Baaghi TV

Category: خواتین

  • بے حیا دوا اور پیپ سمیر ٹیسٹ ، تحریر:ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

    بے حیا دوا اور پیپ سمیر ٹیسٹ ، تحریر:ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

    ڈاکٹر میرے شوہر خوش نہیں ہیں!“
    تھکا ہوا لہجہ، چالیس کے پیٹے میں خوش شکل اداس صورت خاتون —-
    سو ہم نے بات اڑانے کے لئے ہنس کے کہا،فکر نہ کیجیے، شوہروں کا یہی وطیرہ ہوتاہے، کچھ بھی کر لو بھلے جان دے دو، بھلے مانس خوش ہوتے ہی نہیں“
    وہ ہولے سے مسکرا دیں۔
    ”اب بتا دیجیے، کیوں ناراض رہتے ہیں وہ“
    وہ ڈاکٹر، پچھلے پانچ چھ ماہ سے ہم جب بھی—وہ جب بھی ——“وہ جھینپ کے رک گئیں-
    جی، جب بھی۔ کہیے؟“
    ہم نے انہیں بات مکمل کرنے کا حوصلہ دیا
    ” جی، پچھلے کچھ عرصے سے ہم جب بھی ہم بستری کرتے ہیں، ان کو محسوس ہوتا ہے کہ ان کے عضو پہ تھوڑا سا خون لگ گیا ہے۔ میرے جسم پہ بھی کچھ خون کے دھبے ہوتے ہیں، ساتھ میں درد بھی بہت ہے۔ میں بہت پریشان ہوں ڈاکٹر“
    ” پریشان نہ ہوئیے۔ آپ یہ بتائیے کہ آپ نے پہلے کبھی اپنا پیپ سمیر ( pap smear ) کروایا؟“ ہم نے پوچھا
    جی مجھے علم نہیں کہ یہ کیا ہوتا ہے؟“ وہ بولیں۔
    ” یہ ایک ٹیسٹ ہے جو رحم کے منہ یعنی سروکس ( cervix) سے لیا جاتا ہے۔ تیس برس کی عمر کے بعد ہر خاتون کو یہ ٹیسٹ کروانا چاہیے کیونکہ چھاتی کے کینسر کے بعد سب سے زیادہ شرح سروکس کے کینسر کی ہے اور اکثر اوقات کینسر ہونے کا پتہ ہی نہیں چلتا۔ یہ ٹیسٹ کینسر شروع ہونے سے پہلے ہی بتا دیتا ہے کہ سروکس کے سیل نارمل نہیں رہے، سو ضرورت ہے کہ احتیاطی تدابیر اختیار کرلی جائیں“
    ہم نے تفصیل سے انہیں سمجھایا۔
    ”یہ ٹیسٹ آپ کیسے لیں گی؟“
    وہ کچھ شش و پنج میں مبتلا تھیں۔
    ”آپ کے رحم کے منہ یعنی سروکس کا معائنہ —-پھر ایک برش کی مدد سے چھوتے ہوئے اس کی سطح سے کچھ سیلز لے کر گلاس سلائیڈ پہ منتقل — بس پھر لیبارٹری والے جانیں اور ان کا کام“
    ہم نے انہیں دلاسا دیتے ہوئے وضاحت کی۔
    ”بہت آسان سا کام ہے، آپ کو بالکل تکلیف نہیں ہو گی“
    وہ خوفزدہ نظر آتی تھیں مگر ہمارے سمجھانے بجھانے پہ معائنے کے لئے راضی ہو گئیں۔

    سروکس صحت مند حالت میں نہیں تھا، ایسے لگتا تھا کہ انہیں کافی مرتبہ وجائنل انفیکشن رہ چکی ہے۔ ہم نے پیپ سمیر لیا اور انہیں نتیجے کے ساتھ آنے کے لئے کہا۔
    کچھ دنوں بعد پیپ سمیر کی رپورٹ آ گئی اور رپورٹ خوش آئند نہیں تھی۔ کچھ ابنارمل قسم کے سیلز دیکھے گئے تھے جو متقاضی تھے کہ مزید ٹیسٹ کیے جائیں۔ اگلا مرحلہ سروکس کو ایک مائکرو سکوپ ( colposcope) نامی مشین کی مدد سے دیکھنا اور متاثرہ حصے کی بائیوپسی لینا تھا۔
    طریقہ کار پہلے جیسا ہی تھا، کاؤچ پہ مریض کو لٹا کر اندرونی اعضائے مخصوصہ کو دیکھ کر بائیوپسی لینا۔ اس عمل میں مریض کو کسی بے ہوشی کی ضرورت نہیں پڑتی اور بائیوپسی لینا زیادہ تکلیف دہ امر نہیں ہوتا۔ درد کی شکایت میں پیراسٹامول دینا ہی کافی رہتا ہے۔
    ‏Colposcopy کے ساتھ بائیوپسی لیتے ہوئے بھی سروکس صحتمند حالت میں نظر نہیں آتا تھا۔بائیوپسی کی رپورٹ نے وہی کہا جو ہمارا شک تھا یعنی سروکس کینسر سے پہلے والی سٹیج پہ پہنچ چکا تھا۔ سروکس کے سیلز کا رجحان کینسر کی طرف بڑھنے کو CIN یا carcinoma in situ کہا جاتا ہے۔
    خاتون کو رزلٹ سے آگاہ کیا گیا تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دیں، ڈاکٹر میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، اب کیا ہو گا؟
    ”روئیے نہیں، ابھی کینسر شروع نہیں ہوا۔ آپ خوش قسمت ہیں کہ آپ کو ہم بستری کے دوران خون آنے والی علامت شروع ہوئی اور آپ نے اس کے بعد گائناکالوجسٹ کے پاس آنے کا فیصلہ بھی کیا۔ دعائیں دیجیے اپنے شوہر کو، جنہیں خوش کرنے کے لئے آپ نے کم ازکم اس علامت پہ کان تو دھرا“
    ہم مسکرا کے بولے۔

    ”اب کیا کرنا چاہیے؟“ وہ فکرمندی سے بولیں۔
    ”دیکھیے، پہلا حل تو یہ ہے کہ ہم رحم کا منہ یعنی سروکس کے ایک حصے کو کاٹ کو نکال دیں۔ اس کے لئے دو تین طریقے اختیار کیے جاتے ہیں ( Cone biopsy اور LLETZ) ۔
    یہ آپریشن ویجائنا کے راستے کیا جائے گا اور بے ہوشی کے عالم میں ہو گا۔ لیکن اس کے بعد بھی آپ کو وقفے وقفے سے پیپ سمیر کرواتے رہنا ہو گا کہ کوئی بچا کھچا سیل کہیں کسی خرابی کا باعث تو نہیں بن رہا ”
    ”اور دوسرا حل؟“
    ”جی دوسرا حل یہ ہے کہ آپ رحم ہی آپریشن کے ذریعے نکلوا دیں۔ اس صورت میں نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری۔ ہمیشہ کے لئے رحم اور سروکس کے کینسر کے خطرے سے نجات“
    ”ڈاکٹر میرا خیال یہ ہے کہ میں دوسرے حل کے لئے زیادہ مطمئن رہوں گی“
    بصد شوق“

    یہ پیپ سمیر کی کہانی ہمارے لئے تو روزمرہ کی بات ہے لیکن آپ تک پہنچانے کا خیال یوں آیا جب ہم نے کچھ قریبی دوستوں سے پوچھا کہ کیا انہوں نے کبھی پیپ سمیر کروایا ہے اور سب کو ہی پیپ سمیر سے بے خبر پایا۔ پھر ہم نے اپنی بہنوں سے دریافت کیا تو کسی کو کچھ خبر نہ تھی۔ ہم پہ تو بجلی ہی گر پڑی، چراغ تلے اندھیرا اسی کو تو کہتے ہیں۔
    پیپ سمیر کا سہرا ایک یونانی ڈاکٹر Georgios Papanikolaou کے سر بندھتا ہے جس نے سیلز کی مدد سے کینسر کو پہچاننے کا طریقہ دریافت کیا اور اسی لئے اس ٹیسٹ کو پیپ سمیر پکارا گیا۔
    جان لیجیے کہ پیپ سمیر تیس برس کی عمر سے لے کر پینسٹھ برس کی عمر تک ہر تین برس کے وقفے سے کیا جاتا ہے۔ اگر کبھی کسی مرحلے میں کوئی ابنارمیلٹی ملجائے تو باقی مراحل کی باری آتی ہے۔
    پیپ سمیر کے ساتھ HPV وائرس کا ٹیسٹ بھی کیا جانا چاہیے کہ یہ موذی کینسر کے اسباب میں سے ایک ہے۔عورت کے جسم کو رگیدنے اور اس پہ انواع و اقسام کی مرضی منطبق کرنے کا کام عورت مارچ کے حوالے سے بخوبی کیا گیا ہے۔ مگر اس جسم کی دیکھ پرداخت کا مسئلہ چونکہ کسی اور کا نہیں، صرف عورت کا ہے سو ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہماری ہم نفس ان تکالیف سے ضرور بچ جائے جو آگہی نہ ہونے کی وجہ سے اسے آن گھیرتی ہیں۔بات نکلی ہے تو human papilloma virus کی کتھا بھی سنائے دیتے ہیں۔

    “کوئی پوچھے ان نگوڑوں سے، کیوں ہم سے بار بار کہتے ہو کہ ہم اپنی بچیوں کو یہ ویکسین لگوائیں۔ یہ تو بنائی ہی موئی گوریوں کے لئے گئی ہے جو چھوٹی عمر میں ہی درجنوں بوائے فرینڈ رکھ چھوڑتی ہیں۔ اگر شادی کریں بھی تو بھلا ایک شادی تک محدود کہاں رہتی ہیں۔ تو انہیں تو ضرورت ہوئی نا۔ اب ہماری بچیاں یہ بوائے فرینڈ شرینڈ کیا جانیں۔ جہاں اماں ابا بیاہیں گے، چلی جائیں گی اور وہاں سے مر کے ہی نکلیں گی۔ پھر کیا ضرورت اس ویکسین کی؟ خواہ مخواہ پیسے کا ضیاع۔ بس بی بی یہ بتا دو کہ یہ بیماری ہماری طرف کی بچیوں کو تو نہیں ہوتی نا“
    وہ خاتون ہمیں ایک تقریب میں ملی تھیں اور بات کرونا کی ویکسین سے شروع ہو کے ایک دوسری ویکسین تک آن پہنچی تھی۔ وہ اپنی بچیوں کے سکول سے بھیجی گئی معلومات پہ شاکی تھیں۔ جو بات انہیں ان کا ذہن سمجھاتا تھا، وہ ہم ماننے سے انکاری تھے اور جو ہم سمجھاتے تھے، ان کا دل شد و مد سے جھٹلاتا تھا۔
    ”جی، یہ بیماری ہماری طرف کے مرد و عورت میں بھی بہت عام ہے“ ہم نے کہا۔
    ارے وہ کیسے؟ دیکھو یہ تو ہم بستری سے ایک دوسرے کو منتقل ہوتی ہے نا“
    وہ چمک کے بولیں،
    جی ہاں“
    ”اے نوج بی بی کچھ عقل کو ہاتھ ڈالو۔ جب ہم بستری ہی میاں بیوی کے درمیان ہو گی تو کہاں سے موا ٹپکے گا وائرس؟“
    ”یہی تو مصیبت ہے کہ گھر سے باہر بھی کافی بستر پائے جاتے ہیں“
    ہم زیر لب بڑبڑائے،
    کیا کہا؟“
    ”جی، حقیقت یہی ہے کہ یہ وائرس ہم بستری سے ہی ایک دوسرے کو منتقل ہو کر بیماری پھیلاتا ہے۔ بیماری تو مرد و عورت دونوں کو ہو سکتی ہے لیکن بیماری کے نتیجے میں کینسر کا شکار عورت بنتی ہے۔ بچیوں کو ویکسین لگوانے کے لئے اس لئے کہا جاتا ہے کہ اگر وہ خود کسی غیراخلاقی گراوٹ میں مبتلا نہ بھی ہوں، تب بھی وہ کینسر کا شکار ہو سکتی ہیں اگر ان کا شوہر گھر سے باہر جنسی تعلقات سے شغف رکھتا ہو“ ہم نے چڑ کر کہا۔

    صاحب، کرونا وائرس سے اور کچھ ہوا ہو یا نہیں، ہر ذی شعور یہ ضرور سمجھ گیا ہے کہ وائرس کی ہلاکت خیزی کیا ہوتی ہے۔ ایسا ہی ایک وائرس Human papiloma virus کے نام سے پایا جاتا ہے جس کا نشانہ کرونا وائرس کی طرح گلا یا پھیپھڑے نہیں بلکہ مرد و عورت کے جنسی اعضا ہوا کرتے ہیں۔
    یہ انفیکشن مرد سے عورت، عورت سے مرد، مرد سے مرد اور عورت سے عورت کو بذریعہ جنسی تعلقات منتقل ہوتی ہے۔ بعض دفعہ وائرس کوئی علامات پیدا نہیں کرتا لیکن بہت سے مریضوں میں چھوٹی چھوٹی لحمیاتی پھنسیاں نکل آتی ہیں جنہیں وارٹس ( warts ) کہا جاتا ہے۔ مرد کے بیرونی جنسی اعضا اور عورت کے بیرونی اور اندرونی جنسی اعضا پہ ان پھنسیوں کا موجود ہونا HPV انفیکشن کا ثبوت ہے۔
    وائرس زیادہ تر جنسی کاروبار میں ملوث افراد میں پایا جاتا ہے اور وہیں سے مختلف لوگوں میں منتقل ہوتا ہے۔ HPV کی منتقلی کسی اور طریقے سے ممکن نہیں۔ لیکن لوگ اپنی تسلی کے لئے بہت سی کہانیاں گھڑ لیتے ہیں۔
    ہمیں ایک دفعہ ایک خاتون ملیں، جن کے شوہر اس وائرس کا شکار ہونے کے بعد قسمیں کھا کھا کے انہیں یقین دلانے کی کوشش کرتے تھے کہ یہ انفیکشن ہوٹل کے تولیوں کے استعمال سے ہوئی ہے۔ کچھ اور کہانیوں میں شوہروں نے دوستوں کے استعمال شدہ زیر جامے کو غلطی سے پہن لینے پہ مورد الزام ٹھہرایا۔
    جب اس طرح کی توجیہہ کے بعد کوئی ہماری رائے جاننے کی کوشش کرتا ہے توہم چپ رہے، ہم ہنس دیے، منظور تھا پردہ تیرا کی تصویر بن جایا کرتے ہیں۔
    ان وارٹس کا علاج لیزر یا بجلی کے ذریعے کیا جاتا ہے جہاں ان پھنسیوں کو جلایا جاتا ہے۔ یہ پھنسیاں ایک دفعہ جلانے سے ختم نہیں ہوتیں سو یہ عمل کئی دفعہ دہرانے کی ضرورت پڑتی ہے۔
    خواتین کو اگر یہ انفیکشن حمل کے دوران ہو جائے تو طبعی زچگی کے نتیجے میں انفیکشن نوزائیدہ کو منتقل ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔اس انفیکشن کا سب سے بڑا خطرہ خواتین میں رحم کے منہ سروکس ( cervix) کا کینسر ہے جو وائرس کی ایک خاص قسم HPV 16 اور HPV 18 کا شکار بنتی ہیں۔ کینسر کے ستر فیصد مریضوں میں سبب HPV ہی ہوتا ہے۔

    جس ویکسین کا ہم نے شروع میں ذکر کیا وہ انہی دو قسموں سے بچنے کے لئے بنائی گئی ہے۔ سروکس کے کینسر سے بچنے کے لئے بچیوں کو یہ ویکسین گیارہ سے بارہ برس کی عمر میں لگائی جاتی ہے۔
    بچیوں کو اوائل شباب میں ویکسین لگانے کی وجہ محض یہ ہے کہ نوعمری میں ویکسین لگانے سے اس کی افادیت زیادہ ہوتی ہے اور کسی بھی واسطے سے انفیکشن منتقل ہونے کا تحفظ تمام عمر رہتا ہے۔
    ابتدا میں مسلمان خاندانوں میں اس ویکسین کے خلاف کافی مزاحمت یہ کہہ کر کی گئی کہ بحیثیت مسلمان ہمارے بچے کہاں اس نوعیت کے جنسی تعلق میں مبتلا ہوا کرتے ہیں؟ یا یہ تو بچوں اور بچیوں کو مزید شہ دینے والی بات ہے۔سوچنے والی بات محض یہ ہے کہ اگر ایسا ہی ہے تو پھر ہمارے معاشرے میں بے شمار افراد اس انفیکشن کا شکار کیوں ہوتے ہیں؟جواب سننے کے لئے ہمارا منہ نہ کھلوائیے کہ گائناکالوجسٹ کے حمام میں سب کچھ نظر بھی آ جاتا ہے اور کافی رازوں سے پردہ بھی اٹھ جاتا ہے۔ یہ ایک کڑوا گھونٹ ہے کیونکہ اس بیماری کے لئے متعدد جنسی ساتھیوں کا ہونا لازم ہے جو بیماری کو ایک سے دوسرے میں منتقل کرتے ہیں۔کون کس کو اس بیماری میں مبتلا کرتا ہے اور کہاں سے یہ لے کر آتا ہے؟ کوایک طرف رکھ کر محض یہ جان لیجیے کہ کینسر کا عذاب صرف عورت کے حصے میں آتا ہے اور بریسٹ کینسر کے بعد سب سے زیادہ شرح سروکس کے کینسر ہی کی ہے۔
    خواتین کے حصے میں آنے والے عذاب ویسے ہی کم نہیں سو ناگہانی سے نبٹنے کے لئے اپنی بیٹیوں کے لئے HPV ویکسین کا خیال برا نہیں!

  • بھارت :خواتین کی فروخت کا بازار، شیو پوری گاؤں میں ‘ڈھڈیچا’ روایت کا انکشاف

    بھارت :خواتین کی فروخت کا بازار، شیو پوری گاؤں میں ‘ڈھڈیچا’ روایت کا انکشاف

    باغی ٹی وی :بھارت میں مدھیہ پردیش کے شیو پوری گاؤں میں ایک قدیم اور متنازع روایت ’ڈھڈیچا‘ اب بھارت کے عالمی سطح پر انسانی حقوق کے مسائل میں ایک نیا سوال اٹھا رہی ہے۔ اس روایت کے تحت، خواتین کو بازار میں اشیاء کی طرح خریدا اور بیچا جاتا ہے، جس سے ان کی بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔

    خواتین کو کرائے پر دینے کا طریقہ کار
    ڈھڈیچا روایت کے تحت، شیو پوری کے بازار میں دور دراز علاقوں سے آئے مرد اپنی پسند کی خواتین کو دیکھ کر ان کی قیمت مقرر کرتے ہیں۔ قیمت طے کرنے کے بعد، وہ رقم ادا کرکے خواتین کو اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ کرائے پر دینے کی مدت اور شرائط معاہدے میں واضح کی جاتی ہیں، جو خواتین کو ایک سال یا چند مہینوں کے لیے کرائے پر لینے کی اجازت دیتی ہیں۔

    خواتین کی فروخت کرنے والے اور خریدار
    اس بازار میں زیادہ تر غریب خاندان کی خواتین کو فروخت کے لیے پیش کرتے ہیں۔ خریدار مختلف مقاصد کے لیے خواتین خریدتے ہیں؛ کچھ خواتین کو بزرگوں کی خدمت کے لیے خریدا جاتا ہے، جبکہ دیگر خواتین کو بیوی کے طور پر کرائے پر لیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ خواتین کو ’ڈیل‘ سے انکار کرنے کا حق بھی دیا گیا ہے، حالانکہ عملی طور پر یہ حق کتنا مؤثر ہے، اس پر سوالات اٹھتے ہیں۔

    قیمتیں اور کنٹریکٹ کی تفصیلات
    خواتین کی قیمتیں مختلف ہوتی ہیں اور ان کے لیے اسٹامپ پیپر کی قیمت صرف 10 روپے سے شروع ہوتی ہے۔ کنٹریکٹ کے تحت قیمت 15 ہزار روپے سے لے کر چند لاکھ روپے تک ہو سکتی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، کنواری خواتین کی قیمت شادی شدہ خواتین سے زیادہ ہوتی ہے۔

    عالمی تنقید اور حقوق انسانی کی پامالی
    اس روایت کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد، عالمی سطح پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ بھارت میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے، اس روایت کے خاتمے کے لیے اقدامات اٹھانے کی اپیل کی گئی ہے۔

    ڈھڈیچا روایت ایک واضح اشارہ ہے کہ بھارت میں خواتین کے حقوق اور تحفظ کی صورتحال میں بہتری کی ضرورت ہے، اور یہ کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے موثر قانون سازی اور سماجی اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔

  • میرے وقت  کی قدر

    میرے وقت کی قدر

    میرے وقت کی قدر
    ہماری تیز رفتار زندگیوں میں، ہم اکثر خود کو وقتی توقعات کے بھنور میں پھنسے ہوئے پاتے ہیں، ایک خاص عمر کے حساب سے تعلیم، کیریئر کی ترقی، مادی املاک کامیابی کی علامت کے طور پر حاصل کرنے کے لئے ہم موجودہ لمحے سے لطف اندوز ہونے اور کچھ انتہائی ضروری "میرے وقت” میں شامل ہونے کی اہمیت کو نظر انداز کرتے ہیں۔

    ایک قدم پیچھے ہٹتے ہوئے، میں اپنے لیے لمحات کو تراشنے کی اہمیت کی تعریف کرنے آئی ہوں۔ یہ "میرا وقت” صرف ایک عیش و آرام نہیں ،یہ فلاح و بہبود کے لیے ایک بنیادی ضرورت ہے۔ یہ ذہنی اور جسمانی طور پر اپنے آپ سے دوبارہ جڑنے کے بارے میں ہے۔ چاہے یہ ایک آرام دہ غسل ہو، ایک دلکش کتاب ہو، آرام سے ٹہلنا ہو، یا یوگا سیشن ہو، جوہر اپنے خیالات کے ساتھ موجود رہنے اور ذہن سازی کو اپنانے میں مضمر ہے۔

    یہ وقف شدہ وقت زندگی کے تقاضوں کو متحرک کرنے کے لیے درکار توانائی کو بھرنے، پھر سے جوان ہونے کی اجازت دیتا ہے۔ جیسا کہ کہاوت ہے، "آپ خالی کپ سے نہیں ڈال سکتے”؛ خود کی دیکھ بھال کو ترجیح دینا مجموعی کام کے لیے ضروری ہے۔ میرا وقت، بیرونی اثرات سے بے نیاز ہو کر خود آگاہی اور ذاتی ترقی کو فروغ دیتا ہے،

    ان لمحات کی تنہائی میں، خود شناسی اور ایماندارانہ خود تشخیص کی گنجائش ہے۔ یہ تعلقات کا جائزہ لینے کا ایک موقع ہے، اس بات کا اندازہ لگانا کہ واقعی کسی کی فلاح و بہبود کی کیا پرورش ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، یہ انفرادی مفادات کو آگے بڑھانے اور بیرونی کرداروں کے علاوہ اپنی شناخت کو دوبارہ دریافت کرنے کا موقع ہے۔
    بالآخر، میرے وقت کو ہمارے معمولات میں ضم کرنا صرف تفریح ​​کے لیے مخصوص ایک عیش و آرام کی چیز نہیں ہے۔ یہ خود کی دیکھ بھال اور ذاتی تکمیل کے لیے ایک اہم عمل ہے۔ لہذا، زندگی کی ذمہ داریوں کے افراتفری کے درمیان وقت کے انمول تحفے کو ترجیح دینا یاد رکھیں۔

  • وسیم راشد

    وسیم راشد

    شاہد ریاض خصوصی رپورٹ(باغی ٹی وی)
    پشت پر جس نے بہت زخم لگائے ہیں وسیم
    جھک کے ملتا ہے وہی چاہنے والوں کی طرح

    وسیم راشد(معروف صحافی، ادیبہ،شاعرہ اوراینکر)
    23 مارچ 1977: یوم پیدائش
    شوہر کا نام:راشد شہاب
    والد کا نام:حافظ عبدالوحید خاں
    والدہ کا نام:سرور جہاں
    جائے ولادت:دہلی
    تعلیم:ایم اے (بی ایڈ)، پی ایچ ڈی ماس کمیونیکیشن
    زبان:انگلش، ہندی، اردو
    پیشہ:معلہ، صحافی، ٹی وی پروڈیوسر، اینکر
    مشاغل:شاعری، نظامت، مقالے پڑھنا، ادبی سرگرمیوں میں حصہ لینا
    موجودہ عہدہ:چیف ایڈیٹر ”صدا ٹوڈے“ نیوز پورٹل
    ممبر گورننگ کونسل، دلی اردو اکادمی
    سابق عہدے:سینئر پی جی ٹی اردو ،صدر شعبۂ اردو (نیو ہورائزن اسکول)وائس پرنسل، کریسنٹ اسکول دریا گنج، نئی دہلی
    ایسوسی ایٹ پروڈیوسر (عالمی سہارا اردو) مدیر (چوتھی دنیا اردو) پرنسپل آور انڈیا انٹر نیشنل اسکول، کاندھلہ، یوپی

    غیرملکی سفر:انگلینڈ، ایران، عراق، کویت، جدہ، پاکستان
    تصنیفات:سرسید کے مخالفین(حقائق کی روشنی میں) 2018ء
    ایوارڈ و اوعزازات

    ۔ (1)پرم شری میڈیا ایکسی لنسی ایوارڈ
    ۔ 2017ء-(برائے اردو صحافت)
    ۔ (2)رانی جھانسی لکشمی بائی ایوارڈ (برائے اردو صحافت)
    ۔ (3)ناہید صحافت (برائے اردو صحافت)
    ۔ (4)آفتابِ صحافت (برائے اردو صحافت)
    ۔ (5)مولانا ابواکلام آزادایوارڈ(برائے اردو صحافت)
    ۔ (6)قرۃ العین حیدر ایوارڈ (برائے اردو فکشن)
    ۔ (7)بہترین استاد ایوارڈ-2004ء(دلی اردو اکاڈمی)
    ۔ (8)بہترین استاد ایوارڈز 2004ء(نیو ہورائزن اسکول)
    ۔ (9)پروین شاکر ایوارڈ، پونہ (برائے اردو شاعری)
    ۔ (10)عصمت چغتائی ایوارڈ (برائے اردو ادب)
    ۔ (11)گولڈ میڈل، پوزیشن، دوئم ، ایم اے اردو، دہلی یونیورسٹی
    ۔ (12)مرزا غالب ایوارڈ( بی اے، اول پوزیشن، دہلی یونیورسٹی)
    گھر کا پتا:C1/9، فلیٹ نمبر 401، چوتھا فلور پاکٹ 11، جسولہ وہار، نئی دہلی-25

    غزل

    تیرا خیال میری انجمن میں رہتا ہے
    عجیب پھول ہے تنہا چمن میں رہتاہے
    میں اس سے دور بھی جاؤں تو کس طرح جاؤں
    وہ عطر بن کے میرے پیرہن میں رہتا ہے
    وہ اپنی روح کے زخموں کو کس طرح گنتا
    ہمیشہ الجھا ہوا وہ بدن میں رہتا ہے
    تری تلاش میں تھک جاتے ہیں قدم لیکن
    سکون قلب بھی شامل تھکن میں رہتا ہے
    یہ بات سچ ہے نظریات جس کے چھوٹے ہوں
    بڑے مکان میں بھی وہ گھٹن میں رہتا ہے
    وسیم ہند کی مٹی میں کیسا جادو ہے
    کہیں بھی جاؤں مرا دل وطن میں رہتا ہے

    غزل

    زندگی جن کی گزرتی ہے اجالوں کی طرح
    یاد رکھتے ہیں انھیں لوگ مثالوں کی طرح
    علم والوں کو کبھی موت نہیں آتی وہ
    زندہ رہتے ہیں کتابوں کے حوالوں کی طرح
    پشت پر جس نے بہت زخم لگائے ہیں وسیم
    جھک کےملتا ہے وہی چاہنے والوں کی طرح

    غزل

    نہ وہ کہانی نہ اب داستان باقی ہے
    بس ایک زخم کا دل پر نشان باقی ہے
    تمھاری یاد کا سایہ تھا جب تلک سر پر
    ہمیں بھی لگتا رہا آسمان باقی ہے
    نہ کوئی آس نہ امید تیرے آنے کی
    نہ جانے کس لیے آنکھوں میں جان باقی ہے
    اسی لیے چلے آتے ہیں اس کے کوچےمیں
    وہ چاہتا ہےہمیں یہ گمان باقی ہے
    ہمیں نصیب تھا جیسا وسیم بچپن میں
    نہ ویسا گھر ہے نہ وہ خاندان باقی ہے

    غزل

    دل کا قصہ نہ کبھی بیچ میں چھوڑا جائے
    یہ ورق ایسا نہیں ہےجسے موڑا جائے
    چاہے شیشہ ہو کہ کھلونا ہو کہ دل ہو میرا
    اسکی قسمت میں ہی لکھا ہے کہ توڑا جائے
    اپنی دہلی سے ہٹوادیے پتھر اس نے
    میں پریشاں ہوں کہ سر اب کہاں پھوڑا جائے
    بعد میں جوڑیں گے ہم ٹوٹے ہوئے جام وسبو
    پہلے ٹوٹے ہوئے ہر رشتے کو جوڑا جائے
    کیوں میرے اشکوں کی محفل میں نمائش ہو وسیم
    کیوں بھری بزم میں آنچل کو نچوڑا جائے

  • خواتین کی شمولیت کے بغیر ترقی نا ممکن

    خواتین کی شمولیت کے بغیر ترقی نا ممکن

    خواتین کا عالمی دن،پاکستان میں صنفی مساوات کو آگے بڑھانے کا مشن
    تحریر۔۔ناظم الدین
    خواتین کو بااختیار بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے اور بااختیار بنانے کا مطلب اس کوبہادربنانااوروسیع پیمانے پر اپنی زندگی کوتشکیل دینے کے لئے انتخاب اوراس پر عمل کی آزادی کو آگے بڑھانا ہے یعنی وسائل اور فیصلوں پر کنٹرول ہے۔ ایک بااختیارعورت وہ ہو گی جو پر اعتماد ہو، جو اپنے ماحول کا تنقیدی تجزیہ کرتی ہو اور جو اپنی زندگی کو متاثر کرنے والے فیصلوں پرکنٹرول رکھتی ہو۔ بااختیار بنانے کا خیال سماجی تعامل کی تمام سطحوں پر ظاہر ہوتا ہے۔ یہ کمزور اور پسماندہ لوگوں کو آوازدینے میں پایا جاتا ہے۔ اس کے لیے صلا حیتوں کی توسیع کے لیے ضروری آلات اور مواد تک رسائی کی ضرورت ہوتی ہے۔خواتین کو بااختیار بنانے کے پانچ اجزاء ہیں: خواتین میں خود کی قدر کا احساس، انتخاب کرنے اور تعین کرنے کا ان کا حق، مواقع اور وسائل تک رسائی کا ان کا حق، گھر کے اندر اور باہر، اپنی زندگی کو کنٹرول کرنے کااختیار،پسندیدہ چیز حاصل کرنے کا ان کا حق اور قومی اور بین االقوامی سطح پر ایک زیادہ منصفانہ سماجی اور اقتصادی ترتیب بنانے کے ل یے سماجی تبدیلی کی سمت کو متاثر کرنے کی ان کی صالحیت۔ عام طور پر، بہت کم لوگوں کو یہ غلط فہمی ہے کہ خواتین کو بااختیار بنانا اور صنف ایک غیر ملکی ایجنڈا ہے لیکن اس کی واحد غلط فہمی پوری دنیا میں خواتین کو تاریخ کے آغاز سے ہی چیلنجز اور صنفی عدم مساوات کا سامنا رہا ہے۔ اگر ہم قرآن اور حدیث سے مدد لیں تو معلوم ہوگا کہ دونوں خواتین کے حقوق کے تحفظ پر بھی زور دیتے ہیں جن میں تعلیم، عبادت، آزادی رائے، شریک حیات کے انتخاب، معاشی آزادی اور سماجی کردار کے حقوق شامل ہیں۔قومی ترقی کومردوں اور عورتوں دونوں میں وسائل کی مساوی تقسیم کے ساتھ متوازن ہونا چاہیے کیونکہ پاکستان میں خواتین کل آبادی کا تقریبا 51 فیصد ہیں اور خواتین کی فعال شمولیت کے بغیرپاکستان ترقی کی مطلوبہ سطح کو حاصل نہیں کر سکتا۔ پاکستان کے قیام کے بعد سے ہی اسے غربت کی لعنت وراثت میں ملی اور اس غربت کا بوجھ خواتین کی آبادی پر بہت زیادہ ڈاال گیا جس کی وجہ یہ ہے کہ خواتین کی اکثریت زراعت کے کاموں، گھر کی دیکھ بھال، پانی اٹھانے اور جمع کرنے کے کاموں میں مصروف ہے۔ لیکن پیداواری سرگرمیوں میں ان کا کام غیر تسلیم شدہ ہے اور اس وجہ سے معاشی سرگرمیوں میں خواتین کی شرکت کم دکھائی دیتی ہے۔اس حوالے سے محمد علی جناح نے فرمایا ” کوئی بھی قوم اس وقت تک عظمت کی بلندی پرنہیں چڑھ سکتی جب تک کہ تمہاری عورتیں تمہارے شانہ بشانہ نہ ہوں۔ ہم بری رسم و رواج کا شکار ہیں۔ یہ انسانیت کے خلاف جرم ہے کہ ہماری خواتین کو گھروں کی چار دیواری میں قیدی بنا کر رکھا جاتا ہے۔ ہماری خواتین کو جس ناگفتہ بہ حالت میں رہنا پڑتا ہے اس کی کہیں بھی ”اجازت نہیں ہے۔عالمی سطح پر صنفی مساوات اور خواتین کو بااختیار بنانا، ترقی کے حصول کے لیے اہم ہتھیار ہیں اس لیے خواتین کو مرکزی دھارے میں النا بہت ضروری ہے تاکہ وہ ملک کی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکیں۔

    ایک زیادہ جامع معاشرے کا مشترکہ وژن، جہاں ہر عورت ترقی کر سکتی ہے اور ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکتی ہے، ان اجتماعی کوششوں کا مرکز ہے۔ آئی پی ایم جی کا قیام 2009 میں پاکستان میں صنفی مساوات اور خواتین کو بااختیار بنانے کے حوالے سے تعاون کو بڑھانے کے لیے کیا گیا تھا۔ یہ اسمبلی ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتی ہے، تعاون کو فروغ دیتی ہے اور پاکستان میں صنفی مساوات اور خواتین کو بااختیار بنانے کے راستے پر مثبت تبدیلی کا آغاز کرتی ہے۔ آؤ مل کر ایک ایسے معاشرے کی تعمیر کے لیے متحد ہو جائیں جہاں ہرعورت کی آواز گونجتی ہو، اور اس کے حقوق اور شراکت کی قدر ہو۔ ”IPMG پاکستان کی منفرد ضروریات کو پورا کرنے کیلئے موزوں حل وضع کرنے کے لیے ایک اختراعی پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس کی ایک مثال نیشنل جینڈر ڈیٹا پورٹل ہے۔ ڈیٹا کے اہم کردار کو تسلیم کرتے ہوئے ہم پالیسی کے خلاء کی نشاندہی کرنے اور باخبر فیصلے کرنے کیلئے حکام کو بااختیار بنانے میں اس کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں۔ نیشنل جینڈر ڈیٹا پورٹل جسے UN کی مالی مدد حاصل ہے، صنف سے متعلق ڈیٹا کا ایک معتبر اور جامع ذریعہ ہے۔ بہتر ڈیٹا اکٹھا کرنا، تجزیہ کرنا اور صنفی بنیاد پر تشدد کے خاتمے اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے کام کرنے والے عطیہ دہندگان دونوں کی طرف سے زیادہ باخبر فیصلہ سازی کی راہ ہموار کرتی ہے۔بین الصوبائی وزارتی گروپ کے ایک حصے کے طور پر، ہم تبدیلی کے عمل میں سب سے آگے کھڑے ہیں۔ آئی پی ایم جی ایک فورس کے طور پر کام کرتا ہے، اختراعی حکمت عملیوں اور باہمی تعاون کی کوششوں کو بھڑکاتا ہے، ہمیں ایسے مستقبل کی طرف لے جاتا ہے جہاں مساوات اور انصاف سب کے لیے غالب ہو۔نیشنل جینڈر ڈیٹا پورٹل (این جی ڈی پی) کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی، ایک پورٹل جو این سی ایس ڈبلیو کی چھتری تلے اقوام متحدہ کی خواتین اور نسٹ کے تعاون سے قائم کیا گیا تھا اسے خواتین سے متعلق اعدادوشمار/معلومات کے کمپیوٹرائزڈ ڈیٹا بیس کے طور پر اس طرح سے منظم اور پروگرام کیا گیا ہے کہ یہ قومی، صوبائی اور ضلعی سطحوں پر فیصلہ سازوں کے لیے خواتین کی حیثیت کے بارے میں باقاعدہ تجزیہ اور رپورٹس تیار کرتا ہے۔ تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لیے اپنی قیمتی معلومات، بصیرت اور درپیش چیلنجز کا اشتراک کیا۔

    خاتون محتسب پنجاب نبیلہ حاکم خان نے ورکنگ ویمن کوپرتحفظ ورک اسٹیشنزاورخواتین کو وراثتی جائیداد میں حصہ کی فراہمی کے حوالے سے اہم اجلاس کی صدات کی جس میں ہوم نیٹ پاکستان، سرکاری وغیرسرکاری اداروں،سول سوسائٹی اور وکلائنے شرکت کی۔خاتون محتسب پنجاب نبیلہ حاکم خان نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں ہراسگی کی روک تھام کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے جبکہ اداروں میں منفی رجحانات اور خواتین کو وراثتی جائیداد کی فراہمی میں کوتاہی کی حوصلہ شکنی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہراسگی کے خاتمے اورویمن پراپرٹی رائٹس کی فراہمی کے لیے میڈیا کا رول بھی اہم ہے اس حوالے سے ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد لازمی ہے۔ اسی مناسبت سے غیر فعال ہراسانی کی کمیٹیاں جلد فنکشنل کردی جائیں گی اس حوالے سے صوبے میں واچ کمیٹیوں کا دائرہ کار بھی وسیع کیا جائے گا۔

    ہیلتھ سیکٹر کی بہتری حکومت کی اولین تر جیحات ہیں۔پرائمری ہیلتھ کے بعض ہسپتال بہت بہتر حالت میں ورکنگ کررہے ہیں،مظفر گڑھ کا رجب طیب اردوان ہسپتال لاہور کے بعض بڑے ہسپتالوں سے بھی بہتر حالت میں ہے۔لاہور سمیت تمام بڑے ہسپتالوں کی ری ویمپنگ شروع کر دی گئی ہے۔ رورل ایمبولینس میں نئی گاڑیاں آنے سے سروسز میں بہتری اور عوام کو سہولت ملی ہے۔ صوبے کے دیہات میں 493 ایمبولینسز اور بچے کی صحت اور ماں بچے کو صحت کی بہترین سہولتوں کی رسائی کے لئے کام کررہی ہیں۔آئی آر ایم این سی ایچ پراجیکٹ کے تحت پنجاب کے دیہات میں 500ایمبولینس گاڑیاں حاملہ خواتین وبچوں اور معذور افراد کو مراکز صحت تک پک اینڈ ڈراپ کی سروس دے رہی ہیں۔حاملہ خواتین اور ان کے اہل خانہ ٹال فری نمبر1034 پر کال کرکے مفت پک اینڈ ڈراپ کی سروس حاصل کی جا رہی ہے۔ہیضہ اور نمونیا میں مبتلا کمسن بچوں کو بھی مراکز صحت تک لانے کے لئے رورل ایمبولینس سروس حاصل کی جا رہی ہے۔معذور افراد بھی فزیو تھراپی کے لئے روزانہ ہسپتال جانے کے لئے رورل ایمبولینس سروس استعمال کر رہے ہیں۔دور دراز دیہات میں 3بنیادی مراکز صحت کے ساتھ ایک رورل ایمبولینس سروس منسلک ہے۔مریض کو ایمبولینس سروس کے ذریعے مراکز صحت سے ہسپتال بھی منتقل کیا جارہا ہے۔

    محکمہ بہبود آبادی پنجاب کی جانب سے پاپولیشن پالیسی کی تشکیل نو کے لئے ڈرافٹ تیارکر لیا ہے۔پالیسی کے تحت فیملی پلاننگ سروسز اور کاؤنسلنگ کی سہولت عوام کی دہلیز پر فراہم ہو گی۔کمیونیکیشن کے ذریعے عوام میں فیملی پلاننگ اور اس کے فوائد کے متعلق آگہی اور علم کو یقینی بنایا جائے گا۔نئی پاپولیشن پالیسی 2024-29 کے ویژن میں خوشحال، صحت مند اور تعلیم یافتہ معاشرے کی تشکیل شامل ہے.تولیدی صحت، بھرپور غذا اور بہتر معیار زندگی ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ پالیسی میں پاپولیشن گروتھ کی شرح میں کمی کے لئے تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ بہتر کوارڈینیشن قائم کرنا بھی شامل ہے۔ امام اور خطیب حضرت کے ساتھ ساتھ کمیونیٹیز اور لوگوں کو بھی اس سارے عمل حصہ بنایا جائے گا۔محکمہ بہبود آبادی پنجاب صوبہ بھر میں تولیدی صحت کی خدمات تک رسائی میں دیگر صوبوں کے لئے رول ماڈل ثابت ہو رہا ہے۔مواصلات، آگاہی اور علم کے ذریعے ہر شخص کو اس کی دہلیز پر خدمات اور مشاورت کی توسیع کو اپنا مشن بنائے ہوئے ہے۔نئی پالیسی میں میں ہر خاندان کی منصوبہ بندی اور بہتر پرورش کی سہلیات کو فوکس کیا گیا ہے۔ تمام شہریوں کی زندگی کا معیار، تولیدی صحت کی بہتری کے حصول کے لیے رسائی اور انتخاب فراہم کیا گیا ہے۔صوبہ میں نئی حکومت نے چھوٹے خاندان کی خوشحالی اور سہو لیات کی فراہمی کو اپنی پالیسی کا حصہ بنایا ہوا ہے۔ورلڈ بنک کا پنجاب میں خاندانی منصوبہ بندی کے عظیم پراجیکٹ کا آغاز ہوا ہے جو عالمی بینک کا پروگرام خاندانی منصوبہ بندی کو بہتر بنانے، مانع حمل ادویات کے استعمال اور آبادی میں اضافے کو کم کرنے پر مبنی ہے۔خاندانی منصوبہ بندی کی معیاری خدمات تک مفت رسائی،خدمات میں نگہداشت کا معیار ادارہ جاتی شکل پر مشتمل ہے۔ ورلڈ بنک کا پروگرام کے تحت خاندانی منصوبہ بندی کے فوائد،ڈیلیوری سسٹم اوربہتر صحت سے وابستہ سہولیات کی فراہمی ہے۔ ورلڈ بینک کا یہ پروگرام کلینکل فرنچائزنگ، واؤچر سکیموں، اور کمیونٹی لیڈرز کے ذریعے فیملی پلاننگ کونسلنگ جیسی اختراعات کو بڑھا نے میں مدد گار ثابت ہو رہا ہے۔ ورلڈ بنک پروگرام کو پنجاب کے مختلف اضلاع میں پائلٹ کیا گیا ہے۔ لیڈی ہیلتھ ورکرز، فیملی ویلفیئر ورکرز اور کمیونٹی ہیلتھ ورکرز ایک وسیع نیٹ ورک کے ذریعے صحت کی سہولیات، فیملی ہیلتھ کلینک اور فیملی ویلفیئر سے منسلک۔واؤچر ترغیبی اسکیم، سماجی مارکیٹنگ، مرد اور کمیونٹی رہنماؤں کی مصروفیت، اور خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات میں اضافے کے لیے نوجوانوں کے پلیٹ فارمز کو بڑھا نے میں مدد گار ہو گا۔ ورلڈ بنک پروگرام کے ذریعے خاندانی منصوبہ بندی سے وابستہ خدمات فراہم کرنے والوں کے باہمی رابطے کو بہتر بنانے میں کارگر ثابت ہو گا۔ کم عمری کی شادی بچیوں کی ذہنی اور جسمانی صحت دونوں کے لیے نقصان دہ ہے۔ بلوغت کی عمر بچیوں کی زندگی کا نازک ترین دور ہوتا ہے جس میں کسی قسم کا صدمہ، بیماری یا کمزوری ان بچیوں کے لئے شدید مشکلات کا باعث بنتی ہے۔ چنانچہ پاکستان میں بچیوں کی شادی کی لئے ان عمر بڑھاناضروری ہے۔ بچیوں کی شادی کی کم سے کم عمر کا تعین کرنے کے لیے قانون سازی اور اس پر عمل درامد کرنے کی ضرورت ہے۔ شادی سے پہلے بچیوں کو خاندانی اور معاشرتی معاملات سے آگاہی ہونابے حد ضروری ہے۔ بچیوں کو تعلیم حاصل کرنے کا موقع دیا جائے تا کہ انہیں شعور حاصل ہو۔ ماں کو تعلیم دیں تو معاشرہ ترقی کرتا ہے۔ ایک عورت باشعور ہو تو پوری نسل کو تبدیل کر دیتی ہے۔ پنجاب میں مشاورت سے کم عمری کی شادی کے خاتمے کے لیے ایک مشترکہ لائحہ عمل بھی ترتیب دیا جا رہا ہے۔ کم عمری کی شادی کے خاتمے کے لیے صوبائی سطح پر منعقدہ مشاورتی پروگرام کا انعقاد و قت کی اہم ضرورت ہے۔ کم عمری کی شادی بچوں کو بنیادی انسانی حقوق جن میں تعلیم اور صحت کے حق سر فہرست ہے سے محرم کر دیتی ہے۔کم عمری کی شادی ہماری معاشی اور سماجی ترقی کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ہمیں مل کر باہمی مشاورت اور تعاون سے اس رواج کا خاتمہ کرنا یوگا۔متعلقہ ادارے کم عمری کی شادی پر قوانین میں تبدیلی کے لیے ہر دم کوشاں ہے تاکہ مثبت معاشرتی تبدیلی لائی جا سکے۔مشاورت کا مقصد تمام اسٹیک ہولڈرز کے ہمراہ کم عمری کی شادی کی وجوہات، محرکات، نتائج اور خاتمہ سنجیدگی سے لائحہ عمل کرنا ہو گا۔

    پنجاب کے تمام 36 اضلاع میں محکمہ بہبود آبادی کے دفاتر میں تعینات عملے کے کام کی آن لائن لائیو وڈیو مانیٹرنگ اور اس کے لیے مرکزی مانیٹرنگ اور کنٹرول روم قائم کیا ہے۔ اس مقصدکیلئے سیکر ٹری پاپولیشن اور ڈائریکٹر جنرل پاپولیشن ویلفیئرنے وزیر اعلیٰ کے ویژن کے مطابق محکمہ کی طرف سے کئے جانے والے کاموں، بجٹ اور کاموں کے بارے میں مانیٹرنگ کا عمل شروع کر دیا ہے۔ شہریوں کو ضروری معلومات اور رہنمائی کی فراہمی کے لیے چار ہندسوں پر مشتمل ہیلپ لائن قائم کرنے اور اسے روزانہ 12 گھنٹے فعال رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ اس مقصد کے لئے محکمہ بہبود آبادی کی جانب سے فراہم کی جانے والی خدمات کے بارے میں عوامی آگاہی کے لیے ایک موثر میڈیا مہم چلائی جارہی ہے۔ محکمے کے کاموں کی اہمیت کے پیش نظر عملے کی تربیت کے لیے ایک جامع نظام وضع کیا جا رہا ہے۔ عوامی آگاہی کے پیغامات اور پروگراموں کی تیاری کے لیے پاپولیشن ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ میں اسٹوڈیو قائم کیا گیا ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے لیے ‘چھوٹے خاندان کا خوشحال پاکستان’ کے نعرے کو فروغ دینا ہو گا۔ محکمہ بہبود آبادی کی تنظیم نو موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق کی جارہی ہے۔ صوبہ بھر میں محکمہ کے سوشل موبلائزرز اور فیلڈ ورکرز کی کارکردگی قابل ذکر ہے۔ محکمہ بہبود آبادی پنجاب کے مختلف منصوبوں کی رپورٹنگ اور مانیٹرنگ کے لیے ویب پورٹلز اور ڈیش بورڈز کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جس میں ای رجسٹریشن، سٹریٹجک مینجمنٹ یونٹ، علمائے کرام اور خطیبوں سے رابطے، خدمات کو مضبوط بنانے اور سروس ڈیلیوری پروگرام شامل ہیں۔ پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کی ٹیم نے تمام ڈیش بورڈز اور پورٹلز بنانے میں بے حد معاونت کی ہے۔

    باخبر انتخاب کرنا اور اپنے دستیاب وسائل کے مطابق خاندان قائم کرنا انتہائی ضروری ہے۔ خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات حاصل کرنے کے لیے شوہر اور بیوی دونوں کے درمیان مشاورت ایک خوشحال مستقبل کی طرف ایک چھلانگ ہے کیونکہ ماں اور بچے کی صحت کے لیے پیدائش میں وقفہ ضروری ہے۔ اس سلسلے میں نوبیاہتا جوڑوں کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ہمیں خواتین کو سماجی و اقتصادی طور پر بااختیار بنانے کا عہد بھی کرنا ہے۔ ایک بااختیار عورت آبادی میں تیزی سے اضافہ وغیرہ جیسے چیلنجوں پر قابو پانے میں مدد کر سکتی ہے۔ باپ، بھائی اور شوہر، خاندان کے مرد ارکان ہونے کے ناطے، ہمیں اپنی خواتین خاندان کے ارکان کے حقوق کا تحفظ کرنا ہوگا۔ پائیدار سماجی و اقتصادی ترقی حکومت پنجاب کی اولین ترجیح ہے۔ یہ مقصد اسی وقت حاصل کیا جا سکتا ہے جب ہم سب اپنے معاشرے میں چھوٹے اور متوازن خاندان کی اہمیت کو اجاگر کرنے کی کوشش کریں۔ تمام اسٹیک ہولڈرز، سرکاری محکموں اور ترقیاتی شراکت داروں کی مشاورت سے پنجاب پاپولیشن پالیسی تیار کی گئی۔ جس کا مقصد وسائل کی منصفانہ تقسیم، پائیدار ترقی اور صوبے بھر کے عوام کو صحت اور تعلیم کی معیاری سہولیات کی فراہمی ہے۔ محکمہ بہبود آبادی پنجاب آبادی میں اضافے کو روکنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہا ہے۔ صوبہ بھر میں قائم خاندانی بہبود کے مراکز پنجاب کے کونے کونے میں محفوظ، محفوظ اور قابل اعتماد خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات مفت فراہم کر رہے ہیں۔ ہمارے تربیت یافتہ مرد اور خواتین متحرک افراد گھر گھر جا کر خاندانی منصوبہ بندی کے بارے میں بیداری پیدا کر رہے ہیں۔ موبائل ہیلتھ یونٹس پنجاب کے دور دراز علاقوں میں خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ PWD کو بااختیار بنانے کے لیے مانع حمل لاجسٹک مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم قائم کیا گیا ہے اس کے علاوہ نچلی سطح سے ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لیے PITB کا تعاون حاصل کیا گیا۔ ان تمام کوششوں کے لیے شہریوں کے تعاون کی ضرورت ہے تاکہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک جامع انداز اپنایا جا سکے۔ آبادی کی روک تھام کے سلسلہ میں ہم تمام پاکستانیوں کواس آگاہی مہم کے مشعل بردار بننے کا عزم اور اپنے خوشحال مستقبل کے حوالے سے خاندانی منصوبہ بندی کی اہمیت کو اجاگرکرنا ہو گا۔ ڈائریکٹر جنرل پاپولیشن ویلفیئر سمن رائے نے کہا کہ پاکستانی معاشرے میں تقریباً ہر خاندان میں مرد فیصلہ ساز ہوتے ہیں۔ وہ اپنے بچوں کی پیدائش، جگہ اور تعداد کے بارے میں فیصلہ کرتے ہیں۔ اس لیے پیغام پہنچانے کے لیے مرد اراکین کو بھی برابر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے.

    ایف سی بلوچستان ساؤتھ کی خواتین سولجرز نے کی قومی دفاع میں ایک نئی روایت قائم

    خواتین کو مساوی حقوق کی فراہمی حکومت کی ترجیح ہے ،وزیراعظم

    قصور میں ایک اور جنسی سیکنڈل،خواتین کی عزت لوٹ کر ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنیوالا گرفتار

    یومِ خواتین مریم نواز کے نام، تحریر:محمد نورالہدیٰ

    خواتین کو با اختیار بنا نے کیلیے صلاحیتوں کو نکھارنے پر کام کرنا ہو گا،نیلوفر بختیار

    عورت مارچ رکوانے کے لئے درخواست خارج

    عورت مارچ کے خلاف برقع پوش خواتین سڑکوں پر آ گئیں، بے حیائی مارچ نا منظور کے نعرے

    اسلام آباد: عورت مارچ اور یوم خواتین ریلی کے شرکا میں تنازع، عورت مارچ شرکاء نے دیکھتے ہی غلیظ نعرے اورپتھراو شروع کردیا

    عورت مارچ پر پتھراوَ کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج

    حنا پرویز بٹ "عورت مارچ” کے حق میں کھڑی ہو گئیں

    خواتین وارڈنز کئی شعبوں میں مرد وارڈنز سے بہتر کارکردگی دکھا رہی ہیں،سی ٹی او لاہور

    مجھے اپنی جماعت میں جگہ بنانے کیلئے بارہ برس بہت زیادہ محنت کرنا پڑی،مریم نواز

  • اپوواخواتین کانفرنس:حقوقِ نسواں کی توانا آواز

    اپوواخواتین کانفرنس:حقوقِ نسواں کی توانا آواز

    (چوتھی اپووا خواتین کانفرنس کی مختصر روداد)
    حافظ محمد زاہد‘ سینئر نائب صدر

    آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اَپووا) ہر گزرتے دن کے ساتھ ایک طرف میدانِ ادب میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑھ رہی ہے تودوسری طر ف ملک کے طول وعرض اور بیرون ملک میں اس کے ممبران کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جو ادب کی خدمت کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔مردوں کی نسبت اس میں خواتین کی تعداد کافی زیادہ ہے ‘اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے چار سال پہلے خواتین کے عالمی دن کے موقع پرپہلی بار’’اپووا خواتین کانفرنس‘‘کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک بھر سے پچاس کے قریب منتخب خواتین کو اپنے شعبے میں اعلیٰ کارکردگی دکھانے پر اپووااچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ادبی حلقوں میں اس کانفرنس کو نہ صرف بہت زیادہ سراہا گیا بلکہ چند تنظیموں اور این جی اوزنے اپووا کے طریقہ کار کو کاپی کرتے ہوئے خواتین کانفرنس مع ایوارڈ کا انعقاد کیا جو صحیح معنوں میں اپووا کے لیے باعث ِ اعزاز ہے۔ اسی پذیرائی کو دیکھتے ہوئے اپووا انتظامیہ نے سالانہ بنیادوں پر خواتین کانفرنس کے انعقاد کا عزم کیا اور گزشتہ تین سالوں سے یہ کانفرنس کامیابی سے منعقد کی جارہی ہے۔

    اسی سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے گزشتہ دنوں آل پاکستان رائٹرزویلفیئر ایسوسی ایشن(اپووا)کے زیر اہتمام خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے لاہور کے مقامی ہوٹل میں اپووا کے سرپرست اعلیٰ زبیر احمد انصاری کی زیر سرپرستی‘ بانی اپووا ایم ایم علی کی زیر کی زیر نگرانی اور خواتین ونگ کی صدر ثمینہ طاہر بٹ کی زیر صدارت ’’اپووا خواتین کانفرنس‘‘ کا اہتمام کیا گیا جس میں معروف ڈرامہ رائٹر صائمہ اکرم چوہدری‘ سینئر اداکارہ میگھا جی‘معروف لکھاری نازیہ کامران کاشف‘ خوش اخلاق و منفردانداز کی حامل اینکرپرسن ارم محمود‘سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی دادا کی پوتی سیدہ ماہا بخاری‘ معروف اینکر پرسن ثنا آغا خان‘ ماہر ہیلتھ ڈاکٹر انعم پری‘معروف قانون دان سعدیہ ہما شیخ‘ معروف براڈ کاسٹر ریحانہ عثمانی‘ ہر دلعزیز شاہین آپا سمیت پاکستان کے دور دراز اضلاع سے کثیر تعداد میں خواتین نے شرکت کی۔ پروگرام کی ہوسٹنگ کے فرائض مدیحہ کنول جبکہ ریسپشن کی ذمہ داری مرکزی صدر حافظ محمد زاہد اورنائب صدر ساجدہ چوہدری نے نبھائی۔

    مقررین کی گفتگو کا نچوڑ اور لب لباب نکات کی صورت میں ذیل میں بیان کیا جاتا ہے:
    ٭ اسلام نے عورتوں کو اعلیٰ سے اعلیٰ حقوق دیے ہیں ‘بس ضرورت اس امر کی ہے کہ خواتین کوصحیح معنوں میں وہ تمام حقوق ملنے چاہئیں۔اور خواتین کو بھی چاہیے کہ اپنے دائرے اور حدود میں رہتے ہوئے آگے سے آگے بڑھیں اور یہ ثابت کریں کہ خواتین کسی طور پر پیچھے نہیں ہیں۔
    ٭ خواتین کی انفرادی شخصیت کو تسلیم کیا جائے اور انہیں بھی آگے بڑھنے کے مناسب مواقع ملنے چاہئیں۔
    ٭ خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر جدوجہد جاری رکھنی چاہیے اس لیے کہ بااختیار خواتین کےذریعے ہی معاشرے کی ترقی ممکن ہے۔
    ٭ کسی بھی مرد کے غیور یعنی غیرت مند ہونے کی یہ دلیل نہیں ہے کہ وہ عورت کو کس قدر ڈراتے ہیں‘ بلکہ دیکھنا یہ ہے کہ وہ عورت کو کس قدر سراہتے ہیں!
    ٭ بعض مقرر خواتین نے اس بات کا برملا اظہار کیا کہ پاکستانی معاشرے میں مرد حضرات کی جانب سے خواتین کو جتنی عزت دی جاتی ہے‘خواتین کے کاموں کی جتنی پذیرائی کی جاتی ہے اور خواتین کو آگے بڑھنے کے جتنے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں‘اتنا کسی اور معاشرے میں نہیں دیکھنے کو ملتا۔
    ٭ یاد رکھنا چاہیے کہ وہی قومیں عروج پاتی ہیں جو اپنی خواتین کو عزت دیتے ہیںاور ایک خاتون کو بہن‘ بیٹی‘ ماں اوربیوی کے بجائے ان کی ذات میں ایک شخصیت اور خودمختار سمجھا جاتا ہے۔

    کانفرنس کے اختتام پراپنے شعبے میں اعلیٰ کارکردگی دکھانے والی خواتین کو ایوارڈ ‘ میڈل اور تعریفی اسناد سے نوازا گیا اور بذریعہ قرعہ اندازی خوبصورت تحائف پر مشتمل گفٹ پیک تقسیم کیے گئے۔ شرکاء کانفرنس سےیہ عہد بھی لیا گیا کہ آپ اپنے دائرہ کار میں مزید آگےبڑھنے کے لیے ہر ممکن جدوجہد جاری رکھیں گی۔اپووا خواتین کانفرنس میں فلسطینی بہن بھائیوں اور بچوں سے اظہار یکجہتی کا اظہار کیا گیا اور فلسطینیوں کی نسل کشی پر امت مسلمہ اور بالخصوص مسلم امہ کے حکمرانوں کی مجرمانہ خاموشی پر شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔

    اس میں کوئی شک نہیں کہ اپووا خواتین کانفرنس‘عورتوں کے حقوق کے لیے توانا آواز ہے ۔آئندہ سالوں میں بھی اپووا یہ ذمہ داری احسن طریقے سے یہ سوچ کر پوری کرتی رہے گی کہ’’یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی!‘‘اور اپووا کا ماننا ہے کہ:
    اندھیرے سے لڑائی کا یہی احسن طریقہ ہے
    تمہاری دسترس میں جو دیا ہو وہ جلا دینا!

    خواتین کی انفرادی شخصیت کو تسلیم کرنا معاشرے کی ذمہ داری ہے
    بااختیار خواتین کے ذریعے ہی معاشرے کی ترقی ممکن ہے
    مرد کے غیرت مند ہونے کی دلیل عورت کو ڈرانا نہیں‘سراہنا ہے

    مبشر لقمان سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد

    سیالکوٹ : نوجوانوں میں مثبت سوچ کو پروان چڑھانے میں اَپووا کا کردارمثالی ہے-گورنرپنجاب

  • تشدد کے سائے اور گھریلو ملازمین کی حالت زار

    تشدد کے سائے اور گھریلو ملازمین کی حالت زار

    آج کل جج کی بیوی کے ہاتھوں ایک کم عمر ملازمہ کو تشدد کا نشانہ بنانے کی خبروں اور خاص طور پر سوشل میڈیا پر یک طرفہ مؤقف نے ہر زی شعور کو پریشان کر کے رکھ دیا ہے۔ حقیقت جو بھی ہو گی جلد سامنے آ جائے گی۔گھریلو خواتین کو ملازمہ کی ضرورت رہتی ہے اور شاید ہی کوئی بد بخت ہو جو اپنے گھریلو ملازمین کے ساتھ ناروا سلوک روا رکھے۔ ایک خاتون ہونے کے ناطے یہ بھی سمجھ سے بالاتر ہے کہ آخر کسی بھی خاتون خانہ کو ملازمہ پر ہاتھ اٹھانے کی ضرورت ہی کیوں محسوس ہوتی ہے عام طور پر ایک طرف بہت کم تنخواہ پر ملازمہ رکھتے ہیں دن بھر اس سے کام لیتے ہیں اور پھر اسے تشدد کا نشانہ بھی بناتے ہیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اپنے پورے عروج پر ہیں۔مجھے بھی ایسا ہی ایک واقعہ یاد ہے جب ہماری پڑوسن نے محض فریج میں سے ایک سیخ کباب کھانے پر اپنی ملازمہ کو ایک انتہائی سرد شام گھر سے نکال دیا اور اسے رات پارک میں بسر کرنا پڑی۔ یہ واقعہ بھی دل و دماغ کو ماؤف کر دیتا ہے۔ اب ایک سیخ کباب کھانے پر ملازمہ کو گھر سے نکال دینا کسی بھی طور عقل مندی نہیں بلکہ ہونا تو یہ چاہئیے کہ درگذر کرتے ہوئے ملازمہ کو سمجھایا جائے یا پھر اگر اسے بھی وہی کھانے کو دے دیا جائے جو گھر کے مکین کھاتے ہیں تو کیا قیامت ٹوٹ پڑے گی؟ بطور جج کی اہلیہ کی خبروں نے بہت سے قصے تازہ کر دئیے ہیں۔ یہاں پر یہ بات قابل غور ہے کہ پاکستان میں گھریلو ملازمین پرتشدد جیسے عام سی بات ہو،دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی حالیہ برسوں میں گھریلو ملازمین کے خلاف تشدد کے واقعات میں پریشان کن اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ غربت اور استحصال کے چکر میں پھنسے ہوئے، یہ کمزور افراد، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں، اپنے مالکوں کے ہاتھوں جسمانی، زبانی اور جنسی استحصال کا سامنا کرتے ہیں۔ ان کی حالت زار کے بارے میں بیداری پیدا کرنے میں کچھ پیش رفت کے باوجود، پاکستان میں گھریلو ملازمین کے تحفظ اور انہیں بااختیار بنانے کے لئے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔گھریلو ملازمین پاکستان بھر میں لاکھوں گھرانوں کی زندگیوں میں ایک ناگزیر کردار ادا کرتے ہیں۔ اکثر غریب دیہی علاقوں سے آنے والے کام کے مواقع کی تلاش میں شہروں کی طرف ہجرت کرتے ہیں۔ افسوسناک طور پروہ اپنے آپ کو ان لوگوں کے ذریعہ بدسلوکی کا شکار پاتے ہیں جو انہیں ملازمت دیتے ہیں۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق، تقریباً 20 فیصد گھریلو ملازمین تشدد کا شکار ہیں، اور بے شمار دیگر افراد کو استحصال، کم اجرت اور کام کے نامناسب حالات کا سامنا ہے۔
    پاکستان میں گھریلو ملازمین مختلف قسم کے تشدد کا شکار ہیں۔ جیسے جسمانی زیادتی، بشمول مارنا پیٹنا اور یہاں تک کہ جلانا، افسوسناک طور پر عام ہے۔ زبانی بدسلوکی، توہین آمیز تبصرے، اور دھمکیاں جو ان کے دکھوں میں مزید اضافہ کرتی ہیں۔ اسکے علاوہ جنسی طور پر ہراساں کرنا بھی ایک عام سی بات ہے، بہت سے گھریلو ملازمین اپنے آجروں اور ان کے خاندان کے افراد کی جانب سے ناپسندیدہ پیش رفت اور نامناسب رویے کو برداشت کرتے ہیں،پاکستان میں گھریلو ملازمین کے خلاف تشدد کو عام کرنے میں کئی عوامل اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جیسے سماجی اصول اور گھریلو ملازمین کو کمتر اور ڈسپوزایبل تصور کرنا ان کے کمزور ہونے میں معاون ہے۔اور تو اور قانونی تحفظ کا فقدان اور اس شعبے میں روزگار کے لیے واضح رہنما اصولوں کی عدم موجودگی اس مسئلے کو مزید بڑھا دیتی ہے۔ مزید معاشرے میں خواتین کی پست حیثیت استحصال اور بدسلوکی کے کلچر کو مزید برقرار رکھتی ہے، کیونکہ بہت سے گھریلو ملازم خواتین ہیں۔ تاہم پاکستانی حکومت نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے کچھ اقدامات کیے ہیں، جیسے کہ گھریلو کام کو منظم کرنے اور کارکنوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قوانین بنانا۔ گھریلو ملازمین (روزگار کے حقوق) ایکٹ 2021 میں منظور کیا گیا جس کا مقصد گھریلو ملازمین کے لیے کام کے مناسب حالات اور مناسب معاوضے کو یقینی بنانا ہے۔ تاہم، گھریلو کام کے بہت سے انتظامات کی غیر رسمی نوعیت اور مالکان کی تعمیل کرنے میں ہچکچاہٹ کی وجہ سے نفاذ ایک چیلنج بنا ہوا ہے،گھریلو ملازمین کے خلاف وسیع تشدد سے نمٹنے کے لیے، بیداری پیدا کرنا مالکان کو ملازمین کے حقوق اور ذمہ داریوں سے مکمل آگاہ کرنا بہت ضروری ہے۔جو مہمات اور ورکشاپس ان کمزور افراد کی حالت زار کے بارے میں ہمدردی اور افہام و تفہیم کو فروغ دینے میں مدد کر سکتی ہیں، اسکے علاوہ مثبت تبدیلی کو فروغ دینے کے لیے، صاحب حیثیت لوگ جو ملازم رکھنے کے خواہشمند ہو ان کو روزگار کے اخلاقی طریقوں کو اپنانا چاہیے اور گھریلو ملازمین کے ساتھ عزت اور وقار کے ساتھ برتاؤ کرنا چاہیے۔ منصفانہ اجرت پر عمل درآمد، مناسب حالات زندگی فراہم کرنا، اور مناسب اوقات کار کو یقینی بنانا ایک محفوظ ماحول بنا سکتا ہے، گھریلو ملازمین کے خلاف تشدد سے نمٹنے کے لیے سماجی، قانونی اور انفرادی سطح پر جامع کوششوں کی ضرورت ہے۔ اس میں احترام اور ہمدردی کا ماحول پیدا کرنا، تعلیم اور بیداری کو فروغ دینا، مزدوری کے قوانین کو نافذ کرنا، اور ضرورت پڑنے پر گھریلو ملازمین کو انصاف تک رسائی کے لیے سپورٹ سسٹم فراہم کرنا شامل ہے۔ ان بنیادی مسائل کو حل کر کے، پاکستان ایک زیادہ منصفانہ اور مساوی معاشرے کی طرف بڑھ سکتا ہے جہاں تمام افراد کے ساتھ عزت اور انصاف کے ساتھ سلوک کیا جائے، چاہے ان کا پیشہ کچھ بھی ہو۔
    بعض لوگوں کو مؤقف ہے کہ اگرچہ ہمارے یہاں بے شمار قوانین ہیں مگر ان پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔یہ بھی کسی حد تک درست ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخع قوانین پر عمل درآمد کون ممکن بنائے گا؟ ہمارے کئی ادارے بھی امراٗ کے زیر اثر آ جاتے ہیں اور یوں غریب کی شنوائی پس پشت چلی جاتی ہے اسی لئے کہا جاتا ہے کہ کورٹ کچہری کی بجائے ہمیں احترام اور ہمدرد بن کر سوچنے کی کوشش کرنا ہو گی۔

  • خواتین کی کامیابی میں مردوں کے کردار اہم ہوتا ہے – ثانیہ مرزا

    خواتین کی کامیابی میں مردوں کے کردار اہم ہوتا ہے – ثانیہ مرزا

    بھارت کی سابق ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا نے خواتین کی کامیابی میں مردوں کے کردار کو اہم قرار دے دیا۔
    اپنے ایک بیان میں ثانیہ مرزا نے کہا کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے لیکن کئی کامیاب خواتین کے پیچھے مرد ہوتے ہیں۔
    ان کا کہنا تھا کہ ایسے مرد بھائی، شوہر، باپ یا دوست کی صورت میں موجود ہوتے ہیں ، وہ وقت سے آگے کا سوچتے ہیں ، جس کی وجہ سے عورتوں کو اپنے خواب پورے کرنے میں اعتماد ملتا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ دنوں ثانیہ مرزا نے شوہر شعیب ملک کے بغیر بیٹے اذہان ملک، والدین، بہن اور بہنوئی کے ہمراہ عمرے کی سعادت حاصل کی۔عمرے کی سعادت حاصل کرنے کے بعد ثانیہ نے انسٹاگرام پر اپنی نئی تصاویر بھی اپ لوڈ کیں۔
    https://www.instagram.com/mirzasaniar/
    شعیب ملک اور ان کی اہلیہ ثانیہ مرزا کے درمیان گزشتہ دنوں علیحدگی کی خبریں گرم تھیں تاہم اس حوالے سے دونوں کی جانب سے باضابطہ طور پر کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔

  • کیا لڑکیوں کی تعلیم اور جاب ان کی شادی میں رکاوٹ ہے؟ —  ڈاکٹرعدنان نیازی

    کیا لڑکیوں کی تعلیم اور جاب ان کی شادی میں رکاوٹ ہے؟ — ڈاکٹرعدنان نیازی

    فرانس کی مختلف یونیورسٹیوں میں گزرے نو سال کے دوران ایک چیز بہت عام دیکھی کی وہاں کی کولیگ پروفیسر اور سائنسدان عورتوں کی شادیاں اکثر کسی پلمبر، الیکٹریشن، ٹرک ڈرائیور، دکاندار، ہیئر ڈریسر وغیرہ سے ہوئی ہوتی تھیں جو اکثر ان سے بہت ہی کم تعلیم یافتہ ہوتے تھے اور اکثر کی تنخواہیں بھی ان سے کم ہوتی تھیں۔ وہاں کسی عورت میں یہ کبھی نہیں دیکھا کہ اس نے اشاروں کنایوں میں بھی ایسی کوئی بات کی ہو یا اس پر شرمندگی محسوس کی ہو کہ اس کا شوہر یا بوائے فرینڈ حیثیت یا تعلیم میں اس سے کم ہے۔

    پاکستان میں زیادہ تر مرد اپنے سے کم عمر، کم تعلیم یافتہ، کم کمانے والی یا بالکل ہی بے روز گار عورت سے شادی کرنے میں ہچکچاہٹ کا بھی مظاہرہ نہیں کرتے ہیں لیکن عورتیں اپنے سے کم عمر، کم تعلیم یافتہ، کم کمانے والے یا بے روز گار شخص سے شادی نہیں کرتی ہیں۔

    اگر کسی وجہ سے ہو جائے تو ساری عمر اسے اس بات کے طعنے مارتی رہتی ہیں اور کہیں بتاتے ہوئے شرم محسوس کرتی ہیں۔

    جو کچھ میں نے دیکھا ہے اس میں پڑھی لکھی لڑکیوں کے مشکل سے رشتہ ملنے کی ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے۔ وہ جس مقام پر پہنچ چکی ہوتی ہیں ان کے ہم پلہ مرد اکثر اپنے سے کم عمر لڑکیوں سے شادی کرنا پسند کرتے ہیں اور وہ انھیں آسانی سے مل بھی جاتی ہیں۔

    ہمارے معاشرے کی پڑھی لکھی لڑکیوں اور ان کے والدین کو اس بارے سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے، کیوں کہ لڑکیوں کا دن بدن تعلیم کی طرف رجحان بڑھتا جارہا ہے لیکن اعلیٰ تعلیم مہنگی ہونے اور اعلیٰ تعلیم کے بعد بھی جاب کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے لڑکوں میں کم ہو جا رہا ہے، جس کی وجہ سے یہ مسئلہ سنگین سے سنگین تر ہوتا جائے گا۔

  • کیٹو ڈائیٹ (keto diet) کیا ہے؟ — عظیم الرحمن عثمانی

    کیٹو ڈائیٹ (keto diet) کیا ہے؟ — عظیم الرحمن عثمانی

    جس طرح آپ کی گاڑی فیول جیسے پیٹرول یا ڈیزل پر چلتی ہے۔ ویسے ہی آپ کا یہ جسم بھی دو طرح کے فیول سے چلتا ہے۔
    ۔
    پہلا ہے شوگر یعنی چینی
    دوسرا ہے فیٹ یعنی چربی
    ۔
    ہمارا جسم صدیوں پر محیط جدید تمدنی ارتقاء سے عادی ہوگیا ہے کہ وہ اپنی توانائی یعنی انرجی انسولین کے ذریعے چینی (شوگر) سے حاصل کرے۔ ہم جو بھی میٹھا کھاتے ہیں وہ تو شوگر بنتا ہی ہے مگر ہمارے بدن میں داخل ہونے والے کاربوہائیڈریٹس جیسے روٹی، چاول وغیرہ بھی شوگر میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔
    ۔
    اگر ہم اپنی خوراک میں کاربوہائیڈریٹس اور مٹھاس کو لینا چھوڑ دیں یا بہت کم کردیں تو پھر کیا ہوگا ؟ اب بھی جسم کو چلنے کیلئے فیول تو چاہیئے مگر اب اس کے پاس شوگر یعنی چینی کے ذخائر موجود ہی نہیں ہیں جنہیں وہ توانائی یعنی فیول میں ڈھال سکے۔ مجبوراً اب اسے فیول کیلئے دوسری سورس یعنی ذریعے پر انحصار کرنا ہوگا جو کہ ہے فیٹ یعنی چربی۔ نتیجہ یہ کہ آپ کا جسم اگر بھوکا رہا تو اپنے اندر موجود چربی کے ذخیرے کو کھانا شروع کردے گا۔ یوں آپ کے جسم سے چربی کم ہونے لگے گی۔ گویا آپ کا جسم اپنے آپ میں خود ایک Fat Burning Machine کا روپ دھار لے گا۔ اس حالت کو Ketosis کی اصطلاح سے موسوم کیا جاتا ہے، جس میں Ketone bodies پیدا ہوتی ہیں جو آپ کی چربی کو جلا کر آپ کے جسم کیلئے توانائی پیدا کرتی ہیں۔ آج کی مقبول Keto Diet مختصراً یہی ہے۔
    ۔
    سوال یہ بھی ہے کہ اگر ہم خوراک میں کاربوہائیڈریٹس بشمول روٹی یا چاول استعمال نہیں کررہے تو پھر کھائیں گے کیا ؟ اس کیلئے آپ پروٹین جیسے گوشت، مرغی، مچھلی، انڈے وغیرہ کھاتے ہیں۔ ساتھ ہی مختلف سبزیاں اور چنیدہ فیٹ جیسے پنیر وغیرہ کھائے جاتے ہیں۔ ان میں کیا کھایا جاسکتا ہے اور کیا نہیں؟ اس سب کی تفصیل انٹرنیٹ پر جابجا موجود ہے۔ یاد رکھیں کہ پروٹین کو muscles building block کہا جاتا ہے۔ یعنی وزن کم کرتے ہوئے آپ کے مسلز کو باقی رکھنے کیلئے پروٹین ہی تعمیر سازی کرتے ہیں۔ کیٹو میں یہ کوشش ہوتی ہے کہ صرف اسی وقت آپ کھائیں جب آپ فی الواقع بھوکے ہوں۔ صرف شوقیہ چگتے رہنا یا معمول میں بندھ کر دن میں تین بار لازمی کھانا درست نہیں۔
    ۔
    ہر آنے والی تحقیق کی طرح Keto Diet کے متعلق بھی کئی اختلافات موجود ہیں۔ کچھ کے نزدیک اس کے نقصانات ہیں مگر نوے فیصد سے بھی زیادہ ماہرین اسے ایک بہترین طریق مان رہے ہیں جو بطور لائف اسٹائل اپنایا جاسکتا ہے۔ باقی اسکی اثرانگیزی کے تو سب حامیان و مخالفین قائل ہیں۔ اسے مزید زود اثر بنانے کیلئے intermittent fasting یعنی جزوی روزے اور جسمانی کسرت بشمول weight training اختیار کیئے جاتے ہیں۔