Baaghi TV

Category: کشمیر

  • مودی بھی کوئی انسان ہے ؟ بالی ووڈ کی اداکارہ کشمیریوں پر مظالم کے خلاف مودی پر برس پڑیں

    مودی بھی کوئی انسان ہے ؟ بالی ووڈ کی اداکارہ کشمیریوں پر مظالم کے خلاف مودی پر برس پڑیں

    نئی دلی:مودی بھی کوئی انسان ہیں ؟ بے گناہ کشمیریوں پر مظالم پر چپ نہیں رہ سکتی ، مودی انسانیت کا قتل کررہا ہے ، جو خاموش ہیں وہ اس کے جرم میں برابر کے شریک ہیں ، کشمیریوں پر بھارتی مظالم کے خلاف نامور بالی ووڈ اداکارہ اوربھارتی سیاسی جماعت کانگریس کی رکن ارمیلا ماٹونڈکرمقبوضہ کشمیر کو مکمل لاک ڈاؤن کرنے اور مظلوم کشمیریوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کرنے پر مودی سرکار پر پھٹ پڑیں۔

    ذرائع کے مطابق بھارتی اداکارہ ارمیلا ماٹونڈکر نے بھارتی حکومت کی جانب سے گزشتہ 22 روز سے مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال اورکشمیریوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے غیر انسانی سلوک پر مودی سرکار پر برستے ہوئے کہا ہے کہ میرے ساس سُسر کشمیر میں رہتے ہیں اور میرے شوہر مقبوضہ کشمیر میں جاری لاک ڈاؤن کے باعث گزشتہ 22 روزسے اپنے والدین سے بات نہیں کرسکے ہیں۔

  • پاکستانی ادارکار ،فنکار بھی کشمیری نکلے ، فنکاروں نے بھرپور انداز سے اظہار یکجہتی کیا

    پاکستانی ادارکار ،فنکار بھی کشمیری نکلے ، فنکاروں نے بھرپور انداز سے اظہار یکجہتی کیا

    کراچی: ہم سب کشمیری ہیں اور کشمیری پاکستانی ہیں‌، ہم کشمیریوں کو بھارتی مظالم اور غلامی میں رہتے ہوئے برداشت نہیں کرسکتے ، کشمیریوں کی آزادی کے لیے آخری حد تک جائیں‌گے ، ان خیالات کا اظہار پاکستانی فنکاروں نے آج بھرپور انداز سے کیا ، اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے مظلوم کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے وزیراعظم عمران خان کےاعلان کے بعد آج 12 بجے پورے ملک میں ’کشمیر آور‘ منایاگیا۔ شوبز فنکاروں نے بھی اس موقع پر کشمیریوں کے ساتھ بھرپور اظہار یکجہتی کیا۔

    تفٍصیلات کے مطابق نامور پاکستانی اداکارہ ماہرہ خان نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ وہ کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے وزیراعظم عمران خان اورمظلوم کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہیں۔ اس وقت ہم ایک ساتھ امن کی دعا کرتے ہیں اور پُر امید ہیں۔

    اداکار فیصل قریشی اور اعجاز اسلم بھی کشمیریوں کے لیے نکلے اور مظلوم کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔داکار عدنان صدیقی اوربلال اشرف نے بھی تصاویر شیئر کیں اوربتایا کہ وہ مظلوم کشمیریوں کے ساتھ ہیں۔

    دیگر گلوکاروں کی طرح گلوکارہ رابی پیرزادہ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو پیغام جاری کیا ہے جس میں وہ کہہ رہی ہیں کہ وہ کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے لبرٹی چوک جارہی ہیں۔ انہوں نے تمام لوگوں سے درخواست کی کہ وہ سب ان کا ساتھ دینے کے لیے لبرٹی چوک آئیں۔واضح رہے کہ شوبز کے تمام فنکار گزشتہ روز سے ہی کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے پیغامات جاری کررہے ہیں۔

    https://www.instagram.com/rabi.fairy/?utm_source=ig_embed

    کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے اداکار ہمایوں سعید نے ٹوئٹر پر کہا تھا کہ بد قسمتی سے میں اس وقت ملک میں موجود نہ ہونے کی وجہ سے کشمیر آور میں حصہ نہیں لے سکوں گا لیکن میں کہیں بھی ہوں میری حمایت ہمیشہ سے کشمیر کے ساتھ ہے۔

    پاکستان کے صف اول کے ادکار شان نے بھی وزیراعظم کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئےکہا تھا کہ ان کی بھرپور حمایت کشمیر کے ساتھ ہے اور وہ بھی مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے نکلیں گے۔ شان نے کہا کہ وہ اپنے کشمیری بھائیوں کو جلد بھارت کی غلامی سے نجات دلا کر رہیں گے

    یاد رہے کہ گلوکار شہزاد رائے نے گزشتہ روز ہی ٹوئٹر پر تمام لوگوں کو آگاہ کردیاتھا کہ وہ آج کراچی میں ایس ایم بی فاطمہ جناح اسکول کی 2500 طالبات کے ساتھ باہر نکلیں گے اور کشمیر آور منائیں گے.

    شہزاد رئے کی طرح معروف گلوکار فخرعالم نے کہا تھا دنیا کو یاد دلائیں کہ ہمیں انسانی تکالیف کے دوران خاموش نہیں رہنا چاہئے۔

    یاد رہے کہ پاکستان کے غیر مند فنکاروں ، اداکاروں اور گلوکاروں نے جس طرح کشمیریوں کی بھرپورحمایت اور ان کے حقوق کی آواز اٹھائی ہے اس سے پہلے پاکستان کی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی

  • کشمیریوں سے اظہاریکجہتی ، مرکزی علما کونسل کل بھرپور مظاہرے گی

    کشمیریوں سے اظہاریکجہتی ، مرکزی علما کونسل کل بھرپور مظاہرے گی

    فیصل آباد :کشمیر اور کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کا اظہار پاکستانی قوم کا نعرہ بن گیا ، ملک بھر کی دیگر تنظمیوں کی طرح مرکزی علما کونسل بھی کل فیصل آباد میں گول مسجد کے مقام پر ایک بہت بڑا مظاہر ہ کرے گی ، بھارتی وزیراعظم مودی کے پتلے کو پھانسی دی جائے گی

    ذرائع کے مطابق مرکزی علماء کونسل کی طرف سے اس مظاہرے کا اہتمام کیا گیا ہے. مرکزی علما کونسل ذرائع کے مطابق ان مظاہروں کی قیادت چیئر مین مرکزی علماء کونسل صاحبزادہ زاہد الراشدی کریں گے ،

  • کشمیریوں سے بھرپور اظہار یکجہتی کریں گے ، کشمیریوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے ، صحافتی تنظیموں کا اعلان

    کشمیریوں سے بھرپور اظہار یکجہتی کریں گے ، کشمیریوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے ، صحافتی تنظیموں کا اعلان

    لاہور : کشمیریوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے ، جہاں کشمیریوں کا پسینہ گرے گا وہاں ہمارا خون گرے گا ، ہم اہل کشمیر پر بھارتی مظالم برداشت نہیں کرسکتے ، کل کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے تمام صحافی تنظیمیں لاہور سمیت ملک بھر پور مظاہرے کریں گے ، ان خیالات کا اظہار پاکستان کے ممتاز صحافی اور صحافتی تنظیموں کے مرکزی رہنماوں نے کھرا سچ پروگرام کے میزبان مبشر لقمان سے گفتگو میں کیا

    باغی ٹی وی کے مطابق معروف اینکر مبشر لقمان سے کھرا سچ میں پاکستان کی نمائندہ صحافتی تنظمیوں کے اکابرین نے گفتگو کرتے ہوئے کشمیریوں کے لیے تمام تر کوششیں بروئے کارلانے کا اعلان کیا ، میزبان کھرا سچ مبشر لقمان نے باور کرایا کہ انہوں نے تو کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کےلیے پاکستانیوں کو کال دے دی ہے کہ وہ کل 30 اگست کو کشمیریوں سے وفا شعاری کا عہد کریں

    مبشر لقمان نے بتایا کہ ہر پاکستانی کل کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے نکلے گا ، انہوں نے کہا صحافی برادری کل ملک بھر میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرے گی۔ لاہور چیرنگ کراس پر مرکزی پروگرام ہوگا

    کھرا سچ میں کشمیریوں سے اظہار وفا کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل پی ایف یو جے رانا عظیم نے کہا کہ وہ کل لاہور میں چیئری کراسنگ کے مقام پر قومی پرچم کے سائے تلے ، قومی ترانے کی گونج میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کریں گے

    مبشر لقمان سے بات کرتے ہوئے آصف بٹ صدر الیکٹرانک میڈیا رپورٹر ایسوسی ایشن نے کہا کہ وہ کشمیریوں کو بھارت کی غلامی سے نجات دلانے کے لیے آخری حد تک جائیں گے ، آصف بٹ نے کہا کہ وہ کل مبشرلقمان کے ساتھ ملکر چیئری کراسنگ کے مقام پر ظالم بھارتی وزیراعظم مودی کا پتلا بھی جلائیں گے اور اسے پھانسی بھی دیں گے
    راو شاہد نے اپنی گفتگو مٰیں کہا کہ وہ کل ہر صورت چیئر ی کراسنگ پہنچیں گے اور اپنے کشمیری بھائیوں سے بھرپور اظہار محبت کریں گے اور بھارت کو پیغام دیں گے کہ وہ اپنا انجام بگھتنے کےلیے تیار ہوجائے

    ذوالفقار مہتو سینئر نائب صدر لاہور پریس کلب نے کہا کہ وہ مبشر لقمان کی کال پر کل ہر صورت چیئری کراسنگ پہنچ کر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی بھی کریں گے اور اہل کشمیر کی قربانیوں کو اور حوصلوں کو خراج عقیدت بھی پیش کریں گے ،

    کھرا سچ پروگرام کے میزبان مبشر لقمان نے اعادہ کرتے ہو ئے کہا کہ دل و جان سے کشمیریوں کے ساتھ ہیں اور شہدائے کشمیر کو خراج عقیدت بھی پیش کریں گے ، مبشر لقمان نے اپنے گفتگو کے آخر میں کہا کہ وہ بھارتی مظالم کی مذمت کرتے ہیں اور کل چیئری کراسنگ کے مقام پر بھارتی وزیراعظم کے پتلے کو پھانسی دے کر مودی کو یہ پیغام دیں گے کہ ظالموں کا یہی انجام ہوگا. مبشر لقمان نے بتایا کہ کل ملک بھر سے تمام صحافتی تنظیمیں کل اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہونے کیا عہد کریں گے اور ان کی آزادی کے لیے تمام تر وسائل بروئے کارلانے میں دریغ نہیں کریں گے ،

  • وزیر مملکت شہریار آفریدی نے  مانچسٹر میں پریس کانفرنس کرکے بھارت کو کیا پیغام دیا کہ کھلبلی مچ گئی

    وزیر مملکت شہریار آفریدی نے مانچسٹر میں پریس کانفرنس کرکے بھارت کو کیا پیغام دیا کہ کھلبلی مچ گئی

    مانچسٹر: پاکستان کشمیریوں کے لیے آخری حد تک جائے گا اور پھر ایسے ہی ہورہاہے وزیراعظم کے ساتھی اور کشمیریوں سے بہت زیادہ محبت رکھنے والے وفاقی وزیر مملکت شہریار آفریدی نے مقبوضہ کشمیر کی تشویش ناک صورت حال کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے برطانیہ کے شہر مانچسٹر میں پریس کانفرنس کی۔

    تفصیلات کے مطابق مانچسٹر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہریار آفریدی نے کہا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے یورپ آئے ہیں۔شہریار آفریدی نے کہا کہ پاکستانی کمیونٹی سے کشمیر پر آواز بلند کرنے کی درخواست کرتا ہوں، ہندوستان میں 12 بھارت مخالف تحریکیں چل رہی ہیں، مودی نے کشمیر پر قابض ہو کر اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار دی ہے۔

    مانچسٹر سے ذرائع کے مطابق وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ اگر جنگ ہوئی تو یہ دو ملکوں کے درمیان نہیں ہوگی بلکہ اس میں چین سمیت کئی ملک لپیٹ میں آئیں گے۔ آج عالمی میڈیا کشمیر پر ڈاکیومنٹری بنا رہا ہے، پاکستانی قوم بھی اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کو تیار ہے۔

  • کشمیریوں پر مظالم برداشت نہیں ، اعلیٰ بھارتی  افسر نے استعفیٰ دے دیا

    کشمیریوں پر مظالم برداشت نہیں ، اعلیٰ بھارتی افسر نے استعفیٰ دے دیا

    نئی دہلی : کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف اب بھارتی سول سروسز کے ملازمین نے اپنا ردعمل دینا شروع کردیا ، اطلاعات کے مطابق مودی حکومت کے کشمیرمیں غیر آئینی اقدامات پر استعفٰی دینے والے انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس افسر ’ کنن گوپی ناتھن ‘ نے اعلان بغاوت کردیا۔

    اپنے مستعفی ہونے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے بھارتی ایڈمنسٹریٹو سروس افسر کنن گوپی ناتھن نے کہا کہ کسی بھی جمہوریت میں عوام سےاحتجاج کا حق نہیں چھینا جاسکتا۔ انہیں مقبوضہ کشمیر کے عوام پر لگائی گئی اظہار رائے کی پابندی قبول نہیں ہے۔ بھارتی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کنن گوپی ناتھن نے کہا کہ اگر ادارے تباہ ہونے لگیں توکسی نہ کسی کو آواز اٹھانی ہوتی ہے،

    کنن گوپی ناتھن نے عوام سے پوچھا کہ اگر دہلی میں شہریوں کو حاصل حقوق سلب کرلیے جائیں تو کیا ہوگا؟ عوام چاہےخوش ہوں یا ناراض اظہار رائے کی آزادی سلب نہیں کی جاسکتی۔کنن گوپی ناتھن کا کہنا تھا کہ انسانی جانیں بچانےکے نام پر لگائی گئی پابندیاں محض فریب ہیں، کیا کسی کو یہ کہہ کر جیل میں بند کیا جاسکتا ہے کہ یہ اس کی جان بچانے کے لیے کیا جارہا ہے۔

  • کشمیر پر لابنگ کیسی ہو ؟؟؟؟ عشاء نعیم

    وزیر اعظم پا کستان عمران خان صاحب نے عوام سے خطاب کر کے بہت ساری ایسی باتیں کہی جو پہلے کسی وزیر اعظم نے نہیں کہی وہ وہ حقائق تھے جو بھارت سے متعلق تھے سب سے پہلے وزیر اعظم صاحب نے کہا مودی آر ایس ایس کا رکن ہے جو دہشت گرد تنظیم ہے ۔بھارت میں کئی بار اس پہ دہشت گردی کی وجہ سے پابندی لگ چکی ہے۔
    وزیر اعظم صاحب نے کہا بھارت نے مودی کو وزیر اعظم چن لیا اور وہاں آر ایس ایس کا نظریہ کہ ہندوستان صرف ہندوؤں کا ہے چل رہا ہے ۔۔
    اس لئے وہ لوگ مسلمانوں کے ساتھ ظلم و ستم کرتے ہیں
    انھوں نے کہا پانچ اگست کو آر ایس ایس کی آئیڈ یالوجی کا پیغام ملا
    انھوں نے کہا اب بھارت اسی نظریے پہ چل رہا ہے اسی آئیڈیالوجی کے تحت بابری مسجد شہید ہوئی ‘اسی آئیڈیالوجی کے تحت وہ لوگ مسلمانوں کو سڑکوں پہ بھی پکڑ پکڑ کر مارتے ہیں ۔
    انھوں نے کہا پلوامہ بھی پاکستان کو پھنسانے کے لئے کیا گیا ۔
    اسی آئیڈیالوجی کے تحت گجرات میں مسلمانوں کو زندہ جلایا گیا
    حتی کہ ان کے سابقہ وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ آر ایس ایس میں دہشت گرد پیدا کئے جارہے ہیں ۔
    انھوں نے کہا قائد اعظم نے بھی اسی آئیڈیالوجی کو بھانپتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی تھی۔
    انھوں نے کہا بھارت نے لابنگ کی کہ پاکستان کو بلیک لسٹ کیا جائے ۔
    انھوں نے کہا کہ پہلے ہم اسے الیکشن کمیشن کا حصہ سمجھے (کیونکہ انڈین عوام بھی پاکستان مخالف اور دہشت گرد کو ووٹ دیتی ہے )لیکن یہ سلسلہ الیکشن کے بعد رکا نہیں ۔
    ہمارے اب وزیر اعظم صاحب سے چند سوال ہیں
    1۔اگر آپ کو معلوم ہے کہ بھارت آر ایس ایس کے نظریئے پہ چل رہا ہے جس کا مطلب ہے دہشت گردی تو آپ نے لابنگ کی ؟
    یکیا آپ نے دنیا کو جاجاکر بتایا ؟
    2=آپ کے ملک کو بلیک لسٹ کروانے والے کی اصلیت دنیا کو دکھا کر آپ نے اسے دہشت گرد ملک قرار دلوانے کی کوشش کی ؟
    3=جب آپ کو معلوم ہے آر ایس ایس دہشت گرد ہے تو آپ آر ایس ایس کے خلاف لابنگ کیوں نہیں کرتے جیسا انھوں نے حافظ صاحب پہ دہشت گردی کا ایک جھوٹا الزام لگایا اور اس طرح لابنگ کہ آپ کو بےقصور حافظ صاحب کو بھی جیل میں ڈالنا پڑ گیا (کہ بھارت لابنگ کر کے دنیا کو منوا چکا ہے بھارت کی بات) اب ہم انھیں گرفتار نہ کریں تو بلیک لسٹ ہو جائیں گے ؟ آپ کیوں خاموش ہیں؟
    پاکستانیوں کو بتانے کی بجائے یہ مسئلہ اقوام متحدہ میں کیوں نہیں اٹھاتے؟
    بھارت بار بار حافظ سعید کا مسئلہ اقوام متحدہ میں لے کر گیا حالانکہ حافظ سعید کی جماعت پہ پاکستان میں کبھی پابندی نہیں لگی نہ ہی دہشت گردی کا کوئی الزام ہے ۔
    جب معلوم ہے وہ سڑکوں پہ مسلمانوں کو مارتے ہیں آپ دنیا کو کیوں نہیں بتاتے ؟
    4=آپ کو معلوم ہے بھارت نے خود حملہ کرکے پاکستان کا نام لگایا آپ نے دنیا میں جا کر کیوں شور نہیں مچایا۔
    5=جب نواز شریف کا دور تھا تو اس نے وزیر خارجہ ہی نہیں لگایا تاکہ بھارت خوب لابنگ کرسکے پاکستان کے خلاف اور پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش کی وہ تو غدار مان لیا ہم نے ‘آپ نے وزیر خارجہ بنایا لیکن اسے ساتھ لے گھر بیٹھے ہوئے ہیں آپ کے وزیر خارجہ کیا کر رہے ہیں یہاں بیٹھ کر بیان بازی سے کیا ہوگا ؟
    یہ لابنگ کرنے کیوں نہیں نکلتے ؟
    آپ کیوں دوسرے ممالک میں جاکر بھارت کا اصل چہرہ دکھاتے ؟
    آپ نے دنیا سے کیوں بات نہیں کی کہ اس ملک کا دہشت گرد وزیر اعظم بن چکا ہے اسے دہشت گرد ملک قرار دیا جائے ۔
    جبکہ اس کا وزیر اعظم ساری دنیا کے سامنے پا کستان کو توڑنے کا اعتراف کرچکا ہے وہ پاکستان میں سازش ‘اور اپنی فوج کے لڑنے کا بھی اعتراف کر چکا ہے ۔
    دوسری طرف کلبھوشن یادیو کا اعتراف بلوچستان میں علیحدگی کی تحریک اور دہشت گردی۔
    کیا یہ ایسے معاملات نہ تھے جن کو اچھالا جا سکتا ؟
    جس پہ عالمی سطح پہ اس طرح لابنگ ہوتی کہ بھارت آج تنہا کھڑا ہوتا ۔اور کشمیر کی خصوصی اہمیت ختم کرنے کا سوچ بھی نہ سکتا ۔
    آپ دونوں پاکستان میں گھسے بیٹھے ہیں کیوں؟
    کیا آپ بھی عوام کے ساتھ بس ہفتہ کشمیر منا کر حق ادا کردیا کریں گے ؟
    کہیں اس طرح ہاتھ پہ ہاتھ دھر کر بیٹھ رہنا نواز پالیسی کا تسلسل تو نہیں؟
    آپ نے مسلمان ممالک کو ساتھ ملانے کی کوئی کوشش کیوں نہیں کی ؟
    آپ نے مسلم ممالک کے سربراہان کی غلط فہمیاں دور کیوں نہیں کیں؟
    جو حالات ہیں ان کے مطابق شاہ صاحب اس وقت اس طرح گھوم رہے ہوتے کہ ایک ملک سے ہی دوسرے اور پھر تیسرے ملک چلے جاتے ۔ان کی نیندیں حرام ہو جاتیں اور وہ بس بھاگ دوڑ کر رہے ہوتے لیکن افسوس وہ تو ملک کے اندر آرام فرما رہے ہیں ۔
    ہمیں ان سوالوں کے جواب چاہیئں

  • برطانیہ پارلیمانی وفد کی شاہ محمود قریشی سے ملاقات ، کشمیر اور کشمیریوں پر بھارتی مظالم کے خلاف بات چیت

    برطانیہ پارلیمانی وفد کی شاہ محمود قریشی سے ملاقات ، کشمیر اور کشمیریوں پر بھارتی مظالم کے خلاف بات چیت

    اسلام آباد: کشمیر کی تازہ صورت حال پر برطانوی حکام بھی سفارتکاری کرنے لگے ، اطلاعات کے مطابق رات گئے برطانیہ کے پارلیمانی وفد نے ایم پی خالد محمود کی سربراہی میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی ۔ملاقات میں کشمیر اور کشمیریوں پر بھارتی مظالم پر تشویش کا اظہار کیا گیا

    اسلام آباد سے وزارت خارجہ کے ذرائع کے مطابق وزیر خارجہ نے برطانوی پارلیمانی وفد کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی تشویشناک صورتحال سے آگاہ کیا اور کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں گذشتہ تین ہفتوں سے مسلسل کرفیو نافذ ہے ۔ذرائع مواصلات پر پابندی عائد کر کے لاکھوں کشمیریوں کا رابطہ دنیا بھر سے منقطع کر دیا گیا ہے۔بین الاقوامی میڈیا اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیوں کی طرف سامنے آنے والی رپورٹس انتہائی المناک ہیں۔

    ذرائع کے مطابق شاہ محمود قریشی نے برطانوی وفد کو بتایا کہ بھارت اپنے یکطرفہ اقدامات سے پورے جنوبی ایشیا کا امن خطرے میں ڈالنا چاہتا ہے۔رات کی تاریکی میں گھروں پر ریڈ کرکے نوجوان اور بچوں کو جبراً اغواء کیا جا رہا ہے ۔ خواتین کی عصمت دری کی جا رہی ہے نہتے کشمیریوں کو جبر و تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ وزیر خارجہ نے مسئلہ کشمیر پر برطانوی اور یورپی پارلیمنٹیرینز کے کردار کو سراہا۔

    کشمیر کی صورت حال پر برطانوی پارلیمانی وفد کے شرکاء نے انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جمعوں کشمیر میں انسانی حقوق کی ان خلاف ورزیوں پر دل گرفتہ ہیں، برطانوی پارلیمنٹ میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے حوالےسے بہت جلد مباحثیے کا انعقاد کرنے

  • مودی کو عرب امارات کی طرف سے ایوارڈ دینے پر مفتی تقی عثمانی کا عربی میں‌ٹویٹ

    مودی کو عرب امارات کی طرف سے ایوارڈ دینے پر مفتی تقی عثمانی کا عربی میں‌ٹویٹ

    مودی کو عرب امارات کی طرف سے اعلی ترین سول ایوارڈ دینے پر مفتی تقی عثمانی کا عربی میں ٹویٹ کیا گیا جس پر شدید رنج او الم کا ظہار کیا گیا .
    ملک کےنامور بزرگ عالم دین جسٹس مفتی تقی عثمانی نے متحدہ عرب امارات کی طرف سے مودی کو اعلیٰ ترین سول ایوارڈ دینے پر شدید رنج و الم اور افسوس کا اظہار کیا اس موقع پر سوشل رابطوں کی ویب سائیٹ پر ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ترجمہ: ہائے افسوس !ہزاروں مسلمانوں کا قاتل اکبر اور انکی زمین پر ناجائز قبضہ کرنے والا جس نے کشمیر کو اسکے رہنے والوں کے لئے قید خانہ بنا دیا اور جو کشمیر کو میں مسلمانوں کا سب سے بڑا مقتل بنانے والا ہے اسکو ایک مسلمان عرب ملک کی طرف سے اعلی ترین اعزاز دیا گیا ہے۔
    ہائے كيساالميہ ہے


  • کشمیر توجہ مانگتا ہے!!!!   بلال شوکت آزاد

    کشمیر توجہ مانگتا ہے!!!! بلال شوکت آزاد

    ویسے تو کشمیریوں کا نوحہ بہتر سالوں سے جاری ہے کہ وہاں ہندوتوا کے جھنڈے تلے مسلمانوں کا قتل عام، ظلم اور زیادتی ایک عام سی بات بن کر رہ گئی ہے۔

    ہم بہتر سالوں سے روزانہ میڈیا کے ذریعے ایسی کوئی نہ کوئی خبر ضرور سنتے رہتے تھے جس میں کسی کشمیری بزرگ کا بہیمانہ قتل، کسی کشمیری بہن کی لٹی عزت کی کہانی اور کسی نوجوان کے تباہ شدہ خوابوں کا فسانہ سننے کو مل جاتا تھا۔

    آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میں یہ بار بار "تھا” کیوں کہہ رہا ہوں؟

    کیا آج وہاں ظلم اور زیادتی کا بازار بند ہو چکا ہے؟

    یا وہاں پر بزرگوں کا بہیمانہ قتل نہیں ہورہا؟

    یا وہاں پر ہماری کشمیری بہنوں کی عزتیں محفوظ ہوگئی ہیں؟

    اور یا پھر نوجوانوں کے خواب شرمندہ تعبیر ہو رہے ہیں؟

    کیا وجہ ہے کہ میں یہ کہنے پر مجبور ہوگیا ہوں کہ ہمیں دس سالوں سے میڈیا کے ذریعے ایسی کوئی نہ کوئی خبر بھولے بھٹکے ضرور مل جاتی تھی جس میں کشمیر میں جاری ظلم کا فسانہ ہمیں سننے پڑھنے کو مل جاتا تھا۔

    لیکن ابھی گزشتہ 16/17 دن سے جاری ظلم و زیادتی، قتل و غارت بلکہ سادہ لفظوں میں کہوں تو کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی کی ہمیں خبریں دائیں بائیں سے ضرور مل رہی ہیں لیکن ہمارے میڈیا پر وہی صورتحال غالب ہے جو اول دن سے تھی، عالمی میڈیا خبر تو دیتا ہے لیکن اپنی جانبداری کو چھپا نہیں پاتا۔

    کوئی بھی یہ نہیں بتا رہا کہ اس سال فروری سے لے کر آج کے دن تک ک سترہ ایسے مقامی کشمیری صحافی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جو اپنی بساط کے مطابق کشمیر کے حق اور ظلم کی چکی میں پسنے والوں کی آواز دنیا بھر میں پھیلانے کا ذریعہ بنے ہوئے تھے۔

    اس وقت سوشل میڈیا پر بے شمار خبریں پڑھنے سننے کو مل جاتی ہیں کشمیر کے متعلق، جن کی حقیقت یا تو کشمیری جانتے ہیں یا اللہ بہتر جانتا ہے۔

    لیکن جو بھی خبریں پڑھنے سننے کو مل رہی ہیں وہ کوئی اتنی حوصلہ افزا اور قابل برداشت نہیں۔

    سرکاری چھتری کے نیچےبھارتی فوج، پیراملٹری فورسز اور سرکاری ایجنسیز ہی کشمیر میں میں ظلم نہیں ڈھا رہیں بلکہ آر ایس ایس کے مہاسبائی غنڈے اور انتہا پسند ہندو کھل کر کشمیریوں کا استحصال کر رہے ہیں بلکہ یہ اطلاعات بھی مل رہی ہیں کہ کہ بھارت نے آرٹیکل 370 اور 35 اے کے باضابطہ خاتمے سے پہلے صرف کشمیر سے ہندوؤں کو نکلنے کا حکم ہی نہیں دیا بلکہ اضافی فوجی دستے بھی تعینات کیے اور انتہا پسند ہندو غنڈوں کو بھی لگاتار فلائٹس کے ذریعے کشمیر پہنچایا تاکہ وہ بڑے پیمانے پر کشمیر میں کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی میں میں حکومت بھارت کی مدد کر سکیں۔

    اس وقت موجود خبروں کے تناظر میں بتاتا چلوں کہ کوئی چار ہزار کے قریب حریت پسند سنگباز کشمیری نوجوان زبردستی اٹھا کر جیلوں میں ڈالے گئے ہیں اور بعد میں انہیں نوجوانوں کے گھروں میں بھارتی فوجی دندناتے ہوئے گئے اور ان کی بہنوں بیٹیوں کو اغوا کر کے فوجی بیرکوں میں لے گئے ہیں۔

    خبریں تو اور بھی بہت سی ہیں جنہیں سن پڑھ کر کسی بھی غیرت مند مسلمان کو غصہ آ سکتا ہے اور اگر ضمیر زندہ ہو تو وہ انسان غصے سے پھٹ بھی سکتا ہے۔

    یہ اتنی ساری کہانی یا تمہید بیان کرنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ "کشمیر توجہ مانگتا ہے”۔

    اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ بھائی ہم تو 72 سالوں سے مسئلہ کشمیر اور کشمیری مسلمانوں پر پر پڑھ، لکھ، سن اور بتا رہے ہیں تو اب کون سی ایسی توجہ ہے جو کشمیر مانگتا ہے اور ہمیں دینی ہوگی؟

    معذرت کے ساتھ کہنا چاہوں گا کہ ہم بہت سالوں سے بطور پاکستانی قوم کشمیر کو صرف یوم یکجہتی کشمیر، 14/15 اگست یا پھر کشمیر میں ہوئے کسی بڑے سانحے کے بعد یاد کرتے تھے اور دو دن خوب شور مچا کر خاموش ہو جاتے تھے۔

    میں یہاں کسی مخصوص گروہ، کسی مذہبی جماعت، کسی سیاسی جماعت اور کسی رائٹ لیفٹ یا سنٹر کی بات نہیں کر رہا بلکہ میرے مخاطب ساری پاکستانی قوم ہے۔

    ہم نے قائد اعظم کے انتقال کے بعد کشمیریوں کو سوائے ڈھکوسلوں، حکمت اور مصلحت کے لولی پاپس اور سیاسی بیان بازیوں کے کوئی ایسی گرانقدر خدمات پیش نہیں کیں جو کشمیریوں کا دکھ کم یا دور کر سکتیں یا مرہم بن کے ان کے دکھوں کا مداوا کر سکتیں۔ (جو انڈر دا ٹیبل کیا گیا اسے یہاں پر بیان کرنا کسی صورت بھی ممکن نہیں اور نہ ہی اسے بیان کرنا اس وقت اتنا اہمیت رکھتا ہے جب پاکستان اندرون اور بیرون معاشی مسائل کا شکار بھی ہو اور عالمی اداروں کی نظر میں یہ کسی اچھے تشخص کا حامل بھی نا ہو)۔

    ہمیں اب مسئلہ کشمیر کو باقاعدہ اپنی زندگیوں میں وہ اہمیت اور وہ جگہ دینی ہوگی جس کا وہ حقدار ہے۔

    کل لاہور میں کشمیر یوتھ الائنس اور اپیکس گروپ آف کالجز کے زیراہتمام "کشمیر توجہ مانگتا ہے” کے عنوان سے سیمینار منعقد کیا گیا جو اس رویے، اس روش اور اس ضرورت کو عوامی بنانے کی جانب پہلا قدم ہے۔

    کشمیر یوتھ الائنس اور اپیکس گروپ آف کالجز کے زیراہتمام لاہور میں "کشمیر توجہ چاہتا ہے” کے عنوان سے سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں نوجوانوں کی تنظیمات کے نمائندگان اور میڈیا کے شعبے سے تعلق رکھنے والے طلبہ شریک تھے۔

    سیمینار کی صدارت رانا عدیل ممتاز کررہے تھے جبکہ مقررین میں سینئر اینکرپرسن مبشر لقمان، اینکراسامہ غازی، سینئر صحافی واستاد ڈاکٹر مجاہد منصوری، اسلامک سکالر اشتیاق گوندل، یوتھ ایکٹیوسٹس رضی طاہر، طہ منیب، عدیل احسن، مہک زہرا، عائشہ صدیقہ اور احقر بلال شوکت آزاد شامل تھے۔

    رانا عدیل ممتاز نے خطاب میں کہا کہ

    "پاکستانی نوجوان بھارت کو ہر محاذ ہر شکست دینے کیلئے آگے بڑھیں، پہلا قدم ٹیکنالوجی ہے، اس کے استعمال سے بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کریں۔”

    مبشر لقمان صاحب نے اظہار خیال کرتے ہوئے مسلم دنیا پر تنقید کی اور کہا کہ

    "کوئی اسلامی ملک حقیقی غیرت اسلامی کا مظاہرہ نہیں کررہا، مسلمان کشمیر میں مسلسل جانیں دے رہے ہیں اور ہمیں مالی مفادات عزیز ہیں جبکہ بھارت ایک جانب کشمیر میں خون کی ندیاں بہا رہا ہے اور دوسری جانب آبی جارحیت دکھا رہا ہے، کبھی بن بتائے پانی کھول دیتا ہے جو سیلاب کا سبب بنتے ہیں اور کبھی پانی روک کر خشک سالی کا سبب بنتا ہے، دنیا کو بتا دینا چاہتا ہوں پاکستان کا پانی روکیں گے تو 20 کروڑ خودکش بمبار تیار ہوجائیں گے۔”

    ڈاکٹرمجاہد منصوری نے کہا کہ

    "حیران ہوں کہ نئی دہلی میں بیٹھے 100سے زیادہ بین الاقوامی میڈیا کے نمائندگان کو کشمیرکی صورتحال دکھائی کیوں نہیں دیتی؟ میڈیا کے طلبہ سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا کے سامنے سوال کریں کہ یہ کیسی بے حسی ہے۔”

    اسلامک سکالر اشتیاق گوندل نے کہا کہ

    "ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے، ہم مسلمان ہیں اور بحثیت مسلمان کسی خطے میں ظلم ہو ہم اس کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور پاکستان کا حصہ ہے، تاریخ کو جھٹلایا نہیں جاسکتا۔”

    اینکر اسامہ غازی نے اپنی گفتگو میں کہا کہ

    "اگلے دو سال بہت اہم ہیں، کشمیر میں تحریک آزادی میں نیا جذبہ پیدا ہوگا، مودی کو بہت جلد اپنی غلط پالیسیوں کا احساس ہوگا، کشمیر بھارت کے ہاتھ سے نکل رہا ہے”۔

    سیمینار سے کشمیر یوتھ الائنس کے قائدین اور ایکٹیوسٹس رضی طاہر، رانا عدیل احسن، طہ منیب اور بلال شوکت آزاد نے بھی اظہار خیال کرتے ہوئے اہل کشمیر پر ہونے والے ظلم وستم کو روکنے کیلئے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا۔

    اقوام متحدہ سے مخاطب ہوکر ان پر عزم نوجوان مقررین نے کہا کہ

    "اقوام متحدہ دراصل اقوام شرمندہ بن چکی ہے جبکہ او آئی سی بھی محض مذمتی بیانات تک محدود ہے۔”

    سیمینار کے آخر میں کشمیر کیلئے خصوصی دعا کی گئی اور یہ عہد کیا گیا کہ کشمیر یوتھ الائنس ہر وہ دروازہ کھٹکھٹائے گی جو کشمیر کے لیے آواز بلند کرنے کا حوصلہ اور ارادہ رکھتا ہوگا اور یہ سلسلہ رکے گا نہیں بلکہ کشمیریوں کی آزادی کے لئے "کشمیر توجہ مانگتا ہے” کے نام سے ملک گیر تحریک چلانے کے لیے پرعزم ہے۔

    کل ہوئے سیمینار میں نوجوانوں کی ایک اچھی خاصی تعداد موجود تھی جو کہ ایک حوصلہ افزا بات ہے اس صورتحال میں کے کشمیر مکمل طور پر بند ہے یہاں تک کہ ایک چڑیا بھی پر نہیں مار سکتی اور اگر یہ کہا جائے کہ کشمیر ایک جیل بن چکی ہے تو غلط نہ ہوگا۔

    ہمیں کشمیر کی وہ پر شور آواز بننا ہوگا جو اقوام عالم کے کانوں کے پردے پھاڑ دے کیونکہ اب یہ حکمت اور مصلحت کی کھیلیں کھیلنے کا وقت نہیں کہ یہاں ہر سیکنڈ پر ایک کشمیری مسلمان مرد اور عورت کٹ اور لٹ رہے ہیں۔

    اور جب تک یہ ہوتا رہے گا ان کا خون اور ان کی آہ و بکا صرف بھارتی درندوں کے ہاتھ ہی نہیں ہوگی بلکہ اس کا کچھ نہ کچھ کچھ کریڈٹ ہمارے سر بھی ہوگا۔

    میں نے کل سیمینار کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے بھی یہی بات کہی تھی اور یہاں پر بھی یہی کہوں گا کہ

    "ہمیں تمام طرح کی گروہ بندیوں، ذاتی مفادات اور تفرقہ بازی سے نکل کر ایک متحدہ قوم بننا ہوگا تاکہ ہم سب مل کر اپنے کشمیری مسلمان بہن بھائیوں کی آواز بن سکیں، اور ان کی آزادی کی تحریک پاکستان کے گلی کوچوں سے نکال کر اقوام عالم کے گلی کوچوں تک پہنچائیں۔
    یقین مانیے ہماری باتیں، ہمارے تجزیے اور خبریں تب تک بالکل بے معنی ہیں جب تک ہمارے کشمیری مسلمان بہن بھائیوں کو وہ توجہ نہیں ملتی ہماری جانب سے اور اقوام عالم کی جانب سے جو ان کی آزادی کو یقینی بنا سکے۔
    ہم خواہ غریب ہوں یا امیر ہوں، ان پڑھ ہوں یا پڑھے لکھے ہوں خواہ کسی بھی حیثیت میں ہوں ہمیں اپنے حلقہ احباب میں "کشمیر توجہ مانگتا ہے” تحریک کو عام کرکے پوری پاکستانی قوم کو کشمیر کا دکھ سنانا اور کشمیریوں کی حق خودارادیت کے لئے لیے میدان بنانا ہو گا لہذا اب کمر کس لی جائے اور میدان میں نکلا جائے کہ باتیں بہت ہو گئیں ، اب عمل کا وقت ہے۔”

    قصہ مختصر میں اپنی بات سمیٹتا ہوں اسی جملے کے ساتھ کہ

    "بھائیو بہنو! آپ لوگ خدارا اب نظریاتی بالغ ہوجائیں اور اپنا پورا وقت مظلوم کشمیریوں کے لئے وقف کر دیں کہ "کشمیر توجہ مانگتا ہے”۔