Baaghi TV

Category: خواتین

  • "سیل اور بچت” — شہنیلہ بیلگم والا

    "سیل اور بچت” — شہنیلہ بیلگم والا

    ارسلان کو ایس ایم ایس آیا کہ مشہور جینز کے برانڈ پر سیل ہے. دبئی کے رہائشی جانتے ہیں کہ نومبر کے اواخر سے جو سیلز شروع ہوتی ہے وہ سال کے اختتام تک جاری رہتی ہیں. یہ آفرز اتنی دل کھینچ ہوتی ہیں کہ اس سے دامن کیا آنچل بلکہ جیب بچانا بھی انتہائی مشکل ہے.

    امریکن ایگل پہ buy one get one free کی آفر تھی. وہ بھی پورے اسٹور پہ. یہ نہیں کہ ایک کونے می نہ بکنے والا سامان رکھ دیا گیا ہو. وہ الگ چھپا کر رکھا ہے جو مال اچھا ہے کی تفسیر نہیں تھی.

    دوسرے دن ارسلان آفس سے واپسی پہ سیدھا مردف سٹی سینٹر گیا. اپنی پسندیدہ دو جینز ایک کی قیمت میں خریدیں اور گھر واپس آگیا.

    ثمرین کو بھی ایسے بہت سے میسیجز مسلسل آرہے تھے. چونکہ جاب کرتی تھی اس لیے صبح تو جا نہیں سکتی تھی. اس لیے ثمرین نے پروگرام بنایا کہ ہفتے کی صبح دس بجے ہی نکل جائے گی. صبح صبح رش بھی نہیں ہوگا اور پارکنگ بھی آسانی سے مل جائے گی. ویسے ثمرین کی پارکنگ کی صلاحیتیں کچھ اچھی نہیں تھیں. بقول ثمرین کے شوہر اس کو ایک گاڑی پارک کرنے کے لیے دو گاڑیوں کی جگہ چاہیے ہوتی ہے. اور بقول ثمرین کہ میں حلوہ پارکنگ یعنی جہاں دور دور تک کوئی گاڑی نہ ہو، بہترین پارکنگ کر سکتی ہوں.

    چیزیں بٹورنے کی خوشی میں ثمرین صبح وقت پہ ہی گھر سے نکل گئی. حلوہ پارکنگ تو نہیں ملی لیکن ایسا اسپاٹ مل گیا جہاں تین بار ریورس کر کے گاڑی پارک کر ہی لی. گاڑی سے اتر کر سیدھی مول اینٹرینس کی طرف لپکی لیکن پھر یاد آیا کہ موبائل تو گاڑی میں ہی بھول آئی ہوں. گاڑی سے موبائل نکال کر جلدی سے پارکنگ اسپاٹ کی تصویر لے لی ورنہ پھر واپسی پر گاڑی ڈھونڈنے کی خواری ہوتی. یہ مول والے بھی ایک جیسے پارکنگ اسپاٹ پتا نہیں کیوں بنا دیتے ہیں.

    اس کا ارادہ سیدھا امریکن ایگل جا کر جینز اٹھانے کا تھا لیکن برا ہوا bath and body works کا. کیا کِلر آفر تھی. Buy three get four free. ثمرین نے سارے سال کے hand soaps, shower gels, scented candles, fragrances خرید لیے. بل تین سو درہم آیا لیکن سات سو کے آئیٹمز تین سو مل جانا ایک بہترین بچت ہے.

    اس شاپنگ کے بعد ثمرین سیدھا جینز اسٹور جانا ہی چاہتی تھی کہ H&M پہ نظر پڑی. Flat 40% off on entire store.
    ہائے وہ بیگ جس کو پچھلی بار دیکھ کر آہ پھر کر گئی تھی وہ اب اٹھتر درہم کا تھا. اس بیگ کو چھوڑنا کفران نعمت ہوتا. ساتھ ساتھ اسے بچوں کے لیے جیکٹس بھی مل گئے. اس شاپنگ کے بعد اس نے خود کو ڈانٹا کہ اب پیسے ختم ہو رہے ہیں سیدھا امریکن ایگل کا رخ کرنا چاہیے.

    وہ امریکن ایگل کی طرف بڑھی ہی تھی کہ Home box میں برتنوں کا سیٹ انہتر درہم کا تھا. یا اللہ کلر کس قدر پیارا ہے. اور ساتھ میں برنیوں کا سیٹ صرف پچیس درہم میں. بچوں کے بسکٹ اور دوسری چیزیں ان برنیوں میں کتنی پیاری لگیں گی. صرف دو ہی سیٹ بچے ہیں. اس سے پہلے کہ کوئی اچک لے ثمرین نے جلدی سے دونوں چیزیں اپنی ٹرالی میں رکھ لیں. پیمنٹ کاؤنٹر کے پاس ہی کافی کے مگز اور چمچ اور کانٹوں کے پیکٹس بھی پڑے تھے. وہ بھی ساتھ رکھ لیے.

    دکان سے باہر نکل کر خود کو کوسا کہ اب صرف دو سو درہم خرچ کرنے کی گنجائش ہے. شرافت سے امریکن ایگل چلی جاؤں. جلدی جلدی اسی طرف چلنے لگی تو Carrefour میں تمام میک اپ پراڈکٹس پہ پچاس فیصد آف تھا. اس کے قدموں نے آگے بڑھنے سے انکار کردیا.

    سارے پیسے ختم ہو چکے تھے. امریکن ایگل میں جانے کی گنجائش بالکل نہیں تھی. اتنی شاپنگ کے بعد وہ تھک بھی گئی تھی. گھر جا کر پکانے کی ہمت بالکل نہیں تھی. اس نے کے ایف سی سے ایک فل فیملی میل خریدا اور سرشار سی گاڑی میں بیٹھ کر سوچنے لگی کہ ڈھائی ہزار کا سامان ہزار درہم میں لائی ہے. امریکن ایگل سے جینز اگلے ہفتے خرید لوں گی.

    ارسلان انتہائی مضبوط قوت ارادی کا مالک تھا. مول میں سے صرف وہی خریدا جس کی ضرورت تھی. لیکن برا ہو ایپل اسٹور کا. اتنی شاندار آفر تھی. کیسے مس کرتا. اس نے مول میں پیسے بالکل خرچ نہیں کئے. بس نیا فون لے لیا. پرانا فون بیگم کو کام آجائے گا. یہ کوئی فضول خرچی تو نہیں.

  • دوسری شادی میں حائل مسائل اور ان کا حل — پروفیسر ایچ ایم زبیر

    دوسری شادی میں حائل مسائل اور ان کا حل — پروفیسر ایچ ایم زبیر

    کل "بچے کی غلطی” سے "گاٹ میرییڈ” کا اسٹیٹس اپ لوڈ ہو گیا کہ جس سے دوسری شادی کے بارے ایک بار پھر بحث چھڑ گئی۔ ہمارے ہاں مذہبی طبقہ دوسری شادی کے لیے موٹیویٹ ضرور کرتا ہے لیکن اس کے مسائل اور ان کے حل پر گفتگو بہت کم ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مذہبی طبقے میں ایک بڑے پیمانے پر دوسری شادی کی محض خواہش ہے، عمل نہیں ہے۔ عمل اسی وقت ممکن ہو سکے گا جبکہ اس کے مسائل کو متعین کر کے ان کے حل پر بحث ہو گی ورنہ تو لوگوں کو معلوم ہے کہ دین کا حکم کیا ہے، سنت کیا ہے، لیکن دین اس کے حکم یا سنت پر عمل کرنے سے علماء بھی ہچکچاہٹ کا شکار ہیں، یہ وہ گیپ ہے کہ جسے فِل کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک دوسرے کو لطیفے سنا کر یا جگتیں مار کر خوش ہو جاتے ہیں اور اپنی فرسڑیشن نکال لیتے ہیں۔ آپ لوگ بھی دوسری شادی کے مسائل اور ان کے حل کے حوالے سے کمنٹس میں اپنے خیالات کا اظہار کریں کہ اس کے مسائل دینی سے زیادہ سماجی ہیں۔

    ایک صحت مند مرد کے لیے ایک بیوی ناکافی ہے، یہ بات بہت حد تک درست ہے۔ ایک بیوی کافی ہو سکتی ہے، یہ بات بھی درست ہے، لیکن وہ خود نہیں ہوتی یا ہونا چاہتی، اپنی حرکتوں اور رویوں کے سبب، کیونکہ اس نے اپنے خاوند کو ناں کرنی ہی ہوتی ہے، کبھی اسے دبانے اور نیچے رکھنے کے لیے، اور کبھی کسی بات کا غصہ اتارنے اور بدلہ لینے کے لیے، اور کبھی اسے خود بھی معلوم نہیں ہوتا کہ کیوں ایسا کر رہی ہے، اور کبھی فطرت کا تقاضا ہوتا ہے کہ وہ ناں کرتی ہے جیسا کہ حالت حیض میں ہے، یا حمل ٹھہرا ہوا ہے، یا ساس نند کے کہے سنے کا غم منا رہی ہے، کبھی جوائنٹ فیملی سسٹم ہے، کبھی بچے چھوٹے ہیں تو ان کے جاگ جانے کا اندیشہ ہے، کبھی بچے بڑے ہیں تو ان کے ٹپکنے کا خطرہ ہے، لہذا موقع ہی نہیں مل رہا، اور موقع مل جائے تو بیوی کا موڈ نہیں بن رہا، لہذا پاکستانی بیوی تو مرد کو سال میں دو تین مرتبہ ہی بمشکل ملتی ہو گی، باقی تو وہ زیادہ تر کپڑوں سمیٹ ہی ضرورت پوری کرنے پر گزارا کر لیتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ ایسے میں اس کا گزارا ہو جاتا ہے، مرد کا نہیں ہوتا۔ تو یہ مردوں کا چسکا نہیں ہے جیسا کہ بیویوں کا خیال ہوتا ہے بلکہ یہ ان کی ضرورت ہے۔

    پہلا مسئلہ جو عام طور لوگ بیان کرتے ہیں اور لوگوں کا خیال ہے کہ یہی سب سے بڑا مسئلہ ہے، وہ بیوی اور اس کے خاندان کی طرف سے سوشل پریشر ہے جبکہ بیوی کا خاندانی اسٹیٹس اچھا ہو۔ آپ کی پہلی بیوی مذہبی خاندان سے بھی ہو گی تو بھی آپ پر بہت زیادہ سوشل پریشر ہو گا کہ آپ دوسری شادی نہ کریں۔ اور یہ سوشل پریشر محض پریشر نہیں ہوتا بلکہ بعض اوقات آپ کو محسوس ہو رہا ہوتا ہے کہ اگر آپ نے دوسری شادی کر لی تو آپ کی زندگی اجیرن ہو جائے گی لہذا آپ ڈر جاتے ہیں کہ ایک مشکل یعنی سیکسچوئل فرسٹریشن سے نکل کر دوسری بڑی مشکل گھر کی تباہی کو گلے لگانا کون سی عقلمندی ہے؟

    میں تو اس مسئلے کا حل یہی بیان کرتا ہوں کہ مستقل طور نہیں البتہ کچھ عرصے کے لیے جیسا کہ دو چار سال کے لیے دوسری شادی کو چھپا لیں کہ ایک دو بچے پیدا ہو جائیں تو ظاہر کر دیں کہ اس کے بعد عورت میں قبولیت کسی قدر آ ہی جاتی ہے۔ لیکن اب اس حل سے ایک دوسرا مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے کہ جب آپ شادی کو کچھ عرصہ چھپائیں گے تو لازما دوسری بیوی کے حقوق میں کوتاہی کریں گے تو آخرت خراب ہو گی۔ ایسے میں اگر آپ ایسی بیوی چاہتے ہیں جو اپنے کم حق پر راضی ہو جائے اور آپ کو اپنا حق معاف کر دے تو وہ ملے گی نہیں۔ خیر مل تو جائے گی لیکن آپ کے سوشل اسٹیٹس کی نہیں ملے گی اور شادی ناکام ہو جائے گی۔ میں نے ایسی دوسری شادیاں دیکھی ہیں کہ جن میں مردوں نے اپنے سوشل اسٹیٹس سے کافی نیچے کمپرومائز کر کے شادی کر لی لیکن ذہنی سطح ایک نہ ہونے کی وجہ سے شادی چل نہ سکی۔ اس مسئلے کا حل یہ ہو سکتا ہے کہ کوئی مطلقہ یا خلع یافتہ خاتون دیکھیں، شاید وہاں آپ کو زیادہ کمپرومائز نہ کرنا پڑے اور اپنے سوشل اسٹیٹس کی مل جائے۔

    تیسرا اہم مسئلہ جو میرے نزدیک سب سے اہم ہے، گھر ہے۔ دوسری شادی کرنے سے پہلے آپ کے پاس دو گھر ہونے چاہییں، یہ ضروری ہے۔ دینی نہیں، سماجی ضرورت کی بات کر رہا ہوں۔ آپ معاشی طور مضبوط ہیں تو دوسری شادی کی صورت میں آپ کی پہلی بیوی کہیں نہیں جائے گی لیکن اگر آپ معاشی طور کمزور ہیں تو پہلی بیوی آپ کے پاس نہیں ٹکے گی لہذا دوسری شادی کا فائدہ نہیں ہو گا کہ رہے گی تو آپ کے پاس ایک ہی۔ اور یہاں اس تنخواہ میں ایک گھر بنانے میں زندگی لگ جاتی ہے چہ جائیکہ کہ انسان دو گھر بنا پائے۔ آپ کو پہلا بلکہ دوسرا رشتہ بھی اسی صورت بہتر ملے گا جبکہ آپ کے پاس اپنا گھر ہو گا۔

    اور فی الحال کی صورت حال یہ ہے کہ مڈل کلاس میں میاں بیوی دونوں کماتے ہیں، ایک گھر کا کرایہ دیتا ہے جیسا کہ بیوی ہے اور دوسرا گھر کا خرچ اٹھاتا ہے جیسا کہ شوہر ہے۔ اب جبکہ آپ کرائے کے مکان میں ہوں یا مکان کا کرایہ بھی آپ کا لائف پارٹنر دے رہا ہو اور اس طرح آپ زندگی کی گاڑی کھینچ رہے ہوں تو کس طرح دوسری شادی افورڈ کر سکتے ہیں؟ اس کا حل بعض لوگوں نے یہ نکالا کہ دوسری شادی بھی ایسی ہی خاتون سے کر لی جو ملازمت پیشہ تھی اور وہاں بھی یہی ماڈل چلا لیا کہ کچھ خرچ عورت نے اٹھایا اور کچھ مرد نے۔ لیکن اس سے ایک مسئلہ تو حل ہوا البتہ دوسرا بڑھ گیا۔ اور وہ یہ کہ بیوی جب گھر کا خرچ اٹھاتی ہے تو دباتی بھی ہے تو بیوی کا یہ دباؤ اب دو گنا ہو گیا۔ تو اگر آپ اتنا ذہنی دباؤ لے سکتے ہیں تو کر لیں۔ اس کا حل یہ ہے کہ شادیاں دو نہیں، تین یا چار کریں۔ دو تو مرد کو فٹ بال بنائیں گی الا یہ کہ کسی میں خوف خدا غالب ہو۔

    اصل میں دوسری شادی نہ تو غریب طبقہ کر سکتا ہے کیونکہ ان کے مسائل تو کھانے پینے سے ہی نہیں نکلے۔ مڈل کلاس کے مسائل وہی ہیں جو اوپر بیان کیے ہیں کہ گھر نہیں ہے، یا ملازمت اور بزنس اسٹیبل نہیں ہے اور میاں بیوی مل کر گھر کا خرچ پورا کر رہے ہیں۔ البتہ ایلیٹ کلاس کے لوگ کر سکتے ہیں کہ جن کے ڈی ایچ اے، گلبرگ، بحریہ ٹاون اور ماڈل ٹاون وغیرہ میں دو دو کنال کی کوٹھیاں ہیں لیکن دین اور ایمان عموما ان کا مسئلہ ہے ہی نہیں لہذا انہیں ضرورت ہی نہیں۔ مطلب، وہ دوسری شادی کے بغیر دسیوں عورتوں سے اپنی خواہش پوری کر سکتے ہیں لہذا انہیں دوسری شادی بے وقوفی معلوم ہوتی ہے۔ پہلی بھی انہوں نے دنیا کو دکھانے کے لیے کر رکھی ہوتی ہے۔ ان میں اگر کوئی دیندار ہے تو اسے آسائش اور تن آسانی کی زندگی نے بزدل بنا رکھا ہے کہ جسے وہ حکمت اور فراست سمجھے بیٹھا ہے۔ اس کے علاوہ بھی مسائل ہیں لیکن تحریر لمبی ہو جائے گی۔

    میں تو اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ دوسری شادی مسئلے کا حل نہیں ہے، اوور آل بات کر رہا ہوں، مسئلے کا حل تیسری اور چوتھی شادی ہے۔ جس نے تیسری اور چوتھی کرنی ہے، وہ ہمت کرے۔ دوسری والا پریشان ہی رہے گا۔ واللہ اعلم بالصواب

  • حق سے محروم بہنیں — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    حق سے محروم بہنیں — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    میرے ایک دوست نے اپنے سکول میں کچھ اساتذہ کو بھرتی کرنا تھا تو انٹرویوز والے دن مجھے بھی بلا لیا۔ صرف دو اساتذہ کو رکھنا تھا لیکن بہت سے لوگ انٹرویو دینے آئے ہوئے تھے۔ ایک ایک کر کےہم انھیں بلا رہے تھے۔ ساتویں آٹھویں نمبر پر ایک لڑکی حدیقہ انٹرویو دینے آئی تو ایسی علیک سلیک ہوئی جس سے مجھے لگا کہ یہ ایک دوسرے کو اچھے سے جانتے ہیں اس لیے اس انٹرویو میں میں خاموش رہا۔بعد میں معلوم ہوا کہ وہ ایک دوسرے کے کلاس فیلو رہ چکے تھے۔

    رسمی سلام دعا کے بعد دوست نے کہا کہ آپ کو اس جاب کی کیا ضرورت پڑ گئی۔ اس تنخواہ میں تو آپ کا ایک سوٹ بھی نہیں آئے گا۔
    حدیقہ نے کہا کہ اب وہ یونیورسٹی والا دور نہیں رہا جب میں بڑی سی گاڑی میں آتی تھی۔ اب میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔
    میرے دوست نے حالات کا مزید پوچھا کہ آپ کے والد کی تو بہت زیادہ زمینیں تھیں، بنگلے کوٹھیاں اور گاڑیاں۔۔۔ ان سب کا کیا ہوا کہ آپ کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔

    کہنے لگی، تب میرے والد صاحب زندہ تھے، وہ میرے سارے نخرے اٹھاتے تھے اور میرا خیال بھی رکھتے تھے۔ میری ہر خواہش بھی پوری کرتے تھے۔ ایم فل کے آخری سال میں تھی تو والد صاحب ایک حادثے میں وفات پا گئے۔ والد صاحب کے بعد ساری دولت اور جائیداد دونوں بڑے بھائیوں کے پاس آگئی۔ مجھے بڑی مشکل سے آخری سمسٹر کے امتحانات دینے کی اجازت ملی۔

    پھر میری تعلیم مکمل ہونے کے بعد مجھے اپنے گھر میں تقریباً قید رکھا گیا۔ وہاں ہر سہولت میسر تھی لیکن نہ باہر نکل سکتی تھی نہ کسی سے بات چیت کی اجازت تھی۔ والدہ صاحبہ کو میری حالت پر ترس آتا تھا لیکن انھیں بھی یہ تھا کہ جائیداد صرف بیٹوں کو ہی ملنی چاہیے۔ کئی بار میرے بھائیوں نے مجھے والد صاحب کی وراثت سے محروم کرنے کے لیے کاغذات پر دستخط کروانے کی کوشش کی لیکن میں نے ہر بار انکار کیا۔ اس پر مجھے تشدد کا بھی نشانہ بنایا گیا۔ اسی طرح کئی سال گزرے۔ میری عمر ڈھلنے لگی، والدہ صاحبہ بھی وفات پا گئیں تو میری ہمت بھی جواب دے گئی۔ مجھے اس گھر سے اب وحشت ہونے لگی تھی۔

    بالآخر میں نے ہار مان لی اور ساری وراثت سے دستربردار ہوگئی۔ کچھ عرصے بعد ایک غریب رشتہ دار کےساتھ میری شادی کر کے مجھے اپنی آبائی حویلی سے بھی نکال دیا گیا۔ غریب شخص کا انتخاب اس لیے کیا گیا تاکہ میرے پاس کبھی اتنے پیسے نہ ہوں کہ میں ان کے خلاف کوئی مقدمہ لڑ سکوں۔ لیکن میں نے اپنا مقدمہ اب یہاں کسی عدالت میں نہیں لڑنا ، نہ ہی مجھے میری زندگی میں انصاف مل سکتا ہے۔ ہاں ایک عدالت آخرت میں ہونی ہے، اس میں اللہ میاں سے یہ ضرور کہوں گی کہ جیسے ان دونوں نے مجھے میرے حق سے محروم رکھا ہے، انھیں بھی اپنی رحمت سے محروم رکھ۔

    حدیقہ خاموش ہوئی تو کافی دیر تک خاموشی چھائی رہی۔ شاید کسی میں کچھ کہنے سننے کی بھی ہمت نہیں رہی تھی۔ سب بس بمشکل آنسو ضبط کیے بیٹھے تھے۔

    چند لمحے بعد میرے دوست نے کہا کہ آپ کا ایک بھائی تو خاصا مذہبی تھا۔اور چھوٹا لبرل تھا جس سے اکثر یونیورسٹی میں اس موضوع پر بحث بھی ہوجاتی تھی۔

    حدیقہ نے میرے دوست کی بات پوری ہونے سے بھی پہلے کہا، جی میں نے بڑے بھائی کو اسلامی حوالے بھی دیے اور کہا تھا کہ آپ کے حج اور عمرے کا آپ کو کیا فائدہ جب آپ میرا حق دبا کے بیٹھے ہیں۔

    چھوٹے لبرل بھائی سے بھی کہا کہ آپ خواتین کے حقوق کے علمبردار ہیں لیکن اپنی بہن کو اس کا جائز حق دینے کے حق میں بھی نہیں۔ آپ کے لبرلزم میں تو میرا تیسرا حصہ بنتا ہے جبکہ آپ مجھے پانچواں حصہ بھی دینے کو تیار نہیں۔

    لیکن اس جائیداد والے معاملے میں مذہبی ہوں یا لبرل، سارے مرد ایک جیسے ہیں۔ خواتین کو جائیداد میں حصہ دیتے سب کو موت پڑتی ہے۔

    پتہ نہیں کتنی حدیقائیں اپنے ہی بھائیوں کی لالچ کی وجہ سے اپنے حق سے محروم ہوتی رہیں گی۔ کیا کوئی بھی شخص مال و دولت کو اپنے ساتھ قبر میں لے کر گیا ہے؟ پتہ نہیں لوگ یہ کیسے کر لیتے ہیں کہ جان چھڑکنے والی بہنوں کو بھی ان کے جائز حصے سے محروم کر کے خوش رہتے ہیں۔ایسے لوگ خود کو عذابِ قبر اور جہنم سے کیسے بچا پائیں گے؟

  • کیا آپ کے شوہر کو باہر کی عورت کی لت لگ گئی ہے؟ — ڈاکٹر ثناءاللہ فاروقی

    کیا آپ کے شوہر کو باہر کی عورت کی لت لگ گئی ہے؟ — ڈاکٹر ثناءاللہ فاروقی

    شوہر کو راہ راست پر لانے کی کنجی عورت کے ہاتھ میں ہے اپنے شوہر کو اپنا بنانے کے لئے عورت کو شوہر سے محبت کا انداز اور طریقہ سیکھنا چاہئے.

    شوہر کتنا بھی غصہ والا اور بڑا بدمعاش بےوقوف آوارہ ہو لیکن اس کو راہ راست پر لانے کی کنجی عورت کے ہاتھ میں ہے.

    بہت سی ایسی مثالیں موجود ہیں کہ عورت نے اپنے شوہروں کی اصلاح کی ہے آوارہ گرد شوہر کو بھی صحیح راہ پر لانے والی اور صبر کرنے والی عورتوں کی کوئی کمی نہیں شوہر کے دل کو اپنے مٹھی میں رکھنے کے لیے اس کی ہر خواہش کی تابع بن جائے اس کی غلطیوں اور کج روی دور کرنے کے لئے اچھی مثالیں دے کر سمجھائے اس کو دینی ماحول میں بھیجے .

    گھر میں قرآن و حدیث کی تعلیم کرے اور دین کی باتیں شوہر کو سمجھائے اللّه سے اس کے لیے ھدایت کی دعا کرے .

    شوہر کو جس کام سے خوشی ہوتی ہے ایسے کام کریں دل کی گہرائیوں اور پر خلوص طریقے پر اس کی خدمت کریں تو شوہر ایک نہ ایک دن ضرور اس کا تابع ہو جائے گاان شاءاللّٰہ.

    جو عورت اپنے شوہر سے سچی محبت کرتی ہے ایسے شوہر کی مجال نہیں کہ وہ اپنی عورت کا بے وفا بن کر ادھر ادھر بھٹکتا رہے
    جی ہاں اپنی ازدواجی زندگی میں مسائل کے ذمہ دار آپ خود ہیں.

    بیویاں شوہر کے لیۓ سجنے سنورنے کو تیار ہی نہیں.

    شوہر جیسے ہی گھر میں داخل ہوتا ہے تو وہی گرد آلود چہرا موٹا جسم بوسیدہ لباس خشکی بھرے بال لیۓ مردانہ آواز نکالتے ہوۓ منہ بنا کر غصہ میں کہتی ہے فلاں چیز لانا بھول گئے ہونگے معلوم ہے مجھے آپ سے ایک کام ڈھنگ سے نہیں ہوتا وغیرہ وغیرہ.

    یہاں وہ شوہر آہستہ آہستہ بیوی سے دور ہونا شروع ہوجاتا ہے پھر اسے بیوی سے زیادہ موبائل ٹیلیوژن اور دوستوں میں دلچسپی بڑھنے لگتی ہے.

    ایمان اور دل میں اللّٰہ کا ڈر ہوتا ہے تو نفس پر قابو کیۓ رکھتا ہے اور کہیں ایمان کمزور خوف اللّٰہ کم ہو تو باہر خواتین سے تعلق بنا بیٹھتا ہے.

    ہر شخص اپنی بیوی کو جوان تر و تازہ اور خوبصورت دیکھنا چاہتا ہے ہر شخص چاہتا ہے کہ اسکی بیوی رومانوی انداز میں گفتگو کرے لیکن خواتین کی طرف سے جواب ملتا ہے کہ بچوں کے بعد یہ سب نہیں ہوتا بچے کون سنبھالے گا گھر کے کام کاج کون کرے گا ان تمام معاملات میں انسان کی حالت خراب ہو ہی جاتی ہے.

    اور پھر اس کا نتیجہ کچھ یوں نکلتا ہے کہ شوہر موبائل میں مصروف رہتے ہیں دوستوں میں مصروف رہتے ہیں آفس کام سے دھیان ہی نہیں ہٹتا گھر دیر سے آتے ہیں.

    واضح بات ہے کہ جب بیوی کے اندر سے شوہر کو نظر انداز کرنے کی فیلنگز آیئں گی تو شوہر نے موبائل اور ٹیلیوژن کو ہی ترجیح دینی ہے دوستوں کو ہی ترجیح دینی ہے ایسا کیسے ممکن ہے کہ سجی سنوری بیوی سے منہ موڑ کر شوہر موبائل میں گھسا رہے؟

    اگر ایک عورت اپنے کمرے کا ماحول شوہر کے لیے رومانوی بنا کر رکھے خود کو شوہر کے لیے تیار کیۓ سج سنور کر رہے شوہر سے گفتگو کے دوران آواز میں نرمی اپناۓ رکھے تو شوہر دوستوں میں جانا تو دور بلکہ اپنے آفس سے جلدی چھٹی لے آۓ گا.

    یہ تو اللہ کا حکم ہے خواتین واسطے کے اپنے شوہر کے لیے سجنی سنوری رہا کرو تاکہ شوہر کا اپنی بیوی سے دل لگا رہے وہ کبیرہ گناہوں کی طرف نا جاۓ اور غیر محرموں سے پردے کا حکم دیا گیا.

    لیکن یہاں تو مکمل الٹی گنگا بہ رہی ہے کہ گھر میں شوہر کے سامنے بیوی کے ہاتھوں میں سے پیاز اور لہسن کی سمیل آرہی ہے اور کسی شادی کہ تقریب میں جاتے وقت میک اپ کے ڈبے ختم کر دیے آدھے آدھے پرفیوم اور سپرے ہوا میں اڑا دیے.

    بعض جگہ مردوں میں بھی یہ خامیاں ہیں بیوی کے پاس جایئں تو صفائ و ستھرائ کا خیال رکھیں خود کو چست و ایکٹو رکھیں چہرے پر مسکراہٹ رکھے بالوں میں کنگھی اور ہلکی خوشبو کا استعمال بے حد ضروری ہے.

    ایسا نا ہو کہ باہر سے پسینے میں بھرا آۓ اور بدبو سے آس پاس ماحول خراب کر دے سر کے بالوں میں خشکی نا آنے دے داڑھی ہے تو کنگا کیا کرے چہرے گرد و پسینے سے صاف رکھے مطلب بیوی کو بھی اپنا شوہر جوان خوبصورت ترو تازہ اور ایکٹو اچھا لگتا ہے.

    تمام باتوں کا مقصد یہ ہے میاں بیوی کی زندگی میں دونوں کا ایک دوسرے کے لیئے سجنا سنورنا ایک دوسرے کے لیئے تیار ہونا بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے اس سے محبت بڑھتی ہے بیزاریت دور بھاگتی یے گھر کا ماحول خوبصورت رہتا ہے.

    بیوی کے معاملات اس لیئے زیادہ ڈسکس کیے کہ اکثر و بیشتر بیویاں بچوں اور گھر کے کاموں میں اتنا مصروف ہو جاتی ہیں کہ شوہر کے لیۓ سجنے اور سنورنے کے لیۓ وقت نہیں نکال پاتی جس سے شوہر آہستہ آہستہ بیوی سے دور ہونے لگتا ہے جیسا کہ اوپر لکھا جا چکا ہے.

    مختصر سی بات ہے فارغ آج کل کوئی بھی نہیں جہاں خواتین کے پاس کام کے انبار لگے ہوتے ہیں وہاں مرد بھی دن بھر کمانے کیلیے اپنی جان جلاتا ہے وقت نکلتا نہیں ہے وقت نکالنا پڑتا ہے اور ایک دوسرے کے لیئے سجنا سنورنا تو اس رشتے کے لیے انتہائ ضروری ہے اگر اس کے لیے دونوں میں سے کسی کو فرصت نہیں ملتی تو معذرت کے ساتھ عرض یہ ہے کہ اپنی ازدواجی زندگی میں مسائل کے ذمہ دار آپ خود ہیں
    اکثر خواتین یہ شکوہ کرتی نظر آتی ہیں کہ ان کا شوہر دوسری عورتوں کی طرف راغب ہوتا ہے جو کہ انتہائی غلط کام ہے اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص اپنے پاک اور صاف لباس کو چھوڑ کے گندہ لباس پہن لے خواہ ایسا کام کرنے والا مرد ہو یا عورت
    خواتیں یہ شکوہ تو کرتی ہیں کہ شوہر دوسری خواتیں میں دلچسپی لیتا ہے لیکن وجہ معلوم کرنے کی کوشش نہیں کرتیں کہ وہ ایسا کیوں کر رہا ہے اس کی اکثر تین وجوہات ہوتی ہیں.

    1: بیوی کی بدزبانی.
    2: بیوی کا اپنے شوہر کی خواہشات کا احترام نہ کرنا شوہر کے حقوق ادا نہ کرنا.
    3: بیوی کا خود کی صفائی کا خیال نہ رکھنا.

    1: جب بیوی شوہر سے بد زبانی کرتی ہو تو اس کا دل ضرور بیوی سے دور ہوتا جاتا ہے پھر جب اسے باہر کی کسی دوسری عورت سے عزت اور میٹھے بول سننے کو ملتے ہیں تو وہ اس کی طرف راغب ہوتا ہے لہذا بیوی کو چاہئے وہ شوہر سے پیار سے بات پر میٹھے بول بولے جب آپ شوہر سے نرم میٹھے انداز میں بات کریں گی اس کا دل خوش ہو جائے گا جب گھر سے پیار ملے تو باہر جانے کی کیا ضرورت.

    2: بیوی اپنے شوہر کی ضروریات اور خواہشات کا احترام کرے اس کی ہر جائز خواش کو پورا کرے اور ہر جائز حکم مانے اور شوہر بھی بیوی سے ایسا مطالبہ نہ کرے کو شریعت کے خلاف ہو اور نہ ہی ایسا مطالبہ بیوی کو ماننا چاہئے.

    3: اکثر دیکھا گیا ہے جب لڑکی کی شادی ہوتی ہے تو شروع کے دنوں میں کام کا اتنا بوجھ نہیں ہوتا اور شوق شوق میں وہ خود کا صاف رکھتی ہے اپنے اوپر توجہ دیتی ہے خیال رکھتی ہے لکن جب کام کا بوجھ پڑتا ہے تو وہ ماسی بن جاتی ہو اپنے صفائی کا خیال نہیں رکھتی اگر رکھتی بھی ہے تو پہلے کی طرح نہیں پھر جب اولاد ہو جاتی ہے پھر تو بس اپنی ایسی حالت بنا لیتی ہے کہ شوہر کا دیکھنے کو بھی دل نہ کرے صفائی نصف ایمان ہے .

    جب خود کو صاف نہیں رکھیں گی تو شوہر بیوی پر کیا توجہ دے گا ایسی صورت میں شوہر باہر کی عورتوں کی طرف دیکھتا ہے جو بنی سنوری ہوتی ہیں ایسی عورت ہر مرد کو بھاتی ہے پسند ہوتی ہے.

    لہذا کام اور بچوں کی دیکھ بھال ایک طرف لیکن کم سے کم اپنے کپڑے صاف رکھیں شوہر کے آنے سے پہلے تبدیل کر لیں ہلکا سا میک اپ کر لیں جسا شوہر کو اچھا لگتا ہو اپنی حفاظت کریں تانکہ شوہر جب گھر آئے اور اپنی بیوی پر نظر پڑے تو اسے اچھی لگے اس کا دل خوش ہو جائے اگر آپ ماسی بنی ہوں گی تو پھر شوہر سے توجہ کی امید نہ رکھیں.

    جن لڑکیوں کی شادی ہونے والی ہے وہ شروع سے ہی ان باتوں کا خاص خیال رکھیں کیونکہ جب آپ کی لا پرواہی کی وجہ سے ایک بار شوہر کو باہر کی عورتوں کی لت لگ گئی تو پھر اس عادت کو چھوڑنا بہت مشکل ہے.

  • نسل در نسل چلنے والا ٹراما — نکولی لا پریرا (مترجم: ضیغم قدیر)

    نسل در نسل چلنے والا ٹراما — نکولی لا پریرا (مترجم: ضیغم قدیر)

    نسل در نسل چلنے والا ٹراما آپکے فیملی پیٹرنز میں مختلف طریقوں سے ظاہر ہوتا ہے۔ جس میں کچھ عادات، پیٹرن اور خصائص آپ میں آپکے والدین سے منتقل ہوتے ہیں۔

    جیسا کہ فرض کریں،

    آپ کے دادا دادی ایک ایسے خاندان میں پیدا ہوئے تھے جنہوں نے ساری عمر غربت کو ہی دیکھا تھا ڈومیسٹک وائلنس عام چیز تھی۔

    اب وہ بائیس سال کی عمر میں ایک دوسرے کیساتھ ملتے ہیں، شادی ہوتی ہے اور 25 تک بچے ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ مگر دونوں گرینڈ پیرنٹ ابھی تک اپنے چائلڈ ٹراما کو پراسس ہی نہیں کر پائے ہیں۔

    ان کے تین بچے ہوتے ہیں،

    اب غربت میں ان تینوں کو پالنا خاصہ جوکھم والا کام ہے اور یہ ان کو مزید سٹریس دے رہا ہے اور ان کے بچپن کے برے تجربات ان کو ڈپریشن اور انزائٹی میں دھکیل رہے ہیں۔

    اب چونکہ بچپن برا تھا تو اس کی وجہ سے ماں نہایت سٹریس میں رہنے کی وجہ سے گرم طبیعت رکھتی ہے اس کو چھوٹی چھوٹی بات بری لگتی ہے اور وہ اپنے بچوں کے پاس رہ کر بھی ان سے منقطع رہتی ہے وہ جسمانی طور پر تو وہاں موجود ہوتی ہے مگر ذہنی طور پر نہیں ۔

    وہیں پر باپ ہر وقت کام پہ مصروف رہتا ہے اپنے بیوی بچوں کو بہت کم یا پھر صفر ایموشنل سپورٹ دیتا ہے اور کام میں ہی کہیں افئیر چلا لیتا ہے اور چونکہ ٹاکسک ماحول کی سب سے بری عادت راز رکھنا ہوتی ہے سو وہ بخوبی چھپانا جانتا ہے۔

    ان حالات میں ماں شوہر کی ہر بات کو جان رہی ہوتی ہے مگر وہ بند آنکھوں کا ڈرامہ رچا کر کچھ بھی نا دیکھنے کی اداکاری کرنا شروع ہو جاتی ہے اور اس سب سے فرار کی خاطر اپنے بچوں کیساتھ ‘کو ڈپینڈنٹ’ تعلق بنا لیتی ہے جس میں ایک شرط ماں پوری کرتی ہے تو بچے دوسری، یہ تعلق خصوصا بڑے بیٹے کیساتھ ہوتا ہے جس کو وہ اپنا ‘پارٹنر’ سمجھنے لگ جاتی ہے۔

    اب اس بڑے بچے کو دونوں یہ سکھاتے ہیں کہ گھر کا سربراہ صرف وہی ہے اور کوئی نہیں، اور ماں کی ایموشنز کا خیال صرف اسی نے رکھنا ہے۔

    اب بچے چونکہ باپ کا سایہ کبھی دیکھ ہی نہیں پائے ہیں اور نا ہی ان سے کبھی اس موضوع پر بات ہوئی ہے کہ ان کا باپ کیسا ہے تو وہ اس اگنور کرنے کو تسلیم کرکے اپنے احساسات چھپا کر جینا سیکھ جاتے ہیں۔

    اسی دوران یہ بچے اپنی ماں کیساتھ ایک مصنوعی تعلق نبھانا شروع ہو جاتے ہیں اور خود سے وعدہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے باپ جیسے کبھی نہیں بنیں گے اور ویسی حرکت کبھی نہیں کریں گے۔

    یہاں اگر انکی فیملی کو اوپر سے دیکھا جائے تو ‘خوش نظر’ آنیوالی فیملی ہے مگر اس میں کچھ بھی خوشی والا نہیں ہوتا ہے۔

    جوان ہونے تک یہ بچے سیکھ جاتے ہیں کہ کیسے انہوں نے ایک ماسک کے نیچے اپنے احساسات کو چھپانا ہے اور کیسے بغیر کسی کو بتائے جینا ہے۔ اسی دوران سب سے بڑا بیٹا نشے یا آوارہ گردی کی طرف چلا جاتا ہے درمیانی بیٹی خود سے بڑی عمر کے شخص سے دوستی کرکے شادی کرنے کی طرف چلی جاتی ہے کیونکہ وہ باپ جیسے پیار کی تلاش میں ہوتی ہے جو کہ اسے کبھی نہیں ملا ہوتا۔

    اور

    سب سے چھوٹی بچی ہر کسی کی بات کو درست مان کر اس کے پیچھے چلنے والی بن جاتی ہے اس کو انزائٹی اور اٹیچمنٹ ایشوز بھی ہوتے ہیں۔

    ان میں سے کوئی بھی اپنے مسائل والدین سے ڈسکس نہیں کرتا کیونکہ ایسا ماحول ہی نہیں مل رہا ہوتا، ایسے خاندان کا واحد ماٹو یہی ہوتا ہے کہ اپنے ٹراما سے تم نے خود ہی لڑنا ہے۔

    جنریشنل ٹراما کے کچھ بنیادی عناصر یہ ہو سکتے ہیں؛

    نشے کی لت یا جوئے کی لت
    خاندان میں ایک سے زائد لوگ ذہنی پریشانیوں کا شکار ہوتے ہیں
    راز رکھنا اور بات تسلیم نا کرنے کو کامیابی سمجھنا
    ایک دوسرے پہ حد سے زیادہ انحصار
    باؤنڈریز نا رکھنا
    خود شناسی کی کمی
    ایموشنلی امیچور ہونا
    کسی بھی طرح کے سٹریس کا سامنا نا کر پانا
    خود کو کمتر سمجھنا
    دوسروں پہ اعتماد نا کرنا
    وغیرہ

    لیکن خوش قسمتی سے ان سائیکلز کو توڑا بھی جا سکتا ہے سائیکل بریکر وہ شخص ہوتا ہے جو اس لائف سٹائل سے فرار ڈھونڈ کر خود شناسی سے ان ٹراماز پہ قابو پانا سیکھ جاتا ہے۔ اور یہ چیز آپ کو خود ہی سیکھنا ہوتی ہے۔

  • بیٹیوں کی تربیت — علیم امتیاز

    بیٹیوں کی تربیت — علیم امتیاز

    اپنی بیٹیوں کو درج ذیل چند باتیں لازمی سکھائیے.

    1_سیڑھی پر اس وقت مت چڑھیں جب آپ کے پیچھے کوئی مرد بھی سیڑھی چڑھ رہا ہو بلکہ سیڑھی کے کسی ایک زینے پر رک جائیں اور اس کے بعد چڑھیں۔

    2_لفٹ پر کسی اجنبی مرد کی موجودگی میں مت چڑھیں اس کے نکلنے کا انتظار کریں اور بعد میں چڑھیں۔

    3_اپنے چچا، ماموں، خالہ، پھپھو وغیرہ کے بیٹوں سے ہاتھ کے ساتھ مصافحہ مت کریں۔

    4_اپنے ساتھ گفتگو کرنے والے شخص کے ساتھ ہمیشہ مناسب فاصلہ رکھیں۔

    5_ہمیشہ کسی کے ساتھ معاملہ کرنے کی حد مقرر کریں، چاہے وہ کتنا ہی قریبی کیوں نہ ہو، اور اپنے وقار کا خیال رکھیں۔

    6_سڑک پر اپنے دوستوں کے ساتھ مذاق نہ کریں اور سڑک کے آداب کا خیال رکھیں۔

    7_جب کوئی ملنے آئے تو اسے توجہ دیں، بڑے کے احترام میں کھڑے ہو جائیں اور تھکے ماندے اور بوڑھے کو بیٹھنے کے لیے کرسی دیں۔

    8_گلی محلہ کے سبھی مرد باپ/بھائی کے سوا اجنبی ہوتے ہیں اس لیے اُن سے بِلاضرورت بات نہیں کرنی چاہیے کیونکہ ہراساں کرنے والے ذہنی مریض ہوتے ہیں، چاہے وہ آپ کے رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔

    9_جب آپ زمین سے کوئی چیز اٹھانے کے لیے نیچے جھکیں یا کسی دکان، بازار یا عوامی جگہ پر کوئی چیز دیکھیں تو رکوع کی حالت میں مت جھکیں۔کوشش کریں بیٹھ کر چیز دیکھیں پھر کھڑے ہو جائیں تاکہ آپ کا پردہ یعنی ستر یا جسم پیچھے سے بے نقاب/نمایاں نہ ہو۔

    10_ہمیشہ کوشش ہونی چاہیے کہ بس یا ٹیکسی میں بلند آواز سے باتیں مت کریں۔

    11_گھر کا دروازہ ہمیشہ پوچھ کر اور گھر کے افراد یا جاننے والوں کی آواز پہچان کر کھولیں۔

    مجھ سمیت سبھی بیٹوں، لڑکوں، مردوں کے لیے بھی یہی سب باتیں اور آداب ضرور کرنے والے ہیں۔

  • باقاعدہ موٹیویشن — ریاض علی خٹک

    باقاعدہ موٹیویشن — ریاض علی خٹک

    ہمارے ہاں لوگ باقاعدہ موٹیویشن کا مذاق اڑاتے ہیں. وہ سمجھتے ہیں یہ سب کتابی باتیں ہیں. اس سے کسی کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا. انہوں نے موٹیویشن کو سمجھا ہی نہیں ہے.

    عرصہ ہوا میں نے ایک بار بیگم سے کہا یہ طارق روڈ یہ برانڈز کی دکانیں یہ شاپنگ پلازہ میں بڑے بڑے کرائے پر مہنگی دکانیں لے کر اشیاء بیچنے والے معیاری چیز نہیں دیں گے تو اور کیا دے سکتے ہیں.؟ لیکن اس میں کوئی فن نہیں ہے. چیز دیکھی رنگ پسند کیا اور اٹھالی بھلا اس میں شاپنگ کیا ہوئی.؟ آن لائن چند تصاویر دیکھ کر چیز خرید لینے میں فن کہاں ہے.؟

    بیگم نے کہا پھر کہاں ہے.؟ میں نے کہا اتوار بازار میں جمعہ بازار میں بدھ بازار میں. جہاں دکاندار کے ڈھیر میں اچھی معیاری چیز بھی ہوتی ہے اور سستی غیر معیاری بھی. وہ بھی فنکار ہوتا ہے سستی چیز مہنگی کے ساتھ ملا کر اس صفائی سے بیچتا ہے کہ آپ کو پتہ بھی نہیں چلے گا. جیسے اچھے سیبوں میں دو دانے داغ والے ملا دیتا ہے.

    اس بازار سے معیاری چیز نکال کر لانا آرٹ ہے کمال ہے. میری موٹیویشن کام کر گئی. اب وہ ہر بازار میں جاتی ایک ایک چیز پر مول تول کرتی. دیکھتی پرکھتی ہیں. اپنے فن کو اس بلندی پر لے گئیں ہیں کہ لنڈے کے ڈھیر میں سے بھی وہ پیس نکال لیتی ہیں کہ بندہ واقعی ششدر رے جائے. میرے نماز والا صافہ انہوں نے صرف تیس روپے میں خریدا اور پچھلے دو سال سے ان کے فن کے اعتراف میں ہم یہی استعمال کر رہے ہیں.

    یہ موٹیویشن ہی ہے جو اب عرصہ گزرا ہم کسی شاپنگ پلازہ یا برانڈ کی دکان میں گھسے ہی نہیں اور بے وقوف لوگ سمجھتے ہیں موٹیویشن کام نہیں کرتی. البتہ یہ سچ ہے کہ موٹیویشنل سپیکر کمائی بھلے نہ کریں بچت خوب ہو جاتی ہے.

  • بہارستان — عمر یوسف

    بہارستان — عمر یوسف

    خاندان کی اہمیت مسلمہ ہے ۔ انسان معاشرتی حیوان ہے اور لوگوں کے بغیر اس کا کامیاب زندگی بسر کرنا ناممکن ہے ۔ اگر وہ بہت کچھ حاصل کر بھی لے تو روحانی اطمینان اس سے کوسوں دور رہتا ہے ۔ فیملی کے اندر انسان احساس تحفظ سے لبریز زندگی گزارتا ہے ۔ بچے اکثر اداسی محسوس کرتے ہیں انہیں عدم تحفظ کا شدید احساس ہوتا ہے جو ان کی نفسیات پر گہرا اثر ڈالتا ہے ۔

    لیکن جو بچہ ایسی فیملی میں زندگی بسر کرتا ہے جہاں ماں باپ ، دادا دادی ، چچاوں کا پیار نصیب ہو وہاں وہ شاہانہ انداز سے زندگی بسر کرتا ہے ۔ زندگی میں انسان کو بعض دفعہ حقیقی مسائل سے سامنا پڑتا ہے کبھی وہ خیالی مسائل ہی ذہن میں جنم دے لیتا ہے ۔

    دونوں صورتوں میں ایک خاندان کے اندر زندگی بسر کرنے والا شدید ذہنی پریشانی سے محفوظ رہتا ہے ۔ اگر اس کو حقیقی مسائل ہوں تو خاندان کے افراد اس کو سہارا دیتے ہیں لیکن اگر نفسانی واہمے پریشان کریں تو وہ خود کو تسلی دے لیتا ہے کہ میں خاندان میں زندگی بسر کرتا ہوں میرا سہارا بننے والے موجود ہیں ۔

    یہی وجہ ہے کہ اگر حقیقی خوشیوں بھری زندگی جینا ہے تو خاندان ازحد ضروری ہے وگرنہ تو انسان زندگی کو مجبورا گزار کر ہی عدم کا راہی بن جاتا ہے ۔

    خاندان کے بغیر زندگی کو اجاڑ زندگی سے تعبیر کیا جاسکتا ہے جبکہ خاندان کے ساتھ زندگی کو بہارستان کے ساتھ تعبیر کیا جاسکتا ہے ۔

  • لالچی لوگ — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    لالچی لوگ — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    آج سے تقریباً پانچ سال پہلے قندیل کی شادی اپنے خالہ زاد کے ساتھ ہوئی۔ شادی کے دوسال بعد ہی اس نے خلع کا کیس دائر کیا تو ایک بزرگ کے ہمراہ مجھے بھی اس کیس میں صلح صفائی کے لیے مدعو کیا گیا کیونکہ میرے اس گھرانے کے ساتھ پرانے تعلقات تھے۔ میں نے قندیل سے پوچھا کہ آپ خلع کیوں لینا چاہتی ہیں؟

    اس نے بالکل سیدھی اور صاف بات کہی کہ شادی سے پہلے میری خالہ میری بلائیں لیتے نہیں تھکتی تھی۔ میرے گھر والے شادی تھوڑی لیٹ کرنا چاہتے تھے کیونکہ چند ماہ قبل ہی میری بڑی بہن کی شادی ہوئی تھی اور اب میرے جہیز کے لیے والدین کو کچھ وقت چاہیے تھا۔ لیکن میری خالہ نے ضد کی کہ قندیل کونسا پرائے گھر جا رہی۔ بس سادگی سے شادی کر دیں، ہمیں جہیز نہیں چاہیے۔ میرے خالہ کی بہت زیادہ ضد اور اصرار پر گھروالوں نے میری شادی سادگی سے بغیر جہیز کے ہی کر دی۔ بس ضرورت کی چند چیزیں اور کپڑے برتن وغیرہ ہی دے سکے۔

    لیکن کے ایک دو ماہ بعد ہی اس بات پر خالہ اور میری نندوں کے ہلکے پھلکے طعنے شروع ہوئے جسے میں نے اگنور کیا۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتے چلے گئے۔ میں نے کئی بار کہا کہ آپ لوگوں نے ہی جلدی مچائی تھی اس لیے جہیز نہیں لائی ورنہ کچھ وقت دیتے تو ہو جانا تھا۔

    ان کا یہ طعنہ بھی ہوتا تھا کہ تمہاری بڑی بہن کو تو اتنا جہیز دیا لیکن تم شاید سوتیلی تھیں اس لیے خالی ہاتھ بھیج دیا۔ اس میں مجھے اتنا گلہ خالہ اور نندوں سے نہیں ہے جتنا اپنے شوہر عدیل سے ہے کیونکہ اس نے بھی کہا تھا کہ جہیز نہیں چاہیے لیکن ان طعنوں کے دوران وہ اکثر خاموش رہتا تھا بلکہ کبھی کبھار وہ بھی شامل ہو جاتا تھا۔ جب طعنے بہت زیادہ بڑھ گئے تو میں نے الگ رہنے کی بات کی تاکہ سکون سے رہ سکوں کیونکہ عدیل کی تنخواہ ماشاءاللہ اچھی ہے اور اللہ کا کرم ہے کہ گھر میں سب کچھ موجود ہے۔ وہ آدھی تنخواہ والدین کو بھی دے دے تب بھی ہمارا گزارا بہت اچھے سے ہو سکتا ہے۔ والدین کی اپنی آمدن بھی ہے جو زمینوں سے ، دکانوں کے کرایوں سے آتی ہے۔
    لیکن اس پر بھی عدیل نے میرا ساتھ نہیں دیا۔

    اب مزید طعنے سہنا ممکن نہیں رہا اور کوئی بہتری کے بھی چانس نہیں کہ میں کچھ وقت ایسے طعنے سہہ کر گزار لوں۔

    اس کی یہ بات اس کے شوہر کے سامنے رکھی اور اس سے پوچھا کہ اتنی تنخواہ ہے، دکانوں کا کرایہ، زمین کی آمدن پھر بھی جہیز نہ لانے کے طعنے کس لیے جب کہ اللہ کا دیا سب کچھ ہے؟

    بجائے اس کے کہ وہ اپنی غلطی تسلیم کرتا، اس کا یہی کہنا تھا کہ جہیز نہ لانے کا سب کہتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں ہوتا کہ والدین خالی ہاتھ ہی بیٹی کو رخصت کر دیں۔

    میں نے اسے کہا کہ اسلامی لحاظ سے بھی شادی اور بیوی کے تمام اخراجات شوہر کے ذمہ ہیں۔ کہیں بھی نہیں ہے کہ بیوی جہیز لائے۔ جو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے جہیز کی مثال دی جاتی ہے اس میں بھی یہ ہے کہ وہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زرہ بیچ کر خریدا گیا تھا اور اس میں بھی صرف ضرورت کی چند ایک چیزیں تھیں۔

    پھر اگر تم لوگوں نے طعنے ہی دینے تھے تو اس وقت اچھے بننے کے لیے کیوں کہا کہ جہیز نہ دیں، تب ہی بھکاری بن کر کہہ دیتے کہ ہمیں تو جہیز چاہیے ہے تاکہ اس بیچاری کی زندگی اجیرن تو نہ کرتے۔

    چونکہ عدیل اور اس کے گھر والے اپنی غلطی تسلیم کرنے پر راضی ہی نہیں تھے تو اس علیحدگی کو نہ روکا جا سکا۔ عدت کے بعد قندیل کی بھی ایک جگہ شادی ہو گئی جس کی پہلی بیوی فوت ہو گئی تھی اور اس کی ایک چھوٹی بیٹی تھی اور عدیل نے بھی پھپھوکی بیٹی صبیحہ سے شادی کر لی جو ڈھیر سارا جہیز لائی۔

    اب تقریباً خلع کے تین سال کے بعد کی صورت حال یہ ہے کہ قندیل کا گھر بہترین چل رہا۔ ایک بیٹا اس کا اپنا ہے اور شوہر کی پہلے والی بیٹی کو بھی وہ اپنی اولاد کی طرح سنبھال رہی۔ اس کے گھر جاؤ تو گھر میں ہر طرف خوشیوں کا راج نظر آتا ہے۔

    جبکہ عدیل کی دوسری بیوی جو ڈھیر سارا جہیز لائی تھی اس نے اپنی ساس کو نوکرانیوں کی طرح رکھا ہوا ہے، اپنی نندوں کی بھی شادیاں کروا کر انکا گھر میں اثرورسوخ تقریباً ختم کر دیا ہے۔ عدیل کو صبیحہ کے والد نے کاروبار سیٹ کروا کر دیا ہے اس لیے وہ کوئی بھی چوں چراں نہیں کرتا۔ جہیز کے بل پر صبیحہ نے سب کو آگے لگا رکھا ہے لیکن ایسے لالچی لوگوں کے ساتھ یہی ہونا چاہیے تھا۔

  • کیا بیوی کی تنخواہ پر شوہر کا یا سسرال والوں کا کوئی حق ہے؟ — ڈاکٹرعدنان نیازی

    کیا بیوی کی تنخواہ پر شوہر کا یا سسرال والوں کا کوئی حق ہے؟ — ڈاکٹرعدنان نیازی

    آج کل اس مسئلے کی وجہ سے کئی جگہ ناچاقیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ سوچا اس پر کچھ لکھ دوں۔

    اپنے ذاتی اخراجات یا اپنی بچت کے لیے عورتیں پہلے بھی گھروں میں کوئی نہ کوئی کام کرتی تھیں مثلاً کپڑوں کی سلائی ، کڑھائی یا چھکوریاں وغیرہ بنانا۔ اس آمدن پر صرف عورت کا ہی حق ہوتا تھا اور اس میں کوئی اختلاف کبھی نہیں ہوا۔ اب بہت ساری عورتیں گھروں سے باہر نکل کر سارا دن جاب کرتی ہیں اور اس تنخواہ پر بھی ان کے مؤقف کے مطابق صرف ان کا ہی حق ہے۔

    یہاں میں اپنی رائے عرض کروں تو جو عورتیں گھروں میں رہ کر کام کرتی ہیں وہ اپنے فارغ اوقات میں سے کام کر کے اپنے لیے کماتی ہیں۔ جبکہ جو عورتیں پورا دن جاب کرتی ہیں وہ اپنے اصل کام یعنی گھرسنبھالنے والی ذمہ داری سے سبکدوش ہو کر یہ کام کر رہی ہوتی ہیں۔

    اگر وہ مکمل طور پر سبکدوش نہ بھی ہوں تو بھی ان کی اس جاب کی وجہ سے گھر کے دوسرے افراد کو کہیں نہ کہیں سمجھوتا کرنا پڑ رہا ہوتا ہے۔ بچے یا تو گھر کے کسی دوسرے فرد کے پاس چھوڑنے پڑتے ہیں یا پھر ڈے کئیر میں۔ اس طرح بچوں کی تربیت اور ان کی اچھے سے دیکھ بھال متأثر ہوتی ہے۔ اسی طرح اگر عورت گھر میں رہے تو شام کو واپسی پر شوہر کو اچھے سے وقت دے سکے گی اور اس کا خیال بھی اچھے سے رکھ سکتی ہے۔ جبکہ سارا دن آفس میں کام کر کے تھک ہار کر لوٹنے والی بمشکل کھانا پکانا ہی کر سکے گی۔

    مہمانوں کی آمد پر سارا کچھ باہر سے ہی منگوانا پڑے گا۔ گھر میں اگر بوڑھے والدین ہیں تو ان کی خدمت کے لیے نہ وقت ہو گا نہ انرجی۔ ایسے میں اگر سسرال والے یا شوہر اپنی بیوی کو جاب کی اجازت دے رہا تو اس کا یہ مطلب کیسے لیا جا سکتا ہے کہ اس کی ساری تنخواہ پر صرف اس کا حق ہے؟

    یہاں ایک بات اور یاد رہے کہ آج کل ہونے والے رشتوں میں کچھ لوگ ایسے ہیں جنہیں جاب والی لڑکی نہیں چاہیے اوراگر کوئی لڑکی شادی سے پہلے جاب کر رہی ہو تو وہ پہلے ہی کہہ دیتے ہیں کہ شادی کے بعد جاب کی اجازت نہیں ہوگی۔ جاب چھوڑنی ہو گی۔ جاب والی لڑکیاں عام طور پر ایسے رشتوں کو ٹھکرا دیتی ہیں۔

    دوسری طرف ایسے لوگ بھی ہیں جو باقاعدہ ڈھونڈھ رہے ہوتے ہیں کہ جاب والی لڑکی کا رشتہ ملے۔ انھیں شادی کے بعد بھی جاب پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔ جاب والی لڑکیاں ایسے رشتوں کو پسند کرتی ہیں۔ لیکن یہاں پتہ نہیں وہ یہ کیوں بھول جاتی ہیں کہ وہ یہ رشتہ ہی جاب کی وجہ سے کر رہے ہیں۔ اب اگر رشتہ ہی جاب کی وجہ سے ہو رہا تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ ساری تنخواہ پر لڑکی کا حق تسلیم کریں گے۔

    یہ چند ایک باتیں اگر ذہن میں بٹھا لیں تو یہ مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

    یہاں اپنی ایک پرانی تحریر کا اقتباس بھی شئیر کر دیتا ہوں جو اس بات کو مزید واضح کر دے گا۔

    معاشرے کی بنیادی اکیائی خاندان ہوتا ہے جو مرد اور عورت سے مل کر وجود میں آتا ہے۔ ہر خاندان میں دو قسم کی ذمے داریاں ہوتی ہیں۔

    ۱۔ باہر سے کما کر لانا

    ۲۔ امورِ خانہ داری جیسے کھانا پکانا، صفائی ستھرائی، بچوں کی دیکھ بھال وغیرہ

    اب ان ذمے داریاں کو پورا کرنے کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں۔

    ۱۔ تمام ذمے داریاں کسی ایک پر ڈال دی جائیں۔ یقیناً کسی انتہائی مجبوری کے بغیر ایسا کوئی بھی نہیں کرے گا۔ اور ایسا تعلق کبھی بھی دیر پا نہیں ہو سکتا۔

    ۲۔ دونوں مل کر کمائیں اور دونوں گھر کے کام بھی مل کر کریں۔ بظاہر یہ آئیڈیل صورت لگتی ہے لیکن اس میں خاندان کا شیرازہ کس طرح بکھرتا ہے یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ بس مغربی معاشرے کو دیکھ لیا جائے۔ بچے صبح سے شام تک کئیر سنٹرز کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔ باہر کے کھانوں پر گزارہ ہوتا ۔ پھر جو لوگ میری طرح کافی عرصے سے یورپ میں رہ رہے وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ جو بھی دیرپا ، شادی شدہ جوڑے ہیں ان میں مرد ہاتھ تو بٹاتے گھریلو کاموں میں لیکن زیادہ تر کام خواتین ہی کرتی ہیں۔ اس طرح عورتوں کو ایک تو لازمی طور پر کام کر کے خود اپنے لیے کمانا پڑتا اور دوسری طرف گھریلو ذمینداریا ں بھی نبھانی پڑتی ہیں اور عورت پر دوہرا بوجھ ڈال دیا جاتا۔ اس لازمی طور پر کمانے کی وجہ سے عورتوں کو کیا کیا کام کرنے پڑتے، یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔

    ۳۔ تیسری صورت یہ ہے کہ ایک کمائے اور دوسرا گھریلو ذمہ داری نبھائے۔ اگر کوئی حقیقی طور پر صحیح معاشرہ قائم کرنا چاہے تو یہی صورت ہی سب سے بہتر ہے۔ کسی بھی ادارے، کمپنی، ملک وغیرہ میں مختلف لوگ مختلف کام ہی انجام دیتے ہیں۔ اس طر ح اس کا نظام چلتا۔ ذمے داریاں تقسیم ہو جاتیں اور سب کام صحیح طور پر چلتے ہیں اگر سب اپنے حصے کا کام کرتے رہیں۔ اب اس صورت میں مزید دو آپشن ہوتے ہیں۔

    الف۔ مرد کمائے اور عورت گھریلو ذمے داریاں سنبھالے۔
    ب۔ عورت کمائے اور مرد گھریلو ذمے داریاں سنبھالے۔

    اس میں کوئی دو رائے تو ہیں نہیں کہ اگر اس طر ح ذمے داریاں تقسیم کرنی ہوں تو کون کس ذمے داری کے لیے زیادہ موضوع ہے۔ مزید برآں اسلام جو پاکیزہ معاشرہ قائم کرنا چاہتا ہے اس میں بھی یہی صورت ممکن ہے کہ مرد کمائے اور عورت گھریلو ذمے داریاں سنبھالے۔ انسان کو بنانے والے نے خود مرد کو کمانے کا ذمہ سونپا ہے (سورہ النسا ، آیت ۳۴) اور وہی بہتر جانتا ہے کہ مرد ہی اس کام کے لیے سب سے زیادہ بہتر ہے۔

    لیکن اگر کسی کو اسلام کے اس فیصلے سے اختلاف ہے تو وہ دوسرا تجربہ کر کے دیکھ سکتا ہے۔ یعنی بیوی کمائے اور شوہر گھر سنبھالے۔ اول تو بیوی طعنے دے دے کر ہی مار دے گی کہ فارغ بیٹھے رہتے ہو۔ اور اگر یہ نہ بھی ہو تو جیسے ہی بیوی آفس سے گھر آئے شوہر پہلے ہی تیار بیٹھا ہو کہ چلو شاپنگ پر جانا ہے۔ یا یہ کہ آج کھانا باہر کھائیں گے۔ پھر ہر تھوڑے دنوں کے بعد ضد کہ مجھے میرے والدین کے گھر چھوڑ کے آؤ اور وہاں رہنے کے لیے پیسے بھی دو۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ تو دیکھیں کہ کتنے دن بیوی کماتی رہتی ہے۔

    آخر میں مردوں سے گزارش ہے کہ گھر کے کام کو عار نہ سمجھیں۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، جب وقت ملتا تو گھر کے کاموں میں اپنی ازواج مطہرات کا ہاتھ بٹایا کرتے تھے۔ اور عورتوں سے گزارش کہ ذمے داریاں بانٹ کر نبھائی جائیں تو گھرانہ احسن طریقے سے چلتا رہتا ہے۔ اور اپنے والدین کے گھر کام کر کے اگر کوئی نوکرانی نہیں بن جاتی تو شوہر کے گھر کام کرنے سے کوئی نوکرانی کیوں بن جاتی ہے۔