Baaghi TV

Category: خواتین

  • اپوواخواتین کانفرنس:حقوقِ نسواں کی توانا آواز

    اپوواخواتین کانفرنس:حقوقِ نسواں کی توانا آواز

    (چوتھی اپووا خواتین کانفرنس کی مختصر روداد)
    حافظ محمد زاہد‘ سینئر نائب صدر

    آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اَپووا) ہر گزرتے دن کے ساتھ ایک طرف میدانِ ادب میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑھ رہی ہے تودوسری طر ف ملک کے طول وعرض اور بیرون ملک میں اس کے ممبران کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جو ادب کی خدمت کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔مردوں کی نسبت اس میں خواتین کی تعداد کافی زیادہ ہے ‘اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے چار سال پہلے خواتین کے عالمی دن کے موقع پرپہلی بار’’اپووا خواتین کانفرنس‘‘کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک بھر سے پچاس کے قریب منتخب خواتین کو اپنے شعبے میں اعلیٰ کارکردگی دکھانے پر اپووااچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ادبی حلقوں میں اس کانفرنس کو نہ صرف بہت زیادہ سراہا گیا بلکہ چند تنظیموں اور این جی اوزنے اپووا کے طریقہ کار کو کاپی کرتے ہوئے خواتین کانفرنس مع ایوارڈ کا انعقاد کیا جو صحیح معنوں میں اپووا کے لیے باعث ِ اعزاز ہے۔ اسی پذیرائی کو دیکھتے ہوئے اپووا انتظامیہ نے سالانہ بنیادوں پر خواتین کانفرنس کے انعقاد کا عزم کیا اور گزشتہ تین سالوں سے یہ کانفرنس کامیابی سے منعقد کی جارہی ہے۔

    اسی سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے گزشتہ دنوں آل پاکستان رائٹرزویلفیئر ایسوسی ایشن(اپووا)کے زیر اہتمام خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے لاہور کے مقامی ہوٹل میں اپووا کے سرپرست اعلیٰ زبیر احمد انصاری کی زیر سرپرستی‘ بانی اپووا ایم ایم علی کی زیر کی زیر نگرانی اور خواتین ونگ کی صدر ثمینہ طاہر بٹ کی زیر صدارت ’’اپووا خواتین کانفرنس‘‘ کا اہتمام کیا گیا جس میں معروف ڈرامہ رائٹر صائمہ اکرم چوہدری‘ سینئر اداکارہ میگھا جی‘معروف لکھاری نازیہ کامران کاشف‘ خوش اخلاق و منفردانداز کی حامل اینکرپرسن ارم محمود‘سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی دادا کی پوتی سیدہ ماہا بخاری‘ معروف اینکر پرسن ثنا آغا خان‘ ماہر ہیلتھ ڈاکٹر انعم پری‘معروف قانون دان سعدیہ ہما شیخ‘ معروف براڈ کاسٹر ریحانہ عثمانی‘ ہر دلعزیز شاہین آپا سمیت پاکستان کے دور دراز اضلاع سے کثیر تعداد میں خواتین نے شرکت کی۔ پروگرام کی ہوسٹنگ کے فرائض مدیحہ کنول جبکہ ریسپشن کی ذمہ داری مرکزی صدر حافظ محمد زاہد اورنائب صدر ساجدہ چوہدری نے نبھائی۔

    مقررین کی گفتگو کا نچوڑ اور لب لباب نکات کی صورت میں ذیل میں بیان کیا جاتا ہے:
    ٭ اسلام نے عورتوں کو اعلیٰ سے اعلیٰ حقوق دیے ہیں ‘بس ضرورت اس امر کی ہے کہ خواتین کوصحیح معنوں میں وہ تمام حقوق ملنے چاہئیں۔اور خواتین کو بھی چاہیے کہ اپنے دائرے اور حدود میں رہتے ہوئے آگے سے آگے بڑھیں اور یہ ثابت کریں کہ خواتین کسی طور پر پیچھے نہیں ہیں۔
    ٭ خواتین کی انفرادی شخصیت کو تسلیم کیا جائے اور انہیں بھی آگے بڑھنے کے مناسب مواقع ملنے چاہئیں۔
    ٭ خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر جدوجہد جاری رکھنی چاہیے اس لیے کہ بااختیار خواتین کےذریعے ہی معاشرے کی ترقی ممکن ہے۔
    ٭ کسی بھی مرد کے غیور یعنی غیرت مند ہونے کی یہ دلیل نہیں ہے کہ وہ عورت کو کس قدر ڈراتے ہیں‘ بلکہ دیکھنا یہ ہے کہ وہ عورت کو کس قدر سراہتے ہیں!
    ٭ بعض مقرر خواتین نے اس بات کا برملا اظہار کیا کہ پاکستانی معاشرے میں مرد حضرات کی جانب سے خواتین کو جتنی عزت دی جاتی ہے‘خواتین کے کاموں کی جتنی پذیرائی کی جاتی ہے اور خواتین کو آگے بڑھنے کے جتنے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں‘اتنا کسی اور معاشرے میں نہیں دیکھنے کو ملتا۔
    ٭ یاد رکھنا چاہیے کہ وہی قومیں عروج پاتی ہیں جو اپنی خواتین کو عزت دیتے ہیںاور ایک خاتون کو بہن‘ بیٹی‘ ماں اوربیوی کے بجائے ان کی ذات میں ایک شخصیت اور خودمختار سمجھا جاتا ہے۔

    کانفرنس کے اختتام پراپنے شعبے میں اعلیٰ کارکردگی دکھانے والی خواتین کو ایوارڈ ‘ میڈل اور تعریفی اسناد سے نوازا گیا اور بذریعہ قرعہ اندازی خوبصورت تحائف پر مشتمل گفٹ پیک تقسیم کیے گئے۔ شرکاء کانفرنس سےیہ عہد بھی لیا گیا کہ آپ اپنے دائرہ کار میں مزید آگےبڑھنے کے لیے ہر ممکن جدوجہد جاری رکھیں گی۔اپووا خواتین کانفرنس میں فلسطینی بہن بھائیوں اور بچوں سے اظہار یکجہتی کا اظہار کیا گیا اور فلسطینیوں کی نسل کشی پر امت مسلمہ اور بالخصوص مسلم امہ کے حکمرانوں کی مجرمانہ خاموشی پر شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔

    اس میں کوئی شک نہیں کہ اپووا خواتین کانفرنس‘عورتوں کے حقوق کے لیے توانا آواز ہے ۔آئندہ سالوں میں بھی اپووا یہ ذمہ داری احسن طریقے سے یہ سوچ کر پوری کرتی رہے گی کہ’’یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی!‘‘اور اپووا کا ماننا ہے کہ:
    اندھیرے سے لڑائی کا یہی احسن طریقہ ہے
    تمہاری دسترس میں جو دیا ہو وہ جلا دینا!

    خواتین کی انفرادی شخصیت کو تسلیم کرنا معاشرے کی ذمہ داری ہے
    بااختیار خواتین کے ذریعے ہی معاشرے کی ترقی ممکن ہے
    مرد کے غیرت مند ہونے کی دلیل عورت کو ڈرانا نہیں‘سراہنا ہے

    مبشر لقمان سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد

    سیالکوٹ : نوجوانوں میں مثبت سوچ کو پروان چڑھانے میں اَپووا کا کردارمثالی ہے-گورنرپنجاب

  • تشدد کے سائے اور گھریلو ملازمین کی حالت زار

    تشدد کے سائے اور گھریلو ملازمین کی حالت زار

    آج کل جج کی بیوی کے ہاتھوں ایک کم عمر ملازمہ کو تشدد کا نشانہ بنانے کی خبروں اور خاص طور پر سوشل میڈیا پر یک طرفہ مؤقف نے ہر زی شعور کو پریشان کر کے رکھ دیا ہے۔ حقیقت جو بھی ہو گی جلد سامنے آ جائے گی۔گھریلو خواتین کو ملازمہ کی ضرورت رہتی ہے اور شاید ہی کوئی بد بخت ہو جو اپنے گھریلو ملازمین کے ساتھ ناروا سلوک روا رکھے۔ ایک خاتون ہونے کے ناطے یہ بھی سمجھ سے بالاتر ہے کہ آخر کسی بھی خاتون خانہ کو ملازمہ پر ہاتھ اٹھانے کی ضرورت ہی کیوں محسوس ہوتی ہے عام طور پر ایک طرف بہت کم تنخواہ پر ملازمہ رکھتے ہیں دن بھر اس سے کام لیتے ہیں اور پھر اسے تشدد کا نشانہ بھی بناتے ہیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اپنے پورے عروج پر ہیں۔مجھے بھی ایسا ہی ایک واقعہ یاد ہے جب ہماری پڑوسن نے محض فریج میں سے ایک سیخ کباب کھانے پر اپنی ملازمہ کو ایک انتہائی سرد شام گھر سے نکال دیا اور اسے رات پارک میں بسر کرنا پڑی۔ یہ واقعہ بھی دل و دماغ کو ماؤف کر دیتا ہے۔ اب ایک سیخ کباب کھانے پر ملازمہ کو گھر سے نکال دینا کسی بھی طور عقل مندی نہیں بلکہ ہونا تو یہ چاہئیے کہ درگذر کرتے ہوئے ملازمہ کو سمجھایا جائے یا پھر اگر اسے بھی وہی کھانے کو دے دیا جائے جو گھر کے مکین کھاتے ہیں تو کیا قیامت ٹوٹ پڑے گی؟ بطور جج کی اہلیہ کی خبروں نے بہت سے قصے تازہ کر دئیے ہیں۔ یہاں پر یہ بات قابل غور ہے کہ پاکستان میں گھریلو ملازمین پرتشدد جیسے عام سی بات ہو،دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی حالیہ برسوں میں گھریلو ملازمین کے خلاف تشدد کے واقعات میں پریشان کن اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ غربت اور استحصال کے چکر میں پھنسے ہوئے، یہ کمزور افراد، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں، اپنے مالکوں کے ہاتھوں جسمانی، زبانی اور جنسی استحصال کا سامنا کرتے ہیں۔ ان کی حالت زار کے بارے میں بیداری پیدا کرنے میں کچھ پیش رفت کے باوجود، پاکستان میں گھریلو ملازمین کے تحفظ اور انہیں بااختیار بنانے کے لئے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔گھریلو ملازمین پاکستان بھر میں لاکھوں گھرانوں کی زندگیوں میں ایک ناگزیر کردار ادا کرتے ہیں۔ اکثر غریب دیہی علاقوں سے آنے والے کام کے مواقع کی تلاش میں شہروں کی طرف ہجرت کرتے ہیں۔ افسوسناک طور پروہ اپنے آپ کو ان لوگوں کے ذریعہ بدسلوکی کا شکار پاتے ہیں جو انہیں ملازمت دیتے ہیں۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق، تقریباً 20 فیصد گھریلو ملازمین تشدد کا شکار ہیں، اور بے شمار دیگر افراد کو استحصال، کم اجرت اور کام کے نامناسب حالات کا سامنا ہے۔
    پاکستان میں گھریلو ملازمین مختلف قسم کے تشدد کا شکار ہیں۔ جیسے جسمانی زیادتی، بشمول مارنا پیٹنا اور یہاں تک کہ جلانا، افسوسناک طور پر عام ہے۔ زبانی بدسلوکی، توہین آمیز تبصرے، اور دھمکیاں جو ان کے دکھوں میں مزید اضافہ کرتی ہیں۔ اسکے علاوہ جنسی طور پر ہراساں کرنا بھی ایک عام سی بات ہے، بہت سے گھریلو ملازمین اپنے آجروں اور ان کے خاندان کے افراد کی جانب سے ناپسندیدہ پیش رفت اور نامناسب رویے کو برداشت کرتے ہیں،پاکستان میں گھریلو ملازمین کے خلاف تشدد کو عام کرنے میں کئی عوامل اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جیسے سماجی اصول اور گھریلو ملازمین کو کمتر اور ڈسپوزایبل تصور کرنا ان کے کمزور ہونے میں معاون ہے۔اور تو اور قانونی تحفظ کا فقدان اور اس شعبے میں روزگار کے لیے واضح رہنما اصولوں کی عدم موجودگی اس مسئلے کو مزید بڑھا دیتی ہے۔ مزید معاشرے میں خواتین کی پست حیثیت استحصال اور بدسلوکی کے کلچر کو مزید برقرار رکھتی ہے، کیونکہ بہت سے گھریلو ملازم خواتین ہیں۔ تاہم پاکستانی حکومت نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے کچھ اقدامات کیے ہیں، جیسے کہ گھریلو کام کو منظم کرنے اور کارکنوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قوانین بنانا۔ گھریلو ملازمین (روزگار کے حقوق) ایکٹ 2021 میں منظور کیا گیا جس کا مقصد گھریلو ملازمین کے لیے کام کے مناسب حالات اور مناسب معاوضے کو یقینی بنانا ہے۔ تاہم، گھریلو کام کے بہت سے انتظامات کی غیر رسمی نوعیت اور مالکان کی تعمیل کرنے میں ہچکچاہٹ کی وجہ سے نفاذ ایک چیلنج بنا ہوا ہے،گھریلو ملازمین کے خلاف وسیع تشدد سے نمٹنے کے لیے، بیداری پیدا کرنا مالکان کو ملازمین کے حقوق اور ذمہ داریوں سے مکمل آگاہ کرنا بہت ضروری ہے۔جو مہمات اور ورکشاپس ان کمزور افراد کی حالت زار کے بارے میں ہمدردی اور افہام و تفہیم کو فروغ دینے میں مدد کر سکتی ہیں، اسکے علاوہ مثبت تبدیلی کو فروغ دینے کے لیے، صاحب حیثیت لوگ جو ملازم رکھنے کے خواہشمند ہو ان کو روزگار کے اخلاقی طریقوں کو اپنانا چاہیے اور گھریلو ملازمین کے ساتھ عزت اور وقار کے ساتھ برتاؤ کرنا چاہیے۔ منصفانہ اجرت پر عمل درآمد، مناسب حالات زندگی فراہم کرنا، اور مناسب اوقات کار کو یقینی بنانا ایک محفوظ ماحول بنا سکتا ہے، گھریلو ملازمین کے خلاف تشدد سے نمٹنے کے لیے سماجی، قانونی اور انفرادی سطح پر جامع کوششوں کی ضرورت ہے۔ اس میں احترام اور ہمدردی کا ماحول پیدا کرنا، تعلیم اور بیداری کو فروغ دینا، مزدوری کے قوانین کو نافذ کرنا، اور ضرورت پڑنے پر گھریلو ملازمین کو انصاف تک رسائی کے لیے سپورٹ سسٹم فراہم کرنا شامل ہے۔ ان بنیادی مسائل کو حل کر کے، پاکستان ایک زیادہ منصفانہ اور مساوی معاشرے کی طرف بڑھ سکتا ہے جہاں تمام افراد کے ساتھ عزت اور انصاف کے ساتھ سلوک کیا جائے، چاہے ان کا پیشہ کچھ بھی ہو۔
    بعض لوگوں کو مؤقف ہے کہ اگرچہ ہمارے یہاں بے شمار قوانین ہیں مگر ان پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔یہ بھی کسی حد تک درست ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخع قوانین پر عمل درآمد کون ممکن بنائے گا؟ ہمارے کئی ادارے بھی امراٗ کے زیر اثر آ جاتے ہیں اور یوں غریب کی شنوائی پس پشت چلی جاتی ہے اسی لئے کہا جاتا ہے کہ کورٹ کچہری کی بجائے ہمیں احترام اور ہمدرد بن کر سوچنے کی کوشش کرنا ہو گی۔

  • خواتین کی کامیابی میں مردوں کے کردار اہم ہوتا ہے – ثانیہ مرزا

    خواتین کی کامیابی میں مردوں کے کردار اہم ہوتا ہے – ثانیہ مرزا

    بھارت کی سابق ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا نے خواتین کی کامیابی میں مردوں کے کردار کو اہم قرار دے دیا۔
    اپنے ایک بیان میں ثانیہ مرزا نے کہا کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے لیکن کئی کامیاب خواتین کے پیچھے مرد ہوتے ہیں۔
    ان کا کہنا تھا کہ ایسے مرد بھائی، شوہر، باپ یا دوست کی صورت میں موجود ہوتے ہیں ، وہ وقت سے آگے کا سوچتے ہیں ، جس کی وجہ سے عورتوں کو اپنے خواب پورے کرنے میں اعتماد ملتا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ دنوں ثانیہ مرزا نے شوہر شعیب ملک کے بغیر بیٹے اذہان ملک، والدین، بہن اور بہنوئی کے ہمراہ عمرے کی سعادت حاصل کی۔عمرے کی سعادت حاصل کرنے کے بعد ثانیہ نے انسٹاگرام پر اپنی نئی تصاویر بھی اپ لوڈ کیں۔
    https://www.instagram.com/mirzasaniar/
    شعیب ملک اور ان کی اہلیہ ثانیہ مرزا کے درمیان گزشتہ دنوں علیحدگی کی خبریں گرم تھیں تاہم اس حوالے سے دونوں کی جانب سے باضابطہ طور پر کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔

  • کیا لڑکیوں کی تعلیم اور جاب ان کی شادی میں رکاوٹ ہے؟ —  ڈاکٹرعدنان نیازی

    کیا لڑکیوں کی تعلیم اور جاب ان کی شادی میں رکاوٹ ہے؟ — ڈاکٹرعدنان نیازی

    فرانس کی مختلف یونیورسٹیوں میں گزرے نو سال کے دوران ایک چیز بہت عام دیکھی کی وہاں کی کولیگ پروفیسر اور سائنسدان عورتوں کی شادیاں اکثر کسی پلمبر، الیکٹریشن، ٹرک ڈرائیور، دکاندار، ہیئر ڈریسر وغیرہ سے ہوئی ہوتی تھیں جو اکثر ان سے بہت ہی کم تعلیم یافتہ ہوتے تھے اور اکثر کی تنخواہیں بھی ان سے کم ہوتی تھیں۔ وہاں کسی عورت میں یہ کبھی نہیں دیکھا کہ اس نے اشاروں کنایوں میں بھی ایسی کوئی بات کی ہو یا اس پر شرمندگی محسوس کی ہو کہ اس کا شوہر یا بوائے فرینڈ حیثیت یا تعلیم میں اس سے کم ہے۔

    پاکستان میں زیادہ تر مرد اپنے سے کم عمر، کم تعلیم یافتہ، کم کمانے والی یا بالکل ہی بے روز گار عورت سے شادی کرنے میں ہچکچاہٹ کا بھی مظاہرہ نہیں کرتے ہیں لیکن عورتیں اپنے سے کم عمر، کم تعلیم یافتہ، کم کمانے والے یا بے روز گار شخص سے شادی نہیں کرتی ہیں۔

    اگر کسی وجہ سے ہو جائے تو ساری عمر اسے اس بات کے طعنے مارتی رہتی ہیں اور کہیں بتاتے ہوئے شرم محسوس کرتی ہیں۔

    جو کچھ میں نے دیکھا ہے اس میں پڑھی لکھی لڑکیوں کے مشکل سے رشتہ ملنے کی ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے۔ وہ جس مقام پر پہنچ چکی ہوتی ہیں ان کے ہم پلہ مرد اکثر اپنے سے کم عمر لڑکیوں سے شادی کرنا پسند کرتے ہیں اور وہ انھیں آسانی سے مل بھی جاتی ہیں۔

    ہمارے معاشرے کی پڑھی لکھی لڑکیوں اور ان کے والدین کو اس بارے سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے، کیوں کہ لڑکیوں کا دن بدن تعلیم کی طرف رجحان بڑھتا جارہا ہے لیکن اعلیٰ تعلیم مہنگی ہونے اور اعلیٰ تعلیم کے بعد بھی جاب کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے لڑکوں میں کم ہو جا رہا ہے، جس کی وجہ سے یہ مسئلہ سنگین سے سنگین تر ہوتا جائے گا۔

  • کیٹو ڈائیٹ (keto diet) کیا ہے؟ — عظیم الرحمن عثمانی

    کیٹو ڈائیٹ (keto diet) کیا ہے؟ — عظیم الرحمن عثمانی

    جس طرح آپ کی گاڑی فیول جیسے پیٹرول یا ڈیزل پر چلتی ہے۔ ویسے ہی آپ کا یہ جسم بھی دو طرح کے فیول سے چلتا ہے۔
    ۔
    پہلا ہے شوگر یعنی چینی
    دوسرا ہے فیٹ یعنی چربی
    ۔
    ہمارا جسم صدیوں پر محیط جدید تمدنی ارتقاء سے عادی ہوگیا ہے کہ وہ اپنی توانائی یعنی انرجی انسولین کے ذریعے چینی (شوگر) سے حاصل کرے۔ ہم جو بھی میٹھا کھاتے ہیں وہ تو شوگر بنتا ہی ہے مگر ہمارے بدن میں داخل ہونے والے کاربوہائیڈریٹس جیسے روٹی، چاول وغیرہ بھی شوگر میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔
    ۔
    اگر ہم اپنی خوراک میں کاربوہائیڈریٹس اور مٹھاس کو لینا چھوڑ دیں یا بہت کم کردیں تو پھر کیا ہوگا ؟ اب بھی جسم کو چلنے کیلئے فیول تو چاہیئے مگر اب اس کے پاس شوگر یعنی چینی کے ذخائر موجود ہی نہیں ہیں جنہیں وہ توانائی یعنی فیول میں ڈھال سکے۔ مجبوراً اب اسے فیول کیلئے دوسری سورس یعنی ذریعے پر انحصار کرنا ہوگا جو کہ ہے فیٹ یعنی چربی۔ نتیجہ یہ کہ آپ کا جسم اگر بھوکا رہا تو اپنے اندر موجود چربی کے ذخیرے کو کھانا شروع کردے گا۔ یوں آپ کے جسم سے چربی کم ہونے لگے گی۔ گویا آپ کا جسم اپنے آپ میں خود ایک Fat Burning Machine کا روپ دھار لے گا۔ اس حالت کو Ketosis کی اصطلاح سے موسوم کیا جاتا ہے، جس میں Ketone bodies پیدا ہوتی ہیں جو آپ کی چربی کو جلا کر آپ کے جسم کیلئے توانائی پیدا کرتی ہیں۔ آج کی مقبول Keto Diet مختصراً یہی ہے۔
    ۔
    سوال یہ بھی ہے کہ اگر ہم خوراک میں کاربوہائیڈریٹس بشمول روٹی یا چاول استعمال نہیں کررہے تو پھر کھائیں گے کیا ؟ اس کیلئے آپ پروٹین جیسے گوشت، مرغی، مچھلی، انڈے وغیرہ کھاتے ہیں۔ ساتھ ہی مختلف سبزیاں اور چنیدہ فیٹ جیسے پنیر وغیرہ کھائے جاتے ہیں۔ ان میں کیا کھایا جاسکتا ہے اور کیا نہیں؟ اس سب کی تفصیل انٹرنیٹ پر جابجا موجود ہے۔ یاد رکھیں کہ پروٹین کو muscles building block کہا جاتا ہے۔ یعنی وزن کم کرتے ہوئے آپ کے مسلز کو باقی رکھنے کیلئے پروٹین ہی تعمیر سازی کرتے ہیں۔ کیٹو میں یہ کوشش ہوتی ہے کہ صرف اسی وقت آپ کھائیں جب آپ فی الواقع بھوکے ہوں۔ صرف شوقیہ چگتے رہنا یا معمول میں بندھ کر دن میں تین بار لازمی کھانا درست نہیں۔
    ۔
    ہر آنے والی تحقیق کی طرح Keto Diet کے متعلق بھی کئی اختلافات موجود ہیں۔ کچھ کے نزدیک اس کے نقصانات ہیں مگر نوے فیصد سے بھی زیادہ ماہرین اسے ایک بہترین طریق مان رہے ہیں جو بطور لائف اسٹائل اپنایا جاسکتا ہے۔ باقی اسکی اثرانگیزی کے تو سب حامیان و مخالفین قائل ہیں۔ اسے مزید زود اثر بنانے کیلئے intermittent fasting یعنی جزوی روزے اور جسمانی کسرت بشمول weight training اختیار کیئے جاتے ہیں۔

  • عورت پن اور فیمنزم — ابو بکر قدوسی

    عورت پن اور فیمنزم — ابو بکر قدوسی

    انہوں نے اپنا ” عورت پن ” خود ختم کیا اور برابر کے حقوق کا نعرہ لگایا بلکہ فیمنزم کے نام پر اس برابری کے حصول کے لیے تحریک بپا کی ۔

    اس کے بعد یہ خواتین کس برتے پر خود کے لیے الگ سے عزت و احترام کا تقاضا کرتی ہیں ؟

    ان کا یہ مطالبہ بذات خود ان کے ایجنڈے کی نفی ہے ، لیکن کند ذہنی کے سبب سمجھنے سے قاصر ہیں ۔ آٹھ مارچ کو عورت مارچ کے نام پر اکٹھ کر کے اور مطالبوں کے نام پر بےہودگی کا مظاہرہ کرنے کے بعد ” اضافی ” عزت و احترام کا انہیں کوئی حق نہیں ہے ۔

    ” لیڈیز فرسٹ ” اس کے بعد کہنا سیدھی سیدھی ” دھاندلی ” ہے ۔

    اگلا سوال ، کہ کیا اضافی عزت و احترام کا تقاضا کسی کا بنتا بھی ہے یا نہیں تو عرض ہے بلکہ ان کا بنتا ہے کہ جو واقعتاً معزز خواتین ہیں ، مذہب اور معاشرے کی درست تقسیم کو دل و جان سے قبول کرتی ہیں جوابی طور پر انہیں بسا اوقات مردوں سے بھی زیادہ عزت سے نوازا جائے گا ۔۔۔۔کہ ہمارے رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر مرگ پر ان کے بارے میں فرمان تھا کہ ان کا خیال کرنا ۔

    سو !

    سو ہم جب کبھی بازار میں نکلیں گے تو بارش دھوپ میں واحد چھتری ان کے سر پر تانیں گے اور خود دھوپ بارش سہیں گے ، ہم دن بھر جون جولائی کی گرمیوں میں محنت کر کے ان معزز خواتین کے لیے ٹھنڈی چھت ، ائیر کنڈیشنر ، پنکھے ، ائیر کولر فراہم کریں گے کہ یہ معزز خواتین ہیں ، ہم دن میں بازاروں کا غیر معیاری کھانا ، کھا کر انہیں گھر میں بہترین خوراک فراہم کریں گے ، ہم اپنے کپڑے سستے سستے سے بنائیں گے اور انہیں ہزاروں روپے کے برانڈڈ کپڑے اور وہ بھی الماری بھر بھر کر بنوا کر دیں گے ۔۔۔

    ہم ویگنوں سے لٹک کر سفر کر لیں گے اور ان کے دلوں کو خوش کرنے کے لیے لاکھ لاکھ بلکہ کئی کئی ملین روپے کی بالیاں بندے کانوں میں بنوا کر دیں کہ یہ بقول رسول ہاشمی نازک آبگینے ہیں سو ان کا دل بھی تو خوش کرنا ہے ۔۔۔۔ یہ معزز خواتین ہیں ۔

    لیکن !

    جنہوں نے خود اپنا عورت پن ختم کیا وہ کیونکر ایسا اضافی اور خصوصی سلوک مانگتی ہیں ؟

    وہ ویگنوں سے لٹکیں پھر بات کریں ۔۔۔۔۔۔

    خصوصی سلوک و حقوق و حیثیت کی حق دار تو وہ معزز خواتین ہیں کہ جو خاص رہیں ، جو عام ہو گئیں وہ کیونکر طلب گار ہیں ۔۔۔۔۔

  • کامیاب لوگوں کا فوبیا —- جویریہ ساجد

    کامیاب لوگوں کا فوبیا —- جویریہ ساجد

    ہم نے اکثر و بیشتر ایسے لوگ دیکھے ہیں جو کامیاب لوگوں سے خوامخواہ چڑتے ہیں۔ امیر اور دولت مند لوگوں سے خار کھاتے ہیں۔
    اگر کسی دولت مند اور غریب کی لڑائی ہو جائے تو از خود ہمیشہ امیر بندے کو ہی غلط سمجھتے ہیں۔ گاڑی یا بائیک ٹکرا جائے تو صرف گاڑی والے کو ہی برا بھلا سناتے ہیں۔ ریڑھی یا رکشہ والا قیمتی گاڑی میں رکشہ ٹھوک دے ہمیشہ ریڑھی اور رکشے والے کو ہی مظلوم ثابت کرتے ہیں اور گاڑی والے کو مغرور اور بد تمیز گردانتے ہیں۔

    ہم نے از خود فرض کر لیا ہے کہ دولت مند ہی ہمیشہ غلط ہے۔ اور تمام تر سمجھوتے اور درگزر اور خوف خدا بھی صرف اور صرف دولت مند کو ہی کرنے چاہیے اور سب کے سب اصولوں کی پاسداری بھی صرف دولت مند یا کھاتے پیتے لوگ کریں باقی غریبوں کو ہر بات کی ریلیکسیشن ہے۔

    ہم سمجھتے ہیں کیونکہ ہم غریب ہیں اس لیے بد دیانتی جائز ہے جب کہ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ ہم غریب اسی لیے ہیں کہ ہم بد دیانت ہیں۔

    ہم اپنے ورکرز اور ملازمین میں دیکھیں یہ جہاں دل کرئے گا وہاں کام میں آنا کانی کریں گے جب دل کرئے گا خاندان کے ہر دور و نذدیک کی فوتگیوں شادیوں میں جائیں گے ہر زرا سی بات پہ چھٹیاں کریں گے جب دل چاہے گا کام بیچ میں چھوڑ کے بھاگ جائیں گے مگر امیر لوگوں پہ یہ فرض ہے کہ وہ ان کی تمام تر کوتاہیوں کے باوجود ان کو تنخواہ پوری دے کیونکہ یہ غریب آدمی ہے۔

    مجھے حیرت ہوتی ہے کیا غریب آدمی کو خود احساس نہیں ہے کہ وہ غریب ھے اس کو بد نیتی نہیں دیکھانی چاہیے؟ اس کو چھٹیاں نہیں کرنی چاہیں؟ اس کو بہانے نہیں بنانے چاہیے؟ اس کو کام میں ڈنڈیاں نہیں مارنی چاہیں؟
    اس سے اس کا روزگار خطرے میں پڑ جائے گا۔

    یہاں رکشہ سواروں کو دیکھیں سڑکوں پہ رکشہ ایسے چلاتے ہیں جیسے موت کے کنوئیں میں چلا رہے ہوں بعض مرتبہ اچانک سامنے آ کے کسی بھی نئی شاندار گاڑی میں لا کے رکشہ ٹھوک دیں گے خود کپڑے جھاڑ کے ہنستے ہوئے کھڑے ہو جائیں گے دوسرے کی شاندار گاڑی کی ہزاروں روپے کی لائٹس توڑیں ڈینٹ ڈالا نقصان کیا اس کا کوئی ہمدرد نہیں سارا مجمع اکھٹا ہو کہ گاڑی والے کو کہے گا جانے دو غریب آدمی ہے. کیا غریب آدمی کے لیے چھوٹ ہے کہ وہ اندھا دھن رکشہ چلائے یا بائیک چلائے ؟ کیا اس پہ کسی کے نقصان کی کوئی زمہ داری نہیں ھے؟ اور کیوں نہیں ھے؟

    اگر کوئی دوست وقت کے ساتھ ترقی کر گیا کامیاب ھو گیا تو پرانے دوست لازم ہے کہ اس پہ طنز کریں گے۔ وقت بے وقت فون کریں گے۔ فون نا اٹھانے پہ اس کے بخیے ادھیڑیں گے۔ اسے پرانا وقت یاد دلائیں گے۔ اس کو مغرور گردانیں گے۔ صرف اس کیے کہ اب وہ چوک پہ آپ کے ساتھ بیٹھ کے گپیں نہیں لگاتا یا وقت بے وقت فون نہیں اٹھاتا؟

    کبھی آپ نے سوچا ھے کہ وہ مصروف ہو سکتا ھے یا وہ سارا دن کام کے بعد آرام کر رہا ہو سکتا ھے یا اس کا فیملی ٹائم ہو سکتا ھے۔

    اگر آپ نے یہ نہیں سوچا تو اب یہ ضرور سوچیں کہ وہ اسی لیے آپ سے آگے نکلا ہے کیونکہ اس نے وقت کے ساتھ وقت کی قدر کو پہچانا ھے اپنی ترجیحات کا تعین کیا ہے۔ اس نے گپوں میں وقت ضائع کرنے کے بجائے انتھک محنت کی ھے۔

    اکثر لوگوں کو کہتے سنا جب سے فلاں کے پاس گاڑی آئی ہے فلاں بہت مغرور ہو گیا ھے فلاں تو ہمیں اپنی گاڑی میں بیٹھاتا ہی نہیں کبھی آپ نے سوچا ھے کہ کیا آپ نے کسی کہ ذاتی سواری میں اس کے ساتھ سفر کرتے ہوئے اس کی پرائیویسی کا خیال رکھا ہے سفر کے دوران اس کی ٹیلیفون کالز پہ کی گئی ڈیلز یا کوئی بھی ذاتی بات کا پاس رکھا ہے۔

    اکثر لوگوں کو شکوہ ہوتا ہے فلاں اپنے گھر نہیں بلاتا فلاں ہمارے گھر نہیں آتا۔ فلاں فلاں جگہ نہیں جاتا۔

    ٹھیک ہے خوشی غمی میں شامل ہونا اچھی بات ہے مگر کیا آپ نے کبھی کسی کامیاب دولت مند امیر آدمی کے جوتوں میں پاوں ڈالے ہیں کبھی اس کے پاوں کے آبلے دیکھے ہیں کبھی آپ کو احساس ہو گا اس انتھک محنت کا جس کو نا موسموں کی پروا تھی نا اس کے پاس کسی تفریح کی گنجائش۔

    کیا کبھی کسی نے سوچا ھے کہ ایک کامیاب آدمی نے کتنی شادیوں، اور تفریحات کی قربانی دی ہے۔

    کبھی کامیاب لوگوں کی روٹین دیکھی ہے وہ کتنے کتنے گھنٹے کام کرتے ہیں اور ان کی نیند کا ٹائم کتنا ہے۔ ان کی کھانے پینے کی روٹین کیا ہے اور یہ اپنے خاندان
    کو کتنا وقت دے پاتے ہیں اس میں بھی ہم کہتے ہیں ہمارا فون نہیں اٹھایا جبکہ فون پہ کرنی آپ نے صرف ادھر ادھر کی ھے۔

    اگر کسی کی دولت کا احسان کسی دوسرے پہ نہیں ہے تو کسی کی غربت کی ذمہ داری بھی کسی دوسرے کی نہیں ہے۔
    بعض مرتبہ یہ خدا کی تقسیم ہے اور بے شمار مرتبہ ہر انسان کی ذاتی محنت، ہمت، استقامت۔
    اور صحیح وقت پہ ترجیحات کا تعین۔

    آخر میں دل تو چاہتا ھے یہی جملہ لکھوں کہ

    محنت کر حسد نا کر۔

    مگر اس کے ساتھ یہ ضرور کہوں گی کہ کامیاب لوگوں کو سٹڈی کریں ان کے وہ اوصاف ڈھونڈیں جنہوں نے انہیں کامیابی دلائی اور خود میں وہ اوصاف پیدا کرنے کی کوشش کریں۔

  • اپنوں کے لیے گھر کے کام کرنے میں کوئی عار نہیں!!! — ڈاکٹرعدنان نیازی

    اپنوں کے لیے گھر کے کام کرنے میں کوئی عار نہیں!!! — ڈاکٹرعدنان نیازی

    میرے ایک جاننے والے ہیں جن کی بیٹیاں ہماری یونیورسٹی میں پڑھتی ہیں۔ ہمارے گھر کے قریب والی ایک مسجد میں نماز پر پچھلے دو تین دن سے ان سے ملاقات ہوئی تو میں نے پوچھ لیا کہ آپ کا گھر تو مسلم ٹاؤن کی طرف ہے تو یہاں خیریت سے روز آتے ہیں۔ کہنے لگے کہ میری بیگم کا ایک بیماری کی وجہ سے آپریشن کروانا پڑا ہے۔ گھر میں کھانا وغیرہ وہی بناتی تھیں تو اب جب سے وہ بستر پر پڑی ہیں تو یہاں سے شام کو اپنی بہن کو لے کر جاتا ہوں وہ کھانا وغیرہ بنا آتی ہے۔ میں نے کہا کہ آپ کی تو ماشاءاللہ تین بیٹیاں جوان ہیں اور تینوں گھر ہیں تو پھر بھی کھانے پکانے کے بہن کو لیجانے کی ضرورت پڑتی ہے؟

    کہنے لگے کہ ماں نے بیٹیوں کو کھانا پکانا سکھایا ہی نہیں۔ بس پڑھائی میں مصروف رہیں اس لیے کسی کو بھی نہیں آتا۔

    میں نے کہا کہ بھائی اگر پہلے نہیں سیکھا تو اب سکھا دیں تاکہ یہ محتاجی ختم ہو۔

    وہ مجھے ایسے گھورنے لگے جیسے میں نے پتہ نہیں کیا بات کر دی ہو۔

    میرے لیے یہ انتہائی حیرت کی بات تھی۔ لیکن ایسی ہی باتیں اکثر مختلف لوگوں کے رشتے کی بات کہیں چلے تو اکثر سننے کو ملتی ہے کہ بیٹی کو کھانا پکانا تو ہم نے سکھایا ہی نہیں۔ ہماری بیٹی تو نازوں میں پلی ہے۔

    ایسے لوگ جو بیٹیوں کو کھانا بنانا نہیں سکھاتے وہ ان میں سے کونسی بات سوچ کر ایسا کرتے ہیں

    1۔پہلی آپشن یہ ہے کہ اس کا شوہر ہی کھانا پکا کر اسے کھلائے گا۔ اب اس میں یہ صورتیں ممکن ہیں:

    یا تو وہ یہ چاہتے ہیں کہ ان کی بیٹی جاب کر کے کما کر لائے اور ان کا داماد گھر سنبھالے، کھانا وغیرہ پکائے۔ خود بتائیں کہ ہمارے معاشرے میں ایسا کوئی بھی پسند کرتا ہے؟ یہاں تک کہ نہ کوئی بھی شوہر یہ پسند کرے گا اور نہ ہی کوئی بھی بیوی یہ پسند کرتی ہے۔
    اسی میں دوسری صورت یہ بنتی ہے کہ کما کر بھی شوہر لائے اور پھر کھانا وغیرہ بھی وہی بنائے۔
    اگر کوئی بھی یہ سوچتا ہے تو پھر یہ بھی بتا دیں کہ کوئی بھی مرد کسی عورت کو بیاہ کر ہی کیوں لائے گا جبکہ گھر اور باہر خود اس نے ہی سنبھالنے ہیں تو پھر مزید ایک شخص کی ذمہ داریاں وہ کیوں اپنے سر لے؟

    2۔دوسری آپشن یہ ہو سکتی ہے کہ شوہر کمائے اور بیوی کوئی بھی کام نہ کرے یا پھر وہ بھی جاب کرے اور کھانا بنا نا سب نوکروں کے ذمہ ہو۔ بظاہر یہ ممکن لگتا ہے لیکن حقیقت میں دیکھیں تو ایسے گھروں کا حلیہ دیکھنے لائق ہوتا ہے جس میں گھر سنبھالنا نوکروں کے ذمہ ہو۔ نوکرانی شاید ہی کوئی ایسی ملے جو دل سے اچھا کھانا بناتی ہو ۔ پھر صفائی کا بھی کوئی خاص خیال نہیں رکھتی ہیں۔ کوئی بہت ہی امیر کبیر گھرانہ ہو جس نے کئی باورچی رکھے ہوں اور وہ کل وقتی ملازم ہوں تو صرف وہاں یہ چل سکتا ہے لیکن ایسا عام گھرانوں میں ممکن نہیں۔

    3۔تیسری آپشن یہ ہے کہ سارا کھانا باہر ہی کھایا جائے یا پھر باہر سے منگوایا جائے۔ یہ کبھی کبھار تو ممکن ہے لیکن ہر وقت نہیں کیوں کہ ایک تو باہر والے ریٹ ہی اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ ہر وقت منگوانا افورڈ ہی مشکل ہو پائے گا اور پھر اس سے صحت کا جو کباڑہ ہو گا اس کا سب کو معلوم ہے۔

    دنیا میں کہیں بھی چلے جائیں، چاہے عورت گھر رہتی ہو یا کام کرتی ہو، کھانا بنانا اس کی ذمہ داری ہے اور وہی اس کو احسن طریقے سے کر سکتی ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ بہت سے ایسے دوسرے کام ہیں جو ہمارے معاشرے میں صرف مرد ہی کرتا ہے اور عورت کر سکتی ہو تب بھی نہیں کرتی۔ تھوڑا سا بھی غور کریں تو بہت سے ایسے کام مل جائیں گے۔ فرانس میں بھی میں نے دیکھا تھا کہ زیادہ تر گھروں میں کھانا عورت ہی بناتی تھی ۔ اس کے ساتھ یہ بھی کہ وہاں اس پر مزیدکمانے کی بھی پوری ذمہ داری ہوتی ہے۔

    یہاں یہ بھی واضح کر دوں کہ پڑھائی کسی بھی کلاس کی ہو اتنی مشکل نہیں ہوتی کہ اس میں تھوڑا سا وقت بھی گھریلو کاموں کےلیے نکالا نہ جا سکے۔ میٹرک اور ایف ایسی سی کو تھوڑا سا ایسا بنا دیا گیا ہے لیکن اس سے پہلے اور اس کے بعد والی تعلیم میں ایسا کچھ نہیں کہ بیٹیوں کو گھر داری سکھانے کا بھی وقت نہ ہو۔ اس میں سب سے زیادہ نااہلی ماؤں کی ہے۔

    کسی بھی ماں کے لیے کہوں گا کہ اگر آپ کو گھر کے کام کرنے میں عار محسوس نہیں ہوتی تو یہ آپ کی بیٹی کے لیے بھی باعث عار نہیں ہے۔ اگر آپ اپنے شوہر کے لیے اور اپنے بچوں کے لیے کھانا بنا کر خوشی محسوس کرتی ہیں تو یہی خوشی اپنی بیٹی کو بھی محسوس کرنے دیجیے ۔ اگر آپ یہ پسند نہیں کرتیں کہ آپ کا شوہر، آپ کا باپ یا آپ کی ماں، آپ کا بیٹا یا بیٹی گھر آئے اور اسے کہوں کہ خود بنا لیں یا باہر سے کھا لیں تو پھر اپنے بیٹی کے لیے بھی یہ پسند نہ کریں کہ وہ اپنے سے جڑے رشتوں کے لیے ایسا سوچیں۔

    گھر میاں بیوی دونوں مل کر بناتے ہیں۔ اس میں دونوں پر کچھ ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ اسلام نے مرد کو قوام بنا کر کمانے کی اور حفاظت کی ذمہ داری مرد پر ڈالی ہے۔ عورت کو معاشی معاملات اور باہر کے معاملات سے بالکل آزاد کر کے صرف گھر کے اندر کی ذمہ داری عورت پر ڈالی ہے۔ اگر میاں بیوی میں سے کوئی بھی اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرے گا تو گھر کا سکون برباد ہو جائے گا۔

    اپنوں کے لیے گھر کے کام کرنے میں کوئی عار نہیں۔ اگر گھر میں یہ کام کر کے راضی نہیں ہونگی تو یاد رہے کہ کمانے کی ذمہ داری مرد لینا چھوڑ دے گا اور پھر بہت سی عورتوں کو یہی کام گھر سے باہر سارے مردوں کے لیے کرنے پڑیں گے۔ نہیں یقین تو ذرا غیر مسلم ممالک کا ایک چکر لگا کر دیکھ لیجیے۔

  • عورت کا مخمصہ — ڈاکٹر رضوان اسد خان

    عورت کا مخمصہ — ڈاکٹر رضوان اسد خان

    فیمن ازم سے دانستہ یا نادانستگی میں متاثرہ خواتین کو ان احادیث پر شدید اعتراض ہے:

    "عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِذَا دَعَا الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهِ فَأَبَتْ، فَبَاتَ غَضْبَانَ عَلَيْهَا، لَعَنَتْهَا الْمَلائِكَةُ حَتَّى تُصْبِحَ”. رواه البخاري (بدء الخلق/2998) .

    ترجمہ: جب کسی شوہر نے اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلایا اور وہ نہ آئی، پھر اسی طرح غصہ میں اس نے رات گزاری تو صبح تک سارے فرشتہ اس عورت پر لعنت کرتے رہتے ہیں۔

    "وعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :”إِذَا بَاتَتْ الْمَرْأَةُ مُهَاجِرَةً فِرَاشَ زَوْجِهَا لَعَنَتْهَا الْمَلَائِكَةُ حَتَّى تَرْجِعَ”. رواه البخاري.(النكاح/4795)

    ترجمہ: جب کوئی عورت اپنے شوہر کے بستر چھوڑ کر رات گزارتی ہے تو فرشتے اس پر لعنت کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ وہ لوٹ آئے۔

    "وعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا مِنْ رَجُلٍ يَدْعُو امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهَا فَتَأْبَى عَلَيْهِ إِلا كَانَ الَّذِي فِي السَّمَاءِ سَاخِطًا عَلَيْهَا حَتَّى يَرْضَى عَنْهَا”. رواه مسلم. (النكاح/1736)

    ترجمہ: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے، جو شخص اپنی بیوی کو اپنے پاس بستر پر بلائے، وہ انکار کردے تو باری تعالی اس سے ناراض رہتا ہے یہاں تک کہ شوہر اس (بیوی) سے راضی ہوجائے۔

    "وعَنْ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا الرَّجُلُ دَعَا زَوْجَتَهُ لِحَاجَتِهِ فَلْتَأْتِهِ وَإِنْ كَانَتْ عَلَى التَّنُّورِ”. رواه الترمذي”. ( الرضاع/ 1080)

    ترجمہ: رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی مرد اپنی بیوی کو اپنی حاجت کے لیے بلائے تو وہ ضرور اس کے پاس آئے، اگر چہ تنور پر روٹی بنارہی ہو ( تب بھی چلی آئے)

    اوپر سے مغربی فیمنسٹس نے میریٹل ریپ کی جو اصطلاح نکالی ہے، وہ جلتی پر تیل ہے۔ اگر بیوی کی رضامندی نہ ہو اور شوہر تشدد کے بغیر بھی ہمبستری کر لے ( مثلاً کوئی نشہ آور دوا دے کر) تو یہ بھی ریپ ہے اور بہت سے ممالک میں قابل سزا جرم ہے۔۔۔

    اسکے برعکس یہ دیکھیں کہ بیشمار تحقیقات کے مطابق خواتین میں سب سے زیادہ پائی جانے والی "فینٹسیز” میں سے ایک ریپ ہے۔۔۔۔!!! جی ہاں، بہت سی خواتین اپنے ساتھ زبردستی سیکس کے منظر کو تصور میں لا کر خود لذتی کی کیفیت میں مبتلا ہو جاتی ہیں۔ کئی سیکشوؤلوجسٹس کا کہنا ہے کہ عورت کی جنسی تسکین کا اصل محرک اسکا مرد سے تعلق یا محبت نہیں بلکہ اسکا راست تناسب مرد کے اندر اپنی خاطر "ہوس” کی مقدار کے ساتھ ہے۔ جی ہاں، اسے دوبارہ پڑھیں اور اچھی طرح سمجھنے کی کوشش کریں۔ یہ بڑی گہری بات ہے۔

    البتہ یہ حقیقت فیمنسٹس کیلیے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں ہے۔ نیو یارک میں ایک فیمنسٹ، یونیورسٹی پروفیسر، مارٹا مینا، کہتی ہیں کہ مجھے افسوس اور مایوسی کے ساتھ اس بات کا اقرار کرنا پڑ رہا ہے کہ جتنا لٹریچر عورت کی جنسیت کو اسکے جذبات اور محبت سے جوڑتا ہے، اسکے بالکل برعکس عورت کی جنسی تسکین کا (مرد کیلئے) اسکی محبت سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ اسکی زنانہ "نرگسیت” کا ایک مظہر ہے۔ "چاہے جانا” ہی اسکا کلائمیکس ہے۔ "خود سے محبت” کے اپنے جذبے کی مرد کے ذریعے تصدیق اور مرد کے اندر اپنی خاطر جذبات کی آگ کو بھڑکتے دیکھنا ہی اسکی جنسیت کا نکتہ عروج ہے، خواہ اسکے دل میں اس مرد کی خاطر کوئی محبت ہو اور نہ اس سے کوئی تعلق ۔۔۔۔!!!

    ان سب باتوں کا مقصد کسی صورت میں بھی کسی غیر خاتون کے ساتھ جبری جنسی تعلق یا ریپ کو جسٹیفائی کرنا ہرگز ہرگز نہیں ہے۔

    البتہ کوئی شوہر اگر اپنی تسکین کیلئے بیوی کو زبردستی مجبور کرتا ہے، اور کوئی جسمانی نقصان نہیں پہنچاتا تو مذہبی حکم سے قطع نظر، اسے تو اپنی فینٹسی پوری ہونے پر خوش ہونا چاہیے ۔۔۔۔۔ اور اگر اللہ کی رضا کی خاطر وہ موڈ نہ ہونا، سردی میں نہانا، کسی ناراضگی کی وجہ سے شوہر کو سزا دینا، جیسے بہانوں کی قربانی دے دے تو یہ تو گویا سونے پر سہاگہ ہے۔۔۔

    پر برا ہو اس موئے فیمن ازم کا جو نہ عورت کو زندگی کا لطف لینے دیتا ہے اور نہ اسکے شوہر کو۔۔۔۔

    (انتہائی اہم) نوٹ: اس تحریر میں وہ "مظلوم” شوہر مراد ہیں جو اپنی بیویوں کے حقوق کا پورا خیال رکھتے ہیں لیکن انکی کچھ عادات یا دوسرے (مالی/خاندانی) مسائل کی وجہ سے بیویاں ان سے نالاں رہتی ہیں اور قریب نہ پھٹکنے دے کر انتقام کا نشانہ بناتی ہیں اور ظاہر ہے دوسری شادی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ وہ "بیچارہ” اپنی ضرورت وہاں سے پوری کر لے۔۔۔

    رہے وہ شوہر جو حقوق بھی پورے نہیں کرتے اور بات بہ بات ہتک اور تشدد پر اتر آتے ہیں، وہ میری طرف سے جائیں بھاڑ میں۔۔۔

  • چھوٹی چھوٹی باتوں پر خود کشی کا سوچنے والے ایک بار یہ لازمی پڑھیں!!! —- ڈاکٹرعدنان نیازی

    چھوٹی چھوٹی باتوں پر خود کشی کا سوچنے والے ایک بار یہ لازمی پڑھیں!!! —- ڈاکٹرعدنان نیازی

    پچھلے دنوں ہماری ایک کولیگ کی ترقی ہوئی تو انھیں مبارک باد دینے ان کے آفس گیا۔ مبارک باد دیتے ہوئے میں نے کہا کہ آپ بہت خوش قسمت ہیں کہ اتنی کم عمر میں اس عہدے پر پہنچ گئی ہیں۔ کہنے لگیں کہ میں نے بہت سخت وقت دیکھا ہے لیکن کبھی ہمت نہیں ہاری۔یہ اللہ کا خاص کرم ہے کہ مسلسل محنت اور ہمت نہ ہارنے سے ہی سب کچھ ملا ہے۔ میں بی ایس سی میں تھی کہ والدہ کا انتقال ہوگیا۔ والد صاحب نے دوسری شادی کر لی۔ چند ہفتے سب ٹھیک چلا مگر پھر سوتیلی ماں نے اپنا سوتیلا پن دکھانا شروع کیا۔ ہم صرف دو بہن بھائی تھے۔ بھائی مجھ سے بڑا تھا جسے والد صاحب نے پاکستان سے باہر پڑھنے کے لیے بھجوا دیا۔

    سوتیلی ماں گھر کے سارے کام مجھ سے کرواتی تھی، والد صاحب کو یہ کہہ کر مطمئن کر دیتی تھی کہ اسے گھرداری سکھا رہی ہوں، ورنہ اگلے گھر جا کر یہی گلہ آئے گا کہ سوتیلی تھی اس لیے کچھ نہیں سکھایا۔ صبح جلدی اٹھ کر سب کے لیے ناشتہ بناتی تھی،اور گھر کی صفائی کر کے یونیورسٹی جاتی تھی۔ پھر یونیورسٹی سے واپس آتے ہی سب کے لیے کھانا بنانا ، برتن دھونا ، کپڑے دھونا وغیرہ سب کچھ کرتے رات کے دس گیارہ بج جاتے تھے۔ یہ روز کا معمول تھا۔

    ہمارے والد صاحب کا اچھا بزنس تھا مگر سوتیلی ماں کے کہنے پر اب مجھے جیب خرچ بھی بہت کم ملتا تھا ، اتنا کم کے میں نے والد صاحب سے کہنا ہی چھوڑ دیا۔ محلے کےبچوں کو شام کو ٹیوشن پڑھانا شروع کی تاکہ اپنا جیب خرچ بنا سکوں جس سے گھر کے کام مزید رات کو دیر سے ختم ہوتے تھے۔ لیکن اس کا نقصان یہ ہوا کہ یونیورسٹی کی سمسٹر کی فیس کی باری آئی تو سوتیلی ماں نے والد صاحب کو کہہ دیا کہ اب یہ خود اتنا کماتی ہے، اپنی فیس خود دے سکتی ہے۔ جس کے بعد مجھے مزید زیادہ محنت کرنی پڑی تاکہ اپنی فیس بھی خود جمع کر سکوں۔زیادہ پیسوں کے لیے ایک جگہ ہوم ٹیوشن پڑھانا شروع کی تو ان بچوں کے والد نے تنگ کرنا شروع کردیا مجبوراً چھوڑنا پڑی۔

    بہنوں کو بھائی کا بڑا سہارا ہوتا ہے لیکن بھائی اپنی عیاشیوں میں مصروف تھا۔ میں جتنی بھی کوشش کرتی تھی مگر وہ میری بات اول تو سنتا ہی نہیں تھا، کبھی سن بھی لیتا تھا تو ایک ہی بات ہوتی تھی کہ تم عورتوں کی لڑائیاں کبھی ختم نہیں ہونگی۔

    والد صاحب کا سہارا تھا تو وہ سوتیلی ماں نے چھین لیا تھا۔ میری ڈگری ہوتے ہی سوتیلی ماں نے اپنے کسی رشتہ دار کے ساتھ میرے رشتے کے لیے والد صاحب کے کان بھرنے شروع کیے۔ وہ نشئی سا تھا، واجبی سی تعلیم، محلے میں ہی کوئی دکان چلاتا تھا۔ عمر میں بھی مجھ سے کافی بڑا تھا۔ میں نے انکار کیا تو سوتیلی ماں نے کہنا شروع کیاکہ یونیورسٹی میں ہی اس کا کسی سے چکر ہوگا اس لیے نہیں مان رہی۔ اب تو میرے دل میں آتا تھا کہ اچھا تھا کہ کوئی ہوتا جس سے شادی کر کے اس جہنم سے نکل سکتی۔ بڑی مشکل سے ایم فل کی اجازت ملی۔ اپنے اخراجات تو میں پہلے ہی خود پورے کر رہی تھی لیکن ایم فل کی فیس زیادہ تھی۔ اس لیے والد صاحب سے بہرحال کچھ نہ کچھ سپورٹ ضروری تھی۔ ان کی اچھی مالی حیثیت کی وجہ سے مجھے کوئی سکالرشپ بھی نہیں مل سکتا ہے۔ مشکل سے ایم فل میں داخلے کی اجازت مل ہی گئی۔ ایم فل کے پورا ہونے کے قریب ایک کلاس فیلو نے پروپوز کیا، میں کسی سہارے کی تلاش میں تھی اس لیے اسے فوراً کہا کہ رشتہ بھیجو۔ اس رشتہ کے آنے پر سوتیلی ماں نے طوفان کھڑا کر دیا۔ وہ وہ الزام لگائے کہ خدا کی پناہ۔ لیکن میں ڈٹی رہی۔ کلاس میں وہ لڑکا کافی اچھا تھا ۔ شکل و صورت اور اخلاق بھی مناسب تھا۔ والد صاحب نے لڑکے کا گھر بار نہ دیکھا بس ایسے ہی ناراض ہو کر ہاں کر دی اور کہہ دیا کہ شادی کر کے جاؤ اور واپس کبھی اس گھر میں نہ آنا۔

    شادی بغیر کسی جہیز کے سادگی سے ہوئی۔ جہیز نہ لانے کی وجہ سے لڑکے کی ماں اور بہنوں نے چند دنوں میں ہی طعنے دینے شروع کر دیے۔ میں ایک جہنم سے نکل سے کردوسرے میں آگئی تھی۔ شادی سے قبل اس نے کوئی وعدے تو نہیں کیے تھے مگر مجھے اتنا تھا کہ وہ مجھے پیار اور عزت دے گا۔ وہ بھی نہ ملے۔ کچھ دنوں بعد بات طعنوں سے جسمانی ازیت تک پہنچ گئی۔ میں نے جاب کی بات کی تو فوراً سے مان گئے۔ اچھی جاب مل جانے سے گھر میں کچھ دن سب اچھا رہا لیکن کچھ مہینوں بعد پھر سے وہی حالات۔ شاید انھیں اس بات نے شیر بنا دیا تھا کہ اس کا آگے پیچھے تو کوئی ہے نہیں ۔ باپ سوتیلی ماں کا ہو چکا تھا اور گھر آنے سے منع کر چکا تھا۔ بھائی نے باہر ہی کسی میم سے شادی کر لی تھی اور اسے بہن کا کچھ یاد ہی نہیں تھا۔ جن لڑکیوں کا میکہ نہ ہو وہ کٹی پتنگ کی مانند ہوتی ہیں۔ مجھے تنخواہ ملتے ہی شوہر ساری لے لیتا تھا۔ گھر میں ساس کی مرضی چلتی تھی۔

    مجھے جاب سے واپس کر گھر کے سارے کام بھی کرنے ہوتے تھے۔ اس کے باوجود بھی طعنے اور مارکٹائی ہاتھ آتی تھی۔ ہر ماہ اتنا کما کے دیتی تھی پھر بھی جہیز نہ لانے والے طعنے ختم نہیں ہوتے تھے۔ باپ اور بھائی سے تحفظ نہ ملنے کے بعد مجھے شوہر سے یہ توقع تھی مگر اب وہ بھی ختم ہو چکی تھی۔ شوہر سے کئی بار بات کی، اسے سب بتایا مگر اسے صرف یہ تھا کہ میرا میکہ تو ہے نہیں تو کہاں جاؤں گی۔ جب سب کچھ برداشت سے باہر ہو گیا تو میں نے خلع کے لیے کیس دائر کر دیا۔ جب تک خلع کا کیس چلتا رہا، شوہر کے گھر ہی رہی، اسے کہتی رہی کہ آپ ابھی حالات کو بہتر کر لو تو میں خلع کا کیس واپس لے لوں مگر اسے تھا کہ میں خلع نہیں لونگی بلکہ صرف اسے بلیک میل کرنے کے لیے یہ سب کر رہی ہوں۔ مجبوراً خلع لے لی۔

    خلع لے کر والد صاحب کے پاس پہنچی تو سوتیلی ماں نے گھر میں ہی داخل نہ ہونے دیا۔ والد صاحب کو کال کرتی رہی مگر وہ اٹینڈ نہیں کر رہے تھے۔ وہیں دروازے پر ان کا انتظار کیا مگر جب وہ آئے تو میری بات سنے بغیر ہی اندر چلے گئے اور دروازہ بند کر لیا۔ بھائی سے بھی بات کی انھیں سب بتایا مگر انکا کہنا تھا کہ اپنے مسئلے خود حل کرو۔

    وہاں سے ایک گرلز ہاسٹل میں آگئی ۔ جاب کی وجہ سے پیسے کا مسئلہ نہیں تھا اس لیے ایک دو سال میں ہاسٹل میں ہی رہی۔ مرد ذات سے نفرت سی ہو گئی تھی۔

    میرے ایک کولیگ کو کسی طرح میرے حالات کا پتہ چلا جس کی پہلی بیوی فوت ہو گئی تھی، اس کے دو چھوٹے چھوٹے بچے تھے۔ اس نے ایک بزرگ کی مدد سے مجھ سے رشتے کی بات کی۔ اس کی کافی کوشش کے بعد میں نکاح پر راضی ہو گئی۔ اب مجھے قدرت نے وہیں لا کھڑا کیا تھا جہاں کچھ عرصہ قبل میں اور میری سوتیلی ماں تھی۔ دونوں بچے سہمے ہوئے تھے۔ لڑکا بڑا تھا اور لڑکی چھوٹی۔

    میں نے انھیں حقیقی ماں جیسا پیار دینے کا سوچا۔میرے جو بچے کبھی کبھی آپ کے بچوں کے ساتھ یونیورسٹی کے گراؤنڈ میں کھیلتے ہیں وہ میرے شوہر کی پہلی بیوی سے ہیں۔ بچوں کو ایسا پیار دیا ہے کہ شاید ہی کسی کو معلوم ہو کہ میرے سگے بچے ہیں یا سوتیلے۔ میرا شوہر نہیں چاہتا کہ ابھی میری اولاد ہو، شاید اسے خوف ہے کہ میری اپنی اولاد ہو گئی تو میں ان بچوں کو پہلے جیسا پیار نہیں دونگی ۔ اس لیے میں نے اس پر کبھی زور نہیں دیا۔ والد صاحب بوڑھے ہونے کے بعد کاروبار کے قابل نہیں رہے، بھائی ملک سے باہر ہے۔

    میرے اس شوہر کی تنخواہ اچھی ہے اس لیے اس نے میری تنخواہ کے بارے کبھی نہیں پوچھا۔ اپنی تنخواہ میں سے ایک بڑا حصہ اپنے باپ اور سوتیلی ماں کے اخراجات کے لیے بھجوا دیتی ہوں۔ باپ پیسے تو لے لیتا ہے مگر ابھی بھی ناراض ہے، بات نہیں کرتا مجھ سے نہ ملتا ہے ورنہ اس کی مزید خدمت بھی کرتی۔

    شوہر سے پیار ملا ہے۔ ان دو بچوں کی صورت اللہ نے اولاد بھی دے دی ہے۔ اب یہ ترقی بھی مل گئی ہے، اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے۔ حالات کبھی ایک جیسے نہیں رہتے۔ اتنے مشکل حالات کے باوجود میں نے کبھی بھی خودکشی کا نہیں سوچا۔ میں نے کبھی نہیں سوچا کہ میرے ساتھ جو بھی ظلم ہوئے ان کا بدلہ میں کسی سے بھی لوں۔ آج اللہ کا شکر ہے کہ میری زندگی میں سکون ہے۔

    میں نے نم آنکھوں کے ساتھ رخصت ہونے سے پہلے ان سے اجازت چاہی کہ ان کی سٹوری اپنی وال پر لکھ لوں۔ انھوں نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اجازت دیتے ہوئے کہا کہ ضرور لکھیں تاکہ نوجوان نسل کو معلوم ہو سکے کہ کسی بھی کامیاب شخص کو اس سیٹ تک پہنچنے میں کتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ شاید اس سے کسی کو اپنی پریشانیاں چھوٹی لگنے لگیں۔ اس لیے اس میں شناخت چھپانے کے لیے تھوڑا سی تبدیلیاں کی ہیں لیکن مرکزی مضمون وہی رہنے دیا ہے۔ انھیں دکھانے کے بعد ان کی اجازت سے ہی یہ سٹوری پوسٹ کی جار ہی ہے۔