Baaghi TV

Category: خواتین

  • بیٹیوں کی تربیت — علیم امتیاز

    بیٹیوں کی تربیت — علیم امتیاز

    اپنی بیٹیوں کو درج ذیل چند باتیں لازمی سکھائیے.

    1_سیڑھی پر اس وقت مت چڑھیں جب آپ کے پیچھے کوئی مرد بھی سیڑھی چڑھ رہا ہو بلکہ سیڑھی کے کسی ایک زینے پر رک جائیں اور اس کے بعد چڑھیں۔

    2_لفٹ پر کسی اجنبی مرد کی موجودگی میں مت چڑھیں اس کے نکلنے کا انتظار کریں اور بعد میں چڑھیں۔

    3_اپنے چچا، ماموں، خالہ، پھپھو وغیرہ کے بیٹوں سے ہاتھ کے ساتھ مصافحہ مت کریں۔

    4_اپنے ساتھ گفتگو کرنے والے شخص کے ساتھ ہمیشہ مناسب فاصلہ رکھیں۔

    5_ہمیشہ کسی کے ساتھ معاملہ کرنے کی حد مقرر کریں، چاہے وہ کتنا ہی قریبی کیوں نہ ہو، اور اپنے وقار کا خیال رکھیں۔

    6_سڑک پر اپنے دوستوں کے ساتھ مذاق نہ کریں اور سڑک کے آداب کا خیال رکھیں۔

    7_جب کوئی ملنے آئے تو اسے توجہ دیں، بڑے کے احترام میں کھڑے ہو جائیں اور تھکے ماندے اور بوڑھے کو بیٹھنے کے لیے کرسی دیں۔

    8_گلی محلہ کے سبھی مرد باپ/بھائی کے سوا اجنبی ہوتے ہیں اس لیے اُن سے بِلاضرورت بات نہیں کرنی چاہیے کیونکہ ہراساں کرنے والے ذہنی مریض ہوتے ہیں، چاہے وہ آپ کے رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔

    9_جب آپ زمین سے کوئی چیز اٹھانے کے لیے نیچے جھکیں یا کسی دکان، بازار یا عوامی جگہ پر کوئی چیز دیکھیں تو رکوع کی حالت میں مت جھکیں۔کوشش کریں بیٹھ کر چیز دیکھیں پھر کھڑے ہو جائیں تاکہ آپ کا پردہ یعنی ستر یا جسم پیچھے سے بے نقاب/نمایاں نہ ہو۔

    10_ہمیشہ کوشش ہونی چاہیے کہ بس یا ٹیکسی میں بلند آواز سے باتیں مت کریں۔

    11_گھر کا دروازہ ہمیشہ پوچھ کر اور گھر کے افراد یا جاننے والوں کی آواز پہچان کر کھولیں۔

    مجھ سمیت سبھی بیٹوں، لڑکوں، مردوں کے لیے بھی یہی سب باتیں اور آداب ضرور کرنے والے ہیں۔

  • باقاعدہ موٹیویشن — ریاض علی خٹک

    باقاعدہ موٹیویشن — ریاض علی خٹک

    ہمارے ہاں لوگ باقاعدہ موٹیویشن کا مذاق اڑاتے ہیں. وہ سمجھتے ہیں یہ سب کتابی باتیں ہیں. اس سے کسی کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا. انہوں نے موٹیویشن کو سمجھا ہی نہیں ہے.

    عرصہ ہوا میں نے ایک بار بیگم سے کہا یہ طارق روڈ یہ برانڈز کی دکانیں یہ شاپنگ پلازہ میں بڑے بڑے کرائے پر مہنگی دکانیں لے کر اشیاء بیچنے والے معیاری چیز نہیں دیں گے تو اور کیا دے سکتے ہیں.؟ لیکن اس میں کوئی فن نہیں ہے. چیز دیکھی رنگ پسند کیا اور اٹھالی بھلا اس میں شاپنگ کیا ہوئی.؟ آن لائن چند تصاویر دیکھ کر چیز خرید لینے میں فن کہاں ہے.؟

    بیگم نے کہا پھر کہاں ہے.؟ میں نے کہا اتوار بازار میں جمعہ بازار میں بدھ بازار میں. جہاں دکاندار کے ڈھیر میں اچھی معیاری چیز بھی ہوتی ہے اور سستی غیر معیاری بھی. وہ بھی فنکار ہوتا ہے سستی چیز مہنگی کے ساتھ ملا کر اس صفائی سے بیچتا ہے کہ آپ کو پتہ بھی نہیں چلے گا. جیسے اچھے سیبوں میں دو دانے داغ والے ملا دیتا ہے.

    اس بازار سے معیاری چیز نکال کر لانا آرٹ ہے کمال ہے. میری موٹیویشن کام کر گئی. اب وہ ہر بازار میں جاتی ایک ایک چیز پر مول تول کرتی. دیکھتی پرکھتی ہیں. اپنے فن کو اس بلندی پر لے گئیں ہیں کہ لنڈے کے ڈھیر میں سے بھی وہ پیس نکال لیتی ہیں کہ بندہ واقعی ششدر رے جائے. میرے نماز والا صافہ انہوں نے صرف تیس روپے میں خریدا اور پچھلے دو سال سے ان کے فن کے اعتراف میں ہم یہی استعمال کر رہے ہیں.

    یہ موٹیویشن ہی ہے جو اب عرصہ گزرا ہم کسی شاپنگ پلازہ یا برانڈ کی دکان میں گھسے ہی نہیں اور بے وقوف لوگ سمجھتے ہیں موٹیویشن کام نہیں کرتی. البتہ یہ سچ ہے کہ موٹیویشنل سپیکر کمائی بھلے نہ کریں بچت خوب ہو جاتی ہے.

  • بہارستان — عمر یوسف

    بہارستان — عمر یوسف

    خاندان کی اہمیت مسلمہ ہے ۔ انسان معاشرتی حیوان ہے اور لوگوں کے بغیر اس کا کامیاب زندگی بسر کرنا ناممکن ہے ۔ اگر وہ بہت کچھ حاصل کر بھی لے تو روحانی اطمینان اس سے کوسوں دور رہتا ہے ۔ فیملی کے اندر انسان احساس تحفظ سے لبریز زندگی گزارتا ہے ۔ بچے اکثر اداسی محسوس کرتے ہیں انہیں عدم تحفظ کا شدید احساس ہوتا ہے جو ان کی نفسیات پر گہرا اثر ڈالتا ہے ۔

    لیکن جو بچہ ایسی فیملی میں زندگی بسر کرتا ہے جہاں ماں باپ ، دادا دادی ، چچاوں کا پیار نصیب ہو وہاں وہ شاہانہ انداز سے زندگی بسر کرتا ہے ۔ زندگی میں انسان کو بعض دفعہ حقیقی مسائل سے سامنا پڑتا ہے کبھی وہ خیالی مسائل ہی ذہن میں جنم دے لیتا ہے ۔

    دونوں صورتوں میں ایک خاندان کے اندر زندگی بسر کرنے والا شدید ذہنی پریشانی سے محفوظ رہتا ہے ۔ اگر اس کو حقیقی مسائل ہوں تو خاندان کے افراد اس کو سہارا دیتے ہیں لیکن اگر نفسانی واہمے پریشان کریں تو وہ خود کو تسلی دے لیتا ہے کہ میں خاندان میں زندگی بسر کرتا ہوں میرا سہارا بننے والے موجود ہیں ۔

    یہی وجہ ہے کہ اگر حقیقی خوشیوں بھری زندگی جینا ہے تو خاندان ازحد ضروری ہے وگرنہ تو انسان زندگی کو مجبورا گزار کر ہی عدم کا راہی بن جاتا ہے ۔

    خاندان کے بغیر زندگی کو اجاڑ زندگی سے تعبیر کیا جاسکتا ہے جبکہ خاندان کے ساتھ زندگی کو بہارستان کے ساتھ تعبیر کیا جاسکتا ہے ۔

  • لالچی لوگ — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    لالچی لوگ — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    آج سے تقریباً پانچ سال پہلے قندیل کی شادی اپنے خالہ زاد کے ساتھ ہوئی۔ شادی کے دوسال بعد ہی اس نے خلع کا کیس دائر کیا تو ایک بزرگ کے ہمراہ مجھے بھی اس کیس میں صلح صفائی کے لیے مدعو کیا گیا کیونکہ میرے اس گھرانے کے ساتھ پرانے تعلقات تھے۔ میں نے قندیل سے پوچھا کہ آپ خلع کیوں لینا چاہتی ہیں؟

    اس نے بالکل سیدھی اور صاف بات کہی کہ شادی سے پہلے میری خالہ میری بلائیں لیتے نہیں تھکتی تھی۔ میرے گھر والے شادی تھوڑی لیٹ کرنا چاہتے تھے کیونکہ چند ماہ قبل ہی میری بڑی بہن کی شادی ہوئی تھی اور اب میرے جہیز کے لیے والدین کو کچھ وقت چاہیے تھا۔ لیکن میری خالہ نے ضد کی کہ قندیل کونسا پرائے گھر جا رہی۔ بس سادگی سے شادی کر دیں، ہمیں جہیز نہیں چاہیے۔ میرے خالہ کی بہت زیادہ ضد اور اصرار پر گھروالوں نے میری شادی سادگی سے بغیر جہیز کے ہی کر دی۔ بس ضرورت کی چند چیزیں اور کپڑے برتن وغیرہ ہی دے سکے۔

    لیکن کے ایک دو ماہ بعد ہی اس بات پر خالہ اور میری نندوں کے ہلکے پھلکے طعنے شروع ہوئے جسے میں نے اگنور کیا۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتے چلے گئے۔ میں نے کئی بار کہا کہ آپ لوگوں نے ہی جلدی مچائی تھی اس لیے جہیز نہیں لائی ورنہ کچھ وقت دیتے تو ہو جانا تھا۔

    ان کا یہ طعنہ بھی ہوتا تھا کہ تمہاری بڑی بہن کو تو اتنا جہیز دیا لیکن تم شاید سوتیلی تھیں اس لیے خالی ہاتھ بھیج دیا۔ اس میں مجھے اتنا گلہ خالہ اور نندوں سے نہیں ہے جتنا اپنے شوہر عدیل سے ہے کیونکہ اس نے بھی کہا تھا کہ جہیز نہیں چاہیے لیکن ان طعنوں کے دوران وہ اکثر خاموش رہتا تھا بلکہ کبھی کبھار وہ بھی شامل ہو جاتا تھا۔ جب طعنے بہت زیادہ بڑھ گئے تو میں نے الگ رہنے کی بات کی تاکہ سکون سے رہ سکوں کیونکہ عدیل کی تنخواہ ماشاءاللہ اچھی ہے اور اللہ کا کرم ہے کہ گھر میں سب کچھ موجود ہے۔ وہ آدھی تنخواہ والدین کو بھی دے دے تب بھی ہمارا گزارا بہت اچھے سے ہو سکتا ہے۔ والدین کی اپنی آمدن بھی ہے جو زمینوں سے ، دکانوں کے کرایوں سے آتی ہے۔
    لیکن اس پر بھی عدیل نے میرا ساتھ نہیں دیا۔

    اب مزید طعنے سہنا ممکن نہیں رہا اور کوئی بہتری کے بھی چانس نہیں کہ میں کچھ وقت ایسے طعنے سہہ کر گزار لوں۔

    اس کی یہ بات اس کے شوہر کے سامنے رکھی اور اس سے پوچھا کہ اتنی تنخواہ ہے، دکانوں کا کرایہ، زمین کی آمدن پھر بھی جہیز نہ لانے کے طعنے کس لیے جب کہ اللہ کا دیا سب کچھ ہے؟

    بجائے اس کے کہ وہ اپنی غلطی تسلیم کرتا، اس کا یہی کہنا تھا کہ جہیز نہ لانے کا سب کہتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں ہوتا کہ والدین خالی ہاتھ ہی بیٹی کو رخصت کر دیں۔

    میں نے اسے کہا کہ اسلامی لحاظ سے بھی شادی اور بیوی کے تمام اخراجات شوہر کے ذمہ ہیں۔ کہیں بھی نہیں ہے کہ بیوی جہیز لائے۔ جو حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے جہیز کی مثال دی جاتی ہے اس میں بھی یہ ہے کہ وہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زرہ بیچ کر خریدا گیا تھا اور اس میں بھی صرف ضرورت کی چند ایک چیزیں تھیں۔

    پھر اگر تم لوگوں نے طعنے ہی دینے تھے تو اس وقت اچھے بننے کے لیے کیوں کہا کہ جہیز نہ دیں، تب ہی بھکاری بن کر کہہ دیتے کہ ہمیں تو جہیز چاہیے ہے تاکہ اس بیچاری کی زندگی اجیرن تو نہ کرتے۔

    چونکہ عدیل اور اس کے گھر والے اپنی غلطی تسلیم کرنے پر راضی ہی نہیں تھے تو اس علیحدگی کو نہ روکا جا سکا۔ عدت کے بعد قندیل کی بھی ایک جگہ شادی ہو گئی جس کی پہلی بیوی فوت ہو گئی تھی اور اس کی ایک چھوٹی بیٹی تھی اور عدیل نے بھی پھپھوکی بیٹی صبیحہ سے شادی کر لی جو ڈھیر سارا جہیز لائی۔

    اب تقریباً خلع کے تین سال کے بعد کی صورت حال یہ ہے کہ قندیل کا گھر بہترین چل رہا۔ ایک بیٹا اس کا اپنا ہے اور شوہر کی پہلے والی بیٹی کو بھی وہ اپنی اولاد کی طرح سنبھال رہی۔ اس کے گھر جاؤ تو گھر میں ہر طرف خوشیوں کا راج نظر آتا ہے۔

    جبکہ عدیل کی دوسری بیوی جو ڈھیر سارا جہیز لائی تھی اس نے اپنی ساس کو نوکرانیوں کی طرح رکھا ہوا ہے، اپنی نندوں کی بھی شادیاں کروا کر انکا گھر میں اثرورسوخ تقریباً ختم کر دیا ہے۔ عدیل کو صبیحہ کے والد نے کاروبار سیٹ کروا کر دیا ہے اس لیے وہ کوئی بھی چوں چراں نہیں کرتا۔ جہیز کے بل پر صبیحہ نے سب کو آگے لگا رکھا ہے لیکن ایسے لالچی لوگوں کے ساتھ یہی ہونا چاہیے تھا۔

  • کیا بیوی کی تنخواہ پر شوہر کا یا سسرال والوں کا کوئی حق ہے؟ — ڈاکٹرعدنان نیازی

    کیا بیوی کی تنخواہ پر شوہر کا یا سسرال والوں کا کوئی حق ہے؟ — ڈاکٹرعدنان نیازی

    آج کل اس مسئلے کی وجہ سے کئی جگہ ناچاقیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ سوچا اس پر کچھ لکھ دوں۔

    اپنے ذاتی اخراجات یا اپنی بچت کے لیے عورتیں پہلے بھی گھروں میں کوئی نہ کوئی کام کرتی تھیں مثلاً کپڑوں کی سلائی ، کڑھائی یا چھکوریاں وغیرہ بنانا۔ اس آمدن پر صرف عورت کا ہی حق ہوتا تھا اور اس میں کوئی اختلاف کبھی نہیں ہوا۔ اب بہت ساری عورتیں گھروں سے باہر نکل کر سارا دن جاب کرتی ہیں اور اس تنخواہ پر بھی ان کے مؤقف کے مطابق صرف ان کا ہی حق ہے۔

    یہاں میں اپنی رائے عرض کروں تو جو عورتیں گھروں میں رہ کر کام کرتی ہیں وہ اپنے فارغ اوقات میں سے کام کر کے اپنے لیے کماتی ہیں۔ جبکہ جو عورتیں پورا دن جاب کرتی ہیں وہ اپنے اصل کام یعنی گھرسنبھالنے والی ذمہ داری سے سبکدوش ہو کر یہ کام کر رہی ہوتی ہیں۔

    اگر وہ مکمل طور پر سبکدوش نہ بھی ہوں تو بھی ان کی اس جاب کی وجہ سے گھر کے دوسرے افراد کو کہیں نہ کہیں سمجھوتا کرنا پڑ رہا ہوتا ہے۔ بچے یا تو گھر کے کسی دوسرے فرد کے پاس چھوڑنے پڑتے ہیں یا پھر ڈے کئیر میں۔ اس طرح بچوں کی تربیت اور ان کی اچھے سے دیکھ بھال متأثر ہوتی ہے۔ اسی طرح اگر عورت گھر میں رہے تو شام کو واپسی پر شوہر کو اچھے سے وقت دے سکے گی اور اس کا خیال بھی اچھے سے رکھ سکتی ہے۔ جبکہ سارا دن آفس میں کام کر کے تھک ہار کر لوٹنے والی بمشکل کھانا پکانا ہی کر سکے گی۔

    مہمانوں کی آمد پر سارا کچھ باہر سے ہی منگوانا پڑے گا۔ گھر میں اگر بوڑھے والدین ہیں تو ان کی خدمت کے لیے نہ وقت ہو گا نہ انرجی۔ ایسے میں اگر سسرال والے یا شوہر اپنی بیوی کو جاب کی اجازت دے رہا تو اس کا یہ مطلب کیسے لیا جا سکتا ہے کہ اس کی ساری تنخواہ پر صرف اس کا حق ہے؟

    یہاں ایک بات اور یاد رہے کہ آج کل ہونے والے رشتوں میں کچھ لوگ ایسے ہیں جنہیں جاب والی لڑکی نہیں چاہیے اوراگر کوئی لڑکی شادی سے پہلے جاب کر رہی ہو تو وہ پہلے ہی کہہ دیتے ہیں کہ شادی کے بعد جاب کی اجازت نہیں ہوگی۔ جاب چھوڑنی ہو گی۔ جاب والی لڑکیاں عام طور پر ایسے رشتوں کو ٹھکرا دیتی ہیں۔

    دوسری طرف ایسے لوگ بھی ہیں جو باقاعدہ ڈھونڈھ رہے ہوتے ہیں کہ جاب والی لڑکی کا رشتہ ملے۔ انھیں شادی کے بعد بھی جاب پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔ جاب والی لڑکیاں ایسے رشتوں کو پسند کرتی ہیں۔ لیکن یہاں پتہ نہیں وہ یہ کیوں بھول جاتی ہیں کہ وہ یہ رشتہ ہی جاب کی وجہ سے کر رہے ہیں۔ اب اگر رشتہ ہی جاب کی وجہ سے ہو رہا تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ ساری تنخواہ پر لڑکی کا حق تسلیم کریں گے۔

    یہ چند ایک باتیں اگر ذہن میں بٹھا لیں تو یہ مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

    یہاں اپنی ایک پرانی تحریر کا اقتباس بھی شئیر کر دیتا ہوں جو اس بات کو مزید واضح کر دے گا۔

    معاشرے کی بنیادی اکیائی خاندان ہوتا ہے جو مرد اور عورت سے مل کر وجود میں آتا ہے۔ ہر خاندان میں دو قسم کی ذمے داریاں ہوتی ہیں۔

    ۱۔ باہر سے کما کر لانا

    ۲۔ امورِ خانہ داری جیسے کھانا پکانا، صفائی ستھرائی، بچوں کی دیکھ بھال وغیرہ

    اب ان ذمے داریاں کو پورا کرنے کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں۔

    ۱۔ تمام ذمے داریاں کسی ایک پر ڈال دی جائیں۔ یقیناً کسی انتہائی مجبوری کے بغیر ایسا کوئی بھی نہیں کرے گا۔ اور ایسا تعلق کبھی بھی دیر پا نہیں ہو سکتا۔

    ۲۔ دونوں مل کر کمائیں اور دونوں گھر کے کام بھی مل کر کریں۔ بظاہر یہ آئیڈیل صورت لگتی ہے لیکن اس میں خاندان کا شیرازہ کس طرح بکھرتا ہے یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ بس مغربی معاشرے کو دیکھ لیا جائے۔ بچے صبح سے شام تک کئیر سنٹرز کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔ باہر کے کھانوں پر گزارہ ہوتا ۔ پھر جو لوگ میری طرح کافی عرصے سے یورپ میں رہ رہے وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ جو بھی دیرپا ، شادی شدہ جوڑے ہیں ان میں مرد ہاتھ تو بٹاتے گھریلو کاموں میں لیکن زیادہ تر کام خواتین ہی کرتی ہیں۔ اس طرح عورتوں کو ایک تو لازمی طور پر کام کر کے خود اپنے لیے کمانا پڑتا اور دوسری طرف گھریلو ذمینداریا ں بھی نبھانی پڑتی ہیں اور عورت پر دوہرا بوجھ ڈال دیا جاتا۔ اس لازمی طور پر کمانے کی وجہ سے عورتوں کو کیا کیا کام کرنے پڑتے، یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔

    ۳۔ تیسری صورت یہ ہے کہ ایک کمائے اور دوسرا گھریلو ذمہ داری نبھائے۔ اگر کوئی حقیقی طور پر صحیح معاشرہ قائم کرنا چاہے تو یہی صورت ہی سب سے بہتر ہے۔ کسی بھی ادارے، کمپنی، ملک وغیرہ میں مختلف لوگ مختلف کام ہی انجام دیتے ہیں۔ اس طر ح اس کا نظام چلتا۔ ذمے داریاں تقسیم ہو جاتیں اور سب کام صحیح طور پر چلتے ہیں اگر سب اپنے حصے کا کام کرتے رہیں۔ اب اس صورت میں مزید دو آپشن ہوتے ہیں۔

    الف۔ مرد کمائے اور عورت گھریلو ذمے داریاں سنبھالے۔
    ب۔ عورت کمائے اور مرد گھریلو ذمے داریاں سنبھالے۔

    اس میں کوئی دو رائے تو ہیں نہیں کہ اگر اس طر ح ذمے داریاں تقسیم کرنی ہوں تو کون کس ذمے داری کے لیے زیادہ موضوع ہے۔ مزید برآں اسلام جو پاکیزہ معاشرہ قائم کرنا چاہتا ہے اس میں بھی یہی صورت ممکن ہے کہ مرد کمائے اور عورت گھریلو ذمے داریاں سنبھالے۔ انسان کو بنانے والے نے خود مرد کو کمانے کا ذمہ سونپا ہے (سورہ النسا ، آیت ۳۴) اور وہی بہتر جانتا ہے کہ مرد ہی اس کام کے لیے سب سے زیادہ بہتر ہے۔

    لیکن اگر کسی کو اسلام کے اس فیصلے سے اختلاف ہے تو وہ دوسرا تجربہ کر کے دیکھ سکتا ہے۔ یعنی بیوی کمائے اور شوہر گھر سنبھالے۔ اول تو بیوی طعنے دے دے کر ہی مار دے گی کہ فارغ بیٹھے رہتے ہو۔ اور اگر یہ نہ بھی ہو تو جیسے ہی بیوی آفس سے گھر آئے شوہر پہلے ہی تیار بیٹھا ہو کہ چلو شاپنگ پر جانا ہے۔ یا یہ کہ آج کھانا باہر کھائیں گے۔ پھر ہر تھوڑے دنوں کے بعد ضد کہ مجھے میرے والدین کے گھر چھوڑ کے آؤ اور وہاں رہنے کے لیے پیسے بھی دو۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ تو دیکھیں کہ کتنے دن بیوی کماتی رہتی ہے۔

    آخر میں مردوں سے گزارش ہے کہ گھر کے کام کو عار نہ سمجھیں۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، جب وقت ملتا تو گھر کے کاموں میں اپنی ازواج مطہرات کا ہاتھ بٹایا کرتے تھے۔ اور عورتوں سے گزارش کہ ذمے داریاں بانٹ کر نبھائی جائیں تو گھرانہ احسن طریقے سے چلتا رہتا ہے۔ اور اپنے والدین کے گھر کام کر کے اگر کوئی نوکرانی نہیں بن جاتی تو شوہر کے گھر کام کرنے سے کوئی نوکرانی کیوں بن جاتی ہے۔

  • کیا مخصوص ایام میں عورت اچھوت ہو جاتی ہے؟ — ابو بکر قدوسی

    کیا مخصوص ایام میں عورت اچھوت ہو جاتی ہے؟ — ابو بکر قدوسی

    مذہبی طور پر مخلوط معاشروں کا بہرحال یہ المیہ ہوتا ہے کہ وہاں دوسرے مذاہب کے اثرات قبول کیے جاتے ہیں – ہمارے برصغیر میں ہندووں کی بہت سی عادات اور عقائد کو ہمارے لوگوں نے کم علمی کے سبب اپنا معمول بنا لیا – اس کمزوری سے بچنے کی واحد صورت یہ ہے کہ ہم کو خود اپنے دین اور اس کی تعلیمات کا مکمل معلوم ہو –

    بائبل عہد قدیم کے مطابق عورت حائضہ عورت ناپاک ہوتی ہے جس برتن کو چھوٙئے وہ برتن توڑ دیا جائے جس بستر پر بیٹھے وہ بستر ناپاک جس کپڑے کو چھوئے وہ کپڑا ناپاک ایام حیض کے بعد غسل اور دو قمریوں کی قربانی گذرانے کے بعد پاک ہوتی ۔۔۔

    عرب کے یہود میں عورت کے حیض کے دن اس کو اچھوت بنا دیتے تھے ، اس کا کھانا پینا اور رہنا سہنا سب الگ کر دیا جاتا – یہی صورت ہمارے ہندستان میں ہندوں میں موجود رہی ہے ۔ہندووں میں بھی ان ایام میں عورت کو الگ کر دیا جاتا ہے ۔۔۔۔

    پاکستان میں گلگت کے ساتھ ملحق کافرستان کہلانے والے علاقے میں مقامی قبائل آباد ہیں ، جو ایام حیض میں عورتوں کے لئے الگ ایک مخصوص عمارت میں عورتوں بیٹیوں کو بھیج دیتے ہیں ۔

    دو برس پہلے بی بی سی اردو پر ایک خاتون کی کہانی نے عورت کی اس تذلیل کو ان لفظوں میں بیان کیا ، آپ اس کو پڑھیے ، آپ حیران ہو جائیں گے – خاتون کہتی ہیں :

    مجھے 12 برس کی عمر میں حیض آئے۔ میری ماں اور بھابھیاں حیض کے دنوں میں گھر سے باہر بنی مٹی کی ایک جھونپڑی میں رہا کرتی تھیں اس لیے میں نے بھی وہاں جانا شروع کر دیا۔ میں ہمیشہ ڈرتی تھی کہ جانے یہاں کیا ہوگا کیونکہ مجھے کیڑے مکوڑوں اور جنگلی جانوروں سے ڈر لگتا تھا۔

    مجھے بتایا گیا تھا کہ اِن دنوں میں کتابوں کو ہاتھ لگانا گناہ ہے اس لیے میں اپنے حیض کے دنوں میں سکول ہی نہیں جاتی تھی۔

    آج بھی حیض والی عورتوں کو مویشیوں کے باڑے میں جانے کی اجازت نہیں کیونکہ وہ ان دنوں میں دودھ ، مکھن اور دہی استعمال نہیں کر سکتیں۔ مجھے بہت دکھ ہوا جب مجھے اپنے ہی گھر کے باڑے میں جانے نہیں دیا گیا۔ حیض کے دوران لوگ آپ کو کھانا بھی ہاتھ میں نہیں دیتے بلکہ آپ کے سامنے پھینک جاتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ان دنوں میں آپ کو اپنے سے بڑوں کو چھونا بھی نہیں چاہیے۔”

    اسی تہذیب نے یہاں مسلمانوں کو بھی متاثر کیا …ابھی کچھ دن پہلے ایک دوست نے بتایا کہ ان کے علاقے میں حالت حیض کی صورت میں عورت کو کسی حد تک اچھوت ہی سمجھ لیا جاتا ہے اسی طرح ایک دوست نے بتایا کہ بچے کی پیدائش پر پلید سمجھتے ہیں چالیس دن تک اس کے ساتھ ہاتھ تک نہیں ملاتے سر پر ہاتھ نہیں رکھتے ۔۔یعنی حیرت ہے کہ عورت کے ہاں بچے کی پیدائش کی صورت میں بھی اس کو اچھوت سمجھ لیا جاتا ہے -اور بعض علاقوں میں چالیس دن تک عورت کا بستر ، برتن اور چارپائی غرض ہر شے الگ کر دی جاتی ہے – حالانکہ ان دنوں میں عورت زیادہ معزز ہوتی ہے ، اس کی تکریم معمول سے زیادہ کرنی چاہیے اور ان دنوں میں ہی اس کو آپ کی محبت ، ہمدردی اور ساتھ کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے –

    کیونکہ : زچگی کی صورت میں ویسے ہی وہ ایک بڑی تکلیف سے گزر چکی ہوتی ہے ، ایسے میں اسے پل پل آپ کے پیار کی ضرورت ہوتی ہے نہ کہ آپ اسے اچھوت بنا دیں – ویسے بھی آپ جو اولاد کو ترس رہے ہوتے ہیں اور کبھی تو بیٹے کی خواہش میں مرے جا رہے ہوتے ہیں اور اس نے آپ کی خواہش کو اپنایت سے اپنے اندر چھپا لیا – آپ کی خواہش کی تکمیل کے لیے نو ماہ کی اذیت برداشت کی ہوتی ہے اور آپ اسے تنہا کر دیتے ہیں –

    اسی طرح حالت حیض میں بھی عورت آپ کی محبت کی معمول سے زیادہ حق دار ہوتی ہے کیونکہ وہ دن رات آپ کے خدمت میں کمربستہ ہوتی ہے ، آپ کے بچے پالتی ہے ، آپ کا کھانا بناتی ہے ، اور اگر ورکنگ وومن ہے تو کسی نہ کسی طور آپ کے حصہ کا کام بھی کرتی ہے کیونکہ ہم نے دیکھا ہے عورت کو وراثت ملے ، یا خاوند کی کمائی سے کچھ بچا پائے یا نوکری کر کے تنخواہ لائے …. آخر گھر میں ہی خرچ کرتی ہے …تو ان مشکل دنوں میں وہ آپ کے ساتھ کی ضرورت مند ہوتی ہے جہاں تک ہمارے دین کا تعلق ہے اس کی تعلیمات ان دنوں کے حوالے سے بہت واضح اور روشن ہیں.

    سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جب عورت حیض سے ہوتی تو یہودی اس کے ساتھ کھاتے پیتے نہیں تھے اور نہ اس کے ساتھ گھروں میں اکٹھے رہتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    "حائضہ سے ہر کام کرو سوائے جماع کے”۔
    [صحیح مسلم، الحیض، باب جواز غسل الحائض راس زوجھا۔۔۔۔، حدیث:302]

    دیکھا جائے تو یہ حدیث ہر معاملے کو واضح کر رہی ہے کہ سوائے ہم بستری کے ان ایام میں ان کے ساتھ ہر معاملہ جائز ہے – ایک یہ جہالت بھی پائی جاتی ہے کہ ان ایام میں بیوی کے جسمانی طور پر پاس جانا بھی گناہ ہے حالانکہ گناہ صرف ہم بستری یعنی صحبت ہے – اس کے علاوہ آپ اپنی بیوی سے محبت والے دیگر معاملات کر سکتے ہیں – میں پہلے لکھ چکا ہوں یہ دن عورت کے نارمل دن نہیں ہوتے اس کو ان دنوں میں زیادہ محبت کی ضرورت ہوتی ہے زیادہ توجہ کی بھی …..اور محبت کا بہترین اظہار جسمانی قرب ہوتا ہے ..اور ہمارے رسول کریم صلی اللہ علیه وسلم سے زیادہ کون نفسیات انسانی کو سمجھ سکتا تھا ..سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں :

    ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ‘حالت حیض میں’ ازار باندھنے کا حکم دیتے، سو میں ازار باندھتی۔ آپ مجھے گلے لگاتے تھے اور میں حیض والی ہوتی تھی۔”

    [صحیح البخاری، الحیض، باب مباشرۃ الحائض، حدیث:300، وصحیح مسلم، الحیض، باب مباشرۃ الحائض فوق الازار، حدیث:293]
    ایک اور حدیث میں ہے

    عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد ‘میں اپنی اعتکاف گاہ’ سے مجھے بوریا پکڑانے کا حکم دیا۔ میں نے کہا کہ میں حائضہ ہوں۔

    آپ نے فرمایا:

    "تیرا حیض تیرے ہاتھ میں نہیں ہے۔”

    [صحیح مسلم، الحیض، باب جواز غسل الحائض راس زوجھا۔۔۔۔، حدیث:298]

    اور میاں بیوی کی محبت اور پیار کی اس سے زیادہ کیا تصویر کشی ہو سکتی ہے ، اور شوہر کی توجہ کا مظہر اس سے زیادہ کیا انداز ہو سکتا ہے

    عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری گود کو تکیہ بنا کر قرآن حکیم کی تلاوت کرتے تھے، حالانکہ میں حائضہ ہوتی تھی۔

    [صحیح البخاری، الحیض، باب قراء ۃ الرجل فی حجر امراتہ وھی حائض، حدیث:297، وصحیح مسلم، الحیض ، باب جواز غسل الحائض راس زوجھا۔۔۔۔، حدیث:301]

    یہ تمام احادیث اس پر دلالت کرتی ہیں کہ یہ دن عورت کو معزز اور محترم بناتے ہیں نہ کہ اچھوت –

    ایک واحد معاملہ اور پابندی ضرور ہے کہ ان ایام میں عورت عبادت کے لیے مسجد میں نہیں آ سکتی تو بھی اس میں کوئی امتیازی سلوک نہیں بلکہ ایک طرح کی سہولت ہے کہ ان دنوں میں تو عورت گھر میں بھی کسی بھی قسم کی فرض عبادت سے آزاد ہوتی ہے –

    لیکن اس خون کو نجاست ضرور قرار دیا گیا اسی سبب مسجد میں آنا بھی ممنوع ہے .

  • جدید خاندانی منصوبہ بندی — خطیب احمد

    جدید خاندانی منصوبہ بندی — خطیب احمد

    ہم مڈل کلاسیوں کی شادیوں میں شادی لڑکے کی ہو یا لڑکی کی جتنی بھی سادگی برتی جائے نہ نہ کرتے اخراجات قرض لینے کی سطح تک پہنچ ہی جاتے ہیں۔ گھر کی خواتین لڑکے اور لڑکی دونوں سائیڈ سے زیور کے بغیر شادی کو حرام سمجھتی ہیں۔ شادی کے بعد اکثریت میں جوڑے مالی مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اور وہ مشکلات پلس خاوند کی مالی حیثیت تب اور واضح ہو جاتی جب پہلے دوسرے ماہ ہی خوشخبری آجاتی۔

    بھائی یورین ٹیسٹ پازیٹو آنے کے فوری بعد کسی تجربہ کار ریڈیالوجسٹ سے اسکین کروا کر پریگنینسی کی لوکیشن معلوم کرنا ہوتی ہے۔ اور پھر اس اسکین کے ساتھ گائناکالوجسٹ سے ملنا ہوتا ہے۔ بنیادی ٹیسٹنگ اور اگر کسی دوا کی ضرورت ہو تو وہ شروع کر دی جاتی ہے۔ 20 روپے کی سٹک سے یورین ٹیسٹ کرکے گھر نہیں بیٹھنا ہوتا۔

    اگر خوشخبری ملنے پر آپکے پاس کوئی پیسے نہیں ہیں۔ اور یہ کام اتنی جلدی ہو گیا ہے کہ ابھی شادی کا بھی قرض باقی ہے تو اگر پاس کچھ سونا موجود ہے وہ بغیر کسی کو بتائے دونوں میاں بیوی مشورہ کرکے بیچ دیں۔ اور خاوند اپنی حاملہ بیوی کی خود کئیر کرے۔ ہر چیز خود میسر کرے۔ نہ کہ اسے اپنی امی یا بہنوں یا گھر کی بزرگ خواتین کے حوالے کر دے۔ ہر ماہ ریگولر چیک اپ کرائیں اور ڈیلیوری بے شک نارمل ہی کیوں نہ بتائی گئی ہو۔ کسی بھی قیمت پر دائی یا کسی ایسے ہسپتال میں مت کرائیں جہاں بچے کو فی الفور آکسیجن لگانے کی سہولت میسر نہ ہو۔

    کوشش کریں کسی ایسی جگہ ڈیلیوری ہو جہاں بچوں کی نرسری موجود ہو۔ کم از کم وہاں سے قریب ہی کسی ہسپتال میں نرسری ہو۔ گاؤں سے شہر یا شہر کے ایک کونے سے دوسرے کونے میں آکسیجن لگوانے یا نرسری میں بچہ لیجانے تک وہ زندہ بچ بھی جائے اسکا برین کسی حد تک متاثر یا ڈیمج ہو چکا ہوتا۔ اس چیز کا فوری پتا نہیں چلتا۔ چند ماہ یا ایک دو سال تک جب بچہ اپنی عمر کے مطابق حرکات و سکنات نہیں کرتا تو ڈاکٹر پوچھتے کہ پیدائش کہاں ہوئی تھی۔ بچہ رویا تھا اسکا رنگ کیا تھا اسے آکسیجن لگی تھی ؟ تو خیال آتا گڑ بڑ کہاں ہوئی تھی۔

    برین ڈیمج کے نتیجے میں ہونے والی معذوری کبھی بھی ٹھیک نہیں ہو سکتی۔ اسے سیری برل پالسی کہتے ہیں۔ جسم مفلوج ہوجاتا اور ساری عمر بچے کو بیٹھنے کھڑا ہونے بات کرنے میں مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ بروقت کیا گیا فیصلہ جو حاملہ ماں کی اچھی کئیر اور اچھی جگہ ڈیلیوری عمر بھر کے پچھتاوے سے بہتر ہے۔

    اگر زیور نہیں ہے تو کم از کم قرض اتر جانے یا قرض اترنے کی کوئی سبیل ہی بن جانے تک انتظار کر لیا جائے۔ فیملی بڑھانے کا فیصلہ باہمی رضا مندی سے مؤخر کر لیا جائے۔

    میں اور مہدی بخاری بھائی سکردو کے ایک ہوٹل میں رکے ہوئے تھے۔ ہمارے ساتھ والے کمرے میں ایک فرینچ کپل رکا تھا۔ ان سے چائے کی میز پر گپ شپ ہوئی تو معلوم ہوا کہ وہ ایک سال کے ہنی مون پر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں کا فیصلہ ہے ہم ایک سال تک کوالٹی ٹائم ساتھ گزاریں گے چھ ماہ چند ملکوں میں اور چھ ماہ پیرس میں جاکر گزاریں گے۔ پاکستان میں وہ ایک ماہ رکنے والے تھے۔ اور پھر فیملی بڑھائیں گے۔ یہاں یہ کنسپٹ تو جیسے گناہ سمجھا جاتا ہے۔ اس بات کو نیو بیاہتا جوڑوں تک پہنچانے کی ضرور کوشش کریں۔۔

  • عورتیں گھر بیٹھے بچہ جنم دیتی تھیں!!! — ضیغم قدیر

    عورتیں گھر بیٹھے بچہ جنم دیتی تھیں!!! — ضیغم قدیر

    سوال پوچھا گیا تھا کہ پہلے خواتین گھر میں بچہ جنم دے لیا کرتی تھیں جبکہ آج ایسا نہیں ہے۔ کیا عورتیں کمزور ہو گئی ہیں؟

    لیکن درحقیقت ہماری ماضی کا علم کافی دھندلا ہے۔ آج ہسپتال میں ہونے والی ڈلیوریز کی وجہ سے ہم کڑوڑوں ماؤں کو زندہ بچا رہے ہیں۔

    سی سیکشن کے کامن استعمال سے پہلے 1.5% خواتین بچے کو جنم دیتے فوت ہو جایا کرتی تھیں۔ اگر اب کے حساب سے دیکھیں تو یہ تعداد کڑوڑوں میں نکل آتی ہے۔ مزید جواب یوں تھا کہ

    چند سال پہلے عورتیں گھر بیٹھے بچہ جنم دیتی تھیں تو انکی موت کے امکانات بھی اتنے ہی زیادہ ہوتے تھے۔ آج ہر ایک لاکھ عورتوں میں سے صرف 15 عورتیں بچے کو جنم دیتے اون ایوریج فوت ہو رہی ہیں ۔

    جبکہ 18 ویں صدی میں یہی تعداد ایک لاکھ میں 600+ اموات تھی۔ اس سے پیچھے چلے جائیں تو یہی تعداد اس کے دوگنا سے بھی زیادہ تھی۔ یاد رہے ابھی یہ اعداد و شمار صرف ماؤں کی موت کے ہیں۔ بچوں کی موت کے اعداد و شمار اس سے الگ ہیں اور بھیانک ہیں۔

    آج کم عورتیں بچہ جنم دیتے فوت ہوتی ہیں اور کم بچے پیدائش کے وقت فوت ہوتے ہیں کیونکہ جو کیس پیچیدہ ہوتے ہیں ان کو ہم آپریشن کی مدد سے ہینڈل کر لیتے ہیں۔ سی سیکشن ڈلیوری کی وجہ سے آج لاکھوں مائیں اور بچے زندگی پا رہے ہیں اور یہ ایک نعمت سے کم نہیں۔

    ہاں ملک عزیز میں اسکا کچھ جگہوں پہ غلط استعمال ہو تو اس کا ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔

  • طلاق کے بعد تنگ نہ کیا کریں!!! — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    طلاق کے بعد تنگ نہ کیا کریں!!! — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    ایک کولیگ بتا رہے تھے کہ ان کے جاننے والے کے ساتھ ایک عجیب واقعہ پیش آیا ۔ وہ اپنی بیوی کو چھ سات ماہ پہلے طلاق دے چکے تھے اور وہ عدت کے بعد میکے میں تھی۔ طلاق کے چھ ماہ سات ماہ بعد ان کی دوسری شادی ہو رہی تھی تو پہلی مطلقہ (بیوی) پولیس لے کر پہنچ گئی کہ یہ میرا شوہر ہے اور مجھ سے اجازت لیے بغیر دوسری شادی کر رہا ہے۔

    اب چونکہ طلاق زبانی ہوئی تھی تو پولیس نے اسے گرفتار کر کے مقدمہ بنا دیا۔ شادی میں بھی بدمزگی پیدا ہوئی، اسے چند دن حوالات میں بھی رہنا پڑا ، پیسے بھی کافی لگے اور کیس کا فیصلہ ابھی تک نہیں ہو سکا ہے۔

    حالانکہ اس نے وہاں بھی کہا کہ میں اسے اتنے ماہ پہلے ہی طلاق دے چکا ہوں، وہاں ان کے سامنے بھی طلاق دی اور بعد میں کاغذات بنوا کر بھی عدالت میں پیش کیے۔ لیکن ابھی تک اس مطلقہ عورت کے وکیل کا کہنا ہے کہ یہ طلاق اس نے مقدمے اور سزا سے بچنے کے لیے اب دی ہے۔

    مجھے نہیں معلوم کہ اس سلسلے میں قانون کیا ہے اور اس کی جان کیسے چھوٹ سکتی ہے، یہ تو کوئی وکیل ہی بتا سکتا ہے لیکن یہاں دو باتیں عرض کرنا چاہوں گا کہ آج کل کوئی بھی کام کریں تو اسے رجسٹر لازمی کروائیں۔

    چاہے نکاح ہو طلاق ہو ، کوئی کاروباری معاہدہ ہو، کسی گاڑی، مکان، زمین وغیرہ کی خرید و فروخت ہو۔ کیونکہ کب قریبی اور پیارے جان کے دشمن بن جائیں کوئی پتہ نہیں لگتا۔

    دوسری بات یہ کہ طلاق کبھی بھی خوشی سے نہیں ہوتی ہے۔ جب بھی ہوتی ہے مجبوری، غصے یا نہ نبھ سکنے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ تو طلاق ہونے کے بعد انا اور ضد کو چھوڑ دیا کریں۔

    بس جو وقت گزرا اور جیسے بھی گزرا، اس کی لاج رکھتے ہوئے ایک دوسرے کو طلاق کے بعد تنگ نہ کیا کریں ورنہ اس کا حساب یقیناً آخرت میں دینا ہو گا اور اس دنیا میں بھی اصول ہے کہ کسی کو بے سکون کر کے آپ کبھی بھی سکون نہیں پا سکتے ہیں۔

    اس میں اکثر کیسز میں دیکھا ہے کہ مرد حضرات تو دوسری شادی کر لیتے ہیں، انھیں کنواری لڑکیوں کا بھی رشتہ مل جاتا ہے، بچے ہوں تب بھی مل جاتا ہے لیکن عورتیں دوسری شادی کا نام بھی نہیں سننا چاہتی ہیں اور اکثر دوسری شادی نہ کرنے کی وجہ سے پہلے والی شوہر میں ہی پھنسی رہتی ہیں اور اس کی خوشی ان سے نہیں دیکھی جاتی۔

    اللہ ہمیں انا اور ضد سے بچائے۔

  • مطلقہ مائیں متوجہ ہوں!!! — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    مطلقہ مائیں متوجہ ہوں!!! — ڈاکٹر عدنان خان نیازی

    مردوں کا عالمی دن آیا اور گزر گیا پر ایک بات کہنا چاہوں گا جس مرد سے طلاق کے بعد اسکے بچے کی کفالت کے ہر ماہ پیسے لیتی ہو اس مرد سے اپنی اولاد کو ملنے کا جائز حق بھی نہ چھینا کرو۔ ہماری عدالتیں خرچ نہ دینے پر باپ کی جائیداد نیلام کرنے اسکی تنخواہ ضبط کرنے سے لیکر اسے جیل میں ڈالنے کا تو حق رکھتی ہیں۔ مگر جو اپنی مرضی سے خرچ دے رہا ہو اسے اسکی اولاد سے اسکے اپنے گھر ملنے کا حق دلانے میں ناکام ہیں۔ کسی غریب کا اپنے بچوں سے اسکے گھر ملاقات کا شیڈول بن بھی جائے تو اس پر بھی اس سے اوپر کی عدالت سٹے آرڈر دی دیتی ہے۔

    لڑکی اور اسکے گھر والے بچوں کو والد سے اس لیے نہیں ملنے دیتے کہ انکی غیرت گوارہ نہیں کرتی جس نے طلاق دی اس سے بچے ملیں۔ تو تم لوگوں کی غیرت اس سے ہر ماہ پیسے لینے پر کہاں چلی جاتی ہے؟ طلاق دینے کے بعد وہ کوئی حیوان تو نہیں بن جاتا انسان ہی رہتا ہے اور ان بچوں کا باپ بھی رہتا ہے۔ اور اسکی ذہنی صحت بھی ماں سے اکثریت کیسز میں بہت بہتر ہوتی ہے۔ وہ بچوں کو ماں سے بدگمان نہیں کرتا جیسے ماں بچوں کے باپ کو ولن وحشی اور نجانے کیا کچھ بنا دیتی ہے۔

    آج ایک وکیل دوست کے آفس میں ایک عورت رو رہی تھی کہ میرے بچے دو دن کے لیے اپنے باپ کے گھر جا رہے ہیں۔ وہ اسٹے آرڈر لینا چاہتی تھی۔ جس پر اس نے اسے کہا کہ بچوں کو والد سے ملنے دو میں یہ کیس نہیں لے سکتا۔ میں نے پوچھا وہ خرچ دیتا ہے تو کہتی ہاں بھائی دیتا ہے۔ مگر میں اپنے بچوں کے بغیر دو دن کیسے رہوں گی۔ میں نے کہا جیسے وہ رہتا ہے۔ بولی اتنا انکا سگا ہوتا تو طلاق ہی نہیں دیتا۔ میں نے کہا پیسے کس حق سے لیتی ہو بہن؟ بولی میں تو اسے جیل بھیجنا چاہتی ہوں پیسوں کی ضرورت نہیں ہے۔ میں خود کچھ بھی کر لوں گی۔ خرچ بڑھے گا نہیں دے سکے گا تو جیل جائے گا۔ میں بچوں کو پال لوں گی۔

    یعنی نفرت ہے اور انا ہے کہ اسے نیچا دکھانا۔ اور انہی چکروں میں اپنی جوانی اور ذہنی صحت تباہ کر لینی۔ طلاق کی وجہ جو بھی تھی اب اس کو بھلا کر آگے بڑھنے کی بجائے نفرت کی آگ میں اپنا سکون ضرور برباد کرنا ہے۔ دوسری طرف لڑکے کی شادی ہو چکی ہے۔ اسکے دو بچے ہیں وہ اپنی زندگی میں خوش ہے۔ بات صرف یہ ہے کہ اسکی خوشی دیکھی نہیں جا رہی۔ وہ ترلے لے رہا کہ بچے واپس کر دو اور تم بھی شادی کرو۔ مگر نہیں۔ اکثریت میں طلاق شدہ خواتین کی یہی نفسیات بن جاتی ہے۔ اور پھر کہا جاتا ہے کہ طلاق شدہ سے کوئی شادی نہیں کرتے۔ انکی سوچ تو دیکھو وہ کتنی ظالم اور سفاک ہو چکی ہوتی ہیں۔ جو آج انصاف نہیں کر رہی وہ آگے کیا کرے گی۔

    اکثریت خواتین بچوں کا خرچ چھوڑ دیتی ہیں کہ والد بچوں سے ملاقات یا انکی حوالگی کا مطالبہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ دے۔

    اسکے برعکس بہت سے مرد خرچ نہیں دیتے وہ بچوں سے کیوں ملیں گے۔ وہ آج مخاطب نہیں ہیں۔ ذلیل ہوتے ہیں جیل کاٹتے ہیں اور عدالتوں میں خوار ہوتے رہتے ہیں۔

    جو لڑکیاں بچے انکے باپ کے پاس چھوڑ دیتی۔ اور طلاق کے فوراً بعد شادی کر لیتی ہیں وہ اس خود ساختہ اذیت سے نکل جاتی ہیں۔ ورنہ نفرت حسد اور بغض کی آگ میں جلنا اور کورٹ کچہریوں میں خوار ہونے کے سوا کچھ بھی ہاتھ نہیں آتا۔ یہ بات طلاق شدہ خواتین کو بڑی دیر بعد سمجھ آتی ہے جب بہت دیر ہو چکی ہوتی۔