Baaghi TV

میرےقلم کی دھنک ،تحریر: ماریہ خان

ایک طاقت، ایک مضبوط بنیاد، ایک رشتہ جو ہمارا قلم کے ساتھ ہے، ایک ایسی آواز جس کی طاقت کو آج تک دبایا نہیں جا سکا، وہ ہے قلم۔ قلم کی آواز میں ایسی طاقت ہے، جس کا شور سماعتوں تک اپنی گونج سے راستے بناتا ہوا خود پہنچ جاتا ہے۔ یہ وہ واحد راستہ ہے، جس کی مدد سے کوئی بھی فرد جو صرف قلم پکڑنا جانتا ہو، وہ اپنے جذبات کو کاغذ پر اتار دینے کی صلاحیت رکھتا ہے ،یہ بات اہم نہیں کہ جذبات منفی ہیں یا مثبت، ایک کالم نگار جب قلم اٹھاتا ہے تو معاشرے میں چھپی برائی کو بنا کسی ڈر، خوف اور مصلحت کے تنقید برائے اصلاح کی شکل میں قرطاس پر اتار دیتا ہے، ایک شاعر قلم اٹھاتا ہے تو زمانے کی دھوپ چھاؤں، محب کے ملن اور وصل، محبت و عداوت کو اپنے اشعار میں پرونے لگتا ہے، ایک افسانہ نگار، کہانی کار سمیت کوئی بھی لکھاری جب قلم تک رسائی لیتا ہے تو اپنے جذبوں اور ارد گرد کے حالات کو کہانیوں، افسانوں میں بہت خوبصورتی سے ڈھالنے کی طاقت رکھتا ہے، اگر دیکھا جائے تو لکھا تو ایک ہی قلم سے جاتا ہے یا یوں کہئے کہ جیسے ایک گاڑی ہے اور ڈرائیور اسے اپنے حساب اور ضرورت سے چلاتا ہے، اسی طرح قلم کی بھی یہی کیفیت ہے، اس کے بھی کئی رنگ ہیں، جیسے قوس قزاح کے سات رنگ بارش کے بعد قوس و قزاح آسمان پر اپنے خوبصورت رنگ بکھیرتی نظر آتی ہے، اسی طرح قلم کے بھی الگ الگ رنگ یا انہیں قلم کی دھنک کہہ سکتے ہیں۔

بے شمار مصنف تو ایسے بھی گزرے ہیں اور آج بھی موجود ہیں،جن کا دوست اور کل اثاثہ صرف قلم رہا۔ قلم کی دھنک ایک سمندر کی مانند ہے، اس کی دنیا بہت وسیع ہے، قلم سے زندگیاں سنورتی دیکھیں، مگر یہی قلم جب کسی جاہل کے ہاتھ آتا ہے تو وہ انسانیت کے تقاضوں کو خاک میں ملانے میں لمحہ بھر نہیں لگاتا، ایسے بے شمار قلم کاروں کو لوگوں کی زندگیوں سے کھیلتے دیکھا۔ یہ ان لوگوں کی بد قسمتی ہے، جو قلم کی طاقت اور اس کے فیض سے محروم ہیں۔ ان میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے، جو جان بوجھ کر محروم رہنا چاہتا ہے، قلم صرف یہ نہیں کہ ایک فرد واحد نے قلم اٹھایا اور اپنا حال کاغذ کی نذر کر دیا، قلم کا مقصد تو انسانیت کی اصلاح ہے، قوم کی بیداری ہے، لوگوں کے سوئے ہوئے ناقص ذہنوں کی آبیاری ہے، جو درسگاہوں سے اپنی نسلوں کو دور رکھتے ہیں، ان کے ذہنوں میں نفرتوں کے بیج بوتے چلے آ رہے ہیں اور یہ کام نسل در نسل چل رہا ہے، اسے روکنا تو درکنار ہے، مگر ایک کوشش ضرور کی جاسکتی ہے، قلم کار ہر قدم صرف ایک کوشش کا محتاج ہے۔ ہماری ترقی، ہماری آسائشیں، ہماری نوجواں نسل کے خواب کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی صورت میں قلم کے سات رنگوں میں سے کسی نہ کسی رنگ سے جا کے جڑتے ہیں۔ اس دھنک رنگ میں ایسی طاقت ہے کہ اگر کوئی فرد اس کا صحیح استعمال جانتا ہے تو وہ ایک پورے خطے کی سوچ بدلنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ ہماری زندگیاں قلم اور قلم کی آواز کے گرد گردش کرتی ہیں اور اگر کوئی اس حقیقت کو جھٹلاتا ہے تو یہ اس کی گمراہی اور ناسمجھی ہے، کیونکہ قلم کا کارواں تو ایک سیلاب کی مانند اپنے راستے بناتا چلتا جا رہا ہے اور اس کارواں میں مسافر شامل ہوتے جا رہے ہیں، جب مختلف ہاتھ اس تک رسائی حاصل کرتے ہیں تو وہی ایک قلم اور اس کی سیاہی مختلف رنگوں، سوچوں، ثقافتوں کی گہرائیوں میں رنگ جاتی ہے۔ قلم کے فروغ کے لئے ادبی بیٹھک کا اہتمام مدارس سے ہی شروع کیا جائے، تاکہ ہماری نسلوں میں تحریک اور شوق بچپن اور بلوغت میں ہی بنیاد پکڑ لے، کیوں کہ مضبوط بنیادیں ہی خوبصورت عمارتوں کا بوجھ سنبھال سکتی ہیں۔

More posts