Baaghi TV

Category: خواتین

  • محبت کے نام پر….تحریر:نورالعین

    محبت کے نام پر….تحریر:نورالعین

    محبت ایک نازک اور قیمتی جذبہ ہے جو انسان کے دل میں عمیق اثرات مرتب کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا رشتہ ہے جو دلوں کو قریب کرتا ہے، ایک دوسرے کو سمجھنے اور سہارا دینے کی طاقت رکھتا ہے۔ لیکن جب نوجوانوں میں اس جذبے کی حقیقت اور ذمہ داری کی سمجھ نہیں ہوتی، تو یہ نہ صرف ان کی اپنی زندگیوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے، بلکہ دوسروں کی زندگیوں میں بھی مایوسی اور درد پیدا کرسکتا ہے۔

    آج کے دور میں، خصوصاً سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل کمیونیکیشن کے بڑھتے ہوئے رجحان کی وجہ سے نوجوانوں کے درمیان محبت کے جذبات اور تعلقات میں پیچیدگیاں پیدا ہو چکی ہیں۔ بہت سے نوجوان صرف احساسات کی بنا پر، یا کسی جذبے کو وقتی تسکین کے طور پر اپنے اندر ایک گہرا تعلق قائم کر لیتے ہیں۔ لیکن جب یہ تعلقات حقیقی قوتِ ارادی اور خودمختاری کے بغیر قائم ہوں، تو یہ کسی کے جذبات کے ساتھ کھیلنے کا سبب بن سکتے ہیں۔

    جب آپ زندگی میں کسی مقصد کو حاصل کرنے کے لئے خود پر یقین رکھتے ہیں اور اپنے فیصلے خود کرنے کی طاقت رکھتے ہیں، تو آپ کے اندر ایک مضبوط اور پائیدار کردار ہوتا ہے۔ نوجوانوں کو اپنی طاقتوں کو پہچاننا چاہئے اور زندگی میں کامیاب ہونے کے لئے اپنے والدین کی دعاؤں اور رہنمائی کا سہارا لینا چاہئے۔ آپ کے اندر اگر خودداری اور خودمختاری کی قوت ہے، تو آپ کسی اور کے جذبات کے ساتھ کھیلنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔اگر آپ اپنی زندگی میں کامیابی چاہتے ہیں اور کسی مقصد کو حاصل کرنے کی آرزو رکھتے ہیں، تو سب سے پہلے آپ کو اپنے اندر مضبوط ارادہ اور نیک نیتی پیدا کرنی ہوگی۔ محبت کا اظہار اور تعلقات کا آغاز سچائی اور ایمانداری سے ہونا چاہئے، نہ کہ وقتی خواہشات کی تسکین کے لئے۔

    جب آپ میں یہ احساس ہو کہ آپ کی زندگی میں نہ تو فیصلوں کی طاقت ہے، نہ کچھ کر گزرنے کا حوصلہ، اور نہ ہی آپ اپنے فیصلوں کے مطابق زندگی گزارنے کی سکت رکھتے ہیں، تو پھر کسی دوسرے شخص کو اپنے ساتھ جذباتی طور پر جوڑنا اور انہیں گمراہ کرنا ایک سنگین بات ہے۔محبت ایک حساس اور نازک جذبہ ہے، جس سے نہ صرف آپ کی زندگی متاثر ہو سکتی ہے، بلکہ دوسرے شخص کی زندگی پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ نوجوانوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ضروری ہے، خاص طور پر جب بات محبت کے رشتہ کی ہو۔اگر آپ خود اپنی زندگی میں واضح سمت اور مقصد نہیں رکھتے، تو کسی دوسرے شخص کو اپنے ساتھ جذباتی تعلق میں اُلجھانا، اس کے لئے نہ صرف وقت کا ضیاع ہے بلکہ اس کے جذبات اور خوابوں کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔

    کامیاب اور پائیدار رشتہ وہی ہوتا ہے جو دونوں فریقوں کی باہمی سمجھ بوجھ اور احترام پر قائم ہو۔ اگر آپ اپنی زندگی میں محبت کے بارے میں سوچ رہے ہیں، تو یہ ضروری ہے کہ آپ اپنے فیصلوں کو ذمہ داری کے ساتھ کریں۔ اگر آپ ابھی تک اپنی زندگی کے اہم فیصلے خود نہیں کر پائے، اور آپ کے اندر اتنی قوت نہیں کہ آپ اپنے راستے کا تعین کریں، تو پھر محبت کا رشتہ یا جذباتی تعلق کسی کے لئے بھی نہ بنائیں۔اس کے بجائے، اپنی توانائی کو اپنے مقاصد کے حصول، تعلیم اور ذاتی ترقی میں لگائیں۔ جب آپ خود کو بہتر بنائیں گے، تو آپ کے اندر ایسا جذبہ پیدا ہوگا کہ آپ ایک نیک، سمجھدار اور پائیدار رشتہ قائم کرسکیں گے۔

    والدین کا کردار یہاں بہت اہم ہے۔ جب آپ خود اپنی زندگی کے فیصلے کرنے کی قوت رکھتے ہیں اور اپنے والدین کی دعاؤں اور رہنمائی کو اپنی زندگی کا حصہ بناتے ہیں، تو آپ کا راستہ مزید روشن ہوتا ہے۔ نوجوانوں کو اپنی والدہ اور والد کی باتوں کو سننا اور ان کے تجربات سے سیکھنا چاہیے۔ والدین وہ لوگ ہیں جو آپ کی فلاح و بہبود کے لئے ہمیشہ فکر مند رہتے ہیں اور ان کی دعائیں آپ کی زندگی کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔یہ ضروری ہے کہ ہم محبت اور عزت کے فرق کو سمجھیں۔ محبت صرف ایک جذبہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری اور احترام کا رشتہ ہوتا ہے۔ کسی کے جذبات سے کھیلنے کے بجائے، ہمیں ان کی عزت اور حقوق کا خیال رکھنا چاہیے۔ ایک ذمہ دار شخص اپنے رشتہ میں محبت اور عزت دونوں کو اہمیت دیتا ہے۔

    یاد رکھیں، محبت ایک خوبصورت چیز ہے، لیکن اس کا استعمال صحیح طریقے سے کرنا ضروری ہے۔ جب آپ میں قوتِ فیصلہ سازی اور زندگی کے اہم فیصلے کرنے کا حوصلہ ہو، تب ہی آپ کسی دوسرے کے دل اور جذبات کے ساتھ کھلواڑ کرنے کا سوچ سکتے ہیں۔ نوجوانوں سے درخواست ہے کہ وہ اپنی زندگی کے فیصلے بڑے غور و فکر سے کریں اور کسی دوسرے کی زندگی کو اپنی غیر ذمہ داری سے متاثر نہ کریں۔آخر کار، محبت اور رشتہ ایک خوبصورت ذمہ داری ہے، اور اس کا احترام اور درست استعمال ہی آپ کی زندگی کو کامیاب بناتا ہے۔

  • ہاتھ میں ایک اچھی کتاب ،سب سے بڑا لطف،کچھ یادیں

    ہاتھ میں ایک اچھی کتاب ،سب سے بڑا لطف،کچھ یادیں

    میری سب سے بڑی پسندیدہ سرگرمیوں میں ہمیشہ پڑھنا شامل رہا ہے۔ جتنا مجھے یاد ہے، کتابیں ہمیشہ میرے ساتھ رہی ہیں، مجھے مختلف جہانوں میں لے جاتی ہیں، دلچسپ خیالات سے روشناس کراتی ہیں اور روزمرہ کی زندگی کے شور سے پناہ فراہم کرتی ہیں۔ لیکن حالیہ برسوں میں میں نے ایک تبدیلی محسوس کی ہے،پڑھنے کی وہ لذت جو پہلے تھی، آہستہ آہستہ کم ہوتی جا رہی ہے۔

    ماضی میں میرا گھر ایک ادبی میدان کی طرح تھا۔ ہر کمرے میں کتابوں کا اپنا مخصوص مقام ہوتا تھا۔ ہمیشہ میرے بستر کے قریب ایک کتاب رکھی ہوتی، ایک اور کتاب کچن میں رکھی ہوتی تاکہ چائے کا پانی اُبالنے کا انتظار کرتے ہوئے تھوڑی دیر کے لیے پڑھا جا سکے، اور ایک کتاب شوروم کے صوفے کی بانہوں پر رکھی ہوتی۔ ایک ان پڑھا خزانہ ہمیشہ تیار رہتا، میری پسند نرالی تھی.افسانہ، غیر افسانہ، اور درمیان کی سب چیزیں، یہ کوئی فرق نہیں پڑتا تھا، بس کتابیں مجھے اپنی طرف کھینچ لیتی تھیں۔

    حال ہی میں، تاہم، میں نے خود کو زیادہ تر مواد اسکرین پر پڑھنا شروع کر دیا،جو یا تو سہولت کی وجہ سے یا ضرورت کے تحت ہوتا ہے، نہ کہ حقیقی جوش و جذبے کے باعث، کمپیوٹر یا ٹیبلٹ پر پڑھنا وہ جادو نہیں رکھتا جو ایک جسمانی کتاب کے ساتھ ہوتا ہے۔ مجھے وہ حسی تجربہ یاد آتا ہے ،کتاب کا وزن ہاتھوں میں محسوس کرنا، نئے پرنٹ شدہ صفحات کی خوشبو، اور ہر صفحے کو پلٹتے وقت کی تسکین بخش سرسراہٹ۔ اس میں کچھ ایسا ہے جو بے بدل ہے کہ آپ کسی پسندیدہ اقتباس کو دوبارہ دوبارہ پڑھ سکیں جیسے آپ انہیں یادداشت میں محفوظ کر رہے ہوں۔

    جو چیز مجھے سب سے زیادہ یاد آتی ہے وہ اس سب کا ایک مقدس عمل ہے۔ صوفے پر پھیل کر ایک آرام دہ کمبل میں لپٹنا، ایئرل گرے یا کافی کا گرم کپ پاس میں رکھنا، اور ایک اچھی کتاب ہاتھ میں ہونا، ایسا لگتا ہے جیسے سب سے بڑی عیاشی ہو۔ یہ صرف پڑھنا نہیں ہے،یہ ایک فرار ہے، دن کے دباؤ سے آزاد ہونے کا ایک طریقہ ہے اور خود کو کرداروں کی زندگیوں میں غرق کرنے، سنسنی خیز کہانیاں کھولنے یا گہرے خیالات کو دریافت کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ کتاب کے ساتھ گزارا گیا وہ مقدس وقت زندگی کی سب سے خالص خوشیوں میں سے ایک ہے۔

    کتابیں میرے لیے صرف تفریح نہیں، بلکہ ضروری ہیں۔ میں تصور نہیں کر سکتی کہ کوئی تعطیلات بغیر کتابوں کے گزاری جائیں۔ اگر سفر میں کتابیں نہ ہوں تو ایسا لگتا ہے جیسے میں نے سفر کی روح کو پیچھے چھوڑ دیا ہو۔ اسی طرح، رات کو سونے سے پہلے کتاب نہ پڑھنا، چاہے صرف ایک صفحہ یا دو ہی ہوں، نامکمل سا محسوس ہوتا ہے۔ نیند سے پہلے کا وہ لمحہ، کتاب کے ساتھ، ایک چھوٹا مگر ضروری سکون ہوتا ہےیہ ایک اشارہ ہوتا ہے کہ دن پرامن طور پر ختم ہو رہا ہے۔

    جسمانی کتابوں سے اپنی محبت کو دوبارہ جلا دینا، ایسا لگتا ہے جیسے میں نے اپنے آپ کا ایک حصہ دوبارہ حاصل کیا ہو، کچھ ایسا جو دل سے سکون دہ اور بامعنی ہو۔ کیونکہ ایسی دنیا میں جہاں سب کچھ تیز رفتاری سے چل رہا ہو، پڑھنے کی قدیم لذت ایک نرم یاد دہانی ہے کہ ہمیں آہستہ چلنا چاہیے، سانس لینا چاہیے، اور الفاظ کی خوبصورتی میں غرق ہو جانا چاہیے۔

  • قصہ میری یادوں کا،”دل پر گرتے آنسو”.تحریر:قرۃالعین خالد

    قصہ میری یادوں کا،”دل پر گرتے آنسو”.تحریر:قرۃالعین خالد

    صدیوں سے یہ مقولہ مشہور ہے کہ کتابیں انسان کی بہترین ساتھی ہوتی ہیں۔ کتابیں نہ صرف خلوت بلکہ جلوت کی بھی ساتھی ہوتی ہیں۔ وہ انسان کی رازداں ہوتی ہیں۔ علم کے سمندر میں غوطہ زن ہونے کے لیے کتابیں ہی تو سہارا ہوتی ہیں۔ نفسا نفسی اور خود غرضی کے اس دور میں کتابوں سے زیادہ مخلص دوست کوئی نہیں جو اپنے پڑھنے والے کی زندگی کے راز کسی سے نہیں کہتی ہوں۔ کتابیں قرطاس میں رازوں کو دفن کر کے اپنے اندر سمیٹ لیتی ہیں۔ سفر زیست کے پنے پلٹوں تو وہ دن بہت یاد آتے ہیں۔ جب زندہ دلان لاہور میں ہم سب کزنز تعلیم کی غرض سے مقیم تھے۔ ہمارا مستقل ٹھکانہ پھپھو اور نانی اماں کا گھر ہوا کرتا تھا۔ سارا دن کالج یونیورسٹیوں میں کورس کی کتابوں کے ساتھ سر کھپا کر، لاہور کی لوکل بسوں کی خاک چھان کر جب شام ہم اپنے ٹھکانے میں اکٹھے ہوتے تو ہماری زندگی کا محور و مرکز کورس کی کتب کے علاوہ بھی کچھ کتابیں ہوتی تھیں۔ کتنا حسین تھا وہ دور طالب علمی جب ہم اردو بازار جاتے تھے اور فٹ پاتھ پر لگے کتابوں کے اسٹال سے رسائل اور میگزین سستے دام میں خریدتے تھے۔ دور حاضر میں ہر شے مہنگائی کی نظر ہو گئی ہے۔ ایک ادب بچا تھا اسے بھی پیسے کی ہوس نے بے ادب کر دیا۔ میری طرح اردو بازار ہزاروں نہیں، لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں طالبات کی یادوں میں مقید ہوگا۔ جہاں فٹ پاتھ پر بیٹھ کر کتب کو خوب دیکھنا اپنی من پسند کتاب کے مل جانے پر چیخ چیخ کر خوشی کا اظہار کرنا۔ اردو بازار کی یاد تو دل میں ایسی بسی ہے جہاں نہ رنگ کا فرق تھا، نہ نسل کا، نہ کلاس کا بس سب پڑھنے کے دیوانے اپنی دیوانگی کے ہاتھوں مجبور ہو کر چلے آتے تھے۔ اردو بازار فٹ پاتھ اسٹال کی سب سے حسین یادوں میں اگر میں یاد کرو تو مجھے ہنسی آ جاتی ہے۔ دوکاندار کے سامنے معصوم سی غربت والی مسکین سی رونی صورت بناتے تھے تو دکاندار پانچ روپے میں بھی میگزین تھما دیتا تھا اور اس وقت لگتا تھا کہ ہم نے کوئی دنیا فتح کر لی ہے۔ من پسند میگزین کا حصول ہمارے لیے اس وقت کی سب سے عظیم کامیابی تھی۔ پاکستان میں مڈل کلاس طبقے کو اپنی بہت سی خواہشات کی قربانیاں دینی پڑتی ہیں لیکن اردو بازار کتب میلے تک ہر خاص و عام کتب سے محبت کرنے والے متوالے کی رسائی تھی۔ دور طالب علمی کی حسین یادوں میں ایک مثبت یاد یہ بھی ہے کہ پانچ پانچ روپے میں جو رسائل خریدے جاتے تھے پڑھنے کے بعد وہ واپس بھی ہو جاتے تھے اور ان کے بدلے ہم مزید نئے خرید لیتے تھے۔ کیا خوبصورت دور تھا گھر والوں سے چھپ کر کورس کی کتابوں میں رسائل اور میگزین رکھ کر پڑھنا۔ مجھے یاد ہے ندا (پھوپو زاد بہن) جو کتب کی دیوانی تھی اس کے بارے میں سب کہتے تھے یہ تو چلتا پھرتا انسائیکلوپیڈیا ہے۔ محدود جیب خرچ میں پانچ پانچ روپے ڈال کر چھپ کر میگزین اکٹھے کرتی تھی۔ اب مسئلہ یہ ہوتا تھا کہ اس کو گھر والوں سے چھپا کر کہاں رکھا جائے تو بستر کے گدے کے نیچے بڑی عزت سے علم کا خزانہ چھپایا جاتا تھا۔ بحیثیت مڈل کلاس طالبہ کے ہم جیسوں کے لیے اردو بازار کسی نعمت سے کم نہ تھا۔ کچھ دنوں پہلے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو گردش کرتی نظر آئی۔ ملک دشمن عناصر تو سنا تھا مگر یہ علم دشمن عناصر کہاں سے وارد ہو گئے؟ انہی علم دشمنوں نے سالوں سے سجے کتب کے اسٹال اکھاڑ پھینکے۔ یہ بات لکھتے ہوئے میرا دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ میرے ہاتھ لکھتے ہوئے کانپ رہے ہیں۔ ایسے لگتا ہے کسی نے میرا بچپن، میرا لڑکپن، میرا دور طالب علمی تیز نوکیلے اوزار سے نوچ لیا ہو۔ اس منظر کو دیکھنا اور اس کے بعد تحریر کرنا میرے لیے بہت تکلیف دہ ہے۔ جب لکھتے ہوئے میرے دل میں اتنا درد اٹھ رہا ہے تو جو سالوں سے دھوپ، چھاؤں، بارش، آندھی، طوفان اور موسموں کے تغیر کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ان سٹالز کو اپنا خون جگر پلا کر اپنی اولاد کی طرح پروان چڑھا رہے ہوں گے ان کے دل پر کیا بیت رہی ہو گی؟ کوئی ان کے دل کی تکلیف ان سے جا کر پوچھے۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ کتابیں بظاہر بے جان ہوتی ہیں لیکن قاری اور لکھاری کی نظر سے دیکھیں تو کتابوں سے زیادہ جاندار کوئی نہیں ہے۔ وہ اپنے قاری کے ساتھ ہستی ہیں، اس کے ساتھ روتی ہیں، وہ خاموشی کی زباں میں بولتی ہیں۔ اپنا مدعا بیان کرتی ہیں۔ ہاں! کتابیں خود میں جیتی جاگتی ہیں وہ سانس لیتی ہیں۔ وہ مردہ دلوں کو علم کی آبیاری سے سیراب کرنے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔ ان کو بھی درد ہوتا ہے وہ بھی قاری کا خیال رکھنا خود سے محبت کرنا محسوس کرتی ہیں۔ میری نظر میں کتابیں جان رکھتی ہیں، سانس لیتی ہیں، وہ جیتی جاگتی ہیں۔ قاری کے دلوں پر راج کرتی ہیں۔ کہانیوں کے ذریعے ہم اپنی زندگی میں کتنے ہی سپنے بنتے ہیں۔ الفاظ کیسے قاری کے دل کو مضبوطی و تقویت بخشتے ہیں یہ کوئی کتب بینی سے محبت کرنے والوں سے پوچھے۔ مجھے اپنی تکلیف کا احساس ہے، دکاندار کو اپنا غم سب سے بڑا لگ رہا ہے، طالبات اپنی جگہ حالت غم میں ہیں۔ کیا کسی نے ان کتب سے پوچھا جب انہیں بے دردی سے اچھالا گیا، جب دور پھینک دیا گیا، جب ان کی حرمت کو پامال کیا گیا تو ان کو کتنی تکلیف ہوئی؟ انہوں نے کتنا درد سہا؟ وہ جو انسان کی تنہائی کا ساتھی اور بہترین دوست ہونے کا دعوی کرتی ہیں آج ان کتب کو اپنے قاری کی محبت کا ثبوت چاہیے۔ دنیا میں ہر چیز ترقی کر رہی ہے سوشل میڈیا کا دور ہے لیکن کتاب دوستی ازل سے ہے اور ابد تک رہے گی۔ان شاءاللہ!

    کائنات کو وجود بخشنے سے پہلے رب العزت نے کتاب تقدیر لکھی جسے لوہے محفوظ میں رکھ دیا گیا۔ ہر پیغمبر کو جب نائب مقرر کیا گیا تو اپنا پیغام رب نے کتاب یا صحیفے کی صورت میں بنی نوع انسان تک پہنچایا۔ آسمانوں سے رب کا پیغام پیغمبروں کے دلوں پر کتابوں کی صورت میں نازل ہوا آخری آسمانی پیغام جو وحی کی صورت خاتم النبیین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا وہ بھی کتابی صورت میں محفوظ ہے۔ اس دور میں عرب میں کاغذ کا دستور نہ تھا پیغام الہی کو چمڑے پر، درختوں کی چھال پر، پتھروں پر محفوظ کیا جاتا تھا۔ جنگ یمامہ میں 70 سے زائد حفاظ صحابہ اکرام کی شہادت نے حضرت ابوبکر کے دل پر وحی الہی کو مصحف کی صورت میں جمع کرنے کا خیال آیا۔ حضرت زید بن ثابت رضی اللّٰہ عنہ جنہیں کاتب وحی کہا جاتا ہے انہوں نے انتھک محنت سے قرآن پاک کو مصحف کی صورت میں ترتیب دیا جو آج ہر لحاظ سے محفوظ ہے۔ کتاب سے محبت انسان کی سرشت میں شامل ہے۔ دور نبوی میں بھی جنگوں میں مجاہدین کے جذبہ شوق کو جگانے کے لیے شاعری کی جاتی تھی یعنی ہر دور میں علم کو محفوظ کرنے کے لیے قرطاس کا سہارا لینا پڑا۔ علم وحی کا ہو چاہے ادب کا ہو، فنون لطیفہ ہو یا سائنس ہو علم تو علم کا درجہ ہی رکھتا ہے۔ جس نے علم کی قدر نہیں کی پھر انہوں نے اپنی قدر و منزلت بھی کھو دی۔ آج گیجٹس کے دور میں چند معتبر اشیاء جو بچ گئی ہیں ان میں کتب بھی شامل ہیں، اور اردو بازار مہنگائی کی جنگ لڑتا اپنے قارئین کو کم داموں میں علم کی پیاس بجھانے کا موقع فراہم کرتا تھا۔

    مگر یہ لمحہ فکریہ ہے آج حکام اعلی کے لیے۔ کسی چیز کو اس کا مقام نہ دینا ظلم ہے اور ظالموں کو اللہ پسند نہیں کرتا۔ آئیے! ہم سب مل کر کتاب دوستی کے لیے آواز اٹھائیں۔ اردو بازار کتابوں سے محبت کرنے والوں کی یادوں میں بسا ہے۔ آئیں! آج اپنی یادوں کو تکلیف دہ نہیں بلکہ خوشیوں والا بنائیں۔ آئیے! آج کتابوں کو ان کا اصل مقام دلانے کے لیے آواز اٹھائیں۔ میں نے کہیں پڑھا تھا جس قوم کے جوتے شوکیس میں رکھے جائیں اور کتابیں سڑکوں پر ہوں تو اس قوم کا تو اللہ ہی حافظ ہے لیکن یہاں تو سڑکوں سے اٹھا کر کتب کو دربدر کر دیا گیا۔ یہ علم تو مومن کے سر کا تاج ہے، دل کا سکون ہے، زندگی کی راحت ہے، آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ آج اس کو سڑکوں سے بھی اٹھا دیا گیا ہے۔ مڈل کلاس طالبات کی علمی پیاس کے لیے آواز اٹھائیں ورنہ اگلی نسلوں کی علمی آبیاری ممکن نہ رہے گی۔ ڈریں اس وقت سے جب ہمیں اپنے ایمان کا حساب دینا ہو گا، اگر ہم آگے بڑھ کر برائی کو ہاتھ سے روکنے کی جرات نہیں رکھتے تو اپنی زبان سے غلط کو غلط کہنا سیکھیں اگر وہ بھی نہیں کر سکتے تو کم از کم اسے دل میں تو برا جانیں اور یہ ایمان کی سب سے کمزور حالت ہے اپنے کمزور ایمان کو بچائیے۔ حق کو حق اور باطل کو باطل کہنا سیکھیے۔ آئیے! حق کے راستے کی بارش کا پہلا قطرہ بن جائیں کیونکہ جب زمیں پر جل تھل ہو گی تو کہیں راہ حق میں ہمارا بھی حصہ ہو گا۔ ان شاءاللہ!

  • "یہ تمنا ہے کہ آزادِ تمنا ہی رہوں” .تحریر:مسکان احزم

    "یہ تمنا ہے کہ آزادِ تمنا ہی رہوں” .تحریر:مسکان احزم

    قدر اسی چیز کی ہے جو لاحاصل ہے۔ جو چیز ہاتھ میں آجائے وہ بے مول ہوجاتی ہے۔
    انسانی چاہت کی مثلت انہی تین زاویوں سے بنتی ہے:
    "لاحاصل سے حاصل اور حاصل سے دوبارہ لاحاصل۔”
    لگتا ہے کہ بہت کچھ پالیا ہے۔ لیکن دل کی خانہ ویرانی اکساتی رہتی ہے کہ نہیں۔ جو نہیں ہے، اسی کی چاہ ہے اور اس کے بغیر یہ دامن سمجھو کہ بہت خالی ہے تو پھر چاہے دنیا بھر کی خوشیاں ڈال دو اس میں۔
    پیچھے مڑ کر دیکھوں تو اکثر سوچتی ہوں کہ کبھی میں چاہتی تھی کہ مجھے فلاں چیز مل جائے۔ تو جب وہ مل جاتی تھی تو دل میں کسی اور چیز کی خواہش جاگ جاتی تھی۔ جب وہ ملتی تھی تو پھر اگلی۔ ختم نہ ہونے والا ایک طویل سلسلہ جس کا شاید کوئی انت ہی نہیں۔
    سنا تھا کہ انسان کا پیٹ نہیں بھرتا، ہمارا تو دل بھی نہیں بھرتا۔ مجال ہے جو بس ایک تمنا پوری ہوجانے پر راضی ہوا ہو۔
    آگے سے آگے کی چاہ ٹھہراؤ نہیں آنے دیتی۔ ذرا سا پڑاؤ ڈال لیا جائے ،تو کیا برا ہے؟
    لیکن اب کوشش ہے کہ دل کی تمناؤں کو محدود کردیا جائے۔ ٹھہر لیا جائے، رک کر سانس لے لیا جائے۔ پڑاؤ ڈال کر دیکھ لیا جائے کہ جو خواہش کے علاوہ مل رہا ہے وہ کتنا بہترین ہے۔ وہ جو اللہ اپنی چاہت سے ہمیں نواز رہے ہیں، اس میں کتنی خیر ہے۔
    بس اب:
    "یہ تمنا ہے کہ آزادِ تمنا ہی رہوں”
    مسکان احزم

  • ذہنی غلام قوم کب ہو گی آزاد.تحریر: ارم ثناء

    ذہنی غلام قوم کب ہو گی آزاد.تحریر: ارم ثناء

    ہم صرف نام کے آزاد ہیں، ورنہ ہمارے ذہن تو اب بھی غلامی میں ہیں، ہمارے اساتذہ جن کو چاہیے کہ وہ بچوں کو ایسے تیار کریں کہ وہ حق بات کرتے ہوئے ہچکچائیں نا۔ لیکن وہ بچوں کو ایسے تیار کرتے ہیں کہ وہ اپنی بات کو بھی دوسروں تک پہنچانے سے پہلے گئی مرتبہ سوچتے ہیں۔ ہماری درس گاہوں میں اگر کبھی کوئی ٹیچر غلط بات کرے اور بچے ٹیچر کو بتا دیں تو ٹیچر اس کا شکر ادا کرنے کی بجائے الٹا اس کو ڈانٹ دیتے ہیں جس سے بچے پر یہ اثر ہوتا ہے کہ وہ جس بھی جگہ پر کچھ غلط ہوتا دیکھے تو خاموش ہو جاتا ہے۔ ہمارے گھروں میں کوئی بہوئیں نہیں لانا چاہتا بلکہ وہ ایک ذہنی غلام لانا چاہتے ہیں جو بھی ان کے ساتھ غلط کرے بس اس کو خاموشی سے برداشت کر لیں۔

    میرے خیال میں بچوں کو سکول لیول پر ہی یہ سیکھانا چاہیے کہ وہ حق بات کےلئے کھڑے ہوں چاہے وہ غلط بات ٹیچر کرے یا والدین۔ جو بھی بات اسلام کے خلاف ہو اس کے خلاف کھڑے ہوجائیں۔ جس بھی جگہ پر دیکھیں کہ اللہ کی نافرمانی ہو رہی ہے آواز بلند کریں اس جگہ پر۔ بچے جب صحیح بات کریں تو ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے، بچے جب کسی بڑے کی غلطی کو نوٹ کرکے وہ آپ کی غلطی آپ کو بتائیں تو ان کا شکر ادا کریں۔

  • رشتہ کرنے سے پہلے …تحریر:ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

    رشتہ کرنے سے پہلے …تحریر:ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

    وقت آ گیا ہے کہ …
    رشتہ کرنے سے پہلے ان نقاط پہ بات کی جائے ۔
    بیٹے یا بیٹی کی تعلیم کتنی ہے اور اسکے کیا عزائم ہیں ؟
    اگر بیٹا/ بیٹی نوکری کرتے ہیں تو کونسی ؟ کہاں ؟
    موڈ کے معاملات کیا ہیں ؟ پرجوش؟ شوخ گفتار ؟ کم گو؟
    طبعیت؛
    حساس ؟ ریزروڈ ؟ شکی ؟
    فطرت؛ ملنسار؟ ہنس مکھ؟ سڑیل ؟ مغرور؟ باعتماد ؟ احساس کمتری؟ متجسس؟
    شوق؟ کتابیں؟ فلمیں ؟ دوست
    دونوں کہاں رہیں گے ؟ علیحدہ ؟ کمبائنڈ فیملی سسٹم ؟
    اگر کوئی ایک غیر ملک میں رہتا ہے تو کیا دوسرا اس کے ساتھ جائے گا؟
    شادی کے بعد کیرئر اور مزید تعلیم حاصل کرنے کے مسائل کیسے حل کیے جائیں گے ؟
    اگر دونوں کماؤ ہیں تو کونسی ذمہ داری کس کی ہو گی ؟
    بچہ کب پیداکرنا چاہیں گے ؟ ( ہم کچھ لوگوں کو جانتے ہیں جن کے درمیان علیحدگی اس بات پہ ہوئی کہ ایک فریق بچہ پیدا نہیں کرنا چاہتا تھا )
    اگر بانجھ پن کے مسائل ہوئے تو ان سے کیسے نمٹا جائے گا ؟
    اگر کسی ایک نے دوسرے کو دھوکا دیا تب کیا حل نکالا جائے گا ؟ ( غیر ازدواجی تعلقات ، بنا بتائے دوسری شادی، رقم کا استعمال )
    اگر گھر میں لڑائی جھگڑے کے مسائل ہیں تو ان پہ فریقین کیسے بات کریں گے ؟
    کیا بیوی کو ہر بات میں شوہر کی اجازت درکار ہو گی؟
    فریقین کا اپنے اپنے خاندان کے ساتھ کس حد تک ربط ضبط ہو گا ؟
    اگر کسی ایک کو کوئی بیماری ہے تو کیا دوسرے فریق کو اس کے بارے میں علم ہے ؟ ( کچھ واقعات میں بیماری دوسرے فریق سے پوشیدہ رکھی جاتی ہے )
    والدین اور بہن بھائیوں کے مالی مسائل کی صورت میں شوہر کس حد تک ان کی مدد کرے گا ؟ سسرال کی توقعات کیا ہیں ؟
    کیافریقین جوائنٹ اکاؤنٹ کھولیں گے اور اس کو استعمال کرنے کا حق دونوں کا ہو گا ؟
    طلاق اور خلع کے معاملات کیسے حل کیے جائیں گے ؟
    شادی ایک معاہدہ ہے اور اس کا کنٹریکٹ ایسے ہی طے کریں جیسے کوئی بھی اور معاہدہ کرتے ہیں
    بیٹیوں کا مقدر خدا نے مرنا، قتل ہونا اور تباہ حال زندگی گزارنا نہیں لکھا_
    ایسا آپ کرتے ہیں
    ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

  • مردوں کے عالمی دن پر میری زندگی کے تین مردوں کو خراج تحسین۔ تحریر:عینی ملک

    مردوں کے عالمی دن پر میری زندگی کے تین مردوں کو خراج تحسین۔ تحریر:عینی ملک

    یہ سچ بات ہے مردوں کے صرف پیدا ہونے کی خوشی منائی جاتی
    اسکے بعد وہ ذمہ داریوں کے بوجھ اتارنے میں جت جاتا ہے

    دنیا میں کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جو زندگی کو نہ صرف سنوار دیتے ہیں بلکہ ایک مضبوط سہارا بھی بنتے ہیں۔ مردوں کے عالمی دن پر میں ان تین اہم مردوں کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتی ہوں جنہوں نے میری زندگی کو ایک خاص معنی دیا۔میرے بابا جان، بھائی، اور شوہر نے میری زندگی کو پرآسائیش اور خوشحال بنانے کے لیے جو محنت کی ہے، وہ الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ بابا جان نے اپنی جوانی اور آرام میری تعلیم و تربیت کے لیے وقف کر دیا، دن رات محنت کی تاکہ مجھے کسی کمی کا احساس نہ ہو۔

    میرے بھائی نے ہمیشہ اپنی خواہشات کو میری ضروریات پر ترجیح دی، میرے لیے سہولتیں پیدا کرنے کے لیے خود مشکلات اٹھائیں۔ میرے شوہر نے بھی اپنی زندگی کا ہر لمحہ اس یقین کے ساتھ محنت کرتے گزار رہے ہیں کہ مجھے ایک محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کر سکیں۔

    میرے بابا جان ، ملک محمد خالد میری زندگی کے سب سے پہلے ہیرو ہیں۔ ان کی محبت بے غرض اور ان کا سایہ ہمیشہ میری حفاظت کرتا رہا۔ انہوں نے نہ صرف مجھے زندگی کے اصول سکھائے بلکہ میری ہر مشکل وقت میں رہنمائی بھی کی۔ ان کی دعاؤں کا اثر میری کامیابیوں کی بنیاد ہے۔مولا انکی قبر میں اندھیرا نہ
    رکھنا انکی روح کو جنت میں ایک گھر عطا فرمانا الہی آمین۔

    دوسرے اہم مرد میرے بڑے بھائی نے ہمیشہ ایک دوست اور محافظ کا کردار نبھایا۔ وہ ہر وقت میرے ساتھ کھڑے رہے، چاہے معاملہ چھوٹا ہو یا بڑا۔ ان کے ساتھ گزرے لمحے میری زندگی کی سب سے حسین یادیں ہیں۔ بھائی میرے لیے ایک ایسا سہارا ہیں جس کو جب بھی ضرورت پڑے بلا جھجک آواز دے سکتی ہوں۔

    اور تیسرے میرے شوہر میری زندگی کا وہ حصہ ہیں جو میری خوشیوں اور غموں کے برابر کے شریک ہیں۔ ان کا پیار، خلوص اور رفاقت میری زندگی کا بے بیش قیمت اثاثہ ہیں۔ وہ نہ صرف میرے ہمسفر ہیں بلکہ میرے سب سے بڑے حوصلہ بڑھانے والے بھی ہیں اور مجھ پر اعتماد کرنے والے بھی ہیں

    یہ تینوں مرد میرے لیے طاقت، شفقت ، وفا، محبت اور رہنمائی کا مظہر ہیں۔ آج کے دن میں ان کا شکریہ ادا کرتی ہوں کہ انہوں نے میری زندگی کو اتنا خوبصورت بنایا۔ میری دعائیں ہمیشہ ان کے ساتھ ہیں۔

  • شوہر اجازت نہیں دیتے …تحریر:ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

    شوہر اجازت نہیں دیتے …تحریر:ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

    شوہر اجازت نہیں دیتے ….
    آپ نہ لیں اجازت ….
    جی … وہ شوہر ہیں نا …
    تو … کیا وہ بھی ہر کام آپ سے اجازت لے کر کرتے ہیں ؟
    نہیں … نہیں تو ..
    تو کیا آپ جیل میں قیدی کی طرح رہتی ہیں جہاں دروغہ جی سے ہر بات کی اجازت لی جائے ؟
    وہ … جی … امی ابا نے یہی کہا تھا کہ شوہر کی بات ماننا …
    کیا امی ابا نے آپ کو ایک خادمہ کے طور پہ شوہر کے سپرد کیا تھا ؟ یا ان کے ساتھی کے طور پہ ؟ ساتھی اپنی مرضی سے آگاہ کرتے ہیں ، اجازت نہیں لیتے …
    اور کیا کہا تھا امی ابا نے ؟
    کبھی لڑ کر واپس مت آنا … جب بھی آنا ہنسی خوشی آنا …
    ہنسی خوشی ؟ یعنی جب آپ تکلیف میں ہوں گی تب کہاں جائیں گی ؟
    جی امی ابو نے کہا تھا کہ صبر کرنا ایک دن سب ٹھیک ہو جائے گا ۔
    کس دن ؟
    جی .. قربانی تو دینی ہی پڑتی ہے نا ۔
    اس دن جب آپ کے گوڈے گٹے جواب دے جائیں گے ، بال سفید ہو جائیں گے ، کچھ بھی کرنے کو من نہیں چاہے گا ، بحث مباحثے سے دل اوبھ جائے گا اور آپ خاموشی اختیار کر لیں گی ۔
    اس دن روح سے خالی جسم ایک چبوترے پہ کھڑا کر کے کہا جائے گا __ دیکھا آخر میں جیت عورت ہی کی ہوتی ہے ۔

    اگر آپ کے شوہر آپ سے مطالبہ کرتے کہ ڈاکٹری چھوڑ دو، گھر بیٹھو تو آپ کیا کرتیں؟
    یہ سوال ہم سے بہت پوچھا جاتا ہے پوچھنے والوں میں وہ بھی شامل ہوتی ہیں جنہیں ان کے شوہروں نے ڈاکٹر ہونے کے باوجود گھر بٹھا دیا اور وہ بھی جو سمجھتے ہیں کہ عورت کو بیوی بن کے ہر قدم اجازت کے ساتھ اٹھانا چاہیے ۔
    ہم محفل میں ہوں تو سوال کے ساتھ ہی بیسیوں تجسس بھری نظریں ہم پہ مرکوز ہو جاتی ہیں باکل ایسے ہی جیسے کوئی جادوگر ہیٹ سے کبوتر نکالنے والا ہو!
    ہم ایک شان سے بلند قہقہہ لگاتے ہوئے کہتے ہیں ، ہم وہی کرتے جو ایک بادشاہ دوسرے بادشاہ سے کرتا ہے…
    اس جواب سے من مرضی کی بہت سی تاویلات گھڑی جا سکتی ہیں ۔
    کوشش کر دیکھیے آپ بھی !

    بے حیا دوا اور پیپ سمیر ٹیسٹ ، تحریر:ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

  • بے حیا دوا اور پیپ سمیر ٹیسٹ ، تحریر:ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

    بے حیا دوا اور پیپ سمیر ٹیسٹ ، تحریر:ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

    ڈاکٹر میرے شوہر خوش نہیں ہیں!“
    تھکا ہوا لہجہ، چالیس کے پیٹے میں خوش شکل اداس صورت خاتون —-
    سو ہم نے بات اڑانے کے لئے ہنس کے کہا،فکر نہ کیجیے، شوہروں کا یہی وطیرہ ہوتاہے، کچھ بھی کر لو بھلے جان دے دو، بھلے مانس خوش ہوتے ہی نہیں“
    وہ ہولے سے مسکرا دیں۔
    ”اب بتا دیجیے، کیوں ناراض رہتے ہیں وہ“
    وہ ڈاکٹر، پچھلے پانچ چھ ماہ سے ہم جب بھی—وہ جب بھی ——“وہ جھینپ کے رک گئیں-
    جی، جب بھی۔ کہیے؟“
    ہم نے انہیں بات مکمل کرنے کا حوصلہ دیا
    ” جی، پچھلے کچھ عرصے سے ہم جب بھی ہم بستری کرتے ہیں، ان کو محسوس ہوتا ہے کہ ان کے عضو پہ تھوڑا سا خون لگ گیا ہے۔ میرے جسم پہ بھی کچھ خون کے دھبے ہوتے ہیں، ساتھ میں درد بھی بہت ہے۔ میں بہت پریشان ہوں ڈاکٹر“
    ” پریشان نہ ہوئیے۔ آپ یہ بتائیے کہ آپ نے پہلے کبھی اپنا پیپ سمیر ( pap smear ) کروایا؟“ ہم نے پوچھا
    جی مجھے علم نہیں کہ یہ کیا ہوتا ہے؟“ وہ بولیں۔
    ” یہ ایک ٹیسٹ ہے جو رحم کے منہ یعنی سروکس ( cervix) سے لیا جاتا ہے۔ تیس برس کی عمر کے بعد ہر خاتون کو یہ ٹیسٹ کروانا چاہیے کیونکہ چھاتی کے کینسر کے بعد سب سے زیادہ شرح سروکس کے کینسر کی ہے اور اکثر اوقات کینسر ہونے کا پتہ ہی نہیں چلتا۔ یہ ٹیسٹ کینسر شروع ہونے سے پہلے ہی بتا دیتا ہے کہ سروکس کے سیل نارمل نہیں رہے، سو ضرورت ہے کہ احتیاطی تدابیر اختیار کرلی جائیں“
    ہم نے تفصیل سے انہیں سمجھایا۔
    ”یہ ٹیسٹ آپ کیسے لیں گی؟“
    وہ کچھ شش و پنج میں مبتلا تھیں۔
    ”آپ کے رحم کے منہ یعنی سروکس کا معائنہ —-پھر ایک برش کی مدد سے چھوتے ہوئے اس کی سطح سے کچھ سیلز لے کر گلاس سلائیڈ پہ منتقل — بس پھر لیبارٹری والے جانیں اور ان کا کام“
    ہم نے انہیں دلاسا دیتے ہوئے وضاحت کی۔
    ”بہت آسان سا کام ہے، آپ کو بالکل تکلیف نہیں ہو گی“
    وہ خوفزدہ نظر آتی تھیں مگر ہمارے سمجھانے بجھانے پہ معائنے کے لئے راضی ہو گئیں۔

    سروکس صحت مند حالت میں نہیں تھا، ایسے لگتا تھا کہ انہیں کافی مرتبہ وجائنل انفیکشن رہ چکی ہے۔ ہم نے پیپ سمیر لیا اور انہیں نتیجے کے ساتھ آنے کے لئے کہا۔
    کچھ دنوں بعد پیپ سمیر کی رپورٹ آ گئی اور رپورٹ خوش آئند نہیں تھی۔ کچھ ابنارمل قسم کے سیلز دیکھے گئے تھے جو متقاضی تھے کہ مزید ٹیسٹ کیے جائیں۔ اگلا مرحلہ سروکس کو ایک مائکرو سکوپ ( colposcope) نامی مشین کی مدد سے دیکھنا اور متاثرہ حصے کی بائیوپسی لینا تھا۔
    طریقہ کار پہلے جیسا ہی تھا، کاؤچ پہ مریض کو لٹا کر اندرونی اعضائے مخصوصہ کو دیکھ کر بائیوپسی لینا۔ اس عمل میں مریض کو کسی بے ہوشی کی ضرورت نہیں پڑتی اور بائیوپسی لینا زیادہ تکلیف دہ امر نہیں ہوتا۔ درد کی شکایت میں پیراسٹامول دینا ہی کافی رہتا ہے۔
    ‏Colposcopy کے ساتھ بائیوپسی لیتے ہوئے بھی سروکس صحتمند حالت میں نظر نہیں آتا تھا۔بائیوپسی کی رپورٹ نے وہی کہا جو ہمارا شک تھا یعنی سروکس کینسر سے پہلے والی سٹیج پہ پہنچ چکا تھا۔ سروکس کے سیلز کا رجحان کینسر کی طرف بڑھنے کو CIN یا carcinoma in situ کہا جاتا ہے۔
    خاتون کو رزلٹ سے آگاہ کیا گیا تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دیں، ڈاکٹر میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، اب کیا ہو گا؟
    ”روئیے نہیں، ابھی کینسر شروع نہیں ہوا۔ آپ خوش قسمت ہیں کہ آپ کو ہم بستری کے دوران خون آنے والی علامت شروع ہوئی اور آپ نے اس کے بعد گائناکالوجسٹ کے پاس آنے کا فیصلہ بھی کیا۔ دعائیں دیجیے اپنے شوہر کو، جنہیں خوش کرنے کے لئے آپ نے کم ازکم اس علامت پہ کان تو دھرا“
    ہم مسکرا کے بولے۔

    ”اب کیا کرنا چاہیے؟“ وہ فکرمندی سے بولیں۔
    ”دیکھیے، پہلا حل تو یہ ہے کہ ہم رحم کا منہ یعنی سروکس کے ایک حصے کو کاٹ کو نکال دیں۔ اس کے لئے دو تین طریقے اختیار کیے جاتے ہیں ( Cone biopsy اور LLETZ) ۔
    یہ آپریشن ویجائنا کے راستے کیا جائے گا اور بے ہوشی کے عالم میں ہو گا۔ لیکن اس کے بعد بھی آپ کو وقفے وقفے سے پیپ سمیر کرواتے رہنا ہو گا کہ کوئی بچا کھچا سیل کہیں کسی خرابی کا باعث تو نہیں بن رہا ”
    ”اور دوسرا حل؟“
    ”جی دوسرا حل یہ ہے کہ آپ رحم ہی آپریشن کے ذریعے نکلوا دیں۔ اس صورت میں نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری۔ ہمیشہ کے لئے رحم اور سروکس کے کینسر کے خطرے سے نجات“
    ”ڈاکٹر میرا خیال یہ ہے کہ میں دوسرے حل کے لئے زیادہ مطمئن رہوں گی“
    بصد شوق“

    یہ پیپ سمیر کی کہانی ہمارے لئے تو روزمرہ کی بات ہے لیکن آپ تک پہنچانے کا خیال یوں آیا جب ہم نے کچھ قریبی دوستوں سے پوچھا کہ کیا انہوں نے کبھی پیپ سمیر کروایا ہے اور سب کو ہی پیپ سمیر سے بے خبر پایا۔ پھر ہم نے اپنی بہنوں سے دریافت کیا تو کسی کو کچھ خبر نہ تھی۔ ہم پہ تو بجلی ہی گر پڑی، چراغ تلے اندھیرا اسی کو تو کہتے ہیں۔
    پیپ سمیر کا سہرا ایک یونانی ڈاکٹر Georgios Papanikolaou کے سر بندھتا ہے جس نے سیلز کی مدد سے کینسر کو پہچاننے کا طریقہ دریافت کیا اور اسی لئے اس ٹیسٹ کو پیپ سمیر پکارا گیا۔
    جان لیجیے کہ پیپ سمیر تیس برس کی عمر سے لے کر پینسٹھ برس کی عمر تک ہر تین برس کے وقفے سے کیا جاتا ہے۔ اگر کبھی کسی مرحلے میں کوئی ابنارمیلٹی ملجائے تو باقی مراحل کی باری آتی ہے۔
    پیپ سمیر کے ساتھ HPV وائرس کا ٹیسٹ بھی کیا جانا چاہیے کہ یہ موذی کینسر کے اسباب میں سے ایک ہے۔عورت کے جسم کو رگیدنے اور اس پہ انواع و اقسام کی مرضی منطبق کرنے کا کام عورت مارچ کے حوالے سے بخوبی کیا گیا ہے۔ مگر اس جسم کی دیکھ پرداخت کا مسئلہ چونکہ کسی اور کا نہیں، صرف عورت کا ہے سو ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہماری ہم نفس ان تکالیف سے ضرور بچ جائے جو آگہی نہ ہونے کی وجہ سے اسے آن گھیرتی ہیں۔بات نکلی ہے تو human papilloma virus کی کتھا بھی سنائے دیتے ہیں۔

    “کوئی پوچھے ان نگوڑوں سے، کیوں ہم سے بار بار کہتے ہو کہ ہم اپنی بچیوں کو یہ ویکسین لگوائیں۔ یہ تو بنائی ہی موئی گوریوں کے لئے گئی ہے جو چھوٹی عمر میں ہی درجنوں بوائے فرینڈ رکھ چھوڑتی ہیں۔ اگر شادی کریں بھی تو بھلا ایک شادی تک محدود کہاں رہتی ہیں۔ تو انہیں تو ضرورت ہوئی نا۔ اب ہماری بچیاں یہ بوائے فرینڈ شرینڈ کیا جانیں۔ جہاں اماں ابا بیاہیں گے، چلی جائیں گی اور وہاں سے مر کے ہی نکلیں گی۔ پھر کیا ضرورت اس ویکسین کی؟ خواہ مخواہ پیسے کا ضیاع۔ بس بی بی یہ بتا دو کہ یہ بیماری ہماری طرف کی بچیوں کو تو نہیں ہوتی نا“
    وہ خاتون ہمیں ایک تقریب میں ملی تھیں اور بات کرونا کی ویکسین سے شروع ہو کے ایک دوسری ویکسین تک آن پہنچی تھی۔ وہ اپنی بچیوں کے سکول سے بھیجی گئی معلومات پہ شاکی تھیں۔ جو بات انہیں ان کا ذہن سمجھاتا تھا، وہ ہم ماننے سے انکاری تھے اور جو ہم سمجھاتے تھے، ان کا دل شد و مد سے جھٹلاتا تھا۔
    ”جی، یہ بیماری ہماری طرف کے مرد و عورت میں بھی بہت عام ہے“ ہم نے کہا۔
    ارے وہ کیسے؟ دیکھو یہ تو ہم بستری سے ایک دوسرے کو منتقل ہوتی ہے نا“
    وہ چمک کے بولیں،
    جی ہاں“
    ”اے نوج بی بی کچھ عقل کو ہاتھ ڈالو۔ جب ہم بستری ہی میاں بیوی کے درمیان ہو گی تو کہاں سے موا ٹپکے گا وائرس؟“
    ”یہی تو مصیبت ہے کہ گھر سے باہر بھی کافی بستر پائے جاتے ہیں“
    ہم زیر لب بڑبڑائے،
    کیا کہا؟“
    ”جی، حقیقت یہی ہے کہ یہ وائرس ہم بستری سے ہی ایک دوسرے کو منتقل ہو کر بیماری پھیلاتا ہے۔ بیماری تو مرد و عورت دونوں کو ہو سکتی ہے لیکن بیماری کے نتیجے میں کینسر کا شکار عورت بنتی ہے۔ بچیوں کو ویکسین لگوانے کے لئے اس لئے کہا جاتا ہے کہ اگر وہ خود کسی غیراخلاقی گراوٹ میں مبتلا نہ بھی ہوں، تب بھی وہ کینسر کا شکار ہو سکتی ہیں اگر ان کا شوہر گھر سے باہر جنسی تعلقات سے شغف رکھتا ہو“ ہم نے چڑ کر کہا۔

    صاحب، کرونا وائرس سے اور کچھ ہوا ہو یا نہیں، ہر ذی شعور یہ ضرور سمجھ گیا ہے کہ وائرس کی ہلاکت خیزی کیا ہوتی ہے۔ ایسا ہی ایک وائرس Human papiloma virus کے نام سے پایا جاتا ہے جس کا نشانہ کرونا وائرس کی طرح گلا یا پھیپھڑے نہیں بلکہ مرد و عورت کے جنسی اعضا ہوا کرتے ہیں۔
    یہ انفیکشن مرد سے عورت، عورت سے مرد، مرد سے مرد اور عورت سے عورت کو بذریعہ جنسی تعلقات منتقل ہوتی ہے۔ بعض دفعہ وائرس کوئی علامات پیدا نہیں کرتا لیکن بہت سے مریضوں میں چھوٹی چھوٹی لحمیاتی پھنسیاں نکل آتی ہیں جنہیں وارٹس ( warts ) کہا جاتا ہے۔ مرد کے بیرونی جنسی اعضا اور عورت کے بیرونی اور اندرونی جنسی اعضا پہ ان پھنسیوں کا موجود ہونا HPV انفیکشن کا ثبوت ہے۔
    وائرس زیادہ تر جنسی کاروبار میں ملوث افراد میں پایا جاتا ہے اور وہیں سے مختلف لوگوں میں منتقل ہوتا ہے۔ HPV کی منتقلی کسی اور طریقے سے ممکن نہیں۔ لیکن لوگ اپنی تسلی کے لئے بہت سی کہانیاں گھڑ لیتے ہیں۔
    ہمیں ایک دفعہ ایک خاتون ملیں، جن کے شوہر اس وائرس کا شکار ہونے کے بعد قسمیں کھا کھا کے انہیں یقین دلانے کی کوشش کرتے تھے کہ یہ انفیکشن ہوٹل کے تولیوں کے استعمال سے ہوئی ہے۔ کچھ اور کہانیوں میں شوہروں نے دوستوں کے استعمال شدہ زیر جامے کو غلطی سے پہن لینے پہ مورد الزام ٹھہرایا۔
    جب اس طرح کی توجیہہ کے بعد کوئی ہماری رائے جاننے کی کوشش کرتا ہے توہم چپ رہے، ہم ہنس دیے، منظور تھا پردہ تیرا کی تصویر بن جایا کرتے ہیں۔
    ان وارٹس کا علاج لیزر یا بجلی کے ذریعے کیا جاتا ہے جہاں ان پھنسیوں کو جلایا جاتا ہے۔ یہ پھنسیاں ایک دفعہ جلانے سے ختم نہیں ہوتیں سو یہ عمل کئی دفعہ دہرانے کی ضرورت پڑتی ہے۔
    خواتین کو اگر یہ انفیکشن حمل کے دوران ہو جائے تو طبعی زچگی کے نتیجے میں انفیکشن نوزائیدہ کو منتقل ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔اس انفیکشن کا سب سے بڑا خطرہ خواتین میں رحم کے منہ سروکس ( cervix) کا کینسر ہے جو وائرس کی ایک خاص قسم HPV 16 اور HPV 18 کا شکار بنتی ہیں۔ کینسر کے ستر فیصد مریضوں میں سبب HPV ہی ہوتا ہے۔

    جس ویکسین کا ہم نے شروع میں ذکر کیا وہ انہی دو قسموں سے بچنے کے لئے بنائی گئی ہے۔ سروکس کے کینسر سے بچنے کے لئے بچیوں کو یہ ویکسین گیارہ سے بارہ برس کی عمر میں لگائی جاتی ہے۔
    بچیوں کو اوائل شباب میں ویکسین لگانے کی وجہ محض یہ ہے کہ نوعمری میں ویکسین لگانے سے اس کی افادیت زیادہ ہوتی ہے اور کسی بھی واسطے سے انفیکشن منتقل ہونے کا تحفظ تمام عمر رہتا ہے۔
    ابتدا میں مسلمان خاندانوں میں اس ویکسین کے خلاف کافی مزاحمت یہ کہہ کر کی گئی کہ بحیثیت مسلمان ہمارے بچے کہاں اس نوعیت کے جنسی تعلق میں مبتلا ہوا کرتے ہیں؟ یا یہ تو بچوں اور بچیوں کو مزید شہ دینے والی بات ہے۔سوچنے والی بات محض یہ ہے کہ اگر ایسا ہی ہے تو پھر ہمارے معاشرے میں بے شمار افراد اس انفیکشن کا شکار کیوں ہوتے ہیں؟جواب سننے کے لئے ہمارا منہ نہ کھلوائیے کہ گائناکالوجسٹ کے حمام میں سب کچھ نظر بھی آ جاتا ہے اور کافی رازوں سے پردہ بھی اٹھ جاتا ہے۔ یہ ایک کڑوا گھونٹ ہے کیونکہ اس بیماری کے لئے متعدد جنسی ساتھیوں کا ہونا لازم ہے جو بیماری کو ایک سے دوسرے میں منتقل کرتے ہیں۔کون کس کو اس بیماری میں مبتلا کرتا ہے اور کہاں سے یہ لے کر آتا ہے؟ کوایک طرف رکھ کر محض یہ جان لیجیے کہ کینسر کا عذاب صرف عورت کے حصے میں آتا ہے اور بریسٹ کینسر کے بعد سب سے زیادہ شرح سروکس کے کینسر ہی کی ہے۔
    خواتین کے حصے میں آنے والے عذاب ویسے ہی کم نہیں سو ناگہانی سے نبٹنے کے لئے اپنی بیٹیوں کے لئے HPV ویکسین کا خیال برا نہیں!

  • بھارت :خواتین کی فروخت کا بازار، شیو پوری گاؤں میں ‘ڈھڈیچا’ روایت کا انکشاف

    بھارت :خواتین کی فروخت کا بازار، شیو پوری گاؤں میں ‘ڈھڈیچا’ روایت کا انکشاف

    باغی ٹی وی :بھارت میں مدھیہ پردیش کے شیو پوری گاؤں میں ایک قدیم اور متنازع روایت ’ڈھڈیچا‘ اب بھارت کے عالمی سطح پر انسانی حقوق کے مسائل میں ایک نیا سوال اٹھا رہی ہے۔ اس روایت کے تحت، خواتین کو بازار میں اشیاء کی طرح خریدا اور بیچا جاتا ہے، جس سے ان کی بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔

    خواتین کو کرائے پر دینے کا طریقہ کار
    ڈھڈیچا روایت کے تحت، شیو پوری کے بازار میں دور دراز علاقوں سے آئے مرد اپنی پسند کی خواتین کو دیکھ کر ان کی قیمت مقرر کرتے ہیں۔ قیمت طے کرنے کے بعد، وہ رقم ادا کرکے خواتین کو اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ کرائے پر دینے کی مدت اور شرائط معاہدے میں واضح کی جاتی ہیں، جو خواتین کو ایک سال یا چند مہینوں کے لیے کرائے پر لینے کی اجازت دیتی ہیں۔

    خواتین کی فروخت کرنے والے اور خریدار
    اس بازار میں زیادہ تر غریب خاندان کی خواتین کو فروخت کے لیے پیش کرتے ہیں۔ خریدار مختلف مقاصد کے لیے خواتین خریدتے ہیں؛ کچھ خواتین کو بزرگوں کی خدمت کے لیے خریدا جاتا ہے، جبکہ دیگر خواتین کو بیوی کے طور پر کرائے پر لیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ خواتین کو ’ڈیل‘ سے انکار کرنے کا حق بھی دیا گیا ہے، حالانکہ عملی طور پر یہ حق کتنا مؤثر ہے، اس پر سوالات اٹھتے ہیں۔

    قیمتیں اور کنٹریکٹ کی تفصیلات
    خواتین کی قیمتیں مختلف ہوتی ہیں اور ان کے لیے اسٹامپ پیپر کی قیمت صرف 10 روپے سے شروع ہوتی ہے۔ کنٹریکٹ کے تحت قیمت 15 ہزار روپے سے لے کر چند لاکھ روپے تک ہو سکتی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، کنواری خواتین کی قیمت شادی شدہ خواتین سے زیادہ ہوتی ہے۔

    عالمی تنقید اور حقوق انسانی کی پامالی
    اس روایت کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد، عالمی سطح پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ بھارت میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے، اس روایت کے خاتمے کے لیے اقدامات اٹھانے کی اپیل کی گئی ہے۔

    ڈھڈیچا روایت ایک واضح اشارہ ہے کہ بھارت میں خواتین کے حقوق اور تحفظ کی صورتحال میں بہتری کی ضرورت ہے، اور یہ کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے موثر قانون سازی اور سماجی اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔