Baaghi TV

Category: خواتین

  • گوردوارہ سری دربار صاحب کرتار پور کا سفر.تحریر:عینی ملک

    گوردوارہ سری دربار صاحب کرتار پور کا سفر.تحریر:عینی ملک

    ہمارا گوردوارہ سری دربار صاحب کرتار پور جانے کا ارادہ ایک مدت سے تھا، اور آخرکار وہ دن آ گیا جب ہم نے یہ سفر کرنے کا فیصلہ کیا۔ ہم سب صبح جلدی اٹھے، تاکہ سفر کی تھکاوٹ کم ہو اور وقت پر پہنچ سکیں۔ صبح نو بجے تک ناشتہ کر کے ہم نے تیاری شروع کی اور پھر ظفروال، ناروال، اور شکرگڑھ کے راستوں سے ہوتے ہوئے گوردوارہ کرتار پور روانہ ہو گئے۔

    ظفروال، ناروال، اور شکرگڑھ کے راستوں پر سفر کرتے ہوئے سرسبز کھیت، پھلوں کے باغات، اور پرانی طرز کے گھر ہمیں دیہاتی زندگی کا گہرا منظر دکھا رہے تھے۔ یہاں کے لوگ سبزیاں شوق سے اگاتے تھے، اور چارا کاٹ کر گدھوں پر لے جا رہے تھے۔ ان کے روزمرہ کے معمولات میں سادگی اور محنت کی جھلک صاف نظر آتی تھی۔ ہم نے راستے میں امرود کے تازہ باغات بھی دیکھے، اور وہاں سے تازہ اور رس دار امرود خریدے جو سفر کی تھکاوٹ دور کرنے کے لیے بہت خوشگوار ثابت ہوئے۔

    دربار کے قریب پہنچتے ہی پنجاب پولیس کی طرف سے جگہ جگہ سکیورٹی چیکنگ کا آغاز ہو گیا۔ مختلف ناکوں پر ہمیں روکا گیا، اور شناختی کارڈ کی جانچ کی گئی۔ جہاں ہم نے اپنی گاڑی پارک کی اور میڈیسن اور بیگ بھی وہی چھوڑیں اسلئیے آپ سے گزارش ہے۔ کہ جب بھی آپکا گوردورا جانے کا اردہ ہو تو سوائے پیسوں کے ساتھ کوئی بھی قیمتی اشیا نہ لے جائیں چھری قینچی وغیرہ بھی گاڑی میں نہ ہو اور ہم نے ٹکٹس خریدے اور اندر جانے کے لئے تیار تھے، لیکن میرے نانو کے پاس شناختی کارڈ نہیں تھا، جس کی وجہ سے ہمیں خاصا دیر انتظار کرنا پڑا۔ تاہم، ان کی بزرگ حالت پر رحم کرتے ہوئے ہمیں اندر جانے کی اجازت دے دی گئی۔ یہ ایک اچھی بات تھی کہ انتظامیہ اہلکاروں نے انسانیت کو مقدم جانا۔

    اس کے بعد ہمیں ایک خصوصی گاڑی کے ذریعے گوردوارہ سری دربار صاحب کرتار پور لے جایا گیا، اور قدم رکھتے ہی یہاں کی روحانیت اور سکون سے ہم سب دل کے محظوظ ہوئے۔ گوردوارہ کی عمارت نہایت خوبصورت تھی اور اس کی صفائی دیکھ کر دل خوش ہو گیا۔ ہر طرف سفید سنگ مرمر سے بنی عمارتیں نظر آ رہی تھیں، جو ایک محل کا منظر پیش کر رہی تھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، گوردوارہ کے ارد گرد باغات اور تصویریں بھی اس کے جمال کو مزید نکھار رہی تھیں۔ یہ جگہ نہ صرف روحانیت سے بھری ہوئی تھی، بلکہ اس کی عمارت اور مناظر بھی دل کو سکون پہنچانے والے تھے۔پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے 2019 اپنے دور حکومت میں گرودوارہ دربار صاحب کرتار پور کی نئے سرے سے تعمیر اور انڈین یاتریوں کے لیے تیار کی گئی راہدرای کا افتتاح وزیراعظم عمران خان کے حکم پر ہوا۔وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے کہا تھا کہ مجھے خوشی ہے کہ کرتارپور سرحد کھول کر سکھوں کے دل خوشیوں سے بھر دے گا اور وہی ہوا۔اس تقریب میں انڈیا کے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ، نوجوت سنگھ سدھو اور اداکار سنی دیول سمیت بڑی تعداد میں سکھ یاتری موجود تھے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا تھاکہ جب سکھ برادری کی بات ہوتی ہے تو ہم انسانیت کی بات کرتے ہیں، نفرتیں پھیلانے کی بات نہیں کرتے۔ ’ہمارے نبی پاک ص نے انسانیت کی بات کی۔‘

    گوردوارہ کے اندر پہنچ کر ہم نے لنگر خانہ کا رخ کیا، جہاں کھانے کی تیاری ہو رہی تھی۔ یہاں کی ایک خاص بات یہ تھی کہ امیر و غریب کے درمیان کوئی فرق نہیں رکھا جاتا تھا۔ ہم نے اپنے برتن اٹھائے، جو بڑی صفائی سے رکھے گئے تھے، اور کھانے کا انتظار کیا۔ لنگر خانہ میں سب کو یکساں سلوک ملتا ہے، اور یہی بات انسانیت کی اصل حقیقت کو ظاہر کرتی ہے۔ کھانے لیتے وقت روٹی دونوں ہاتھوں سے لینے کی رسم بھی تھی، جو عاجزی اور احترام کی علامت ہے۔ یہ منظر میرے دل میں ایک گہرا تاثیر چھوڑ گیا۔کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ جب ہم کوئی چیز دونوں ہاتھوں سے لیں تو تب ہمیں اپنی ” میں ” کو مار کر اپنے غرور کو اپنے پاؤں تلے روندھ کر نہایت انکساربننا پڑتا ہے۔

    کھانے کے بعد، ہم نے لنگر خانہ میں بیٹھ کر چائے پی، جو بہت لذیذ تھی۔ چائے کے دوران ہم نے اس جگہ کی روحانیت اور یہاں کے لوگوں کی محبت و بھائی چارے کا احساس ہوا۔ ایک خاص بات یہ تھی کہ یہاں سب لوگ ایک دوسرے کے ساتھ بے تکلف اور محبت سے بات کرتے تھے، چاہے وہ بھارتی ہوں یا پاکستانی، سکھ ہوں یا مسلمان۔

    اس دوران ہماری ملاقات ایک بھارتی یاتری، رگجیت سنگھ سے ہوئی۔ وہ بہت خوش اخلاق اور خوش مزاج شخص تھے، انھوں نے نانو اور ماما سے اپنے انداز میں سلام لی اور پیروں کو چھو کر کہا ” پیر پینا ما جی "یہ انداز بہت احترام والا تھا اور انھوں نے میرے بیٹے نادعلی کو اپنے ساتھ گھومتے ہوئے گوردوارہ کے مختلف حصوں کا دورہ کروایا۔ رگجیت سنگھ نے ہمیں اپنی زندگی کی کچھ باتیں سنائیں۔ اس نے بتایا کہ اس نے اپنی پسند سے شادی کی، حالانکہ اس کے خاندان والے اس کے فیصلے سے متفق نہیں تھے۔ لیکن آٹھ سال کی محنت اور محبت کے بعد وہ اپنے خاندان کو قائل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔پھر اس نے اپنی بیوی اور بہنوں سے ہماری ویڈیوکال پر بات کروائی۔وہ سب بہت اخلاق کی مالک خواتین تھی۔

    رگجیت سنگھ نے انڈیا کے بارے میں بھی کچھ معلومات دیں۔ جب میری نانو نے پوچھا تو اس نے بتایا کہ انڈیا میں سونے کی قیمت تقریباً بہتر ہزار روپے فی تولہ ہے، جب کہ پاکستان میں سونا دو لاکھ روپے سے زائد فی تولہ ملتا ہے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ انڈیا سے پاکستان آتے وقت انھیں سختی سے کہا گیا تھا کہ پاکستانیوں سے کسی بھی قسم کی خرید و فروخت نہ کریں اور اپنے سامان پر نظر رکھیں، کیونکہ انڈیا میں پاکستانیوں کے بارے میں بعض لوگ منفی تصورات رکھتے ہیں۔ لیکن وہ ہم پاکستانیوں کے بارے میں بہت اچھے خیالات رکھتے تھے اور ہمارا استقبال انتہائی محبت سے کیا تھا۔

    ہم نے گوردوارہ کے اندرونی حصے کا بھی دورہ کیا، جہاں سکھ یاتری گورو نانک کے دربار پر ماتھا ٹیکنے میں مصروف تھے۔ گوردوارہ کے دربار میں سکھ یاتری اپنے عقیدت کے ساتھ عبادت کر رہے تھے اور گورو نانک کی تعلیمات پر عمل کر رہے تھے۔ اس روحانی ماحول میں بیٹھ کر ہمیں ایک خاص سکون اور اطمینان محسوس ہوا۔

    گوردوارہ کی عمارت کا منظر بہت دلکش تھا۔ اس کی سفید سنگ مرمر کی عمارتیں ایک محل کی طرح نظر آ رہی تھیں، اور پورا منظر ایک شاندار ورثے کی عکاسی کر رہا تھا۔ ہم نے یہاں تصویریں بنائیں یہاں کا سکون اور آہستہ آہستہ گزرنے والا وقت اس بات کا غماز تھا کہ اس جگہ کی حقیقت محض ایک عمارت نہیں، بلکہ ایک روحانی مرکز ہے جہاں گورو نانک کے پیروکار اپنے دل کو سکون پہنچانے کے لیے آتے ہیں۔

    یہ سفر ہمارے لیے ایک انتہائی یادگار تجربہ تھا۔ نہ صرف ہم نے گوردوارہ کی روحانیت کو محسوس کیا، بلکہ دو مختلف ملکوں کے لوگوں کے درمیان محبت، احترام اور بھائی چارے کا حقیقی مظاہرہ بھی دیکھنے کو ملا۔ اس سفر نے ہمیں یہ سکھایا کہ انسانیت کی بنیاد محبت اور احترام پر ہے، اور یہاں کے لوگ اس بات کا زندہ نمونہ ہیں۔
    عینی ملک

  • پھر اک بک فئیر ہے اور ہم ہیں دوستو.تحریر:راحت عائشہ

    پھر اک بک فئیر ہے اور ہم ہیں دوستو.تحریر:راحت عائشہ

    انیسواں کراچی انٹرنیشنل بک فئیر اپنے اختتام کو پہنچا ۔۔ یوں سمجھیں گویا کوئی عید تھی جو اس شہر میں کتابوں سے محبت رکھنے والے منا رہے تھے۔ ہماری خوش قسمتی تھی کہ جس دن کتاب میلے کا آغاز ہوا اسی دن ہم کراچی پہنچے۔ اور اگلے ہی دن بک فئیر میں ۔۔۔۔
    وہاں ایک عید کا سا سماں تھا ۔ بچوں کے کتاب گھر پر ہماری پہلی ملاقات فرحی نعیم سے ہوئی ،فہیم عالم صاحب اور کاوش صدیقی صاحب بھی وہیں موجود تھے ۔نئی نئی کتابیں دیکھ کر ہی دل کو بہت خوشی ہوئی ۔ یہاں ہماری ملاقات کاوش صدیقی صاحب کی جل پری سے بھی ہوئی ۔۔ اٹلانٹس کے اسٹال پر فاروق صاحب کے ساتھ ساتھ کرن صدیقی ، سمیر، ، عقیل عباس جعفری ، راشد اشرف ، محمود احمد مودی صاحبان جیسی شخصیات سے ملاقات ہوئی ۔ کچھ دیر بعد محبوب الٰہی مخمور صاحب اپنی صاحب زادی زوہا کے ساتھ تشریف لائے۔ کچھ دیر بات چیت ہوئی اور پھر ہم آگے چلے۔۔

    اسی دن ہمارے چچا حاطب صدیقی کی کتاب پھولوں کی زباں کی تقریب تھی جو پہلے چار بجے ہونی تھی اور اب پانچ بجے پر چلی گئی تھی اس لیے وہ ہال میں ایڈیٹر جسارت یحییٰ بن زکریا کے ساتھ چہل قدمی فرما رہے تھے۔ یہیں فیصل شہزاد صاحب بھی نظر آئے ۔یہاں پیاری فرزین لہرا بھی تھیں، خالد دانش بھی، معاذ معاویہ صاحب نے اپنی کتاب میرال کی گڑیا کا تحفہ بھی دیا ، معروف مترجم اسد الحسینی سے بھی ملاقات ہوئی اور انہوں نے بھی اپنی ایک عربی کتاب دی۔۔۔ ایک اسٹال پر ہمیں سر سلیم مغل اپنی نواسی کنزا کے ساتھ کتابیں خریدتے دکھائی دیے۔ ننھی کنزا بھی کتابوں کی خوشبو سے لطف اندوز ہو رہی تھیں۔۔۔ان کے ساتھ بک کارنر پر پہنچے تو وہاں علی اکبر ناطق اور گگن شاہد صاحب سے ملاقات ہوئی ۔ گگن صاحب نے ہمیں چائے پینے کی دعوت بھی دی لیکن کیا کریں کہ چائے ہمیں اچھی نہیں لگتی انہیں منع کرتے ہوئے بھی تھوڑا سا افسوس ہوا۔ بچوں کے کتاب گھر پر آئے تو دو پیاری پیاری بچیوں ایمن ، حبیبہ اور ان کی امی سے ملاقات ہوئی جو ہماری کہانیوں کی قاری نکلیں۔۔ انہوں نے ہم سے آٹو گراف لیا بچیوں کی خوشی دیکھ کر سچ پوچھیں تو ہمیں شاید ان سے زیادہ خوشی ہو رہی تھی ۔ اب چچا حاطب کی تقریب کا آغاز ہورہا تھا تو ہم اوپر تقریب میں چلے گئے جہاں حفصہ فیصل سے بھی ملاقات ہوئی ۔

    اگلی دن ہمیں ناجیہ شعیب صاحبہ ،فرزین لہرا، ان کی والدہ، آمنہ احسن، ایڈیٹر وی شائن نجیب حنفی صاحب ، ایڈیٹر ساتھی عبدالرحیم متقی ، سابق ایڈیٹر ساتھی اعظم طارق کوہستانی اور ساتھی کی دیگر ٹیم ممبران سے ملاقات ہوئی ۔ خوشی کی بات یہ بھی تھی کہ اس مرتبہ دسمبر کے ساتھی میں ہماری بھی ایک کہانی شامل ہے ۔
    اسما قادری سے بھی اچانک ملاقات ہوئی ۔۔ وہ کسی اور کو اپنا نام بتا رہی تھیں اور ہم نے وہیں انہیں پکڑ لیا۔۔۔

    ذوق شوق کے اسٹال پر مدیر صاحب نے ذوق شوق کا رسالہ اور ایک خوبصورت قلم کا تحفہ دیا۔۔
    اب کچھ کتابوں پر بات ہوجائے۔۔ اس مرتبہ بچوں کی اردو رنگین کتابوں میں کافی ورائٹی نظر آئی، دس بارہ صفحات پر مشتمل آرٹ پیپر پر رنگ برنگی تصویری کہانیوں کی قیمتیں پانچ چھ سو روپے تھیں جو بک فئیر میں آدھی قیمت پر دستیاب تھیں۔ ہال نمبر ایک اور ہال تین میں انگریزی ادب زیادہ تھا۔ بچوں کی انگریزی کتابیں بھی کافی معیاری قیمت پر تھیں۔ کہتے ہیں لوگ کتابیں نہیں پڑھتے لیکن یہاں تو بڑے، بچے بوڑھے سب ہی اپنی پسند کی کتابیں ڈھونڈ رہے تھے۔ کہیں اماں ابا بچوں سے پیسوں کے معاملے میں مک مکا کرتے بھی نظر آئے، میرا نہیں خیال کہ جو ان حالات میں (ایکسپو کے سامنے والی سڑک پر تعمیراتی کام کی وجہ سے ٹریفک) یہاں آئے، مہنگائی کے اس زمانے میں کتابیں خریدے اور پھر وہ پڑھے نا۔۔۔۔

    ہماری پیاری سہیلیاں صدیقی سسٹرز ہی دو دن میں ساٹھ کتابیں لے گئی ہیں۔ اور کتابیں بھی ایک سے بڑھ کر ایک ۔۔ اگر آپ کو اچھی کتابوں کے نام چاہییں تو گل رعنا صدیقی کی "دیوار "پر جھانک لیں۔۔
    عید کا اختتام ہوا۔ اب ان شاءاللہ کچھ کتابوں پر تبصرہ کتابیں پڑھنے کے بعد کرتے ہیں۔
    آپ نے بھی اس سال بک فئیر میں شرکت کی ؟ کیا آپ کو بھی ہماری طرح اس بک فئیر کا انتظار رہتا ہے ، ہاں جو کتابیں بک فئیر سے لی ہیں یا پڑھنے کے لیے جمع کر رکھی ہیں ان کے نام بھی بتا سکتے ہیں تاکہ ہمارے باقی احباب بھی مستفید ہو سکیں۔

    اے ذوق کسی ہمدمِ دیرینہ کا ملنا۔۔۔تحریر:راحت عائشہ

  • میرا تن من نیلو نیل ! تحریر:ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

    میرا تن من نیلو نیل ! تحریر:ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

    مغل پورہ لاہور میں قتل ہونے والی انیقہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آچکی ہے ۔ سر سے پاؤں تک جسم مضروب ہے ۔ پڑھ کر دل دہل جاتا ہے کہ مرنے سے پہلے ہی انیقہ کا جسم بری طرح ٹوٹ پھوٹ چکا تھا ۔
    چکوال میں مرنے والی پروین کا جسم ضربات کی شدت سے نیلا اور پانی میں رہنے کی وجہ سے پھول چکا تھا ۔
    بھائی کے ہاتھوں تکیہ منہ پہ رکھ کر مرنے والی ارم کی زبان پھول کر منہ سے باہر نکل آئی تھی ۔
    ڈاکٹر سدرہ کا بھیجا کھوپڑی میں گولی لگنے کی وجہ سے سوراخ سے باہر بہہ نکلا تھا ۔
    ڈسکہ میں سسرال کے ہاتھوں مرنے والی زارا کا سر کہیں تھا ، ہاتھ اور پاؤں کہیں ۔ ہر ٹکڑا چھرے سے کاٹ کر علیحدہ کیا گیا تھا ۔
    ملتان میں پنکھے سے لٹکائی جانے والی بیٹی کا جسم تو مضروب تھا ہی گلا بھی دوپٹے کے نشان سے نیلا پڑ چکا تھا ۔
    گجرات میں ڈنڈے کی شدید ضربات سے حاملہ بیوی کی سب ہڈیاں چکنا چور تھیں ۔ وجہ بیوی کے پیٹ میں بچی کا موجود ہونا تھا ۔

    یہ کچھ عورتیں ہیں جن کا قتل منظر عام پہ آیا ۔ نہ جانے ان جیسی کتنی گمنام رہتے ہوئے لحد میں اتر گئیں اور کوئی جان ہی نہ سکا کہ ان کے جسم کہاں کہاں سے لہولہان ہوئے ۔
    پھر ہم سے سوال پوچھا جاتا ہے کہ ایک آدھ کیس ہو جاتا ہے اور آپ تمام مرد برادری کو ذمہ دار کیوں ٹھہراتی ہیں ؟ کیا نیک فطرت مردوں کا کال پڑ گیا ؟
    ہم تلخ ہنسی ہنستے ہوئے کہتے ہیں ، بےشک سب مرد ایسے نہیں ہوتے مگر ہر بار ایک مرد ہی تو ہوتا ہے ۔
    لیکن ہمارا بھی ایک سوال ہے ؟
    ہمیں پوچھنا ہے سب مردوں سے کہ گھریلو تشدد کے سلسلے میں وہ لکیر کے کس طرف کھڑے ہیں ؟ مخالفت ؟ موافقت ؟
    اگر آپ گھریلو تشدد کے مخالفین میں سے ہیں تو آپ اس کے خاتمے کے لیے کیا سوچتے ہیں ؟ آپ کا کردار اس میں کیا ہونا چاہیے ؟
    اور اگر آپ گھریلو تشدد کے حق میں ہیں تو کیا کبھی تجربہ کرنا چاہیں گے کہ جسم پہ ایک بھی ضرب لگے تو جسم کا کیا حال ہوتا ہے ؟ آپ اس کو جسٹفائی کیسے کرتے ہیں ؟ اگر آپ کی بیٹی اور بہن اس کا شکار بنیں تب آپ کا ردعمل کیا ہو گا ؟ کیا آپ کو دوسرے انسانوں پہ ہوتا ظلم مضطرب نہیں کرتا ؟
    اور اگر آپ نہ مخالف ہیں نہ موافق اور اس قضیے سے لاتعلق رہتے ہوئے ایک طرف ہو کر زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو تب آپ منافقین میں گنے جائیں گے کیونکہ ہر زندہ روح کی ایک رائے ، کردار اور فرض ہوتا ہے جو معاشرے کی بقا کے لیے ضروری ہوتا ہے ۔
    آپ کو جاننا چاہیے کہ یہ مسلہ مرد و عورت کا ہے ہی نہیں ، یہ طاقت اور اس کے استعمال سے حاصل ہونے والی اتھارٹی کی بھوک ہے جو اپنے سے کمزور کو گھائل کر کے اپنے دانت تیز کرتی ہے ۔ معاشرے میں عورت کمزور ترین طبقہ ہے جس کے گرد شکنجہ کسنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی ۔ عورت کا قتل معاشرے کے گدلے جوہڑ میں کچھ دن کے لیے ارتعاش پیدا کرتا ہے اور پھر خاموشی چھا جاتی ہے جب تک ایک اور نہ ماری جائے ۔
    انصاف کی تلاش میں ورثا عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں ۔ تاریخ پہ تاریخ پڑتی ہے ، ضمانتیں ہوتی ہیں اور فائلیں شب وروز کی گرد
    دبتی چلی جاتیں ہیں ۔ نہ قانون بدلتا ہے نہ لوگ بدلتے ہیں اور نہ ہی ریاست عورتوں کے سر پہ دست شفقت رکھنے کو تیار ہوتی ہے ۔
    حل کیا ہے ؟
    معاشرے کا ہر فرد اس کے متعلق نہ صرف آگہی رکھے بلکہ اس کو انتہائی برا سمجھتے ہوئے اس کے خلاف آواز اُٹھائے ۔ آوازوں کا قافلہ بنے جو نہ صرف دھرتی کو ہلائے بلکہ آسمان میں بھی شگاف ڈال دے ۔ یہ وقت کی ضرورت ہے ، انسانیت کا تقاضا ہے کہ عدم سے آنے والی روحوں کو کسی خانے میں تقسیم نہ کیا جائے اور طاقتور جسم ، کمزور جسم کو ملیامیٹ کرنے کی خواہش سے باز رہے ۔
    دنیا تب ہی گلزار ہو گی !

  • "ہمسفر کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کریں”تحریر:آمنہ

    "ہمسفر کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کریں”تحریر:آمنہ

    ہمارے قریبی ہیں ٖ میاں بیوی میں تعلقات اچھے نہیں تھے ٖ ناراضگی اتنی تھی کہ سالوں تک بچوں نے باپ کی شکل نا دیکھی ٖ وہ ماں کے پاس رہے ٖتقریباً پندرہ سال بعد باپ کے انتقال کی خبر آئی ٖ تب بچے جنازے پر گئے
    میرے ذہن سے بات ہی نہیں نکل رہی کہ باپ کو سالوں بعد اس طرح دیکھ کر بچوں کے دل پر کیا گزری ہوگی ٖ ملاقات ہوئی بھی تو وہ باپ سے بات نا کر سکے ٖ اسے گلے نا لگا سکے ٖ یہ کمی اور خالی پن اب ساری زندگی ان کے دل میں رہے گا وہ اس آخری چہرے کو کبھی بھول نہیں پائیں گے ٖ شاید اس وقت انہیں احساس ہوا ہوگا کہ ہمارا کیا نقصان ہوا ہے ٖ
    کیا ہوا ٖ کس کا قصور تھا ٖ کون وجہ بنا ٖ وہ ساری باتیں تو اب ختم ہوگئی نا ٖ
    میاں بیوی کا رشتہ بچوں کے بعد صرف ان دونوں کا نہیں رہتا ٖ اس میں بہتری یا بگاڑ بچوں میں برابر تقسیم ہوتا ہے ٖ آپس میں جتنے مرضی اختلافات ہوں ٖ بچوں کے ذہنوں میں گندگی نہیں بھرنی چاہیے ٖ ماں باپ جیسا رشتہ بچوں کی زندگی میں بہ
    ت اہمیت رکھتا ہے ٖ دونوں میں سے کسی ایک کو بھی یہ حق نہیں ہوتا کہ وہ بچوں کو اس سے محروم کرے ٖ
    آپ کے لڑائی جھگڑوں میں آپ ٖ بچوں کا بچپن ٖ انکی معصومیت چھین لیتے ہیں ٖ پھر انا اور ضد کی خاطر بچوں کے ذہنوں کو تار تار کر دیتے ہیں ٖ انکی شخصیت میں کبھی نا بھرنے والا خلا چھوڑ دیتے ہیں ٖ
    اسلئے چاہے مرد ہو یا عورت ہمسفر کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کریں ٖ
    ہمارا رشتہ سسٹم بھی عجیب ہے ٖ پورا خاندان رشتہ دیکھنے چلا جاتا ہے ٖ لیکن جن دو لوگوں نے آپس میں زندگی گزارنی ہوتی ہے انہیں موقع ہی نہیں ملتا کہ بات کر سکیں ٖ
    بیشک یہ نصیب کی بات ہے ٖ لیکن پھر بھی اس رسک کو کافی حد تک کم کیا جاسکتا ہے ٖ بیٹھ کر ایک دوسرے کے مزاج کی بات کر لی جائے ٖ عادات کا بتا لیا جائے ٖ خیالات کا اظہار کر لیا جائے ٖ
    صبر ٖ برداشت ٖ ساتھ اور وفا پر بات کر لی جائے ٖ تا کہ اندازہ ہوجائے سامنے والا انسان کس طبیعت کا مالک ہے اور ہم اس طبیعت کے ساتھ چل سکتے ہیں یا نہیں ٖ مکمل کوئی بھی نہیں ہوتا لیکن کس حد تک کمپرومائز کرنا پڑے گا ٖ اندازہ ہوجائے گا ( یہ بھی اس صورت میں ہی ممکن ہے جب سامنے والی اپنی اصلی شخصیت کو سامنے رکھے)
    رہی بات محبتوں میں ہوئی شادی کی ٖ کہ وہ بھی تو ناکام ہوتی ہیں ٖ
    تو میں اس حق میں ہوں کہ اگر آپ کو کسی سے محبت ہے تب بھی اختلافات کی گنجائش رکھیں ٖ اس بات کو بھی ذہن میں رکھیں کہ سب کچھ اچھا اچھا ہی نہیں ملے گا ٖ اگر کبھی سمجھانا ہوگا تو کسی وقت سمجھنا بھی پڑے گا ٖ کوئی بات منوانی ہے تو کبھی ماننی بھی پڑے گی ٖ کبھی معذرت بھی کرنی پڑ سکتی ہے
    ٖ وقت کے اتار چڑھاؤ میں آپ کو تحمل مزاجی سے کام لینا ہوگا ٖ محبت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ مشکل وقت نہیں آئے گا ٖ تب آپ دونوں ایک الگ رشتے میں ہوں گے ٖ آپ کو اپنی ذات ٖ ایک دوسرے کے علاوہ ایک دوسرے کے رشتوں کو بھی دیکھنا ہوگا ٖ
    زندگی پھولوں کی سیج نہیں ہے ٖ کہیں کانٹوں سے بھی سامنا ہوسکتا ہے ٖ
    یہ محض چار دن نہیں پوری زندگی کی بات ہے ٖ
    اللہ پاک سے دعا کیا کریں وہ آپ کا نصیب کسی ظرف والے شخص سے جوڑیں ٖ کسی ایسے انسان کا ساتھ ہو جسکی قربت میں آپ زندگی کی دھوپ چھاؤں سکون سے گزار سکیں ٖ کوئی ایسا انسان جو آپ کے بچوں کا اچھا باپ یا اچھی ماں بن سکے ٖ
    ایسا جو حقیقی معنوں میں آپ کا گھر ہو ٖآمین

  • ناول،میں قربان. تحریر:فرح رضوان

    ناول،میں قربان. تحریر:فرح رضوان

    میں قربان .قسط 1
    منیبه کا گھر برقی قمقموں سے جگمگا رہا تھا کیونکہ آج ہاؤس وارمنگ پارٹی تھی، شادی کے کئی برس بعد بھی منیبه اور وقاص اپنا خود کا مکان نہیں خرید پاۓ تھے لیکن دو سال قبل مری کے ٹرپ سے لوٹتے وقت بڑی ترنگ میں وقاص نےاپنے بیوی بچوں سے وعدہ کیا تھا کہ 2021 میں جب دنیا ملینیم سال منائے گی وہ بھی اپنے نۓ گھر میں یادگار جشن منائیں گے،قدرت مہربان تھی کاروبار اچھا چلا اور وعدہ پورا ہوگیا -اس وقت مہمانوں کی آمد سے خوب رونق لگی ہوئی تھی ،وقاص نے گھر کی کشادہ چھت پر بہترین عشائیے کا انتظام کیا ہوا تھا خوبصورتی سے سجی ہوئی کھانے کی ٹیبلز سے زرق برق ملبوسات پہنے مہمان پلیٹوں میں کھانا لے کر اپنی نشستوں پر اینجواۓ کر رہے تھے ،ہر کوئی وقاص کی محنت اور منیبه کے سلیقے کی تعریفیں کر رہا تھا،یہ سلسلہ جاری تھا کہ بیل بجی تو ملازم نے آکر بتایا کہ آرکسٹرا والے آگۓ ہیں-

    کھانے کے بعد غزل کی محفل اور رتجگے کا بندوبست وقاص کی جانب سے اپنے گھر اور سسرال والوں کے لیۓ خصوصی گفٹ تھا ،میوزیشنز کی آمد کی اطلاع پر سبھی کی بانچھیں کھل گئیں لیکن ! وقار ماموں اور ان کی پوری فیملی نے فوری طور پر کھانے سے ہاتھ روکے اور جانے کے لیے کھڑے ہو گۓ منیبه نے ماموں سسر سے درخواست کی کہ کم از کم بچوں کو کھانا تو کھانے دیتے لیکن انہوں نے ناگواری سے جواب دیا کہ "تم لوگوں کو پہلے آگاہ کرنا چاہیے تھا کہ یہ گانے بجانے کی محفل ہے تو ہم آتے ہی نہیں ،اب اگر معلوم ہو گیا ہے کہ یہ موسیقی کی محفل ہے تو ہمارے لیے یہ کھانا جائز نہیں” منیبه سخت ہکا بکا تھی کہ ابھی تو سب کچھ حلال تھا ایک دم سے حرام کیسے ہو گیا ! بہرحال ماموں کی فیملی بغیر کسی سے ملے سیدھے نیچے اترے اور یہ جا وہ جا ….اس بدمزگی اور کرکراہٹ پر سبھی نے وقاص اور منیبه کو تسلی دی کہ ان کی تو عادت ہی یہی ہے ،تم لوگوں نے انہیں بلایا ہی کیوں تھا.پھر سب نے رات بھر خوب میوزک اینجواۓ کیا بظاہر منیبه نے بھی لیکن اندر سے وہ بہت بے چین تھی ،اس لیۓ نہیں کہ اسے بے عزتی محسوس ہوئی تھی بلکہ اس بات پر کہ ایسا کیا ہوا کہ ماموں کے بچوں نے بھی اتنے لذیذ کھانے سے فوری ہاتھ روک لیے اور بخوشی رنگوں بھری محفل یکدم چھوڑ کر چلے گۓ –
    ——————-
    امی جی میں اپنی بہن کی آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ سکتا بتا دیں اس خبیث کو کہ اب ہم اسے واپس رلنے کے لیے نہیں بھیجیں گے،میں نے بات کی تو پھر اس سے ہاتھا پائی پولیس کچہری ہو جانی ہے ،شوکت نے غصے میں چاۓ کا کپ رکھتے ہوئے ماں کو اپنا فیصلہ سنایا اور روتی ہوئی بہن کے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے پچکارتے ہوئے جیب میں ہاتھ ڈال کر بٹوہ نکالتے ہوئے کہا "نہ رو میرا بچہ یہ لے یہ پیسے لے کر اپنی بھابھی کے ساتھ رکشے پر جاکے بدھ بازار سے نیا سوٹ لے آ …پھر بیوی کو ڈپٹ کر آواز لگائی او نادیہ کدھر ہے بھئی کاکے کو امی کو دے اور صابرہ کو بدھ بازار لے کر جا ،مونہہ سوجھ گیا ہے بیچاری کا سوکھ کر کانٹا ہوتی جارہی ہے جب سے بیاہ کر گئی ہے اس ہڈ حرام کے ساتھ "- سوٹ کا نام سنتے ہی صابرہ کے اداس چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی،مگر بہت لاڈ سے بھائی سے اٹھلا کر بولی نہیں میں نے بدھ بازار سے نہیں سوٹ لینا وہ جو نیا مال کھلا ہے نا ڈرائیونگ سینما کی جگہ پہ ….نادیہ نے جلدی سے کہا "وہ میلینیم مال ! ادھر تو بڑی مہنگی دکانیں کھلی ہیں ” شوکت نے بیوی کو جھڑک کر کہا تو اس کے بھائی کے پاس کمی ہے پھر جیب سے مزید رقم نکال کر بہن کو تھماتے ہوئے پوچھا کم تو نہیں پڑیں گے نا !صابرہ خوشی سے پیسے جھپٹتے ہوئے کمرے سے اپنی چادر لینے چلی گئی ،نادیہ نے کہا "میرے دانت کے درد کی دوا لاۓ ہیں نا اب برداشت نہیں ہو رہی درد مجھ سے ” شوکت چڑ کر بولا "جب سے آئی ہے میری زندگی میں کبھی صحت مند بھی رہتی ہے ؟ بچپن میں ماں باپ نے اچھی خوراک کھلائی ہوتی تو میرے سر یہ مصیبت تو نہ آتی "نادیہ نے جھگڑے سے بچنے کے لیے شوہر سے کہا مجھے پیسے دے دیں میں خود ہی لیتی آؤں گی ،شوکت نے خالی بٹوہ دکھاتے ہوئے کہا صبر کر لے آج تو پھر کل لیتا آؤں گا ”
    ————-
    اب کتنے دن استخارہ کرو گی نیک بخت تمہاری سگی بہن کا بیٹا ہے بچپن کا دیکھا بھالا ہےاور مجھے امید ہے کہ ناروے میں بھی یہ لڑکا بگڑا نہیں ہوگا ویسے بھی باجی اور نیاز بھائی نے شروع سے ہی اپنے اکلوتے بیٹے کی تربیت عمدہ اصولوں پر کی ہے…. اور دل کی بات کہوں تو میری اپنی خواہش تھی سلیمان کو آمنہ کے لیے مانگ کر اپنا داماد بنا لوں لیکن جانتی ہو نا پاکستانی کلچر ہمارے دین سے کتنا مختلف ہے ،لڑکی والے رشتہ مانگنے میں پہل نہیں کرسکتے، پتہ نہیں اور کتنے برس یہ سلسلہ چلے گا دوہزار بیس بھی گزرا جا رہا ہے لیکن !….ارے میں ہی بولے جارہا ہوں تم کب وظیفہ ختم کرکے بولو گی ….جواب میں زبیدہ نے رونا شروع کر دیا سراج صاحب کی آنکھیں بھی نم ہو گئیں وہ بیگم کو کندھے سے لگا کر تسلی دینا چاہ رہے تھے لیکن بیٹی کی جدائی کے خیال سے خود بھی رودیے –
    —————–
    "باجی یہ کیسی سہیلی ہیں آپ کی یہ ٹی وی نہیں دیکھتیں ؟ ” ثروت نے کل وقتی کم عمر ملازمہ کی طرف حیرت سے دیکھتے ہوئے پوچھا "کیا مطلب؟” ملازمہ نے سینڈوچز گنتے ہوئے کہا باجی 2021 چل رہا ہے اب کون اتنے بچے پیدا کرتا ہے،ٹی وی دیکھتیں تو سن لیتیں کہ بچے دو ہی اچھے ثروت نے حیرت اور مسکراہٹ دبا کر خفگی سے کہا "ماشاللہ کہتے ہیں اور اتنی بڑی بڑی باتیں چھوٹے بچوں کے مونہہ سے اچھی نہیں لگتیں،ان کے دو دو تو جڑواں بچے ہیں نا ” پھر ناشتے کی ٹرے لے کر لاؤنج میں آگئ جہاں ردا چھوٹے بیٹے کو گرمی لگنے پر ہلکے کپڑے پہنا رہی تھی ساتھ ہی دو عدد لڑتے ہوئے بیٹوں کا مقدمہ بھی سلجھ رہا تھا-ردا اس کے بچپن کی سہیلی تھی جس کی شادی بھی ثروت کے میاں عاقل کے دوست سے ہوگئی تھی اسی لیے ان کی فیملیز کی بہت بنتی تھی ،ساتھ سفر کرتے ساتھ ساتھ پکنک پر جاتے بچے بھی تقریبا ساتھ ہی ہوتے رہے لیکن ثروت کے پانچ بچے تھے جبکہ ردا کے آٹھ اور سب سے بڑا دس سال کا تھا .ردا بہت ہی ہنس مکھ اور کھلے دل کی لڑکی تھی ،ہاں یہ بھی قدرت کی مہربانی تھی اس پر کہ کم عمری میں شادی اور بچوں کے کاموں میں ایکٹیو رہنے کی وجہ سے وہ اب بھی لڑکی ہی دکھائی دیتی تھی ،اتنی مصروفیت کے باوجود سسرال کو دیکھنا ساس سسر کی پوری ذمہ داری نبھانا اور خوش باش رہنا ،شاید شوہر کی محبت اور توجہ بھی تھا اس کا راز .

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

    میں قربان .قسط 2
    نادیہ کو صابرہ پر کبھی ترس آجاتا کبھی غصه .
    غصہ اس لیے کہ وہ بہت اچھی طرح سمجھ رہی تھی کہ صابرہ کا شوہر خرم اتنا بھی برا انسان نہیں بلکہ وہ تو ایک شریف النفس انسان ہے جو بیوی کا اتنا غصّہ اور بار بار روٹھ کر میکے چلے جانا برداشت کر لیتا ہے لیکن بیوی کی مادی فرمائشیں پوری کرنے کی خاطر زیادہ کی لالچ میں حرام کی طرف نہیں جاتا اور یہ بات اس نے صابرہ کو کئ بار واضح طور پر بتا دی ہے.
    دوسری جانب صابرہ کی ازلی سستی گھر کے کاموں میں عدم دلچسپی اور اپنے سجنے سنورنے گھومنے پھرنے کے شوق کو پورا کرنے کی بے لگام خواہش اس کے شوہر کی تنخواہ سے بہت بڑھ کر ہے تو بیل کیسے منڈھے چڑھے ۔
    صابرہ بچپن سے اپنے ابا جی کی بہت ہی لاڈلی تھی ،جب جب اس کی ماں چاہتی کہ یہ گھر کے کام سیکھ جائے تو اس کا باپ ہمیشہ ہی اسے ان کاموں سے روک دیا کرتا تھا کہ میری بیٹی تھک جائے گی ، ماں بھی میاں کے سامنے تھوڑی بہت بات ہی کرپاتی تھی کہ آگے جا کر ہماری بچی کو نباہ میں بہت مشکل ہو جائے گی تو وہ کہتا کہ آگے اللہ آسانی کرے گا۔ میری شہزادی تو کسی بڑے گھر میں ہی بیاہ کر جائے گی جہاں اسے ان چھوٹے موٹے کاموں کو کرنا ہی نہیں پڑے ۔صابرہ اسی سوچ اور تربیت کے ساتھ بڑی ہوتی گئی، باپ اس کے نخرے اٹھاتا رہا وہ منہ سے کوئی بات نکالتی کہ مجھے فلاں چیز چاہیے اور کبھی اپنی تنگدستی کی وجہ سے وہ پورا نہیں کر پاتا تو پھر صابرہ نیند میں اس بارے میں رونا یا بڑبڑانا شروع کر دیتی تھی ماں کہا کرتی کہ یہ بڑبڑاتی نہیں ہے مکر کرتی ہے اور جب اس کو ہنسانا یا جگانا چاہتی تو باپ روک دیتا کہ نہیں میری شہزادی کی نیند خراب ہو جائے گی مگر اپنی بھوک اور نیندیں قربان کر کے اس کی فرمائش پوری کیا کرتا تھا.
    صابرہ کے والد اپنی بیٹی کے لاڈ کے سامنے اس کی ماں کی ایک نہیں سنتے تھے یوں اس کی پرورش میں یہ چیزیں شامل ہوتی چلی گئیں تو وہ ہر ایک سے زور زبردستی اپنا آپ منوانا شروع ہو گئی ۔
    یہ سب باتیں نادیہ کو اس لیے معلوم تھیں کہ وہ ان کے قریبی رشتہ داروں میں سے تھی ۔
    اور اکثر صابرہ کی ماں نادیہ کی ماں سے ہی مشورے کیا کرتی تھی۔
    رفتہ رفتہ صابرہ کا مزاج سخت سے سخت ہوتا چلا گیا ، زبان اس سے بھی زیادہ تیز ہوتی چلی گئی۔ جب اسے غصہ آتا تو اپنی ماں کو بھی اچھے سے باتیں سنانے سے نہ چوکتی اور محلے پڑوس میں کبھی کسی سے کوئی بات ہوجاتی تب بھی چھوٹے بڑے کا لحاظ کیے بغیر ان سے خوب لڑا کرتی ،رشتہ داروں میں سے کسی کی کوئی بات اسے بری لگتی تو گھر بیٹھے ہی ان کو برا بولتی رہتی اور باپ اس کا ساتھ دیتا رہتا کہ کیسے اپنے حق کی بات کرتی ہے میری بیٹی تو وہ اور شیر ہو جایا کر تی ۔ حتی کہ بعض دفعہ باپ سے بھی بد تمیزی کر جاتی لیکن وہ اسے لاڈ ہی مانتا ۔بہرحا ل تقدیر کے لکھے کو کون ٹال سکتا ہے، ایک دن صابرہ کے والد کا ہارٹ فیل ہوا اور وہ اسے روتا چھوڑ کر دنیا سے کوچ کر گۓ ۔
    والد کی وفات کے بعد گھر کا سارا بوجھ شوکت کے کاندھوں پر آ گیا ۔ وہ ابھی کالج میں ہی تھا ساتھ ہی سارے گھر کا ذمہ اٹھانا پڑا اس نے خود سے عہد کر لیا تھا کہ وہ صابرہ کو کبھی بھی باپ کی کمی محسوس نہ ہونے دے گا ۔تو باپ کی جگہ شوکت نے لے لی یعنی ماں جو سمجھتی تھی کہ اب بھی صابرہ کو راہ راست پر لایا جا سکتا ہے اس کی بیٹے کے سامنے کچھ نہ چل سکی،۔شادی کی عمر ہوئے تک صابرہ کی بدمزاجیوں کے جوہر محلے اور رشته داروں سب پر اتنے کھل چکے تھے کہ اس سے لوگ رشتہ کرنا تو دور اس کے لیے رشتہ لانے سے بھی ڈرا کرتے ،جس قسم کےرشتے خالہ رشتے والی لا رہی تھیں وہ صابرہ کو بالکل بھی پسند نہیں آرہے تھے، پھر جب اس کی عمر تھوڑی بڑھنی شروع ہوئی اور دو چارقریبی لوگوں نے بھی اسے سمجھایا کہ انسان کو اپنے ہی جیسے لوگ ملتے ہیں ، تم جس طرح کے خواب سجا کے بیٹھی ہو ایسا رشتہ مشکل سے ہی ملتا ہے،صبر سے کام لیتے ہوئے اللہ سےامید رکھو کہ شادی کے بعد جیسے جیسے تمہارے شوہر کی ترقی ہوگی تو تم سارے خواب پورے کر لینا لیکن صابرہ میں کمی صبر ہی کی توتھی ۔اسے اپنے ہونے والے شوہر کا سوشل اسٹیٹس بالکل بھی پسند نہیں آیا تھا،

    ہاں اسے شادی کرلینے کا آئیڈیا اس لیے پسند آ گیا تھا کہ پھر اماں جو کہتی تھیں کہ ابھی لپسٹک نہ لگاؤ، ابھی تیار ہو کے باہر نہ جاؤ ،بال نہ کھولو ان سب باتوں کی آزادی اسے شادی شدہ ہونے کے بعد مل جانی تھی اسے جہیز کے لیے بہت ساری چیزوں کا شوق تھا یہ ساری خواہشات اس کے بھائی نے پوری کیں تاکہ صابرہ کو باپ سے محرومی کا احساس نہ ہو
    اپنے بہت سے خرچے نظر انداز کر کے کئی خواہشات پس پشت ڈال کر شوکت نے بہن کے لیے جہیز تیار کیا ،اس سے بھی صابرہ میں ایک احساس تکبر پیدا ہو گیا تھا شادی کے دن سے ہی صابرہ نے بہت زیادہ سخت مزاجی اور ترش روی کا مظاہرہ کیا۔
    اس کے سسرال سے جب جوڑا آیا تو اس نے غصے میں اس کو اٹھا کے پٹخ دیا اور زیور ایک طرف ڈال دیے کہ یہ کوئی چڑھاوے پہنانے کی چیز ہے،ایسے ہلکے زیور پہنوں گی میں ! کم از کم میرے سسرال والوں کو اتنا اور اتنا تو کرنا ہی چاہیے تھا ،معیار اس نے اپنے ذہن میں اتنا زیادہ بلند کر کے رکھا تھا کہ وہ چیز پوری ہو کر نہیں دے رہی تھی ۔

    صابرہ کو سسرال کی ذمہ داریاں بھی اپنے سر نہیں لینی تھیں۔ اس نے چند ہی دنوں میں الگ گھر لینے کا مطالبہ کر دیا اور اس بات پر روٹھ کر میکے آ گئی اور تب سے یہ روٹھنا منانا شروع ہوا جو شادی کے دو سال بعد تک بھی جاری ہے لیکن کیونکہ اس کا شوہر جانتا ہےکہ اس لڑکی کا باپ بھی نہیں ہے اور یہ غریب گھر کے لڑکی ہے تو وہ جس حد تک رعایت کر سکتا تھا کرتا رہا ہے لیکن اب یوں محسوس ہونے لگا تھا کہ جیسےوہ بھی تھک چکا ہو
    نادیہ سوچ رہی تھی کہ عجیب انتہاؤں پر ہوتے ہیں لوگ میرے میکے میں بیٹیاں کتنی ہی لائق فائق ہوں ان کی قدر ہی نہیں لیکن لڑکا کتنا ہی نکما ہو اسے سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں جبکہ صابرہ کے کیس میں بیٹی کو سر پر بٹھا کر اسے اپنے ہی گھر میں ٹک کر بیٹھے رہنے کے قابل نہیں چھوڑا۔ کیا میں اپنی ہونے والی بیٹی کو اعتدال سے پال سکوں گی ؟
    ———-
    منیبہ پہروں بیٹھی سوچا کرتی تھی کہ اس کے شوہر نے کتنی محنت سے یہ گھر بنایا لیکن ساتھ ہی امریکہ کی ایمیگریشن کے لیے بھی کاغذات جمع کروا دیے تھے ،وہ بھرا پرا میکہ خاص کر بڑھاپے کو پہنچنے والے والدین کو چھوڑ کر کیسے رہ سکے گی ؟ کتنا مزہ آئے کہ ان کے پیپر ریجیکٹ ہو جائیں ،اگر ویزہ مل گیا تو کیا وہ عین وقت پر اپنے شوہر کو پاکستان چھوڑ کر نہ جانے کے لیے منا سکے گی ؟ کیا کریں گے فیملی کے بغیر ؟ اسے تو سسرال میں بھی مزہ ہی آتا تھا بس کبھی کبھی دونوں نندوں کی ناسمجھی سے بیزار سی ہو جایا کرتی تھی وہ بھی اپنے لیے نہیں ان ہی کے بچوں کی تربیت کے لیے.
    منیبه نے دبے لفظوں میں پہلے بھی اپنی دونوں ہی نندوں کو الگ الگ یہ بات سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ بلا شبہ ان میں مثالی محبت ہے اور ان کے شوہر بھی ایک دوسرے کے اچھے دوست ہیں لیکن آمنے سامنے اپارٹمینٹس میں مزید رہتے رہنا دانشوری ہرگز نہیں،ایک تو یہ کہ آپا کے بیٹے بڑے ہو رہے ہیں خالہ کے گھر بلا جھجک پہنچ جانے کی عادت پر ہی کم از کم پابندی ہونی چاہۓ، دوسرا یہ کہ نگہت کی بیٹی گو کہ چار پانچ سال کی کمسن بچی ہے لیکن کزنز کے ساتھ سودا سلف لینے تنہا بھیج دیا کرنا دونوں کی اولادوں کے لیے ٹھیک نہیں لفٹ میں ننھی نادان بچی کزنز کے ساتھ جائے یہ مناسب نہیں .جس پر نہ صرف دونوں بہنیں اس کی ذہنی آلودگی پر برس پڑی تھیں بلکہ بھائی سے بھی اس کی بیگم کی اس گھٹیا سوچ پر شکایت لگادی تھی جس پر وقاص منیبه پر بہت برہم ہوا تھا اور منیبه نے ان بھائی بہنوں کی بے عقلی پر ماتم کرکے اس معاملے سے خود کو الگ کرلینے کا پکا فیصلہ کر لیا تھا،البتہ ساس سسر جو آج کل نگہت کے گھر ہی رہنے گۓ ہوئے تھے ان تک غالبا یہ ان بن والی باتیں نہیں پہنچائی گئی تھیں تبھی انہوں نے اس کی پیشی طلب نہیں کی تھی لیکن ! آج ساس کی طبعیت کی خرابی کا سن کر اس سے رہا نہ گیا،جلدی جلدی پرہیزی کھانا تیار کیا کہ بچوں کے سکول سے واپس لوٹنے سے پہلے ہو آۓ گی
    تو انہیں سرپرائز دینے کی غرض سے بغیر اطلاع دییے پہنچ گئی لیکن اوپر آکر سوچا کہ اس سے پہلے کہ کوئی کڑوی بات سنائی جائے خود ہی بڑی آپا کو سلام کرتے ہوئے نگہت کی طرف جانا چاہۓ،لیکن دستک کے بعد دروازہ کھلنے پر اسے اپنے غصے پر قابو پانا مشکل لگ رہا تھا پہلے اسے صرف خدشہ تھا کہ آپا کا بڑا بیٹا راشد کسی فتنے کا شکار ہو چکا ہے اسی لیے نگہت کی معصوم حنا کو اس کی پہنچ سے دور رکھنا چاہۓ لیکن اس وقت تو اس کے پیروں تلے زمین نکل گئی جب ارشد نے بتایا کہ مما تو خالہ جانی کے گھر ہیں نانو کی خدمت کرنے گئی ہیں اس نے ڈپٹ کر پوچھا کہ حنا یہاں کیوں ہے تم سکول میں کیوں نہیں تو بڑے سکون سے جواب دیا کہ مامی سکول میں تو پڑھائی ہوتی ہی نہیں میں گھر پر ٹیسٹ کی تیاری کے لیے رک گیا تھا ….اور یہ حنا موٹلو اپنے گھر میں رہتی کہاں ہے کبھی بلو اسے لے آتا ہے کبھی سنی کبھی مما بابا بلا لیتے ہیں سارا دن کبھی کینڈیز کھاتی ہے کبھی چاکلیٹ وہاں گھر پر تو خالو جان اسے یہ کھانے سے منع کرتے ہیں نا ….منیبه کو دال میں کالا نہیں دال ہی کالی دکھائی دے رہی تھی لیکن کس سے کہتی ….شاہد بھائی ہاں وہ باپ ہیں حنا کے، ان کی غیرت کو جگانا پڑے گا،وہ اپنے ماتھے پر پڑی تیوریوں سے راشد کو باآور کروا چکی تھی کہ اسے یوں اکیلے گھر میں حنا کو ساتھ رکھنا سخت ناگوار گزرا ہے،اس نے حنا کا ہاتھ تھامے بہ مشکل ایک قدم ہی پیچھے کیا ہوگا تو خود کو نگہت کے گھر کے سامنے پایا.راشد ساتھ ہی آگیا تھا اور اس سے پہلے ہی بغیر دستک دیے سیدھا گھر کے اندر جاکر بتایا کہ بڑی مامی آئی ہیں .
    منیبہ غصے پر قابو پاتے ہوئے سب سے اچھے سے ملی ساس سے مسکرا کر پوچھا کہ سچ بتائیں کیا بدپرہیزی کی تھی تو سسر نے ہنستے ہوئے بتایا کہ سب آئسکریم کھا رہے تھے تو ہماری بیگم سے رہا نہیں گیا اب دیکھو ذرا کتنی تکلیف اٹھا رہی ہیں.
    منیبه نے پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "امی آپ کو لاسٹ ٹائم ڈاکٹر نے کتنی تاکید کی تھی نا کہ آپ کا جسم بہت کمزور ہو گیا ہے ٹھنڈی میٹھی کسی چیز کی لالچ میں نہیں آنا ورنہ صرف شگر نہیں بڑھے گی بلکہ نمونیہ بھی ہو سکتا ہے ” دونوں نندوں نے بہ یک زبان بھاوج کی بات کاٹی بلکہ آپا نے تو قدرے سخت لہجے میں کہا کہ "اللہ کی بندی بات تو اچھی کیا کرو”جبکہ نگہت نے منمناتے ہوئے کہا "بھابھی برا نہیں مانیے گا لیکن جب سے نیا گھر لیا ہے نا آپ نے لگتا ہے جیسے سب کو شرمندہ کرنے کا علم اٹھالیا ہے آپ نے” ،منیبه ہکا بکا رہ گئی ،نگہت کا شکوہ جاری تھا "میں اکیلے ہی محسوس نہیں کرتی کہ آپ کہیں کہ میں اپنے بھائی کی ترقی سے جلنے لگی ہوں نقاش بھائی بھی کہہ رہے تھے کہ اب وہ بات نہیں رہی بھابھی کے رویے میں”منیبه کی حیرت میں مزید اضافه ہو گیا تھا کہ اس کے پیٹھ پیچھے وہ نند اور دیور جن کا ہر بھلے برے وقت میں جی جان سے ساتھ دیا اس کے بارے میں کیا کیا باتیں کرتے ہیں ،مگر شادی کے اتنے عرصے بعد وہ یہ بھی جان چکی تھی کہ ان سب کو صفائی دینے پر یہ مل جل کر کوئی دوسرا الزام اس کے سر ڈال دیں گے لہذا وہ اس بات کو اگنور کر کے دھیمے سے اٹھ کر ساس کی سائیڈ ٹیبل پر رکھی دواؤں کا جائزہ لینے لگی …پھر ٹھٹھک کر مڑی اور آپا سے پوچھا "ان دونوں دواؤں کی ایکسپائری ڈیٹ تو بہت نزدیک کی ہے کس میڈیکل سٹور سے لی ہیں ؟ وقاص تو امی ابا کی دوائیں ہمیشہ اچھے سٹورز سے لیتے ہیں ،ختم ہو رہی تھیں دوائیں تو انہیں فون کر دیتے "- آپا نے چونک کر راشد کی طرف دیکھا کہ اس نے پھر پیسوں میں ڈنڈی مار لی ہے لیکن بھاوج کے سامنے بہانہ بنادیا کہ ارے یہ تو راشد جلد بازی میں نیچے والی دکان سے پورا پتہ لے آیا میں ابھی تم سے یہی تو کہنے والی تھی کہ وقاص کو کہہ دینا دفتر سے آتے وقت امی کی دوائیں لیتے آئے تم بیٹھو چاۓ تو پیو،راشد ماں کی آنکھوں میں قہر دیکھ کر واپس اپنے گھر ٹیسٹ کی تیاری کرنے چلا گیا

    میں قربان .قسط 3
    وقاص کھانے کے بعد چائے پیا کرتا تھا منیبه جب بھی چائے کا کپ لے کر اتی تو وہ کھانے کی پلیٹ کی طرف دیکھتی، اگر کھانا پورا ختم کر لیا ہو تو اس کا مطلب ہے کہ وقاص کو پسند آگیا ہے البتہ کھانے میں کبھی کوئی نقص ہوتا تو وہ برملا اس کا اظہار کرتا اور کبھی منیبه کو ہلکی پھلکی ڈانٹ بھی پڑ جایا کرتی کہ کھانا دھیان سے نہیں بناتی اور یہ ہمیشہ سے اس کی عادت تھی کہ اگر بیوی کی کوئی بات پسند آجاۓ تو اسے کوئی گفٹ دلا دیا کرتا تھا لیکن مونہہ سے کچھ نہیں بولتا تھا-منیبه کو ان اشیا کی ضرورت نہیں تھی ، اس کے کان تو ہردلعزیز متاع جان کے دو اعترافی بول کے لیے ترس رہے ہوتے تھے، ساری دنیا منیبه کی خوبیوں کی معترف تھی لیکن وہ جس سے سننا چاہتی تھی وہاں سے کوئی لفظ سماعتوں سے ٹکرانے کی جسارت نہ کرتا تھا-

    کھانے کی پلیٹ صاف تھی اسے یہ دیکھ کر اطمینان ہوگیا، چائے دے کے وہ وہیں بیٹھ کر باتیں کرنے لگی بچے اپنے کمرے میں ہوم ورک کر رہے تھے، وقاص کو یاد آیا تو بتانے لگا ” ارے آج دفتر میں آفتاب بھائی سے ملاقات ہوئی تھی تو وہ کہہ رہے تھے کہ پرسوں یہ لوگ ہماری طرف آئیں گے "اس پر منیبہ مسکرا کر بولی ” اچھا میں بچوں کو بتا دیتی ہوں” وقاص سمجھ گیا وہ بچوں سے کیا کہے گی اس لیے ذرا چڑ کر بولا "یار یہ بہت بری عادت ہوجاتی ہے بچوں کے اندر کہ وہ اپنی ہر چیز اٹھا کرکسی کے آنے سے پہلے چھپا دیں تو بڑے ہو کران میں بڑے لیول پر شیئرنگ کی ہمت اور عادت کیسے آئے گی ” منیبه نے دھیمے لہجے میں کہا ” بس کچھ نازک یا بہت خاص چیزیں جو نایاب ہوتی ہیں ان کے لیے ہی میں انہیں کہتی ہوں کہ ایک طرف سنبھال لیں کیونکہ دوسرے اکثر بہت بے دردی یا لاپرواہی سے استعمال کرتے ہیں میں اس لیے بھی احتیاط کرتی ہوں کہ چیزوں کے پیچھے ہمارے تعلقات خراب نہ ہوں، بچوں کی کچھ چیزوں کے ساتھ بہت زیادہ اٹیچمنٹ ہوتی ہے احساس تحفظ بھی تو ہمیں ہی دینا ہے نا انہیں اور جناب یہ بھی تو دیکھیں نا کہ ان اصولوں پر چل کر ہماری دوستی کتنے عرصے سے قائم ہے”- پھر جب وہ بچوں کومطلع کرتی ہے تو بیٹا بہت خوشی کا اظہار کرتا ہے جب کہ بیٹیاں شکوہ کرتی ہیں کہ "مما وہ لوگ ہمارے سارے کھلونے خراب کر دیتے ہیں اور گھر بھی گندا کر دیتے ہیں ہمیں بعد میں صاف کرنا پڑتا ہے ” وقاص بڑی بیٹی کوقریب بلاتا کر اس کے سر پہ ہاتھ پھیر کے کہتا ہے کہ اپنی چیزیں شیئر کرنے کی عادت ڈالتے ہیں،آپ کی بہت ساری پرانی چیزیں ایسی ہوں گی جو آپ کو یاد بھی نہیں ہوں گی کہ وہ کہاں ہیں کس کو دیں کس حال میں ہوں گی تو کبھی کبھی کچھ چیزیں اپ کے سامنے بھی اگر خراب ہو جاتی ہیں تو تھوڑا بہت صبر کر لینا چاہیے ،آپ اگر اپنی ہر چیز اٹھا کے رکھ دو گے توآپ کھیلو گے کیسے؟ پھر آپ کی باتیں بھی ختم ہو جائیں گی، پڑھائی تو نہیں کر سکتے نا جب دوست آتے ہیں ،تھوڑی بہت چیزیں شیئر کر لینی چاہیے اگر کوئی کھلونا ٹوٹا تو میں اپ کو دلا دوں گا”-بچوں نے سر ہلا کر اس کی بات سمجھ لینے کا سگنل دیا اور اپنے کمرے میں واپس چلے گئے –

    وقاص نے منیبه کی طرف شرارت سے دیکھتے ہوئے کہا” لڑکیوں کو تو بچپن سے شئیرنگ آنی چاہیے تاکہ شادی کے بعد اپنے شوہر کو اپنی مسلمان بہنوں سے شئیر کر سکیں” منیبه نے آنکھیں دکھاتے ہوئے کہا "پھر وہی مذاق ” تو وقاص نے ہنستے ہوئے کہا "مذاق کہاں کر رہا ہوں،دل کے ارمان اپنی بیوی کے سامنے نہیں رکھوں گا تو کہاں جاؤں گا میں بیچارہ ” منیبه نے نرمی سے کہا "میں یہ بات کسی بھی انداز میں آپ سے سننا نہیں چاہتی،بہت سی باتیں میں آپ کی ایک ہی بار میں مان لیتی ہوں تو یہ ایک بات آپ میرے بار بار منع کرنے کے باوجود بھی کیوں نہیں مانتے؟” پھر منیبه غصے میں برتن سمیٹ کر لیجانے لگی تو وقاص نے اسے کلائی سے پکڑ کرواپس بٹھا لیا اور بولا
    "تو منع کر دوں اس بیچاری کو نازک سا دل ٹوٹ جائے گا اس کا ….” منیبه غصے میں بھناتی ہوئی ہاتھ چھڑا کر کچن میں چلی گئی ،وقاص نے پیچھے سے آواز دی” ہنس رہی ہو نا ” نومی نے آکر بتایا "نہیں پاپا مما رو رہی ہیں ،آپ نے پھر سے ان کو رلا دیا میں تو اپنی بہنوں کو نہیں رلاتا”
    اگلے دن آفتاب اور ان کی بیگم ردا اپنے سب بچوں کے ساتھ پہنچے تو گھر میں ایک شور اور بڑی رونق والا ماحول ہو گیا بڑے عرصے بعد یہ لوگ ملے تھے ، دفتر اور بچوں کی مصروفیات کی وجہ سے کم کم ہی ملنا ہوتا تھا اورفون کی
    لائن تو اتنی خراب تھی کراچی میں کہ ایک بندہ بات کرتا تو تین اور لوگوں کی لائن اس میں کنیکٹ ہو جایا کرتی ویسے بھی پیچھے بچوں کا شور اتنا ہوتا تھا کہ فون پہ بات کرنا دشوار ہو جایا کرتا تھا -وقاص اور آفتاب اوپر ڈرائنگ روم میں چلے گئے بچے لاؤنج میں کھیل رہے تھے اور ساتھ والے کمرے میں منیبہ اور ردا بیٹھ کر باتیں کرنے لگے ردا کا چھوٹا والا کافی بھوکا نظرآ رہا تھا اس نے سب سے پہلے اس کا ڈائپر چینج کیا پھر بیگ سے پیالی چمچہ سیریل اور بوتل سب نکال کر مکس کر کے بچے کو کھلایا ،اس دوران منیبه نے ملازمہ کی مدد سے ٹیبل پر کھانا لگوایا کا یہ لوگ جب کبھی بھی ملتے تو بہت زیادہ پرتکلف کھانا نہیں ہوا کرتا تھا ،اچھی سی ایک دو چیزیں ہوتی تھیں اور سب مل کر خوشی سے کھا لیا کرتے تھے کھانے کو پر تکلف بنانے پہ ویسے اس لیے بھی ایک عرصے سے محنت نہیں کررہے تھے کہ انہیں سمجھ آچکا تھا کہ ہم اگر اس کام میں تھک چکے ہوں گے توآپس میں اچھے سے ایک دوسرے کو وقت نہیں دے سکیں گے اس لیے ملنے سے پہلے اپنی اور بچوں کی نیند پہ بہت توجہ دیا کرتے تھے- بہت محدود توانائی ہوتی ہے ایک انسان میں اس کو کس طرح استعمال کرنا ہے یہ سلیقہ انہیں وقت کے ساتھ ساتھ آگیا تھا-

    کھانے کے بعد بچوں کا شور کچھ اور زیادہ ہی ہو گیا تھا آفتاب کو سگریٹ پینے کی عادت تھی تو وہ یہ کہہ کر کہ ” ہم باہر سے بچوں کے لیے آئسکریم لے آتے ہیں”وقاص کے ساتھ چلے گئے پیچھے ردا اور منیبہ نے سوچا کہ بچوں کو ہم ٹی وی پر کچھ لگا کے دے دیتے ہیں تو اس نے وی سی آر کی لیڈ دراز سے نکالی اور شیشے کے کیبنیٹ میں سے کارٹون والی کیسٹ نکال کر لگا دی، بچے سکون سے بیٹھے تو منیبہ اور ردا ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے ردا ہنستے ہوئے کہنے لگی کہ "تمہیں پتہ ہے کہ جب کبھی بھی مجھے پتہ چلا کہ اب مزید ایک اور بچہ میری زندگی میں آرہا ہے تو سب سے زیادہ جب سپورٹ کی ضرورت تھی نا یار دیکھو اپنی ماں ہی سب سے زیادہ یاد آتی ہےنا تکلیف میں! لیکن میری ماں نے ہی مجھے تیسرے بچے کے بعد سے ہی ہر بار اتنا ڈاٹا اتنا ڈانٹا …وہ میری محبت میں ہی مجھے ڈانٹتی ہیں یہ بات مجھے پتہ ہے اگر نہ پتہ ہوتی تو شاید میں اور تکلیف میں چلی جاتی لیکن جب مجھے حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے مجھے ان کی گود چاہیے ہوتی ہے مگر وہ مجھے ایسے ڈانٹ رہی ہوتی ہیں جیسے یہ بچہ نکاح کے بغیر ہی آگیا ہے میری زندگی میں ، ماں کے بعد اگر مجھے کوئی سہولت چاہیے ہوتی ہے تو اپنی ڈاکٹر سے چاہیے ہوتی ہے جب میں ڈاکٹر کے پاس جاتی ہوں تو وہ میری شکل دیکھ کے کہتی ہے تم پھر آگئیں !” منیبہ نے کہا "پھر تم یہ سارا غصہ اپنے بچوں کے اوپر اتارتی ہو” ردا نے کہا "نہیں پہلے کرتی تھی اب مجھے سمجھ آگئی ہے کہ بچوں کو مارنا نہیں ہے پھر مجھے ابا نے یعنی میرے سسر نے بھی کہا کہ بچوں کے چہرے پر نہیں مارتے تو بس صبر کرنا ہوتا ہے بہن برداشت کرنا ہوتا ہے اور کیا اللہ تعالی نے کچھ پلان کیا ہوگا میرے لیے ان بچوں کے لیے ،دیکھو کچھ لوگ ترستے ہیں اولاد کی نعمت کے لیے اور کچھ لوگ اس نعمت کو سمجھ ہی نہیں پاتے” ردا کی آنکھیں نم ہو گئیں کہنے لگی "بہت سوں کو تو یہ بھی نہیں معلوم کہ رپورٹ پازیٹو آجاۓ تو پھر اپنا آپ ہی مارنا ہوتا ہے، اس بچے کو نہیں مارنا ہوتا ، اپنی میں قربان کرنی ہوتی ہے، جو آسان نہیں ہے لیکن مجھے اللہ تعالیٰ سے محبت ہے نا تو وہ آسان کر دیتا ہے ” منیبه اس کا ہاتھ پکڑ کر بیٹھ گئی اور بولی ” ، مجھے تو یہی سمجھ نہیں آتا کہ تم اپنے بچوں کے کام وام نمٹا کر ساس سسر کو کیسے دیکھ لیتی ہو اور اکیلی ہوتی ہو تمہارے شوہر مطلب کہ آفتاب بھائی کی میں برائی نہیں کر رہی ہوں لیکن مجھے سمجھ نہیں آتی کہ وہ خود اپنے والدین کی خدمت میں بہت کم ہوتے ہیں اور تم آگے آگے "تو ردا ہنس دی کہ اس بندے کے پاس وقت کہاں ہوتا ہے تمہیں خود اپنے شوہر کا بھی اندازہ ہو گا کہ دفتر والے فیملی کے لیے وقت کہاں رہنے دیتے ہیں ” پھر یہ کاروبار بھی کر رہے ہیں اس میں بھی ٹائم لگتا ہے تو یہ ہم سب کے لیے ہی کر رہے ہیں نا؟ یہ رزق حلال کما رہے ہیں اور ہم رزق حلال کو بچانے کے کام کر رہے ہیں؛ ہے کہ نہیں ؟ یہ جو میں اتنے کام بھاگ بھاگ کے کر لیتی ہوں ادھر ادھر کے وہ بھی میں اپنے شوہر کی محبت میں کرتی ہوں ، مطلب اگر میں نہیں کروں گی یہ سارے کام اور وہ آ کر کریں گے تو شوہر کا ٹائم مجھے کیسے ملے گا؟ میں ان کے حصے کے کام کر دیتی ہوں اور ان کا وقت مجھے مل جاتا ہے” منیبه کہتی ہے "اس طرح سے تو تم نے ڈبل لوڈ لے لیا تم اتنی اچھی بن کر رہو گی تو سب تمہارے اوپر اور کام کا بوجھ ڈالتے ہی چلے جائیں گے” تو ردا نے کہا ” نہیں میں سمجھتی ہوں کہ میرے اندر بہت زیادہ اعتماد آیا ہے ان تمام کاموں سے کہ جب آفتاب مجھے کہتے ہیں کہ اچھا تم نے یہ بھی کر لیا تو وہ مجھے بہت شاباشی دیتے ہیں،شکریہ ادا کرتے ہیں ،اعتراف کرتے ہیں کہ میں ان سے زیادہ ان کے والدین کا خیال رکھتی ہوں ،اور سچی بات ہے کہ اس سے زیادہ کی مجھے طلب ہے نہ ہوس ".
    ———————-
    کسی تناور درخت کو بھی بار بار ہلایا جائے تو وہ بھی اپنی جڑیں کمزور کر دیتا ہے ، یہی صابرہ کے ساتھ ہوتا نظر آ رہا تھا ، ماں بھی نہ رہی تھی اس وجہ سے نادیہ ہی اس سے بات کرنے کی کوشش کرتی تو صابرہ ہتھے سے اکھڑ جاتی اور یہ بات جب شوکت کو پتہ لگتی تو نادیہ اور شوکت کے اپنے رشتے میں کڑواہٹ پیدا ہوجاتی –
    ایک روز نادیہ سوئی ہوئی تھی کہ وہ خواب میں دیکھتی ہے کہ وہ اور صابرہ کسی جگہ پر گئی ہیں جہاں بہت رش ہے، اس کے ہاتھ میں اپنے بہت سارے زیور ہیں، وہ چاہتی ہے کہ اس میں سے کچھ صدقہ کر دے مگر وہاں
    رش اتنا زیادہ بڑھ جاتا ہے ، دھکم پیل ہوتی ہے کہ جب وہ اپنا پرس کھولتی ہے تو اس میں کافی سارے زیورات نیچے گر جاتے ہیں اور وہ ان کو جھک کر اٹھا بھی نہیں سکتی کیونکہ وہاں اتنا رش تھا تو لوگ نیچے گرے ہوئے زیورات کو لوٹنا شروع کر دیتے ہیں ، صابرہ اس صورتحال سے بے نیاز نادیہ سے کہتی ہے کہ مجھے پانی پینا ہے اور ضد لگا لیتی ہے کہ پانی پلا دیں، وہ دونوں مل کر ڈھونڈتے ہیں تو ایک جگہ نظر آتی ہے جہاں ابھی کنواں کھودا جا رہا ہوتا ہے لیکن اس میں پانی ابھی پورا ہوتا نہیں ہے ، گدلا پانی ہوتا ہے،وہاں جو کام کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ نہیں،
    آپ یہ نہ پیئیں ،یہ ابھی صاف نہیں ہے آپ تھوڑا سا صبر کر لیں اور آگے جا کر صاف پانی پی لیں ، لیکن صابرہ کہتی ہے مجھے یہی پانی چاہیے ، مٹی اس کے حلق میں پھنس جاتی ہے تو وہ اسے تھوک دیتی ہے ، اور جب وہ زور زور سے کھانس رہی ہوتی ہے تو تکلیف کی وجہ سے نادیہ کی آنکھ کھل جاتی ہے-
    نادیہ جب یہ خواب اپنی ماں کو سناتی ہے تو اس کی ماں اس پر بہت زیادہ غصہ کرتی ہے کہ تم صابرہ کے لیے ہلکان ہونا چھوڑ دو، وہ اپنے لیے اچھا فیصلہ نہیں کر پا رہی ہے جس سے تمہاری خوشیاں بھی اس کی بے صبری کی وجہ سے لٹ جائیں گی۔
    تمہارے پاس جو زیور تھے، وہ تمہاری خوشوں کا تھیلا تھا ،جو اس کی وجہ سے خراب ہو رہی ہیں اور وہ جو بھی دھکے پڑ رہے تھے وہ حالات ہیں جو اس کی بدزبانی کی وجہ سے آئیں گے اور اس میں تمہیں بھی پریشان ہو گی، اور وہ جو پانی والی بات ہے وہ اس کی بے صبری ہے کہ اس نے میٹھے پانی کا انتظار نہیں کیا اور وہی کیچڑ والا پانی پینےکی کوشش کی جسے تھوک دیا اور اس کو پھندا بھی لگ گیا ۔
    تو تم اپنے آپ کواس کی ساری کاروایوں سے دور رکھو اب آگے جو چیزیں بھی خراب ہوں گی ،اس سے تمہیں بہت تکلیف بھی ہو سکتی ہے تم اپنا صدقہ وغیرہ دو۔
    آخر وہی ہواجس کے بارے میں سب کو پہلےسے اندازہ تھا کہ ایسا ہو سکتا ہے ۔
    صابرہ کی کاہلی اور بدزبانی کی وجہ سے خرم ایک دن آپے سے باہر ہو گیا۔ وہ کبھی نہیں چاہتا تھا کہ اپنی بیوی پر ہاتھ اٹھائے لیکن اس روز یہ ہو گیا تو صابرہ نے رو رو کر بد دعائیں دے دے کر محلہ سر پر اٹھا لیا ،شوہر کے خاموش کروانے پر اس سے اتنی زیادہ بدزبانی کی کہ آواز تک بیٹھ گئی پھر بھی صبر نہ آیا تو غم و غصے میں شرکیہ، کفریہ الفاظ بولنے سے بھی باز نہ رہی- بہرحال محلے میں سے ہی جان پہچان کےلوگوں نے اس کے بھائی کے گھر فون کیا تو بھائی اسے لینے پہنچا صابرہ کو امید تھی کہ بھائی خرم سے میرے تھپڑ کا بدلہ ڈنڈے سوٹے سے لے گا لیکن محلےداروں نے ڈھیر ساری گواہیاں صابرہ کے خلاف اور خرم کے حق میں دینی شروع کردیں، لہٰذا یہ جھگڑاوہیں تھم گیا اور شوکت شرمندگی کے ساتھ بہن کو اپنے گھر لے آیا ۔ وہ حیران تھا کہ اسے اس سے پہلے وہ سب باتیں معلوم ہی نہیں تھیں جو محلے والوں نے بتائیں ۔
    جن سے اسے دلی صدمہ بھی ہوا کہ اس کی پیاری بہن کیسی نادان ہے اس نے نادیہ سے اپنا غم ہلکا کرتے ہوئے کہا اس پگلی نے اپنی زندگی کے ساتھ کیا کچھ کر ڈالا ہے۔نادیہ دل میں سوچ کر رہ گئی کہ "صرف اپنی زندگی یا ہم سب کی زندگیوں کے ساتھ ”
    ———-
    نادیہ کی طبعیت کافی خراب رہنے لگی تھی، اس کی دیکھ بھال صابرہ کے سر آچکی تھی وہ بہ مشکل کچن سنبھالتی اور تھک کر چور ہو جاتی ،شوکت دن بھر کا تھکا جب گھر آتا تو نہ کھانا بنا ملتا نہ ہی بیٹے سعد کا حلیہ ٹھیک ہوتا ،صبح ناشتے میں پاپے کھا کر نکلتا اور واپسی میں ہفتے بھر کھانے میں وہی پتلی کھچڑی یا دلیہ ملتا رہا جو صابرہ مارے باندھے نادیہ کے لیے بنا لیا کرتی تھی .
    شوکت پرایک نئی حقیقت آشکار ہو رہی تھی کہ اس کی بیوی نے گھر کو کتنی مستعدی سے جان مار کر سنبھالا ہوا تھا حتی کہ اس کی امی کو بھی آخر وقت تک اور صابرہ تو اب بھی کہیں شادی کر کے گھر سنبھال لینے کے قابل خود کو نہیں بنا سکی ہے ،لیکن جوان لڑکی ہے شادی تو کرنی ہی ہوگی مگر ایسے کیسے گھر چلاۓ گی اپنا ؟
    نادیہ اپنی کمزوری کی وجہ سے دلگرفتہ تو تھی لیکن خوش بھی تھی کہ شوکت کو اندازہ تو ہو جاۓ گا حالات کا ….تو کیا وہ اسے سراہے گا ؟ کیا کسی مسجد کے خطبے سے سکول سے والدین سے اپنے کام پر اس نے اتنی سی بات سیکھی ہو گی کہ بیوی کو سراہا جانا چاہۓ ، وہ چند لفظ اس کے ذمہ داری سے لائی ہوئی دواؤں پھلوں اور دودھ سے زیادہ نادیہ کو طاقت بخش دیتے،محبت کا اظہار شادی کے شروع دنوں میں تو مجھے تم سے محبت ہے کہہ دینے سے ہو جاتا ہے لیکن کچھ سال بعد کبھی کبھی مجھے تم پر فخر ہے ،مجھے تم پر بھروسہ ہے مجھے تھماری محنت کا ادراک ہے ،مجھے تمھارے صبر کی قدر ہے کچھ تو، کبھی تو ، اندھے فقیر کے کاسے میں کھنکھناتے ہوئے سکوں کی آواز کی مانند درکار ہوتے ہیں.

    اکرم چوہدری نجی ٹی وی کا عثمان بزدار ثابت،دیہاڑیاں،ہراسانی کے بھی واقعات

    اکرم چوہدری کا نجی ٹی وی کے نام پر دورہ یوکے،ذاتی فائدے،ادارے کو نقصان

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

    مناہل ملک کی لیک”نازیبا "ویڈیو اصلی،مفتی قوی بھی میدان میں آ گئے

  • مرد کی دوسری شادی کے بعد پہلی بیوی  کیاکرے؟ تحریر:ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

    مرد کی دوسری شادی کے بعد پہلی بیوی کیاکرے؟ تحریر:ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

    مانا کہ شرعی اجازت ہے مرد صاحبان کو کہ جب چاہئیں لائیں دوسری ، تیسری اور چوتھی بھی ۔
    لیکن کیا یہ سب کرنا اتنا ہی آسان ہے جتنا نظر آتا ہے یا سمجھا جاتا ہے ۔ اس معاملے کو ایک ایسے لینز سے دیکھا جا سکتا ہے جو پدرسری نظام کی تہہ تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
    مرد اور عورت جب ایک گھر کی بنیاد رکھتے ہیں تو پہلا تصور یہ ہے کہ دونوں کے بیچ انسیت تو ہو گی ہی __ محبت کا نام ہم نہیں لیتے کہ محبت کے معیار پہ پورا اترنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ۔
    انسیت کے ساتھ ساتھ اس رشتے کی بنیادی اکائی یہ بھی ہے کہ دونوں اس رشتے سے مخلص ہوں ۔
    کس حد تک اور کیوں ؟
    کیونکہ وہ دونوں جس چھت کے نیچے جسمانی اور جذباتی تعلق بنا کر جن بچوں کو پیدا کرنے جا رہے ہیں ، وہ کسی بھی مشکل پیدا ہونے کے نتیجے میں متاثرین میں شامل ہوں گے اور یہ ذمہ داری ماں باپ پہ ہو گی کہ انہوں نے بچوں کی ذہنی اور جذباتی نشوونما کو متاثر کیا۔
    مخلص ہونے کا سب سے بڑا عنصر سچائی اور ایک دوسرے کے سامنے شفاف انداز سے زندگی بسر کرناہے ۔ کوئی بھی بات معمولی ہو یا سنگین ، اگر دوسرے سے چھپا کر رکھی جائے اور کچھ ایسا کیا جائے جو ساتھی کو قبول نہ ہو، ایک کو دوسرے کا مجرم بنائے گا۔ دھوکا دہی وہ زہر ہے جو اس رشتے کو نہ صرف بدصورت بناتا ہے بلکہ دونوں کی راہ بھی کھوٹی کرتا ہے ۔
    اس کو یوں سمجھیے کہ اگر دونوں میں سے کوئی ایک اپنے ساتھی کو اندھیرے میں رکھتے ہوئے کسی اور کو اپنی زندگی میں شامل کرتا ہے تو دھوکہ دہی کا ارتکاب کرنے والا ہی ذمہ دار ہے ۔
    یہاں اس بات کو مان لینا چاہئے کہ وہ شخص دھوکہ باز نہ سمجھا جاتا اگر وہ اس صورت حال کو اپنے ساتھی کے سامنے رکھتے ہوئے اسے صاف صاف بتاتا:
    سنو ، مجھے کسی اور سے محبت ہو گئی ہے۔
    سنو میں اپنی زندگی کسی اور کے ساتھ گزارنا چاہتا/ چاہتی ہوں۔
    سنو ، ہم دونوں اب مزید ایک دوسرے کے ساتھ نہیں رہ سکتے۔
    سنو ، ہمیں اس رشتے کو ختم کر دینا چاہئے۔
    زبردست بات یہ ہے کہ اس سوچ اور نظریے کو مذہب بھی قبول کرتا ہے۔ ماں کے پیٹ سے اکھٹے تو آئے نہیں کہ جدا نہ ہو سکیں۔ ویسے آج کل تو وہ بھی مشکل نہیں رہا کہ نظریاتی طور پہ مختلف لوگ اپنے خونی تعلق کو بھی نظرانداز کرتے ہوئے اپنی اپنی زندگی جیتے ہیں۔
    سو وہ دونوں جو مختلف گھروں میں پرورش پاکر قانونی طریقے سے اکھٹے ہوئے ہیں وہ اسی قانون کے ذریعے علیحدہ بھی ہو سکتے ہیں۔
    کیا ہے اس میں اچنبھے کی بات ؟
    لیکن پدرسری نظام کے لئے بات ہے اور سنگین ہے۔
    مرد پہلی بیوی کی موجودگی میں دوسری عورت کی زلف کا اسیر ہو جائے اور پہلی بیوی کو اندھیرے میں رکھے ، پدرسری نظام قطعاً خاموش رہتا ہے۔
    مرد پہلی بیوی موجود ہوتے ہوئے دوسری سے خفیہ شادی کرے اور پہلی سے جھوٹ بولتا رہے ،پدرسری نظام پھر بھی نہیں بولتا۔
    مرد جب دوسری شادی کا اعلان کرتے ہوئے یہ بتائے کہ وہ تو ایک بچے کاباپ بھی بن چکا ہے ، پدرسری نظام کے کان پہ جوں نہیں رینگتی۔
    مرد پہلی بیوی کو گھر سے باہر کرے ، لیکن طلاق دے کر آزاد نہ ہونے دے ، تب بھی یہ نظام اونگھتا رہتا ہے۔
    لیکن اس نظام کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے جب پہلی بیوی سوال وجواب کا سلسلہ شروع کرے،
    تم نے دوسری شادی سے پہلے بتایا کیوں نہیں ؟
    ( پاکستانی قانون کے تحت آپ اس کے پابند ہیں )
    جب تمہیں کسی اور عورت سے محبت ہوئی مجھ سے جھوٹ کیوں بولا ؟
    میں بچوں اور گھر کو سنبھالتی رہی اور تم نے وہ وقت دوسری عورت کے ساتھ گزارا۔ کیوں ؟
    اب میں تمہارے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔
    لیجیے جناب ، عورت کے منہ سے یہ الفاظ مرد پہ برق بن کر گرتے ہیں۔ کیوں ؟ یہ عورت جو میری بیوی ہے فیصلہ کرنے کی مجاز کیوں ؟
    اتنی جرات ؟
    میں مرد ہوں اور مانا کہ کچھ تھوڑا سے جھوٹ اور تھوڑی سی دھوکہ دہی کا مرتکب ہوا ہوں لیکن اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ یہ عورت جمی جمائی گرہستی توڑ دے ۔
    مرد بچہ ہوں ، دو دو گھر با آسانی چلا سکتا ہوں پھر کیوں توڑے یہ اس رشتے کو؟ کیوں نکلنے دوں میں اسے اس پنجرے سے ؟ کیوں ہو اس کی زندگی اس کے اپنے ہاتھ میں ؟
    نہیں میں اسے علیحدہ نہیں ہونے دوں گا۔
    سنو میں تم سے محبت کرتا ہوں …
    محبت ؟ مجھ سے محبت اور وہ دوسری ؟
    ہو گئی محبت اس سے بھی … مرد کر سکتا ہے بار بار محبت …
    اور عورت … کیا وہ نہیں کر سکتی بار بار محبت … کسی اور مرد سے … تنہائی کے ان پہروں میں جب تم دوسری عورت کے ساتھ تھے …
    سنو تمھیں مجھ سے محبت نہیں۔ یہ تو تمہاری زخمی ایگو ہے جو تمہیں اکساتی ہے کہ مجھے اپنے چنگل سے باہر نہ نکلنے دو … بیک وقت دو عورتوں کو اپنے دام الفت میں پھنسا کر رکھو … وہ سب جھوٹ جن کے سہارےتم عرصہ دراز دوسری عورت کے ساتھ وقت گزارتے رہے اور پھر بیاہ رچایا ، کیا وہ جھوٹ وقت کے صفحات سے مٹ جائیں گے ؟ شکستہ آئینۂ دل کیا پہلے سا ہو جائے گا ؟
    نہیں ایسا کچھ بھی نہیں ہو گا۔
    میں وہ عورت نہیں ہوں جو برسوں پہلے تمہاری محبت کے سہارے اپنی زندگی تمہیں دینے آئی تھی۔ اس محبت کو تم نے جھوٹ اور دھوکہ دہی سے داغدار کر دیا۔ وہ داغ اب چھٹ نہیں سکتے۔
    مجھے بقیہ زندگی اپنے بچوں کے سہارے کاٹ لینے دو۔ میرا آسمان اب وہ نہیں جو تمہارا ہے۔ عورت شوہر کے بعد اگر محبت کرتی ہے تو اس شوہر کے نطفے سے پیدا ہونے والے بچوں سے۔
    لیکن بھنورا صفت مرد کو بار بار محبت کے نام پہ ایک نئی عورت کو فتح کرنا ہوتا ہے۔
    سو تمہیں تمہاری نئی فتوحات مبارک۔ میں تمہارا مفتوحہ علاقہ بننے پہ تیار نہیں۔
    پدرسری نظام غیض وغضب سے کھولتے ہوئے اپنے بال نوچ رہا ہے۔
    لیکن مسئلہ کیا محض اتنا ہی ہے؟
    کیا تعلق میں اس دراڑ کا بچوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا ؟
    کیا دوسری عورت کے ساتھ ایک الگ گھر میں رہنے والا اور ان کی ماں کو ناانصافی کا شکار بنانے والا اپنے بچوں کا مجرم نہیں ہوتا؟
    کیا وہ ان کا پدری حق نہیں مارتا؟
    کیا پدری حق محض اخراجات پورے کرنے پر ختم ہو جاتا ہے؟
    کیا بچوں کو ماں باپ دونوں کی شفقت اور غیر مشروط قربت درکار نہیں ہوتی؟
    کیا بچوں کی ماں سے جھوٹی محبت کے اظہار سے بچوں کی ذہنی حالت ابتر نہیں ہوتی ؟
    کیا ماں کے متعلق لوگوں کی کھسر پھسر اور تنقید بچوں کو اینگزائٹی میں مبتلا نہیں کرتی ؟
    لیکن جہاں ماں محفوظ نہ ہو، اُسے ہی انسان نا سمجھا جائے، وہاں بچوں کی کیا اوقات

  • جہیز کی کہانی .تحریر:ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

    جہیز کی کہانی .تحریر:ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

    شادی کے بعد پہلا گھر شافی ہسپتال کی چھت پہ بنانے کا ارادہ تو کر لیا__ لیکن سامنے ایک اور مشکل منہ کھولے کھڑی تھی۔
    دیکھیے صاحب اگر ہماری کہانیوں میں ہر موڑ پہ ایک اور کہانی جھانکتی ہوئی نہ ملے ہو تو کیا خاک مزا آئے !
    بہت برسوں سے ہم نے یہ سوچ رکھا تھا کہ جب بھی شادی کا موقع آیا ہم روایتی قسم کا جہیز نہیں لیں گے۔ بات طے ہونے کے بعد جب ہم نے اس بات کا اظہار کیا تو امی ابا پریشان ہو گئے ، یہ کیسے ہو سکتا ہے ہم کیسے خالی ہاتھ تمہیں بھیجیں ؟
    ہم ہر گز خالی ہاتھ نہیں ہیں__ ہمارے ہاتھوں میں ایک بھاری بھرکم ڈگری ہے جو ہر چیز پہ بھاری ہے__ ہم نے کہا ۔
    بیٹا لوگ کیا کہیں گے ؟ امی نے جواب دیا ۔
    لوگوں کی تو ہم نے کبھی پروا ہی نہیں کی __ ہم نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا ۔
    اور سسرال والے ؟ باجی متفکر تھیں ۔
    انہیں ہم کہہ دیں گے کہ ساری چیزیں ہم خود بنائیں گے۔
    اگر انہوں نے تمہیں باتیں سنائیں تو ؟ باجی بدستور مصر ۔
    ارے واہ __ ڈاکٹر بہو کو بات کرنا آسان ہے کیا ؟ ہم نے منہ بناتے ہوئے کہا ۔
    خوب بحثا بحثی ہوئی اور ہم نے کسی کی نہ چلنے دی ۔ آخر میں یہ فیصلہ ہوا کہ جو تحائف ملیں گے وہ ساتھ جائیں گے اور کچھ بنیادی چیزیں ، کم سے کم قیمت میں ۔
    ہم نے کچھ اعلان کیے جو یوں تھے :
    شادی کے لیے کوئی ہال ، میس یا ہوٹل بک نہیں ہوگا ۔ گھر کے سامنے والے گراؤنڈ میں روایتی ٹینٹ لگوا کر دیگیں پکوا لیں گے__ پہلا اعلان ۔
    اور جو تمہاری سہیلیاں وغیرہ آئیں گی … کسی نے سوال کیا ۔
    سہیلیوں نے ہماری شادی پہ ہر حال میں آنا ہے چاہے وہ جنگل میں ہو یا صحرا میں … بے نیازی عروج پہ تھی ۔
    چلیے جناب طے ہو گیا ۔
    مووی نہیں بنے گی .. ایویں ای خواہ مخواہ کا خرچہ __ دوسرا اعلان ۔
    سب کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے کہ پورے گھر میں ہماری جان نکلتی تھی اگر کسی موقعے پہ تصویر اور مووی نہ بنائی جائے ۔
    لیکن وہ تو یادگار ہو گی نا … یاددہانی کروائی گئی ۔
    لڑکے والے لے کر آئیں گے نا .. ہم نے آپ ہی آپ فرض کر لیا ۔
    زیور میں ہم چار ساڑھے چار تولے کا سیٹ لیں گے بس __ تیسرا اعلان ۔ یاد رہے کہ سونا ساڑھے تین ہزار روپے تولہ تھا ۔
    فرنیچر میں بیڈروم سیٹ بنوا لیتے ہیں … صلاح آئی ۔
    ہم نے کچھ دیر کے لئے سوچا __ لکڑی کا تو کافی مہنگا ہو جائے گا … کچھ اور کرنا چاہیے ..کیا کریں ؟ کیا کریں ؟ ارے ہاں داتا دربار کے باہر کین کا فرنیچر ملتا ہے نا وہ لے لیں گے ایک کمرے کے لیے __ چوتھا اعلان ۔
    کیا کین کا بیڈ اور ڈریسنگ ٹیبل ملتی ہے ؟ ایک اور سوال آیا ۔
    نہیں ملتی ہو گی تو آرڈر پہ بنوا لیں گے .. ناممکنات کے متعلق کیوں سوچیں ؟
    شادی کا جوڑا ؟
    بارات پہ وہ لوگ لا رہے ہیں ، ہمیں ولیمے کا بنوانا ہے ۔ کسی کا اچھا سا دیکھ کر کاپی کروا لیں گے __ پانچواں اعلان ۔
    ( اور یہ داستان ہم لکھ چکے ہیں کہ کیسے پینوراما کی ڈیزائنر شاپ سیٹھ کا جوڑا ہم نے سستے داموں انارکلی سے بنوایا )
    اچھا اب تحائف کی فہرست بنا لیتے ہیں :
    فریج – آپا
    کمبل – کوثر باجی
    ڈنر سیٹ پلاسٹک
    ٹوسٹر
    تھرموس
    وال کلاک
    چائے کی پیالیاں
    فوٹو فریم
    کچھ جوڑے کپڑے
    سونے کی انگوٹھی – فرزانہ
    سونے کی انگوٹھی – قمر
    سونے کے ٹاپس – فرحت
    امی ابا سخت فکرمند __ ایسا کیسے چلے گا ؟
    اچھا بہت سے لوگوں نے تحفتا پیسے بھی تو دیے ہیں تو چلو ٹی وی خرید دیتے ہیں ۔
    سب سے چھوٹا خریدیں تاکہ دیے گئے پیسوں میں آجائے __ سولہ انچ ٹی وی سے ہم نے آگے بڑھنے نہیں دیا ۔ اس کی قیمت تھی دس ہزار __سو نقد تحفہ دینے والوں کے نام ٹی وی ہوا۔
    امی نے چوری چوری چار رضائیاں ، دوگدے ، دو تکیے ، دو بیڈ شیٹس ، کچھ کھیس بھی رکھ دیے۔ گلگت سے ایک چھوٹا ڈنر سیٹ گھر کے لیے منگوایا گیا تھا ، وہ بھی شامل کر لیا اور ان سب کو رکھنے کے لیے ایک جستی پیٹی ۔
    لیں ہو گیا جہیز تیار __اب ہم لاہور چلتے ہیں تاکہ کین کا فرنیچر خرید سکیں ۔
    اتنی دیر میں آپ اس سے لطف اُٹھائیے

  • محبت کے نام پر….تحریر:نورالعین

    محبت کے نام پر….تحریر:نورالعین

    محبت ایک نازک اور قیمتی جذبہ ہے جو انسان کے دل میں عمیق اثرات مرتب کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا رشتہ ہے جو دلوں کو قریب کرتا ہے، ایک دوسرے کو سمجھنے اور سہارا دینے کی طاقت رکھتا ہے۔ لیکن جب نوجوانوں میں اس جذبے کی حقیقت اور ذمہ داری کی سمجھ نہیں ہوتی، تو یہ نہ صرف ان کی اپنی زندگیوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے، بلکہ دوسروں کی زندگیوں میں بھی مایوسی اور درد پیدا کرسکتا ہے۔

    آج کے دور میں، خصوصاً سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل کمیونیکیشن کے بڑھتے ہوئے رجحان کی وجہ سے نوجوانوں کے درمیان محبت کے جذبات اور تعلقات میں پیچیدگیاں پیدا ہو چکی ہیں۔ بہت سے نوجوان صرف احساسات کی بنا پر، یا کسی جذبے کو وقتی تسکین کے طور پر اپنے اندر ایک گہرا تعلق قائم کر لیتے ہیں۔ لیکن جب یہ تعلقات حقیقی قوتِ ارادی اور خودمختاری کے بغیر قائم ہوں، تو یہ کسی کے جذبات کے ساتھ کھیلنے کا سبب بن سکتے ہیں۔

    جب آپ زندگی میں کسی مقصد کو حاصل کرنے کے لئے خود پر یقین رکھتے ہیں اور اپنے فیصلے خود کرنے کی طاقت رکھتے ہیں، تو آپ کے اندر ایک مضبوط اور پائیدار کردار ہوتا ہے۔ نوجوانوں کو اپنی طاقتوں کو پہچاننا چاہئے اور زندگی میں کامیاب ہونے کے لئے اپنے والدین کی دعاؤں اور رہنمائی کا سہارا لینا چاہئے۔ آپ کے اندر اگر خودداری اور خودمختاری کی قوت ہے، تو آپ کسی اور کے جذبات کے ساتھ کھیلنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔اگر آپ اپنی زندگی میں کامیابی چاہتے ہیں اور کسی مقصد کو حاصل کرنے کی آرزو رکھتے ہیں، تو سب سے پہلے آپ کو اپنے اندر مضبوط ارادہ اور نیک نیتی پیدا کرنی ہوگی۔ محبت کا اظہار اور تعلقات کا آغاز سچائی اور ایمانداری سے ہونا چاہئے، نہ کہ وقتی خواہشات کی تسکین کے لئے۔

    جب آپ میں یہ احساس ہو کہ آپ کی زندگی میں نہ تو فیصلوں کی طاقت ہے، نہ کچھ کر گزرنے کا حوصلہ، اور نہ ہی آپ اپنے فیصلوں کے مطابق زندگی گزارنے کی سکت رکھتے ہیں، تو پھر کسی دوسرے شخص کو اپنے ساتھ جذباتی طور پر جوڑنا اور انہیں گمراہ کرنا ایک سنگین بات ہے۔محبت ایک حساس اور نازک جذبہ ہے، جس سے نہ صرف آپ کی زندگی متاثر ہو سکتی ہے، بلکہ دوسرے شخص کی زندگی پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ نوجوانوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ضروری ہے، خاص طور پر جب بات محبت کے رشتہ کی ہو۔اگر آپ خود اپنی زندگی میں واضح سمت اور مقصد نہیں رکھتے، تو کسی دوسرے شخص کو اپنے ساتھ جذباتی تعلق میں اُلجھانا، اس کے لئے نہ صرف وقت کا ضیاع ہے بلکہ اس کے جذبات اور خوابوں کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔

    کامیاب اور پائیدار رشتہ وہی ہوتا ہے جو دونوں فریقوں کی باہمی سمجھ بوجھ اور احترام پر قائم ہو۔ اگر آپ اپنی زندگی میں محبت کے بارے میں سوچ رہے ہیں، تو یہ ضروری ہے کہ آپ اپنے فیصلوں کو ذمہ داری کے ساتھ کریں۔ اگر آپ ابھی تک اپنی زندگی کے اہم فیصلے خود نہیں کر پائے، اور آپ کے اندر اتنی قوت نہیں کہ آپ اپنے راستے کا تعین کریں، تو پھر محبت کا رشتہ یا جذباتی تعلق کسی کے لئے بھی نہ بنائیں۔اس کے بجائے، اپنی توانائی کو اپنے مقاصد کے حصول، تعلیم اور ذاتی ترقی میں لگائیں۔ جب آپ خود کو بہتر بنائیں گے، تو آپ کے اندر ایسا جذبہ پیدا ہوگا کہ آپ ایک نیک، سمجھدار اور پائیدار رشتہ قائم کرسکیں گے۔

    والدین کا کردار یہاں بہت اہم ہے۔ جب آپ خود اپنی زندگی کے فیصلے کرنے کی قوت رکھتے ہیں اور اپنے والدین کی دعاؤں اور رہنمائی کو اپنی زندگی کا حصہ بناتے ہیں، تو آپ کا راستہ مزید روشن ہوتا ہے۔ نوجوانوں کو اپنی والدہ اور والد کی باتوں کو سننا اور ان کے تجربات سے سیکھنا چاہیے۔ والدین وہ لوگ ہیں جو آپ کی فلاح و بہبود کے لئے ہمیشہ فکر مند رہتے ہیں اور ان کی دعائیں آپ کی زندگی کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔یہ ضروری ہے کہ ہم محبت اور عزت کے فرق کو سمجھیں۔ محبت صرف ایک جذبہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری اور احترام کا رشتہ ہوتا ہے۔ کسی کے جذبات سے کھیلنے کے بجائے، ہمیں ان کی عزت اور حقوق کا خیال رکھنا چاہیے۔ ایک ذمہ دار شخص اپنے رشتہ میں محبت اور عزت دونوں کو اہمیت دیتا ہے۔

    یاد رکھیں، محبت ایک خوبصورت چیز ہے، لیکن اس کا استعمال صحیح طریقے سے کرنا ضروری ہے۔ جب آپ میں قوتِ فیصلہ سازی اور زندگی کے اہم فیصلے کرنے کا حوصلہ ہو، تب ہی آپ کسی دوسرے کے دل اور جذبات کے ساتھ کھلواڑ کرنے کا سوچ سکتے ہیں۔ نوجوانوں سے درخواست ہے کہ وہ اپنی زندگی کے فیصلے بڑے غور و فکر سے کریں اور کسی دوسرے کی زندگی کو اپنی غیر ذمہ داری سے متاثر نہ کریں۔آخر کار، محبت اور رشتہ ایک خوبصورت ذمہ داری ہے، اور اس کا احترام اور درست استعمال ہی آپ کی زندگی کو کامیاب بناتا ہے۔

  • ہاتھ میں ایک اچھی کتاب ،سب سے بڑا لطف،کچھ یادیں

    ہاتھ میں ایک اچھی کتاب ،سب سے بڑا لطف،کچھ یادیں

    میری سب سے بڑی پسندیدہ سرگرمیوں میں ہمیشہ پڑھنا شامل رہا ہے۔ جتنا مجھے یاد ہے، کتابیں ہمیشہ میرے ساتھ رہی ہیں، مجھے مختلف جہانوں میں لے جاتی ہیں، دلچسپ خیالات سے روشناس کراتی ہیں اور روزمرہ کی زندگی کے شور سے پناہ فراہم کرتی ہیں۔ لیکن حالیہ برسوں میں میں نے ایک تبدیلی محسوس کی ہے،پڑھنے کی وہ لذت جو پہلے تھی، آہستہ آہستہ کم ہوتی جا رہی ہے۔

    ماضی میں میرا گھر ایک ادبی میدان کی طرح تھا۔ ہر کمرے میں کتابوں کا اپنا مخصوص مقام ہوتا تھا۔ ہمیشہ میرے بستر کے قریب ایک کتاب رکھی ہوتی، ایک اور کتاب کچن میں رکھی ہوتی تاکہ چائے کا پانی اُبالنے کا انتظار کرتے ہوئے تھوڑی دیر کے لیے پڑھا جا سکے، اور ایک کتاب شوروم کے صوفے کی بانہوں پر رکھی ہوتی۔ ایک ان پڑھا خزانہ ہمیشہ تیار رہتا، میری پسند نرالی تھی.افسانہ، غیر افسانہ، اور درمیان کی سب چیزیں، یہ کوئی فرق نہیں پڑتا تھا، بس کتابیں مجھے اپنی طرف کھینچ لیتی تھیں۔

    حال ہی میں، تاہم، میں نے خود کو زیادہ تر مواد اسکرین پر پڑھنا شروع کر دیا،جو یا تو سہولت کی وجہ سے یا ضرورت کے تحت ہوتا ہے، نہ کہ حقیقی جوش و جذبے کے باعث، کمپیوٹر یا ٹیبلٹ پر پڑھنا وہ جادو نہیں رکھتا جو ایک جسمانی کتاب کے ساتھ ہوتا ہے۔ مجھے وہ حسی تجربہ یاد آتا ہے ،کتاب کا وزن ہاتھوں میں محسوس کرنا، نئے پرنٹ شدہ صفحات کی خوشبو، اور ہر صفحے کو پلٹتے وقت کی تسکین بخش سرسراہٹ۔ اس میں کچھ ایسا ہے جو بے بدل ہے کہ آپ کسی پسندیدہ اقتباس کو دوبارہ دوبارہ پڑھ سکیں جیسے آپ انہیں یادداشت میں محفوظ کر رہے ہوں۔

    جو چیز مجھے سب سے زیادہ یاد آتی ہے وہ اس سب کا ایک مقدس عمل ہے۔ صوفے پر پھیل کر ایک آرام دہ کمبل میں لپٹنا، ایئرل گرے یا کافی کا گرم کپ پاس میں رکھنا، اور ایک اچھی کتاب ہاتھ میں ہونا، ایسا لگتا ہے جیسے سب سے بڑی عیاشی ہو۔ یہ صرف پڑھنا نہیں ہے،یہ ایک فرار ہے، دن کے دباؤ سے آزاد ہونے کا ایک طریقہ ہے اور خود کو کرداروں کی زندگیوں میں غرق کرنے، سنسنی خیز کہانیاں کھولنے یا گہرے خیالات کو دریافت کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ کتاب کے ساتھ گزارا گیا وہ مقدس وقت زندگی کی سب سے خالص خوشیوں میں سے ایک ہے۔

    کتابیں میرے لیے صرف تفریح نہیں، بلکہ ضروری ہیں۔ میں تصور نہیں کر سکتی کہ کوئی تعطیلات بغیر کتابوں کے گزاری جائیں۔ اگر سفر میں کتابیں نہ ہوں تو ایسا لگتا ہے جیسے میں نے سفر کی روح کو پیچھے چھوڑ دیا ہو۔ اسی طرح، رات کو سونے سے پہلے کتاب نہ پڑھنا، چاہے صرف ایک صفحہ یا دو ہی ہوں، نامکمل سا محسوس ہوتا ہے۔ نیند سے پہلے کا وہ لمحہ، کتاب کے ساتھ، ایک چھوٹا مگر ضروری سکون ہوتا ہےیہ ایک اشارہ ہوتا ہے کہ دن پرامن طور پر ختم ہو رہا ہے۔

    جسمانی کتابوں سے اپنی محبت کو دوبارہ جلا دینا، ایسا لگتا ہے جیسے میں نے اپنے آپ کا ایک حصہ دوبارہ حاصل کیا ہو، کچھ ایسا جو دل سے سکون دہ اور بامعنی ہو۔ کیونکہ ایسی دنیا میں جہاں سب کچھ تیز رفتاری سے چل رہا ہو، پڑھنے کی قدیم لذت ایک نرم یاد دہانی ہے کہ ہمیں آہستہ چلنا چاہیے، سانس لینا چاہیے، اور الفاظ کی خوبصورتی میں غرق ہو جانا چاہیے۔

  • قصہ میری یادوں کا،”دل پر گرتے آنسو”.تحریر:قرۃالعین خالد

    قصہ میری یادوں کا،”دل پر گرتے آنسو”.تحریر:قرۃالعین خالد

    صدیوں سے یہ مقولہ مشہور ہے کہ کتابیں انسان کی بہترین ساتھی ہوتی ہیں۔ کتابیں نہ صرف خلوت بلکہ جلوت کی بھی ساتھی ہوتی ہیں۔ وہ انسان کی رازداں ہوتی ہیں۔ علم کے سمندر میں غوطہ زن ہونے کے لیے کتابیں ہی تو سہارا ہوتی ہیں۔ نفسا نفسی اور خود غرضی کے اس دور میں کتابوں سے زیادہ مخلص دوست کوئی نہیں جو اپنے پڑھنے والے کی زندگی کے راز کسی سے نہیں کہتی ہوں۔ کتابیں قرطاس میں رازوں کو دفن کر کے اپنے اندر سمیٹ لیتی ہیں۔ سفر زیست کے پنے پلٹوں تو وہ دن بہت یاد آتے ہیں۔ جب زندہ دلان لاہور میں ہم سب کزنز تعلیم کی غرض سے مقیم تھے۔ ہمارا مستقل ٹھکانہ پھپھو اور نانی اماں کا گھر ہوا کرتا تھا۔ سارا دن کالج یونیورسٹیوں میں کورس کی کتابوں کے ساتھ سر کھپا کر، لاہور کی لوکل بسوں کی خاک چھان کر جب شام ہم اپنے ٹھکانے میں اکٹھے ہوتے تو ہماری زندگی کا محور و مرکز کورس کی کتب کے علاوہ بھی کچھ کتابیں ہوتی تھیں۔ کتنا حسین تھا وہ دور طالب علمی جب ہم اردو بازار جاتے تھے اور فٹ پاتھ پر لگے کتابوں کے اسٹال سے رسائل اور میگزین سستے دام میں خریدتے تھے۔ دور حاضر میں ہر شے مہنگائی کی نظر ہو گئی ہے۔ ایک ادب بچا تھا اسے بھی پیسے کی ہوس نے بے ادب کر دیا۔ میری طرح اردو بازار ہزاروں نہیں، لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں طالبات کی یادوں میں مقید ہوگا۔ جہاں فٹ پاتھ پر بیٹھ کر کتب کو خوب دیکھنا اپنی من پسند کتاب کے مل جانے پر چیخ چیخ کر خوشی کا اظہار کرنا۔ اردو بازار کی یاد تو دل میں ایسی بسی ہے جہاں نہ رنگ کا فرق تھا، نہ نسل کا، نہ کلاس کا بس سب پڑھنے کے دیوانے اپنی دیوانگی کے ہاتھوں مجبور ہو کر چلے آتے تھے۔ اردو بازار فٹ پاتھ اسٹال کی سب سے حسین یادوں میں اگر میں یاد کرو تو مجھے ہنسی آ جاتی ہے۔ دوکاندار کے سامنے معصوم سی غربت والی مسکین سی رونی صورت بناتے تھے تو دکاندار پانچ روپے میں بھی میگزین تھما دیتا تھا اور اس وقت لگتا تھا کہ ہم نے کوئی دنیا فتح کر لی ہے۔ من پسند میگزین کا حصول ہمارے لیے اس وقت کی سب سے عظیم کامیابی تھی۔ پاکستان میں مڈل کلاس طبقے کو اپنی بہت سی خواہشات کی قربانیاں دینی پڑتی ہیں لیکن اردو بازار کتب میلے تک ہر خاص و عام کتب سے محبت کرنے والے متوالے کی رسائی تھی۔ دور طالب علمی کی حسین یادوں میں ایک مثبت یاد یہ بھی ہے کہ پانچ پانچ روپے میں جو رسائل خریدے جاتے تھے پڑھنے کے بعد وہ واپس بھی ہو جاتے تھے اور ان کے بدلے ہم مزید نئے خرید لیتے تھے۔ کیا خوبصورت دور تھا گھر والوں سے چھپ کر کورس کی کتابوں میں رسائل اور میگزین رکھ کر پڑھنا۔ مجھے یاد ہے ندا (پھوپو زاد بہن) جو کتب کی دیوانی تھی اس کے بارے میں سب کہتے تھے یہ تو چلتا پھرتا انسائیکلوپیڈیا ہے۔ محدود جیب خرچ میں پانچ پانچ روپے ڈال کر چھپ کر میگزین اکٹھے کرتی تھی۔ اب مسئلہ یہ ہوتا تھا کہ اس کو گھر والوں سے چھپا کر کہاں رکھا جائے تو بستر کے گدے کے نیچے بڑی عزت سے علم کا خزانہ چھپایا جاتا تھا۔ بحیثیت مڈل کلاس طالبہ کے ہم جیسوں کے لیے اردو بازار کسی نعمت سے کم نہ تھا۔ کچھ دنوں پہلے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو گردش کرتی نظر آئی۔ ملک دشمن عناصر تو سنا تھا مگر یہ علم دشمن عناصر کہاں سے وارد ہو گئے؟ انہی علم دشمنوں نے سالوں سے سجے کتب کے اسٹال اکھاڑ پھینکے۔ یہ بات لکھتے ہوئے میرا دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ میرے ہاتھ لکھتے ہوئے کانپ رہے ہیں۔ ایسے لگتا ہے کسی نے میرا بچپن، میرا لڑکپن، میرا دور طالب علمی تیز نوکیلے اوزار سے نوچ لیا ہو۔ اس منظر کو دیکھنا اور اس کے بعد تحریر کرنا میرے لیے بہت تکلیف دہ ہے۔ جب لکھتے ہوئے میرے دل میں اتنا درد اٹھ رہا ہے تو جو سالوں سے دھوپ، چھاؤں، بارش، آندھی، طوفان اور موسموں کے تغیر کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ان سٹالز کو اپنا خون جگر پلا کر اپنی اولاد کی طرح پروان چڑھا رہے ہوں گے ان کے دل پر کیا بیت رہی ہو گی؟ کوئی ان کے دل کی تکلیف ان سے جا کر پوچھے۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ کتابیں بظاہر بے جان ہوتی ہیں لیکن قاری اور لکھاری کی نظر سے دیکھیں تو کتابوں سے زیادہ جاندار کوئی نہیں ہے۔ وہ اپنے قاری کے ساتھ ہستی ہیں، اس کے ساتھ روتی ہیں، وہ خاموشی کی زباں میں بولتی ہیں۔ اپنا مدعا بیان کرتی ہیں۔ ہاں! کتابیں خود میں جیتی جاگتی ہیں وہ سانس لیتی ہیں۔ وہ مردہ دلوں کو علم کی آبیاری سے سیراب کرنے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔ ان کو بھی درد ہوتا ہے وہ بھی قاری کا خیال رکھنا خود سے محبت کرنا محسوس کرتی ہیں۔ میری نظر میں کتابیں جان رکھتی ہیں، سانس لیتی ہیں، وہ جیتی جاگتی ہیں۔ قاری کے دلوں پر راج کرتی ہیں۔ کہانیوں کے ذریعے ہم اپنی زندگی میں کتنے ہی سپنے بنتے ہیں۔ الفاظ کیسے قاری کے دل کو مضبوطی و تقویت بخشتے ہیں یہ کوئی کتب بینی سے محبت کرنے والوں سے پوچھے۔ مجھے اپنی تکلیف کا احساس ہے، دکاندار کو اپنا غم سب سے بڑا لگ رہا ہے، طالبات اپنی جگہ حالت غم میں ہیں۔ کیا کسی نے ان کتب سے پوچھا جب انہیں بے دردی سے اچھالا گیا، جب دور پھینک دیا گیا، جب ان کی حرمت کو پامال کیا گیا تو ان کو کتنی تکلیف ہوئی؟ انہوں نے کتنا درد سہا؟ وہ جو انسان کی تنہائی کا ساتھی اور بہترین دوست ہونے کا دعوی کرتی ہیں آج ان کتب کو اپنے قاری کی محبت کا ثبوت چاہیے۔ دنیا میں ہر چیز ترقی کر رہی ہے سوشل میڈیا کا دور ہے لیکن کتاب دوستی ازل سے ہے اور ابد تک رہے گی۔ان شاءاللہ!

    کائنات کو وجود بخشنے سے پہلے رب العزت نے کتاب تقدیر لکھی جسے لوہے محفوظ میں رکھ دیا گیا۔ ہر پیغمبر کو جب نائب مقرر کیا گیا تو اپنا پیغام رب نے کتاب یا صحیفے کی صورت میں بنی نوع انسان تک پہنچایا۔ آسمانوں سے رب کا پیغام پیغمبروں کے دلوں پر کتابوں کی صورت میں نازل ہوا آخری آسمانی پیغام جو وحی کی صورت خاتم النبیین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا وہ بھی کتابی صورت میں محفوظ ہے۔ اس دور میں عرب میں کاغذ کا دستور نہ تھا پیغام الہی کو چمڑے پر، درختوں کی چھال پر، پتھروں پر محفوظ کیا جاتا تھا۔ جنگ یمامہ میں 70 سے زائد حفاظ صحابہ اکرام کی شہادت نے حضرت ابوبکر کے دل پر وحی الہی کو مصحف کی صورت میں جمع کرنے کا خیال آیا۔ حضرت زید بن ثابت رضی اللّٰہ عنہ جنہیں کاتب وحی کہا جاتا ہے انہوں نے انتھک محنت سے قرآن پاک کو مصحف کی صورت میں ترتیب دیا جو آج ہر لحاظ سے محفوظ ہے۔ کتاب سے محبت انسان کی سرشت میں شامل ہے۔ دور نبوی میں بھی جنگوں میں مجاہدین کے جذبہ شوق کو جگانے کے لیے شاعری کی جاتی تھی یعنی ہر دور میں علم کو محفوظ کرنے کے لیے قرطاس کا سہارا لینا پڑا۔ علم وحی کا ہو چاہے ادب کا ہو، فنون لطیفہ ہو یا سائنس ہو علم تو علم کا درجہ ہی رکھتا ہے۔ جس نے علم کی قدر نہیں کی پھر انہوں نے اپنی قدر و منزلت بھی کھو دی۔ آج گیجٹس کے دور میں چند معتبر اشیاء جو بچ گئی ہیں ان میں کتب بھی شامل ہیں، اور اردو بازار مہنگائی کی جنگ لڑتا اپنے قارئین کو کم داموں میں علم کی پیاس بجھانے کا موقع فراہم کرتا تھا۔

    مگر یہ لمحہ فکریہ ہے آج حکام اعلی کے لیے۔ کسی چیز کو اس کا مقام نہ دینا ظلم ہے اور ظالموں کو اللہ پسند نہیں کرتا۔ آئیے! ہم سب مل کر کتاب دوستی کے لیے آواز اٹھائیں۔ اردو بازار کتابوں سے محبت کرنے والوں کی یادوں میں بسا ہے۔ آئیں! آج اپنی یادوں کو تکلیف دہ نہیں بلکہ خوشیوں والا بنائیں۔ آئیے! آج کتابوں کو ان کا اصل مقام دلانے کے لیے آواز اٹھائیں۔ میں نے کہیں پڑھا تھا جس قوم کے جوتے شوکیس میں رکھے جائیں اور کتابیں سڑکوں پر ہوں تو اس قوم کا تو اللہ ہی حافظ ہے لیکن یہاں تو سڑکوں سے اٹھا کر کتب کو دربدر کر دیا گیا۔ یہ علم تو مومن کے سر کا تاج ہے، دل کا سکون ہے، زندگی کی راحت ہے، آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ آج اس کو سڑکوں سے بھی اٹھا دیا گیا ہے۔ مڈل کلاس طالبات کی علمی پیاس کے لیے آواز اٹھائیں ورنہ اگلی نسلوں کی علمی آبیاری ممکن نہ رہے گی۔ ڈریں اس وقت سے جب ہمیں اپنے ایمان کا حساب دینا ہو گا، اگر ہم آگے بڑھ کر برائی کو ہاتھ سے روکنے کی جرات نہیں رکھتے تو اپنی زبان سے غلط کو غلط کہنا سیکھیں اگر وہ بھی نہیں کر سکتے تو کم از کم اسے دل میں تو برا جانیں اور یہ ایمان کی سب سے کمزور حالت ہے اپنے کمزور ایمان کو بچائیے۔ حق کو حق اور باطل کو باطل کہنا سیکھیے۔ آئیے! حق کے راستے کی بارش کا پہلا قطرہ بن جائیں کیونکہ جب زمیں پر جل تھل ہو گی تو کہیں راہ حق میں ہمارا بھی حصہ ہو گا۔ ان شاءاللہ!