Baaghi TV

Category: خواتین

  • عورتوں کا وراثت میں حصہ — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    عورتوں کا وراثت میں حصہ — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    میں نے عورتوں کو وراثت میں حصہ دینے سے متعلق پوسٹ کی جس کا لب لباب یہ تھا کہ ہمارے معاشرے میں عورتوں کے حقوق کے علمبردار لبرل ہوں یا اسلام پر عمل کرنے کے دعویدار مذہبی لوگ، عورتوں کو جائیداد میں حصہ دینے کے معاملے پر دونوں ہی ڈنڈی مارتے ہیں۔

    اس پر ایک عورت نے رابطہ کیا اور کہا کہ عورتوں کو جائیداد میں حصہ نہ دینے والے معاملے میں عورتیں بھی قصووار ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ میرے والد صاحب وراثت میں بہت سی زمین جائیداد چھوڑ کر گئے۔ ہم تین بھائی اور تین بہنیں ہیں۔ والدہ صاحبہ بھی حیات ہیں۔ والد صاحب کی وفات کے کئی سال بعد تک اس زمین جائیداد کی ساری آمدن اکیلے بھائی ہی کھاتے رہے اور بہنوں کو کسی نے کچھ نہ دیا۔ میرے علاوہ کسی بہن نے کبھی اس بارے کوئی بات نہیں کی۔ والدہ صاحبہ ایک عورت ہونے کے باوجود اس بات کی قائل ہیں کہ جائیداد پر صرف بیٹوں کا حق ہے۔ میں نے جب بھی بات کی مجھے ہمیشہ لالچی اور پیسے کی حریص ہونے کا طعنہ ملا حالانکہ میں صرف اپنے جائز حق کی بات کرتی تھی۔ آخر والد صاحب کی وفات کے کئی سال بعد بھائیوں کو جائیداد اپنے نام لگوانے کی سوجھی۔ وراثت میں ہمارا بھی حصہ تھا تو ہماری دستخط کے بنا تو ان کے نام نہیں لگ سکتی تھی۔ رسمی کاروائی کے لیے ہمیں بھی بلایا گیا اور رسماً کہا گیا کہ آپ تینوں بہنوں نے بھی حصہ لینا ہے تو دے دیتے ہیں۔ یا پھر ہمارے نام لگوانے کے لیے بیان دے دیں اور دستخط کر دیں۔ اس موقع پر والدہ صاحبہ کا بھی یہی موقف تھا کہ آپ لوگوں یعنی بیٹیوں کو زمین دی تو وہ غیروں میں چلی جائے گی۔

    میں نے اس کا جواب یہ دیا کہ زمین ہو یا جائیداد ، ہمیشہ کسی ایک کی نہیں رہتی بلکہ کبھی ایک کے پاس تو کبھی دوسرے کےپاس ہوتی ہیں۔ یہ زمینیں ہزاروں لاکھوں سال سے یہی ہیں اور یہی رہیں گی۔ ہر صدی میں کئی بار ان کے مالکان بدل جاتے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا کسی صورت درست نہیں کہ غیروں کے پاس چلی جائے گی۔ پھر بھی اس کا یہ حل بھی ہے کہ یہ مہنگی گاڑیاں بیچ کر ہمیں جائیداد کی بجائے اس کی قیمت ادا کر دیں یا ابھی ہمارے نام لگوا دیں اور جیسے جیسے اس قابل ہوتے جائیں ہم سے خریدتے جائیں۔

    اس ساری بحث میں میری بہنیں گونگی بہری بنی رہیں۔ کسی نے کوئی بات نہیں کی۔ البتہ میری ماں کی کوشش تھی مجھے چپ کروا دیں۔

    میری بہنیں اگلے دن عدالت جا کر ساری جائیداد بھائیوں کے نام کروانے پر تیار تھیں لیکن میں نے صاف انکار کر دیا۔ مجھے یہ کہا گیا کہ یہ بھی تو ہمارے نام لگوا رہی ہیں، صرف آپ ہی لالچی ہو۔ میں نے اس کا جواب یہ دیا کہ یہ صرف اور صرف معاشرے میں رائج اس رسم ورواج کی وجہ سے خاموش ہیں۔ ان میں اپنے حق کے لیے اس سے ٹکر لینے کی ہمت نہیں ہے۔ میرا ایک چیلنج قبول کریں آپ لوگ۔ کل ان کا حصہ ان کے نام لگوائیں یا اس کی قیمت انھیں ادا کریں، پھر انھیں گھر جانے دیں اور اس سے اگلے دن آپ انھیں کہیں کہ اب وہ حصہ آپ کو واپس کر دیں کیونکہ پہلے بھی تو ہمارے نام لگوانے پر راضی تھیں۔ اگر تب پورا کیا آدھا حصہ بھی یہ آپ کو دینے پر راضی ہو جائیں تو میرا سارا حصہ آپ لے لیجیے گا۔ یہ میں آپ کو لکھ کر دینے کو تیار ہوں۔

    ساری رات اس بحث و مباحثہ کے بعد بالآخر اسی پر بات طے ہوگئی۔ اگلے دن ہمارا حصہ ہمارے نام کروا دیا گیا۔ اس میں بھی ڈنڈی ماری گئی کہ جو اچھی زمین تھی وہ خود رکھ لی ۔ لیکن یہ بھی غنیمت تھی کہ ہمیں حصہ مل گیا۔

    سب کے نام لگنے کے کچھ دن بعد بھائیوں نے بہنوں سے کافی کہا، تحائف بھی دیے، میٹھے بنے، اچھے سے پیش آئے لیکن کوئی بھی اب اپنا حصہ کسی بھائی کے نام لگوانے پر راضی نہیں تھی۔

    مجھے اس کا نقصان یہ ہوا کہ میرے ساتھ میرے بھائیوں اور والدہ صاحبہ نے ہر تعلق توڑ لیا اور آج تک ٹوٹا ہوا ہے۔ میں نے کوشش کی لیکن مجھے اپنے گھر میں بھی داخل نہیں ہونے دیتے۔ میری بہنوں نے بھی اپنا حصہ لے لیا لیکن وہ خاموش رہی تھیں تو ان سے تعلقات ہیں۔

    کاش کہ ہمارے معاشرے کی خواتین اپنے اس حق کے لیے بولنا سیکھ جائیں۔ یہ کوئی خیرات نہیں، حق ہے جو اللہ نے خود ہمیں دیا ہے۔ صرف اس لیے نہ چھوڑیں کہ لوگ کیا کہیں گے۔ اس لیے بھی اس کی کوشش کریں کہ آپ کا یہ لڑنا کئی دوسری خواتین کے لیے بھی مشعل راہ ہوگا اور ان کے لیے ایک راستہ کھولے گا کہ وہ اپنا حق لے سکیں۔

  • دوسری شادی کیوں؟ — ڈاکٹر ثناء اللہ فاروقی

    دوسری شادی کیوں؟ — ڈاکٹر ثناء اللہ فاروقی

    دراصل دوسری شادی عورت کی ضرورت ہے مرد کی نہیں، یہی بات عورتیں نہیں سمجھتیں تبھی اقبال نے کہا تھا

    تو ان کو سکھا خار شگافی کے طریقے
    مغرب نے سکھایا انہیں فن شیشہ گری کا

    اس درد کو سمجھنے کے لیے عورت کا کم عمری میں بیوہ ہونا یا ان کا طلاق ہونا ضروری ہے تب انہیں سمجھ آتا ہے کہ کوئی مجھے اپنی دوسری بیوی بنا لیتا اور عزت سے رکھتا میں کسی کی محتاج نہ رہتی نہ ماں باپ کی نہ بھائی بہن کی، ایک بیوہ کی پوری زندگی داؤ پر لگی رہتی ہے اور وہ شہر کی زندگی میں تو بہر حال محفوظ نہیں ہے اس کی عزت و ناموس کی حفاظت کے لیے اللہ نے قرآن میں مردوں کے لیے نکاح کے احکامات میں دو سے شروعات کی اور مرد پر ایک سے زائد نکاح کا بوجھ ڈالا گیا تاکہ اس کے مال سے دوسری عورت اور اس کے بچے عزت کی زندگی گزار سکیں یہ احکام عورتوں کی بھلائی کے لیے ہی دیا گیا تھا رسول اللہ ص اور ان کے صحابہ رض نے عملاً کر کے دکھایا ورنہ ان کے اتنا بڑا زاہد و عابد اور کون تھا؟ وہ اکثر اوقات ساری رات نمازوں میں گزار دیتے تھے یہاں تک کہ عورتیں رسول اللہ کے پاس شکایت لے کر آنے لگیں کہ میرے شوہر میرے بستر پر قدم کم ہی رکھتے ہیں۔

    کہتے ہیں اکثریت اقلیت کو کھا جاتی ہے آزادی کے پہلے ایک صاحب استطاعت مرد دو نکاح آرام سے کر لیتا تھا اگر کسی کی بیٹی و بہن بیوہ ہو جاتی تھی تو مرد حضرات ان کی توجہ ادھر مبذول کراتے تھے کہ اللہ نے تمہیں دو مکان اور دولت سے نوازا ہے فلاں کی بیوہ کو اپنے نکاح میں لے لو اور ان کے گھر والے بھی بیوہ و مطلقہ کا نکاح فورآ کر دیتے تھے حالات انگریزی دور حکومت میں بھی بہت اچھے نہیں تھے لیکن جب سے آزادی ملی تب سے جدید طرز تعلیم نے کفر کی آمیزش کر کے ایک خاص مزاج بنایا اور نئی نسل کو بالکل بگاڑ دیا اور اسلامی فکر سے دور کر دیا بلکہ سچ کہیں تو نماز و روزہ اور حج کے علاؤہ کچھ
    باقی نہ رہا اقبال نے اسی لیے کہا تھا ”

    تعلیم کے تیزاب میں ڈال اس کی خودی کو،
    ہو جائے ملائم تو جدھر چاہے ادھر پھیر”

    سو بڑی محنت و یکسوئی سے اس کام کو کیا اور پوری طرح پھیر چکے، انہوں نے نئی تعلیم وضع کی اور اس کے نتائج آپ کے سامنے ہیں عورت اپنے شوہر کے ناجائز رشتے برداشت کرنے کو تیار ہے لیکن ایک عدد شریف سوکن قابل قبول نہیں ہے۔ یہ اللہ و رسول کے احکامات سے کھلی سرتابی اور بغاوت ہے اور اس کا جو انجام ہونا چاہیے وہ آپ اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔

    اس فکر کو عام کرنے کے لیے بچوں کو بچپن سے ہی اسلامی لٹریچر پڑھانا چاہیے اور انہیں مردوں اور عورتوں کے حقوق بتانے چاہیں۔ ہم سب نے اسلام کبھی حلق کے نیچے اتارا ہی نہیں، عائلی قوانین تو حلق کے نیچے مرد و زن میں سے کسی کے کبھی نہ اتر سکا، لڑکے جہیز لیتے رہے کیا نمازی کیا پرہیزگار حالانکہ یہ انتہائی رذالت و ذلت کا کام ہے کہ تم کسی کی بیٹی بھی لو اور اس کے باپ سے پیسہ بھی لو؟

    لڑکیاں دوسرے نکاح کی مخالفت کرتی رہیں کیوں کے انہوں نے کبھی قرآن ترجمہ سے پڑھا ہی نہیں اس کے معنی و مطالب تفسیر پر غور و فکر بھی نہیں کیا.

    نتیجہ معاشرے میں کنواری عمر دراز عورتوں کی بھرمار اور بیوہ و مطلقہ کی بہتات ہے اور عورت کسی صورت مرد کے دوسرے نکاح کو راضی نہیں ہے چاہے عالمہ فاضلہ ہی کیوں نہ ہو؟ بس زنا کے دروازے کھلے ہوئے ہیں اور عام اور آسان ہیں روز اس راستے کو ہموار کرنے کی فکر لیے ہوئے تہذیب کے آزر کام میں لگے ہوئے ہیں کیوں کہ ہم سب نے مل کر جائز راستے بند کر رکھے ہیں اور محمد رسول اللہ کے دین کا تماشہ بنا رکھا ہے۔

  • عورت سے زیادہ متوازن اور سمجھدار کوئی مخلوق روئے زمین پر نہیں!!! — محمودفیاض

    عورت سے زیادہ متوازن اور سمجھدار کوئی مخلوق روئے زمین پر نہیں!!! — محمودفیاض

    عورت سے زیادہ متوازن اور سمجھدار کوئی مخلوق روئے زمین پر نہیں الا یہ کہ آپ اس پر توجہ کی نظر ڈال دیں۔

    انگلینڈ پڑھائی کے دوران دنیا بھر سے آئی لڑکیوں سے گھلنے ملنے (معروف معنوں میں ہی لیا جائے) کا اتفاق ہوا۔ ہاسٹل میں ساتھ رہتی تھیں۔ کچن میں چائے، کھانا بنانے، برتن دھونے کا کام اکٹھے کرتے کبھی احساس نہیں ہونے دیتیں تھیں کہ صنف نازک انداز دلربائی بھی جانتی ہے۔

    یونان سے آئی پینی میرے ہاسٹل کے ساتھ والے کمرے میں رہتی تھی۔ دن رات کا ساتھ تھا۔ بحثوں اور باتوں کے درمیان دوستی بھی ہو گئی۔ رات گئے تک پڑھائی کرتے جب ہم بور ہو۔جاتے تو کافی کے دو مگ بنا کر کچن ٹیبل پر بیٹھ جاتے اور دنیا جہان کے مسائل حل کرتے۔

    پینی کے ساتھ اس طرح رہتے میرے دل میں خیال پیدا ہو گیا کہ یورپی لڑکیوں کے ساتھ شادی کرنا آسان ہے۔ کوئی نخرہ نہیں، مردوں کی طرح گھر باہر کے کاموں میں ہاتھ ڈال دیتی ہیں۔ آپ سے بطور مرد کوئی فیور بھی نہیں مانگتیں۔ اپنے سارےکام خود کرتیں ہیں حتی کہ شاپنگ بھی جلدی نمٹا لیتی ہیں۔

    مگر یہ فسوں بس اس وقت تک قائم رہا جب تک پینی کو راج پسند نہیں آ گیا۔ راج ایک انڈین لڑکا تھا جو میتھ میں پی ایچ ڈی کر رہا تھا۔ جینئس تو تھا ہی بلا کا وہمی اور پاکستانیوں سے الرجک بھی تھا۔

    درمیان کی تفصیل فضول ہے، مگر آپ۔میں سے جو دلچسپی رکھتے ہیں انکے لیے بتا رہا ہوں، کہ ایک پورا سیمیسٹر پینی راج کے لیے پسندیدگی کے جذبات رکھنے کے باوجود اسکی طرف سے پہل کرنے کا انتظار کرتی رہی۔ بالاخر راج نے پینی کو ڈیٹ پر جانے کے لیے پوچھ لیا۔

    اس روز پینی کی خوشی دیدنی تھی۔

    دونوں کا ریلیشن شپ شروع ہوا اور پینی ہر دوسرے روز راج کے ہاسٹل میں وقت گذارنے لگی اور راج کبھی کبھار پینی کے کمرے میں نظر آنے لگا۔

    میں نے حیرت سے نوٹ کیا کہ پینی راج کے ساتھ ٹیپیکل گرل فرینڈ بنی ہوئی تھی۔ میرے ساتھ مارکسزم اور فیمنزم پر گھنٹوں بحث کرنے اور صبر سے دلائل کے علاوہ طعن و تشنیع سن کر کبھی کبھی مان کینے اور اکثر ڈٹ جانے والی پینی راج کے ساتھ دوسرے جملے پر ناراض ہو۔جاتی۔

    راج دیر سے کیوں آیا۔ راج نے ایسا کیوں کیا۔ راج نے ویسا کیوں کیا۔ بالاخر میں نے پینی کو ایک روز بازوؤں سے پکڑ کر سنجیدگی سے جھنجھوڑ ڈالا۔

    یہ سب کیا ہے؟، میں نے حیرت سے سوال کیا۔

    کیا سب؟، اس کی ذہین آنکھوں میں حیرت تھی۔

    یہ ۔ ۔ یہ راج کے ساتھ تمہاری شکایات، سلوک؟ کیوں کر رہی ہو ایسا؟ تم تو باقی لڑکیوں سے مختلف ہو ۔ ۔ ہو نا؟

    میری شکایات؟ وہ۔حیرت سے چلائی، تم نے اس الو کی حرکتیں دیکھی ہیں؟ ۔ ۔ ۔

    مثلاً ۔ ۔ ۔ ؟؟ میں نے سوالیہ اسکو گھورا

    مثلاً ۔ ۔ ۔ ہمممم ۔ ۔ ۔ مثلاً وہ اکثر میری بات توجہ سے نہیں سنتا ۔ ۔ ۔ لاپرواہ ہے، میری۔باتیں بھول۔جاتا ہے، ۔ ۔ ۔

    پینی! میں بھی اکثر تمہاری بات پر توجہ نہیں دیتا۔ لاپرواہ ہوں، اور تمہاری اکثر باتیں بھول۔جاتا ہوں۔

    تم۔ ۔ ۔ ؟؟ وہ حیرت سے چلائی ۔ ۔ ۔ تم میرے بوائے فرینڈ تو۔نہیں ہو۔نا ۔ ۔ ۔ اس نے قہقہہ لگایا۔

    مگر، ۔ ۔ میں کنفیوز ہو۔کر بولا، ۔ ۔ ۔ کیا بوائے فرینڈ کے ساتھ تمہیں زیادہ فرینڈلی اور ایزی گوئنگ نہیں ہونا چاہیے؟

    ہونا چاہیے، مگر ۔ ۔ ۔ پینی ہنستے ہوئے یکدم رک کر سوچنے لگی ۔ ۔

    واقعی ۔ ۔ ۔میں تمہارے ساتھ زیادہ فرینڈلی اور ایزی گوئنگ ہوں۔ ۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ ۔ ۔ ۔ وہ الٹا مجھے سے سوال کرتے ہوئے معصومیت سے اپنی آنکھیں پٹپٹانے لگی۔

    اسکو بات سمجھتے دیکھ کر میں پرجوش ہوگیا، اپنی بات مزید سمجھانے لگا۔

    دیکھو! تمہارا ریلیشن شپ کمال کا ہو سکتا ہے اگر تم اسکے ساتھ ویسا سلوک رکھو جیسا مجھ سے رکھتی ہو۔ نخرے وخرے مت کرو۔ انسان سمجھو وغیرہ ۔ ۔ ۔ وہ اسکول گوئنگ بچی کی طرح سر ہلانے لگی ۔ ۔ ۔ تصور میں وہ خود کو راج کے ساتھ ‘دوستی’ کرتے دیکھ رہی تھی۔

    یکایک وہ جھرجھری لے کر اپنے خیالات سے بیدار ہوئی، اور قہقہہ لگا کر کہنے لگی ۔ ۔ ۔ نہ نہ ۔ ۔ ۔ مجھے نہیں کرنا راج سے دوستی ووستی ۔ ۔ ۔ وہ میرا بوائے فرینڈ ہے، ۔ ۔ ۔ اور ایسے ہی ٹھیک ہے۔

    کیا؟ میں ہر۔بات کو۔منطق میں تولنے والی پینی کو گھور رہا تھا۔ ۔ ۔ ایسا کیوں؟

    نہ نہ ، اس خیال سے ہی عجیب کریپی فیلنگ آتی ہے، اس نے مجھے دیکھتے ہوئے کہا، ۔ ۔ اب تم میرے بوائے فرینڈ کیسے ہو سکتے ہو ۔ ۔ ۔ اس نے بات کو الٹا دیا۔ ۔ ۔ ایسے ہی میرا بوائے فرینڈ ۔ ۔ تم۔کیسے ہو سکتا ہے ۔ ۔ ۔ تمہارے لیے رات تین بجے میں کافی بنانے اٹھ سکتی ہوں، ۔ ۔ ۔ مگر وہ میرا بوائے فرینڈ ہے۔ ۔ اسکو رات دو بجے میرے لیے برگر لانے جانا ہی پڑیگا۔ ۔ ۔

    مجھے تب ہی سمجھ آ گئی،

    عورت سے زیادہ متوازن اور سمجھدار کوئی مخلوق روئے زمین پر نہیں الا یہ کہ آپ اس پر توجہ کی نظر ڈال دیں۔

  • بیٹیاں بیاہنے سے پہلے انکی رائے لازمی لیں — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    بیٹیاں بیاہنے سے پہلے انکی رائے لازمی لیں — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    انیلہ کے کئی رشتے آئے لیکن والدین کو خالد ہی پسند آیا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ خالد پاکستان سے باہر کسی عرب ملک میں کام کرتا تھا اور ہر ماہ ایک اچھی رقم پاکستان اپنی فیملی کو بھیجتا تھا۔اس رشتے کو ہاں کرنے سے پہلے انیلہ سے کسی نے رائے طلب ہی نہیں کی۔

    شادی کے بعد سب خوش تھے سوائے انیلہ کے۔ اس کا شوہر خالد شادی کے دوہفتے بعد ہی واپس چلا گیا تھا اور اس کی واپسی ایک سال کے بھی بعد ہوئی تھی۔ اب بھی چند دنوں کے بعد اسے واپس جانا تھا۔ انیلہ اسے فون پر تو اکثر کہتی ہی تھی لیکن اب کی بار اس کے آنے پر اس کا مطالبہ زور پکڑ رہا تھاکہ یا مجھے بھی ساتھ لے جاؤ یا پھر تم بھی پاکستان آجاؤ۔

    خالد کی ماں، باپ، بھائی، بہن وغیرہ میں سے سب کو خالد کے پیسے سے غرض تھی، کسی کو بھی اس کے پاکستان سے باہر ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا لیکن انیلہ کو جسمانی طور پر بھی خالد کی ضرورت تھی۔ شادی سے پہلے تو جیسے تیسے زندگی گزر رہی ہوتی ہے لیکن شادی کے بعد مجرد زندگی گزارنا بہت ہی زیادہ مشکل ہوتا ہے۔

    یہ بات اس کے والدین نے بھی نہیں سوچی تھی کہ شادی پیسے سے نہیں انسان سے ہوتی ہے۔ اگر صرف کھانا پینا پہننا وغیرہ ہی چاہیے تو یہ ضروریات تو والدین کے گھر میں بھی پوری ہو رہی تھیں۔ شادی کے جو مقاصد ہوتے ہیں ان میں سب سے پہلے جسمانی (جنسی) ضروریات کو جائز طریقے سے پورا کرنا اور نسل ِانسانی کی بقا ہے۔

    اس شادی کے بعد اس کو پیسہ تو مل رہا تھا لیکن جسمانی ضروریات کو جائز طریقے سے پورا کرنا ممکن نہیں تھا۔ شادی کے بعد جب میاں بیوی کے درمیان یہ جسمانی تعلق ہو جائے تو پھر خود کو لمبے عرصے تک اس سے دور رکھنا بہت زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔ ایسے میں اگر ایک دوسرے سے لمبی جدائی ہو تو دونوں کا خود کو گناہ سے محفوظ رکھ پانا ناممکنات میں سے ہوتا ہے۔

    یہی بات انیلہ اپنے شوہر کو سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس کا موقف یہی تھا کہ پیسے کم ہو جائیں کوئی مسئلہ نہیں لیکن ہم ساتھ تو ہوں۔ پاکستان میں کوئی چھوٹا موٹا کام ہی کر لو لیکن ہم ساتھ تو ہوں۔ آخری بات اس نے یہ کہ جتنے پیسے ہر ماہ پاکستان بھیجتے ہو، وہ آدھے کر دو اور آدھے اپنے پاس بچاتے رہو اور اگلے سال جب واپس آؤ تو ان پیسوں سے یہاں کام کا آغاز کر لینا۔

    انیلہ کی یہ بات جب خالد کے گھروالوں کو معلوم ہوئی تو گویا گھر میں بھونچال آگیا۔ ان سب کو یہی تھا کہ خالد واپس آگیا تو ان سب کی عیاشیاں ختم ہو جائیں گی۔ خالد جب پاکستان سے گیا تو انیلہ کے ساتھ سب گھروالوں کا رویہ بہت زیادہ برا ہو گیا۔ اس نے اس سب کے بارے خالد سے فون پر بات کی۔ خالد اور اس کے گھروالوں نے یہ شرط رکھ دی کہ اگر انیلہ کے گھر والے خالد کو یہاں کوئی بزنس سیٹ کر کے دے دیں تو وہ واپس پاکستان آجائے گا۔ یہ مطالبہ ماننا انیلہ کے گھر والوں کے بس سے باہر تھا۔

    اگلے دو سال بھی انیلہ نے اسی طرح گزارے۔ شادی کے ان تین سالوں میں ایک بیٹی کی پیدائش بھی ہوئی۔ تیسرے سال جب خالد واپس جانے لگا اور انیلہ کی بات نہیں مانی تو وہ ناراض ہو کر میکے آگئی۔ خالد یا اس کے گھروالوں نے منانے کی کوشش ہی نہیں کی۔ چھ ماہ کے بعد انیلہ نے خلع لے لی کہ جو ایک خواہ مخواہ کی آس ہے وہ بھی ٹوٹ ہی جائے کہ کہیں اور بھی رشتہ جڑنے کا کوئی چانس ہو سکے۔

    لیکن اسے نہیں معلوم تھا کہ زندگی اتنی آسان نہیں ہے۔ اسے شاید معلوم نہیں تھا کہ ہمارے معاشرے کا بہت بڑا المیہ ہے کہ بچوں والی عورت سے کوئی بھی شادی نہیں کرتا چاہے مرد خود بھی بچوں والا کیوں نہ ہو۔ جس اذیت سے بچنے کے لیے اس نے خلع لی تھی وہ اذیت اس کا شاید زندگی بھر کا مقدر تھی۔ ہر مرد چاہے وہ کنوارا ہو، شادی شدہ یا رنڈوہ۔۔۔ وہ انیلہ سے حرام تعلق تو قائم کرنے کے لیے تیار تھا لیکن کوئی بھی اس سے نکاح نہیں کرنا چاہتا تھا۔ انیلہ بس یہی سوچتی ہے کہ

    زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے
    جانے کس جرم کی پائی ہے سزا، یاد نہیں

    والدین سے یہی کہوں گا کہ بیٹیوں کی شادی کرتے وقت یہ لازمی یاد رکھیں کہ خوشیاں صرف پیسوں سے نہیں، میاں بیوی کے ساتھ رہنے اور ایک دوسرے کا ساتھ دینے سے ملتی ہیں۔ صرف پیسہ ہی سب کچھ ہے تو وہ سب کچھ آپ کے پاس بھی مل رہا ہوتا ہے۔ سب سے زیادہ اس رشتے کو اہمیت دیں جس میں میاں بیوی ساتھ رہیں اور الگ گھر بسائیں۔ پیسہ ضرورت تو ہے لیکن اتنا نہیں کہ اس کی وجہ سے میاں بیوی کا رشتہ سال میں دو چار ہفتوں کا رشتہ ہی رہ جائے۔

  • بچوں کی پسند نا پسند — آصفہ عنبرین قاضی

    بچوں کی پسند نا پسند — آصفہ عنبرین قاضی

    آج ایک دوست نے چوبیس سالہ انجینئر لڑکے کی تصویر دکھائی جس نے کراچی کے مال کے اندر اونچائی سے چھلانگ لگا کر خودکشی کرلی ۔ اس قدر خوبرو اور گبھرو جوان کہ دیکھ زبان گنگ رہ گئی۔ اس کی موت کو بیروزگاری سے جوڑا گیا۔ اسی مال میں میری دوست کے بڑے بھائی چیف سیکیورٹی آفیسر ہیں ۔ ایف آئی آر میں ذہنی دباو اور بیروزگاری بتایا گیا یوں معاملہ دب گیا۔

    چونکہ واقعہ مال کے اندر ہوا تھا تو دوسرے روز وہی چیف سیکیورٹی آفیسر اس لڑکے کی ماں سے ملے اور رہن سہن سے اندازہ ہوا کہ مالی معاملات تو ہر گز خراب نہ تھے ۔ بار بار پوچھنے پر ماں نے بتایا کہ اس واقعے سے پہلے اس کی والد سے تکرار ہوئی تھی اور تکرار کی وجہ رشتہ تھا۔ والدین بھتیجی کو بہو بنانا چاہ رہے تھے جبکہ لڑکے نے بتایا کہ وہ فلاں جگہ رشتہ کرنا چاہتا ہے آپ پرپوزل لے کر جائیں ۔ والدین نے انکار کردیا بلکہ یہ بھی واضح کیا کہ اگلے ہفتے منگنی کی رسم ہوگی۔ اس سے پہلے بھی لڑکا تین چار بار ذکر کر چکا تھا لیکن وہی انکار۔۔۔
    اس روز مال سے اس کی منگنی کی تیاری کے سلسلے میں شاپنگ ہو رہی تھی ، وہ ذہنی اذیت برداشت نہ کر سکا اور سب سے اوپر والی منزل سے چھلانگ لگا دی۔

    یہ بظاہر ایک عام قصہ ہے ، ہم عموما اولاد پر نافرمان اور جذباتی ہونے کا لیبل لگا دیتے ہیں لیکن کبھی دوسرے رخ کو دیکھنا گوارا نہیں کرتے ۔لڑکے ہوں یا لڑکیاں اکثر اپنے والدین کے فیصلوں پر سر جھکا لیتے ہیں ساری عمر کمپرومائز بھی کر لیتے ہیں لیکن والدین جبرا کیسے یہ رشتے جوڑ سکتے ہیں ؟

    بچوں سے پسند نا پسند پوچھ لی جائے اور اگر وہ بتا دیں تو اس میں انا اور ہٹ دھرمی کا کیا سوال ؟؟ ہم میں سے اکثر کو دوسروں کی لائے ہوئے کپڑے ،جوتے اور دیگر استعمال کی چیزیں پسند نہیں آتیں تو دوسرے کا منتخب کردہ ہمسفر کیسے پسند آ سکتا ہے ؟؟

    میں نے تو حقیقی زندگی میں ایسے جوڑے دیکھے ہیں جن کی پسند کو رد کرکے اپنی پسند مسلط کئی گئی اور ایک چھت تلے رہ کر بھی ان کے دل نہ جڑ پائے ۔ ہم یہی سوچتے ہیں کہ زندگی ہی تو گزارنی ہے گزر جائے گی لیکن یہی سب سے بڑی غلط فہمی ہے۔۔۔۔۔۔ زندگی گزارنی نہیں ،جینی ہوتی ہے ۔۔۔ !!!

  • "سیل اور بچت” — شہنیلہ بیلگم والا

    "سیل اور بچت” — شہنیلہ بیلگم والا

    ارسلان کو ایس ایم ایس آیا کہ مشہور جینز کے برانڈ پر سیل ہے. دبئی کے رہائشی جانتے ہیں کہ نومبر کے اواخر سے جو سیلز شروع ہوتی ہے وہ سال کے اختتام تک جاری رہتی ہیں. یہ آفرز اتنی دل کھینچ ہوتی ہیں کہ اس سے دامن کیا آنچل بلکہ جیب بچانا بھی انتہائی مشکل ہے.

    امریکن ایگل پہ buy one get one free کی آفر تھی. وہ بھی پورے اسٹور پہ. یہ نہیں کہ ایک کونے می نہ بکنے والا سامان رکھ دیا گیا ہو. وہ الگ چھپا کر رکھا ہے جو مال اچھا ہے کی تفسیر نہیں تھی.

    دوسرے دن ارسلان آفس سے واپسی پہ سیدھا مردف سٹی سینٹر گیا. اپنی پسندیدہ دو جینز ایک کی قیمت میں خریدیں اور گھر واپس آگیا.

    ثمرین کو بھی ایسے بہت سے میسیجز مسلسل آرہے تھے. چونکہ جاب کرتی تھی اس لیے صبح تو جا نہیں سکتی تھی. اس لیے ثمرین نے پروگرام بنایا کہ ہفتے کی صبح دس بجے ہی نکل جائے گی. صبح صبح رش بھی نہیں ہوگا اور پارکنگ بھی آسانی سے مل جائے گی. ویسے ثمرین کی پارکنگ کی صلاحیتیں کچھ اچھی نہیں تھیں. بقول ثمرین کے شوہر اس کو ایک گاڑی پارک کرنے کے لیے دو گاڑیوں کی جگہ چاہیے ہوتی ہے. اور بقول ثمرین کہ میں حلوہ پارکنگ یعنی جہاں دور دور تک کوئی گاڑی نہ ہو، بہترین پارکنگ کر سکتی ہوں.

    چیزیں بٹورنے کی خوشی میں ثمرین صبح وقت پہ ہی گھر سے نکل گئی. حلوہ پارکنگ تو نہیں ملی لیکن ایسا اسپاٹ مل گیا جہاں تین بار ریورس کر کے گاڑی پارک کر ہی لی. گاڑی سے اتر کر سیدھی مول اینٹرینس کی طرف لپکی لیکن پھر یاد آیا کہ موبائل تو گاڑی میں ہی بھول آئی ہوں. گاڑی سے موبائل نکال کر جلدی سے پارکنگ اسپاٹ کی تصویر لے لی ورنہ پھر واپسی پر گاڑی ڈھونڈنے کی خواری ہوتی. یہ مول والے بھی ایک جیسے پارکنگ اسپاٹ پتا نہیں کیوں بنا دیتے ہیں.

    اس کا ارادہ سیدھا امریکن ایگل جا کر جینز اٹھانے کا تھا لیکن برا ہوا bath and body works کا. کیا کِلر آفر تھی. Buy three get four free. ثمرین نے سارے سال کے hand soaps, shower gels, scented candles, fragrances خرید لیے. بل تین سو درہم آیا لیکن سات سو کے آئیٹمز تین سو مل جانا ایک بہترین بچت ہے.

    اس شاپنگ کے بعد ثمرین سیدھا جینز اسٹور جانا ہی چاہتی تھی کہ H&M پہ نظر پڑی. Flat 40% off on entire store.
    ہائے وہ بیگ جس کو پچھلی بار دیکھ کر آہ پھر کر گئی تھی وہ اب اٹھتر درہم کا تھا. اس بیگ کو چھوڑنا کفران نعمت ہوتا. ساتھ ساتھ اسے بچوں کے لیے جیکٹس بھی مل گئے. اس شاپنگ کے بعد اس نے خود کو ڈانٹا کہ اب پیسے ختم ہو رہے ہیں سیدھا امریکن ایگل کا رخ کرنا چاہیے.

    وہ امریکن ایگل کی طرف بڑھی ہی تھی کہ Home box میں برتنوں کا سیٹ انہتر درہم کا تھا. یا اللہ کلر کس قدر پیارا ہے. اور ساتھ میں برنیوں کا سیٹ صرف پچیس درہم میں. بچوں کے بسکٹ اور دوسری چیزیں ان برنیوں میں کتنی پیاری لگیں گی. صرف دو ہی سیٹ بچے ہیں. اس سے پہلے کہ کوئی اچک لے ثمرین نے جلدی سے دونوں چیزیں اپنی ٹرالی میں رکھ لیں. پیمنٹ کاؤنٹر کے پاس ہی کافی کے مگز اور چمچ اور کانٹوں کے پیکٹس بھی پڑے تھے. وہ بھی ساتھ رکھ لیے.

    دکان سے باہر نکل کر خود کو کوسا کہ اب صرف دو سو درہم خرچ کرنے کی گنجائش ہے. شرافت سے امریکن ایگل چلی جاؤں. جلدی جلدی اسی طرف چلنے لگی تو Carrefour میں تمام میک اپ پراڈکٹس پہ پچاس فیصد آف تھا. اس کے قدموں نے آگے بڑھنے سے انکار کردیا.

    سارے پیسے ختم ہو چکے تھے. امریکن ایگل میں جانے کی گنجائش بالکل نہیں تھی. اتنی شاپنگ کے بعد وہ تھک بھی گئی تھی. گھر جا کر پکانے کی ہمت بالکل نہیں تھی. اس نے کے ایف سی سے ایک فل فیملی میل خریدا اور سرشار سی گاڑی میں بیٹھ کر سوچنے لگی کہ ڈھائی ہزار کا سامان ہزار درہم میں لائی ہے. امریکن ایگل سے جینز اگلے ہفتے خرید لوں گی.

    ارسلان انتہائی مضبوط قوت ارادی کا مالک تھا. مول میں سے صرف وہی خریدا جس کی ضرورت تھی. لیکن برا ہو ایپل اسٹور کا. اتنی شاندار آفر تھی. کیسے مس کرتا. اس نے مول میں پیسے بالکل خرچ نہیں کئے. بس نیا فون لے لیا. پرانا فون بیگم کو کام آجائے گا. یہ کوئی فضول خرچی تو نہیں.

  • دوسری شادی میں حائل مسائل اور ان کا حل — پروفیسر ایچ ایم زبیر

    دوسری شادی میں حائل مسائل اور ان کا حل — پروفیسر ایچ ایم زبیر

    کل "بچے کی غلطی” سے "گاٹ میرییڈ” کا اسٹیٹس اپ لوڈ ہو گیا کہ جس سے دوسری شادی کے بارے ایک بار پھر بحث چھڑ گئی۔ ہمارے ہاں مذہبی طبقہ دوسری شادی کے لیے موٹیویٹ ضرور کرتا ہے لیکن اس کے مسائل اور ان کے حل پر گفتگو بہت کم ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مذہبی طبقے میں ایک بڑے پیمانے پر دوسری شادی کی محض خواہش ہے، عمل نہیں ہے۔ عمل اسی وقت ممکن ہو سکے گا جبکہ اس کے مسائل کو متعین کر کے ان کے حل پر بحث ہو گی ورنہ تو لوگوں کو معلوم ہے کہ دین کا حکم کیا ہے، سنت کیا ہے، لیکن دین اس کے حکم یا سنت پر عمل کرنے سے علماء بھی ہچکچاہٹ کا شکار ہیں، یہ وہ گیپ ہے کہ جسے فِل کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک دوسرے کو لطیفے سنا کر یا جگتیں مار کر خوش ہو جاتے ہیں اور اپنی فرسڑیشن نکال لیتے ہیں۔ آپ لوگ بھی دوسری شادی کے مسائل اور ان کے حل کے حوالے سے کمنٹس میں اپنے خیالات کا اظہار کریں کہ اس کے مسائل دینی سے زیادہ سماجی ہیں۔

    ایک صحت مند مرد کے لیے ایک بیوی ناکافی ہے، یہ بات بہت حد تک درست ہے۔ ایک بیوی کافی ہو سکتی ہے، یہ بات بھی درست ہے، لیکن وہ خود نہیں ہوتی یا ہونا چاہتی، اپنی حرکتوں اور رویوں کے سبب، کیونکہ اس نے اپنے خاوند کو ناں کرنی ہی ہوتی ہے، کبھی اسے دبانے اور نیچے رکھنے کے لیے، اور کبھی کسی بات کا غصہ اتارنے اور بدلہ لینے کے لیے، اور کبھی اسے خود بھی معلوم نہیں ہوتا کہ کیوں ایسا کر رہی ہے، اور کبھی فطرت کا تقاضا ہوتا ہے کہ وہ ناں کرتی ہے جیسا کہ حالت حیض میں ہے، یا حمل ٹھہرا ہوا ہے، یا ساس نند کے کہے سنے کا غم منا رہی ہے، کبھی جوائنٹ فیملی سسٹم ہے، کبھی بچے چھوٹے ہیں تو ان کے جاگ جانے کا اندیشہ ہے، کبھی بچے بڑے ہیں تو ان کے ٹپکنے کا خطرہ ہے، لہذا موقع ہی نہیں مل رہا، اور موقع مل جائے تو بیوی کا موڈ نہیں بن رہا، لہذا پاکستانی بیوی تو مرد کو سال میں دو تین مرتبہ ہی بمشکل ملتی ہو گی، باقی تو وہ زیادہ تر کپڑوں سمیٹ ہی ضرورت پوری کرنے پر گزارا کر لیتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ ایسے میں اس کا گزارا ہو جاتا ہے، مرد کا نہیں ہوتا۔ تو یہ مردوں کا چسکا نہیں ہے جیسا کہ بیویوں کا خیال ہوتا ہے بلکہ یہ ان کی ضرورت ہے۔

    پہلا مسئلہ جو عام طور لوگ بیان کرتے ہیں اور لوگوں کا خیال ہے کہ یہی سب سے بڑا مسئلہ ہے، وہ بیوی اور اس کے خاندان کی طرف سے سوشل پریشر ہے جبکہ بیوی کا خاندانی اسٹیٹس اچھا ہو۔ آپ کی پہلی بیوی مذہبی خاندان سے بھی ہو گی تو بھی آپ پر بہت زیادہ سوشل پریشر ہو گا کہ آپ دوسری شادی نہ کریں۔ اور یہ سوشل پریشر محض پریشر نہیں ہوتا بلکہ بعض اوقات آپ کو محسوس ہو رہا ہوتا ہے کہ اگر آپ نے دوسری شادی کر لی تو آپ کی زندگی اجیرن ہو جائے گی لہذا آپ ڈر جاتے ہیں کہ ایک مشکل یعنی سیکسچوئل فرسٹریشن سے نکل کر دوسری بڑی مشکل گھر کی تباہی کو گلے لگانا کون سی عقلمندی ہے؟

    میں تو اس مسئلے کا حل یہی بیان کرتا ہوں کہ مستقل طور نہیں البتہ کچھ عرصے کے لیے جیسا کہ دو چار سال کے لیے دوسری شادی کو چھپا لیں کہ ایک دو بچے پیدا ہو جائیں تو ظاہر کر دیں کہ اس کے بعد عورت میں قبولیت کسی قدر آ ہی جاتی ہے۔ لیکن اب اس حل سے ایک دوسرا مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے کہ جب آپ شادی کو کچھ عرصہ چھپائیں گے تو لازما دوسری بیوی کے حقوق میں کوتاہی کریں گے تو آخرت خراب ہو گی۔ ایسے میں اگر آپ ایسی بیوی چاہتے ہیں جو اپنے کم حق پر راضی ہو جائے اور آپ کو اپنا حق معاف کر دے تو وہ ملے گی نہیں۔ خیر مل تو جائے گی لیکن آپ کے سوشل اسٹیٹس کی نہیں ملے گی اور شادی ناکام ہو جائے گی۔ میں نے ایسی دوسری شادیاں دیکھی ہیں کہ جن میں مردوں نے اپنے سوشل اسٹیٹس سے کافی نیچے کمپرومائز کر کے شادی کر لی لیکن ذہنی سطح ایک نہ ہونے کی وجہ سے شادی چل نہ سکی۔ اس مسئلے کا حل یہ ہو سکتا ہے کہ کوئی مطلقہ یا خلع یافتہ خاتون دیکھیں، شاید وہاں آپ کو زیادہ کمپرومائز نہ کرنا پڑے اور اپنے سوشل اسٹیٹس کی مل جائے۔

    تیسرا اہم مسئلہ جو میرے نزدیک سب سے اہم ہے، گھر ہے۔ دوسری شادی کرنے سے پہلے آپ کے پاس دو گھر ہونے چاہییں، یہ ضروری ہے۔ دینی نہیں، سماجی ضرورت کی بات کر رہا ہوں۔ آپ معاشی طور مضبوط ہیں تو دوسری شادی کی صورت میں آپ کی پہلی بیوی کہیں نہیں جائے گی لیکن اگر آپ معاشی طور کمزور ہیں تو پہلی بیوی آپ کے پاس نہیں ٹکے گی لہذا دوسری شادی کا فائدہ نہیں ہو گا کہ رہے گی تو آپ کے پاس ایک ہی۔ اور یہاں اس تنخواہ میں ایک گھر بنانے میں زندگی لگ جاتی ہے چہ جائیکہ کہ انسان دو گھر بنا پائے۔ آپ کو پہلا بلکہ دوسرا رشتہ بھی اسی صورت بہتر ملے گا جبکہ آپ کے پاس اپنا گھر ہو گا۔

    اور فی الحال کی صورت حال یہ ہے کہ مڈل کلاس میں میاں بیوی دونوں کماتے ہیں، ایک گھر کا کرایہ دیتا ہے جیسا کہ بیوی ہے اور دوسرا گھر کا خرچ اٹھاتا ہے جیسا کہ شوہر ہے۔ اب جبکہ آپ کرائے کے مکان میں ہوں یا مکان کا کرایہ بھی آپ کا لائف پارٹنر دے رہا ہو اور اس طرح آپ زندگی کی گاڑی کھینچ رہے ہوں تو کس طرح دوسری شادی افورڈ کر سکتے ہیں؟ اس کا حل بعض لوگوں نے یہ نکالا کہ دوسری شادی بھی ایسی ہی خاتون سے کر لی جو ملازمت پیشہ تھی اور وہاں بھی یہی ماڈل چلا لیا کہ کچھ خرچ عورت نے اٹھایا اور کچھ مرد نے۔ لیکن اس سے ایک مسئلہ تو حل ہوا البتہ دوسرا بڑھ گیا۔ اور وہ یہ کہ بیوی جب گھر کا خرچ اٹھاتی ہے تو دباتی بھی ہے تو بیوی کا یہ دباؤ اب دو گنا ہو گیا۔ تو اگر آپ اتنا ذہنی دباؤ لے سکتے ہیں تو کر لیں۔ اس کا حل یہ ہے کہ شادیاں دو نہیں، تین یا چار کریں۔ دو تو مرد کو فٹ بال بنائیں گی الا یہ کہ کسی میں خوف خدا غالب ہو۔

    اصل میں دوسری شادی نہ تو غریب طبقہ کر سکتا ہے کیونکہ ان کے مسائل تو کھانے پینے سے ہی نہیں نکلے۔ مڈل کلاس کے مسائل وہی ہیں جو اوپر بیان کیے ہیں کہ گھر نہیں ہے، یا ملازمت اور بزنس اسٹیبل نہیں ہے اور میاں بیوی مل کر گھر کا خرچ پورا کر رہے ہیں۔ البتہ ایلیٹ کلاس کے لوگ کر سکتے ہیں کہ جن کے ڈی ایچ اے، گلبرگ، بحریہ ٹاون اور ماڈل ٹاون وغیرہ میں دو دو کنال کی کوٹھیاں ہیں لیکن دین اور ایمان عموما ان کا مسئلہ ہے ہی نہیں لہذا انہیں ضرورت ہی نہیں۔ مطلب، وہ دوسری شادی کے بغیر دسیوں عورتوں سے اپنی خواہش پوری کر سکتے ہیں لہذا انہیں دوسری شادی بے وقوفی معلوم ہوتی ہے۔ پہلی بھی انہوں نے دنیا کو دکھانے کے لیے کر رکھی ہوتی ہے۔ ان میں اگر کوئی دیندار ہے تو اسے آسائش اور تن آسانی کی زندگی نے بزدل بنا رکھا ہے کہ جسے وہ حکمت اور فراست سمجھے بیٹھا ہے۔ اس کے علاوہ بھی مسائل ہیں لیکن تحریر لمبی ہو جائے گی۔

    میں تو اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ دوسری شادی مسئلے کا حل نہیں ہے، اوور آل بات کر رہا ہوں، مسئلے کا حل تیسری اور چوتھی شادی ہے۔ جس نے تیسری اور چوتھی کرنی ہے، وہ ہمت کرے۔ دوسری والا پریشان ہی رہے گا۔ واللہ اعلم بالصواب

  • حق سے محروم بہنیں — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    حق سے محروم بہنیں — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    میرے ایک دوست نے اپنے سکول میں کچھ اساتذہ کو بھرتی کرنا تھا تو انٹرویوز والے دن مجھے بھی بلا لیا۔ صرف دو اساتذہ کو رکھنا تھا لیکن بہت سے لوگ انٹرویو دینے آئے ہوئے تھے۔ ایک ایک کر کےہم انھیں بلا رہے تھے۔ ساتویں آٹھویں نمبر پر ایک لڑکی حدیقہ انٹرویو دینے آئی تو ایسی علیک سلیک ہوئی جس سے مجھے لگا کہ یہ ایک دوسرے کو اچھے سے جانتے ہیں اس لیے اس انٹرویو میں میں خاموش رہا۔بعد میں معلوم ہوا کہ وہ ایک دوسرے کے کلاس فیلو رہ چکے تھے۔

    رسمی سلام دعا کے بعد دوست نے کہا کہ آپ کو اس جاب کی کیا ضرورت پڑ گئی۔ اس تنخواہ میں تو آپ کا ایک سوٹ بھی نہیں آئے گا۔
    حدیقہ نے کہا کہ اب وہ یونیورسٹی والا دور نہیں رہا جب میں بڑی سی گاڑی میں آتی تھی۔ اب میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔
    میرے دوست نے حالات کا مزید پوچھا کہ آپ کے والد کی تو بہت زیادہ زمینیں تھیں، بنگلے کوٹھیاں اور گاڑیاں۔۔۔ ان سب کا کیا ہوا کہ آپ کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔

    کہنے لگی، تب میرے والد صاحب زندہ تھے، وہ میرے سارے نخرے اٹھاتے تھے اور میرا خیال بھی رکھتے تھے۔ میری ہر خواہش بھی پوری کرتے تھے۔ ایم فل کے آخری سال میں تھی تو والد صاحب ایک حادثے میں وفات پا گئے۔ والد صاحب کے بعد ساری دولت اور جائیداد دونوں بڑے بھائیوں کے پاس آگئی۔ مجھے بڑی مشکل سے آخری سمسٹر کے امتحانات دینے کی اجازت ملی۔

    پھر میری تعلیم مکمل ہونے کے بعد مجھے اپنے گھر میں تقریباً قید رکھا گیا۔ وہاں ہر سہولت میسر تھی لیکن نہ باہر نکل سکتی تھی نہ کسی سے بات چیت کی اجازت تھی۔ والدہ صاحبہ کو میری حالت پر ترس آتا تھا لیکن انھیں بھی یہ تھا کہ جائیداد صرف بیٹوں کو ہی ملنی چاہیے۔ کئی بار میرے بھائیوں نے مجھے والد صاحب کی وراثت سے محروم کرنے کے لیے کاغذات پر دستخط کروانے کی کوشش کی لیکن میں نے ہر بار انکار کیا۔ اس پر مجھے تشدد کا بھی نشانہ بنایا گیا۔ اسی طرح کئی سال گزرے۔ میری عمر ڈھلنے لگی، والدہ صاحبہ بھی وفات پا گئیں تو میری ہمت بھی جواب دے گئی۔ مجھے اس گھر سے اب وحشت ہونے لگی تھی۔

    بالآخر میں نے ہار مان لی اور ساری وراثت سے دستربردار ہوگئی۔ کچھ عرصے بعد ایک غریب رشتہ دار کےساتھ میری شادی کر کے مجھے اپنی آبائی حویلی سے بھی نکال دیا گیا۔ غریب شخص کا انتخاب اس لیے کیا گیا تاکہ میرے پاس کبھی اتنے پیسے نہ ہوں کہ میں ان کے خلاف کوئی مقدمہ لڑ سکوں۔ لیکن میں نے اپنا مقدمہ اب یہاں کسی عدالت میں نہیں لڑنا ، نہ ہی مجھے میری زندگی میں انصاف مل سکتا ہے۔ ہاں ایک عدالت آخرت میں ہونی ہے، اس میں اللہ میاں سے یہ ضرور کہوں گی کہ جیسے ان دونوں نے مجھے میرے حق سے محروم رکھا ہے، انھیں بھی اپنی رحمت سے محروم رکھ۔

    حدیقہ خاموش ہوئی تو کافی دیر تک خاموشی چھائی رہی۔ شاید کسی میں کچھ کہنے سننے کی بھی ہمت نہیں رہی تھی۔ سب بس بمشکل آنسو ضبط کیے بیٹھے تھے۔

    چند لمحے بعد میرے دوست نے کہا کہ آپ کا ایک بھائی تو خاصا مذہبی تھا۔اور چھوٹا لبرل تھا جس سے اکثر یونیورسٹی میں اس موضوع پر بحث بھی ہوجاتی تھی۔

    حدیقہ نے میرے دوست کی بات پوری ہونے سے بھی پہلے کہا، جی میں نے بڑے بھائی کو اسلامی حوالے بھی دیے اور کہا تھا کہ آپ کے حج اور عمرے کا آپ کو کیا فائدہ جب آپ میرا حق دبا کے بیٹھے ہیں۔

    چھوٹے لبرل بھائی سے بھی کہا کہ آپ خواتین کے حقوق کے علمبردار ہیں لیکن اپنی بہن کو اس کا جائز حق دینے کے حق میں بھی نہیں۔ آپ کے لبرلزم میں تو میرا تیسرا حصہ بنتا ہے جبکہ آپ مجھے پانچواں حصہ بھی دینے کو تیار نہیں۔

    لیکن اس جائیداد والے معاملے میں مذہبی ہوں یا لبرل، سارے مرد ایک جیسے ہیں۔ خواتین کو جائیداد میں حصہ دیتے سب کو موت پڑتی ہے۔

    پتہ نہیں کتنی حدیقائیں اپنے ہی بھائیوں کی لالچ کی وجہ سے اپنے حق سے محروم ہوتی رہیں گی۔ کیا کوئی بھی شخص مال و دولت کو اپنے ساتھ قبر میں لے کر گیا ہے؟ پتہ نہیں لوگ یہ کیسے کر لیتے ہیں کہ جان چھڑکنے والی بہنوں کو بھی ان کے جائز حصے سے محروم کر کے خوش رہتے ہیں۔ایسے لوگ خود کو عذابِ قبر اور جہنم سے کیسے بچا پائیں گے؟

  • کیا آپ کے شوہر کو باہر کی عورت کی لت لگ گئی ہے؟ — ڈاکٹر ثناءاللہ فاروقی

    کیا آپ کے شوہر کو باہر کی عورت کی لت لگ گئی ہے؟ — ڈاکٹر ثناءاللہ فاروقی

    شوہر کو راہ راست پر لانے کی کنجی عورت کے ہاتھ میں ہے اپنے شوہر کو اپنا بنانے کے لئے عورت کو شوہر سے محبت کا انداز اور طریقہ سیکھنا چاہئے.

    شوہر کتنا بھی غصہ والا اور بڑا بدمعاش بےوقوف آوارہ ہو لیکن اس کو راہ راست پر لانے کی کنجی عورت کے ہاتھ میں ہے.

    بہت سی ایسی مثالیں موجود ہیں کہ عورت نے اپنے شوہروں کی اصلاح کی ہے آوارہ گرد شوہر کو بھی صحیح راہ پر لانے والی اور صبر کرنے والی عورتوں کی کوئی کمی نہیں شوہر کے دل کو اپنے مٹھی میں رکھنے کے لیے اس کی ہر خواہش کی تابع بن جائے اس کی غلطیوں اور کج روی دور کرنے کے لئے اچھی مثالیں دے کر سمجھائے اس کو دینی ماحول میں بھیجے .

    گھر میں قرآن و حدیث کی تعلیم کرے اور دین کی باتیں شوہر کو سمجھائے اللّه سے اس کے لیے ھدایت کی دعا کرے .

    شوہر کو جس کام سے خوشی ہوتی ہے ایسے کام کریں دل کی گہرائیوں اور پر خلوص طریقے پر اس کی خدمت کریں تو شوہر ایک نہ ایک دن ضرور اس کا تابع ہو جائے گاان شاءاللّٰہ.

    جو عورت اپنے شوہر سے سچی محبت کرتی ہے ایسے شوہر کی مجال نہیں کہ وہ اپنی عورت کا بے وفا بن کر ادھر ادھر بھٹکتا رہے
    جی ہاں اپنی ازدواجی زندگی میں مسائل کے ذمہ دار آپ خود ہیں.

    بیویاں شوہر کے لیۓ سجنے سنورنے کو تیار ہی نہیں.

    شوہر جیسے ہی گھر میں داخل ہوتا ہے تو وہی گرد آلود چہرا موٹا جسم بوسیدہ لباس خشکی بھرے بال لیۓ مردانہ آواز نکالتے ہوۓ منہ بنا کر غصہ میں کہتی ہے فلاں چیز لانا بھول گئے ہونگے معلوم ہے مجھے آپ سے ایک کام ڈھنگ سے نہیں ہوتا وغیرہ وغیرہ.

    یہاں وہ شوہر آہستہ آہستہ بیوی سے دور ہونا شروع ہوجاتا ہے پھر اسے بیوی سے زیادہ موبائل ٹیلیوژن اور دوستوں میں دلچسپی بڑھنے لگتی ہے.

    ایمان اور دل میں اللّٰہ کا ڈر ہوتا ہے تو نفس پر قابو کیۓ رکھتا ہے اور کہیں ایمان کمزور خوف اللّٰہ کم ہو تو باہر خواتین سے تعلق بنا بیٹھتا ہے.

    ہر شخص اپنی بیوی کو جوان تر و تازہ اور خوبصورت دیکھنا چاہتا ہے ہر شخص چاہتا ہے کہ اسکی بیوی رومانوی انداز میں گفتگو کرے لیکن خواتین کی طرف سے جواب ملتا ہے کہ بچوں کے بعد یہ سب نہیں ہوتا بچے کون سنبھالے گا گھر کے کام کاج کون کرے گا ان تمام معاملات میں انسان کی حالت خراب ہو ہی جاتی ہے.

    اور پھر اس کا نتیجہ کچھ یوں نکلتا ہے کہ شوہر موبائل میں مصروف رہتے ہیں دوستوں میں مصروف رہتے ہیں آفس کام سے دھیان ہی نہیں ہٹتا گھر دیر سے آتے ہیں.

    واضح بات ہے کہ جب بیوی کے اندر سے شوہر کو نظر انداز کرنے کی فیلنگز آیئں گی تو شوہر نے موبائل اور ٹیلیوژن کو ہی ترجیح دینی ہے دوستوں کو ہی ترجیح دینی ہے ایسا کیسے ممکن ہے کہ سجی سنوری بیوی سے منہ موڑ کر شوہر موبائل میں گھسا رہے؟

    اگر ایک عورت اپنے کمرے کا ماحول شوہر کے لیے رومانوی بنا کر رکھے خود کو شوہر کے لیے تیار کیۓ سج سنور کر رہے شوہر سے گفتگو کے دوران آواز میں نرمی اپناۓ رکھے تو شوہر دوستوں میں جانا تو دور بلکہ اپنے آفس سے جلدی چھٹی لے آۓ گا.

    یہ تو اللہ کا حکم ہے خواتین واسطے کے اپنے شوہر کے لیے سجنی سنوری رہا کرو تاکہ شوہر کا اپنی بیوی سے دل لگا رہے وہ کبیرہ گناہوں کی طرف نا جاۓ اور غیر محرموں سے پردے کا حکم دیا گیا.

    لیکن یہاں تو مکمل الٹی گنگا بہ رہی ہے کہ گھر میں شوہر کے سامنے بیوی کے ہاتھوں میں سے پیاز اور لہسن کی سمیل آرہی ہے اور کسی شادی کہ تقریب میں جاتے وقت میک اپ کے ڈبے ختم کر دیے آدھے آدھے پرفیوم اور سپرے ہوا میں اڑا دیے.

    بعض جگہ مردوں میں بھی یہ خامیاں ہیں بیوی کے پاس جایئں تو صفائ و ستھرائ کا خیال رکھیں خود کو چست و ایکٹو رکھیں چہرے پر مسکراہٹ رکھے بالوں میں کنگھی اور ہلکی خوشبو کا استعمال بے حد ضروری ہے.

    ایسا نا ہو کہ باہر سے پسینے میں بھرا آۓ اور بدبو سے آس پاس ماحول خراب کر دے سر کے بالوں میں خشکی نا آنے دے داڑھی ہے تو کنگا کیا کرے چہرے گرد و پسینے سے صاف رکھے مطلب بیوی کو بھی اپنا شوہر جوان خوبصورت ترو تازہ اور ایکٹو اچھا لگتا ہے.

    تمام باتوں کا مقصد یہ ہے میاں بیوی کی زندگی میں دونوں کا ایک دوسرے کے لیئے سجنا سنورنا ایک دوسرے کے لیئے تیار ہونا بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے اس سے محبت بڑھتی ہے بیزاریت دور بھاگتی یے گھر کا ماحول خوبصورت رہتا ہے.

    بیوی کے معاملات اس لیئے زیادہ ڈسکس کیے کہ اکثر و بیشتر بیویاں بچوں اور گھر کے کاموں میں اتنا مصروف ہو جاتی ہیں کہ شوہر کے لیۓ سجنے اور سنورنے کے لیۓ وقت نہیں نکال پاتی جس سے شوہر آہستہ آہستہ بیوی سے دور ہونے لگتا ہے جیسا کہ اوپر لکھا جا چکا ہے.

    مختصر سی بات ہے فارغ آج کل کوئی بھی نہیں جہاں خواتین کے پاس کام کے انبار لگے ہوتے ہیں وہاں مرد بھی دن بھر کمانے کیلیے اپنی جان جلاتا ہے وقت نکلتا نہیں ہے وقت نکالنا پڑتا ہے اور ایک دوسرے کے لیئے سجنا سنورنا تو اس رشتے کے لیے انتہائ ضروری ہے اگر اس کے لیے دونوں میں سے کسی کو فرصت نہیں ملتی تو معذرت کے ساتھ عرض یہ ہے کہ اپنی ازدواجی زندگی میں مسائل کے ذمہ دار آپ خود ہیں
    اکثر خواتین یہ شکوہ کرتی نظر آتی ہیں کہ ان کا شوہر دوسری عورتوں کی طرف راغب ہوتا ہے جو کہ انتہائی غلط کام ہے اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص اپنے پاک اور صاف لباس کو چھوڑ کے گندہ لباس پہن لے خواہ ایسا کام کرنے والا مرد ہو یا عورت
    خواتیں یہ شکوہ تو کرتی ہیں کہ شوہر دوسری خواتیں میں دلچسپی لیتا ہے لیکن وجہ معلوم کرنے کی کوشش نہیں کرتیں کہ وہ ایسا کیوں کر رہا ہے اس کی اکثر تین وجوہات ہوتی ہیں.

    1: بیوی کی بدزبانی.
    2: بیوی کا اپنے شوہر کی خواہشات کا احترام نہ کرنا شوہر کے حقوق ادا نہ کرنا.
    3: بیوی کا خود کی صفائی کا خیال نہ رکھنا.

    1: جب بیوی شوہر سے بد زبانی کرتی ہو تو اس کا دل ضرور بیوی سے دور ہوتا جاتا ہے پھر جب اسے باہر کی کسی دوسری عورت سے عزت اور میٹھے بول سننے کو ملتے ہیں تو وہ اس کی طرف راغب ہوتا ہے لہذا بیوی کو چاہئے وہ شوہر سے پیار سے بات پر میٹھے بول بولے جب آپ شوہر سے نرم میٹھے انداز میں بات کریں گی اس کا دل خوش ہو جائے گا جب گھر سے پیار ملے تو باہر جانے کی کیا ضرورت.

    2: بیوی اپنے شوہر کی ضروریات اور خواہشات کا احترام کرے اس کی ہر جائز خواش کو پورا کرے اور ہر جائز حکم مانے اور شوہر بھی بیوی سے ایسا مطالبہ نہ کرے کو شریعت کے خلاف ہو اور نہ ہی ایسا مطالبہ بیوی کو ماننا چاہئے.

    3: اکثر دیکھا گیا ہے جب لڑکی کی شادی ہوتی ہے تو شروع کے دنوں میں کام کا اتنا بوجھ نہیں ہوتا اور شوق شوق میں وہ خود کا صاف رکھتی ہے اپنے اوپر توجہ دیتی ہے خیال رکھتی ہے لکن جب کام کا بوجھ پڑتا ہے تو وہ ماسی بن جاتی ہو اپنے صفائی کا خیال نہیں رکھتی اگر رکھتی بھی ہے تو پہلے کی طرح نہیں پھر جب اولاد ہو جاتی ہے پھر تو بس اپنی ایسی حالت بنا لیتی ہے کہ شوہر کا دیکھنے کو بھی دل نہ کرے صفائی نصف ایمان ہے .

    جب خود کو صاف نہیں رکھیں گی تو شوہر بیوی پر کیا توجہ دے گا ایسی صورت میں شوہر باہر کی عورتوں کی طرف دیکھتا ہے جو بنی سنوری ہوتی ہیں ایسی عورت ہر مرد کو بھاتی ہے پسند ہوتی ہے.

    لہذا کام اور بچوں کی دیکھ بھال ایک طرف لیکن کم سے کم اپنے کپڑے صاف رکھیں شوہر کے آنے سے پہلے تبدیل کر لیں ہلکا سا میک اپ کر لیں جسا شوہر کو اچھا لگتا ہو اپنی حفاظت کریں تانکہ شوہر جب گھر آئے اور اپنی بیوی پر نظر پڑے تو اسے اچھی لگے اس کا دل خوش ہو جائے اگر آپ ماسی بنی ہوں گی تو پھر شوہر سے توجہ کی امید نہ رکھیں.

    جن لڑکیوں کی شادی ہونے والی ہے وہ شروع سے ہی ان باتوں کا خاص خیال رکھیں کیونکہ جب آپ کی لا پرواہی کی وجہ سے ایک بار شوہر کو باہر کی عورتوں کی لت لگ گئی تو پھر اس عادت کو چھوڑنا بہت مشکل ہے.

  • نسل در نسل چلنے والا ٹراما — نکولی لا پریرا (مترجم: ضیغم قدیر)

    نسل در نسل چلنے والا ٹراما — نکولی لا پریرا (مترجم: ضیغم قدیر)

    نسل در نسل چلنے والا ٹراما آپکے فیملی پیٹرنز میں مختلف طریقوں سے ظاہر ہوتا ہے۔ جس میں کچھ عادات، پیٹرن اور خصائص آپ میں آپکے والدین سے منتقل ہوتے ہیں۔

    جیسا کہ فرض کریں،

    آپ کے دادا دادی ایک ایسے خاندان میں پیدا ہوئے تھے جنہوں نے ساری عمر غربت کو ہی دیکھا تھا ڈومیسٹک وائلنس عام چیز تھی۔

    اب وہ بائیس سال کی عمر میں ایک دوسرے کیساتھ ملتے ہیں، شادی ہوتی ہے اور 25 تک بچے ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ مگر دونوں گرینڈ پیرنٹ ابھی تک اپنے چائلڈ ٹراما کو پراسس ہی نہیں کر پائے ہیں۔

    ان کے تین بچے ہوتے ہیں،

    اب غربت میں ان تینوں کو پالنا خاصہ جوکھم والا کام ہے اور یہ ان کو مزید سٹریس دے رہا ہے اور ان کے بچپن کے برے تجربات ان کو ڈپریشن اور انزائٹی میں دھکیل رہے ہیں۔

    اب چونکہ بچپن برا تھا تو اس کی وجہ سے ماں نہایت سٹریس میں رہنے کی وجہ سے گرم طبیعت رکھتی ہے اس کو چھوٹی چھوٹی بات بری لگتی ہے اور وہ اپنے بچوں کے پاس رہ کر بھی ان سے منقطع رہتی ہے وہ جسمانی طور پر تو وہاں موجود ہوتی ہے مگر ذہنی طور پر نہیں ۔

    وہیں پر باپ ہر وقت کام پہ مصروف رہتا ہے اپنے بیوی بچوں کو بہت کم یا پھر صفر ایموشنل سپورٹ دیتا ہے اور کام میں ہی کہیں افئیر چلا لیتا ہے اور چونکہ ٹاکسک ماحول کی سب سے بری عادت راز رکھنا ہوتی ہے سو وہ بخوبی چھپانا جانتا ہے۔

    ان حالات میں ماں شوہر کی ہر بات کو جان رہی ہوتی ہے مگر وہ بند آنکھوں کا ڈرامہ رچا کر کچھ بھی نا دیکھنے کی اداکاری کرنا شروع ہو جاتی ہے اور اس سب سے فرار کی خاطر اپنے بچوں کیساتھ ‘کو ڈپینڈنٹ’ تعلق بنا لیتی ہے جس میں ایک شرط ماں پوری کرتی ہے تو بچے دوسری، یہ تعلق خصوصا بڑے بیٹے کیساتھ ہوتا ہے جس کو وہ اپنا ‘پارٹنر’ سمجھنے لگ جاتی ہے۔

    اب اس بڑے بچے کو دونوں یہ سکھاتے ہیں کہ گھر کا سربراہ صرف وہی ہے اور کوئی نہیں، اور ماں کی ایموشنز کا خیال صرف اسی نے رکھنا ہے۔

    اب بچے چونکہ باپ کا سایہ کبھی دیکھ ہی نہیں پائے ہیں اور نا ہی ان سے کبھی اس موضوع پر بات ہوئی ہے کہ ان کا باپ کیسا ہے تو وہ اس اگنور کرنے کو تسلیم کرکے اپنے احساسات چھپا کر جینا سیکھ جاتے ہیں۔

    اسی دوران یہ بچے اپنی ماں کیساتھ ایک مصنوعی تعلق نبھانا شروع ہو جاتے ہیں اور خود سے وعدہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے باپ جیسے کبھی نہیں بنیں گے اور ویسی حرکت کبھی نہیں کریں گے۔

    یہاں اگر انکی فیملی کو اوپر سے دیکھا جائے تو ‘خوش نظر’ آنیوالی فیملی ہے مگر اس میں کچھ بھی خوشی والا نہیں ہوتا ہے۔

    جوان ہونے تک یہ بچے سیکھ جاتے ہیں کہ کیسے انہوں نے ایک ماسک کے نیچے اپنے احساسات کو چھپانا ہے اور کیسے بغیر کسی کو بتائے جینا ہے۔ اسی دوران سب سے بڑا بیٹا نشے یا آوارہ گردی کی طرف چلا جاتا ہے درمیانی بیٹی خود سے بڑی عمر کے شخص سے دوستی کرکے شادی کرنے کی طرف چلی جاتی ہے کیونکہ وہ باپ جیسے پیار کی تلاش میں ہوتی ہے جو کہ اسے کبھی نہیں ملا ہوتا۔

    اور

    سب سے چھوٹی بچی ہر کسی کی بات کو درست مان کر اس کے پیچھے چلنے والی بن جاتی ہے اس کو انزائٹی اور اٹیچمنٹ ایشوز بھی ہوتے ہیں۔

    ان میں سے کوئی بھی اپنے مسائل والدین سے ڈسکس نہیں کرتا کیونکہ ایسا ماحول ہی نہیں مل رہا ہوتا، ایسے خاندان کا واحد ماٹو یہی ہوتا ہے کہ اپنے ٹراما سے تم نے خود ہی لڑنا ہے۔

    جنریشنل ٹراما کے کچھ بنیادی عناصر یہ ہو سکتے ہیں؛

    نشے کی لت یا جوئے کی لت
    خاندان میں ایک سے زائد لوگ ذہنی پریشانیوں کا شکار ہوتے ہیں
    راز رکھنا اور بات تسلیم نا کرنے کو کامیابی سمجھنا
    ایک دوسرے پہ حد سے زیادہ انحصار
    باؤنڈریز نا رکھنا
    خود شناسی کی کمی
    ایموشنلی امیچور ہونا
    کسی بھی طرح کے سٹریس کا سامنا نا کر پانا
    خود کو کمتر سمجھنا
    دوسروں پہ اعتماد نا کرنا
    وغیرہ

    لیکن خوش قسمتی سے ان سائیکلز کو توڑا بھی جا سکتا ہے سائیکل بریکر وہ شخص ہوتا ہے جو اس لائف سٹائل سے فرار ڈھونڈ کر خود شناسی سے ان ٹراماز پہ قابو پانا سیکھ جاتا ہے۔ اور یہ چیز آپ کو خود ہی سیکھنا ہوتی ہے۔