    منرل واٹر میں نلکے کے پانی کی ملاوٹ بہت عام ہے اس کی خاص وجہ جو ملاوٹ روکنے والے ادارے ہیں ان کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے ملاوٹ عروج پر ہے منرل واٹر کی جگہ نارمل پمپ کا پانی استعمال کیا جارہا ہے جبکہ پانی کو فلٹر کرکے پھر پیکنگ کرنا چاہیے لیکن مارکیٹس میں مختلف قسم کے برانڈ کی شکل میں بہت سی پیکنگ دستیاب ہیں کسی بھی برانڈ کو جانچنا کے صحیح کونسا ہے کیا ہم پینے کیلئے استعمال کر سکتے ہیں کہ نہیں ۔ بہت مشکل ہے جانچنا

    حدیث میں آتا ہے "جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں”

    دن رات ہر چیز میں ملاوٹ ہو رہی کے اور ہم بخوشی سے استعمال کر رہے ہیں اس ملاوٹ کی روک تھام کیلئے حکومت وقت کو چاہیے متحرک ہوکر کاروائیاں کرے اور پکڑے جانے والے کو قرار واقع سزا دلوائیں تک جا کر یہ قوم سدھرے گی

    اگلی قسط میں شئیر کیا جاۓ گا کہ کس طرح موبائل مارکیٹ میں جعلی اور کاپی فون ، جعلی سرف جعلی شیمپو سب اصل ٹیگ کے ساتھ ، 2 نمبر ادویات اصل پیکنگ میں ، ہسپتالوں میں جعلی ڈاکٹرز ، بازاروں میں بد نگاہی اور جھگڑے ہو رہے ہیں بتانے کا مقصد یہ ہے کہ عوام باخبر ہو کہ جو چیز ہم استعمال کر رہے ہیں کیا آیا کہ وہ سہی بھی ہے کہ نہیں ۔ اگر سہی نہیں ہے تو اس کی جانچ پڑتال کیسے کرنی ہے اب آپ فیصلہ کریں کہ کیا ملک میں اصل گڑبڑ ہم کر رہے ہیں ۔ جیسی عوام ویسے حکمران

    @JingoAlpha

     

  • سگریٹ نوشی اور شعرو ادب تحریر :سیدہ ام حبیبہ

    سگریٹ نوشی اور شعرو ادب تحریر :سیدہ ام حبیبہ

    قارئین محترم تمباکو نوشی پہ متعدد مضامین اور تحقیقات نظر سے گزریں ہر تحریر میں تمباکو نوشی کو مضر صحت لکھا گیا.
    مگر کیا کہنے ان شعراء کے ان کانٹینٹ کریٹرز کے جنہوں نے سگریٹ نوشی کو مضر صحت تو لکھا مگر اس کے نقصانات کو اسقدر رومانوی انداز میں بیان کیا اور پردے پر دکھایا کہ دیکھنے والے کو سب بھول گیا مگر انگلیوں میں سگریٹ دبائے وجاہت سے بھرپور ہیرو یاد رہ گیا.
    شعراء حضرات کے ہاں سگریٹ کچھ یوں ہے

    کمرے میں پھیلتا سگریٹ کا دھواں
    میں بند کھڑکیوں کی طرف دیکھتا رہا
    کفیل آزرامروہوی

    سگرٹیں چائے دھواں رات گئے تک بحثیں
    اور کوئی پھول سا آنچل کہیں نم ہوتا ہے
    والی آسی

    گریباں چاک دھواں جام ہاتھ میں سگریٹ
    شبِ فراق عجب حال میں پڑا ہوں میں
    ہاشم رضا جلالپوری
    اور شاعر افضل خان تو باقاعدہ ایک غزل لکھ بیٹھے سگریٹ کی شان میں
    نہیں تھا دھیان کوئی توڑتے ہوئے سگریٹ
    میں تجھکو بھول گیا چھوڑتے ہوئے سگریٹ

    الغرض انصاف ادب و سخن پہ بھی سگریٹ کا دھواں اپنے نشانات چھوڑنے سے باز نہ آیا
    اگر کبھی کسی طالبعلم کو تمباکو کے مضر صحت ہونے پہ لیکچر دینا چاہا بھی تو اس نے اقبال کے آخری ایام کا تذکرہ کر دیا کہ جی علی بخش تو ان کو حقہ دیا کرتا تھا وہ بھی تو پکے مومن تھے اب بندہ کیا کہے اردو ادب سگریٹ اور اقبال اور ہماری گہری خاموشی.
    اب اس جملے سے ادب میں سگریٹ کی اہمیت کا اندازہ لگائیے
    مشرف عالم ذوقی صاحب فرماتے ہیں

    "سگریٹ اور چائے میں ان دو بڑی عادتوں کا غلام ہوں”

    سگریٹ اور غمگین زندگی کا تو پوچھئے مت

    سو یوں ہوا کہ پریشانیوں میں پینے لگا
    غمِ حیات سے منہ موڑتے ہوئے سگریٹ

    کسی فلم یا ڈرامے کے ہیرو کو غمگین ہونے کے بعد سگریٹ یا شراب پینا گویا حکایت ہو گئی
    اور ہو بھی کیوں نہ پہلے دس بار اقساط میں ہیرو کے ساتھ انسیت اور ہمدردی کے جذبات ابھارے جاتے ہیں اور ہیرو کی عادات سے مرعوب کیا جاتا ہے
    ہیرو کی دس اچھی عادتوں کا قائل ناظر کیا اس کی گیارہویں بری عادت کو برا گردانے گا؟

    امیرانہ زندگی کا کون ہواہشمند نہ ہوگا.ہمارا ادب ہمارا میڈیا سگریٹ نوشی کو اتنا جاذب اور پرکشش بنا کر پیش کرتا ہے کہ نوجوان نسل ان ہیروز کو ان شعراء کو آئیڈیلائز کرتے ہوئے بھی اس لت کا شکار ہو جاتے ہیں.

    تمباکو نوشی کے خلاف ہر مہم ناکامیاب اس لیے رہ رہی ہے کہ تمباکو نوشی کے خلاف ایک دن منایا جاتا ہے اور اس کے استعمال پہ سارا سال اشتہار اور اشعار چلتے ہیں.
    کاروبار صحت پہ سبقت لے جاتا ہے سگریٹ کو انڈسٹری کہہ کر پلا جھاڑ لیا جاتا ہے. گھر کے گھر تباہ ہو گئے اس انڈسٹری کے ہوتے ہوئے.
    دنیا میں ایسی کمپنیاں ہیں جو سگریٹ نوشی کرنے والوں کو نوکریاں نہیں دیتیں.بہت سے مقامات پہ سگریٹ نوشی ممنوع ہے.
    اگر روک تھام کے لیے سنجیدگی سے اقدامات کیے جائیں تو ممکن ہے چند سالوں میں یہ لعنت ختم کی جا سکے.
    ابھی حال ہی میں کرونا ویکسین لگانے پہ جس طرح مجبور کیا گیا اسی طرح ہر ادارے میں اگر میڈیکل ریپورٹ لازمی قرار دی جائے سگریٹ نوشی کرنے والے اور نشے کے عادی ملازمتوں سے برطرف کیا جائے اور بھرتی کے قوانین میں بھی یہ شق شامل کر لی جائے.یہ ایک ناممکن تجویز ہے لیکن اگر چاہت ہو تو کیا نہیں ممکن.
    اور سگریٹ کو رومانوی انداز میں پیش کرنے والے ہیروز اس سے ہونے والی بربادی بھی بیان کرتے ہیں
    مگر وہ بربادی سبق آموز انداز میں بیان نہیں کی جاتی.

    خدا سے دعا ہے کہ ہم تمباکو نوشی اور دیگر منشیات کے خلاف حقیقی معنوں میں اقدامات کریں محض دن منانے سے کچھ نہیں ہوتا.

    سگریٹ پہ میرا پسندیدہ شعر

    میری بھی کیوں خراب کی مٹی
    جاتے جاتے بتا تو دے سگریٹ

    اور ہم سب جانتے ہیں سگریٹ کچھ نہیں بتائے گا قارئین بتائیں گے کہ یہ تحریر کا حد تک حقیقت رکھتی ہے آپکی آراء کی منتظر

    @Hsbuddy18