Baaghi TV

Category: خواتین

  • خواتین کے حقوق کے تحفظ میں لاپرواہی،ذمہ دار کون. تحریر : جان محمد رمضان

    خواتین کے حقوق کے تحفظ میں لاپرواہی،ذمہ دار کون. تحریر : جان محمد رمضان

    خواتین کے حقوق کے تحفظ میں لاپرواہی،ذمہ دار کون. تحریر : جان محمد رمضان
    پاکستان سمیت دنیا بھر میں 8 مارچ کو خواتین کا عالمی دن بڑے جوش و خروش سے منایا گیا۔ اس دن کا مقصد خواتین کے حقوق اور ان کی معاشرتی حیثیت کو اجاگر کرنا ہوتا ہے۔ ملک بھر میں مختلف تقاریب، ورکشاپس اور سیمینارز کا انعقاد کیا گیا، جس میں خواتین کے حقوق کے بارے میں بات چیت کی گئی اور ان کی کامیابیوں کو سراہا گیا۔ تاہم، اس دن کے بعد جو افسوسناک واقعہ سامنے آیا، وہ اس بات کا غماز ہے کہ ہمارے معاشرے میں خواتین کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں اور تشدد کے حوالے سے ابھی بھی ایک بڑی خاموشی اور لاپرواہی کا عالم ہے۔

    8 مارچ کے بعد، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایف 9 پارک کے قریب ایک معروف فوڈ چین کے باہر ایک سنگین واقعہ پیش آیا۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو سامنے آئی، جس میں دکھایا گیا کہ ایک نوجوان خواتین کو سڑک پر زدوکوب کر رہا ہے انہیں بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا گیا.اس ویڈیو نے پورے ملک میں ایک ہلچل مچائی اور خواتین کے حقوق کے بارے میں ایک نئے سوالات اٹھا دیے۔ویڈیو میں واضح طور پر دکھائی دیتا ہے کہ یہ واقعہ نہ صرف خواتین کے ساتھ تشدد کا ہے بلکہ اس میں ان کی بے بسی اور بدترین صورت حال بھی سامنے آتی ہے۔ پولیس نے متاثرہ خاتون کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا اور ایف آئی آر کے مطابق، مرکزی ملزم جمال نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ 23 فروری کی رات خواتین کو مارا پیٹا اور ان سے 10 تولہ زیورات اور 20 لاکھ روپے نقد چھین لیے۔

    پولیس نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے ملزم جمال کو گرفتار کیا، لیکن اس کے بعد ایک نیا پہلو سامنے آیا۔ 10 مارچ کو یہ انکشاف ہوا کہ ملزم جمال اور متاثرہ خواتین کے درمیان صلح ہو گئی ہے۔ خواتین نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ سب محض ایک غلط فہمی تھی اور اس وجہ سے وہ یہ مقدمہ واپس لے رہی ہیں۔ خواتین نے عدالت میں یہ کہا کہ اگر جمال کو ضمانت ملتی ہے یا وہ بری ہو جاتا ہے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔پولیس نے مقدمہ درج کر کے ملزم جمال نامی شخص کو گرفتارتو کر لیالیکن ایسے لگتا ہے کہ ملزم کے ہاتھ لمبے تھے، اندراج مقدمہ کے بعد تشدد کا شکار خواتین نے ملزم کے ساتھ صلح کر لی اور عدالت میں بیان دے دیا کہ غلط فہمی ہوئی…ابے غلط فہمی کس چیز کی…ویڈیو سامنے آئی…تشدد ہوا..سر عام ہوا..مقدمہ درج ہوا…پھر غلط فہمی کس بات کی….یہی چلتا ہے پاکستانی معاشرے میں..ملزم کو ضمانت ملے گی کل وہ کسی اور کو تشدد کا نشانہ بنائے گا پھر آوازیں اٹھیں گی ہائے خواتین پر تشدد..لیکن یہ جو خواتین تشدد کے بعد بھی صلح کر رہی…اب نام نہاد خواتین کے حقوق کی دعویدار تنظیموں کے منہ کو تالے کیوں لگ گئے، آئیں سامنے اور کہیں کہ ہم مدعی بنیں گی لیکن وہ کبھی ایسا نہیں کریں گی.

    یہ واقعہ ہمیں اس حقیقت سے آگاہ کرتا ہے کہ ہمارے معاشرتی نظام میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لئے نہ صرف قانونی اقدامات کی ضرورت ہے بلکہ ان کا اعتماد بھی ضروری ہے تاکہ وہ اپنی آواز بلند کرسکیں اور ظالموں کے خلاف کھڑے ہو سکیں۔ پاکستان میں خواتین کو تحفظ چاہیے تو انہیں اپنے حقوق کے لئے ڈٹ کر کھڑا ہونا ہوگا۔ مار کھا کر صلح کر لینا، مجرم کو مزید شہہ دینے کے مترادف ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اگر کسی عورت کو ظلم کا سامنا ہو اور وہ اس کے خلاف آواز نہ اٹھائے تو یہ ظلم بڑھتا ہی چلا جائے گا۔کل کو اگر ان خواتین کو کہیں اور سے تشدد کا سامنا ہوا تو اس کی ذمہ داری ان خود ہی ہوگی جنہوں نے اپنی خاموشی سے مجرم کو مزید حوصلہ دیا۔ ہمیں اس بات کا شعور حاصل کرنا ہوگا کہ حقوق کا تحفظ صرف اس صورت ممکن ہے جب ہم ان کے لئے سنجیدہ کوششیں کریں اور معاشرتی بدعنوانیوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں۔

    پاکستان میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لئے حکومت، ادارے، اور خواتین کی خود کی کوششیں اہم ہیں۔ ہمیں خواتین کے ساتھ ہمدردی اور احترام کے ساتھ پیش آنا ہوگا، تاکہ وہ اپنے حقوق کے لئے لڑ سکیں اور معاشرتی سطح پر اپنی مقام بنا سکیں۔ جب تک ہم اس معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیں گے، تب تک خواتین کو ان کے حقوق نہیں مل پائیں گے اور اس طرح کے افسوسناک واقعات ہمیشہ ہمارے معاشرے کا حصہ بنے رہیں گے۔

  • حضرت خدیجہ طاہرہ کی عظمت.تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    حضرت خدیجہ طاہرہ کی عظمت.تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظاہری حسن و خوبصورتی کے بارے میں جب بھی زکر ہوتا ہے توکہا جاتا ہے وہ حضرت یوسف علیہ السلام سے زیادہ حسین وجمیل تھے بہت اچھی شخصیت کے مالک تھے یہی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم جب 25 سال کی عمر میں عین عالم شباب میں جب دولہا بنے ہونگے تو کیا عالم ہوگا ،جب حضور کے پیارے چچا حضرت ابو طالب نکاحِ پڑھا رہے ہونگے آور حضور کی اولین شادی کا منظر کتنا خوبصورت ہوگا کتنی مقدس محفل ہوگی دولہا دلہن پر کتنا روپ اور نور ہوگا..

    رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پہلی شادی خدیجہ طاہرہ سے ہوئی جن کا قبل اسلام زمانہ جہالت میں بھی لقب طاہرہ تھا ، وہ طاہرہ یعنی پاکیزہ ہستی کی قدر و منزلت یہ تھی کہ وہ 25 سال اپنے عالی مرتبت شوہر کی ہمراہی میں رہیں اور رسول اللہ نے دوسری شادی نہیں کی ان کا دوسرا اہم اعزاز یہ تھا کہ رسول اللہ کی اولاد انہی سے ہوئی اور یہ خاتون جنت فاطمہ زاہرا سیدۃ النساء العلمین کی والدہ ماجدہ بنیں..

    اسلام کی پہلی خاتون اول جو ورکنگ لیڈی تھیں ایک کامیاب بزنس وومن تھیں جب سمجھ گئیں کہ ان کے شوہر منجانب اللہ سچے پیغمبر ہیں تو پھر دل وجان سے ان کا ساتھ دیا اپنی دولت اسلام کی نشر واشاعت کے لیے خرچ کی ان کا اس حد تک ساتھ دیا کہ جب مکہ والوں نے بتوں کی عبادت سے منع کرنے پر محمد مصطفی کا سوشل بائیکاٹ کیا اور انہیں ایک تنگ گھاٹی شعیب ابی طالب میں محصور کردیا تو یہ اس وقت ان کے ساتھ محصور تھیں سب تکالیف برداشت کیں فاقے کئیے ، وفا داری کی اعلیٰ ترین مثال پیش کی

    اوائل اسلام کی تمام مشکلات میں پیغمبر کی پشت پناہ بنی رہیں حتی کہ اللہ تعالیٰ نے جبرائیل امین کے زریعے ان کو سلام پہنچوایا جب رسول اللہ غارحرا میں عبادت میں مصروف تھے تو ان کے لیے کھانا لے کر پہنچی تھیں ، اس زمانے میں جب بڑے بڑے سردار حضور کے مخالف تھے سب نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا تھا وہ ثابت قدم رہیں اپنے عالی مرتبت شوہر کا حوصلہ بڑھاتی رہیں ، ان کی زات مسلمان خواتین کے لیے رول ماڈل ہے بزنس کرنا اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا اور اپنا وقار قائم رکھنا یہ سب باہمت خواتین کر سکتی ہیں ،اعلان نبوت کے بعد جتنی بھی تکالیف اور مشکلات رسول خدا کو پیش آ ئیں ان سب میں وہ حضور کے ساتھ تھیں تبہی ان کی وفات کے سال کو انہوں نے عام الحزن یعنی غم کا سال قرار دیا اس سال دو مخلص ترین ہستیوں سے جدائی ہوئی خدیجہ طاہرہ سلام اللہ علیہا اور چچا حضرت ابو طالب علیہ السلام حضور جب تک زندہ رہے خدیجہ طاہرہ کو یاد کرتے رہے ان کی سہلیوں کی عزت کرتے انہیں قربانی کا گوشت بھجواتے اور برملا کہتے مجھے خدیجہ سے اچھی بیوی نہیں ملی ۔

    اتنے قدیم زمانہ میں بھی عورت نہ صرف بزنس کر سکتی تھی بلکہ شادی کے لیے قوت فیصلہ اور اختیار بھی رکھتی تھی اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام تنگ نظری کا مذہب نہیں ہے بس اعلیٰ انسانی اقدار و اوصاف چاہتا ہے تاکہ انسان اچھے کردار اور وفا داری جیسے اعلٰی اوصاف سے مزین ہوں –

  • خاتون وزیراعلیٰ مریم نواز تاریخ رقم کر رہی.تحریر: جان محمد رمضان

    خاتون وزیراعلیٰ مریم نواز تاریخ رقم کر رہی.تحریر: جان محمد رمضان

    پاکستان میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے ایک طویل جدوجہد جاری ہے، جس میں نہ صرف قانون سازی بلکہ معاشرتی سطح پر آگاہی اور تبدیلی کی ضرورت ہے۔ یہ بات حقیقت ہے کہ پاکستان کی معاشرت میں خواتین کو ہمیشہ سے مختلف چیلنجز کا سامنا رہا ہے، مگر آج کی خواتین، خاص طور پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز جیسی باہمت اور توانا آواز رکھنے والے لیڈرز، اس جدوجہد کو ایک نیا موڑ دے رہی ہیں۔

    مریم نواز، پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سینئر رہنما ،وزیراعلیٰ پنجاباور سابق وزیراعظم نواز شریف کی بیٹی، پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم مقام رکھتی ہیں۔ وہ نہ صرف اپنے والد کی سیاسی وراثت کو آگے بڑھا رہی ہیں بلکہ خواتین کے حقوق اور ان کے تحفظ کے لیے بھی ایک مضبوط آواز بن کر سامنے آئی ہیں۔ وزارت اعلیٰ ملنے کے بعد مریم نواز کی شخصیت میں ایک نیا جوش، عزم اور حوصلہ ہے جو خواتین کے حقوق کی بات کرتی ہیں اور ان کی آواز کو تقویت دیتی ہیں۔مریم نواز نے ہمیشہ خواتین کے حقوق کے تحفظ اور ان کے حوالے سے اصلاحات کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ ان کی سیاسی اور سماجی تقریریں ہمیشہ خواتین کے مسائل پر روشنی ڈالتی ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ خواتین کی ترقی اور فلاح کیلیے سیاست میں موثر اور فعال کردار ادا کرنا ضروری ہے تاکہ معاشرتی سطح پر برابری کی فضا قائم کی جا سکے۔پاکستان میں جہاں بہت سی خواتین کو تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی حقوق تک رسائی حاصل نہیں، مریم نواز ان کے حق میں کھڑی ہوئی ہیں۔ ان کی سیاسی سوچ میں خواتین کے لیے زیادہ مواقع، تعلیم، صحت کی سہولتیں اور معاشرتی تحفظ شامل ہے۔ ان کی آواز نے نہ صرف سیاست کے میدان میں بلکہ معاشرتی سطح پر بھی تبدیلی کا آغاز کیا ہے۔

    مریم نواز کا وژن ہمیشہ ایک مستحکم اور ترقی یافتہ پاکستان کا ہے، جس میں ہر فرد کو مساوی حقوق حاصل ہوں، خاص طور پر خواتین کو۔ ان کا کہنا ہے کہ گڈ گورننس کی بنیاد عدلیہ، شفافیت، اور عوام کے ساتھ رابطے پر ہے۔ گڈ گورننس سے مراد وہ حکومتی پالیسیز ہیں جو عوام کی فلاح و بہبود، تعلیم، صحت، اور خواتین کی ترقی کے لیے تیار کی جاتی ہیں۔مریم نواز کے مطابق، پاکستان میں خواتین کے لیے بہتر حکومت سازی کا عمل ہی ایک کامیاب پاکستان کی بنیاد بنے گا۔ انہوں نے متعدد بار اپنے عوامی خطابوں میں اس بات پر زور دیا کہ حکومت کا کام عوام کے مسائل کو سمجھنا اور ان کے حل کے لیے اقدامات کرنا ہے اور عملی طور پر مریم نواز مسائل کو حل کر رہی ہیں۔ ان کا گڈ گورننس کا نظریہ اس بات پر مرکوز ہے کہ خواتین کے لیے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ بھی معاشرتی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔

    پاکستان میں مریم نواز کی گڈ گورننس اور خواتین کے حقوق کے حوالے سے کی جانے والی کوششوں کو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں سراہا گیا ہے۔ ان کی رہنمائی میں مسلم لیگ (ن) نے ہمیشہ خواتین کے حقوق اور ان کی ترقی کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ مریم نواز کی سیاسی مہارت اور قائدانہ صلاحیتوں نے انہیں دنیا بھر میں ایک معتبر شخصیت بنا دیا ہے۔پنجاب میں مریم نواز پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ ہیں تو مریم اورنگزیب سینئر وزیر پنجاب بھی خاتون ہیں، عظمیٰ بخاری سیکرٹری اطلاعات بھی ایک خاتون ہیں.مریم نواز کی آواز اور اقدامات نے پاکستانی خواتین کے اندر ایک نئی روح پھونکی ہے، اور وہ اس بات پر قائل ہیں کہ وہ بھی اپنی زندگی کے فیصلے خود لے سکتی ہیں اور اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کر سکتی ہیں۔ دنیا بھر میں مریم نواز کی سیاسی حکمت عملی اور گڈ گورننس کے حوالے سے بات کی جا رہی ہے اور ان کے نظریات کو ایک کامیاب ماڈل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

    مریم نواز کی سیاسی سفر میں خواتین کے حقوق اور گڈ گورننس کے اصولوں کا مرکزی کردار ہے۔ ان کی کوششوں سے نہ صرف خواتین کے حقوق کے لیے ایک مضبوط بنیاد رکھی جا رہی ہے بلکہ پاکستان کی سیاست میں بھی ایک نئی سمت دکھائی دے رہی ہے۔ ان کا کردار ایک رہنما کے طور پر ہمیشہ متاثر کن اور حوصلہ افزا رہے گا اور دنیا بھر میں ان کی آواز سنائی دے گی۔پاکستان میں خواتین کے حقوق کی جدوجہد اور ان کی ترقی کے لیے مریم نواز کا کردار بے مثال ہے اور وہ یقیناً ایک تاریخ رقم کر رہی ہیں جسے مستقبل میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

  • پیغمبر کی بیٹیاں.تحریر: مبشر حسن شاہ

    پیغمبر کی بیٹیاں.تحریر: مبشر حسن شاہ

    عورتوں کے عالمی دن کے حوالے سے خصوصی تحریر.
    قارئین آج جو تحریر جب آپ پڑھ رہے اب یہ چھپنے اور آپ کی نگاہوں میں آنے تک ہوسکتا ہے عورتوں کا عالمی دن 8 مارچ ہو، یا گزر چکا ہو یا ایک آدھا دن باقی ہو۔ آج تمہید موقوف، تاریخی حوالہ جات سے ابتدا۔ 1857 جب ایک جانب برصغیر میں جنگ آزادی (بغاوت ہند) کو پینتالیسواں دن تھا۔ تو وہیں 5 جولائی 1857 کو جرمنی کے شہر کونیگشین میں ایک لڑکی نے جنم لیا جو آگے چل کر عورتوں کے حقوق کے حوالے سے جدوجہد سے معروف ہوئی۔
    جرمن مارکسی تھیوریسٹ، کمیونسٹ کارکن، اور خواتین کے حقوق کی وکیل کلارا زیٹیکن کے نام سے معروف اس عورت نے جرمنی میں سماجی جمہوری خواتین کی تحریک کو فروغ دینے میں مدد کی۔ 1891 سے 1917 تک، اس نے SPD خواتین کے اخبار ڈائی گلیچیٹ (مساوات) میں ترمیم کی۔ 1907 میں وہ SPD میں نئے قائم کردہ "خواتین کے دفتر” کی رہنما بن گئیں۔ اس نے خواتین کے عالمی دن (IWD) میں بھی حصہ ڈالا. 19 مارچ 1911 کو باقاعدہ پہلا عالمی دن برائے خواتین منایا گیا۔ 1913 میں اس کو انعقاد 8 مارچ ہو جو اب بھی ہر سال نہ صرف منایا جاتا ہے بلکہ اب تو منوایا جاتا ہے۔ میڈیا تک رسائی، گیٹ کیپکنگ ( میڈیا ٹرم معنی شائع یا نشر کرنے سے پہلے اخلاقی و قانونی پہلو کا خیال رکھنا) نددار سوشل میڈیا کا پروپیگنڈا اور ریٹنگ کی دوڑ میں اندھا دھند دوڑتے میڈیا کی دانستہ بند آنکھوں نے عورتوں کے عالمی دن پر عورت مارچ کو اتنا اچھالا اور موضوع بنایا کہ اب یہ مذہبی ، لبرل اور درمیانے درجے کے ذہن رکھنے والوں میں ضد اور چڑ بن گیا۔ 2018 میں کراچی سے ایک این جی او ” ہم عورتیں” نے اس مارچ کا آغاز کیا تھا۔ تحریر کا رنگ اصل میں قاری کا مزاج تو پرکھتا ہی ہے لیکن لکھاری کو جس امتحان میں ڈالتا ہے وہ بھی عجیب ہے۔ بات کو سمجھانا بھی کے اور قارئین کے معیار، استعداد ذہنی و مذہبی رجحان بھی دیکھنے اپنے آپ کو غیر جانبدار رکھنا ایسا ہی ہے جیسے 100 گز کے 20 فٹ بلند رسے پر ہاتھ میں گیند پکڑ کر چلنا۔ سازش، عالمی ادارے، خواتین کی سمت کا غلط تعین اس طرف قلم چلے گا تو دلائل کی کمزور سڑک قلم کی افادیت کو ختم کر دے گی۔ بس تاریخ اور اعداد و شمار کی پکڈنڈی سے محفوظ راہ لیتے ہیں۔ قران کریم کی چوتھی سورۃ (النساء) میں وراثت کے جو اصول وضع ہیں۔ ان کے مطابق والد کی وراثت سے بیٹی کا حصہ دیکھیں ۔ترجمہ :اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں حکم دیتا ہے، بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں کے برابر ہے پھر اگر صرف لڑکیاں ہوں اگرچہ دو سے اوپر تو ان کے لئے ترکے کا دو تہائی حصہ ہوگا اور اگر ایک لڑکی ہو تو اس کے لئے آدھا حصہ ہے( کنزالعرفان) یہی بیٹی بیوی بنتی ہے تو خاوند کی جائیداد میں اللہ حصہ مقرر کر رہے ہیں” اور وہ تمہارے ترکہ میں سے چوتھائی کی حقدار ہوں گی اگر تم بے اولاد ہو، ورنہ صاحبِ اولاد ہونے کی صورت میں ان کا حصہ آٹھواں ہو گا۔ بعد اس کے کہ جو وصیت تم نے کی ہو وہ پوری کر دی جائے اور جو قرض تم نے چھوڑا ہو وہ ادا کر دیا جائے۔اور اگر وہ مرد یا عورت (جس کی میراث تقسیم طلب ہو) بے اولاد بھی ہو اور اس کے ماں باپ بھی زندہ نہ ہوں ، مگر اس کا بھائی یا ایک بہن موجود ہو تو بھائی اور بہن ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا، اور بھائی بہن ایک سے زیادہ ہوں تو کل ترکہ کے ایک تہائی میں وہ سب شریک ہوں گے، جبکہ وصیت جو کی گئی ہو پوری کر دی جائے، اور قرض جو میّت نے چھوڑا ہو ادا کر دیا جائے، بشرطیکہ وہ ضرر رساں نہ ہو۔ یہ حکم ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ دانا و بینا اور نرم خو ہے۔ النساء -12

    عورت کو بیٹی، بہن اور بیوی کے روپ میں اللہ تعالیٰ نے جن حقوق سے نوازا ہے۔اس میں جائیداد کا حصہ کم کہنے والوں کو پہلے مطالعہ کرنا پھر بولنا چاہیے۔ مرد شادی کرتا ہے تو اپنی جائیداد میں بھی عورت کو حصہ دیتا ہے۔ بیٹی کا باپ اپنی جائیداد سے حصہ دیتا ہے اور بہن کا بھائی اگر بے اولاد ہو تو اس شخص کا ورثہ ایک لاکھ روپیہ ہے اور وارثوں میں ایک بیوی اور باپ کی طرف سے ایک بھائی اور ایک بہن ہیں تو بیوی کو چوتھائی حصہ یعنی 25000 روپے ملیں گے اور پھر بچے ہوئے 75000 روپوں کے تین حصے ہوں گے۔ بھائی کو دو حصے یعنی 50000 اور بہن کو ایک حصہ یعنی 25000 روپے ملیں گے ۔ سڑکوں پر نکلنے والے لبرل مکتبہ فکر کو دعوتِ مطالعہ و تحقیق ہے ۔ بنتا تو مردوں کا احتجاج ہے جو ہر روپ میں عورت کو جائیداد میں شامل کر رہے صبح سے رات تک کام، گھر کے اخراجات پر اضافی محنت، ادھار لینے بیوی کے میکے تک میں مصروفیات کا وقت نکالنا۔ باہر کے حالات خود پر جھیل کر گھر کا ماحول خوشگوار رکھنا پھر یہ بھی سننا کہ اپنے موزے خود دھو لو، اپنا کھانا خود گرم کرو، میرا جسم میری مرضی۔ پہلی بات کہ موزہ ہو یا کچھ بھی گھر میں کام عورت اس لیے کرتی کہ وہ اس گھر کی مالکہ ہوتی مرد جب باہر حالات کے تھپیڑوں کی ذد میں ہوتا تو ایک بند مکان میں فکر معاش سے آزاد محفوظ خاتون کھانا بنانا، گھر کی دیکھ بھال نہیں کرے گی تو پورا دن کیا کرے گی؟ اب چونکہ تحریر کے دشت میں سیاحی کی دہائی مکمل کیے بیٹھے لہذا بھانپ لیتے کہ اعتراض ہونے نہیں لگا ہو چکا ہے کہ ملازمت پیشہ خواتین کیوں گھر سنبھالیں؟ تو جواب شکوہ ملازمت میں ہم نے بھی اوائل 2011 سے کرایہ پر رہ کر حصول علم کے لیے سفر بھی کیا روز، پڑھا، نوکری کی گھر کا کام کپڑے دھونا وغیرہ سالن بنانے تک کیا دو تین دوست تھے مل کر سب کام مکمل لہذا ملازمت پیشہ خواتین کی اکثریت نے پہلے ہی ملازم بعوض تنخواہ رکھے ہوتے یا پھر مشترکہ خاندان میں رہنے سے کام کی تقسیم دوسروں میں ہو جاتی ایک مرد اور عورت کے الگ رہنے پر مرد اکثر کام میں مدد کرتے اور اس میں کوئی عار نہیں۔ جو بیوی ماں، باپ بہن بھائی چھوڑ کر خاوند کو سب کچھ مانے ہوئے اس کی دل جوئی اور ہر ممکن سہولت خاوند کی ذمہ داری ہے۔

    واپس عورت مارچ پر چلتے ہیں ان کے نعرے بہت دلفریب ہوتے لیکن عورتوں کو مردوں کے برابر حقوق مانگنے والی خواتین سے احتراماً عرض ہے کہ ہم تو گاڑی میں بیٹھنے کی جگہ چھوڑ دیتے قطار میں خواتین کو آگے بھیج دیتے سر راہ کسی خاتون سے کوئی حادثہ یا غیرمعمولی صورتحال پر قریب موجود مرد سب سے پہلے اس کے سر اور جسم پے چادر ڈالتے۔ آپ نے مردوں کے برابر حقوق لے کر کیوں الٹا گئیر لگانا ہے۔ جب عورت کو دیکھ کر ہم مرد نگاہ جھکا لیتے بڑے سے بڑا تنازعہ ایک بیٹی بہن کے سامنے آنے پر حل ہوجاتا اور زندگی موت کا مسئلہ بنا کر کسی معاملے میں ایک دوسرے کی جان کے درپے فریقین بھی خواتین کی موجودگی میں انا پس پشت ڈال کر سر جھکا دیتے تو کیوں عورتوں کو عورت مارچ کرنے کی ضرورت ہے۔ آج بھی کسی ماں کے سفید بال کسی بہن کے آنسو اور پھیلا دوپٹا دیکھ کر کسی مقتول کے ورثا جب خود روتے ہوئے قاتل کو معاف کرتے اور عورت کا تقدس وہ کروا دیتا جو قابل سے قابل وکیل نہ کرسکا تو کیوں عورت مارچ کرنا۔

    فارسی کا ایک محاورہ ہے کہ( ترجمہ) بھرا ہو پیٹ فارسی بولتا ہے۔ بڑے شہروں کی بظاہر الٹرا ماڈرن اور مغرب کے فلسفے سے متاثر ایلیٹ کلاس کی ایک اقلیت کے پیچھے چلنے سے پہلے رکیں، سوچیں، پڑھیں، تحقیق کریں اکثر سانپ بھی خوشنما ہوتا اور نادان بچے چلتا انگارہ کھلونا سمجھ کر پکڑ لیتے۔
    اختتام پر ضروری اعلان۔ ریپ کیسز، مردوں کی جانب سے عورتوں پر تشدد اور دیگر تمام منفی حوالے میرے بھی ذہن میں ہیں اس تحریر پر اعتراض کرنے سے پہلے جو کچھ لکھا ہے اس پر دوبارہ سوچیں اگر تو وہ درست ہے تو یہ مسائل ہم نے ہی حل کرنے ہر ایک خود کو درست کر لے معاشرہ خود ہی درست اور اگر میری بات غلط ہے تو اصلاح کے لیے مرتے دم تک تیار۔۔۔۔۔
    خواتین کے تحفظ اور حقوق کی بلا رکاوٹ ادائیگی کے لیے ہر مثبت کام کی حوصلہ افزائی ضروری ہے لیکن عورت مارچ کے مخصوص نعروں اور پہلے سے طے مقاصد کے تحت عورت کو بے وقعت کرنا دیکھ کر خاموش رہنا جرم ہے

  • عورت کا مقام، اسلام اور دیگر مذاہب کی روشنی میں

    عورت کا مقام، اسلام اور دیگر مذاہب کی روشنی میں

    عورت کا مقام، اسلام اور دیگر مذاہب کی روشنی میں
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفےٰ بڈانی
    8 مارچ خواتین کے حقوق کا عالمی دن ہے، جو دنیا بھر میں صنفی مساوات اور خواتین کے حقوق کے لیے جدوجہد کی علامت ہے۔ اس دن خواتین کی سیاسی، سماجی، اقتصادی اور ثقافتی کامیابیوں کو سراہا جاتا ہے اور ان کے خلاف امتیازی سلوک اور تشدد کے خاتمے پر زور دیا جاتا ہے۔ 20 ویں صدی کے اوائل میں مزدور تحریکوں سے شروع ہونے والا یہ دن 1975 میں اقوام متحدہ کی طرف سے تسلیم کیا گیا اور اب دنیا بھر میں خواتین کی تعلیم، صحت اور معاشی خودمختاری کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ پاکستان میں بھی یہ دن جوش و خروش سے منایا جاتا ہے، جہاں خواتین اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرتی ہیں اور صنفی مساوات کے حصول کے لیے جدوجہد کا عزم کرتی ہیں۔

    خواتین کے حقوق ہر مذہب اور معاشرت میں ایک اہم اور حساس موضوع رہا ہے۔ ہر مذہب نے خواتین کی حیثیت، ان کے حقوق اور فرائض کے متعلق مخصوص نظریات اور قوانین پیش کیے ہیں۔ بعض معاشروں میں خواتین کو مکمل برابری حاصل رہی، جبکہ کئی مذاہب میں انہیں مرد کے تابع رکھا گیا۔ اسلام نے خواتین کو جو حقوق دیے، وہ نہ صرف اپنے وقت کے لحاظ سے انقلابی تھے بلکہ آج بھی خواتین کے تحفظ اور مساوات کے لیے ایک جامع ضابطہ فراہم کرتے ہیں۔ اس مضمون میں اسلام اور دیگر مذاہب میں خواتین کے حقوق کا تقابلی جائزہ لیا جائے گا تاکہ واضح ہو سکے کہ خواتین کو کہاں زیادہ تحفظ، عزت اور برابری حاصل ہوئی۔

    اسلام نے ساتویں صدی عیسوی میں خواتین کو وہ حقوق عطا کیے جو اس سے قبل کسی بھی سماج یا تہذیب میں نہیں دیے گئے تھے۔ اسلام سے پہلے خواتین کو نہ تو وراثت میں حصہ ملتا تھا اور نہ ہی انہیں سماجی برابری حاصل تھی۔ لیکن اسلام نے انہیں ایک مکمل انسان اور مرد کے برابر قرار دیا۔ تعلیم کو بنیادی حق قرار دیا گیا اور خواتین کو اس حق سے محروم نہیں رکھا گیا۔ حدیث مبارکہ میں واضح الفاظ میں فرمایا گیا ہے کہ "علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔” یہ تعلیم صرف دینی علم تک محدود نہیں بلکہ دنیاوی تعلیم بھی شامل ہے تاکہ خواتین اپنی ذاتی، سماجی اور معاشی زندگی بہتر بنا سکیں۔

    قبل از اسلام خواتین کو جائیداد رکھنے اور وراثت میں حصہ لینے کا کوئی حق حاصل نہیں تھا لیکن اسلام نے اس غیر منصفانہ روایت کو ختم کر دیا۔ قرآن مجید میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ "مردوں کے لیے اس مال میں حصہ ہے جو والدین اور قریبی رشتہ دار چھوڑ جائیں اور عورتوں کے لیے بھی اس مال میں حصہ ہے جو والدین اور قریبی رشتہ دار چھوڑ جائیں، خواہ وہ مال کم ہو یا زیادہ، یہ حصہ اللہ کی طرف سے مقرر ہے۔” (النساء:7)۔ یہ اصول دنیا کے کسی اور مذہب میں اس طرح نہیں پایا جاتا جہاں خواتین کو وراثت میں اتنا واضح اور یقینی حق دیا گیا ہو۔

    اسلام میں نکاح عورت کی مرضی کے بغیر جائز نہیں اور اسے خلع لینے کا بھی مکمل اختیار دیا گیا ہے۔ اگر کوئی عورت اپنے شوہر کے ساتھ زندگی گزارنے سے مطمئن نہیں ہے تو اسے شرعی بنیادوں پر طلاق لینے کا حق حاصل ہے۔ یہ حق عیسائیت اور ہندو مت میں بہت محدود رہا ہے، جہاں خواتین کو شوہر کی مرضی کے بغیر نکاح ختم کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی تھی۔

    عیسائیت میں خواتین کو مذہبی قیادت کا مکمل اختیار نہیں دیا گیا۔ آج بھی کیتھولک چرچ میں خواتین کو پوپ یا کارڈینل بننے کی اجازت نہیں ہے، جبکہ اسلام میں حضرت عائشہؓ سمیت کئی خواتین نے مذہبی فتوے جاری کیے اور علمی میدان میں نمایاں کردار ادا کیا.اسلام نے خواتین کی عزت اور وقار کو یقینی بنانے کے لیے واضح احکامات دیے ہیں۔ قرآن میں حکم دیا گیا کہ اے نبی! اپنی بیویوں، بیٹیوں اور مسلمان عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی چادر سے اپنے آپ کو ڈھانپ لیا کریں، یہ زیادہ مناسب ہے تاکہ وہ پہچان لی جائیں اور ستائی نہ جائیں(سورہ الاحزاب: 59) یہ حکم خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے دیا گیا تاکہ وہ کسی بھی طرح کے استحصال اور ہراسانی سے محفوظ رہیں۔

    عیسائیت میں ابتدا میں خواتین کو مساوی حقوق حاصل نہیں تھے بلکہ انہیں مرد کی خدمت گزار اور تابع تصور کیا جاتا تھا۔ بائبل میں بعض مقامات پر خواتین کو مرد سے کم درجے کا قرار دیا گیا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ ابتدائی عیسائی تعلیمات میں خواتین کو وہ مقام نہیں دیا گیا جو اسلام میں دیا گیا۔ قرونِ وسطیٰ میں کیتھولک چرچ نے خواتین کی تعلیم پر پابندی عائد کر رکھی تھی اور انہیں جائیداد رکھنے کا حق حاصل نہیں تھا۔ صرف نوبل خاندانوں کی خواتین کو بعض حقوق دیے گئے، لیکن عام عورت کے لیے تعلیم اور جائیداد کی ملکیت ایک خواب تھا جبکہ اسلام نے ان دونوں چیزوں کو لازمی قرار دیا۔

    عیسائیت میں عورت کو طلاق کا حق نہیں دیا گیا۔ اگر کوئی عورت ناپسندیدہ شادی میں پھنسی ہوئی ہو، تب بھی وہ اس رشتے کو ختم نہیں کر سکتی، جب تک کہ چرچ کی خصوصی اجازت حاصل نہ ہو، جو کہ بہت مشکل ہوتی ہے۔ اس کے برعکس اسلام میں عورت کو خلع کا اختیار دیا گیا جو کہ اس کا بنیادی حق ہے۔

    ہندو مت میں خواتین کے حقوق صدیوں سے ایک پیچیدہ اور متنازعہ موضوع رہے ہیں۔ ہندو مت میں ایک طویل عرصے تک "ستی” کی رسم موجود رہی، جس میں بیوہ عورت کو شوہر کے مرنے کے بعد زبردستی اس کی چتا کے ساتھ جلا دیا جاتا تھا۔ یہ رسم برطانوی دور میں ختم کی گئی، لیکن اسلام نے ابتدا ہی سے ایسی کسی بھی غیر انسانی رسم کی اجازت نہیں دی۔

    ہندو معاشرے میں خواتین کو وراثت کا مکمل حق حاصل نہیں تھا خاص طور پر بیٹیوں کو اکثر جائیداد سے محروم رکھا جاتا تھا۔ اس کے برعکس اسلام نے خواتین کو وراثت میں مقررہ حصہ دیا، چاہے وہ بیٹی ہو، ماں ہو، بہن ہو یا بیوی۔ ہندو مت میں خواتین کے دوبارہ شادی کرنے پر سخت پابندیاں رہی ہیں جبکہ اسلام میں بیوہ یا مطلقہ عورت کو دوبارہ شادی کرنے کی مکمل اجازت دی گئی ہے۔

    یہودیت میں بھی خواتین کو محدود حقوق دیے گئے ہیں۔ انہیں مذہبی عبادات میں مردوں کے برابر شرکت کی اجازت نہیں ہے اور وراثت میں ان کا حق بہت محدود ہے۔ اسی طرح بدھ مت میں خواتین کو نجات (نروان) حاصل کرنے کے لیے مردوں کے تابع رہنا پڑتا ہے جبکہ اسلام میں خواتین کو مساوی روحانی حقوق حاصل ہیں۔

    اسلام نے خواتین کو دنیا کے کسی بھی دوسرے مذہب سے کہیں زیادہ حقوق عطا کیے ہیں، جو کسی دوسرے مذہب میں موجود نہیں ہیں۔ اسلام سے پہلے، خواتین کو معاشرے میں کوئی خاص مقام حاصل نہیں تھالیکن اسلام نے انہیں ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کی حیثیت سے عزت اور احترام کا مقام دیا۔ اسلام نے خواتین کو تعلیم، وراثت، اور جائیداد میں حق دیا، اور انہیں اپنی مرضی سے شادی کرنے کا حق بھی دیا۔

    اس سب کے باوجود مغربی ذرائع ابلاغ اکثر یہ پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ اسلام میں خواتین کو برابر کے حقوق حاصل نہیں ہیں۔ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، جن میں غلط فہمی، ثقافتی اختلافات، سیاسی مقاصد اور میڈیا کا کردار شامل ہیں۔ یہ ضروری ہے کہ ہم اسلام کے حقیقی پیغام کو سمجھیں اور خواتین کے حقوق کے بارے میں غلط فہمیوں کو دور کریں۔ اسلام نے خواتین کو جو حقوق عطا کیے ہیں وہ کسی بھی دوسرے مذہب سے کہیں زیادہ ہیں۔ ہمیں ان حقوق کو نافذ کرنے اور خواتین کو معاشرے میں برابر کا مقام دلانے کے لیے کام کرنا چاہیے۔

    مندرجہ بالا تقابلی جائزے سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام نے خواتین کو سب سے زیادہ عزت، حقوق اور تحفظ دیا۔ جہاں دیگر مذاہب میں خواتین کو محدود مواقع اور حقوق دیے گئے وہیں اسلام نے انہیں مکمل سماجی، معاشی، ازدواجی، تعلیمی اور قانونی حقوق عطا کیے۔ اسلام نے خواتین کی عزت کو لازم قرار دیا اور انہیں مساوی حقوق دیے جو آج بھی دنیا کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔

  • کتاب، بارش اور پلاؤ،لفظوں میں بسی ایک شام.تحریر:رضوانہ چغتائی

    کتاب، بارش اور پلاؤ،لفظوں میں بسی ایک شام.تحریر:رضوانہ چغتائی

    باہر سنبل کے درخت کی شاخیں بوجھل ہو رہی ہیں، .. بارش کی نرم بوندیں کھڑکی کی جالی سے چھن کر اندر آ رہی ہیں، ہلکی سی ٹھنڈک بھی ہوا میں گھلی گھلی سی ہے۔۔۔۔ سنبل کے درخت پر بارش کا پانی موتیوں کی طرح چمک رہا ہے، مٹی کی سوندھی خوشبو جیسے پورے ماحول کو اپنے سحر میں جکڑ چکی ہے۔…
    میں کھڑکی کے پاس بیٹھی ہوں, گلابی سنبل کے پھول بارش میں بھیگ کر اور زیادہ نکھر گئے ہیں۔۔۔کہنی کھڑکی کی لکڑی پر ٹکاتی ہوں اور ریشم کے پھول بغور دیکھتی ہوں۔۔۔ سبحان اللہ۔۔۔اس قدر خوبصورت۔۔۔ سوال ابھرتا ہے ذہن میں کیا واقعی ان سے ریشم نکلتی ہے۔۔۔۔ کیسے۔۔۔۔، دل جواب دیتا ہے ، اللہ کے حکم سے۔۔۔ جیسے اللہ رات میں سے دن کو طلوع کرتے ہیں ،ویسے ان میں سے ریشم بھی بنانے پر قادر ہیں۔۔۔۔میرے سامنے کی سڑک پانی میں بھیگی ہے۔۔۔۔ تارکول کی سیاہ سڑک پہ نگاہیں جمائے دوبارہ سوچتی ہوں شاید دور کسی گھر کی کھڑکی سے بھی ایک اور روح شاید اسی منظر کو دیکھ رہی ہو، اپنے انداز میں، اپنے خیالات میں۔۔۔۔ محبت کے کئی اور رنگ اوڑھ رکھے ہوں شاید۔۔۔۔۔

    میرے سامنے پلاؤ کی ایک پلیٹ رکھی ہے، گرم چاولوں سے اٹھتی بھاپ میں زیرہ، دارچینی اور لونگ کی خوشبو ملی ہوئی ہے۔ ایک نوالہ لیتے ہی زبان پر نمکین سا ذائقہ بکھر جاتا ہے، اور دل بےاختیار کہتا ہے۔۔۔۔الحمدللہ! کیسا کرم ہے رب کا کہ زمین سے پیدا ہونے والے دانے یوں ذائقہ، خوشبو اور تسکین میں ڈھل جاتے ہیں۔

    بارش کے موسم میں پلاؤ کا مزہ کچھ اور ہی ہوتا ہے، خاص طور پر جب ہر نوالے کے ساتھ باہر کا بھیگا منظر اور اندر کی خاموشی ایک ساتھ محسوس ہو۔ لیکن اس پورے منظر میں جو سب سے قیمتی چیز ہے، وہ میرے ہاتھ میں کھلی کتاب ہے۔۔۔۔

    کوئی بھی کتاب صرف صفحات کا مجموعہ نہیں ہوتی، بلکہ ایک ایسی دنیا ہوتی ہے جہاں لفظ زندہ ہیں، جہاں کہانیاں سانس لیتی ہیں، اور جہاں حقیقت اور تخیل کے درمیان کی سرحد مدھم ہو جاتی ہے۔ میں جیسے جیسے ورق پلٹتی ہوں، لفظ میرے اندر اترتے جاتے ہیں، میرے خیالات میں، میری روح میں، میرے وجود میں۔۔۔۔کبھی کسی جملے پر دل ٹھہر جاتا ہے، کبھی کسی کہانی میں خود کو پا لیتی ہوں، اور کبھی کوئی لفظ مجھے وہ جواب دے دیتا ہے جس کی تلاش میں جانے کب سے تھی۔۔۔۔۔ یا شاید کتاب مجھے تلاش کرتے کرتے مجھ تک پہنچ جاتی ہے۔۔۔ یا ہم میں سے ہر کسی کے پاس اس کے نصیب کے لفظ پہنچ جاتے ہیں ۔۔۔۔ راستہ دکھانے ۔۔۔ ہے نا

    کتابیں صرف پڑھنے کے لیے نہیں ہوتیں، یہ وہ روشنی ہوتی ہیں جو زندگی کے اندھیروں میں راستہ دکھاتی ہیں۔ یہ وہ خاموش دوست ہوتی ہیں جو بغیر کسی صدا کے بولتی ہیں، بغیر کسی شرط کے ساتھ دیتی ہیں، اور بغیر کسی رشتے کے زندگی کا حصہ بن جاتی ہیں۔

    الحمدللہ! کیسے خوبصورت ہیں یہ لفظ، کیسی سائبان ہیں یہ کہانیاں، اور کیسا مہربان ہے وہ رب، جس نے لفظوں میں بھی روشنی رکھ دی۔۔۔۔ یہ لمحات ، یہ تصویر کہیں میرے اندر جذب ہو گئی ہے،ایسا لگا ہے جیسے کہ وقت نے میرے لئے کچھ دیر کے لیے اپنی رفتار سست کر دی ہو۔ باہر موسم شاعری جیسا ہے، اور اندر دل کسی ان کہی کہانی کے سحر میں گرفتار، کتاب کی گفتگو، اور میرے اردگرد اللہ کی بےشمار نعمتیں— مٹی کی سوندھی خوشبو اور پلاؤ کا ذائقہ ۔۔۔۔ الحمدللہ ، ثم الحمدللہ۔۔۔۔!!!!
    دل بے اختیار سرگوشی کر رہا ہےنا۔۔۔۔
    فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
    (پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟)
    بقلم خود: رضوانہ چغتائی

  • پاکستانی فضا میں اپنائیت،احوال ادبی محفل کا،تحریر : سیدہ عطرت بتول نقوی

    پاکستانی فضا میں اپنائیت،احوال ادبی محفل کا،تحریر : سیدہ عطرت بتول نقوی

    کل رم جھم برستی بارش اور لاہور کے خوبصورت خنک موسم میں فرح ہاشمی کے آ رٹسٹک گھر میں شاندار نشست ہوئی ، فرح ہاشمی صاحبہ نے آ ئرلینڈ سے آ ئیں مصنفہ ڈاکٹر سیمیں رخ کے اعزاز میں اس نشست کا اہتمام کیا تھا فرح ہاشمی کے گھر کی شاندار ڈیکوریشن اینٹکس ، سٹڈی روم گھر کا ہر گوشہ انتہائی آ رٹسٹک طریقے سے ڈیکور کیا گیا تھا اور فرح کے اعلیٰ زوق کا آ ئینہ دار تھا سب نے بہت تعریف کی اور ڈرائینگ روم میں موجود چرخے نے تو سب کا دل موہ لیا وہ چرخہ جو سنا تھا چاند پر موجود ہے اور بڑھیا صدیوں سے کات رہی ہے چرخے کے علاوہ اور بھی ثقافتی اشیا لالیٹن ، حقہ ، ہاتھ سے بنے پنکھے ، ڈیکوریشن کے علاوہ کھانے کی میز پر بھی فرح کا سلیقہ نظر آ رہا تھا تمام چیزیں گھر کی بنی اور مزیدار تھیں ، فرح نے عمدہ میزبانی کی ہر چیز خود پیش کرتی رہیں ، کباب ، سموسے ، دہی بڑے ، پاسٹا ، پکوڑے ، سویٹ ڈش ، گھر کی بنی ہر چیز مزیدار تھی ، کھا نے کے بعد محفل شعر وسخن ہوئی سب نے اپنا کلام سنایا مارچ میں یوم خواتین کے حوالے سے عمدہ شاعری سننے کو ملی.

    ڈاکٹر سیمیں رخ نے اپنی کتب ،، باد مسموم ،، زرد پتوں کی بارش ،، اور ،، ایک تھی ستارہ،، سب کو پیش کیں ، ڈاکٹر سیمیں رخ آ ئر لینڈ میں مقیم ہیں پریکٹسنگ ڈاکٹر ہیں آ جکل پاکستان آ ئی ہوئی ہیں پاکستانی اہل قلم خواتین سے ملکر خوش تھیں انہوں نے بتایا کہ اگرچہ پاکستان میں پلوشن اور ٹریفک کے مسائل ہیں لیکن اپنے ملک کی فضاؤں میں اپنائیت ہے انہیں اپنی پذیرائی اچھی لگ رہی ہے

    اس نشست میں ہمارے علاوہ کنول بہزاد ، شاہین زیدی اور شاعرہ شاہدہ مجید نے شرکت کی ، بہت خوبصورت شام تھی رات گئے تک یہ محفل جمی رہی ، ڈاکٹر سیمیں رخ چند دنوں بعد آ ئیرلینڈ سدھار جائیں گی ، اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اگلی بار وہ آ ئیں تو پاکستان کے مسائل ختم ہو چکے ہوں اور ٹریفک اور پلوشن کے حوالے سے ہمارا معاشرہ بھی اسی طرح منظم ہوجائے جیسا کہ انہوں نے بتایا آ ئیر لینڈ میں ہے –

  • نمرہ ملک،فخر تلہ گنگ، صحافت میں ایک قابل فخر نام

    نمرہ ملک،فخر تلہ گنگ، صحافت میں ایک قابل فخر نام

    صحافت ایک ایسا مقدس پیشہ ہے جس کی اہمیت اور اثرات معاشرتی ترقی میں بے شمار ہیں۔ یہ پیشہ ایک ایسی ذمہ داری ہے جس میں صرف سچائی، ایمانداری، اور محنت کی بنیاد پر کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔ تاہم، یہ بات بھی حقیقت ہے کہ صحافت کے میدان میں قدم رکھنا ہر کسی کے لیے آسان نہیں۔ خصوصاً ایک خاتون کے لیے اس میدان میں جگہ بنانا اور اپنے لیے ایک معتبر مقام پیدا کرنا اور بھی زیادہ چیلنجنگ ہو سکتا ہے۔ایسی ہی ایک جرات مندانہ مثال نمرہ ملک کی ہے، جو تلہ گنگ سے تعلق رکھتی ہیں۔ نمرہ ملک نے نہ صرف صحافت کے میدان میں قدم رکھا بلکہ اس میدان میں اپنی محنت، لگن اور قابل رشک کامیابیوں کے ذریعے نہ صرف اپنا نام بنایا بلکہ اپنے علاقے کا بھی نام روشن کیا۔
    nimra malik talagang

    نمرہ ملک کا صحافت سے تعلق کئی برسوں پر محیط ہے، اور ان کی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز بہت محنت سے ہوا۔ انہوں نے کئی اہم اخبارات اور میڈیا اداروں سے وابستہ رہ کر صحافت کے اصولوں کو سیکھا اور اپنے کام میں بہترین مہارت حاصل کی۔ ان کی تحریریں نہ صرف پڑھنے والوں کو معلومات فراہم کرتی ہیں بلکہ ان کے دلوں تک پہنچ کر انہیں متحرک بھی کرتی ہیں۔
    nimra malik talagang
    نمرہ ملک نہ صرف صحافت کی دنیا میں بلکہ ادب کی دنیا میں بھی ایک نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ وہ کئی کتابوں کی مصنفہ ہیں، جن میں مختلف موضوعات پر قلم اٹھایا گیا ہے۔ ان کی تحریریں اپنے اندر ایک منفرد زاویہ اور گہرا پیغام رکھتی ہیں، جو نہ صرف قارئین کو سوچنے پر مجبور کرتی ہیں بلکہ انہیں دنیا کو ایک نیا نقطہ نظر بھی فراہم کرتی ہیں۔نمرہ ملک نے اپنی محنت اور لگن کے ذریعے صحافت میں بے شمار ایوارڈز جیتے ہیں۔ ان کے نام نو سو سے زائد ایوارڈز ہیں، جو ان کی محنت اور پیشہ ورانہ قابلیت کا غماز ہیں۔ یہ اعزازات ان کی جدو جہد اور کمیونٹی میں ان کی خدمات کو تسلیم کرنے کا واضح اظہار ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تلہ گنگ کے کسی بھی "مرد صحافی” کو اتنی عزت نہیں ملی جو نمرہ ملک نے حاصل کی ہے۔
    nimra malik talagang

    نمرہ ملک کی کامیابی صرف ان کی محنت کا نتیجہ نہیں بلکہ ان کی مستقل مزاجی، لگن، اور جرات کا بھی منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے صحافت کے میدان میں قدم رکھتے وقت جہاں ایک طرف خواتین کے لیے اس میدان میں اپنے آپ کو ثابت کرنا ایک بڑا چیلنج تھا، وہیں دوسری طرف انہوں نے اپنے کام کے ذریعے ثابت کیا کہ اگر انسان میں عزم و ہمت ہو تو کوئی بھی مشکل راستہ رکاوٹ نہیں بن سکتا۔نمرہ ملک کی کہانی ایک ایسی کامیاب خاتون کی کہانی ہے جس نے نہ صرف اپنے علاقے کا نام روشن کیا بلکہ صحافت کے میدان میں عورتوں کے لیے نئی راہیں کھولیں۔ ان کی کامیابی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اگر انسان اپنی محنت، ایمانداری اور لگن کے ساتھ کسی بھی شعبے میں قدم رکھے، تو وہ نہ صرف اپنے خوابوں کو حقیقت بنا سکتا ہے بلکہ اپنے معاشرتی دائرے میں بھی ایک تبدیلی لا سکتا ہے۔نمرہ ملک کی کامیابی نہ صرف ان کی ذاتی جدو جہد کی نشاندہی کرتی ہے بلکہ یہ ایک پیغام بھی ہے کہ کامیابی کا کوئی واحد راستہ نہیں ہوتا، اور محنت اور عزم کے ساتھ اپنی راہ بنانے کا جذبہ کبھی ناکام نہیں جاتا۔
    نمرہ ملک کے لیے ڈھیروں دعائیں۔۔۔۔
    nimra malik talagang

    nimra malik talagang

    nimra malik talagang

    نمرہ ملک کا مختصر تعارف،نمرہ ہی کی زبانی
    پروفیسر نمرہ ملک پرائڈ آف پرفارمنس مصنفہ ادیبہ
    ماسٹرز ان اردو،ماس کمیونکیشنز۔بی ایڈ ،میڈیکل
    مختلف زبانوں میں انٹرپریٹر ہوں۔
    مبصرہ ناولسٹ
    افسانہ نگار
    کالم نگار(میرے کالمز پہ سوموٹو ہو چکے ہیں۔)
    کمپیئر
    اینکر پرسن
    سفر نامہ نگار
    صحافی
    چیئرپرسن ضلع پریس کلب تلہ گنگ
    ضلع چکوال کی پہلی ورکنگ جرنلسٹ۔۔۔۔نیشنل جرنلسٹ
    مختلف قومی چینلز اور اداروں کے ساتھ جرنلزم کا اعزاز حاصل ہے
    قومی،صوبائی اور علاقائی ایوارڈز یافتہ
    حالیہ ملٹی لیگنوہجز نظمیہ کتاب "کہیں تھل میں سسی روتی ہے”کو گینز بک آف دی ورلڈ ریکارڈ کے لیے منتخب کیا جاچکا ہے جب کہ ملک بھر میں اس پہ چار گولڈ میڈلز،اٹھارہ پزیرائیاں اور سترہ شیلڈز مل چکی ہیں۔
    "شاہ سائیں” ناول کو پاکستان کا 2020 کا بیسٹ رائٹر ایوارڈ مل چکا ہے۔
    پنجابی مجموعہ "مہنڈی روح دے یوسف بولیں ناں”کو پنجاب گورنمنٹ کی جانب سے باقاعدہ سراہا جا چکا ہے۔
    پندرہ کتب کی مصنفہ ہوں۔
    میری پانچ مختلف زبانوں میں کتب آچکی ہیں
    پندرہ زبانوں میں شاعری کا اعزاز حاصل ہے
    انٹرنیشنل حجاب ایوارڈ یافتہ ہوں
    ریڈیو ،ٹی وی اور مختلف چینلز سے لاتعداد شیلڈز،ایوارڈز اور سرٹیفیکیٹس مل چکے ہیں جن کی تعداد آٹھ سو سے زائد ہے
    کئی ادبی،و سماجی تنظیموں سے وابستگی ہے۔
    میرا سب سے بڑا تعارف یہ ہے کہ میں آن لائن تفسیر پڑھاتی ہوں اور حافظہ کے ساتھ عالمہ بھی ہوں۔الحمدللہ

    ضلع تلہ گنگ کی پہلی خاتون صحافی ہوں۔پانچ مختلف زبانوں میں لکھتی ہوں۔پندرہ مختلف زبانوں کواپنی شاعری کا حصہ بنایا۔ادب اطفال کی جانب سے متعدد بار ایوارڈز مل چکے ہیں۔بچوں کے رسالے "پھول” میں پہلی کہانی شائع ہوئی تھی۔
    nimra malik talagang
    میری کتابوں کی تفصیل ۔
    مہنڈی روح دے یوسف۔(پنجابی شاعری)
    شاہ سائیں(ناول)
    دریچہ (کالمز)
    کہیں تھل میں سسی روتی ہے(ملٹی لینگویجز نظمیں)
    بہ نوکِ خار می رقصم(فارسی کلام)
    مرحبا یا سیدی(عربی کلام)
    کتاب زیست(ناول)
    عشق کی تال تا تھیا!!(ناول)
    آؤ خواب خواب کھیلیں(اردو غزل)
    ah my dreams!!(انگلش )
    مائے نی (پنجابی ماہیا،)
    6.(افسانے)
    مرشد خانہ (سفر نامہ)
    میں کملی دا ڈھولا(اردو ،پنجابی ناولٹ،افسانے)
    پیمانہ بدہ(فارسی کلام)

    من محرم کہ رب محرم(ناول۔۔۔زیرتکمیل)
    جیا عالم ہے (زیر تکمیل مجموعہ افسانے)
    (نمرہ ملک)

  • والدین کی اہمیت،تحریر:   ریحانہ صبغتہ اللّٰہ

    والدین کی اہمیت،تحریر: ریحانہ صبغتہ اللّٰہ

    ایک آدمی کی بیوی چالیس سال کی عمر میں انتقال کر گئی۔ جب اس کے دوستوں اور رشتہ داروں نے دوسری شادی کا مشورہ دیا تو اس نے جواب دیا کہ اس کی بیوی کا سب سے بڑا تحفہ ایک بیٹے کا ہونا ہے، اور وہ اس کے ساتھ اپنی زندگی گزارے گا۔
    بیٹے کی تربیت
    جب بیٹا بڑا ہوا، تو اس نے اپنے تمام کاروبار کی ذمہ داریاں بیٹے کو سونپ دیں۔ وہ اکثر اپنے دفتر میں یا دوست کے دفتر میں وقت گزارنے لگا۔
    تنہائی کا احساس
    بیٹے کی شادی کے بعد، وہ آدمی زیادہ تنہا محسوس کرنے لگا۔ اس نے اپنے گھر کا مکمل کنٹرول اپنی بہو کے حوالے کر دیا۔
    ایک دن کا واقعہ
    بیٹے کی شادی کے ایک سال بعد، وہ دوپہر کا کھانا کھا رہا تھا جب بیٹا بھی دفتر سے آیا۔ ہاتھ دھو کر کھانے کے لیے تیار ہو رہا تھا۔ بیٹے نے سنا کہ والد نے کھانے کے بعد دہی مانگی، تو بیوی نے جواب دیا کہ آج گھر میں دہی نہیں ہے۔
    کھانا کھانے کے بعد، والد باہر چہل قدمی کے لیے نکل گیا۔ کچھ دیر بعد، بیٹا اپنی بیوی کے ساتھ کھانا کھانے بیٹھ گیا۔ کھانے کے برتن میں دہی موجود تھا، مگر بیٹے نے بغیر کسی ردعمل کے کھانا کھایا اور پھر دفتر چلا گیا۔
    حیرت انگیز خبر
    کچھ دنوں بعد، بیٹے نے اپنے والد سے کہا، "آج آپ کو عدالت جانا ہے اور آپ کی شادی ہو رہی ہے!” والد نے حیرت سے اپنے بیٹے کی طرف دیکھا اور کہا، "بیٹا! مجھے اب شادی کی ضرورت نہیں، اور میں تم سے اتنی محبت کرتا ہوں اور اب تمہیں بھی ماں کی ضرورت نہیں، تو پھر میری دوبارہ شادی کیوں؟”
    حقیقت کا انکشاف
    لڑکے نے جواب دیا، "بابا، میں اپنی ماں کو آپ کے لیے نہیں لا رہا، نہ ہی ایک ساس کو اپنی بیوی کے لیے لا رہا ہوں! میں صرف آپ کے لیے دہی کا انتظام کر رہا ہوں! کل سے میں آپ کی بہو کے ساتھ کرائے کے گھر میں رہوں گا اور آپ کے دفتر میں ایک ملازم کی حیثیت سے کام کروں گا تاکہ آپ کی بہو دہی کی قیمت جان سکے۔”

  • اسلام میں خواتین کے حقوق اور وراثت کا نظام.تحریر: حنا سرور

    اسلام میں خواتین کے حقوق اور وراثت کا نظام.تحریر: حنا سرور

    اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسانیت کی فلاح اور حقوق کے تحفظ کے لیے آیا۔ اس میں خواتین کے حقوق کو بہت اہمیت دی گئی ہے، اور انہی حقوق میں سے ایک اہم حق وراثت کا ہے۔ دنیا کے تمام مذاہب میں یہ مسئلہ ہمیشہ ایک حساس موضوع رہا ہے، لیکن اسلام نے بیٹیوں کو وراثت میں حصہ دینے کا حکم دیا، جو اس سے پہلے کسی بھی مذہب میں نہیں تھا۔اسلام نے بیٹیوں کو وراثت میں حصہ دینے کا حکم دے کر ایک نیا باب رقم کیا۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:”مرد اور عورت کے درمیان جو بھی تقسیم ہے، وہ اللہ کی طرف سے ہے اور جو کچھ بھی تم پر فرض کیا گیا ہے، وہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔” (القرآن)

    اللہ کی یہ ہدایت واضح کرتی ہے کہ عورت اور مرد دونوں کو وراثت میں حصہ ملے گا، تاہم ان کے حصوں میں فرق ہوگا، جو کہ اسلام کی عدل و انصاف پر مبنی تقسیم ہے۔ مثال کے طور پر، اگر ایک مرد اور ایک بیٹی وراثت کے حقدار ہوں، تو مرد کو دو حصے ملیں گے اور بیٹی کو ایک حصہ، یعنی بیٹی کو مرد سے نصف حصہ ملے گا۔جب اسلام نے بیٹیوں کو وراثت میں حصہ دینے کا فیصلہ کیا، تو اس وقت تک دنیا کے بیشتر معاشروں میں بیٹیوں کو وراثت سے محروم رکھا جاتا تھا۔ بہت سے معاشروں میں بیٹیوں کو وراثت میں شریک کرنے کے بجائے انہیں جائیداد سے محروم کر دیا جاتا تھا۔ اسلام نے اس روایتی ظلم کو ختم کیا اور بیٹیوں کو بھی جائیداد میں حصہ دیا، تاکہ انہیں بھی مالی حق ملے۔

    مردوں کا جائیداد بیچنا اور بیٹیوں کو وراثت سے محروم کرنا
    لیکن جب ہم آج کے معاشرتی حالات پر نظر ڈالتے ہیں، تو ہم دیکھتے ہیں کہ بعض مرد اپنی جائیداد بیچتے وقت یا کسی اور صورت میں اس بات کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کی کوئی بہن یا بیٹی نہیں ہے۔ یہ ایک انتہائی افسوسناک صورتحال ہے اور اس سے معاشرتی اور اخلاقی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔”ہماری کوئی بہنیں یا بیٹیاں ہیں ہی نہیں، ہم اکیلے وارث ہیں”، یہ وہ جملے ہیں جو بعض لوگ جائیداد کی تقسیم کے دوران کہہ کر بیٹیوں کے حقوق سے انکار کرتے ہیں۔ اس عمل کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ اسلام میں بیٹیوں کو وراثت میں حصہ دینا فرض ہے، اور اس طرح کے حربے اسلام کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہیں۔

    معاشرے میں ابھی بھی کچھ لوگ اسلام کے اصولوں کو صحیح طریقے سے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے میں پیچھے ہیں۔ اگرچہ اسلام نے بیٹیوں کو وراثت میں حصہ دیا، لیکن اس کے باوجود بعض مردوں کا اس حق سے انکار کرنا یا اسے چھپانا کسی بھی صورت میں جائز نہیں۔ یہ عمل نہ صرف دین کے ساتھ ناانصافی ہے، بلکہ اس سے بیٹیوں کی حیثیت اور ان کے حقوق کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔اس مسئلے کا حل صرف اور صرف تعلیم میں ہے۔ مسلمانوں کو اسلام کی حقیقی تعلیمات کے بارے میں آگاہی حاصل کرنی چاہیے۔ اگر ہر فرد یہ سمجھ لے کہ اسلام نے بیٹیوں کو وراثت میں حصہ دینے کا حکم دیا ہے تو ایسے غیر اسلامی اقدامات کا سدباب کیا جا سکتا ہے۔اس کے علاوہ، اسلامی رہنماؤں اور علماء کو اس بارے میں لوگوں کو آگاہی فراہم کرنی چاہیے کہ وراثت میں بیٹی کا حصہ دینا نہ صرف فرض ہے، بلکہ یہ اسلام کی روحانی اور اخلاقی تعلیمات کے عین مطابق ہے۔بیٹیوں کو وراثت میں حصہ دینا اسلامی تعلیمات کا حصہ ہے، اور یہ کسی بھی طرح سے ان کے حقوق کو نظرانداز کرنے کی کوششوں کو جائز نہیں ٹھہرا سکتا۔ معاشرتی ترقی اور اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اس اصول کو تسلیم کریں اور اس پر عمل پیرا ہوں۔ اس طرح ہم ایک معاشرتی تبدیلی لا سکتے ہیں جہاں بیٹیوں کو ان کے حقوق ملیں اور ہر مسلمان اس عمل کو اپنی زندگی میں اپنائے۔