Baaghi TV

Category: خواتین

  • میرے وقت  کی قدر

    میرے وقت کی قدر

    میرے وقت کی قدر
    ہماری تیز رفتار زندگیوں میں، ہم اکثر خود کو وقتی توقعات کے بھنور میں پھنسے ہوئے پاتے ہیں، ایک خاص عمر کے حساب سے تعلیم، کیریئر کی ترقی، مادی املاک کامیابی کی علامت کے طور پر حاصل کرنے کے لئے ہم موجودہ لمحے سے لطف اندوز ہونے اور کچھ انتہائی ضروری "میرے وقت” میں شامل ہونے کی اہمیت کو نظر انداز کرتے ہیں۔

    ایک قدم پیچھے ہٹتے ہوئے، میں اپنے لیے لمحات کو تراشنے کی اہمیت کی تعریف کرنے آئی ہوں۔ یہ "میرا وقت” صرف ایک عیش و آرام نہیں ،یہ فلاح و بہبود کے لیے ایک بنیادی ضرورت ہے۔ یہ ذہنی اور جسمانی طور پر اپنے آپ سے دوبارہ جڑنے کے بارے میں ہے۔ چاہے یہ ایک آرام دہ غسل ہو، ایک دلکش کتاب ہو، آرام سے ٹہلنا ہو، یا یوگا سیشن ہو، جوہر اپنے خیالات کے ساتھ موجود رہنے اور ذہن سازی کو اپنانے میں مضمر ہے۔

    یہ وقف شدہ وقت زندگی کے تقاضوں کو متحرک کرنے کے لیے درکار توانائی کو بھرنے، پھر سے جوان ہونے کی اجازت دیتا ہے۔ جیسا کہ کہاوت ہے، "آپ خالی کپ سے نہیں ڈال سکتے”؛ خود کی دیکھ بھال کو ترجیح دینا مجموعی کام کے لیے ضروری ہے۔ میرا وقت، بیرونی اثرات سے بے نیاز ہو کر خود آگاہی اور ذاتی ترقی کو فروغ دیتا ہے،

    ان لمحات کی تنہائی میں، خود شناسی اور ایماندارانہ خود تشخیص کی گنجائش ہے۔ یہ تعلقات کا جائزہ لینے کا ایک موقع ہے، اس بات کا اندازہ لگانا کہ واقعی کسی کی فلاح و بہبود کی کیا پرورش ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، یہ انفرادی مفادات کو آگے بڑھانے اور بیرونی کرداروں کے علاوہ اپنی شناخت کو دوبارہ دریافت کرنے کا موقع ہے۔
    بالآخر، میرے وقت کو ہمارے معمولات میں ضم کرنا صرف تفریح ​​کے لیے مخصوص ایک عیش و آرام کی چیز نہیں ہے۔ یہ خود کی دیکھ بھال اور ذاتی تکمیل کے لیے ایک اہم عمل ہے۔ لہذا، زندگی کی ذمہ داریوں کے افراتفری کے درمیان وقت کے انمول تحفے کو ترجیح دینا یاد رکھیں۔

  • وسیم راشد

    وسیم راشد

    شاہد ریاض خصوصی رپورٹ(باغی ٹی وی)
    پشت پر جس نے بہت زخم لگائے ہیں وسیم
    جھک کے ملتا ہے وہی چاہنے والوں کی طرح

    وسیم راشد(معروف صحافی، ادیبہ،شاعرہ اوراینکر)
    23 مارچ 1977: یوم پیدائش
    شوہر کا نام:راشد شہاب
    والد کا نام:حافظ عبدالوحید خاں
    والدہ کا نام:سرور جہاں
    جائے ولادت:دہلی
    تعلیم:ایم اے (بی ایڈ)، پی ایچ ڈی ماس کمیونیکیشن
    زبان:انگلش، ہندی، اردو
    پیشہ:معلہ، صحافی، ٹی وی پروڈیوسر، اینکر
    مشاغل:شاعری، نظامت، مقالے پڑھنا، ادبی سرگرمیوں میں حصہ لینا
    موجودہ عہدہ:چیف ایڈیٹر ”صدا ٹوڈے“ نیوز پورٹل
    ممبر گورننگ کونسل، دلی اردو اکادمی
    سابق عہدے:سینئر پی جی ٹی اردو ،صدر شعبۂ اردو (نیو ہورائزن اسکول)وائس پرنسل، کریسنٹ اسکول دریا گنج، نئی دہلی
    ایسوسی ایٹ پروڈیوسر (عالمی سہارا اردو) مدیر (چوتھی دنیا اردو) پرنسپل آور انڈیا انٹر نیشنل اسکول، کاندھلہ، یوپی

    غیرملکی سفر:انگلینڈ، ایران، عراق، کویت، جدہ، پاکستان
    تصنیفات:سرسید کے مخالفین(حقائق کی روشنی میں) 2018ء
    ایوارڈ و اوعزازات

    ۔ (1)پرم شری میڈیا ایکسی لنسی ایوارڈ
    ۔ 2017ء-(برائے اردو صحافت)
    ۔ (2)رانی جھانسی لکشمی بائی ایوارڈ (برائے اردو صحافت)
    ۔ (3)ناہید صحافت (برائے اردو صحافت)
    ۔ (4)آفتابِ صحافت (برائے اردو صحافت)
    ۔ (5)مولانا ابواکلام آزادایوارڈ(برائے اردو صحافت)
    ۔ (6)قرۃ العین حیدر ایوارڈ (برائے اردو فکشن)
    ۔ (7)بہترین استاد ایوارڈ-2004ء(دلی اردو اکاڈمی)
    ۔ (8)بہترین استاد ایوارڈز 2004ء(نیو ہورائزن اسکول)
    ۔ (9)پروین شاکر ایوارڈ، پونہ (برائے اردو شاعری)
    ۔ (10)عصمت چغتائی ایوارڈ (برائے اردو ادب)
    ۔ (11)گولڈ میڈل، پوزیشن، دوئم ، ایم اے اردو، دہلی یونیورسٹی
    ۔ (12)مرزا غالب ایوارڈ( بی اے، اول پوزیشن، دہلی یونیورسٹی)
    گھر کا پتا:C1/9، فلیٹ نمبر 401، چوتھا فلور پاکٹ 11، جسولہ وہار، نئی دہلی-25

    غزل

    تیرا خیال میری انجمن میں رہتا ہے
    عجیب پھول ہے تنہا چمن میں رہتاہے
    میں اس سے دور بھی جاؤں تو کس طرح جاؤں
    وہ عطر بن کے میرے پیرہن میں رہتا ہے
    وہ اپنی روح کے زخموں کو کس طرح گنتا
    ہمیشہ الجھا ہوا وہ بدن میں رہتا ہے
    تری تلاش میں تھک جاتے ہیں قدم لیکن
    سکون قلب بھی شامل تھکن میں رہتا ہے
    یہ بات سچ ہے نظریات جس کے چھوٹے ہوں
    بڑے مکان میں بھی وہ گھٹن میں رہتا ہے
    وسیم ہند کی مٹی میں کیسا جادو ہے
    کہیں بھی جاؤں مرا دل وطن میں رہتا ہے

    غزل

    زندگی جن کی گزرتی ہے اجالوں کی طرح
    یاد رکھتے ہیں انھیں لوگ مثالوں کی طرح
    علم والوں کو کبھی موت نہیں آتی وہ
    زندہ رہتے ہیں کتابوں کے حوالوں کی طرح
    پشت پر جس نے بہت زخم لگائے ہیں وسیم
    جھک کےملتا ہے وہی چاہنے والوں کی طرح

    غزل

    نہ وہ کہانی نہ اب داستان باقی ہے
    بس ایک زخم کا دل پر نشان باقی ہے
    تمھاری یاد کا سایہ تھا جب تلک سر پر
    ہمیں بھی لگتا رہا آسمان باقی ہے
    نہ کوئی آس نہ امید تیرے آنے کی
    نہ جانے کس لیے آنکھوں میں جان باقی ہے
    اسی لیے چلے آتے ہیں اس کے کوچےمیں
    وہ چاہتا ہےہمیں یہ گمان باقی ہے
    ہمیں نصیب تھا جیسا وسیم بچپن میں
    نہ ویسا گھر ہے نہ وہ خاندان باقی ہے

    غزل

    دل کا قصہ نہ کبھی بیچ میں چھوڑا جائے
    یہ ورق ایسا نہیں ہےجسے موڑا جائے
    چاہے شیشہ ہو کہ کھلونا ہو کہ دل ہو میرا
    اسکی قسمت میں ہی لکھا ہے کہ توڑا جائے
    اپنی دہلی سے ہٹوادیے پتھر اس نے
    میں پریشاں ہوں کہ سر اب کہاں پھوڑا جائے
    بعد میں جوڑیں گے ہم ٹوٹے ہوئے جام وسبو
    پہلے ٹوٹے ہوئے ہر رشتے کو جوڑا جائے
    کیوں میرے اشکوں کی محفل میں نمائش ہو وسیم
    کیوں بھری بزم میں آنچل کو نچوڑا جائے

  • خواتین کی شمولیت کے بغیر ترقی نا ممکن

    خواتین کی شمولیت کے بغیر ترقی نا ممکن

    خواتین کا عالمی دن،پاکستان میں صنفی مساوات کو آگے بڑھانے کا مشن
    تحریر۔۔ناظم الدین
    خواتین کو بااختیار بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے اور بااختیار بنانے کا مطلب اس کوبہادربنانااوروسیع پیمانے پر اپنی زندگی کوتشکیل دینے کے لئے انتخاب اوراس پر عمل کی آزادی کو آگے بڑھانا ہے یعنی وسائل اور فیصلوں پر کنٹرول ہے۔ ایک بااختیارعورت وہ ہو گی جو پر اعتماد ہو، جو اپنے ماحول کا تنقیدی تجزیہ کرتی ہو اور جو اپنی زندگی کو متاثر کرنے والے فیصلوں پرکنٹرول رکھتی ہو۔ بااختیار بنانے کا خیال سماجی تعامل کی تمام سطحوں پر ظاہر ہوتا ہے۔ یہ کمزور اور پسماندہ لوگوں کو آوازدینے میں پایا جاتا ہے۔ اس کے لیے صلا حیتوں کی توسیع کے لیے ضروری آلات اور مواد تک رسائی کی ضرورت ہوتی ہے۔خواتین کو بااختیار بنانے کے پانچ اجزاء ہیں: خواتین میں خود کی قدر کا احساس، انتخاب کرنے اور تعین کرنے کا ان کا حق، مواقع اور وسائل تک رسائی کا ان کا حق، گھر کے اندر اور باہر، اپنی زندگی کو کنٹرول کرنے کااختیار،پسندیدہ چیز حاصل کرنے کا ان کا حق اور قومی اور بین االقوامی سطح پر ایک زیادہ منصفانہ سماجی اور اقتصادی ترتیب بنانے کے ل یے سماجی تبدیلی کی سمت کو متاثر کرنے کی ان کی صالحیت۔ عام طور پر، بہت کم لوگوں کو یہ غلط فہمی ہے کہ خواتین کو بااختیار بنانا اور صنف ایک غیر ملکی ایجنڈا ہے لیکن اس کی واحد غلط فہمی پوری دنیا میں خواتین کو تاریخ کے آغاز سے ہی چیلنجز اور صنفی عدم مساوات کا سامنا رہا ہے۔ اگر ہم قرآن اور حدیث سے مدد لیں تو معلوم ہوگا کہ دونوں خواتین کے حقوق کے تحفظ پر بھی زور دیتے ہیں جن میں تعلیم، عبادت، آزادی رائے، شریک حیات کے انتخاب، معاشی آزادی اور سماجی کردار کے حقوق شامل ہیں۔قومی ترقی کومردوں اور عورتوں دونوں میں وسائل کی مساوی تقسیم کے ساتھ متوازن ہونا چاہیے کیونکہ پاکستان میں خواتین کل آبادی کا تقریبا 51 فیصد ہیں اور خواتین کی فعال شمولیت کے بغیرپاکستان ترقی کی مطلوبہ سطح کو حاصل نہیں کر سکتا۔ پاکستان کے قیام کے بعد سے ہی اسے غربت کی لعنت وراثت میں ملی اور اس غربت کا بوجھ خواتین کی آبادی پر بہت زیادہ ڈاال گیا جس کی وجہ یہ ہے کہ خواتین کی اکثریت زراعت کے کاموں، گھر کی دیکھ بھال، پانی اٹھانے اور جمع کرنے کے کاموں میں مصروف ہے۔ لیکن پیداواری سرگرمیوں میں ان کا کام غیر تسلیم شدہ ہے اور اس وجہ سے معاشی سرگرمیوں میں خواتین کی شرکت کم دکھائی دیتی ہے۔اس حوالے سے محمد علی جناح نے فرمایا ” کوئی بھی قوم اس وقت تک عظمت کی بلندی پرنہیں چڑھ سکتی جب تک کہ تمہاری عورتیں تمہارے شانہ بشانہ نہ ہوں۔ ہم بری رسم و رواج کا شکار ہیں۔ یہ انسانیت کے خلاف جرم ہے کہ ہماری خواتین کو گھروں کی چار دیواری میں قیدی بنا کر رکھا جاتا ہے۔ ہماری خواتین کو جس ناگفتہ بہ حالت میں رہنا پڑتا ہے اس کی کہیں بھی ”اجازت نہیں ہے۔عالمی سطح پر صنفی مساوات اور خواتین کو بااختیار بنانا، ترقی کے حصول کے لیے اہم ہتھیار ہیں اس لیے خواتین کو مرکزی دھارے میں النا بہت ضروری ہے تاکہ وہ ملک کی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکیں۔

    ایک زیادہ جامع معاشرے کا مشترکہ وژن، جہاں ہر عورت ترقی کر سکتی ہے اور ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکتی ہے، ان اجتماعی کوششوں کا مرکز ہے۔ آئی پی ایم جی کا قیام 2009 میں پاکستان میں صنفی مساوات اور خواتین کو بااختیار بنانے کے حوالے سے تعاون کو بڑھانے کے لیے کیا گیا تھا۔ یہ اسمبلی ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتی ہے، تعاون کو فروغ دیتی ہے اور پاکستان میں صنفی مساوات اور خواتین کو بااختیار بنانے کے راستے پر مثبت تبدیلی کا آغاز کرتی ہے۔ آؤ مل کر ایک ایسے معاشرے کی تعمیر کے لیے متحد ہو جائیں جہاں ہرعورت کی آواز گونجتی ہو، اور اس کے حقوق اور شراکت کی قدر ہو۔ ”IPMG پاکستان کی منفرد ضروریات کو پورا کرنے کیلئے موزوں حل وضع کرنے کے لیے ایک اختراعی پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس کی ایک مثال نیشنل جینڈر ڈیٹا پورٹل ہے۔ ڈیٹا کے اہم کردار کو تسلیم کرتے ہوئے ہم پالیسی کے خلاء کی نشاندہی کرنے اور باخبر فیصلے کرنے کیلئے حکام کو بااختیار بنانے میں اس کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں۔ نیشنل جینڈر ڈیٹا پورٹل جسے UN کی مالی مدد حاصل ہے، صنف سے متعلق ڈیٹا کا ایک معتبر اور جامع ذریعہ ہے۔ بہتر ڈیٹا اکٹھا کرنا، تجزیہ کرنا اور صنفی بنیاد پر تشدد کے خاتمے اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے کام کرنے والے عطیہ دہندگان دونوں کی طرف سے زیادہ باخبر فیصلہ سازی کی راہ ہموار کرتی ہے۔بین الصوبائی وزارتی گروپ کے ایک حصے کے طور پر، ہم تبدیلی کے عمل میں سب سے آگے کھڑے ہیں۔ آئی پی ایم جی ایک فورس کے طور پر کام کرتا ہے، اختراعی حکمت عملیوں اور باہمی تعاون کی کوششوں کو بھڑکاتا ہے، ہمیں ایسے مستقبل کی طرف لے جاتا ہے جہاں مساوات اور انصاف سب کے لیے غالب ہو۔نیشنل جینڈر ڈیٹا پورٹل (این جی ڈی پی) کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی، ایک پورٹل جو این سی ایس ڈبلیو کی چھتری تلے اقوام متحدہ کی خواتین اور نسٹ کے تعاون سے قائم کیا گیا تھا اسے خواتین سے متعلق اعدادوشمار/معلومات کے کمپیوٹرائزڈ ڈیٹا بیس کے طور پر اس طرح سے منظم اور پروگرام کیا گیا ہے کہ یہ قومی، صوبائی اور ضلعی سطحوں پر فیصلہ سازوں کے لیے خواتین کی حیثیت کے بارے میں باقاعدہ تجزیہ اور رپورٹس تیار کرتا ہے۔ تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لیے اپنی قیمتی معلومات، بصیرت اور درپیش چیلنجز کا اشتراک کیا۔

    خاتون محتسب پنجاب نبیلہ حاکم خان نے ورکنگ ویمن کوپرتحفظ ورک اسٹیشنزاورخواتین کو وراثتی جائیداد میں حصہ کی فراہمی کے حوالے سے اہم اجلاس کی صدات کی جس میں ہوم نیٹ پاکستان، سرکاری وغیرسرکاری اداروں،سول سوسائٹی اور وکلائنے شرکت کی۔خاتون محتسب پنجاب نبیلہ حاکم خان نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں ہراسگی کی روک تھام کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے جبکہ اداروں میں منفی رجحانات اور خواتین کو وراثتی جائیداد کی فراہمی میں کوتاہی کی حوصلہ شکنی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہراسگی کے خاتمے اورویمن پراپرٹی رائٹس کی فراہمی کے لیے میڈیا کا رول بھی اہم ہے اس حوالے سے ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد لازمی ہے۔ اسی مناسبت سے غیر فعال ہراسانی کی کمیٹیاں جلد فنکشنل کردی جائیں گی اس حوالے سے صوبے میں واچ کمیٹیوں کا دائرہ کار بھی وسیع کیا جائے گا۔

    ہیلتھ سیکٹر کی بہتری حکومت کی اولین تر جیحات ہیں۔پرائمری ہیلتھ کے بعض ہسپتال بہت بہتر حالت میں ورکنگ کررہے ہیں،مظفر گڑھ کا رجب طیب اردوان ہسپتال لاہور کے بعض بڑے ہسپتالوں سے بھی بہتر حالت میں ہے۔لاہور سمیت تمام بڑے ہسپتالوں کی ری ویمپنگ شروع کر دی گئی ہے۔ رورل ایمبولینس میں نئی گاڑیاں آنے سے سروسز میں بہتری اور عوام کو سہولت ملی ہے۔ صوبے کے دیہات میں 493 ایمبولینسز اور بچے کی صحت اور ماں بچے کو صحت کی بہترین سہولتوں کی رسائی کے لئے کام کررہی ہیں۔آئی آر ایم این سی ایچ پراجیکٹ کے تحت پنجاب کے دیہات میں 500ایمبولینس گاڑیاں حاملہ خواتین وبچوں اور معذور افراد کو مراکز صحت تک پک اینڈ ڈراپ کی سروس دے رہی ہیں۔حاملہ خواتین اور ان کے اہل خانہ ٹال فری نمبر1034 پر کال کرکے مفت پک اینڈ ڈراپ کی سروس حاصل کی جا رہی ہے۔ہیضہ اور نمونیا میں مبتلا کمسن بچوں کو بھی مراکز صحت تک لانے کے لئے رورل ایمبولینس سروس حاصل کی جا رہی ہے۔معذور افراد بھی فزیو تھراپی کے لئے روزانہ ہسپتال جانے کے لئے رورل ایمبولینس سروس استعمال کر رہے ہیں۔دور دراز دیہات میں 3بنیادی مراکز صحت کے ساتھ ایک رورل ایمبولینس سروس منسلک ہے۔مریض کو ایمبولینس سروس کے ذریعے مراکز صحت سے ہسپتال بھی منتقل کیا جارہا ہے۔

    محکمہ بہبود آبادی پنجاب کی جانب سے پاپولیشن پالیسی کی تشکیل نو کے لئے ڈرافٹ تیارکر لیا ہے۔پالیسی کے تحت فیملی پلاننگ سروسز اور کاؤنسلنگ کی سہولت عوام کی دہلیز پر فراہم ہو گی۔کمیونیکیشن کے ذریعے عوام میں فیملی پلاننگ اور اس کے فوائد کے متعلق آگہی اور علم کو یقینی بنایا جائے گا۔نئی پاپولیشن پالیسی 2024-29 کے ویژن میں خوشحال، صحت مند اور تعلیم یافتہ معاشرے کی تشکیل شامل ہے.تولیدی صحت، بھرپور غذا اور بہتر معیار زندگی ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ پالیسی میں پاپولیشن گروتھ کی شرح میں کمی کے لئے تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ بہتر کوارڈینیشن قائم کرنا بھی شامل ہے۔ امام اور خطیب حضرت کے ساتھ ساتھ کمیونیٹیز اور لوگوں کو بھی اس سارے عمل حصہ بنایا جائے گا۔محکمہ بہبود آبادی پنجاب صوبہ بھر میں تولیدی صحت کی خدمات تک رسائی میں دیگر صوبوں کے لئے رول ماڈل ثابت ہو رہا ہے۔مواصلات، آگاہی اور علم کے ذریعے ہر شخص کو اس کی دہلیز پر خدمات اور مشاورت کی توسیع کو اپنا مشن بنائے ہوئے ہے۔نئی پالیسی میں میں ہر خاندان کی منصوبہ بندی اور بہتر پرورش کی سہلیات کو فوکس کیا گیا ہے۔ تمام شہریوں کی زندگی کا معیار، تولیدی صحت کی بہتری کے حصول کے لیے رسائی اور انتخاب فراہم کیا گیا ہے۔صوبہ میں نئی حکومت نے چھوٹے خاندان کی خوشحالی اور سہو لیات کی فراہمی کو اپنی پالیسی کا حصہ بنایا ہوا ہے۔ورلڈ بنک کا پنجاب میں خاندانی منصوبہ بندی کے عظیم پراجیکٹ کا آغاز ہوا ہے جو عالمی بینک کا پروگرام خاندانی منصوبہ بندی کو بہتر بنانے، مانع حمل ادویات کے استعمال اور آبادی میں اضافے کو کم کرنے پر مبنی ہے۔خاندانی منصوبہ بندی کی معیاری خدمات تک مفت رسائی،خدمات میں نگہداشت کا معیار ادارہ جاتی شکل پر مشتمل ہے۔ ورلڈ بنک کا پروگرام کے تحت خاندانی منصوبہ بندی کے فوائد،ڈیلیوری سسٹم اوربہتر صحت سے وابستہ سہولیات کی فراہمی ہے۔ ورلڈ بینک کا یہ پروگرام کلینکل فرنچائزنگ، واؤچر سکیموں، اور کمیونٹی لیڈرز کے ذریعے فیملی پلاننگ کونسلنگ جیسی اختراعات کو بڑھا نے میں مدد گار ثابت ہو رہا ہے۔ ورلڈ بنک پروگرام کو پنجاب کے مختلف اضلاع میں پائلٹ کیا گیا ہے۔ لیڈی ہیلتھ ورکرز، فیملی ویلفیئر ورکرز اور کمیونٹی ہیلتھ ورکرز ایک وسیع نیٹ ورک کے ذریعے صحت کی سہولیات، فیملی ہیلتھ کلینک اور فیملی ویلفیئر سے منسلک۔واؤچر ترغیبی اسکیم، سماجی مارکیٹنگ، مرد اور کمیونٹی رہنماؤں کی مصروفیت، اور خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات میں اضافے کے لیے نوجوانوں کے پلیٹ فارمز کو بڑھا نے میں مدد گار ہو گا۔ ورلڈ بنک پروگرام کے ذریعے خاندانی منصوبہ بندی سے وابستہ خدمات فراہم کرنے والوں کے باہمی رابطے کو بہتر بنانے میں کارگر ثابت ہو گا۔ کم عمری کی شادی بچیوں کی ذہنی اور جسمانی صحت دونوں کے لیے نقصان دہ ہے۔ بلوغت کی عمر بچیوں کی زندگی کا نازک ترین دور ہوتا ہے جس میں کسی قسم کا صدمہ، بیماری یا کمزوری ان بچیوں کے لئے شدید مشکلات کا باعث بنتی ہے۔ چنانچہ پاکستان میں بچیوں کی شادی کی لئے ان عمر بڑھاناضروری ہے۔ بچیوں کی شادی کی کم سے کم عمر کا تعین کرنے کے لیے قانون سازی اور اس پر عمل درامد کرنے کی ضرورت ہے۔ شادی سے پہلے بچیوں کو خاندانی اور معاشرتی معاملات سے آگاہی ہونابے حد ضروری ہے۔ بچیوں کو تعلیم حاصل کرنے کا موقع دیا جائے تا کہ انہیں شعور حاصل ہو۔ ماں کو تعلیم دیں تو معاشرہ ترقی کرتا ہے۔ ایک عورت باشعور ہو تو پوری نسل کو تبدیل کر دیتی ہے۔ پنجاب میں مشاورت سے کم عمری کی شادی کے خاتمے کے لیے ایک مشترکہ لائحہ عمل بھی ترتیب دیا جا رہا ہے۔ کم عمری کی شادی کے خاتمے کے لیے صوبائی سطح پر منعقدہ مشاورتی پروگرام کا انعقاد و قت کی اہم ضرورت ہے۔ کم عمری کی شادی بچوں کو بنیادی انسانی حقوق جن میں تعلیم اور صحت کے حق سر فہرست ہے سے محرم کر دیتی ہے۔کم عمری کی شادی ہماری معاشی اور سماجی ترقی کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ہمیں مل کر باہمی مشاورت اور تعاون سے اس رواج کا خاتمہ کرنا یوگا۔متعلقہ ادارے کم عمری کی شادی پر قوانین میں تبدیلی کے لیے ہر دم کوشاں ہے تاکہ مثبت معاشرتی تبدیلی لائی جا سکے۔مشاورت کا مقصد تمام اسٹیک ہولڈرز کے ہمراہ کم عمری کی شادی کی وجوہات، محرکات، نتائج اور خاتمہ سنجیدگی سے لائحہ عمل کرنا ہو گا۔

    پنجاب کے تمام 36 اضلاع میں محکمہ بہبود آبادی کے دفاتر میں تعینات عملے کے کام کی آن لائن لائیو وڈیو مانیٹرنگ اور اس کے لیے مرکزی مانیٹرنگ اور کنٹرول روم قائم کیا ہے۔ اس مقصدکیلئے سیکر ٹری پاپولیشن اور ڈائریکٹر جنرل پاپولیشن ویلفیئرنے وزیر اعلیٰ کے ویژن کے مطابق محکمہ کی طرف سے کئے جانے والے کاموں، بجٹ اور کاموں کے بارے میں مانیٹرنگ کا عمل شروع کر دیا ہے۔ شہریوں کو ضروری معلومات اور رہنمائی کی فراہمی کے لیے چار ہندسوں پر مشتمل ہیلپ لائن قائم کرنے اور اسے روزانہ 12 گھنٹے فعال رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ اس مقصد کے لئے محکمہ بہبود آبادی کی جانب سے فراہم کی جانے والی خدمات کے بارے میں عوامی آگاہی کے لیے ایک موثر میڈیا مہم چلائی جارہی ہے۔ محکمے کے کاموں کی اہمیت کے پیش نظر عملے کی تربیت کے لیے ایک جامع نظام وضع کیا جا رہا ہے۔ عوامی آگاہی کے پیغامات اور پروگراموں کی تیاری کے لیے پاپولیشن ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ میں اسٹوڈیو قائم کیا گیا ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے لیے ‘چھوٹے خاندان کا خوشحال پاکستان’ کے نعرے کو فروغ دینا ہو گا۔ محکمہ بہبود آبادی کی تنظیم نو موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق کی جارہی ہے۔ صوبہ بھر میں محکمہ کے سوشل موبلائزرز اور فیلڈ ورکرز کی کارکردگی قابل ذکر ہے۔ محکمہ بہبود آبادی پنجاب کے مختلف منصوبوں کی رپورٹنگ اور مانیٹرنگ کے لیے ویب پورٹلز اور ڈیش بورڈز کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جس میں ای رجسٹریشن، سٹریٹجک مینجمنٹ یونٹ، علمائے کرام اور خطیبوں سے رابطے، خدمات کو مضبوط بنانے اور سروس ڈیلیوری پروگرام شامل ہیں۔ پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کی ٹیم نے تمام ڈیش بورڈز اور پورٹلز بنانے میں بے حد معاونت کی ہے۔

    باخبر انتخاب کرنا اور اپنے دستیاب وسائل کے مطابق خاندان قائم کرنا انتہائی ضروری ہے۔ خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات حاصل کرنے کے لیے شوہر اور بیوی دونوں کے درمیان مشاورت ایک خوشحال مستقبل کی طرف ایک چھلانگ ہے کیونکہ ماں اور بچے کی صحت کے لیے پیدائش میں وقفہ ضروری ہے۔ اس سلسلے میں نوبیاہتا جوڑوں کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ہمیں خواتین کو سماجی و اقتصادی طور پر بااختیار بنانے کا عہد بھی کرنا ہے۔ ایک بااختیار عورت آبادی میں تیزی سے اضافہ وغیرہ جیسے چیلنجوں پر قابو پانے میں مدد کر سکتی ہے۔ باپ، بھائی اور شوہر، خاندان کے مرد ارکان ہونے کے ناطے، ہمیں اپنی خواتین خاندان کے ارکان کے حقوق کا تحفظ کرنا ہوگا۔ پائیدار سماجی و اقتصادی ترقی حکومت پنجاب کی اولین ترجیح ہے۔ یہ مقصد اسی وقت حاصل کیا جا سکتا ہے جب ہم سب اپنے معاشرے میں چھوٹے اور متوازن خاندان کی اہمیت کو اجاگر کرنے کی کوشش کریں۔ تمام اسٹیک ہولڈرز، سرکاری محکموں اور ترقیاتی شراکت داروں کی مشاورت سے پنجاب پاپولیشن پالیسی تیار کی گئی۔ جس کا مقصد وسائل کی منصفانہ تقسیم، پائیدار ترقی اور صوبے بھر کے عوام کو صحت اور تعلیم کی معیاری سہولیات کی فراہمی ہے۔ محکمہ بہبود آبادی پنجاب آبادی میں اضافے کو روکنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہا ہے۔ صوبہ بھر میں قائم خاندانی بہبود کے مراکز پنجاب کے کونے کونے میں محفوظ، محفوظ اور قابل اعتماد خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات مفت فراہم کر رہے ہیں۔ ہمارے تربیت یافتہ مرد اور خواتین متحرک افراد گھر گھر جا کر خاندانی منصوبہ بندی کے بارے میں بیداری پیدا کر رہے ہیں۔ موبائل ہیلتھ یونٹس پنجاب کے دور دراز علاقوں میں خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ PWD کو بااختیار بنانے کے لیے مانع حمل لاجسٹک مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم قائم کیا گیا ہے اس کے علاوہ نچلی سطح سے ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لیے PITB کا تعاون حاصل کیا گیا۔ ان تمام کوششوں کے لیے شہریوں کے تعاون کی ضرورت ہے تاکہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک جامع انداز اپنایا جا سکے۔ آبادی کی روک تھام کے سلسلہ میں ہم تمام پاکستانیوں کواس آگاہی مہم کے مشعل بردار بننے کا عزم اور اپنے خوشحال مستقبل کے حوالے سے خاندانی منصوبہ بندی کی اہمیت کو اجاگرکرنا ہو گا۔ ڈائریکٹر جنرل پاپولیشن ویلفیئر سمن رائے نے کہا کہ پاکستانی معاشرے میں تقریباً ہر خاندان میں مرد فیصلہ ساز ہوتے ہیں۔ وہ اپنے بچوں کی پیدائش، جگہ اور تعداد کے بارے میں فیصلہ کرتے ہیں۔ اس لیے پیغام پہنچانے کے لیے مرد اراکین کو بھی برابر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے.

    ایف سی بلوچستان ساؤتھ کی خواتین سولجرز نے کی قومی دفاع میں ایک نئی روایت قائم

    خواتین کو مساوی حقوق کی فراہمی حکومت کی ترجیح ہے ،وزیراعظم

    قصور میں ایک اور جنسی سیکنڈل،خواتین کی عزت لوٹ کر ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنیوالا گرفتار

    یومِ خواتین مریم نواز کے نام، تحریر:محمد نورالہدیٰ

    خواتین کو با اختیار بنا نے کیلیے صلاحیتوں کو نکھارنے پر کام کرنا ہو گا،نیلوفر بختیار

    عورت مارچ رکوانے کے لئے درخواست خارج

    عورت مارچ کے خلاف برقع پوش خواتین سڑکوں پر آ گئیں، بے حیائی مارچ نا منظور کے نعرے

    اسلام آباد: عورت مارچ اور یوم خواتین ریلی کے شرکا میں تنازع، عورت مارچ شرکاء نے دیکھتے ہی غلیظ نعرے اورپتھراو شروع کردیا

    عورت مارچ پر پتھراوَ کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج

    حنا پرویز بٹ "عورت مارچ” کے حق میں کھڑی ہو گئیں

    خواتین وارڈنز کئی شعبوں میں مرد وارڈنز سے بہتر کارکردگی دکھا رہی ہیں،سی ٹی او لاہور

    مجھے اپنی جماعت میں جگہ بنانے کیلئے بارہ برس بہت زیادہ محنت کرنا پڑی،مریم نواز

  • اپوواخواتین کانفرنس:حقوقِ نسواں کی توانا آواز

    اپوواخواتین کانفرنس:حقوقِ نسواں کی توانا آواز

    (چوتھی اپووا خواتین کانفرنس کی مختصر روداد)
    حافظ محمد زاہد‘ سینئر نائب صدر

    آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اَپووا) ہر گزرتے دن کے ساتھ ایک طرف میدانِ ادب میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑھ رہی ہے تودوسری طر ف ملک کے طول وعرض اور بیرون ملک میں اس کے ممبران کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جو ادب کی خدمت کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔مردوں کی نسبت اس میں خواتین کی تعداد کافی زیادہ ہے ‘اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے چار سال پہلے خواتین کے عالمی دن کے موقع پرپہلی بار’’اپووا خواتین کانفرنس‘‘کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک بھر سے پچاس کے قریب منتخب خواتین کو اپنے شعبے میں اعلیٰ کارکردگی دکھانے پر اپووااچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ادبی حلقوں میں اس کانفرنس کو نہ صرف بہت زیادہ سراہا گیا بلکہ چند تنظیموں اور این جی اوزنے اپووا کے طریقہ کار کو کاپی کرتے ہوئے خواتین کانفرنس مع ایوارڈ کا انعقاد کیا جو صحیح معنوں میں اپووا کے لیے باعث ِ اعزاز ہے۔ اسی پذیرائی کو دیکھتے ہوئے اپووا انتظامیہ نے سالانہ بنیادوں پر خواتین کانفرنس کے انعقاد کا عزم کیا اور گزشتہ تین سالوں سے یہ کانفرنس کامیابی سے منعقد کی جارہی ہے۔

    اسی سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے گزشتہ دنوں آل پاکستان رائٹرزویلفیئر ایسوسی ایشن(اپووا)کے زیر اہتمام خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے لاہور کے مقامی ہوٹل میں اپووا کے سرپرست اعلیٰ زبیر احمد انصاری کی زیر سرپرستی‘ بانی اپووا ایم ایم علی کی زیر کی زیر نگرانی اور خواتین ونگ کی صدر ثمینہ طاہر بٹ کی زیر صدارت ’’اپووا خواتین کانفرنس‘‘ کا اہتمام کیا گیا جس میں معروف ڈرامہ رائٹر صائمہ اکرم چوہدری‘ سینئر اداکارہ میگھا جی‘معروف لکھاری نازیہ کامران کاشف‘ خوش اخلاق و منفردانداز کی حامل اینکرپرسن ارم محمود‘سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی دادا کی پوتی سیدہ ماہا بخاری‘ معروف اینکر پرسن ثنا آغا خان‘ ماہر ہیلتھ ڈاکٹر انعم پری‘معروف قانون دان سعدیہ ہما شیخ‘ معروف براڈ کاسٹر ریحانہ عثمانی‘ ہر دلعزیز شاہین آپا سمیت پاکستان کے دور دراز اضلاع سے کثیر تعداد میں خواتین نے شرکت کی۔ پروگرام کی ہوسٹنگ کے فرائض مدیحہ کنول جبکہ ریسپشن کی ذمہ داری مرکزی صدر حافظ محمد زاہد اورنائب صدر ساجدہ چوہدری نے نبھائی۔

    مقررین کی گفتگو کا نچوڑ اور لب لباب نکات کی صورت میں ذیل میں بیان کیا جاتا ہے:
    ٭ اسلام نے عورتوں کو اعلیٰ سے اعلیٰ حقوق دیے ہیں ‘بس ضرورت اس امر کی ہے کہ خواتین کوصحیح معنوں میں وہ تمام حقوق ملنے چاہئیں۔اور خواتین کو بھی چاہیے کہ اپنے دائرے اور حدود میں رہتے ہوئے آگے سے آگے بڑھیں اور یہ ثابت کریں کہ خواتین کسی طور پر پیچھے نہیں ہیں۔
    ٭ خواتین کی انفرادی شخصیت کو تسلیم کیا جائے اور انہیں بھی آگے بڑھنے کے مناسب مواقع ملنے چاہئیں۔
    ٭ خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر جدوجہد جاری رکھنی چاہیے اس لیے کہ بااختیار خواتین کےذریعے ہی معاشرے کی ترقی ممکن ہے۔
    ٭ کسی بھی مرد کے غیور یعنی غیرت مند ہونے کی یہ دلیل نہیں ہے کہ وہ عورت کو کس قدر ڈراتے ہیں‘ بلکہ دیکھنا یہ ہے کہ وہ عورت کو کس قدر سراہتے ہیں!
    ٭ بعض مقرر خواتین نے اس بات کا برملا اظہار کیا کہ پاکستانی معاشرے میں مرد حضرات کی جانب سے خواتین کو جتنی عزت دی جاتی ہے‘خواتین کے کاموں کی جتنی پذیرائی کی جاتی ہے اور خواتین کو آگے بڑھنے کے جتنے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں‘اتنا کسی اور معاشرے میں نہیں دیکھنے کو ملتا۔
    ٭ یاد رکھنا چاہیے کہ وہی قومیں عروج پاتی ہیں جو اپنی خواتین کو عزت دیتے ہیںاور ایک خاتون کو بہن‘ بیٹی‘ ماں اوربیوی کے بجائے ان کی ذات میں ایک شخصیت اور خودمختار سمجھا جاتا ہے۔

    کانفرنس کے اختتام پراپنے شعبے میں اعلیٰ کارکردگی دکھانے والی خواتین کو ایوارڈ ‘ میڈل اور تعریفی اسناد سے نوازا گیا اور بذریعہ قرعہ اندازی خوبصورت تحائف پر مشتمل گفٹ پیک تقسیم کیے گئے۔ شرکاء کانفرنس سےیہ عہد بھی لیا گیا کہ آپ اپنے دائرہ کار میں مزید آگےبڑھنے کے لیے ہر ممکن جدوجہد جاری رکھیں گی۔اپووا خواتین کانفرنس میں فلسطینی بہن بھائیوں اور بچوں سے اظہار یکجہتی کا اظہار کیا گیا اور فلسطینیوں کی نسل کشی پر امت مسلمہ اور بالخصوص مسلم امہ کے حکمرانوں کی مجرمانہ خاموشی پر شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔

    اس میں کوئی شک نہیں کہ اپووا خواتین کانفرنس‘عورتوں کے حقوق کے لیے توانا آواز ہے ۔آئندہ سالوں میں بھی اپووا یہ ذمہ داری احسن طریقے سے یہ سوچ کر پوری کرتی رہے گی کہ’’یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی!‘‘اور اپووا کا ماننا ہے کہ:
    اندھیرے سے لڑائی کا یہی احسن طریقہ ہے
    تمہاری دسترس میں جو دیا ہو وہ جلا دینا!

    خواتین کی انفرادی شخصیت کو تسلیم کرنا معاشرے کی ذمہ داری ہے
    بااختیار خواتین کے ذریعے ہی معاشرے کی ترقی ممکن ہے
    مرد کے غیرت مند ہونے کی دلیل عورت کو ڈرانا نہیں‘سراہنا ہے

    مبشر لقمان سے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    ایک خوبصورت اور یادگار ملاقات، گورنر ہاوس پنجاب میں،تحریر:فائزہ شہزاد

    سیالکوٹ : نوجوانوں میں مثبت سوچ کو پروان چڑھانے میں اَپووا کا کردارمثالی ہے-گورنرپنجاب

  • تشدد کے سائے اور گھریلو ملازمین کی حالت زار

    تشدد کے سائے اور گھریلو ملازمین کی حالت زار

    آج کل جج کی بیوی کے ہاتھوں ایک کم عمر ملازمہ کو تشدد کا نشانہ بنانے کی خبروں اور خاص طور پر سوشل میڈیا پر یک طرفہ مؤقف نے ہر زی شعور کو پریشان کر کے رکھ دیا ہے۔ حقیقت جو بھی ہو گی جلد سامنے آ جائے گی۔گھریلو خواتین کو ملازمہ کی ضرورت رہتی ہے اور شاید ہی کوئی بد بخت ہو جو اپنے گھریلو ملازمین کے ساتھ ناروا سلوک روا رکھے۔ ایک خاتون ہونے کے ناطے یہ بھی سمجھ سے بالاتر ہے کہ آخر کسی بھی خاتون خانہ کو ملازمہ پر ہاتھ اٹھانے کی ضرورت ہی کیوں محسوس ہوتی ہے عام طور پر ایک طرف بہت کم تنخواہ پر ملازمہ رکھتے ہیں دن بھر اس سے کام لیتے ہیں اور پھر اسے تشدد کا نشانہ بھی بناتے ہیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اپنے پورے عروج پر ہیں۔مجھے بھی ایسا ہی ایک واقعہ یاد ہے جب ہماری پڑوسن نے محض فریج میں سے ایک سیخ کباب کھانے پر اپنی ملازمہ کو ایک انتہائی سرد شام گھر سے نکال دیا اور اسے رات پارک میں بسر کرنا پڑی۔ یہ واقعہ بھی دل و دماغ کو ماؤف کر دیتا ہے۔ اب ایک سیخ کباب کھانے پر ملازمہ کو گھر سے نکال دینا کسی بھی طور عقل مندی نہیں بلکہ ہونا تو یہ چاہئیے کہ درگذر کرتے ہوئے ملازمہ کو سمجھایا جائے یا پھر اگر اسے بھی وہی کھانے کو دے دیا جائے جو گھر کے مکین کھاتے ہیں تو کیا قیامت ٹوٹ پڑے گی؟ بطور جج کی اہلیہ کی خبروں نے بہت سے قصے تازہ کر دئیے ہیں۔ یہاں پر یہ بات قابل غور ہے کہ پاکستان میں گھریلو ملازمین پرتشدد جیسے عام سی بات ہو،دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی حالیہ برسوں میں گھریلو ملازمین کے خلاف تشدد کے واقعات میں پریشان کن اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ غربت اور استحصال کے چکر میں پھنسے ہوئے، یہ کمزور افراد، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں، اپنے مالکوں کے ہاتھوں جسمانی، زبانی اور جنسی استحصال کا سامنا کرتے ہیں۔ ان کی حالت زار کے بارے میں بیداری پیدا کرنے میں کچھ پیش رفت کے باوجود، پاکستان میں گھریلو ملازمین کے تحفظ اور انہیں بااختیار بنانے کے لئے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔گھریلو ملازمین پاکستان بھر میں لاکھوں گھرانوں کی زندگیوں میں ایک ناگزیر کردار ادا کرتے ہیں۔ اکثر غریب دیہی علاقوں سے آنے والے کام کے مواقع کی تلاش میں شہروں کی طرف ہجرت کرتے ہیں۔ افسوسناک طور پروہ اپنے آپ کو ان لوگوں کے ذریعہ بدسلوکی کا شکار پاتے ہیں جو انہیں ملازمت دیتے ہیں۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق، تقریباً 20 فیصد گھریلو ملازمین تشدد کا شکار ہیں، اور بے شمار دیگر افراد کو استحصال، کم اجرت اور کام کے نامناسب حالات کا سامنا ہے۔
    پاکستان میں گھریلو ملازمین مختلف قسم کے تشدد کا شکار ہیں۔ جیسے جسمانی زیادتی، بشمول مارنا پیٹنا اور یہاں تک کہ جلانا، افسوسناک طور پر عام ہے۔ زبانی بدسلوکی، توہین آمیز تبصرے، اور دھمکیاں جو ان کے دکھوں میں مزید اضافہ کرتی ہیں۔ اسکے علاوہ جنسی طور پر ہراساں کرنا بھی ایک عام سی بات ہے، بہت سے گھریلو ملازمین اپنے آجروں اور ان کے خاندان کے افراد کی جانب سے ناپسندیدہ پیش رفت اور نامناسب رویے کو برداشت کرتے ہیں،پاکستان میں گھریلو ملازمین کے خلاف تشدد کو عام کرنے میں کئی عوامل اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جیسے سماجی اصول اور گھریلو ملازمین کو کمتر اور ڈسپوزایبل تصور کرنا ان کے کمزور ہونے میں معاون ہے۔اور تو اور قانونی تحفظ کا فقدان اور اس شعبے میں روزگار کے لیے واضح رہنما اصولوں کی عدم موجودگی اس مسئلے کو مزید بڑھا دیتی ہے۔ مزید معاشرے میں خواتین کی پست حیثیت استحصال اور بدسلوکی کے کلچر کو مزید برقرار رکھتی ہے، کیونکہ بہت سے گھریلو ملازم خواتین ہیں۔ تاہم پاکستانی حکومت نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے کچھ اقدامات کیے ہیں، جیسے کہ گھریلو کام کو منظم کرنے اور کارکنوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قوانین بنانا۔ گھریلو ملازمین (روزگار کے حقوق) ایکٹ 2021 میں منظور کیا گیا جس کا مقصد گھریلو ملازمین کے لیے کام کے مناسب حالات اور مناسب معاوضے کو یقینی بنانا ہے۔ تاہم، گھریلو کام کے بہت سے انتظامات کی غیر رسمی نوعیت اور مالکان کی تعمیل کرنے میں ہچکچاہٹ کی وجہ سے نفاذ ایک چیلنج بنا ہوا ہے،گھریلو ملازمین کے خلاف وسیع تشدد سے نمٹنے کے لیے، بیداری پیدا کرنا مالکان کو ملازمین کے حقوق اور ذمہ داریوں سے مکمل آگاہ کرنا بہت ضروری ہے۔جو مہمات اور ورکشاپس ان کمزور افراد کی حالت زار کے بارے میں ہمدردی اور افہام و تفہیم کو فروغ دینے میں مدد کر سکتی ہیں، اسکے علاوہ مثبت تبدیلی کو فروغ دینے کے لیے، صاحب حیثیت لوگ جو ملازم رکھنے کے خواہشمند ہو ان کو روزگار کے اخلاقی طریقوں کو اپنانا چاہیے اور گھریلو ملازمین کے ساتھ عزت اور وقار کے ساتھ برتاؤ کرنا چاہیے۔ منصفانہ اجرت پر عمل درآمد، مناسب حالات زندگی فراہم کرنا، اور مناسب اوقات کار کو یقینی بنانا ایک محفوظ ماحول بنا سکتا ہے، گھریلو ملازمین کے خلاف تشدد سے نمٹنے کے لیے سماجی، قانونی اور انفرادی سطح پر جامع کوششوں کی ضرورت ہے۔ اس میں احترام اور ہمدردی کا ماحول پیدا کرنا، تعلیم اور بیداری کو فروغ دینا، مزدوری کے قوانین کو نافذ کرنا، اور ضرورت پڑنے پر گھریلو ملازمین کو انصاف تک رسائی کے لیے سپورٹ سسٹم فراہم کرنا شامل ہے۔ ان بنیادی مسائل کو حل کر کے، پاکستان ایک زیادہ منصفانہ اور مساوی معاشرے کی طرف بڑھ سکتا ہے جہاں تمام افراد کے ساتھ عزت اور انصاف کے ساتھ سلوک کیا جائے، چاہے ان کا پیشہ کچھ بھی ہو۔
    بعض لوگوں کو مؤقف ہے کہ اگرچہ ہمارے یہاں بے شمار قوانین ہیں مگر ان پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔یہ بھی کسی حد تک درست ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخع قوانین پر عمل درآمد کون ممکن بنائے گا؟ ہمارے کئی ادارے بھی امراٗ کے زیر اثر آ جاتے ہیں اور یوں غریب کی شنوائی پس پشت چلی جاتی ہے اسی لئے کہا جاتا ہے کہ کورٹ کچہری کی بجائے ہمیں احترام اور ہمدرد بن کر سوچنے کی کوشش کرنا ہو گی۔

  • خواتین کی کامیابی میں مردوں کے کردار اہم ہوتا ہے – ثانیہ مرزا

    خواتین کی کامیابی میں مردوں کے کردار اہم ہوتا ہے – ثانیہ مرزا

    بھارت کی سابق ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا نے خواتین کی کامیابی میں مردوں کے کردار کو اہم قرار دے دیا۔
    اپنے ایک بیان میں ثانیہ مرزا نے کہا کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے لیکن کئی کامیاب خواتین کے پیچھے مرد ہوتے ہیں۔
    ان کا کہنا تھا کہ ایسے مرد بھائی، شوہر، باپ یا دوست کی صورت میں موجود ہوتے ہیں ، وہ وقت سے آگے کا سوچتے ہیں ، جس کی وجہ سے عورتوں کو اپنے خواب پورے کرنے میں اعتماد ملتا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ دنوں ثانیہ مرزا نے شوہر شعیب ملک کے بغیر بیٹے اذہان ملک، والدین، بہن اور بہنوئی کے ہمراہ عمرے کی سعادت حاصل کی۔عمرے کی سعادت حاصل کرنے کے بعد ثانیہ نے انسٹاگرام پر اپنی نئی تصاویر بھی اپ لوڈ کیں۔
    https://www.instagram.com/mirzasaniar/
    شعیب ملک اور ان کی اہلیہ ثانیہ مرزا کے درمیان گزشتہ دنوں علیحدگی کی خبریں گرم تھیں تاہم اس حوالے سے دونوں کی جانب سے باضابطہ طور پر کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔

  • کیا لڑکیوں کی تعلیم اور جاب ان کی شادی میں رکاوٹ ہے؟ —  ڈاکٹرعدنان نیازی

    کیا لڑکیوں کی تعلیم اور جاب ان کی شادی میں رکاوٹ ہے؟ — ڈاکٹرعدنان نیازی

    فرانس کی مختلف یونیورسٹیوں میں گزرے نو سال کے دوران ایک چیز بہت عام دیکھی کی وہاں کی کولیگ پروفیسر اور سائنسدان عورتوں کی شادیاں اکثر کسی پلمبر، الیکٹریشن، ٹرک ڈرائیور، دکاندار، ہیئر ڈریسر وغیرہ سے ہوئی ہوتی تھیں جو اکثر ان سے بہت ہی کم تعلیم یافتہ ہوتے تھے اور اکثر کی تنخواہیں بھی ان سے کم ہوتی تھیں۔ وہاں کسی عورت میں یہ کبھی نہیں دیکھا کہ اس نے اشاروں کنایوں میں بھی ایسی کوئی بات کی ہو یا اس پر شرمندگی محسوس کی ہو کہ اس کا شوہر یا بوائے فرینڈ حیثیت یا تعلیم میں اس سے کم ہے۔

    پاکستان میں زیادہ تر مرد اپنے سے کم عمر، کم تعلیم یافتہ، کم کمانے والی یا بالکل ہی بے روز گار عورت سے شادی کرنے میں ہچکچاہٹ کا بھی مظاہرہ نہیں کرتے ہیں لیکن عورتیں اپنے سے کم عمر، کم تعلیم یافتہ، کم کمانے والے یا بے روز گار شخص سے شادی نہیں کرتی ہیں۔

    اگر کسی وجہ سے ہو جائے تو ساری عمر اسے اس بات کے طعنے مارتی رہتی ہیں اور کہیں بتاتے ہوئے شرم محسوس کرتی ہیں۔

    جو کچھ میں نے دیکھا ہے اس میں پڑھی لکھی لڑکیوں کے مشکل سے رشتہ ملنے کی ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے۔ وہ جس مقام پر پہنچ چکی ہوتی ہیں ان کے ہم پلہ مرد اکثر اپنے سے کم عمر لڑکیوں سے شادی کرنا پسند کرتے ہیں اور وہ انھیں آسانی سے مل بھی جاتی ہیں۔

    ہمارے معاشرے کی پڑھی لکھی لڑکیوں اور ان کے والدین کو اس بارے سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے، کیوں کہ لڑکیوں کا دن بدن تعلیم کی طرف رجحان بڑھتا جارہا ہے لیکن اعلیٰ تعلیم مہنگی ہونے اور اعلیٰ تعلیم کے بعد بھی جاب کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے لڑکوں میں کم ہو جا رہا ہے، جس کی وجہ سے یہ مسئلہ سنگین سے سنگین تر ہوتا جائے گا۔

  • کیٹو ڈائیٹ (keto diet) کیا ہے؟ — عظیم الرحمن عثمانی

    کیٹو ڈائیٹ (keto diet) کیا ہے؟ — عظیم الرحمن عثمانی

    جس طرح آپ کی گاڑی فیول جیسے پیٹرول یا ڈیزل پر چلتی ہے۔ ویسے ہی آپ کا یہ جسم بھی دو طرح کے فیول سے چلتا ہے۔
    ۔
    پہلا ہے شوگر یعنی چینی
    دوسرا ہے فیٹ یعنی چربی
    ۔
    ہمارا جسم صدیوں پر محیط جدید تمدنی ارتقاء سے عادی ہوگیا ہے کہ وہ اپنی توانائی یعنی انرجی انسولین کے ذریعے چینی (شوگر) سے حاصل کرے۔ ہم جو بھی میٹھا کھاتے ہیں وہ تو شوگر بنتا ہی ہے مگر ہمارے بدن میں داخل ہونے والے کاربوہائیڈریٹس جیسے روٹی، چاول وغیرہ بھی شوگر میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔
    ۔
    اگر ہم اپنی خوراک میں کاربوہائیڈریٹس اور مٹھاس کو لینا چھوڑ دیں یا بہت کم کردیں تو پھر کیا ہوگا ؟ اب بھی جسم کو چلنے کیلئے فیول تو چاہیئے مگر اب اس کے پاس شوگر یعنی چینی کے ذخائر موجود ہی نہیں ہیں جنہیں وہ توانائی یعنی فیول میں ڈھال سکے۔ مجبوراً اب اسے فیول کیلئے دوسری سورس یعنی ذریعے پر انحصار کرنا ہوگا جو کہ ہے فیٹ یعنی چربی۔ نتیجہ یہ کہ آپ کا جسم اگر بھوکا رہا تو اپنے اندر موجود چربی کے ذخیرے کو کھانا شروع کردے گا۔ یوں آپ کے جسم سے چربی کم ہونے لگے گی۔ گویا آپ کا جسم اپنے آپ میں خود ایک Fat Burning Machine کا روپ دھار لے گا۔ اس حالت کو Ketosis کی اصطلاح سے موسوم کیا جاتا ہے، جس میں Ketone bodies پیدا ہوتی ہیں جو آپ کی چربی کو جلا کر آپ کے جسم کیلئے توانائی پیدا کرتی ہیں۔ آج کی مقبول Keto Diet مختصراً یہی ہے۔
    ۔
    سوال یہ بھی ہے کہ اگر ہم خوراک میں کاربوہائیڈریٹس بشمول روٹی یا چاول استعمال نہیں کررہے تو پھر کھائیں گے کیا ؟ اس کیلئے آپ پروٹین جیسے گوشت، مرغی، مچھلی، انڈے وغیرہ کھاتے ہیں۔ ساتھ ہی مختلف سبزیاں اور چنیدہ فیٹ جیسے پنیر وغیرہ کھائے جاتے ہیں۔ ان میں کیا کھایا جاسکتا ہے اور کیا نہیں؟ اس سب کی تفصیل انٹرنیٹ پر جابجا موجود ہے۔ یاد رکھیں کہ پروٹین کو muscles building block کہا جاتا ہے۔ یعنی وزن کم کرتے ہوئے آپ کے مسلز کو باقی رکھنے کیلئے پروٹین ہی تعمیر سازی کرتے ہیں۔ کیٹو میں یہ کوشش ہوتی ہے کہ صرف اسی وقت آپ کھائیں جب آپ فی الواقع بھوکے ہوں۔ صرف شوقیہ چگتے رہنا یا معمول میں بندھ کر دن میں تین بار لازمی کھانا درست نہیں۔
    ۔
    ہر آنے والی تحقیق کی طرح Keto Diet کے متعلق بھی کئی اختلافات موجود ہیں۔ کچھ کے نزدیک اس کے نقصانات ہیں مگر نوے فیصد سے بھی زیادہ ماہرین اسے ایک بہترین طریق مان رہے ہیں جو بطور لائف اسٹائل اپنایا جاسکتا ہے۔ باقی اسکی اثرانگیزی کے تو سب حامیان و مخالفین قائل ہیں۔ اسے مزید زود اثر بنانے کیلئے intermittent fasting یعنی جزوی روزے اور جسمانی کسرت بشمول weight training اختیار کیئے جاتے ہیں۔

  • عورت پن اور فیمنزم — ابو بکر قدوسی

    عورت پن اور فیمنزم — ابو بکر قدوسی

    انہوں نے اپنا ” عورت پن ” خود ختم کیا اور برابر کے حقوق کا نعرہ لگایا بلکہ فیمنزم کے نام پر اس برابری کے حصول کے لیے تحریک بپا کی ۔

    اس کے بعد یہ خواتین کس برتے پر خود کے لیے الگ سے عزت و احترام کا تقاضا کرتی ہیں ؟

    ان کا یہ مطالبہ بذات خود ان کے ایجنڈے کی نفی ہے ، لیکن کند ذہنی کے سبب سمجھنے سے قاصر ہیں ۔ آٹھ مارچ کو عورت مارچ کے نام پر اکٹھ کر کے اور مطالبوں کے نام پر بےہودگی کا مظاہرہ کرنے کے بعد ” اضافی ” عزت و احترام کا انہیں کوئی حق نہیں ہے ۔

    ” لیڈیز فرسٹ ” اس کے بعد کہنا سیدھی سیدھی ” دھاندلی ” ہے ۔

    اگلا سوال ، کہ کیا اضافی عزت و احترام کا تقاضا کسی کا بنتا بھی ہے یا نہیں تو عرض ہے بلکہ ان کا بنتا ہے کہ جو واقعتاً معزز خواتین ہیں ، مذہب اور معاشرے کی درست تقسیم کو دل و جان سے قبول کرتی ہیں جوابی طور پر انہیں بسا اوقات مردوں سے بھی زیادہ عزت سے نوازا جائے گا ۔۔۔۔کہ ہمارے رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر مرگ پر ان کے بارے میں فرمان تھا کہ ان کا خیال کرنا ۔

    سو !

    سو ہم جب کبھی بازار میں نکلیں گے تو بارش دھوپ میں واحد چھتری ان کے سر پر تانیں گے اور خود دھوپ بارش سہیں گے ، ہم دن بھر جون جولائی کی گرمیوں میں محنت کر کے ان معزز خواتین کے لیے ٹھنڈی چھت ، ائیر کنڈیشنر ، پنکھے ، ائیر کولر فراہم کریں گے کہ یہ معزز خواتین ہیں ، ہم دن میں بازاروں کا غیر معیاری کھانا ، کھا کر انہیں گھر میں بہترین خوراک فراہم کریں گے ، ہم اپنے کپڑے سستے سستے سے بنائیں گے اور انہیں ہزاروں روپے کے برانڈڈ کپڑے اور وہ بھی الماری بھر بھر کر بنوا کر دیں گے ۔۔۔

    ہم ویگنوں سے لٹک کر سفر کر لیں گے اور ان کے دلوں کو خوش کرنے کے لیے لاکھ لاکھ بلکہ کئی کئی ملین روپے کی بالیاں بندے کانوں میں بنوا کر دیں کہ یہ بقول رسول ہاشمی نازک آبگینے ہیں سو ان کا دل بھی تو خوش کرنا ہے ۔۔۔۔ یہ معزز خواتین ہیں ۔

    لیکن !

    جنہوں نے خود اپنا عورت پن ختم کیا وہ کیونکر ایسا اضافی اور خصوصی سلوک مانگتی ہیں ؟

    وہ ویگنوں سے لٹکیں پھر بات کریں ۔۔۔۔۔۔

    خصوصی سلوک و حقوق و حیثیت کی حق دار تو وہ معزز خواتین ہیں کہ جو خاص رہیں ، جو عام ہو گئیں وہ کیونکر طلب گار ہیں ۔۔۔۔۔

  • کامیاب لوگوں کا فوبیا —- جویریہ ساجد

    کامیاب لوگوں کا فوبیا —- جویریہ ساجد

    ہم نے اکثر و بیشتر ایسے لوگ دیکھے ہیں جو کامیاب لوگوں سے خوامخواہ چڑتے ہیں۔ امیر اور دولت مند لوگوں سے خار کھاتے ہیں۔
    اگر کسی دولت مند اور غریب کی لڑائی ہو جائے تو از خود ہمیشہ امیر بندے کو ہی غلط سمجھتے ہیں۔ گاڑی یا بائیک ٹکرا جائے تو صرف گاڑی والے کو ہی برا بھلا سناتے ہیں۔ ریڑھی یا رکشہ والا قیمتی گاڑی میں رکشہ ٹھوک دے ہمیشہ ریڑھی اور رکشے والے کو ہی مظلوم ثابت کرتے ہیں اور گاڑی والے کو مغرور اور بد تمیز گردانتے ہیں۔

    ہم نے از خود فرض کر لیا ہے کہ دولت مند ہی ہمیشہ غلط ہے۔ اور تمام تر سمجھوتے اور درگزر اور خوف خدا بھی صرف اور صرف دولت مند کو ہی کرنے چاہیے اور سب کے سب اصولوں کی پاسداری بھی صرف دولت مند یا کھاتے پیتے لوگ کریں باقی غریبوں کو ہر بات کی ریلیکسیشن ہے۔

    ہم سمجھتے ہیں کیونکہ ہم غریب ہیں اس لیے بد دیانتی جائز ہے جب کہ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ ہم غریب اسی لیے ہیں کہ ہم بد دیانت ہیں۔

    ہم اپنے ورکرز اور ملازمین میں دیکھیں یہ جہاں دل کرئے گا وہاں کام میں آنا کانی کریں گے جب دل کرئے گا خاندان کے ہر دور و نذدیک کی فوتگیوں شادیوں میں جائیں گے ہر زرا سی بات پہ چھٹیاں کریں گے جب دل چاہے گا کام بیچ میں چھوڑ کے بھاگ جائیں گے مگر امیر لوگوں پہ یہ فرض ہے کہ وہ ان کی تمام تر کوتاہیوں کے باوجود ان کو تنخواہ پوری دے کیونکہ یہ غریب آدمی ہے۔

    مجھے حیرت ہوتی ہے کیا غریب آدمی کو خود احساس نہیں ہے کہ وہ غریب ھے اس کو بد نیتی نہیں دیکھانی چاہیے؟ اس کو چھٹیاں نہیں کرنی چاہیں؟ اس کو بہانے نہیں بنانے چاہیے؟ اس کو کام میں ڈنڈیاں نہیں مارنی چاہیں؟
    اس سے اس کا روزگار خطرے میں پڑ جائے گا۔

    یہاں رکشہ سواروں کو دیکھیں سڑکوں پہ رکشہ ایسے چلاتے ہیں جیسے موت کے کنوئیں میں چلا رہے ہوں بعض مرتبہ اچانک سامنے آ کے کسی بھی نئی شاندار گاڑی میں لا کے رکشہ ٹھوک دیں گے خود کپڑے جھاڑ کے ہنستے ہوئے کھڑے ہو جائیں گے دوسرے کی شاندار گاڑی کی ہزاروں روپے کی لائٹس توڑیں ڈینٹ ڈالا نقصان کیا اس کا کوئی ہمدرد نہیں سارا مجمع اکھٹا ہو کہ گاڑی والے کو کہے گا جانے دو غریب آدمی ہے. کیا غریب آدمی کے لیے چھوٹ ہے کہ وہ اندھا دھن رکشہ چلائے یا بائیک چلائے ؟ کیا اس پہ کسی کے نقصان کی کوئی زمہ داری نہیں ھے؟ اور کیوں نہیں ھے؟

    اگر کوئی دوست وقت کے ساتھ ترقی کر گیا کامیاب ھو گیا تو پرانے دوست لازم ہے کہ اس پہ طنز کریں گے۔ وقت بے وقت فون کریں گے۔ فون نا اٹھانے پہ اس کے بخیے ادھیڑیں گے۔ اسے پرانا وقت یاد دلائیں گے۔ اس کو مغرور گردانیں گے۔ صرف اس کیے کہ اب وہ چوک پہ آپ کے ساتھ بیٹھ کے گپیں نہیں لگاتا یا وقت بے وقت فون نہیں اٹھاتا؟

    کبھی آپ نے سوچا ھے کہ وہ مصروف ہو سکتا ھے یا وہ سارا دن کام کے بعد آرام کر رہا ہو سکتا ھے یا اس کا فیملی ٹائم ہو سکتا ھے۔

    اگر آپ نے یہ نہیں سوچا تو اب یہ ضرور سوچیں کہ وہ اسی لیے آپ سے آگے نکلا ہے کیونکہ اس نے وقت کے ساتھ وقت کی قدر کو پہچانا ھے اپنی ترجیحات کا تعین کیا ہے۔ اس نے گپوں میں وقت ضائع کرنے کے بجائے انتھک محنت کی ھے۔

    اکثر لوگوں کو کہتے سنا جب سے فلاں کے پاس گاڑی آئی ہے فلاں بہت مغرور ہو گیا ھے فلاں تو ہمیں اپنی گاڑی میں بیٹھاتا ہی نہیں کبھی آپ نے سوچا ھے کہ کیا آپ نے کسی کہ ذاتی سواری میں اس کے ساتھ سفر کرتے ہوئے اس کی پرائیویسی کا خیال رکھا ہے سفر کے دوران اس کی ٹیلیفون کالز پہ کی گئی ڈیلز یا کوئی بھی ذاتی بات کا پاس رکھا ہے۔

    اکثر لوگوں کو شکوہ ہوتا ہے فلاں اپنے گھر نہیں بلاتا فلاں ہمارے گھر نہیں آتا۔ فلاں فلاں جگہ نہیں جاتا۔

    ٹھیک ہے خوشی غمی میں شامل ہونا اچھی بات ہے مگر کیا آپ نے کبھی کسی کامیاب دولت مند امیر آدمی کے جوتوں میں پاوں ڈالے ہیں کبھی اس کے پاوں کے آبلے دیکھے ہیں کبھی آپ کو احساس ہو گا اس انتھک محنت کا جس کو نا موسموں کی پروا تھی نا اس کے پاس کسی تفریح کی گنجائش۔

    کیا کبھی کسی نے سوچا ھے کہ ایک کامیاب آدمی نے کتنی شادیوں، اور تفریحات کی قربانی دی ہے۔

    کبھی کامیاب لوگوں کی روٹین دیکھی ہے وہ کتنے کتنے گھنٹے کام کرتے ہیں اور ان کی نیند کا ٹائم کتنا ہے۔ ان کی کھانے پینے کی روٹین کیا ہے اور یہ اپنے خاندان
    کو کتنا وقت دے پاتے ہیں اس میں بھی ہم کہتے ہیں ہمارا فون نہیں اٹھایا جبکہ فون پہ کرنی آپ نے صرف ادھر ادھر کی ھے۔

    اگر کسی کی دولت کا احسان کسی دوسرے پہ نہیں ہے تو کسی کی غربت کی ذمہ داری بھی کسی دوسرے کی نہیں ہے۔
    بعض مرتبہ یہ خدا کی تقسیم ہے اور بے شمار مرتبہ ہر انسان کی ذاتی محنت، ہمت، استقامت۔
    اور صحیح وقت پہ ترجیحات کا تعین۔

    آخر میں دل تو چاہتا ھے یہی جملہ لکھوں کہ

    محنت کر حسد نا کر۔

    مگر اس کے ساتھ یہ ضرور کہوں گی کہ کامیاب لوگوں کو سٹڈی کریں ان کے وہ اوصاف ڈھونڈیں جنہوں نے انہیں کامیابی دلائی اور خود میں وہ اوصاف پیدا کرنے کی کوشش کریں۔