مانا کہ شرعی اجازت ہے مرد صاحبان کو کہ جب چاہئیں لائیں دوسری ، تیسری اور چوتھی بھی ۔
لیکن کیا یہ سب کرنا اتنا ہی آسان ہے جتنا نظر آتا ہے یا سمجھا جاتا ہے ۔ اس معاملے کو ایک ایسے لینز سے دیکھا جا سکتا ہے جو پدرسری نظام کی تہہ تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
مرد اور عورت جب ایک گھر کی بنیاد رکھتے ہیں تو پہلا تصور یہ ہے کہ دونوں کے بیچ انسیت تو ہو گی ہی __ محبت کا نام ہم نہیں لیتے کہ محبت کے معیار پہ پورا اترنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ۔
انسیت کے ساتھ ساتھ اس رشتے کی بنیادی اکائی یہ بھی ہے کہ دونوں اس رشتے سے مخلص ہوں ۔
کس حد تک اور کیوں ؟
کیونکہ وہ دونوں جس چھت کے نیچے جسمانی اور جذباتی تعلق بنا کر جن بچوں کو پیدا کرنے جا رہے ہیں ، وہ کسی بھی مشکل پیدا ہونے کے نتیجے میں متاثرین میں شامل ہوں گے اور یہ ذمہ داری ماں باپ پہ ہو گی کہ انہوں نے بچوں کی ذہنی اور جذباتی نشوونما کو متاثر کیا۔
مخلص ہونے کا سب سے بڑا عنصر سچائی اور ایک دوسرے کے سامنے شفاف انداز سے زندگی بسر کرناہے ۔ کوئی بھی بات معمولی ہو یا سنگین ، اگر دوسرے سے چھپا کر رکھی جائے اور کچھ ایسا کیا جائے جو ساتھی کو قبول نہ ہو، ایک کو دوسرے کا مجرم بنائے گا۔ دھوکا دہی وہ زہر ہے جو اس رشتے کو نہ صرف بدصورت بناتا ہے بلکہ دونوں کی راہ بھی کھوٹی کرتا ہے ۔
اس کو یوں سمجھیے کہ اگر دونوں میں سے کوئی ایک اپنے ساتھی کو اندھیرے میں رکھتے ہوئے کسی اور کو اپنی زندگی میں شامل کرتا ہے تو دھوکہ دہی کا ارتکاب کرنے والا ہی ذمہ دار ہے ۔
یہاں اس بات کو مان لینا چاہئے کہ وہ شخص دھوکہ باز نہ سمجھا جاتا اگر وہ اس صورت حال کو اپنے ساتھی کے سامنے رکھتے ہوئے اسے صاف صاف بتاتا:
سنو ، مجھے کسی اور سے محبت ہو گئی ہے۔
سنو میں اپنی زندگی کسی اور کے ساتھ گزارنا چاہتا/ چاہتی ہوں۔
سنو ، ہم دونوں اب مزید ایک دوسرے کے ساتھ نہیں رہ سکتے۔
سنو ، ہمیں اس رشتے کو ختم کر دینا چاہئے۔
زبردست بات یہ ہے کہ اس سوچ اور نظریے کو مذہب بھی قبول کرتا ہے۔ ماں کے پیٹ سے اکھٹے تو آئے نہیں کہ جدا نہ ہو سکیں۔ ویسے آج کل تو وہ بھی مشکل نہیں رہا کہ نظریاتی طور پہ مختلف لوگ اپنے خونی تعلق کو بھی نظرانداز کرتے ہوئے اپنی اپنی زندگی جیتے ہیں۔
سو وہ دونوں جو مختلف گھروں میں پرورش پاکر قانونی طریقے سے اکھٹے ہوئے ہیں وہ اسی قانون کے ذریعے علیحدہ بھی ہو سکتے ہیں۔
کیا ہے اس میں اچنبھے کی بات ؟
لیکن پدرسری نظام کے لئے بات ہے اور سنگین ہے۔
مرد پہلی بیوی کی موجودگی میں دوسری عورت کی زلف کا اسیر ہو جائے اور پہلی بیوی کو اندھیرے میں رکھے ، پدرسری نظام قطعاً خاموش رہتا ہے۔
مرد پہلی بیوی موجود ہوتے ہوئے دوسری سے خفیہ شادی کرے اور پہلی سے جھوٹ بولتا رہے ،پدرسری نظام پھر بھی نہیں بولتا۔
مرد جب دوسری شادی کا اعلان کرتے ہوئے یہ بتائے کہ وہ تو ایک بچے کاباپ بھی بن چکا ہے ، پدرسری نظام کے کان پہ جوں نہیں رینگتی۔
مرد پہلی بیوی کو گھر سے باہر کرے ، لیکن طلاق دے کر آزاد نہ ہونے دے ، تب بھی یہ نظام اونگھتا رہتا ہے۔
لیکن اس نظام کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے جب پہلی بیوی سوال وجواب کا سلسلہ شروع کرے،
تم نے دوسری شادی سے پہلے بتایا کیوں نہیں ؟
( پاکستانی قانون کے تحت آپ اس کے پابند ہیں )
جب تمہیں کسی اور عورت سے محبت ہوئی مجھ سے جھوٹ کیوں بولا ؟
میں بچوں اور گھر کو سنبھالتی رہی اور تم نے وہ وقت دوسری عورت کے ساتھ گزارا۔ کیوں ؟
اب میں تمہارے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔
لیجیے جناب ، عورت کے منہ سے یہ الفاظ مرد پہ برق بن کر گرتے ہیں۔ کیوں ؟ یہ عورت جو میری بیوی ہے فیصلہ کرنے کی مجاز کیوں ؟
اتنی جرات ؟
میں مرد ہوں اور مانا کہ کچھ تھوڑا سے جھوٹ اور تھوڑی سی دھوکہ دہی کا مرتکب ہوا ہوں لیکن اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ یہ عورت جمی جمائی گرہستی توڑ دے ۔
مرد بچہ ہوں ، دو دو گھر با آسانی چلا سکتا ہوں پھر کیوں توڑے یہ اس رشتے کو؟ کیوں نکلنے دوں میں اسے اس پنجرے سے ؟ کیوں ہو اس کی زندگی اس کے اپنے ہاتھ میں ؟
نہیں میں اسے علیحدہ نہیں ہونے دوں گا۔
سنو میں تم سے محبت کرتا ہوں …
محبت ؟ مجھ سے محبت اور وہ دوسری ؟
ہو گئی محبت اس سے بھی … مرد کر سکتا ہے بار بار محبت …
اور عورت … کیا وہ نہیں کر سکتی بار بار محبت … کسی اور مرد سے … تنہائی کے ان پہروں میں جب تم دوسری عورت کے ساتھ تھے …
سنو تمھیں مجھ سے محبت نہیں۔ یہ تو تمہاری زخمی ایگو ہے جو تمہیں اکساتی ہے کہ مجھے اپنے چنگل سے باہر نہ نکلنے دو … بیک وقت دو عورتوں کو اپنے دام الفت میں پھنسا کر رکھو … وہ سب جھوٹ جن کے سہارےتم عرصہ دراز دوسری عورت کے ساتھ وقت گزارتے رہے اور پھر بیاہ رچایا ، کیا وہ جھوٹ وقت کے صفحات سے مٹ جائیں گے ؟ شکستہ آئینۂ دل کیا پہلے سا ہو جائے گا ؟
نہیں ایسا کچھ بھی نہیں ہو گا۔
میں وہ عورت نہیں ہوں جو برسوں پہلے تمہاری محبت کے سہارے اپنی زندگی تمہیں دینے آئی تھی۔ اس محبت کو تم نے جھوٹ اور دھوکہ دہی سے داغدار کر دیا۔ وہ داغ اب چھٹ نہیں سکتے۔
مجھے بقیہ زندگی اپنے بچوں کے سہارے کاٹ لینے دو۔ میرا آسمان اب وہ نہیں جو تمہارا ہے۔ عورت شوہر کے بعد اگر محبت کرتی ہے تو اس شوہر کے نطفے سے پیدا ہونے والے بچوں سے۔
لیکن بھنورا صفت مرد کو بار بار محبت کے نام پہ ایک نئی عورت کو فتح کرنا ہوتا ہے۔
سو تمہیں تمہاری نئی فتوحات مبارک۔ میں تمہارا مفتوحہ علاقہ بننے پہ تیار نہیں۔
پدرسری نظام غیض وغضب سے کھولتے ہوئے اپنے بال نوچ رہا ہے۔
لیکن مسئلہ کیا محض اتنا ہی ہے؟
کیا تعلق میں اس دراڑ کا بچوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا ؟
کیا دوسری عورت کے ساتھ ایک الگ گھر میں رہنے والا اور ان کی ماں کو ناانصافی کا شکار بنانے والا اپنے بچوں کا مجرم نہیں ہوتا؟
کیا وہ ان کا پدری حق نہیں مارتا؟
کیا پدری حق محض اخراجات پورے کرنے پر ختم ہو جاتا ہے؟
کیا بچوں کو ماں باپ دونوں کی شفقت اور غیر مشروط قربت درکار نہیں ہوتی؟
کیا بچوں کی ماں سے جھوٹی محبت کے اظہار سے بچوں کی ذہنی حالت ابتر نہیں ہوتی ؟
کیا ماں کے متعلق لوگوں کی کھسر پھسر اور تنقید بچوں کو اینگزائٹی میں مبتلا نہیں کرتی ؟
لیکن جہاں ماں محفوظ نہ ہو، اُسے ہی انسان نا سمجھا جائے، وہاں بچوں کی کیا اوقات
Category: خواتین

مرد کی دوسری شادی کے بعد پہلی بیوی کیاکرے؟ تحریر:ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

جہیز کی کہانی .تحریر:ڈاکٹر طاہرہ کاظمی
شادی کے بعد پہلا گھر شافی ہسپتال کی چھت پہ بنانے کا ارادہ تو کر لیا__ لیکن سامنے ایک اور مشکل منہ کھولے کھڑی تھی۔
دیکھیے صاحب اگر ہماری کہانیوں میں ہر موڑ پہ ایک اور کہانی جھانکتی ہوئی نہ ملے ہو تو کیا خاک مزا آئے !
بہت برسوں سے ہم نے یہ سوچ رکھا تھا کہ جب بھی شادی کا موقع آیا ہم روایتی قسم کا جہیز نہیں لیں گے۔ بات طے ہونے کے بعد جب ہم نے اس بات کا اظہار کیا تو امی ابا پریشان ہو گئے ، یہ کیسے ہو سکتا ہے ہم کیسے خالی ہاتھ تمہیں بھیجیں ؟
ہم ہر گز خالی ہاتھ نہیں ہیں__ ہمارے ہاتھوں میں ایک بھاری بھرکم ڈگری ہے جو ہر چیز پہ بھاری ہے__ ہم نے کہا ۔
بیٹا لوگ کیا کہیں گے ؟ امی نے جواب دیا ۔
لوگوں کی تو ہم نے کبھی پروا ہی نہیں کی __ ہم نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا ۔
اور سسرال والے ؟ باجی متفکر تھیں ۔
انہیں ہم کہہ دیں گے کہ ساری چیزیں ہم خود بنائیں گے۔
اگر انہوں نے تمہیں باتیں سنائیں تو ؟ باجی بدستور مصر ۔
ارے واہ __ ڈاکٹر بہو کو بات کرنا آسان ہے کیا ؟ ہم نے منہ بناتے ہوئے کہا ۔
خوب بحثا بحثی ہوئی اور ہم نے کسی کی نہ چلنے دی ۔ آخر میں یہ فیصلہ ہوا کہ جو تحائف ملیں گے وہ ساتھ جائیں گے اور کچھ بنیادی چیزیں ، کم سے کم قیمت میں ۔
ہم نے کچھ اعلان کیے جو یوں تھے :
شادی کے لیے کوئی ہال ، میس یا ہوٹل بک نہیں ہوگا ۔ گھر کے سامنے والے گراؤنڈ میں روایتی ٹینٹ لگوا کر دیگیں پکوا لیں گے__ پہلا اعلان ۔
اور جو تمہاری سہیلیاں وغیرہ آئیں گی … کسی نے سوال کیا ۔
سہیلیوں نے ہماری شادی پہ ہر حال میں آنا ہے چاہے وہ جنگل میں ہو یا صحرا میں … بے نیازی عروج پہ تھی ۔
چلیے جناب طے ہو گیا ۔
مووی نہیں بنے گی .. ایویں ای خواہ مخواہ کا خرچہ __ دوسرا اعلان ۔
سب کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے کہ پورے گھر میں ہماری جان نکلتی تھی اگر کسی موقعے پہ تصویر اور مووی نہ بنائی جائے ۔
لیکن وہ تو یادگار ہو گی نا … یاددہانی کروائی گئی ۔
لڑکے والے لے کر آئیں گے نا .. ہم نے آپ ہی آپ فرض کر لیا ۔
زیور میں ہم چار ساڑھے چار تولے کا سیٹ لیں گے بس __ تیسرا اعلان ۔ یاد رہے کہ سونا ساڑھے تین ہزار روپے تولہ تھا ۔
فرنیچر میں بیڈروم سیٹ بنوا لیتے ہیں … صلاح آئی ۔
ہم نے کچھ دیر کے لئے سوچا __ لکڑی کا تو کافی مہنگا ہو جائے گا … کچھ اور کرنا چاہیے ..کیا کریں ؟ کیا کریں ؟ ارے ہاں داتا دربار کے باہر کین کا فرنیچر ملتا ہے نا وہ لے لیں گے ایک کمرے کے لیے __ چوتھا اعلان ۔
کیا کین کا بیڈ اور ڈریسنگ ٹیبل ملتی ہے ؟ ایک اور سوال آیا ۔
نہیں ملتی ہو گی تو آرڈر پہ بنوا لیں گے .. ناممکنات کے متعلق کیوں سوچیں ؟
شادی کا جوڑا ؟
بارات پہ وہ لوگ لا رہے ہیں ، ہمیں ولیمے کا بنوانا ہے ۔ کسی کا اچھا سا دیکھ کر کاپی کروا لیں گے __ پانچواں اعلان ۔
( اور یہ داستان ہم لکھ چکے ہیں کہ کیسے پینوراما کی ڈیزائنر شاپ سیٹھ کا جوڑا ہم نے سستے داموں انارکلی سے بنوایا )
اچھا اب تحائف کی فہرست بنا لیتے ہیں :
فریج – آپا
کمبل – کوثر باجی
ڈنر سیٹ پلاسٹک
ٹوسٹر
تھرموس
وال کلاک
چائے کی پیالیاں
فوٹو فریم
کچھ جوڑے کپڑے
سونے کی انگوٹھی – فرزانہ
سونے کی انگوٹھی – قمر
سونے کے ٹاپس – فرحت
امی ابا سخت فکرمند __ ایسا کیسے چلے گا ؟
اچھا بہت سے لوگوں نے تحفتا پیسے بھی تو دیے ہیں تو چلو ٹی وی خرید دیتے ہیں ۔
سب سے چھوٹا خریدیں تاکہ دیے گئے پیسوں میں آجائے __ سولہ انچ ٹی وی سے ہم نے آگے بڑھنے نہیں دیا ۔ اس کی قیمت تھی دس ہزار __سو نقد تحفہ دینے والوں کے نام ٹی وی ہوا۔
امی نے چوری چوری چار رضائیاں ، دوگدے ، دو تکیے ، دو بیڈ شیٹس ، کچھ کھیس بھی رکھ دیے۔ گلگت سے ایک چھوٹا ڈنر سیٹ گھر کے لیے منگوایا گیا تھا ، وہ بھی شامل کر لیا اور ان سب کو رکھنے کے لیے ایک جستی پیٹی ۔
لیں ہو گیا جہیز تیار __اب ہم لاہور چلتے ہیں تاکہ کین کا فرنیچر خرید سکیں ۔
اتنی دیر میں آپ اس سے لطف اُٹھائیے
محبت کے نام پر….تحریر:نورالعین
محبت ایک نازک اور قیمتی جذبہ ہے جو انسان کے دل میں عمیق اثرات مرتب کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا رشتہ ہے جو دلوں کو قریب کرتا ہے، ایک دوسرے کو سمجھنے اور سہارا دینے کی طاقت رکھتا ہے۔ لیکن جب نوجوانوں میں اس جذبے کی حقیقت اور ذمہ داری کی سمجھ نہیں ہوتی، تو یہ نہ صرف ان کی اپنی زندگیوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے، بلکہ دوسروں کی زندگیوں میں بھی مایوسی اور درد پیدا کرسکتا ہے۔
آج کے دور میں، خصوصاً سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل کمیونیکیشن کے بڑھتے ہوئے رجحان کی وجہ سے نوجوانوں کے درمیان محبت کے جذبات اور تعلقات میں پیچیدگیاں پیدا ہو چکی ہیں۔ بہت سے نوجوان صرف احساسات کی بنا پر، یا کسی جذبے کو وقتی تسکین کے طور پر اپنے اندر ایک گہرا تعلق قائم کر لیتے ہیں۔ لیکن جب یہ تعلقات حقیقی قوتِ ارادی اور خودمختاری کے بغیر قائم ہوں، تو یہ کسی کے جذبات کے ساتھ کھیلنے کا سبب بن سکتے ہیں۔
جب آپ زندگی میں کسی مقصد کو حاصل کرنے کے لئے خود پر یقین رکھتے ہیں اور اپنے فیصلے خود کرنے کی طاقت رکھتے ہیں، تو آپ کے اندر ایک مضبوط اور پائیدار کردار ہوتا ہے۔ نوجوانوں کو اپنی طاقتوں کو پہچاننا چاہئے اور زندگی میں کامیاب ہونے کے لئے اپنے والدین کی دعاؤں اور رہنمائی کا سہارا لینا چاہئے۔ آپ کے اندر اگر خودداری اور خودمختاری کی قوت ہے، تو آپ کسی اور کے جذبات کے ساتھ کھیلنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔اگر آپ اپنی زندگی میں کامیابی چاہتے ہیں اور کسی مقصد کو حاصل کرنے کی آرزو رکھتے ہیں، تو سب سے پہلے آپ کو اپنے اندر مضبوط ارادہ اور نیک نیتی پیدا کرنی ہوگی۔ محبت کا اظہار اور تعلقات کا آغاز سچائی اور ایمانداری سے ہونا چاہئے، نہ کہ وقتی خواہشات کی تسکین کے لئے۔
جب آپ میں یہ احساس ہو کہ آپ کی زندگی میں نہ تو فیصلوں کی طاقت ہے، نہ کچھ کر گزرنے کا حوصلہ، اور نہ ہی آپ اپنے فیصلوں کے مطابق زندگی گزارنے کی سکت رکھتے ہیں، تو پھر کسی دوسرے شخص کو اپنے ساتھ جذباتی طور پر جوڑنا اور انہیں گمراہ کرنا ایک سنگین بات ہے۔محبت ایک حساس اور نازک جذبہ ہے، جس سے نہ صرف آپ کی زندگی متاثر ہو سکتی ہے، بلکہ دوسرے شخص کی زندگی پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ نوجوانوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ضروری ہے، خاص طور پر جب بات محبت کے رشتہ کی ہو۔اگر آپ خود اپنی زندگی میں واضح سمت اور مقصد نہیں رکھتے، تو کسی دوسرے شخص کو اپنے ساتھ جذباتی تعلق میں اُلجھانا، اس کے لئے نہ صرف وقت کا ضیاع ہے بلکہ اس کے جذبات اور خوابوں کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔
کامیاب اور پائیدار رشتہ وہی ہوتا ہے جو دونوں فریقوں کی باہمی سمجھ بوجھ اور احترام پر قائم ہو۔ اگر آپ اپنی زندگی میں محبت کے بارے میں سوچ رہے ہیں، تو یہ ضروری ہے کہ آپ اپنے فیصلوں کو ذمہ داری کے ساتھ کریں۔ اگر آپ ابھی تک اپنی زندگی کے اہم فیصلے خود نہیں کر پائے، اور آپ کے اندر اتنی قوت نہیں کہ آپ اپنے راستے کا تعین کریں، تو پھر محبت کا رشتہ یا جذباتی تعلق کسی کے لئے بھی نہ بنائیں۔اس کے بجائے، اپنی توانائی کو اپنے مقاصد کے حصول، تعلیم اور ذاتی ترقی میں لگائیں۔ جب آپ خود کو بہتر بنائیں گے، تو آپ کے اندر ایسا جذبہ پیدا ہوگا کہ آپ ایک نیک، سمجھدار اور پائیدار رشتہ قائم کرسکیں گے۔
والدین کا کردار یہاں بہت اہم ہے۔ جب آپ خود اپنی زندگی کے فیصلے کرنے کی قوت رکھتے ہیں اور اپنے والدین کی دعاؤں اور رہنمائی کو اپنی زندگی کا حصہ بناتے ہیں، تو آپ کا راستہ مزید روشن ہوتا ہے۔ نوجوانوں کو اپنی والدہ اور والد کی باتوں کو سننا اور ان کے تجربات سے سیکھنا چاہیے۔ والدین وہ لوگ ہیں جو آپ کی فلاح و بہبود کے لئے ہمیشہ فکر مند رہتے ہیں اور ان کی دعائیں آپ کی زندگی کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔یہ ضروری ہے کہ ہم محبت اور عزت کے فرق کو سمجھیں۔ محبت صرف ایک جذبہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری اور احترام کا رشتہ ہوتا ہے۔ کسی کے جذبات سے کھیلنے کے بجائے، ہمیں ان کی عزت اور حقوق کا خیال رکھنا چاہیے۔ ایک ذمہ دار شخص اپنے رشتہ میں محبت اور عزت دونوں کو اہمیت دیتا ہے۔
یاد رکھیں، محبت ایک خوبصورت چیز ہے، لیکن اس کا استعمال صحیح طریقے سے کرنا ضروری ہے۔ جب آپ میں قوتِ فیصلہ سازی اور زندگی کے اہم فیصلے کرنے کا حوصلہ ہو، تب ہی آپ کسی دوسرے کے دل اور جذبات کے ساتھ کھلواڑ کرنے کا سوچ سکتے ہیں۔ نوجوانوں سے درخواست ہے کہ وہ اپنی زندگی کے فیصلے بڑے غور و فکر سے کریں اور کسی دوسرے کی زندگی کو اپنی غیر ذمہ داری سے متاثر نہ کریں۔آخر کار، محبت اور رشتہ ایک خوبصورت ذمہ داری ہے، اور اس کا احترام اور درست استعمال ہی آپ کی زندگی کو کامیاب بناتا ہے۔

ہاتھ میں ایک اچھی کتاب ،سب سے بڑا لطف،کچھ یادیں
میری سب سے بڑی پسندیدہ سرگرمیوں میں ہمیشہ پڑھنا شامل رہا ہے۔ جتنا مجھے یاد ہے، کتابیں ہمیشہ میرے ساتھ رہی ہیں، مجھے مختلف جہانوں میں لے جاتی ہیں، دلچسپ خیالات سے روشناس کراتی ہیں اور روزمرہ کی زندگی کے شور سے پناہ فراہم کرتی ہیں۔ لیکن حالیہ برسوں میں میں نے ایک تبدیلی محسوس کی ہے،پڑھنے کی وہ لذت جو پہلے تھی، آہستہ آہستہ کم ہوتی جا رہی ہے۔
ماضی میں میرا گھر ایک ادبی میدان کی طرح تھا۔ ہر کمرے میں کتابوں کا اپنا مخصوص مقام ہوتا تھا۔ ہمیشہ میرے بستر کے قریب ایک کتاب رکھی ہوتی، ایک اور کتاب کچن میں رکھی ہوتی تاکہ چائے کا پانی اُبالنے کا انتظار کرتے ہوئے تھوڑی دیر کے لیے پڑھا جا سکے، اور ایک کتاب شوروم کے صوفے کی بانہوں پر رکھی ہوتی۔ ایک ان پڑھا خزانہ ہمیشہ تیار رہتا، میری پسند نرالی تھی.افسانہ، غیر افسانہ، اور درمیان کی سب چیزیں، یہ کوئی فرق نہیں پڑتا تھا، بس کتابیں مجھے اپنی طرف کھینچ لیتی تھیں۔
حال ہی میں، تاہم، میں نے خود کو زیادہ تر مواد اسکرین پر پڑھنا شروع کر دیا،جو یا تو سہولت کی وجہ سے یا ضرورت کے تحت ہوتا ہے، نہ کہ حقیقی جوش و جذبے کے باعث، کمپیوٹر یا ٹیبلٹ پر پڑھنا وہ جادو نہیں رکھتا جو ایک جسمانی کتاب کے ساتھ ہوتا ہے۔ مجھے وہ حسی تجربہ یاد آتا ہے ،کتاب کا وزن ہاتھوں میں محسوس کرنا، نئے پرنٹ شدہ صفحات کی خوشبو، اور ہر صفحے کو پلٹتے وقت کی تسکین بخش سرسراہٹ۔ اس میں کچھ ایسا ہے جو بے بدل ہے کہ آپ کسی پسندیدہ اقتباس کو دوبارہ دوبارہ پڑھ سکیں جیسے آپ انہیں یادداشت میں محفوظ کر رہے ہوں۔
جو چیز مجھے سب سے زیادہ یاد آتی ہے وہ اس سب کا ایک مقدس عمل ہے۔ صوفے پر پھیل کر ایک آرام دہ کمبل میں لپٹنا، ایئرل گرے یا کافی کا گرم کپ پاس میں رکھنا، اور ایک اچھی کتاب ہاتھ میں ہونا، ایسا لگتا ہے جیسے سب سے بڑی عیاشی ہو۔ یہ صرف پڑھنا نہیں ہے،یہ ایک فرار ہے، دن کے دباؤ سے آزاد ہونے کا ایک طریقہ ہے اور خود کو کرداروں کی زندگیوں میں غرق کرنے، سنسنی خیز کہانیاں کھولنے یا گہرے خیالات کو دریافت کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ کتاب کے ساتھ گزارا گیا وہ مقدس وقت زندگی کی سب سے خالص خوشیوں میں سے ایک ہے۔
کتابیں میرے لیے صرف تفریح نہیں، بلکہ ضروری ہیں۔ میں تصور نہیں کر سکتی کہ کوئی تعطیلات بغیر کتابوں کے گزاری جائیں۔ اگر سفر میں کتابیں نہ ہوں تو ایسا لگتا ہے جیسے میں نے سفر کی روح کو پیچھے چھوڑ دیا ہو۔ اسی طرح، رات کو سونے سے پہلے کتاب نہ پڑھنا، چاہے صرف ایک صفحہ یا دو ہی ہوں، نامکمل سا محسوس ہوتا ہے۔ نیند سے پہلے کا وہ لمحہ، کتاب کے ساتھ، ایک چھوٹا مگر ضروری سکون ہوتا ہےیہ ایک اشارہ ہوتا ہے کہ دن پرامن طور پر ختم ہو رہا ہے۔
جسمانی کتابوں سے اپنی محبت کو دوبارہ جلا دینا، ایسا لگتا ہے جیسے میں نے اپنے آپ کا ایک حصہ دوبارہ حاصل کیا ہو، کچھ ایسا جو دل سے سکون دہ اور بامعنی ہو۔ کیونکہ ایسی دنیا میں جہاں سب کچھ تیز رفتاری سے چل رہا ہو، پڑھنے کی قدیم لذت ایک نرم یاد دہانی ہے کہ ہمیں آہستہ چلنا چاہیے، سانس لینا چاہیے، اور الفاظ کی خوبصورتی میں غرق ہو جانا چاہیے۔

قصہ میری یادوں کا،”دل پر گرتے آنسو”.تحریر:قرۃالعین خالد
صدیوں سے یہ مقولہ مشہور ہے کہ کتابیں انسان کی بہترین ساتھی ہوتی ہیں۔ کتابیں نہ صرف خلوت بلکہ جلوت کی بھی ساتھی ہوتی ہیں۔ وہ انسان کی رازداں ہوتی ہیں۔ علم کے سمندر میں غوطہ زن ہونے کے لیے کتابیں ہی تو سہارا ہوتی ہیں۔ نفسا نفسی اور خود غرضی کے اس دور میں کتابوں سے زیادہ مخلص دوست کوئی نہیں جو اپنے پڑھنے والے کی زندگی کے راز کسی سے نہیں کہتی ہوں۔ کتابیں قرطاس میں رازوں کو دفن کر کے اپنے اندر سمیٹ لیتی ہیں۔ سفر زیست کے پنے پلٹوں تو وہ دن بہت یاد آتے ہیں۔ جب زندہ دلان لاہور میں ہم سب کزنز تعلیم کی غرض سے مقیم تھے۔ ہمارا مستقل ٹھکانہ پھپھو اور نانی اماں کا گھر ہوا کرتا تھا۔ سارا دن کالج یونیورسٹیوں میں کورس کی کتابوں کے ساتھ سر کھپا کر، لاہور کی لوکل بسوں کی خاک چھان کر جب شام ہم اپنے ٹھکانے میں اکٹھے ہوتے تو ہماری زندگی کا محور و مرکز کورس کی کتب کے علاوہ بھی کچھ کتابیں ہوتی تھیں۔ کتنا حسین تھا وہ دور طالب علمی جب ہم اردو بازار جاتے تھے اور فٹ پاتھ پر لگے کتابوں کے اسٹال سے رسائل اور میگزین سستے دام میں خریدتے تھے۔ دور حاضر میں ہر شے مہنگائی کی نظر ہو گئی ہے۔ ایک ادب بچا تھا اسے بھی پیسے کی ہوس نے بے ادب کر دیا۔ میری طرح اردو بازار ہزاروں نہیں، لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں طالبات کی یادوں میں مقید ہوگا۔ جہاں فٹ پاتھ پر بیٹھ کر کتب کو خوب دیکھنا اپنی من پسند کتاب کے مل جانے پر چیخ چیخ کر خوشی کا اظہار کرنا۔ اردو بازار کی یاد تو دل میں ایسی بسی ہے جہاں نہ رنگ کا فرق تھا، نہ نسل کا، نہ کلاس کا بس سب پڑھنے کے دیوانے اپنی دیوانگی کے ہاتھوں مجبور ہو کر چلے آتے تھے۔ اردو بازار فٹ پاتھ اسٹال کی سب سے حسین یادوں میں اگر میں یاد کرو تو مجھے ہنسی آ جاتی ہے۔ دوکاندار کے سامنے معصوم سی غربت والی مسکین سی رونی صورت بناتے تھے تو دکاندار پانچ روپے میں بھی میگزین تھما دیتا تھا اور اس وقت لگتا تھا کہ ہم نے کوئی دنیا فتح کر لی ہے۔ من پسند میگزین کا حصول ہمارے لیے اس وقت کی سب سے عظیم کامیابی تھی۔ پاکستان میں مڈل کلاس طبقے کو اپنی بہت سی خواہشات کی قربانیاں دینی پڑتی ہیں لیکن اردو بازار کتب میلے تک ہر خاص و عام کتب سے محبت کرنے والے متوالے کی رسائی تھی۔ دور طالب علمی کی حسین یادوں میں ایک مثبت یاد یہ بھی ہے کہ پانچ پانچ روپے میں جو رسائل خریدے جاتے تھے پڑھنے کے بعد وہ واپس بھی ہو جاتے تھے اور ان کے بدلے ہم مزید نئے خرید لیتے تھے۔ کیا خوبصورت دور تھا گھر والوں سے چھپ کر کورس کی کتابوں میں رسائل اور میگزین رکھ کر پڑھنا۔ مجھے یاد ہے ندا (پھوپو زاد بہن) جو کتب کی دیوانی تھی اس کے بارے میں سب کہتے تھے یہ تو چلتا پھرتا انسائیکلوپیڈیا ہے۔ محدود جیب خرچ میں پانچ پانچ روپے ڈال کر چھپ کر میگزین اکٹھے کرتی تھی۔ اب مسئلہ یہ ہوتا تھا کہ اس کو گھر والوں سے چھپا کر کہاں رکھا جائے تو بستر کے گدے کے نیچے بڑی عزت سے علم کا خزانہ چھپایا جاتا تھا۔ بحیثیت مڈل کلاس طالبہ کے ہم جیسوں کے لیے اردو بازار کسی نعمت سے کم نہ تھا۔ کچھ دنوں پہلے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو گردش کرتی نظر آئی۔ ملک دشمن عناصر تو سنا تھا مگر یہ علم دشمن عناصر کہاں سے وارد ہو گئے؟ انہی علم دشمنوں نے سالوں سے سجے کتب کے اسٹال اکھاڑ پھینکے۔ یہ بات لکھتے ہوئے میرا دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ میرے ہاتھ لکھتے ہوئے کانپ رہے ہیں۔ ایسے لگتا ہے کسی نے میرا بچپن، میرا لڑکپن، میرا دور طالب علمی تیز نوکیلے اوزار سے نوچ لیا ہو۔ اس منظر کو دیکھنا اور اس کے بعد تحریر کرنا میرے لیے بہت تکلیف دہ ہے۔ جب لکھتے ہوئے میرے دل میں اتنا درد اٹھ رہا ہے تو جو سالوں سے دھوپ، چھاؤں، بارش، آندھی، طوفان اور موسموں کے تغیر کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ان سٹالز کو اپنا خون جگر پلا کر اپنی اولاد کی طرح پروان چڑھا رہے ہوں گے ان کے دل پر کیا بیت رہی ہو گی؟ کوئی ان کے دل کی تکلیف ان سے جا کر پوچھے۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ کتابیں بظاہر بے جان ہوتی ہیں لیکن قاری اور لکھاری کی نظر سے دیکھیں تو کتابوں سے زیادہ جاندار کوئی نہیں ہے۔ وہ اپنے قاری کے ساتھ ہستی ہیں، اس کے ساتھ روتی ہیں، وہ خاموشی کی زباں میں بولتی ہیں۔ اپنا مدعا بیان کرتی ہیں۔ ہاں! کتابیں خود میں جیتی جاگتی ہیں وہ سانس لیتی ہیں۔ وہ مردہ دلوں کو علم کی آبیاری سے سیراب کرنے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔ ان کو بھی درد ہوتا ہے وہ بھی قاری کا خیال رکھنا خود سے محبت کرنا محسوس کرتی ہیں۔ میری نظر میں کتابیں جان رکھتی ہیں، سانس لیتی ہیں، وہ جیتی جاگتی ہیں۔ قاری کے دلوں پر راج کرتی ہیں۔ کہانیوں کے ذریعے ہم اپنی زندگی میں کتنے ہی سپنے بنتے ہیں۔ الفاظ کیسے قاری کے دل کو مضبوطی و تقویت بخشتے ہیں یہ کوئی کتب بینی سے محبت کرنے والوں سے پوچھے۔ مجھے اپنی تکلیف کا احساس ہے، دکاندار کو اپنا غم سب سے بڑا لگ رہا ہے، طالبات اپنی جگہ حالت غم میں ہیں۔ کیا کسی نے ان کتب سے پوچھا جب انہیں بے دردی سے اچھالا گیا، جب دور پھینک دیا گیا، جب ان کی حرمت کو پامال کیا گیا تو ان کو کتنی تکلیف ہوئی؟ انہوں نے کتنا درد سہا؟ وہ جو انسان کی تنہائی کا ساتھی اور بہترین دوست ہونے کا دعوی کرتی ہیں آج ان کتب کو اپنے قاری کی محبت کا ثبوت چاہیے۔ دنیا میں ہر چیز ترقی کر رہی ہے سوشل میڈیا کا دور ہے لیکن کتاب دوستی ازل سے ہے اور ابد تک رہے گی۔ان شاءاللہ!
کائنات کو وجود بخشنے سے پہلے رب العزت نے کتاب تقدیر لکھی جسے لوہے محفوظ میں رکھ دیا گیا۔ ہر پیغمبر کو جب نائب مقرر کیا گیا تو اپنا پیغام رب نے کتاب یا صحیفے کی صورت میں بنی نوع انسان تک پہنچایا۔ آسمانوں سے رب کا پیغام پیغمبروں کے دلوں پر کتابوں کی صورت میں نازل ہوا آخری آسمانی پیغام جو وحی کی صورت خاتم النبیین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا وہ بھی کتابی صورت میں محفوظ ہے۔ اس دور میں عرب میں کاغذ کا دستور نہ تھا پیغام الہی کو چمڑے پر، درختوں کی چھال پر، پتھروں پر محفوظ کیا جاتا تھا۔ جنگ یمامہ میں 70 سے زائد حفاظ صحابہ اکرام کی شہادت نے حضرت ابوبکر کے دل پر وحی الہی کو مصحف کی صورت میں جمع کرنے کا خیال آیا۔ حضرت زید بن ثابت رضی اللّٰہ عنہ جنہیں کاتب وحی کہا جاتا ہے انہوں نے انتھک محنت سے قرآن پاک کو مصحف کی صورت میں ترتیب دیا جو آج ہر لحاظ سے محفوظ ہے۔ کتاب سے محبت انسان کی سرشت میں شامل ہے۔ دور نبوی میں بھی جنگوں میں مجاہدین کے جذبہ شوق کو جگانے کے لیے شاعری کی جاتی تھی یعنی ہر دور میں علم کو محفوظ کرنے کے لیے قرطاس کا سہارا لینا پڑا۔ علم وحی کا ہو چاہے ادب کا ہو، فنون لطیفہ ہو یا سائنس ہو علم تو علم کا درجہ ہی رکھتا ہے۔ جس نے علم کی قدر نہیں کی پھر انہوں نے اپنی قدر و منزلت بھی کھو دی۔ آج گیجٹس کے دور میں چند معتبر اشیاء جو بچ گئی ہیں ان میں کتب بھی شامل ہیں، اور اردو بازار مہنگائی کی جنگ لڑتا اپنے قارئین کو کم داموں میں علم کی پیاس بجھانے کا موقع فراہم کرتا تھا۔
مگر یہ لمحہ فکریہ ہے آج حکام اعلی کے لیے۔ کسی چیز کو اس کا مقام نہ دینا ظلم ہے اور ظالموں کو اللہ پسند نہیں کرتا۔ آئیے! ہم سب مل کر کتاب دوستی کے لیے آواز اٹھائیں۔ اردو بازار کتابوں سے محبت کرنے والوں کی یادوں میں بسا ہے۔ آئیں! آج اپنی یادوں کو تکلیف دہ نہیں بلکہ خوشیوں والا بنائیں۔ آئیے! آج کتابوں کو ان کا اصل مقام دلانے کے لیے آواز اٹھائیں۔ میں نے کہیں پڑھا تھا جس قوم کے جوتے شوکیس میں رکھے جائیں اور کتابیں سڑکوں پر ہوں تو اس قوم کا تو اللہ ہی حافظ ہے لیکن یہاں تو سڑکوں سے اٹھا کر کتب کو دربدر کر دیا گیا۔ یہ علم تو مومن کے سر کا تاج ہے، دل کا سکون ہے، زندگی کی راحت ہے، آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ آج اس کو سڑکوں سے بھی اٹھا دیا گیا ہے۔ مڈل کلاس طالبات کی علمی پیاس کے لیے آواز اٹھائیں ورنہ اگلی نسلوں کی علمی آبیاری ممکن نہ رہے گی۔ ڈریں اس وقت سے جب ہمیں اپنے ایمان کا حساب دینا ہو گا، اگر ہم آگے بڑھ کر برائی کو ہاتھ سے روکنے کی جرات نہیں رکھتے تو اپنی زبان سے غلط کو غلط کہنا سیکھیں اگر وہ بھی نہیں کر سکتے تو کم از کم اسے دل میں تو برا جانیں اور یہ ایمان کی سب سے کمزور حالت ہے اپنے کمزور ایمان کو بچائیے۔ حق کو حق اور باطل کو باطل کہنا سیکھیے۔ آئیے! حق کے راستے کی بارش کا پہلا قطرہ بن جائیں کیونکہ جب زمیں پر جل تھل ہو گی تو کہیں راہ حق میں ہمارا بھی حصہ ہو گا۔ ان شاءاللہ!

"یہ تمنا ہے کہ آزادِ تمنا ہی رہوں” .تحریر:مسکان احزم
قدر اسی چیز کی ہے جو لاحاصل ہے۔ جو چیز ہاتھ میں آجائے وہ بے مول ہوجاتی ہے۔
انسانی چاہت کی مثلت انہی تین زاویوں سے بنتی ہے:
"لاحاصل سے حاصل اور حاصل سے دوبارہ لاحاصل۔”
لگتا ہے کہ بہت کچھ پالیا ہے۔ لیکن دل کی خانہ ویرانی اکساتی رہتی ہے کہ نہیں۔ جو نہیں ہے، اسی کی چاہ ہے اور اس کے بغیر یہ دامن سمجھو کہ بہت خالی ہے تو پھر چاہے دنیا بھر کی خوشیاں ڈال دو اس میں۔
پیچھے مڑ کر دیکھوں تو اکثر سوچتی ہوں کہ کبھی میں چاہتی تھی کہ مجھے فلاں چیز مل جائے۔ تو جب وہ مل جاتی تھی تو دل میں کسی اور چیز کی خواہش جاگ جاتی تھی۔ جب وہ ملتی تھی تو پھر اگلی۔ ختم نہ ہونے والا ایک طویل سلسلہ جس کا شاید کوئی انت ہی نہیں۔
سنا تھا کہ انسان کا پیٹ نہیں بھرتا، ہمارا تو دل بھی نہیں بھرتا۔ مجال ہے جو بس ایک تمنا پوری ہوجانے پر راضی ہوا ہو۔
آگے سے آگے کی چاہ ٹھہراؤ نہیں آنے دیتی۔ ذرا سا پڑاؤ ڈال لیا جائے ،تو کیا برا ہے؟
لیکن اب کوشش ہے کہ دل کی تمناؤں کو محدود کردیا جائے۔ ٹھہر لیا جائے، رک کر سانس لے لیا جائے۔ پڑاؤ ڈال کر دیکھ لیا جائے کہ جو خواہش کے علاوہ مل رہا ہے وہ کتنا بہترین ہے۔ وہ جو اللہ اپنی چاہت سے ہمیں نواز رہے ہیں، اس میں کتنی خیر ہے۔
بس اب:
"یہ تمنا ہے کہ آزادِ تمنا ہی رہوں”
مسکان احزم
ذہنی غلام قوم کب ہو گی آزاد.تحریر: ارم ثناء
ہم صرف نام کے آزاد ہیں، ورنہ ہمارے ذہن تو اب بھی غلامی میں ہیں، ہمارے اساتذہ جن کو چاہیے کہ وہ بچوں کو ایسے تیار کریں کہ وہ حق بات کرتے ہوئے ہچکچائیں نا۔ لیکن وہ بچوں کو ایسے تیار کرتے ہیں کہ وہ اپنی بات کو بھی دوسروں تک پہنچانے سے پہلے گئی مرتبہ سوچتے ہیں۔ ہماری درس گاہوں میں اگر کبھی کوئی ٹیچر غلط بات کرے اور بچے ٹیچر کو بتا دیں تو ٹیچر اس کا شکر ادا کرنے کی بجائے الٹا اس کو ڈانٹ دیتے ہیں جس سے بچے پر یہ اثر ہوتا ہے کہ وہ جس بھی جگہ پر کچھ غلط ہوتا دیکھے تو خاموش ہو جاتا ہے۔ ہمارے گھروں میں کوئی بہوئیں نہیں لانا چاہتا بلکہ وہ ایک ذہنی غلام لانا چاہتے ہیں جو بھی ان کے ساتھ غلط کرے بس اس کو خاموشی سے برداشت کر لیں۔
میرے خیال میں بچوں کو سکول لیول پر ہی یہ سیکھانا چاہیے کہ وہ حق بات کےلئے کھڑے ہوں چاہے وہ غلط بات ٹیچر کرے یا والدین۔ جو بھی بات اسلام کے خلاف ہو اس کے خلاف کھڑے ہوجائیں۔ جس بھی جگہ پر دیکھیں کہ اللہ کی نافرمانی ہو رہی ہے آواز بلند کریں اس جگہ پر۔ بچے جب صحیح بات کریں تو ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے، بچے جب کسی بڑے کی غلطی کو نوٹ کرکے وہ آپ کی غلطی آپ کو بتائیں تو ان کا شکر ادا کریں۔

رشتہ کرنے سے پہلے …تحریر:ڈاکٹر طاہرہ کاظمی
وقت آ گیا ہے کہ …
رشتہ کرنے سے پہلے ان نقاط پہ بات کی جائے ۔
بیٹے یا بیٹی کی تعلیم کتنی ہے اور اسکے کیا عزائم ہیں ؟
اگر بیٹا/ بیٹی نوکری کرتے ہیں تو کونسی ؟ کہاں ؟
موڈ کے معاملات کیا ہیں ؟ پرجوش؟ شوخ گفتار ؟ کم گو؟
طبعیت؛
حساس ؟ ریزروڈ ؟ شکی ؟
فطرت؛ ملنسار؟ ہنس مکھ؟ سڑیل ؟ مغرور؟ باعتماد ؟ احساس کمتری؟ متجسس؟
شوق؟ کتابیں؟ فلمیں ؟ دوست
دونوں کہاں رہیں گے ؟ علیحدہ ؟ کمبائنڈ فیملی سسٹم ؟
اگر کوئی ایک غیر ملک میں رہتا ہے تو کیا دوسرا اس کے ساتھ جائے گا؟
شادی کے بعد کیرئر اور مزید تعلیم حاصل کرنے کے مسائل کیسے حل کیے جائیں گے ؟
اگر دونوں کماؤ ہیں تو کونسی ذمہ داری کس کی ہو گی ؟
بچہ کب پیداکرنا چاہیں گے ؟ ( ہم کچھ لوگوں کو جانتے ہیں جن کے درمیان علیحدگی اس بات پہ ہوئی کہ ایک فریق بچہ پیدا نہیں کرنا چاہتا تھا )
اگر بانجھ پن کے مسائل ہوئے تو ان سے کیسے نمٹا جائے گا ؟
اگر کسی ایک نے دوسرے کو دھوکا دیا تب کیا حل نکالا جائے گا ؟ ( غیر ازدواجی تعلقات ، بنا بتائے دوسری شادی، رقم کا استعمال )
اگر گھر میں لڑائی جھگڑے کے مسائل ہیں تو ان پہ فریقین کیسے بات کریں گے ؟
کیا بیوی کو ہر بات میں شوہر کی اجازت درکار ہو گی؟
فریقین کا اپنے اپنے خاندان کے ساتھ کس حد تک ربط ضبط ہو گا ؟
اگر کسی ایک کو کوئی بیماری ہے تو کیا دوسرے فریق کو اس کے بارے میں علم ہے ؟ ( کچھ واقعات میں بیماری دوسرے فریق سے پوشیدہ رکھی جاتی ہے )
والدین اور بہن بھائیوں کے مالی مسائل کی صورت میں شوہر کس حد تک ان کی مدد کرے گا ؟ سسرال کی توقعات کیا ہیں ؟
کیافریقین جوائنٹ اکاؤنٹ کھولیں گے اور اس کو استعمال کرنے کا حق دونوں کا ہو گا ؟
طلاق اور خلع کے معاملات کیسے حل کیے جائیں گے ؟
شادی ایک معاہدہ ہے اور اس کا کنٹریکٹ ایسے ہی طے کریں جیسے کوئی بھی اور معاہدہ کرتے ہیں
بیٹیوں کا مقدر خدا نے مرنا، قتل ہونا اور تباہ حال زندگی گزارنا نہیں لکھا_
ایسا آپ کرتے ہیں
ڈاکٹر طاہرہ کاظمی
مردوں کے عالمی دن پر میری زندگی کے تین مردوں کو خراج تحسین۔ تحریر:عینی ملک
یہ سچ بات ہے مردوں کے صرف پیدا ہونے کی خوشی منائی جاتی
اسکے بعد وہ ذمہ داریوں کے بوجھ اتارنے میں جت جاتا ہےدنیا میں کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جو زندگی کو نہ صرف سنوار دیتے ہیں بلکہ ایک مضبوط سہارا بھی بنتے ہیں۔ مردوں کے عالمی دن پر میں ان تین اہم مردوں کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتی ہوں جنہوں نے میری زندگی کو ایک خاص معنی دیا۔میرے بابا جان، بھائی، اور شوہر نے میری زندگی کو پرآسائیش اور خوشحال بنانے کے لیے جو محنت کی ہے، وہ الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ بابا جان نے اپنی جوانی اور آرام میری تعلیم و تربیت کے لیے وقف کر دیا، دن رات محنت کی تاکہ مجھے کسی کمی کا احساس نہ ہو۔
میرے بھائی نے ہمیشہ اپنی خواہشات کو میری ضروریات پر ترجیح دی، میرے لیے سہولتیں پیدا کرنے کے لیے خود مشکلات اٹھائیں۔ میرے شوہر نے بھی اپنی زندگی کا ہر لمحہ اس یقین کے ساتھ محنت کرتے گزار رہے ہیں کہ مجھے ایک محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کر سکیں۔
میرے بابا جان ، ملک محمد خالد میری زندگی کے سب سے پہلے ہیرو ہیں۔ ان کی محبت بے غرض اور ان کا سایہ ہمیشہ میری حفاظت کرتا رہا۔ انہوں نے نہ صرف مجھے زندگی کے اصول سکھائے بلکہ میری ہر مشکل وقت میں رہنمائی بھی کی۔ ان کی دعاؤں کا اثر میری کامیابیوں کی بنیاد ہے۔مولا انکی قبر میں اندھیرا نہ
رکھنا انکی روح کو جنت میں ایک گھر عطا فرمانا الہی آمین۔دوسرے اہم مرد میرے بڑے بھائی نے ہمیشہ ایک دوست اور محافظ کا کردار نبھایا۔ وہ ہر وقت میرے ساتھ کھڑے رہے، چاہے معاملہ چھوٹا ہو یا بڑا۔ ان کے ساتھ گزرے لمحے میری زندگی کی سب سے حسین یادیں ہیں۔ بھائی میرے لیے ایک ایسا سہارا ہیں جس کو جب بھی ضرورت پڑے بلا جھجک آواز دے سکتی ہوں۔
اور تیسرے میرے شوہر میری زندگی کا وہ حصہ ہیں جو میری خوشیوں اور غموں کے برابر کے شریک ہیں۔ ان کا پیار، خلوص اور رفاقت میری زندگی کا بے بیش قیمت اثاثہ ہیں۔ وہ نہ صرف میرے ہمسفر ہیں بلکہ میرے سب سے بڑے حوصلہ بڑھانے والے بھی ہیں اور مجھ پر اعتماد کرنے والے بھی ہیں
یہ تینوں مرد میرے لیے طاقت، شفقت ، وفا، محبت اور رہنمائی کا مظہر ہیں۔ آج کے دن میں ان کا شکریہ ادا کرتی ہوں کہ انہوں نے میری زندگی کو اتنا خوبصورت بنایا۔ میری دعائیں ہمیشہ ان کے ساتھ ہیں۔

شوہر اجازت نہیں دیتے …تحریر:ڈاکٹر طاہرہ کاظمی
شوہر اجازت نہیں دیتے ….
آپ نہ لیں اجازت ….
جی … وہ شوہر ہیں نا …
تو … کیا وہ بھی ہر کام آپ سے اجازت لے کر کرتے ہیں ؟
نہیں … نہیں تو ..
تو کیا آپ جیل میں قیدی کی طرح رہتی ہیں جہاں دروغہ جی سے ہر بات کی اجازت لی جائے ؟
وہ … جی … امی ابا نے یہی کہا تھا کہ شوہر کی بات ماننا …
کیا امی ابا نے آپ کو ایک خادمہ کے طور پہ شوہر کے سپرد کیا تھا ؟ یا ان کے ساتھی کے طور پہ ؟ ساتھی اپنی مرضی سے آگاہ کرتے ہیں ، اجازت نہیں لیتے …
اور کیا کہا تھا امی ابا نے ؟
کبھی لڑ کر واپس مت آنا … جب بھی آنا ہنسی خوشی آنا …
ہنسی خوشی ؟ یعنی جب آپ تکلیف میں ہوں گی تب کہاں جائیں گی ؟
جی امی ابو نے کہا تھا کہ صبر کرنا ایک دن سب ٹھیک ہو جائے گا ۔
کس دن ؟
جی .. قربانی تو دینی ہی پڑتی ہے نا ۔
اس دن جب آپ کے گوڈے گٹے جواب دے جائیں گے ، بال سفید ہو جائیں گے ، کچھ بھی کرنے کو من نہیں چاہے گا ، بحث مباحثے سے دل اوبھ جائے گا اور آپ خاموشی اختیار کر لیں گی ۔
اس دن روح سے خالی جسم ایک چبوترے پہ کھڑا کر کے کہا جائے گا __ دیکھا آخر میں جیت عورت ہی کی ہوتی ہے ۔اگر آپ کے شوہر آپ سے مطالبہ کرتے کہ ڈاکٹری چھوڑ دو، گھر بیٹھو تو آپ کیا کرتیں؟
یہ سوال ہم سے بہت پوچھا جاتا ہے پوچھنے والوں میں وہ بھی شامل ہوتی ہیں جنہیں ان کے شوہروں نے ڈاکٹر ہونے کے باوجود گھر بٹھا دیا اور وہ بھی جو سمجھتے ہیں کہ عورت کو بیوی بن کے ہر قدم اجازت کے ساتھ اٹھانا چاہیے ۔
ہم محفل میں ہوں تو سوال کے ساتھ ہی بیسیوں تجسس بھری نظریں ہم پہ مرکوز ہو جاتی ہیں باکل ایسے ہی جیسے کوئی جادوگر ہیٹ سے کبوتر نکالنے والا ہو!
ہم ایک شان سے بلند قہقہہ لگاتے ہوئے کہتے ہیں ، ہم وہی کرتے جو ایک بادشاہ دوسرے بادشاہ سے کرتا ہے…
اس جواب سے من مرضی کی بہت سی تاویلات گھڑی جا سکتی ہیں ۔
کوشش کر دیکھیے آپ بھی !






