Baaghi TV

Category: کشمیر

  • "علی گڑھ یونیورسٹی کا مایہ ناز اسکالر بطور مجاہد کمانڈر” تحریر: محمد عبداللہ

    "علی گڑھ یونیورسٹی کا مایہ ناز اسکالر بطور مجاہد کمانڈر” تحریر: محمد عبداللہ

    کشمیر کی حسین وادی لولاب کے ایک گاؤں کا رہائشی منان وانی جو ایک کالج لیکچرار بشیر وانی کے گھر میں پیدا ہونے ہوا اور پروان چڑھا. تعلیمی مدارج کو طے کرتا ہوا علی گڑھ یونیورسٹی میں ڈاکٹریٹ کے لیے ریسرچ کر رہا تھا. وہ تھا تو سائنس کا طالب علم لیکن کشمیر کی صورتحال اور بھارتی افواج کے مظالم نے اس کو شعلہ جوالا بنا دیا تھا اور اس نے تقریر و تحریر کے ذریعے بھارتی افواج کے کشمیر پر ظالمانہ قبضے کے خلاف جہاد شروع کردیا. شاندار تعلیمی ریکارڈ اور مختلف ادبی ایوارڈ رکھنے والے اس منان وانی نے جب دیکھا کہ اس کی تقریر و تحریر خاطر خواہ نتائج نہیں دے رہی اور بھارتی افواج کے مظالم روز بروز بڑھتے ہی جا رہے ہیں تو علی گڑھ یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے اس اسکالر نے اپنی تعلیم کو ادھورا چھوڑا اور باقاعدہ طور گن اٹھاکر کشمیری مجاہدین کی صفوں میں شامل ہوگیا. اپنی ممتاز حیثیت اور شخصیت کی بنا پر کشمیری حریت پسندوں کی تنظیم حزب المجاہدین کا مقامی کمانڈر بنا اور بھارتی افواج کو بزور قوت سبق سکھانے لگا. کشمیر کی آزادی کی اس جنگ میں وہ مسلسل بھارتی مسلح افواج کے مقابل برسر پیکار رہا اور بالآخر گیارہ اکتوبر دو ہزار اٹھارہ کو ہندواڑہ میں ایک جنگل میں بھارتی افواج کے ساتھ لڑتے ہوئے جام شہادت نوش. تین جنوری دو ہزار اٹھارہ سے گیارہ اکتوبر دو ہزار اٹھارہ تک کے اس نو ماہ اور نو دن کے مسلح جدو جہد آزادی کے اس سفر میں منان وانی شہید نے بھارتی افواج کو تگنی کا ناچ نچائے رکھا.
    منان وانی کی شہادت پر اس وقت کی کٹھ پتلی حکومت بھی چپ نہ رہ سکی اور اس شہادت کو قومی نقصان قرار دیا. کپواڑہ کے رکن اسمبلی انجنئیر رشید نے منان وانی کی شہادت پر اپنے ردعمل میں کہا :’منان کی قلم بندوق سے خاموش کردی گئی، اور اس طرح نئی دلی نے منان کے قیمتی افکار کے آگے سرینڈر کردیا۔’
    منان وانی شہید نے دو خط لکھے جو کشمیر کے مقدمے کی سی حیثیت رکھتے ہیں. اس میں سے ایک خط کے مندرجات ملاحضہ کریں.

    "عمران خان کی اقوام متحدہ میں تقریر کا اک انتہائی اہم پہلو” !!! تحریر محمد عبداللہ

    غیر قانونی تسلط کو سمجھنا اتنا آسان نہیں،یہ ایک پیچیدہ اور کثیرالجہتی رجحان ہے۔ دہائیوں پہ محیط،طویل خون ریزتنازعہ نے کشمیری قوم کو اقوام عالم میں سیاسی لحاظ سے، سب سے زیادہ مدبر اقوام کی صف میں لاکھڑا کردیا ہے۔
    وقت کے ساتھ ہم سب نے کسی حد تک اس غیرقانونی تسلط کے پیچیدہ طر یق کار،ساخت اور مشینری کو سمجھ لیا ہے۔بھارت بحیثیت نو آبادیاتی ریاست،آہستہ آہستہ مگر مسلسل کشمیر میں اپنی نوآبادیاتی حکمرانی کو جواز فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہورہی ہے۔مگر،غیر قانونی تسلط سرطان کی طرح ہوتا ہے، اس لئے بحیثیت قوم اور سماج ہمارے اوپر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم بھارتی نوآبادیاتی ریاست کی عسکری، ذہنی اور سیاسی شاطرانہ چالوں سے باخبر رہیں۔ ممکن ہے آپ حیرت زدہ ہوں گے کہ اس شخص نے قلم کے بجائے بندوق کوچن لیا، کیوں؟ لکھنے کا فیصلہ کیا۔ہاں چند ایسی چیزیں ہیں جنہوں نے میرے لئے خاموش رہنا سخت مشکل بنا دیا۔
    سادہ لوح، بھولے بھالے لوگوں کے جذبات کے ساتھ کھیل کر غداروں نے آج کل حقائق کو توڑ مروڑ کرپیش کرکے اندھیرا کیاہے تاکہ وہ بھارت کے غیر قانونی تسلط، جبری قبضے اور ظلم و جبر کو سند جواز فراہم کریں۔
    حقوق البشر کے محافظین تجارتی دیو بن چکے ہیں۔ انہوں نے اس تنازعہ کو ظلم وجبر سے دبائے گئے لوگوں کے دکھ اور درد کو نمایاں کرکے تجارت کا ذریعہ بنادیا ہے۔ اس تمام فعالیت اور سرگرمیوں کو براہ راست دہلی کے مصور خانوں سے ہدایات جاری ہوتی ہیں۔
    مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو سے بیرون ممالک کشمیریوں کی زندگی کیسے اجیرن ہوگئی ہے!!! تحریر: محمد عبداللہ
    پرنٹ میڈیا سے لیکر الیکٹرانک میڈیا تک، ہر ایک، چاہے وہ ظالم ہے یا مظلوم، اس نے ہمیں آڑھے ہاتھوں لینے، لتاڑنے یا سرزنش کرنے کے لیے چنا ہے۔ چاہئے ہمارا راستہ اور طریقہ کار ہو، نظریات اور خیالات ہوں، وہ ہمیں بدروح، شیطانی صفت انسان ثابت کرنا چاہتے ہیں۔
    تیسرا نکتہ جس نے مجھے خاموشی توڑنے پر مجبور کیا وہ یہ ہے، وہ لوگ جن کے ہاتھوں میں جبراًبندوق کے بجائے امن کی شاخ زیتون تھما دی گئی، تاکہ مزاحمت کے پرامن طریقوں کا ڈھنڈورا پیٹا جائے۔ جب انہوں نے اپنی سوچ اور منطق کے مطابق ہمارے مزاحمتی طریقہ کار کو جواز فراہم کیا،حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے ہمیں اور ہمارے نظریات کو رد کیا۔
    اور بالآخر جب ایک پولیس اہلکار جو کہ بعد میں انسانی حقوق کا محافظ بنا، جس نے اپنے دور میں بیکارانہ طریقے سے لوگوں کی جائز خواہشات کو کچلنے کی کوشش کی اب بددلانہ اور غیر منطقی دلائل کے ذریعے سے انسانیت اور اعتدال پسندی کا مبلغ بننے کی کوشش کررہا ہے۔ ایسی صورتحال میں جواب دینا لازم بنتا ہے۔ یوں مجھ جیسے شخص(جس کے پاس وسائل ہیں نہ متذکرہ بالا لوگوں کی طرح آرام و آسائش ہے) جس نے پہلے ہی قلم کے بجائے بندوق کو چنا ہے، کے لیے اُسی زبان میں جواب دینا لازم بنتا ہے، تاکہ ہم اپنے نکتہ نظر کو پیش کرسکیں۔
    میرا ماننا ہے کہ یہ بے حد ضروری ہے کوئی اندر کا واقف کار بھی اپنا نکتہ نظر سامنے رکھے تاکہ حقائق مسخ نہ ہوں۔ میں جبری قبضے کی طویل تاریخ میں نہیں جاؤ ں گا، کیونکہ مجھے یقین ہے کہ ہم میں سے ہر ایک جبری قبضے سے متعلق بخوبی آگاہ ہے، کیسے شروع ہوا،وجوہات کیا تھیں اور اس کے اثرات کیا ہیں۔ مزاحمت کا نیا دور 2008 کے تلاطم کے بعد شروع ہوا، تب سے مزاحمت کے طریقے سختی سے اور مثبت انداز میں تبدیل ہوئے۔ مزاحمت کے طریقوں میں تبدیلی کے ساتھ ظلم و زیادتی کے ہتھکنڈوں نے بھی نشود نما پائی۔
    امریکہ کی جنگ میں شامل ہونا پاکستان کی غلطی، کیا نئے پاکستان کا بیانیہ بھی نیا ہوگا؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ
    بھارت کو اس بات کا شدید احساس ہوا کہ وہ اب کشمیریوں کو زیادہ دیر بڑے بوٹوں کی غلامی تلے خاموش رکھ سکیں گے اور نہ ہی اپنے غیر قانونی قبضے کو جواز فراہم کرسکتے ہیں۔ اس لیے بھارت جان بوجھ کر کشمیر کے تاریخی اور سیاسی حقائق کو تبدیل کرنا چاہتا ہے۔
    ہر دن، ہروقت، نئے مکالے، تذکرے، مباحثے اور خیالات کو میڈیا میں مختلف افراد اور ایجنسیوں کے ذیعے پھیلایا جارہا ہے۔ بھارت بہت ہوشیاری اور چالاکی سے ایک ایسے بیانیہ کی صنعتکاری سے لوگوں کو الجھائے،پریشان کرنا چاہتے ہیں، جو فوج کی موجودگی اور ظلم و جور کے ہتھکنڈوں کے موافق ہو اورریاست جموں کشمیر کی آبادی کو قابو میں رکھنے کے لیے استعمال ہو۔ بعض افراد کو طاقت ور اور وسائل سے بھرپور مقام اس لئے تفویض کئے گئے، کہ وہ ایسے بے محل اور غیرمتعلق بیانیہ، مقالہ جات سامنے لائیں، جسے لوگوں کو بیوقوف بنایا جائے اور پرانے، حقیقی اور اصل بیانیہ فرسودہ اور بے جوڑ لگے۔
    ایک دن ایک بیوروکریٹ (سرکاری ملازم) لکھتا ہے کہ "صرف بھارت ہی کشمیریوں کے پاس ایک معقول دانشمندانہ انتخاب وچناو ہے” اور دوسرے دن ایک سیاستدان نے سوال کیا "کیوں عسکریت پسند موت کو گلے لگانے میں عظمت و وقار محسوس کرتے ہیں؟” میں یہاں کوشش کروں گا کہ ان مبہم دلائل کو مسمار کرکے ان کے پیچھے چھپی منافقت کو بے نقاب کروں۔ "ہم سپاہی ہیں، ہم مرنے کے لیے نہیں، بلکہ جیتنے، سرخ رو ہونے کے لیے لڑتے ہیں۔ موت کے بجائے ہم بھارتی غاصبانہ قبضے کے خلاف سینہ سپر ہونے میں عظمت و وقار محسوس کرتے ہیں۔ بھارتی عسکری طاقت، ظلم و جبر، استبداد، بھارت کے ہم کاریوں اور سب سے بڑھ کر اُس کے غرور اور گھمنڈ، جب ہم اس تمام کے خلاف لڑتے ہوئے جاں کی بازی ہار جاتے ہیں، تو ایسی جانثاری پر ہم عظمت و وقار محسوس کرتے ہیں۔” ہم سے میرا مطلب تمام کشمیری اور کشمیری سے میرا مطلب ریاست جموں کشمیر کے وہ تمام شہری جوبھارتی غاصبانہ قبضے کے خلاف کسی نہ کسی طریقے سے برسر جدوجہد ہیں، نہ کہ صرف وہ جو بندوق بردار ہیں۔
    کیا سوشل میڈیا پوسٹس اور ٹویٹر ٹرینڈز سے کشمیر آزاد ہوجائے گا؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ
    ایک اُستاد، چاہئے وہ سکول، کالج یا جامعہ کا ہو، جو ایمان داری اوردیانت داری کے ساتھ بچوں کو تعلیم دیتا ہے یا ایک ڈاکٹر جو ہر وقت اپنے مریضوں کے ساتھ نیک دلی اور ہمدردی کا برتاؤکرتا ہے۔ ایک طالب علم جو آبرومندانہ طریقے سے غیرقانونی قبضے کے نتیجے میں ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف احتجاج کرتا ہے یا ایک سنگباز جو قابض افواج کی جانب پتھر پھینکتا ہے جبکہ بدلے میں اُسے گولیاں سہنی پڑتی ہیں۔ ایک کالم نویس، تبصرہ نگارجو بے خوف ہوکے لکھتا ہے یا ایک صحافی جو موقع پہ حقائق کی رپورٹنگ کرتے ہوئے اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ وہ شخص جو غیر قانونی قبضے، تسلط کے خلاف فقط بولتا ہی ہے یا ایک وکیل جو عدالت میں قانونی جنگ لڑتا ہے۔ ایک سرکاری ملازم جو اپنے فرائض منصبی اخلاص کے ساتھ انجام دیتا ہے یا وہ پولیس والا جو لوگوں کو (قتل کرنے، دہشت زدہ کرنے، معذور کرنے اور مقامی لوگوں پر تشدد کرنے) کے بغیر فقط امن و امان قائم رکھنے کی اپنی اصل ذمہ داری انجام دیتا ہے۔ہم سب مزاحمتی سپاہی ہیں۔
    مزاحمت میں خلیج اور سوسائٹی کے حصے بخرے کرنے کی غرض سے نئی شناختیں اور تقسیم پیدا کی جارہی ہے۔2016سے پہلے بھارت کے خلاف تلا طم کو دانستہ طور صرف شہراور قصبوں کے ساتھ منسلک کیا گیا تھااور عسکریت کے متعلق کہا گیا تھا کہ یہ چند ان پڑھ،بھٹکے ہوئے دیہی لڑکوں کی کاروائی ہے۔اب احتجاجوں کوجنوبی کشمیرکے دیہاتیوں،(جنہیں معیشت کی کوئی سوج بوجھ نہیں) کے ساتھ منسلک کیا جاتاہے۔ اگرچہ لوگوں نے ایسے بیانیہ کو،مزاحمتی تحریک کے تئیں بھرپور حمایت دکھا کر بارہا مسترد کیا ہے۔
    ہمیں اس امر سے خبردار اور چوکس رہنے کی ضرورت ہے کہ کیسے بھارتی تسلط لوگوں کو احمقانہ گفتگو کے ذریعے ایک دوسرے سے جداکرتے ہیں۔ کبھی ذیلی علاقائی (نارتھ اور ساؤتھ) اورکبھی فرقہ وارانہ اور نسلی بنیادوں پر کشمیر کی تحریک آزادی کے خلاف دونوں، سماجی اور الیکٹرانک میڈیا پر ایک سخت مضبوط مہم جاری ہے۔ وہ لوگ جو غیرقانونی قبضے، تسلط کے خلاف برسر پیکار ہیں اُنہیں متعصب،جنونی، بنیادپرست اور اُن کا پسندیدہ لفظ دہشت گرد کہہ کر پکارا جاتا ہے۔ اس مہم کے پیچھے جو لوگ ہیں وہ بخوبی حقائق سے آ گاہ ہیں مگر لوگوں کو بیوقوف بنانے کا یہ وہ کام ہے جو اُنہیں سپرد کیا گیا ہے۔
    بارہویں کلاس کے لیے بھارتی NCERT کی پولیٹکل سائنس کی نصابی کتاب "دہشت گرد” کی یوں تعریف کرتی ہے "جو کوئی بھی،کسی شہری کو اپنے مطالبات منوانے کے لیے اندھادھند نشانہ بناتا ہے ” دہشت گرد کی اس تعریف سے ایک انسان واضح طور پر یہ سمجھ سکتا ہے کون دہشت گرد ہونے کے قابل اور اہل ہے۔ جب سے ہماری کاروائیوں سے ہر ایک باخبر ہے۔ بھارت کے برعکس ہم عام شہریوں،چاہئے وہ کشمیری ہو یا بھارتی،اور غیر محارب قتل نہیں کرتے۔وہ لوگ جو ہمیں دہشت گر د کہہ کر پکارتے ہیں ٹیکسٹ بک کو تبدیل کریں یااپنے علم بدیع و معانی کو۔
    مسئلہ کشمیر فقط زمین کے ٹکڑے کی لڑائی یا کچھ اور؟ ؟؟ محمد عبداللہ
    بھارتی حکومت اپنے لوگوں کو یہ سکھاتی ہے کہ کشمیری عسکریت و آزادی پسند ایسے نوجوان لڑکے ہیں جن کے نظریات تبدیل کئے گئے ہیں۔ جو 72حوروں کی لالچ میں عسکریت میں شامل ہوچکے ہیں اور وہ پختہ یقین رکھتے ہیں کہ اس طرح مر جانے سے وہ سیدھے جنت میں جائیں گے۔ اس میں کوئی انکار نہیں کہ اسلام ہمارے کسی کام کے کرنے کا محرک اور زندگی گزارنے کا طریقہ ہے اور اسلام فی الحقیقت کسی بھی طریقے اور ذرائع سے ظلم و زیادتی کے خلاف لڑنے پر جنت کا وعدہ فرماتا ہے۔ مگر جس طرح میں نے پہلے بھی ذکر کیا ہے کہ ہم سپاہی ہیں، ہم جنگ میں صرف اس لئے نہیں کودے کہ جان دیکر جنت میں چلے جائیں بلکہ دشمن کے خلاف لڑ کر اُسے شکست دینے کے لیے میدان میں آئے ہیں.
    ایک مجاہد اپنا سب کچھ قربان کرنے کے باوجود جنت کا دعویٰ،استحقاق یا مطالبہ،نہیں کرسکتا۔جنت اللہ تعالیٰ کے دائرہ اختیار میں ہے اور کسی کے جنتی ہونے کا فیصلہ صرف ان حقائق کی بنیاد پر نہیں ہوگا کہ وہ میدان قتال میں لڑکر جان دے چکا ہے بلکہ جنت میں داخلے کے لیے کثیر معیار ہیں۔اس کے علاوہ،ہم یہ دعویٰ نہیں کرتے ہیں کہ اسلام خاص طور پر ہم سے تعلق رکھتا ہے،لیکن یہ سچ ہے کہ ان ظالموں کی، مذہب کے نام پرلوگوں کو استعمال کرنے کی طویل ترین تاریخ ہے۔وہ ہمیشہ اسلام کا ایک مخصوص حصہ منتخب کرکے،اُسے اپنی مرضی کا مطلب و معنیٰ اخذ کرکے اپنے جبری قبضے کو جواز بخشنے کی کوشش کرتے ہیں۔
    اکثر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ ہم ہاری ہوئی جنگ لڑ رہے ہیں. غیرقانونی قبضے اور تسلط پر عذر خواہی کرنے والے بھارتی فوجی طاقت، کثیر فوج اور میزائل ٹیکنالوجی کی شان و شوکت دکھاتے ہیں۔ ہاتھوں میں زنگ آلود کلاشنکوف لئے چند سو نوجوان لڑکوں اور جدید ہتھیاروں سے لیس دس لاکھ فوج کا آپس میں موزانہ کیا جاتا ہے۔ دنیا کی تازہ ترین فوجی تاریخ، چاہے وہ امریکہ ویت نام میں، یو ایس ایس آر افغانستان میں یا نیٹو افغانستان میں ہو، ہمیں یہ بات سکھاتی ہے کہ جنگیں کثیر فوج اور جدید ہتھیاروں کے بل بوتے پر نہیں جیتی جاتیں۔ کیوں بھارت کو ایک بھاری بجٹ کے ساتھ بارہ لاکھ فوج کی ضرورت پڑتی ہے ان چند مٹھی بھر نوجوانوں سے لڑنے کے لیے؟ ایسے ہر ایک سوال کا جواب یہی ہے کہ بھارت پہلے ہی کشمیرمیں جنگ ہار چکا ہے۔
    کیا بھارت کشمیر کو آزاد کرکے پاکستان کی بقاء ممکن بنائے گا؟؟؟ محمد عبداللہ
    ایک وقت تھا جب لڑائی ایک بندوق برداراور ہزاروں بھارتی فوجیوں کے درمیان ہوتی تھی لیکن اب ایک مجاہد تک رسائی سے پہلے قابض فورسز کو ہزاروں غیرمسلح آزادی کی جنگ لڑنے والوں سے مقابلہ کرنا پڑتا ہے. وہ لوگ جو فریڈم فائٹر نوجوانوں کی مدد کے لیے اپنی جانوں کی پروا کئے بغیر انکاونٹرزکی جگہ کا رخ کرتے ہیں، تو اس سے ہمیں لوگوں کے خواہشات اور جذبات کا اندازہ ہوجاتا ہے۔
    کشمیری مجاہدین اور آزادی پسندوں کو دہشت گرد گردان کر اور یہ کہہ کر کہ یہ ایسے نوجوان لڑکے ہیں جن کے نظریات تبدیل کئے گئے ہیں ممکن ہے بھارت اپنے شہریوں اور دنیا کو بیوقوف بنالے مگر بھارت کہاں سے یہ جواز فراہم یا تلاش کرسکتا ہے کہ اُ س کے خلاف لڑنے والی پوری قوم کے نظریات تبدیل کئے گئے ہیں۔ بھارت سراسر مایوسی کی کیفیت میں ہے! ہر رات اُن کی ٹیلی ویژن چینلز پہ یہ عیاں ہوتا ہے۔ بھارتی سرکار کشمیر کے خلاف میڈیا پر نفرت سے بھری، زہریلا، کینہ پرور پرپیگنڈا مہم چلا کر اپنی ناکامیوں کو چھپاتی ہے۔ ایک شخص آسانی سے اندازہ لگاسکتا ہے کہ کس درجہ اور سطح کی مایوسی ہے.
    مقبوضہ کشمیرمیں حکومتی خفیہ اداروں کی جانب سے کالجز اور جامعات کے معلموں کی جاسوسی کی جاتی ہے۔ طالب علم مسلسل نگرانی میں رکھے گئے ہیں۔ مقامی میڈیا کو حکماً خاموش کیا گیا ہے۔ قوانین بنائے گئے ہیں جن کی روح سے سرکاری ملازمین سے یہ کہا گیا کہ وہ سرکاری پالیسی (حکمت عملی) کے خلاف تنقید سے احتراز کریں گے۔ کیسے ایک عذر خواہی کرنے والا، جو اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ ریاست جموں کشمیر بھارت کا ایک حصہ ہے، اس بیان کو واضح کرے گا.
    اکثر اوقات اس پر بحث و تمحیص کی جاتی ہے کہ ہمیں پرامن ذرائع سے بھارت کے جمہوری ڈھانچے کے اندر رہتے ہوئے مسئلہ کشمیر کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کرنی چاہئے۔بلاشبہ،طریقہ کار اور کاغذات کی حد تک بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے،مگر عملی بنیادوں پر جمہوریت کے لیے اہل نہیں۔ کیسے آپ ایک ایسی قوم سے یہ توقع رکھ سکتے ہیں کہ وہ آپ کی آواز پر کان دھرے، جس کا نام نہاد جمہوری طریقے سے منتخب وزیر اعظم فرقہ وارانہ فسادات کا بنیادی معمار ہو۔ جہاں الیکشن ہی فرقہ وارانہ بنیادوں پر لڑے جاتے ہوں. جہاں آبروریزی کرنے والا، بلاتکاری اور پیشہ ور مجرم ہی قانون بنانے والے ہوں، جہاں ذرائع ابلاغ کو برسراقتدار حکومت ہی چلاتی ہو۔ جہاں ایک نسل کی ہر ایک آواز اور ہر ایک نکتہ چیں، تنقید کرنے والے کو موت کی نیند سلاکر یا کسی اور طریقے سے خاموش کیا جاتا ہے۔جہاں حکومت پر اعتراض کرنے والے ہر شخص کو قوم دشمن قراردیا جاتاہے اور الیکشن کو(Populism) یعنی اشخاص کے انفرادی مفادات کو مدنظر رکھ کر، اور چالاکیوں کی بنیاد پر جیتا جاتا ہے۔ جہاں حکومتی ایجنسیوں کو مخالفوں کو دبانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ جہاں اقلیت کو اپنے وجود کے خطرے کا سامنا ہے، جہاں ہر ایک اختلافی آواز کو پاکستان بھیجنے کی دھمکی دی جاتی ہے۔جہاں ایک مسلمان کو فقط فریج میں گوشت رکھنے کی پاداش میں دن کی روشنی میں زیر چوب لاکر ہلاک کیا جاتا ہے۔جہاں سر پر ٹوپی رکھنے والا اور برقعے میں ملبوس ہر ایک عورت مشکوک دہشت گرد ہے، جہاں طالب علموں کو سرکاری حکمت عملی کے خلاف احتجاج پر جیل کی ہوا کھانی پڑتی ہے۔جہاں ماہرین تعلیم اور صحافیوں کومحض اس بنیاد پر قتل کیا جاتا ہے کہ وہ حکومت وقت کے خلاف بولتے اور لکھتے ہیں۔لہٰذا،کشمیر میں کتنے لوگ مرتے ہیں،بھارتی سیاستدانوں کے لیے بھارت میں ووٹ حاصل کرنے والی پالیسی کے سوا کچھ نہیں۔
    مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کیلئے میڈیا اور سوشل میڈیا کو استعمال کیا جائے، فخر امام، ڈاکٹر محمد فیصل
    ہندوستانی قوم کے اجتماعی ضمیر کے اطمینان کے لیے ایک کشمیری کی لاش کو الیکشن مارکیٹ میں فروخت کیا جاتا ہے۔فوجی، معصوموں کو گولیوں کا نشانہ بنانے اورخواتین کی آبرو ریزی میں فخر محسوس کرتے ہیں،اور بھارت کے عام عوام کو جنگ جو میڈیاکے بیانیہ کے ذریعے سے اس طرح اور اس حد تک ذہن سازی کی جاتی ہے، جیسے اُنہیں کوئی عقیدہ سکھایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے وہ حقیقت میں اس تمام کی حمایت کرتے ہیں۔یہ صرف کشمیر تک محدود نہیں، جو حالات بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں،نکسلی علاقوں اور سرزمین بھارت کے قبائلی حصوں کے ہیں، ان حالات کے مقابلے میں اچھے نہیں۔ بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں آبروریزی، قتل و غارت گری، ظلم و تشدداور انسانی حقوق کی پامالیاں وہاں بھی بہت عام ہیں۔ مقامی حلیفوں کو استعمال کرکے، افسپا،ڈی اے اور پبلک سیفٹی ایکٹ جیسے کالے قوانین کی پناہ میں جاکر کشمیر میں ہمیشہ جمہوریت کو غیرقانونی قبضے،تسلط کو مضبوط اور مستحکم کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔
    ستم ظریفی یہ ہے کہ شیخ عبداللہ کے وقت سے لیکر ان بھارت نواز سیاستدان کو ہمیشہ بھارتی جبری قبضے اور بھارتی مفادات کے لیے توپ کے ایندھن کے طور استعمال کئے گئے۔ اگر کبھی بھی انہوں نے کوئی مطالبہ کیا یا لوگوں کے حقوق کے لیے لب کشائی کئی تو ان حاشیہ برداروں کو بعد میں ایسے پھینکا گیا جس طرح ٹیشو پیپرکو استعمال کرکے پھینکا جاتا ہے۔
    حال ہی میں بھارت نواز جموں کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی حکومت کو اس کے اتحادی نے، نام نہاد وزیر اعلیٰ کو بتائے بغیر جس طرح گرادیا،ایک متعلقہ مثال ہے۔ یہ ایک کم تر، مگر کشمیر میں جمہوریت کا ایک اہم،بامعنیٰ مظاہرہ ہے۔ سیاسی محاذ پر، موجودہ گورنمنٹ اپنے سابقین کی مانند متکبرانہ اندازمیں کام کرتی ہے اور مکمل طورپر مخالف انصاف پسند علاقائی آوازوں کو نظر انداز کرکے بھارت کے چپے چپے کو زعفرانی رنگ(ہندتوا) میں رنگنا چاہتے ہیں۔ سرزمین بھارت اور مقبوضہ ریاست جموں کشمیر میں، پہلے سے موجود علٰحیدگی پسند اور آزادی پسند جذبات بالترتیب ان حالات سے شدت اختیار کرتے ہیں۔ یہ چند خیالی اور لفاظانہ دعوے نہیں؛حال ہی میں ہم نے دیکھا کہ خالصتان تحریک کے احیاء کے ساتھ "دراویدستان ” کے لیے بھی آوازیں اُٹھی ہیں۔ذات پات،جو تاریخی اعتبار سے بھارت کی سب زیادہ گہری فالٹ لائن ہے اب مزید وسیع ہوتی جارہی ہے۔ جب یہ سب چیزیں ہورہی ہیں؛اس کا مطلب یہ ہوا کہ بھارت نے تباہ ہونا ہی ہے اور کشمیر کی مزاحمتی تحریک اس سارے عمل کا پیش خیمہ ہے۔
    "آٹھ اکتوبر کا زلزلہ اور مقبوضہ کشمیر میں 65 دن کا کرفیو، ہونے کیا جا رہا ہے” تحریر: محمد عبداللہ
    موجودہ بھارتی حکومت اپنے ملک کی پوری تاریخی بنیاد کو بگاڑنے اور تبدیل کرنے کے مشن پر ہے اور ایسا کرنے کی کوشش میں وہ جب مسئلہ کشمیر کو اُٹھاتے ہیں تو اپنے متعصبانہ فسطائی سیاسی خیالات کی نظر سے اُٹھاتے ہیں۔ مگر مسئلہ کشمیر کی، سراسر مختلف بنیادیں اور تاریخی سیاق و سباق ہے۔ اکثر ملاحظہ کیا گیا ہے کہ ایک طرف کشمیر کے لوگوں کو چیزیں پیش کی جاتی ہیں کہ وہ کشمیر کی تاریخی اور سیاسی حقیقت کو بھول جائیں اور دوسری طرف اُنہیں ہندوستانی فوجی قوت کی نمود و نمائش کے ذریعے دھمکایا جاتا ہے۔مقامی آبادی کو روزانہ سیز اینڈ سرچ آپریشنز "CASOs” ، جوانوں کی شبانہ گرفتاری، ہر ایک آزادی پسند آواز کو پس دیوار زنداں کرنا، احتجاجیوں پرچھروں اور اشک آور گیس کی بارش کرکے ہر غیر مسلح اور پرامن احتجاج کو محدود کرنا، حقیقی ” ہندوستان کے تصور” اور اُس کی جمہوریت کی ایک چھوٹی سے جھلک ہے۔
    کرفیو کے نفاذ کے ذریعے تمام آبادی کو اپنے گھروں میں مقید کرکے،مزاحمت کے پرامن طریقوں کا استقبال ہمیشہ گولیوں،چھروں اور اشک آور گیس سے کرکے کشمیر میں امن کا قیام عمل میں لایا جاتا ہے۔ ہر ایک قوم ترقی، تعلیم اور دیگر دوسری چیزیں چاہتی ہے مگر اپنی عزت ووقار اور آزادی کی قیمت پر نہیں۔ وہ لوگ احمقوں کی دنیا میں رہتے ہیں جو کھیل کود اور تعلیم کو کشمیر کی تاریخ کے عوض بیچنے کی کوشش کررہے ہیں۔ دنیا کی تاریخ ان حقائق پر شاہد ہے کہ جنگوں میں قوموں کو شکست تو دی گئی لیکن اُنہیں اپنی تاریخ بھولنے پر مجبور نہیں کیا جاسکا۔
    یہاں تک کہ اگر کشمیر میں مسلح مزاحمت ختم ہوجاتی ہے،اور بالکل کوئی آزادی کی تحریک نہیں رہتی،لوگ آج نہیں تو کل اپنی حق آزادی کے لیے ایک نئی تحریک شروع کریں گے۔ تاریخی حقائق اور انصاف پر مبنی تحاریک اور خیالات و نظریات،مخصوص افراد کی ملکیت ہوتی ہے نہ اس نمائندگی کرتے ہیں۔چاہئے وہ شخصیات کسی بھی قدوقامت کے کیوں نہ ہوں۔ ایک شخض،چاہئے کتنا ہی بڑا قائد کیوں نہ ہو، (مرد/خاتون)صرف تحریک کا حصہ ہے بذات خود تحریک نہیں۔اگر ایک راہنماکسی بھی بنیادپر اپنے مؤقف کو تبدیل کرکے راہ مفاہمت پہ چل نکلتا ہے، تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ تحریک ہی خراب اور بدعنوان ہے؟شیخ عبداللہ کشمیر کا سب سے مشہور اور بلند پایہ لیڈر تھا۔ مگر کس چیز نے اُس کی قبر کوبرصغیر کی سب سے زیادہ غیر محفوظ اور پُر حفاظت قبر بنادیا؟ وہ لوگ جو انفرادی شخصیات کو نمایاں،اُجاگر کرکے ہمیں تحریک کی بدعنوانی اور غیر قانونیت دکھانا چاہتے ہیں اُنہیں اس بات پر غور و فکر کرنا چاہئے۔ لوگوں کے لیے صرف وہی لیڈر(مرد/خاتون) مستنداورقابل قبول،جو مسئلہ کشمیر کے حقیقی تاریخی سیاسی بیانیہ کے ساتھ کھڑا، قائم رہے۔حکومت صرف ظلم و زیادتی کی تدابیرکی نشود ونما کرسکتی ہے مگر وہ وقت پر ان پالیسیوں سے اجتناب کرکے تاریخ کو تبدیل نہیں کرسکتی۔ اس لیے بھارتی قبضے کے لیے عذر خواہی کرنے والوں کے لیے یہ بہتر ہوگا کہ وہ،ہمیں بحیثیت انسان دیکھیں جو عظمت و وقار کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔مگر، اُنہیں ہمیشہ یہ ذہن میں رکھنا چاہئے کہ غیر قانونی قبضے،تسلط کے سایے تلے زندگی گزارنے میں کوئی عظمت و وقار نہیں۔مظلومین کی حیثیت سے ہم پابند ہیں کہ ہم ہر قسم کی ناانصافی،ظلم اور جبر کے خلاف اپنی استطاعت کے مطابق جدوجہد کریں۔ اور غیر قانونی قبضہ، تسلط کے زیر سایہ زندگی گزارنے سے بڑھ کر کون سی ناانصافی، ظلم اور جبر ہوسکتا ہے؟ ہمارے لوگوں کی مزاحمت نے قابضین کو اس حدتک مایوس کردیا،یہاں تک کہ وہ اُن لوگوں کو بھی برداشت نہیں کرسکتے،جو مقامی آ بادی کے غالب بیانیہ کی تائید تک نہیں کرتے۔مثال قائم کرنے کے لیے وہ انسانی حقوق کا دفاع کرنے والوں،امن کے سفیروں کو بھی پابند سلاسل یا قتل کرتے ہیں، بصورت دیگر جنہوں نے کبھی بھی ناجائز قبضے کے خلاف زبان نہیں کھولی۔ ہمیں اور ہمارے مقاصد کی سرزنش کے لیے مذہبی گفتگو کو سامنے لانے سے مسائل کے حل میں کبھی بھی آسانی پیدا نہیں ہوسکتی۔ ہمیں اس حقیقت کے بارے میں یہ واضح ہونا چاہئے کہ ہم یقین رکھتے ہیں کہ مذہب جس کی ہم پیروی کرتے ہیں رسومات اور عبادات کاسیٹ کے بجائے ایک نظام زندگی ہے۔ اس لئے ایک انسان کا اپنی سوچ، اصول اور نظریات اسی سسٹم سے اخذ کرنا قدرتی امر ہے۔ دوسرا یہ کہ ہر ایک کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ ظلم وجبر اور جارحیت کے خلاف بندوق اُٹھائے۔ مگر یہ ہر ایک کے لیے فرض ہے کہ وہ ظلم و جبر کے خلاف کھڑا ہوجائے۔ اور آخری بات، بحیثیت مسلم جو ایمان رکھتا ہے کہ اسلام انسانیت کے مکمل نظام حیات ہے، سماجی، اقتصادی اور سیاسی سسٹم کا احاط کرتا ہے، ہماری بھی تمنا ہے کہ اسی سسٹم کی حکمرانی ہو، مگر یہ سسٹم، نظام دھونس اور زور زبردستی کے ساتھ نافذالعمل نہیں لایا گیا، چاہئے حالات کیسے بھی تھے۔ ہمارا مقصد خاص یہ ہے کہ ہم اپنی سرزمین کو بیرونی غیرقانونی تسلط، جارحیت سے آزاد کرنا چاہتے ہیں،اور یوں ہم ایک امن اور انصاف کا ایسا ماحول پیدا کرنا چاہتے ہیں جہاں ہر ایک سوچ اور نظریہ پہ مباحثہ ہوگااور لوگوں کو یہ حق دیا جائے گا کہ وہ منتخب کریں جو کچھ بھی وہ پسند کریں۔ تاریخ اس حقیقت پر گواہ رہی ہے کہ جہاں بھی لوگوں نے حقیقی آزادی میں زندگی گزاری، اور اسلام کو حق حکمرانی دیا گیا،لوگوں نے نہ صرف اس کو خوش آمدید کہا بلکہ انصاف اور امن کا دوردورہ دیکھا۔ جیسا کہ ایک عظیم انقلابی میکولم ایکس کہتے ہیں؛ ہماری کتاب میں ایسا کچھ بھی نہیں، قرآن ہمیں خاموش ہوکے ظلم و جور برداشت کرنا سکھاتا۔ ہمارا مذہب ہمیں عاقل اور ہوشیار بن کررہنے کی تلقین کرتا ہے۔
    (منان وانی، سابق پی ایچ ڈی،سکالر،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی۔ مجاہد حزب المجاہدین).
    ان خطوط نے منان وانی شہید کی شخصیت کا قد مزید بڑا کردیا اور ان کو کشمیر کے ایک وکیل کی سی حیثیت سے متعارف کروادیا ہے. کشمیر کے پوسٹر بوائے کے طور پر مشہور ہونے والے برہان مظفر وانی شہید کے بعد منان وانی شہید کشمیر کے نوجوانوں کے لیے ہیرو بن چکے ہیں اور نوجوان ان کی طرح تعلیمی سلسلے کو ادھورا چھوڑ کر منان وانی شہید کا رستہ اختیار کر رہے.
    مصنف کے بارے میں جانیے اور ان کے مزید مضامین پڑھیے

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah
  • "آٹھ اکتوبر کا زلزلہ اور مقبوضہ کشمیر میں 65 دن کا کرفیو، ہونے کیا جا رہا ہے” تحریر: محمد عبداللہ

    "آٹھ اکتوبر کا زلزلہ اور مقبوضہ کشمیر میں 65 دن کا کرفیو، ہونے کیا جا رہا ہے” تحریر: محمد عبداللہ

    اس وقت ہم سیالکوٹ کے ایک تعلیمی ادارے میں نائنتھ کلاس میں زیر تعلیم تھے. وہ 08 اکتوبر 2005 کی صبح کا وقت تھا اور کلاس روم میں انگلش کا پریڈ جاری تھا.میں کلاس روم میں پچھلے بنچوں پر موجود طلباء سے سبق سن رہا تھا (مانیٹر ہوتے تھے ہم) کہ اچانک کمرہ لرزنے لگا، سر قدرت اللہ ہمارے انگریزی کے استاد تھے وہ باہر نکلے تو دیکھا زلزلہ آیا ہوا ہے انہوں نے سب طلباء کو باہر نکلنے کو کہا ہم سب بھاگ کر باپر نکلے اور عمارتوں کے درمیان گراؤنڈ میں آکر بیٹھ گئے اور استغفار کے کلمات زبان سے جاری ہونے لگے. تعلیمی ادارے کی مسجد کے مینار کافی لمبے تھے ان کو زلزلے میں باقاعدہ درختوں کی ٹہنیوں کی طرح لہراتے دیکھا تو دل اچھل کر حلق میں آگیا. یہ دو تین منٹ کے لمحات قیامت کے لمحات تھے مگر ہمیں کیا پتا تھا کہ پاکستان کے کچھ علاقوں اور بالخصوص آزاد کشمیر کے دارلحکومت مظفرآباد اور گرد و نواح میں واقعی یہ لمحات قیامت بن کر ٹوٹے تھے اور ہزاروں لوگ لقمہ اجل بن گئے تھے. بعد کے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 86 ہزار لوگ اس زلزلے میں جاں بحق ہوگئے تھے. تقریباً ستر ہزار کے قریب لوگ زخمی تھے اور معمولی زخمی نہیں تھے بلکہ کسی کا بازو کٹ چکا تھا تو کسی کی ٹانگ، کوئی ٹنوں ملبے تلے پھنسا تھا تو کوئی دریا کی لہروں کے سپرد ہوا تھا وہ قیامت صغریٰ کے مناظر تھے جو ان آنکھوں نے دیکھے.ریسکیو اور ریلیف کا ایک لمبا سلسلہ تھا جو شروع ہوا تو دنیا بھر سے امداد آنی شروع ہوئی، پاکستانیوں نے بھی اپنے بھائیوں کے لیے اپنے مال اور راشن کے منہ کھول دیئے اور ہر بندے نے اپنی حیثیت سے بڑھ کر تعاون کیا اور زخمیوں اور پیچھے بچ جانے اور بے گھر ہونے والے تقریباً 2.8 ملین لوگوں کو سہارا دیا. خوراک، میڈیسن، بستر، کپڑے، راشن الغرض ہر چیز کے ٹرکوں کی لمبی لائنیں تھیں جو ان لوگوں تک پہنچی اور وہ پھر سے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے قابل ہوئے.
    کیا بھارت کشمیر کو آزاد کرکے پاکستان کی بقاء ممکن بنائے گا؟؟؟ محمد عبداللہ
    ابھی کچھ دن قبل آزاد کشمیر کے ہی علاقے میرپور میں پھر سے زلزلہ آیا جس نے آٹھ اکتوبر والے زلزلے کی غمناک یادیں تازہ کردیں. گوکہ اس زلزلے میں زیادہ نقصان تو نہ ہوا لیکن آرمی اور دیگر ریسکیو کے ادارے پہنچے اور ریسکیو اور ریلیف کا کام شروع کرکے لوگوں کو بحالی میں مدد دی. لیکن ایک زلزلہ پچھلے دو ماہ سے بھی زائد عرصہ میں شہ رگ پاکستان کے مقبوضہ علاقے میں بھی جاری ہے. ستر سالوں سے بھارتی افواج کے ظلم و ستم کی چکی میں پستے کشمیریوں کی حالت زار پچھلے 65 دن کے کرفیو سے اور بھی محدوش ہوچکی ہے. آزاد کشمیر اور پاکستان کے دیگر علاقوں میں زلزلہ آیا تو پاکستان سمیے دنیا بھر سے امداد کی ایک لمبی لائن تھی جس کا ہم اوپر والی سطور میں ذکر کرچکے اس کے علاوہ افواج پاکستان ، ریسکیو کے اداروں سمیت مذہبی جماعتوں کے ہزاروں رضاکاروں پر مشتمل ریسکیو اور امدادی کاروائیاں جاری رکھنے، ملبہ ہٹانے، زخمیوں کو فیلڈ اسپتالوں میں پہنچانے، ان کو خوراک ، پانی اور بستر دینے، ان کے گھر تعمیر کرنے اور دیگر ریلیف کے مختلف کام والوں کی بہت بڑی تعداد تھی لیکن موجودہ کرفیو کی کیفیت میں مقبوضہ وادی کے لوگوں کی مدد کرنے والا کوئی بھی نہیں ہے، 65 دن کے کرفیو میں کاروبار اور دیگر ذرائع آمدن کی بندش نے کشمیریوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے.بھوک و پیاس سے جاں بلب کشمیری اطراف و کنار میں دیکھتے ہیں لیکن ان کی مدد و حمایت والی ساری آوازیں خاموش کرائی جاچکی ہیں. کشمیریوں کے گھروں سے راشن، بچوں کے لیے دودھ اور اسپتالوں کے بند ہونے سے بیماروں کے پاس سے دوائیاں بالکل ختم ہوچکی ہیں اور کہیں سے مدد کا کوئی سلسلہ نہیں ہے. بھارتی افواج کا ظلم و تشدد، جیلوں کو بھرنا، ساری کی ساری قیادت کا قید ہونا، آئے روز شہادتیں، مسلسل اجتماعی قبروں میں بیسیوں کشمیریوں کو دفنانے کا سلسلہ جاری ہے. اگر یہ کرفیو جلد از جلد ختم نہیں ہوتا تو اس خطہ ارض پر بہت بڑا انسانی بحران اور حادثہ پیدا ہونے جارہا ہے جس سے صرف آٹھ ملین کشمیری ہی متاثر نہیں ہونگے بلکہ پاکستان و بھارت بھی جنگ کی لپیٹ میں آئیں گے اور یہ دو ایٹمی اور نظریاتی ملکوں کی جنگ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لی گی. بھارت نے اس کرفیو اور آرٹیکل 370 کو ختم کرنے سے قبل کمال ہوشیاری سے اپنی پراپیگنڈا مشینری کو استعمال کرتے ہوئے کشمیریوں کے حق میں پاکستان سے ان کے لیے اٹھنے والی سبھی مضبوط اور موثر آوازوں کو خاموش کروا دیا ہوا ہے، ایف اے ٹی ایف کے شکنجے کیں پاکستان کو جکڑ کر اپنی مرضی کے فیصلے کروائے جا رہے ہیں اور اس سلسلے میں پاکستان کے حکمران بے بس نظر آتے ہیں.
    "عمران خان کی اقوام متحدہ میں تقریر کا اک انتہائی اہم پہلو” !!! تحریر محمد عبداللہ
    گوکہ عالمی سطح پر پاکستان کی انتظامیہ اور بالخصوص وزیراعظم پاکستان عمران خان مسئلہ کشمیر کو بہت احسن انداز میں ڈسکس کر رہے ہیں اور یہ ایشو دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کر رہا ہے لیکن یہ عام حالات نہیں ہیں کہ جس میں صرف تقریریوں یا سفارتی اقدامات تک محدود رہا جائے یہ ہنگامی حالات ہیں کشمیری 65 دن کے کرفیو سے قریب المرگ ہیں. ساری حریت قیادت قید ہے اور پاکستان میں بھی ان کے ہمنوا پابندیوں میں ہیں. ایسے میں اقوام عالم اور بالخصوص حکومت پاکستان کو جاں بلب کشمیریوں کے لیے کچھ عملی اقدامات کرنے چاہیں جو آٹھ ملین کے شدید ترین انسانی بحران کو بچانے میں اہم کردار ادا کر سکیں.
    مصنف کے بارے میں جانیے اور ان کے مزید مضامین پڑھیے

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah
  • میرپور زلزلہ کے آٍفٹر شاکس نے پھر تباہی مچا دی

    میرپور زلزلہ کے آٍفٹر شاکس نے پھر تباہی مچا دی

    میرپور زلزلہ کے آٍفٹر شاکس نے پھر تباہی مچا دی
    میر پورآزادکشمیر میں آفٹرشاکس کاسلسلہ جاری.میرپور کے علاقےجڑی کس میں گزشتہ رات آفٹرشاکس کے بعد2منزلہ عمارت گرگئی.ریسکیو اہلکاروں نےعمارت کےملبے تلے دبے3افراد کو زندہ نکال لیا گیا .میرپور کے علاقےجڑی کس میں گزشتہ رات آفٹرشاکس کے بعد2منزلہ عمارت گرگئی.گزشتہ ماہ آزاد کشمیر اور گردو نواح میں آنے والے زلزلے کے آفٹر شاکس کا سلسلہ تاحال جاری ہے اور آج ایک بار پھر میرپور اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے ہیں۔ زلزلے کے جھٹکے صبح 10 بج کر 28 منٹ پر آئے جن کا دورانیہ دو سے تین سیکنڈ تھا۔زلزلے کے جھٹکوں کے بعد لوگوں خوف و ہراس پھیل گیا اور وہ اپنے گھروں سے باہر نکل آئے

    وزیراعظم عمران خان میر پور پہنچ گئے، زلزلہ متاثرین کی عیادت، کہا پیکج تشکیل دے رہے ہیں

    وزیراعلیٰ پنجاب میر پور پہنچ گئے، کہا پنجاب حکومت مشکل وقت میں زلزلہ متاثرین کے ساتھ ہے

    میر پور آزاد کشمیر میں زلزلے سے سڑک ٹوٹ گئی

  • عنوان: جنگ دستک دے رہی ہے——— از — تحریر: انشال راؤ

    عنوان: جنگ دستک دے رہی ہے——— از — تحریر: انشال راؤ

    شاید ہی کوئی ادیب یا قلم کار ہو جس کے پاس وہ الفاظ ہوں جو غزوہ ہند کی عظمت و فضیلت کا احاطہ کرسکیں کیونکہ غزوہ ہند کی فضیلت کا اعلان مدینہ سے ہوا تھا اور اس انداز سے ہوا کہ اہلیان مدینہ جان و مال نچھاور کرنے کی تمنا میں بے تاب رہتے تھے یہ سلسلہ اگلی سے اگلی نسلوں کو منتقل ہوتا ہوتا ہم تک پہنچا ہے آج کل خطہ ہند کی صورتحال بتارہی ہے کہ غزوہ ہند کی آمد آمد ہے، ٹرمپ کے تازہ ترین بیان "انڈیا یعنی ہندوتوا کے ساتھ مل کر اسلامی دہشتگردی کو دنیا سے ختم کرینگے” نے تو ممکنہ جنگ کی تصدیق کردی ہے،

     

    اقوام متحدہ میں‌ عظیم الشان خطاب ، وزیراعظم عمران خان پاکستان کی خوش قسمتی ہے ، صحافی اور علماء بھی واہ واہ کراٹھے ، خراج تحسین پیش کیا

    ٹرمپ کا تازہ ترین بیان صدر بش کے بیان ہی کا تسلسل ہے، صدر بش نے افغانستان پر چڑھائی سے قبل صلیبی جنگوں کے آغاز کا اعلان کیا تھا اور اسے دہشتگردی کے خلاف جنگ کا نام دیا تھا، اس کے بعد سے پوری امت مسلمہ مشکلات سے دو چار ہے، ٹرمپ کے حالیہ بیان سے ایک بات واضح ہوگئی ہے کہ دہشتگردی یا دہشتگرد صرف اسلام اور مسلمان کی حد تک ہی محدود ہے وگرنہ برما میں جو ظلم و ستم کے پہاڑ مسلمانوں پہ ڈھائے گئے کیا کبھی کسی طرف سے انہیں دہشتگرد کہا گیا، بھارت میں کھلے عام سرکاری سرپرستی میں مسلمانوں کے ساتھ جو ظلم و بربریت کا سلوک کیا جارہا ہے وہ ساری دنیا کے سامنے ہے، کیا کسی نے ہندوتوا دہشتگردی کا نام لیا؟ رپورٹیں تک جاری ہونے کے باوجود کہیں سے کوئی صدا بلند نہیں ہوئی،

     

    عمران خان سچے،ایماندار اور حقیقی لیڈر ہیں ،اسلام،مسلمان اورکشمیر پرواضح موقف پیش کرنے پر سلام، شوبز کی دنیا کا وزیراعظم کو خراج تحسین

    کشمیر میں پچاس دن سے زائد ہوگئے کرفیو جاری ہے مگر ٹرمپ صاحب کہتے ہیں کہ اسلامی دہشتگردی کو ختم کرنا ہے وہ بھی بھارت کے ساتھ مل کر جوکہ درحقیقت عالمی جنگ کی پیش خبر ہے، اس ضمن میں نامور امریکی تجزیہ نگار و مصنف جیرالڈ فلری اپنے کتابچہ میں کہہ چکے ہیں کہ "Nuclear Armageddon is at the door” جیسا کہ امریکہ فروری میں روس کے ساتھ INF ٹریٹی ختم کرنے کا اعلان بھی کرچکے اور روس و امریکہ مہلک ہتھیاروں کی پیداوار میں اضافہ کرچکے ہیں، صورتحال کے پیش نظر جرمنی کی سپرمیسی میں یورپ بھی ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کی دوڑ میں شامل ہوگیا ہے، سابق جرمن وائس چانسلر و وزیرخارجہ Sigmar Gabriel نے اپنے آرٹیکل بعنوان "Europe & New Nuclear Arms Race” میں لکھتے ہیں کہ "Europe is now entering in potential dangerous period & must play a much more active role in nuclear arms debate” بات یہیں تک محدود نہیں ایران، کوریا و دیگر بہت سے ممالک اس دوڑ میں شامل نظر آرہے ہیں،

     

     

    چین جس کی توجہ کا مرکز و محور زیادہ تر تجارت معیشت ہی رہی اب پہلی بار طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہا ہے اور یکم اکتوبر کو اپنا بند تھیلا کھولنے کا ارادہ رکھتا ہے، ایٹمی جنگ سر پر کھڑی ہے جس کا آغاز ممکنہ طور پر جنوبی ایشیا سے ہوتا نظر آرہا ہے بھارت تو پہلے ہی ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے میں پہل کا اعلان کرچکا ہے جسکے جواب میں پاکستان کا موقف بھی آچکا ہے کہ پہل کے بعد دوج بھی ہوتی ہے، اگر تاریخ کا بغور جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ جتنی بھی بڑی طاقتیں گزری ہیں ان سب کے زوال کا سبب جنگی پھیلاو ثابت ہوا ہے، قدیمی عظیم سلطنت یورپ کا شیرازہ بکھرنے سے پہلے اس نے جنگوں کا دائرہ وسیع کردیا تھا، اس کے علاوہ سوویت یونین کی مثال سب کے سامنے ہے جس کے خاتمے کا سبب جنگی پھیلاو ہی بنا، امریکہ بھی اسی نقش قدم پہ چل رہا ہے اور جنگوں کو آگے سے آگے پھیلاتا جارہا ہے جو اس کے خاتمے کا عندیہ ہے،

     

     

    خطہ کشمیر اور اسکے نہتے عوام ہندوتوا دہشتگردوں کی بدترین جارحیت کی زد پہ ہیں وہ بظاہر تھکے ہوے، مٹتے ہوے، مغلوب ہوتے دکھائی دے رہے ہیں لیکن حقیقتاً وہ ایک درجہ اوپر آگئے ہیں اور یہی اصول ہے کہ پستی سے بلندی کا سفر کرکے تھوڑی تھکاوٹ تو ضرور ہوتی ہی ہے جب یہ سکوت ٹوٹے گا تو کشمیر کا نظارہ بدلا ہوا ملے گا ہر گھر سے مسلح تحریک کشمیر جلوہ گر ہوگی بچہ بچہ برہان وانی بن کر سامنے آئیگا اور اس بات سے مکار ہندوتوا دہشتگرد بخوبی واقف ہے اسی لیے کشمیر کو دنیا کا سب سے بڑا ملٹری بیس بنا رکھا ہے، جس طرح نازی جرمنوں نے شوق وسعت میں جارحانہ حکمت اپنی اپنائی اور آخر میں خود ہی اس آگ کا شکار ہوگئے بعینہ بھارتی جارحیت بھی "پونیا بھومی بھارت” بنانے کے لیے وسعت دینے کا پلان ہے اور "شکاری خود یہاں شکار ہوگیا” کے مصداق بھارت ٹکڑے ٹکڑے ہوجانا ہے اور شاہ ولی کی پیشین گوئی ہے کہ برہمن شکست کھا کر دائرہ اسلام میں داخل ہوجائینگے مگر یہ بات بھی اپنی جگہ اہمیت کی حامل ہے کہ عالمی جنگ کا نقطہ آغاز یہی خطہ ہے جو شروع پاک بھارت جنگ سے ہوگی اور اختتام ساری دنیا کی تباہی پہ ہوگا،

     

    نیشنل سلیکشن کمیٹی کوآرڈینیٹر کی تلاش ، مصباح الحق نیا آئیڈیا لے آئے

     

    حالات کی ستم ظریفی دیکھیں کہ جنگ کے بادل ہر طرف سے پاکستان کے سر پہ منڈلا رہے ہیں جبکہ اندرونی دشمن پاکستان کا دفاعی بجٹ کم کروا کر خوشیاں مناتے پھر رہے ہیں، SIPRI کی رپورٹ کے مطابق دنیا کا کل دفاعی اخراجات 2017 کے مقابلے میں 2.6 فیصد اضافے کیساتھ 2018 میں 1822 ارب ڈالر ہیں جسکے پانچ سب سے بڑے حصہ داروں میں امریکا، چین، سعودی عرب، بھارت اور فرانس ہیں، بھارت نے اپنے دفاعی بجٹ میں غیرمعمولی اضافہ کیا ہے جوکہ تقریباً ستر ارب ڈالر تک جا پہنچا ہے جبکہ پاکستانی افواج کو اندرونی دشمنوں نے ہدف تنقید بنا بنا کر دفاعی اخراجات کم کرنے پہ مجبور کردیا جس سے دشمن قوتوں کے کیمپ میں جشن منانے کا جواز پیدا ہوا، افواج پاکستان تو پوری طرح چوکنا ہے اب وقت ہے عوام کو حقیقی صورتحال اور دشمن کے ناپاک عزائم کو سمجھ کر ان کے آلہ کاروں کو پہچان کر رسوا کرنے کا جوکہ ہر پاکستانی کا فریضہ ہے

     

    عنوان: جنگ دستک دے رہی ہے——— از — تحریر: انشال راؤ

     

  • مسئلہ کشمیر پر عمران خان کا کردار!!!  تحریر غنی محمود قصوری

    مسئلہ کشمیر پر عمران خان کا کردار!!! تحریر غنی محمود قصوری

    مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں جب جسم کے کسی حصے میں تکلیف ہو تو پورا جسم بے چین ہو جاتا ہے یہی صورت حال امت مسلمہ کی ہے 73 سالوں سے امت محمدیہ کے بیٹے بیٹیاں مقبوضہ کشمیر میں ظلم و جبر کے سائے تلے ہندو پلید کی غلامی میں جی رہے ہیں اور آج ہندو کی جانب سے کشمیری مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کیئے دو ماہ ہونے کو ہیں مقبوضہ وادی کشمیر مودی ظالم نے ظلم کی تمام حدیں پار کر دی ہیں جس پر پورا عالم کفر تو خاموش تھا ہی مگر حیرت اور دکھ عالم اسلام پر ہے کہ وہ جسم کے ایک حصے کی درد کو محسوس کرکے بھی گونگے بنے بیٹھے ہیں حالانکہ آج ہمارے اسلامی ممالک کے پاس ہر طرح کے مالی و عسکری وسائل موجود ہیں مگر سوائے پاکستان کے کسی کو توفیق نہیں کہ اس درد کو محسوس کرسکے
    اتنے سالوں میں کئی لیڈر آئے اور کشمیری قوم کے ساتھ تسلی و تشفیع پر اکتفا کرتے رہے مگر بدقسمتی سے کشمیر کا دفاع صحیح معنوں میں نا کر سکے بلکہ الٹا عالم کفر کے مذید غلام بنتے گئے
    ایسے میں 27 ستمبر کو اللہ رب العزت نے وزیراعظم عمران خان کو یونائیٹڈ نیشن کے اجلاس میں مسئلہ کشمیر پر بات کرنے کا موقع دیا مگر خان نے بھی اللہ کی مدد سے مسئلہ کشمیر کیساتھ ہندو پلید کی مکاری اور فریبی کو بھی دنیا کے سامنے خوب اچھی طرح باور کرایا جس پر پوری پاکستانی قوم کا سر فخر سے بلند ہو گیا ہے
    یقینا اس طریقے سے بات کرنا عالم کفر کے ایوانوں میں بہت ہمت و حوصلے کی بات ہے کیونکہ پہلے بھی ہزار سال جنگ تو کوئی گھاس کھانے کے نعرے لگا چکے ہیں جس سے پاکستانی و کشمیری قوم کا سیاستدانوں سے اعتبار اٹھ چکا تھا مگر آپ نے اس اٹھے ہوئے اعتماد کو دوبارہ بحال کرنے کا عمل شروع کیا ہے اور دعا ہے کہ اللہ تعالی آپ کو کامیابی سے ہمکنار کرے
    مگر خان صاحب اللہ کا واسطہ ہے اب اگر سر اٹھا ہی لیا ہے تو یہ سر نیچا نا ہونے پائے کیونکہ آپ نے دیکھا بھی ہے پڑھا بھی ہے کہ سابقہ حکمرانوں نے کس قدر کمزوری کا مظاہرہ کیا اور آخر جوتے کھا کھا کر روانہ ہوتے رہے اور قصہ پارینہ بنتے گئے اور ان کیساتھ یہ ان کے رب کریم نے کروایا تاکہ وہ دنیا کے سامنے باعث عبرت بنیں کہ جو اپنے جسم و شہہ رگ سے وفاداری نہیں کرتا پھر جوتے ہی اس کے مقدر بنتے ہیں
    اگر اب آپ نے بھی اپنے الیکشن کی طرح مسئلہ کشمیر کو ایک کارڈ کے طور پر استعمال کیا تو پھر یقین جانیئے اللہ کے عذاب سے آپ بچ نا سکیں گے کیونکہ پاکستانی عوام سے کیئے گئے وعدوں کی خلاف ورزی کی بدولت بڑی حد تک قوم آپ سے مایوس ہو چکی ہے مگر مسئلہ کشمیر کے معاملے پر آپ کی دلیری نے آپ کو ایک موقع دیا ہے اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ اس مسئلے کو حل کرنے کی سنجیدہ کوشش کرکے عالم اسلام کے ہیرو بنتے ہیں یاں پھر پہلوں حکمرانوں کی طرح روگردانی کرتے ہوئے اندھیروں کے مسافر بنتے ہیں
    باقی قوم پاکستان و عالم اسلام کی دعائیں آپ کے ساتھ ہیں اللہ تعالی آپ کا حامی و ناصر ہو آمین

  • مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو سے بیرون ممالک کشمیریوں کی زندگی کیسے اجیرن ہوگئی ہے!!! تحریر: محمد عبداللہ

    مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو سے بیرون ممالک کشمیریوں کی زندگی کیسے اجیرن ہوگئی ہے!!! تحریر: محمد عبداللہ

    مقبوضہ کشمیر میں جہاں کرفیو کے باون دنوں سے وادی کے لوگوں کی زندگی اجیرن ہوئی ہے، غذائی اشیاء کی شدید قلت ہے، شیر خوار بچوں کے لیے دودھ بھی میسر نہیں ہے، مواصلات کے سبھی ذرائع پر سخت قسم کی پابندیاں عائد ہیں جس کی وجہ سے بھارتی مسلح افواج کی بربریت اور کرفیو میں جاں بلب کشمیریوں کے نقصانات کا تخمینہ لگانا ناممکن سا ہوا پڑا ہے وہیں ایک بڑا مسئلہ اور نقصان ان کشمیری طلباء کا ہے جو وادی سے باہر مختلف ممالک میں زیر تعلیم ہیں.

    مزید پڑھیں کیا سوشل میڈیا پوسٹس اور ٹویٹر ٹرینڈز سے کشمیر آزاد ہوجائے گا؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ

    پچھلے تقریباً دو ماہ سے ان میں سے کسی کا بھی اپنے گھر والوں سے کسی قسم کا رابطہ نہیں ہے. ان کے پاس بجٹ پہلے ہی محدود ہوتا ہے وہ ختم ہوچکا ہے اور وہ فاقوں پر مجبور ہیں لیکن اس سے بڑا مسئلہ شدید قسم کی ذہنی اذیت ہے کہ کوئی اندازہ اور علم نہیں ہے کہ ان کے گھر والے کس کیفیت میں ہیں، زندہ بھی ہیں یا نہیں اور حالیہ آنے والے زلزلہ کے بعد تو دکھ کی یہ کیفیت مزید بڑھ گئی کہ اپنے والدین و بہن بھائیوں کی خیریت دریافت کرنا چاہتے ہیں مگر مواصلات، میڈیا، سوشل میڈیا غرض کے سبھی ذرائع کے بلیک آؤٹ کی وجہ سے وہ اس عمل سے قاصر ہیں.

    مزید پڑھیں مسئلہ کشمیر فقط زمین کے ٹکڑے کی لڑائی یا کچھ اور؟ ؟؟ محمد عبداللہ

    کشمیری خواتین کی سب سے بڑی جماعت دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرانی کے بیٹے احمد بن قاسم کا کہنا تھا "زلزلے کے بعد آپ اپنے گھر والوں کی خیریت دریافت کرنے کے لیے بے ساختہ فون اٹھاتے ہیں اور نمبر ڈائل کرتے ہیں مگر آپ بھول جاتے ہیں کہ کشمیر میں کرفیو ہے اور ہر قسم کی مواصلات پر پابندی ہے” اسی طرح آسیہ اندرابی ہی کے بھانجے اور کشمیر یوتھ الائنس کے صدر ڈاکٹر مجاہد گیلانی کا کہنا تھا "کہ پہلے تو ہماری خالہ کی خیریت دریافت ہوجاتی تھی مگر اب کرفیو اور مواصلات پر پابندی کی بدولت ہم کچھ بھی جاننے سے قاصر ہیں”. پاکستان کی مختلف یونیورسٹیز میں پڑھنے والے بے شمار کشمیری طلباء نے اپنی یہی کیفیت بتائی کہ وہ اپنے گھر والوں کی خیریت دریافت کرنے کو بے تاب ہیں مگر کوئی ذریعہ نہیں ہے. ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے گھر والوں نے اخراجات کے لیے کرفیو سے قبل جو رقم بھجوائی تھی وہ ختم ہوچکی ہے اور اب ہم فاقوں پر مجبور ہیں. ہزاروں کشمیری طلباء دنیا کے مختلف ممالک میں زیر تعلیم ہیں اور ہزاروں ایسے ہیں جو بسلسلہ روزگار بیرون ملک مقیم ہیں ان سب کی کیفیت یہی ہے کہ وہ اپنے گھر والوں سے رابطہ نہ ہونے کے باعث شدید قسم کی ذہنی اور قلبی اذیت کا شکار ہیں. کچھ دن قبل پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے سعودیہ میں مقیم ایک کشمیری نوجوان نے فریاد کی تھی کہ میرا اپنے گھر والوں سے کوئی رابطہ نہیں ہے اور میں ان کے بارے میں شدید پریشانی کا شکار ہوں. یہ ایک مثال تھی مگر کتنے ہی ہزاروں کشمیری طلباء اور مزدور جو بیرون ملک مقیم ہیں ایسے بھی ہیں جو اس ڈر سے میڈیا یا سوشل میڈیا پر آکر اپنی پریشانی اور کیفیت بیان نہیں کررہے کہ کہیں ان کے اس عمل کی وجہ سے ان کے گھر والوں پر کوئی آفت نہ آن پڑے. بھارت کی جانب سے باون دنوں کا مسلسل کرفیو اور ذرائع مواصلات پر پابندی وہ شدید قسم کی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے جس کا شکار بےچارے کشمیری ہو رہے ہیں ایسے میں انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور بھارت پر زور دینا چاہیے کہ وہ کشمیر میں کرفیو کو ختم کرے اور ذرائع مواصلات پر عائد پابندیاں ہٹائے تاکہ بیرون ملک مقیم کشمیری اپنے پیاروں سے رابطہ کرکے ان کی خیریت دریافت کرسکیں.

    مصنف کے بارے مزید جانیے

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah
  • مسلمانوں کے خلاف بھارت اور امریکہ کی ایک زبان  :علی چاند

    مسلمانوں کے خلاف بھارت اور امریکہ کی ایک زبان :علی چاند

    امریکہ کے شہر ہیوسٹن میں امریکیوں اور ہندوستانیوں سے بھرے سٹیڈیم میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم مودی نے ایک دوسرے کو تھپکی دیتے ہوٸے اس بات کا عزم کیا ہے کہ وہ دونوں مل کر دنیا سے اسلامی دہشت گردی کا خاتمہ کریں گے ۔ یہ بات امریکی صدر نے کہی ہے کہ
    ” ہم بےقصور شہریوں کی انتہا پسند اسلامی دہشت گردی کے خطرہ سے حفاظت کے لئے پرعزم ہیں ”

    کاش مسلمان حکمرانوں میں اتنا عقل و شعور اور سمجھ ہوتی کہ کافر ، عیساٸی اور یہودی کبھی بھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہوسکتے ۔ کاش مسلمان حکمرانوں میں اتنی غیرت ہوتی کہ وہ اپنے مظلوم مسلمان بہن بھاٸیوں کی جہاد کے ساتھ مدد کرتے ہمارے حکمرانوں کا یہ المیہ ہے کہ وہ صرف معیشیت کا ہی رونا روتے رہتے ہیں ۔ یہ نہیں سوچتے کہ جنگیں ہار جیت اور معشیت کے لیے نہیں بلکہ اپنے وقار کے لیے لڑی جاتی ہیں ۔ مسلمان حکمرانوں نے اپنی معیشیت بہتر بنانے کے چکروں اپنا وقار مٹی میں ملا دیا ہے ۔ مسلمان حکمرانوں نے اپنی معیشیت کی خاطر ان ہندوٶں کو اپنے اپنے ملکوں میں نہ صرف مندر تعمیر کر کے دٸیے ہیں بلکہ ان مندروں کا افتتاح بھی اپنے ہاتھوں سے کر رہے ہیں ۔ یہی مسلمان حکمران ان یہود و ہنود کو نہ صرف مندر تعمیر کر کے دے رہے ہیں بلکہ انہیں اپنے اعلی سول اعزازات سے بھی نواز رہے ہیں ۔ کسی کو پچاس لاکھ ڈالر مالیت کا سونے کا ہار پہنایا جارہا ہے اور کسی کو سول اعزاز دیا جارہا ہے ۔ اور بدلے میں کیا مل رہا ہے ان مسلمان حکمرانوں کو ۔ خود ہم پاکستانی حکمران اپنی نمک جیسی نعمت کو انہی یہود و ہنود کو کوڑیوں کے دام دے رہے ہیں ۔ بدلے میں مسلمانوں کو کیا مل رہا ہے سود در سود قرض تلے ساری قوم جھکڑی جارہی ہے ۔

    کشمیر ، فلسطین ، عراق ، برما ، وہ کون سا علاقہ ہے جہاں مسلمان محفوظ ہیں ۔ ؟ امریکہ ہو یا بھارت جیسا ملک مسلمانوں کو کہاں سکون لینے دے رہے ہیں ۔ اور مسلمان شہید ہورہے ہیں ، بچے یتیم ہورہے ہیں ، بہنوں بیٹیوں کے ساتھ جو ہو رہا اس پر تو اب تک شاید آسمان بھی پھٹ جاتا لیکن ان مسلمان بزدل حکمرانوں نے غیرت مند مسلمانوں کی بھی غیرت ڈالر اور معیشیت کے بدلے گروی رکھ دی ۔ ہر جگہ مسلمان اپنی عزتیں لٹا رہے ہیں ، جانیں دے رہے ہیں پھر بھی ملا کیا اسلامی دہشت گردی کا طعنہ ؟ بزدل حکمرانوں نے جتنا امن امن کا راگ الاپا اتنا ہی ہم دہشت گرد ٹھہرے ۔ وجہ صرف اور صرف ہمارے حکمرانوں کی بزدلی اور پھر اس بزدلی کو امن کا نام دینا ۔ محمد بن قاسم صرف ایک مسلمان بچی کی فریاد پر پورا سندھ ہلا گے ۔ نا معیشیت کا سوچا نہ امن کا سوچا ۔ ہے کسی کی جرأت کے محمد بن قاسم کو دہشت گرد لکھے ؟ محمود غزنوی جس نے ہندوستان پر سترہ حملے کیے سو منات کا مندر توڑا ، سترہ حملے کرتے وقت محمود غزنوی نے معیشیت کا سوچا ؟ سو منات کا مندر توڑتے وقت محمود غزنوی نے سوچا کہ دنیا مجھے دہشت گردکہے گی ، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ مسلمان بزدلی کو امن کا نام نہیں دیتے بلکہ غیرت مند ہوتے ہیں ۔ہے کسی کی جرأت کے محمود غزنوی کو دہشت گرد لکھے ؟ ٹیپو سلطان نے جنگ کی جنگ ہار گے لیکن کسی بزدل یہود وہنود کے آگے گھٹنے نہ ٹیکے ۔ ہے کسی کی جرأت کہ ٹیپو سلطان کو ہارا ہوا لکھے ۔ تاریخ ہارا ہوا اور دہشت گرد صرف اسی کو لکھتی ہے جو بزدلی کو امن کا نام دے کر گھٹنے ٹیک لے ۔

    غیرت مندوں کو ہارا ہوا اور دہشت گرد لکھنے کی جرأت کسی میں نہیں ہوتی ۔ طارق بن زیاد ، صلاح الدین ایوبی ، محمد بن قاسم ، محمود غزنوی ، ٹیپو سلطان ان سب کو کیا اسلام امن کا درس نہیں دیتا تھا ؟ کیا اسلام امن کا درس صرف آج کے ڈرپوک بزدل اور ڈالر کے غلام مسلمان حکمرانوں کو دیتا ہے ؟ مسلمان دہشت گرد نہیں ۔ نہ ہی بزدل ہوتا ہے ۔ مسلمان صرف اور صرف غیرت مند ہوتا ہے ۔

    مودی اور ٹرمپ کے بیان کے بعد ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمان حکمران غیرت کی گولی کھاٸیں اور ایسے غیرت اور جرأت مندانہ خطاب کریں کہ ان نمک حرام یہود و ہنود کی نیندیں حرام ہو جاٸیں ۔ اور انہیں نہ صرف مسلم مقبوضہ علاقے خالی کرنے پڑیں بلکہ اپنی معیشیت کی بھی فکر لاحق ہوجاٸے ۔ لیکن ایسا صرف تبھی ممکن ہوگا جب مسلمان حکمران غیرت مندی دیکھاٸیں گے ۔ ابھی ساری دنیا کی نظریں وزیر اعظم عمران خاں اور ترکی کے صدر رجب طیب اردگان پر لگی ہوٸی ہیں ۔ عرب حکمران تو ان یہود و ہنود کے ہاتھوں کٹھ پتلیاں بن کر انہیں اعلی اعزازات سے نواز رہے ہیں وہ کیا جواب دیں گے اور کیا غیرت مندی دیکھاٸیں گے ۔ یہ ہی وقت ہے جب عمران خان پوری امت کا دل جیت بھی سکتے ہیں اور پوری امت کے دل سے اتر بھی سکتے ہیں ۔ یہی وہ وقت ہے جب عمران خاں یا تو ہیرو بن جاٸے گا یا پھر زیرو ۔

    اللہ پاک مسلمان حکمرانوں کے دل سے یہود و ہنود اور ڈالر کی محبت نکال کر انہیں جرأت مندی اور غیرت کا مظاہرہ کرنے کی توفیق عطا فرماٸے ۔ آمین

  • مسجد نبوی میں شاہ محمود قریشی کی کشمیری نوجوان سے گفتگو ، تسلی دیتے ہوئے کہا کہ  کشمیر جلد آزاد ہوگا

    مسجد نبوی میں شاہ محمود قریشی کی کشمیری نوجوان سے گفتگو ، تسلی دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر جلد آزاد ہوگا

    مدینہ منورہ: پاکستان کی موجودہ حکومت مقبوضہ کشمیرکے باسیوں کے دل آواز بن گئی ، اطلاعات کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو دیکھ کر کشمیر مسلمان اُن کے پاس آیا اور اپنی پریشانی بیان کی کہ پلوامہ میں والدین سے کوئی رابطہ نہیں ہورہا۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کا بچہ بچہ کشمیریوں کے ساتھ ہے، کشمیر جلد آزاد ہوگا‘۔

    مقبوضہ کشمیر میں‌ہونے والے مظالم سے پردہ اٹھاتے ہوئے مسجد نبوی ﷺ کے صحن میں کشمیری مسلمان نے بتایا کہ کشمیر میں ہمارے بہن بھائیوں پر ظلم ڈھائے جا رہے ہیں۔

    شاہ محمود قریشی نے نوجوان کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ ’’وزیر اعظم عمران خان اقوام متحدہ جارہے ہیں جہاں کشمیریوں اور کشمیر کا مقدمہ نہ صرف عالمی دنیا کے سامنے پیش کیا جائے گا بلکہ ہم اس مقدمے کو اچھے سے لڑیں گے، دعا ہے کہ کشمیریوں کو جلد آزادی ملے، پاکستان ہمیشہ کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے‘‘۔

    وزیراعظم پاکستان دو روزہ دورے پر اپنی اہلیہ اور پاکستانی وفد کے ہمراہ سعودی عرب پہنچے جہاں انہوں نے عمرہ ادائیگی، روضہ رسول پر حاضری دی اور سعودی حکمرانوں سے بھی خصوصی ملاقاتیں کیں، سعودی عرب سے عمران خان امریکا روانہ ہوگئے ہیں‌۔

  • کیا سوشل میڈیا پوسٹس اور ٹویٹر ٹرینڈز سے کشمیر آزاد ہوجائے گا؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ

    کیا سوشل میڈیا پوسٹس اور ٹویٹر ٹرینڈز سے کشمیر آزاد ہوجائے گا؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ

    اکثر و بیشتر ہم ایسی باتیں پڑھتے اور سنتے ہیں کہ تم لوگ جو آئے روز کشمیر ایشو پر ٹرینڈنگ کرتے ہو، شور مچاتے ہو اس سے مسئلہ کشمیر اور اہل کشمیر کو کیا فائدہ ملتا ہے یا بھارت کا اس سے کیا نقصان ہوتا ہے ، جہاں امت مسلمہ کچھ نہیں کر رہی تو تمہارے ان ٹویٹر ٹرینڈز سے کیا ہوجائے گا. تو عرض ہے کہ بات کوشش یا جدو جہد کے چھوٹے یا بڑے ہونے یا اس سے دشمن کو پہنچنے والے نقصان کی نہیں ہوتی بلکہ سائیڈ کی ہوتی ہے کہ آپ کس کی سائیڈ پر کھڑے ہیں اگر تو آپ ابراہیم علیہ السلام پھر آپ کا جتن آگ کو بجھانے کے لیے ہوتا ہے اور اگر آپ صف نمرود میں ہیں تو پھر آپ کی فکر آگ کو بڑھاوا دینے کی ہوتی ہے چاہے وہ چھپکلی کی طرح اپنی پھونکوں سے ہو یعنی آپ نے اپنی ان چھوٹی بڑی کاوشوں سے باور یہ کروانا ہوتا ہے کہ آپ کس طرف کھڑے ہیں.

    مزید پڑھیں مسئلہ کشمیر فقط زمین کے ٹکڑے کی لڑائی یا کچھ اور؟ ؟؟ محمد عبداللہ

    مسئلہ اس وقت یہ ہے کہ ریاست پاکستان اس وقت جنگ نہ کرنا چاہتی ہے نہ ہونے دینا چاہتی ہے، گزشتہ روز بھی عمران خان نے دو ٹوک کہا کہ پاکستان سے جو مسلح مدد کرنے گیا وہ کشمیریوں پر ظلم کرے گا بلکہ ریاست پاکستان اس ایشو کو انٹرنیشنل کمیونٹی اور فورمز میں اجاگر کرکے بھارت کو بین الاقوامی سطح پر ایک دہشت گرد اور ظالم ملک ڈکلیئر کروانا چاہتی ہے (جیسے اس نے مسلسل پراپیگنڈے کے ساتھ پاکستان اور پاکستان میں موجود شخصیات کے ساتھ کیا) تو اس عمل میں جب آپ چاروں طرف سے بے بس ہوں تو صف ابراہیم میں شامل ہونے کے لیے ضروری ہے کہ جو آپ کر سکتے ہیں کم از کم وہ تو کریں.

    مزید پڑھیں کیا بھارت کشمیر کو آزاد کرکے پاکستان کی بقاء ممکن بنائے گا؟؟؟ محمد عبداللہ

    ٹویٹر ٹرینڈز کا بنیادی مقصد دنیا بھر کے نشریاتی اداروں، انسانی حقوق کی تنظیموں، ملکوں اور انفرادی شخصیات کی توجہ کشمیر پر مبذول کروانا مقصود ہے اور الحمدللہ پاکستانی سوشل ایکٹوسٹس یہ مقصد حاصل کررہے ہیں مسلسل ٹرینڈنگ سے کشمیر ایشو بین الاقوامی ایشو بنتا جا رہا ہے ہے اور ہر طرف کشمیر پر بات ہونا شروع ہوچکی ہے کہ آخر مسئلہ کیا ہے کیوں اتنے لوگ روز شور مچاتے ہیں انسانی حقوق کی تنظیمیں، بین الاقوامی نشریاتی ادارے اور دنیا بھر کے صحافتی اور دیگر پیشوں سے تعلق رکھنے والے افراد کشمیر پر بولنا شروع ہوچکے ہیں. مسلسل 46 دن کے کرفیو پر سوالات اٹھ رہے ہیں، یورپی یونین میں مسئلہ کشمیر پر بحث شروع ہوچکی ہے. دوسری بات کہ یہ موجودہ جنگ صرف نام کی ففتھ جنریشن وار نہیں ہے بلکہ حقیقت میں ہے جس کی مختلف صورتیں اور جہتیں ہیں جہاں آپ کو کوئی بھی میدان خالی نہیں چھوڑنا ہوتا.

    مزید پڑھیں سوشل میڈیا پر بھارت کا راج پاکستانی بے یارو مددگار — محمد عبداللہ

    تیسری بات جو دوسری کے ساتھ ملتی ہے کہ قران کی آیت ہے جس کا ترجمہ اکثر ہم جیسے کم علم لوگ یہ کردیتے ہیں کہ کافر اسلام کو اپنی پھونکوں سے بجھان چاہتے ہیں تو اس میں پھونک کا نہیں منہ کا ذکر ہے مطلب میڈیم اور آج کا منہ یہ میڈیا ہی ہے اور آپ میڈیا پر اسلام و مسلمانوں کے خلاف یلغاریں دیکھ لیں تو اس بات کی بخوبی سمجھ آتی ہے اسلام.کے چراغ کو گل کرنے کے لیے اس میڈیا کا کیسے کیسے استعمال کیا جا رہا ہے. پھر اس بات میں بھی کوئی دو رائے نہیں دنیا بھر کے پالیسی ساز ادارے اور تنظیمیں میڈیا بالخصوص سوشل میڈیا کو مانیٹر کرتے ہیں اور اپنی پالیسیز کو مرتب کرتے وقت عوامی رائے کو نظر انداز نہیں کرتے. عرب اسپرنگ کے نام پر عالم عرب کی تباہی کوئی زیادہ پرانی بات نہیں ہے جس میں بنیادی کردار اسی سوشل میڈیا ہی کا تھا، ان ٹویٹر ٹرینڈز کا ہی تھا لہذا اس میدان میں لڑنے والوں کی اگرچہ کوئی حیثیت اور ویلیو نہ ہو لیکن ان پر ہنسنے کی بجائے اگر ساتھ شامل ہوجایا جائے تو کم از کم اپنا تو پتا چل جائے کہ ہم کس صف میں شامل ہیں.

    مصنف کے بارے میں مزید جانیے

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah
  • بھارت کی نیت خراب ؛ 2 لاکھ مزید فوجی مقبوضہ کشمیر بھیج دئیے گئے ، پاکستان حالات پر نظر رکھے ہوئے ہے ، سیکرٹری خارجہ

    بھارت کی نیت خراب ؛ 2 لاکھ مزید فوجی مقبوضہ کشمیر بھیج دئیے گئے ، پاکستان حالات پر نظر رکھے ہوئے ہے ، سیکرٹری خارجہ

    اسلام آباد: بھارت کی مکاری عیاں ہونے لگی ، اطلاعات کے مطابق بھارت نے پچھلے 3 دن میں مقبوضہ کشمیر میں مزید 2 لاکھ کے قریب فوجی تعینات کردئیے ہیں ، دفاعی حکام کے مطابق ایک لاکھ 80 ہزار فوجی، کچھ نیم فوجی دستے اور دیگر اہلکار تعینات کردیے گئے۔

    ذرائع کے مطابق رات سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو سیکرٹری خارجہ نے مقبوضہ کشمیر کی تازہ صورت حال سے آگاہ کرتے ہوئے بتا یا کہ بھارت کی جانب سے 5 اگست کو کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد پیدا ہونے والی انسانی حقوق، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور سیکیورٹی کی صورتحال کے بارے میں آگاہ کیا۔

    ٹیکس ایپلیکیشن ، ایف بی آر کی کامیاب حکمت عملی

    پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بارے میں سیکرٹری خاجہ نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بریفنگ کے دوران بتایا کہ لائن آف کنٹرول کے ساتھ بھارتی جارحیت میں اضافہ ہوگیا ہے اور وہ کوئی بھی شر انگیزی کر کے اس کا الزام پاکستان پر دھرنے سے دریغ نہیں کرے گا۔کسی بھی وقت کوئی نہ کوئی شرارت ہوسکتی ہے ، لیکن پاکستان بھی تیار بیٹھا ہے

    بین الاقوامی خبررساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق مقبوضہ کشمیر سے 6 ہزار افراد کو گرفتار کر کے بھارت کی مختلف جیلوں میں بھیجا جاچکا ہے جہاں انہیں بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔عوام خوراک اور ادویات کی قلت کا شکار ہیں مقبوضہ وادی میں مواصلاتی رابطے منقطع ہونے پر وزیراعظم عمران خان نے عالمی رہنماؤں سے رابطہ کر کے وادی کشمیر میں بھارتی فورسز کی سفاکیت سے آگاہ کیا۔