Baaghi TV

Category: خواتین

  • زندگی، ایک مسلسل سیکھنے کا سفر،تحریر:نور فاطمہ

    زندگی، ایک مسلسل سیکھنے کا سفر،تحریر:نور فاطمہ

    زندگی ایک سفر ہے، اور اس سفر میں ہمیں کئی سوالات، کئی راستے، اور کئی چہرے ملتے ہیں۔ کچھ چہرے مسکراہٹوں کے پیچھے چھپے ہوتے ہیں اور کچھ سوالات خاموشی کے پردوں میں دبے رہتے ہیں۔زندگی ایک مسلسل سیکھنے کا عمل ہے۔ ہم میں سے ہر شخص زندگی میں ایک نہ ایک بار ایسے سوالات کے سامنے ضرور کھڑا ہوتا ہے جن کے جواب آسان نہیں ہوتے۔ اور جب ان کے جوابات ملتے ہیں، تو یا تو بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے یا ہم خود بدل چکے ہوتے ہیں۔

    کچھ سوالات سمجھنے میں بہت دیر لگی
    کون دشمن ہے، کسے دوست سمجھنا ہے یہاں
    ہم کو حالات سمجھنے میں بہت دیر لگی

    یہ اشعار سادہ الفاظ میں ایک پیچیدہ حقیقت کو بیان کرتے ہیں۔ شاعر کا یہ کرب صرف اس کا ذاتی دکھ نہیں بلکہ لاکھوں دلوں کی آواز ہے۔ ہر وہ شخص جو زندگی میں دھوکہ کھا چکا ہو، جو رشتوں کی پہچان میں غلطی کر چکا ہو، اس درد کو محسوس کر سکتا ہے۔یہ اشعار صرف الفاظ نہیں، بلکہ ایک پوری کہانی کا نچوڑ ہیں۔ ایک ایسی کہانی جس میں دھوکہ، بھروسہ، حقیقت اور فریب سب شامل ہیں۔زندگی ہمیں بچپن میں سیدھی لگتی ہے، لیکن جیسے جیسے ہم بڑے ہوتے ہیں، سوالات پیچیدہ ہوتے جاتے ہیں۔ ’’کیا یہ شخص میرا خیرخواہ ہے؟‘‘ ’’کیا جس پر بھروسہ کیا، وہی پیٹھ میں خنجر نہیں گھونپے گا؟‘‘انسانی فطرت بڑی پیچیدہ ہے۔ ہر شخص اپنی ذات کا ایک چہرہ دوسروں کو دکھاتا ہے، اور دوسرا چہرہ چھپائے رکھتا ہے۔ بسا اوقات دشمن وہ نہیں ہوتا جو سامنے آ کر مخالفت کرے، بلکہ وہ ہوتا ہے جو ساتھ چلتا ہے، دعائیں دیتا ہے، مگر دل میں نفرت لیے ہوتا ہے۔ انسانی رشتے سب سے زیادہ دھوکہ دے سکتے ہیں۔ بسا اوقات جو مسکرا کر ملتا ہے، وہی اندر ہی اندر جلن ،حسد رکھتا ہے۔ اور جو سخت بولتا ہے، وہی اصل میں خیرخواہ ہوتا ہے۔

    انسان سیکھتا ہے، مگر سیکھنے کے لیے قیمت چکانی پڑتی ہے۔ کبھی عزت کی صورت میں، کبھی اعتماد کی، کبھی جذبات کی۔ حالات ہمیں گراتے ہیں، توڑتے ہیں، مگر پھر جوڑتے بھی ہیں۔ اور یہی زندگی ہے،جب ہم حالات سے سیکھتے ہیں، تو ہم صرف ہوشیار نہیں ہوتے، بلکہ حقیقت پسند بھی ہو جاتے ہیں۔ ہم جذباتی نہیں، عقلمند بن جاتے ہیں۔ اور اس سیکھنے کا لمحہ چاہے جتنا بھی تکلیف دہ ہو، ہماری شخصیت میں وہ پختگی لے آتا ہے جو برسوں کے مطالعے سے بھی نہیں آتی۔

    دوستی کی پہچان وقت کرتا ہے۔ وہ وقت جو کٹھن ہو، جو آزمائشوں سے بھرپور ہو۔ کیونکہ آسان وقت میں سب ساتھ ہوتے ہیں، مگر جب حالات خراب ہوں، تب ہی اصلی چہرے سامنے آتے ہیں۔کئی بار ہم خود کو صحیح سمجھتے ہیں، مگر حالات ہمیں آئینہ دکھاتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم جانتے ہیں، مگر اصل علم تب آتا ہے جب ہم آزمائش سے گزرتے ہیں۔یہ ایک احساس ہے، پچھتاوے کا، سبق کا، سچ کا۔ لیکن یہی دیر، ہمیں نیا انسان بناتی ہے۔ ہمیں اندر سے مضبوط کرتی ہے۔

    زندگی میں سیکھنا کبھی ختم نہیں ہوتا۔ اور کبھی کبھی سیکھنے میں دیر ہو بھی جائے، تو کوئی بات نہیں۔ اصل چیز یہ ہے کہ ہم نے سیکھا۔ چاہے تکلیف کے ذریعے، چاہے دھوکہ کھا کر، چاہے تنہائی میں جا کر۔ مگر اس سب کے باوجود، سیکھنا، آگے بڑھنا اور خود کو بہتر بنانا ہی اصل کامیابی ہے۔

  • معافی…. مگر حدوں کے ساتھ.تحریر: نور فاطمہ

    معافی…. مگر حدوں کے ساتھ.تحریر: نور فاطمہ

    معافی دینا ایک خوبصورت عمل ہے۔ یہ دل کی وسعت، ظرف کی بلندی اور انسان کی انسانیت کا ثبوت ہے۔ مگر ہر خوبی تبھی خوبصورت رہتی ہے جب وہ اپنی حدود میں ہو۔ اندھا دھند معاف کرتے جانا، خود کو بار بار تکلیف میں جھونک دینا، اور زہر گھولنے والوں کو بار بار پینے دینا ، یہ بخشش نہیں، بے خبری ہے۔

    ہمیں بچپن سے سکھایا جاتا ہے،”معاف کر دینا بہتر ہے، جو اللہ معاف کرتا ہے، بندہ کیوں نہ کرے؟”بیشک یہ بات سچ ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ بھی وہی گناہ معاف کرتا ہے جن پر سچی توبہ ہو، ندامت ہو، اور آئندہ نہ دہرانے کا پکا ارادہ ہو۔ تو کیا ہم انسان یہ حق نہیں رکھتے کہ یہ دیکھیں کہ معافی مانگنے والے کی نیت کیا ہے؟ کیا وہ واقعی شرمندہ ہے یا صرف حالات نے اُسے مجبور کیا ہے؟دنیا میں ہر دکھ کے بعد سکون آتا ہے، ہر اندھیرے کے بعد اجالا۔ لیکن کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو صرف وقت سے نہیں، بلکہ فاصلوں سے بھرے جاتے ہیں۔جس نے نہ صرف ایک بار، بلکہ بار بار آپ کے جذبات کو مجروح کیا۔ جس نے آپ کے احساسات کے ساتھ کھیلا اور جان بوجھ کر آپ کو توڑا۔ ایسے شخص کے "معاف کر دو” کہنے پر دل نرم نہ کریں۔

    جب آپ نے اخلاص سے رشتہ نبھایا، جب آپ نے ہر قدم پر ساتھ دیا، اور بدلے میں تحقیر، بدگمانی اور طنز ملا ، تو یہ محبت کا مذاق ہے۔ اور مذاق اُڑانے والے کو کبھی عزت کے ساتھ واپس نہیں لایا جاتا۔جب کسی کا برتاؤ آپ کو اس مقام پر لا کھڑا کرے کہ اب آپ ہر سچے جذبے پر شک کرنے لگیں، ہر مسکراہٹ میں مطلب ڈھونڈیں، اور ہر خلوص کو فریب سمجھنے لگیں ، تو یہ صرف ایک رشتہ نہیں، ایک شخصیت کی تباہی ہے۔ اس تباہی کا سبب بننے والے کو معاف کرنا اپنے آپ سے بے وفائی ہے۔یقین وہ بنیاد ہے جس پر ہر رشتہ قائم ہوتا ہے۔ ایک بار اگر یہ بنیاد ہل جائے تو پوری عمارت لرزنے لگتی ہے۔ جو شخص آپ کا یقین توڑتا ہے، وہ صرف بھروسہ نہیں توڑتا بلکہ آپ کے اندر ایک گہرا خلا پیدا کرتا ہے۔ ایسے خلا کو بھرنے کے لیے مہینے، سال، اور بعض اوقات پوری زندگی لگ جاتی ہے۔

    معافی ایک نعمت ہے، مگر جب یقین ٹوٹ جائے، تو وہ صرف ایک لفظ بن جاتی ہے، بے معنی، خالی، اور کھوکھلا، "ایسے لوگوں کو جانے دیں جو اپنی آسانی اور ضرورت کے حساب سے آپ کو ضروری سمجھیں۔”یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو آپ کو تب چاہتے ہیں جب ان کو اکیلا محسوس ہوتا ہے، جب ان کے کام رک جاتے ہیں، یا جب دنیا ان کی طرف نہیں دیکھتی۔ یہ تعلقات نہیں ہوتے، بلکہ وقتی سہارا ہوتے ہیں۔ اور انسان کوئی کرسی نہیں جو بس سہارا دے ،انسان ایک احساس ہے، ایک جذبہ ہے،

    پہلا قدم یہ ہے کہ خود کو معاف کریں ، اس لمحے کے لیے جب آپ نے خود سے زیادہ کسی اور کو اہم جانا۔ جب آپ نے اپنی قدر گھٹا کر کسی کو اوپر رکھا۔ جب آپ نے آنکھیں بند کر کے کسی پر بھروسہ کیا۔زندگی ایک استاد ہے۔ وہ سبق سکھاتی ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم تلخ ہو جائیں، یا ہر کسی سے بدگمان۔ ہر کوئی برا نہیں ہوتا ، بس اب آپ جانتے ہیں کہ اچھے اور برے میں فرق کیسے کرنا ہے۔معذرت ایک خوبصورت عمل ہے، مگر صرف تب، جب دل سے ہو۔ ورنہ وہ ایک بہانہ بن جاتی ہے، واپس آنے کا، پھر تکلیف دینے کا،اپنے دل، اپنے سکون، اور اپنی خودی کی حفاظت کریں۔ اور یاد رکھیں ،”وہی لوگ معاف کیے جانے کے لائق ہوتے ہیں جو آپ کو کبھی تکلیف دینا نہیں چاہتے تھے۔”

    noor fatima

  • رشتے کی حقیقی مضبوطی، تحریر: نور فاطمہ

    رشتے کی حقیقی مضبوطی، تحریر: نور فاطمہ

    ہماری زندگی میں بے شمار لوگ آتے ہیں، کچھ لمحوں کے لیے، کچھ سکھ ،تکلیف،دینے کے لیے، اور کچھ ہمیشہ کے لیے۔ مگر اُن سب میں سے "کسی کو چُننا” یہ کوئی سادہ فیصلہ نہیں ہوتا۔ یہ صرف ایک چہرے، ایک آواز، یا کسی مسکراہٹ کو چُننا نہیں ہوتا۔یہ دراصل ایک مکمل انسان کو، اُس کی مکمل ذات کے ساتھ اپنانے کا عمل ہے۔ اور یہی بات تعلقات کی اصل روح ہے۔جب ہم کسی کو چُنتے ہیں تو ہم اُس کی پسندیدہ عادتوں، اُس کی مسکراہٹ، اُس کے اندازِ گفتگو، اور اُس کی موجودگی سے ملنے والی خوشی کو اپناتے ہیں۔مگر اصل چناؤ تب ہوتا ہے جب ہم اُس کی ناپسندیدہ باتوں، اُس کی چپ، اُس کے ماضی کے زخموں، اور اُس کی کمزوریوں کو بھی اُسی اپنائیت سے قبول کرتے ہیں۔قبولیت صرف خوبصورت پہلوؤں کی نہیں ہوتی، بلکہ ہر اُس ٹوٹ پھوٹ، ہر اُس تلخی، ہر اُس کمزوری کی ہوتی ہے جو ایک انسان کو مکمل بناتی ہے۔

    اکثر رشتے اِس غلط فہمی میں قائم ہوتے ہیں کہ دوسرا انسان ہمیشہ خوش رہے گا، ہمیشہ محبت دے گا، اور کبھی نہیں بدلے گا۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان کے اندر ایک اندرونی جنگ چل رہی ہوتی ہے، وہ کبھی ہار رہا ہوتا ہے، کبھی تھک جاتا ہے، کبھی خود سے بھی بات نہیں کر پاتا۔وہ لمحے جب وہ چپ ہو جاتا ہے، جب اُس کے چہرے پر مسکراہٹ غائب ہوتی ہے، جب وہ خود سے دور ہو جاتا ہے ، یہی اصل وقت ہوتا ہے اُسے اپنانے کا، اُسے سمجھنے کا، اور اُس کا ساتھ دینے کا۔

    ہم اکثر رشتوں کو خوشیوں کا ذریعہ سمجھتے ہیں، لیکن سچا رشتہ وہ ہوتا ہے جہاں آنسو بھی قبول کیے جاتے ہیں۔
    جہاں صرف "میں تمہارے ساتھ ہوں” کہنا کافی نہیں، بلکہ ساتھ بیٹھ کر، خاموشی سے اُس کا ہاتھ تھام کر، اُس کے دُکھ میں شریک ہونا ضروری ہوتا ہے۔کسی کی تکلیف میں اُس کے قریب ہونا، صرف لفظوں سے نہیں، احساسات سے اُسے تھپکی دینا یہی” محبت "ہے۔جب ہم کسی کو اپناتے ہیں، تو اُس کے ماضی کو بھی اپناتے ہیں۔ اُس کے پرانے زخم، اُس کی تلخیاں، اُس کی کہانیاں ، یہ سب اُس کی موجودہ ذات کو تشکیل دیتے ہیں۔
    اگر ہم کسی کے ماضی کو رد کر دیتے ہیں، تو ہم اُس کی مکمل شناخت کو مسترد کر رہے ہوتے ہیں۔رشتے میں اعتماد تب قائم ہوتا ہے جب ہم ماضی کو سنبھالنے کا حوصلہ رکھتے ہیں، نہ کہ اُس پر طعنہ دیتے ہیں۔

    محبت اور تعلق صرف ایک جذباتی بندھن نہیں، بلکہ ایک روحانی سفر ہے۔جب دو لوگ ایک دوسرے کی تکلیفیں، کمزوریاں، خوشیاں، اداسیاں سب کچھ بانٹتے ہیں تو وہ ایک ایسا رشتہ بناتے ہیں جسے وقت، فاصلہ، یا حالات بھی کمزور نہیں کر سکتے۔ایسے رشتے میں "میں” اور "تم” ختم ہو جاتے ہیں، اور صرف "ہم” باقی رہ جاتا ہے۔کسی کو چننے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ نے ایک کامل شخص چُنا ہے۔بلکہ آپ نے ایک ایسا شخص چُنا ہے جس کے اندر خوبیاں بھی ہیں اور خامیاں بھی ، اور آپ نے اُسے ہر صورت میں اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔محبت صرف یہ نہیں کہ آپ اُس کے ساتھ اچھے وقت گزاریں، بلکہ یہ کہ آپ اُس کے برے وقت میں بھی اُسی شدت سے اُس کے ساتھ رہیں۔اسی میں اصل انسانیت، اصل رشتہ، اور اصل محبت چھپی ہے۔

    noor fatima

  • جیب”مردانگی” کی علامت، خواتین کو مردوں جتنے جیب کیوں نہیں ملتیں؟

    جیب”مردانگی” کی علامت، خواتین کو مردوں جتنے جیب کیوں نہیں ملتیں؟

    یہ ایک دلچسپ اور پیچیدہ سوال ہے جو صنفی مساوات اور تاریخ کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ خواتین کے لباس میں جیبوں کی کمی ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر مختلف ادوار میں بحث کی گئی ہے، اور آج بھی یہ مسئلہ اس بات کی علامت ہے کہ معاشرتی طور پر خواتین کو کتنی آزادی اور خودمختاری نہیں ملتی۔

    جیبیں مردوں کے لباس میں 1550 کی دہائی میں ظاہر ہوئیں، جب مردوں کے پینٹ میں ڈرا اسٹرنگ بیگ شامل کیے گئے تھے۔ اس سے پہلے مرد و خواتین دونوں ہی اپنے سامان کو آزادانہ طور پر رکھتے تھے، لیکن جیسے جیسے مردوں کے ملبوسات میں تفصیل آئی، جیبیں بھی ان کا حصہ بن گئیں۔ اس کے برعکس خواتین کا لباس اس وقت تک جیبوں سے خالی رہا۔ خواتین اپنی چیزیں رکھنے کے لیے بیلٹ یا کمر کے ساتھ لٹکتی بیگز استعمال کرتی تھیں۔جب خواتین نے 18ویں اور 19ویں صدی کے دوران مزید آزادی حاصل کی اور اپنے لباس میں تبدیلیاں کیں، تو اس وقت خواتین کے لباس میں جیبیں شامل کرنا ایک بڑا قدم تھا۔ لیکن اس دوران بھی جیبوں کا ڈیزائن مردوں کی جیبوں سے مختلف تھا۔ خواتین کے لیے جیبیں اکثر اسکرٹس کے اندر ایک چھوٹے سے تھیلے کی شکل میں ہوتی تھیں، یا پھر ان جیبوں کو ٹائی کر کے رکھا جاتا تھا، جو کہ ہمیشہ کھلنے کا خطرہ رکھتے تھے۔19ویں صدی کے آخر میں، جب خواتین کے لباس میں کچھ بہتری آئی، تو جیبوں کا ڈیزائن بدل کر بیک بسل (پچھلے حصے) میں رکھا گیا تھا، جس سے خواتین کو اپنی چیزیں تلاش کرنے میں دشواری ہوتی تھی۔ اس کے بعد، 20ویں صدی کے اوائل میں خواتین کے لیے جیبیں تیار کرنا ایک حقیقت بننے لگا، خاص طور پر خواتین کے فوجی لباس میں، لیکن ان جیبوں کی حقیقت ہمیشہ شکوک و شبہات کے ساتھ جڑی رہی۔

    پہلی جنگ عظیم کے دوران جب خواتین نے صنعتوں میں کام کرنا شروع کیا اور فوج میں خدمات انجام دیں، تب انہوں نے زیادہ عملی لباس کی ضرورت محسوس کی۔ اس دور میں خواتین نے مردوں کی طرح جیبوں والی جیکٹیں، ٹراوزرز اور دیگر عملی لباس اختیار کیے۔ لیکن اس کے باوجود، ان جیبوں کی تعداد اور سائز میں ہمیشہ کمی رہی۔ مثال کے طور پر، 1940 میں خواتین کے فوجی یونیفارم میں جیبوں کی جگہ محض جعلی جیبیں رکھی گئی تھیں تاکہ یہ ظاہری طور پر مردوں کے لباس کے جیسے دکھائی دیں، لیکن حقیقت میں ان جیبوں میں کچھ بھی رکھنے کا امکان نہیں تھا۔20ویں صدی کے دوران، خاص طور پر 1960 کی دہائی میں، دوسری لہر کی نسوانی تحریک نے خواتین کے لباس میں جیبوں کی اہمیت پر زور دیا۔ اس تحریک کے دوران، خواتین کے حقوق کی جدوجہد کے ساتھ ساتھ ان کی ضروریات اور ان کے لباس میں عملی جگہ بنانے کی بھی بات کی گئی۔ خواتین کی جیبوں کا فقدان اس وقت ایک نکتہ چینی کا موضوع بنا، اور کئی خواتین نے اپنے سامان کو رکھنے کے لیے بیگوں کا استعمال کیا، جس سے ان کے لباس کی عملیت پر سوالات اٹھنے لگے۔

    women
    آج بھی خواتین کے لباس میں جیبوں کی کمی ایک مسئلہ ہے۔ اکثر خواتین کے لباس میں جیبوں کا سائز چھوٹا ہوتا ہے، یا پھر ان جیبوں کی جگہ محض غیر فعال فلیپ ہوتے ہیں۔ 2018 میں کیے گئے ایک مطالعے میں یہ بات سامنے آئی کہ مردوں کے جینز میں جیبوں کا سائز خواتین کے جینز کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ اس میں خاص طور پر خواتین کے اسکننی جینز اور اسٹریٹ جینز کا ذکر کیا گیا، جن کی جیبیں اتنی چھوٹی ہوتی ہیں کہ ان میں ایک موبائل فون یا دیگر ضروری سامان رکھنا ممکن نہیں ہوتا۔اس کے علاوہ، فاسٹ فیشن کی صنعت نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ جب لباس کے ڈیزائن میں جیبوں کا اضافہ کیا جاتا ہے تو یہ اضافی خرچ اور محنت کا سبب بنتا ہے، جسے فیشن انڈسٹری اپنے منافع کو بڑھانے کے لیے نظرانداز کرتی ہے۔ اس کے علاوہ، خواتین کے لباس میں جیبوں کی کمی کا ایک اور سبب یہ ہے کہ فیشن ڈیزائنرز نے ہمیشہ خواتین کے جسمانی خطوط کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے، اور جیبیں انہیں اس مقصد میں رکاوٹ محسوس ہوتی ہیں۔

    خواتین کے لباس میں جیبوں کی کمی کو صنفی عدم مساوات کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ کارلسن کے مطابق، جیبیں ہمیشہ مردوں کی خصوصیت رہی ہیں، اور یہ "مردانگی” کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔ جیبیں ایک عملی اور خودمختار خصوصیت رہی ہیں، جو ہمیشہ مردوں کے لیے مخصوص کی گئی تھیں، جبکہ خواتین کو اپنے سامان کو رکھنے کے لیے بیگوں کا محتاج بنایا گیا۔یہ مسئلہ صرف ملبوسات تک محدود نہیں ہے بلکہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ معاشرتی طور پر خواتین کو مردوں کے مقابلے میں کم خودمختاری دی جاتی ہے۔ جیبیں اس حقیقت کی علامت بن گئی ہیں کہ مردوں کو ہمیشہ زیادہ عملی آزادی حاصل رہی ہے، جبکہ خواتین کو جمالیاتی اور سجاوٹی لباسوں میں محدود رکھا گیا ہے۔

    خواتین کے لباس میں جیبوں کی کمی ایک تاریخی، ثقافتی اور صنفی مسئلہ ہے جو آج بھی موجود ہے۔ یہ سوال صرف خواتین کے حقوق کے لیے نہیں بلکہ معاشرتی مساوات کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے۔ جیبوں کی کمی خواتین کی آزادی اور خودمختاری کی کمی کی علامت بن چکی ہے۔ فیشن انڈسٹری اور ڈیزائنرز کے لیے یہ ایک اہم چیلنج ہے کہ وہ خواتین کے لباس میں جیبوں کو شامل کریں تاکہ خواتین کو مردوں کے مساوی آزادی اور خودمختاری حاصل ہو سکے۔

  • زندگی کے دو دن…تحریر:نور فاطمہ

    زندگی کے دو دن…تحریر:نور فاطمہ

    زندگی ایک مسلسل امتحان ہے، جہاں خوشیاں اور غم، کامیابیاں اور ناکامیاں، دونوں کا ایک اہم کردار ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا راستہ ہے جو ہر انسان کو مختلف مراحل سے گزار کر ایک خاص مقصد تک پہنچاتا ہے۔ زندگی کے بارے میں ایک حقیقت یہ ہے کہ یہ دو دنوں پر مشتمل ہوتی ہے، ایک آپ کے حق میں ہوتا ہے اور دوسرا آپ کے خلاف۔

    یہ وہ دن ہوتا ہے جب سب کچھ اچھا چل رہا ہوتا ہے۔ آپ کی دعائیں قبول ہو رہی ہوتی ہیں، ہر کام آسان لگ رہا ہوتا ہے اور دنیا کی تمام خوشیاں آپ کے قدم چوم رہی ہوتی ہیں۔ ایسے دنوں میں انسان کو خوشی ملتی ہے اور وہ ہر لمحہ کا لطف اٹھاتا ہے۔ لیکن یہاں ایک بہت ضروری بات یہ ہے کہ انسان کو کبھی بھی اپنے کامیاب دنوں پر غرور نہیں کرنا چاہیے۔جب آپ کے حق میں سب کچھ ہو رہا ہو، تو آپ کو اپنے رب کا شکر گزار رہنا چاہیے اور اپنی خوشیوں میں دوسروں کو بھی شریک کرنا چاہیے۔ غرور انسان کو زمین پر لا کر اس کی حقیقت دکھا دیتا ہے۔ کامیاب دنوں میں بھی انسان کو ہمیشہ عاجزی اور انکساری اختیار کرنی چاہیے، کیونکہ اللہ کی رضا اور رحمت کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں ہوتا۔

    یہ وہ دن ہوتا ہے جب آپ کو زندگی کی تلخ حقیقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آپ کی محنت ضائع ہو جاتی ہے، حالات آپ کے خلاف ہو جاتے ہیں اور آپ کو شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے دنوں میں انسان کو غم، مایوسی اور افسوس کا سامنا ہوتا ہے۔ لیکن یہی وہ وقت ہوتا ہے جب انسان کو صبر کی ضرورت ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں بتاتا ہے کہ جب آپ کے خلاف حالات ہوں، تو ان پر صبر کرو۔ یہ دن بھی ایک امتحان ہوتا ہے۔ اللہ کا حکم ہے کہ ہم جو بھی حالات میں ہوں، اس پر صبر کریں کیونکہ یہ ہمارے ایمان اور قوت کا امتحان ہوتا ہے۔ جو دن آپ کے خلاف ہوں، وہ بھی اللہ کی طرف سے آزمائش ہیں، اور ان سے نکل کر ہی انسان کا کردار مضبوط ہوتا ہے۔

    شیطان انسان کو ہر لمحہ گمراہی کی طرف لے جانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کا پہلا حملہ انسان کی زبان پر ہوتا ہے۔ وہ انسان کو اللہ کے ذکر سے دور رکھنے کی کوشش کرتا ہے، کیونکہ جب انسان اللہ کا ذکر کرتا ہے، تو اس کی روح سکون پاتی ہے اور وہ دنیا کی پریشانیوں سے آزاد ہو جاتا ہے۔ اگر انسان اپنی زبان پر اللہ کا ذکر جاری رکھے، تو شیطان اسے اپنے جال میں نہیں پھانس سکتا۔جب انسان اللہ کے ذکر سے دور ہو جاتا ہے، تو اس کا دل اور دماغ پریشان ہو جاتے ہیں، اور پھر جسمانی طور پر بھی انسان کی حالت خراب ہو جاتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ہر حال میں اللہ کے ذکر کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، کیونکہ یہی ہمارے دل کی سکونت اور شیطان کی شکست کا ذریعہ ہے۔

    زندگی کے دونوں دنوں میں ہمیں توازن قائم رکھنا چاہیے۔ جب ہم خوش ہوں تو غرور سے بچنا چاہیے اور اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے، اور جب حالات ہمارے خلاف ہوں تو صبر کرنا چاہیے اور اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ شیطان کی کوششوں سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ہمیشہ اللہ کے ذکر میں مشغول رہیں، کیونکہ ذکر اللہ کے ذریعے انسان کا دل سکون پاتا ہے اور شیطان کی تمام رکاوٹیں دور ہو جاتی ہیں۔یاد رکھیں کہ زندگی کا مقصد صرف کامیابی یا خوشی حاصل کرنا نہیں ہے، بلکہ یہ ایک مسلسل سفر ہے جس میں انسان کی شخصیت اور ایمان کی آزمائش ہوتی ہے۔ ہر دن ایک نیا امتحان ہوتا ہے، اور ہمیں ان امتحانوں کا صبر اور شکر کے ساتھ سامنا کرنا چاہیے۔

  • عید کا دن اور خوشیوں کی محفل،تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    عید کا دن اور خوشیوں کی محفل،تحریر: سیدہ عطرت بتول نقوی

    عید کا دن فیملی سے منسوب ہوتا ہے جب سب گھر والے خاندان والے اکھٹے ہوتے ہیں ملکر کھانا کھاتے ہیں چہروں پر خوشی اور مسکراہٹیں ہوتی ہیں نئے کپڑے پہنے ہوتے ہیں ایک دوسرے کی شاپنگ پر تبصرہ ہوتا ہے عیدی دی اور لی جاتی ہے پھر پلک جھپکتے ہی یہ دن اگلے سال دوبارہ آ نے کے لیے رخصت ہو جاتا ہے اور پھر عید کا دوسرا دن یعنی ٹرو اس وقت عید کے دن کی طرح خوشگوار ہوجاتا ہے جب دوستوں کے ساتھ ملاقات ہو جاے

    عید کے دوسرے دن شمیم عارف تسنیم جعفری میرے گھر تشریف لائیں مجھے بہت خوشی ہوئی عید کی رونق دوبالا ہوگئی ہم نے خوب باتیں کیں تسنیم صاحبہ کی نئی کتاب جو سیرت نبوی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم پر ہے شائع ہو چکی ہے انشاء اللہ یہ کتاب بھی ایوارڈ حاصل کرے گی تسنیم جعفری 25 سے زائد کتابوں کی مصنفہ اور پہلی سائنس فکشن رائیٹر ہیں ماشاءاللہ بہت سے ایوارڈ حاصل کر چکی ہیں نئی کتاب کی خوشی میں ہم نے کیک کاٹا .

    شمیم عارف صاحبہ کی بھی دو کتب پبلش ہونے کے لیے تیار ہیں وہ حج کے سفر نامہ سمیت دو کتابوں ،، ننھا سلطان ،، اور ،، ہم ابھی راہ گزر میں ہیں ،، کی مصنفہ ہیں ،، ہماری فرمائش پر انہوں نے اپنی نظمیں سنائیں
    تسنیم اور شمیم آ پ کی آ مد کا بہت شکریہ ، بہت اچھا وقت گزرا اور تسنیم کو اہم موضوع پر نئی کتاب لکھنے پر مبارکباد ❤️
    اللہ کرے زور قلم اور زیادہ

    تسنیم جعفری صاحبہ 26 کتابوں کی مصنفہ
    تسنیم جعفری صاحبہ 26 کتابوں کی مصنفہ

  • عورت کے لیے برابری کی حقیقت،تحریر:نور فاطمہ

    عورت کے لیے برابری کی حقیقت،تحریر:نور فاطمہ

    عورت کے حقوق اور برابری کے حوالے سے دنیا بھر میں مختلف نظریات ہیں، اور یہ بحث ہمیشہ چلی آ رہی ہے کہ عورت کو مردوں کی طرح زندگی گزارنی چاہیے تاکہ وہ برابری کا حق حاصل کر سکے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ عورت کی برابری کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ مردوں کی طرح زندگی گزارے یا ان کی طرح طرزِ زندگی اپنائے۔ بلکہ عورت کی برابری یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو اپنی مکمل شناخت کے ساتھ برابری کی سطح پر لے کر آئے۔

    عورت کو ایک الگ اور خاص شناخت کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے۔ اس کی فطرت، اس کی نفسیات اور اس کی قوتیں مردوں سے مختلف ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ عورت کم تر ہے یا اس کو مرد کے ساتھ موازنہ کرنا ضروری ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ عورت کو اپنے آپ کو مکمل طور پر تسلیم کرتے ہوئے اپنی جگہ بنانی چاہیے۔ اگر عورت مرد بننے کی کوشش کرے گی، تو وہ اپنی حقیقت کو مٹا دے گی اور اپنی شناخت کھو دے گی۔اگر عورت صرف اس لیے مردوں کی طرح زندگی گزارنا شروع کر دے کہ وہ انہیں اپنے سے برتر سمجھتی ہے، تو یہ ایک غلط فہمی ہے۔ عورت کا مردوں کی پیروی کرنا نہ صرف اس کی اپنی شناخت کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ اس سے اس کے اندر احساسِ کمتری بھی جنم لیتا ہے۔ عورت کی برابری اس میں ہے کہ وہ اپنی فطرت، اپنی صلاحیتوں اور اپنے اصولوں کے مطابق زندگی گزارے، نہ کہ مردوں کی پیروی کر کے۔

    یہ ضروری نہیں کہ اگر مرد سگریٹ پیتے ہیں تو عورت بھی ان کی تقلید کرے اور یہ سمجھے کہ اس طرح وہ برابری حاصل کر رہی ہے۔ برابری کا مطلب یہ نہیں کہ عورت بھی وہی کرے جو مرد کرتے ہیں۔ برابری کا مطلب یہ ہے کہ عورت اپنے آپ کو پورے اعتماد کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق دے، اور اس کا حق مردوں سے کم نہیں ہے، بلکہ وہ اپنی فطری خصائص کے ساتھ بھی اپنی جگہ بنا سکتی ہے۔اگر کوئی عورت یہ سمجھتی ہے کہ وہ مردوں کی طرح پنٹ شرٹ پہنتی ہے تاکہ برابری کا احساس ہو، تو وہ اس بات کو نہیں سمجھ پا رہی کہ برابری طرزِ زندگی کی تقلید سے نہیں، بلکہ اپنے آپ کو تسلیم کرنے اور اپنی خصوصیات کو اہمیت دینے سے ملتی ہے۔ برابری کا مطلب اپنی جگہ پر پہنچنا ہے، نہ کہ مردوں کی طرح بننا۔برابری کا مفہوم یہ نہیں کہ عورت مردوں کی طرح زندگی گزارے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ عورت کو وہی مواقع اور حقوق ملیں جو مردوں کو ملتے ہیں، اور اس میں کوئی تفاوت نہ ہو۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ عورت مردوں کی طرح بن جائے، بلکہ یہ ہے کہ عورت اپنے طور پر، اپنی شناخت کے ساتھ، ہر میدان میں کامیاب ہو۔

    عورت کا مقام اس کی فطرت اور شخصیت کے ساتھ جڑا ہوا ہے، اور اس کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ اس کی برابری مردوں کے ساتھ نہیں بلکہ اپنے آپ کے ساتھ ہے۔ جب عورت اپنے اندر کی طاقت کو پہچانے گی اور اپنی مکمل شناخت کے ساتھ اپنے راستے پر گامزن ہو گی، تو وہ خود کو اور دوسروں کو یہ دکھا پائے گی کہ برابری صرف ایک ہی طریقے سے حاصل کی جا سکتی ہے: وہ ہے اپنی حقیقت کو تسلیم کر کے اپنی جگہ پر کامیاب ہونا۔

  • رشتوں میں سب سے بڑا زہر "غداری” کا ہوتا ہے…تحریر:نور فاطمہ

    رشتوں میں سب سے بڑا زہر "غداری” کا ہوتا ہے…تحریر:نور فاطمہ

    ہماری زندگی میں سب سے زیادہ خطرناک دشمن وہ نہیں ہوتے جو سامنے سے وار کرتے ہیں، بلکہ وہ ہوتے ہیں جو دوستوں، رشتہ داروں یا خیرخواہوں کا چہرہ لے کر ہمیں اندر سے کھوکھلا کرتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑی سلطنتیں بیرونی حملوں سے کم اور اندرونی غداریوں سے زیادہ تباہ ہوئیں۔ یہی اصول ہماری ذاتی زندگیوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔باہر کے لوگ جب مخالفت کرتے ہیں تو کم از کم ہمیں اس کا علم ہوتا ہے، ہم دفاع کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ مگر وہ لوگ جو اپنائیت کا لبادہ اوڑھ کر اندر سے وار کرتے ہیں، ان کی چالاکیاں دیر سے سامنے آتی ہیں، اور تب تک نقصان ہو چکا ہوتا ہے۔ ان کی مسکراہٹوں کے پیچھے چھپی نفرت، ان کے خیرخواہی بھرے الفاظ کے پیچھے چھپا حسد، اور ان کی خاموشیوں میں چھپے راز،یہ سب ہمیں اندر سے توڑ دیتے ہیں۔

    جب کوئی قریبی شخص، جس پر ہم آنکھ بند کر کے بھروسہ کرتے ہیں، ہمیں دھوکہ دیتا ہے تو وہ صرف ایک دھوکہ نہیں ہوتا، بلکہ ہماری امید، اعتماد اور دل کو ایک ساتھ توڑ دیتا ہے۔ یہ لوگ ہمارے راز دوسروں کو بتاتے ہیں، ہماری کمزوریوں کو لوگوں کے سامنے لاتے ہیں، اور بظاہر ہماری خوشیوں میں شریک ہو کر اندر سے ان کی جڑیں کاٹتے ہیں۔زندگی میں ہر رشتہ آزمانا چاہیے، لیکن اندھا اعتماد نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ ایسے افراد کی پہچان ان کے عمل سے کریں، نہ کہ صرف ان کی باتوں سے۔ جو مشکل وقت میں آپ کے ساتھ کھڑے ہوں، جو آپ کی غیر موجودگی میں بھی آپ کا دفاع کریں، وہی آپ کے اصل خیرخواہ ہیں۔

    سچے رشتے وہی ہوتے ہیں جن میں خلوص، سچائی اور وفاداری ہو۔ نہ کہ وہ رشتے جو صرف دکھاوے کے لیے ہوں، جہاں مسکراہٹ تو ہو لیکن دل میں کینہ ہو، جہاں بظاہر ساتھ ہو لیکن نیت میں دشمنی ہو۔ ایسے رشتوں کو وقت کے ساتھ پرکھیں، اور دل کی آنکھوں سے دیکھیں۔زندگی میں اندرونی غداروں سے بچنا آسان نہیں، لیکن ناممکن بھی نہیں۔ خود کو مضبوط بنائیں، اپنی ذات پر یقین رکھیں، اور ان لوگوں کا ساتھ دیں جو آپ کے اندر کا سکون برباد نہیں کرتے بلکہ اس کو اور سنوارنے میں مدد دیتے ہیں۔ یاد رکھیں، سچائی اور خلوص ہمیشہ دیرپا ہوتے ہیں، باقی سب وقتی چمک ہے۔

  • پارکھ اور نقاد . تحریر:کنزہ محمد رفیق

    پارکھ اور نقاد . تحریر:کنزہ محمد رفیق

    ادب کی دنیا میں ادبی فن پارے کو پرکھنے والا پارکھ کہلاتا یے، اور ادبی تخلیقات کو سنوارنے کا کام نقاد کے ذمہ ہوتا یے۔
    یہ پارکھ، یہ مبصر اور یہ نقاد سب ادب کی دنیا میں بھلے لگتے ہیں۔ حقیقی دنیا میں کسی کو بھی ایسے نقاد اور پارکھ کی حاجت نہیں ہوتی، جو تحقیق کے بغیر تنقید کرے یا کچھ بھی جانے بغیر آپ کے بارے میں رائے قائم کرے۔
    اس دُنیا میں انواع و اقسام کے نفوس موجود ہیں۔
    کسی کے والدین کیسے ہیں ؟
    آپ اس بات سے ناواقف ہیں۔
    کسی کے بہن بھائی کا رویہ کیسا ہے؟
    آپ اس بات سے بے بہرہ ہیں۔
    کسی کے خاندان والے کیسے ہیں؟
    آپ کو اس بات کاذرا علم نہیں۔
    جب تک یہ تمام باتیں آپ کو نہیں معلوم ، خدا کے لیے کسی کو غلط نہ کہیں۔
    یہ بگڑا ہوا، منفی اور عجیب وغیرہ وغیرہ۔۔۔
    کیا پتا ان کے حصّے میں ایسے والدین آئے ہوں، جنہیں اپنے بچوں سے زیادہ دنیا کے بچے عزیز ہوں؟
    کیا پتا انہیں اپنے بچّوں کی کامرانی پر جشن منانا نہیں آتا ہو ؟
    کیا پتا انہیں اپنے بچے سدا کے نالائق لگتے ہو ؟
    اور کیا پتا کسی کے حصّے میں ایسے والدین آئے ہوں، جنہیں کچھ سوچنے سمجھنے کی فرصت ہی نہ ہو وہ اپنے اپنے دائروں میں گردش کر رہے ہو، اور زندگی کو سمجھنے کی بجائے بس کھانے، پینے اور سونے تک اپنی زندگی محدود کر رکھی ہو۔
    زندگی میں موڑ کیا ہوتے ہیں ؟ اور فیصلے کس بلا کا نام ہے وہ ان تمام باتوں سے بے بہرہ ہو۔
    اور ایسے ہی والدین کے بچے جب اپنے بل بوتے پر مسلسل تگ و دو کے بعد کچھ حاصل کرتے ہیں، تو دنیا والدین کے سر پر تاج سجا دیتی یے۔

    ہر کسی کے والدین ساتھ کھڑے ہونے والے، اور ہمت بڑھانے والے نہیں ہوتے، یہ دنیا ہے اور یہاں ہر طرح کے لوگ موجود ہیں۔ تو لہذا لوگوں کو پرکھنا چھوڑ دیں، آپ کے پاس اچھے لوگ موجود ہیں تو یہ نہ سمجھیں سب کے پاس حوصلے بلند کرنے والے والدین موجود ہوں گے، یہ اپنے پاس کہیں لکھ کر رکھ لیجیے کہ اسی دنیا میں کچھ لوگوں کے پاس والدین محض حوصلے پست کرنے والے ہوتے ہیں، اور ایسے ہی بچے ہوتے ہیں، جن کی کامیابی دنیا میں امر ہوجاتی یے، ورنہ وہی دہرائی ہوتی یے۔ کچھ کو اچھے ماحول کے سبب کامیابی مل جاتی ہے اور کچھ لوگوں کا سفارش سے کام بن جاتا یے۔ مگر خدا سے بڑا منصف اور کون ہوسکتا ہے بھلا ؟
    اس جہانِ تگ و دو میں کس نے کتنی اور کس حد تگ و دو کی ہے، یہ صرف اللّٰہ کے علم میں ہے۔
    اور کیا کوئی اللّٰہ کے مقابل آسکتا ہے ؟

  • سوچ عورت ایوارڈ .تحریر:عنبریں حسیب عنبر

    سوچ عورت ایوارڈ .تحریر:عنبریں حسیب عنبر

    عالمی یومِ خواتین پر ہمیں ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان کی جانب سے ادب کے شعبے میں ” سوچ عورت ایوارڈ” سے نوازا گیا۔ اس ایوارڈ کے لیے ہم خدا، والدین، شوہر، بچوں اور آپ سب کے شکر گزار ہیں۔ ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان کا بے حد شکریہ۔

    جب ہم نے لکھنا آغاز کیا تو بس ایک آگ تھی جو خود بخود کاغذ پر الفاظ کی صورت اختیار کیا کرتی تھی۔ جب ادراک ہوا کہ ہم لکھ رہے ہیں تو بس ایک دھن تھی کہ اس دنیا کو خوب صورت دیکھنے کا ہمارا خواب پورا ہو جائے۔ جب احساس ہوا کہ لوگ ہمیں پڑھ رہے ہیں تو خوشی کے بجائے فکر لاحق ہوئی کہ لکھنا تو بڑی ذمہ داری کا کام ہے کیوں کہ اب یہ ذاتی معاملہ نہیں رہا۔

    ہمیں خوشی ہے تو اس بات کی کہ ہم نے دنیا کو اپنی نظروں سے دیکھا، اپنے دل سے محسوس کیا، اپنے ذہن سے سوچا اور جو درست سمجھا وہی لکھا۔ ہم نے اپنی تحریر میں فکری پر مائیگی، مطالعاتی بصیرت اور مشاہدے کی گہرائی وغیرہ کا دعویٰ کبھی نہیں کیا تاہم تمام تر انکسار کے باوجود یہ اصرار ہم نے ہمیشہ کیا ہے کہ جذبات و احساسات اور خیالات کی سچائی اور سنجیدگی کو ہم نے ہمیشہ فن کی بنیاد جانا ہے۔ ہماری سوچ لوگوں کو شعور، ہمت، طاقت اور مسرت دے رہی ہے یہ احساس ہمارے لیے سب سے بڑا اعزاز ہے۔

    ہم نے شہرت کی کبھی نہ خواہش کی، نہ کوشش اس لیے اس کی قیمت بھی نہیں چکانی پڑی لیکن اپنی آنکھوں سے دیکھنے، اپنے دل سے محسوس کرنے، اپنے ذہن سے سوچنے اور حق بات کہنے اور لکھنے کی قیمت ابتدا سے چکائی اور آج تک چکاتے رہتے ہیں لیکن ہمیں اس پر کوئی افسوس یا پچھتاوا نہیں بلکہ گہری طمانیت ہے۔
    آپ سب کا بے حد شکریہ کہ آپ ہمیں پڑھتے ہیں، سنتے ہیں اور پسند کرتے ہیں۔ اگر کوئی ناپسند کرتا ہے تو اس کا بھی شکریہ کہ توجہ تو اس کی بھی ہماری تحریر پر ہے۔

    اور ہاں! یہ ایوارڈ کی جو جگہ جگہ تصاویر ہیں یہ اس مرد کی خوشی کا شاخسانہ ہیں جس نے ہمیں عورت ہونے کا احترام دیا۔ ہمیں انسان سمجھتے ہوئے پوری جگہ دی اور ہمارے وجود کو نہ صرف تسلیم کیا بلکہ اس وجود کو مقدم جانا۔ہر کامیاب مرد کے پیچھے کسی عورت کا ہاتھ ہوتا ہے لیکن کسی بھی کامیاب عورت کے پیچھے صرف مرد کا نہیں بلکہ ہمیشہ بھرے پرے مرد کا ہاتھ ہوتا ہے جو اس عورت کی کامیابی سے خائف نہیں ہوتا کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ وہ خود بھی اپنا وزن رکھتا ہے، وہ کسی صورت اس عورت سے کم نہیں ہو جائے گا